Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • احیائے اُردو، تحریر:سید غازی علی زیدی

    بعد نفرت پھر محبت کو زباں درکار ہے
    پھر عزیز جاں وہی اردو زباں ہونے لگی

    ٹویٹر نے اردو زبان پر وہ احسان کیا ہے جو ہماری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ اردو زبان جس کا نام ونشان پاکستان سےمٹتا جا رہا تھا اچانک سے ایسی چمک دمک کیساتھ شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی کہ مثال نہیں ملتی۔ ٹویٹر نے تو خاک سے اٹھا کر سونا کیا ہیرا کردیا۔ سکول و کالج کا سب سے زیادہ مظلوم ترین مضمون اس وقت سب سے زیادہ مانگ میں ہے۔ وہ لوگ جن کی رہی سہی کسر رومن اردو اور میسج ٹائپنگ نے بگاڑ دی تھی۔ وہ راتوں رات اردو دان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو ایک جملہ درست نہیں لکھ سکتے تھے وہ پورے پورے مضمون لکھ رہے۔ جنہوں نے کبھی فیس بک کے علاوہ کوئی کتاب نہیں کھولی تھی وہ ذوق و شوق سے اردو ادب پڑھ رہے اور تبصرے بھی کر رہے۔
    کہتے ہیں جو کچھ بھی ہوتا قدرت کی طرف سے اچھے کیلئے ہوتا۔ قلمکار کی ناچیز رائے میں یہ اللّٰہ تعالیٰ کیطرف سے اشارہ ہے کہ مستقبل اردو زبان کا ہے۔ بیشک ابھی الفاظ و افکار مستعار لئے گئے ہیں، کاپی پیسٹ کی بھی بھرمار ہے لیکن یہیں سےاردو زبان وبیان کا از سر نو احیاء ہوگا۔ کتب بینی دوبارہ عام ہوگی۔ پر تاثیر و پردرد الفاظ کا جب ذخیرہ عام ہوگاتو یہی الفاظ ذہنی سوچ و فکر کو بھی بدلیں گے ان شاءاللہ۔
    ہر نیا رجحان نئی ترجیحات طے کرتا۔ گو کہ تخلیق کا عمل سہل نہیں قلمکار کوئ بھی شاہکار تخلیق کرنے کے دوران ایک مخصوص ذہنی عمل سے گزرتا ہے کسی کرب کو سہتاہے کوئ محرک اسے لکھنے پرمجبور کرتا ہے تب ہی بہترین تخلیق جنم لیتی ہے
    یہاں تک بہترین مزاح بھی نمناک ہوسکتاہے۔ فی الحال یہ بات تازہ بہ تازہ لکھاریوں کو سمجھ نہیں آئے گی لیکن کل کو انہی میں سے کوئی اشفاق احمد کوئی بانو قدسیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شاندار ادب تخلیق کرے گا۔ کاپی پیسٹ کرنے والے کل کو اپنے مخصوص انداز تحریر کےمالک ہونگے۔ ان کی تحریریں میں قلمکار کی ذات بھی جھلکے گی اور دلی جذبات بھی عیاں ہوں گے۔
    مانا کہ لکھنا ایک مشکل امر ہے لیکن شوق و جذبہ ہو تو ناقابلِ تسخیر چوٹیاں تک سر ہوجاتی یہ تو پھر قلم کے قدم بہ قدم دوستانہ سفر ہے۔ بس یہ عہد کرلیں کہ بلیو ٹک کی شرط ہو نہ ہو ہمیں لکھتے رہنا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کل کو ہم بہترین قلمکار نہ بن سکیں۔
    صفحہ کاغذ پہ جب موتی لٹاتا ہے قلم
    ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم

    @once_says

  • انجمن تاجران فتح جنگ کا اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین انداز

    انجمن تاجران فتح جنگ کا اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین انداز

    فتح جنگ (خصوصی رپورٹ) اساتذہ قوم کے محسن ہوتے ہیں اور جو قوم اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہے وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہے، قومیں اپنے اسلاف،اساتذہ اور علماء ومشائخ کی ہی مرعون منت ہیں جو انہیں نظریات سے جوڑے رکھنے کے ساتھ ساتھ علم و آگہی اور تربیت کی منازل طے کرواتے ہیں۔ اسلام آباد سے 30کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبہ فتح جنگ میں تاجروں نے پاکستان بھر کی عوام کیلئے مثال قائم کردی، اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر فتح جنگ کے تاجروں نے اساتذہ کرام کو20سے50فیصد تک ڈسکاؤنٹ دیا، جس کیلئے شہر بھر میں بینرآویزاں تھے۔ایسی مثال پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ملی۔

    اساتذہ کیلئے سلام اساتذہ مہم کے چیف آرگنائزر رضی طاہر نے کہا کہ ہم نے اپنے اساتذہ کو تکریم دینے کیلئے یہ چھوٹی سی کوشش کی ہے تاکہ اساتذہ کی عزت بحال ہوسکے، ہمارے معاشرے میں اساتذہ کے ساتھ کیا جانیوالا سلوک درست نہیں ہے یہی ہمارے زوال کی وجہ ہے۔

    انجمن تاجران فتح جنگ کے سیکرٹری اطلاعات تعبیر شاہ نقوی نے بتایا کہ یہ کئی دکانوں پر اساتذہ کرام کیلئے یہ آفر سال بھر کیلئے رہی گی جس میں کلاتھ، کپڑوں اور شوز کی دکانیں بھی شامل ہیں۔

    اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر وقاص اعظم کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی وجہ سے ہمیں مقام ملتا ہے اور ہم انہیں فراموش کردیتے ہیں، ہم سب کو اپنے عظیم اساتذہ کو ہمیشہ اور ہر حال میں یاد رکھنا چاہیے۔ پرائس کنٹرول کمیٹی کے ممبران ملک حسیب رضا اور حاجی ملک تاج، سماجی رہنما غلام یٰسین اطہر، ملک رفاقت اعوان، ذیشان عزیز خان اور تحریک انصاف کے ضلعی رہنما سردار افتخار خاری خان نے اس مہم کی کامیابی کیلئے بھرپور کاوشیں کیں۔

  • خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    انسان کی کامیابی کا راز خوش اخلاقی میں چھاپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان دوسروں کے دل جیت سکتا ہیں ۔ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے خوش اخلاقی ایک سرمایہ ہے خوش اخلاقی اچھے برتاو کا نام ہے بد اخلاقی انسان کے دلوں میں صرف نفرت پیداکرتی ہے ہم میں سے ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اسن کے ساتھ عزت اور اخلاق سے بات کی جائیں یقین جانیئے اچھے اخلاق سے آپ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں۔
    جس طرح بغیر خوشبو اور رنگ کے کوئی پھول پھول کہلانےکا مستحق نہیں اس ہی طرح انسانیت اور خوش اخلاقی کے بغیر کوئی انسان انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ ایک خوش اخلاق شخص میں عاجزی اورانکساری کی صفت موجود ہوتی ہے خوش اخلاقی بہت بڑی خوبی ہے۔ خوش اخلاقی عظمت اور اشرفت کی دلیل ہےانسانیت کی بیناد اخلاق پر قائم ہےاخلاق انسانی سیرت وکردار پر مبنی رویے کا نام ہے اچھے اخلاق کا خلاصہ ہے کہ انسانیت کو تکلیف نہ دینا ہے خوش اخلاقی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے خقش اخلاقی ایمان کامل کی علامت بھی ہےایک حدیث نبوی ؐ کے مطابق مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو اچھے اخلاق کا مالک ہو اور سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔
    اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویے کی پرواء کیے اخلاق دیکھے بغیر اپنا رویہ اور اخلاق متعین کرےحضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :جس کے اخلا ق اچھے ہوں وہ کامل ترین ایمان والا ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہو۔)

    اسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایمان و عقائد کی درستی کے بعد نیک اعمال و افعال کرتے ہوئے جب تک ایک مسلمان حُسنِ اخلاق جیسی صفت سے ہمکنار نہ ہوجائے اس کی زندگی دوسروں کے لیے نمونۂ عمل نہیں بن سکتی ۔
    اخلاقی اصول ایسے رویہ کی جانب راہنمائی کرتے ہیں جس سے خوشی ملتی ہے دل سکون میں ہوتا ہے اخلاق ضبط نفس پیدا کرتا ہے برائی کا جواب اچھائی میں دینا افضل اخلاق ہے اچھے اخلاق والے کامل مومن ہیں۔اچھے اخلاق دل جیتنے کا زبردست نسخہ ہےمسلمان کے اچھے اخلاق کی برکت سے غیر مسلموں کو دولتِ ایمان نصیب ہوتی ہےاچھے اخلاق کی بدولت دین کا کام خوب ترقی کرتا ہےاچھے اخلاق کی سے دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں اچھے اخلاق کی برکت سے انفرادی کوشش میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔
    اللہ پاک ہمیں بھی اچھے اعلی اخلاق کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے اور بد اخلاقی سے ہمیں دور کرے

    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد جنوبی ایشیاء کی سکیورٹی صورتحال یکسر مختلف ہوگئی ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد چین نے اپنے پنجے افغانستان میں جمانا شروع کر دیے ہیں اور اس کا ثبوت چائنا کی حکومت کے طالبان کی قیادت کے ساتھ بیچنگ میں کیے گئے مذاکرات ہیں۔ اسی مذاکرات کی خبروں کے نتیجے میں امریکہ نے چین کے خلاف ایک بلاک بنانے کا فیصلہ کیا جس کا اہم رکن بھارت ہوگا۔ بھارت چونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف ہے اور پنجشیر میں احمد مسعود کی خفیہ طور پر مدد بھی کرتا رہا ہے اور لداخ کے بارڈر پر چین اور بھارت کی فوجیں کافی بار ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی رہی ہیں تو ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد امریکہ نے بھارت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

    افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے سرحدی علاقوں اور خصوصاً بلوچستان میں امن وامان کو تباہ کرنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ گوادر میں ایف سی اہلکاروں پر جان لیوا حملے ہوں یا پھر کوئٹہ کا سریاب روڈ ہو، ہر طرف دشمن عناصر پاکستان کو ناتلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گوادر میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بنائے گئے مجسمے کو ایک خودکش دھماکے کی صورت میں تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد پاکستانی قوم کے دل میں کافی غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔ اس حملے سے دشمن نے پاکستانی قوم کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ہم کبھی بھی اور کسی وقت بھی بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی حملے کے فوراً بعد اگلے دن دہشتگردوں کی طرف سے ایک دفعہ پھر ایف سی سکیورٹی اہلکاروں کے اوپر حملہ کیا گیا اور اس خودکش حملے کے نتیجے میں متعدد ایف سی جوان اس مٹی کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کر گئے۔ ایف سی سکیورٹی فورسز بلوچستان میں چائنیز حکام کی سکیورٹی پر مامور ہونے کے علاوہ صوبہ بلوچستان کی سرحدوں کی حفاظت پر بھی مامور ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو تقویت دینے کے لیے بھارت اور ایران اپنے ناپاک عزائم کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے در پر ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان تمام دہشتگردانہ واقعات کے پیچھے اگر ہم ایران کے سازشی نظریات کو پرکھیں تو بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ ایران ہی وہ ملک ہے جو انڈیا کو پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اپنی سر زمین مہیا کرتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا کیس ہو یا دہشتگردوں کی نقل و حمل کا مسئلہ ہو، ایران نے ہمیشہ بھارت کو ایک پل کا سہارا دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں جو سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں ان میں سے متعدد حملہ آور ایران کے رستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ چند مہینے پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ میں متعدد سکولوں کو سیل کیا اور وہاں پر پڑھایا جانے والا لٹریچر اپنے قبضے میں لیا، وہ سکول پاکستان مخالف کاروائیوں کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے تھے اور ان کو تمام فنڈنگ ایران سے مل رہی تھی۔

    پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران کی سرحد کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ دشمن کا وار ہر طرف سے ناکام ہو اور بلوچستان میں ترقی ہوتی ہوئی نظر آئے اور سی پیک کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکے۔ پاکستان زندہ باد!

