Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سائنسدان جہاں حضرت انسان کو ملٹی پلانیٹری بنانے پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ سنہ دو ہزار پچاس میں 2 ارب چالیس کروڑ روپے میں ایک کپل سیارہ مارس پر اپنی رہائش کا بندوبست کر پائے گا۔ دو ہزار ساٹھ تک تین لاکھ لوگ مارس پر رہائش پذیر ہو چکے ہونگے۔ مکانات کے بعد سبزیاں اگا کر یونیورسٹی اور ہسپتال بننا شروع ہوچکے ہونگے۔ اور ایمازون مارس پر زمین سے ڈاک و دیگر پراڈکٹس ڈیلیور کرنے کی خدمت راکٹس کے ذریعے سر انجام دے گا۔

    وہیں انسانوں کو بیماریوں سے بچانے اور بڑی سی بڑی بیماری کو چند لمحوں یا گھنٹوں میں ٹھیک کرنے پر بھی دنیا بھر کے سائنسدان کام کررہے ہیں۔ تقریباً سو بیماریوں کے علاج کو سٹیم سیل تھراپی سے جوڑا جا رہا ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے اس طریقہ علاج سے ہڈیوں کے کینسر bone marrow کا علاج سنہ 1957 میں اس طریقہ علاج کے موجد ای ڈونل تھامس E.Donnall Thomas نے کیا۔ جنہیں 1970 میں فلسفہ اور طب کی فیلڈ میں خدمات پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

    سٹیم سیل کیا ہے؟ پہلے یہ دیکھتے ہیں۔

    قدرتی یا مصنوعی (ivf) طریقے سے انسانی نطفے (سپرم) اور بیضے (ایگ) کے ملاپ سے جو زائیگوٹ وجود میں آتا ہے۔ وہ انسانی وجود کی ایک بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ زائیگوٹ بھی ایک سٹیم سیل ہے جو مزید سٹیم سیلز بنا دیتا ہے) زائیگوٹ کے سٹیم سیل کے کردار کو آپ ایسے سمجھ سکتے کہ جب زایئگوٹ تقسیم ہونے کے دوران الگ ہو جائے تو دونوں زائیگوٹ الگ مکمل جاندار بنا دیتے ہیں۔ جنہیں جڑواں کہا جاتا ہے۔ جو ہوبہو ایک دوسرے کی کاپی ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ساخت میں ایک سٹیم سیل ہوتا ہے جس میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 23 باپ کی طرف سے اور 23 ماں کی طرف سے۔ اس ذائیگوٹ کو مشکل سے ہی انسانی آنکھ سے دیکھ سکتی ہے۔

    یہ ذائیگوٹ بڑی تیزی سے ایک سے دو ، دو سے چار اور چار سے آٹھ سیلز میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے بغیر تقسیم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس تقسیم کے عمل کو مٹوسس mitosis کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم ہوتے ذائیگوٹ سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک سیل نکال کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جسے سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سٹیم سیل کی پہلی اور سب سے زیادہ اہم قسم ہے۔

    یہ والا سٹیم سیل ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ وہ گوشت یا پٹھے ہوں دل ہو ہڈیاں ہوں مسلز یعنی پٹھے ہوں بال ہوں خون ہو جسم کا کوئی بھی حصہ خراب ہوجانے یا کٹ جانے پر دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پانچ دن کے بعد یہ زائیگوٹ فلاپیئن ٹیوب سے ماں کے رحم میں سرکنا شروع کرتا ہے۔ اور بلاسٹو سسٹ Blastocyst کی شکل اختیار کرتا ہے۔ بلاسٹو سسٹ دو ہفتوں کے بعد ایمبریو میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس ایمبریو سے بھی سٹیم سیل نکالا جاتا ہے۔ جسے ایمبریونک سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سیل بھی بہت زیادہ سیل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ ذائیگوٹک سٹیم سیل کی طرح جسم کا ہر حصہ دوبارہ بنانے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ سٹیم سیل کی دوسری قسم ہے۔

    اس ایمبریو کے گرد پیاز کے چھلکے جیسی اسکن کی ایک باریک تہہ بننا شروع ہوتی ہے۔ اور یہ ایمبریو پلاسینٹا (خوراک و آکسیجن کی نالی) سے جڑ جاتا ہے۔ باریک تہہ کے اندر ایک لیس دار پانی جسے لائیکر یا Amniotic fluid کہتے ہیں بننا شروع ہوتا ہے۔ یہ پانی کوئی عام پانی نہیں ہوتا. اس میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں. جنہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔
    یہ سٹیم سیل کی تیسری قسم ہے۔

    اسکے بعد جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ تو بچے کے ساتھ ہی پلاسینٹا ماں کے رحم سے باہر آتا ہے۔ اس نالی میں بھی خون کی کچھ مقدار ہوتی ہے۔ جسے بلڈ کارڈ یا کارڈ بلڈ کہتے ہیں۔ اس کارڈ بلڈ میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں جنہیں پہچان کر اس خون سے نکال لیا جاتا ہے۔ یہ سٹیم سیل کی چوتھی قسم ہے۔

    اسکے علاوہ کسی بھی عمر کے انسانی جسم کے کسی بھی حصے، گوشت اور عموماً کولہے کی ہڈیوں میں سے اس فرد اپنے سٹیم سیلز بھی تلاش کرکے نکالے جاتے ہیں۔ سٹیم سیلز عام سیلز سے رنگ و ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ سٹیم سیلز کی اب تک کی دریافت شدہ پانچویں اور آخری قسم ہے۔

    ذائیگوٹک، ایمبریونک، ایمنیوٹک فلیوڈ سے نکالے گئے سٹیم سیل پر مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظات ہیں۔ کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اسلامی، عیسائی، یہودی اور بھی کئی مذہبی حلقے شروع سے پہلی دو اقسام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ کہ جس ذائیگوٹ یا ایمبریو سے یہ لیے جائیں گے اسے بھی کوئی خطرہ پہنچنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اور یہ قانون فطرت میں چھیڑ چھاڑ تصور ہوتی ہے۔ جو جائز نہیں۔ خیر یہ ایک اور لامتناہی بحث ہے۔ سائنسدان اب ماں کے پیٹ سے باہر مصنوعی طریقے سے بنائے گئے ذائیگوٹ جس میں نطفہ اور بیضہ انسانی ہی ہوتا ہے۔ پہلے دونوں سٹیم سیل نکال رہے ہیں۔ وہ اب حاملہ ماں کے رحم سے کوئی سیل نہیں نکالتے۔

    کارڈ بلڈ اور انسان کے اپنے سٹیم سیلز پر کسی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں انہی دونوں اقسام کا استعمال مسلمان حلقوں عام ہوا ہے۔ جو پاکستان میں بھی پانچ سال قبل شروع ہو چکا ہے۔

    سٹیم سیل اپنے اندر مزید سیلز بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور بیماری کی تشخیص نوعیت لیول کا تعین ہونے کے بعد ڈاکٹر دیکھتا ہے۔ کہ سٹیم سیل کی کونسی قسم اسکا بہتر علاج ہو سکتی ہے۔ پھر سٹیم سیل کو خون میں جدید مشینری کے ذریعے شامل کرکے متاثرہ جگہ پر انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ دل کے امراض، نابینا پن کا علاج، مرگی، آٹزم، جگر کے مردہ سیلز کو زندہ کرنا، ہڈیوں کا کینسر، کمر کے مسلز کا کچلا جانا جسکی وجہ سے نچلا دھڑ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ منیبہ مزاری اس نچلے دھڑ کے ناکارہ ہونے کی ایک مشہور مثال ہے۔

    اور بھی کئی بیماریوں اور معذوریوں کو سٹیم سیل سے ٹھیک کرنے کے دنیا بھر میں ہزاروں کامیاب تجربے ہوچکے ہیں۔ ہزاروں لوگ جزوی و مکمل بینائی حاصل کر چکے ہیں۔ اور کئی لوگ حادثوں کی وجہ سے ویل چیئر پر چلے جانے کے بعد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ بلکہ اب تو سٹیم سیل سے نئی ہڈیاں اور اسکن سیلز بنانے کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ بری طرح ٹوٹی ہوئی جڑنے کے ناقابل اور ناکارہ ہڈیوں کو جسم سے باہر بنائی گئی بلکل قدرتی ہڈی سے بدلہ جاسکے گا۔ آنکھ کے قارنیہ تو ہزاروں لوگوں کے ری پلیس کیے جا چکے ہیں۔ جس سے انکی بینائی لوٹ آئی ہے۔ جسم کے جلنے والے حصے کو اسی انسان کے سٹیم سیلز لیکر نئی جلد اگا کر جسم کے ساتھ جوڑی جا سکے گی۔ پلاسٹک سرجری کی جگہ حقیقی جلد لینے کے بلکل قریب ہے۔

    میرا موضوع آٹزم ہے تو اس مرض کے علاج میں اب تک کا سب سے موثر ترین علاج سٹیم سیل تھراپی ہی ہے۔ جسکے دنیا بھر میں نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ جسم کے وہ سیلز جو خراب ہوتے ہیں۔ جنکی وجہ سے آٹزم کا شکار بچوں میں مختلف مسائل پائے جاتے ہیں۔ ان سیلز کو سٹیم سیلز سے بدل دیا جاتا ہے۔ خراب سیلز کے ساتھ سٹیم سیلز جڑ کر نئے اور تندرست سیلز بغیر کسی بھی فالٹ کے بنانا شروع کرتے ہیں۔ اور نئے تندرست سیلز کی بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد پرانے خراب، ڈیمج سیلز پر غالب ہو کر بیماری کے اثر کو کم کرنا شروع کر دیتے ییں۔

    سٹیم سیلز تھراپی کراچی اور اسلام آباد میں کامیابی سے کی جارہی ہے۔ علاج زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ پیسے جتنے بھی لگیں جب بچہ ٹھیک ہونے لگے تو پیسے بھول جائیں گے۔ کچھ دھوکے باز ڈاکٹرز مختلف شہروں میں پی آر پی PRP کو ہی سٹیم سیل تھراپی بتا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سٹیم سیل تھراپی میں استعمال ہونے والی مشینیں بہت مہنگی ہیں جو ہر کوئی نہیں خرید سکتا۔ (پی آر پی کیا ہے یہ کسی اور دن سہی۔ یا ابھی خود سرچ کر لیں)

    آٹزم سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق اس وقت تین لاکھ پچاس ہزار 350٫000 بچے آٹزم کا شکار ہیں۔ ان بچوں کے لیے یہ ایک گیم چینجر طریقہ علاج ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی یونیورسٹیاں سٹیم سیل پر تحقیق کر رہی ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ طریقہ علاج ہر بیماری کے لیے استعمال ہوگا۔

    (مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس)

  • 90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان کی سیاسی تاریخ بہت سے حوادث کی گواہ ہے جس میں اگر ہم صرف 1990 کی دھائی ہی دیکھ لیں تو پاکستان میں دو سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آئیں ،ایک مرکز میں حکمران تھی تو دوسری ایک صوبہ میں ، اگر صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ اسلام آباد کی جانب جاتا تو گرفتار ہو جاتا اور اگر مرکز ی حکومت کا کوئی نمائندہ صوبائی حکومت کی حدود میں نظر بھی آ جاتا تو اسکو گرفتار کر لیا جاتا۔ یہ بات ہو رہی ہے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی اور انکی 1990 کی دھائی کی سیاست کی ۔۔۔

    اب یہ ایسا کیوں تھا کیا اقتدار کی لالچ تھی یا پاور شئیرنگ کا مسلہ، اس سوال کا جواب آج تک راہ تک رہا ہے کیونکہ سیاسی پارٹیاں تو آج کے دن تک پاکستان میں درجنوں موجود ہیں لیکن سیاست بلخصوص 1990 کی دھائی کی سیاست کی چھاپ آج تک جوں کی توں موجود ہے۔۔۔

    انتقام، انتقام اور بس انتقام۔۔۔ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا بس یہی مطلب سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے خواہ 1990 کی دھائی کی سیاست کو دیکھ لیں یا 2022 کی موجودہ سیاست کو، ہمیں بس سیاسی مقدمہ بازی ہی نظر آتی ہے، شاید اسی لیے محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے کہا تھا کہ

    "جمہوریت بہترین انتقام ہے”۔۔۔

    آج کی تاریخ میں اگر 1990کی دھائی کی سیاست کی مثال سمجھنی ہو تو اپریل 2022 سے آج کے دن تک وفاق اور صوبوں کی سطح پر مختلف واقعات پر نظر دوڑا لیں۔ تازہ مثال ملک کےوزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ایک صوبہ، پنجاب جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے آجکل انتظامی طور پر بہت متحرک نظر آرہا ہے لیکن یہاں سوال نہیں بلکہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا یہ بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کا ہی تسلسل تو نہیں؟

    کیا پاکستان کی عوام اسی طرح سیاسی پارٹیوں کا دنگل اور نورا کشتی دیکھتی رہے گی؟

    کب تک ھم 1990 کی دھائی کی سیاست کے چکر ویو میں پھنسے رہیں گے؟

    لگتا تھا کہ خان صاحب اپنے بلند بانگ دعووں کو تکمیل تک پہنچائیں گے اور پاکستان میں رائج 1990 کی دھائی کی سیاست و جمہوریت کا بدنما داغ دھوئیں گے لیکن ہوا اسکے متضاد مطلب خان صاحب بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کے رنگ میں رنگے گئے جس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ خان صاحب جن کو اپنا اور ملک و قوم کا دشمن سمجھتے اور کہتے تھے انہی کے نقشِ قدم پر چل کر انہیں استاد مان چکے ہیں؟

    خیر ہم تو عوام ہیں جو اونٹ پر نظریں گڑائے بیٹھے ہیں کہ یہ موا کس کروٹ بیٹھے گا؟

  • بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    پرانی بات ہے لاہور میں شدید برسات کے دوران ہمارے ایک کولیگ نے پکوڑے بنوائے اور بڑی چاو سے سب دوستو کو آفس میں دعوت دی. دعوت دینے والے سے میں نے کہا تم لوگ بسم اللہ کرو میں بعد میں تمہیں جوائن کرتا ہوں. لیکن اُس نے کہا نہیں فیصلہ ہوا ہے کہ جب سب جمع ہوں گے تب ہی دعوت سٹارٹ ہوگی.

    میں نے پوچھا پکوڑے بنائے کس نے ہیں.؟ اس نے جس کولیگ کا نام لیا اسکا نام سنتے ہی میں نے کہا پھر تم لوگ کھاو. میں نہیں آرہا. بہت اصرار ہوا لیکن میں نے کہا ” نہیں” دعوت تو ہمارے بغیر ہوگئی لیکن بعد از دعوت پتہ چلا یہ بھنگ والے پکوڑے تھے کیونکہ پھر کوئی روئے جا رہا تھا کوئی قہقہے لگا رہا تھا.

    سوشل میڈیا میں بھی ہم خبر سے پہلے خبر دینے والے کا نام دیکھتے ہیں. وہ نام ہی بتا دیتا ہے خبر میں سچائی کتنی اور پراپیگنڈا کتنا ہے. اس میں جو جتنا زیادہ غیر جانبداری کا دعویدار ہوتا ہے وہ اُتنا ہی زیادہ یکطرفہ پراپیگنڈا کرنے والا ہوتا ہے. سالوں سے اس فورم پر ایک دوسرے کو جاننے والے اس کے باوجود ایک دوسرے کے پکوڑے کھانا معاف نہیں کرتے.

  • رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    کافی عرصہ ہوا کسی رسالے میں پڑھا تھا کہ :

    اگر انسان کو ماں سے محبت ہو تو۔۔۔ عبادت۔

    باپ سے محبت ہو تو۔۔۔ فرض۔

    بھائی سے محبت ہو تو۔۔۔ اخوت ۔

    بہن سے محبت ہو تو ۔۔۔ شفقت۔

    کام، کاروبار سے محبت ہو تو۔۔۔ احساسِ ذمہ داری ۔

    ملک سے محبت ہو تو ۔۔۔ حب الوطنی ۔

    اور اگر ۔۔۔۔ بیوی سے محبت ہو تو لوگ کہتے ہیں "رن مرید ہے ” یا ” بیوی کے نیچے لگ گیا ہے ۔”.

    اور یہ حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں ‘محبوبہ/گرل فرینڈ’ کے لیے شعر لکھنا اور ‘بیوی’ پر عجیب و غریب لطیفے بنانا، پوسٹ کرنا باضابطہ ٹرینڈ بن چکا ہے۔

    کسی شخص کو رن مرید کا طعنہ دینے والے عام طور پر دو لوگ ہوتے ہیں ۔

    1- دوست ۔
    2- اہلِ خانہ ۔

    کسی شخص کو بیوی سے محبت و الفت پر رن مرید کا طعنہ دینے والے اکثر اس کے دوست ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ :

    یا تو خود "سرٹیفائیڈ سنگل” ہوتے ہیں کوئی انہیں اپنی بیٹی تو دور کی بات اپنی بائیک بھی مستعار دینے پر راضی نہیں ہوتا۔

    یا پھر اس قسم کے شادی شدہ کے جن کی شادی منگل سوتر باندھنے کے بجائے "نرڑ” باندھنے کے مترادف ہوتی ہے ۔۔۔۔ (نرڑ : کسی سرکش بکروٹے، وچھے یا کٹے کو قابو میں رکھنے کے لیے اس کی ٹانگ رسی کے زریعے کسی گائے، بھینس یا بیل کے ساتھ باندھ دینا ).

    جن کی بیوی اگر انہیں رات موبائل میں مگن دیکھ کر ” سوجائیے ، کافی رات ہوگئی ہے ۔۔۔” کے بجائے ” مرن جوگیا، تینو موت کیوں نئیں پیندی پئی؟” جیسے الفاظ سے نوازتی ہیں۔

    یعنی جن کی عمر بھر اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بنتی انہوں نے ظاہر ہے جیلس ہونا ہی ہے کسی دوسرے کو بیوی کے ساتھ ہنستا بستا دیکھ کر ۔

    تو احباب !! اگر کوئی دوست یا کولیگ کہے کہ آپ رن مرید ہو تو کہنا ” میری ایک ہی اکلوتی لاڈلی بیوی ہے۔۔۔ اب اس سے پیار نہ کروں تو کیا تمہاری بیوی سے عشق لڑاؤں؟ کمال کرتے ہو پانڈے جی!”

    اور پھر آجاتے ہیں گھر والے ،

    ایکچولی سب سے زیادہ تکلیف تو ماؤں کو ہوتی ہے ۔۔۔ یعنی جو مائیں "چاند سی بہو” کو ” بڑی چاہ سے ” لائی ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک ماہ بعد انہیں لگتا ہے کہ ” یہ ڈائن ہے جس نے میرے بیٹے پر تعویز کرکے اسے اپنے بس میں کرلیا ہے .”

    ارے آنٹی جی۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کا بیٹا پوری عمر بچہ ہی بنا رہے ؟ آپکی گودی میں بیٹھا رہے اور آپ پوری عمر اسے لوری سناتی رہیں ؟

    بھئی۔۔۔ اگر آپ کا بیٹا کسی غیر لڑکی کے ساتھ وقت گزارتا تو تشویش کی بات تب تھی۔۔۔ اپنی ‘سگی’ بیوی کے ساتھ کچھ وقت بِتا لے ، اس کے ساتھ گھومنے پھرنے چلا جائے یا اسے کوئی گفٹ خرید کر دے تو ان ذیابیطس زدہ بڈھی کھوسٹ کُٹنیوں کو لگتا ہے کہ ” بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔”

    تو احبابِ گرامی ، اگر آپ کو کوئی ” رن مرید” کہے تو مسکرا کر جواب دیں کہ کسی شُف شُف پیر یا ” سائیں رکشہ ساڑ” کا مرید بننے سے اچھا ہے کہ بنا رن مرید ہی بنا رہے۔

    بشکریہ : آل برصغیر انجمنِ بیگمات ۔

  • جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    اٹھائیس سالہ ایم فِل سوشیالوجی کی طالبہ نازیہ نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ چھاتی میں ایک اُبھار سا بنا ہوا ہے۔ ہاتھ لگانے پر کچھ گُھٹلی جیسا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کوئی خاص درد تکلیف وغیرہ نہ تھی۔ اس نے سوچا والدہ سے ڈسکس کر لے گی۔ چند ہفتے یونہی بےدھیانی میں یاد نہ رہا۔ ایک دن دوبارہ نہاتے ہوئے اس طرف دھیان گیا تو ماں سے اس بارے مشورہ کر ہی لیا۔ ماں نے کہا کوئی درد یا تکلیف ہے تو دکھا لیتے ہیں ڈاکٹر کو، ساتھ مشورہ دیا کہ زیادہ مسئلہ نہیں لگ رہا تو پیاز باندھ لو اور ساتھ وظیفہ پڑھ لو یہ آپ ہی “گُھل” جائے گی۔ چند ہفتے وظیفہ پڑھا، اور پیاز بھی باندھا اور ساتھ ساتھ زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھ مالش بھی کی۔ گویا نازیہ نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو یقین دلا دیا کہ ٹوٹکوں سے ابھار کا سائز کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔ ابھار اپنی جگہ موجود رہا۔ خاموش۔ کسی تکلیف یا درد کے بغیر۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر ہوتا ہے۔

    چھے مہینے ایسے ہی گزر گئے۔ نازیہ کو بھول گیا کہ ایک چھاتی میں ابھار ہے۔ اب کے نازیہ کو عجیب سا درد دائیں بازو میں اٹھا، جیسے اس کی ہڈی میں کوئی سوراخ سا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ درد کی دوا لی چند دن، اور درد کو آرام آ گیا۔ لیکن دوا چھوڑتے ہی درد نے پھر زور پکڑا۔ آخرکار قریبی ڈاکٹر سے مشورہ ہوا۔ اس نے کہا جوان لڑکی ہے اسے کیا ہونا ہے۔ کیلشیئم اور وٹامن ڈی تجویز کیا، ساتھ ایک تگڑا سا پین کِلر انجیکشن ٹھوکا اور گولیاں دے کر چلتا کیا۔ پھر سے عارضی آرام آ گیا۔ لیکن دوا کا کورس ختم ہوتے ہی پھر وہی تنگی شروع!

    اب نازیہ کو پریشانی ہوئی کہ یہ موئی درد جان کیوں نہیں چھوڑ رہی۔ اس نے اپنی ڈاکٹر دوست کو کہہ کر سرکاری ہسپتال سے ایکسرے کروایا۔ ایکسرے کروا کے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ اس نے ایکسرے دیکھ کر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے، آپ اس کو ذرا کینسر آوٹ ڈور میں دکھا کر آئیں۔ اور یوں میری نازیہ سے پہلی ملاقات کا بندوبست ہوا۔۔۔۔

    نازیہ نے مجھے سلام کر کے ایکسرے پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے بازو کی ہڈی میں درد کی شکایت ہے۔ میں نے ایکسرے دیکھتے ہی ہڈی کا پوچھنے کی بجائے اس سے پوچھا “آپ کو جسم میں کہیں کوئی گِلٹی محسوس ہوتی ہے”، جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ہاں بس چھاتی میں ابھار سا تھا لیکن وہ وظیفے اور مالش سے بہتر ہو گیا، لیکن “تھوڑا سا” ابھی بھی ہے۔ وہ “تھوڑا سا” ابھار چیک کرتے ہی الارم بجنے لگے۔ میں نے نازیہ کو بائیاپسی، ہڈیوں کا اسکین اور سی ٹی اسکین لکھ کر دیے۔ رپورٹ میں چوتھی اسٹیج کا انتہائی اگریسیو بریسٹ کینسر تھا، جس کی جڑیں ہڈیوں میں ہی نہیں بلکہ جگر، پھیپھڑوں اور ایڈرینل گلینڈ میں بھی پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔

    نازیہ کے علاج کا دورانیہ لگ بھگ اٹھارہ ماہ کا تھا۔ زندگی کے آخری چار ماہ اس نے بہت تکلیف میں گزارے۔ بستر پر معذوری کے عالم میں وہ کبھی کبھار اپنے دل کی باتیں کیاکرتی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ ڈگری مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ماں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اور جینا چاہتی تھی۔ لیکن مقدر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔۔۔

    شاید ہمارے ارد گرد بہت سی نازیہ موجود ہوں۔ کیونکہ ہر نو میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں اس کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی میں تبدیلیاں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورے میں تاخیر نہ کریں۔ پہلی اسٹیجز میں اگر ہم اس بیماری کو پکڑ لیں تو اللہ کی مہربانی سے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے اچھے چانسز ہوتے ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور تصویر میں دکھائی گئی کوئی علامات آپ میں ہیں تو فوراً کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ اگر آپ مرد ہیں تو اپنی خواتین کو آگہی دیں کہ جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں۔

  • بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آج سے بیس سال پہلے تک بریسٹ (چھاتی) کا کینسر پچاس سالہ یا اس سے اوپر کی خواتین میں زیادہ دیکھتے تھے۔ اس وقت ہمارے (کینسر کے ڈاکٹروں کے) پاس آنے والی بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین میں سے لگ بھگ آدھی چالیس سال سے کم ہیں۔ بہت سی تو بیس کے پیٹے میں ہیں یعنی بالکل جوان بچیاں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ جو بوڑھوں کی بیماری سمجھی جاتی تھی وہ اب جوانی میں حملہ آور ہونے لگی ہے؟ پاکستان کی ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہو گی، موجودہ اعداد و شمار ایسا کہتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے یہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے یہ نمبر نو سے کم ہو کر سات ہو جائے گا۔

    وجوہات پر اسٹدیز کم ہیں اور جو ہیں ان کے نتائج بھی متنازعہ سے ہیں۔ جینیات، آلودگی، ورزش نہ ہونا، ناقص غذا (ماڈرن جَنک فُوڈ)، یہاں تک کہ بہت سے سوچتے ہیں کہ موبائل ریڈی ایشن بھی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں کیسز بڑھنے کی۔ اس پر پاکستان میں ماہرین کو سر جوڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی شرح سے کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ہمارا سسٹم اس سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

    پہلی اسٹیجز میں یہ مرض بالکل قابل علاج ہے۔ لیکن ہمارے پاس خواتین کیس خراب ہو چکنے کے بعد آتی ہیں۔ جو بروقت آ بھی جائیں ان کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہوتے۔ کارڈ شارڈ اس وقت جتنے موجود ہیں وہ زیادہ کومپنی کی مشہوری ہی ہیں ان سے کینسر کے مریضوں کو عملی فوائد کم ہی ہو رہے ہیں (مریضوں کی شرح اموات اس کا ثبوت ہے، اگر کوئی نمبر گیم میں جانا چاہے تو خوشی سے جائے)۔

    اپنے ارد گرد خواتین کو کانفیڈینس دلائیے کہ اگر چھاتی میں کوئی منفی تبدیلی محسوس کریں تو چیک اپ سے نہ جھجکیں۔ حکومت و ریاست سے نا امید رہیے اور اپنی سی کوشش کر کے کسی بھی آزمائش کے لیے رقم اور ہمت جوڑ کر رکھیے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ دعا کرتے رہیے کیونکہ یہ چیز بھی زلزلے یا قدرتی آفت ہی کی طرح بغیر وارننگ کے آ پکڑتی ہے۔

  • جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    گزشتہ ہفتے، میں نے کچھ ایسا کیا جو بہت سے لوگ ہر روز کرتے ہیں: میں نے ایک مذاق ٹویٹ کیا. اس معاملے میں مذاق ایک جعلی کالج انگریزی کلاس مضمون کی ایک تصویر تھی جو میں نے ٹام اور جیری کے بارے میں ٹائپ کیا تھا، پھر اسے ٹویٹ کرنے سے پہلے مایوس سرخ قلم کے نوٹ اور ڈی گریڈ کے ساتھ نشان زد کیا گیا تھا جیسے میں اس کی عقل کے اختتام پر پروفیسر تھا. واضح ہونے کے لئے، میں کالج پروفیسر نہیں ہوں – میں اصل میں جے ایم( جھک مارنا) میں کام کرتا ہوں اور ایک مزاحیہ کردار ہوں جو وادی میں کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، ممکنہ طور پر دوسرے لوگوں کے لئے جو جے ایم میں کام کرتے ہیں. لیکن اس نے ہزاروں لوگوں کو نہیں روکا.

    گزشتہ پیر کے بعد سے ، ٹویٹ کو مٹھی بھر بڑے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا گیا ہے ، جو ٹویٹر پر ایل او ایل جی او پی اور بز فیڈ کے ذریعہ شیئر کیا گیا ہے ، جو بڑے عالمی نیوز سائٹوں کا احاطہ کرتا ہے ، اور اس وقت اس پر تقریبا ایک ملین لائیکس ہیں ، جس کے جواب "میں نے طویل عرصے سے اتنی سختی سے نہیں ہنسا ہے” سے لے کر "آپ کو گرفتار کیا جانا چاہئے” تک۔ تو یہ سب کیسے ہوا ، اور ایک گونگا مذاق دیکھنا کیسا ہے جسے آپ نے کنٹرول سے باہر وائرل ٹویٹر لمحے میں سرپل بنا دیا ہے؟ اس سب کی وضاحت کرنے میں مدد کرنے کے لئے، میں نے پورے کو دستاویزی کیا.

    کچھ مضحکہ خیز لائن میں ترمیم کے ساتھ گڑبڑ کرنے کے بعد ، میں اپنے "کاغذ” کی دوسری کاپی پرنٹ کرتا ہوں جس کے ساتھ میں چاہتا ہوں کہ میرا حتمی ورژن کیا ہو۔ تاہم، مجھے احساس ہے کہ ایک طالب علم کے لئے ٹام اور جیری کے بارے میں صرف ایک کاغذ میں ہاتھ ڈالنا بہت عجیب ہے. یہ تفویض کیا تھی؟ لہذا میں مشہور ٹامس کے بارے میں سوچتا ہوں اور اوپر ایک لائن شامل کرتا ہوں ، یہ دعوی کرتے ہوئے کہ تفویض عظیم گیٹسبی سے ٹام بوکانن کے بارے میں ہونا چاہئے تھا۔

    میرے دوپہر کے کھانے کے وقت میں جانے کے لئے تین منٹ کے ساتھ، میں نے کیپشن کے ساتھ ٹویٹ پوسٹ کیا "اس سمسٹر میں میرا پہلا انگریزی کورس سکھانا فائدہ مند رہا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ اس طالب علم کے ساتھ کیا کرنا ہے،” اس بات کو یقینی بنانا کہ ٹویٹر کے لئے اسے صحیح طریقے سے "ہینڈل” کریں، اپنے دوستوں سے کچھ پسند کرنے کی امید ہے.

    اسے کچھ ریٹویٹس اور تقریبا سو لائکس ملتے ہیں۔ میرا ایک دوست جو ایک جے ایم شو میں کام کرتا ہے مجھے مصنفین کے کمرے سلیک کا اسکرین شاٹ بھیجتا ہے ، اور وہ ان تمام مضحکہ خیز تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جو میں نے اس میں ڈال دی ہیں۔

    کیا میری زندگی بدل گئی ہے؟ واقعی نہیں. میرے پاس اپنی شرارت کے بارے میں کچھ مضامین ہیں اور ٹویٹر پر کچھ ہزار مزید پیروکار ہیں۔

    لیکن میں جے ایم آفس میں اپنے دوپہر کے کھانے کے وقفے پر اپنی میز پر واپس آ گیا ہوں. میں لاکھوں لوگوں کے لئے اپنے ایک ہٹ گانے کو انجام دینے کی طرح وائرل ہونے کی وضاحت کروں گا: اگرچہ یہ ایک بہت ہی خوفناک چار منٹ ہے ، جب آپ کام کرلیں تو باہر نکلنے کے لئے ان سب فائلوں کو دیکھنے کے لئے تیار رہیں۔ لہذا میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر کشتیاں جلا کر ٹویٹر کے کوزے میں ہاتھ پاؤں مارتا ہوں۔

  • آٹزم (خود محویت)، ڈس ابیلیٹی کے سوشل ماڈل کی ڈیفی نیشن میں — خطیب احمد

    آٹزم (خود محویت)، ڈس ابیلیٹی کے سوشل ماڈل کی ڈیفی نیشن میں — خطیب احمد

    آٹزم پر ریسرچ کے دوران میرے اوپر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ میں نے خود کو آٹسٹک پرسن سمجھنا شروع کر دیا۔ میں ایک بات شروع میں واضح کر دوں یہ کوئی معذوری نہیں ہے۔ بلکہ ایک نیورو ڈیویلپمنٹل ڈائیورسٹی (تنوع) ہے۔ جسکے آگے مختلف درجے ہیں۔ اور اسکے ساتھ کچھ مزید چیزیں جڑی ہو سکتی ہیں۔ ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی اسکی وجوہات اور علاج ممکن نہیں ہے۔

    مگر کریں کیا؟

    آٹزم یا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کی بات کریں۔ تو اسکی علامات دو تین سال کی عمر سے لیکر عمر کے کسی بھی حصے میں نمایاں ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات مائلڈ اور شدید دونوں طرح کی ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین نفسیات و ورکنگ سپیشل ایجوکیشنسٹس کے مطابق آٹزم کی بعض علامات یہ ہیں

    سماجی تعلقات سے کترانا۔

    طبیعت میں جارحانہ پن۔

    نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا۔

    ہر وقت کی بے چینی اور خوف۔

    بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دل۔

    توجہ دینے میں دشواری ۔

    تنہائی پسند اور گوشہ نشین۔

    بات کرتے وقت آنکھیں چرانا۔

    الفاظ اور جملوں کو بار بار دہرانا۔

    ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا۔

    اپنا مطلب سمجھانے یا بات کا اظہار کرنے میں دشواری ہونا

    ہاتھوں کو چڑیا کے پروں کی طرح پھڑپھڑانا (Hand Flapping)

    ایک ہی کام کو بار بار کرنا

    ایک جگہ پر سکون سے نہ بیٹھنا، بیٹھے ہوئے اچھلنا کودنا

    بات کرتے ہوئے آئی کانٹیکٹ نہ دینا

    بات سن لینا مگر کوئی رسپانس نہ دینا

    بہت زیادہ ضد کرنا، شور مچانا، چیزیں توڑنا، نقصان کرنا، اگریشن

    عام بچوں سے زیادہ شرمیلا ہونا

    بات کو سمجھنے اور اپنی بات کا اظہار کرنے میں دشواری ہونا

    اپنی مرضی کے موضوع پر ہی بات کرنا۔

    ایم فل ڈیویلپمنٹل ڈس ابیلیٹیز کرنے کے ساتھ دس سال کے فیلڈ ایکسپیرئنس اور گزشتہ بارہ دنوں میں 120 گھنٹوں کی متواتر گہری (deep) و جدید (latest) ریسرچز کو پڑھنے، دنیا بھر کے آٹسٹک افراد کے انٹرویوز سننے کے بعد میں آٹزم کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے کے قابل ہوا ہوں۔ مجھے لگتا ہے مضمون تھوڑا لمبا ہوجائے گا مگر مجھے آج وہ سب کچھ کہنا ہےجو بہت کم کہا سنا اور لکھا گیا۔

    حالیہ برسوں میں آٹزم کی ریشو بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ ایک راؤنڈ نمبر میں ہر سو میں سے ایک بچہ آٹزم کے ساتھ ہے۔ اسی تناسب سے دنیا کی 7.9 ارب آبادی کا ایک فیصد یعنی 8 کروڑ آٹزم کے ساتھ ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو 22 کروڑ میں سے 22 لاکھ افراد آٹزم کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان آٹزم سوسائٹی کی آٹزم کے عالمی دن 2 اپریل 2021 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 4 لاکھ بچے آٹزم کے ساتھ ہیں۔ ہمارے ہاں شناخت کے عمل سے وہی آٹسٹک گزرتا ہے۔ جس میں آٹزم کی اوپر بیان کرنا انتہائی علامات پائی جاتی ہیں۔ اور بے شمار لوگ اپنے آٹسٹک بچوں کی وسائل و شعور کی کمی کے باعث باقاعدہ اسسمنٹ ہی نہیں کروا پاتے۔

    آٹسٹک کی اسسمنٹ کرتا کون ہے؟ عموماً ڈاکٹرز یا ماہر نفسیات؟ یہ دونوں فریق اور تیسرا فریق والدین آٹزم کو زیادہ تر ڈس ابیلیٹی کے میڈیکل ماڈل میں دیکھتے ہیں۔ میڈیکل ماڈل میں آٹزم کو ایک ذہنی بیماری، نیورو لاجیکل یا جنیٹک ڈس آرڈر، کوئی میڈیکل کنڈیشن یا ٹریجڈی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ نیورو لاجیکل ڈیویلپمنٹل ٹھیک نہیں ہوئی۔ تو یہ بچہ نارمل نہیں ہے۔ جسے نارمل کرنے پر کام شروع ہو جاتا۔ اسکا علاج ہونا چاہئے۔ پہلی یہی ازمشپن والدین ڈاکٹرز اور کچھ ماہر نفسیات اپناتے ہیں۔ اور بچے کا علاج کے چکروں میں ابتدائی سالوں میں ہی بیڑہ غرق کرکے رکھ دیتے۔

    میں بحثیت سپیشل ایجوکیشنسٹ اس میڈیکل ماڈل کو آٹزم کے تناظر میں کلی طور پر رد کرتا ہوں۔ ڈاکٹرز کیا کرتے ہیں؟ ٹیسٹ وغیرہ؟ اور سائیکالوجسٹ اسسمنٹ کرتے یا ان میں سے کچھ انکے ساتھ سیشن بھی لیتے؟ اور سپیشل ایجوکیشنسٹ کیا کرتے؟ اسسمنٹ کے ساتھ دنیا بھر میں ان بچوں کے ساتھ والدین کے بعد زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ ایک آٹسٹک بچہ جیسے خود کو ڈس ایبلڈ نہیں سمجھتا۔ اور نہ وہ حقیقت میں ہوتا ہے۔۔ڈس ایبلٹی کے سوشل ماڈل میں ہم سپیشل ایجوکیشنسٹ آٹزم کو کوئی بیماری یا معذوری نہیں سمجھتے۔ کہ جسکا علاج کیا جائے۔ اسے ٹھیک کیا جا سکے یا اسکی روک تھام ہو سکے۔

    دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں اربوں ڈالر آٹزم کی ریسرچ پر لگائے جا رہے ہیں۔ میں نے جب آٹزم کی فنڈنگ پر ریسرچ کی تو میرے سامنے بات کچھ یوں آئی۔

    40 فیصد فنڈز اس فیلڈ میں خرچ ہو رہے ہیں کہ اسکی جنیٹک اور بائیولوجیکل یا دیگر وجوہات کیا ہیں؟ اسکی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ ایک سو سال کی ریسرچ کے بعد بھی یہ سوال یوں کا توں ہے۔

    20 فیصد فنڈز اس بات پر کی جانے والی ریسرچ پر لگ رہے کہ اسکا علاج کیا ہے؟ ہم آٹزم کو کیسے نارمل کر سکتے ہیں؟

    20 فیصد فنڈز آٹزم کے مسائل اور رویوں کی تلاش میں کی جانے والی سالوں پر محیط تحقیقات میں کھپ رہے ہیں۔

    صرف 7 فیصد فنڈز آٹسٹک لوگوں کی ویلفیئر اور انکی مدد کرنے میں لگ رہے۔

    آٹسٹک لوگوں میں خود کشی کا رجحان عام لوگوں سے 9 گنا زیادہ ہے۔

    آٹزم کی ایوریج لائف دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی 54 سال ہے جبکہ نارمل لائف سپین 68 سال تک ہے۔ اور کچھ ممالک میں 80 سال تک بھی ہے۔

    دنیا کی ترجیحات ہی آٹزم کو لیکر غلط ہیں۔ کینیڈا انگلینڈ امریکہ فرانس جرمنی دوبئی میں مقیم پاکستانی والدین سے میری بات ہوئی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہاں بھی ان بچوں کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہم خود ہی کرتے ہیں جو بھی کریں۔ میڈیکل ماڈل پر ہی کام ہوتا ہے۔ شدید ذہنی اضطراب میں نیند کی گولیاں دے دی جاتی ہیں۔ یا ہمیں نہیں معلوم ہمارے بچے کے ساتھ ری ہیبلی ٹیشن سنٹر میں کیا کرتے ہی ۔

    آٹزم خواتین کی نسبت مردوں میں بہت زیادہ ہے۔ دس آٹسٹک بچوں میں سے ایک لڑکی اور نو لڑکے ہو سکتے ہیں۔ یا سولہ میں سے ایک لڑکی ہو سکتی ہے۔

    آٹزم سوشل ماڈل کے تحت ہے کیا؟

    آٹزم کوئی ڈس ایبلٹی نہیں ہے۔ یہ ایک نیورولوجیکل ڈیویلپمنٹ کا مختلف پیٹرن ہے۔ ان بچوں کی سوچنے سمجھنے رسپانس کرنے برتاؤ کرنے گفتگو کرنے میل جول رکھنے کی عادات اکثریت سے مختلف ہوتی ہیں۔ اور آٹزم کے ساتھ لوگوں کی آپس میں بھی ان ایریاز میں ترجیحات اور علامات ایک دوسرے مختلف ہیں۔

    کچھ لوگ نارمل لوگوں کی ڈیفی نیشن میں بھی انٹرو ورٹ Introvert اور ایکسٹرو ورٹ Extrovert ہوتے ہیں۔ MBTI کا ٹول استعمال کرکے آپ اپنی پرسنیلٹی ٹائپ معلوم کر سکتے ہیں۔ میں ENFP ہوں۔ یہ میرا ایک پرسنیلٹی کوڈ ہے۔ میں ایکسٹرو ورٹ ہوں۔ اس کوڈ کو میں نے ایک لائف کوچ سے فیس دے کر اپنی پرسنیلٹی اسسمنٹ کروا کر معلوم کیا ہے۔ آپ کا بھی کوئی پرسنیلٹی کوڈ ہوگا؟ جو ہمارے سیکھنے اور زندگی گزارنے کے مخصوص طریقے بتاتا ہے۔ جب کوڈ معلوم ہوجائے تو ہمارے لیے یہ آسان ہوجاتا ہے۔ ہم کس فیلڈ کے لیے بنے ہیں؟ کس کام میں تھوڑا کام کرکے زیادہ اور جلدی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ کونسا کام کرتے ہوئے ہم تھکیں گے نہیں۔

    اکثریت ساری عمر اپنی ناپسند کے کام میں ہی لگی رہتی۔ اور لوگ زندگی میں کچھ بھی بڑا نہیں کر پاتے۔
    آپ بھی اپنا پرسنیلٹی کوڈ معلوم کیجئے۔ اور پھر اس کام میں جت جائیے۔ بس دس سال سر نہیں اوپر اٹھانا۔ ٹکا کر محنت کرنی ہے۔ اور انشاء اللہ اگلا سو سال آپکا نام اس فیلڈ میں زندہ رہے گا۔ جتنی محنت زیادہ مقصد بڑا ہوگا اتنا نام معتبر ہوگا۔

    آٹزم کی اسسمنٹ تو کروا لی۔ والدین اب کیا کریں؟

    اس بچے کو اپنے دیگر بچوں سے مختلف بچہ قبول کریں۔ یہ مشکل ہے خصوصاً ایک ماں کے لیے۔ مگر میری بہن آپ اس بات کو لیکر کسی دکھ یا صدمے میں پلیز ہر گز نہ جائیں۔ نہ ہی اس بچے کو ٹھیک کرنے کے غلط راستے پر چل پڑیں۔ یہ بچہ ساری عمر دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہو سکے گا۔ یہ اپنے انداز میں ایک شاندار زندگی گزار سکتا ہے۔ اگر آپ اسے جو ہے جیسے ہے کی بنیاد پر قبول کر لیں۔۔اور اسکی بہتری پر کام شروع کر دیں۔

    اس بات کو چھپائیں بھی نہیں۔ سب کو بتائیں فخر سے کہ آپکا بچہ آٹسٹک ہے۔ اسکی پسند ناپسند عادات و اطوار تھوڑی یا زیادہ مختلف ہیں۔ فیملی و خاندان والوں کو ایجوکیٹ کریں۔ کہ اسکے ساتھ برتاؤ کیسے کرنا ہے۔

    کچھ بچے وربل اور اکثریت نان وربل کی ہوتی ہے۔ کچھ بچے ساری عمر ایک لفظ بھی نہیں بول پاتے۔ اشاروں کی زبان سیکھ جاتے ہیں۔ یا کوئی مخصوص الفاظ بولتے ہیں۔ جیسے انڈہ امی ابو آم کوئی ایک ایک لفظ وہ بھی جب انکی مرضی ہو۔

    تفصیلی اسسمنٹ جو ایک فرد واحد نہیں بلکہ پروفیشنلز کی ایک پوری ٹیم کرے۔ اور کئی دن پر وہ اسسمنٹ محیط ہو۔ وہ طے کرے گی کہ آٹزم کے ساتھ کونسی کنڈیشنز جڑی ہوئی ہیں؟ جنکی وجہ سے اسے سپیکٹرم کہا جاتا۔ اور

    اسکا علاج نہیں کرانا (جو دنیا بھر میں ہے بھی کوئی نہیں) بلکہ مینجمنٹ اور ایجوکیشن کا پلان کیسے بنانا ہے۔

    آٹزم کے ساتھ سب سے شدید کنڈیشن جو جڑتی وہ نابینا پن (Blindness) ہے۔ دنیا کی سب مشکل کنڈیشن ہے یہ اگر آٹزم شدید ہو۔
    اسکے علاوہ لرننگ ڈس ایبلٹیز،

    Expressive language disorder
    Receptive language disorder
    Sensory processing issues
    Obsessive compulsive disorder
    ADHD
    Hydrocephalus
    Epilepsy
    Schizophrenia
    Bipolar Disorder
    Depression
    Anxiety
    Disrupted sleep
    Gastrointestinal (GI) problems
    Feeding issues

    یہ بچے عام بچوں سے مختلف انداز میں سیکھتے ہیں۔ انکو سب سے پہلے بنیادی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اپنے ذاتی کام کیسے خود کرنے ہیں۔ ممکنہ توجہ اور بول چال پر ماہرین سالوں سال کام کرتے ہیں۔ تو جا کر کوئی معمولی سا آوٹ پٹ ملتا ہے۔ ان بچوں کی ون ٹو ون ٹیچنگ ہے۔ دو بچے بھی ایک وقت میں ایک جگہ نہیں پڑھ سکتے۔ پنجاب سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان بچوں کو اس وجہ سے نہیں لیتا۔ کہ وہاں ہر کیٹگری میں بچوں کی ریشو استادوں کی تعداد سے پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

    ہمارے بے شمار سکولوں میں دانشورانہ پسماندگی کے ساتھ بچوں والے پورشن میں ایک ٹیچر کے پاس دس بیس بچوں کے ساتھ ہی ایک کونے میں یہ بچہ بھی چپ چاپ سہما ہوا بیٹھا رہتا ہے۔ دس بیس سال بھی وہاں بیٹھا رہے۔ کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ اسے انفرادی توجہ اور ون ٹو ون ٹیچنگ کی ضرورت ہے۔ جہاں ان بچوں کو پڑھایا جاتا وہاں کوئی ڈسٹریکشن نہیں ہوتی۔ کوئی آواز کسی فرد کا گزر نہیں ہونے دیا جاتا۔ کہ یہ بچے انسٹرکشن پر فوکس کر سکیں۔

    ان بچوں کے علاج اور بحالی پر دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی ہزاروں نیم حکیم، عطائی، پیر، ڈاکٹر، ماہر نفسیات، سپیچ تھراپسٹ، سپیشل ایجوکیشنسٹ، آکو پیشنل تھراپسٹ اور کئی بغیر کسی ڈگری کے ہی صرف ماہرین کے ساتھ کام کرکے سیکھے ہوئے افراد، والدین و بچے کا وقت برباد کرنے کے ساتھ انکا پیسہ بھی برباد کر رہے ہیں۔ والدین کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ والدین کو کچھ پتا ہی نہیں۔ نیٹ سے معلومات لے کر کوئی نتیجہ نکالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس فیلڈ کے ماہرین ہی کوئی حتمی رائے قائم کر سکتے ہیں۔۔ایک عام آدمی سب کچھ نیٹ سے نہیں سیکھ سکتا۔ ناں ہی سب کچھ جان سکتا ہے۔ جان بھی لے تو بہت زیادہ وقت لے گا۔

    اس سارے سین کے بعد خوشی کی بات کیا ہے؟

    ان بچوں میں اگر کچھ خرابیاں ہیں تو خدا کی ذات نے کچھ خوبیاں بھی رکھیں ہونگی؟ عقل مانتی ہے ناں اس بات کو؟ مثبت ایریاز کو تلاش کرکے ان پر کام کرکے ان بچوں سے غیر معمولی کام لیے جا سکتے ہیں۔
    تو یہ لیں ان بچوں کے کچھ مثبت ایریاز:

    مثبت سوچ
    انتہائی پاورفل و شاندار یاداشت
    حد سے زیادہ مخلص
    فوکس کرنے کی اعلی ترین خوبی
    باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کی صلاحیت
    لوگوں کو گلے لگانا چومنا پیار کرنا
    پڑھنا بہت چھوٹی عمر میں شروع کر دینا Hyperlexia
    تصویری اشیا سے سیکھنے کی صلاحیت
    لاجیکل تھنکنگ
    سائنس ریاضی طب انجینرنگ کے مضامین بلا کی ذہانت و فطانت
    ٹیکنکل اور لاجیکل مضامین میں مہارت
    تخلیقی صلاحیتوں کے سمندر ان بچوں میں قید ہوتے
    انتہائی ذمہ دار ہوتے یہ بچے

    ایسا تب ہو سکتا ہے۔ اگر ان بچوں کے علاج کو چھوڑ پر انکی تعلیم و تربیت پر فوکس کیا جائے۔ گو قابل ماہرین بہت کم ہیں مگر موجود ہیں۔ آپکو ان بچوں کے لیے کچھ پیسے زیادہ کمانے ہونگے۔ ایک ماہر ٹیچر آپ ہائیر کریں گے جو آکے گھر پڑھائے گا۔ وہ ایک ماہ روزانہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ٹائم دینے کا بیس ہزار سے کم کسی صورت نہیں لے گا۔ اور یہ سلسلہ چار پانچ سال سے لیکر دس سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ ایک ہی وقت میں دو سے تین لوگ بشمول ماہر نفسیات و آکو پیشنل تھراپسٹ بھی ضرورت کے تحت سیشن لیتے ہیں۔

    پاکستان کی ہر ڈویژن اور پنجاب کے ہر ضلع تحصیل ٹاؤن سپیشل ایجوکیشن سنٹر سے کسی ٹیچر کا پتا کر لیں جو سکول کے بعد ٹائم دے سکے۔ آپ بچے کی ماں ہیں یا والد خود بھی ساتھ ٹریننگ لیں۔ دنیا بھر میں کامیاب آٹسٹک بچوں کے ٹیچر اکثریت میں انکے والدین ہی تھے۔ یہ بچے ٹیچر کو منہ پر تھپڑ مارتے ہیں۔ تھوک دیتے ہیں۔ چکیاں کاٹتے ہیں۔ اوپر پانی گرا دیتے دھکا وغیرہ دے دیتے ہیں۔ ٹیچر یہ سب کیوں برداشت کرتا ہے؟ کہ اسے اسکا معاوضہ ملے گا۔ پانچ دس ہزار میں کوئی قابل ٹیچر یہ سب سہنے کے لیے نہیں ملے گا۔ آپکو تو پیسوں سے غرض نہیں؟ آپ ٹیچر سے کہیے آپکو بھی ٹرین کرے۔ اگر نہیں کر سکتے تو پیسے زیادہ کمائیے اور بچے کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کیجیے۔ ورنہ بچہ گلیوں میں لوگوں کے ٹھٹھہ مذاق کا سورس ہوگا۔۔یا گھر کے کسی کونے میں پڑا زندگی کے دن پورے کرتا رہے گا۔ یا آپکی ساری زندگی اسکی اور آپکی ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے مشکل میں گزرے گی۔

    یہ بچے ارلی انٹروینشن کے بعد تعلیمی نظام کا حصہ بن کر پی ایچ ڈی تک کر سکتے ہیں۔ کئی آٹسٹک پی ایچ ڈی ہیں۔ انکے لیے بہترین ملازمت کے چند پیشے یہ ہیں۔ جن میں یہ اپنی سپر پاورز دکھا سکتے ہیں۔ اور یقیناً آپکی سہی ہوئی تکلیفیں اور خرچا ہوا سرمایہ سب کچھ یہ واپس لوٹا دیں گے۔ اگر آپ نے انہیں کسی قابل بنا دیا۔

    انیمل سائنسز جیسے زووالوجی یا جانوروں کو کسی کام کے لیے ٹرین کرنا (دنیا بھر میں ہر نسل کتوں کو سدھارنے اور مختلف کام سکھانے والے ماہرین آٹسٹک لوگ ہیں)

    ریسرچر کوئی بھی ان جیسا نہیں بن سکتا

    آرٹ اینڈ ڈیزائن (گرافک ڈیزائننگ)

    پینٹنگ (کہا جاتا ہے صادقین، اسمائیل گل جی اور جمیل نقش صاحب ملک کے تینوں عالمی شہرت یافتہ پینٹر بھی آٹسٹک تھے) ان لوگوں کی پینٹنگز آج کروڑوں میں بکتی ہیں۔ جمیل نقش صاحب کی بیٹی بتا رہی تھی کہ اسکے ابو اپنی ساری زندگی میں بس چند ایک دفعہ ہی گھر سے باہر نکلے۔ ایک بار جب انکی شادی ہوئی پھر جب انکی مسز فوت ہوئی جنازہ کے لیے۔ تیسری دفعہ جب پاسپورٹ بنوانا تھا اور چوتھی دفعہ جب انہوں نے لندن جانا تھا۔ سنہ 2019 میں جمیل نقش صاحب لندن میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ آج انکے کام کو دنیا جانتی ہے۔ وہ کسی سے بھی نہیں ملتے تھے بس اپنے کام میں کھوئے رہتے تھے۔

    مینو فیکچرنگ (کسی بھی چیز کی)

    انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے سافٹ ویئر اور موبائل ایپس بنایا۔ سافٹ ویئر کی خرابی چیک کرنا (امریکہ میں ایک آئی ٹی کمپنی ہے جو فرمز کے بڑے بڑے خراب سافٹ ویئر ٹھیک کرتی ہے۔ ان کے سارے ملازمین اسپرجر سنڈروم کے ساتھ ہیں۔ یہ آٹزم کی ہی مائلڈ شکل ہے)

    کسی بھی قسم کی انجینرنگ ملازمت

    یہ بچے سائنسدان بن سکتے ہیں (کیونکہ سائنسدان بھی کسی سے بات نہیں کرتے بس اپنے تجربات میں کھوئے رہتے ہیں۔ تین بڑے سائنسدان آئزک نیوٹن، البرٹ آئنسٹائن اور ہینری کیویندش (ہائیڈروجن کا موجود) بھی آٹسٹک تھے۔

    جرنلزم میں یہ لوگ کمال کے کالم نگار ہوتے ہیں کہ لکھنا ریسرچ کرکے ہوتا ہے۔۔ریسرچ کرنا ان پر ختم ہے

    کسی بھی مشین کے مکینک یہ بہترین ہو سکتے ہیں۔ جان ڈئیر مشینیں بنانے والی مشہور زمانہ امریکن کمپنی میں ٹاپ مکینک آٹسٹک لوگ ہیں۔

    دنیا کے ٹاپ وکلاء کے پیرالیگل سٹاف میں آٹسٹک لوگ ہو سکتے جو کسی کیس کی اسٹڈی میں رسرچ کرتے ہیں۔

    سپیس سائنسز کاسمالوجی میں ان سے بہتر کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ ناسا میں کئی آٹسٹک لوگ ہیں۔

    ان تمام شعبوں کے بائی ڈیفالٹ و بائی برتھ بادشاہ آٹسٹک لوگ ہیں۔ یہ سب شعبے انتہائی ذہانت اور لاجیکل تھنکنگ مانگتے ہیں۔ حد سے زیادہ فوکس اور لگن مانگتے ہیں۔ اینٹی سوشل لوگ ہی ہمیشہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اور انکی تو گھٹی میں پڑی ہوئی یہ خوبی کہ کسی سے بات ہی نہیں کرنی جاؤ جو ہوتا ہے کر لو۔ بس اپنی دنیا میں ہی مگن رہنا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈس ایںبلٹی کے میڈیکل ماڈل کی بجائے سوشل ماڈل کو اپناتے ہوئے ان بچوں کو قبول کیا جائے۔ اور انکی تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام کیا جائے۔

    #autismawareness

  • سائنسی طرزِ فکر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی طرزِ فکر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی طرزِ فکر اپنائے بغیر سائنس نہیں سیکھی جا سکتی۔ سائنسی طرزِ فکر حقیقت پسندی کا نام ہے۔ ایک ان پڑھ بھی اگر حقیقت پسند ہو تو وہ ایک پی ایچ ڈی سے بہتر سائنس سیکھ سکتا ہے۔ حقیقت پسندی تب آتی ہے جب ہم کھوکھلے نعروں، فرسودہ علوم اور جذباتیت سے نکل کر وہ علم سیکھنے کی کوشش کریں جو جدید دنیا سیکھ رہی ہے۔

    ہمیں اس خوش فہمی سے نکلنا ہو گا کہ کوئی دن رات ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے کہ ہمیں ناکام کرے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دنیا کیوں ہم سے ہر دوڑ میں آگے جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔ اور کیا پرانی روایات، پرانے خیالات اور پرانے علوم ہمیں جدید دنیا میں آگے لے جا سکتے ہیں؟

    کیا کھوکھلے نعرے لگانے والے ، رال ٹپکاتے، منہ سے جھاگ نکالتے اور عقل و خرد سے عاری داستانیں سنانے والے ہمیں کسی منزل تک پہنچا سکتے ہیں اور کیا انکی تقلید کرکے ہم قومی خود مختاری اور معاشی و معاشرتی ترقی کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا جبکہ پورے ملک میں ان سب کی بہتات ہے۔ گلی گلی، قریہ قریہ، محلے محلے، چینل چینل، سوشل میڈیا سوشل میڈیا انکی بہتات ہے۔ یہ لوگ دولو شاہ کے چوہے تو بنا سکتے ہیں جو بڑی بڑی ڈگریاں اور بڑے بڑے عہدے لیکر بھی رہتے تو اکسیویں صدی میں ہیں مگر انکے دماغ کئی صدیاں پیچھے رہ رہے ہیں۔ غریب تو خیر روٹی کپڑے سے نکل کر جدید تعلیم کیا محض تعلیم ہی نہیں سیکھ سکتے، مڈل کلاس فرسودہ علوم پر استوار تعلیمی نظام اور مساوی نظامِ تعلیم میں پھنسے اور اسکے ڈسے ہیں اور اشرافیہ غریبوں اور مڈل کلاس کی جہالت کا فائدہ اُٹھاتی خود پست ذہنیت کی ہو چکی ہے۔

    پاکستان میں اس وقت تقریباً دو سو کے قریب یونیورسٹیاں ہیں جن میں سے اکثر پچھلے تیس سالوں میں بنی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں بیٹھی اکادیمیہ جن میں پروفیسر حضرات شامل ہیں کن جدید علوم اور کس سائنسی فکر سے طلباء کو پڑھاتے ہیں؟ یونیورسٹیوں میں میریٹ پر کون بیٹھا ہے؟ تحقیق کے نام پر فنڈنگ سے کونسے مقامی مسائل کا حل نکل رہا ہے؟ مقامی صنعتوں اور یونیورسٹیوں کا اشتراک جو جدید دنیا میں ترقی کا پیش خیمہ ہے وہ کہاں ہے؟

    1964 میں حکومت کی ایک پوری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بنی تھی، اس وزارت کا کام ہر سال چاند کی رویت کے لیے بندے مار ٹیلی سکوپس حبیب بینک کراچی کی چھت یا سینٹارس پر کیے گئے رویت کے اجلاسوں میں چاند کو نکلوانے یا چھپوانے کے اور کیا ہے؟

    ایسے معاشرے میں سائنس سکھانے سے پہلے کیا یہ ضروری نہیں کہ سائنسی طرزِ فکر سکھائی جائے۔ مچھلی پکڑا کر کھلانے سے کیا بہتر نہیں کہ مچھلی پکڑنا سکھائی جائے؟ چلیں اس پر ملکر سوچتے ہیں۔

  • دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    عام طور پر ملاقات کے وقت سلام دعا ، مصافحہ یا معانقہ کرنا میل ملن کا مروج دستور ہے ۔۔۔ تاہم دنیا بھر کے مختلف ممالک اور اقوام میں ملتے وقت کچھ الگ اور عجیب و غریب رسومات بھی موجود ہیں :

    1- تبت میں ملاقات کے وقت اپنی زبان باہر نکالنا احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    2- کینیاء کے معروف "مسائی” قبیلے کے لوگ ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے منہ پر تھوک کر جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں۔

    3- ننیدرلینڈز کے "ماؤری” قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ملاقات کے وقت اپنی ناک، دوسرے کی ناک سے رگڑ کر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں ۔

    4- لائبیریا اور بینن کے قبائلی لوگ آپس میں ملتے وقت اپنی انگلیوں سے چٹکی بجا کر سلام دعا کرتے ہیں ۔

    5- فلپائن میں لوگ عمر میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت ان کا ہاتھ تھام کر ان کے ہاتھ کی پشت کو اپنے ماتھے سے مَس کرتے ہیں ۔

    6- ٹریڈشنل عرب کلچر میں ملاقات کے وقت دوسرے کے ہاتھ یا گال پر بوسہ دینا مروج ہے۔

    7- موزمبیق میں مقامی قبائلی ملاقات کے وقت تین مرتبہ تالی بجا کر گرمجوشی کا ثبوت دیتے ہیں۔

    8- ہندوستان میں لوگ عمر یا مرتبے میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت چرن سپرش کرتے ہیں یعنی ان کے پیر چھوتے ہیں۔

    9- جاپان میں ملاقات کا دستور یہ ہے کہ دونوں افراد ایک دوسرے کے سامنے جھک کر احترام پیش کرتے ہیں۔

    10- ملائشیا میں لوگ ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کے بعد ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر الفت کا اظہار کرتے ہیں ۔۔۔ یہ رسم کچھ حد تک ہندوستان میں بھی مروج ہے مسلمانوں میں ۔