Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    علیزے فرام لَمز کہتی ہے کہ آرٹ کو بَین کرنا انتہائی بری بات ہے اور آزادی اظہار کی نفی ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی لوگوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ان کے عقائد یا اقدار ایک آرٹ فلم سے خطرے میں پڑتے ہیں۔ علیزے فرام لَمز یہ بھی کہتی ہے کہ جس نے آرٹ کا جو نمونہ دیکھنا ہو وہ اس کی مرضی ہونی چاہیے، کسی فرد یا ریاست کو پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں۔

    اب مسئلہ یہ ہے کہ لَمز والی علیزے کی یہ روشن خیالی سے بھرپور باتیں جناب بارُود خان نے سوشل میڈیا پر سُن لی ہیں۔ اتفاق سے وہ ایک ریاست مخالف اور عسکریت پسند گروہ کے میڈیا مینیجر بھی ہیں۔ ان کی پراپیگنڈا ویڈیوز گروہ کے لیے نئے رنگرُوٹ لانے کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن حکومت سے وہ نالاں ہیں کہ سوشل میڈیا پر اُن کی خواہ مخواہ سرکوبی کرتی رہتی ہے۔ اب انہوں نے علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائر ہو کے اپنی بارودی ویڈیوز کو دوبارہ ریلیز کرنے کا سوچا ہے اور اس بار وہ اسے “آرٹ” کہہ کر مارکیٹ میں لائیں گے تاکہ علیزے اور اس کے تمام فرینڈز ممکنہ پابندیاں لگنے پر میدان میں بارود خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ آخر پراپیگنڈا “آرٹ” سے کسی کے عقائد یا اقدار خطرے میں کیسے پڑ سکتے ہیں؟ ریاست کو کیا لگے، جس نے بھی “آرٹ” کا جو نمونہ دیکھنا ہے وہ دیکھے!

    بارود خان کے ساتھ قصور کے رہائشی مونی بَٹ نے بھی علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائریشن پکڑ لی ہے۔ وہ بچوں کے پورن کے دھندے میں ہے اور حکومت کی سینسر شپ سے پریشان ہے۔ اب اس نے سوچا ہے کہ اپنی فوٹیج کو اینیمیٹ کروا کے اسے “آرٹ” کہہ کے مارکیٹ میں پھینکنے کی تیاری کرے۔

    جس طرح فیمنسٹ بہنوں نے ٹرانس حقوق کی وکالت کرتے کرتے معاملات یہاں تک پہنچا دیے ہیں کہ اب ناکام مرد اتھلیٹ آپریشن سے عورت بن کے عورتوں کو ہی گیمز میں ہرانے کی بنیاد ڈال چکے ہیں، اسی برح بارود خان اور مونی بٹ بھی علیزے فرام لَمز اور اس کے لبرل دوستوں کو انہی کی گیم میں گُھس کر بِیٹ کرنے والے ہیں۔

    پس تحریر: دنیا کا ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ تحریر و تصویر سے لے کر آڈیو ویڈیو تک کوئی بھی میڈیئم ہو، وہ سماج پر اثر انداز ہونے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر زندہ سماج میڈیا پر اپنے اقدار کے حساب سے پابندیاں عائد کرتا ہے۔ جیسے دہشت گردی یا چائلڈ پورن معاشرے کا ناسور ہیں ویسے ہی یہ ل-ج-ب-ٹ بھی سماج کے لیے تباہی ہے۔ اور اس کی تشہیر و حوصلہ افزائی کرتے مواد پر پابندی لگانا اسلامی نہیں بلکہ بنیادی منطق کا تقاضا ہے کیونکہ اسلام سے بڑھ کر یہ انسانیت کی بقاء کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس کے حامی بس یہ فرض کر لیں کہ اگر ان کی والدہ یا والد اس عادت کا شکار ہوتے تو وہ اس آزادی کا پرچار کرتے آج دنیا میں موجود ہی نہ ہوتے۔

  • دُمدار ستارے، نحوست کے استعارے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دُمدار ستارے، نحوست کے استعارے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں میں دمدار ستاروں کا زمین سے دِکھنا، نحوست یا زمین پر کسی بڑی آفت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ قدیم ایرانی دمدار ستارے دیکھ کر اُس ملک پر جنگ کر دیتے جس طرف اس ستارے کی دم ہوتی۔

    رومی دُمدار ستارے دیکھ کر ڈر جاتے اور عبادت میں مشغول ہو جاتے۔ غرض دم دار ستاروں کا نظر آنا کسی طور اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا تھا۔

    صدیاں ان بوسیدہ تصوارت میں گزر گئیں۔۔کوئی نہیں جانتاتھا کہ آسمان میں اچانک نظر آتے یہ دم لگے روشن اجسام کیا ہیں؟ پھر ستروییں صدی میں دوربین ایجاد ہوئی۔ آسمانوں کی جانب دیکھا جانے لگا۔ کائنات کے راز کھلتے گئے۔

    یہ 14 نومبر 1680 کی ایک سرد رات تھی۔ جرمنی کے ایک چھوٹے سے قصبے کوبُرگ میں بیٹھا جرمن ماہرِ فلکیات گوٹفرائڈ کیرخ ایک روشن دمدار ستارے کو خلا میں زمیں کی جانب بڑھتا دیکھتا ہے۔ یہ ابھی زمین سے نظر نہیں آیا تھا کہ گوٹفرائڈ نے اسے دیکھ لیا۔ بعد میں یہ دمدار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے پر نظر آیا۔ یہ اتنا روشن تھا کہ دن کے وقت بھی نظر آتا۔ اس دمدار ستارے کو نام دیا گیا "دی گریٹ کومٹ آف 1680” یعنی 1680 کا عظیم دمدار ستارہ۔