    @anihachaudhry

  • فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    تنگ جینز، چھوٹی قمیض، بکھرے بال، ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے میں سمارٹ فون ، منہ میں گٹکا یا پان، اور ہونٹوں پر گندی گالی، یہ ہے آج کا عام پاکستانی نوجوان۔ جس کے پاس تعلیم بھی ہے اور شاید کسی حد تک ہنر بھی مگر کردار و اخلاق کا بری طرح سے فقدان ہے۔
    وہ نوجوان جو بیش قیمت اثاثہ ہوتے، جن پر ملک کے مستقبل کی اساس ہوتی، وہ بری طرح سے بگڑتے جارہے ہیں۔ فیشن پرستی کا وبال ہماری اقدار کو گھن کی طرح کھا رہا لیکن والدین، اساتذہ اور ارباب اختیار خاموشی سے تماشائی بنے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند مگر عمدہ اخلاق و کردار کے حامل نوجوان ہی کسی بھی ملک کا سرمایہ افتخار سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پرملک کی ترقی و تنزلی منحصر ہوتی مگر بدقسمتی سے پاکستانی نوجوان نسل بری طرح سے بے راہ روی کا شکار ہورہی۔ مشرقی اقدار جن پرکبھی ہم نازاں تھے یورپ کی اندھی تقلید میں کھو چکی ہیں۔ اور رہی بات اسلام کی تو وہ بس سوشل میڈیا کی پوسٹس یا اسلامیات کے پیپر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے عملی زندگی میں کہیں نام و نشان نہیں رہا۔ المیہ یہ ہے کہ نہ خوف خدا رہا ہے نہ شریعت کا کوئی لحاظ۔ بس ایک بھیڑ چال کی کیفیت ہے جس میں ہر کوئی بگٹٹ بھاگے چلا جا رہا۔
    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نور
    لے اُڑی اس نکہتِ گل کا یہ تہذیب فرنگ

    آجکل کے زیادہ تر نوجوان لڑکے یا تو سارا دن پب جی کھیل رہے یا ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا رہے۔ چرس، ہیروئن اور پورن فلموں کے نشے میں ڈوبے اور اگر امتحان پاس کرنا ہو تو آئس کا نشہ کر کے وقتی طور پر دماغ روشن کر لیتے چاہے بعد میں پوری زندگی تاریکی میں ڈوب جائے۔
    اور رہی لڑکیاں تو ان کا حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ہر بدلتا فیشن اپنانا ان کا فرض عظیم ہے چاہے وہ اسلامی و اخلاقی اقدار کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ فیشن کی دوڑ اور نمایاں و برتر نظر آنے کے چکر میں نت نئے برانڈز کی چاندی ہے۔ بات زیب و زینت سے بڑھ کر نمود و نمائش سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ رہی سہی کسر ماڈلز و اداکاراؤں کے طرز زندگی کی نقالی نے پوری کر دی ہے۔

    “اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیاہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کرسکیں۔ “
    قرآن مجید کے اس واضح حکم کے باوجود ہم بغیر کسی پچھتاوے کے نفس کے اسیر بنے ہیں۔ فیشن پرستی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ فیشن اور فحاشی کا فرق مٹ گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو والدین اور بزرگوں کی صحبت اب آؤٹ ڈیٹڈ لگتی ہے۔ مخلوط محافل، فاسٹ فوڈ اور بیہودہ لباس کو جدت پسندی اور فیشن کے نام پر اپنایا جارہا۔فیشن پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید ہمارے معاشرے کی جڑوں کو روزبروز کھوکھلا کر رہی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ عریانی کو فروغ دیتے فیشن کی نہ تو مذہب اجازت دیتا نہ ہماری مشرقی اقدار۔
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    فیشن کچھ حدود و قیود میں کرنا قطعاً معیوب نہیں ہے۔ مگر فیشن پرستی کی آڑ میں اسلامی تعلیمات و تہذیب کو پس پشت ڈال کر اندھا دھند تقلید ہمارے نوجوانوں میں بری طرح بگاڑ کا سبب بن رہی اور ہمارے معاشرے کا اب یہ حال ہوچکا ہے کہ
    “کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا”

    @once_says

  • اہل فتح جنگ نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ کانفرنس وتقریب تقسیم ایوارڈز کا اہتمام

    اہل فتح جنگ نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ کانفرنس وتقریب تقسیم ایوارڈز کا اہتمام

    فتح جنگ (نمائندہ باغی ٹی وی) فتح جنگ میں پہلی دفعہ سلام اساتذہ کرام کانفرنس و تقریب تقسیم ایوارڈز کا انعقاد، سینکڑوں اساتذہ کرام کی شرکت، تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دینی والی23شخصیات کو محسن فتح جنگ ایوارڈ سے نوازا گیا، 17سال کے بہترین اساتذہ،4بہترین پرنسپل قرار، جبکہ6ریٹائرڈ اساتذہ کو حسن کارکردگی کی شیلڈ دی گئی، اساتذہ کرام کی خوشی دیدنی، ایوارڈ لینے والوں نے سکول کے زمانے کی یادیں تازہ کیں، جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، تفصیلات کے مطابق وائس آف پاکستان فورم کے زیر اہتمام اے ای اوز یونین، انجمن تاجران، ٹیم سردار محمد علی خان، انجمن بہبود مریضاں اور سماجی بہبود کونسل کے تعاون سے فتح جنگ میں یوم اساتذہ کے موقع پر تاریخی سلام اساتذہ کااہتمام کیا گیا، جس کی صدارت فتح جنگ کے سینئر استاد محترم ملک نورزمان نے کی،اساتذہ کرام کی کثیر تعداد پنڈال میں موجود تھی،ملک نورزمان، حاجی بدرالزمان مرحوم،چوہدری قطب الدین، ملک سرفراز،حافظ محمد قاسم مرحوم، اقبال خان مقصود مرحوم، قاضی محمد عارف، قاضی خضرالزمان ضیاء، مظفر حسین ظفر مرحوم،محمد یونس راحت، پروفیسرلعل حسین، پروفیسر محمد اسلم، حاجی عبدالرؤف، محمد توفیق، ملک فیروز خان، ابوعبیدشاہ، سردار امتیاز، محمد ریاض، مظہر حسین شاہ،میڈم حفیظ، میڈم بلقیس،عبدالمالک، حاجی محمد عارف، میڈم محبوب کو محسن فتح جنگ ایوارڈ دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر قاضی طارق محمود، سید تنویر حسین شاہ، عبدالخالق، زبیدہ بیگم، سجاد احمد خان کو حسن کارکردگی کا ایوارڈ دیا گیا، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر2کی پرنسپل محترمہ نادیہ، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نمبر2کے پرنسپل محمد مسکین، گورنمنٹ ہائی سکول حطار کے پرنسپل ڈاکٹر مبشر جاویداور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قطبال کے پرنسپل حسام الدین کوسال2021کے بہترین رئیس المدرسہ کا ایوارڈ دیا گیا، جبکہ حاضر سروس اساتذہ میں سے شفقت محمود گلی جاگیر، عامر حسین گلیال، قدیر اختر فتح جنگ، عبدالقادرکوٹ فتح خان، اشفاق حسین جھنگ، بشارت علی باہتر، فیصل حیات کلیار، صائمہ بی بی منگیال، لبنیٰ کوثر فتح جنگ، عابدہ کلثوم باہتر، نازش بی بی قطبال، آمنہ خدمت علی گلیال، سادیہ بتول لاسہ،شکیلہ نثارملال، عظمت شہزادی گلی جاگیر، صدف صدیق کوٹ فتح خان،عالیہ بی بی جھنگ کو سال کے بہترین ٹیچر ہونے کا ایوارڈ ملا۔

