Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • احسان — عبداللہ سیال

    احسان — عبداللہ سیال

    احسان کو اگر بطور ہم قافیہ انسان کے دیکھا جائے تو اس کا مفہوم واضح ہونے میں تمام تر مشکلات زائل ہوجاتی ہیں. یعنی انسان وہ ہے جو احسان کرتا ہے. بالکل اسی طرح احسان کو بطور ہم قافیہ حیوان کے دیکھا جائے تو اس کا مفہوم مزید واضح ہو جاتا ہے. یعنی جو احسان نہیں کرتا، وہ حیوان ہے.

    لفظ احسان کو توڑ کر تفصیل نچوڑی جائے تو اس لفظ کے ہر حرف نے اپنے اندر ایک وسیع معنی سما رکھا ہے.

    ا سے انسانیت
    ح سے حاصل
    س سے سویرا
    ا سے اندھیرا
    ن سے نزول

    تشریح اس کی یوں کرتا ہوں کہ احسان، ایک ایسا عمل جس کی بدولت معاشرے میں ہر انسان کو دوسرے انسان سے سویرے و اندھیرے انسانیت حاصل ہوتی رہے، یوں کہ جیسے صبح و شام معاشرے پر انسانیت کا نزول ہو رہا ہو. انسانیت سے لبریز، اخلاقی اقدار سے بھرپور ایک معاشرہ جہاں انگلی کا زخم پورے جسم کو تھکا دے اور جہاں دل کا گھاؤ آنکھوں کو رلا دے، احسان اور احسان مندی سے ہی وجود میں آسکتا ہے.

    یہی وجہ ہے کہ آفاقی ذریعۂ ہدایت، جو تاقیامت انسانوں کیلئے مشعلِ راہ ہے، میں خالقِ انسان، انسان کو مخاطب کرکے احسان کی تلقین کرتا ہے اور پھر وہ جو محسن ہوں، ان  کو پسندیدگی کی سند بھی تھما دیتا ہے کہ

    "ان اللہ یحب المحسنین.”

    اب جس کو رب العزت کی پسندیدگی چاہیے تو اسے چاہیے کہ احسان کرے اور جو اس پسندیدگی کا پاس رکھنا چاہے، اسے چاہیے کہ مزید احسان کرے اور امر ہوجائے.

    خود رب العالمین نے احسان کیا جو ڈوبتی کشتئ انسانیت کو پار لگانے کے واسطے اپنے محبوب کو ناخدا بنا کر بھیج دیا.

    اسی مسیحا کے ذریعے انسان کو نیکی کا حکم دیا گیا. بہت سی نیکیوں میں احسان کو سب سے بڑی نیکی مانتا ہوں. اس لیے کہ یہ وہ نیکی ہے جو فرض نہیں تھی. فرض تو فرض ہوتا ہے، فرض ادا کیا تو کیا احسان کیا؟ لیکن اگر بغیر کہے، بنا پوچھے کسی پر احسان کر دیا تو یہ اصل نیکی ہے جو کیے جانے والے شخص کو ہمیشہ اپنے محسن کو یاد رکھنے پر مجبور کردیتی ہے.

    روئے حدیث سے اس بات پر مہر ثبت ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے. چنانچہ توفیق خداوندی سے احسان کرنے والا ہمیشہ ایک درجہ اوپر رہتا ہے اور جس پر احسان کیا جائے، وہ مغلوب ہوتا ہے. یہ امر بھی واقعی ہے کہ مغلوب جو ہوتا ہے، اس کو رہ رہ کر غالب اور کارہائے غالب، جو غالب نے مغلوب کی مدد کیلئے کیے ہوں، یاد آتے ہیں.

    چنانچہ وہ جو احسان کرتے ہیں، اپنے احسانات سمیت ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں اور صفحۂ ہستی پر ان کے ان مٹ نقوش رہ جاتے ہیں.
    لب لباب یہ کہ انسان کو چاہیے حتیٰ المقدور احسان کرتا جائے. نہ احسان کے بدلے احسان قبول کرے نہ احسان کے انکار پر آگ بگولہ ہو، کیونکہ دونوں صورتوں میں وہ درجۂ احسان سے گر جاتا ہے اور کبھی یاد نہیں کیا جاتا.

  • نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبی کریم ص کی نبوی زندگی مبارکہ کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی دور ۔۔۔

    مکی زندگی میں نظام تعلیم اتنے موثر انداز میں نہیں تھا تاہم درسگاہ ابی بکر ، درس گاہ فاطمہ ، درسگاہ دار ارقم اور شعب ابی طالب میں آپ ص نے اپنے اصحاب اور دیگر لوگوں کی تربیت کا خوب اہتمام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد آپ ص نے جب مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو ایک حصہ ایسے لوگوں کے لیے مختص کیا گیا جو بے گھر مسلمان تھے ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نہ صرف بے گھروں کو گھر میسر آیا بلکہ اصحاب صفہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    چنانچہ اصحاب صفہ کی تعمیر کے ساتھ ہی منظم تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا ۔اور یہ وہ تربیت تھی جس کے ایسے شاندار اثرات نمایاں ہوئے کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آگیا ۔

    ایسے عظیم لوگوں کی جماعت قائم ہوئی جن کی نظیر زمانے میں ملنا مشکل ہے ۔ ان کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے اور آج کا عقل و شعور رکھنے والا انسان دنگ رہ جاتا یے کہ ایسے زمانے اور حالات میں اس طرح کی قوم کا منصہ شہود پر آنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔
    اور یہ حیرت انگیز کام نبوی نظام تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ۔

    یہ وہی تربیت ہے جس نے کہیں عمر رض جیسے عادل کہیں ابو طلحہ انصاری جیسے ایثار پسند کہیں مال و دولت کو راہ خدا میں لٹانے والے عثمان غنی کہیں بہادری و شجاعت کے علمبردار حضرت علی اور جری و مجاہد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنھم پیدا کیے ۔

    اس کے برعکس موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو کھوکھلی عمارت نظر آتی ہے ۔ کہیں الحاد کے شاخسانے کہیں بے حیائی کے فسانے کہیں لبرل ازم کے افکار کہیں سیکولرازم کے انظار کہیں احساس کمتری کے شکار اور کہیں بے دینی کے مینار نظر آئیں گے ۔

    دن بدن بڑھتی ہوئی نشہ آوری کہیں چوٹی پر چڑھتی ہوئی بے حیائی اور کہیں خودکشیوں کے گھناونے ارتکاب کرتے ہوئے طلباء موجودہ نظام تعلیم کے کھوکھلے پن کو ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ۔

    ڈگریوں کو لیے دربدر تلاش نوکری کے ستائے لوگ مایوسیوں کی وادی میں نظر آئیں گے ۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم علم نہیں بلکہ معلومات ہے یہ تربیت نہیں بلکہ پیسے کمانے کے بہانے ہیں ۔

    جب نظام تعلیم نبوی اصولوں پر مبنی نہیں ہوگا تو اس معاشرہ فلاح و بہبود کی طرف جانے کی بجائے ہلاکت و تباہی کے طرف جائے گا۔

    موجودہ معاشرے میں نظام تعلیم اسی صورت موثر ہوسکتا ہے جب نسل کے اذہان و قلوب میں ایمان کے چراغ اللہ کا خوف و تقوی اور اسلام کی بالادستی کو راسخ کیا جائے گا ۔

  • پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پرسوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والا میچ ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے جیت لیااس میچ میں افغانستان نے ایک ہارے ہوئے میچ کو جس جذبے کے ساتھ کھیلا اور اسے آخر تک لے کر گئے وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔

    جبکہ پاکستان نے ایک ون سائیڈڈ میچ کو جس طرح اپنے لئے مشکل بنایا کہ ایک وقت میں پاکستانی شائقین کرکٹ ذہنی طور پر ہارنے کے لئے تیار ہو گئے وہ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ کے لئے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے۔

    ویسے حیرانگی کی بات ہے ہمارے پاکستانی کھلاڑی جب غیر ملکی ٹیموں کی کوچنگ کرتے ہیں تو ان کی پرفارمنس میں واضح فرق نظر آتا ہے جیسے ماضی میں ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد اس کی مثال ہیں اور ابھی عمر گل افغانستان کے باؤلنگ کوچ ہیں، اور ان کی کوچنگ کے نتائج اس میچ میں واضح نظر آئے۔

    پرسوں کے میچ میں افغان کھلاڑی کی ساتھ آصف کےساتھ تلخ کلامی اور دھکا دینا بلاشبہ کوئی اچھا واقعہ نہیں ہے لیکن پریشر میچوں میں اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں اور میچ کے بعد کھلاڑی یا ٹیم کے سینئر ان واقعات کو رفع دفع بھی کرا دیتے ہیں۔

    لیکن حیرانگی کی بات افغان کرکٹ شائقین کی طرف سے ہارنے کے بعد اختیار کرنے والا رویہ تھا ویسے عرب تارکینِ وطن کی طرف سے امن و امان خراب کرنے کی کوششوں سے انتہائی سختی سے نبٹتے ہیں اور جن لوگوں نے کل اسٹیڈیم میں بدمعاشی کی وہ ان کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے ۔

    کرکٹ کے میدان میں پاکستان بمقابلہ بھارت اور انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا ایسے مقابلے ہیں جن میں اپنی ٹیم کی فتح شائقین کرکٹ کے لئے ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہےلیکن ان جذبات کی وجہ ماضی کے واقعات ہی۔

    اس کے علاوہ دیگر ٹیموں کے مابین مقابلے شائقین کرکٹ کے لئے کھیل سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے لیکن افغانستان کی کرکٹ ٹیم کا جو رویہ دوران میچ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہوتا ہے وہ دیگر ٹیموں کے ساتھ نہیں ہوتا جو کہ ایک معنی خیز بات ہے

    ہم افغانستان کو برادر اسلامی ملک کہتے ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی بےبہا قربانیاں ہیں افغان مہاجرین کا بوجھ پاکستان نے اٹھایا ہوا ہے اس کے علاوہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے۔

    ایسے عالم میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیل کے مقابلے کو کھیل سے زیادہ جنگ بنانا کیا یہ افغان ٹیم اور شائقین کے اندرونی جذبات ہیں یا اس کے پیچھے آئی سی سی کی پالیسی ہے ۔

    کہ دونوں ٹیموں کے باہمی کرکٹ مقابلوں کو انتہائی جذباتی بنا کر زیادہ سے زیادہ کرکٹ شائقین کی توجہ حاصل کر کے آئی سی سی کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ عرب ممالک میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور افغانستان کے تارکین وطن کی اکثریت رہائش پذیر ہے اور پاکستان اپنے ملکی حالات کی وجہ سے ہوم سیریز مجبوراً یو اے ای میں کراتا ہےاس سوال کا جواب آنے والے وقت میں ہی معلوم ہو گا.

  • جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    کوئی مجھ سے پوچھے کہ جمہوریت کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟

    تو میرا جواب ہوگا۔

    نفرت,

    جی بلکل نفرت اس جمہوریت کی وہ بدترین خامی ہے جو پوری شد ومد کے ساتھ اس کا حصہ ہے۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ جمہوریت, آزادی رائے اور حق خود ارادیت کے سنہرے خوابوں کی آڑھ میں جو انتخاب کا حق تفویض کرتی ہے اسکی بنیاد طرفین میں نفرت کو پروران چڑھانا ہوتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں بیان کروں تو جمہور نفرت کے بغیر انتخاب جیسا عمل تکمیل تک نہیں لیکر جاسکتے۔

    چونکہ جمہوریت ہر انسان کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حکمران بننے کا اہل ہے مگر جمہور کے انتخاب اور طاقت سے تو عوامی رائے تقسیم ہوجاتی ہے۔

    عوامی رائے کا منقسم ہونا, دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا نفرت اور حقارت کے نتیجے میں رد ہونا اور دوسرے کا منتخب ہونا ہی دراصل جمہوریت ہے۔

    کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

    کیا پاکستان کی بیس کروڑ عوام اس وقت اسی جمہوریت کی بدولت منتشر اور ایک دوسرے سے متنفر نہیں؟

    کیا نواز شریف کے ووٹر اور سپورٹر عمران خان اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    کیا عمران خان کے ووٹر اور سپورٹر نواز شریف اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    اسی طرح باقی سیاسی لیڈران اور اور انکے ووٹران و سپورٹران آپس میں سیاسی, جمہوری اور ذاتی بنیادوں پر متنفر نہیں؟

    جب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب تک طرفین ایک دوسرے کے لیئے نفرت اور حقارت دل میں نہیں پالیں گے تب تک جیت انکا مقدر نہیں ہوگی تو پھر کیوں اس نظام کو اتنا سینوں سے لگایا جاتا ہے؟

    کوئی بھی مجھے اس کے رد میں دلیل نہیں دے سکتا؟

    خواہ کتنا ہی مہذب معاشرہ کنگھال لیں جہاں جمہوریت ہوگی وہاں نفرت کا عنصر عوامی سطح پر غالب ہوگا۔

    نواز شریف اور عمران کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    ذرداری اور نواز شریف کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    عمران اور ذرداری کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    غرض ہر سیاستدان جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو ہی فروغ دے رہا ہے۔

    ہر مذہبی لیڈر جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    ہر سیکولر سربراہ جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو سہلا رہا ہے۔

    عوام محدود پیمانے کی یکطرفہ محبت میں مبتلا ہوکر میں, میرا اور میرے لیئے کی خاطر نفرتوں میں الجھ کر جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے مگر دراصل اپنا قومی اور ملی تشخص چند لوگوں کے ذاتی مفادات کی خاطر انکے پاس ہی گروی رکھ کر نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    اس جمہوری نفرت نے خواص و عوام کو دھڑوں میں تقسیم درد تقسیم کردیا ہے۔

    یہاں تک کہ آج ایک ہی گھر کے چار افراد ہوں تو سب کی محبت الگ الگ سیاسی لیڈروں سے منسلک ہوگی اور نفرت کا تو یہ حال ہوگا کہ رشتے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔

    بلا تخصیص اور بلا تفریق نفرت فی سبیل ﷲ نے اس قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

    وجہ صرف یہ جمہوریت ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب کا لولی پوپ دیا جاتا ہے جو دراصل کوٹڈ ہوتا ہے۔جیسے جیسے اسکی مٹھاس ماند پڑتی ہے ویسے ویسے نفرت کی کڑواہٹ اپنا اثر دکھانا شروع کردیتی ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب بغیر نفرت کے ممکن نہیں اس لیئے جمہوریت کوئی اخلاقی نظام نہیں۔

    نفرت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    رہ گئی بات مذہب کی تو مذہب تو جمہوریت کے ویسے ہی خلاف ہے۔

    شاید اسکی یہی وجہ ہے۔

    بہرحال اگر نفرتوں سے دل برادشتہ ہیں تو جمہوریت کا نشہ اتاریں اپنے سروں سے یا پھر اس جمہوریت کی تلاش کریں جو نفرت کی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔

  • عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی
    تبدیلی آ گئی سے لے کر انقلاب آرہا ہے تک قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے عمران خان کو کون سمجھائے تبدیلی قربانی مانگتی ہے اور سیاست میں ہمیشہ قربانی عوام نے دی ہے ۔ بلاشبہ اس وقت عمران خان نوجوانوں میں مقبول ہیں بہت ہی بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں اور عمران خان اپنے آپ کو سقراط پیش کرنے کی ناکام کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے آ پکو عصر حاضر کا سقراط سمجھنے والے جانتے ہیں کہ سقراط نے مشروب اجل کیوں پیا تھا؟ وہ بے گناہ تھا مگر مشروب اجل کو منہ سے لگا لینے کا مقصد اس وقت کے عدالتی فیصلے کو قبول اور سرخم تسلیم کرنے کا مقصد ایک ادارے کی عزت اور وقار کو برقرار رکھنا تھا۔ مگر ہمارے آج کے سقراط جلسوں، چوراہوں، گلی محلوں میں اپنے اداروں پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔ وہ پاک فوج ہو، عدلیہ ہو یا پھر صحافی، صحافیوں کو بھرے جلسے میں لفافہ صحافی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    کیا اسے قومی فریضہ کہا جاتا ہے ؟ کسی محب وطن پاکستانی کو میر جعفر اور میر صادق کے نام سے جلسوں میں پکارا جاتا ہے نوجوان نسل کے ذہنوں میں کیا بھرا جا رہا ہے؟ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں کیا یہ نوجوان نسل کی تربیت ہو رہی ہے؟ہم ایک ایٹمی ملک بھی ہیں اور بہادر قوم بھی اور ہماری فوجی طاقت ملک کے دفاع اور قوم کے دفاع سب کچھ لٹا سکتی ہے کیا ہماری فوج یا بہادر قوم کسی میرجعفر یا میر صادق کو برداشت کر سکتی ہے؟ جو اس ملک و قوم کے لئے خطرہ ہو ہیں ایسا ہرگز نہیں۔

    ملک میں انقلاب کے دلفریب نعرے لگائے جا رہے ہیں کیا انقلاب کی حقیقت جانتے ہیں انقلاب کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہوتا۔ ہر چند کے موجودہ پی ڈی ایم کی حکومت بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی لیکن ہرگز ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ میر جعفر یا میر صادق ہیں یا انہیں ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا جائے۔ سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، میر جعفر میر صادق، دہشت گرد، ملک کے لئے اگر ایک دوسرے کو خطرہ قرار دیتے رہے تو پھر اس ملک کی عوام اور جمہوریت کا کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس بہت زیادہ وسائل ہیں ہم اگر مقروض اور بدحال ہیں تو ہماری بدحالی بدانتظامی کی وجہ سے ہے ۔ اگر سیاستدانوں نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں پھر ہمیں بدل دیا جائے گا ابھی بھی وقت اس وطن عزیز کی اور قوم کی خاطر جمہوریت کو مستحکم کرنے کی خاطر ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کی خاطر، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی خاطر اپنے آپ کو بدل لیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    ارد گرد ممالک کی پالیسیاں بدل رہی ہیں ہم ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشت گرد قرار دے کر کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟

  • زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اکثر آپ نے ہالی وڈ کی فلموں میں زومبی دیکھے ہونگے۔ فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ زومبی دراصل چلتی پھرتی گلی سڑی لاشیں ہوتی ہیں جو کسی وائرس کے پھیلاؤ سے، یا کسی اور زومبی کے کسی نارمل انسان کو کاٹنے سے بن جاتے ہیں۔ زومبیوں میں سوچنے سمجھنے یا ماحول کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔ اّن میں صرف ایک ہی صلاحیت ہوتی ہے۔ بندہ یا گوشت کھانا۔ زومبی کا تصور انسانی تہذیبوں میں کب آیا اور یہ فلموں میں کب نمودار ہوئے؟ پہلے یہ جانتے ہیں۔

    آثارِ قدیمہ کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ قدیم یونانیوں میں زومبی یعنی مرنے کے بعد دوبارہ چلنے پھرنے والے مردوں کا خوف موجود تھا۔ اّنہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ کئی علاقوں سے ایسی قبریں ملی ہیں جن میں ڈھانچوں کے اوپر بڑے بڑے پتھر رکھے جاتے تھے۔ غالباً اس خیال سے کہ مردے دوبارہ سے چلنا شروع نہ ہو جائیں۔

    ماضی قریب میں دیکھیں تو شاید ستروییں صدی میں زومبی سے متعلق لوک داستانیں شمالی امریکہ کے ملک ہائیٹی میں ملتی ہیں۔ جہاں گنے کی کاشت کے لئے افریقہ سے غلام لائے جاتے۔ ان داستانوں میں زومبی ایک طرح سے ان غلاموں کی مشکل زندگی یا مر کر کی آزاد ہونے کی تشبیہ کے طور پر استعمال ہوتی۔

    مغربی افریقہ ، برازیل اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں ‘ووڈو” مذہب کے ماننے والوں میں بھی زومبی کا تصور ہایا جاتا ہے۔ ان میں کچھ کا یہ ماننا ہے کہ اس مذہب کے پیشوا جنہیں "بوکور” کہا جاتا ہے, وہ جڑی بوٹیوں، ہڈیوں اور جانوروں کے گوشت سے ایک سفوف سا تیار کرتے ہیں جس سے انسان زومبی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس سفوف کو زومبی پاؤڈر کہتے ہیں۔

    سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ اگر کسی شخص کو ایک خاص طرح کا کیمکل جو شاید زومبی پاؤڈر میں بھی موجود ہو، جسے tetrodotoxin کہتے ہیں۔ اگر اسکی معمولی مقدار دی جائے تو چند ایسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن سے ںظاہر ایک انسان زومبی سا دکھے یعنی اُسے چلنے پھرنے میں دشواری ہو، سانس اُکھڑنا شروع ہو جائے یا وہ کنفوژن کا شکار ہو جائے۔ اس کیمیکل کے زیادہ استعمال سے انسان کوما میں بھی جا سکتا ہے یا مر بھی سکتا ہے۔

    البتہ جس طرح سے فلموں میں زومبی دکھائے جاتے ہیں انکا سائنس میں کوئی ٹبوت نہیں ۔یہ محض فکشن ہے۔ زومبی کے تصور نے جدید دور میں اُس وقت زور پکڑا جب 1962 میں ایک فلم آئی Night of the Living Dead۔ اس فلم کی مقبولیت کے بعد ہالی وڈ میں اب تک کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں زومبی دکھائے جاتے ہیں۔ ان فلموں میں موجود زومبی چلتی پھرتی لاشیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہیں۔

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔

    ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

    مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔

    اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔

    2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک کا لفظ یونانی زبان کے لفظ "پلاسسٹیکوس” سے نکلا ہے جسکے معنی مختلف اشکال میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط تک صنعتی ترقی کے باعث جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہونے لگا۔ اُس زمانے میں ہاتھی دانت کا استعمال مختلف اہم اشیا میں ہوتا جیسے کہ پیانو کے کی بورڈ میں یا سنوکر بالز میں۔ اسی طرح کچھوؤں کے خول سے کنگھی بنائی جاتی۔ اور دیگر جانوروں کی ہڈیوں یا سینگوں سے مختلف طرح کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ۔ ایسے میں کئی جانوروں کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی میٹریل کی تلاش تھی جو پائیدار اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سستا بھی ہو۔ یہ بات آپکو حیران کن لگے مگر پلاسٹک کی ایجاد دراصل ماحول اور جانوروں کو بچانے کے لیے کی گئی۔ 1862 میں برطانیہ کے ایک کیمیاء دان الییکسنڈر پارکِس نے ایسا میٹریل ایجاد کیا جسے دنیا کا سب سے پہلا پلاسٹک کہا جا سکتا ہے۔ (ویسے فطرت میں بھی کچھ قدرتی پلاسٹک پائے جاتے ہیں). اس پلاسٹک کا نام پارکیسائن رکھا گیا۔ اسے مختلف اشیاء میں ہاتھی دانت اور کچھوے کے خول کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا مقصود تھا۔ یہ پلاسٹک دراصل کپاس کے دھاگوں کو گندھگ اور نائیٹرک ایسیڈ میں حل کر کے بنایا جاتا جسکے بعد اس میں سبزیوں سے نکلا تیل شامل کیا جاتا۔ بعد میں اس پلاسٹک کا استعمال سینما گھروں کی ریلز میں، کنگھوں میں اور بلیئرڈ کی گیندوں میں عام ہونے لگا۔ سستا ہونے کے باعث اب یہ عوام میں مقبول ہونے لگا۔ مگر اسکا استعمال ابھی بھی محدود تھا۔

    1907 میں بیلجیم کے ایک کیمیا دان لیو بائیکی لینڈ نے پہلا ستنھیٹک پلاسٹک متعارف کرایا۔ یہ محض دو کیمیکلز کے کو لیبارٹری میں حرارت اور دباؤ کے زیرِ اثر لا کر بنایا گیا۔

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد خام تیل اور پلاسٹک انڈسٹری کے اشتراک سے پلاسٹک ٹیکنالوجی مزید بہتر آئی اور اسکا استعمال پیکنک اور روزمرہ کی اشیاء میں بڑھتا گیا۔

    بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام طرح کا پلاسٹک ماحول کے لئے برا ہے۔ یہ بت مکمل نہیں ۔ دراصل ایک بار استعمال ہونے والا پلاسٹک ماحول کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    چند اور اہم مسائل بھی پلاسٹک سے جڑے ہیں۔جن میں اس کی تیار ہونے کے عمل میں زیریلی اور مضرِ صحت گیسوں اور کیمکلز کا اخراج اور قدرتی ماحول میں ڈی کمپوز نہ ہونا شامل ہے۔ پلاسٹک کی عمر بے حد طویل ہوتی ہے۔ایک پلاسٹک کے ٹکڑے کو جو بوتلوں، پییکنگ یا گھریلو استعمال کے کام اتا ہے، ماحول میں ڈی کمپوز جعنی گلنے سڑنے ہونے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔وجہ یہ کہ اسےقدرت میں موجود بیکٹریا یا دیگر مائیکروب آسانی سے کیمیائی طور پر توڑ نہیں سکتے۔اسکے علاوہ یہ آکسیجن یا فضا میں موجود دیگر گیسوں یا پانی میں موکود کئی کیمکلز سے کیمیائی تال میل نہیں رکھتا۔

    یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو صحیح طور پر ٹھکانے لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ نکاسی آب کے راستے دریاؤں، ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندروں تک جا پہنچتا ہے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں جاتا ہے۔

    پلاسٹک محض سمندروں میں نہیں، اسکے چھوٹے چھوٹے ذرات ہماری خوراک، ہوا اور پینے کے پانی میں بھی موجود ہوتے ہے۔ اسے مائیکرپلاسٹک کہتے ہیں۔ یہ محض انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے پودوں اور جانوروں کی نشونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے آج سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔اسکے استعمال کو روکنے یا کم کرنے کے لئے پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے بہت سی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں آگاہی مہم چلا رہی ہیں ۔ اسکے علاہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر پلانٹس لگائے جا رہے ہیں۔

    کولڈ ڈرنک اور دیگر خوراک بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کی زیادہ سے زیادہ ری سائیکلنگ کریں۔

    مثال کے طور پر جرمنی یا دیگر یورپی ممالک میں آپ کولڈ رنکس یا پانی کی بوتلیں خریدنے جائیں تو اس کی کل قیمت پر آپکو اضافی 25 سے 30 سینٹ دینے پڑتے ہیں۔ یہ رقم پلاسٹک کی بوتل کی ہوتی ہے جو بوتل خالی ہونے کے بعد جب آپ سپر مارکیٹ کے باہر لگی مشین میں ڈالتے ہیں تو آپکو واپس کر دی جاتی ہے۔ مقصد گاہک کو مجبور کر کے پلاسٹک کی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کو یقینی ںنانا ہوتا ہے ۔
    بالکل ایسے ہی کئی ممالک میں پلاسٹک، پیپر اور کھانے پینے کے کوڑے کے لیے جگہ جگہ الگ رنگ کے کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ تاکہ بہتر طریقے سے مختلف قسم کے کوڑے کو الگ کر کے اسے ری سائیکل کیا جا سکے۔

    پلاسٹک کی آلودگی کو روکنے کے لیے 30 مائیکرمیٹر سے موٹے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُڑ نہ سکیں، پائیدار ہوں اور بار بار استعمال کیے جا سکیں۔ جبکہ ہماری ہاں عوام دہی کے لیے بھی کہتے ہے کہ شار ڈبل کروا رہی ہوتی ہے اور زرا سی ہوا چلنے سے شاپر قوم کی مہنگائی کو دیکھ کر اُڑنے والی نیندوں کیطرح اُڑ رہے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ زرعی ملک ہے لہذا یہاں ایک وسیع آب پاشی کا نظام ہے۔

    شہروں میں آبادی بڑھنے، ، پہاڑی علاقوں کی سیاحت اور عوام میں بے حسی کے اضافے کے باعث ہماری آبی گزرگاہیں، شہر، دیہات سب پلاسٹک کی لپیٹ میں ہیں۔۔یوں لگتا ہے کچھ عرصے بعد پورا ملک پلاسثک کا بن جائے گا۔

    مگر اس آلودگی کو لیکر حکومتی سنجیدگی، واضح پالیسی یا حکمت عملی کا مکمل فقدان ہے۔اشرافیہ میں بیٹھے "محترم” بابے خود شاپر کی شکل کے ہوتی جا رہے ہیں۔ توندیں اور بے حسی بڑھتی اور عقل اور سر کے بال گھٹتے جا رہے ہیں۔

    پلاسٹک کے تھیلوں پر کسی خاص علاقے یا شہر میں پابندی لگا دینا ہی کافی نہیں ۔ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانا، پلاسٹک کے تھیلوں کی کوالٹی کو بہتر بنانا، ایک سے زائد بار پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا، پلاسٹک کے متبادل ماحول دوست پیپر یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، غیر ضروری طور پر پلاسثک کے استعمال کو روکنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ سنجیدہ اقدامات ہیں جن سے ملک میں پلاسٹک کی آلودگی کو کم کر کے انسانوں، اور دیگر جانداروں کے لیےرہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

    ملک کو صاف رکھ کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت اور ماحول دوست چہرا سامنے لا کر اسے غیر ملکی سیاحت کے لیے پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو مفت کی روٹیاں اور "گورے کمپلیکس” کے علاوہ بھی کئی طریقے ہیں سیاحت کے فروغ کے لیے جو تادیر اثر رکھتے ہیں۔جن میں سب سے اہم یہ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ اور ملک کو صاف کرنا ہے۔

    ضرورت واضح حکمت عملی اور شعور کی ہے۔

  • ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    سینما پر فلم دیکھنے کا دور تمام ہوا. ہمارے بچپن میں البتہ اسکا عروج تھا. پہلے شو کی ٹکٹ , کھڑکی پر شور, اور عوام کا رش دھکم پیل جیب کتروں کا خوف ایک عجیب منظر ہوتا. ایسا لگتا کہ اگر یہ شو مس ہوگیا تو اسی فلم کا اگلا شو پھر شائد یہ فلم نہیں رہے گی.

    اس شور اور دھکم پیل سے نکل کر لیکن اگر آپ ہال میں پہنچ جاتے تو وہاں پھر یہی شور مچاتی عوام نیم اندھیرے میں بلکل خاموش پردے کی طرف دیکھ رہی ہوتی. درمیان میں کبھی ہیرو کیلئے داد تو کبھی ولن کیلئے ناراضگی کی آوازیں البتہ ضرور اٹھ جاتی.

    ہم لوگ سینما ہال کے باہر کا وہی ہجوم ہیں. ہم میں سے کوئی صبر نہیں کرنا چاہتا. ہمیں لگتا ہے ہم نے پہلا شو مس کر دیا تو ہماری زندگی کی فلم اور کہانی شائد باسی ہو جائے گی.

    ہم اعتماد کھو چکے ہیں. خود پر بھی اور دوسروں پر بھی. پیچھے رے جانے کا ڈر ہمیں مجبور کرتا ہے دھکے دو بلیک میں ٹکٹ خرید لو سفارش کر لو منت سماجت جیسے بھی ممکن پہلے شو میں جگہ بنا لو.

    پہلا شو مس ہو جانے کے خوف نے ہمیں بے صبری بد اعتمادی دی ہے. ہم سے قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے انتظار نہیں ہوتا. سینما کا دور اب ختم ہوا. یہ نیٹ فلیکس ایمزون پرائم کا دور ہے.

    لیکن ہمارے خوف وہی پرانے ہیں. ہم سے آج بھی قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے آج بھی نہ صبر ہوتا ہے نہ اعتماد ہمارا مضبوط ہے. ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ شو مس کر دیا تو کہانی بدل جائے گی.

    ہم لیکن بھول جاتے ہیں ہم خود ہی اپنی کہانی کے قلمکار ہیں. ہم اپنا کردار لکھتے ہیں چاہے وہ ہیرو کا ہو یا ولن کا. خوف ہمارا کردار بدل دیتا ہے اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    ہم سمجھتے ہیں چونکہ ہمیں ٹکٹ نہیں ملا تو ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی.

  • ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے پھیلاؤ سے کئی سازشی تھیوریوں کے پنپنے اور پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسا نہیں کہ انٹرنیٹ کے دور سے پہلے کوئی سازشی تھیوری یا غلط اطلاع یا افواہیں نہیں پھیلتی تھیں۔ ایک خاندان کی مثال ہی لے لیجیے۔ گھر میں بھی ساس، نندیں، دیور، بھاوج، سسر، ماموں ، تایا، پھوپھی، خالو، دادا، لکڑ دادا، پر دادا، لکڑ کا بھی لکڑ دادا وغیرہ وغیرہ سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی گھریلو افواہوں کی لپیٹ میں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں یا سازشی ذہن رکھتے ہیں۔

    افواہ یا غلط معلومات کا تبادلہ خاندان سے لیکر معاشرے کی ہر اکائی میں ہوتا ہے۔ غاروں میں رہنے والے انسان یا جنگلوں میں جانوروں کا شکار کرتے لوگ سبھی افواہوں کا شکار یا افواہ پھیلانے کا آلہ کار بنتے رہے ہیں۔ اور کوئی بھی افواہ یا غلط معلومات سازشی تھیوری کی بنیاد بن جاتی ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے؟

    یہ ایک دلچسپ انسانی رویہ ہے۔ انسان دراصل کسی کمپیوٹر پروگرام کی طرح من و عن ایک خبر کو یا ایک معلومات کو دوسرے تک نہیں پہنچا پاتے۔ فرض کیجئے میں نے ایک واقعہ دیکھا اور اب جب میں آپکو اسکی تفصیل بتاؤ گا تو آپکا دماغ اسے اپنے مطابق سمجھے یا تصور کرے گا۔ یہاں میں آپکو واقعہ سنانے کے دوران جہاں جہاں آپکی دلچسپی بڑھتی دیکھوں گا وہاں وہاں غیر شعوری طور پر اُس بات کو مزید کھینچوں گا۔ اس میں مزید تفصیل بتانے کی کوشش کرونگا۔ یوں معلومات ہو بہو آپ تک نہیں پہنچے گی۔ اس میں کچھ بدلاؤ آئے گا۔

    بالکل ایسے ہی جب آپ میرا سنایا گیا واقعہ کسی اور کو سنائیں گے تو وہاں آپ اپنے مطابق بات کو تبدیل کر دیں گے۔ ایسا کرتے کرتے اصل بات کا مطلب و معانی بالکل ہی تںدیل ہوتا چلا جائے گا۔ سازشی تھیوریاں کچھ ایسے ہیں پھیلتی ہیں۔ مگر اس میں ایک فرق اور بھی ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ جس بیز پر پہلے سے ہی یقین کیے ہوتے ہیں یہ ساشی تھیوری اسے مزید پختہ کرتی ہے۔ جب وہ تھیوری آپکے کسی یقین کی کسی بھی بات کو دور کی کوڑی لاتے ہوئے بھی کنفرم کر دے تو آپ پکے ہو جاتے ہیں۔ آپ ثبوت نہیں مانگتے۔ آپکے دلائل کا محور کسی کی کہی بات یا کسی کے سنے جملے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ آپ مکمل حقائق نہیں دیکھتے۔

    اب مثال لیتے ہیں ہارپ ٹیکنالوجی کی سازشی تھیوری کی۔ ہمارے ہاں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکہ ہر وقت ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے اور امریکہ ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اس بات کے پیچھے ماضی کے کئی واقعات، امریکہ کے دنیا بھر میں غاصبانہ تسلط اور امریکہ کی خارجہ پالیسیوں سے جڑے ہیں۔

    مزید یہ کہ ہماری اشرافیہ کے لیے یہ آسان ہے کہ وہ امریکہ کو دشمن ثابت کر کے اصل مسائل اور اپنی صدیوں کی نااہلی کا مکمل ملبہ امریکا یا مغربی ممالک پر ڈال دے۔ ایسے میں عام عوام میں آمریکہ کے خلاف بد اعتمادی ایک قابلِ فہم بات ہے۔ تو اب ہم یہ تو سمجھ گئے کہ امریکہ کے خلاف بداعتمادی موجود ہے تو ایسے میں اگر کوئی آپکو آ کر یہ کہے کہ آج پاکستان میں جو سیلاب آئے ہیں یہ سب امریکہ کی سازش ہے تو آپ اسے ماننے میں ذرا بھی تردد نہیں کریں گے بھلے آپکے پاس اسکے ثبوت ہوں یا نہ ہوں۔

    انٹرنیٹ کے آنے سے البتہ یہ ہوا کہ ان سازشی تھیوریوں کو لوگوں نے سائنسی اصطلاحوں سے بھر کر انہیں بظاہر ایسا بنا دیا کہ لوگ ان پر یقین کرنا شروع کر دیں۔ مثال کے طور پر ہارپ ٹیکنالوجی کا تعلق زمین سے اوپر فضا میں 50 سے 1 ہزار کلومیٹر کے فضائی حصے کی تحقیق کے حوالے سے ہے۔ اس فضائی حصے کو آئینوسفیر کہا جاتا ہے۔ اب وہ لوگ جو سائنس سے یا موسموں کی سائنس سے ناواقف ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ زمین پر موسم جنکا تعلق دراصل پانی کے بادلوں سے ہے، یہ بادل کتنے اوپر تک ہوتے ہیں؟ کم سے کم دو کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ تقریباً 7 کلومیٹر اوپر۔

    ہارپ ٹیکنالوجی کا تعلق بادلوں سے کیسے ہو سکتا ہے جبکہ یہ آئنوسفیر (جو 50 کلومیٹر سے اوپر شروع ہوتی ہے) کے کسی خاص حصے کو ہائی فریکوئنسی ریڈیائی لہروں کے ذریعے متحرک کر کے اسکے اثرات کو سمجھنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اسکا ایک مقصد سورج کی تابکاری شعاعوں کا فضا کے اس حصے پر سثرات کو جاننا ہے اور دوسرا خکا میں سٹللائیٹس کمیونیکشن کے خلل کا اس فضائی حصے میں بدلاؤ سے تعلق سمجھنا ہے۔ اس پراجیکٹ میں ہائی فریکوئنسی ریڈیو اینٹنیا اور ریڈیو رسیور شامل ہیں۔

    ہارپ ٹیکنالوجی کے حوالے سے تحقیقاتی ادارہ امریکی ریاست الاسکا میں موجود ہے۔ یہ 1993 میں قائم ہوا اور 2015 کے بعد یہ اب الاسکا کی ایک یونیورسٹی کے زیر انتظام ہے۔ اس ادارے کو عام عوام بھی دیکھ سکتی ہے۔ ہارپ ٹیکنالوجی کے حوالے سے سازشوں کے بارے میں اس ادارے کے ماہرین کو علم ہے اور وہ اس حوالے سے شفافیت کا مکمل مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کرتے رہتے ہیں۔ آپ انکی ویب سائٹ پر جا کر ہارپ ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں۔

    انٹرنیٹ کا ایک قانون ہے کہ غلط انفارمیشن کو غلط ثابت کرنے میں اس اس انفارمیشن کے پھیلانے سے دس گنا زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔ ایسا ہر سازشی تھیوری کے پھیلاؤ میں ہوتا ہے۔ ماننے والوں کی تعداد، حقیقت جاننے والوں سے زیادہ ہوتی ہے۔۔کیونکہ سمجھنے یا سمجھانے کا عمل وقت کیساتھ مشکل ہوتا جاتا ہے۔

    موجودہ سیلاب یا آئندہ آنے والے سیلابوں کا تعلق ہارپ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے جسکی ذمہ داری چین، انڈیا، برطانیہ، روس، امریکہ جیسے بڑے ممالک کے کندھوں پر آتی ہے کیونکہ یہ فضا کو گرین ہاؤس گیسوں سے بھر رہے ہیں۔ جسکی وجہ سے دنیا کا بالعموم اور ہمارے خطے کا بالخصوص درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسموں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