    اس دریافت کے بعد دمدار ستاروں کے متعلق علم بہتر ہوتا گیا۔ اور آج سائنسدان یہ جانتے ہیں کہ ہم جسے دمدار ستارہ کہتے ہیں یہ دراصل ستارہ نہیں بلکہ نظامِ شمسی میں سورج کے گرد گھومتے چھوٹے چھوٹے جمی گیس ،برف، چٹانوں یا گرد کے بنے سیارچے ہیں جو سورج کے گرد ایک طویل اور بیضوی مدار میں گھومتے ہیں۔ یہ چمکتے اس لیے ہیں کہ ان پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ جب یہ اپنے مدار میں سورج اور زمین کے بیچ آتے ہیں تو سورج کے قریب آنے سے اُسکی روشنی اِنکو گرم کرتی ہے اور ان میں جمی گیسیں باہر کو نکلتی ہیں جو دم کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ یہ گیسیں سورج کی روشنی کو منعکس کرتی ہیں اور یوں ان اجسام کی دم سی نظر آتی ہے۔
    تو دراصل عرفِ عام میں یہ دمدار ستارے بیچارے ستارے نہیں بلکہ سورج کی روشنی سے گرم ہوتے سیارچے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے دم کی صورت گیسوں کی لکیر چھوڑتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے ہوا میں اڑتے جہاز کا دھواں سورج کی روشنی میں نمایاں دکھتا ہے۔

    ان دمدار ستاروں کا مدار سورج کے گرد کئی سو سال تک کا ہوتا ہے۔ اسی لئے اکثر دمدار ستارے کئی صدیوں یا دہائیوں بعد نظر آتے ہیں۔ ہمارے نظامِ شمسی میں اب تک ڈھونڈے گئے دمدار ستاروں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے اوپر ہے۔ مگر انکی کل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

    سائنس کی دنیا میں ایک اہم دمدار ستارہ 1P/Halley یا عرف عام میں ہیلی کومٹ ہے جسے آخری بار 1986 میں زمین سے دیکھا گیا۔ یہ اس لیے اہمیت کا حامل تھا کہ اس سے پہلی بار ماہرین ِ فلکیات کو علم ہوا کہ دمدار ستارے محض ایک بار نہیں بلکہ سالوں کے وقفے سے بار بار بھی نظر آ سکتے ہیں۔ ہیلی دوبارہ 2061 میں زمین سے نظر آئے گا کیونکہ یہ تقریباً ہر 75 سے 79 سال بعد زمین سے نظر آتا ہے۔

    سو دمدار ستارے نہ ہی ستارے ہوتے ہیں اور نہ ہی منحوس!!

  • W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

    W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

    پاکستان کے آسمان میں رات کے وقت ستاروں کا ایک بہت خاص جھرمٹ نظر آتا ہے ، شمال کی طرف ایک بڑے سے W کی شیپ میں بنا جھرمٹ ۔

    آج سے 450 سال پہلے اس جھرمٹ میں ایک بڑا واقعہ ہوا تھا ، اب تک صرف آٹھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہیں انسان نے ننگی آنکھ سے دیکھا ہے ، اس واقعے کے متعلق میں آپ کو اس لیے بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے چیپٹر میں اللہ تعالیٰ کا آدمؑ کو دیا ایک بہت بڑا تحفہ ڈسکس ہونا ہے ، زبان کا تحفہ ، اسی تحفے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا پیغام دیا تھا یعنی قرآن پاک کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وہ بھی ایک ایسی عربی زبان جس کی چار مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے ۔

    لیکن الشعراء (26:195) میں اس تعریف کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت ہی خاص لفظ استعمال کیا ہے ’’عربی مبین‘‘

    میرا ایک سوال ہے کہ آپ نے اس لفظ مبین کا کیا ترجمہ پڑھا ہے ؟

    موسٹلی اس کا ترجمہ …

    ’’صاف اور واضح عربی زبان‘‘

    لکھا ہوا ہے ، جو بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کا ایک ترجمہ میں آپ کو بتاؤں ؟

    ’’ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ lead کرے‘‘

    اور اب میں آپ کو ستاروں کے اس جھرمٹ میں ہونے والے واقعے کے متعلق بتاتا ہوں ، W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں … 11 نومبر 1572ء کی رات یعنی آج کی رات ، اس جھرمٹ میں ایک ستارہ پھٹا تھا جس نے ارسطو کے بتائے ہوئے آسمانوں کی صدیوں پرانی انڈرسٹینگ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

    اسے سینکڑوں لوگوں نے پھٹتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ سترہ مہینے تک آسمان میں ایک خوبصورت سے سرخ اور گلابی دائرے کی شکل میں نظر آتا رہا تھا ۔

    اسی ستارے کو دیکھ کر ملکہ الزبتھ ii نے اپنے دربار والوں سے رائے طلب کی تھی کہ ایک نیا خوبصورت ستارہ پیدا ہوا ہے ، تاج برطانیہ کو کیا کرنا چاہیئے ؟

    اسی ستارے کو دیکھ کر چائنہ میں ming dynasty کے دو شہزادوں کے درمیان ڑائی چھڑ گئی تھی کہ اگلا بادشاہ کون بنے گا کیوں کہ ان کے مطابق ایک خوبصورت نیا ستارہ اگلے بادشاہ کے لیے بہت مبارک ثابت ہونا ہے ۔

    لیکن اس وقت ڈنمارک میں ایک سائنسدان tycho brahe بھی رہا کرتا تھا جس نے اس ستارے پر اپنی سائنٹیفک آبزرویشنز اپنی لاطین ڈائری میں لکھی تھیں جس کا اردو زبان میں مطلب ہے …

    ’’ایک ایسا خوبصورت ستارہ ، جسے آج سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا‘‘

    اس ٹیکسٹ میں لکھا ہے کہ …

    ’’آسمان میں ایک نیا ستارہ پیدا ہوا ہے جو اپنے گلابی اور سرخ رنگ کی وجہ سے آسمان کی ہر چیز سے زیادہ خوبصورت اور چمکدار لگتا ہے ، یہ سب سے الگ تھلگ ہے اور ہم اسے orf کہتے ہیں‘‘

    آج ہم اس ستارے کو SN-1572 کہتے ہیں یعنی 1572ء میں نظر آنے والا سوپرنووا (یعنی ایک پھٹتا ہوا ستارہ)

    یہاں تک پہنچ کر لوگ پھر سوپرنووا کی سائینس بیان کرنے لگ جاتے ہیں لیکن کوئی یہ بات نہیں سوچتا کہ پندرہویں صدی ڈنمارک والوں نے اس ستارے کا نام orf کیوں رکھا ۔

    اسکا جواب میں آپ کو دیتا ہوں !

    کیوں کہ پندرہویں صدی ڈنمارک کے اس orf کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اٹھارہویں صدی کے ایک امیرکن شاعر edgar allan poe نے اپنی سب سے لمبی نظم لکھی تھی ۔

    اس نظم میں وہ ایک بہت اونچی اور خوبصورت جگہ کی بات کرتا ہے جو آسمانوں میں سب سے الگ ہے ، جنت اور جہنم دونوں سے الگ ، لیکن ایڈگر کی امیرکن انگلش میں ایسی جگہ کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا اور نہ ہی ٹائکو کی لاطین زبان میں ایسا لفظ تھا جو ایک خوبصورت بلند جگہ کو ڈیفائن کر سکے ۔

    لہٰذا ٹائکو نے اس ستارے کو orf کا نام دیا اور ایڈگر نے اپنی نظم کو aaraf کا نام دیا اور دونوں کے الفاظ orf اور aaraf کی انسپائریشن … القرآن کی ساتویں سورۃ … ’’الاعراف‘‘ تھی جس کا مطلب ہی ’’بلندیوں کی بھی بلندیاں‘‘ ہے ۔

    ایک ایسی flawless لینگوئج ، جس نے ڈنمارک اور امیرکہ میں بھی کسی نہ کسی صورت lead کیا ہے ، اپنا ’’عربی مبین‘‘ ہونا ثابت کیا ہے ۔

    عربی مبین ، ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ باقی سب کو lead کر جائے ، سٹینڈرڈز سیٹ کر جائے ۔

    آپ نے کبھی سورۃ نجم پڑھی ہے ؟

    کبھی سورۃ نجم کی لینگوئج پر غور کیجیئے گا ، اس سورۃ کی لینگوئج اس قدر پاورفل ہے کہ جب مکہ مکرمہ میں اسکا نزول ہوا تو اس پر آپ ﷺ نے بھی سجدۃ کیا ، آپؐ کے ساتھ جتنے لوگ تھے ان سب نے سجدۃ کیا ، آپؐ کے قرب میں جو بھی جن و انس تھے وہ سب سجدے میں گر پڑے حتیٰ کہ …

    اس سورۃ کی طاقت نے وہاں موجود کفار کو بھی سجدے میں گرا دیا تھا ، اور اس وقت وہاں جو بدترین کافر بوڑھا (امیۃ بن خلف) تھا وہ بھی resist نہ کر سکا اور یہاں تک مجبور ہو گیا کہ جھک کر مٹی اٹھائی اور اپنے ماتھے پر مل لی اور کہنے لگا ، میرے لیے بس یہی کافی ہے (مسلم 1297 ، مشکوٰۃ 1023).

  • نواز تو میرا میچ ونر ایں — سیدرا صدف

    نواز تو میرا میچ ونر ایں — سیدرا صدف

    "نواز تو میرا میچ ونر ایں مینوں ہمیشہ تیرے سے بھروسہ رئے گا۔۔۔”

    بابر اعظم کی نیت پر شک نہیں ہے لیکن اس ورلڈکپ میں جتنا نواز کا اعتماد تباہ کیا گیا اسکی مثال نہیں ملتی ہے۔۔۔ نشان دہی ہوتی رہی کہ نواز کا مورال بہت ڈاؤن ہے۔غائب دماغ ہیں۔۔۔بھارت کے خلاف دو بہترین اوورز کے بعد ایک تیز گیند باز کا اوور بنتا تھا۔۔۔لیکن یہ بھی عدم اعتماد ہے کہ بالر کو مار پڑ جائے تو اسے دوبارہ اوور نہ دیا جائے۔۔ بالر کو بیک کرنا چاہیے۔۔۔چوتھا فاسٹ بالر دستیاب نہیں تھا لہذا نواز کو درمیان میں دوبارہ لانا چاہیے تھا۔۔

    پھر آخری اوور میں نواز سے لیفٹ آرام اسپن کی بجائے تیز باؤلنگ کرانے کی کوشش نے لائن اور لینتھ سے ہٹا دیا۔۔یوں چوتھا فاسٹ بالر نہ کھیلانے کا خمیازہ نواز نے بھگتا۔۔

    ۔زمبابوے والا میچ نواز کو فنش کرنا چاہیے تھا لیکن بھارت والے میچ نے انکا اعتماد خراب کیا اور زمبابوے والے میچ کے بعد وہ بالکل تباہ ہو گیا۔۔۔
    شاداب خان نے ناصر حسین کے ساتھ گفتگو میں واضح طور پر بتایا کہ نواز ان دو میچز سے ڈسٹرب ہے۔۔۔۔

    بابر اعظم کی کپتانی پر بہت تنقید ہو رہی ہے۔۔۔ میں نے بابر کی ہمیشہ سپورٹ کی ہے کہ بابر کو بطور کپتان مزید وقت دینا چاہیے کیونکہ ماضی میں ہم نے کپتان بدلنے سے بھی نتائج حاصل نہیں کیے۔۔۔۔۔

    لیکن بابراعظم کو بھی اب نئے جواز تلاشنے ہوں گے۔۔۔ ورلڈکپ اور ایشیا کپ ٹورنمنٹ کے ایک سیمی فائنل اور دو فائنل ہارنے کے بعد "ہم سیکھیں گے” کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔۔۔

    روایتی کپتانی کو چھوڑ کر پروایکٹیو ہونا پڑے گا۔۔۔یہ دیکھے بنا کہ لیفٹ آرام کو مارنے میں جو اینگل استعمال ہوں گے اس طرف باؤنڈی بڑی ہے کی بجائے دفاعی اپروچ کہ دو کھبے بلے باز ہیں تو لیفٹ آرام کو باؤلنگ نہیں دی جائے گی باوجود اس کے کہ آف اسپنر کو جہاں ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے وہ باؤنڈی چھوٹی ہے۔۔۔۔بھارت کے خلاف نواز پر چارج کرنے والے دو "دائیں ہاتھ” کے بلے باز تھے۔۔۔