    استقبالیہ گفتگو میں چیف آرگنائزر رضی طاہر نے کہا کہ میں آج کا دن اپنے عظیم داد ا جان حاجی بدرالزمان کے نام کرتا ہوں جنہوں نے ساری زندگی علم کی شمعیں روشن کیں، اساتذہ ہمارے محسن و رہبر ہیں جن کی وجہ سے ہمیں دنیا میں مقام ملا، سردار خاری خان نے کہا کہ یہ ہمارے لئے اعزاز ہے کہ ہم اساتذہ کرام کی محفل کے میزبان ہیں، انہی اساتذہ کے دم قدم سے ہمارے گلشن میں بہار ہے

    فتح جنگ کی تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1میں 22سال بطور ہیڈماسٹر رہنے والے مایہ ناز استاد ملک نورالزمان نے سلام اساتذہ کرام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کرام علم کے ساتھ ساتھ تربیت پر زور دیں، نئی نسل کو تربیت کی ضرورت ہے، تدریس کو اپنا فریضہ سمجھیں اور اس شعبے سے وابستہ افراد اپنے آپ کو چند گھنٹے کا ملازم نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں کا کماحقہ ادراک کریں، انہوں نے کہ آج کی تقریب اساتذہ کرام کے نام کرنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مستحق لوگوں کو ایوارڈ سے نوازا، یہ سب عظیم لوگ ہیں،علم کے راہی اپنے اساتذہ کا احترام کریں،لوگ چلے جاتیں ہیں یادیں قائم رہ جاتی ہیں، انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا کہ ہم بھی گھڑی بھر کے مہمان ہیں اور جانے والوں میں سے ہیں، نجانے پھر ہوں گے یا نہیں، بس اتنا یاد رکھنا کہ علم کے ہتھیار سے کبھی دور نہ جانا، سینئرماہر تعلیم یونس راحت نے خطاب میں کہا کہ اس دور میں جب اساتذہ کرام کا احترام کم ہوتا جارہا ہے، اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایسی تقاریب کا ہونا بہت ضروری ہے۔

    ڈاکٹر یٰسین اطہر نے کہا کہ آج کا دن اس حوالے سے اہم ہے کہ تین نسلوں کے اساتذہ ہمارے درمیان موجود ہیں،ڈپٹی ڈی ای اوشمیم اختر نے کہا اہل فتح جنگ نے اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرکے زندہ دلی کا ثبوت دیا، ڈپٹی ڈی او او سدرہ بتول نے کہا کہ آج کا دن تاریخی ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو تکریم دے رہے ہیں، اس موقع پر سردار افتخار احمد خان ممبر صوبائی اسمبلی، عابد داؤد چیئرمین بلدیہ، بلال عباس وائس چیئرمین بلدیہ،علامہ بلال حیدر حسان، لیاقت خان باجوڑی، حاجی عدیل افضل خان،ذیشان عزیز خان، فیصل صدیق، ملک رفاقت اعوان، حاجی ملک محمد تاج، تعبیر شاہ نقوی، ظفر اعوان، خالد اعوان سمیت شہر کی نامور سماجی و مذہبی قیادت موجود تھی۔

    دوسری جانب عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر فتح جنگ کے تاجروں نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ مہم کے تحت اساتذہ اکرام کو شہر بھر کی دکانوں میں خصوصی ڈسکاؤنٹ دیا گیا، کئی دکانداروں نے اساتذہ کو سال بھر کیلئے 25فیصد ڈسکاؤنٹ دینے کا اعلان کیا، تفصیلات کے مطابق فتح جنگ کے تاجروں نے زندہ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے بازار میں سلام اساتذہ، خصوصی ڈسکاؤنٹ کا اعلان کیا، سلام اساتذہ مہم کے تحت بازاروں میں جابجا ڈسکاؤنٹ کے بینرز دیکھنے کو ملے، سوشل میڈیا کے ذریعے بھی تاجروں نے اس دن کو اساتذہ کے نام کرنے کیلئے اپنی آفرز پیش کیں، کچھ ٹریلونگ ایجنسیوں اور دکانداروں نے سال بھر کیلئے ڈسکاونٹ دیا،سلام اساتذہ مہم کے چیف آرگنائزر رضی طاہر، انچارج سردارافتخار خاری خان، انجمن تاجران کے سیکرٹری اطلاعات سید تعبیرشاہ نقوی، سماجی بہبود کونسل کے صدر غلام یٰسین اطہر، اے ای اوز یونین کے سینئر نائب صدر وقاص اعظم، ممبر پرائس کنٹرول کمیٹی حسیب رضا، انجمن بہبود مریضاں کے صدر ملک رفاقت اعوان، پرنسپل ہائی سکول نمبر2محمدمسکین،ذیشان عزیز خان و دیگر نے سلام اساتذہ مہم میں بھرپور حصہ لینے پر تاجروں کا شکریہ ادا کیا۔

  • قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان  تحریر: سید غازی علی زیدی

    قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان تحریر: سید غازی علی زیدی

    سرزمین پاکستان کو خالق کائنات نے بے انتہا خوبصورت نظاروں سے مزین کیا ہے۔ کہیں دیوسائی کا ٹھنڈا صحرا تو کہیں تھر کا ریگستان، کہیں کشمیر جنت نظیر تو کہیں حسن چترال کا اسیر، الحمدللہ دل کھول کر حسن عطا کیا گیا ہے اس ارض پاک کو۔
    چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
    تو زمیں پر اور پنہائے فلک تیرا وطن
    قدرتی صناعی سے بھرپور سبزہ زار چمن ہوں یا انسانی کاریگری کا شاہکار عظیم الشان تعمیراتی عمارتیں، پاکستان بلاشبہ دونوں میں بے مثال ہے۔ میلوں پھیلے صحرا، پراسرار وادیاں، خواب ناک جھیلیں، بل کھاتی ندیاں، فلک بوس پہاڑ، گھنے جنگلات، قدیم ترین چٹانیں، برف پوش چوٹیاں، نایاب چرند پرند، قیمتی جواہرات، رسیلے پھل، گنگناتی آبشاریں اور خطرناک ترین چشمے، تعمیراتی حسن کے نمونے، تاریخی کھنڈرات، نادر کاریگری کے شاہ پارے، مساجد و درگاہیں، ثقافت و اقدار کے امین فن تعمیر کے نادر نمونے، غرض پاکستان رنگ و نور اور حسن و جمال کا بہترین امتزاج ہے۔ تہذیب و ثقافت اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔
    پاکستان قدیم ترین تہذیبوں کا گہوارہ – مہر گڑھ سے موہن جوداڑو تک، گندھارا سے ہڑپہ تک، مختلف ادوار تاریخی ورثہ کی صورت میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کا تاریخی ورثہ ہماری صدیوں پرانی تہذیب کی نمائندگی کرتاہے۔
    ہر خطہ ارض اپنی مخصوص و منفرد روایات، تہذیب وثقافت کا حامل ہوتا ہے اور یہی طرزِ معاشرت نہ صرف قوموں کی تاریخ مرتب کرتی بلکہ معاشرتی رہن سہن کی بھی عکاسی کرتی۔ تہذیب و ثقافت کا تحفظ کئے بغیر کوئی ملک دنیا میں اپنی شناخت قائم نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہ ہمارا ملک قدیم ترین تہذیبوں کا وارث ہے۔ یہاں کے طرز ثقافت میں مختلف رنگوں اور تہذیبوں کی واضح چھاپ ہے۔ مکلی کا قبرستان ہو یا جہلم کا قلعہ، بدھا کے نایاب مجسمے ہوں یا مغلوں کے نارد زیورات، شاہی قلعہ لاہور ہو یا نور محل بہاولپور، لارنس گارڈن ہو یا شالیمار باغ، ہر تہذیب، ہر دور کے حسین اثار اپنی الگ چھب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔
    وہی قومیں تاریخ میں زندہ و جاوید رہتی ہیں جو اپنے تاریخی ورثے کی نہ صرف حفاظت کرتی ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کیلئے اسے محفوظ بھی بناتی ہیں۔ تاریخ میں نہ صرف عجیب کشش ہوتی بلکہ بے شمار اسباق بھی پوشیدہ ہوتے۔ ایک علم کا گہرا سمندر ہوتا جسے تلاش کرنا ہوتا گہرائیوں کو ناپنا ہوتا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں ان اسرار و رموز سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اپنی تہذیب و ثقافت کو فراموش کرنے والے نہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے۔ ماضی کی روایات ، اقدار میں سبق بھی ہوتا اور عبرت بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے ماضی سے دستبردار ہو جاتی ہیں ان کا مستقبل بھی ختم ہو جاتا۔ اس لئے ماضی کی اقدار کی حفاظت اور نسل نو کا ان سے تعارف مستقبل کو محفوظ و تابناک بنانے کیلئے از حد ضروری ہے۔ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے جس سے ہم صرف نظر نہیں کر سکتے۔
    ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
    یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے
    @once_says

  • تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ .تحریر :علی رضاعلوی

    تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ .تحریر :علی رضاعلوی

    غلطیوں کے انبارسب نے لگائے لیکن جوقوم اپنی غلطیوں سے سیکھ کرآگے بڑھ سکے باشعورکہلانے کی مستحق ٹھہرتی ہے،دوسری جنگ عظیم میں خوفناک تباہی کے بعد چاروں شانے چت ‘جرمنی اٹھا، دائیں بائیں دیکھا،کپڑے جھاڑے،اپنے زخموں پرنظرڈالی،انہیں سوہان روح سمجھنے کے بجائے سنگ میل بنایااورشاہراہ ترقی پرچل نکلا‘جاپان نے جیتی ہوئی جنگ ہیروشیما اورناگاساکی کی کوکھ میں راکھ بنتے دیکھی،پرل ہاربر کیابھولا پھول کھلنا بھول گئے،آج دنیابھر میں ایسی قابل رشک معاشی حیثیت کہ ہمیں ابھی ابھی کہاہے‘ چلوقرضے کے چنددن اور۔ایران‘انقلاب کے فوری بعدمسلط کردہ جنگ اورپابندیوں کے باوجوبہتری کی جانب گامزن، کئی دہائیوں پرمحیط سعودی،ایران مخاصمت کی آغوش سے بات چیت اورمحبت بھرے بیانات کی بازگشت شروع۔دنیا کسی ایک جگہ پرنہیں ٹھہرتی،سفربہرطورجاری رہتا ہے،بہتاپانی شفاف اوررکاہوا‘ کائی اورتعفن کودعوت دیتاہے، کہاگیاہے کہ کشمیرپرعقبی راستے کی سفارتکاری رنگ دکھاچکی،گلگت‘بلتستان کے دکھوں کے چند گنتی کے دن باقی رہ گئے،غلطیاں سیاستدانوں نے بھی کیں اورآمروں نے بھی۔ لیکن کوئی تاریخ کے جبرسے سیکھنا چاہے توطعن وتشنیع سے گریز ہی آخری چارہ کار،مگرادراک کون کرے ۔

    غلطیاں خارجی توکیاداخلی محاذوں پہ بھی کچھ کم نہیں ہوئیں،ابھی کل ہی کی توبات ہے جب لاہورکاوز یراعلی‘اسلام آباد کی وزیراعظم کامنہ تک دیکھنے کا روادارنہ تھا‘سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی داستاں تونہ ہی چھیڑیئے،شاید یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے غبارے سے جب ہوا نکالی تواسے ماضی کے انتقام سے بھی تعبیرکیا گیا،بھلے ”شہیدہ“کا آخری فو ن ”بھائی“کوتھا۔

    پی ڈی ایم کی تشکیل چند ماہ پیشتر کی ہی توبات ہے‘قومی اتحاد،نیپ اورقوم پرستوں کی دیگرتحریکوں کے قیام اور شکست وریخت کی باتیں توقصہ پارینہ ٹھہریں،کل کی بات ہے جب ایفائے عہدکی تمنائیں جوان ہوئیں،قربتیں بڑھیں، ایک دوسرے پرسیاسی سبقت لے جانے کی کوششیں عیاں ہوئیں۔دائیں زانوں کے ساتھ ہمیشہ پاندان اورلبوں پہ شعروسیاست رکھنے والے نوابزادہ نصراللہ خان کی یادتازہ ہوگئی،ان کی مسندجلیلہ پرسابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکوشکست سے دوچارکرنے اور محرومی اقتدارسے منزل دارتک پہنچنے میں معاون بننے والے حضرت مولانامفتی محمود کے سپوت مولانافضل الرحمن براجمان ہوئے، قلوب واذہان میں اے آرڈی کی یاد تازہ ہوگئی،کچھ شہروں میں احتجاجی جلسوں کی گھن گرج عوام الناس کومتوجہ کرپائی یا نہیں‘بہرحال میڈیا کاپیٹ بھرنے میں بطریق احسن کامیاب ہوگئی،نتیجہ یہ نکلا کہ بائیس برس کی نوخیزجماعت پہلی باروفاق میں برسراقتدارآتے ہی تنقیدکی زدمیں آگئی،سات دہائیوں کے ذکر سے گریزاں ماضی کے حکمراں پوری گھن گرج کے ساتھ اڑھائی برسوں کا حساب مانگنے لگے،آپ توکہتے تھے اتنے درخت لگائیں گے کہاں لگے؟زرد ہواؤں کے تھپیڑے میں آئے پاکستان کوسرسبزکیوں نہیں بنایا؟روزگارپید ا کرنے کے مواقع کہاں ہوا ہوئے؟اورہاں وہ تہہ درتہہ،پہلوبہ پہلوگھروں کی آسودگی کے دکھائے گئے خواب؟سوالات کرنے والوں سے بھی کچھ سوال توبنتے تھے،پوچھا گیا،خارزارسیاست آپ کیلئے چمنستان دہرکیسے ثابت ہوا؟دس‘بیس،تیس برس قبل جب آپ نے وادی سیاست میں قدم رنجہ فرمایا تواثاثے تب کیا تھے اب کیا ہیں؟سوالات کا جواب دینے کی بجائے حساب مانگنا جرم ٹھہرا،جب کسی کتاب سے حساب کاجواب نہیں ملاتواحتساب کا قومی ادارہ گردن زدنی ٹھہرا، وہ بھی جنہوں نے گلی کوچوں سے سرحدوں تک نگہبانی کیلئے خون کے دریا عبورکئے،سوال جواب میں آوازیں بلند ہوتی گئیں،آستینیں تہہ ہوناشروع ہوگئیں،منہ سے نکلتی جھاگ چہرے چھونے لگی،پارلیمان میں ہاتھ گریبانوں تک جاپہنچے،ہوا کے دوش سے لوگوں نے یہ منظربھی دیکھا کہ جمہوریت کیلئے باعث فخرایوان پہلوانوں کے اکھاڑے میں تبدیل ہوتا چلا گیا،بات نعروں اورگریبانوں سے بڑھ کرجوتے مارنے اوربجٹ کے تخمینے ایک دوسرے پرپھینکنے تک جاپہنچی، مہنگائی،بے روزگاری او ر کورونا کی بدحالی کے ڈسے عوام کی بد دلی بڑھنے لگی،انہیں لگنے لگا کہ اگراڑھائی برسوں میں منزل نہیں ملی تو ان ستربرسوں سے بھی صرف نظرنہیں کیا جاسکتا جن کے میرکاررواں کبھی اسلام اورکبھی روٹی کپڑا اورمکاں کالولی پاپ دیتے رہے،ان کے اثاثے تو اربوں،کھربوں کی دہلیزعبورکرگئے لیکن غریب کی کٹیا کا دیابدستور مٹی کے تیل کامنتظررہا۔

    غلطیاں ماضی میں کی گئیں تھیں،غلطیاں اب بھی جاری ہیں،سیاستدانوں نے بھی کیں،آمروں نے بھی۔سانپ گذرگئے‘لکیراب تک پٹ رہی ہے جانے کب تک پٹتی رہے گی،غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے والوں کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرتی‘اصل مسائل کا ادراک کسی کوتو کرنا پڑے گا،ملکی مسائل حل کرنے کیلئے تلخ یادوں کوچھوڑکرآگے بڑھنا ہو گا،بوڑھے قدرداں آسودہ خاک ہوئے ،جواں حکمرانوں کی ترجیحات مختلف۔اب رشتے عقائد نہیں،باہمی مفادات اورتجارت طے کرتی ہے،کہاں بھارت‘سعودی عرب چالیس ارب ڈالرکی صرف ایک شعبے‘پٹرولیم میں تجارت اورکہاں ہمارے چارارب ڈالرکی اونٹ میں زیرے کے برابرکی حیثیت،دیدہ ورکہتے ہیں بات مسلمان بھائی سے آگے نکل چکی ہے،کمیونسٹ چین،روس اورمسلمان پاکستان،ایران،ترکی اپنی اپنی راہ بھی نکالیں گے اورمل کربھی،انہیں ترجیحات میں قطراورمتحدہ عرب امارات کوبھی مت بھولئے، نصرت بھٹوکینسر، بے نظیربھٹو کان اور نوازشریف پلیٹ لیٹس کاعلاج کرانے گئے تھے، مریم کوبھی شاید خاموشی سے کہیں جاناپڑے‘رہے عمران خان تووہ بیرونی دنیا میں جھنڈے گاڑ چکے،بولے توٹرمپ اوران کی کابینہ پہ سکتہ چھا گیا‘بائیڈن سے بھی وہی نمٹیں گے، معیشت مستحکم ہوئی تواندرونی مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔

    سینئرصحافی اورتجزیہ کارعلی رضاعلوی @alirazaalviJتقریبا اٹھائیس برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں،روزنامہ جنگ،روزنامہ نوائے وقت،روزنامہ ایکسپریس،روزنامہ دن سمیت متعد د قومی اخبارات میں کالم لکھتے رہے،آج کل baaghitv.com کیلئے لکھ رہے ہیں۔ان کا ٹوئٹرہینڈل @alirazaalviJ ہے جس پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ آج کل جی ٹی وی پر پروگرام ریڈ زون کی میزبانی کر رہے ہیں یہ پروگرام جمعه ، ہفتہ ، اتوار رات دس بجکر پانچ منٹ پر نشر ہوتا ہے

  • ایم ڈی کیٹ؛  ڈی چوک پر طلبہ سراپا احتجاج کیوں؟

    ایم ڈی کیٹ؛ ڈی چوک پر طلبہ سراپا احتجاج کیوں؟

    تجزیاتی رپورٹ: رضی طاہر

    ریاستیں، ادارے اور قومیں تبھی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جب جمود سے نکل کر ترقی کی منازل طے کریں، فرسودہ نظام کے بجائے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں، لیکن ان مراحل کو طے کرنے کے بھی کچھ اصول ہیں اگر ان اصولوں سے روگردانی کی جائے گی تو ترقی وبال بن جائے گی، میرٹ کا قتل عام ہوگا۔ ایم ڈی کیٹ کے حالیہ ٹیسٹ کی مثال بھی کچھ ایسی ہے، اٹھارہویں ترمیم کا گلا گھونٹتے ہوئے جب میڈیکل کے ٹیسٹ وفاق میں لیے گئے تو آن لائن ٹیسٹ کی ترقی کو طلباء کیلئے وبال بنادیا گیا اور میرٹ کے قتل عام کا جو فارمولا اپنایا گیا اس پر خود پی ایم سی بھی شرمندہ شرمندہ دکھائی دیتی ہے۔ پی ایم سی کی نااہلی اور ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کے خلاف اسلام آباد میں گزشتہ کئی روز سے طلباء سراپا احتجاج ہیں اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ٹیسٹ ایک دن اور دوبارہ لیے جائیں، یوں تو طلباء کو کئی شکایات ہیں لیکن ہم چند شکایات کا چیدہ چیدہ ذکر کیے دیتے ہیں

    سب سے پہلے میرٹ کا قتل عام ایسے ہوئے کہ ٹیسٹ کو ایک دن لیے جانے کے بجائے ایک ماہ تک محیط کیا گیا، عام سمجھ میں آنیوالا اعتراض ہے کہ یکم اگست کو ٹیسٹ دینے والے طالب علم اور یکم ستمبر کو ٹیسٹ دینے والے طالب علم کو یکساں تیاری کا موقع نہ مل سکا، جبکہ دونوں کے پیپرز میں بھی فرق ہے، ایک بیج کیلئے ٹیسٹ آسان ہے تو دوسرے بیج کو مشکل ٹیسٹ کے مرحلے سے گزارہ گیا ہے، اور نااہلی کی انتہا یہ ہے کہ کئی ٹیسٹ پہلے ہی منظرعام پر آچکے ہیں جو کہ دھرنے کی قیادت کرنے والے چوہدری عرفان یوسف نے میڈیا کو دکھائے بھی ہیں، دوسرا اعتراض یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے مسائل رہے اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ سوال کو دوبارہ درست کرنے کی کوششیں بھی ناکام گئیں، اب اس حقیقت سے منہ کیسے چھپایا جائے کہ انٹرنیٹ پورے پاکستان میں ایک جیسا میسر نہیں ہے، شمالی پنجاب میں اگر چار جی دوڑ رہا ہوتا ہے تو شمالی علاقہ جات میں ٹو جی کی بھی رسائی بمشکل ہوجاتی ہے، اسلام آباد کے ہی ایک حصے میں انٹرنیٹ کی سپیڈ دوسرے حصے سے زیادہ اور کم ہوتی ہے

    انٹرنیٹ کے مسئلے کو ایک طرف رکھیں تو دوسرا مسئلہ سوال کی درستگی نہ ہونے کا ہے، طالب علم جب اپنا جواب ٹھیک کردیتا ہے لیکن سافٹ وئیر کا کمال دیکھیں وہ اسے ٹھیک نہیں کرتا، کیونکہ اس کی ضد ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فیل کیا جائے، تیسرا بڑا اعتراض نصاب کے باہر سے سوالات کا ہے، وہ سوالات ایڈ کیے گئے ہیں جو طالب علم کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے اور نہ ہی نصاب میں شامل ہیں، ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں اعتراضات کی بھرمار ہے، اس کیلئے طلبا ء سراپا احتجاج ہیں اور احتجاج میں کوئی عام نہیں ہے اس کے روح رواں طلباء حقوق کیلئے جدوجہد کی تاریخ رکھنے والے چوہدری عرفان یوسف ہیں، عرفان یوسف اور تحریک منہاج القرآن کا طلبہ ونگ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ دھرنے کی قیادت کررہا ہے

    یہ وہی ڈی چوک ہے جہاں پر چار حلقوں میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف کچھ سال قبل عمران خان صاحب اور ماڈل ٹاؤن سانحہ کو لے کر جناب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سراپااحتجاج تھے اور دھرنا مہینوں طول پکڑ گیا اب دولاکھ طلباء کے ساتھ ہونیوالی دھاندلی کے خلاف میڈیکل کے طلباء سراپا احتجاج ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ان کے مطالبات پر غور کرے اور اعتراضات کی تحقیق کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے اور امتحانات کے رزلٹس کو کمیٹی کی حتمی سفارشات تک روکا جائے، ضروری ہے کہ اس کمیٹی میں احتجاجی طلباء کے بھی نمائندگان شامل ہوں، میں احتجاج کرکے اپنا حق لینے والے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں یقینا انہوں نے جدوجہد کی مثال قائم کی ہے۔

  • تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    اس وقت دُنیا تقریباً دو گروپس میں تقسیم ہو چُکی ہے
    گروپ 1 میں چین روس پاکستان اور ان کے اتحادی جبکہ گروپ 2 میں امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں۔ امریکہ نے چین کو ساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
    اور ساؤتھ چائنہ سی کے اردگرد موجود تمام ممالک (جاپان, فلپائن, تائیوان, ہانگ کانگ, ساؤتھ کوریا, ویت نام, ملائیشیاء, انڈونیشیاء, برونائی, اور آسٹریلیا ) کو چائنہ کے خلاف اُکسانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔اور یہاں اپنے ڈیسٹرائیرز اور ایئر کرافٹ کیریئر لے کر آگیا ہے۔اور بھارت کو کہا ہے کہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کو چین کے بحری جہازوں کے لیے بند کردے۔ یاد رہے آبنائے ملاکا کے ذریعے چائنہ کی زیادہ تر تجارت ہوتی ہے اور چین کا 80% تیل اسی راستے سے گُزرتا ہے,اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو بدلے میں چین کے پاس صرف گوادر بچتا ہے اپنی تجارت کے لیے۔جو کہ "پاکستان” کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے

    جواب میں چین نے بھی پالیسی بنا لی ہے اگر بھارت آبنائے ملاکا بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کر کے سلی گُڑی کوری ڈورجو کہ بھارت کی سات ریاستوں(آسام, ناگالینڈ ,اروناچل پردیش, میگہالیہ, میزورام ,منی پور , تری پور) کو باقی بھارت سے ملاتا ہے, اس پر قبضہ کرکے ان سب کو بھارت سے علیدہ کردے گا۔اور بھارت بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے, اس لیے کافی حد تک خاموش ہے۔ اب بھارت نے تبت کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اور دلائی لامہ کو پوری دنیا میں لیکر جائے گا۔ا ور اقوام متحدہ سمیت ہر جگہ پشت پناہی کرے گا۔ نتیجے میں چین نے بھی کشمیر کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    اور ہر صورت کشمیر کی آزادی کے لیے کام کرے گا اور یہ بات بھی "پاکستان” کے لیے ہی خوش آئند ہے۔دوسری طرف چین ایران کو بھی بھارت کی گود سے نکال لایا۔اور اب ایران بھی کُھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہا ہے۔ اب صرف عرب ممالک کا فیصلہ باقی ہے۔ چین نے سعودی عرب اور باقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالر میں کرنے کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کرنے کی آفر کی ہے یہ امریکی ڈالر کو بدترین دھچکا ہوگا۔

    امریکہ کا بھی عرب ممالک پر بھرپور دباؤ ہے اگر سعودی عرب چین کے بلاک میں آنے کی بجائےامریکہ دباؤ پر گُھٹنے ٹیک دیتا ہے تو چین سعودی عرب کی بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کردے گا۔چین سعودی عرب سے 40 ارب ڈالرز کا تیل خریدتا ہے۔ اور ایران پہلے ہی چین کو آدھی قیمت پر تیل دینے کی آفر کر چُکا ہے۔ عرب ممالک پر بہت ہی کڑا وقت ہے لیکن امریکہ اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستا ہے۔ اور چین اپنے دوستوں کو ساتھ لیکر چلتا ہے۔ باقی فیصلہ محمد بن سلمان کے صوابدید ہے۔

    اسرائیل کی کوشش ہے کہ خود جنگ میں نہ کودےاور امریکہ ,بھارت اور اتحادیوں کے ذریعے چائنہ کو شکست دے۔ بالکل وہی پالیسی جو پہلی جنگِ عظیم میں امریکہ کی تھی جب روس برطانیہ اور فرانس بمقابلہ جرمنی آسٹریا ہنگری اور سلطنتِ عثمانیہ تھے اور امریکہ پہلے 3 سال تک دونوں کو اسلحہ اور خوراک فروخت کر کے خوب پیسے کماتا رہا اور آخری سال جب روس انقلاب کے بعد جنگ سے باہر ہوا اور دونوں فریقین بہت زیادہ کمزور ہو چُکے تھے تو اعلانِ جنگ کر دیا اور اسی طرح جنگ جیت گیا۔

    اب اسرائیل کی بھی وہی پالیسی ہے جب امریکہ بھارت , چین روس اور پاکستان آپس میں لڑ کر بے حد کمزور ہو چُکے ہونگے تو اُس وقت جنگ میں شامل ہو گا اور بغیر زیادہ محنت کہ جنگ جیت کر سُپر پاور کی سیٹ پر بیٹھ جائے امریکہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خود جنگ میں نہیں کودنا چاہتا بلکہ بھارت اور دوسرے ممالک کا کندھا استعمال کر کے جنگ جیتنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل یہ ہونے نہیں دے گا۔

    یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں پہلے ہی رپورٹ دے چُکیں,اور کہہ چُکیں کہ چائنہ امریکہ کو شکست دے گااور اسرائیل چائنہ کو شکست دے کر دُنیا کا تاج اپنے سر سجائے گا ان صورتوں میں پاکستان کے لیے بھی بہت کڑے امتحانات ہیں۔ ملکی حالات کے پیشِ نظر پاک فوج اور ریاستی اداروں کی بھرپور کوشش ہے کہ فلحال اس جنگ کو تھوڑا دور دھکیلا جائے تاکہ ملک کے حالات تھوڑے قابو میں آسکیں۔ دشمنان اسلام تو پاکستان کو جتنی جلدی ممکن ہو اس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ اسلامی دُنیا کی واحد ڈھال اسلامی دُنیا کے واحد حصار پاکستان کو توڑا جائے۔ اگر آج پاکستان مضبوط اور ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو شاید ہی کوئی اسلامی ملک اس وقت دُنیا کی نقشے پر موجود ہوتا۔ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ اپنی ریاست اور فوج پر بھروسہ رکھیں اور ہر صورت ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk