Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک فاسٹ باؤلر اپنا ہاتھ گھما کر ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرا سکتا ہے. کیا ہر شخص اس رفتار سے گیند پھینک سکتا ہے.؟ اسکا جواب نہیں ہے. لیکن ایک جیسے انسانوں میں ایک جیسے ہاتھ ہوتے رفتار کا یہ فرق کیسے آیا.؟ تو اسکا جواب یادداشت ہے.

    ہمارے مسلز کی بھی اپنی ایک یادداشت ہوتی ہے. جب ہم روزانہ کچھ مسلز سے بار بار ایک ہی طرح کام لینا شروع کر دیں تو دماغ اس کی مکینکس سیٹ کرنے لگتا ہے. ہماری تربیت ہماری مستقل مزاجی اور توانائی اس مکینکس کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جانا شروع کر دیتی ہے. اور ہمارے muscles عام لوگوں سے منفرد ہوجاتے ہیں.

    مسلز کی ہر یادداشت کو طاقت نیند دیتی ہے. جب ہم سوتے ہیں تو دماغ اپنے بہت سے کاموں میں سے ایک یہ کام بھی کرتا ہے. یعنی ہماری یادداشت بہترین کرتا ہے. اس لئے اچھی نیند فوکس یادداشت اور قوت مدافعت کیلئے بہت اہم ہوتی ہے. خاموشی حکمت یعنی wisdom کی نیند ہے. جب ہم کم بولتے ہیں تو ہمارا دماغ ہمیں فوکس تجزیہ اور سوچے سمجھے انتخاب کا وقت دیتا ہے جسے ہم حکمت کہتے ہیں.

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے. پھر اس کی زبان وہ باولر بن جاتی ہے جس کے پاس رفتار اور سٹیمنا تو بہت ہوتا ہے لیکن نہ اس کی لائن ٹھیک ہوتی ہے نہ لینتھ بس وہ گیندیں پھینک رہا ہوتا ہے اور سننے والے سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں.

  • صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر

    صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر

    لاہور اور کراچی دنیا کے بڑے انڈسٹریل شہر ہونے کے بغیر بھی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہر ہیں۔

    وجوہات؟

    نئی ماحول دوست مشینری کی بجائے پرانی فاسل فیول پہ چلنے والی مشینری، اور یہ مشینری بھی موسٹلی ترقی یافتہ ممالک سے سکریپ کے معاہدوں کے بعد یہاں آتی ہے۔

    نئی گاڑیوں کی بجائے پرانے سٹینڈرڈ پہ بنی نئی یا دہائیاں پرانی امپورٹڈ گاڑیاں جو کہ زہریلی گیسز خارج کرنے کا بہت بڑا سبب ہیں اور ان گاڑیوں کی ہیلتھ فٹنس چیک اپ نا ہونا، آپ لاہور کسی بھی جگہ چلے جائیں اگر آپ کو اپنے سامنے کوئی دھوئیں والی گاڑی یا رکشہ نا ملے تو سمجھ جائیں لاہور نہیں ہیں۔

    بے ہنگم آبادی جس میں سبزہ نا ہونے کے برابر ہے۔ سڑک کے گرد لگے پودے اتنے مفید کبھی نہیں ہو سکتے جتنے گھروں میں یا شہر سے باہر جنگل کی صورت میں ہو سکتے ہیں۔

    ان سب وجوہات کی بنیادی وجہ پچھلی پوسٹ میں لکھی ہے۔ دہراتا چلوں کہ ہماری حکومتیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتنا زیادہ ٹیکس لگا چکی ہیں کہ ہم مجبوراً بیس سے تیس سال پرانی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اپنے ماحول کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔

    اگر لاہور اور کراچی میں سے اوپر والے دونوں فیکٹرز کو ہٹا کر سستی بجلی پر چلنے والے کارخانے ہوں اور ان کیساتھ ساتھ گاڑیوں کی ریگولیشن کرکے 2000 سے پرانی تمام گاڑیاں اور تمام سستے موبل آئلز پہ چلنے والے رکشے بند کر دئیے جائیں تو یہ شہر دو سے تین سالوں میں فضائی آلودگی میں نیچے آ جائیں گے۔

    وہیں ان شہروں میں انڈسٹریل ویسٹ کی مینجمنٹ کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہاں کے کوالٹی کنٹرول آفیسرز کی سی وی میں ایم ایس انوائرمینٹل انجینرنگ کی ڈگری تو ہے مگر ہر مہینے سٹیل ملز اور پلاسٹک مینوفکرچنگ یونٹس سے آئے چیک ان کو آرام سے بیٹھنے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ صبح پانچ سے دن کے بارہ تک رنگ روڈ، جی ٹی روڈ اور موٹروے پر حد سے زیادہ سموگ دیکھیں گے جو کہ ان سڑکوں کے اطرف میں موجود کارخانوں کی چمنیوں کی دین ہے۔

    حالانکہ کسی بھی مہذب ملک میں بلکہ ہمارے ملک کے قانون میں بھی ایسے کارخانے یا تو شہر سے باہر لگانے کا حکم ہے یا ان کی چمنیوں سے دھواں نکلنے سے پہلے اس کو فلٹر کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    اسی لئے

    آپ کبھی اسلام آباد یا ٹیکسیلا آئیں، اتنی ہیوی انڈسٹری میں نے لاہور نہیں دیکھی جتنی وہاں ہے مگر پالیوشن نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ ریگولیشن اچھی ہو رہی ہے۔

    اس وقت ہمارے ملک میں زیر استعمال مشنری کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اپ گریڈ کا مطلب یہ نہیں کہ چائینہ یا جرمنی سے متروک انڈسٹریل مشینری لائی جائے بلکہ جدید ماحولیاتی سٹینڈرڈ پر مشینری یہاں بنائی جائے مگر ایسے کاموں پہ ٹیکس اتنے ہیں کہ لوگ سوچنے سے پہلے توبہ پڑھتے ہیں اور پھر دہائیوں پرانی انڈسٹریل اور آٹوموبل مشنری جو کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلاتی ہے اس کو استعمال کرکے لوگوں کو بیمار کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    یاد رہے کچھ سال اس آلودگی کی شکایت بھارت نے بھی کی تھی کیونکہ ہمارے ائیر کرنٹ یا پھر ہوائی دباؤ کی وجہ سے یہ آلودگی قریبی بھارتی چہروں کو بھی گندہ کر رہی ہے۔

    مگر

    Zero actions are taken and will be taken.

  • سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان اور ان کے مداحوں کو ریس میں اکیلے دوڑنے کا شوق ہے وگرنہ جتنی تنقید عمران خان سے پہلے اور دیگر سیاستدانوں اور حکمرانوں پر ہوئی ہے عمران خان پر اس کا عشر عشیر بھی تنقید نہیں ہورہی، لیکن اہلیانِ عمران خان کو درد ذہ سب سے زیادہ ہے۔

    اہلیان عمران خان, میں تو یہی کہوں گا ورنہ ان کو دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کس گھٹیا لقب سے یاد کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے اور یہ کہ وہ قطعی پارلیمانی اور صحافتی اقدار کے خلاف ہے جبکہ ہماری تربیت ہمیں اس برے فعل سے ہمیشہ روکتی ہے۔

    جی تو اہلیان عمران خان کو نجانے کیوں یہ خبط سوار ہوگیا ہے دماغ پر کہ خان صاحب کا پسینہ عطر خاص ہے اور خان صاحب دنیا کے ہینڈسم ترین اور معصوم عن الخطاء انسان ہیں, او بھئی نکل آؤ اس سحر سامری سے اور غلو و انتہا پسندی سے بچو ورنہ جب بت پاش پاش ہوتے ہیں تو ان کے ٹوٹنے کی آواز اور تکلیف تادم مرگ پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    خان صاحب سب کچھ بہت اچھے سے جاننے کا دعوی کرتے ہیں مطلب دنیا کی جس چیز, جس جگہ اور جس شخص کا نام لے لو جھٹ خان صاحب فرماتے پائے جاتے ہیں کہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا لیکن افسوس صد افسوس کہ خان صاحب بنیادی اخلاقی اور تعمیرِ کردار کی بابت کچھ نہیں جانتے اور یہی ان کا مشن ہے کہ قوم کی نوجوان نسل بھی ان اصولوں سے بہرہ ور نہ ہوسکے۔

    کوئی خان صاحب سے جتنا بھی تمیز کے دائرے میں رہ کر سوال کرلے, اہلیان عمران خان کی دم پر نجانے کہاں سے نادیدہ پاؤں دھرا جاتا ہے کہ پھر گھنٹوں بلکہ دنوں تک سوشل میڈیا پر نحیف سی چیاؤں چیاؤں سننے کو ملتی رہتی ہے اور سوشل میڈیا والز پر آؤ تو لگتا ہے کہ گھر کا فلش اوور ہوگیا ہو اور چہار سو بول و براز پھیلا ہو۔

    چلیں حامد میر, سلیم صافی, غریدہ فاروقی اور ثناء بچہ کی حد تک اہلیان عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ یہ بغض عمران میں مبتلا ہیں اور لفافہ لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن مبشر لقمان صاحب پر پی ٹی آئی اپنی گھٹیا کیمپین کو کس طرح جسٹیفائی کرسکتی ہے؟

    2014 کا سارا دھرنا اور اس وقت خان صاحب کو ملی میڈیا ہائپ میں 90% تک مبشر لقمان صاحب کا ہاتھ تھا۔ بہت سے میرے جیسے لوگ تب عمران خان کی طرف راغب ہوئے تو اس میں مبشر لقمان اور اے آر وائے نیوز پر ان کے پروگرام کھرا سچ کا بہت اہم کردار تھا۔۔۔ مطلب خان صاحب کی تمام تر سیاسی جدو جہد کو اگر 2014 سے پہلےاور بعد میں تقسیم کریں تو پہلے کی کارکردگی اور شہرت کے مقابلے میں بعد کی کارکردگی اورشہرت ان کی سیاست میں بہت اہم ہے کیونکہ بعد کی شہرت اور عوامی شعور جس پر خان صاحب کا کلیم ہے کہ وہ انہوں نے دیا سراسر غلط بیانی ہے کیونکہ جتنا ایکسپوز مبشر لقمان صاحب نےن لیگ اورپیپلز پارٹی کو کیا خان صاحب کا کام تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے دیگر صحافیوں کی طرح خان صاحب اور ان کے ہمنوا تب مبشر لقمان صاحب کے بغیر اندھے بہرے اور گونگے تھے کہ جب مبشر لقمان صاحب رات کو سٹوری کرتےتو اگلےدن بشمول خان صاحب پوری پی ٹی آئی قیادت اور سوشل میڈیا وہی سٹوری بیان کرکے مخالفین کو دھول چٹا رہے ہوتے۔

    آج ایک ادھوری وفاقی حکومت گنوا کر خان صاحب دن بھر سڑکوں کی دھول چاٹ کر رات کو "ناراض دوستوں” سے "پیچ اپ” کی سکیمیں بناتے ہیں جبکہ ان کے اہلیان عمران خان سوشل میڈیا پر فی سبیل اللہ "سگِ بنی گالا” کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں اور خان صاحب کی طرح ان کے محسنین اور سابقہ دوستوں کو سوال اور اعتراض کرنے کی پاداش میں ذلیل و رسوا کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن قوم یاد رکھے کہ جو شخص مطلبی اور خودغرض ہوتا ہے وہ مطلب نکلنے پر یہی کچھ کرتا اور کرواتا ہے حو خان صاحب اور ان کی قوم یوتھ کرتی پھر رہی ہے۔

    خان صاحب آپ پیر کامل بننے کی کوشش میں حد لانگ رہے ہیں یہ مت کریں, ریڈ لائن صرف ایک ہی تھے, ہیں اور تاقیامت رہیں گے اور وہ ہیں آقا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کہ جن کی خاطر ماں باپ قربان کرنا اور اولاد سے سرف نظر کرنا فرض کیاگیا ہے بذبان اللہ۔

    خان صاحب اپنے اہلیان کو لگام دیں وگرنہ ڈھول کا پول کھل گیا تو آپ اپنا گریباں چاک کرنے اور عوام میں جاکر سچے ہونے کا دعوی کرنے سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

    اکڑ, غرور اور تکبر خواہ بری شہ پر ہو یا اچھی پر۔۔۔ اللہ کو یہ حرکت سخت ناپسند ہے۔ پوری قوم کو سیرت کےاسباق بعد میں رٹوائیےگا, پہلے اہلیان عمران خان کو اس پر عمل کی تلقین کریں۔

