Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    ” حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ، محترم جناب کمشنر صاحب کا کتا گم گیا ہے جس صاحب کو ملے وہ کمشنر آفس پہنچا دے ۔ اگر ہماری کارروائی کے دوران وہ کتا کسی سے برآمد ہوا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاے گی” یہ اعلان کل گوجرانوالہ کی سماعتوں سے ہوتا ہوا سوشل میڈیا پر پہنچا اور پھر ٹویٹر پر #کمشنرکاکتا گم گیا ہیش ٹیگ کے ساتھ چند ایک ٹویٹس نظر آئیں ۔ جانوروں سے محبت کرنا اچھی بات ہے اور پالتو جانوروں سے محبت تو کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے ۔ ابھی چند دن قبل عید قرباں پر چند ایک مناظر نظروں سے گزرے تھے جن میں قربانی کے جانوروں کو پالنے والے یا پھر انھیں خرید کر قربان کرنے والے رو رہے تھے ، مضطرب تھے لیکن زبان پر شکر کے کلمات تھے ۔ خیر یہ تو ایک الگ معاملہ ہے ۔ اصل بات پر واپس آتا ہوں ۔ کمشنر انگریزی باقیات میں سے وہ چیز ہے جو ابھی بھی اپنے آپ کو ضلع کا مالک کل سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ خدا ترس ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اہل ضلع پرسکون رہتے ہیں وہ درویش صفت لوگوں کو تنگ کرنا گوارا نہیں کرتے اور مجرموں اور قانون شکنوں کے خلاف زمین تنگ کیے رکھتے ہیں ۔

    اب ہمیں یہ تو بات معلوم نہیں کہ کمشنر صاحب نے اعلانات کروانے کا خرچہ بذمہ سرکار کیا ہے یا پھر اپنی جیب سے ادا کیا ہے ۔ یہاں تو سرکاری مال کو اس طرح سے خرچ کیا جاتا ہے جیسے وہ حرام کا مال ہو۔ سرکاری گاڑیوں میں سبزی لانے ، بچوں کو سکول چھوڑنے ، ماسی و پھوپھی کو لانے، سسرال کے کام کرنے اور گھر کا دیگر سودا سلف لانے کا کام بھی کیا جاتا ہے اور سرکاری ڈرائیور کو نجی ڈرائیور سمجھ کر خاتون خانہ کی چاکری پر لگا دیا جاتا ہے ۔ سرکاری مالیوں کو گھر کے لان کی صفائی ستھرائی کے لیے بلایا جاتا ہے ۔ خیر یہ تو ضمنی باتیں آگئی ہیں ۔ جناب کمشنر کے کتے کی بات ہورہی تھی ۔ گوجرانوالہ میں روز کسی نہ کسی تھانے میں کسی کی گم شدگی کی درخواست آتی ہوگی ۔ روز کوئی نہ کوئی لاش سرراہ ملتی ہوگی جسے سردخانے پہنچا دیا جاتا ہوگا کہ ورثا کے ملنے تک محفوظ رہ سکے ۔ کمشنر گوجرانوالہ نے اس طرح کے معاملات میں کتنے اعلانات کروانے کا تردد کیا ہوگا ۔انسان کو تو درخواست نمبر سے زیادہ وقعت ہی نہ ملی کیوں کہ دل میں درد ہو تو صاحب بہادر رات کی نیند سے محروم ہو جائیں ۔ رات کمشنر صاحب امید واثق ہے کہ کتے کے نہ ملنے کی وجہ سے نیند سے محروم ہوں گے ۔ اس سے پہلے کسی غریب ، اجڈ ، گنوار ، جاہل ، لاچار و معذور کی فریاد پر شاید ہی اس طرح سے مضطرب ہوے ہوں کہ سرکاری سرپرستی میں سرکاری اہلکاروں کو کتا ڈھونڈنے پر لگا دیا ۔ کمشنر صاحب کو ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے کیوں کہ ہم ٹھہرے عام شہری جن کی اوقات کمشنر کے کتے سے بھی کم ہے ۔

  • بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر : @nabthedentist

    جوان انسان کہ منہ میں 32 دانت ھوتے جن میں چار عقل ڈارھیں ضروری نھیں سبکو آئیں اس حساب سے کم از کم ایک نارمل انسان کے منہ میں 28 دانت تو آنا لازم ھے
    جسم کے مضبوط ترین حصوں میں سب سے مضبوط ھڈی ھے اور ھڈیوں میں دانت سب سے مضبوط ترین مانے جاتے ظاہر ھے اگر یہ اتنے مضبوط ھیں تو اللہ نے ان سے کوی سخت قسم کا کام بھی لینا ھوگا اور جب یہ سارے یا ایک یا ایک سے زیادہ دانت نکل جاتے تو ان کے نیچے موجود مسوڑھے جو جسم کے کمزور حصوں میں سے ایک ھیں ان کو وہ سخت کام کرنا پڑجاتا جو وہ کر نھین پاتے جس سے مسوڑوں میں انفیکشن زخم ساتھ والے دانتوں میں مسئلے ٹوٹ پھوٹ کیڑا لگنا ٹیڑھا ھوکر اس خالی جگہ میں گرنا اوپر والے دانتوں کا قد نکال لینا یہ سب کچھ ھونا شروع ھوجاتا جسکے نتیجے میں مزید دانتوں کے نکلنے کا خطرہ درد تکلیف کا دائمی ھوجانا تکلیف والے سایئڈ سے کھانا نا کھاکر اس سایئڈ کا ناکارہ ھوجانا شامل ھے وہ ھوسکتا
    اسلئے جب کبھی کسی کا دانت کسی بھی وجہ سے نکل جائے یا نکلوانا پڑ جائے تو وہ ایک ماہ سے لیکر 6 ماہ کے اندر نئے دانت لگوا لے
    نئے دانت کبھی بھی اصل کے متبادل نھیں ھوسکتے مگر وہ کسی بھی طور نا لگوانے سے ھزار گنا بہتر ھے
    آپکا کھانا پینا شروع ھوجاتا زندگی میں سکون آجاتا ساتھ والے دانت یا پھر مسوڑوں کے مسئلے ختم ھوجاتے
    نئے دانت لگوانے میں آپکے پاس درج ذیل آپشن موجود ھیں

