Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اصلاح انتہائی ضروری.تحریر محمد وقاص شریف

    اصلاح انتہائی ضروری.تحریر محمد وقاص شریف

    معاشرہ کسی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، جس کی قوت اور درستی پر قوم کے وجود استحکام اور بقاء کا انحصار ہے معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے. معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قومی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگڑا ہوا ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔
    معاشرے کا کردار بننے یا بگڑنے کا عمل فی الفور مکمل نہیں ہو جاتا، بلکہ اس میں طویل مدت صرف ہوتی ہے۔ بگاڑ کی راہ پر چلنے والے معاشرہ میں اچھی اقدار ایک ایک کرکے منہدم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ نیک و بد کے بارے میں شدید احساس رکھنے والے لوگ تو اس خرابی کو جلد بھانپ جاتے ہیں، لیکن عام لوگوں پر یہ مدتوں کے بعد کھلتی ہے۔ اسی طرح معاشرہ کی اصلاح کا کام بھی ہے۔ جس طرح ایک بنیاد اٹھا کر اس پر ایک ایک اینٹ جوڑنے سے دیوار مکمل ہوتی ہے۔ اسی طرح اصلاح کا کام بھی ایک تعمیر کی منصوبہ بندی چاہتا ہے۔ جب یہ کام منصوبہ بندی کے بغیر کیا جائے تو اس کی کامیابی محل نظر ہوتی ہے۔

    قرآن مجید نے قوموں کے عروج و زوال کی جو تاریخ بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قومیں جب بھی خدا اور آخرت کے تصور سے بے نیاز ہوتی ہیں یا ان کا یہ تصور ناقص ہوا ہے اور ان میں اخلاقی مفاسد سرایت کر گئے ہیں تو اگر قوم میں اصلاح احوال کا جذبہ پیدا نہیں ہوا تو وہ ہمیشہ برباد ہو گئی ہے۔ اس کی تباہی میں اس سوال کو کبھی کوئی اہمیت نہیں رہی کہ اس کے فساد کی نوعیت کیا ہے، بلکہ ہر برا عمل، خواہ اس کی نوعیت اس تکبر کی رہی ہو جو عاد اور ثمود میں تھا، اس اخلاقی گراوٹ کی رہی ہو جو قوم لوط میں پائی جاتی تھی یا اس تاجرانہ بدمعاملگی اور بد دیانتی کی ہو جس کا مظاہرہ قوم شعیب نے کیا، جب بھی وہ معاشرہ کا اجتماعی کردار بن گیا تو اس کی موت کا پیغام لے آیا۔ قرآن مجید کے اس فلسفہ کی رو سے ایک قوم کے برمندہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرہ کے اندر خدا کا خوف اور اس کے ساتھ صحیح بنیادوں پر تعلق پایا جائے۔ دلوں میں آخرت کے محاسبہ کا اندیشہ موجود ہو اور کسی بھی قسم کے فساد اعمال کو معاشرہ پر مسلط ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ یہ مقصد ظاہر ہے کہ صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب قوم کے اندر اصلاح معاشرہ کے لیے ایک مسلسل جدوجہد کی جاتی رہے۔ اور کسی بھی فساد کے معاملے میں چشم پوشی سے کام لے کر اسے قوم کے اجتماعی وجود میں راہ پانے کا موقع نہ دیا جائے.

  • والدین  کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    والدین کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    میں نے جب جب بھی والدین کی عظمت، خدمت اور اُن کے احساس کے حوالے سے لکھا، مجھے اولاد کی طرف سے ڈھیروں ڈھیر شکوے، شکایتیں، دل شکن زیادتیوں کی رودادیں سُننے کو ملتی ہیں۔ میں بھی ظاہر ہے کہ آپ سب کا ہی ایک حصّہ ہوں، اسی معاشرے کا فرد ہوں، جس میں آپ زندگی گزار رہے ہیں، سو میں بھی اس طرح کے کئی سارے معاملات دیکھتا ہوں۔ اس حقیقت سے مُجھے کوئی انکار نہیں کہ برِّصغیری معاشرہ بالعموم بچّوں اور بالخصوص بیٹوں اور بہوءوں کیلئے ایک شدّید قسم کا استحصالی معاشرہ ہے۔ بیٹوں میں سے جو حسّاس ہو، احساسِ ذمہ داری کا مالک ہو، محنتی ہو اور تھوڑا سا اپنی شدّید محنت کے باعث باوسائل ہو، وہ ساری زندگی ایک نادیدہ چکّی میں پستا رہتا ہے اور اُسے اس چکّی کے پاٹوں میں پیسنے والے اُس کے والدین ہوتے ہیں، الّا ماشاءاللّٰہ۔ اور بہوءوں اور بیٹیوں کے ساتھ معاملات میں واضح منافقت اور دوہرا معیار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب سوال۔یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب والدین زیادتی کر رہے ہوں تو اولاد کیا کرے؟؟ یہ سوال بہت بار مُجھ سے پوچھا گیا اور میں خود بھی بہت عرصے سے اس پہ لکھنا چاہ رہا تھا

    قرآنِ حکیم میں جا بجا ربِّ کائنات نے شرک کی ممانعت کے فی الفور بعد والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حُکم دیا ہے، احسان یعنی نیکی، بھلائی، خیر خواہی۔ یعنی رب کو رب تسلیم۔کرنے کے بعد سب سے اہم کام والدین کے ساتھ بھلائی ہے۔ آج اگر والدین کے حقوق کا احساس دلانے کیلئے اولاد کو والدین کی قربانیاں گنوائی جائیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی خواہش سے یہ سب کیا، ہم پہ احسان نہیں کیا!!! جب کہ قرآنِ مجید نے ربِّ کائنات نے خود ماں کے احسانات گنوائے ہیں "اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حُکم دیا ہے، اُس کی ماں نے اُس کو بڑی مشقّت سے جنا اور اُس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑوانا تیس ماہ میں پورا ہوتا ہے”۔ اگر صرف اس ضمن میں قرآنی آیات ہی لکھنا شروع کر دوں تو ایک طویل تحریر مرتّب ہو جائے، احادیث اُس کے علاوہ ہیں اور والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کی بےےے تحاشہ تاکید قرآن اور حدیث شریف میں ملتی ہے۔ اب پھر وہی سوال کہ والدین زیادتی کریں تو کیا کیا جائے۔۔