    سوشل میڈیا کو ایک گٹر بنانے میں جتنا کردار پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرز اور ایکٹیوسٹس نے ادا کیا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔۔۔ اور خود یہ اس گٹر کے اکلوتے مالک اور چوڑے بن کر سارا دن چوڑے والی آکڑ دکھا دکھا کر شرفاء کی پگ اچھالتے رہتے ہیں۔

  • ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    اکتوبر سنہ 732ء میں ایک بہت اہم واقعہ ہوا تھا ، شاید آپ میں سے کم ہی لوگ اس واقعے کو جانتے ہوں گے لیکن ایک بدترین شخص نے تاریخ کے اس واقعے کو اچھے طریقے سے یاد رکھا ہوا تھا ۔

    اور آپ کو پتہ ہے کہ اس شخص نے اس واقعے کے مرکزی کردار charles martel کا نام کہاں لکھا تھا ؟

    وہ تو میں آپ کو ابھی بتا دیتا ہوں لیکن یہ وہی چارلز مارٹل ہے جسے تاریخ ’’charles the hammer‘‘ یعنی ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ بھی کہتی ہے ، وہی چارلز مارٹل جو اپنے باپ pepin کی اپنی ایک نوکرانی کے ساتھ ناجائز اولاد تھا اور وہی چارلز مارٹل جس نے وقت کی سب سے بڑی ملٹری پاور یعنی مسلمانوں کو ناقابل شکست بیس سال گزارنے کے بعد فرانس کے جنگل میں ہرا دیا تھا اور اموی جنرل عبدالحمٰن الغوفیقی کو مار دیا تھا ۔

    وہی چارلز مارٹل جس کی وجہ سے فرانس اور جرمنی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ لیکن یہ لڑائی طاقت کی لڑائی نہیں تھی ، یہ لڑائی ایکچوئلی صبر کی لڑائی تھی اور اس لڑائی کا نام تھا battle of tours ۔

    چارلز مارٹل مسلم آرمی سے آدھی تعداد کے ساتھ جنگل میں تھا اور صبر سے انتظار کر رہا تھا کہ مسلمان جنگل میں آ کر لڑیں تاکہ مارٹل کو درختوں میں چھپنے کا فائدہ مل سکے اور مسلمان جنگل سے باہر انتظار کر رہے تھے کہ مارٹل باہر آ کر ہم سے لڑے تاکہ ہم اپنی تعداد اور طاقت سے اسے ہرائیں لیکن بالآخر سات دن بعد مسلمانوں کا صبر جواب دے گیا اور وہ جنگل میں داخل ہو گئے ۔ یورپ کے گھنے جنگلات جدھر آرمی کی تعداد کوئی معنے نہیں رکھتی تھی …

    اور مجھے جرمن مؤرخ hans delbruck کے الفاظ یاد ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں battle of tours سے زیادہ اہم اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیوں کہ اس دن اگر چارلز مارٹل ہار جاتا تو آج نہ کوئی holy roman empire ہوتی ، نہ پوپ رہتا اور نہ ہی عیسائیت کیوں کہ پھر اس وقت مسلمانوں کو پورے یورپ پر قبضہ کرنے سے روکنے والی کوئی آرمی اس دنیا نہیں تھی ۔

    انفیکٹ یہ وہ واحد لڑائی تھی جس کے بارے میں ایڈولف ہٹلر نے بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر مسلمان وہ لڑائی جیت جاتے تو آج یہ دنیا ایک مسلمان دنیا ہوتی کیوں کہ مسلمان ایک دین لے کر آ رہے تھے ، ایک ایسا دین جو جرمن مزاج کے ساتھ پرفیکٹلی فِٹ بٹھتا ہے اور جرمنز کے لیے عیسائیت سے زیادہ سوٹ ایبل ہے ۔

    لیکن میں نے ابھی آپ کو یہ نہیں بتایا کہ چارلز مارٹل کا نام کس نے یاد رکھا ہوا تھا ؟

    تین سال پہلے نیوزی لینڈ کے ایک شخص نے 74 صفحوں کا ایک مینی فیسٹو لکھا تھا the great replacement اور اس نے یہ مینی فیسٹو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سمیت 30 میڈیا ہاؤسز کو ای میل کیا تھا ، اور ای میل کے بعد اس شخص نے نیوزی لینڈ کرائیسٹ چرچ کی ایک مسجد میں داخل ہو کر 51 نمازیوں کو شہید کر دیا تھا …

    اور اس قتل عام کو کرنے والی بندوق کی نلی پر اس زندیق نے … چارلز مارٹل کا نام لکھا ہوا تھا ، وہی چارلز مارٹل جس نے مسلمانوں کو شاید سب سے گہری چوٹ پہنچائی تھی ۔

    لیکن میں آپ کو یہ سب کیوں بتا رہا ہوں ؟

    اس دنیا میں کوئی بڑا واقعہ randomly نہیں ہو رہا ، یا تو وہ ماضی کے کسی بڑے واقعے سے جڑا ہوتا ہے یا پھر مستقبل کے کسی بڑے واقعے کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔

    اور میں آپ کو urge کرتا ہوں کہ تاریخ کو بھولیں مت ، ماضی کے واقعات کو یاد رکھیں ، تاکہ مستقبل کے لیے خود کو اور اپنی نسلوں کو تیار رکھ سکیں ۔

  • پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    کالے بھونڈوں اور چھپکلیوں کو بھگانے کےلیے سپرے کر رہا تھا صبح صبح کھڑکی کے پاس ، کہ دفعتاً ٹڈا سا نظر آیا۔ سوچا صحن میں گھاس ہے تو آ گیا ہو گا مگر جب دھیان سے دیکھا تو یہ praying mantis تھا ۔ فوراً سپرے روکا۔ شکر ہے ابھی اس پہ سپرے نہیں ہوا تھا۔ ہتھیلی آگے کی تو یہ دفاعی پوزیشن میں آ گیا ۔ دوستانہ انداز میں ٹچ کیا اور ہتھیلی آگے کی تو باقی دنیا کی طرح اسے بھی ہماری شرافت پہ یقین آ گیا اور ہتھیلی پہ بیٹھ گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہوا میں موجود سپرے کے ذرات سے اسے نقصان نہ پہنچے۔

    اسے گلاب کے پودے پہ بٹھایا اور واپس آیا تو دیکھا برآمدے میں پر پھیلائے ،نہایت غصیلے انداز میں ایک اور مینٹس میرا منتظر تھا۔ اپنے ساتھی کو نہ پا کر سخت برہم تھا اور غالباً مجھ پہ شک کر رہا تھا۔ اسے چمکارا ۔ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو آہستہ آہستہ وہ بھی پاس آ گیا۔ اسے بھی وہیں اس کی بیگم پاس گلاب پہ چھوڑا کہ چل کاکا عیاشی کر۔ گلاب کے مخملیں بستر پہ ۔ مگر دونوں شاید آپس میں ناراض تھے۔ منہ بنائے دور دور رہے ذرا سے۔

    سکول کا ٹائم بھی قریب ہی تھا ۔ جانے لگا تو خیال آیا کہ ذرا جوڑے کے "حالات ” بھی دیکھتے جائیں ۔ اگرچہ پرائیویٹ معاملات میں دخل دینا نامناسب بات ہے مگر یہ ہم پاکستانیوں کا پرانا شیوہ۔ آپ نے غلام عباس کا افسانہ ” اوور کوٹ ” تو پڑھ رکھا ہو گا۔ اوور کوٹ والا نوجوان بھرے بازار ، اردگرد کےلوگوں ، اشیاء وغیرہ سے بےنیاز نظر آتا اور کسی پہ نگاہ ِ غلط انداز نہیں ڈالتا مگر اک موٹے پیندے اور لمبے بالوں والی لڑکی اور ساتھی لڑکے کی گفتگو سننا شروع کر دیتا ۔ اور پھر ان کے پیچھے یوں تیزی سے جاتا کہ ٹرک کا پتہ بھی نہیں چلتا اور مر جاتا۔ ویسے نصابی کتب میں یہ مکالمہ نہیں ہے۔ یوں بھی افسانوں کا ختنہ کرنے کے بعد ہی انہیں شامل نصاب کیا جاتا۔ احمد ندیم قاسمی کا فسانہ دیکھ لیں مولوی ابل والا۔

    بات دور نکل گئی۔ تو میں پھر قریب پہنچا ۔ دیکھا کہ ایک ہی موجود ۔ تلاش کیا مگر نہ ملا ۔ کمرے میں آ کے کپڑے تبدیل کرنے لگا تو حضرت بائیں کندھے پہ کراماً کاتبین کی طرح موجود۔ لو جی ۔۔۔۔ایہہ تے سچ مچ یاری دے چکراں اچ اے۔ واپس چھوڑا۔ دونوں نمونوں کو ایک پھول پہ بٹھایا بلکہ ان کی پپیاں جپھیاں بھی کروائیں زبردستی ۔ کچھ دیر بعد خدا حافظ کہنے گیا انہیں تو اب دونوں الگ الگ پھولوں پہ تھے۔ ارینج میرج ٹائپ جوڑے کی طرح۔ سخت مایوسی ہوئی۔

    پرئنگ مینٹس کا تعلق حشرات کے mantodea آرڈر سے ہے۔ اب تک اس کے 30 خاندان اور2400 انواع دریافت ہو چکیں ۔ خوراک کے معاملے میں گوشت خور ہیں کٹّر قسم کے ۔ نان ویجیٹیرین ۔ تمام حشرات میں ان کی نظر سب سے تیز ہوتی۔ ماہر شکاری اور نہایت ہمت والے۔ کبھی مقابل سے گھبراتے نہیں ۔ چھوٹے مینڈک ، چھوٹی چھپکلیاں، چھوٹے سانپ ، کیڑے مکوڑے وغیرہ کا شکار کرتے اور منٹوں میں کتر ڈالتے انہیں۔ اگلے بازوؤں پہ کانٹے نما سی چیز ہوتی سخت سی۔ شکار کو جکڑ لیتے۔ زندہ جاندار کھاتے ، مردہ نہیں ۔ حشرات میں یہ واحد ہیں جو اپنا سر انسان انسان کی طرح دائیں بائیں گھما سکتے۔ اوسط عمر ایک سال ہوتی۔

    پرندے اور چھپکلیاں ان کا شکار کرتیں ۔ اور بعض اقسام کی بھڑیں بھی ۔ مقابلہ خوب کرتے۔ یوٹیوب پہ سرچ کر سکتے ۔ تکونی سر اور دعا کی طرح اٹھے ہاتھ ہوتے ان کے ۔ یہ کسی چیز کو کاٹ بھی سکتے اور چبا بھی سکتے۔

    ایک اور خاص بات ، کہ اگر مادہ کسی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اپنے مجازی خدا کا سر کھا جاتی ہے۔ یہ عادت ویسے تمام ماداؤں میں مشترکہ ہے ۔۔۔سر کھانے کی ۔ نر ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

  • میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    یونیورسٹی آف ٹیکساس سے کاروبار میں ڈگری یافتہ طلباء کی تقریب میں میکڈونلڈ کے مالک رے کروک نے پوچھا تھا بتاو میرا بزنس کیا ہے.؟ اور سب طلباء ہنس پڑے. بھلا میکڈونلڈ کے بزنس کا کس کو پتہ نہیں ہوگا..؟

    مارکیٹ بھی ایک ایسی جگہ ہے جہاں جب آپ کسی سے پوچھتے ہیں تمہیں کاروبار کی سمجھ ہے تو اکثریت باقاعدہ ہنس کر کہتی ہے بھلا کاروبار کی سمجھ بھی کوئی مشکل کام ہے.؟ کیونکہ اکثریت کاروبار بس مارکیٹ میں اپنے نام کا بورڈ لگانا سمجھتی ہے. آپ کسی کو سفید کاغذ اور ایک قلم دے کر بولیں اپنی مرضی کا کچھ بھی لکھ دو تو اسی فیصد افراد اپنا نام لکھ لیتے ہیں. وہ نام جسے وہ اپنی پہچان سمجھتے ہیں. وہ نام جو دیا ہی کسی دوسرے نے ہوتا ہے.

