Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • این اے 56، پی پی 3 میں زلفی بخاری متحرک، رضی طاہر کی رپورٹ

    این اے 56، پی پی 3 میں زلفی بخاری متحرک، رضی طاہر کی رپورٹ

    رپورٹ: رضی طاہر

    وزیراعظم پاکستان کے سابق معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سردار محمد علی خان حلقہ این اے56اور پی پی3میں عوام کی محرومیوں کے ازالے کیلئے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں، حلقہ این اے56اور پی پی3میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حکومت میں آنے کے ایک ماہ بعد ہی اپنوں کی ہی نااہلی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے یہ حلقہ ترقیاتی کاموں اور مرکز کی توجہ سے محروم ہوگیا، لیکن گزشتہ چھ ماہ سے سید ذوالفقار عباس بخاری اور سردار محمد علی خان کے دوروں، عوامی رابطہ مہم اور کارنر میٹنگز کی وجہ سے عوام الناس بالعموم اور تحریک انصاف کے کارکنان میں بالخصوص امید کی کرن جاگی ہے،مختصر وقت میں حلقے میں کئی نمایاں ترقیاتی کاموں کا آغاز بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں قائدین عوامی مسائل کے حل کیلئے خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

    سید ذوالفقار عباس بخاری:

    زلفی بخاری سے معروف ہونے والے سید ذوالفقار عباس بخاری ضلع اٹک کے بڑے سیاسی و عوامی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بخاری خاندان گزشتہ چار دہائیوں سے اٹک کی عوام کی خدمت میں پیش پیش دکھائی دیتا ہے اورشاندار سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔آپ کے والدسید واجد حسین بخاری سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں، جبکہ آپ کے چچا سید منظور حسین بخاری، ذو الفقار علی بھٹو، جام صادق علی،کرنل معمر قذافی اور دیگر کئی عالمی راہنماؤں کے قریبی رفقا میں سے ہیں۔آپ کے دوسرے چچا سید اعجاز حسین بخاری 1983ء سے سیاست میں سرگرم رہے۔ وہ سب سے پہلے ضلع کونسل اٹک کے چیئرمین منتخب ہوئے اور اس کے بعد صوبائی سیاست میں وارد ہوئے اور گزشتہ الیکشن تک مسلسل منتخب ہوتے رہے۔اسی طرح زلفی بخاری کے کزن سید یاور عباس بخاری صوبائی اسمبلی کے ممبر اور صوبائی وزیر برائے بیت المال ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی درخواست پر سید زلفی بخاری نے لندن میں اپنے کاروبار کو خیرآباد کہتے ہوئے پاکستان کا رخ کیا اور اوورسیز پاکستانیز کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے، حق و صداقت کے ایسے داعی نکلے کہ کرپشن کامحض الزام لگنے پر اپنے عہدے کو ٹھکرا دیا اور خود کو قانون اور انصاف کے سامنے پیش کیا، رنگ روڈ سکینڈل میں آپ پر الزامات لگانے والوں کو اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب تحقیقات میں سید زلفی بخاری کو کلین چٹ ملی اور ان پر کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔آپ بھی اپنے خاندان کی طرح عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔

    سردار محمد علی خان:

    سردار محمد علی خان ضلع اٹک کے نامی گرامی سیاست دان ہیں، آپ دبنگ شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ہمیشہ نوجوانوں کا جھرمٹ اپنے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں، دھڑے کی سیاست آپ نے اپنے والد اور دادا سے سیکھی، آپ 2002میں موجودہ پی پی3سے ممبر صوبائی اسمبلی بنے اور اپنے پانچ سالہ دور میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا، آپ نے2010میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، غالباً پاکستان بھر سے تحریک انصاف کی صفوں میں شامل ہونے والے اولین رہنماؤں میں سے ہیں، آپ نے2013میں تحریک انصاف کیلئے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا، اور حلقے میں لگ بھگ35ہزار ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے، آپ کے دادا سردار محمد اقبال خان عوامی شخصیت تھے جو 1953میں منتخب بلدیہ فتح جنگ کے پہلے منتخب صدر بنے، سردار محمد علی خان کے والد سردار اسد علی خان 1977کے انتخابات میں ممبر صوبائی اسمبلی بنے، سردار محمد اقبال خان اور سردار اسد علی خان دونوں شخصیات اٹک میں اپنے منفرد انداز سیاست کی وجہ سے مقبول ہیں، انہوں نے ہمیشہ عوام الناس کے حقوق کی جنگ لڑی اور اس کیلئے انہیں جو اقدامات کرنا پڑے کیے،80اور90کی دہائی میں ان شخصیات کی بدولت ہی اقتدار کے ایوانوں کے فیصلے ہوئے، اپنے حلقے میں کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار میں ان کی حمایت یا مخالفت کا کلیدی کردار رہا، یہی وجہ ہے کہ اب بھی لوگ سردار محمد علی خان کو ان کے بزرگوں کی بدولت یاد کرتے ہیں۔ سید زلفی بخاری کے ساتھ سردار محمد علی خان دونوں شخصیات شانہ بشانہ حلقے کی عوام کے اندر دکھائی دے رہے ہیں۔

    عوامی رابطہ مہم:

    سید زلفی بخاری اور سردار محمدعلی خان کی رابطہ مہم گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے، اس دوران انہوں نے جعفر، مہلو، ڈھوکڑی، باہتر نلہ کے علاقوں، منگیال، حطار، فتح جنگ شہر اور علاقہ نلہ میں کئی کارنر میٹنگز کرکے اہم شخصیات کو اپنے گروپ کا حصہ بنایا، ضلع اٹک چونکہ اپنی ثقافت اور بزرگان دین کے عروس کی وجہ سے بھی معرفت رکھتا ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ فتح جنگ اور گردونواح کی اہم درگاہوں پر عرس، میلے اور بیل دوڑ کے انعقاد میں دونوں شخصیات صف اؤل پر نظرآتی ہیں، اس دوران انہوں نے جعفر میں سوئی گیس منصوبے کا افتتاح کیا، فتح جنگ ٹی ایچ کیو میں ٹراما سنٹر زیر تعمیر ہے جبکہ5کروڑ سے زائد کے منصوبے مکمل ہوئے، تحصیل ایڈمنسٹریشن کے ساتھ سردار محمد علی خان کی ٹیم نے بڑھ چڑھ کر کام کیا اور شہر کو جناح پارک کا تحفہ دیا، اسی طرح سکول میں نئے بلاک کا قیام، گرین بیلٹ سمیت کئی اہم پروجیکٹس میں علاقہ مکینوں کی فلاح کیلئے ان کی ٹیم پیش پیش دکھائی دی، یہ منصوبے حکومتی امداد کے بغیر مکمل کیے گئے

  • "بن روئے نین” تحریر: فرزانہ شریف

    "بن روئے نین” تحریر: فرزانہ شریف

    "لوگ کیا کہیں گے "کے خوف نے معاشرے میں جہاں اور بہت سی مشکلیں پیدا کی ہوئیں ہیں وہاں دوسری شادی کرنے کو کچھ لوگ جرم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم کردیا تو لوگ باتیں کریں گے ۔میں کہتی ہوں کرنے دیں باتیں جو آپ کے پیارے ہوں گے آپ کے مخلص ہوں گے وہ آپکو دوسری شادی سے کبھی منع نہیں کریں گے بلکہ اس نیک کام میں آپکی مدد کریں گے ایک شرعی رشتہ اپنانے میں آپکی مدد کریں گے اکثر مرد دیکھے جن کی بیویاں اللہ کو پیاری ہوگئیں اور اولاد نے کوشش ہی نہیں کی ان کو دوسری شادی کی طرف راغب کرنے کی یوں ان کی ذندگی کے قیمتی سال ضائع کردیے صرف اپنی جھوٹی آنا کی تسکین کے لیے اور اگر کچھ نے شادی کرنے کی کوشش بھی کی تو اولاد راہ میں آگی کہ لوگ کیا کہیں گے اس اولاد کو یہ احساس نہیں کہ آپ اپنے بیوی بچوں ۔یا خاوند بچوں کے ساتھ خوشحال ذندگی گزار رہے ہو تو کیا آپکے والد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی عمر کا بقیہ حصہ اپنی لائف پارٹنر کےساتھ گزار سکے ۔ایسی اولادیں بھی دیکھی ہیں جھنوں نے اپنے والد کی تنہائی کو دیکھتے ہوئے ان سے میچ کرتی سوٹ ایبل عورت سے اپنے والد کا نکاح پڑھوادیا اور ایسی خود غرض اولاد بھی دیکھی جن کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہمارے والد کو لائف پارٹنر کی ضرورت ہے وہ اکیلا کیسے پوری ذندگی گزار سکتا ہے اسے جذباتی سہارا صرف اپنی لائف پارٹنر سے مل سکتا ہے اگر آپ اپنے والد کی خوشی سے خود شادی کروگے تو اللہ کے بندو آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا کمی کسی صورت نہیں ہوگی ۔خود سوچیں اولاد کتنی دیر پاس بیٹھ سکتی ہے 5گھنٹے 6گھنٹے جبکہ آپکے والد صاحب کو 24گھنٹے کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے جیسے آپکو اپنے لائف پارٹنر کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔!!

    اسی طرح اکثر عورتوں کو دیکھا مرد وفات پاجاتے ہیں تو عورت اپنی ساری جوانی اس مرد کے نام گزار دیتی ہے اور بڑھاپے میں بہین بھائیوں کی محتاج ہو کر رہ جاتی ہے میرا مشورہ ان کو یہ ہے کہ اگر آپ کو بچوں کی مجبوری نہ ہوتو کسی صورت یہ گھاٹے کا سودا نہ کرو کسی صاحب حثیت انسان سے شادی کرنے میں دیر نہ کرو جو آپکے بچوں کو بھی سپورٹ کرسکے اور آپکو بھی جذباتی سہارا مل جائے لوگ باتیں بناتے ہیں بنانے دیں لوگوں کی پرواہ کرنی چھوڑ دیں آپ ان کے سامنے سونے کے بھی بن کر آجاو وہ پھر بھی کہیں گے ضرور دال میں کچھ کالا ہے ذندگی اللہ کی دی ہوئی بہت پیاری نعمت ہے اسے دوسروں کے ڈر سے ضائع نہ کریں اپنی ذندگی خود جیئں دوسروں کو اپنی ذندگی جینے نہ دیں ۔۔!!!

    اسی طرح اگر مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میری بہنوں سے گزارش ہوگی کہ پہلے پوری کوشش کریں اپنے شوہر کی سب امیدوں پر پورا اترنے کی اس کی خاطرخدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اسے بھرپور اپنی محبت دیں اس کے ساتھ سچی وفادار بن کر رہیں پھر بھی اگر وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے بجائے اس کے کہ وہ غلط راستہ چنے ۔جو گناہ کبیرہ کی طرف لیکر جایے ۔اسے خوشی سے دوسری شادی کی اجازت دے دیں۔ یہ اجازت اسے اللہ نے دی ہوئی ہے شائد اس کی فطرت دیکھ کر ہی کہ بعض اوقات مرد ایک بیوی سے مطمئن نہیں ہوتا اس کی تمنا ہوتی ہے دوسری عورت کی تو اسے بالکل منع نہ کریں مرد پر فرض ہے کہ اگر وہ دوسری شادی کرتا ہے تو پہلی کے تمام حقوق حسن طریقے سے پورے کرے ایک لمحہ کی بھی ہیرا پھیری پہلی کے ساتھ نہ کرے دونوں کو برابر کے حقوق دے ویسے بھی ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تعداد ذیادہ ہے اور مردوں کی کم ۔اکثر بہنوں کے بالوں میں سفیدی اتر آتی ہے لیکن ان کے لیے کوئی مناسب رشتہ نہیں آتا ایسی عورتوں سے شادی کرنا بہت ثواب کا کام ہے ۔اور خاص طور پر بیوا طلاق یافتہ عورت سے شادی کرنا مرد کی اعلی ظرفی کی دلیل ہے ۔۔!!!
    پاکستان میں اپنی ایک جاننے والی کی بات بتاتی ہوں لڑکی کی عمر بمشکل 22 سال تھی اس کے دو بچے تھے اس کا شوہر بجلی کے محکمے میں تھا کرنٹ لگنے سے اچانک فوت ہوگیا پھر ہوا کیا لڑکی کے سسرال والوں نے کہا کہ ہم بچوں کی بہت اچھے طریقے سے پروش کریں گے اور بہو کو جتنے پیسوں کی ضرورت ہوا کرے گی ہم دیں گے لیکن ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ گھر چھوڑ کر جائے مطلب نیا گھر بسائے یوں اس لڑکی نے بنا شوہر کے اپنی پوری ذندگی قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا کیا صرف پیسے ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں ؟ابھی وہ اس بات پر مطمئن ہے کہ بچوں کی پروش اچھے طریقے سے ہوجائے گی کیا وہ پوری ذندگی ان بچوں کے سہارے گزار دے گی کیا اسے ذندگی میں لائف پارٹنر کی ضرورت نہیں ہوگی؟ضرور ہوگی اس کے سسرال والوں کو چاہئیے اس کا نکاح اپنی فیملی میں ہی کردیں جہاں بچوں کوبھی سہارا مل جائے اور ماں کوبھی ۔لیکن ہمارے معاشرے میں ایک ہی روگ۔کیا کہیں گے لوگ۔۔۔!!!

    @Farzana_Blogger

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 3)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

     ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

  • "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا” تحریر:فرزانہ شریف

    "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا” تحریر:فرزانہ شریف

    سیاست میں برداشت کی عدم دستیابی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اس کی وجہ ملک میں حد سے ذیادہ بےانصافی اداروں کی بےتوقیری ۔عدالتیں اشرافیہ کی مٹھی میں ۔۔اپنے من پسند فیصلے چٹکیوں میں کروا لیتے ہیں غریب بے چارےسالوں عدالتوں کے دھکے کھانے کے بعد آخر مایوس ہوکر فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔چور ڈاکو سرے عام ملک میں دندناتے پھرتے ہیں اور بے گناہ ناکردہ گناہ کی سزا بھگت کر جب مرجاتے ہیں تو ان کے مرنے کے بعد جب فیصلہ آتا ہے فلاں بندہ بے قصور ہے اسے بری کردیا جائے تو پتہ چلتا ہے اسے جیل میں ایڑیاں رگڑتے مرے ہوئےدو سال ہوچکے ہیں۔۔!!اگر ملک میں انصاف کا بول بالا ہوجائے تو ملک کے 70%مسائل اور منفی سرگرمیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن وہی بات "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا”کے مصداق ہر کام غریب غربا آخرت پر چھوڑنے پر مجبور ہیں ۔

    ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے گذشتہ 30سال سے کرپٹ ترین حکمران ملے ہیں جھنوں نے نہ صرف خود ملک کو خوب نوچا ہے بلکہ اپنی نئی نسل بھی تیار کرلی ہے کہ رہتی کسر وہ پوری کرلیں ۔اس کے لیے وہ ہر وہ قدم اٹھارہے ہیں جس میں ان کو اقتدار ملنے کی تھوڑی سی بھی امید ہو دشمن ممالک کو اپنے بیانات سے ہرممکن کوشش کررہے ہیں خوش کرنے کی ۔ نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان کینسل ہونے پر جس قدر مریم نواز نے خوشی کا اظہار کیا تھا وہ ہم سب کے لیے حیران کن نہیں تھا کیونکہ ہم اس سے پہلے بھی اس کے ایسے بیانات سن چکے تھے بس دکھ کی بات یہ ہے کہ اس کے سپوٹرز یہ سب جاننے کے بعد بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اس کی سرے عام خان صاحب کو دی ہوئی گالیاں بھی ریکارڈ پر ہیں اور خان صاحب کے کردار پر رکیک جملے کسے جو ایک خاتون ہوتے ہوئے نہائت غیر مناسب تھے ایسا جملہ بولنے سے پہلے عام عورت مر جانا پسند کرتی ۔۔

    حالیہ دنوں میں خاتون اول پر اس کے لگائے الزام نے قوم میں غم وغصہ کی فضا قائم کی ہوئی ہے جو ابھی تک کم ہونے میں نہیں آرہی اور دو دن مسلسل مریم نواز پر تنقید کا سلسلہ جاری رہا ٹاپ ٹرینڈ بنے اس کے خلاف ۔سوشل میڈیا پر جتنا ذیادہ اپنی نفرت ۔غم وغصے کا اظہار کرسکتا تھا اتنا پی ٹی آئی ورکرز نے کیا ۔۔!!ایک سزا یافتہ مجرمہ کو یوں سرے عام اداروں پر کیچڑ اچھالتے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ عام عوام میں مایوسی کیوں نہ پھیلے جہاں پورا ملک لوٹ کر کھاجانے والوں کواداروں نے اتنی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہیں جو چاہیں کریں کوئی ان سے کچھ بھی پوچھنے کی جرآت نہیں کرسکتا ایک عام روٹی چور کو اپنی باقی کی ذندگی جیل میں سڑتے گزارنی پڑجاتی ہے اگر وہ بدقسمتی سے پکڑا جاتا ہے تو۔۔۔! باپ ۔بیٹے لندن میں مزے سے ذندگی گزار رہے ہیں اور بیٹی کو اداروں پر چڑھائی کرنے کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔۔جتنا دوسروں کے کردار پر کیچڑ اچھالتے میں نے نون لیگ کو دیکھا اتنا کسی سیاسی پارٹی کو گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔!!چاہے وہ بےنظیر کی ہیلی کاپٹر سے تصویریں پھینکنے کی بات ہویا پھر پی ٹی آئی کی خواتین پر کیچڑ اچھالنا یا پھر جمائمہ پر جھوٹے الزمات لگانا خان صاحب کے کردار پر رکیک الزامات لگانا ۔۔

    آصف زرداری بےشک بہت بڑا چور ہے کم ازکم ان کے منہ سے مخالف جماعتوں کی خواتین کے کردار پر بات کرتے نہیں دیکھا تو کیا وجہ ہے کچھ لوگوں نے اس کی بیٹی کے کردار پر کیچڑ اچھالا کیا ہم اتنے شدت پسند ۔ہماری ذہنی پستی اس حد تک چلی گی ہے کہ دوسروں کی بیٹیوں پر ایسے الزمات لگائیں ان کا کردار ان کی اولاد تک کو مشکوک بنادیں بختاور بھٹو کا کیا یہ قصور ہے کہ وہ زرداری کی بیٹی ہے؟
    جیسے ہی سوشل میڈیا پر بختاور بھٹو کی خوشی کی خبر چلی پتہ چلا اسے اللہ نے نعمت سے نوازا تو ایک طوفان بدتمیزی مچ گیا ہر بندے نے حسب توفیق اس میں حصہ ڈالنے کی پوری کوشش کی گھٹیا تبصرے کرکرکے ۔۔کیا آپ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسے الفاظ ایسے تبصرے برداشت کرسکتے ہیں جو بختاور بھٹو کے لیے کیے گے اور سننے والوں نے سر دھنا۔کیا اللہ کو جان نہیں دینی اگر آپ عمر خضر بھی لکھوا کر آئے ہیں تب بھی کسی پر تمہت لگانا دل آزاری کرنا حرام فعل ہے اور یہ عمل دل کو کبھی سکون نہیں لینے دیتا اس لیے اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگیں جس جس نے بھی اس کے خلاف ٹوئٹس کیے ہیں آپکے الفاظ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں جو بھی لکھیں بس یہ سوچیں آپ اپنی شخصیت الفاظ کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہوتے ہیں ۔۔

    رہی بات بلاول بھٹو کی یہ اور مریم نواز سکہ کے دو رخ ہیں جیسے زرداری اور نواز شریف ۔اقتدار کے لیے ملک کا سودا بھی کرنا پڑ جائے تو بھی یہ کر گزریں گے یہ میرا خیال ہے سب کا میری اس بات سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔میں نے آج تک جس انسان کو اپنی بات پر کھڑے ہوتے دیکھا جس کی باتیں آپکو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں آپکو ہمت جرآت کا سبق دیتی ہیں وہ وزیراعظم عمران خان ہیں اس انسان کے جو خیالات الفاظ 22سال پہلے کی تقریر میں تھے وہ ہی آج بھی ہیں اس انسان سے ذیادہ محب وطن حکمران میں نے اپنی ذندگی میں نہیں دیکھا ۔خان صاحب کی یہ جرآت ہی ہے کہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو انکی اوقات یاد دلا دی اور آج امریکہ کی سفیر ایک سیاسی مجرمہ سے ملنے کے لیے مجبور ہوئی یہ بھی پاکستان کی جیت ہے کہ دنیا کا سپر پاور بھی خان صاحب کے آگے پانی بھرتا لوگ دیکھ رہے ہیں ۔

    خان صاحب کو بہت مشکل سے وزیراعظم بنایا تھا بہت امیدوں کے ساتھ کہ وہ ان چوروں کے جبڑوں میں ہاتھ ڈال کر پاکستان کا لوٹا پیسہ نکال لیں گے جس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے لیکن ابھی بہت سے کام ہونے باقی ہیں جو ان دو سالوں میں ممکن نہیں اللہ کرے اگلی دفعہ خان صاحب بھاری اکثریت سے الیکشن جیت جائیں ۔گزشتہ الیکشن والا حساب ہوا ۔پھر خان صاحب کے ہاتھ بندھ گئے تو خان صاحب کے نئے پاکستان کا خواب پورا ہونا مشکل ضرور ہوجائے گا لیکن ناممکن ہرگز نہیں کیونکہ خان صاحب کے ساتھ عوام کی طاقت اوراللہ کی خاص مدد ہے پھر بھی دعا ہے اللہ کرے نیکسٹ الیکشن میں ۔ایم کیو ایم ۔چوہدری برادران کا دم چھلہ خان صاحب کے پیچھے سے اتر جائے خان صاحب اپنی مرضی کے فیصلے کرسکیں عدلیہ کو بھی اللہ ہدایت دے کہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے کے ساتھ مل کر ملک میں انصاف کا علم بلند کردے تو یہ نفرت غصہ ۔بے اعتمادی کی فضا بھی ختم ہوجائے گی۔ ان شاءاللہ
    پھر خان صاحب دنیا کی سپر پاور چین کے ساتھ مل کر ملک کو بلندیوں پر پہنچا دیں گے لوگ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرکے فخر محسوس کیا کریں گے ان شاءاللہ ۔۔
    @Farzana_Blogger

  • دانتوں سے خون آنا ،تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    دانتوں سے خون آنا ،تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    اکثر لوگ کلینک میں شکایت لیکر آتے کہ دانتوں سے خون بہت آتا اور اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی سب سے زیادہ دانتوں کے حوالے سے یہی سوال اٹھایا جاتا کہ دانتوں سے خون آنے کی وجہ کیا ھے آج میرا کالم اسی ٹاپک پر ھوگا سب سے پہلے تو ھم یہ سمجھ لیں کہ خون دانتوں سے نہیں مسوڑوں سے آتا ھے دانت بذات خود ایک ھڈی ھوتے اسلئے ان سے خون ایک ھی صورت نکل سکتا جب ان میں کیڑا اتنا گہرا لگا ھو کہ دانت پورا جڑ تک کھل جائے اور جڑ میں موجود خون کی نالی میں چوٹ یا انفیکشن بن جائے تو وہاں سے خون نکلے یہ ایک یا دو تین دانتوں ساتھ ھی ھوتا اگر کوی یہ کہے کے پورے منہ سے خون آتا رات سوتے میں یا صبح جاگتے سمے تو اسکا مطلب یہ مسئلہ دانتوں کا نہیں مسوڑوں کا ھے اور اسکا حل اگر تلاش کرنا تو ھمیں مسوڑوں کی ساخت انکے مسائل انکی بیماریوں کی وجہ اور ان بیماریوں کے حل کے طریقے دیکھنے ھونگے سب سے پہلے تو یہ کہ اللہ نے جسم میں سب سے مضبوط دانت کی ھڈی اور نازک حصوں میں مسوڑوں کو بنایا ھے یہ ایک ایسا حسین امتزاج ھے کے اللہ کی اس قدرت کو دیکھ کر انسان عش عس کر اٹھتا ھے اور جو ان مسوڑوں کا حال مریض کر لاتے دیکھ ڈاکٹر غش کر بیٹھتا خیر یہ تو ازراہ مزاح بات کی اصل بات یہ کہ ان Gums میں ایک چیز ھوتی جسکو ھم collagen کہتے انکی مضبوطی کمزوری کا تعلق Gums میں سے خون آنے کو تہہ کرتا
    دنیا میں سب سے زیادہ موجود بیماری کا نام Gingivitis ھے اسکا آسان الفاظ میں مطلب مسوڑوں سے خون آنا ھے یہاں سے پتہ چلتا کہ یہ کتنی اہمیت کی حامل بیماری ھے اگر اسکا بروقت علاج نا کیا جائے تو انسان کو دل کا مرض معدے کا اور جگر کے امراض جیسے کینسر تک بھی ھوسکتے

    اب اس بیماری کی وجوہات ھین جن میں سے کچھ منہ میں موجود کچھ منہ سے باھر کی ھیں منہ میں موجود بیماری کی وجوہات میں سے کچھ دانتوں کا صاف نا ھونے کی وجہ سے ماس خورا یعنی Calculus لگ جانا یہ سب سے پہلے ایک گندی تہہ کی صورت دانتون پر لگتی پھر اسکے بعد اس پر دانت کا کیلشیم اور منہ میں موجود چینی یعنی گلوکوز کے ذرہ جڑتے اب یہ Plaque بن جاتی پھر اسکے اوپر وقت گزرنے کیساتھ بیکٹیریا بھی شامل جوکر Calculus بنادیتے اب مسوڑے کمزور ھوکر نیچے چلے جاتے اور گھر یعنی منہ گندا ھوجاتا منہ سے بو آتی دانت ھلنا شروع ھوجاتے اسکے بعد دوسری منہ کی بیماری جیسے میں نے اوپر بتایا کہ وہ دانتوں میں کیڑا لگنا ھے اور تیسری وجہ منہ میں چھالے بننا ھے اس سے بھی یہ مسئلہ پیدا ھوسکتا پھر باری آتی باھر کے معاملات کی تو اس میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر معدہ ھے تیزابیت والے کھانے معدے کو خراب کرنے والی خوراک کے سب سے زیادہ اثرات منہ میں جاتے اب یہ ایک دو طرفہ ٹریفک ھے یعنی منہ کے معاملات ٹھیک نہیں تو معدہ ٹھیک نہیں رہ سکتا اور دوسرا اگر معدہ ٹھیک نہیں تو منہ نہیں ٹھیک رہ سکتا اسلئے تیزابیت والی چیزوں کا استعمال کم رکھیں اور ایسی چیزیں جو ٹھنڈی تاثیر پیدا کریں جیسے تازہ پھل اور سبزیاں انکا روز مرہ زندگی کا معمول بنایئں اسکے بعد باری آتی شوگر بلڈ پریشر کی انکی وجہ سے بھی Collagen فائبر کمزور ھوتے اور مسوڑھے خراب ھوتے پھر گردے جگر کی بیماریوں سے بھی یہ مرض ھوجاتا

    اب اسکا ایک علاج ٹھنڈی تاثیر کی چیزیں کھانا صبح ناشتے کیبعد رات سونے سے پہلے دانت صاف کرنا اچھا سا ماؤتھ واش لیکر اس سے دانت صاف کرنا کلی کرنا تین سے چار بار ھے کے کیسز میں معاملات ان سے حل نہیں ھوتے تو پھر ڈینٹل کیلنک پر ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ھوجاتا ایسے میں وہاں ڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتا اگر صفائ کی ضرورت ھے تو لازمی کروائیں اور اگر کسی دانت کا مسئلہ تو حل کروائیں جیسے rCt یا نکلوائیں اور اگر مسئلہ بیرونی تو پھر آپکو ھر 6 ماہ بعد لازمی دانتوں کی صفائی کروانی پڑنی جب تک کہ وہ مسئلہ حل نہیں ھوتا سکیلنگ دانتوں کی صفائی اور RCt کی تفصیل میں پچھلے کالمز میں لکھ چکا ھوں انکو لازمی پڑھ لیں اس سے یہ ٹاپک سمجھنا اور آسان ھوجایئگا

    آخر میں سب سے بڑھ کر صفائی نصف ایمان ھے پر عمل ھمیں کئی بیماریوں اور آفات سے بچاتا ھے اس پر عمل کریں لازمی کریں شکریہ

  • ایک قوم ایک نصاب اور طبقاتی نظام تعلیم

    ایک قوم ایک نصاب اور طبقاتی نظام تعلیم

    تحریر: رضی طاہر

    کہتے ہیں سیاست دان ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کے بارے میں انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کاموں کے نتائج انہیں اگلے انتخابات میں ملیں گے لیکن قائدین کی نظر اگلے انتخابات پر نہیں بلکہ اگلی نسل پر ہوتی ہے، وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جس کے پھل سے نسلیں سیراب ہوتی ہیں، ایک قوم ایک نصاب کے اقدام کی بھی مثال ایسی ہی ہے، ممکن ہے کہ ابھی اگلے چند سالوں میں اس کے نتائج سامنے نہیں آئیں گے لیکن اگلے دو عشروں میں ایک نئی نسل جب سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں مختلف بجٹ کے ساتھ ایک جیسا نصاب پڑھ کر کسی مقابلے کے امتحان میں جائے گی تو کوئی امیر و غریب، انگلش و اردو میڈیم کی تفریق کے بغیر قوم کے نوجوان بیٹھے ہوں گے۔ یقینا اس کے نتائج تب سامنے آئیں گے، دیہاتوں میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ غریب کا لڑکا نمبردار نہیں بن سکتا لیکن ایک قوم ایک نصاب دراصل انہی نمبرداریوں کو ختم کرنے کی جانب بارش کا پہلا قطرہ ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تیسرے سال کو مکمل کرچکی ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے عوام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سب سے بڑا قدم ہمارے مستقبل کے معماروں کو ایک نصاب پڑھانا ہے، حکومت کی جانب سے اس کے اعلان کے بعد اشرافیہ میں کھلبلی سے مچ گئی ہے اور تعلیمی اداروں کے نام پر بڑے کاروباری مراکز کے مالکان نے عدالتوں کے چکر کاٹنا شروع کردیئے ہیں، وہ اپنی دوکانداریاں اور نمبرداریاں ختم کرنے کیلئے یہ چاہتے ہیں کہ عدالت آئین کے متصادم فیصلہ دے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوگا۔ پاکستان کا آئین ملک کے ہربچے کو تعلیم کا حق دینے کے ساتھ ساتھ مساوات کا بھی درس دیتا دکھائی دیتا ہے اور مستقبل کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک پاکستان کے ایوان میں کسی نوجوان کی جگہ نہیں تھی لیکن گزشتہ انتخابات نے کئی بڑے بڑے برج الٹادیئے اور ان کی جگہ نوجوانوں نے لی، اب ایک وقت ایسا آئے گا کہ کسی دیہاڑی دار مزدور کا باصلاحیت بچہ بھی اسسٹنٹ کمشنر بن سکے گا، مقابلے کے امتحان میں بازی لے گا اور سول سروسز میں ایمانداری کو زیور بناتے ہوئے اپنی جگہ بنائے گا۔

    ایک قوم ایک نصاب کا آغاز دراصل وزیراعظم عمران خان کے انتخابی مہم میں لگائے گئے نعرے کی تکمیل کی جانب بڑا قدم ہے، مینار پاکستان کے سائے تلے دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگا تھا، اب وہ وقت دور نہیں کہ جب یقینا نمبردار کے بیٹے کے مقابلے میں کئی نمبردار مقابلے میں تیار ہوں گے۔ایک قوم ایک نصاب طبقاتی تقسیم کے بت کو پاش پاش کردے گا، پاکستان میں ہمیشہ سے ایسے نہیں تھا، لیکن جب سے ہم نے اکیسیویں صدی میں قدم رکھا، پاکستان میں تعلیم کے ساتھ تجارت نتھی ہوگئی اس وقت سے طبقاتی فرق نے جنم لیا، جب تعلیم کو سمجھنے، سمجھانے اور تربیت حاصل کرنا کا ذریعہ اور حصول علم کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا تب کوئی طبقاتی تفریق نہیں تھی۔

    پاکستان میں ویسے تو کئی نظام تعلیم رائج ہیں اور لاتعداد نصاب، لیکن اگر ہم بالخصوص تقسیم کی بات کریں تو ہمارے زوال پذیر تعلیمی نظام نے چار طبقات میں تقسیم نسل تیار کی، یا یوں کہہ لیں کہ ہمارا نظام چار حصوں میں تقسیم ہے، پہلا نظام روایتی سکولوں میں رائج ہے جس میں اردو میڈیم، نیم انگریزی میڈیم یا اگر سندھ کی بات کی جائے تو وہاں سندھی میڈیم سکول قائم ہیں، دوسرا طبقہ یا نظام مکمل انگریزی میڈیم سکولوں کی صورت میں رائج ہے جہاں کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، تیسرا طبقہ او اور اے لیول کا ہے اس طبقے میں وہی تعلیم حاصل کرپائے گا جو ماہانہ پچاس، ساٹھ ہزار فیس بھر سکتا ہو، گویا پیسے کی بنیاد پر تقسیم کردی گئی، اب غریب کا بچہ چاہے جتنا بھی باصلاحیت کیوں نہ ہو، یہاں اس کے والدین کے پر جلتے ہیں۔ چوتھا طبقہ مدارس کا ہے جہاں پر حکومتی نصاب کے ساتھ خاص فرقے یا مذہب بھی گھول کر پلایا جاتا ہے،لاکھوں کی تعداد میں بچے مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ دیگر اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے اور مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں زمین آسمان کا فرق واضح محسوس کیا جاسکتا ہے۔

    اب یہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے، ایک دوسرے کی سننے کی بجائے ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے کی رائے اور سوچ کو رد کرتے ہیں۔ اس طبقاتی تقسیم کے نتیجے میں ہم نے مختلف نصاب، مختلف ماحول میں پڑھا کر جو کھیپ تیار کی تھی وہ ہمارے سامنے ہیں، وہ ہم لوگ ہیں جو 20سے30کے درمیان ہیں، تقسیم در تقسیم،اختلاف برائے اختلاف، سوشل میڈیا پر قوم کی یکجہتی کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں، تاہم ا ب حکومت وقت نے ایک قوم ایک نصاب کا فیصلہ کرکے طبقاتی نظام کو سمندر برد کرنے کاآغاز کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے ملک کے تمام ادارے، سیاسی جماعتیں، مذہبی قائدین اور مشائخ ایک قوم ایک نصاب کو رائج کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں،یہ ہی واحد صورت ہے جو طبقاتی نظام کی تنسیخ کے لیے ضروری ہے۔

  • جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے 2012 میں اپنی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کی بنیاد رکھی اور جو ہجوم نما قوم آج غم میں مری جا رہی ہے اُنہوں نے ووٹ دینا تو دور کی بات ٹکٹ لینا بھی پسند نہیں کئے اور پورے پاکستان میں ڈاکٹر صاحب ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے تھے۔ اسی طرح ساری قوم عبدالستار ایدھی صاحب کی وفات پر گہرے رنج و افسوس میں تھی لیکن ایدھی صاحب نے جب الیکشن لڑا تھا تو ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ ایسی کئی مثالیں ہمیں ہر ضلع کی سطح پر دیکھنے کو ملتی ہیں جو لوگ انتہائی شریف النفس , نیک و خدمت گزار ہوتے ہیں اُنکو ہم القابات سے تو بہت نوازتے ہیں لیکن جب اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا وقت آئے تو ہائی کوالٹی رنگ باز کو اُسکے مقابلے میں منتخب کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ذات برادری کا ہوتا ہے یا ہمارے باپ دادا نے اس پارٹی کو ووٹ دیا ہوتا ہے اور ہم بھی کفار مکہ کی طرح اسی پارٹی کے بت کو تا حیات پوجتے رہتے ہیں۔

    اسی طرح جب پاکستان تحریک انصاف نے 2013 میں الیکشن لڑا تو 60 فیصد ٹکٹ عام نوجوانوں کو دیئے اور ذیادہ تر لوگ اچھی شہرت کے حامل تھے لاہور کی مثال لے لیں علامہ اقبال کے پوتے بیرسٹر ولید اقبال کے مقابلے ہم نے گیس چور شیخ روحیل اصغر کو جتوا دیا۔ اسی طرح عوام نے دیگر حلقوں میں بھی روائیتی سیاسی گھرانوں کو نوجوانوں اور شریف النفس امیدواروں پر ترجیح دی۔ جنہیں ہم عرف عام میں الیکٹیبکز کہتے ہیں۔

    جب ملکی حالات کا رونا روتے ہوئے کوئی میرے سامنے کہتا ہے کہ ” ساڈا کی قصور اے” تو میں سوچتا ہوں کہ قصور تو ان چند عظیم لیڈران کا ہے جو اس مردہ ہجوم نما قوم کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں شعور دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنی روش نہیں چھوڑنی جزباتی تقریریں بھڑکاؤ نعرے ہم سے لگوا لیں وہ ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔
    بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہونگے کہ مرحوم ڈاکٹر قدیر خان پر ایٹمی راز بیچنے یا افشاں کرنے کا الزام تھا کتنا سچ کتنا جھوٹ ہے وہ رہنے دیں لیکن یہ حقیقت آج سب پر آشکار ہو چکی ہے کہ ہمارے اولین دشمن ان کی جان کے در پے تھے اس لیے انہیں مشرف کے جانے کے کئی سال بعد بھی برائے نام آج تک گھر میں نظر بند رکھا گیا تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے اور انہیں ممکنہ خطرے سے بچایا جاسکے۔ لیکن آج تک ہم میں سے بیشتر یہی سمجھتے رہے کہ شائد ڈاکٹر صاحب کو ایٹم بم بنانے کی سزا دی گئی اس لیے قید کیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ ہتھیار پوری دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اس لیے ہمارے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کرنی تھی کرنی ہے اور کرتے رہیں گے کہ کسی نا کسی طرح پاکستان سے یہ ہتھیار واپس لیے جائیں لیکن ریاستِ پاکستان نے نا صرف اپنے ہتھیاروں بلکہ اپنے سائنسدانوں کو بھی محفوظ رکھا۔
    برائے کرم جزبات سے نہیں حقائق سے سوچا کریں اور کم سے کم اپنے اندر اتنا شعور بیدار کریں کہ اپنے حکمران ذات برادری رنگ نسل یا سیاسی پارٹی پر نہیں بلکہ کارکردگی پر منتخب کر سکیں۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ نواز شریف کے دور میں چینی 65 روپے کلو تھی لیکن یہ بھول گئے کہ مشرف دور میں 27 روپے کلو تھی
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ڈالر 130 روپے کا نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف تو ڈالر 60 روپے کا چھوڑ کر گیا تھا
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ملک پر قرضہ ‏95 ارب ڈالر نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا
    لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف 33 ارب ڈالر پر چھوڑ کر گیا تھا

    اگر نواز شریف دور میں ملک ترقی کررہا تھا تو چینی 65 سے کم کر کے جانا چاہئیے تھا
    اگر ملک ترقی کررہا تھا تو ڈالر 60 روپے سے کم کر کہ جاتا۔
    اگر ملک ترقی کر رہا تھا تو قرضہ 33 ارب ڈالر سے کم کر کے جاتا۔

    جیسے آج عمران خان نے ملک کے قرضوں میں کمی لانا شروع کی ہے۔ آپ عمران خان سے لاکھ اختلاف رکھیں لیکن آپ کو ماننا پڑے گا اس سے اچھا آپشن ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اگر آپکی چوائس وہی لوگ ہیں جنکی کارکردگی ہمارے سامنے ہیں جن کے جیسے غدار اور منافق کوئی نہیں تو آپ وراثتی ماحول کے ذہنی غلام ہیں۔

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ایسے ایسے سیاستدان ہیں جن کے بال سفید ہوگئے سیاست کرتے جو واقعی قابل بھی ہیں اور ایماندار بھی ہونگے لیکن وہ بلاول اور مریم کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ سیاسی پارٹی ان کے باپ کی ہے اس لیے حکمرانی کا حق بھی انہی کا ہے پھر چاہے سیاست کی الف بے بھی معلوم نا ہو لیکن وراثت میں یہ ملک اور اس پر حکمرانی مل گئی پہلے ان کے آباؤ اجداد ہم پر حکمرانی کرتے رہے اب ان کی اولاد ہم پر حاکم بنیں گے ۔ آخر کیوں ۔؟

    میرا یا آپ کا بچہ کیوں حاکم نہیں بن سکتا آخر یہ بادشاہت ہے یا جمہوریت ۔ اگر جمہوریت ہے تو کیسی جمہوریت جہاں نسل در نسل غلام نسل در نسل حکمران چلے آرہے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آخر کیوں نہیں سوچتے کہ یہ دو خاندان پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں یہ مہنگائی غربت بے روزگاری اداروں کی بد حالی سب انہیں کی میراث ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں آخر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس کوئی ایسی جادو کی چھڑی ہے جو چار دہائیوں کی تباہی کو چند سالوں میں ہی ٹھیک کر دے گی یعنی ملک تباہ کرنے میں بھی کم سے کم چالیس سال لگے ہیں راتوں رات تباہ نہیں ہوا اور آپ چاہتے ہیں ٹھیک فوراً کر دیا جائے ۔؟

    ایسا ممکن ہی نہیں ہمیں ٹیکسز مہنگائی غربت کی چکی میں پسنا پڑے گا اب یہ تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی اس کے علاؤہ کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں۔ آئینے کے دو رخ ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے عقل و فہم سے عاری اندھے گونگے بہرے لوگ دیکھنے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ عمران خان نا بھی رہا تو اس کو کون سا فرق پڑے گا وہ تو وزیراعظم بننے سے پہلے بھی شہرت و عزت کہ زندگی وہ گزار چکا ہے بعد میں بھی گزار لے گا فرق پڑے گا مجھے اور آپ کو جو آج ہم عمران خان کو کوس رہے ہیں کل جب پھر سے ہم پر ڈاکو خاندان راج کر رہے ہونگے تو ہم اس وقت کو یاد کر کہ دہایاں دے رہے ہونگے لیکن پھر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔

    خدارا ہوش کے ناخن لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    جیسے جیسے ڈالر کی اڑان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا حجم بھی ویسے ویسے بڑھتا جا رہا ہے ۔ جس کو کم کرنے کیلئے حکمران مزید قرضے لینے پہ مجبور ہیں ۔ اور ماہر معشیات کے مطابق پاکستان کی معشیت اب اس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اب قرضوں کی ادائیگی بھی مزید قرض لے کر ہوگی۔ اور ان قرضوں سے اب ایکسپورٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا ۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند برسوں میں قرضے کی قسطیں ہمارے مجموعی بجٹ سے بھی بڑہ جائیں گی ۔ صرف یہی نہیں مصیبت برائے مصیبت ان قرضوں کے ساتھ بڑھنے والا سود بھی ہے ۔

    مارچ 2019ء میں ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

    دوسری بات جب بھی کسی شخص کو یا کسی ریاست کو تنہا کیا جاتا ہے تو وہ اپنے وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنا لوہا ضرور منواتے ہیں ۔ دنیا میں وہ تمام ممالک جنہیں دیفالٹ قرار دے کر انہیں سیاسی طور پہ تنہا کیا گیا وہ اپنے قدموں پہ کھڑے ہوگئے ۔اس کی ایک زندہ مثال چین ہے جو پاکستان کے بعد وجود میں آیا ۔ لیکن آج اسکی معشیت سے لے کر سیاسی حالت سب ہی قابل رشک ہیں ۔ ایران عراق لیبیا اور سوڈان کو تنہا کیا گیا لیکن وہ سب ایک مضبوط بن کر ابھرے ۔

    ….continue

  • سودی نظام اور ہماری معیشت ( حصہ اول )۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    وہ شخص کندھے جھکائے آنکھوں میں ندامت کے آنسو لئے زمیں میں نظریں گاڑھے بیٹھا تھا ۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ شاید کبھی یہ نظریں اٹھ نہ پائیں گی ۔ کیونکہ اس نے اللہ سے جنگ کی تھی ۔ اس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال ، اپنی صلاحیتیں ، اپنی توانائی ایک ایسے مغربی نظام پہ خرچ کی تھی ۔ جسکی اسکے مذہب میں کوئی جگہ نہ تھی مگر اسے واپسی کا کوئی راستہ بھی نظر نہ آ رہا تھا ۔ اور مسلسل اس کی زبان پہ یہی الفاظ تھے ۔ کہ میں نے سود والا رزق چن کر اللہ کی حد توڑ دی ۔ وہ رو رہا تھا وہ اعتراف جو اسکا ضمیر کئی سال سے کر رہا تھا آج پہلی بار وہ یہ اعتراف کسی انسان کے سامنے دہرا رہا تھا۔ اور اسے محسوس ہورہا تھا کہ یہ اعتراف اسے اندر ہی اندر کوڑے مار مار کر شاید نگل جائے گا ۔ یہ ضمیر کا کوڑا ہر اس شخص کو ضرور ایک دن لگتا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ سود کے کاروبار سے منسک ہے۔

    مغربی مالیاتی نظام یہودیوں نے قائم کیا ۔ اور مالیاتی نظام نے دنیا کی معشیت کو آکٹوپس کی طرح جکڑ لیا ہے ۔ اب اگر کوئی اس جکڑ سے نکلنا بھی چاہے تو یہ کام اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ دنیا میں مغربی مالیاتی نظام کے بانی یہودی ہیں ۔ اور وہ اس نظام کو موثر اور کامیاب بنانے میں قابل رشک حد تک کامیاب ہیں ۔ یہ وہی سود ہے جو بنی اسرائیل کے زوال اور ذلت کا سبب بنا ۔ لیکن وہی یہود آج بھی اس سے نہ صرف چپکے بیٹھے ہیں بلکہ اسے مسلمانوں کے اندر تک اس طرح پھیلا چکے ہیں ۔ کہ اب یہ سودی نظام ہمارے خون میں ویسے ہی دوڑ رہا ہے جیسے غذا ۔ اور یہ سود اب مسلمانوں کے خمیرمیں اتنا رچ بس گیا ہے ۔ کہ امت مسلمہ اس کو صحیح اور جائز قرار دینے کیلئے دلائل پیش کرتی ہے ۔ اور یہ وہ اُمّتِ محمدی تھی جن کے لیے قبلہ بدلا گیا تھا اور جنہیں بنی اسرائیل سے امامت لے کر دی گئی تھی۔

    بظاہر ہم ایک آزاد ریاست ہیں ۔ مگر جن ممالک سے ہم قرضے لے رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مقروض ممالک کو قرضے دے کر اپنی مرضی کی پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں جن سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوگا ۔ جن کا تما م تر منافع قرضے دینے والوں کو پہنچے گا ۔گزشتہ 73 برس میں لیا گیا کھربوں ڈالرز کا قرضہ کہاں جاتا رہا یہ بات ہمارے علم میں نہیں ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں عوام کے لئے منجمند گیارہ ارب ڈالر کا کچھ پتا نہ چل سکا ۔ موجودہ حکومت کے احتساب کے وعوؤں کے بعد اب ہر عمل ہی مشکوک ٹھہرا ۔

    موجودہ حکومت بھی اداروں سے زیادہ غیر ملکی قوتوں کے دباؤ کا شکار نظر آتی ہے ۔ اگر حالات یونہی رہے تو ممکن ہے کہ احتساب کا پورا نظام اپنے اختتام کو پہنچے ۔ یہ قرضے جو بظاہر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے لئے گئے ۔ یہی قرضے اب عوام کے گلے کا پھندہ بن چکے ۔ اب انہی قرضوں کا سود سمیت واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے بلکہ پورے کے پورے نظام کو وہ لوگ ان قرضوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں ۔ گیس بجلی اور آٹے کے نرخ آئی ایم ایف طے کر رہی ہے ۔ آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق غریبوں پہ مہنگائی کا ایسا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ انکے لئے زندگی جیسی نعمت کو تنگ کر دیا گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ کرنسی کی قیمت سے لے کر ذرائع اور وسائل کی تقسیم تک اور پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والی ایٹمی صلاحیت پہ بھی آئی ایم ایف اپنی نظریں گاڑھے بیٹھا ہے ۔

    صرف یہی نہیں ان قرضوں کو جواز بنا کر ہماری شاہ رگ کشمیر تک کے معاملے میں ہمیں پسپائی پہ مجبور کیا جا رہا ہے ۔ اور ہر معاملے میں یہ قرضے جن سے میٹرو اور اورنجن لائن کا تحفہ تو عوام کو مل گیا مگر ہمارے ہاتھ باندھ دئیے گئے ۔ اور انہی قرضوں کو آئی ایم ایف اب ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کر رہا ہے ۔ جبکہ یہاں بھی کچھ اقتصادی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے قرضے دینے سے انکار کیا تو ہمیں ڈیفالٹ قرار دے کر دنیا میں تنہا کر دیا جائے گا، برآمدات نہیں ہوں گی، ایل سی (Letter of credit) نہیں کھلے گا۔ یہ دانشور بھی مغرب کی پیداوار ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔ جب ہم اپنے ہمسائے ممالک پہ غور کریں جن میں چین ، اففانستان ایران اور دیگر اسلامی ممالک شامل ہیں ۔ برامدات اور تجارت کا سلسلہ ان ممالک سے جاری رکھا جا سکتا ہے جن پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اس طرح ایک تجارتی بلاک وجود میں آ سکتا ہے۔ ہمارا سب سے زیادہ خرچ تیل پر ہوتا ہے جس کے بدلے ہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کو چاول، گندم اور کپاس برآمد کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف لاطینی امریکا کے سولہ ملک خود کو ڈیفالٹ قرار دے چکے ہیں جس کے بعد ان کی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔ جہاں تک تنہائی کا معاملہ ہے تو چین اور روس نے سیاسی طور پر تنہا ہو کر ہی ترقی کی۔ ہمارے اقتصادی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہماری معیشت سنبھل رہی ہے، میری نظر میں یہ سفید جھوٹ ہے۔ عوام معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے ہاتھوں خودکشی کر رہے ہیں، مہنگائی ناقابل برداشت ہو چکی ہے، بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں، یہ کیسی معاشی ترقی ہے؟اور ہمارے وزیراعظم کام سے زیادہ دکھاوے پہ زور دے رہے ہیں جس کی منہ بولتی مثال تبدیلی سرکار کے تین سال مکمل ہونے پہ کی جانے والی تقریب تھی

    جاری……..