Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں اچھا ہم سفر قسمت سے ملتا ہےجب دو لوگوں کا نکاح ہوتا ہے اس میں ایک قسم کا عہد ہوتا ہے کہ ہر دکھ درد میں ساتھ نبھانا ہے کسی ایک پر کوئی تکلیف یاآزمائش آنے پر فصلی بٹیرے بن کر اڑ نہیں جانا بلکہ آخری سانس تک ساتھ نبھانا ہے یہ ہی خاندانی بیٹیوں کی پہچان ہوتی ہے
    اللہ سے دعا کرتی رہیں۔ وہ آپکو جسم کا ہی نہیں، روح کا ساتھی عطا کرے۔ جو آپکی عزت کرنے والا ہو، قدر کرے، محبت کرے۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے حق میں بہترین، نفیس، آرام دہ لباس ثابت ہوں۔ مودت اور رحمت والا رشتہ ہو۔ ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بنیں۔
    اللہ سے مانگیں ہر وہ چیز جو آپ اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ عرش کے خزانوں کا مالک ہے۔ سب کو سب کچھ عطا کر دینے پر بھی اس کے پاس کمی نہیں آتی وہ آپکے گمان کے مطابق آپکو اپنے فضل سے نواز دے تو شوہر کے دل کا سکون بننے کے لیے آپ ہر ممکن ہر حال میں ساتھ نبھانے کا دل میں پختہ ارادہ کرلیں غم و خوشی میں شوہر کی خوشی مقدم رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کی اس کے سر پر 24 گھنٹے سوار ہوجائیں تھوڑی سپیس بھی دیں کہ وہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکیں اسی طرح شوہر کو بھی اپنی بیوی کو اپنی محبت کا مان دینا چاہئیے
    ممکن ہے کہ آپ شادی سے پہلے کسی اور کو پسند کرتے ہوں پہلی بات تو یہ ہے آپ نے اپنی پسند آخری حد تک حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے تھی اگر آپ ناکام ہوگے ہیں تواپنے دل ودماغ کو اس بات کے لیے راضی کرلیں کہ اب یہی عورت آپ کی محبتوں کی اصل حقدار ہے جو اپنے پیارے چھوڑ کر آپ کے پہلو میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ شرارت کریں،اپنی محبت سے اسے تحفظ کا احساس دلائیں

    بالکل جیسے آپ کو صاف ستھری بیوی اچھی لگتی ہے، بیوی کا بھی حق ہے کہ آپ hygiene کا خیال رکھیں۔ اس کے پاس صاف ستھرے ہو کر جائیے۔ اپنے لمحات خوبصورت بنائیے۔ Make her feel loved, not used.
    آپ کے ساس سسر نے کئی سال پال پوس کر اپنی اولاد آپ کے حوالے کی ہے۔ ان کا احترام کریں۔ بیوی بھی آپ کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے رہے آپ اپنے بہین بھائیوں پر خرچ کریں تو منہ بسور کر نہ بیٹھ جائے بلکہ ہر معاملے میں آپ کی طاقت بنے نہ کہ کمزوری ہمیشہ اپنے شوہر کی وفادار بن کر رہیں اور وہ اپ کی وفادار رہیں۔
    اپنے شوہر کے لیے خود کو سنوار کر رکھیں اپنی پرسنیلٹی میں کانفیڈینس کے لئے اپنا مخصوص سٹائل۔بنائیں
    جیسےاپنے خاص انداز سے دوپٹہ اوڑھنا۔
    جو accessories پسند ہیں, انہیں سلیقے سے استعمال کریں جیسے ٹراؤزر کیساتھ کرتے پہننا؟یا شرٹ کے رنگوں کے حساب سے ٹراؤزر ۔اہم چیز یہ نوٹ رکھنی ہے آپ پر سوٹ کیا چیز کررہی ہے
    میک اپ کرنا یا نہ کرنا جس سٹائل میں بھی آپ خود کو کمفرٹیبل سمجھتے ہیں، اسے اپنا سگنیچر سٹائل بنالیں اور پورے کانفیڈینس کےساتھ اپنے ہم سفر کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلیں
    میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں
    اللہ سبحان و تعالی آپ کے رشتوں میں برکتیں دیں
    اللہ نبی ﷺ اور خدیجہؓ والا ساتھ نصیب کرے۔ آمین

  • میرا وطن. تحریر:عائشہ رسول

    میرا وطن. تحریر:عائشہ رسول

    وطن کی مٹی میں جو خوشبو ہے وہ پردیس کے پھولوں میں کہاں ہے. ہم وطن کو برابھلا کہتے ہیں جبکہ وطن نے ہمیں پہچان اور ایمان دیا ہے .میری روح میرے وطن
    پر قربان.
    اے میرے وطن! کوئی ہے جو مجھے امن و سلامتی دے مجھے انصاف دے عزت نفس دے میرے بھروسے پر پورا اترے .!