    1۔ اتارنے لگانے والے دانت
    Removable Denture

    مشہور زمانہ بتیسی اسی کٹیگری میں آتی یہ ایک دانت سے لیکر پوری بتیسی یعنی 32 دانت تک حسب ضرورت لگوائے جاسکتے یہ باقی آپشن کی نسبت سستے ساتھ والے دانتوں کو نقصان دیئے بغیر لگ جاتے انکا نقصان یہ اتارنے لگانے والے ھوتے خیال کم رکھا جانے کی وجہ سے خراب ھوجاتے منہ میں ایڈجسٹ نسبت مشکل سے ھوتے وقت کیساتھ ڈینٹل کلینک چکر لگتے ھی رھتے جسکے منہ میں کوی دانت نا ھو اسکے لئے یہ آپشن سب سے بہتر ھے

    2۔ فکس دانت کراون یا بیریج
    Crowns and Bridge

    جب کوی دانت کی دیوار ٹوٹ جائے یا اسکا روٹ کینال ٹریٹمنٹ ھوا ھو تو ایسے دانت کو مضبوطی دینے لئے فلنگ کیساتھ اس پر فکس کراون لگایا جاتا ھے جب دانت موجود نا ھو تو ساتھ والے دانتوں کو کٹنگ کرکے انکا ناپ لیکر خالی جگہ میں دانت لگایا جاتا اسکو bridge کہا جاتا ھے
    یہ فکس ھوتے اسلئے یہ اتارنے والوں سے بہتر رھتے یہ ان سے نسبتا زیادہ قیمت کے ھوتے ھیں اسوقت دنیا میں سب سے زیادہ یہی لگائے جاتے

    3.ایمپلانٹ Implant

    فکس برج میں جہاں ایک دانت لگانے لئے ساتھ والے دو دانتوں کی کتنگ کی جاتی وہ ایک لحاظ سے دو دانتوں کا نقصان بھی ھے جو اور 5 سال بعد خراب ھونے کی صلاحیت رکھتے جس سے برج کو اتار کر ساتھ والے مزید دانتوں کو لینا پڑ سکتا ایسے میں فکس دانت لگانے لئے ایک اور آپشن ھے وہ ھے ایمپلانٹ اس میں ساتھ والے دانتوں کو چھیڑا نھیں جاتا جو ایک دانت نکلا اسکی جگہ ایمپلانٹ screw کردیا جاتا اوپر کراون لگایا جاتا یہ سب سے بہترین آپشن ھے مگر کافی مہنگا ھوتا ھے اسلئے پاکستان میں بہت کم لوگ اس جانب راغب ھوتے

    دانت فکس ھوں یا اتارنے لگانے والے لیکن اگر انکی صفائ نا رکھی گئی خیال نا رکھا گیا تو لیبارٹری کے بنے ھوئے یہ دانت بہت جلد خراب ھوجاتے اسلئے اصل دانتوں کی حفاظت سے زیادہ انکی حفاظت ضروری ھے

  • کربلا،  وادی کرب و بلا . تحریر: سید غازی علی زیدی

    کربلا، وادی کرب و بلا . تحریر: سید غازی علی زیدی

    اہل بیت کے مقدس خوں سے رنگین، مکر و فریب سے اٹی، بے وفائی سے بھری، عشقِ حقیقی کے پروانوں کی اک داستان الم

    حق و صداقت
    صبر و استقامت
    فلسفہ شہادت
    حسین کی عظمت
    یزید نشان عبرت

    عراق، 61 ہجری، ماہ محرم الحرام، وادی کربلا کا المناک منظر: تپتا ریگستان, دہکتا آسمان، دشمن قہرمان، لیکن رب مہربان۔
    نواسہ رسول ﷺ، جگر گوشہ بتول ؓ کی شہادت، جب روشن سورج سیاہ ماتمی لباس پہن کر افق پر نمودار ہوا۔ تاریخ انسانی کی وہ خونیں شام جب امام عالی مقام ؓ اور اہل بیت کے مقدس لہو سے دریائے فرات آگ و خون کا دریا بنا۔
    اپنوں کی غداری اور سفر کی صعوبتیں سہنے کے باوجود، اس وادی پرخار میں اہل بیت کی آن و شان پوری تب و تاب کے ساتھ قائم دائم تھی۔ جرآت و شجاعت سے لبریز کیا بچے کیا بوڑھے، دین کی سربلندی جن کا مقصد حیات تھا، وہ کہاں ان مشکلات کو خاطر میں لاتے تھے۔ یہ حق کی اذان اور باطل کی پکار کا مقابلہ تھا۔ کوئی معمولی دنگل نہیں بلکہ وہ عظیم الشان معرکہ تھا جس نے تاقیامت حسینیت اور یزیدیت میں فرق واضح کردیا۔ چشم فلک نے نہ پہلے کبھی ایسا مقابلہ دیکھا نہ خاک ارض کبھی ایسے مقدس لہو سے تر ہوئی۔

    جو کربلا میں شاہِ شہیداں سے پھِر گئے
    کعبہ سے منحرف ہوئے قرآں سے پھِر گئے

    حق و باطل مدمقابل تھے، نواسہ رسولﷺ کا امتحان تھا اور وہ برگزیدہ ہستی کیا خوب کامیاب ہوئی کہ اس رسم حسینی کی بنیاد ڈال دی جو آج 1400 سال گزرنے کے باوجود بھی زندہ و جاوید ہے۔ ایک دین کیلئے کٹ کر بھی ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا تو ایک فاتح ہو کر بھی روز محشر تک ملعون ٹھہرا۔ جنت کے جوانوں کا سردار روز حشر جب یزید کا گریبان پکڑے گا تو کیا یزید اور اس کے چیلوں کے پاس کوئی جائے پناہ ہوگی؟ کیا سرور کائنات ﷺکے اس فرمان عالیشان کے بعد بھی یزید کیلئے کوئی جائے پناہ ہو گی؟
    ’’جس نے ان دونوں (حسنؓ اور حسینؓ) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سےدشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی‘‘۔ (متفق علیہ)

    یہ کوئی عام قصہ نہیں بلکہ جرآت و استقلال کی وہ لازوال داستان ہے جس نے تاریخ انسانی کو ایک نیا موڑ دیا۔ وہ ناقابلِ فراموش دن، جب سیدنا امام حسینؓ نے حق و انصاف اور سربلندی اسلام کیلئے سر مبارک کٹا تو دیا لیکن جھکایا نہیں۔ نظام خلافت کو ملوکیت و موروثیت میں بدلنے والوں کیخلاف علم جہاد بلند کیا اور اس دن اہل بیت کے مقدس لہو کے غسل نے اسلام کو نئے سرے سے جلا بخش کر ہمیشہ کیلئے رسم حسینی کی بنیاد ڈال دی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کبھی اسلام پر کفر و ظلمت کے سائے چھائے، تب امام عالی مقام ؓ کی تقلید ہی واحد راہ نجات ثابت ہوئی۔

    بیعت یزید کے انکار نے تاقیامت ظالم و جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی جرات مندانہ روایت قائم کر دی۔ امام عالی مقام ؓ نے اپنی عظیم و الشان شہادت کے زریعے، اللّٰہ کی حکمرانی اور اللّٰہ کے رسول ﷺ کے قانون کے نفاذ کا عالمگیری پیام اہل حق تک پہنچا دیا۔ وہ عظیم پیغام جس پر عمل پیرا ہونے میں ہی نہ صرف مسلمانوں بلکہ انسانیت کی نجات ہے۔

    مطلق العنان یزید کیخلاف للکار دراصل استعماریت و استکباریت کیخلاف علم بغاوت بلند کرنا تھا۔ آغوش نبوت میں پرورش پانے والے نواسہ رسولﷺ، جگر گوشہ بتول ؓ، فرزند حیدر کرار ؓ امام عالی مقام نے احیائے اسلام کی خاطر جو لازوال داستان شجاعت رقم کی وہ حریت پسندوں اور راہ عشق کے مسافروں کیلئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

    تاریخ کے ان سیاہ ترین دنوں کا تصور کرنا بھی ہم گنہگاروں کیلئے محال ہے کجا یہ کہ اس دردناک واقعہ کو احاطہ تحریر میں لانا۔ ہوس اقتدار کے مارے ہوئے خودساختہ جابر حاکم کے سامنے سینہ سپر باکردارنوجوانان اہل بیت و اطہار کی بے مثال دلیرانہ شہادت کا معاملہ ہو یا شیر خوار معصوم پھولوں کی پیاس سے تڑپ کا احوال، علم اسلام کی سربلندی کیلئے شجیح مردان حق کا عزم مصمم ہو یا خانوادہ رسول ﷺ کی عفت مآب بیبیوں کی فاسق و فاجر یزید کے دربار میں بآواز بلند للکار، ہر ہر سانحہ جلال حیدری کی یاد تازہ کرتا ہے۔ نہ کوئی ڈر و خوف، نہ جاہ و حشم کی چاہ، نہ اقتدار کا لالچ، نہ جانوں کی پروا؛ ایسی جرات، ایسی جوانمردی، ایسا استقلال سوائے اہل بیت کے کون بھلا دکھا سکتا تھا؟؟

    حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
    بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

    آج حسینیت، مسلم و غیر مسلم کے فرق سے بالاتر، ہر مظلوم مگر عزم و ہمت کے پیکر کیلئے ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے پھر چاہے وہ مطلق العنان بادشاہ ہو یا ظلم وبربریت کا نظام حکومت۔
    جہاں بھی کہیں کوئی ظالم اپنی حدود پھلانگتا ہے وہیں تاریخ کے دریچوں میں جلوہ گر خانوادہ رسولﷺ کی بے مثال قربانی، مظلومین کے لئے مشعل راہ کا کام دیتی ہے ۔

    قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    واقعہ کربلا صرف قربانی کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ تو عشق حقیقی میں اپنا سب کچھ تیاگ دینے والوں کی داستان مہر و وفا ہے جو تاقیامت ظلمت کے اندھیروں سے نبردآزما، راہ عشق کے مسافروں کیلئے روشن چراغ اور اہل بیت کی محبت سے سرشار ہم عاصیوں کیلئے توشہ آخرت ہے۔

    اے اہلِ بیتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    یہ نذرانہ گر قبول افتند زے عز و شرف

    @once_says

  • کوہ پیمائی کی دنیا میں منفرد ریکارڈ .تحریر : ارشد محمود

    کوہ پیمائی کی دنیا میں منفرد ریکارڈ .تحریر : ارشد محمود

    متروک شدہ کوہ پیمائی کا لباس پہن کر اپنا شوق پورا کرنے والا علی سدپارہ کا نام 2016ء میں عالمی میڈیا میں گونجا کہ انھوں نے سردیوں کے موسم میں قاتل پہاڑ (نانگا پربت) کو منفی 52 کے درجہ حرارت اور تیز برفیلی آندھی کے باجود سر کرلیا ہے ۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ تھا جس کی جتنی تعریف کی جاے اتنی کم ہے ۔ سردی کے موسم میں بغیر آکسیجن نانگا پربت کو سر کرلینا ایک منفرد ریکارڈ تھا جس کی شاید ہی کسی میں ہمت ہو ۔ علی سدپارہ نے نانگا پربت پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب علی سدپارہ کی گم شدگی کی اطلاع ملی تو ہر آنکھ نہ صرف اشک بار ہوئی بلکہ ہاتھ بھی دعا کے لیے اٹھے کہ علی سدپارہ مل جاے ۔علی سدپارہ کا پورٹر سے کوہ نوردی کا سفر جہاں اپنے اندر جہاں سموے ہوے ہے وہی پر اسباق در اسباق بھی ہیں جو نئے کوہ پیماؤں کو سیکھنے چاہیے ۔ علی سدپارہ کوہ پیمائی تشہیر کے لیے نہیں بلکہ اپنی تسکین کے لیے کرتے تھے گویا کہ انھیں برف پوش اور فلک بوس پہاڑوں سے عشق تھا ۔

