Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا سفر،تحریر:پروفیسر سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا سفر،تحریر:پروفیسر سیف اللہ قصوری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض لمحات محض تقاریب نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے عہد کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ تھی، جہاں ماضی کی جدوجہد، حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی سمت ایک ہی فکری دھارے میں بہتی دکھائی دی۔ یہ اجتماع محض عہدوں کی تقسیم نہیں تھا بلکہ ایک نظریے کی تجدید، ایک تحریک کی یاد دہانی اور ایک قومی عزم کی تجدیدِ نو تھا۔

    اس موقع پر دل بے اختیار اللہ رب العزت کے شکر سے لبریز ہو گیا کہ اس نے ہمیں ایک روشن اور باوقار ماضی عطا کیا، ایک بامقصد اور متحرک حال سے نوازا اور ہم اس سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ایک ایماندار، خوددار اور نظریاتی مستقبل بھی عطا فرمائے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو برصغیر کے مسلمانوں کی حالتِ زار 1906ء میں بھی کچھ مختلف نہ تھی، جب نواب سلیم اللہ خان کے گھر ڈھاکہ میں مسلم قیادت اکٹھی ہوئی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔

    قرآنِ حکیم کا یہ فرمان اُس دور کی پوری تصویر پیش کرتا ہے "یاد کرو جب تم تعداد میں کم اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے، تمہیں ہر وقت اس بات کا خوف رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اچک لیں گے، پھر اللہ نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری مدد فرمائی”۔یہی کیفیت اُس وقت مسلمانوں کی تھی اور افسوس کہ آج امتِ مسلمہ مجموعی طور پر ایک مرتبہ پھر اسی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے وقتی مفادات کے بجائے نظریے کو تھاما، اللہ کی نصرت ان کے شاملِ حال ہوئی۔ہم آج 2025 کو رخصت اور 2026 کا استقبال کرنے جا رہے ہیں۔ پورے یقین، ایمان اور مشاہدے کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ 2025 میں مرکزی مسلم لیگ کو جو عزت، پذیرائی اور عوامی قبولیت ملی، وہ کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، خاموش اور مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ یہ سفر عزتوں، فتوحات اور غلبۂ حق کا سفر ہے، جو ان شاء اللہ رکے گا نہیں بلکہ مزید وسعت اختیار کرے گا۔

    میرا ایمان گواہی دیتا ہے کہ اس خطے میں مرکزی مسلم لیگ محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اللہ کی مشیت کے ایک مظہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے سیاست کو کبھی اقتدار کی ہوس، ذاتی مفادات یا وقتی فائدے کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ہم نے دہائیوں تک خاموشی سے دعوت کا کام کیا، خدمت کی، مظلوموں کا سہارا بنے، سیلابوں، زلزلوں اور دیگر آفات میں بلاامتیاز عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ پینتیس برس تک یہ جدوجہد بغیر کسی صلے اور شہرت کے جاری رہی، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا؛ اس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ یہ تحریک ملکی سیاست کے مرکز میں لا کھڑی ہوئی۔

    پاکستان کے گزشتہ 78برسوں کی تاریخ کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ملک کو جتنے زخم اندرونی حکمران طبقات نے دیے، شاید بیرونی دشمن بھی اتنے کاری وار نہ کر سکے۔ اقتدار کی ہوس، خاندانی سیاست، ذاتی مفادات اور بدعنوانی نے قومی مفادات کو مسلسل پامال کیا، حتیٰ کہ ملک دولخت ہو گیا۔ یہ سب کچھ نظریاتی انحراف کا نتیجہ تھا۔ایسے نازک موڑ پر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوئی کہ ایک ایسی قیادت کو ابھارا جائے جو لالچ، حرص اور ذاتی مفادات سے پاک ہو، جو نظریاتی قوت سے مالا مال ہو۔ مرکزی مسلم لیگ اسی نظریاتی سیاست کی علامت ہے۔ ہم کسی فرد، کسی خاندان یا کسی مخصوص گروہ کی سیاست نہیں کرتے۔ ہم ایک نظریے کی دعوت دیتے ہیں، اور وہ نظریہ ہے: لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ محمدٌ رسولُ اللّٰہ ﷺ۔ یہی اسلام کا جوہر ہے اور یہی نظریۂ پاکستان کی اساس ہے۔

    پاکستان کو آج مزید جماعتوں، مزید نعروں یا مزید چہروں کی ضرورت نہیں، بلکہ نظریاتی استقامت اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔ یہی نظریہ سب کے لیے ہے۔ اس ملک میں بسنے والے تمام مذاہب، مسالک اور برادریوں کے افراد اس نظریاتی ریاست میں برابر کے شہری ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اتحاد، رواداری، ہم آہنگی اور ملی وحدت کو فروغ دیا ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست سے خود کو دور رکھا ہے۔1980ء کی دہائی میں، جب ایک طرف جہادِ افغانستان کا آغاز ہوا تو دوسری جانب فرقہ واریت کا زہر بھی معاشرے میں پھیلایا گیا۔ مسلمان، مسلمان کے خلاف صف آراء ہو گیا۔ اس نازک اور خطرناک دور میں مرکزی مسلم لیگ اور اس سے وابستہ قیادت نے دفاعِ پاکستان کونسل اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے اتحادِ امت کا عملی نمونہ پیش کیا اور خونریزی و انتشار کے آگے مضبوط بند باندھا۔