    پہلے بیٹوں سے بات کروں گا۔ دیکھیں حضراتِ محترم۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ کے والدین بھی آپ۔کی طرح انسان ہیں۔ اُن سے فرشتوں والے معاملات کی توقّع رکھنا عبث ہے۔ آپ یہ سمجھیں کہ وہ ہر لمحہ، ہر وقت انصاف کا ترازو لے کے پھرتے رہیں گے کہ مُجھ سے زیادتی نہ سرزد ہو جائے تو یہ سعادت بہت کم والدین کے حصّے کے آتی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں خود اپنا احتساب کر کے، اولاد کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں۔ والدین کی اکثرہّت ایسا نہیں سوچتی۔ اگر تو آپ باوسائل ہیں اور اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی چلانے کے ساتھ باقی بھائیوں سے زیادہ آپ پہ ذمہ داری کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور آپ وہ بآسانی اُٹھانے کے قابل۔ہوں، معاشی طور پر، پھر کہوں گا کہ اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی ادا کرنے کے بعد، تو میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں آپ اگر اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کریں گے تو آپ پہ اللّٰہ کی رحمت ضرور نازل ہو گی۔ لیکن اگر معاملات ایسے ہوں کہ جہاں۔آپ کو اپنے بیوی بچّوں کے لالے پڑے ہوں اور والدین غیر اخلاقی بوجھ ڈالیں تب آپ پہ سب سے پہلے اپنے بیوی بچّوں کے معاملات ادا کرنا فرض ہے۔ فرض کریں کہ آپ والدین کی کسی حقیقی زیادتی کے باعث اُن سے اپنے معاملات الگ کر چُکے ہیں، گھر کے اندر ہی یا گھر سے باہر کسی اور جگہ، تو کیا آپ کو والدین کو مُردہ تصوّر کر لینا چاہیئے؟؟ آپ سال سال بھر اُن سے ملیں نہ، بیوی بچّوں کو اُن سے نہ ملوائیں، اُن کی کسی ضرورت پہ نظر نہ رکھیں، کیا یہ ردِّ عمل ہونا چاہیئے؟؟ ہر گز نہیں!! آپ اُن سے الگ ہو کے دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، آپ کی بنیاد، دنیا اور آخرت کی بھلائی صرف ان دو انسانوں۔کے ساتھ منسلک ہے، جو آپ کے والدین ہیں۔ یاد رکھیں کہ اگر والدین زندگی کے کسی موڑ پہ اولاد کے ساتھ زیادتی کرتے بھی ہیں تو وہ اپنی زیادتیوں، ظلم اور ناانصافیوں کیلئے ربِّ کائنات کی بارگاہ میں از خود ذمہ دار اور جوابدہ ہیں، اُن کی زیادتی آپ کی زیادتی کیلئے کبھی جواز نہیں بن سکتی. آپ اپنے حقوق کا تحفّظ کر چُکنے کے بعد اُن کے ساتھ ہر طرح سے حُسنِ سلوک کرنے کے پابند ہیں۔ وہ ناراض ہیں تو اُنہیں منائیں، بےشک آپ اُس معاملے میں واقعتاً مظلوم ہوں، تب بھی، جہاں تک ممکن ہو اُن کی ضروریات کا ازخود خیال رکھیں اور دو گھروں میں رہ کے بھی، احساس زندہ ہو تو والدین کی خدمت کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ قرآنِ حکیم۔میں مُشرک والدین کی شرک میں اطاعت سے منع فرمانے کے بعد ربِّ کائنا ت نے دُنیاوی معاملات میں اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیا ہے۔ مُراد یہ کہ اُن۔کے وہ احکامات جن سے دین۔کے کسی بھی حُکم کی روح مجروح ہوتی ہو، وہاں اطاعت ساقط ہو جاتی ہے لیکن خدمت اس کے باوجود بھی فرض ہی رہتی ہے۔

    اب آتا ہوں بہوءوں کی طرف۔۔! آپ کو دورِ جدید کی علم۔کی فراوانی نے یہ تو بتا دیا ہے کہ ساس سُسر کی خدمت کرنا آپ پہ شرعاً فرض نہیں لیکن کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ اسلامی قانون اور فقہ کے مطابق اخلاقی فرض شرعی فرض پہ مقدّم ہوتا ہے۔ اس کی مثال علماء کُچھ یوں دیتے ہیں کہ سوءر ایک نجس العین جانور ہے، اس کو چھونا بھی ناپاکی کا باعث بنتا ہے۔ شرعاً اس کو چھونے کی سختی سے ممانعت ہے، لیکن فرض کریں کہ آپ کہیں جا رہے ہوں اور آپ کے رستے میں ایک سوءر زخمی حالت میں موجود ہے تو اُس کی زندگی بچانے کی تگ و دو کرنا آپ کا اخلاقی فرض بن جاتا ہے، یہاں اُسے چھونے کی شرعی ممانعت ساقط ہو جائے گی اور آپ کا اخلاقی فریضہ مقدّم ہو جائے گا اور آپ اُسے اُٹھا کے طبّی امداد دینے کیلئے لے کے جائیں گے۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ جن والدین کی مشقّتّوں اور رہاضتوں کا ثمر، اُن کا بیٹا آپ کی زندگی میں ہر لمحہ آسانیاں پیدا کر رہا ہے، اُن کی خدمت سے بڑا بھی کوئی اخلاقی فریضہ ہو گا؟؟ چھوٹی موٹی زیادتیوں سے ویسے ہی صرفِ نظر کر دیا کریں، جیسے شادی سے پہلے اپنی امّی کی ڈانٹ ڈپٹ اور ابّو جی کی کسی وقت کی سختی برداشت کیا کرتی تھیں۔ اگر زیادتی حد سے سوا ہو جائے تو اپنا تحفُظ ضرور کریں، اُن سے ایک فاصلہ پیدا کر لیں۔ الگ گرہستی رکھنا آپ کا حق اور آپ کے شوہر کا فرض ہے، لیکن اپنا الگ سے گھر بسانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین سے قطع تعلّق کر لیا جائے، اُن کے ساتھ دل۔میں احساس، اور مروّت کا رشتہ کم از کم قائم رکھیں۔ وہ اپنی زیادتیوں کیلئے رب کی بارگاہ میں خود جوابدہ ہیں، اُن کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں آپ سے بہر صورت سوال کیا جائے گا۔ وما علینا الّا لبلٰغ۔۔

  • راستہ اور منزل .تحریر: بختاور گیلانی

    راستہ اور منزل .تحریر: بختاور گیلانی

    انسان کو جب اس دنیا میں بھیجا گیا تو ایک مقصد کے ساتھ بھیجا گیا اور جب سے انسان اس دنیا میں آیا تو وہ اس مقصد کے حصول کے لیے محنت کرنے لگا ا اور جب اس نے اس مقصد کو سمجھنا شروع کیا اس کی جستجو کرنا شروع کی تو اس نے اس مقصد کے ساتھ ہی اپنی منزل کی راہوں کو سمجھنا شروع کر دیا ان سے مقصد کے حصول کے لیے محنت لگن اور جستجو رکھنے لگا تو وہ ایک راہ پر نکل پڑا تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
    اور کچھ ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے جب اپنی منزل کی جستجو رکھنا شروع کی مگر وہ صرف اس ڈر سے راستے پر نہ نکل  سکے کہ کہیں وہ اپنے راستے سے بھٹک نہ جائیں تو بس اس خوف نے ان کو ان کے راستے سے دور رکھا اور ان کو انکی منزل تک پہنچنے نہ دیا ۔

    جو یقین کی راہ پر چل پڑے
    انہیں منزلوں نے پناہ دی
    جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا
    وہ قدم قدم پر بہک گئے

    جب انسان منزل پر پہنچنے کے لیے سفر پر نکلتا ہے تو یقیناً وہ یقین مستحکم کے ساتھ سفر پر نکلتا ہے
    کون کہتا ہے کہ خواب حقیقت نہیں بنتے تو یاد ہوگا علامہ اقبال کا خواب  جو کہ حقیقت میں تبدیل ہوا اس کے لیے محنت لگن اور  جستجوشامل تھی۔
    جس طرح علامہ اقبال کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے لئے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی انتھک محنت کی ہے تو پھر انہوں نے اپنی منزل حاصل کرلی قائد اعظم محمد علی جناح نے اور مستحکم کے ساتھ راستے پر سفر کیا اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور آخر کار اپنی منزل کا حصول ممکن بنایا۔

    منزل تک پہنچنے کے لیے یقین مستحکم اور جستجو کا ہونا لازم ہے ۔ ب انسان ارادہ کر لے تو کوئی طوفان اس کے ارادے کو ہرا نہیں سکتا ہے ۔پس جستجو کا ہونا لازم ہے

    لیکن یہ بات سمجھ لیں کہ تعبیروں کے سفر میں کٹھن رستوں کا آنا طے ہے۔ پریشانیوں کا ہمیں گھیر لینا بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ یاد رہے! خوابوں کے جزیروں میں بسنے والے مشکلات سے فرار حاصل کرنے کی بجائے ان کا سامنا کرتے ہیں اور وہ کبھی اتنے پست حوصلہ نہیں ہوتے ہیں کہ کٹھن راستوں اور تنگ گھاٹیوں کو عبور نہ کر پائیں۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے والوں کو منزل پر پہنچنے سے پہلے ناچار ہو کر بیٹھنا نہیں آتا۔

    منزل کی جستجو میں
    کیوں پھر رہا ہے راہی!
    اتنا عظیم ہوجا کہ منزل تجھے پکارے .

  • قومی اسمبلی میں گالی گلوچ اور ہنگامہ. تحریر:اے کے انور خان

    قومی اسمبلی میں گالی گلوچ اور ہنگامہ. تحریر:اے کے انور خان

    ( AK Anwar Khan )
    گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جو ہنگامہ دیکھنے کو مِلا ،اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو بہانے لگا ۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہ ممبرانِ اسمبلی ہیں جن کو پاکستانی عوام نے ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا ہے تاکہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی کر سکیں اور یہ وہ ممبرانِ اسمبلی ہیں جن کے ایک دن کے ایک دن کے اجلاس کا خرچہ پانچ کروڑ روپے ہے اور جن کے تنخواہوں اور مراعات کے نتیجہ میں اس غریب قوم کے ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ ہو تے ہیں ۔ افسوس صد افسوس ۔۔!! اس طرح تو ہمارے گلی کے کتّے بھی نہیں لڑتے یا بھونکتے جس طرح یہ معزز ممبران اسمبلی ایک دوسرے کو گالی دے رہے تھے، برا بھلا کہہ رہے تھے اور ایک دوسرے پر کتابیں اور کاپیاں پھینک رہے تھے ۔ وطنِ عزیز میں اگر اسی طرح کے ممبرانِ اسمبلی ہیں تو عوام ان کی خاک عزّت کریں گے ؟ آخر عوام کو اس کا فائدہ کیا ہے ِ ان کی کارکردگی کیا ہے ؟ عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔ممبرانِ اسمبلی اقتدار اور اختیار کے نشے میں مست و مدہوش ہو کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قومی اسمبلی کا ایوان ایک ایسا کلب ہو جہاں آسودہ حال افراد تھوڑی دیر کے لئے تفریحِ طبع کے لئے آتے ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ دھینگا مشتی کر کے پھر عیاشی کے لئے حکومت کے مہیا کردہ رہائشی فلیٹس میں چلے جاتے ہیں ۔ ان کو ملک کے کمزور ترین معیشت کی فکر، نہ اغیار کے سازشوں کا غم ، معیشت سے لے کر امورِ خارجہ تک کسی بھی مسئلہ پر انہوں نے اج تک سنجیدگی سے بحث تک نہیں کی ۔ پارلیمان موجود ہے مگر قانون سازی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہو رہی ہے ۔
    ان ممبرانِ اسمبلی پر غریب قوم کے اٹھنے والے اخراجات دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔بنیادی تنخواہ کے علاوہ اعزازیہ، آفس مینٹیننس الاؤنس ‘ ٹیلی فون الاؤنس‘ ایڈہاک ریلیف، سفری واوچرز، ڈیلی الاؤنس، ہاؤسنگ الاؤنس الغرض الاؤنسز اور مراعات کی برسات ہے جو ان ممبران اسمبلی پر برس رہی ہے ۔ اس کے علاوہ جو شخص ایک دفعہ قومی اسمبلی کا ممبر بن جائے ،وہ تا حیات نہ صرف گریڈ بائیس آفیسر
    کے برابر میڈیکل الاؤنس کے حقدار ہوتے ہیں بلکہ تمام موجودہ و سابقہ ارکانِ اسمبلی بلیو پاسپورٹ رکھنے کے بھی حقدار ہیں۔

    قوم کے فلاح و بہبود کے لئے قانون سای کے وقت ان کے اختلافات عروج پر ہوتے ہیں مگر اپنے فائدے کے لئے قانون سازی کے وقت یہ تمام اختلافات بھلا کر یک جان ہو جاتے ہیں ۔ باہر ممالک کے سر براہان یا نمائندے جب پاکستان آکر ہمارے حکمرانوں اور پارلیمان پر اٹھنے والے اخراجات دیکھتے ہیں تو وہ انگشت بدانداں رہ جاتے ہیں کہ ایک غریب ملک کے حکمران کس طرح اتنے بھاری اخراجات کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک ہمارے اخراجات دیکھ کر ہم پر ہر گز رحم نہیں کھاتے کیونکہ ہمارے حکمرانوں پر اٹھنے والے اخراجات کسی غریب قوم کے نہیں ہو سکتے ۔

    پارلیمان کی بالا دستی اور ارکانِ اسمبلی کا احترام سر آنکھوں پر ‘ مگر ان کی کارکردگی اور آپس میں دست و گریباں ہونا عوام کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ اگر انہوں نے یہی روّش جاری رکھی تو لا محالہ عوام کی نظریں پھر فوج کی طرف اٹھیں گی۔ جو ملک کے لئے اچھا شگون نہیں ۔

    باایں وجہ تمام ارکانِ اسمبلی سے میری گزارش ہے کہ خدا را ! ہوش کے ناخن لیں اور ایوان کو تماشہ گاہ نہ بنائیں،د نیا کے دیگر ممالک کو جگ ہنسائی کا مو قعہ فراہم نہ کریں ۔ عوام نے جس مقصدکے لئے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے اس مقصد کوسامنے رکھ کر اجلاس میں جائیں اور اپنے فرائض ِمنصبی کو پورا کرنے کے لئے پورے ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی کو شش کریں ۔ عوام کا خون تو چوس ہی رہے ہو مگر اس خون کے بدلے تھوڑی سی قیمت بھی تو ادا کرنے کی زحمت گوارا کر لیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔

  • افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کے انھیں بہت تشویش ہے امریکی اور نیٹو کی فوج کا افغانستان سے انخلا غلطی ہے اور اسکا نتیجہ ناقابل یقین حد تک برا ہوگا افغانستان کے لوگ وہاں کے بے رحم لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دئیے گۓ ہیں جو انھیں بے رحمی سے ذبح کرینگے انہوں نے کہا یہ سوچ کر انکا دل ٹوٹنا ہے جارج بش کا یہ بیان امرکی صدر جو بایڈن کے امریکی فوجوں نے افغانستان سے انخلا کے بیان
    کے ایک ہفتے کے بعد آیا جس میں انہوں نے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور اسے واضح طور پر ایک غلطی قرار دیا_
    امرکی سابق صدر بش اس فیصلے کے بالکل حق میں نہیں اور سمجھتے ہیں کے اس فیصلے سے افغانستان کی خواتین کے حقوق کا استحصال ہوگا اور ان سے دوسرے درجے کے شہری کی حثیت جیسا سلوک ہوگا