    اے میرے وطن!
    میرے حکمرانوں نے میری کشادہ مزاجی چھین لی ہے میں حوصلہ افزائی سے مرحوم کر دیا گیا ہوں میرے زہن کی تمام صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا. میں خود پر رو نہیں سکتا.. میرے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ظلم دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں کا نور زائل ہوگیا ہے.
    اے میرے وطن! تیری کھیتاں صحراوں میں تبدیل ہو نے والی ہیں تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گایہ آب فروش حکمران تیری رگوں سے خون نچوڑ لیں گے انکی بانجھ نسلیں ہمارا مستقبل تباہ کردیں گی.

    اے میرے وطن! میرے پاس میری پاس اپنی درد مندی کا علاج نہیں تیرا رزق کھاتے ہیں اور تیرے لیے انکی زبان پر دعا نہیں رعایا اور حاکم کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے… یہ وطن. سے محبت کی کمی کی وجہ سے ہے
    اے میرے وطن! عزت سے خود کشی بھی کر لوں تو میرے لیے باعثِ فخر ہے ؛
    بیگانے دیس میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور وصیت یہ ہو کہ مجھے وطن میں دفن کیا جائے .یہ کتنا بڑا اپنے نفس کے ساتھ دھوکا ہےوطن سے بغاوت ہے وطن کی نافرمانی ہے.

    اے وطن! میں زہنی غلام بن کر نہیں رہنا چاہتا. مجھے اجازت دے کی میں خود کشی کر لوں میں زندہ نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے لیے امن و سلامتی اور انصاف نہیں. جہاں میرے پاس انصاف خریدنے کے لیے دولت نہیں میں اپنی عزت نفس بیچ کر بھی زندگی کو امن نہیں دے سکتا
    بتا اے وطن! میرا گناہ کیا ہے یہ کہ میرے آباؤاجداد نے اپنا خون دے کر تجھے حاصل کیا تھا اور آج میں اپنے ہی وطن میں لاوارث ہوں قانون مجھے تحفظ نہیں دے رہا
    کیا اب بھی میں غلام ہوں غلام زہنی غلام ہوں مجھے اپنے ہی وطن میں بے گناہ مارا جا رہا ہے میں اپنا عقیدہ چھپا رہا ہوں .مجھے عقیدت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے میرا وطن قتل گاہ بن گیا
    تحریر: عائشہ رسول
    Official Twitter handle
    @Ayesha__ra

  • افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو افغان جنگوں میں فتح ہمیشہ افغان قوم کا ہی مقدر بنی ہے۔ برطانیہ اور افغانستان کے مابین جنگ  1839ء سے 1842ء تک لڑی گئی، اس جنگ میں مجموعی طور پر افغانوں کی فتح ہوئی۔ 4500برطانوی اور  ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے ساتھیوں میں سے 12000لوگ بھی ہلاک ہوئے۔ روسی اور برطانوی گریٹ گیم میں یہ سب سے پہلی بڑی لڑائی تھی۔ پھر27 دسمبر 1979ء کی ایک تاریک شب، جب سوویت یونین نے افغانستان پر شب خون مارا تو ایک طویل مدتی جنگ کا آغاز ہوا۔اس جنگ میں بھی 15000 سوویت فوجی مارے گئے اور 35000 کے قریب زخمی ہوئے، جبکہ دو لاکھ مجاہدین اور دو ملین کے قریب عام شہری مارے گئے۔اس جنگ کی بڑی قیمت پاکستان نے بھی ادا کی۔ پاکستان نے بیس سال تک 2.8ملین مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد نے پاکستان کو دنیا میں مہاجرین کو پناہ دینے والے ملکوں میں سر فہرست لا کھڑا کیا۔

    اسی اثنا میں امریکہ بہادر نے انسانی حقوق کے نام پر سوویت حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،پھر سوویت یونین کو جنگ میں شکست دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ 

    امریکہ سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھا اور نائن الیون کے بعدافغانستان میں آبیٹھا۔ سوویت یونین کی بد ترین شکست نے یو ایس ایس آر کو  سولہ ملکوں میں تقسیم کر دیا، مگر اس شکست سے امریکہ نے سبق سیکھنے کی بجائے اس فتح کو ڈالرز میں تولا، جو شاید امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی، کیو نکہ جنگ لڑنے کے لیے مال و زر سے زیادہ حوصلے، ہمت اور جذبہء حب الوطنی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال آئرش رپبلک آرمی، افغانستان اور ویتنام ہیں، جنہوں نے ترکش میں تیر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں آزادی حاصل کرنے کے لیے نئی تاریخ رقم کر دی۔

    افغانستان خاک و خون کی گھاٹیاں عبور کر کے بالآخر جنگ کے اختتام کی طرف بڑھ ہی رہا تھاکہ اشرف غنی کی حکومت او ر طالبان کے درمیان ایک نئی جنگ نے جنم لے لیا۔ شنید تھی کہ امریکی انخلا کے فوراً بعد خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے، جو کسی حد تک سچ ثابت ہو رہا ہے۔ طالبان افغانستان میں دوبارہ ایک بڑی قوت بن کر ابھرے ہیں۔وہ ملک کے زیادہ تر حصوں پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ کابل پر کسی بھی وقت چڑھائی کر کے موجودہ حکومت کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    گزشتہ بیس برسوں کی امریکی جنگ میں بھارت نے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا۔ یہاں تک کہ افغانستان میں خود دہشت گردانہ کارروائیاں کروانے کے بعد الزام پاکستان پر لگایا جاتا رہا، جس کی مثالیں لاہور بم دھماکہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں،افغان قوم کے دل میں پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا، مگر بھارت اپنی اس کاوش میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا۔ بھارت کے خلاف پالیسیوں کا اعلان دراصل طالبان نے بھارتی سفارتخانے پر قابض ہو کر کیا کہ اب افغانستان میں بھارت کی دال نہیں گلے گی۔دوسری جانب بھارت نے رد عمل کے طور پر بھاری اسلحہ افغان حکومت کی مدد کے لیے حال ہی میں پہنچا دیا جو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

    بھارت کی یہ حرکت خطے میں غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس عمل سے طالبان کے ساتھ بھی کھلی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت نے امریکہ اور سوویت کی شکست سے سبق حاصل نہیں کیا۔بھارت کی بے جا مداخلت تاریخی غلطی تصور کی جا سکتی ہے،اس سے بھارت کی سالمیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

  • فلسطینی اور صہیونی ریاست.تحریر: سدرہ سجاد

    فلسطینی اور صہیونی ریاست.تحریر: سدرہ سجاد

    اسرائیل کا قیام صریحاً ایک ناجائز اور زیادتی پر مبنی عالمی پردھان منتریوں کا مکروہ فعل ہے، یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی ہمارے مکان کے ایک حصے پر زبردستی قبضہ جمالے اور پھر کہے کہ مجھے اپنا پڑوسی مان لو اور میرے حقوق ادا کرو۔ اسرائیل کا قیام ایک ناجائز پیدائش بنی جو بانی جس کو پاکستان کے قیام تک نا تسلیم کرنے کی قائد اعظم محمد علی جناح کی خارجہ پالیسی رہی ہے جو آج تک قائم ہے۔ پہلی عالمی جنگ جس میں خلافت اسلام کو نشانہ بنایا گیا اور تھیوڈر ہیزل نے یہودیوں کے لیے فلسطینی زمین دینے پر خلیفہ عبدلحمید ثانی رحمۃ اللہ کو انعامات کی پیشکش کی مگر عثمانی خون نے زوال کو تسلیم کرلیا مگر یہ ذلت قبول نہ کی۔ اسرائیل کا قیام نہ صرف مسلمانوں بلکل عالمی امن کے لیے رستہ زخم ہے، دہشت گردی کے مراکز اور معیشت کے تمام زخائر اسرائیل کے شکنجے میں ہیں اور عالمی میڈیا اسرائیل کی لونڈی کا کردار ادا کررہی ہیں کہ جھوٹی خبریں اور افواہیں اس سرعت کے ساتھ پھیلا رہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
    فلسطینیوں کو اللہ حکمت دے کہ وہ آج تک اسرائیل کی بربریت کے سامانے چٹان بن کھڑے ہیں فلسطینیوں کی چوتھی نسل ہے جو یہود کا مقابلہ ایمان کیساتھ کررہی ہیں۔ ہر 2، 3 سال بعد اسرائیل اپنے ذاتی اور ریاستی مفادات کی تکمیل کے لیے مظلوم فلسطینیوں کے گھر اور زندگیوں پر میزائل اور دھماکے داغتے ہیں لیکن آج تک فلسطینیوں نے اپنے ایمان پر سودا نہیں کیا اور ہمت اور استقامت کیساتھ قبلہ اول کی حفاظت پر معمور ہیں۔ فلسطینیوں کا امت مسلمہ پر خاص احسان ہے کہ وہ عالمی امن کے دشمنوں کیساتھ طویل اور تاریخ ساز جنگ کررہے ہیں۔ قبلہ اول کی اس ے لوث محبت کے بارے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

    بہت قریب ہے کہ ایک شخص کے پاس اس کے گھوڑے کی رسی کے برابر ایسی زمین کا ہونا جہاں سے اس کی نظر بیت المقدس پر پڑتی ہو ؛ اس کیلیے تمام دنیا سے بہتر ہو گا۔ (مستدرك الحاكم)
    حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی کئی نشتیں کرچکنے کے باوجود بھی ابھی تک کوئی واضح پالیسی نا بنا سکا، 1948 سے 1967 تک اور اب حال ہی میں اقوام متحدہ کی افواج کے باوجود اسرائیل امن معاہدہ توڑ فلسطینی آبادی میں گھس گیا اور مسجد الاقصیٰ میں فساد کرنے لگا۔ نا عالمی طاقتوں نے اس پر غور کیا اور نا اسرائیل نے کوئی عالمی معاہدوں پر عمل کیا۔

    @de10thless

  • "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ہر ملک میں اس کی ترقی و خوشحالی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ چاہے وہ ملک کتنا ہی پسماندہ ہو مگر اس کا نوجوان نسل کے عزم و ولولے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر اس وقت ہمارے ملک میں دیکھا جائے تو اس نوجوان نسل کے نہ ہی Emotional وقت کا اچھی طرح معلوم ہے اور نہ ہی Determination کا۔ نہ جانے کس وقت جزبہ ایمانی جاگ اٹھتا ہے اور پھر نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے۔
    یہ پورے معاشرے کا حال ہے اس میں بذات خود میں بھی شریک ہوں۔ اگر یہی حال تمام مسلم ممالک کا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کے پاس تمام تر وہ وسائل موجود ہیں جس سے ایک ترقی یافتہ اور طاقتور مملکت بنائی جا سکتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس وہ تمام حقائق،سچی داستانیں اور ایسے تمام علوم موجود ہیں جس سے ایک سدیوں سوہی ہوئی قوم کو ازسرِنو جگایا جا سکتا ہے۔

    مگر افسوس اس وقت بھی ان پر جہالت کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔سورج کے ہونے کے باوجود اس سے فاہدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ابر رحمت کو بھی ابر زحمت میں بدلا جا رہا ہے۔ مزاحیہ بات یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی ان کی تمام چیزوں سے غیر فاہدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ بڑے خوش ہیں۔ ان کو بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے علوم چرا کر غیر اتنی ترقی کر گئے اور ہم وہی کے وہی رہے۔
    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم پیچھے ہیں۔ ہمارے پاس ایک شاندار ماضی کی داستانیں ہیں۔ ہمارے پاس ہر شعبے میں ترقی کرنے کی مثالیں ہیں مگر ہم غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ان تمام حالات میں اگر دیکھا جائے تو کسی پر کوئی زمہ داری عائد نہیں ہوتی فقط ہر اس شخص پر جو ایسے معاشرے میں جی رہا ہے۔جسے معلوم ہے کہ میرا بھی سب کچھ یہی ملت یہی ملک ہے اور میری آنے والی نسلوں کا بھی تاقیامت۔
    اس وقت اس شخص کو ہی چاہئے کہ اس گلستاں کی ہریالی میں اپنا کردار ادا کرے۔ علامہ اقبال ہو یا قائداعظم کب تک ہم ان کے تاریخ پیدائش اور وفات پر محض ان کے گن گاہیں گے؟ ان کی بات و سیرت کو کب تک نہیں اپناہیں گے؟ اگر یہی حال رہا تو ہم ان پر واہ واہ کر کے اس زمہداری سے بچنا چاہتے ہیں جو ہم پر ان کی طرف سےعائد ہوتی ہے۔ اگر علامہ اقبال نے کلام لکھا تو کن کے لیے لکھا۔
    کیا ان کا پیغام وقت اس دور میں موجود لوگوں کے لیے تھا یہ ہم پر بھی کچھ زمہداری عائد ہوتی ہے؟ وہ کن کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے تھا کہ تمہارے دشمن تمہیں دن بدن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور تم ہو جو تقسیم ہو۔ انہوں نے ہمیں ایک ہونے کا درس دیا۔ جیسا کہ امام علی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے کہ
    "تم حق پر ہونے کے باوجود بکھرے ہوئے ہو اور وہ باطل پر ہو کے بھی متحد ہیں۔

    اسی طرح ملک بنانے میں بھی مقاصد چھپے ہوئے تھے۔ جن میں تمام مسلمانوں کی دنیا میں عظمت و خوشحالی اور سب سے اہم بات ایک ہونا شامل تھا۔ ہم کبھی بھی ان باتوں کو فراموش نہیں کر سکتے۔ آج اگر اس دور میں ہمارے اندر مسلمانوں کی خوشحالی و ترقی کی آرزو و کوشش نہیں تو ہم بالکل ہی پستی کی گہرائی میں ہیں۔ ہمیں اس بات کو بخوبی جاننا ہو گا کہ دشمن کس طرح ہمارے لیے باہر بیٹھا چالیں اور ہماری تباہی کے پروگرام بنا رہا ہے چاہے وہ بھارت،امریکہ،اسرائیل یا پھر کسی دوسرے ملک کی شکل میں ہو۔

    ان تمام Challenges سے مقابلے کے لیے بیداری ہے اور وہ بیداری آج کے ہر پاکستانی میں ہونا لازم ہے۔ کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو نہ ہی غلام بن کر جینا پسند کرتی ہے اور نہ ہی اپنے دوسرے بھائیوں کو اس حال میں دیکھنا۔ اب دشمن کو ہمارے علاقوں سے کوئی سروکار نہیں ہے اسے ہمارے ذہن چاہئیے اور ذہن بھی صرف اس طریقے سے بچ سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے بڑی مضبوطی کے ساتھ جڑے رہیں۔
    ہم اسلام کو صرف عبادات تک نہیں بلکہ اپنے معاشرے میں ہر کردار و گفتار پر نافذ کریں۔ آج دشمن نے معاشرے میں طرح طرح کی براہیاں پھیلا دی ہیں۔جن کا شکار دن بدن ہم ہی ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد ہمیں ان براہیوں میں الجھا کر تباہ و برباد کرنا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم خاموش ہیں۔
    کیونکہ بقول علی شریعتی کہ
    "زمین مسجد خدا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ نہیں ہے۔”
    شاید ہم پستی کی جانب رواں دواں ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم اس پر خوش ہیں۔
    @Haider_Arbaz_01

  • سی پیک اور پاکستان. تحریر  : ولید عاشق

    سی پیک اور پاکستان. تحریر : ولید عاشق

    ( @iWaleedRaja )

    سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے،پاکستان دشمن بول رہے ہے عمران خان نے سی پیک بیچ دیا.