    بیٹنگ میں نواز کا رول طے نہیں ہے۔۔۔ایک اوور مار پڑ جائے تو مڈل اوورز میں دوبارہ اوور نہیں دیا جاتا ہے۔۔۔۔ آخری اوور جہاں اسپنر رسک ہوتا ہے آواز دی جاتی ہے۔۔۔کھبے بیٹنگ کر رہے ہیں تو بیشک 100 کی پارٹنرشپ لگ جائے ایک اوور نہیں دیا جاتا ہے۔۔

    دھونی بطور کپتان ایک رول ماڈل کی حثیت رکھتے ہیں۔۔رکی پوئنٹگ بہترین کپتان رہے ہیں۔۔۔۔اس کی وجہ دونوں کے آئی سی سی ٹورنمنٹس جیتنا ہے۔۔۔ویرات کوہلی میچز جیتنے کی بہترین شرح رکھنے کے باوجود بڑے کپتانوں کی فہرست سے اسی لیے باہر ہیں کہ کریڈٹ پر کوئی ٹرافی نہیں ہے۔۔۔

  • کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    ایک کامیاب زندگی سے ایک مطمئن زندگی ہزار درجہ بہتر ہے. آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ ہمیشہ آپ کو یا تو دوسرے بتائیں گے یا آپ کو دوسروں سے پوچھنا پڑے گا لیکن اطمینان روح سے نکلتا ہے. آپ کو پوچھنا نہیں پڑتا.

    مکمل سچ آپ کے منہ پر اس دنیا میں سنا ہے تین قسم کے لوگ ہی بول سکتے ہیں. ایک جو نشے میں دھت ہو دوسرا جو سخت غصے کی کیفیت میں ہو اور تیسرے بچے جو من کے ہی سچے ہوتے ہیں. آپ ان تینوں سے پوچھ سکتے ہیں آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ دنیا روز اپنے ہیرو بدلتی ہے کل کا ہیرو آج زیرو ہوگا. یہاں روز فیشن بدلتا ہے. لوگوں کی خواہشات اور توقعات روز بدلتی ہیں. آپ تھک جائیں گے ان کی نظر میں کامیاب کہلاتے کہلاتے.

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے "جس کی نیت اور اس کا مقصد اپنی تمام تر کوشش سے طلب آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دل کی بے نیازی یعنی مخلوق کا محتاج نہ ہونا اور دل کا اطمینان نصیب فرما دیتے ہیں۔‘‘

    روح اپنے سفر آخرت پر ہے. یہ راستہ مخلوق خدا کے درمیان سے گزرتا ہے. اپنے لئے اور آس پاس چلتی اللہ کی مخلوق کیلئے یہ سفر آسان بنانے میں روح کو خوشی ملتی ہے. اپنی اور دوسروں کی زندگی اگر ہم پیچیدہ نہ کریں تو یہ آج کا اطمینان اور کل کی کامیابی ہے.

  • سونے جیسے قیمتی لوگ — ریاض علی خٹک

    سونے جیسے قیمتی لوگ — ریاض علی خٹک

    جاپانی کچھ باتوں میں بڑی کمال سوچ رکھتے ہیں. جیسے یہ اپنے گھر اور اس میں موجود اپنے روایتی برتنوں فرنیچر کا بڑا دھیان رکھتے ہیں. صاف ستھرے گھر میں جوتوں کے ساتھ نہیں گھومتے یا گھر کے سلیپر الگ رکھتے ہیں. لیکن ایک خوبی بڑی کمال ہے. انکا کوئی قیمتی خاندانی پیالی کیتلی ٹوٹ جائے تو اس کی مرمت سونے یعنی گولڈ سے کر لیتے ہیں.

    ٹوٹ کر دوبارہ جوڑ بنانے کو یہ ایسا قیمتی بنا دیتے ہیں کہ وہ جوڑ خود ایک کمال بن جاتا ہے. ایک پرانی عربی کتاب میں کوئی عربی کہاوت یاد آتی ہے جسکا مفہوم ہے کہ مرنا کوئی نہیں چاہتا ورنہ اسے گہرے پانی میں پھینک دو یہ فوراً ہاتھ پیر چلانا شروع کردے گا. پھر لوگ اپنی زندگی سے ایسے بے زار ہوکر بیٹھ کیوں جاتے ہیں کہ مرنا ان کو مشکل نہیں لگتا.؟

    وہ اصل میں اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں. اندر کی یہ جنگ ان کو تنہا لڑنی پڑ جاتی ہے. جیسے گہرے پانی میں انسان بقا کی جنگ لڑ رہا ہو اور اسے تیرنا بھی نہ آتا ہو تو اپنی ساری طاقت و توانائی خرچ کر کے وہ بے بسی سے یا پھر ڈوبنے کا انتظار کرتا ہے یا کسی ایسے ہاتھ کا جو اسے کھینچ کر نکال لے. اب بھلے زندگی کا ہاتھ پہلے پہنچا یا موت کا.

    ہمارے آس پاس سب ہی تیراک نہیں ہوتے. تنہا اپنی جنگ جیت لینے والے سورما نہیں ہوتے. اس لئے کسی کو تنہا نہ چھوڑیں. جاپانی جیسے اپنے برتن کا جوڑ سونے سے بنالیتے ہیں ایسے ہی کسی ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے میں مدد دینے والے بھی سونے جیسے قیمتی لوگ ہوتے ہیں. اس لئے حقوق العباد کے اعمال سونے جواہرات کے ساتھ تولے جائیں گے.

  • ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    چند دن پہلے سکول سے واپسی پر گاؤں جا رہا تھا تو میرے آگے بائیک ایک لڑکے کے پیچھے کوئی ستر سے اسی سالہ بزرگوں کی جوڑی بیٹھی جا رہی تھی۔ سنگل سڑک تھی اگر انکو کراس کرتا تو ان پر بہت زیادہ دھول مٹی پڑنی تھی کہ آجکل دیہاتی سڑکوں پر ٹریکٹر ٹرالیوں اور بڑی مشینوں کے چلنے کیوجہ سے بہت دھول بن جاتی ہے۔ فصل کٹنے کے بعد ٹریکٹر ٹرالیوں پر جانے والی مٹی سڑک کر گرتی وہ بھی بہت دھول بناتی ہے۔ میں بائیک کے پیچھے پیچھے آرام سے گاڑی چلا رہا تھا کہ دس کلو میٹر تک جہاں بھی انکو کراس کرتا انہوں نے مٹی میں نہا جانا تھا۔ بائیک ڈرائیور نے ایک دو بار خود ہی مجھے سپیس دی مگر میں نے کراس نہیں کیا۔ آدھے راستے میں جاکر بائیک والے نے بائیک روک لی کہ میں گزر جاؤں۔ میں نے پیچھے ہی گاڑی روکی اور خود اتر کر آگے گیا۔

    اور اس لڑکے سے کہا کہ میں خود ہی آگے نہیں جا رہا آپ چلتے جائیں۔ پریشان نہ ہوں۔ مجھے راستہ نہ دیں میں پیچھے ہی آؤں گا۔ میں پیچھے آنے ہی لگا تھا کہ مجھے بوڑھی ماں نے آواز دی کہ پتر میری بات سنو۔ تم کیوں نہیں آگے جا رہے؟

    میں نے کہا کہ میں اگر آگے گزروں گا تو آپ پر مٹی پڑے گا جو میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں کسی پر بھی مٹی ڈال کر اسے کراس نہیں کرتا چاہے جتنی بھی جلدی میں ہوں۔ اماں نے پوچھا تم کہاں سے آئے ہو اور کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا نوشہرہ ورکاں سے آیا ہوں اور بھڑی شاہ رحمان میرا گھر ہے ایسے سپیشل بچوں کے ایک سرکاری سکول کا ٹیچر ہوں جو دیکھ نہیں سکتے یا بول اور سن نہیں سکتے یا چل پھر نہیں سکتے۔ بس میرے یہ بات کہنے کی ڈیر تھی وہ اماں پیچھے سے اتری اور مجھے گلے لگا کر میرا منہ ماتھا چومتے ہوئے ڈھائیں مار کر رونے لگ گئی۔ بابا جی اترے اور وہ بھی گلے لگ کر رونے لگ گئے۔ اتنی دیر میں پیچھے بھی سڑک پر چند گاڑیوں اور رکشوں کی لائن لگ گئی۔ مگر کوئی بھی ہارن نہیں بجا رہا تھا کہ راستہ چھوڑو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے بس کار سائیڈ پر کر لینے دیں ادھر ہی رکیں۔

    گاڑی سائیڈ پر لگائی کہ پیچھے کی چیزیں گزر سکیں۔ اور انکے پاس آیا۔ اماں جی نے بتایا کہ میں نے جو بات کہی ہے یہ بات مجھے الہام ہوئی ہے۔ یہ بات انہی الفاظ میں انکا اکلوتا بیٹا کہا کرتا تھا جو چھ سال قبل 30 سال کی عمر میں شیخوپورہ روڑ پر ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں موقع پر ہی وفات پا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ انکی شادی کے 20 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا جب وہ اولاد کی امید ہی چھوڑ چکے تھے۔ جب وہ بائیس سال کا ہوا تو غیر قانونی راستے سے یونان چلا گیا۔ 8 سال وہاں رہا جب کاغذ بنے تو چھٹی آیا اور اسکا رشتہ دیکھ رہے تھے کہ ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں وفات پا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انکا اس دنیا میں واحد سہارا تھا۔ اماں نے کہا کہ وہ یونان جانے سے پہلے جب مجھے اور تمہارے چاچے کو بائیک پر کہیں لے کر جاتا تھا ناں۔ اور لوگ کراس کرتے ہوئے دھول اڑا جاتے تھے تو وہ کہتا تھا اماں جب میرے پاس گاڑی آئے گی ناں تو میں کسی پر بھی دھول نہیں ڈالوں گا۔ چاہے ایک گھنٹے کا سفر تین گھنٹوں میں ہی کیوں نہ طے کروں۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو کراسنگ میں دھول کے بادل اڑا کر بائیک والوں اور سائیکل سواروں کے سارے کپڑے گندے کر جاتے ہیں۔

    وہ یونان سے آکر گاڑی خریدنے ہی والا تھا کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ اگلے جہان چلا گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے اور کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نوشہرہ ورکاں دوائی لینے گئے ہوئے تھے اور یہ لڑکا ہمارا ہمسایہ ہے بائیک ہماری اپنی ہے جو ہمارے بیٹے کی تھی اسے ساتھ بطور ڈرائیور لائے ہیں۔ لوکل گاڑیاں بہت دیر لگا دیتی ہیں۔

    میں نے اس لڑکے سے کہا تم بائیک لیکر چلو میں اماں اور چاچا جی کو لیکر تمہارے پیچھے ہی آرہا ہوں۔ مگر رہو گے تم آگے ہی اور سپیڈ سے چلو زرا اب۔

    اماں کو میں نے فرنٹ پر بٹھایا اور چاچا کو پیچھے اور گاڑی انکے گاؤں کی طرف موڑ لی۔ رستے میں اماں جی نے بتایا کہ تمہارا چاچا جوانی میں پالتو جانوروں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑا کرتا تھا۔ بڑی دور سے لوگ آکر لیجایا کرتے تھے اور چھوڑ بھی جاتے تھے۔ تب ہر گھر میں مویشی ہوا کرتے تھے۔ اور گاہے بگاہے کام آتا رہتا تھا چند کنال زمین بھی تھی جس سے گھر کے چاول گندم آجاتے تھے۔ وہ بیٹے کے یونان جانے پر بیچ دی تھی۔ جو جانوروں کی ہڈیاں جوڑنے کا فن جانتا ہوں وہ انسانی ہڈیاں کیوں نہیں جوڑ سکتا۔ مویشی کم ہوئے تو انسانی ہڈی جوڑ کا کام شروع کر دیا اور انکی جوڑی ہوئی ہڈی کبھی خراب نہ ہوتی تھی۔ یہ کام بیٹے کی وفات تک چلتا رہا۔ جب وہ فوت ہوا تو کام چھوڑ دیا اب بس روتے رہتے ہیں۔