    علی سد پارہ پہلا پاکستانی کوہ پیما تھاجس نے 8 ہزار میٹر بلند دنیا کی سات چوٹیوں کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پاکستان کی 5 بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر چکا تھا جس میں 8611 میٹرز بلند K 2 بھی شامل ہے لیکن اب کی بار موسم علی سد پارہ کے حق میں نہ تھا ورنہ قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد پہلے سے مفتوح ہو چکی کے ٹو چوٹی کی کیا حیثیت تھی؟ امسال فروری میں علی سدپارہ مع ساجد سدپارہ ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو کے ساتھ کےٹو کو سر کرنے کی مہم کو نکلے ۔ ساجد سدپارہ کو 8 ہزار میٹر کی بلندی پر ریگولیٹر خراب ہونے کی وجہ سے ساتھ چھوڑنا پڑا ۔ یہ آخری ملاقات تھی جو باپ کی اپنے بیٹے سے تھی ۔ بیٹا تو واپس آگیا جبکہ باقی تین افراد نے اپنی مہم جاری رکھی ۔ چند دنوں کے بھر پور ریسکیو آپریشن کے بعد بھی لاپتہ کوہ پیما نہ ملے تو انہیں مردہ قرار دیتے ہوئے ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا لیکن ان کے بیٹے نے ازخود ریسکیو آپریشن جاری ر کھنے کا اعلان کیا ۔ٹویٹر پر علی سدپارہ نے 24 جولائی کو ٹویٹ کرتے ہوے بتایا کہ وہ علی سد پارہ کی تلاش کے لیے بوٹل نک اور اس سے آگے کے علاقوں میں چھان بین کریں گے ۔ اور پھر بیٹے کی محنت رنگ لائی اور انھیں اپنے والد علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں کے لاشے مل گئے ہیں۔

    کوہ پیمائی جہاں مہنگا ترین کام ہے وہی پر خطرناک حد خطرناک کام ہے ۔ علی سدپارہ کی زندگی جہاں مہم جوئی سے عبارت ہے وہی پر ان کی زندگی ثابت کرتی ہے کہ وسائل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کچھ کر نہیں سکتا ۔ شروع میں ان کی مدد و حمایت کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے اور سرکاری سرپرستی تو پاکستان میں نصیب والوں کو ملتی ہے ۔خبروں کےمطابق چند ایک لالچی قسم کے افراد نے بعد ازاں سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر ان سے اپنی مرضی کے بیانات دلوانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ مردقلندر اپنی بات پر اڑا رہا ۔ ایسے منفرد لوگ قوموں کو کبھی کبھی میسر آتے ہیں اور زندہ قومیں ان کی زندگی میں ہی ان کی اہمیت سے واقف ہوتی ہیں ۔ بعدازمرگ اعزازات و انعام واکرام کا مطلب اپنی شہرت کے سوا کیا ہوتا ہے ؟ معذرت کے میں آج تھوڑا تلخ ہوگیا ہوں ۔ ہم اپنے سیاست دانوں کو سونے کے برتنوں میں کھانا کھلا کر ان کی ہوس مزید بڑھاتے ہیں لیکن ان اصلی نمایندگان قوم و ملت کو سرکاری سرپرستی تک دینے سے انکاری ہو جاتے ہیں ۔ہمیں بطور قوم اپنے اجتماعی خیالات کو بدلنا ہوگا ہمیں تعین کرنا ہوگا کہ ہم کس راہ پر چل کر ترقی یافتہ ممالک میں کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ یہ صرف سیاست سے ممکن نہ ہوگا بلکہ ہمیں اس طرح کے معاملات میں بھی درد دل رکھ کر فضا ہموار کرنا ہوگی تاکہ علی سدپارہ جیسے لوگ پاکستان کا نام روشن کرسکیں اور حالیہ اولمپکس جیسا حال بنواکر مزید جگ ہنسائی کا باعث نہ بنیں ۔

  • بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    پاکستان بننے کی تاریخ سے شروع کیا تو بات بہت لمبی ہو جائے گے ایک دہائی پیچھے سے شروع کرتی ہوں، مختاراں مائی کے نام سے شروع کریں تو اس معاشرے کی تہذیب، مذہب سے لگن سب کچھ ماند سا پڑا ہوا لگتا ہے۔
    مختاراں مائی کو برہنہ کر کے سرِ بازار لانے والا یہی مردانہ معاشرہ ہے۔ ہماری جذباتی قوم نے کچھ دن واویلا کیا اور نئی ڈگر پر چل نکلے، پھر کہیں کسی کے چہرے پر تیزاب تو کسی وڈیرے نے کسی کی بہن کو بھائی کے سامنے ہراساں کیا۔ قوم نے پھر چند دن شورو غوغا کیا اور ہم پھر آگے کو نکلے۔
    چند سالہ ننھی زینب پر بھی ہم نے بہت ٹسوے بہائے اور قانون سازی کا نعرہ مار کر جذباتی قوم کو پھر ایک سستے نشے کا ٹیکہ لگا کر سلا دیا۔
    وحشی جانور جیسے معاشرے نے نشے اور جذبات سے باہر آتے ساتھ ہی ایک ماں کو اس آزاد اور مسلمانوں سے بھرے ہوئے معاشرے میں تین بچوں کے سامنے جس اذیت سے دوچار کیا کہ اس موضوع پر بولنا تو دور کی بات سوچتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت یہ باتیں ہوئیں کہ سخت قانون سازی کر کے نا مرد کرو، عمر قید یا سزائے موت جیسی سخت م، بروقت اور عبرتناک سزائیں دو تاکہ یہ معاشرہ سدھر جائے۔
    پھر یہی مسلمان، برابری کے حقوق سے بھرا معاشرہ قربانی کے دنوں میں حوا کی بیٹی کے گلے پر چھری چلا دیتا ہے۔

    اور پھر ہم سب شدت سے بھرے معاشرے کے افراد طیش میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے اندر کے جانور کو کسی نئی نشے کے گولی دے کر سلانے لگ گئے، اگر اس کے لئےقانون سازی کی گئی ہوتی تو ایک ہفتہ ہونے کو ہے ابھی تک کیا تفتیش ہی چل رہی ہوتی کہ مدعی اور مدعا الیہ دونوں کو پتہ ہے کہ قاتل اور مقتول کون ہیں، اس کے باوجود کوئی سزا نہیں۔
    افسوس صد افسوس اس بات پر کہ جب ایسا کوئی حادثہ رپورٹ ہوتا ہے تو ہم سب لوگ اس مسئلے میں بھی تعمیری تنقید کے بجائے تخریبی اور مفاد پرستی کی لائن بنا کر غل غپاڑہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، مثال کے طور پر ایک طبقہ مذہب اور ایک مذہب بیزاری کے بیانات نکالتا ہے، ایک سیاسی تو ایک اختلافی نوٹ بھی مفاد کی بنیاد پر چھاپنا شروع کر دیتا ہے، کبھی بھی ہمارے معاشرے کی کسی بھی اکائی نے نہیں کہا کہ آئیں مل بیٹھ کر ایک سزاوجزا کا معیار بنائیں بلکہ سبھی اپنے اپنے تحفظ میں لگ جاتے کہ ہم تو بڑے پاک باز لوگ ہیں، کبھی مدرسوں میں ننھے بچوں سے زیادتیاں، کبھی راہ چلتی حوا کی بیٹی کے آبرو ریزی، تو کبھی زبردستی کے مذہب تبدیلی کے واقعات اور بڑے بلند و بانگ دعوے کرنے والا موم بتی مافیا۔جس کےہی ایک بڑے ہرکاروں میں سے ظاہر جعفر نامی درنگان نکل رہے اب۔ذہنی بیماری کا کسی مذہب، شخص یا طبقے سے ہر گز تعلق نہیں ہوتا یہ ایک سوچ ہے جسے باالعموم طور پر پورے معاشرے سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

    عثمان مرزا کیس، نور مقدم کیس، نسیم بی بی جسے شیر خوار بچی سمیت چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا، اس جیسے کتنے ہی ایسے واقعات ہوں گے جو حوا کی بیٹی اپنی آبرو بچانے کی آڑ میں کسی کو بتاتی بھی نہیں ہوگی، چپ چاپ سہہ جاتی ہوگی۔
    قوموں کی ترقی بھی اس آڑ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہوتی، جیسے درندہ صفت ظاہر جعفر کا کہنا کہ وہ امریکی شہری ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہ سکتا۔ اگرچہ ظاہر جعفر کے امریکی شہری ہونے کا اس کے بچ جانے سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ ویانا کنونشن کے مطابق استشنیٰ صرف سفارتی عملے کو ملتا ہے۔
    خیر بات کہاں سے کہاں نکلتی جا رہی ہے، جب تک ہم صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کے قرآن پاک میں دئیے ہوئے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہونگے ان معاشرتی بیماریوں کی بنیادوں پر ہم روشن خیال اور برابری کا معاشرہ استوار نہیں کر سکتے۔
    سورہ الانعام میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اس قوم کی کبھی حالت نہیں بدلی جس نے کبھی خود ہی بدلنے کی کوشش نہیں کی۔
    اب یہ ملک اور اس کی عوام کو پھر سے قانونی معاملات میں الجھا کر اک اور نیا نشہ دیا جا رہا ہوگا، اللہ کرے کہ ہماری غیرت جاگے ، ہمارا معاشرہ اپنے اندر کے درندوں کو حقیقی معنوں میں مار کر آگے بڑھے اور عورتوں کو اپنے تحفظ کے لیے کسی اور عورت مارچ کا سہارا نہ لینا پڑے، پاکستان پائندہ باد

    ٹوئٹر اکاوُنٹ:
    @Kirankhan9654

  • ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری
    ٹویٹر : @nabthedentist

    پچھلے کالم میں بچوں کے دودھ کے اور پکے دانت آنے اور ان سے جڑی بیماریوں پر سرسری بات کی تھی آج اس کالم میں بچوں کے دانتوں سے جڑے سب سے بڑے مسئلے یعنی ٹیڑھے دانتوں کو ڈسکس کیا جایئگا
    بچوں میں ٹیڑھے دانتوں کے آنے کی کئ وجوہات ھوسکتی ھیں جن میں کچھ پر والدین بے بس اور کچھ کو ٹھیک رکھنا والدین کے بس میں ھوتا ھے کافی ساری وجوہات میں سے کچھ یہاں رکھے دیتا ھوں
    1۔بچوں کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے یا انکی فیملیز میں کسی کے دانت ٹیڑھے ھونا
    2۔بچوں کا فیڈر یا انگوٹھا منہ میں زیادہ رکھنا اور اس سے تالو کو آگے کی طرف مستقل کھینچتے رھنا
    3۔جبڑے کا چھوٹا ھونا
    4۔نئے پکے دانتوں کا سائز نارمل سے زیادہ بڑا ھونا
    5۔یا دونوں چھوٹا جبڑا بڑے دانتوں کا ھونا
    6۔بچپن میں دودھ کے دانت کسی وجہ سے جلدی نکلوالینا

    الغرض متفرق وجوہات سے دانتوں کا ٹیرھا پن آجاتا اب دانت ٹیڑھے بھی کئ اقسام میں کئ اشکال میں ھوتے جب تک انکو جان نھیں لیتے بطور ڈینٹل سرجن انکا علاج کرنا اور بچے کی فیملیز کو سمجھانا انتہائ مشکل ھوجاتا
    1۔دانتوں کا باھر کی طرف نکلنا
    2۔دانتوں کا ٹھیک ھونا مگر جبڑے کی ھڈی کا باھر کی طرف ھونا
    3۔یا دونوں دانت بھی اور جبڑے کی ھڈی کا باھر ھونا
    4۔دانتوں کا اندر ھونا یا جبڑے کا کافی اندر ھونا یا دونوں کا ھی اندر ھونا
    5۔دانت ٹیڑھے آگے پیچھے اپنی جگہ پر ھی آنا
    6۔دانتوں کی ایک ھی جگہ crowding یعنی رش ڈال دینا
    ٹیڑھے دانتوں کا علاج جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا 11 سال کی عمر یا پھر اسوقت جب canine منہ میں نکلتے اسوقت کیا جاسکتا اس سے پہلے اگر دانتوں کو کسی حد تک ٹھیک رکھنا یا اپنی جگہ پر رکھنا چاہتے تو removable appliance لگا سکتے ٹیڑھے دانت عمر کے کسی حصے میں لگا سکتے میرے پاس کلینک میں 60 سال کے لوگ بھی آکر دانت سیدھے خرواکر جاچکے ٹیڑھے دانتوں کے علاج کے اسوقت کئ قسم کے علاج موجود ھیں
    1۔ کنزرویٹو آرتھوڈونٹک ٹریٹمنٹ یعنی Braces
    یہ علاج سب سے کامیاب 100 فیصد رزلٹ اور دیر پا ھے اس میں دانتوں پر سٹین لیس سٹیل بریکٹس اور تار لگائی جاتی اور قریبا سال دو سال یا کئ کیسز میں 4 -5 سال تک یہ تار لگائی جاتی ھے پہلے مہینے تین سے چار بار ڈینٹل کلینک پھر ھر ماہ ایک یا دو بار آنا پڑھتا ھے
    2۔کلر لیس آلائنر
    یہ طریقہ کار زیادہ تر پروفیشنل لوگوں میں لگائے جاتے جو دانت سیدھے ھوتا کسی کو دکھانا نھیں چاہتے کیونکہ یہ کلر لیس ھوتے تو لوگوں کی نظروں میں نھیں آتے انکا رزلٹ بھی سو فیصد ھوتا مگر یہ علاج کافی مہنگا اور رزلٹ کافی دیر سے حاصل ھوتا ھے