    اس سے قبل مئی میں سابق صدر بش نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا وو نہیں سمجھتے یہ درست فیصلہ ہےافغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے خطے میں خلا پیدا ہوگا جو کے بھرا نہ جاسکے گا یہ سب کرنا ضروری نہیں تھا امریکی چلے جائیں گے تو وہاں کے لوگ خواتین کو دوسرے درجے کے شہری سمجھیں گے اور ان سے ناروا سلوک کرینگے جو قربانیاں ہماری فوج اور انٹیلیجنس نے دی ہیں وہ سب بھلا دی جائیں گیں
    انہوں نے کہا یہ سب غیر ضروری تھا اب دعا یہ ہے کے یہ فیصلہ درست ثابت ہو

    صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے فوجی انخلا کی متوقع تاریخ جو کے ستمبر کی ہے اس سے قبل اکتیس اگست تک تمام امریکی فوجی واپس آچکے ہونگے

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکٹری جین میکاسی کا ہفتہ پہلے یہ بیان آیا کے یہ نہیں کہا جاسکتا کے ‘مشن اکامپلش ‘ کالمحہ آگیا ہو بیس سالہ کی اس جبگ کو عسکری لحاظ سے جیتا نہیں گیا جب جو بائیڈن سے پوچھا گیا کیا مشن اکامپلش ہوا انہوں نے کہا نہیں لیکن اتنا ہدف حاصل ہواکے انہوں نے القاعدہ کے مستقبل کے حملوں کو روک دیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے کسی حد تک کا مشن اکامپلش کیا

    جو بائیڈن نے کہا یہ افغانستان کے لوگوں کا حق ہے وہ جیسے چاہیں ویسے اپنا ملک چلائیں انکی حکومت کی ذمہ داری ہے کے خودمختاری کی حفاظت کریں انہوں نے کہا ہم افغان فوج کو فضائی ، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر خاص طور پر خواتین کے حقوق کیلئے مدد جاری رکھیں گے لیکن پھر انہوں نے اس حوالے سے کے وہ یہ سب کیسے کریں گے جب وہ وہاں ایک بھی امریکی فوجی چھوڑنا نہیں چاہتے تواس پر انہوں نے سوال پوچھاآخر ہم امریکہ کے اور کتنے بیٹے اور بیٹیوں کو خطرے میں ڈالیں گے ؟
    ان سے سوال پوچھا گیا کیا اب طالبان قبضہ نہیں کرینگے ؟ تو جو بائیڈن نے دو ٹوک کہا نہیں کیوں کے اب افغانستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وہاں محض پچھتر ہزار طالبان کیخلاف تین لاکھ تربیت یافتہ مسلح افغان فوج ہے .
    انہوں نے اپنی دلیل دیتے ہوۓ کہا آخر کب تک آپ اپنی فوج کو وہاں رکھیں گے لیکن اب میں امریکہ کی ایک اور نسل وہاں جنگ میں نہیں جھونکوں گا

    یاد رہے افغانستان کی جنگ امریکہ کی سب سے لمبی جنگ رہی جسمیں چوبیس سو ہلاکتیں اور اکیس ہزار زخمی ہوۓ
    اس بیس سالہ قیام میں امریکہ نے افغانستان کی تین لاکھ فوج کو طالبان سے مقابلے کی تربیت دی لیکن اس ساری تربیت کے باوجود طالبان اب تک پچاس ڈسٹرکٹ پر قبضہ کر چکے ہیں

    یہی وہ نکتہ تھا جو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں واضح کیا تھا کے کسی کیلئے بھی افغانستان میں جنگ جیتنا ممکن نہیں

  • علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب . تحریر: اقصیٰ یونس

    علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب . تحریر: اقصیٰ یونس

    Mعلم کی بدولت قوموں نے عروج پایا۔ علم نے آدمیت کو انسانیت کے رنگ میں ڈھالاورنہ آدمی کھانے پینے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کو اپنا عروج سمجھتا تھا۔ زندگی گزارنے کا مقصد نفسانی خواہشات کی تکمیل کے سوا کچھ نہ تھا۔ انسان تہذیب وثقافت سے عاری تھا۔ نیکی اور بدی کی تمیز سے نابلد تھا۔ علم نے تہذیب سکھائی۔ اچھائی اور برائی کی تمیز سکھائی۔ علم کا مقصد سمجھ بوجھ اور فہم و فراست میں پاکی حاصل کرنا ہے۔

    کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت ناگزیر ہے۔ ہمیشہ وہی قومیں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئی جن کا تعلیمی نظام بہترین تھا ۔ تعلیم کیُ اہمیت سے انکا نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا تعلیمی نظام معیار کے لحاظ سے 94 نمبر پر ہے – اور تعلیمی بجٹ کے لحاظ سے 126 نمبر پہ ہے – اس بات سے پاکستان کے تعلیمی نظام کی خستہ حالی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے-

    پاکستان میں تعلیم کی نگرانی وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی حکومتوں کے زیر نگرانی کی جاتی ہے جبکہ وفاقی حکومت زیادہ تر نصاب کی ترقی ، منظوری اور تحقیق و ترقی کی مالی اعانت میں معاونت کرتی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیار کی تعلیم فراہم کرے۔ "ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو اس طریقے سے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی ”

    ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 226903 سکول ،41018384 طلبہ 1535461 اساتذہ ہیں ۔ ان میں 180846 سرکاری ادارے جبکہ 80057 نجی ادارے شامل ہیں ۔ یعنی ہر 26 طلبہ کیلئے ایک استاد موجود ہے جبکہ پرائمری سکول میں حالات اس سے بھی زیادہ خستہ حال ہیں اور وہاں 31 طلبہ کیلئے فقط ایک استاد موجود ہے۔

    پنجاب میں اس وقت سکولوں میں تقریباً نوے ہزار آسامیاں خالی ٹیچرز کی بھرتی کی منتظر ہیں اور پنجاب میں بچوں کی
    تعلیمی استحصال روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے موجودہ حکومت اور وزیر تعلیم کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔

    سرکاری اداروں کی زبو حالی اور تباہی کی ایک الگ داستان ہے، ایسے ادارے جہاں سہوتوں کے فقدان کی لمبی قطار ہے اور ڈیجیٹل پاکستان کا راگ الاپنے والے کسی ایک سرکاری سکول کا نام بتا دیں جہاں ڈیجیٹل طریقے اپناتے ہوئے بچوں میں علم کی شمع جلائی جاتی ہو۔ حال ہی میں ایک سرکاری سکول کے طالب علم سے بات کرنے کا موقع ملا اور یہ جان کر دل ہی بج گیا کہ وہاں کے اساتذہ بچوں کو انکے نام لینے کی بجائے گدھے ، الو, کالے ، موٹے جیسے القابات سے پکارتے ہیں ۔صرف یہی نہیں کچھ استاد ایسے بھی ہیں جو بچوں کو ان القابات کی بجائے گالیاں دے کر پکارتے ہیں ۔

    آج بھی اسلام آباد کے اچھے سکولوں میں جہاں 15 سالوں کی ملازمت کے بعد پرائمری ٹیچر بھی 1 لاکھ روپیہ تنخواہ وصول کرتے ہیں،مگر جن نو نہالوں کو پرائمری کی سطح پر تخلیقی تعلیم دینی چاہئے،کتابوں اور بستوں سے 5 سے10 سال کے بچے جھکے کندھوں کے ساتھ خوف اور دہشت کی علامت بن کر سکول جاتے ہیں۔صبح ماں اور باپ کی ڈانٹ ڈپٹ ،سکول داخل ہوتے ہی سکول ٹیچر کی اونچی اور خوفناک آواز ان کے حوصلے اور سیکھنے کے عظم کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔کم از کم پرائمری کے دوران بچوں کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے،مگر گھر اور درسگاہوں میں کہاں تربیت ہوتی ہے،وہاں آج بھی A-Apple اور B-Bat کے علاوہ کچھ نہیں رٹایا جاتا۔

    علامہ اقبال مغربی نظامِ تعلیم سے بہت نالاں تھے کیونکہ مغربی نظام تعلیم مادیت پرستی، عقل پرستی اور بے دینی و الحاد کا سبق دیتی ہے۔ اسی نظام تعلیم کی حقیقت کو علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اس انداز سے پیش کیاکہ:
    اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم
    ایک سازش

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    افغانستان جو آج کل اخبار کی زینت بنا ہوا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ایک علم کو اپنے ذرائع سے خبروں کی کھیپ پہنچتی رہتی ہے ۔ تو ایسے میں ہم بھی کان لگا کر ہمہ تن گوش ہوتے ہیں کہ دیکھیے کون سی خبر ہم تک کیسے پہنچتی ہے ۔افغانستان سے ہمارا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنے کہ ہم خود ۔ ایک تو افغانستان کی اکثریت آبادی مسلم ہے ، دوسرا ہماری ہمسائیگی میں واقع ہونے کی وجہ سے ہمیں اس کے معاملات پر نظر رکھنی پڑتی ہے، تیسرا عالمی طاقتوں کی گزرگاہ ماضی کی طرح آج بھی افغان زمین کو ہی سمجھا جاتا ہے اور چوتھا ہمارا ازلی دشمن بھارت امریکی آشیرباد سے افغانستان میں اپنے خونی پنجے مضبوط کیے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوے بھی ہمیں افغانستان کی بدلتی حالت پر نہ صرف نظر رکھنا پڑتی ہے بلکہ حالات کو اپنے لیے سازگار بنانے کی جدو جہد بھی کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان بحیثیت ریاست کبھی بھی افغانستان میں جنگ نہیں چاہتا کیونکہ ادھر جنگ کا مطلب ہے کہ اس کی تپش پاکستان تک پہنچنا ۔ ماضی قریب و بعید میں بھی پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ امریکا کو افغانستان سے نکالنے کا راستہ ملنا پاکستان کی ہی مرہون منت ہے ۔ بھارت نے جہاں افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہی پر اس نے افغانستان میں اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایسے استعمال کیا ہے کہ ایک طرف امریکیوں کی خبریں رکھی ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں دخل اندازی کرکے پاکستان کے حالات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کرچکاہے۔

    کئی ایک افغانی اس گھناونے کام میں بھارت کے نہ صرف مددگار رہے ہیں بلکہ بھارتی پے رول پر کام بھی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے امت واحدہ اور انسانیت کے نام پر لاکھوں بلکہ کروڑوں افغانیوں کو پناہ دی اور ان میں سے کچھ نے اپنا دین ، روایات اور اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال کر بھارتی پروپیگنڈے سمیت خودکش دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کا ساتھ دیا ہے ۔ آج کے اخبارات میں ایک خبر چھپی ہوئی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ افغان ایجنسی بھی بھارتی ایجنسی کے ساتھ ملکر اپنے بڑے بھائی کے چھرا گھونپ رہی ہے ۔ اخبار کے مطابق طالبان کو افغان چیک پوسٹوں سے 3 ارب روپے کے قریب پاکستانی کرنسی ملی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ چیک پوسٹیں پاکستانی سرحد پر افغان سیکیورٹی فورسز سے چھینی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ تصاویر موجود ہیں جن میں ایک شخص کو پاکستانی روپیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ بتائی گئی معلومات کے مطابق یہ رقم افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے کرنل کے کمپاونڈ سے ملی ہے۔ اس کمپاونڈ کے عقب میں ہی قندھار کا بھارتی قونصلیٹ تھا جو تازہ تازہ خالی ہوا تھا ۔ افغان سیکیورٹی فورسز یہ رقم سمگلروں سے بطور رشوت لیتی رہیں اور پھر یہ رقم پاکستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو دی جاتیں جو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی تھیں۔

    حالیہ خبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں ہوے دہشت گردانہ واقعات میں افغانی انٹیلی جنس کا کردار کس قدر اہم رہا ہے ۔ پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھنے والے امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اپنی زمین کا دفاع کرنے میں تو نا کام ہو چکے ہیں ۔ آئے روز طالبان کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ فلاں قصبے میں داخل ہوچکے ہیں اور اتنے افغان فوجیوں نے ہتھیار ڈال کر پناہ مانگی ہے ۔ ایسے میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے کہ افغان سرحد کے قریب چند لوگ پاکستانی سرزمین میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتے ۔ امید ہے کہ جہاں بھارت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور افغان حکومت کو اپنی حکومت بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہیں پر ان بے وقوفوں کو بھی سمجھ آجائے گی کہ وہ کن ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں۔ پاکستان آج بھی کوشش میں ہے کہ افغان عوام کا کم سے کم نقصان ہو کیوں کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں اور ہم آج بھی انھیں امن و سکون سے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کی کوشش ہے کہ وہ افغانی خفیہ ایجنسی کے ذریعے نہ صرف افغانستان میں جما رہے بلکہ پاکستان میں بدامنی پھیلاے ۔ بھارت یاد رکھے کہ پاکستانی عوام نہ صرف جاگ رہی ہے بلکہ افغانستان میں ہورہے واقعات پر گہری نظر رکھے معاملات کو سمجھ بھی رہی ہے ۔ ایسے میں اگر بھارت باز نہیں آتا تو اسے نکیل ڈالنے میں کوئی تردد نہ ہوگا ۔

  • آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کی صلاحیت دی ہے۔ اور جب انسان غور و فکر کرتا ہے تو مختلف قسم کے خیالات جنم لیتے ہیں اور اُن خیالات کا اظہار بھی ایک فطری امر ہے۔ اس لیے اظہارِ رائے کی آزادی شاید انسان کا بنیادی حق ہے۔

    یہ ضروری نہیں کہ انسان اپنے خیالات کا اظہار صرف زبان کے ذریعے کرے، بلکہ انسان کا لباس، اُسکا رہن سہن کا طریقہ، اُسکا عمومی رویہ، معاشرتی برتاؤ اور احساس زمہ داری سب اظہار کرنے کے طریقے ہیں۔

    ہر انسان فطری طور پر آزاد نظریات کا حامل ہوتا ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص آپ پر اپنے خیالات اور نظریات تھوپ نہیں سکتا، اسی طرح ہم بھی کسی پر اپنے نظریات نہیں تھوپ سکتے۔ آزادی ایک فطری عمل ہے اور انسان کا بنیادی حق بھی۔

    لیکن آزادی کیسی بھی ہو اِسکی کچھ حدود ضرور ہوتی ہیں، مذہبی حدود، قومی حدود، معاشرتی حدود اور اخلاقی حدود وغیرہ۔ یہ سب حدود کسی بھی مہذب معاشرے میں امن و امان، انصاف اور خوشگوار ماحول کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔

    معاشرے کا ہر فرد چاہتا ہے کہ کوئی اُسکی زندگی یا آزادی میں عمل دخل نہ دے، لیکن جب کوئی اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے تو دوسرے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی کو عمل دخل دینا پڑتا ہے، اس طرح معاشرے میں نہ صرف اختلافات جنم لیتے ہیں بلکہ اُن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت بھی آتی ہے۔

    آج ہمارا معاشرہ جس اخلاقی زوال کا شکار ہے اسکی وجہ سے ہم نے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔ اسے منافقت کہیں یا دوغلا پن لیکن ہم لوگ اپنے لیے تو ہر طرح کی آزادی چاہتے ہیں لیکن دوسروں کی آزادی ہمیں قبول نہیں، ہم دوسروں پر تو تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن خود پر تنقید قبول نہیں، ہمیں اپنا جھوٹ تو قبول ہے لیکن کوئی اِسکی تصحیح کرے، یہ قبول نہیں۔

    لباس انسان کی سوچ اور نظریات کی عقاسی کرتا ہے، اور ہر انسان اپنی پسند کے مطابق لباس کا انتخاب کرتا ہے۔ کوئی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے پر مجبور نہیں کر سکتا نہ ہی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے سے روک سکتا ہے۔ البتہ مذہب اور معاشرہ لباس کے انتخاب کے لیے کچھ حدود ضرور متعین کرتا ہے جو کہ انسانوں کی ہی فلاح کے لیے ہیں۔

    کُچھ عرصے سے لبرلز کے ایک گروپ کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ کو اُن کے پردے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن جب عمران خان نے ایک انٹرویو میں فحش اور نا مناسب لباس اور اسکے معاشرے پر ہونے والے اثرات کی بات کی تو ان لوگوں نے سب سے زیادہ شور بھی مچایا۔

    یہ منافقت ہی تو ہے کہ آپ خود تو مذہب یا معاشرے کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اپنی سوچ کے مطابق لباس کا انتخاب کرنے کو اپنا حق سمجھیں اور پہنیں، لیکن کوئی دوسرا اگر مذہب کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی لباس منتخب کرے تو آپ اُسکا مذاق اڑائیں اور تنقید کریں۔

    آزادی اظہار رائے یہ تو نہیں کہتی کہ آپ خود تو دوسروں کے پہناوے پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھیں لیکن اگر کوئی دوسرا آپ کے پہناوے پر بات کرے تو کہہ دیں کہ کسی کو آپ کے لباس کے متعلق بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔

    کچھ روز قبل ایک خاتون وکیل اور فیمینسٹ نے ایک خاتون جرنلسٹ پر دوغلے پن کا الزام لگایا، اس الزام کی وجہ یہ تھی کہ خاتون صحافی نے ہم ٹی وی کے ایک پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی تھی جس کی میزبانی ایک مشہور زمانہ سنگر کر رہے تھے۔

    اُس سنگر پر کُچھ عرصہ قبل ایک خاتون اداکارہ کی طرف سے ہراسمنٹ کا الزام لگایا گیا تھا، جو کہ بعد میں ثابت نہ کیا جا سکا۔

    لیکن حال ہی میں وہی فیمینسٹ بطور وکیل، ایک خاتون صحافی کے ایک یو ٹیوبر پر کیے گئے ہراسمنٹ کیس میں اُس یو ٹیوبر کی طرف سے کیس لڑ رہی ہیں۔ خاتون وکیل کے موکل نے ایک خاتون صحافی کو ہراس کرنے کے ساتھ گھٹیا قسم کے الزام بھی لگائے تھے۔

    یہ اخلاقی منافقت کی ایک اور مثال ہے۔ ایک طرف آپ کسی پر اس بات کی وجہ سے تنقید کریں کہ اس نے ایک ایسے شو میں شرکت کی جہاں ایک ملزم میزبانی کر رہا تھا، دوسری طرف آپ اُس شخص کی وکالت کریں جس پر خاتون کی ہراسمنٹ کرنے کا کیس چل رہا ہے، اور تیسری طرف آپ خواتین کی ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے کا ڈھونگ کریں۔
    (یاد رہے پہلے بھی اسلام آباد کی ایک عدالت نے جھوٹے الزامات لگانے کے ایک کیس میں اُس یو ٹیوبر کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔)

    لبرلز کا ایک گروپ، جو بات تو خواتین کے حقوق کی کرتا ہے لیکن حمایت صرف اُن کی کرتا ہے جن کے خیالات انکے نظریات کے مطابق ہوں، جن کے خیالات انکے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتے اُن پر صرف تنقید کی جاتی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بات کرنے کی آزادی صرف انکو ہے، کسی دوسرے کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اِنکے خیالات سے اختلاف کرے۔ ان کے کسی ساتھی سے اگر کوئی بدتمیزی یا اختلاف کرے تو یہ لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، لیکن اگر انکا ساتھی کسی کے ساتھ بدتمیزی بھی کرے تو وہ قصور وار نہیں سمجھا جاتا۔

    اس سب کے علاوہ آجکل ہماری صحافت کے حالات بھی کچھ نازک ہی ہیں۔ ایک طرف سکرین پر بیٹھ کر نہ صرف حکومت اور فوج پر بلکہ ریاست پر بھی تنقید کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف آزادی اظہارِ رائے پر پابندیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔

    صحافی حضرات ذرائع کے نام پر بغیر تصدیق کے خبریں شیئر کرتے ہیں، اور اگر کوئی ادارہ ذرائع کا پوچھ لے تو دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی خبر کی تردید کر دی جائے تو انکی صحافت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، اور یہ تصیح کرنے والوں پر ہراسمنٹ کا الزام لگا دیتے ہیں۔

    اگر کسی صحافی کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہو جائے تو الزام فوج یا اداروں پر لگا دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایکٹوسٹ شمالی علاقوں میں سیر کرنے گیا، کچھ صحافیوں نے رابطہ نہ ہونے پر الزام لگا دیا کہ اُسے ایجنسیوں نے اٹھا لیا ہے، لیکن اُس ایکٹوسٹ کی واپسی کے بعد حقیقت سامنے آنے پر کسی نے معذرت تک نہ کی۔
    حال ہی میں ایک یوٹیوبر کی کچھ لوگوں نے پٹائی کی لیکن موصوف نے بیان دیا کہ اسے آئی ایس آئی نے مارا ہے اور مزید کہا کہ مارنے والوں نے مار پیٹ کرنے سے پہلے اپنا تعلق خفیہ ایجنسی سے بتایا تھا۔
    اس واقعہ پر فوج پر خوب تنقید کی گئی، لیکن اس شخص کے قریبی دوست نے اپنی سٹوری میں کہا کہ یہ حملہ ایک دوسرے صحافی نے کروایا ہے۔
    اس طرح ہمارے ایک اور پیارے صحافی جن پر کچھ سال قبل حملہ ہوا تھا، ہمیشہ اُس حملے کا الزام فوج پر لگاتے آئے ہیں، حال ہی میں یہ عقدہ کھلا کہ اُن صحافی صاحب کو بہت پہلے ہی اصل مجرم کا بتا دیا گیا تھا جس کو وہ نہ صرف ہمیشہ چھپاتے رہے بلکہ الزام خفیہ اداروں پر لگاتے رہے۔ لیکن پھر بھی ہمارا شکوہ یہی ہے کہ ہمیں کام کرنے کی آزادی نہیں دی جا رہی۔

    حال ہی میں میڈیا پر ایک شور بھرپا ہوا کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دے رہا ہے۔ جس کی حکومت کی طرف سے تردید کی گئی۔ ایک انٹرویو میں جب عمران خان سے یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ اس تردید کے بعد جن لوگوں نے فوجی اڈے دینے کی بات پر واویلہ کیا تھا، وہ اب اس بات پر واویلہ کر رہے ہیں کہ جب امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے ہی نہیں تو حکومت انکار کس کو اور کیوں کر رہی ہے۔

    یہ بھی ایک منافقت ہے کہ ہم صحافی حکومت یا اداروں پر تنقید کرنا اور گالیاں دینا تو اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن اگر کوئی ہم پر تنقید کرے تو اس پر ٹرول کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جہاں اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کیا وہاں یہ بھی کہا کہ یہ کسی حدود کے بغیر نہیں ہونی چاہیے اور اس سے مخصوص برادریوں کی جب دل چاہے اور بلاوجہ دل آزاری نہیں ہونی چاہیے۔

    آزادی اظہار رائے کسی حدود کے بغیر نہیں ہوسکتی، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہمیں بولنے کا حق ہے تو دوسروں کو بھی بولنے کا حق ہے، اور ہم اظہارِ رائے کی ایسی آزادی کے متحمل نہیں ہو سکتے جس سے ہمارے وطن کی سالمیت اور معاشرتی اقدار متاثر ہوتی ہو۔

  • کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں الیکٹریسٹی ایک معمہ بن گئی ہے کراچی والوں کے لئے روز بدلتے ہوئے تجزیات کا تھوڑا سا احوال سننے کی ہمت کریں
    پہلے لائٹ گئی تو ایمرجنسی نکالوں کی سدا لگائی جاتی تھی پھر حالات بدلے ایمرجنسی کی جگہ یو پی ایس نے لے لیں لیکن بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے حالات اپڈیٹ ہونے کے بجائے مزید بدصورت ہوتے گئے اس کے بعد کراچی کے گھروں میں جگہ بنائی جنریٹرز نے جو اپنی سریلی آواز سے پورے محلوں کو راگ بھیروی سناتے سناتے بیچ بیچ میں پٹاخوں کی آواز نکال کر شادی اور شب رات کی بھی یاد دلوایا کرتے تھے زندگی چلتی رہی بجلی گھٹتی رہی اور پھر دور آیا ہو پی ایس سے انویسٹرز کا ڈرائی بیٹریوں نے گھر کو رونقیں بخشی اور گھر میں نئی وائرنگ کے زریعے پنکھے اور ایل ای ڈی بلب الگ سے لگوائے گئے جو لائٹ آنے پر جی بلکل درست سنا لائٹ آنے پر بند کئے جاتے ہیں مگر بجلی تقسیم کرنے والے اب بھی پرانے انجنوں کو رپئیر کرکے کراچی کا جوس نکال رہے ہیں اور کراچی ہے کے اس کا جوس ختم ہی نہیں ہوتا تاکہ جوس نکالنے والوں سے اس کی جان چھوٹ جائے اب ہے 2020 فاسٹ ہوتی اس ڈیجیٹل دنیا میں جدت اور تیزی اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب آیا ہے دور سولر انرجی کا جو بلکل فری تو ہے مگر اس کو بنانے کے آلات بہت مہنگے ہونے کی وجہ سے ہر ایک کی دسترس میں نہیں

    کراچی کی آبادکاری اور مردم شماری کو دیکھا جائے تو اس میں مرغی اور گائے کے برابر فرق ہے یہ اس لئے لکھا ہے کہ قربانی کا مہینہ ہے آپ تمام مسلمانوں کو عید الضحیٰ اور حج کی پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں اچھا تو کراچی پر پھر سے آجائیں بہت بڑا ظلم ہے کہ کراچی کی ابادی کو 1.5 کروڑ دکھایا گیا جو کسی بھی طرح 3.0کروڑ سے کم نہیں مگر چلیں کراچی کا ایک عام سا شہری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈا گیا مگر اس شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو اپنے جنریشن گیپ اور سازوں سامان میں اپگریڈ کرنے کی عقل کیوں نہیں آئی کراچی کی بیشتر سوسائٹی اور فلیٹس کراچی شہر کے بجلی تقسیم کار ادارے کے عین سسٹم میں ہونے کے باوجود سیلف پیمنٹ پر اپنی پی ایم ٹی پرچیز کرکے لگانے پر مجبور ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کراچی میں آباد علاقوں کا سسٹم ڈالنا بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کے معاہدے میں لکھا گیا ہے مگر پھر بھی اپنی بجلی اس ادارے سے خریدنے پر مجبور ہیں کراچی کے لوگ مرتے ہیں بل بھرتے ہیں مگر پتہ نہیں کونسی آسمانی بجلی گرنے کے انتظار میں ہیں کہ وہ گرے تو یہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اب سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اس بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کا نام کیوں نہیں لیا اس تحریر میں تو وجہ یہ ہے کہ یہ اداراہ اپنے ساتھ کراچی لگانے کا مستحق ہی نہیں اس لئے میں کراچی کے شہری ہونے کے ناطے اس کو کراچی کا ادارہ مانتا ہی نہیں یہ ایک بھتہ خوروں کا گروپ ہے جو کراچی سے غیر قانونی بھتہ وصول کررہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کوئی وفاقی اور صوبائی حکومت تیار نہیں ہم کراچی والوں کی نظر اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جیف جسٹس آف پاکستان پر لگیں ہیں شائد ان کو کراچی کی عوام پر مسلط اس بھتہ خوری سے نجات دلانے کی خاطر کوئی اقدام ہوسکے تو ہو ورنہ کراچی والوں کی پانی سیوریج ٹرانسپورٹ روڈ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اور ضرورت زندگی کی چیزوں کا کس کو خیال ہے جو کراچی میں گرمی میں اس بجلی کی 10سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے نام پر بھتے سے ہوگا

  • ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ ایک ایپ ہے، جو آج کل پاکستانی نوجوانوں اور بچوں میں بہت مقبول ہورہی۔ بچے اس کو مفت ڈاؤن لوڈ کرتے اور اس کے بعد ان کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہیے اس میں کریں، گانے پر لب ہلائیں یا رقص کریں یا کسی ڈائیلاگ کو بول کر اپنی ویڈیو زریکارڈ کریں یا کسی کی ویڈیو پر جوابی ویڈیو بنائیں۔ دوسری طرف ان بچوں کے والدین کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کس خرافات میں پڑھ چکے۔ آج کل کے ماں باپ بچوں کی ضد کے آگے ہار جاتے، انہیں موبائل خرید دیتے ہیں، ٹیب، لیپ ٹاپ و دیگر الیکٹرانک گیجٹس بچوں کے پاس موجود ہیں اور ان کے گھروں میں 24 گھنٹے انٹر نیٹ چل رہا ہوتا ہے۔ بچے اپنے کمروں میں کیا کررہے؟ ان کے اکثروالدین کو معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اکثر بچوں کے ماں باپ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ وغیرہ استعمال نہیں کرتے اس بات کا فائدہ بچے اٹھاتے اور وہ اپنی من مانی کرنا شروع کردیتے اور ان چیزوں کی طرف چلے جاتے، جو آگے چل کر ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی۔

    ان ایپس پر بچے بچیاں تیار ہوکر کسی گانے پر رقص کرتے اس کو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ، تو اس پر ایسے ایسے کمنٹس آتے کہ اگر بچوں کے والدین اس کو پڑھ لیں تو ان کو پھر کبھی موبائل استعمال نہ کرنے دیں۔ ٹک ٹاک پر کوئی بچوں کے حسن کو سراہتا، تو کوئی ان کو اپنا فون نمبر دے رہا ہوتا، کوئی ان کو اپنے ساتھ گھومنے پھرنے کی پیشکش کررہا ہوتا۔ یوں ان ایپس پر بچے اجنبیوں کے ساتھ رابطے میں آجاتے۔ پہلے تو سب اچھا اچھا رہتا ہے، کیونکہ یہ اجنبی بچوں کو پیسے اور تحفے دیگراپنے قریب لے آتے، بعد میں یہ جرائم پیشہ افراد، بچوں کو پھانس لیتے اوران کو بلیک میل کرتے۔ ان کی ویڈیوز تصاویر بنا کر پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے۔ یوں بچے اپنے ہی گھر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہوجاتے۔ کچھ کیسز میں بچے جنسی تشدد کاشکار بھی ہوجاتے اور بات خود کشی تک پہنچ جاتی۔ اس حوالے سے جب تک ماں باپ کی آنکھیں کھلتی، تب تک ان کے بچے کی زندگی تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔

    میں قدامت پسند نہیں، آرٹ و کلچر کو پسند کرتا ہوں، لیکن آپ سے سوال کہ کیا آپ پسند کریں گے کہ کوئی بھی معصوم بچہ اور بچی سڑک پر رقص کرے اور لوگ اس پر ذومعنی جملے کسیں؟ اس کو مختلف نا زیبا پیشکشیں کریں؟ ہرگز نہیں، کسی کی بھی خواہش نہیں ہو سکتی کہ اس کا بچہ پڑھنے لکھنے کے بعد اپنے لئے کسی ایسے نامناسب شعبے کا انتخاب کرے، اگر بچہ آرٹ و کلچر، رقص یا شوبز میں بھی آنا چاہتا ہوتو بالغ ہونے کے بعد آئے۔ اس سے پہلے والدین اس کو تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہتے۔ اب، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم عمر بچے بچیوں کی بہت بڑی تعداد ان ایپس پر موجود ہے، جو اپنی معصومیت یا شوبز کی چکا چوند سے متاثر ہوکر یہاں آتے اور جب وہ اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں تو وہ پبلک کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ اب، یہ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ان کی ویڈیوز کا استعمال کس طرح سے کرتے۔ معصوم بچے بچیوں کی ویڈیوز مختلف فورمز پر فحش کیپشنز کے ساتھ پھیلا دی جاتی، ان کو گالیاں دی جاتی ہیں، ان کی کردار کشی کی جاتی۔ یوں بہت سے بچے سوشل میڈیا پر منفی مہم کا نشانہ بن جاتے

    فالورز کی تعداد بڑھانے کی خواھش، ہیرویا ہیروین بننے کی چاھت، بچوں کے مستقبل کو تباہ کردیتی۔ وہ سارا دن فون استعمال کرتے رہتے اور نہ کھاتے پیتے، نہ آرام کرتے اور نہ ہی اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیتے۔ والدین شروع میں اس ایپ کے نقصانات سمجھ نھیں پاتے، لیکن جب ان کے بچوں کی ویڈیوز منفی انداز میں پھیل کر فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہر شخص کے پاس پہنچ جاتی، تو ان کو اندازہ ہوتا کہ ان کابچہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس چکا

    ان ایپلیکیشنز پر ایک اور طبقہ بھی پایا جاتا، جو اپنے نمبرز ویڈیوز ساتھ پوسٹ کرتا۔ پہلے یہ کام رات کے اندھیروں میں ہوتا۔ اب، کھلے عام گاہک ٹک ٹاک کے ذریعے سے ان لوگوں تک پہنچ جاتے لڑکے لڑکیاں جان بوجھ کر اپنے جسموں کی نمائش کرتے، تاکہ پیسے کماسکیں۔ یہ ایک بہت گھٹیا عمل جس سے فحاشی و عریانی مزید پھیل رہی اس کے ساتھ ساتھ یہ ویڈیوز دوسری سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر پہنچتی اور یہ یوں یہ برائی مزید پھیلتی۔ ہمیں اس برائی کو روکنا ہوگا، لیکن یہ دیکھا گیاہے کہ بہت سے متنازع کرداروں کی رسائی تو طاقت کے ایوانوں تک ہے۔ اس میں دو ٹک ٹاکرز نے مبینہ طور پر معروف افراد کو بدنام کیا۔

    یاد رکھیں فحش گوئی ذومعنی جملے جسم کی نمائش آرٹ اور کلچر میں نہیں آتا۔ ہمیں اس وقت ڈراما سیریلز؛ ایلفا براوو چارلی، سنہرے دن، دھواں، خدا زمین سے گیا نہیں ہے، عہد وفا اور فصلِ جاں سے آگے جیسے معلوماتی و تفریحی ڈراموں کی ضرورت ہے۔ جو کچھ ٹک ٹاک پر ہورہا ہے، وہ فن و ثقافت اور تفریح کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس آرٹیکل کے لیے جب میں نے ٹک ٹاک سنیپ چیٹ پر ریسرچ کی تو سر شرم سے جھک گیا کہ ہماری نوجوان نسل چھوٹے کپڑوں ذومعنی گفتگو اور ہیجان آمیز گانوں پر رقص کررہی یہ نئی نسل اسلامی تعلیمات اور نظریہ ٔپاکستان سے بہت دور جاچکی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں نئی نسل کو پاکستان کی ثقافت اور مذہب کے حوالے سے آگہی دینا ہوگی۔

    بچوں اور نئی نسل کیلئے ڈرامے اور فلمیں بنائی جائیں۔ ان کیلئے یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹویٹر فیس بک پر تہذیب و اصلاح پر مبنی ڈاکیومینٹریز ویڈیوز نشر کی جائیں اور یہ کام وزراتِ اطلاعات و نشریات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان بخوبی کرسکتے ہیں اور امید ھے فواد چوھدری اس پر عمل ضرور با ضرور کرینگے ان ایپلیکیشنز کو بین کرنا مسئلے کا حل نھیں انکو ریگولیٹ کرنا ان میں جو خرافات ھیں انکو دور کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری بن چکا