    انہی باتوں میں ہم انکے گھر پہنچ گئے۔ کوئی چھ سات مرلے کا ڈبل سٹوری گھر ماشاءاللہ بہت اچھا بنا ہوا تھا۔ جو انکے بیٹے نے یونان سے پیسے بھیجے تو بنایا گیا تھا۔ اماں نے مجھے پوچھا تمہیں کوئی جانے کی جلدی تو نہیں؟ میں نے کہا بلکل بھی نہیں میں تو رات یہاں ہی رکوں گا۔ میری یہ بات سننے کی دیر تھی کہ وہ دونوں میاں بیوی جیسے خوشی سے نہال ہو گئے۔ اماں نے کہا تم بیٹھو میں گوشت لیکر آتی ہوں۔ میں نے کہا آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ مجھے ہانڈی پکانی آتی ہے آپ اجازت دیں تو میں ہانڈی پکا لوں ؟ اماں پھر میرے گلے لگ گئی کہ میرے غلام فرید کو بھی ہانڈی پکانی آتی تھی کہ وہ ہماری بیٹی اور بیٹا دونوں تھا۔

    ہانڈی میں نے پکائی اماں کو آٹا گوندھ کر دیا اور اماں نے روٹیاں پکائیں۔ کھانا کھایا اور پھر سے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ رات کوئی بارہ بجے تک ہم باتیں کرتے رہے۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ بیٹے کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے پڑے ہیں جو ہمارے لیے کافی ہیں۔ جو اسنے یونان سے کمائے تھے۔ جتنی ضرورت ہو ہم کسی کے ساتھ جاکر بنک سے لے آتے ہیں۔ وہ جاتے ہوئے ہمیں کسی کا محتاج نہیں چھوڑ کر گیا۔ ہم نے کسی سے کبھی ایک پیسے کی بھی مدد نہیں لی بلکہ کسی ضرورت مند کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ بنک کا مینجر بھی ہماری بڑی عزت کرتا ہے۔ اماں ہی زیادہ بات کرتی تھی۔ چاچا بس کبھی کبھار کوئی بات کرتا اور ہماری باتیں سنتا رہتا۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا پہلے ہم دعا کرتے تھے کہ اللہ ہمیں اولاد دے۔ جب دعا چھوڑ دی تو اللہ نے بیٹا دے دیا اور بیٹا بھی ایسا فرمانبردار جیسے فرزند ابراہیمی کی صحبت پائی ہو۔ ہم خوش تھے کہ بڑھاپے کا سہارا ہے اب پوتے پوتیاں ہونگے کہ اللہ کا حکم آگیا اور ہم پھر تنہا ہوگئے۔

    اسکے حکم بڑے ڈاڈھے ہیں۔ ماننے پڑتے ہیں۔ اسکے راز وہ ہی جانتا ہے۔ ہم اسکی رضا میں خوش ہیں۔ سوچتے ہیں وہ اولاد دیتا بھی نہ تو ہم کیا کر سکتے تھے۔ اسنے اولاد دی اور ایک وقت مقررہ تک اسے زندگی بھی دی۔ ہم بھی اپنی زندگی پوری کریں گے اور وہاں پھر اپنے بیٹے سے مل لیں گے۔ جہاں ہم پھر کبھی بھی جدا نہ ہو سکیں گے۔ کہ غیب کی باتیں اور حکمتیں تو وہی جانتا ہے۔ ہم سب کا یہاں ایک متعین رول ہے جو پلے کرکے ہم چلے جائیں گے۔ یہی باتیں کرتے ہم سو گئے صبح اٹھ کر میں سکول آگیا اس وعدے کے ساتھ کہ مہینے میں ایک بار ضرور ملنے آیا کروں گا۔

    کہیں سے بھی ملنے والے دکھ درد تکلیفیں اور حادثے زندگی کا لازمی حصہ ہیں یارو۔ زندگی وہ ہر گز نہیں ہے جو ہم سوچتے ہیں بلکہ وہ ہے جو ہمارے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر زندہ تو رہنا ہوتا ہے اور یہی زندگی کی حیثیت اور حقیقت ہے۔ آج غم ہیں تو خوشی ضرور آئے گی اور کبھی خوشیوں کو اچانک سے غم بھی آلے گا۔ بس ہمیں چلتے رہنا ہوتا اور اپنا ایک متعین سفر جاری رکھنا ہوتا۔

  • شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    پچھلے پانچ دن سے چھوٹی بہن شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان میں داخل ہیں ڈلیوری کیس تھا پلیٹ لیس کم ہونے کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی تھی ان کا علاج چل رہا ہے.

    ہسپتال کے حالات یہ ہیں کہ زچہ بچہ وارڈ میں ایک بیڈ پر دو سے تین مریض موجود ہیں. رات بچے کی پیدائش ہوئی تو اسے بھی فوراً نومولود بچوں کی وارڈ میں داخل کروانا پڑا.

    وہاں بچوں کو جنگلہ نما ٹوکری میں ڈالا جاتا ہے ایک ٹوکری میں ایک بچے کی گنجائش تھی لیکن وہاں بھی دو دو بچے ایک ٹوکری میں موجود ہیں.

    بچوں کے ورثاء کو وہاں رکنے کی اجازت نہیں ہے. وہ وارڈ کے دونوں دروازوں پر پہرہ لگا کر پورا دن اور پوری رات کھڑے ہوتے ہیں کہ بچہ اغواء نہ ہو جائے. کیونکہ ایسے واقعات سرکاری ہسپتالوں میں ہو چکے ہیں.

    اس کے علاوہ سنیں.. یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے اور اکلوتا اکلوتا میڈیکل کالج صرف یہی ہے لیکن سرکاری کاغذات میں اس کا سٹیٹس نیم سرکاری ہسپتال کا ہے یہاں پر اِن ڈور میں ایڈمٹ مریضوں کی ادویات بھی جیب سے خرید کر دینا پڑتی ہیں. یعنی کہ بس مریض کا چیک اپ اور رہائش فری ہے علاج کے پیسے لگتے ہیں یہاں پر ضلع رحیمیارخان کے علاوہ ضلع راجن پور اور ضلع گھوٹکی سندھ تک کے مریض آتے ہیں.

    اب دوست کہیں گے کہ یار تم لوگ صحت کارڈ پر پرائیویٹ علاج کیوں نہیں کرواتے؟ تو عرض یہ ہے کہ یہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جدید مشینری ہی موجود نہیں جس کی ضرورت انتہائی نگہداشت کے مریضوں کیلئے پڑتی ہے اسلیے وہ سیریئس مریض کو دیکھ کر پہلے ہی ہاتھ کھڑے دیتے ہیں کہ بھائی اسے رحیمیارخان لے جاؤ..

    ہم بھی پہلے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گئے تھے لیکن وہاں سے ریفر کیا گیا.

    ہمارے مریض کے بارے میں ڈاکٹر کا اندازہ تھا کہ بچے کو پیدائش کے بعد کچھ وقت کیلئے شیشے میں رکھنا پڑے گا اسلیے ہمیں جانا پڑا..

    تعلقات کی بناء پر کہیں سے سفارش کروا کر ماں اور بچے کو اکیلے اکیلے بیڈ دلوا سکتے تھے لیکن وہ بھی نہیں کیا کہ اس بیڈ سے جس مریض کو منتقل کیا جائے گا وہاں مریض زیادہ ہو جائیں گے ان بیچاروں کی زندگی مزید تنگ ہو جائے گی اس لیے اس بھی گریز کیا..

    اس کے علاوہ اس ہسپتال کے فضائل سناؤں تو آپ عش عش کر اٹھیں گے.. یہاں پر ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کروانے کیلئے تین مہینے کا انتظار کرنا پڑتا ہے البتہ یہ نیم سرکاری ہسپتال ہے تو آپ انہیں کیش پر کرنے کا بولیں تو ایم آر آئی فوراً ہو جائے گا.

    سی ٹی سکین والی مشین یہاں اکثر خراب رہتی ہے کیونکہ سی ٹی سکین والے کھاتے کے انچارج ڈاکٹر صاحب کا اپنا کلینک ہسپتال کے بالکل سامنے ہے وہ کروڑوں روپے خرچ کرکے وہاں مشینیں لائے تھے اب سب کا سی ٹی سکین سرکاری ہسپتال میں کریں گے تو انہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہو گا.. اس لیے اس نیم سرکاری ہسپتال کی مشینری اکثر خراب رہتی ہے ٹھیک کرنے کیلئے باقاعدہ ٹینڈر نکلتا ہے..

    ان حالات میں مجھ سے کوئی پوچھے کہ نئے آنے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تو میرا پیغام یہی ہے کہ نئے پیدا ہونے والے نہ آئیں تو ہی بہتر ہے.. یہاں حالات بالکل بھی ٹھیک نہیں ہیں.

  • پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا  فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کی بنیادوں میں ایک بڑے مذہبی طبقے کا خون پسینہ موجود ہے تاریخ کے اُس موڑ پر جب بتوں کو پوجنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے والوں کے درمیان ایک بَرّی لکیر کھینچی گئی کہ جس کی زد میں آ کر بوڑھوں، بچوں،خواتین اور نوجوانوں نے ملک و قوم کے ایمان کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یہ قربانیاں کہنے کو تو نا قابلِ فراموش ہیں مگر حقیقت ہے کہ انہیں بتدریج فراموش کیا جاتا رہا ہے ملک کو حاصل کرنے کے بنیادی نظریات، دینی اخلاقیات، قومی و ملی جذبات جب اگلی نسل میں منتقل ہوئے تو ان کی حدت ماند پڑ گئی، یہ نسل اسلام اور پاکستان کی اس حد تک اہمیت کو نہ سمجھ سکی کہ جس قدر اس سرزمین کو حاصل کرنے والے جانتے تھے یوں ہی یہ دوسری نسل بھی اب بزرگ یعنی با اثر ہوگئی۔

    کوئی اگر اپنے خاندان کا بزرگ ہے تو اس کی قائم کی گئی روایات اس کے مختصر خاندان پر لاگو ہو جاتی ہیں، کوئی علاقے اور برادری کی بااثر شخصیت ہے تو وہ اپنے رسوم و رواج کا اطلاق اپنے اس حلقے پر کرتا ہے، کسی بھی خاندان، حلقے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے کے سربراہ کی بات بھی اس کی شخصیت کی طرح با اثر ہوتی ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو! بقول واصف علی واصف “پیغمبر کی بات باتوں کی پیغمبر جبکہ بادشاہ کی غلطی غلطیوں کی بادشاہ ہوتی ہے” لہٰذا خاندان کے سربراہ کا تربیت یافتہ ہونا ایک پورے خاندان کے تربیت یافتہ ہوجانے کی نوید سناتا ہے۔۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں دینی رجحانات کے حاملین ناپید ہوتے جا رہے ہیں جبکہ شرعی حدود پھلانکنے اور ہندوانہ رسمیں عام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مثلاً شادی بیاہ کے مواقع پر ہندوانہ روایات کا اہتمام، یا پڑھے لکھے حلقے میں تلاوت نعت سے شروع ہونے والی تقاریب میں ناچ گانے، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سرِ عام رشوت وغیرہ ان شرعی جرائم کے چند بنیادی اجزاء میں شامل ہوتے ہیں۔

    اگر وقت یوں ہی گزرتا رہا اور کوئی راہنما شخصیت یا ادارہ ان با اثر سمجھی جانے والی شخصیات کی تربیت کے لیے نہ متحرک ہوا تو کہیں حقیقی با اثر شخصیات کی سخت گرفت نہ ہو جائے! ایسے افراد اور ادارے وقت کی اہم ضرورت ہیں کہ جو بزنس کلاس، اعلیٰ تعلیم یافتہ کلاس، چھوٹے بڑے سرکاری افسران اور خاندان کے بڑوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں دینی تعلیمات و احکامات سے آگاہ کریں۔ اگرچہ ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو ہمیں چند ایک گِنے چُنے دینی ادارے نظر آتے ہیں کہ جو دینی تعلیمات عوام الناس تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایسے حالات میں عام نوجوانوں اور افسران بالا کی دینی تربیت کرنے والے اداروں کی اشد ضرورت ہے،

  • بھلا استاد ایسے  بھی  مہربان  ہوتے  ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بھلا استاد ایسے بھی مہربان ہوتے ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بہتے آنسو راستے بھر میں یاد آتے رہے ، سوچ اور حیرت ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھی – یہی حیرت کہ بھلا استاد ایسے مہربان بھی ہوتے ہیں اور یہی سوچ کہ ہاں استاد ایسے ہی مہربان ہوتے ہیں –

    برس گزرے تقی الدین وطن سے نکلے تھے ، سفر ایسے جیسے زندگی کا لازمہ ہو چکا ، حصول علم کا شوق سفر کی ہر منزل آسان کیے دیتا تھا ، نہ سفر ختم اور نہ علم کی کوئی حد – اسی شوق نے تقی الدین ہلالی کو مبارک پور آنے پر مجبور کر دیا – کیونکہ مبارک پور میں ان دنوں علم کا چاند نکلا تھا – جی ہاں مولانا عبد الرحمان مبارک پوری کا دیس مبارک پور تھا –

    مہمان پار پردیس سے علم م کی "اور” چلا آیا تو استاد کا بھی اس کی غریب الوطنی پر دل پسیج گیا – بہت محبت اور اصرار کے ساتھ گھر میں رکھا – شیخ تقی الدین ہلالی جتنا عرصہ مبارکپور رہے حضرت الاُستاد کے ہاں ہی رہے خود کہتے ہیں کہ :

    ” نہ مجھے کسی ہوٹل جانا پڑا نہ کبھی کھانا خریدنے کی نوبت آئی "-

    مہمان بہت دن رہا لیکن اک روز جانا تو تھا سو رخصتی کا وقت آ گیا – تقی الدین نے فیصلہ کیا کہ ٹرین سے اعظم گڑھ کو جایا جائے اور پھر آگے کی منزلیں – استاد محترم نے کہا کہ :

    ” ایسے نہیں ، رک جائیے کچھ روز میں ہمارے دو آدمی بیل گاڑی سے سفر پر جانے والے ہیں آپ ان کے ساتھ جائیے گا "-

    جانے والے دونوں افراد آدھی رات میں سفر کو نکلنے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے – شاگرد نے عشاء کی نماز پڑھی اور رخصت چاہی کہ رات گئے ملنا کیسے ہو گا ، اس لیے استاد محترم کو ابھی مل لیا جائے – دل میں اک کسک بھی تھی کہ جانے اب ملاقات ہو نا ہو –
    گزرے ایام ، علم کی مجلسیں ، استاد کی رفاقتیں ، شفقتیں سب اداس کیے دے رہی تھیں ، لیکن جانا تو تھا – استاد کہنے لگے
    "ایسے نہیں ، وقت رخصت میں خود آوں گا ” –

    شاگرد نے ہزار کہا "حضرت رہنے دیجئے آدھی رات کا وقت زحمت ہو گی نیند سے اٹھیں گے "- لیکن لاستاد نہ مانے –

    رات بھیگ رہی تھی ، چاندنی پھیل رہی تھی ، ستارے اس کی روشنی میں ماند ماند سے تھے – مسافر کی رخصتی کا وقت ہوا تو سامان اٹھائے مسجد کے حجرے سے باہر نکلا – کچھ ہی قدم آگے بڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے چاندنی ہر طرف محبت کی خوشبو پھیلا رہی ہو – مولانا مبارک پوری منتظر کھڑے تھے –

    مولانا شاگرد کو ساتھ لے کر گاڑی کی طرف چلے ، گاڑی والے دونوں صاحب منتظر تھے – وقت رخصت استاد نے تقی الدین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ، دعائیں تھی کہ ماحول کو معطر کیے جا رہی تھیں :

    "استودع اللہ دینک امانتک و خواتیم عملک ، زودک اللہ التقوی و یسرک الخیر اینما توجہت ”

    پھر ہولے سے شاگرد کے ہاتھ میں کچھ روپے تھما دئیے ، تقی الدین ہچکچا گئے ، اور کچھ شرما گئے کہ علم کا خزانہ تو دے دیا بھلا اس کی کیا حاجت – لیکن استاد محترم کا تقاضا آنسوں کی صورت آنکھوں سے نکل اٹھا ، مولانا مبارک پوری زار و قطار رو دئیے – بہتے آنسوں سے تکرار کہ

    ” رکھ لو ، رکھ لو ” – شیخ تقی الدین ہلالی لکھتے ہیں کہ :

    میں نے روپیہ لے لیا ، ان کا رونا دیکھ کر میں بدن پر کپکی طاری ہو گئی ، میں شرمندہ بھی تھا کہ روپے لوٹانے نے ان پر رقت طاری کر دی ” –

    لیکن شیخ تقی الدین کو نہیں معلوم تھا کہ روپے لوٹانا ان آنسوؤں کا سبب نہ تھا ، ہم ہندوستانی محبت میں ایسے ہی جذباتی ہوتے ہیں ، استاد اداس ہوے جا رہے تھے کہ ایسا لائق شاگرد جانے کب ملے –

    تقی الدین نے ان سے معافی چاہی ، لیکن یہ کوئی ناراضی کے آنسو تو نہ تھے یہ تو محبت کے آنسو تھے کہ جو خود سے چلے آتے ہیں اور اپنا وجود منواتے ہیں ، بہتے ہیں اور بہا لے جاتے ہیں –

    شگرد رخصت ہوا ، چاند بھی ڈوب چلا ، ستارے مدھم مدھم سا گیت گاتے اپنی منزلوں کی طرف نکل گئے – مسافر کا پہلا پڑاؤ آ گیا ، فجر کا وقت تھا ، مسافر نماز کے لیے رکا ، امامت کو کھڑا تھا ، دونوں ساتھی پیچھے تھے –

    لطف کرم کی برسات جو عرصہ برسی اور جس کی انتہا آج آخری رات مسافر نے دیکھی ، اس کو بے چین کیے دے رہی تھی –

    دل پر رقت تھی کہ جیسے باہر ہی نکل آئے گا – قرأت شروع کی اور پھر آنسوؤں کی برسات نے کچھ پڑھنے نہ دیا –