    ‏پاک چین اقتصادی راہداری ملکی معاشی ترقی میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے- نوجوان سی پیک کے معاشی فوائد سے استفادے کیلئے خود کو تیار کریں،

    پاکستان اور چین کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بہتر تعلقات کو استوار کے علاوہ سی پیک منصوبہ جیسے میگاپروجیکٹ کو موثر انداز میں سمجھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے،

    عمران خان نے نہ صرف نواز شریف کے دور میں روکے گئے سی پیک کی سڑکیں مکمل کیں بلکہ اس کے دوسرے فیز پر فوراً کام شروع ہورہا ہے جس میں کم از کم 5 ارب ڈالر کے بجلی بنانے کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔
    جو کہتے ہیں ایران کو بیچ دیا تو ایران کے پاس نہ راستہ ہے نہ گنجائش۔ چین کو تیل کی ضرورت ہے۔ اس نے ایران سے اگلے 25 سال تک 400 ارب ڈالر کا تیل لینے کا معاہدہ کیا ہے۔ امید ہے یہ تیل پاکستان کے راستے سے ہوکر جائیگا سمجھیں پاکستان کی لاٹری نکلے گی۔
    سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، چینی وزار ت خارجہ
    چینی وزار ت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا ہے کہ سی پیک ایک پٹی ایک شاہراہ کا ایک اہم منصوبہ ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں اب تک توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔
    بیجنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ سی پیک سے جہاں پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی ہوئی وہیں اس منصوبے کے تحت علاقائی روابط کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پٹی ایک شاہراہ کا منصوبہ چین کا ہے جس سے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا مستفید ہو گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کے تقریبا 140 ممالک نے ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام کے تعاون کے معاہدے پر چین کے ساتھ دستخط کئے ہیں جبکہ چین اور ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام سے وابستہ ممالک کے مابین تجارتی حجم کی مجموعی مالیت 9.2 کھرب امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ۔
    ‏سی پیک منصوبے سے ملکی معشیت میں بہتری آئے گی اور پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے 7 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا جبکہ اس وقت  80 ہزار سے زائد پاکستانی سی پیک کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ‎پاک چین اقتصادی راہداری ،ترقی کے سفر کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر کا حصول ہر پاکستانی کی خواہش ہے،پاکستانی حکومت اور عوام اپنے بہترین دوست چین کو ساتھ اس منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں ،اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہو کر اس منزل تک پہنچنے کا پورا یقین ہے.

  • عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    کسی بھی ملک کے انتظامی نظام کو چلانے کیلئے ایک جمہوری حکومت کی ضرورت ہوتی ہے دنیا کے ہر ملک میں آج تک ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ عوام اپنے پسندیدہ نمائندوں کو منتخب کرتی ہے اور ان کو ایوانوں تک پہنچاتی ہے…

    یہ حق عوام کا ہی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ ترین عوامی نمائندگان کو منتخب کریں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبا 74 سال گزر چکے ہیں پاکستان کی آزادی کے بعد ایک حکومت تشکیل دی گئی تاکہ اس ملک کا نظام موثر طریقے سے چلایا جا سکے اور آج تک یہی ہوتا آرہا ہے الیکشن کے آغاز میں ہر سیاسی جماعت ایک لائحہ عمل تیار کرتی ہیں جس کے مطابق وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ الیکشن سے پہلے کے حالات دیکھیں تو ووٹروں کو بہت عزت دی جاتی ہے، وعدے کیے جاتے ہیں، خواب دکھائے جاتے ہیں پھر جب الیکشن کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت میں آتی ہے تو عوام سے کئے گئے وعدے خواب ہو جاتے ہیں۔۔

    پھر ایوانوں میں بیٹھے نمائندہ عوام کو بھول کر اپنی سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ عوام کی خواہشات کی تکمیل کرنے والے اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایسا تقریبا 35 سالوں سے ہوتا آرہا ہے کہ دو سیاسی جماعتیں جو زیادہ تر حکومت کا حصہ نہیں حکومت کے آنے کے بعد انہوں نے عوام سے کیے گئے وعدے ہوا میں اڑا دیئے…

    آج بھی آپ کو ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جائیدادیں اندرونی اور بیرونی ممالک میں ملیں گی اور اس کی وجہ کیا ہے کہ نظام کا قصور ہے یا کہ سیاسی نمائندوں کا قرآن پاک میں بھی یہ واضح ارشاد ہے کہ جو قوم اپنی حالت نہیں بدلتی خدا ان کی حالت نہیں بدلتا کیا ہم ساری کرپشن کا قصور صرف سیاستدانوں کو ٹھرائیں گے کیا ہم خود بخثیت عوام کرپشن کا حصہ نہیں ہیں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود ان برائیوں میں ملوث ہیں جن برائیوں میں ہم سیاستدانوں کو دیکھ رہے ہیں سب سے بڑی ضرورت ہمیں اپنے من کو اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے ضرورت ہے تبدیلی سیاستدانوں سے نہیں عوام سے آتی ہے پہلے ہم سب کو اپنا آپ درست کرنے کی ضرورت ہے…
    @RajaMusaHabib

  • نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    اسلام بہت خوبصورت دین ہے جس نے انسان کو حلال اور حرام چیزوں سے باخوبی آگاہ کیا ہے اور اسلام نے حرام اور حلال چیزوں کے حوالے سے کچھ حدود رکھی ہیں اور بتایا ہے کہ حرام چیزوں سے بچا جائے یہ انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ حرام چیزوں کے استعمال سے انسان نہ دنیا کا رہتا ہے نہ آخرت کا رہتا یے۔ ٹھیک اسی طرح نشہ بھی حرام ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو مدہوش کردے، اسے اس کے رب سے دور کردے، جو انسان کے دماغ کو ماؤف کردے اور اس کے پورے جسم میں نشہ پیدا کردے جس کی وجہ سے وہ اپنے رشتے اور معاشرے کو بھول جائے اور انقصان پہنچائے حرام ہے۔ اور آج پوری دنیا میں نشہ عام چیز ہوگیا ہے۔ جہاں پوری دنیا نشے کی لت میں جکڑ چکی ہے وہیں یہ لعنت پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ افسوس کے ایک اسلامی ملک جس کا تو دین یہ کہتا ہے کہ نشہ حرام ہے وہاں اس حرام چیز کی مقدار اور اس کے چاہنے والے اور اس سے اثرانداز ہونے والے افراد کی تعداد میں روز کے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پہلے تو منشیات فروش اپنا کام کچھ مختص کیے گئے مقامات پر کرتے تھے پر اب تو یہ غلیظ دھندہ سرعام ہورہا ہے اور یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس ملک کے ادارے اور وہ تمام لوگ کہاں سو رہے ہیں جن پر منشیات کی روک تھام حکومت پاکستان کی طرف سے فرض کی گئ ہے؟ پاکستان میں سب سے زیادہ نشے سے اس ملک کی نوجوان نسل برباد ہورہی ہے۔ کسی بھی ملک کے نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں اور آج افسوس ہے کہ اس ملک کا اثاثہ بربادی کی طرف گامزن ہوتا چلا جارہا ہے۔ نوجوانوں میں نشہ کرنے کے کئ طریقے سامنے آئے ہیں جن میں سگریٹ، شراب، آیوڈکس، گٹکا، نشہ آور دوائیں اور ہیروئن وغیرہ شامل ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد سرنج سے نشہ کرنے والے افراد کی ہے اور اس طریقے سے نشہ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ایسے نشے سے متاثر افراد ایک دوسرے کی سرنجیں استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے وہ ان بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

    جہاں نشہ معاشرے کو اپنی جکڑ میں لے رہا ہے وہاں پہ تعلیمی ادارے بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں۔ وہ ادارے جن کو تعلیم کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ نوجوان وہاں سے پڑھ لکھ کر ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈال سکیں اب وہ بھی منشیات فروشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے الیکٹرونک میڈیا پہ اس حوالے سے کافی ہلچل مچی ہوئی ہے کہ اب تعلیم اداروں میں کچھ طالب علم اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر منشیات کی خریدوفروخت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ڈی ڈبلیو کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھتے ہوئے بتایا کہ ” میں نے آئس نامی نشہ آور مادے کا استعمال کافی کیا اور اس وجہ سے اپنی تعلیم کے دو سال بھی ضائع کردیے، پہلے میں صرف دوستوں کے ساتھ مل کر تفریح کے لیے اس کا استعمال کرتا تھا پر پھر مجھے اس سے سکون ملنے لگا۔ اس نشے سے میرے دل و دماغ کو بہت زیادہ سکون اور عجیب و غریب سرور ملتا تھا تو مجھے اس کی عادت ہوگئی، عادت اتنی بڑھی کے اس کہ میرے لیے اس کے بغیر رہنا ناممکن ہوگیا اس کو حاصل کرنے کے لیے میں گھر میں چوریاں کرنے لگا بار بار ایسا کرنے پر ایک بار میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو والدین کو اس ساری صورتحال کا علم ہوا اور پھر انھوں نے مجھے ایک ایسے مرکز میں داخل کروایا جہاں نشے سے متاثر افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور اب میں کافی حد تک اپنی پرانی زندگی میں واپس آگیا ہوں”۔ سن 2015 میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو منشیات کے حوالے سے یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ پاکستان میں کل 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ آور ادویات کے عادی ہیں جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں۔ منشیات فروش ملک کے دشمن ہیں جو منشیات کی مدد سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نشے سے متاثر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی کچھ اور اہم وجوہات بھی ہیں جن میں سب سے پہلے تو ہمارے ان اداروں کی غفلت ہے جو منشیات کی روک تھام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پھر کچھ حصّہ ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کا بھی ہے۔ جب ملک میں بےروزگاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کو کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ملتا تو پھر وہ منشیات فروشوں کے شکنجے میں آجاتے اور ان کے ساتھ مل کر اس کام میں اپنا حصّہ ڈالتے ہیں اور پھر وہ افراد جو زندگی کے ان مشکل حالات سے گھبرا جاتے ہیں اور ہار مان لیتے ہیں، طرح طرح کی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ سکون کی تلاش کے لیے نشے کا استعمال شروع کرنے لگتے ہیں۔ بحیثیت انسان ہمیں چاہیے کہ ہم اس غیر قانونی اور حرام چیز کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کا سہارا بنتے ہوئے ان کا بھی ساتھ دیں جو نشے کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر کے ہیں تاکہ وہ واپس اپنی پہلے والی زندگیوں میں آنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ نوکریوں کا اہتمام کرے تاکہ پڑھے لکھے نوجوان اس سے مستفید ہوسکیں اور نشے جیسی لعنت سے بچ سکیں اور پاکستان کی آنے والی نسلیں ایک صاف و شفاف اور ابھرتا ہوا ملک دیکھیں جو نشے کی لعنت اور منشیات فروشوں کے ناپاک وجودں سے پاک ہو۔

  • علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    الحمداللہ ہم مسلمان ہیں
    اللہ تعالٰی کو ایک ماننے والے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانتے ہیں دنیا میں رہنے کے لیے زندگی گزارنے کے لئے اصول و ضوابط اور حدود مقرر کر دی گئی ہیں،

    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم سیدھے اور غلط راستے کا انتخاب خود کرنے کی بجائے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور یہی بنیادی وجہ مذہبی انتشار اور تفرقہ بازی کا سبب بنتی ہے بغیر تحقیق کے اور سمجھے بغیر نام نہاد مُلائوں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے ہیں جس سے معاشرے میں نفرت پیدا ہو رہی ہے خود کو عالم کہنے والے ایسے افراد مفاد پرست ہوتے ہیں جن کے پیچھے مقاصد عوام کو تقسیم کرنا اور مذہب کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔

    یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں پر قبضے کر کے مقاصد حاصل کرتے ہیں کبھی بچوں کے ساتھ زیادتی میں شامل ہوتے تو کبھی کفر کے فتوے لگا کر بے نقاب ہو رہے ہیں مذہب کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے ممبر پر بیٹھ کر جنت اور جہنم کے فیصلے کرنے والے یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالٰی کی محبت پیدا کرنے اور اس کی بیشمار رحمتوں کے بارے میں بتانے کی بجائے خوف پیدا کر دیتے ہیں۔

    جذباتی بلیک میل کر کے افراد کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے والے ایسے چند مفاد پرست مولوی درحقیقت خود بھی دین کی سمجھ نہیں رکھتے علما حق ہمارے سروں کے تاج انبیاء کے وارث ہیں جو آج بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے دین کو لوگوں سے بیان کرتے آ رہے ہیں لیکن مذہبی انتشار پھیلانے والے نام نہاد مُلائوں نے اس قوم کو صدیوں پیچھے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے سیاسی مفادات کے لیے ایک ہو جانے والے دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے حلال حرام کی تمیز کیئے بغیر مال کھانے والے کس طرح سیدھے راستے پر لوگوں کو لے کر جا سکتے ہیں۔

    مدرسوں کے اندر ریپ ہو رہے ہیں منہ پر سنت رسول رکھنے والوں سے آج شریف والدین کو خوف آنے لگتا ہے کوشش کریں اپنے بچوں کے محافظ خود بنیں اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات خود دیں یا ایسے علما کا انتخاب کریں جو اعلی کردار کے مالک ہوں جن کا ظاہر اور باطن صاف ہو جو صرف اسلام کی تبلیغ کرتے اور اس پر خود بھی عمل کرتے ہوں جن کے اعمال ان کی صداقت کی گواہی دیتے ہوں جن کے عمل ان کی پاکیزگی کی ضمانت ہوں خود کو اس قابل بنائیں کہ آپ خود نمازیں پڑھا سکیں نکاح اور جنازے پڑھا لیں ضروری نہیں آپ کسی کے محتاج ہوں علماء حق کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔

    لیکن معاشرے میں اس ظلم کے خلاف جہاد جاری رکھیں جس سے بچوں کو درباروں مدارس کے اندر بیوقوف بنا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جنت حاصل کرنا مشکل نہیں ہے جتنا ان مفاد پرستوں نے اس دور میں مشکل بنا دیا ہے اللہ پاک ہم سب کا ہمارے بچوں کا حامی و ناصر ہو آمین

    @RajaArshad56

  • تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    علم کی اہمیّت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے آج کے اس عہد میں تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنا کے زندگی کے لیے سانس کی آمدورفت۔ ایک بچہ کے لئے ماں کی گود سب سے پہلا مدرسہ ہوتا ہے ایک نومولود جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل معصوم اور فرشتے کی طرح گناہوں سے پاک ہوتا ہے تمام دنیاوی امور اور مسائل سے آزاد ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنی طفلانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے ہر شے لا شعوری طور پر اس کے سامنے آئی ہے بچہ جب اپنی ماں کی گود سے اترتا ہے تو وہ اپنے گھر کی زمین پر قدم رکھتا ہے گویا اسے یہی احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے اطراف کا ماحول کیا ہے کہ اپنے اطراف کے ماحول سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے اور ان چیزوں کو قبول کرتا ہے جو اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہیں۔

