Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    سوشل میڈیا کمال کی جگہ ہے یہاں منٹوں میں کوئی ہیرو بن جاتا ہے تو منٹوں میں ولن، ایسے میں جذباتی تبصرے کافی مزے کے ملتے ہیں۔

    ایک بھائی صاحب کہتے ہیں رضوان اگر کھڑا رہتا تو پاکستان میچ ہار جاتا، مگر میں کہتا ہوں اگر رضوان بیٹھ جاتا تو بھی پاکستان ہار جاتا کیونکہ اسکے اکہتر رن صدقے میں نہیں گئے ٹیم کے سکور کارڈ میں گئے ہیں۔

    ایک بھائی بولے سب ٹھیک ہے مگر انگریزی اچھی نہیں تھی، اس پر دل سے صدا آئی کہ پانٹ کے IELTS کے 8 بینڈ اگر کرکٹ میں کام آنا ہوتے تو وہ شاداب کی اردو میں گرامر کی غلطیاں نکال کر چھکا بن جاتے۔ کھلاڑی یہاں اے بی سی سنانے نہیں آئے کھیلنے آئے ہیں انگلش سننی ہے تو فاکس نیوز لگا لیں۔

    ایک اور بھائی نے پچھلے میچ میں مشورہ دیا تھا کہ حارث رؤف جیسا بیکار کھلاڑی ٹیم میں رکھنا فضول ہے۔ اب آج ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر حارث رؤف کو حسن علی کی طرح شادیوں والا ورتاوا(ویٹر) رکھ لیتے تو انڈیا کے رنز کس پھپھی کے پتر نے روکنا تھے؟ تہاڈی؟

    اور تو اور فخر سے کیچ ڈراپ ہوا وہ پچھلی مس فیلڈنگ کی وجہ سے انڈرپریشر ہونے پہ ہوا، بیٹنگ میں خرابی کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے کہ بار بار کیمرہ ہائی لائٹ بہت انڈر پریشر کرتی ہے۔ مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ فخر کو ٹیم سے نکالنا چاہیے اچھا انکی مان لیں کیونکہ ان کے پاس بارش میں کینچوے پکڑنے کا عالمی ریکارڈ ہے سو مان لیں بھائی کی۔

    اور تو اور کچھ کہہ رہے ہیں کہ جیت تو گئے ہیں مگر کیا فائدہ آخری اوور میں آخری گیند تک میچ لیکر گئے تھے، اب مجھے معلوم نہیں کہ بھائی محلے میں گلی ڈنڈے میں کتنی سنچریاں بناتے تھے مگر سوری ٹو سے پائین اگے انڈیا دی ٹیم سی تہاڈی خالہ دا ٹنڈا منڈا نئیں سی۔

    نسیم شاہ پر تبصرہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ ابھی بچہ ہے اس لئے ٹیم میں نہیں رکھنا چاہیے، چلیں جی باقیوں کی مان رہے تو آپ کی بھی مان لیتے ہیں جب اس کے پوتے کی شادی ہو گی تب اس کو کھیلا لیں گے آپ فکر نا کریں۔ رہی بات نئے ٹیلنٹ کی تو اس کا کیا۔ آپکا مشورہ ہے کہ نئے کھلاڑی میچور ہونے چاہیں تو پھر آئندہ سے کھلاڑیوں کی کرکٹ کی بجائے بچوں کی تعداد دیکھ کر ٹیم بنا لیں گے۔

    اوپر سے یہ وسیم اکرم بھی ٹیم کی کپتی ساس ہے۔ بندہ اس سے پوچھے پائی تم کمنٹری مخالف ٹیم کی طرف سے کیوں کر رہے ہو؟ ساتھ والا کمنٹیٹر کہتا ہے کہ واؤ واٹ آ شاٹ بائی نواز، اب وسیم پائی اس پہ کہتے ہیں کہ اگر لیگ پہ کھیل لیتا تو چھکا تین میٹر لمبا ہو سکتا تھا۔ مجھے تو وسیم پائی بھی مخالفوں کا بندہ لگتا ہے اسکی کمنٹری سن کر بہت غصہ آتا ہے۔ بھائی کبھی ساس نا بننے کی بھی کوشش کر لیا کرو۔

    ٹیم تو جیت گئی مگر آج جو جلن دیکھنے کو ملی اسکا الگ مزہ آ رہا ہے۔ مزید جلن تب ہو گی جب اگلے میچ کا سکواڈ بھی سیم ہی ہوگا۔ ہم تو محض انٹرٹینمنٹ ہی لے سکتے ہیں ہمارے کہنے سے ٹیمز نہیں بدل سکتیں لیکن ہم سب کے فیورٹس الگ الگ ہو سکتے ہیں جیسے اوپر والوں کے ہیں جن پر مذاق کیا ہے۔

  • شارٹیج — ستونت کور

    شارٹیج — ستونت کور

    بیئر، رَم یا متوسط مقدار میں ‘واڈکا’ کو میں ذاتی طور پر نشے میں شمار نہیں کرتی۔۔۔ کیونکہ۔۔۔مینوں نئیں چڑھدی.

    پر خدا معاف کرے میرے ساتھ ‘نشے’ کا ایک سیریس کیس ہوتے ہوتے رہ گیا !!

    ہوا کچھ یوں کہ چند ماہ قبل ، معدے کے چند مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو دیگر چند میڈیسنز کے ساتھ ڈاکٹر کے E•••••c نام کا ایک پاؤڈر بھی تجویز کیا جو چھوٹے چھوٹے ساشے کی شکل میں تھا اور اسے پانی میں گھول کر پینا تھا 7 دن ۔۔ اور ڈبے میں تھے بھی سات عدد ساشے !!

    چنانچہ جب پہلا ساشے گھول کر پیا ، بھلے وہ بےذائقہ تھا ، تاہم اس کی ایک ہلکی سی مخصوص خوشبو تھی جو ذائقے کا سا تاثر دے رہی تھی ۔۔۔ پہلے گھونٹ پر ہی مجھے خوشگوار محسوس ہوئی وہ دوا اور میں نے اسے چائے یا کافی کی طرح آرام آرام سے پیا۔۔۔۔اور جب ختم ہوگیا گلاس تو دل ابھی تک بھرا نہیں تھا، جی میں آیا کہ ایک اور ساشے گھول کر پی لوں مگر یہ اوور ڈوز ہو جانی تھی چنانچہ خود کو اس حرکت سے باز رکھا مگر رہ رہ کر اس کی کمی محسوس ہوتی رہی ۔۔۔ اسی طرح 7 دن بیت گئے ۔۔۔ اور آٹھویں دن مجھے پھر سے اس کی طلب ستانے لگی تو پہلی مرتبہ مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا ،

    میں نے گوگل پر اسے سرچ کیا اور تفصیل سے اس دوا کے مندرجات کا مطالعہ کیا۔۔۔لیکن۔۔۔ نہ تو اس میں کوئی نشہ آور شے شامل تھی اور نہ ہی ممکنہ سائیڈ ایفکٹس کی لسٹ میں ایسی کوئی تنبیہ درج تھی۔

    مزید یہ معلوم ہوا کہ اس دوا کا مقصد معدے میں ، مفید بیکٹیریا کی استعداد کار کو بہتر بنانا تھا ۔۔۔

    خیر چند روز شش و پنج میں رہنے کے بعد میں ایک اور ڈبہ خرید لائی اور اب کی بار 2 ، 2 دن کے وقفے سے ایک ایک ساشے پیتی رہی ۔۔۔ چنانچہ کئی دن کام چل گیا !!
    لیکن جب دوسرا ڈبہ بھی ختم ہوگیا مگر اس کی طلب ختم نہ ہوئی ۔۔۔۔ تو اب واضح طور پر میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں !

    میں نے اپنے ڈاکٹر تایا زاد سے رابطہ کیا اور بغیر سیاق و سباق سے آگاہ کیے اس سے استفسار کیا کہ کیا فلاں میڈیسن کسی بھی حالت میں ایڈکشن کا باعث بن سکتی ہے ۔۔۔ ؟؟ اس کا جواب بھی یہی تھا کہ ” بالکل بےضرر دوا ہے ایسا کچھ نہیں”.

    میرے ذہن میں یہ خیال یہ بھی لہرایا تھا کہ کہیں میڈیسن ایکسپائرڈ تو نہیں ۔۔۔ مگر دوسری دفعہ خریدنے پر میں نے ایکسپائری ڈیٹ بھی چیک کر چھوٹی تھی جسے ختم ہونے میں ڈیڑھ سال باقی تھے ۔

    تو خیر ۔۔۔ پندرہ بیس دن کے وقفے سے ، جب میںنے تیسری مرتبہ مذکورہ میڈیسن خریدنے کا قصد کیا ، تو معلوم ہوا کہ ” مارکیٹ میں شارٹ ہے ” ۔

    تو قصہ مختصر یہ کہ ۔۔۔۔ اس کے بعد سے وہ میڈیسن دوبارہ کبھی پاورڈ/ساشے کی شکل میں مارکیٹ میں نہیں آئی بلکہ اب اسی نام کا ایک سیرپ ملتا ہے بدمزہ سا ۔

    تو اس طرح یہ ” شارٹیج ” میرے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور مزید ایک مہینے بعد طلب بھی معدوم ہوتی چلی گئی ۔

    ۔۔۔۔۔ اس واقعہ پر میرا قیاس یہ ہے کہ یقیناً وہ میڈیسن بےضرر اور محفوظ ہی ہوگی مگر شاید اس مرتبہ اس کی جو کھیپ تیار ہوئی ہو اس میں کوئی ایسا معمولی مسئلہ آگیا ہو کہ جو اس کی اضافی طلب کا باعث بن رہا ہو اور مسئلے کی نشاندہی ہوتے ہی میڈیسن کو مارکیٹ سے اٹھوالیا گیا ہوگا ، کیونکہ اس کے بعد دوبارہ یہ میڈیسن اس شکل میں نہیں فروخت کی گئی !!

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    جنت نظیر وادی میں مسلسل پسپائی کے بعد ، کئی خیالی پلاؤ پکا کر وہ سرحد عبور کر کے چوروں کی طرح پاکستان میں داخل ہورہے تھے ۔ اسلحے سے لیس ، چھ سو کے قریب ٹینک ساتھ لیے یہ چور کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے فوجی تھے۔ جو حملے کے خیالی پلاؤ کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنا چاہتے تھے۔اور یہ دن تھا،6 ستمبر 1965 کا۔

    بونگ پائے، جیدے کی لسی نہاری، ، سری پائے، حلوہ پوری، پٹھورے نا جانے کیا کیا سوچ کر آئے ہونگے۔ انھوں نے لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور شہر بھی داخل ہونے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر آتے ہی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ قوم 72 منٹ بھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دے گی۔
    ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوجیوں کو صرف 150 پاکستانی جوانوں نے 12 گھنٹوں تک پیش قدمی سے روک کر علامہ اقبال کے اس شعر کا عملی مناظر پیش کیا

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

    ایک بھارتی جنرل (جنرل ہربخش سنگھ) اپنی کتاب میں جنگ ستمبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ” جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پر عزم تھی۔ جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کر رکھی تھی”۔

    سنا ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو 600 ٹینک وہ ساتھ لا رہے ہیں ۔ وہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی وزیراعظم کو سلامی دیں گے۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ٹینک سلامی تو نہ دے سکے البتہ انکا قبرستان ضرور بنا۔ کیونکہ

    ہم ہیں جو ریشم و کمخواب سے نازک تر ہیں
    ہم ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں

    ہم نے روندا ہے بیابانوں کو صحراؤں کو
    ہم جو بڑھتے ہیں تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان میں داخل تو ہوگیا ۔ مگر ناشتہ نہ کر پایا ۔کیونکہ پوری پاکستانی قوم یکجا ہو کر لڑ رہی تھی۔ صرف فوجی ہی نہیں ، تمام پاکستانی میدان جنگ میں اپنے اپنے طریقوں سے لڑ رہے تھے ۔شاعر ، ادیب، گلوکار ، کسان، مزدور ، اساتذہ ، طالب علم ، بچوں ، عورتوں اور زرائع ابلاغ سب کی ایک ہی آواز تھی۔

    ‏ثبوت دیں گے وفا کا یوں،اشتباہ غلط
    ملا کے خاک میں رکھ دیں گےہر سپاہ غلط

    برب کعبہ… ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
    اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ۔ جس میں سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد پیش کی ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر پاکستان ایوب خان نے 23 ستمبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ 24 ستمبر کو بھارتیوں کی پھینٹی لگانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا ۔ اللہ پاک کی حفاظت کرے۔ یہ ملک سدا قائم رہے۔ اور اس کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے 1965 کی طرح ہر بار ناکام ہوں (آمین)۔

  • 6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    وتعز من تشاء وتذل من تشاء پر ایمان رکھنے والی قوم پر بے ایمان بے دین بد مذہب قوم کا یوں بھونڈے انداز میں حملہ آور ہونا ان کی ہمیشہ کے لیے ذلت اور ندامت کا باعث بن گیا۔ 6 ستمبر 1965 کا دن پاکستانیوں میں بحثیت قوم ایمان، اتحاد، تنظیم کا ایک بہترین نمونہ تھا اتنی بڑی فوج کا چھوٹی سی فوج پر اچانک حملہ آور ہونا اور پاکستان کو مکمل تیاری کے ساتھ چاروں طرف سے گھیرنے کا منصوبہ بنانا پاکستان کے وجود پر خدا نہ خواستہ کاری ضرب ثابت ہو سکتا تھا.

    دشمن بحری فوج کا مکمل تیاری کے ساتھ شکار کے قریب ترین پہنچنا، فضائیہ کا اپنے دشمن (پاکستان) پر کمان تان کر رکھنا اور برّی فوج کے اچانک پیٹھ پر وار کا فوری مقابلہ شاید صرف پاکستانی قوم ہی کر سکتی تھی کیونکہ اس قوم کے لیڈر نے اعلان کر دیا تھا کہ لا الہٰ پر ایمان رکھنے والو! آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے “کلمے کا ورد کرتے جاؤ آگے بڑھتے جاؤ اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو پکارا ہے” پھر یوں ہوا کہ شہری اور دیہاتی، عام اور خاص ہر چھوٹا بڑا دشمن کے جنگی ہتھیاروں کی طرف بڑھتا گیا یہاں بعض کے ہاتھوں پر بندوقیں اور مختلف ہتھیار تھے مگر ایک ہتھیار تھا جو مشترکہ طور پر سب کے پاس موجود تھا وہ تھا دِل میں ایمان، یہی وجہ ہے کہ نہتے شہری بھی دشمن کی طرف یوں بڑھے کہ ان کے ہاتھوں میں اُن سے بڑے ہتھیار موجود ہیں.

    مگر جائزہ لیا جائے دشمن قوت کا تو ان کے پلید ارادے اتنے مضبوط تھے کہ اس روز ہندوستانی فوج کے متکبر کمانڈر انچیف نے اعلان کیا کہ وہ آج شام جیت کی خوشی میں لاہور کے جم خانہ میں شراب کی محفل سجائیں گے اس کے اس اعلان کے بعد دنیا کی سب سے بہترین میزبان قوم نے عالمی شہرتِ یافتہ مہمان نواز فوج کے ساتھ مل کر ایسی شراب پلائی کہ ان کے اکثر فوجی اس کے ذائقے کو طبیعت پر بوجھل محسوس کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہی واصلِ جہنم ہو گئے۔ مہمان نوازوں میں اساتذہ، طلبہ، علماء اور غیور شہریوں اور دیہاتیوں کی کثیر تعداد موجود تھی جب کہ فرنٹ پر لڑنے والے مجاہدوں نے شراب نوشی کے نشے میں دھت دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بناتے بناتے خود شہادت کا جام تک نوش کر لیا پاکستانی قوم، بحری و برّی فوج اور ائیر فورس کے نوجوانوں کے کارنامے ذکر کرنا چاہوں تو کسی ایک پر بھی لکھنے کا حق ادا نا کر سکوں.

    سب نے مل کر اپنے اپنے شعبے میں دشمن پر ایسا رعب طاری کیا کہ دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کا ارادہ بھی اس ڈر سے نہیں کرتا کہ اس کی آنکھ سلامت نہ رہے گی۔ پاکستان بحثیت قوم پوری دُنیا پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے آزادی سے لے کر 2022 کے سیلاب تک پاکستان نے شدید تر آزمائشوں کا سامنا ایک مضبوط قوم بن کر کیا ہے۔

    جب بھی مصیبت آئے تو سب ایک ہو جاتے ہیں قائد کا یہی فرمان تھا اللہ پر ایمان، آپس میں اتحاد اور ایک منظم انداز میں چل کر ہم ہمیشہ کامیابی حاصل کر سکیں گے اور کبھی بھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستانی قوم ہمیشہ میجر عزیز بھٹی، کیپٹن سرور، میجر طفیل، میجر اکرم، راشد منہاس، شبیر شریف، محمد حسین، نائک محمد محفوظ، شیر خان اور حوالدار لالک جان جیسے شہداء کی طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے.

    اور یاد رہے یہ قوم اللہ کی نصرت کے ساتھ ہر ناپاک ارداے کو مٹی میں ملانے کی طاقت رکھتی ہے اب جس کسی کو میلی نگاہ سے پاکستان کی طرف دیکھنا ہو وہ پہلے 6 ستمبر والی مہمان نوازی کا مطالعہ کرنے کی جسارت ضرور کرے۔

  • مصنوعی ذہانت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مصنوعی ذہانت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ذہانت کیا ہے؟

    آج ہم جن روبوٹس کو اور کمپوٹرکے پروگرامز کو مصنوعی ذہانت دے رہیں وہ دراصل کیا ہے؟ ذہانت کی تعریف پیچدہ ہے مگر اس میں سب اہم جُز پیٹرن رکگنیشن ہے۔ یہ کیا ہے؟ فرض کریں آپکے سامنے ایک تصویر ہو جس میں ایک ہی قطار میں گلاب کے، چنبیلی کے اور ٹیولپ کے پھول پڑے ہوں مگر ایک خاص ترتیب میں۔

    اگر آپ میں یہ صلاحیت ہے کہ آپ یہ جان سکیں کہ یہ تمام پھول کونسے ہیں اور کس ترتیب میں پڑے ہیں اور اگر آپ اس بنیاد پر آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قطار کو لمبا کیا جائے تو باقی پھول کس ترتیب میں آئیں گے تو آپ پیٹرن رکگنیشن کر رہے ہیں۔

    انسان، جانور اور فطرت کے تمام جانداروں میں کسی نہ کسی درجے پر کسی نہ کسی عمل میں پیٹرن رکگنیشن پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور ایک بکری کے سامنے گوشت اور گھاس رکھی جائے تو وہ یہ بتا سکتی ہے کہ گوشت کونسا ہے اور گھاس کونسی۔ یہ سب وہ کس طرح سے کرتی ہے؟ سونگھ کر یا دیکھ کر یا چکھ کر۔

    مصنوعی ذہانت بھی دراصل پیڑن رکگنیشن پر قائم ہے۔ آپ ایک روبوٹ کو اس طرح سے پروگرام کرتے ہیں کہ وہ اپنے ماحول سے سیکھے، اس میں موجود پیڑنز کو پہچانے اور پھر اسکے مطابق کوئی فیصلہ کرے، خود کو ڈھالے، تبدیل کرے یا بہتر ہو۔ یعنی وہ اپنے اندر سیکھنے کے عمل سے خود تبدیلیاں رونما کر سکے۔ اسے مشین لرننگ کہتے ہیں۔

    بالکل ایسے ہی فیسبک یا یوٹیوب کے پیچھے کارفرما مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز آپکی کسی خاص طرح کی ویڈیوز کو دیکھنے، اُن پر وقت گزارنے یا اّن پر کمنٹس اور ری ایکشن کی بنیاد پر یہ سیکھتی ہے کہ آپ کس مزاج کے آدمی ہیں اور آپکو کونسی چیزیں متوجہ کرتی ہیں۔ لہذا ویڈیو ختم ہونے کے بعد وہ آپکے مزاج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپکو اگلی ویڈیو وہ تجویز کرے گا جسے دیکھنے کے آپکے قوی امکانات ہوں۔ یہ پیشنگوئی بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی جب آپ زیادہ سے زیادہ وقت ان پلیٹفرمز پر گزاریں گے۔

    جتنا زیادہ ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کے پاس آپکا ہو گا، وہ اّتنا صحیح اندازہ آپکے بارے میں لگائے گا۔ یہ سب کرنے کے پیچھے ان کمپنیوں کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ وقت فیسبک یا یوٹیوب پر گزار سکیں اور زیادہ سے زیادہ اشتہارات دیکھ سکیں تاکہ ان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو اشتہارات کی مد میں کمائی ہو۔ جسکی بنیاد پر یہ چل رہے ہوتے ہیں۔

    گویا مصنوعی ذہانت کسی نہ کسی شکل میں آپکے اردگرد موجود ہے اور آپکی زندگی اور سوچ پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ اور ایسے ہی اپ بھی اُسے انسانوں کے بارے میں سکھا رہے ہیں۔

    دنیا کا مستقبل اب مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے جڑا ہے۔ آسکا ایک مقصد تمام شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر انہیں خودکار اور مزید موثر بنانا ہے۔ مثال کے طور پر انکی بدولت ہم آج موسم کی صورتحال، سیلاب کی یا طوفان کی پیشنگوئیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں کہ یہ موسموں کے پیٹرنز کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔

    اسی طرح طب کے شعبے میں مختلف بیماریوں جیسے کہ کینسر می تشخیص میں بھی مریض کے اعضا کی لی گئی تصاویر کو دنیا بھر کے کینسر کے مریضوں کی تصاویر کے ڈیٹا سے موازنہ کر کے پیٹرن دیکھا جا سکتا ہے کہ کینسر ہے یا نہیں۔

    مصنوعی ذہانت کے کئی فوائد ہیں مگر اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت انسانوں سے بھی آگے نکل جائے اور ہم اسے قابو کرنے میں ناکام رہیں۔ اس حوالے سے سائنس کی کمیونٹی اور محققین میں مخلتف آرا پائی جاتی ہے مگر سب اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کی تحقیق اور استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے تاکہ ان خدشات کو دور کیا جا سکے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس مستقبل میں دنیا پر قبضہ کر لیں ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال آپ فیسبک کی وہ ویڈیوز دیکھئے جو مصنوعی ذہانت اپکو تجویز کر رہی ہے۔

  • ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان میں اس وقت ٹماٹر بے حد مہنگا بک رہا ہے۔ بڑے شہروں میں غالباً 500 روپے کلو سے بھی زیادہ۔ آئے روز ملک میں روزمرہ کی مختلف سبزیوں کی مارکیٹ میں شارٹیج یا کمی رہتی ہے جس سے انکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر رکیے ٹماٹر سبزی نہیں بلکہ ایک پھل ہے۔ ویسے بینگن بھی پھل ہے۔ ٹماٹر کا سائنسی نام Solanum lycopersicum L ہے۔ گھبرائے نہیں آپ اسے ٹماٹر ہی کہیئے۔

    یہ بات سن کر آپ شاید حیران ہوں کہ ہمارے آباؤ اجداد اور پُرکھوں کے کھانوں میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ زیادہ نہیں تین چار صدیاں پیچھے چلے جائیں تو برصغیر میں ٹماٹر تھا ہی نہیں۔ ٹماٹر دراصل لاطینی امریکہ اور میکسیکو میں اُگا کرتے تھے۔ پندرویں اور سولہویں صدی میں جب ہسپانویوں نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تو یہاں کے مقامی لوگ ٹماٹروں کو اپنے کھانوں میں استعمال کیا کرتے تھے مگر یہ ٹماٹر سائز میں آج کے ٹماٹروں سے بے حد چھوٹے اور مٹر کے دانوں جتنے ہوتے۔ سولویں صدی میں ٹماٹر یورپ آئے مگر انہیں کھانوں میں نہیں بلکہ زیادہ تر سجاوٹ کے طور پر اُگایا جاتا۔ برِ صغیر میں بھی ٹماٹر سولہویں صدی میں پرتگالیوں نے متعارف کرایا۔ پرتگالیوں نے ہی یہاں آلو اور مرچیں بھی متعارف کرائیں گویا برِ صغیر میں پہلے نہ ٹماٹر تھا، نہ آلو اور نہ مرچیں۔ یہ تصور کرنا کچھ مشکل ہے کہ ہمارے پّرکھوں کے کھانے ان تمام سبزیوں اور پھلوں کے بغیر کیسے ہوتے ہونگے۔

    مگر برِ صغیر کے کھانوں میں بھی سولہویں یا سترویں صدی میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ انیسویں صدی تک جب یورپ اور برطانیہ میں ٹماٹروں کو کھانوں میں استعمال کیا جانے لگا اور یہ مقبول ہوئے تو انگریزوں کو ٹماٹروں کی ضرورت پڑی۔ ایسے میں برِ صغیر کا موسم اور یہاں کی آب و ہوا ٹماٹر اُگانے کے لیے موافق تھی۔ لہذا انگریزوں نے بھارت میں ٹماٹر کو بڑے پیمانے پر کاشت کروانا شروع کیا جسے برطانیہ اور یورپ کی منڈیوں میں بھیجا جاتا۔ اُس زمانے میں بھی ہندوستانی کھانوں میں ٹماٹر محض ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا مگر آہستہ آہستہ یہ کھانوں کا بنُیادی جُز بنتا گیا۔

    آج بھارت اور پاکستان میں 8 ہزار سے بھی اوپر کی ورائٹی کے ٹماٹر اُگتے ہیں۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹماٹروں کی کل سالانہ پیداوار تقریباً 57 ہزار ٹن ہے اور اسکی کاشت ملک کے ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر کے رقبے پر ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی کل ٹماٹروں کی پیدوار میں پاکستان کا حصہ محض 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں ٹماٹروں کی تقریباً چالیس فیصد پیداور سندھ میں ہوتی ہے جسکے بعد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب شامل ہیں۔ پنجاب میں ٹماٹروں کی پیداوار دوسرے صوبوں کی نسبت کم ہے۔ ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار فی ایکڑ بلوچستان میں ہوتی ہے۔

    گو ٹماٹر ایک منافع بخش فصل ہے مگر کئی اہم مسائل کی وجہ سے کسانوں تک اسکا مناسب منافع نہیں پہنچتا۔ بلوچستان کے ٹماٹر اّگانے والا کاشتکار کو فی ایکڑ منافع پنجاب کے کاشتکار سے زیادہ ملتا ہے۔ اسکی ایک وجہ تو زیادہ پیداور فی ایکڑ جو سستی مزدوری اور مناسب موسم سے جّڑی ہے جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ پنجاب کا ٹماٹر مارکیٹ میں کٹائی کے سیزن کے عروج پر آتا ہے جس سے مارکیٹ میں زیادہ رسد ہونے کے باعث اسکی قیمت کم لگتی ہے۔ جبکہ بلوچستان اور سندھ کا ٹماٹر باقی موسموں میں بھی آتا ہے۔

    چونکہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہے لہذا سندھ اور بلوچستان سے آنے والے ٹماٹر کی ترسیل اور فاصلے کے باعث منڈیوں تک پہنچتے اسکی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ٹماٹر کی قیمت سارا سال بدلتی رہتی ہے کیونکہ مناسب سپلائی چین، سٹوریج اور منڈیوں میں حکومت کی جانب قیمتوں پر مناسب کنٹرول نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوری کے نتیجے میں اسکی قیمت عام شہری اور کسان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

    ٹماٹر کے کاشتکاروں کے مسائل دیکھیں جائیں تو بہتر کوالٹی کا بیج نہ ہونا، ہائیبریڈ یا امپورٹڈ بیج کا مقامی موسم کی تبدیلیوں کو برداشت نہ کرنا، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کے تدارک کی ادوایات کی خراب کوالٹی، کھاد کی خراب کوالٹی اور قیمتوں میں اضافہ، پیکجنگ کے مسائل، مناسب تربیت اور جدید طریقوں کا فقدان اور کٹائی کے دنوں میں مزدورں کی کمی جیسے اہم مسائل پاکستان میں ٹماٹر کی کاشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    ِان مسائل کا حل کیا ہے؟ حکومت کی کسان دوست پالیسیاں!!

    1. کاشتکاروں کو مناسب اور جدید تربیت فراہم کرنا جس میں بیج کے چناؤ سے لیکر پیکجنگ تک تمام عوامل شامل ہوں۔

    2.مقامی بیج پر تحقیق اور اسکی پیداوار کو مزید بہتر بنانا۔ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلوں سے مزاحمت کرنے والے بیج پر کام

    3. امپورٹڈ اور ہائبریڈ بیج کی کوالٹی کی حکومت کی جانب سے مناسب جانچ کے بعد ہی اسے مارکیٹ میں فروخت کی اجازت

    4. کھاد اور کیڑے مار ادوایات کی کوالٹی اور قیمت پر کنٹرول

    5. آڑھتی اور کمیشن ایجنٹوں پر کنٹرول اور اس حوالے واضح قانون سازی اور حکمتِ عملی جس سے کسانوں کے استحصال کو روکا جا سکے

    6. خوراک کی مصنوعات پیدا کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں مثال کے طور پر نیسلے یا اینگرو وغیرہ سے معاہدے جو کسانوں کو اُنکی فصل کی مناسب قیمت بلا تاخیر ادا کریں۔

    7. مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قیمت کے اُتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے اس بات پر غور کہ اگر بھارت سے ٹماٹر درآمد کیے جائیں تو اسکے کیا فوائد اور نقصان ہو سکتے ہیں؟

    پاکستان جیسے زرخیز اور زرعی ملک میں مقامی پیداوار ہونے کے باوجود سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کا غریب عوام کی پہنچ سے دور ہونا اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان اور ریاستی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    کل عید ہوگی یا پرسوں؟۔ یہ بات گاؤں کے ہر دوسرے شخص کی زبان پر تھی۔ اس گفتگو کو مدتیں نہیں ہوئیں، بس ہمارے گاؤں میں بجلی، ٹی وی کا دور زرا دیر سے آیا۔ روزہ افطار کرتے ہی ، تمام مرد مغرب کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کی طرف جارہے تھے کہ اتنے میں آواز آئی وہ دیکھو چاند ۔۔۔۔۔

    نماز کے بعد سارا گاؤں مسجد کے صحن میں کھڑا چاند کو ڈھونڈنے میں مشغول ہے۔ اور میں گھر میں بیٹھا ریڈیو پر ہلال کمیٹی کے اعلان کے انتظار میں۔۔ بہر حال ہلال کمیٹی کے ڈھونڈنے سے پہلے ہی ہمارے گاؤں میں چاند ڈھونڈ لیا گیا تھا ۔

    مسجد کے سپیکر میں عید کے اعلان کی آواز کے ساتھ بچوں کی سرگوشیاں اور قہقہے بھی گونج رہے تھے۔ مگر تب بچوں کی خوشیوں سے اللہ ناراض نہیں ہوتا تھا ۔ اب تو مسجد میں کم سن پھولوں کی شرارتوں سے بھی مولوی صاحب کو اللہ کی ناراضی کا گمان ہوتا ہے ۔

    اور پھر مولوی صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ سے وہ بچہ تاعمر مسجد جانے سے کتراتا ہے ۔ خیر موضوع تو عید ہے یہ رونا دھونا کسی اور تحریر کےلیے رکھ چھوڑتے ہیں ۔

    بچے گھروں کو دوڑ پڑتے ہیں ۔ اور اب وقت ہوا چاہتا ہے خواتین کی بے تحاشا مشقت کا۔ سب سے پہلے استری میں کوئلے ڈالنا۔۔۔ پھر مٹی کے تیل اور کوئلوں کی مدد سے گرم کی گئی استری سے کپڑے استری کرنا اور پھر آدھی رات حلوے کے ساتھ کھپ ڈالے رکھنا( بعض گھروں میں رسم حلوہ پکائی عید کے روز شام کو بھی ہوتی)۔۔۔۔کیونکہ میں ایک تلہ گنگیا ہوں تو ہماری سائیڈ پر مکھڈی حلوے کے بغیر عید اور دوسرے تہوار نامکمل سمجھے جاتے ہیں۔کڑاہی اور شپیتا لیے مائیں ، دادیاں حلوہ پکانے میں مشغول ہوجاتیں ہیں۔لڑکے کھیلنے میں۔۔ اور لڑکیاں مہندی لگانے میں۔۔

    کچھ گھروں میں عید کی صبح جبکہ بعض گھروں میں شام کے وقت پتلی سی روٹی میں مکھڈی حلوہ ڈال کر بیٹیوں ، بہنوں اور گاؤں کے سیپیوں (پرانے وقتوں میں کچھ لوگ جیسا کہ نائی، موچی ، میراثی کام کے بدلے دانے لیتے تھے ،اسے سیپی کہا جاتا) کو دیا جاتا جسے عرف عام میں ڈھاراڑی کہا جاتا۔ یہ کام عموماً بچوں کے حصے میں آتا اور یہیں سے عیدی جمع کرنے کے سلسلے کا آغاز بھی ہوتا۔

    اور پھر یوں ہوا کہ شہروں کی ہوا نےعید کے ان سب مناظر کو ہوا کر دیا۔ مگر کالج کے دور میں تقریبا دو سال پھر مکھڈی حلوہ کھانے کو ملتا رہا۔ سین کچھ یوں ہوا کہ ہم میٹرک کے بعد اعلی تعلیم کے لیے کلرکہار کے معروف تعلیمی ادارے ” سائنس کالج” چلے گئے ۔

    جس روز بھی بارش ہوتی،کالج میں موجود بابے طلباء کی کینٹین پر مکھڈی حلوہ کھانے کو ضرور ملتا۔کالج میں میرا دوست رفاص ، میرا گرائیں تھا اور بابا طالبان بھی، سو خوب حلوہ کھایا۔جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو سرگودھا میں ہوں، چار سالوں میں ادھر مکھڈی حلوہ تو نہیں دیکھا۔ مگر سموسہ چاٹ کے اوپر کیلے ضرور دیکھے ہیں۔

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

  • سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خدا نہ کرے ہم پر قہر نازل ہو قرآن پاک کا مطالعہ کریں جن قوموں پر قہر نازل ہوا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں حکومتیں اور متعلقہ ادارے منصوبہ بندی کرتے ہیں حکومتیں، انتظامیہ فلڈ وارننگ پر نظر رکھتی ہیں۔ ایک ایک انسان کی حفاظت کی جاتی ہے انسانوں کو انسان سمجھا جاتا ہے۔ دعائیں دینے والے اور بددعائیں دینے والے حضرات سے معذرت کے ساتھ پاکستان میں یہ آفت کا قہر کیا غریب اور بے بس لاچار عوام پر ہی آتا ہے۔ کیا یہ قہر مخصوص طبقے کے لئے رہ گیا ہے ہر گز نہیں ۔ یہ خدا پاک کا قہر نہیں بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے خدا پاک اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ ان سیلابی ریلوں کو روکا جا سکتا ہے ملک میں ڈیم بنا کر روکا جا سکتا ہے۔

    بھارت نے پانچ ہزار ڈیم بنا دیئے۔ بنگلہ دیش نے سینکڑوں ڈیم بنا دیئے اور اس طرح کے طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ جنگلات اور پانی دو ایسی قدرتی طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ کے لئے ادارے موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہم نے پورا ملک بڑے بڑے لینڈ مافیا کے حوالے کر دیا وہ جنگلات کاٹ کاٹ کر ہائوسنگ سوسائٹیز بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں پر بحث کی جا رہی ہے جبکہ برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ گرین ہائوس کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں کا بدترین سامنا کرنیوالے سرفہرست دس ممالک میں ہوتا ہے ۔ کلاڈیا ویب نے لکھا ہے کہ قطب شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیرز پاکستان میں پگھل رہے ہیں۔ کلاڈیا ویب نے کہا اس کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں ملک کی سیاسی قیادت، جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں کے ہاتھوں میں ہے کیا کہا جائے جنہوں نے اپنے محل تو محفوظ کر لئے مگر پاکستان جو بائیس کروڑ عوام پر مشتمل ہے اس گھر کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا نہ ڈیم بنانے کی طرف توجہ دی نہ جنگلات کے تحفظ کے لئے کچھ کیا۔

    سیاسی قیادت نے یارانے لینڈ مافیا اور ٹمبر مافیا کے ساتھ ہیں بیورو کریسی اور سول انتظامیہ خاموش تماشائی ہے قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اس وقت ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف غداری اور سازشی اور اب دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر ملک و قوم کی کون سی خدمات سرانجام دے رہی ہیں؟ ایک دوسرے کو سیاست سے آئوٹ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ملک کو سنوارنے اور عوام کو ایسی آفات سے بچانے کی منصوبہ بندی کون کرے گا؟ ڈیم کون بنائے گا؟ جنگلات کا تحفظ کون کرے گا ؟ اگر آج بھی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جائیں گے۔