Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • شکرانِ نعمت، شکرانِ رحمت اور کفرانِ زحمت!!! — علی منور

    شکرانِ نعمت، شکرانِ رحمت اور کفرانِ زحمت!!! — علی منور

    وہ عورت میرے سامنے بیٹھی تھی۔ شام کا وقت تھا اور میں اس عورت کے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا۔

    زرد مدہم بلب کی روشنی میں اس کے چہرے پر قبل از وقت نمایاں ہو جانے والی جھریاں مزید نمایاں ہوتی جا رہی تھیں۔ نحیف بدن کے ساتھ اس کا ہاتھ تیزی سے سلائی مشین کے ویل کا ہینڈل گھما رہا تھا اور اس عورت کے چھوٹے چھوٹے پانچ بچے صحن میں شرارتیں کرتے پھر رہے تھے۔

    لوگوں کے کپڑے سلائی کرتے کرتے اس عورت کے ہاتھوں کی انگلیوں پر قینچی پکرنے سے چنڈیاں بن چکی تھیں جو اس کے کمزور ہاتھوں پر مزید نمایا ں ہو رہی تھیں۔

    ایک سوٹ کی کتنی سلائی ہے؟ میں نے پوچھا

    60 روپے، اس عورت نے بتایا اور اس کی آنکھوں میں چمک در آئی۔

    میں نے فوراً سے کہا کہ ٹھیک ہے، اگر آج سوٹ دوں تو کب تک مل جائے گا؟

    کل شام تک مل جائے گا، اس عورت نے آس بھری آواز میں کہا۔ گویا 60 روپے کی حقیر رقم اس کا کوئی خواب پورا کرنے والی تھی۔

    میرے ذہن میں لالچ در آیا کہ صرف ایک دن میں سوٹ تیار کرنا اور وہ بھی صرف 60 روپے میں جبکہ پچھلے مہینے میں نے اپنی بیگم کے 2 سوٹ 600 روپے سلائی دے کر سلوائے تھے اور پندرہ دن کے وعدے پر بھی وہ سوٹ مجھے شاید پچیسویں دن ملے تھے۔

    اس عورت کے ہاتھ میں صفائی تو بہت تھی، دل ٹہر سا گیا تھا کہ کام یہیں سے کروانا ہے۔

    بہرحال میں نے ذہن میں سوچا کہ اتنے کم وقت اور اس سے بھی کم دام میں یہ موقع دوبارہ نہیں ملنے والا۔

    وہ عورت ذرا ذرا دیر بعد مشین سے سر اٹھا کر بچوں کو ایک نظر دیکھتی، درمیان میں ایک دفعہ اٹھ کر مٹی کے ہاتھ سے بنے ہوئے لکڑیوں والے چولہے پر رکھی ہانڈی میں چمچ ہلایا اور سلگتی لکڑیوں میں سے ایک کو باہر نکال کر پانی سے بجھایا۔ گرم لکڑی پر پانی ڈالنے سے ایک دم شرر شرر کی آواز آئی، میں نے سر اٹھا کر اس طرف دیکھا تو دھوئیں کا ایک مرغولہ تھا جو شور مچاتا اس عورت کے کے بالوں میں سے ہوتا ہوا ہوا میں غائب ہو رہا تھا۔

    دھوئیں کی وجہ سے کھانستے کھانستے، ڈوپٹے کے پلو سے چہرہ صاف کر کے وہ عورت دوبارہ زمین پر مشین کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔
    میں نے شاپر سے دو سوٹ نکال کر اس عورت کے سامنے رکھے اور ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا جس پر ایک ماڈل نے خوبصورت موتیوں کی بُنائی والے گلے کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ تصویر اس عورت کو دکھاتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ گلے کا ڈئیزائن اس آف وائٹ سوٹ پر بنانا ہے اور اس دوسرے فیروزی سوٹ میں شلوار کے پائنچوں پر ڈئیزائن بنانا ہے۔ اس عورت نے گلے کے ڈئیزائن کو دیکھا پھر پائنچوں کے ڈئیزائن کو دیکھا اور کہا کہ 60 روپے سادہ سوٹ کی سلائی ہے، گلے اور پائنچوں کے ڈئیزائن کے پیسے الگ لگیں گے۔

    میں نے کاروباری چال چلتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے، ابھی تو آپ 60 روپے میں ہی ڈئیزائن کے ساتھ سوٹ بنائیں نا، کام اچھا ہوا تو آگے بھی کپڑے آپ کے پاس ہی آئیں گے پھر کمی بیشی کر لیں گے۔ اس عورت کے چہرے پر انکار واضح تھا مگر اس نے ایک دفعہ پھر بچوں کو دیکھا اور انکار بھرے تاثرات کے ساتھ کہا کہ ٹھیک ہے آپ پرسوں سوٹ لے لیجیے گا۔

    میں نے اپنی پہلی چال کامیاب ہوتے دیکھ کر کہا کہ ابھی تو آپ نے کہا تھا کہ کل شام تک آج سوٹ تیار کر سکتی ہیں۔

    وہ سادہ سوٹ کی بات تھی، یہ تو دو سوٹ ہیں اور ان میں کام بھی زیادہ ہے۔ اس عورت نے بے بسی سے کہا، گویا اسے مجبوری درپیش نہ ہوتی تو وہ اتنے پیسوں میں کام کو ہاتھ بھی نہ لگاتی۔

    یہ عورت میری ایک پہچان والی خاتون کی دیورانی تھی، سو مجھے میری پہچان والی خاتون نے اس عورت کے تمام مسائل سے آگاہ کیا تھا۔ لہذا میں جانتا تھا کہ اس وقت عورت کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور وہ یہ کام ایک دن میں کر لے گی۔

    میں نے کہا کہ دیکھ لیں پھر، کام آپ کو ریگولر ملتا رہے گا، آپ سوٹ سلائی کریں، میری بیگم کو پسند آئے تو آپ کو مہینے کے دو چار سوٹ تو آرام سے مل جایا کریں گے۔

    اگر میں مہینے میں چار سوٹ بھی سلائی کرواؤں تو یہ 240 روپے بنتے ہیں، میرا بیٹا اس سے زیادہ پیسے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک وقت میں کھانے پر لگا دیتا ہے، جبکہ میرے ایک دن کے سگریٹ اور دوپہر کے کھانے کا خرچ بھی تقریباً اتنا ہی ہے، پھر یہ عورت 240 روپے کے لالچ میں اتنا کام کیوں کرے گی؟؟ ذہن میں آتی ایسی سوچوں کو میں نے اگلے ہی پل جھٹک دیا تھا۔ اس عورت کی مجبوری میں مجھے اپنا فائدہ نظر آیا تو میں نے اس عورت کو دوبارہ مخاطب کیا کہ میں کل شام 7 بجے تک کسی کو پیسے دے کر بھجواؤں گا تو آپ اسے سوٹ دے دیجیے گا۔ اس عورت نے اثبات میں سر ہلا دیا تو میں وہاں سے چلا آیا۔

    اگلے روز اپنی بیگم کو ساتھ لے کر میں سوٹ لینے گیا تو میرے جانے تک خدشوں کے برعکس سوٹ بالکل تیار پڑے ہوئے تھے، بیگم نے سوٹ دیکھے تو اسے بھی بے حد پسند آئے، نفاست سے ہوئی سلائی کو دیکھ کر میرا بھی جی خوش ہو گیا، میں اور بیگم تعریف کرتے کرتے رک گئے کہ مبادا وہ عورت اگلے سوٹ پر سلائی زیادہ نہ کر دے۔

    وہ عورت اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر کچھ بنانا چاہتی تھی، جب اس خواہش کا اظہار اس نے ہمارے سامنے کیا تو میری اپنے جی میں ہنسی چھوٹ گئی۔

    کیسی بیوقوف عورت تھی کہ گھر میں کھانے کو روٹی نہیں، دیواروں سے یاسیت ٹپک رہی ہے، جس کام کے لیے کوئی بھی 1000 روپے دے دے اور مہینہ بھر انتظار کرے، وہ کام اس عورت نے ایک دن اور 60 روپے میں کر دیا تھا اور بچوں کو پڑھانا چاہتی تھی۔

    اس نے اپنے بیٹے کو آواز دی کہ انکل کو پانی پلاؤ، میں نے مٹی میں کھیلتے بچوں کو دیکھا اور فوراً کہہ دیا کہ کسی صاف بچے کے ہاتھ سے منگوائیں۔

    اس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا اور اس کا بیٹا ہاتھ دھو کر پانی لے آیا۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی پانی پیا اور بیگم کو اشارہ کیا کہ کہ اٹھو چلیں۔

    بیگم سے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ رک جائیں۔

    بیگم سے باتوں کے درمیان پتا چلا کہ عورت کو کھانے پکانے کا بھی شوق تھا مگر شوق پورا کرنے لیے وسائل دستیاب نہیں تھے۔ میں اپنی بیگم کی صلاحیتیوں کا اس دن قائل ہو گیا جب بیگم نے اس عورت سے اگلے ایک دن میں 2 مزید سوٹ 120 روپے میں سلائی کروائے ، جبکہ بچے ہوئے کپڑے سے میری بھانجیوں کی 2 فراکیں بھی سل گئیں۔ بیگم نے کھانے کی ایگزیبیشنز سے لائے ہوئے مفت پرموشنل کھانے کی تراکیب والے دو رسالے اس عورت کو سلائی کے پیسوں کے بدلے تھما دئیے ۔ اس عورت نے فوراً اپنی بیٹیوں کو کہا کہ ان میں سے دیکھو کون سی ترکیب ٹھیک لگ رہی ہے، اب جب پیسے آئیں گے تو میں اپنے بچوں کو چیزیں منگوا کر وہ ڈش بنا کر کھلاؤں گی۔

    بچوں نے خوشی سے اچھلتے ہوئے آپس میں بیٹھ کر ترکیبیں ڈسکس کرنا شروع کر دیں اور اچھے کھانے کے خواب بننے لگے۔

    اس عورت نے دوبارہ سر جھکا کر کام کرنا شروع کر دیا۔

    صرف 60 روپے، اپنے 60 روپوں کے لیے باہر اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا اور وہ عورت تیزی سے مشین پر ہاتھ چلا رہی تھی تاکہ ان ترکیبوں کے لیے چیزیں خرید سکے جو اس کے بچوں نے پسند کرنی تھی، میں جانتا تھا کہ ایسے گھروں میں ترکیبیں صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہتی ہیں۔

    آج میری بیٹی نے جب پیزے کا من پسند فلیور نہ ملنے پر پورا پیزا دیوار میں دے مارا تو مجھے وہ عورت اور اس کے بچے یاد آ گئے۔

    اس زدر بلب کی روشنی میرے اردگرد پھیلنے لگی اور اس عورت کے جھریوں بھرے کمزور چہرے میں چھپا وہ کرب میرا گلہ دبانے لگا جو میں نے 60 روپوں کے لیے اس کے چہرے پر دیکھا تھا۔ سانس اندر کھنچتے ہوئے مجھے اس عورت کی بجھتی ہوئی سلگتی لکڑی کا دھواں اپنے سینے میں بھرتا محسوس ہوا اور میں زمین پر گرتا چلا گیا۔

  • بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ہمارے ارگرد ٹیکنالوجی کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی کا استعمال روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں ہے۔ نئے سے نئے معاشرتی حل ٹیکنالوجی کی بدولت سامنے آ رہے ہیں۔ مسائل کے حل پر نیے نئے سٹارٹ اپ یعنی نوزائیدہ کمپنیاں بن رہی ہیں۔ حال ہی میں مجھے ہالینڈ جانے کا اتفاق ہوا جہاں میرے ایک دوست نے ایک کمپنی کھولی ہے۔ کمپنی کا آئیڈیا کیا تھا؟ کھانے پینے کی اشیاء پر بہتر اور تیز تر مارکنگ کرنا۔

    یعنی مارکیٹ میں بیچی جانے والی اشیاء جیسے کہ پانی کی بوتلیں، کین یا دودھ کی پیکنگ پر اُسکی معیاد اور دیگر تفصیلات لیزر کے ذریعے لکھنا۔ اب یہ کام مختلف بڑی بڑی کمپنیاں پہلے سے رائج ٹیکنالوجی کے ذریعے کرتی ہیں مگر اس میں اشیاء کی پیکنگ پر تفصیلات پرنٹ کی جاتی ہے۔ سو اس میں تین مسائل ہیں۔ اول اس میں سیاہی کا استعمال ہوتا ہے، دوسرا پرنٹنگ کا عمل تیز نہیں اور تیسرا سیاہی کے مٹ جانے یا خراب ہونے کی صورت مارکیٹ میں کسی چیز کو قانوناً بیچا نہیں جا سکتا ۔اس مسئلے کا حل اُنہوں نے کیا ڈھونڈا ؟

    جینوا سوئٹزرلینڈ میں سرن کے اندر ہونے والی ایک تحقیق سے ایک ٹیکنالوجی دریافت ہوئی۔ جس میں لیزر کے ذریعے مختلف شکل (گول، تکونی، چکور) اشیاء کو مختلف میٹریل (پلاسٹک، ٹن وغیرہ) سے بنتی ہیں، پر مارکنگ کرنا بے ءد آسان ہو گیا۔ یعنی لیزر کے ذریعے بے حد صاف اور سیاہی کے استعمال کے بغیر کسی طرح کی سطح پر لفظ یا جملے کندہ کیے جا سکتے تھے۔ یہ بے حد صاف اور تیز عمل تھا۔ اس سے چند سیکنڈ میں ہزاروں لفظ بذریعہ لیزر کندہ کیے جا سکتے تھے۔

    اب جب ایک مسئلے کا حل نکل آئے جو پہلے سے موجود حل سے بہتر ہو تو اسکی بنیاد پر ایک سٹارٹ اپ یا کمپنی بنائی جا سکتی ہے۔ جب کوئی ایسا نیا حل مل جائے جس سے ایک وسیع پیمانے پر انڈسٹریوں کو یا معاشرے کو فائدہ ہو سکتا ہو تو باہر کے ممالک میں لوگ حکومت سے تحقیق یا اپنی کمپنی کے قیام کے لیے معاونت طلب کرتے ہیں۔ ان ممالک کی حکومتیں ان سٹارٹ اپ کی مدد کرنے کے لئے مختلف پروگرامز شروع کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ بزنس اور پرائیوٹ سیکٹر سے لوگ ان نئی کمپنیوں میں پیسہ انوسٹ کرتے ہیں۔ یوں سائنس میں ہوئی پیشرفت اور تحقیق پر مبنی ٹیکنالوجی نئی نئی کمپنیوں کی بنیاد بنتی ہے۔ آج دنیا میں بہت سی کمپنیاں اسکی مثال ہیں۔

    جیسے کہ گوگل، مائکروسافٹ ، فیسبک۔وغیرہ انہی طریقوں اور انہی عوامل سے گزر کر اتنی بڑی بڑی کمپنیاں بن پائیں جن سے لاکھوں لوگوں کا روزگار جڑا ہے۔گویا ٹیکنالوجی، دماغ اور بہتر مالی وسائل کے ذریعے کسی بھی معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان میں اس وقت 64 فیصد سے زائد آبادی 30 سال کی عمر سے کم ہے۔ یہ پاکستانی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اتنے کم عمر نوجوان اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہیں اور یہ تعداد 2050 تک متواتر بڑھے گی۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 40 لاکھ نوجوان ورک فورس میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی وہ کمانے کی عمر میں آتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 9 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں مگر معیشت کا پہیہ چلانے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اس وقت ملک کو ہر سال کم سے کم مزید 13 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مواقع کیسے پیدا ہونگے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ جیسا کہ اوپر کی مثال دی۔ یونیورسٹیوں کو معاشرے کے مسائل کے مطابق سائنس میں تحقیق کر کے، یونیورسٹی کے گریجویٹس کو نئی سے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل کے حل تلاش کر کے کمپنیاں بنانے سے، حکومت کا اس سلسلے میں ان نوزائیدہ کمپنیوں کو بہتر سے بہتر تربیت اور ٹیکس میں چھوٹ دیکر۔

    پرائیویٹ اور کاروباری شخصیات کو ان کمپنیوں میں پیسہ لگا کر۔۔ حکومتی سطح پر اس حوالے سے بہتر پالیساں بنا کر۔ یونیورسٹیوں میں ایسے کلچر کو فروغ دیکر۔ سائنس کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنا کر۔ تعلیمی نصاب میں بہتری لا کر۔ جدید علوم سے واقفیت دلا کر۔ معاشرے اور دنیا کے مسائل کا ادراک حاصل کر کے۔ بہتر کاروباری مواقع پیدا کر کے، بہتر سیکھنے کا ماحول پیدا کر کے۔۔تعمیری سوچ اپنا کر۔ ایک سمت کا تعین کر کے۔

    اگر جلد پالیسی سازوں نے یہ فیصلے نہ کیے تو آبادی کا ٹائم بم تو ویسے ہی پھٹنے کو ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہی نوجوان زومبی بن کر اشرافیہ کی موٹی اور سریے سے بھری گردنوں کا پھندہ بن جائیں۔اور پچھلی بے کار ، موٹی توندوں، خالی عقل والی نسل کا قرض چکاتے چکاتے نئی نسلیں بھی تباہ ہو جائیں۔

  • پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا پلاسٹک سے ہیرے بن سکتے ہیں؟ وہ بھی اصلی ہیرے۔ اُس پلاسٹک سے جو عام پانی یا کولڈ ڈرنک کی بوتلوں میں استعمال ہوتا ہے، جسکا ایک مشکل سا نام ہے مگر اسکا مخفف آسان ہے پی ای ٹی یعنی PET ، مگر ہیرے کیسے ؟

    اسے سمجھنے کے لیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک دراصل ہوتا کیا ہے ۔ پلاسٹک عمومی طور پر تین عناصر کے ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔۔کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن ۔ ان ایٹموں سے بنے پیچیدہ اور لمبے لمبے مالیکول ایک خاص ترتیب میں پلاسٹک میں زنجیروں کی طرح ایک دوسرے سے آپس میں جکڑے ہوتے ہیں (محض سمجھانے کے لیے)۔ مختلف طرح کے مالیکول اور مختلف قسم کی ترتیب کے کمبینیشن بنائیں ان میں کچھ اور عناصر ڈالیں اور طرح طرح کی خاصیت کے پلاسٹک بنائیں۔ پلاسٹک کی تاریخ دلچسپ ہے مگر اس پر بات پھر کبھی۔

    اب آتے ہیں اس پر کہ ہیرے کیا ہوتے ہیں۔ ہیرے دراصل کاربن کی ہی شکل ہوتے ہیں جس میں کاربن کے ایٹم ایک خاص ترتیب میں آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ کاربن کے ایٹم مختلف طرح سے جڑیں تو انکی ظاہری اور کیمیائی خاصیتیں بدل جاتی ہیں۔ اب تک کاربن کے ایٹم 8 مختلف طرح کی ترتیبوں میں قدرت اور لیبارٹریوں میں جڑے ہوئے پائے گئے ہیں۔ ہر اس طرح کی ترتیب سے پیدا ہونے والی کاربن کی صورت کو ایلوٹروپ کہتے ہیں۔ سو کاربن کا عنصر ہیرے یا ڈائمنڈ کی شکل میں، گرافائٹ کی طرح ، عام کوئلے جیسا(اس میں کاربن ایٹم بے ترتیب ہوتے ہیں)، نینو ٹیوب کیطرح وغیرہ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

    سو اب اگر ہم کاربن کے ایٹموں کو لیبارٹری میں ایسے ترتیب دیں جیسے قدرت میں یہ ہیرے کے اندر موجود ہوتے ہیں تو ہم نقلی ہیرے بنا سکتے ہیں۔ قدرت میں پائے جانے والے ہیرے دراصل زمین کے اندر موجود کاربن یا کوئلے پر صدیوں پڑنے والے شدید دباؤ اور درجہ حرارت سے بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسی طرح سے نقلی ہیرے بنائے جاتے ہیں۔ لیبارٹریوں میں ایک خاص عمل کے تحت کاربن کے ایٹموں کو بے حد درجہ حرارت (1400 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ) اور دباؤ (5 گیگا پاسکل یعنی زمین پر ہوا کے دباؤ سے تقریباً 49 ہزار گنا زیادہ) کے زیرِ اثر لا کر ہیروں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ گویا ہیرے بنانے کے لئے تین اہم چیزیں درکار ہیں۔ کاربن، حرارت اور دباؤ ۔

    اب پلاسٹک میں کاربن تو موجود ہے مگر آکسیجن اور ہائڈروجن سے جڑی ہوئی۔ تو اسے کیسے شدید درجہ حرارت اور شدید دباؤ کے زیر اثر لایا جائے؟ اسکا جواب ہے انتہائی طاقتور لیزر۔ حال ہی میں کیے گئے تجربات جب پلاسٹک کے ٹکڑے پر جرمنی کے روسٹک یونیورسٹی کے محققین نے طاقتور اور انتہائی کم دورانیے کی لیزر پلسس پھینکیں تو ہوا کچھ یوں کہ پلاسٹک کے اُن حصوں پر شدید حرارت اور دباؤ پڑا ۔ اس سے ان میں موجود مالیکیولز کے اندر کاربن آکسیجن اور ہائڈروجن ایٹموں سے الگ ہوئے اور پھر ننھے ننھے ہیروں میں تبدیل ہوتے گئے۔ یہ ہیرے سائز میں نینومیٹر میں تھے یعنی ہائڈروجن ایٹم کے قطر سے تقریباً 20 گنا بڑے۔

    اس تحقیق سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی کے سیارے نیپچون اور یورینس پر ہیروں کی بارش کیسے ہوتی ہے۔کیونکہ وہاں بھی ہائڈروجن، آکسیجن اور کاربن کے کئی طرح کے کیمیائی مرکبات اُنکی فضا میں موجود ہیں اور وہاں بھی سیاروں کے اندر شدید درجہ حرارت اور دباؤ کاربن کو ہیروں میں بدل سکتا ہے۔

    اوپر کے بیان کردہ تجربات سے بننے والے یہ ننھے منے ہیرے اس عمل سے کیسے نکالے جائیں یہ ابھی معلوم نہیں ۔ مگر نینو ڈائمنڈ کے جدید ٹیکنالوجی میں کئی مصرف ہیں جیسا کہ کوانٹم کمپیوٹر اور کوانٹم کمیونکیشن میں استعمال ہونے والے آلات کی تیاری میں یا نینو بیٹریوں میں۔

    فطرت کے اُصولوں کوجاننے اور سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ ہر جگہ خود جا کر یا دیدے پھاڑ کر دیکھیں۔ اگر آپ لیبارٹریوں میں بگ بینگ کے حالات پیدا کر سکتے ہیں یا سورج میں ہونے والے کروڑوں میل دور کے فیوژن کے عمل کو زمین پر پیدا کر سکتے ہیں تو آپ فطرت کو یہیں زمین پر بھی جان سکتے ہیں۔ ایک گیند دیوار پر مارنے پر جب واپس آتی ہے تو یہی اایکشن ری ایکشن کا اُصول کائنات کے کسی بھی کونے میں لاگو ہو گا۔ چاند پر بھی، سورج پر بھی، سیاروں پر بھی اور ہم سے لاکھوں نوری سال دور کسی ستارے پر بھی۔

    Reference:

    Z. He et al. Diamond formation kinetics in shock-compressed C-H-O samples recorded by small-angle X-ray scattering and X-ray diffraction. Science Advances. Published online September 2, 2022. doi: 10.1126/sciadv.abo0617.

  • پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایفل ٹاور کا نام لیں تو ذہن میں پیرس آتا ہے۔ جسکے ویسے تو کئی ریپلیکا دنیا بھر میں موجود ہیں مگر مجھے اصلی ٹاور کے علاوہ بحریہ ٹاؤن لاہور کا "ایفل ٹاور” دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

    اصلی ایفل ٹاور جو پیرس میں واقع ہے، انسانی آرٹ سے زیادہ انجنئیرنگ کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اتنا کہ لوگ اسے دیکھنے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ سے زائد افراد اس ٹاور کی "زیارت” کو آتے ہیں۔

    ایفل ٹاور کی تاریخ دلچسپ ہے۔ خوبصورت انجنیرنگ کے اس شاہکار کی اونچائی تقریبا 330 میٹر ہے۔ تقابل میں لاہور کا مینارِ پاکستان تقریباً 70 میٹر ہے۔ مگر ایفل ٹاور کو بنایا کیوں گیا؟

    دراصل اسے 1889 میں پیرس میں ہونے والے ورلڈ فیئر کے لیے تعمیر کیا گیا۔ یہ ورلڈ فئیر 1789 میں آیے انقلاب ِفرانس کےصد سالہ جشن کی خوشی میں تھا۔ ایفل ٹاور جو پیرس کے دل میں دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے، اسے 2 سال کی قلیل مدت میں 1887 سے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ اسکا نام ایفل ٹاور اس لیے ہے کہ اسے فرانس کے ایک سویل انجنئیر الیکسینڈر گستاو ایفل کی کمپنی کے انجینئرز اور آرکیٹکٹس نے بنایا۔ شروع شروع میں جب یہ بنایا گیا تو اسکی فرانس کے کئی مشہور آرٹس اور دانشوروں نے مخالفت کی مگر آج یہ فرانس کی پہچان ہے۔

    اس ٹاور کے تین فلورز ہیں جو سیاحوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان پر سیاحوں کے لیے ریستوران بھی موجود ہیں جہاں وہ لذیذ کھانے کھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پیرس کا نظارہ بھی۔ان فلورز پر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک لفٹ بھی، جنکا ٹکٹ ہوتا ہے۔ 600 قدم کی سیڑھیاں دوسرے فلور تک جاتی ہیں جبکہ لفٹ تیسرے فلور پر۔ سب سے اوپر کی فلور پر آپکو ٹاور سے مختلف ملکوں کے دارلحکومت کی سمت اور فاصلہ تحریر کی صورت لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاور کی تیسرے فلور تک جانے کا لفٹ کا ٹکٹ تقریباً 25 یورو یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ سیڑھیوں کے ذریعے دوسرے فلور تک جانے کا ٹکٹ تقریباً سوا چار ہزار روپے ہے۔

    ٹاور سے متصل ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح اکثر شام کو وقت بتانے آتے ہیں۔ ٹاور پر باقاعدہ لائیٹنگ کا انتظام ہے جس میں کل ملا کر 20 ہزار کے قریب برقی قمقمے اور بلب نصب ہیں۔ جو شام ہوتے ہی اس ٹاور کو روشنی سے سجا دیتا ہے اور دیکھنے والے اسکے حسن سے کھو سے جاتے ہیں۔

    اس ٹاور کو بنانے میں اُس دور میں تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ اسے زنگ سے بچانے کے لیے اس پر تقریباً ہر سات سال بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسکا رنگ تبدیل کیا گیا۔ شروع شروع میں جب یہ بنا تو اسکا رنگ سرخی مائل بادامی تھا جبکہ آج اسکا رنگ بادامی سا ہے۔ اسے رنگنے کے لئے 3 ٹن پینٹ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹاور کا کل وزن کل وزن 10 ہزار ٹن سے بھی زائد ہے۔

    بحریہ ٹاؤن لاہور کا ایفل ٹاور 80 میٹر اونچا پے۔اسے 2013 میں بنایا گیا۔ اسکا ٹکٹ شاید ہزار روپے سے کم ہے۔ پاکستان میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سٹارز کے لیے سٹوریز بنانے کے لیے اچھی جگہ ہے۔

  • ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے” کی سوچ نے پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔۔۔بھارتیوں کی اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کدھر ہے جو بڑے ناموں کے باوجود گھبراہٹ سے آدھا میچ پہلے ہی ہاری ہوتی تھی۔۔۔۔

    اگر آپ صرف 2012 سے 2020 تک پاک بھارت بڑے مقابلوں کی بات کریں تو 98 فیصد میچز میں آدھا مقابلہ وہیں ہارا محسوس ہوتا تھا جب پاکستانی کپتان ٹاس کے لیے آتے تھے۔۔ہم ہار نہ جائیں کا خوف نظر آتا تھا۔۔۔۔

    ٹیم منیجمنٹ اور کپتان کو ٹیم میں لڑنے کا جذبہ لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔۔ میچ کے نتیجے سے زیادہ یہ اہم ہوتا ہے کہ ٹیم لڑے۔۔۔ ثقلین مشتاق, بابر, ٹیم کے سنیئر کھلاڑی رضوان,شاداب میچ سے پہلے اور میچ کے دوران پریشر اچھا ہینڈل کرتے ہیں اور ٹیم کا مورال بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔۔۔

    ایشیا کپ کے پاک بھارت دونوں میچز میں اگر کپتانوں کی بات کریں تو روہت شرما کے مقابلے میں برابر اعظم نے جونیئر ہونے کے باوجود پریشر کو زیادہ بہتر ہینڈل کیا۔۔۔دوسرے میچ میں جب بھارتی بلے بازوں نے چڑھائی کی بابر پریشان نظر آئے لیکن خوف زدہ یا حواس باختہ نہیں ہوئے۔۔۔۔مس فیلڈنگ پر بھی مجموعی طور پر برداشت دیکھائی۔۔

    مشکل آنے پر پریشانی فطرتی ہے۔۔لیکن اس پریشانی کا سامنا کرنا اور نکلنا دلیری ہے۔۔۔بابر نے مڈل اوورز میں بالرز سے بخوبی کام لیا اور بالرز نے بھی کپتان کی بھرپور لاج رکھ کر بھارتی مڈل آرڈر کو چلتا کیا۔۔۔

    جب ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا مرکز زیادہ تر کپتان رہتا ہے اس لیے جیت پر کپتان کو درست فیصلوں کا کریڈٹ بھی کھل کر دینا چاہیے۔۔۔۔

    نواز کا بیٹنگ آرڈر پروموٹ کرنے پر بابر کی بہت تعریف ہوئی ہے۔۔۔بھارت کے خلاف گروپ میچ ہارنے کے باوجود پاکستانی سپوٹرز نے بابر اور ٹیم کو بیک کیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس محبت کا جواب میچ جیت کر دیا۔۔اب جب بابراعظم ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں وقتی خراب فارم سے دوچار ہیں پاکستانی سپوٹرز ان کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ہماری ڈیمانڈ اپنی ٹیم سے یہ ہی ہے کہ لڑو مقابلہ کرو نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔

  • 1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    "چونڈہ” پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ ہے، اس قصبے میں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سب سے ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی۔ اس جنگ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں ٹینک لڑائی میں استعمال ہوئے ہیں، یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔

    8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔

    اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔

    چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔

    چونڈہ کے محاذ پر جنرل ٹکا خان نے بھارتی فوج کے مقابلے میں اپنی عسکری قابلیت کے جوہر دکھائے اگر جنگی ساز و سامان کی بنیاد پر فاتح کا فیصلہ ہوتا تو یقیناً یہ جنگ بھارتی فوج با آسانی جیت جاتی، لیکن یہاں پر پاکستانی فوجیوں نے علامہ اقبال کے شعر کی عملی تفسیر پیش کر دی.

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اس محاذ پر جنرل ٹکا خان نے عسکری لحاظ سے وہ حکمت عملی اختیار کی جس کی کامیابی کا دارومدار ان کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور حوصلے پر تھا آپ نے کہا کہ دشمن کے ٹینکوں کو ناکارہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائیں ۔

    اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ جب دشمن کے ٹینک اس جوان کے اوپر سے گزرتے تو بم پھٹنے کی وجہ سے وہ وقتی طور پر ناکارہ ہو جاتے، ایک اچھے کمانڈر کی طرح اس مقصد کے لئے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے اپنی ذات کو پیش کیا۔

    لیکن جذبہ ایمانی سے سرشار آپ کے ماتحتوں نے آپ کو اس عمل سے روک دیا اور خود کو اس مقصد کے لئے پیش کر دیا چنانچہ آپ نے ان میں سے ضرورت کے مطابق جوان منتخب کر کے انہیں اس مشن کی ذمہ داری سونپ دی اور ان جوانوں نے اللہ کے نام پر وطن عزیز کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ۔

    بھارتی فوج جو اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ کثرت عسکری ساز و سامان اور ٹینکوں کی بنیاد پر وہ بآسانی چونڈہ کے محاذ پر فتح حاصل کر لے گی جنرل ٹکا خان کی اس عسکری حکمت عملی کے سامنے بےبس ہو گئی اس کے لاتعداد ٹینک محاذ جنگ پر ناکارہ یا تباہ ہو گئے اور وہ جنگ بندی تک فتح کے خواب ہی دیکھتے رہے۔

    بزدل دشمن نے پاکستانی فوج اور قوم کو سرپرائز دینے کے لئے رات کے اندھیرے میں اچانک اور بلااشتعال جو حملہ کیا اس کا جواب افواج پاکستان نے دن کی روشنی میں ہمت اور بہادری کے ساتھ دے کر دشمن کو دن میں تارے دیکھا دئیے اور ثابت کر دیا کہ جنگیں جذبوں سے لڑی جاتیں ہیں ۔

    1965 کی جنگ میں جہاں ہمیں عسکری طور پر فتح حاصل ہوئی وہیں دنیا کو بھارت کی عسکری طاقت کا بھی معلوم ہو گیا کہ بھارتی صرف گفتار کے غازی ہیں اور میدان جنگ میں یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور ان کی سرشت میں صرف اور صرف دھوکہ فریب ہے۔
    6 ستمبر کا دن ہم یوم دفاع پاکستان کے طور پر مناتے ہیں تا کہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ امن کا راگ الاپنے والا یہ بنیا دھوکے باز ہے اور موقع ملتے ہی یہ پیٹھ پر وار کرتا ہے اور اس کے قول و فعل میں تضاد ہے اس لئے ان کی لچھے دار باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ۔

    یوم دفاع پاکستان منانے کا مقصد ان لوگوں کے سوالات کا جواب دینا ہے جو پوچھتے ہیں کہ فوج نے ہمارے لئے کیا کیا ہے، یوم دفاع پاکستان منا کر ہم ان لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں کہ آج ہم اس لئے آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں کیونکہ بوقت ضرورت ہماری فوج نے قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا ۔

    6 ستمبر کے دن ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جب بھی وطن عزیز کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کے خلاف ہر حد تک جائیں گے، اور ہمارے درمیان چاہے جتنے بھی اختلافات ہوں لیکن وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ہم اپنے ذاتی اختلافات پس پشت ڈال کر یک جان ہو کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر دشمن پاش پاش ہو جائے گا ۔

    نوٹ:– اس مضمون کے لئے معلومات وکی پیڈیا سے حاصل کی گئیں ہیں ۔ پہلے چار پیراگراف وکی پیڈیا کے ہیں ۔

  • "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    مجھے بستر پر لیٹے ہوئے قریب دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ نا ختم ہونے والے خیالات میں گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئیوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔ 3 بج چکے ہیں، صبح آٹھ بجے کالج جانا ہے اور ابھی تک میں نہیں سویا یہ سوچتے ہوئے میں، اس کوشش میں لگ پڑتا ہوں کہ اب میرے اور نیند کے درمیان کچھ حائل نہ ہو۔ لیکن اسی لمحے میری نظروں کے سامنے ایک منظر آجاتاہے ۔

    "کچھ لوگ ڈوب رہے ہیں ۔ چیخ و پکار کی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ اور ڈوبنے والے مجھے واضح دیکھائی دے رہے ہیں ۔ اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ مجھے بھی کوئی پانی کی طرف زبردستی لے کر جانا چاہ رہا ہے ۔ اچانک میں خود کو پانی کے بالکل پاس پاتا ہوں ۔ ”
    یہ سب دیکھ کر میں بستر سے اٹھ بیٹھتا ہوں اور آوازیں لگانا شروع کر دیتا ہوں” مجھے بچاؤ "۔

    دادو! امی کو یہ کہتے ہوئے، مجھ پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکنا شروع کر دیتی ہیں کہ "سوئے ہوئے ڈر گیا ہے”۔ حالانکہ میں سویا ہی نہیں تھا ابھی۔ میرے بتانے پر وہ ماننے سے انکار کر دیتی ہیں کہ میں ابھی سویا ہی نہیں تھا ۔ ناجانے کب آنکھ لگی اور میں سو گیا ۔

    اگلے دن دوپہر کے وقت کھیلتے ہوئے مجھے کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ شاید مجھے کوئی دوست بلا رہا تھا ۔ دیکھنے گیا تو کوئی نظر نہ آیا مگر آوازیں اب بھی آرہی تھیں ۔ کل رات کا واقعہ اور دوپہر کی یہ واردات ۔۔۔۔ اب محلے میں زبان زدِ عام ہونے لگی۔

    معالج کے پاس لے کر جانے کا معاملہ آیا تو بیشتر بزرگوں کی طرف سے یہ کہتے ہوئے رکاوٹ کا سامنا ہوا کہ۔ ” نظر نہیں آرہا یہ بیمار نہیں ہے ، کوئی کلموہی! کسی بابے کے ذریعے کروا رہی ہے”۔

    ہم ایک بابا جی کے پاس گئے ۔ جنھوں نے سب سے پہلے کلمہ پڑھوایا جیسے ہم کوئی کافر ہوں، اور جیسے ہی میں نے کلمہ پڑھا ۔ بابا جی ایسے خوش ہوئے جیسے کسی غیر مسلم کو مسلم کر لیا ہو۔

    ماما پھلا اچھا خاصا نفسیاتی بندہ ہے، علم نفسیات کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے، ساری کہانی اطمینان سے سننے کے بعد بولا! "شیزوفرینیا”( یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ جس شرح مرد و خواتین میں برابر ہے۔ پندرہ برس کے بعد اس بیماری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ جب کے پندرہ سال کے کم عمر افراد میں شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے ۔ اس بیماری کی کئی علامات ہیں ۔ مثلاً کسی چیز کی غیر موجودگی میں اس کا نظر آنا، اکیلے میں آوازیں سنائی دینا وغیرہ) کے مریض تمہیں تو بس ایک معالج کی ضرورت ہے ۔ اور جن نکالنے والے بابوں کو پورے ہسپتال کی۔

    خیر کہانی کہیں بیچ میں ہی رہ گئی۔ قصہ مختصر کہ جن تو بابا جی بھی نہ نکال پائے ۔ کیونکہ جہالت جیسا جن نکلنے میں صدیاں لگتی ہیں ۔

  • رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    یونیورسٹی گیا تو مجھے رشوت کی اس نئی قسم کا پتا چلا، سکالرشپ ان بچوں کو ملتی ہے جن کے والدین فوت ہو گئے ہوں یا پھر جن کی آمدن بیس ہزار سے کم ہو۔ مگر یہ سکالرشپ لگوانے سے لیکر چیک پاس کروانے تک آپ کو مختلف آفسز میں رشوت دینا پڑتی ہے۔ اور وہ فخر سے لیتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک دوست کیساتھ پیش آیا۔

    اسی طرح زندگی میں پہلی بار ہسپتال انیس سال کی عمر میں گیا۔ وہاں یہ پتا چلا کہ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد نرس کو رشوت دینا رشوت دینا نہیں نرس کو سپورٹ کرنا کہلواتا ہے۔ اور یہ ضروری ہے ورنہ اس بات کا کسی کو علم نہیں کہ نرس کب کونسا سوئچ آف کرکے آپ کے مریض کی علالت لمبی کر دے۔ لیکن ہم نے نرس کو ایک پیسہ بھی نا دیا اور اسی شام کو واپس آگئے۔

    ڈاکٹرز نے رشوت لینے کا دوسرا طریقہ یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ یہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو جانور سے برا ٹریٹ کرتے ہیں مگر وہیں اگر یہ مریض ان کے نجی کلینک یا ہسپتال میں دو ہزار کی پرچی لیکر آئے تو یہ اس کو اپنا والد محترم بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔

    ایک جاننے والے جو کہ "ادارے” کے تھے وہ نہروں کو کشادہ کرنے اور پل بنانے وغیرہ جیسے امور کی انسپیکشن پہ مامور تھے وہ ٹھیکیدار سے انسپیکشن پاس کرنے کا ایک بریف کیس لیتے تھے اب چاہے نہر بیس فٹ گہری کی بجائے دس فٹ گہری کرکے آبادی سیلاب میں ڈوب جائے ان کو پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ ہر مہینے نئی فارچنر افورڈ کر سکتے تھے۔

    پولیس والوں کا اگر رشوت لینے کا ارادہ ہو تو وہ سب سے پہلے آپ سے کاغذات کا پوچھیں گے اگر وہ ہیں تو آپ سے وہ ہیلمٹ پہ چلان کا کہیں گے اگر وہ پہنا ہے تو ڈرائیونگ لائسنس کا پوچھیں گے اگر آپ کے پاس وہ بھی ہے تو یہ آپ پر ڈبل سواری کا چلان کرنے کی دھمکی دیں گے اور پھر سو روپے لیکر چھوڑ بھی دیں گے۔ میں نے پہلی بار سو روپے رشوت یہاں دی تھی۔

    بہت سے ممالک نے میڈیکل ٹیسٹ کی پابندی اس لئے لگائی ہے کہ یہاں کی بیماریاں جو کہ وہاں سے ختم کو چکی ہیں دوبارہ نا جا سکیں۔ مگر ہمارے جوان رشوت لیکر وہ ٹیسٹ بھی کلئیر کروا سکتے ہیں۔

    کبھی کبھی اس تعفن زدہ ماحول سے دم گھٹنے لگ جاتا ہے سو دو سو جیسی معمولی رقم جسے ہمارے بچے روزانہ جیب خرچ میں لیتے ہیں وہ بھی یہاں بطور رشوت سرعام دینا پڑتی ہے۔

  • صنعتی وبا اور چینی ٹیکس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    صنعتی وبا اور چینی ٹیکس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ کرونا کے بارے میں تو جانتے ہیں۔ یہ وہ وبا تھی جو انسانوں میں ایک وائرس کے ذریعے پھیلی مگر کیا آپ چینی کے بارے میں جانتے ہیں جو وہ وبا ہے جو صنعتی ترقی سے پھیلی۔

    چینی کی کہانی ہے تو پرانی یعنی تقریباً 25 سو سال پہلے، کی، جب بھارت میں اسے پہلی بار بنایا گیا مگر اسکا دنیا میں اس پیمانے پر استعمال جو آج ہو رہا ہے، تاریخ میں نہیں ملتا۔ چینی اور تمباکو دونوں کی کہانی قدرِ مشترک ہے۔

    ان دونوں کی فصل یعنی گنا اور تمباکو کی کاشت بڑے پیمانے پر لاطینی اور وسطی امریکہ میں ماضی میں افریقہ سے لائے گئے لاکھوں غلاموں سے کرائی جاتی۔ ان دونوں اشیا کو شروع میں صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا۔ دُنیا نے دونوں کے استعمال میں بے پناہ اضافہ سترویں صدی میں وسط میں دیکھا جب اِنہیں صنعتی بنیادوں ہر تیار کیا جانے لگا۔

    چینی ہے تو میٹھی مگر اسکی تاریخ بے حد کڑوی ہے۔

    برازیل اور کیریبین جزائر پر گنے کی فصل اُگانے کے لیے بڑی تعداد میں مزدوروں کی ضرورت رہتی۔ اسے پورا کرنے کے لئے 16 ویں صدی سے 19ویں صدی تک افریقہ سے امریکہ کے دونوں براعظموں تک سوا ایک کروڑ انسانوں کو، غلام بنا کر کشتیوں پر لایا گیا۔ یہ سمندری سفر اتنا کٹھن اور طویل ہوتا کہ اس میں 25 فیصد لوگ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتے۔ مانا جاتا ہے کہ اس پورے دور میں 10 سے 20 لاکھ لوگوں کی لاشیں سمندر میں پھینکی گئی ہونگی۔ اُس زمانے میں غلامی عام تھی۔ یورپ، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ یا ایشیا ان تمام جگہوں پر غلامی کوئی جرم نہیں تھا۔ جدید دنیا سے غلامی کی یہ سفاکانہ روایت باقاعدہ طور پر امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے 1863 میں ختم کروائی جب اُنہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ میں تمام غلاموں کو فوراً آزاد کر دیا جائے۔

    اگر چند صدیاں پیچھے جائیں تو چینی کھانوں میں شاز و نادر ہی استعمال ہوتی مگر آج یہ صورتحال ہے کہ دنیا کی کل استعمال ہونے والی غذائی کیلیوریز میں چینی سے حاصل کردہ کیلوریز کا تناسب 20 فیصد ہیں۔ قیمت کے اعتبار سے گنے کی فصل چاول اور گندم کے بعد دنیا کی تیسری بڑی فصل پے۔

    چینی کی بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کے باعث سترویں صدی سے اسکا استعمال وبا کی طرح پھیلا۔ اور آج میں سالانہ 180 ملین ٹن سے بھی زائد چینی پیدا ہوتی ہے جس میں پاکستان کا حصہ تقریباً 7 ملین ٹن ہے۔

    امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق چینی سے منسلک بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند زندگی کے لیے اس کا استعمال کم سے کم ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے اّنکی سفارش کردہ حد کے مطابق: ایک دن میں مرد حضرات کو زیادہ سے زیادہ 36 گرام (9 چینی کے چمچ) جبکہ خواتین کو 24 گرام (6 چینی کے چمچ) چینی استعمال کرنی چاہئیے۔ مگر اس سے جتنی کم استعمال کی جائے، اُتنی ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔ 2019 کے اعداو شمار کے مطابق پاکستان میں فی کس سالانہ 21.5 کلو چینی "رگڑتا” ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ ہر روز ایک پاکستانی تقریباً 58 گرام (15 چینی کے چنچ) استعمال کرتا ہے۔ گویا یہ صحتمندانہ حد سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے!!

    انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک شخص ذیابیطس کا شکار ہے جسکی بڑی وجوہات میں سے ایک چینی کا زائد استعمال بھی بتایا جاتا ہے۔ خطرناک صورتحال یہ ہے کہ ملک میں آبادی اور تیار کھانوں کی مصنوعات میں اضافےکے باعث چینی کی کھپت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2023 میں یہ کھپت 2021 -2022 کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد بڑھ جائے گی۔

    پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اٹرات سے گزر رہا ہے اور آنے والے سالوں میں زیرِ کاشت رقبے میں کمی اور ہانی کی قلت کے باعث یہاں خوراک کی غیر یقینی صورتحال متوقع ہے۔ اس وقت کاشت ہونے والے گنے کی فصل کا ایک بڑا حصہ چینی کی پیداوار میں استعمال ہو رہا ہے۔ ملک کے کل زیر کاشت رقبے میں 1 ملین ہیکٹرز گنے کی کاشت کے لیے وقف ہے۔جبکہ گنے کی فصل آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا تقریباً 10 فیصد حصہ استعمال کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دیگر فصلیں خاص کر کپاس کی پیداوار کم ہو رہی ہے جسکے باعث کسان زیادہ ہانی استعمال کرنے والی گنے کی فصل لگانے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں فی ایکڑ گنے کی پیداوار بھارت سے بھی کم ہے۔ یہاں ہر ایک ہیکٹر پر اوسط 46 ٹن گنا اُگتا ہے جو دنیا کی اوسط یعنی 60 ٹن فی ہیکٹر سے کافی کم ہے۔ ( ایک ہیکٹر میں 2.41 ایکڑ ہوتے ہیں)۔ گویا ہم کر طرف سے مار کھا رہے ہیں۔

    شوگر مافیہ، زراعت میں کسان دوست پالیسیوں کے فقدان، مہنگی کیڑے مار ادوایات، کھاد کی خراب کوالٹی، ناکافی تربیت اور دیگر ایسے کئی مسائل ہیں جو اس فصل کی پیداوار اور اس سے جڑے معاشی اور معاشرتی نقصانات کو جنم دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ عوام میں چینی کی کھپت کے غیر صحتمندانہ اور غیر ذمہ دارنہ استعمال سے صورتحال آنے والے دنوں میں مزید ابتر دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں اربابِ اختیار کو سوچنا ہو گا کہ عوام کی صحت، ماحولیاتی تبدیلیوں اور آئندہ آنے والے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

    باہر کے ممالک میں چینی کے غیر ذمہ دارنہ استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے شوگر ٹیکس کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے 2016 میں برطانیہ میں ایک بل کے ذریعے شوگر ڈرنکس پر ٹیکس عائد کیا گیا۔ اب تک 50 سے زائد ممالک شوگر ٹیکس کسی نہ کسی صورت عائد کر چکے ہیں۔ جس سے یہ دیکھا گیا ہے کہ عوام میں چینی کے استعمال میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان میں حالیہ بجٹ میں حکومت نے۔ چینی پر 10 فیصد ٹیکس "سپر ٹیکس” کے نام سے عائد کیا ہے۔ کیا اس سے ملک میں چینی کی کھپت میں کمی آئے گی؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ آپ فی الحال کم چینی والی چائے پیجئے۔

  • دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا کونسا ہے؟

    انٹارکٹیکا !!

    مگر کیوں؟ انٹارکٹیکا میں تو برف ہی برف ہے۔ اور صحراؤں میں تو پانی نہیں ہوتا. یے ناں!! اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ صحرا دراصل کہتے کسے ہیں۔ صحرا زمین کا ایسا حصہ ہوتا ہے جہاں سارا سال بہت کم بارش ہو اور جہاں جانور، پرندے یا درخت وغیرہ باقی زمینی علاقوں کی نسبت بے حد کم ہوں۔ جہاں دراصل زندہ رہنا محال ہو۔

    انٹارکٹیکا زمین کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ یہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سے بھی کم رہتا ہے۔

    لہذا ایسے سرد موسم میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ انٹارکٹیکا چونکہ زمین کے جنوبی قطب پر واقع ہے تو یہاں دو ہی موسم ہوتے ہیں۔۔طویل سردیاں اور طویل گرمیاں۔ ایسے میں گرمیوں میں جب اسکے قریب ساحلی پٹی پر درجہ حرارت صفر سے اوپر جاتا ہے تو کبھی کبھی بارش ہو جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہاں برف باری بھی یہاں سال بھر میں بےحد کم ہوتی ہے۔ اور رہی بات جانورں کی تو اسکے اردگرد سمندروں میں کچھ ہی جانور رہتے ہیں جن میں پینگوئین، سیل، وہیل مچھلیاں یا کچھ آبی پرندے شامل ہیں۔ پینگوئین انٹارکٹیکا پر یہاں کے قریب ساحلوں پر جمی برف پر کالونیوں کی صورت رہتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ انٹارکٹیکا پر کام کرنے والے سائنسدان انہیں گن نہیں سکتے لہذا وہ خلا میں سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے انکے کالونیوں اور تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سفید انٹارکٹیکا پر خلا سے انکی کالونیوں کو ڈھونڈنا آسان ہے۔ وجہ؟ ان کے پاخانے کا رنگ جو سرخی مائل بادامی ہوتا ہے۔ سفید برف پر خلا سے دیکھنے پر اس رنگ کی لکیریں نظر آتی ہیں جن سے انکی کالونیاں با آسانی ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔

    اور رہی بات پودوں کی تو اتنے ٹھنڈے علاقے میں جہاں ہر طرف برف ہی برف ہو کونسا درخت یا ہودا اُگ سکتا ہے؟ البتہ کہیں کہیں پانیوں کے پاس ایلجی یا کائی موجود ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی علاقے میں قریب بارہ قسم کے پھولدار پودے بھی پائے جاتے ہیں۔اتنی ٹھنڈ میں اور دنیا کے ایک الگ تھلگ سے کونے میں یہ پودے کہاں سے آئے؟ اسکی کہانی کچھ طویل ہے۔ مگر مختصر یہ کہ آج سے قریب 20 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا ، افریقہ، انڈیا ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ یہ سب ایک بڑے سے بر اعظم کا حصہ تھے جسے گونڈوانہ کہتے ہیں۔ زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس جن پر تمام بر اعظم تیر رہے ہیں ، ان پلیٹس کی آہستہ آہستہ حرکت سے یہ بر اعظم ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے اور ان پر موجود پودے بھی انہی کے ساتھ جاتے رہے۔ انٹارکٹیکا، گونڈوانہ سے آہستہ اہستہ جدا ہوتے، کھسکتے ہوئے آج سے تقریباً 7 کروڑ سال پہلے زمین کے شمالی قطب تک آ پہنچا۔

    یہاں سخت موسموں کے باعث بہت سے جاندار وقت کیساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے مگر چند ہی پودوں نے ارتقاء سے گزرتے زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟

    کیونکہ ہمیں انٹارکٹیکا پر اور دنیا کی دوسرے بر اعظموں پر پرانے دور کے ایک جیسے جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو اس کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین کی ٹیکٹانک پلیٹس کی ہونے والی حرکت کی رفتار اور سمت کو جان کر سائنسدان کمپوٹر ماڈلز کے تحت یہ بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تمام برِ اعظم کیسے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔ ویسے تمام برا اعظم اب بی آہستہ اہستہ اہنی موجود جگہیں بدل رہے ہیں اور آج سے 25 کروڑ سال بعد یہ تمام برا اعظم ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔

    انٹارکٹیکا سائنسدانوں کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہاں سارا سال، دنیا بھر کے سائنسدان مشکل حالات اور سخت سردی میں رہتے ہوئے سائنسی تجربات اور دریافتیں کرتے رہتے ہیں۔ ناسا بھی انٹارکٹیکا کے موسم اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو خلا سے مانیٹر کرتا رہتا ہے ۔۔جسکا مقصد دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جاننا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں برف اگر تیزی سے پگلنا شروع ہو جائے تو پوری دنیا کے سمندروں میں پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہو جائے گی جس سے دنیا کے تمام ساءلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ناسا یہاں خلا میں انسانوں کی خوراک کی ضروریات کے حوالے سے بھی تجربات کرتا ہے۔ دراصل خلا میں بھی سورج کی روشنی خلابازوں کے جسم پر نہیں پڑتی اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے وٹامن بنتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انٹارکٹیکا پر رہنے والے سائنسدان جو طویل عرصہ سورج کی روشنی حاصل نہیں کر پاتے ، اُن پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کو جانا جاتا ہے۔

    مگر سب سے اہم یہ کہ ناسا یہاں کئی ایسے روبوٹس کو بھی ٹیسٹ کرتا ہے جو مریخ پر بھیجے جانے ہوں۔ وجہ یہ کہ انٹارکٹیکا اور مریخ دونوں سرد ہیں اور دونوں صحرا کی طرح خشک ہیں۔

    ایک اور اہم بات، زمین پر گرنے والے شہابیوں کے ٹکڑے انٹارکٹیکا میں بھی گرتے ہیں اور یہاں سائنسدان انکو سفید برف میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہاں کے موسم کے باعث قدرے اچھی حالت میں محوفظ رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ان شہابیوں کا تجزیہ کر کے نظام شمسی اور زمین کے ماضی کے بارے میں بی بہتر جان سکتے ہیں۔