    سماجی نقطہ نظر سے ایک بچے کا سماج اس کا گھر ہوتا ہے اور بچہ اپنے اس ماحول کے تمام طور طریقوں سے مطابقت کرنا سیکھتا ہے یا والدین اسے سکھاتے ہیں اس میں مرکزی کردار ماں کا ہوتا ہے اس لئے کہ باپ تو تلاش معاش میں گھر سے باہر ہوتا ہے اگر ماں تعلیم یافتہ ہے تو سب سے پہلے بچے کو لکھنا پڑھنا سیکھاتی ہے لیکن ماں اگر ان پڑھ ہے تو وہ اس کی چنداں فکر نہیں کرتی لہذا بچہ اس سے آزاد اور کھیل کود میں مگن رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اس میں وہ دلچسپی یار محبت مفقود ہوتی ہے جو تعلیم یافتہ ماحول سے آنے والے بچوں میں ہوتی ہے ۔

    ماں کی گود کے بعد اور اسکول میں داخلے سے پہلے ایک بچے کا جو مکتب ثانی ہوتا ہے وہ اس کا گھر اور آس پاس کا ماحول ہوتا ہے
    گھر کے باہر کا ماحول بھی بچے کو اتنا ہی متاثر کرتا ہے جتنا کے اندر کا عموما بچے گھر کے باہر نازیبا کلمات اور گالی گلوچ سیکھتے ہیں اور اس کا ردعمل کم یا زیادہ گرمیں بھی نظر آتا ہے بہن بھائی کی لڑائی میں ان کی زبان سے کلمات نہ چاہتے ہوئے بھی ادا ہوتے ہیں یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیرونی ماحول سے اپنے ہم عمر بچوں سے سننے والی باتیں وہ جلدی قبول کرتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں بچے زیادہ نفساتی اور حساس ہوتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب توتو میں میں عام بات ہوتی ہے اور دو افراد کے بیچ ردعمل کو جب دیکھتے ہیں تو اس کا اثر قبول کر لیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اکثر بچے اپنے گھر کے باہر لڑائی جھگڑے میں پیش پیش رہتے ہیں اگر مشترکہ خاندانوں میں بچوں کے سامنے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائے تو بچے اسی رو میں بہنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں آگے چل کر خاندان کے دوسرے افراد متاثر ہو سکتے ہیں تجربات اور مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بچوں کا ذہن و دماغ ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچپن میں جو باتیں یا عادتیں انہیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ان کے دماغ میں ثبت ہو جاتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ بھی ہو جاتی ہیں

    ہمیں اپنے معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے اس قول کو اہمیت دے کر ایک بچے کو آنے والے کل کا ایک بہترین انسان بنانا ہوگا تاکہ وہ ایک اچھا اور سمجھدار انسان بن سکے جس طرح ایک سمجھدار انسان ایک چھوٹے سے بچے سے بہت ساری باتیں سیکھتا ہے بعینہ ایک بچہ بھی اپنے بڑے بزرگوں سے بہت ساری نہیں بلکہ تمام باتیں سیکھتا اور قبول کرتا ہے
    بچے فطرتا نقال ہوتے ہیں اس لئے گھر کے افراد کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو بھی حرکات و سکنات ان سے سرزد ہوں گی بچہ اسے فورا قبول کرلے گا اس لئے بچوں کے سامنے لغویات اور فضولیات سے پرہیز کرنا والدین اور دیگر بڑوں کی اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم ان بچوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ان ایک صالح صاف ستھرے ماحول کی تشکیل کے لیے فضا سازگار کرتے ہیں

    بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں اس لئے یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ ان کی پرورش کیلئے گھر کا ماحول خوشگوار اور صحت مند رکھیں کیوں کہ ایک بچہ اپنے گھر میں والدین کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کے ساتھ بھی وقت گزرتا ہے ایک نیک اور سوال بچہ جب گھر کے باہر قدم رکھتا ہے تو سماج میں مختلف لوگوں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے متعلقہ افراد بچے کی عادات و اطوار اور کردار و گفتار سے اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس بچے کے گھر کا ماحول کس طرح کا ہے

    ماحول دینی ہو تو اس کا اثر بچے کے ذہن کو متاثر ضرور کرتا ہے ورنہ عموما نئی نسل اپنے مذہب اور دین سے کوسوں دور نظر آتی ہے اس کمی کے لئے بھی والے اور گھر کے افراد کی ذمہ دار ٹھہراۓ جائیں گے بچے قدرتی طور پر معصوم ہوتے ہیں اور ان کی اس معصومیت میں آنے والے کل کا مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے بالخصوص ایک ماں کی گود میں بچے کی تقدیر بدلتی ہے جو کہ اس مصرعے کی عماز ہے
    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم

    Written by” Malik Muneeb Mehmood”
    ملک منیب محمود