    ٹریٹمنٹ کے دوران ایک ڈینٹل سرجن لئے جو سب سے مشکل کام ھوتا وہ مریض کو اور اسکی فیملی کو یہ باور کرانا ھوتا کہ ان دانتوں کیلئے سپیس بنانی ھے اور اسکے لئے کم از کم 4 دانت دو اوپر والے اور دو نیچے والے نکالنے ھونگے
    اور ایکبار جب ٹریٹمنٹ ھوجائے تو سب سے اہم مرحلہ دانتوں کو اپنی جگہ قائم اور برقرار رکھنا ھے اسکے لئے ریٹینر لگائے جاتے جو مریض کو کم از کم تین ماہ سے ایک سال تک لگانے پڑتے
    کئ کیسز جن میں جبڑا شامل ھو وہ ان ٹریٹمنٹس سے ٹھیک نھیں ھوپاتا ایسے میں سرجریز کی ضرورت بھی پڑجاتی

  • سنگلاخ چٹان پہ کندہ بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ ،تحریر : آصف شہزاد

    سنگلاخ چٹان پہ کندہ بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ ،تحریر : آصف شہزاد

    وادی سوات قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں کے حوالے سے بھی نمایاں شہرت رکھتا ہے۔یہ علاقہ گندھارا تہذیب کا ایک بہت بڑا مرکز رہا ہے۔جہاں ہزاروں سال قدیم آثار اور کھنڈرات سے مختلف تہذیبوں کا سراغ ملتا ہے۔ ان آثار قدیمہ میں بین الاقوامی شہرت کا حامل مہاتمہ بدھ کا مجسمہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

    سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے نو کلو میٹر کے فاصلہ پر شمال کی طرف واقع منگلور نامی گاؤں ہے جہاں بدھ مت دور کے آثار بکھرے پڑے ہیں۔ ان آثار میں سب سے اہم “شخوڑئی مجسمہ” ہے جوکہ جہان آباد کے مقام پر واقع ہے، اس مجسمے کو حیران کن طور پر ہزاروں برس قبل ایک بڑی اور سخت چٹان پر کندہ کیا گیا ہے جس کی لمبائی تیرہ فٹ جبکہ چوڑائی سات فٹ تک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھا کا یہ مجسمہ افغانستان کے صوبہ بامیان میں واقع مجسمہ کے بعد ایشیاء کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے تاہم سنگلاخ چٹان پر کندہ ہونے کی وجہ سے منگلور کا شخوڑئی مجسمہ کافی اہمیت اور مقبولیت کی حامل ہے۔ اس مجسمے کا ذکر قدیم چینی سیاحوں کے سفرناموں میں بھی باقاعدہ طور پر موجود ہے۔

    دو ہزار سات میں عسکریت پسندوں نے اس مجسمےکو تین بار تباہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اس تاریخی مجسمے کو جزوی نقصان پہنچا تاہم اطالوی حکومت کے ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے سوات کے قدیم آثار اور تاریخی مقامات کو مرمت کرکے اپنی اصل حالت میں واپس لانے کا عندیہ دے دیا ہے اور اس سلسلہ میں کئی ایک جگہ پر مرمت کا کام بھی کیا گیا ہے جوکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کےلئے ایک دفعہ پھر توجہ کے مراکز بنے ہوئے ہیں۔ مرمت کردہ آثار قدیمہ میں جہان آباد کے مقام پر واقع دنیا کا دوسرا بڑا بدھا کا مشہور مجسمہ شخوڑئی بھی شامل ہے۔

    شخوڑئی مجسمہ کو عسکریت پسندوں کی جانب سے رات کی تاریکی میں بارود سے اُڑانے کی کئی بار کوشش کی گئی تاہم شائد زیادہ اونچائی کی وجہ وہ اس کو مکمل طور پر تباہ نہ کرسکے یہاں تک کہ مجسمہ کے چہرے میں ڈرلنگ کے بعد بارود بھر دیا گیا اور دھماکے سے اڑادیا گیا تاہم بدھا کے چہرے کے بالائی حصے کے علاوہ باقی مجسمہ محفوظ رہا۔ جس کے بعد ڈاکٹر لوکا کی قیادت اور اطالوی حکومت کی کوششوں سے مجسمہ کی مرمت اور بحالی ممکن ہوئی اور مجسمہ اپنی اصلی حالت میں ایستادہ ہوا

    منگلور میں واقع شخوڑئی بدھا کے بارے میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین کہتے ہیں یہ مجسمہ ریاضی اور آرٹ کی اصولوں پر بنایا گیا ہے۔اونچائی ، چھوڑائی سمیت ابھرائی اور ناپ کا خاص خیال رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اس مجسمہ کو جن زاویوں اور فاصلوں سے دیکھا جاسکتا ہے ان زاویوں اور فاصلوں کی کیلکولیشن کی گئی ہے اور کسی بھی زاویے سے اس کی شکل میں بگاڑ محسوس نہیں ہوتا۔

    وادئی سوات میں اس قسم کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کی وادی کئی ہزار سال سے حملہ آوروں کی آماجگاہ رہی ہے یہاں چکدرہ برج سے لے کر سیدوشریف تک گندھارا کے آثار، بدھ خانقاہیں اور شاہی عمارتیوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔زیادہ تر قدیم تاریخی جگہیں بریکوٹ سیدو شریف اور اوڈیگرام کے آس پاس ہیں جن کی زیارت کیلئے سنہ دو ہزار سے قبل زائرین کا تانتا بندھا رہتا تھا تاہم جب عسکریت پسندی کا دور شروع ہوا اور حالات خراب ہوئے تو بین الاقوامی زائرین کا آنا بند ہوگیا تاہم بحالی کے بعد اب باہر دنیا سے ان آثار کو دیکھنے اور ان کی زیارت کرنے کیلئے لوگ آنا شروع ہوگئے ہیں اور حالیہ دنوں میں بھی سری لنکا سے زائرین نے سوات کا دورہ کیا تھا اور اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کی تھی، اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ سیاحت کا مشترکہ موقف ہے کہ حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ ہیں اور اس سلسلہ میں بدھسٹ ٹریل کے نام سے ایک منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے جسے مکمل کرنے کیلئے حکومت پر عظم ہیں یہ ٹریل سوات اور صوابی سے ہوتے ہوئے صوبہ پنجاب کے علاقہ ٹیکسلا تک ہوگی اور اس ٹریل پر جگہ جگہ بدھ مت سے وابستہ آثار اور مقامات تک زائرین کی رسائی اور رہنمائی میں کافی آسانی پیدا ہوگی۔

    آثار قدیمہ پر تحقیق کرنے والے سوات کے معروف محقق محمد پرویش شاھین جن کا تعلق بھی اسی گاؤں سے جہاں یہ مجسمہ واقع ہے کے مطابق دنیا میں واحد شخوڑئی وہ جگہ ہے جہاں اس مجسمہ کچھ ہی فاصلے پر بدھا کے اقوال پر مشتمل کتبے کندہ ہیں۔ماہرین کے مطابق سوات میں تقریباً ایک بزار سال قبل اسلام کی آمد ہوئی تاہم یہاں پر بسنے والے مسلمانوں نے مجموعی طور پر ان آثار کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کے برعکس ان آثار کو محفوظ رکھا۔

    محمد پرویش شاھین (ماہر آثار قدیمہ)

     

  • افغانستان کے حالات کشیدہ کیوں؟ تحریر : ارشد محمود

    افغانستان کے حالات کشیدہ کیوں؟ تحریر : ارشد محمود

    افغانستان میں حالات کشیدہ سے کشیدہ ہوتے جارہے ہیں ۔ طالبان کا کنٹرول مضبوط سے مضبوط ہورہا ہے ۔ افغان حکومت امریکا و دیگر ریاستوں کی مدد و حمایت حاصل ہونے کے باوجود بےبس دکھائی دے رہی ہے ۔ طالبان اپنے پاؤں جماتے آگے بڑھ رہے ہیں اور افغان صدر بیانات داغ کر اپنا پلو جاڑ رہے ہیں۔ طالبان کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ انھوں نے عین عیدالاضحٰی کی نماز کے وقت صدارتی محل ہے قریب راکٹ فائر کردئیے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان افغان حکومتی کارندوں کے کس قدر قریب ہیں ۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی حکومت اس وقت تک کام یاب نہیں ہوسکتی جب تک طالبان اسے کام یاب نہ کریں۔ جب راکٹ حملے ہوئے اس وقت افغان صدر اشرف غنی، نائب صدر امراللہ صالح اور افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت کئی اہم عہدیدار صدارتی محل میں نماز عید ادا کررہے تھے۔ راکٹ حملے کے بعد خوف و ہراس کا پھیلنا لازمی بات تھی ۔ افغان صدر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ طالبان نے ظاہر کردیا ہے کہ وہ امن کی خواہش نہیں رکھتے ۔ اب اسی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔ ملک میں ملیشیا بنانے اور آمریت کی کوئی جگہ نہیں۔

    افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ افغان عوام کو ابھی سکون میسر ہونے میں شاید مزید 10 سال کا عرصہ لگ جائے ۔ افغان حکومت طالبان کے آگے بے بس ہوکر جو اندرون خانہ دوسرے ممالک کے ساتھ ساز باز کررہی ہے وہ طالبان کو مزید اشتعال دلا رہی ہے ۔ بھارت سے سازباز کرنے میں جہاں افغان حکومت کافی حد تک آگے جانے کی کوشش میں ہے وہی پر بھارت طالبان سے ڈر کر محتاط ہوچکا ہے ۔ پاکستان کو گھیرنے کی بھارتی خواہش مٹی تلے دفن ہوچکی ہے کیوں کہ افغانستان میں طالبان کا مستحکم ہونا بھارتی خوابوں کو ملیامیٹ کرنے کے لیے نہ صرف کافی ہے بلکہ وہ بھارت کے لیے سردرد بھی ہے ۔ بھارتی اربوں روپے کی سرمایہ کاری طالبان کے قبضے میں جارہی ہے اور بھارت کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے ۔ طالبان کی نظر شاید اب بھارتی مقبوضہ علاقہ جات کی طرف بھی مبذول ہوجائے کہ بھارت نے ایک طرح سے طالبان سے ٹکر لینے کی کوشش کی ہے ۔ پاکستان اس وقت اپنے بہ ترین خارجہ پالیسی پتے کھیل رہا ہے ۔ موجودہ حکومت اگر ایک اور بار اپنی حکومت بنانے میں کام یاب ہوجاتی ہے تو شاید پاکستان صحیح معنوں میں ایشین ٹائیگر بن کر ابھرے

  • عید الاضحی کی روایتیں : تحریر عینی سحر

    عید الاضحی کی روایتیں : تحریر عینی سحر

    اللہ تعالیٰ نے سورہ حج کی آیت ٣٧ میں فرمایا
    لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوْمُهَا وَلَا دِمَاۤؤُهَا وَلٰـكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْۗ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَـكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمْۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ

    ‘نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے نیکو کار لوگوں کو’

    یہی عید الاضحی کی اساس ہے کے نہ نمود و نمائش نہ ہی فخر و غرور اور نہ ہی مہنگے جانور خرید کر اترانے کا نام عید الاضحی ہے _ مسلمانوں کا یہ مذہبی تہوار حضرت ابراہیم علیہ سلام کی اس عظیم قربانی کی یادگار میں ہے جب انہوں نے خواب میں ملنے والے حکم الہی پر عمل کرتے ہوۓ اپنے جگر گوشے حضرت اسماعیل علیہ سلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی حکم بجالانے کی کوشش کی _ اللہ پاک نے انکی بندگی اور فرمانبرداری کو قبول فرماتے ہوۓ حضرت اسماعیل علیہ سلام کو بچا لیا اور انکی جگہ ایک دنبے کو قربان کیا
    یہ بندگی یہ عاجزی یہ خالق و ارض و عرش کا حکم بجا لانا ایک مثال ہے تمام جہان والوں کیلئے اللہ کی راہ میں اپنی سب سے عزیز شے کو قربان کرنے کا جذبہ پیدا کیا جاۓ ہر عید الاضحی پر سنت ابراہمی پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ اپنی استعاعت کےمطابق جانور خرید کر اللہ کی راہ میں قربان کئے جائیں

    اسمیں نہ تو نمود ونمائش کا عنصر ہو نہ ہی معاشرے میں اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش ہو بلکے اپنے عمل کو اللہ کی رضا کیلئے خالص کرلینے کا نام ہی بندگی ہے جسکا حکم اللہ نے سورہ حج میں ہمیں دیا کے قربانی کے جانور کا گوشت اور اسکا خون اللہ تک نہیں پہنچتا بلکے مسلمان کا تقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے _ وہ خلوص نیت پر مبنی ہے کے ہم اپنی دی ہوئی قربانی کو صرف ثواب نیت سے اللہ کی راہ میں قربان کریں

    عید الاضحی کی بنیاد میں یہ عنصر پنہاں ہے کے ہم معاشرے کے محروم طبقے کو نظر انداز نہ کریں اور قربانی کا گوشت انھیں پہنچائیں تاکے انکی تنگدستی میں انکی مدد ہو سکے یہی وجہ ہے کے قربانی کے گوشت میں غربا کا ایک حصہ مقرر ہے . اسکے ساتھ رشتہ داروں اور قربت داروں کا خیال رکھنے کا بھی حکم ہے تاکے صلہ رحمی میں کوئی کمی نہ ہو
    عید الاضحی اس روایت کا نام ہے کے اپنے عزیز رشتہ دار پڑوسیوں اور دوست احباب کی بھی مدد کریں والدین اور رشتہ داروں کےحقوق پورے کئے جائیں تبھی رب کائنات کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے

    عالم اسلام عید الاضحی پر قربانی کا فریضہ ادا کرکے سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہے
    بحیثیت پاکستانی ہمارا فریضہ محض قربانی کر کے اور اسکا گوشت بانٹ کر ہی پورا نہیں ہوتا بلکے لازم ہے کے ہم اپنے گردو نواح کا بھی خیال رکھیں اور حکومتی ہدایت کے مطابق قربانی کی آلائشوں کو ٹھکانے لگائیں ، گلی محلے اور سڑکوں پر الاینشیں پھینکنے کی بجاۓ مقامی حکومت کی ہدایت کے مطابق مطلوبہ مقام پر ہی الائشیں پہنچائیں تاکے گلی محلوں اور سڑکوں میں تعفن پیدا نہ ہو اور بیماریاں نہ پھیلیں

    مسلمان کا فریضہ صرف جانور کی قربانی سے ہی پورا نہیں ہوتا بلکے ضروری ہے کے نیت کو صرف رب کی رضا کیلئے خالص رکھتے ہوۓ اسکی پیدا کردہ مخلوق اور بناۓ گۓ رشتوں کے حقوق پورے کریں اور عید الاضحی کی اس اصل روح پر عمل کریں کے انسان کی اپنی کوئی انا نہیں بلکے اسکے پاس جو کچھ ہے وہ رب العزت کا ہے اور وہ اسکی راہ میں سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہوۓ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرے کیوں کے وہی ایک تقویٰ ہے جو اللہ کے ہاں پہنچتا ہے

  • سگریٹ  کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش

    سگریٹ کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش

    خبردار تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے
    یہ سلوگن ہر سگریٹ کی ڈبی پہ لکھا ہوتا ہے اور ہم میں سے ہر کوئی اس کا مطلب جانتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ سگریٹ سے انسان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ میں تقریبا سات سو سے زائد کیمیکلز موجود ہوتے ہیں ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 70 کیمیکلز کینسر کی وجہ بنتے ہیں اور کچھ کیمیکلز جیسا کہ امونیا فارم ایلڈی ہائڈ وغیرہ جو کہ پھیپھڑوں کی بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں اور وہ لوگ جو سگریٹ نوشی زیادہ کرتے ہیں ان میں کورونا وائرس اور اس طرح کی بڑی مہلک بیماریوں کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سگریٹ کا دھواں انکے جسم کے مدافعتی نظام کو پہلے ہی کمزور کرچکا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ کورونا وائرس کا حملہ برداشت نہیں کر پاتے اور اس کے بچنے کے چانسز بہت کم ہو جاتے ہیں

    جو انسان سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ خود تو ان بیماریوں کا سامنا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ شخص ارد گرد کے ماحول کو بھی آلودہ کر رہا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ جو خود تو سگریٹ نوشی نہی کرتے لیکن اسکے گرد موجود ہونے کی وجہ سے ان کو بھی بالواسطہ ان سب بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آج کل لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور مختلف بیماریاں خاص طور پہ کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور یہ سب اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ ہمارے ارگرد ہمارے بہت قریبی رشتے دار یا گھر کا کوئی فرد جب گھر میں سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ باقی سب کو بھی اس آلودگی کا حصہ بنا رہا ہوتا ہے اور اسی طرح کے مثائل سے ہمارے تعلیمی ادارے، مارکیٹیں،گاڑیوں میں موجود افراد بھی دوچار ہیں خاص طوران میں بالواسطہ سگریٹ نوشی بہت عام ہے
    میری آپ سب لوگوں سے گزارش ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں خود کو اور اپنے قریبی عزیزوں کو اس مہلک دھوئیں سے بچائیں تاکہ ہم بہتر صحت مند زندگی گزار سکیں اور اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا سکیں
    میں حکومت پاکستان سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ بالواسطہ سموکنگ سے بچنے کے لئے وہ جگائیں جہاں آمدورفت زیادہ ہو اور لوگوں کا میل جول زیادہ ہو وہاں پہ یا تو سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی جائےاور سگریٹ نوشی کرنے والے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے خاص طور تعلیمی اداروں میں بھی سگریٹ نوشی بین ہونی چاہئے
    تاکہ ہم اس زہریلے دھوئیں سے چھٹکارا پا سکیں اور اپنے وطن عزیز کو اس طرح کی آلودگی سے پاک کر سکیں
    صاف صاف پاکستان
    پاک پاک پاکستان
    تحریر:- محمد دانش
    ‏@iEngrDani