    آج ہم پورے اعتماد سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ جیسے جیسے مرکزی مسلم لیگ کی سیاست آگے بڑھے گی، ملک میں فرقہ واریت، نفرت اور انتشار میں کمی آئے گی، اور ایک نظریے پر متحد قوم کی تشکیل کا عمل تیز ہو گا۔ پاکستان کو آج ایک بار پھر علامہ اقبالؒ کے تصورِ خودی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کی اشد ضرورت ہے، جو تمام شہریوں کو ایک قوم کی لڑی میں پرو سکے۔مرکزی مسلم لیگ کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ ہم نے کبھی عوام کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ ہم نے لوٹ مار کے بجائے وسائل جمع کیے اور انہیں مصیبت زدہ عوام تک پہنچایا۔ یہی خدمت، یہی اخوت اور یہی مؤاخات پاکستان کی نشاۃِ ثانیہ کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ہم سودی نظام کے بجائے اسلامی اخوت، زکوٰۃ و عشر، اور باہمی تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر قوم ایک دوسرے کا سہارا بن جائے تو مہینوں نہیں بلکہ چند برسوں میں پاکستان خود کفیل، مستحکم اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

    برصغیر کی تقسیم کے وقت انگریز اور ہندو گٹھ جوڑ نے پاکستان کے ساتھ تاریخی ناانصافی کی۔ مسلم اکثریتی ریاستوں کو غاصبانہ اور منافقانہ طریقوں سے ہتھیا لیا گیا۔ بھارت نے کبھی پاکستان کی آئینی حیثیت کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ جوناگڑھ، مناوادر، حیدرآباد دکن، گورداسپور اور دیگر علاقوں پر قبضہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ ہم پرامن ہیں، مگر اپنے حق سے دستبردار نہیں۔ یہ مطالبات ہم دنیا کے ہر فورم پر دلیل، وقار اور امن کے ساتھ پیش کرتے رہیں گے۔یہی نظریاتی استقامت، یہی اخلاقی سیاست اور یہی خدمتِ خلق وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر منزلِ مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔

  • تحفظ آئین یا تحفظ اقتدار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحفظ آئین یا تحفظ اقتدار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحفظِ آئین یا تحفظِ اقتدار؟ ایک بنیادی تضاد پاکستان میں آج کل “تحفظِ آئین” ایک مقبول نعرہ بن چکا ہے۔ جلسوں میں، بیانات میں اور ٹاک شوز میں آئین کی بالادستی کا شور ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ پوری شدت سے موجود ہے کہ جو لوگ آج آئین کے محافظ بنے کھڑے ہیں، وہ خود ماضی میں اقتدار کے ایوانوں میں براجمان رہے تو اُس وقت انہیں آئین کیوں یاد نہ آیا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آئین کو سب سے زیادہ نقصان انہی ادوار میں پہنچا جب سیاسی قوتیں اقتدار میں تھیں۔ آئین کبھی ذاتی مفاد کے لیے موڑا گیا، کبھی خاموشی اختیار کر لی گئی، اور کبھی “مصلحت” کے نام پر اس کی خلاف ورزی کو نظرانداز کیا گیا۔ اقتدار کے مزے لیتے ہوئے آئینی اصولوں پر سمجھوتے معمول بنے رہے۔ جب وسائل، اختیارات اور طاقت میسر تھی تو آئین محض ایک دستاویز بن کر رہ گیا؛ مگر جیسے ہی اقتدار ہاتھ سے گیا، وہی آئین یکدم مقدس کتاب بن گیا۔ یہ طرزِ عمل دراصل اصول پسندی نہیں بلکہ سیاسی سہولت کاری ہے، جس میں آئین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے—کبھی ڈھال کے طور پر اور کبھی تلوار کے طور پر۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آج کون آئین کی بات کر رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کون اقتدار میں رہتے ہوئے بھی آئین پر کھڑا رہا؟

    اگر ماضی میں آئین کو مضبوط کیا جاتا، اداروں کو آئینی حدود میں رکھا جاتا اور ذاتی اقتدار کو آئینی تقاضوں پر قربان کیا جاتا، تو آج “تحفظِ آئین” کے نعرے کی شاید اتنی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ قوم کو اب نعروں سے نہیں، کردار سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ آئین کا اصل محافظ وہ ہے جو اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، ہر حال میں آئین کی بالادستی تسلیم کرے۔ بصورتِ دیگر یہ سوالیہ نشان مزید گہرا ہوتا جائے گا کہ آئین واقعی محترم ہے یا صرف اقتدار چھن جانے کے بعد یاد آنے والی ایک سیاسی دستاویز۔

  • آل انڈیا مسلم لیگ   سے  مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    آل انڈیا مسلم لیگ سے مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    30 دسمبر کا دن برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا سنگ میل ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں قائم ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کو وہ سیاسی شعور عطا کیا جس نے بالآخر قیامِ پاکستان کی صورت ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھی۔ مسلم لیگ کی جدوجہد کا مقصدصرف اقتدار کا حصول نہیں تھا بلکہ اپنی شناخت، وقار کو زندہ رکھنا تھا جو اسلامی تہذیب ، دینی ثقافت اور اسلاف کے تمدن سے مستعار تھا۔

    مسلم لیگ کی قیادت نے اس دور میں جس بصیرت، قربانی اور اصول پسندی کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی ہماری سیاسی تاریخ کا روشن باب ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ نے دلیل، قانون اور اخلاقی قوت کے ذریعے ایک ناممکن کو ممکن بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کا نام آج بھی نظریۂ پاکستان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    افسوس کے ساتھ ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد رفتہ رفتہ سیاست نظریے سے ہٹ کر مفادات، گروہ بندیوں اور وقتی مصلحتوں کی نذر ہوتی چلی گئی۔ مسلم لیگ کا وہ فکرجو قوم کو ایک نصب العین پر جمع کرتا تھا، پس منظر میں چلا گیا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ نظریات دب تو سکتے ہیں، ختم نہیں ہوتےوہ نئے ناموں اور نئی صفوں کے ساتھ دوبارہ ابھرتے ہیں۔

    اسی تناظر میں مرکزی مسلم لیگ کو دیکھا جائے تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہ جماعت مسلم لیگ کے اسی اصل نظریاتی ورثے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ اسلامی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے۔وہی تصور جو مسلم لیگ کی بنیاد میں شامل تھا۔آج اگر ہم مرکزی مسلم لیگ کو دیکھیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ جماعت مسلم لیگ کی اصل روح یعنی مسلمانوں کی اجتماعی خدمت، اتحاد، خودداری اور قومی بقاکو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو محض اقتدار کی دوڑ نہیں بلکہ خدمتِ خلق، عوامی فلاح اور قومی یکجہتی کا ذریعہ سمجھتی ہے، جو کہ مسلم لیگ کے ابتدائی نظریے سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ نے قدرتی آفات، سیلابوں، زلزلوں اور سماجی بحرانوں میں جس منظم، بے لوث اور فوری کردار کا مظاہرہ کیا، وہ ہمیں مسلم لیگ کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب قیادت عوام کے درمیان رہ کر ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی تھی۔ یہ عملی خدمت دراصل اسی فکری تسلسل کا اظہار ہے جس کی بنیاد مسلم لیگ نے رکھی تھی۔

    سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ قوم کی رہنمائی، اصلاح اور خدمت ہے۔ اگر مسلم لیگ نے ہمیں آزادی کا راستہ دکھایا، تو مرکزی مسلم لیگ اسی آزادی کو بامقصد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ایک ایسی ریاست کی تشکیل جہاں سیاست اخلاقیات سے جڑی ہو اور قیادت عوام کی خادم ہو۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ناموں سے آگے بڑھ کر نظریات کو دیکھیں۔ مسلم لیگ ایک نظریہ تھی، اور مرکزی مسلم لیگ اسی نظریے کی عملی تصویرہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے غلامی کے دور میں قوم کو آزادی دلائی، اور دوسری آزادی کے بعد قوم کو خوددار، باخبر اور متحد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
    ہمیں نیا یا پرانا پاکستان نہیں بلکہ قائد کا پاکستان چاہیے، 78 برسوں میں پاکستان میں جو مسائل سامنے آئے، وہ صرف اور صرف ہمارے ذاتی مقاصد اور ملک کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے چلانے کی وجہ سے آئے ،مسائل کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد کریں ،ہم ان مقاصد کی طرف آ جائیں جس مقصد کے لیے یہ پاکستان بنایا گیا تھا تاکہ ہمارا ملک خوشحال ہو، ہم طبقاتی اور لسانی کشمکش سے باہر نکل کر نظریے کی بنا پر ایک قوم بن کر اس ملک کو سنوار سکتے ہیں ۔ ایک قوم بن کر وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لیے کام کریں، تاکہ یہاں سے غربت ،افراتفری ،دہشت گردی ختم ہو،پاکستان امن کا گہوارہ بنے،معاشی طور پر مضبوط ہو اور آگے بڑھتے ہوئےعالم اسلام کی قیادت کرے.
    یومِ تاسیس مسلم لیگ کے موقع پر اگر ہم اس فکری ربط کو سمجھ لیں، تو یہی شعور ہماری سیاست کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے—وہی سمت جس کا خواب علامہ اقبال اورقائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔

  • قومی شناخت  پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    قومی شناخت پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    19 مئی 2013 کو شہباز شریف صاحب کے دیے گئے بیان پر نظر ڈالیں جب مسلم لیگ ن اپوزیشن میں ہوا کرتی تھی۔
    ” V will unveil a plan to steer national institutions ( PIA , Pakistan Railways and Pakistan steel Mills etc ) out of crisis soon ”
    آج پاکستان کے موجودہ وزیراعظم کی حیثیت سے پی آئی اے فروخت کرنے کے بعد کا بیان: "قوم سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا قوم کو مبارکباد ہو” واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ نہ صرف قوم کے ساتھ وعدہ خلافی ہے بلکہ دھوکہ دہی ہے۔ پی آئی اےسمیت ریلوے اور اسٹیل ملزکو بحران سے نکالنے کا دعوی کرنے والے شہباز شریف صاحب نے آج پی آئی اے کے 30 جہاز 64 بین الاقوامی روٹس 8 بلڈنگز 10 ارب کے سپیئر پارٹس 20 ارب کا فنڈ محض 10 ارب روپے میں پیج ڈالے ۔

    135 ارب کا شور کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو صرف 10 ارب موصول ہوئے 125 ارب خریدنے والی کمپنی کے مرضی ہے کہ وہ پی آئی اے کی بحالی پر اسے استعمال کریں یا نہ کریں اور بات یہیں پر ختم نہیں ہے بلکہ پونے 700 ارب روپے کا قرضہ بھی حکومت ادا کرے گی جو کہ عوام کی رگوں سے خون نچوڑ کر ادا کیا جائے گا ،پی آئی اے بیچ کر قوم کو مبارک ہو! مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ قومی شناخت بیچنے پر کون سی مبارکباد بنتی ہے؟
    جس ادارے نے کبھی دنیا میں پاکستان کا نام روشَن کیا، آج اسے یوں بیچ دیا گیا جیسے کوئی بھٹکا ہوا شخص اپنی باپ دادا کی نشانی کو چند ٹکوں کے لیے گروی رکھ دے۔

    یہ وہی پاکستان ہے جسے بنانے میں لاکھوں لوگوں نے جانیں دی تھیں… مگر چلانے والوں نے اسے بازار کی دکان بنا دیا۔ کبھی اسٹیل مل بکتی ہے، کبھی ایئرپورٹ، اب قومی ایئرلائن بھی۔ کل کو شاید ہم بھی بیچ دیے جائیں ۔کیونکہ جو قوم اپنی پہچان بیچنے پر خاموش رہتی ہے، اس کے شہریوں کی کوئی قیمت نہیں بچتی۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ سودا صرف پی آئی اے کا نہیں، قوم کے اعتماد، ٹیکس، خون پسینے اور مستقبل کا سودا ہے۔ جب عوام بھوکی ہو، مہنگائی گلے تک پہنچ جائے، ٹیکس جیب کا آخری سکہ بھی نگل جائے اور حکمران جشن منائیں تو یہ خوشخبری نہیں، قوم سے دشمنی ہے۔

    آپ بتائیں: پی آئی اے کی فروخت قوم کی جیت ہے یا حکمرانوں کی بے ایمانی؟
    اپنی شناخت اپنی پہچان کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ خاموشی بھی ایک جرم ہے۔

  • عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی حکمرانی اور عوامی توقعات پنجاب اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکمرانی کے دعوے اب محض تقاریر سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی کے متقاضی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے جس طرزِ حکمرانی کا آغاز کیا ہے، اس کے خدوخال واضح ہیں اور ترجیحات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کتنا کیا جا رہا ہے اور کتنا مستقل ہوگا۔ امن و امان کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت شہری تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے، تاہم اس نظام کی شفافیت اور پرائیویسی کے تقاضوں کو نظرانداز کرنا مستقبل میں نئے سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ نگرانی کے ساتھ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط کرے۔ صحت کے شعبے میں مفت ادویات، جدید تشخیصی سہولیات اور بنیادی صحت مراکز کی بحالی خوش آئند اقدامات ہیں، مگر سرکاری اسپتالوں میں انتظامی کمزوریاں اور عملے کی قلت تاحال ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگر اصلاحات کا دائرہ محض انفراسٹرکچر تک محدود رہا اور انسانی وسائل کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی توقعات کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکولوں کی بہتری اور ڈیجیٹل سہولیات مستقبل کی طرف ایک درست قدم ہیں۔ تاہم معیارِ تعلیم صرف عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے بہتر نہیں ہوتا، اس کے لیے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور یکساں تعلیمی پالیسی ناگزیر ہے۔ بچیوں کی تعلیم پر زور قابلِ تحسین ہے، مگر اس کے نتائج تب ہی سامنے آئیں گے جب یہ پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہے۔

    نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار سے متعلق پروگرام ایک ضرورت تھے، جنہیں تاخیر سے ہی سہی، تسلیم کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبے وقتی اشتہارات تک محدود رہیں گے یا واقعی نوجوانوں کو باعزت روزگار کی طرف لے جائیں گے؟ اس کا فیصلہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق ہی کریں گے۔ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں اور سماجی تحفظ کے منصوبوں نے عوامی سطح پر امید ضرور پیدا کی ہے، مگر پاکستان جیسے معاشرے میں اصل امتحان طاقتور طبقات کے خلاف بلاامتیاز عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر قانون کمزور اور طاقتور کے لیے مختلف رہا تو اصلاحات محض فائلوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گی۔ مریم نواز حکومت نے درست سمت کا تعین کیا ہے، مگر یہ سمت نتائج سے مشروط ہے۔ عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں۔ پنجاب کو ایک جدید، محفوظ اور فلاحی صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گورننس کو شخصیت نہیں بلکہ ادارے کے گرد منظم کیا جائے۔ اگر حکومت اس اصول پر کاربند رہی تو 2025 محض ایک عددی سال نہیں بلکہ پنجاب کی حکمرانی میں ایک حقیقی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے

  • ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نیا سال مناتے ہوئے آگے کی سمت دیکھ رہی ہے اور ہم اب بھی ماضی کے ملبے میں کھڑے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے نئے سال کو ہمیشہ ایک نئے ہدف، نئی رفتار اور واضح ترجیحات کے ساتھ خوش آمدید کہا، جبکہ پاکستان ہر سال یہی سوال دہراتا ہے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں جواب معلوم ہے، مگر ماننے کی ہمت نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد قانون کی بالادستی پر کھڑی ہے، انصاف سالوں نہیں، مہینوں میں ملتا ہے، ہمارے یہاں صدیوں انصاف کی تلاش میں لوگ مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔ علم وہ ہتھیار ہے جس سے قومیں دنیا فتح کرتی ہیں، مگر ہم نے تعلیم کو محض تقریروں اور اشتہارات تک محدود کر دیا ہے۔ جن قوموں نے لیبارٹریوں کو عبادت گاہ اور جامعات کو معیشت کا انجن بنایا، وہ آج دنیا کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ ہم اب بھی اس بحث میں الجھے ہیں کہ نصاب کس کا ہو، جبکہ دنیا نصاب سے آگے نکل چکی ہے۔ معاشی میدان میں ہماری سوچ اب بھی ادھار، امداد اور وقتی سہارا کے گرد گھومتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک مصنوعات بیچتے ہیں، ٹیکنالوجی بیچتے ہیں، علم بیچتے ہیں اور ہم فخر سے قرض کے نئے پیکج کا اعلان کرتے ہیں۔ جب تک ہم پیدا نہیں کریں گے، بیچ نہیں سکیں گے، اور خود کو خود نہیں سنبھالیں گے، ترقی ایک نعرہ ہی رہے گی۔

    سب سے خطرناک زہر انتشار کی سیاست ہے۔ سیاست اگر قومی سمت طے کرنے کے بجائے ریاست سے ٹکراؤ بن جائے تو اس کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ ترقی وہاں ہوتی ہے جہاں حکومتیں بدلتی ہیں مگر پالیسیاں نہیں، جہاں اختلاف میز پر ہوتا ہے، سڑکوں پر نہیں۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا اور دشمنی کو سیاست۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور عمل یہ وہ اقدار ہیں جن پر قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔ ہم تقریریں بروقت کر لیتے ہیں، مگر فیصلے بروقت نہیں کرتے۔ منصوبے شاندار ہوتے ہیں، مگر عمل غائب ہوتا ہے۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں اور وقت ہاتھ سے نکلتا رہتا ہے۔ اب فیصلہ واضح ہے۔ یا تو پاکستان نئے سال میں خود کو بدلے گا، یا دنیا اسے مزید پیچھے چھوڑ دے گی۔ ترقی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف ایک ہے خود فریبی چھوڑ دی جائے قانون، علم، عمل، نظم، برداشت اور قومی مقصد،یہ سب ایک ساتھ چلیں گے تو بات بنے گی، ورنہ ہر نیا سال پچھلے سال سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ وقت سوال پوچھنے کا نہیں، جواب ماننے کا ہے۔ اور سب سے پہلا جواب ہمیں خود دینا ہوگا۔

  • نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    وہ جو مردوں کے بھی بس کا کام نہ تھا
    وہ معجزہ ایک بیٹی نے کر دکھایا ہے

    پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو کام دہائیوں کی حکمرانی میں نہ ہو سکے وہ ایک بیٹی نے بطور پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محض قلیل وقت میں کر دکھائے۔ مریم نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ حکمرانی کے لیے صرف اختیار نہیں، بلکہ عوامی دکھوں کو محسوس کرنے والا حساس دل اور فولادی عزم درکار ہوتا ہے۔ پاکستان کی معاشرتی تاریخ میں کچھ فیصلے محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک پورے عہد کی اصلاح کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی حکمران عوام کے دلوں میں گھر کرتے ہیں جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہوں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش قانون کا غیر متزلزل نفاذ محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں، بلکہ ایک عہد ساز اصلاح ہے جس نے پنجاب میں نمود و نمائش کے فرسودہ بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ قدم گڈ گورننس کی ایک ایسی روشن مثال ہے جس نے عام آدمی کو اسراف اور نمود و نمائش کی اَن دیکھی زنجیروں سے آزاد کیا ہے جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں شادیوں کی متعدد تقاریب کے مشاہدات ہوئے جہاں پہلے دسترخوانوں پر اسراف کی دوڑ اور دکھاوے کا مقابلہ نظر آتا تھا، وہاں اب ایک خوشگوار نظم و ضبط اور سادگی کا راج ہے۔ میزبانوں کے چہروں پر وہ مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ مفقود تھا جو عام طور پر لوگ کیا کہیں گے کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ مریم نواز کی حکومت نے اس قانون پر سختی سے عمل کرا کے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں ریاست کی نیت صاف ہو، وہاں معاشرتی تبدیلی محض خواب نہیں رہتی بلکہ حقیقت بن کر ابھرتی ہے۔

    یہ پنجاب حکومت کا تاریخی احسن اقدام ہے کہ اس نے عام آدمی کو اس معاشرتی کینسر سے نجات دلائی جس میں خوشی کے لمحات قرض اور پچھتاووں میں بدل جاتے تھے۔ قانون کی اس کامیابی نے عوام میں یہ اعتماد بحال کیا ہے کہ مریم نواز کی قیادت میں ریاست اب کمزور اور متوسط طبقے کی ڈھال بن کر کھڑی ہے۔ مگر اس تابناک تصویر کا ایک پہلو تشویشناک بھی ہے۔ پنجاب میں قانون کی گرفت مضبوط ہوئی تو صاحبِ ثروت طبقے نے اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے پوش فارم ہاؤسز کو پناہ گاہ بنا لیا۔ پنجاب کی حدود سے نکلتے ہی سادگی کا وہ سفر تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، جو کہ وفاقی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت مریم نواز کے اس پنجاب ماڈل کو اپنائے اور اسلام آباد میں بھی اسی آہنی عزم کے ساتھ ون ڈش نافذ کرے۔ وقت کی پکار ہے کہ جوابدہی کے اس دائرے کو مزید وسیع اور کڑا کیا جائے۔ قانون کی خلاف ورزی پر صرف ہال مالکان ہی نہیں، بلکہ اس علاقے کی انتظامیہ اور فیلڈ اسٹاف کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ جب تک سہولت کاری کرنے والے سرکاری کارندوں کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جائے گا، تب تک قانون سے فرار کے راستے مکمل بند نہیں ہوں گے۔ ماضی کے حکمرانوں کے پاس وسائل بھی تھے اور وقت بھی، مگر جس ویژن اور سرعت کے ساتھ مریم نواز نے پنجاب کی انتظامی مشینری کو متحرک کیا، اس کی نظیر پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ون ڈش قانون کا بلا امتیاز نفاذ ہو یا عام آدمی کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی، انہوں نے ہر شعبے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایک خاتون کا وزیر اعلیٰ بننا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ وہ مریم نواز ہی ہیں جنہوں نے روایت شکنی کرتے ہوئے دکھاوے کی سیاست کو دفن کیا اور گڈ گورننس کو ایک ایسا معیار بخشا جس تک پہنچنا اب آنے والے ہر حکمران کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

    بلاشبہ، وہ کام جو مردوں کے بڑے بڑے برج نہ کر سکے، وہ اس باہمت خاتون نے قلیل وقت میں کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ مریم نواز کا یہ سماجی وژن دراصل نئی نسل کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے اور شادی جیسے پاکیزہ بندھن کو آسان بنانے کی ایک مخلصانہ جدوجہد ہے۔ پنجاب نے ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے، اب گیند وفاق کے اسکورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح اس گڈ گورننس کو پورے ملک کا مقدر بناتا ہے۔ بلاشبہ، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس پر پنجاب حکومت اور مریم نواز کی ٹیم ہر سطح پر تحسین کی مستحق ہے۔

    شعر
    مٹ جائے گی اک روز یہ دیوارِ تکبر
    سادگی ہی بنے گی پھر شعارِ زندگی

  • دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ نہ یہ چہروں کی کشش پر رکتی ہے، نہ عمروں کے فرق پر ٹھہرتی ہے، اور نہ ہی دولت و غربت کے ترازو میں تولی جا سکتی ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو نظر سے پہلے دل میں اترتا ہے اور لفظوں سے پہلے احساس میں بولتا ہے۔ دوستی دراصل انسان کے اندر موجود انسانیت کو پہچان لینے کا نام ہے۔اس معاشرے میں جہاں اکثر رشتے فائدے اور ضرورت کے سہارے پنپتے ہیں، وہاں دوستی ایک ایسا نازک مگر سچا جذبہ ہے جو کسی شرط کے بغیر قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں نہ لباس کی قیمت پوچھی جاتی ہے، نہ گھر کی وسعت دیکھی جاتی ہے۔ بس سامنے والے کا رویہ، اس کی نیت اور اس کا اخلاق ہی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔ شائستگی وہ پہلا دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر کوئی بھی دوستی کے صحن میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    دیانتداری دوستی کی وہ بنیاد ہے جو نظر نہیں آتی مگر پوری عمارت کو سنبھالے رکھتی ہے۔ جھوٹ کے سہارے قائم ہونے والا تعلق وقتی ہو سکتا ہے، مگر دیرپا نہیں۔ سچا دوست وہ ہوتا ہے جو مشکل بات بھی سچ کے ساتھ کہہ دے، مگر انداز ایسا رکھے کہ سامنے والا ٹوٹنے کے بجائے سنبھل جائے۔ یہی دیانت رشتے کو مضبوط بناتی ہے اور اعتماد کو وقت کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھتی ہے۔خلوص دوستی کی روح ہے۔ یہ وہ خاموش کیفیت ہے جو کسی دکھاوے کی محتاج نہیں۔ خلوص نہ بلند آواز میں بولتا ہے، نہ تعریف کا طالب ہوتا ہے۔ یہ بس موجود رہتا ہے ہر حال میں، ہر موڑ پر۔ خلوص ہی وہ قوت ہے جو دو اجنبی دلوں کو آہستہ آہستہ ایک دوسرے کا مانوس بنا دیتی ہے۔ جہاں خلوص نہ ہو، وہاں قربت بھی بے معنی لگتی ہے۔باہمی احترام کے بغیر کوئی بھی تعلق زیادہ دیر سانس نہیں لے سکتا۔ احترام وہ حد ہے جو دوستی کو بگاڑ سے بچاتی ہے۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے، مگر لہجے کی شائستگی، سوچ کی وسعت اور دل کی نرمی رشتے کو سلامت رکھتی ہے۔ سچا دوست وہ نہیں جو ہر بات پر متفق ہو، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کے باوجود عزت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

    دوستی میں عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ کبھی کوئی ہم سے بہت بڑا ہو کر بھی ہمارے دل کی بات سمجھ لیتا ہے، اور کبھی ہم سے چھوٹا ہو کر بھی ہمیں جینے کا ہنر سکھا دیتا ہے۔ تجربہ اور معصومیت جب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو دوستی کا رنگ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ یہاں سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ خاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اسی طرح دولت کی کمی یا فراوانی بھی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ امیر کا خلوص غریب کے خلوص سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل فرق نیت کا ہے۔ وہ دوست جو خالی جیب کے ساتھ بھی مسکرا کر ساتھ بیٹھ جائے، اس سے قیمتی کوئی دولت نہیں۔ کیونکہ دوستی سکوں سے نہیں، سکون سے خریدی جاتی ہے۔سچی دوستی میں مقابلہ نہیں ہوتا، ساتھ چلنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ وہاں کامیابی پر حسد نہیں، بلکہ دل سے نکلنے والی خوشی ہوتی ہے۔ وہاں ناکامی پر طعنے نہیں، بلکہ سہارا ہوتا ہے۔ ایک اچھا دوست وہ سایہ ہے جو دھوپ میں لمبا اور اندھیرے میں قریب ہو جاتا ہے۔

    یہ رشتہ وقت کے ساتھ بدلتا ضرور ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔ کبھی باتیں کم ہو جاتی ہیں، کبھی ملاقاتیں، مگر دل کا رشتہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ خاموشی بھی اگر اعتماد سے بھری ہو تو دوستی کا حسن بڑھا دیتی ہے۔ دوستی کسی معیار، کسی شکل، کسی حیثیت کی پابند نہیں۔ یہ بس ایک احساس ہےصاف، سچا اور بے لوث۔ اگر شائستگی، دیانتداری، خلوص اور احترام موجود ہوں تو دوستی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ کیونکہ اصل میں دوستی انسان کو انسان سے جوڑنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے۔

  • دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر:  عنبرین فاطمہ

    دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر: عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس، بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری ، دو روزہ تربیتی نشست کے سلسلے میں پہلی نشست بعنوان رموز و اوقاف مورخہ 25 دسمبر، 2025 بروز جمعرات شب 8 بجے بذریعہ صوتی پیغام منعقد ہوئی۔

    علم و ادب سے لبریز اس تربیتی کارگاہ کی میزبانی و تربیت کی ذمہ داری محترمہ سدرہ تنولی نے انجام دی۔ نشست کا باضابطہ آغاز مادام سدرہ تنولی کے پرخلوص سلام اور تعارف سے ہوا۔ آپ کا تعلق خیبر پختونخوا کے خوبصورت شہر مانسہرہ سے ہے۔ ادبی دنیا میں آپ کا سفر متنوع قابل قدر ہے۔ آپ نہ صرف کہانی نویس، افسانہ نگار، کالم نگار اور تبصرہ نگار ہیں، بلکہ "لوحِ ادب اکادمی” کے نام سے ایک ادبی ادارہ بھی کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مختلف علمی و ادبی اداروں سے منسلک ہیں۔

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نشست کا آغاز محترمہ سدرہ تنولی نے رموزِ اوقاف کے تعارف و اہمیت بتاتے ہوۓ کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے بول چال میں آواز کا زیر و بم اور توقف جذبات کا اظہار کرتے ہیں، ویسے ہی تحریر میں رموزِ اوقاف معانی کی وضاحت اور ربط پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں(Punctuation )کہتے ہیں۔ محترمہ سدرہ تنولی صاحبہ نے موضوع کو نہایت سلیقے سے بیان کیا، جس سے سامعین کو رموزِ اوقاف کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہوا۔ انہوں نے نہ صرف ان علامات کی وضاحت کی بلکہ ان کے عملی استعمال پر بھی مفصل گفتگو کی۔

    انہوں نے بتایا کہ ” سکتہ” (،) کا استعمال جملے میں چھوٹے مرکبات یا الفاظ کے درمیان وقفے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ "ختمہ” (۔) جملے کے اختتام پر استعمال ہوتا ہے تاکہ مفہوم مکمل طور پر واضح ہو جائے۔ "سوالیہ نشان” (؟) سوالات پر مبنی جملوں میں استعمال ہوتا ہے، جو قاری کو جملے کی نوعیت سے آگاہ کرتا ہے۔علامتِ استجابیہ (!) جسے ندائیہ یا استجابیہ بھی کہا جاتا ہے، جذبات جیسے خوشی، غم، حیرت یا تعجب کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    "علامتِ تفصیل” (:)کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ علامت کسی بات کی وضاحت یا اس کی تفصیل پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور قاری کو ذہنی طور پر تیار کرتی ہے کہ آگے کچھ وضاحتی نکات آئیں گے۔

    "واوین” (” ") کے بارے میں بتایا کہ یہ اقتباس یا کسی خاص جملے کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ "قوسین” ([ ]) ضمنی بات یا وضاحتی مواد کے اضافے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے بڑی بصیرت سے واضح کیا کہ اگر رموزِ اوقاف کو ان کے مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق استعمال نہ کیا جائے، تو نہ صرف جملے کا حسن متاثر ہوتا ہے بلکہ مفہوم میں بھی ابہام اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

    نشست کے اختتام پر شرکاء نے محترمہ سدرہ تنولی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے نہایت دلنشین، مدلل اور مؤثر انداز میں دیے۔

    یہ علمی نشست تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ تربیتی کارگاہ کا پہلا دن تھا،جو اختتام پذیر ہوا۔

    بطورِ طالب علم و نو آموز لکھاری، میرے لیے یہ نشست بے حد معلوماتی اور فائدہ مند ثابت ہوئی۔ رموزِ اوقاف کے استعمال کی اہمیت اور باریکیوں کو جان کر مجھے یقین ہو گیا کہ تحریر کی تاثیر انہی چھوٹی چھوٹی علامتوں سے وابستہ ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس اسی طرح کی تعلیمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے تاکہ ہماری زبان، ثقافت اور فکری ورثے کو مزید تقویت حاصل ہو۔

  • قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قوموں کی ترقی محض قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع یا آبادی کی کثرت سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ اصل قوت انسانی سرمایہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی افرادی قوت کو تعلیم، مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلے۔ چین، جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنے عوام کو ہنرمند بنا کر عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔چین کی معاشی ترقی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہاں کی قیادت نے یہ ادراک کر لیا کہ اگر آبادی کو بوجھ بننے سے بچانا ہے تو اسے زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہوگا۔ تعلیم کو محض ڈگری تک محدود رکھنے کی بجائے فنی تربیت کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ کرپشن کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے، بدعنوانی کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا اور نتیجتاً عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بن چکا ہے اور عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔اسی طرح جاپان کی ترقی بھی کسی معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ علم و ہنر کے امتزاج کا ثمر ہے۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جاپانی ماہرین نے صدیوں قبل چین سے فنی مہارتیں سیکھیں اور بعد ازاں مغربی ٹیکنالوجی کو اپنے ہنر سے ہم آہنگ کیا۔ یہی حکمتِ عملی جاپان کو جدید صنعتی ریاست بنانے کا سبب بنی۔بدقسمتی سے پاکستان، جسے اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع جیسی بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے، آج بھی معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ ہماری تعلیمی پالیسیاں زیادہ تر نظریاتی اور کتابی حد تک محدود ہیں، جن کا عملی زندگی سے براہِ راست تعلق کمزور ہے۔ نتیجتاً ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتے ہیں، جبکہ مارکیٹ کو درحقیقت ہنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حکومت اتنی ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جتنے گریجویٹس تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کا واحد راستہ ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ہے، جو نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں عملی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ہنر سیکھنے کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں فنی تعلیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔


    تاہم اس گھپ اندھیرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو شکوہ نہیں کرتے بلکہ عمل سے چراغ جلاتے ہیں۔چند روز قبل صحافیوں کے ایک وفد کو ایک ایسے آفاقی وژن کے حامل شخص کے منصوبے دیکھنے کا موقع ملا۔وفد کی قیادت صحافیوں کی ایک تنظیم(ساک)کے جنرل سیکیرٹری ضمیر آفاقی نے کی اورلیفٹیننٹ کمانڈر راشد محمود (ر)پاکستان نیوی بھی ہمارے ساتھ تھے جو کہ سوشل میڈیا انٹلیکچوئل انفلوئنسر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تنظیم (کاسب) کے پلیٹ فارم سے ملت کے مقدر کے ستارے بھی تراش رہے ہیں کیونکہ ان کا پختہ یقین ہے کہ ہنر مند ہاتھو ں سے مقدر بدلا جا سکتا ہے درحقیقت ایسے ہی ہنر مند ہاتھوں کی جستجو اور قدر افزائی کے لیے دانشوروں کا یہ قافلہ نکلا تھا تاکہ قوم کے اصل اثاثوں کو سامنے لایا جا سکے۔

    پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرونِ ملک آرام دہ زندگی اختیار کرنے کے بجائے اپنے وطن کے پسماندہ طبقات کی خدمت کو مقصدِ حیات بنایا۔ شیخوپورہ کے نواحی علاقے مہموں والی میں دو سرکاری اسکولوں کو اڈاپٹ کر کے انہوں نے جو سفر شروع کیا، وہ آج ایک قومی ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان اسکولوں میں نہ صرف تعلیمی معیار نمایاں طور پر بہتر ہوا بلکہ ان کے ساتھ قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز نے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے قابل بنا دیا۔

    شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے شروع ہونے والا یہ سفرمعاون فاؤنڈیشن کے زیر انتظام آج ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔ یہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے، بلکہ زندگی جینے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ یہاں بچیاں صرف تعلیم حاصل نہیں کرتیں بلکہ خودمختار بننے کی تیاری کرتی ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات تقریباًاسی فیصد تک نجی شعبے میں باعزت روزگارحاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مزید برآں“اخوت”کے تعاون سے بلاسود قرضوں کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان اپنا روزگار خود شروع کر سکیں۔وفاقی و صوبائی تعلیمی محکموں، نجی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے اشتراک سے چلنے والے یہ منصوبے اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر نیت درست ہو تو پسماندگی کو شکست دی جا سکتی ہے۔یہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز دراصل ان نوجوانوں کے لیے نئی زندگی کا دروازہ ہیں جو حالات کے ہاتھوں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ سلائی مشین سے کمپیوٹر لیب تک، کلاس روم سے ورکشاپ تک ہر جگہ ایک ہی پیغام ہے کہ ہنر عزت دیتا ہے، خودداری سکھاتا ہے۔


    یہ ادارے خاص طور پر ان بچوں اور بچیوں کے لیے امید کا سہارا ہیں جو غربت، گھریلو ذمہ داریوں یا وسائل کی کمی کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کوجزو لازم بنایا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت اس نیٹ ورک کے تحت ملک بھر میں تقریباً تین سوسے زائد تعلیمی و ووکیشنل ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نجی شعبے میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ان اداروں کی ایک نمایاں خصوصیت طالبات کی بڑی تعداد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ماحول محفوظ اور شفاف ہو تو والدین اپنی بچیوں کو تعلیم اور ہنر حاصل کرنے سے نہیں روکتے۔ مزید برآں، بلاسود قرضوں اور نجی و سرکاری اداروں کے تعاون نے اس ماڈل کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اگر معاشی خودمختاری اور سماجی استحکام درکار ہے تو اسے تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

    ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے منصوبے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ درست سمت، مخلص قیادت اور عملی اقدامات سے قومی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ان اداروں سے نکلنے والے نوجوان جب اپنے خاندان کا سہارا بنتے ہیں تو اصل ترقی کی تصویر سامنے آتی ہے۔بلاشبہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے تعلیمی و تربیتی منصوبے پاکستان کے لیے روشنی کے مینارہیں جو حکمرانوں کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ پیشہ ورانہ تربیت سے ہی قومی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔یہ منصوبے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قوموں کا مستقبل تقریروں، سوالوں اور موازنوں میں نہیں بلکہ ہنر مند ہاتھوں، باعمل ذہنوں اور مخلص قیادت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔شاید یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی ایک دن پورے معاشرے کو منور کرے گی۔اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان چین یا جاپان بن سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب اپنی صلاحیتوں پر یقین کر کے ہنر مند پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔کیونکہ قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں۔

    رقیہ غزل
    رقیہ غزل