    اکثریت کاروبار کو بھی ایسا ہی سمجھتی ہے. بس اپنا نام لکھ کر بورڈ مارکیٹ میں لگا دو. کاروبار ساکھ اور پہچان کا نام ضرور ہے. جیسے رے کروک کے سوال پر بزنس کی ڈگریاں لینے والے ہنس دئے. یہ بھی بھلا کوئی سوال ہے.؟ کیونکہ انہوں نے بزنس پڑھ تو لیا تھا عملی میدان میں ابھی سمجھا نہیں تھا. لیکن ساکھ کاروبار سمجھ آنے کے بعد بنتی ہے.

    رے کروک یعنی میکڈونلڈ کا بزنس بھی برگر بیچنا نہیں بلکہ رئیل سٹیٹ ہے. یہ زمین لیتا ہے. اسے فرنچائز کر کے کرایہ لیتا ہے. اپنے ہی کرائے دار کو پھر اپنی چیزیں بیچتا ہے. اور جب اس پراپرٹی کی قیمت بہت بڑھ جائے تو اسے بیچ کر کسی دوسری سستی جگہ پھر سلسلہ شروع کر دیتا ہے. آپ کیا سمجھتے ہیں میکڈونلڈ برگر بیچ کر ملٹی نیشنل کمپنی بنی ہے.؟

  • تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے؟ — ضیغم قدیر

    تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے؟ — ضیغم قدیر

    ہفتہ پہلے رمیز راجہ نے بہت اچھی بات کہی تھی کہ انڈیا کی فین بیس بہت اچھی ہے وہ ایشیا کپ سے باہر نکل گئے مگر انہوں نے کوہلی کی سینچری کی خوشی منانا شروع کر دی اور یہاں بابر سینچری کر دے تو اگلا سوال ہوتا ہے کہ سٹرائیک ریٹ 130 کی بجائے 140 کیوں نا تھا؟

    پچھلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سکواڈ پر یہی تنقید جاری تھی جو آجکل جاری ہے۔ ایک تجزیہ نگار صاحب تو ٹی وی پر یہ بھی کہہ چکے تھے کہ محمد وسیم کو سلیکشن وغیرہ نہیں آتی ہے ایسی گھٹیا ٹیم میں نے کبھی نہیں دیکھی۔

    خیر وہ تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے سب کو علم ہے۔

    مگر پھر ٹیم نے کر دکھایا۔ ان دنوں حارث رؤف پہ کافی تنقید کی جاتی تھی۔ رن مشین اسکا دوسرا نام تھا، حارث کو کھلانا ایک حماقت سمجھا جا رہا تھا اور اب وہی تجزیہ نگار حارث رؤف کی تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔

    اسی طرح

    تب رضوان پر تنقید جاری تھی، اے آر وائی پہ آصف کے بارے میں تو ڈیزاسٹر مطلب تباہی کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے کہ یہ ٹیم کو تباہ کرے گا مگر یہ جملہ غلط طریقے سے قبول ہوا اور دوسری ٹیمز تباہ ہو گئیں۔

    ٹیم میں موجود افتخار اور خوشدل کو ہٹانے کی کمپین چلی کہ حیدر اور شان کو لاؤ، افتخار بوڑھا ہو گیا ہے حالانکہ افتخار اور شان دونوں ہم عمر ہی ہیں اسکے علاوہ افتخار کی پرفارمنس شان سے ہزار درجے بہترین رہی ہے مگر مسئلہ چونکہ یہ ہے کہ افتخار کی پکچرز سٹیٹس پہ لگانے سے کول نہیں لگتا اس لئے کوئی پیارا کھلاڑی لانا چاہیے۔

    اب جبکہ حیدر اور شان پچھلے آدھ درجن میچوں میں بیس رنز بھی نہیں کراس کر پا رہے ہیں تو بابر اعظم پہ تنقید شروع ہو گئی ہے کہ یہ اچھا کپتان نہیں ہے اس لئے ایسا ہوا ہے۔ حالانکہ بابر کی کپتانی میں پاکستان بڑے ٹورنامنٹس بلا خوف و تردد کھیل کر جیتنے کے قریب پہنچا ہے۔

    مگر نہیں بابر چونکہ شوخا نہیں ہے تو اسے ہٹانا چاہیے۔

    اسی طرح رضوان جس کی ایوریج کوہلی سے زیادہ ہے ٹیم میں میچ وننگ شراکت زیادہ ہے اس کیخلاف یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ مذہب کا استعمال کرکے مشہور ہو رہا ہے حالانکہ وہ اسکا ذاتی عقیدہ ہے۔ وہیں کوہلی جس کی ایوریج رضوان سے کم ہے مگر چونکہ سٹرائیک ریٹ اسکا زیادہ ہے تو تنقید ہو رہی ہے کہ میچ وننگ شراکت داری کا کیا کریں جب رضوان کا سٹرائیک ریٹ ہی کم ہے۔

    ہندوستانی جو کہ ایسی لن ترانیاں نہیں کرتے ان کے پاس ایک مضبوط مڈل آرڈر موجود ہے۔ مگر یہاں مڈل آرڈر میں کوئی سیٹ ہوتا ہے تو کمپین چلتی ہے کہ فلاں کا سٹرائیک ریٹ دو سو دس ہے اسے موقع دیں اور اس کھیل تماشے کے بعد مڈل آرڈر پھر حیدر اور شان جیسے کھلاڑیوں کے پاس رہ جاتا ہے۔

    خیر اب بھی دعا یہی ہے کہ ٹیم اچھا پرفارم کرے، اور امید بھی ہے کہ کرے گی مگر اتنی بری فین بیس دنیا میں کہیں نہیں ہے جتنی ہم پاکستانیوں کی ہے جو کہ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہو سکتے ہیں۔

  • کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    اگر ہم وسعت نظری اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کرنے کا سہرا باندھیں تو بلا شک و شبہ اس کا سہرا پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاستدانوں اور پارٹی ورکرز کو جاتا ہے کیونکہ 1990 سے آج کی تاریخ تک یہ واحد پارٹی تھی جس کے نمائندوں نے پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری سٹیجز پر ببانگ دہل مخالفیں جس میں پی پی پی سر فہرست تھی اوراب پاکستان تحریکِ انصاف ہے کو خوب لتاڑا اور ان کے خلاف نازیبا اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا

    اب خرابی یہ شروع ہوگئی ہے کہ بات سیاست اور جمہوریت تک رہتی تو کام چل جاتا جیسے گذشتہ تین دھائیوں سے چل رہا تھا لیکن اب تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ ن سے ایک قدم آگے جاکر پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ سماج اورمعاشرے کو بھی بد تہذیبی اور بدتمیزی کی ذد پر رکھ لیا ہے۔اب صورتِحال یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کیا تھا وہ بھی تحریک انصاف کو دیکھ کر شرمانے اور گھبرانے لگی ہے۔

    عمران خان جو قوم کی تربیت اور شعور و بالیدگی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے خود ان کا عمل انکی بہت سی باتوں کے متضاد ہے، مخالفین کے نام بگاڑنا، تہمتیں اور بہتان تراشی اور ٹپوری لینگویج کا استعمال کرنا انکوذرا بھی معیوب نہیں لگتا لیکن تسبیح ہاتھ میں پکڑے 24 سو گھنٹے غیبتیں اور چغلیاں کرنے کے بعد قوم اور مخالفین کو نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ریاست اور سیرت کی باتیں سنا کر مرعوب کرنے کا فن صرف خان صاحب کے پاس ہی ہے۔

    مسلم لیگ ن نے جس بیہودہ کلچر کی داغ بیل ڈالی تھی تحریکِ انصاف نے اسکو خوب پروان چڑھایا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے سیاستدانوں سے لیکر عام کارکن اور سپورٹر تک ایک ہی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔چھوٹے بڑے کی تمیز اور زبان سے ادب و اداب ختم ہوجائیں تو پھر انسان اور حیوان میں بس نام اور ہیت کا ہی فرق رہ جاتا ہے لیکن خصائل اور فضائل برابر ہوجاتے ہیں۔

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    اس وقت ملک میں انارکی اور کلٹ ازم و فاشسٹ ازم کی واحد نمائندہ جماعت صرف اور صرف پاکستان تحریکِ انصاف ہے جس کے شر سے نا کوئی سیاستدان، نا کوئی سرکاری نمائندہ اور ادارہ اور نا ہی کوئی صحافی محفوظ ہے۔جو بھی عمران خان یا تحریکِ انصاف پر تنقید کردے، اعتراض کردے یا سوال کرلے تو سمجھو اس نے بھڑوں کے چھتے پر وٹا مار دیا ہے کیونکہ چند منٹوں کے نوٹس پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس سوشل میڈیا سائیٹ پر وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

    تازہ واردات ان کی یہ ہے کہ پاکستان کے مایہ ناز اور انتہائی کریڈیبل اور نامور اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کو نشانے پر لے آئے ہیں، وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب نے ہمیشہ حق اور کھرے سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔ ۔ ۔ جب تک خان صاحب صحیح ٹریک پر تھے تو مبشر لقمان صاحب سمیت ہر با شعور اور غیرجانبدار صحافی کے سر آنکھوں پر تھے لیکن جب خان صاحب نے بھی ایک مافیا کی بنیاد رکھ دی اور قوم کے بچوں کو سگ بنی گالہ بنا لیا اور سیاہ و سفید کے مالک بننے کی کوشش کی تو پھر باقی تو تتر بتر ہوگئے کہ کس کو عزت اور جان پیاری نہیں، البتہ مبشر لقمان صاحب نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا بیشک کوئی کچھ بھی کہتا اور سمجھتا پھرے حق اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔

    بس اسی جرم کی پاداش میں تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس باولے ہوکر ایسے اوٹ پٹانگ ٹرینڈز لا رہے جو کم از کم شعور سے مربوط نہیں۔آج تیسرا دن ہے جب پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس مبشر لقمان صاحب کے خلاف ہر حد کراس کر رہے کیونکہ مبشر لقمان صاحب نے خان صاحب اور انکے ہمنواؤں کے خلاف اپنے چینل کے توسط سے جو نا قابلِ تردید ثبوت دیے ہیں ان سے خان صاحب تو کیا پوری تحریکِ انصاف کو سانپ سونگھ گیا ہے۔۔۔

    اگر مبشر لقمان صاحب جھوٹے ہیں تو تحریکِ انصاف عدالت کا دروازہ کھڑکائے۔۔۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب سچے ہیں اور پی ٹی آئی و سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس جھوٹے ہیں اسی لیے پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس بھرپور اینٹی کیمپین چلا کر چور مچائے شور کی مثال قائم کر رہے ہیں لیکن انکو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے ، مبشر لقمان صاحب ایسے بیہودہ حربوں سے رکنے یا جھکنے والے نہیں۔پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس بس انتطار کریں اور اپنی خیر منائیں کیونکہ مبشر لقمان ان کے لیے اکیلے ہی کافی ہیں کہ جھنڈ میں تو کتے آتے ہیں جبکہ شیر ہمیشہ اکیلا ہی آتا ہے!!!

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    لسبیلہ ہیلی حادثہ، پاک فوج کیخلاف مہم میں یوٹیوبر سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی شامل

  • علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اس کائنات میں کھربوں کھربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہیں۔ چونکہ ستارے ہم سے بہت دور ہوتے ہیں یعنی نوری سالوں کے فاصلے پر اس لئے ہمیں یہ بے حد چھوٹے اور صرف رات کے وقت آسمان پر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی خلا میں ایک سال میں طے کرے۔ روشنی کی رفتار خلا میں تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ کس قدر تیز رفتار یے اسکا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے قریب 7.5 چکر لگا سکتی ہے۔ تو گویا ایک نوری سال ایک بہت بڑا فاصلہ ہوا جو روشنی ایک سال میں طے کرے۔ کتنا؟ تقریباً 95 کھرب کلومیٹر۔

    ہماری زمین کے سب سے قریب ستارہ سورج ہے جو زمین سے اوسطاً سال میں 15 کروڑ کلومیٹر دور ہوتا ہے اور سورج سے زمین تک روشنی کو پہنچنے میں تقریباً 8 منث لگتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق پوری زمین پر انسانی آنکھ سے دیکھے جا سکتے ستاروں کی کل تعداد محض 5 ہزار کے قریب ہے مگر ان میں سے بھی آپ صرف آدھے دیکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ زمین کے ایک حصے پر رہتے ہیں۔

    سورج کے بعد زمین سے سب سے قریبی ستارہ Proxima Centauri. ہے جو زمین سے تقریبآ 4.3 نوری سال دور ہے۔ اس ستارے کیساتھ دو اور ستارے Alpha Centuari AB ایک دوسرے کے گرد مزے سے گھوم رہے ہیں۔ اس تین ستاروں کے سسٹم کے بعد زمین سے تیسرا قریبی ستارہ Barnanrd’s Star ہے جو کہ تقریباً 6 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

    زمین سے دکھنے والا سب سے روشن ستارہ Sirius ہے۔ یہ سورج سے ماس میں تقریباً 25 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین سے سے 8.7 نوری سال دور ہے۔

    اب یہ سب جاننے کے بعد آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ شبنم کی منگنی ندیم سے کیا Proxima Centuri نے تڑوائی یا کسی کی خالہ زاد سلمی اُس سے اس لئے ناراض ہوئی کہ Barnard صاحب کو سلمی ایک آنکھ نہ بھائی۔

    یا پھر صبح صبح پھجے کے پائے اور دو گلاس لسی پینے کے بعد پیٹ کے درد کا الزام بے چارے کھربوں کلومیٹر دور Sirius پر لگانا کہاں کا انصاف ہے؟

    علمِ نجوم دراصل کوئی علم نہیں ۔۔سوائے سورج کے باقی کسی ستارے کا ہماری زندگی پر کوئی بلواسطہ یا بلاواسطہ اثر نہیں۔ اگر پھر بھی آپ بضد ہیں کہ یہ ساری کارستانی ستاروں کی ہے تو پاکستان کے کسی مشہور علمِ نجوم کے "ماہر” سے اچھے سے پیپر پر زائچہ بنوا کر مجھے یہاں پیرس ارسال کر دیجیے، اس پر پکوڑے رکھ کر کھانے کا بے حد مزا آئے گا۔

  • سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سائنسدان جہاں حضرت انسان کو ملٹی پلانیٹری بنانے پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ سنہ دو ہزار پچاس میں 2 ارب چالیس کروڑ روپے میں ایک کپل سیارہ مارس پر اپنی رہائش کا بندوبست کر پائے گا۔ دو ہزار ساٹھ تک تین لاکھ لوگ مارس پر رہائش پذیر ہو چکے ہونگے۔ مکانات کے بعد سبزیاں اگا کر یونیورسٹی اور ہسپتال بننا شروع ہوچکے ہونگے۔ اور ایمازون مارس پر زمین سے ڈاک و دیگر پراڈکٹس ڈیلیور کرنے کی خدمت راکٹس کے ذریعے سر انجام دے گا۔

    وہیں انسانوں کو بیماریوں سے بچانے اور بڑی سی بڑی بیماری کو چند لمحوں یا گھنٹوں میں ٹھیک کرنے پر بھی دنیا بھر کے سائنسدان کام کررہے ہیں۔ تقریباً سو بیماریوں کے علاج کو سٹیم سیل تھراپی سے جوڑا جا رہا ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے اس طریقہ علاج سے ہڈیوں کے کینسر bone marrow کا علاج سنہ 1957 میں اس طریقہ علاج کے موجد ای ڈونل تھامس E.Donnall Thomas نے کیا۔ جنہیں 1970 میں فلسفہ اور طب کی فیلڈ میں خدمات پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

    سٹیم سیل کیا ہے؟ پہلے یہ دیکھتے ہیں۔

    قدرتی یا مصنوعی (ivf) طریقے سے انسانی نطفے (سپرم) اور بیضے (ایگ) کے ملاپ سے جو زائیگوٹ وجود میں آتا ہے۔ وہ انسانی وجود کی ایک بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ زائیگوٹ بھی ایک سٹیم سیل ہے جو مزید سٹیم سیلز بنا دیتا ہے) زائیگوٹ کے سٹیم سیل کے کردار کو آپ ایسے سمجھ سکتے کہ جب زایئگوٹ تقسیم ہونے کے دوران الگ ہو جائے تو دونوں زائیگوٹ الگ مکمل جاندار بنا دیتے ہیں۔ جنہیں جڑواں کہا جاتا ہے۔ جو ہوبہو ایک دوسرے کی کاپی ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ساخت میں ایک سٹیم سیل ہوتا ہے جس میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 23 باپ کی طرف سے اور 23 ماں کی طرف سے۔ اس ذائیگوٹ کو مشکل سے ہی انسانی آنکھ سے دیکھ سکتی ہے۔

    یہ ذائیگوٹ بڑی تیزی سے ایک سے دو ، دو سے چار اور چار سے آٹھ سیلز میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے بغیر تقسیم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس تقسیم کے عمل کو مٹوسس mitosis کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم ہوتے ذائیگوٹ سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک سیل نکال کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جسے سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سٹیم سیل کی پہلی اور سب سے زیادہ اہم قسم ہے۔

    یہ والا سٹیم سیل ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ وہ گوشت یا پٹھے ہوں دل ہو ہڈیاں ہوں مسلز یعنی پٹھے ہوں بال ہوں خون ہو جسم کا کوئی بھی حصہ خراب ہوجانے یا کٹ جانے پر دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پانچ دن کے بعد یہ زائیگوٹ فلاپیئن ٹیوب سے ماں کے رحم میں سرکنا شروع کرتا ہے۔ اور بلاسٹو سسٹ Blastocyst کی شکل اختیار کرتا ہے۔ بلاسٹو سسٹ دو ہفتوں کے بعد ایمبریو میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس ایمبریو سے بھی سٹیم سیل نکالا جاتا ہے۔ جسے ایمبریونک سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سیل بھی بہت زیادہ سیل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ ذائیگوٹک سٹیم سیل کی طرح جسم کا ہر حصہ دوبارہ بنانے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ سٹیم سیل کی دوسری قسم ہے۔

    اس ایمبریو کے گرد پیاز کے چھلکے جیسی اسکن کی ایک باریک تہہ بننا شروع ہوتی ہے۔ اور یہ ایمبریو پلاسینٹا (خوراک و آکسیجن کی نالی) سے جڑ جاتا ہے۔ باریک تہہ کے اندر ایک لیس دار پانی جسے لائیکر یا Amniotic fluid کہتے ہیں بننا شروع ہوتا ہے۔ یہ پانی کوئی عام پانی نہیں ہوتا. اس میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں. جنہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔
    یہ سٹیم سیل کی تیسری قسم ہے۔

    اسکے بعد جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ تو بچے کے ساتھ ہی پلاسینٹا ماں کے رحم سے باہر آتا ہے۔ اس نالی میں بھی خون کی کچھ مقدار ہوتی ہے۔ جسے بلڈ کارڈ یا کارڈ بلڈ کہتے ہیں۔ اس کارڈ بلڈ میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں جنہیں پہچان کر اس خون سے نکال لیا جاتا ہے۔ یہ سٹیم سیل کی چوتھی قسم ہے۔

    اسکے علاوہ کسی بھی عمر کے انسانی جسم کے کسی بھی حصے، گوشت اور عموماً کولہے کی ہڈیوں میں سے اس فرد اپنے سٹیم سیلز بھی تلاش کرکے نکالے جاتے ہیں۔ سٹیم سیلز عام سیلز سے رنگ و ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ سٹیم سیلز کی اب تک کی دریافت شدہ پانچویں اور آخری قسم ہے۔

    ذائیگوٹک، ایمبریونک، ایمنیوٹک فلیوڈ سے نکالے گئے سٹیم سیل پر مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظات ہیں۔ کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اسلامی، عیسائی، یہودی اور بھی کئی مذہبی حلقے شروع سے پہلی دو اقسام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ کہ جس ذائیگوٹ یا ایمبریو سے یہ لیے جائیں گے اسے بھی کوئی خطرہ پہنچنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اور یہ قانون فطرت میں چھیڑ چھاڑ تصور ہوتی ہے۔ جو جائز نہیں۔ خیر یہ ایک اور لامتناہی بحث ہے۔ سائنسدان اب ماں کے پیٹ سے باہر مصنوعی طریقے سے بنائے گئے ذائیگوٹ جس میں نطفہ اور بیضہ انسانی ہی ہوتا ہے۔ پہلے دونوں سٹیم سیل نکال رہے ہیں۔ وہ اب حاملہ ماں کے رحم سے کوئی سیل نہیں نکالتے۔

    کارڈ بلڈ اور انسان کے اپنے سٹیم سیلز پر کسی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں انہی دونوں اقسام کا استعمال مسلمان حلقوں عام ہوا ہے۔ جو پاکستان میں بھی پانچ سال قبل شروع ہو چکا ہے۔

    سٹیم سیل اپنے اندر مزید سیلز بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور بیماری کی تشخیص نوعیت لیول کا تعین ہونے کے بعد ڈاکٹر دیکھتا ہے۔ کہ سٹیم سیل کی کونسی قسم اسکا بہتر علاج ہو سکتی ہے۔ پھر سٹیم سیل کو خون میں جدید مشینری کے ذریعے شامل کرکے متاثرہ جگہ پر انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ دل کے امراض، نابینا پن کا علاج، مرگی، آٹزم، جگر کے مردہ سیلز کو زندہ کرنا، ہڈیوں کا کینسر، کمر کے مسلز کا کچلا جانا جسکی وجہ سے نچلا دھڑ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ منیبہ مزاری اس نچلے دھڑ کے ناکارہ ہونے کی ایک مشہور مثال ہے۔

    اور بھی کئی بیماریوں اور معذوریوں کو سٹیم سیل سے ٹھیک کرنے کے دنیا بھر میں ہزاروں کامیاب تجربے ہوچکے ہیں۔ ہزاروں لوگ جزوی و مکمل بینائی حاصل کر چکے ہیں۔ اور کئی لوگ حادثوں کی وجہ سے ویل چیئر پر چلے جانے کے بعد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ بلکہ اب تو سٹیم سیل سے نئی ہڈیاں اور اسکن سیلز بنانے کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ بری طرح ٹوٹی ہوئی جڑنے کے ناقابل اور ناکارہ ہڈیوں کو جسم سے باہر بنائی گئی بلکل قدرتی ہڈی سے بدلہ جاسکے گا۔ آنکھ کے قارنیہ تو ہزاروں لوگوں کے ری پلیس کیے جا چکے ہیں۔ جس سے انکی بینائی لوٹ آئی ہے۔ جسم کے جلنے والے حصے کو اسی انسان کے سٹیم سیلز لیکر نئی جلد اگا کر جسم کے ساتھ جوڑی جا سکے گی۔ پلاسٹک سرجری کی جگہ حقیقی جلد لینے کے بلکل قریب ہے۔

    میرا موضوع آٹزم ہے تو اس مرض کے علاج میں اب تک کا سب سے موثر ترین علاج سٹیم سیل تھراپی ہی ہے۔ جسکے دنیا بھر میں نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ جسم کے وہ سیلز جو خراب ہوتے ہیں۔ جنکی وجہ سے آٹزم کا شکار بچوں میں مختلف مسائل پائے جاتے ہیں۔ ان سیلز کو سٹیم سیلز سے بدل دیا جاتا ہے۔ خراب سیلز کے ساتھ سٹیم سیلز جڑ کر نئے اور تندرست سیلز بغیر کسی بھی فالٹ کے بنانا شروع کرتے ہیں۔ اور نئے تندرست سیلز کی بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد پرانے خراب، ڈیمج سیلز پر غالب ہو کر بیماری کے اثر کو کم کرنا شروع کر دیتے ییں۔

    سٹیم سیلز تھراپی کراچی اور اسلام آباد میں کامیابی سے کی جارہی ہے۔ علاج زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ پیسے جتنے بھی لگیں جب بچہ ٹھیک ہونے لگے تو پیسے بھول جائیں گے۔ کچھ دھوکے باز ڈاکٹرز مختلف شہروں میں پی آر پی PRP کو ہی سٹیم سیل تھراپی بتا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سٹیم سیل تھراپی میں استعمال ہونے والی مشینیں بہت مہنگی ہیں جو ہر کوئی نہیں خرید سکتا۔ (پی آر پی کیا ہے یہ کسی اور دن سہی۔ یا ابھی خود سرچ کر لیں)

    آٹزم سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق اس وقت تین لاکھ پچاس ہزار 350٫000 بچے آٹزم کا شکار ہیں۔ ان بچوں کے لیے یہ ایک گیم چینجر طریقہ علاج ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی یونیورسٹیاں سٹیم سیل پر تحقیق کر رہی ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ طریقہ علاج ہر بیماری کے لیے استعمال ہوگا۔

    (مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس)