Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    اوپر والی تصویر میں ایک طرف میرے ماموں انور علی (ائیر فورس ریٹائرڈ) ہیں۔ دوسری طرف انکا صاحبزادہ میرا ماموں ذاد معظم علی ہے۔ معظم علی مجھ سے چار سال بڑا ہے۔ ماموں جی اپنی سروس کے آخری سالوں میں کراچی تھے تو ڈاکٹروں نے کہا آپکا اکلوتا بیٹا مائلڈ لیول کا ذہنی معذور ہے۔ اسکا آئی کیو 50 سے 70 کے درمیان ہے۔ زبان میں بھی شدید لکنت تھی۔ جسے آپ ہکلانہ کہتے ہیں۔ ایورج آئی کیو 90 سے 120 ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا معظم علی نارمل بچوں کے سکول نہیں پڑھ سکے گا۔ زرا سوچ کے دیکھیں کسی کی کل کائنات ایک بیٹا ہو اور وہ بھی ذہنی معذور تو والدین پر کیا گزرے گی؟ مامی نے اتنی ٹینشن لی کہ دائمی تیز فشار خون و شوگر کی جوانی میں مریضہ بن گئیں۔ رشتہ داروں میں کیا کہا جائے گا کہ میرا بچہ پاگل ہے۔ یہی تو دیہاتوں میں کہا جاتا ہے۔ اور سپیشل بچے کو والدین کے ہی ماضی کے برے اعمال کی سزا سمجھا جاتا ہے۔

    ماموں جی فوجی تھی۔۔ اعصابی طور پر ایک مضبوط شخص تھے۔ ماموں کہتے ہیں خطیب احمد بیٹا میں نے سب سے پہلا جو کام کیا۔ اس سچائی کو قبول کر لیا۔ اور کراچی کے ایک سپیشل ایجوکیشن سکول میں سنہ 1992 میں معظم علی کو 7 سال کی عمر میں داخل کرا دیا۔ جہاں سپیچ تھراپی اور تعلیم شروع ہو گئی۔ ماموں کہتے ہیں میں معظم کو خود انگلش اور اردو کے حروف تہجی پڑھاتا تھا۔ 92 کے سال پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ سارے ملک میں جشن تھا کراچی اس رات کو پہلے سے بھی روشن ہو چکا تھا۔ اور ہمارے جیسے ساری خوشیاں ختم ہو چکی تھیں۔ میں نے معظم کو لیا اور ساحل سمندر پر ہم باپ بیٹا چلے گئے۔ ہم نے خوب موج مستی کی۔ ماموں کہتے میں نے بیٹے کی معذوری کو اپنی زندگی جینے کا مقصد بنا لیا۔ مجھے اب باقی زندگی مختلف طریقے سے جینا تھی۔ جس کے لیے میں خود کو تیار کر چکا تھا۔

    1994 میں ماموں ریٹائر ہوئے۔ 280 ہزار روپے پنشن و گریجویٹی کے ملے۔ اب ماموں کی نظر میں بیٹے کی تعلیم تھی۔ اپنے آبائی شہر حافظ آباد آئے سپیشل بچوں کے سکول کا پتا کیا۔ کوئی نہیں تھا یہ تو اس وقت ضلع بھی نہیں تھا گوجرانولہ کی تحصیل تھی۔ گوجرانولہ گئے گل روڑ پر ایک ادارہ تھا جس سے ماموں مطمئن نہ ہوئے۔ لاہور گئے اور لاہور میں موجود ادارے وزٹ کیے جن کی حالت کچھ قابل قبول تھی۔ ماموں جی نے نشاط کالونی آر اے بازار میں 5 مرلہ کا پلاٹ لیا اور لاہور بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے شفٹ ہوگئے۔ میری مامی گاؤں رہنا چاہتی تھیں مگر ماموں کے ذہن میں کچھ اور تھا انہوں نے اپنی مرضی کی۔

    معظم کچھ سکولوں سے ہوتا ہوا ڈاکٹر عبدالتواب مرحوم اور ان کی اہلیہ کے گھر میں شروع کیے گئے سپیشل بچوں کے سکول رائزنگ سن ڈیفنس سکول لاہور داخل ہوگیا۔ تب تک معظم کافی بہتر ہوچکا تھا۔ کئی سال کی سپیچ تھراپی معظم کی زبان کی لکنت قدرے کم کر چکی تھی۔ رویے میں قدرے بہتری آچکی تھی۔ لرننگ کا موڈ بن چکا تھا۔ عمر 15 سال ہوچکی تھی جب معظم رائزنگ سن میں داخل ہوا۔ ماموں کہتے ہیں اس سکول میں ایک بڑی پیاری سی گوری چٹی ٹیچر تھی معظم نے ضد کی کہ وہ پڑھے گا تو اسی ٹیچر سے ورنہ پرانے سکول چھوڑ آئیں۔۔معظم کی بات سکول انتظامیہ نے مان لی۔ اس بہن کا میں نے پتا کرنا ہے جس نے میرے بھائی کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ ماموں کہتے اس ٹیچر سے اس کا انٹریکشن بہت اچھا ہو گیا۔ وہ ایک انتہائی محنتی ٹیچر تھی۔ اس کا میں نے شکریہ ادا کرنا ہے۔۔ اسے بتانا کہ دیکھیں آپ کی محنت کا رنگ اللہ نے کیسا چڑھایا ہے معظم پر۔ اور اس کے سکول بھی جا کر انتظامیہ کو معظم سے ملوانا ہے۔

    معظم نے اس ٹیچر سے الحمدللہ اردو انگلش پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ بنیادی حساب سیکھا۔ صاف رہنا سیکھا۔ نماز سیکھی۔ بڑوں کا ادب سیکھا۔ اپنے کام خود کرنا سیکھا۔ معظم اپنے سب کاموں میں آزاد صرف چھ ماہ میں ہوگیا۔ اس خدا کی بندی نے معظم کو بازار سے سودا سلف خریدنا سکھایا۔ معظم دوکان سے سبزی سودا سلف دودھ تندور سے روٹی لانے لگا۔ فلٹر سے پانی بھر کے لانے لگا۔ معظم کو گانے کا بہت شوق تھا۔ ماموں مولوی تھے تو اسکا یہ شوق گھریلو مذہبی رجحان کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔ آج بھی معظم کو کئی گانے پورے پورے یاد ہیں۔ کبھی ویڈیو ریکارڈ کروں گا۔

    معظم کو سپیشل کوٹے پر سیفائر کپڑے کی فیکٹری میں اوور لاک مشین پر ملازمت بھی ملی تھی۔ تین ماہ گیا ماشاءاللہ بہت اچھا کام کرتا تھا۔ نظر کافی کمزور ہونے کی وجہ سے وہ جاب نہ کر سکا۔ اور چھوڑ دی جاب۔

    آج الحمدللہ معظم علی اپنے سب کام خود کر لیتا ہے۔ اپنے ماموں کی سبزی کریانہ کی دوکان پر ملازمت کرتا ہے۔ گھر کے سب کام کرتا ہے۔ اردو انگلش ماشاءاللہ لکھ اور پڑھ لیتا ہے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اسے اچھی طرح تعارف ہے۔ اہل بیت کا پتہ ہے۔ بنیادی جنرل نالج بھی ہے۔ سارے خاندان کے بچے بچے کا نام پتا ہے۔

    میں معظم سے ایک بار کہا آئی لو یو یار۔ تو وہ مجھے کہنے لگا یار توں میری ورگے بالاں نوں پڑھان آلی ڈگری جو کیتی اے۔تینوں پتا اے میں سپیشل بچہ واں، تاں توں میرے نال بڑا پیار کرنا ایں۔ جنہاں نوں میرا نئیں پتا اوہ مینوں پاگل کملا رملا شیدائی کہندے نیں۔ مینوں وٹے ماردے نیں۔ مینوں چھیڑدے نیں۔ میرے ابو نوں پتا سی تاں مینوں لہور لے آئے سی۔ میں پنڈ ہندا تے واقعی پاگل ہو چکیا ہندا۔ اس کی یہ بات سن کر میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسکا ماتھا چوما اور گلے لگا لیا۔

    نیچے والی تصویر میں معظم جیسا ہی ایک لڑکا ہے۔ میرے گاؤں کے پاس رہتا ہے۔ سارا گاؤں اسے سائیں کہتا ہے۔ جو کبھی سکول نہیں گیا۔ گھر والے صبح گھر سے نکال دیتے ہیں۔ شام کو واپس آجاتا ہے۔ اسے میں نے کبھی شلوار پہنے نہیں دیکھا کیونکہ ٹائلٹ ٹرینڈ نہیں ہے تو گھر والے شلوار پہناتے ہی نہیں۔ ایسا ایک آدھ سائیں آپکے گاؤں محلے شہر میں بھی ہوگا؟ جسے بچے پتھر مارتے ہونگے۔ اسے چھیڑ کر اس سے گالیاں لیتے ہونگے؟ بڑے بھی اس سے ٹھٹھہ کرتے ہونگے؟ اسے تنگ کرتے ہونگے؟ شاید آپ بھی ایسا کرتے ہونگے؟ پلیز ایسا نہ کریں۔ نہ کسی کو کرنے دیں۔

    اپنے آس پاس کوئی چھوٹا بچہ دیکھیں تو اسے سکول داخل کروانے میں والدین کی مدد کریں۔ والدین کو گائیڈ کریں کہ سکول جانے کے بعد آپکا معظم علی طرح ہوسکتا ہے اور نہ جا کر گلی محلوں میں آوارہ پھرتا آگے جا کر سائیں آپکا بچہ ہو سکتا ہے۔

    پنجاب کے ہر ضلع ہر تحصیل ہر ٹاؤن میں الحمدللہ سرکاری سپیشل ایجوکیشن سکول ہیں۔ آپ ہماری ہیلپ لائن 1162 پر کال کرکے ہمارے تمام اداروں کی معلومات لے سکتے ہیں۔ مجھے پوچھ سکتے ہیں ایک میسج کال کی دوری پر ہوں۔ پورے پنجاب کے سب سکولوں کا مجھے پتا ہے۔ بلکل فری تعلیم ہے۔ آئیں ہم سب مل کر عہد کریں اگلی پیڑھی میں ہم ملک پاکستان میں انشاء اللہ کسی کو گلی محلوں میں لوگوں کے تماشے کا سامان بننے والا سائیں نہیں بننے دیں گے۔

    معظم علی کو ایسا معظم بنانے میں میرے ماموں جی نے ایک ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے گمنام ہیروز کو ضرور ٹرائی بیوٹ پیش کیا جانا چاہیے۔ میری کوشش ہے لاہور میں ایک اچھا پروگرام ارینج کروں۔ جس کے چیف گیسٹ میرے ماموں اور ان کا صاحب زادہ ہو۔ ان کی اس 32 سالہ بے لوث سروس پر انہیں سلام پیش کیا جائے۔ وہ اپنے تجربات سب سے شئیر کریں۔ سپیشل بچوں کے والدین کو یقینا میرے ماموں جان بہت آسانی دے سکتے ہیں۔ ماموں جی آپ کا بھانجا ہونے پر مجھے فخر ہے۔ معظم یار تم نے مجھے ہمیشہ موٹی ویشن دی ہے۔ تمہاری وجہ سے ہاں صرف تمہاری وجہ سے میں سرکاری سکول کا ماسٹر ہو کر بھی روایتی ماسٹر نہیں ہوں۔ نہ ہی کبھی بن سکوں گا۔ جیو میرے شہزادے بہت خوشیاں مانو۔

  • ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر مغرب کیلئے آسمانی صحیفے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جو ملک اسکی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، خواہ جزوی ہی ہو، اس سے بزور اسکی پیروی کروائی جائے گی۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو مقتدر مغربی طاقتوں سے سوال کیا جائے گا کہ آپ دنیا کے پسے ہوئے اور جبر کا شکار طبقات کی مدد کیوں نہیں کرتے ( واضح رہے کہ یہاں "پسے ہوئے” اور "جبر کا شکار” اقوام متحدہ کے چارٹر کی تعریف کی رو سے ہیں، خواہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہ ہو)۔۔۔۔۔

    تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ اگر آپ طاقت رکھتے ہیں تو جسے انصاف سمجھتے ہیں اسے ہر اس علاقے میں بزور نافذ کروائیں جہاں آپکی طاقت کا راج ہے۔

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہی اس دنیا کی بنیادی اخلاقیات کی معراج ہے۔ اسلام بھی یہی کرتا ہے اور باطل بھی یہی کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ باطل اور اسکے دیسی چیلے یہ کام نفاق کی چادر اوڑھ کر کرتے ہیں اور اسلام ڈنکے کی چوٹ پر باطل کو چیلنج کرتا ہے اور اسکے سر پر ایسی ضرب لگاتا ہے کہ اسکا بھڑکس نکال دیتا ہے (القرآن)۔۔۔

    لیکن ایک اور بھی فرق ہے:

    اسلام کمزوری کے زمانے میں بھی آخری حد تک مزاحمت ضرور کرتا ہے۔ باطل کیلئے کبھی بھی تر نوالہ ثابت نہیں ہوتا۔۔۔

    ٹرانز جینڈرز کے حقوق ابھی شروعات ہے۔ ابھی جوائے لینڈ جیسی فلم سے اس نحوست کو یہاں نارملائز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے مغربی آقاؤں کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ اس فلم پر سے پابندی بالکل ویسے ہی شاطرانہ طریقے سے ہٹوا دی گئی ہے جیسے انہوں نے اپنے پچھلے دور میں ٹرانز جینڈر ایکٹ کو دھوکے سے منظور کروایا تھا۔۔۔

    یعنی ان میں تو رتی بھر بھی دینی غیرت باقی نہیں رہی۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی اتحادی لاکھوں علماء والی جماعت کتنی غیرت کا مظاہرہ کرتی ہے ۔۔۔۔ اور توحید کے نام پر ووٹ لینے والے ن لیگ کے ازلی و ابدی اتحادی سینیٹر صاحب اور انکی جماعت کیا کرتی ہے، یہ بھی ہم دیکھیں گے۔۔۔

    اور اگر ابھی کچھ نہ کیا تو اگلے مرحلے پر زانیوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک چلے گی اور اس پر بھی فلمیں بنیں گی۔۔۔۔ تیار رہئیے گا۔۔۔۔!!!

  • سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    ایک نوجوان انسان جس کے سننے کی قوت مکمل ٹھیک ہو بیس ہزار ہرٹز کی آواز سن سکتا ہے لیکن ایک کتا 60 ہزار ہرٹز کی آواز بھی سن لیتا ہے. اس لئے کتا کبھی کبھی جب اچانک بھونکنا شروع کردے تو ہمیں بلاوجہ ہی لگتا ہے لیکن کتا بہرحال بلاوجہ نہیں بھونک رہا ہوتا وہ کسی آواز کا جواب دے رہا ہوتا ہے جو ہم سُن نہیں پا رہے ہوتے.

    ایک شاہین کی نظر 20/5 ہوتی ہے. اور ایک مکمل صحت مند انسان کی صحت مند آنکھوں کی 20/20 ہوتی ہے. یعنی ایک شاہین 20 فٹ دور سے وہ چیز دیکھ سکتا ہے جو ہمیں 5 فٹ دوری پر نظر آئے گی. اللہ رب العزت نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے حساب سے صلاحیت عطاء کی. ہر مخلوق اپنی صلاحیت کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار رہی ہے.

    لیکن ہم انسان زیادہ قناعت پسند نہیں ہیں. اس لئے ہم نے خوردبین و دوربین بھی بنالی تو دور دراز کی آوازیں سننے کے آلے بھی بنا لئے. ہم نے اپنی ضروریات کا دائرہ اتنا بڑا کر دیا کہ ہمیں اپنے گھر اپنے صندوق الماریاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں. ہمیں سب کچھ چاہئے ہوتا ہے. ہمارے پاس ہر چیز کیلئے ایک ہی دلیل ہوتی ہے ” کبھی نہ کبھی تو کام آجائے گی”

    اسی دلیل پر ہم وہ چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں جو ہم استعمال ہی نہیں کرتے. آپ اپنے گھر کی پڑتال کرلیں اشیاء کا ایک ڈھیر کھڑا ہو جائے گا جو آپ نے ضروری سمجھ کر سنبھال رکھا ہوگا لیکن اب بھول چکے ہوں گے. یہ سالوں سے استعمال ہی نہیں ہوا ہوگا.

    ایسے ہی ہم بہت کچھ سن رہے ہوتے ہیں جو سننا ضروری نہیں ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں جو دیکھنا ضرورت نہیں ہوتا سنبھال رہے ہوتے ہیں جو رکھنا ضروری نہیں ہوتا. یہی کاٹھ کباڑ جمع ہوکر ہماری پریشانی ہماری ڈیپریشن اینزائٹی وہم اور اندیشے بن کر ہماری زندگی کو آلودہ کرتے ہیں. قناعت اختیار کریں زندگی آسان ہو جاتی ہے. ورنہ ایک دن شاہین کی طرح آپ بھی تنہا ہو جائیں گے. لیکن ہم انسان اکیلے جی نہیں سکتے.

  • نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    یہ بات غلط ہے کہ نیوٹن جب درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو اس کے سر پر سیب گر کر لگا- اصل میں تو وہ سکول سے بھاگ کر وہاں بیٹھا “کٹے” اور “وچھے” کی حرکات پر غور کر رہا تھا جس کے بعداس نے یہ قانون حرکت دریافت کیا-سیب قدرتی طور پر اس دوران اس کے سر پر گر گیا تھا-

    ڈیجٹل نسل کیلئے وضاحت کرتا چلوں کہ” کٹا “ میڈم بھینس“کے صاحبزادے کو کہتے ہیں اور” وچھا “ مس گائے کے بچے کا نام ہے-نیوٹن کے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کٹے اور وچھے کی گہری دوستی ہو گئی – وچھا کٹے سے کہتا کہ “یار آؤ گلی میں چھلانگیں مارتے ہیں “ جبکہ کٹا ہر وقت اس موڈ میں ہوتا کہ “نہیں بھائی -دیوار کے ساتھ بیٹھ کر “جگالی” مارتے ہیں(یعنی چیونگم چباتے ہیں)”- یہیں سے کٹے وچھے کا قانون دریافت ہوا-

    آپ اگر غور کریں تو آپ کو کئی “کٹے “ اور “وچھے” انسانی روپ میں آپ کے گھر گلی محلے اور دفتروں میں نظر آیئں گے- انسان نما کٹے ہر وقت چینگم چبا رہے ہوں گے اور آپ کو کہیں گے”یہ مشکل ہے”، “تم بزنس نہیں گر سکتے”، “ایک دفعہ سرکاری نوکری مل جائے تو پھر ٹھنڈ ہی ٹھنڈ”، “میں سیلیکٹو سٹڈی کروں گا”، “مین یہ سمسٹر ڈراپ کر دیتا ہوں اگلے میں زیادہ تیاری کروں گا”،”میں سی ایس ایس نہیں کر سکتا”، “میری انگلش ٹھیک نہیں ہو سکتی”، حالات میرے بس سے باہر ہیں”،”یہ نظام کی خرابی ہے”، “ہمارے حکمران ہی نالائق ہیں”، وغیرہ وغیرہ-

    کٹوں کے سب سے پسندیدہ جملے ہوتے ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”اس کام پر میرا دل نئیں کررہا” یا “آج میرا موڈ نہیں” یا “تم یہ کام نہیں کر سکتے”-

    کٹے دن رات ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ٹاک شو دیکھتے رہیں گے مگر جب کوئی گھر کا کامُ کہےگا تو انہیں سانپ سونگھ جائے گا-تھکاوٹ یاد آجائے گی- یہ ہر جگہ آپ کو اپنی” کٹا گیری” کرتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم کام کل پر ڈالیں گے اور دعا کریں گے کہ وہ کل کبھی نہ آئے- یہ ساری رات سمارٹ فون پر گزار کر دفتر میں اونگھتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم میٹنگ میں بغیر تیاری کے جایئں گے اور میٹنگ شروع ہونے تک ان کی خواہش ہو گی کہ اللہ کرے نہ ہی ہو-

    کٹے جم میں داخلہ کر سمجھیں گے کہ دفتر میں کرسی پر بیٹھے ہی وزن کم ہو جائے گا-یہ آپ کو ڈیوٹی پر اونگھتے نظر آہیں گے – کٹوں کے بال بڑھے ہوں گے کئی کئی دن نہ نہانے کی وجہ سے ان کے جسم سے” کٹ سوری” کی مہک آرہی ہوگی-یہ رات والے کپڑے پہن کر دفتر آجائیں گے- یہ آپ کو ہر وقت سہولیات کی کمی اور کام کی زیادتی کا شکوہ کرتے نظر آئیں گے- ان کے خیال میں یہ غلط وقت پر غلط ملک اور غلط لوگوں کے ہاں پیدا ہو گئے ہیں- یہ ہر وقت مواقع کی کمی کا شکوہ کرتے ہوں گے-یہ دیر سے سویئں گے اور دیر تک سوئیں گے- ان کی تو ندیں نکلی ہوں گی اور یہ نماز میں بھی اپنے رب کے حضور کٹھے ڈکار مار رہے ہوں گے

    کٹوں سے بچیں – یہ مضر انسانیت ہیں- یہ سب آپ کے اندر کے وچھے کو ورغلا کر “او گل” (جگالی) پر لگانا چاہتے ہیں – حالانکہ آپ کے اندر کا وچھہ باہر کی دنیا میں چھلانگیں لگانا چاہتا ہے- آسمان کو چھونا چاہتا ہے- ہواؤں کو مسخر کرنا چاہتا ہے- پانیوں پر تیرنا چاہتا ہے-

    آپ کی جب بھی کسی وچھے سے بات ہو گی وہ کہے گا “تم یہ کرسکتے ہو”، “تم کسی سے کم نہیں”، “تمہارے اردگرد کی دنیا مواقع سے بھری پڑی ہے”،”ہمارا ملک بھی کسی سے کم نہیں”، “”محنت ضائع نہیں جاتی” – وچھے کو جب بھی موقع ملے گا یہ چھلانگیں لگائے گا یہ سراپا توانائی ہوگا- اس کے زندگی میں بڑے بڑے گول(ارادے) ہوں گے- اسی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہوگا – یہ کئی کٹوں سے بھی زندگی میں اپنی “وچھا ماری “سے بڑی بڑی چھلانگیں لگوانے کی کوشش میں ہوں گے-

    وچھوں کا پسندیدہ جملہ ہوگا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”ہم یہ کام کیسے نہیں کر سکتے؟” وچھے کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ نہیں ہوتا، اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ “پندرہ روپے کے نوٹ کا کھلا کروالو گے “ تو یہ کہیں گے کہ “ساڑھے سات کے دو نوٹ چاہئیں یا سوا تین کے چارنوٹ”

    دنیا کی ساری مادی ترقی وچھوں کی مرہون منت ہے- وچھوں کا سکرین ٹائم کم ہوگا-ان کے پاس فیملی اور دوستوں کے لئے وقت ہو گا- ان کا اپنے رب سے بھی رابطہ برقرا ہوگا- یہ آپ کو مولا کی عنایتوں کا شکر ادا کرے نظر آیئں- یہ کم کھائیں گے- ان کے سونے اور جاگنے کے وقت مقرر ہوں گے- ان کا لباس صاف ہوگا – یہ آپ کو لوگوں کے ساتھ قہقہے لگاتے نظر آئیں گے- پارک میں واک کرتے نظر آیئںگے-

    اگلی دفعہ آپ کو اگر کوئی کٹا میکڈانلڈ میں بیٹھ کر ڈبل زنگر برگر کے بعد کوک سے ڈکار مارنے کی دعوت دے تو آپ اسے جم میں جاکر پش آپس لگانے کا پتہ پھینکیں- جب بھی آپ کسی کے منہ سے سنیں کہ “تم یہ کام نہیں کر سکتے “ “یا چھوڑو یار کل کریں گے” تو آپ زورُسے نعرہ لگائیں کہ ۰۰۰۰۰“کٹا ای اوئے” اور اس کی صحبت سے نکل جایئں ۰۰۰۰

    زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو وچھے کی طرح اپنے آپ سے پوچھیں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰“میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں؟” ۰۰۰۰۰۰۰ یہ “کیسے” کا سوال ہی آپ کو آپ کے اندر کے “وچھے“کی صلاحیتوں سے روشناس کروائے گا – جس نے اپنے اندر کو کھوج لیا وہ کامیاب ہوا- اس کی سب مرادیں بر آیئں-اسے اپنے دنیا میں آنے کا مقصد مل گیا- اسے نروان حاصل ہو گیا-

    آخر میں نیوٹن کا اصلی قانون حرکت بیان کرتا چلوں کہ

    ”اگر کوئی انسان حالت حرکت میں ہے تو وہ متحرک ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “کٹا” نہ ٹکر جائے ۰۰۰۰۰۰۰۰ اور اگر کوئی انسان حالت سکون میں ہے تو وہ ساکن ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “وچھا” نہ مل جائے”

    ویسے گورے یونہی تو گائے کا دودھ نہیں پیتے اور ہم بھینس کا؟”

  • حیران ہوجائیے!!! — ضیغم قدیر

    حیران ہوجائیے!!! — ضیغم قدیر

    ہماری آنکھوں کے پاس بھی وہی ڈی این اے ہے جو ہمارے معدے کے پاس ہے لیکن ہماری آنکھیں آنسو خارج کرتی ہیں اور معدہ تیزاب۔

    یہ سب جیین ریگولیشن اور ٹرانسکپرشن کی مہربانی ہے جس کے نتیجے میں ہمارا ٍی این اے مخصوص حصے بنانے والے پروٹینز میں بدلتا ہے۔ اور یہ دو اہم کام ہماری آنکھوں سے آنسوؤں کی بجاۓ HCl نہیں نکلواتے۔ورنہ ذرا سی گڑبڑ پہ صورتحال خطرناک حد تک بگڑ بھی سکتی ہے۔ اور ایسی بہت سی گڑبڑیں ہی وہ وجہ ہیں جن کے نتیجے میں اکثر مس کیرج ہو جاتی ہے۔

    ڈی این اے ریگولیشن ایک بہت ہی حساس کام ہوتا ہے کہنے کو تو ذمہ دار لوگوں کے لیۓ ہر کام ہی حساس ہوتا ہے لیکن ڈی این اے کے لیۓ تو یہ حد سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔لیکن یہ انتہائی تیز رفتاری اور پرفیکشن کیساتھ مکمل ہوتا ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ ایک گھنٹے میں پورے جسم کو بنانے والے تمام حروف کی کاپی کر سکتا ہے۔ اور یہ خود کو خود ہی چیک کرتا ہے۔ اگر یہ چیک اینڈ بیلنس خراب ہو جائے تو پھر اس کی وجہ سے کینسر کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

    اسکے علاوہ،

    ایک ہیمو گلوبن مالیکیول میں صرف 0.3% آئرن ہوتی ہے لیکن یہی آئرن اسکے آکسیجن لیجانے کی صلاحیت متعین کرتی ہے۔ اگر یہ زرا سی بدل جائے تو سارا سسٹم خراب ہو سکتا ہے۔

    آپکے ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹراڈول مالیکولز کے سٹرکچر میں چار ایٹمز پہ مشتمل صرف ایک میتھائل گروپ CH³ کا فرق ہوتا ہے لیکن اگر یہ میتھائل گروپ ہٹ جاۓ تو آپ لڑکی بن جاتے ہیں اور اگر لگ جاۓ تو آپ مرد بن جاتے ہیں۔ مطلب یہ چار ایٹم آپ کی جنس کا تعین کرتے ہیں اگر دوران حمل ابتدائی ہفتوں میں ان کو بناتے ہوئے ان میں ہلکی سی اونچ نیچ ہو جائے تو آپ کی جنس تک بدل سکتی ہے۔

    بات ختم نہیں ہوئی بلکہ بات تو شروع ہوئی ہے کیونکہ تمام جانداروں (ایک گروپ کے) سیلز بائیوکیمیکل لیول پہ ایک ہی جیسے میٹیریل سے بنے ہیں لیکن ذرا سے جینز کی ہیر پھیر کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔اس بات کے آپ لوگ گواہ ہیں۔

    سادہ الفاظ میں ڈی این اے کے اجزاء تمام جانداروں میں تین ہی ہیں مگر ان تین کی ترتیب اور تعداد پورے کے پورے جاندار کی ہئیت کا تعین کر دیتی ہے۔ یہ بات ارتقاء کا بھی ثبوت ہے کہ تمام جاندار نفس واحد سے بنے۔

    ذہانت جسے بہت سے لوگ گاڈ گفٹڈ لیتے ہیں تازہ ترین ریسرچز کیمطابق پتا چلا ہے کہ کچھ جینز اسکو متعین کرتے ہیں مطلب کہ امکان ہے کہ ذہانت بھی وراثتی ورثہ ہے اور یہ بات حیران کن بھی ہے اور مایوس کن بھی۔ اور اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ جو جینز اس کو کنٹرول کرتے ہیں ان کی مجارٹی ماں سے ملتی ہے۔

  • مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مردوں کا عالمی دن آیا اور گزر گیا پر ایک بات کہنا چاہوں گا جس مرد سے طلاق کے بعد اسکے بچے کی کفالت کے ہر ماہ پیسے لیتی ہو اس مرد سے اپنی اولاد کو ملنے کا جائز حق بھی نہ چھینا کرو۔ ہماری عدالتیں خرچ نہ دینے پر باپ کی جائیداد نیلام کرنے اسکی تنخواہ ضبط کرنے سے لیکر اسے جیل میں ڈالنے کا تو حق رکھتی ہیں۔ مگر جو اپنی مرضی سے خرچ دے رہا ہو اسے اسکی اولاد سے اسکے اپنے گھر ملنے کا حق دلانے میں ناکام ہیں۔ کسی غریب کا اپنے بچوں سے اسکے گھر ملاقات کا شیڈول بن بھی جائے تو اس پر بھی اس سے اوپر کی عدالت سٹے آرڈر دی دیتی ہے۔

    لڑکی اور اسکے گھر والے بچوں کو والد سے اس لیے نہیں ملنے دیتے کہ انکی غیرت گوارہ نہیں کرتی جس نے طلاق دی اس سے بچے ملیں۔ تو تم لوگوں کی غیرت اس سے ہر ماہ پیسے لینے پر کہاں چلی جاتی ہے؟ طلاق دینے کے بعد وہ کوئی حیوان تو نہیں بن جاتا انسان ہی رہتا ہے اور ان بچوں کا باپ بھی رہتا ہے۔ اور اسکی ذہنی صحت بھی ماں سے اکثریت کیسز میں بہت بہتر ہوتی ہے۔ وہ بچوں کو ماں سے بدگمان نہیں کرتا جیسے ماں بچوں کے باپ کو ولن وحشی اور نجانے کیا کچھ بنا دیتی ہے۔

    آج ایک وکیل دوست کے آفس میں ایک عورت رو رہی تھی کہ میرے بچے دو دن کے لیے اپنے باپ کے گھر جا رہے ہیں۔ وہ اسٹے آرڈر لینا چاہتی تھی۔ جس پر اس نے اسے کہا کہ بچوں کو والد سے ملنے دو میں یہ کیس نہیں لے سکتا۔ میں نے پوچھا وہ خرچ دیتا ہے تو کہتی ہاں بھائی دیتا ہے۔ مگر میں اپنے بچوں کے بغیر دو دن کیسے رہوں گی۔ میں نے کہا جیسے وہ رہتا ہے۔ بولی اتنا انکا سگا ہوتا تو طلاق ہی نہیں دیتا۔ میں نے کہا پیسے کس حق سے لیتی ہو بہن؟ بولی میں تو اسے جیل بھیجنا چاہتی ہوں پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود کچھ بھی کر لوں گی۔ خرچ بڑھے گا نہیں دے سکے گا تو جیل جائے گا۔ میں بچوں کو پال لوں گی۔

    یعنی نفرت ہے اور انا ہے کہ اسے نیچا دکھانا۔ اور انہی چکروں میں اپنی جوانی اور ذہنی صحت تباہ کر لینی۔ طلاق کی وجہ جو بھی تھی اب اس کو بھلا کر آگے بڑھنے کی بجائے نفرت کی آگ میں اپنا سکون ضرور برباد کرنا ہے۔ دوسری طرف لڑکے کی شادی ہو چکی ہے۔ اسکے دو بچے ہیں وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ اسکی خوشی دیکھی نہیں جا رہی۔ وہ ترلے لے رہا کہ بچے واپس کر دو اور تم بھی شادی کرو۔ مگر نہیں۔ اکثریت میں طلاق شدہ خواتین کی یہی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ طلاق شدہ سے کوئی شادی نہیں کرتے۔ انکی سوچ تو دیکھو وہ کتنی ظالم اور سفاک ہو چکی ہوتی ہیں۔ جو آج انصاف نہیں کر رہی وہ آگے کیا کرے گی۔

    اکثریت خواتین بچوں کا خرچ چھوڑ دیتی ہیں کہ والد بچوں سے ملاقات یا انکی حوالگی کا مطالبہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔

    اسکے برعکس بہت سے مرد خرچ نہیں دیتے وہ بچوں سے کیوں ملیں گے۔ وہ آج مخاطب نہیں ہیں۔ ذلیل ہوتے ہیں جیل کاٹتے ہیں اور عدالتوں میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔

    جو لڑکیاں بچے انکے باپ کے پاس چھوڑ دیتی۔ اور طلاق کے فوراً بعد شادی کر لیتی ہیں وہ اس خود ساختہ اذیت سے نکل جاتی ہیں۔ ورنہ نفرت حسد اور بغض کی آگ میں جلنا اور کورٹ کچہریوں میں خوار ہونے کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ یہ بات طلاق شدہ خواتین کو بڑی دیر بعد سمجھ آتی ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی۔

  • کون رہتا ہے، انٹارکٹیکا پر؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کون رہتا ہے، انٹارکٹیکا پر؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کے جنوبی قطب پر موجود چھٹا برِ اعظم انٹارکٹیکا جہاں سارا سال برف رہتی ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا ہے وہاں کون رہتا ہے؟

    اسکا جواب ہے وہاں مختلف ممالک کے تحقیق کرنے والے اداروں کا عملہ اور سائنسدان رہتے ہیں۔ انٹارکٹیکا پر اس وقت مختلف ممالک کے تقریباً 90 ریسرچ سٹیشن قائم ہیں۔ ان میں انٹارکٹیکا کی گرمیوں میں (یعنی دسمبر میں) کم سے کم 4 ہزار افراد رہتے ہیں جبکہ سردیوں میں (جون میں) یہ تعدا 1 ہزار تک رہ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ یہاں سیاحت کے لیے بھی گنے چنے لوگ آتے ہیں(یہاں سیاحت کے لیے جانے کے لئے جیب میں ہزاروں ڈالرز ہونا ضروری ہیں).

    انٹارکٹیکا پر دنیا کے قریب 46 ممالک کے سٹیشنز موجود ہیں۔ ان تمام ممالک نے "انٹارکٹکا ٹریٹی” پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ ان میں دنیا کے تمام بڑے ممالک جیسے کہ امریکہ، چین، روس، جرمنی وغیرہ کے علاوہ بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

    انٹارکٹیکا پر بھارت کے ریسرچ سٹیشن کا نام ہے "بھارتی” جبکہ پاکستان کے رہسرچ سٹیشن کا نام ہے "جناح”. بھارتی سٹیشن 2012 میں قائم کیا گیا اور پورا سال فعال رہتا ہے جبکہ پاکستانی سٹیشن محض گرمیوں میں ہی کام کرنے کے قابل ہے۔ یہ 1991 میں قائم کیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ پاکستان کی طرف سے انٹارکٹیکا پر ایک موسمیاتی سٹیشن بھی قائم کیا گیا جسے اقبال آبزرویٹری کا نام دیا گیا۔

    1993 کے بعد یہاں پاکستان کا کوئی عملہ، سائنسدان یا محقق انٹارکٹیکا نہیں گیا کیونکہ حکومت کی طرف سے کوئی فنڈنگ مہیا نہیں کی گئی۔۔2020 میں پاکستان کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت جسکے ماتحت یہ ریسرچ سینٹر ہے، نے ارادہ ظاہر کیا کہ پاکستان دوبارہ انٹارکٹیکا پر اپنی تحقیق شروع کرے گا مگر فی الوقت اس پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

  • شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    بوٹسوانا کے گھاس کے میدانوں کے بادشاہ وہاں کے شیر ہوتے ہیں. لیکن شیر جوتے نہیں پہنتے اور ان میدانوں میں ببول کے لمبے اور تیز دھار کانٹے بھی ہوتے ہیں. تو کیا شیروں کو کانٹے نہیں چھبتے.؟

    بہت پہلے ایک ویڈیو کسی فوٹوگرافر نے بنائی تھی جس میں ایک شیر اپنے پنجے کو پہلے اپنی زبان سے چاٹتا ہے اور پھر ایک لمبا کانٹا اس میں سے اپنے دانتوں سے کھینچ لیتا ہے. شیر پھر چل دیتا ہے لیکن اس کی چال میں کوئی لنگڑاہٹ نہیں ہوتی. کیا درد بھی نہیں ہوتا ہوگا.؟

    ایوان گیٹس بیس بال کا امریکی چیمپئن اور مشہور ہٹر کیچر تھا. اس کی ایک تصویر چیمپین شپ کے بعد دیکھی جس میں وہ رو رہا تھا. اب جو ایوان گیٹس کو جانتا ہوگا اسے شائد یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس تصویر سے دس سال پہلے وہ نیویارک میں بے گھر اور انتہائی کسمپرسی کے دور میں ایک خوفزدہ ڈرا ہوا لڑکا تھا.

    شیر جوتے نہیں پہنتا لیکن ہم پہن سکتے ہیں. شیر اپنی کمزوری اپنا رونا بھی نہیں رو سکتا کیونکہ جہاں اس نے یہ دکھائی وہ اپنے غول میں بادشاہت کھو دے گا. لیکن ہم انسان اپنی ذات پر ہی بادشاہ ہیں. دل چاہے تو آج اپنے آنسو اپنا درد چھپا لیں اور دل چاہے تو کل جب وقت بھی ہمیں بادشاہ مان لے تو آنسو بہا دیں.

  • ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ ابھی تک باقیوں سے بہت بہتر ہے لیکن فلفور اس میں ریفارمز آنے چاہیں

    ایک سال پہلے 500 سیٹ آئی پی پی ایس سی جس پے دس ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہاں اگر یہ سیٹ آپ انجنئیرنگ کو دیں تو یہاں پچیس ہزار اور اگر کیمسٹری وغیرہ کو دیں تو ایک ایک لاکھ تک لوگ اپلائی کریں گے۔۔۔

    لیکن مسئلہ دیکھیں پی پی ایس سی ان 11000 لوگوں کے انٹرویو لے رہا ہے ٹیسٹ کی کوئی پالیسی نہیں پرانے خیالات پے جی رہے جب 100 سیٹ پے اسی لوگ اپلائی کرتے تھے

    سیٹیں یہاں منصفانہ نہیں جا رہی جس کا اثر رسوخ ہے وہ لے رہا ہے اگر یہ سیٹیں آپ انجنئیرنگ کو دیں تو ہم بہت خوش ہوں کیونکہ ہم ان سیٹوں پے بھی سیلکٹ ہوئے جو 10 آئی اور 4000 لوگوں نے اپلائی کیا الحمدللہ میں نے بھی بہت بار ان سیٹوں پے نا صرف ٹیسٹ دیا بلکہ ٹاپ بھی کیا۔۔۔۔

    آپ کے کنگ ایڈورڈ کے گریجوایٹ غیر منصفانہ تقسیم سے مارے مارے پھر رہے جبکہ بیرون ممالک یا کم نمبروں والے لوگ سفارشات پے مستقل ملازمت لے کر جا رہے ہیں.

    ایڈہاک کی سیٹیں فلفور ختم ہونی چاہیے اسکی جگہ کنٹریکٹ لاگو ہونا چاہیے ایڈہاک کا بنیادی مقصد مستقل سیٹوں کو کسی ملازم سے فلفور بھرنا تھا اور 2004 اور 2006 کی پالیسی ہے ایڈہاک پے ملازمین کو اچھی تنخواہ دی جاتی تھی تگنی جبکہ اب دیکھا جائے ایڈہاک کے انٹرویو تھے 10 سیٹوں پے چھ سو لوگ بلائے ہوئے تھے یہاں تذلیل الگ غیر منصفانہ تقسیم الگ اسکے بعد ہر چھ ماہ بعد دوبارہ کی خواری رینیوو کرواتے الگ۔۔۔

    اسکو ختم کر کے کنٹریکٹ لایا جائے اور پورے پنجاب میں پنجاب لیول پے یا ہر ڈسٹرکٹ کے ذمے باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو لے کر جاب دی جائے 10 سیٹوں پے محض 50 لوگوں کا حق ہے اور پچاس بھی وہ جو قابل ترین ہوں۔۔۔۔

    اس وقت وائے ڈی اے و دیگران اپنے سروس سٹرکچر کے لیے بھی کوشاں نہیں سب مل جھل کر پرائیوٹ کالج چلانے میں مشغول ہیں اپنے اور رشتے داروں کی سفارشات میں۔۔۔۔

    تحریری طور پے یہ پیغام بہت جگہ پہنچا چکا ہوں کہ فوراً سے پہلے اگر ہم چاہتے ہیں ایم بی بی ایس بچ جائے تو ریفارمز کی فوراً ضرورت ہے وگرنہ آپ کریم آف نیشن کو تباہ کر رہے ہیں اور تباہ کرنے والے غیر نہیں انکی اپنی تنظیمیں ہیں.

    جنکے یہ نعرے لگاتے رہے ہیں کلاسوں سے نکلوا کر
    ” میرے کفن پے لکھنا وائے ڈی اے”

  • خنثی لوگوں کو نارمل سمجھنے کا طریقہ!!! — عثمان ای ایم

    خنثی لوگوں کو نارمل سمجھنے کا طریقہ!!! — عثمان ای ایم

    بہت سال قبل ہمارے جاننے والوں کے گاؤں میں ایک “عورت” کے بارے میں پتا چلا جو رشتے کروانے یعنی میریج بیورو کا کام کرتی تھی۔ رشتے کروانے کے بدلے میں علاقے کے لوگ اس کو کچھ پیسے دیا کرتے تھے، کچھ رشتہ ریفر کرنے پر، اور مزید رشتہ ہو جانے پر۔

    گاؤں والوں کے بقول حقیقت میں وہ عورت خنثی پیدا ہوئی تھی (جس کو عرف عام میں کھسرا یا خواجہ سرار کہہ دیا جاتا ہے)، اور اس کا زنانہ نام تھا۔ ظاہری طور پر بھی وہ سادہ سا لباس پہنتی تھی، جبکہ خنثی ہونے کی بنا پر ساری عمر شادی نہیں کروائی۔

    البتہ مشاہدے میں جو بات آئی کہ وہ ایک عام لوگوں کی طرح نارمل شخصیت ہی سمجھی جاتی تھی۔ کوئی اس پر نہ تو طنز کرتا تھا اور نہ ہی مذاق بناتا تھا۔

    اس کی بڑی وجہ یہ عورت خود تھی۔ نہ اس کو لوگوں سےتکلیف، نہ لوگوں کو اس سے تکلیف، نہ ہی اس کو رب سے گلہ۔

    وہ "مظلوم” بنے پھرنے یا بیہودہ حرکات کرنے کی بجائے عزت کی روزی کماتی تھی۔ لیکن وہ خوبی ، اس کی وہ خصلت جو پوری دنیا کے بدکاروں اور بدکاروں کے حمایتیوں کے چہروں پر زناٹے دار تھپڑ تھی وہ تھی اس عورت کا ایمان۔

    اس عورت نے میریج بیورو کے کام کے لیے لوگوں کے گھروں میں چکر لگا لگا کر جو حلال کی روزی کمائی ، اس روزی کو جوڑ جوڑ کر اس نے جو پیسے اکٹھے کیے ان پیسوں سے مسجد تعمیر کروا کر وقف کی۔

    اندازہ کریں، کہ لوگوں کی نظر میں اس خنثی عورت کی کیا عزت تھی، اور اس خنثی عورت کی اپنے رب کے بارے میں کیا عقیدت تھی کہ اس نے اپنی کل متاع مسجد بنانے پر خرچ کی؟
    نہ کوئی بیہودگی، نہ مظلومیت کا رونا، نہ ہی لوگوں کی طرف سے طنز، نہ ہی "حقوق حقوق” کی چیخ و پکار۔ اور نہ ہی رب کی بنائی گئی تقسیم پر شکوہ شکایت۔ ارے اس نے شکایت کیا کرنی تھی۔وہ تو رب کی رضا میں نہ صرف راضی تھی بلکہ اس نے تو مسجد بنا کر رب کو قرض دے دیا۔

    اللہ سبحان و تعالٰی اس کی قبر کو منور فرمائے۔ اس کا چہرہ اس دن روشن رکھے جس دن بدکاروں کے چہرے کالے سیاہ ہوں گے۔

    ہمارا رب عادل ہے۔ عدل پسند فرماتا ہے۔ دنیا میں آزمائش پر جس نے صبر کیا، ہمارا رب اس کو آخرت میں ایسا اجر عطا فرمانے والا ہے کہ جس پر سب رشک کریں گے۔

    یہی ہماری روایت ہے، اور یہی ہمارا طریقِ معاشرت، اور یہی ہمارا ایمان۔

    قدرتی طور پر کسی کا خنثی پیدا ہو جانا ایک نہایت ہی شاذ و نادر واقعہ ہوتا ہے۔ یعنی ایسا لاکھوں بچوں میں کوئی ایک ہوتا ہے۔ جب کہ ننانوے فیصد سے بھی زیادہ "خواجہ سرا” کہلانے والے لوگ پیدائشی خنثی نہیں ہوتے ، بلکہ اصل میں جعلی ہوتے ہیں، یعنی ان کی جنس مکمل مرد ہوتی ہے۔ یہ سب خنثی نہیں بلکہ ٹرانس جینڈر ہوتے ہیں، یعنی اپنی پیدائشی جنس کے برخلاف روپ دھارے پھرتے ہیں۔

    کروڑوں کی آبادی میں چند درجن حقیقی خنثیوں سے ہمدردی کے بڑے بڑے دعوے، جبکہ حقیقت میں ان ہی خنثیوں کی شناخت کو ایکسپلائٹ کر کے بیچ کھانے والے ٹرانسجینڈرز اور پھر ان ٹرانسجینڈرز کے حمایتیوں کا مسلہ خنثیوں کے حقوق ہرگز نہیں ہے۔ ہرگز نہیں ۔

    یہ خنثیوں کا عام انسانوں کی طرح سمجھنے کے قائل نہیں ۔ بلکہ یہ ٹرانس جینڈرز یعنی جعلی جنس اپنانے والوں کو عوام کے گلوں میں زبردستی اتارنے اور ان کو مقدس بنا کر پیش کرنے کے درپے ہیں۔

    معاشرہ خنثیوں کو اپنی معاشرت میں نارمل انسانوں کی طرح سمونے کا قائل ہے۔ جبکہ آپ ٹرانسجینڈرز کی طرف دیکھیں تو کوئی ناچنے گانے، تھرکنے، موت کے کنویں میں نیم برہنہ چھاتیوں سے تماشبینوں کا دل لبھانے اور دعوتِ گناہ دینے والی مخلوق ہے، اور س کا اس بدکاری کے سوا زندگی میں کوئی کام نہیں ہوتا؟

    Sexual objectification

    یعنی ان انسانوں کو محض جنسی لذت اور بدکاری کی شناخت تک ہی محدود کرنے کا کام ایک روایتی معاشرہ نہیں ، بلکہ وہی بدکار لوگ کر رہے ہیں جو ان کے حقوق کے ٹھیکیدار بنے پھر رہے ہیں۔

    اگر واقعی کسی کو خنثیوں کے حقوق کا غم کھائے جا رہا تھا تو ان خنثیوں کو معاشرے میں نارمل افراد کے طور دکھانے کا طریقہ کیا ہوتا؟ وہ یہ ہوتا کہ
    مثلا:

    ۱۔ خنثی بزنس بھی کر سکتے ہیں
    ۲۔ خنثی نوکری پیشہ بھی ہو سکتے ہیں
    ۳۔ خنثی ڈاکٹر اور انجینیر بھی ہو سکتے ہیں۔
    وغیرہ۔۔۔

    لیکن اصل میں کیا ہو رہا ہے؟
    اصل میں یہ واردات ڈالی جا رہی ہے کہ:

    ۱۔ دھوکے سے مخالف جنس اپنانے والے افراد یعنی ٹرانس جینڈرز کے بارے میں یوں تاثر دینا کہ جیسے یہ قدرتی خنثی ہیں۔
    ۲۔ پھر ٹرانس جینڈرز کے حقوق کا رونا رونا۔
    ۳۔ٹرانس جینڈرز سے جنسی تعلق کا فروغ (یعنی ہم جنس پرستی)

    نتیجتاً ٹرانس جینڈرز کے شور میں حقیقی خنثی بیچارے کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ یہ بالکل وہی صورتِ حال ہے کہ جیسے کسی فائئو سٹار ہوٹل میں منرل واٹر پی پی اور پیزے کھا کھا کر غریبوں سے ہمدردی پر کانفرس منعقد کرنا، اور دروازے پر کوئی بھوکا غریب مدد طلب کر لے تو اس کو دھتکار کر “دفع” کر دینا۔

    یہ قدرتی خنثی بھی بیچارے وہی ہیں۔ ان کی شناخت کو بیچ کر کھا لیا گیا ہے۔

    مسلم معاشرے کی روایت خنثیوں کو نارمل انسان سمجھنا ہے۔

    جبکہ انسانیت کو مسخ کر کے رکھ دینے والی بدکاری کی منبع لبرل تہذیب خنثیوں کی شناخت کو ہائی جیک کر کے اس پر ان ٹرانس جینڈرز کا قبضہ کروا دیتی ہے جو خنثی ہوتے ہی نہیں، بلکہ پیدائشی مرد ہوتے ہیں۔

    اور پھر ان ٹرانس جینڈرز کو “پیار کی مستحق “ قرار دے کر مردوں کے ساتھ اس کے جنسی تعلق کی راہ ہموار کرنے پر زور لگایا جاتا ہے۔ (یعنی ہم جنس پرستی)

    اسی لیے ان کے میڈیا میں، ان کے احتجاجوں میں، ان کے ڈراموں اور فلموں میں سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی مرد کو کسی ٹرانس جینڈر عورت (جو کہ حقیقت میں ایک مرد ہی ہے) سے پیار ہو سکتا اور وہ اس سے جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ اور یہ سب شیطانی کھیل پوری دنیا میں پائے جانے والے چند سو یا ہزار خنثیوں کے نام پر کھیلا جا رہا ہے۔

    وہی خنثی جو خود ایک جنسی پراڈکٹ کی بجائے عزت کی زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی بھی عزت نفس رکھنے والا جسمانی معذور شخص یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کو معذور سمجھا جائے اور اس پر ترس کھایا جائے۔