Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    اگر میں کہوں کہ افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ روس اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا اور سر دھڑ کی بازی لگا کر بھی کامیاب ہونے میں ناکام رہا ہے ۔ امریکا آیا اور پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانیوں پر بم گرائے ۔ مختلف حیلوں بہانوں ، دھمکیوں اور لالچ سے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک کو ساتھ ملا کر طالبان کو الگ کردیا ۔ امریکا مکمل ناکام نہیں ہوا تو کام یاب نہیں ہوپایا ۔ ان بیس سالوں میں جہاں افغانیوں کو لاتعداد نقصان ہوا ہے وہی پر امریکا کا اس قدر نقصان ہوچکا ہے کہ اس نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی ہے ۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لمبے لمبے دور چلتے رہے اور بخیر و عافیت نکلنے کے راستے امریکا تلاش کرتا رہا ۔
    ایسے میں بھارت بھی اپنے مذموم مقاصد کو لے کر امریکا کے ساتھ آکھڑا ہوا اور پاکستان کے خلاف افغانی زمین کو استعمال کرتا رہا ۔ اربوں روپیہ افغانی زمین پر بھارت سرکار نے لگایا اور اپنے قدم جمانے لگا ۔ بھارت کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ امریکا کو اس طرح سے بھاگنا پڑے گا ۔ امریکا کے انخلا کے بعد بھارت جیسے ممالک افغانستان میں ٹک نہیں سکتے ۔ طالبان جس تیزی سے افغانستان کی زمین پر قابض ہورہے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلد وہ کابل پر بھی قابض ہوں گے۔ کابل پر قابض ہونے کا مطلب پورے افغانستان پر قابض ہونا ہے ۔ ہر ایسے عنصر پر طالبان کی نظر ہوگی اور ان کے نشانے پر ہوگا جو گھناونے عزائم لے کر افغانستان کی سر زمین پر حملہ آور ہوا تھا ۔ بھارت بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ رہا ہے لیکن اس بھاگنے کے ساتھ ساتھ وہ سازشوں میں بھی مصروف عمل ہے اور ڈبل گیم کھیل کر افغان انتظامیہ کو مزید مشکلات میں مبتلا کررہا ہے ۔

    اس وقت افغانستان میں بھارت کی حالت یہ ہے کہ قندھار سے اس کا تمام سفارتی عملہ اور را کے تمام ایجنٹ فرار ہوچکے ہیں اور قندھار میں واقع قونصل خانہ بند کردیا گیا ہے ۔ بھارت قندھار سے اپنے عملے کے نکالے جانے کی تصدیق تو کررہا ہے لیکن قونصل خانہ بند کرنے کی تردید کی گئی ہے ۔ اگر افغانستان میں بھارتی قونصل خانہ بند ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت افغانستان کے معاملات سے مکمل طور پر باہر ہوگا ۔ اسی لیے بھارت ڈبل گیم کھیل کر طالبان اور افغان حکومت کو باہمی لڑوانے کے چکروں میں ہے ۔

    عالمی طاقتیں جو افغان امن عمل میں براہ راست شامل ہیں وہ بھی بھارت کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور فی الوقت دیکھ رہے کہ بھارت کیا کررہا ہے ۔ بھارت کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر اس کی موجودہ گیم ناکام ہوتی ہے تو طالبان کا اگلا ہدف کشمیر ہوگا اور بھارت کے وہ علاقے ہوں گے جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالبان نے اگر بھارتی چالوں سے تنگ آکر امریکا سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا تو امریکا بھارت سے سختی سے نمٹنے پر مجبور ہوگا کیوں کہ امریکا کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ اپنے فوجیوں کو مزید مروائے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا کیوں کہ اگر افغان امن عمل خراب ہوتا ہے تو اس کی تپش صرف پاکستان اور افغانستان تک نہیں رہ گی بلکہ اس بار اس کی تپش کے ساتھ اس کے شعلے واشگٹن، لندن اور پیرس سمیت دیگر مغربی ممالک کے بڑے شہروں تک پہنچیں گے ۔

  • جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس لعنت سے چھٹکارا کسی بھی دور میں نہیں پایا جاسکا _ معاشرے میں جڑ پکڑ جانے والے اس رواج میں طبقہ ہاۓ زندگی کے ہر طبقے کو جکڑ رکھا ہے _ خواہ امیر لوگوں کا طبقہ ہو متوسط یا غریب ہر کوئی اپنی حیثت سے اس رواج کو زندہ رکھے ہوئے ہے _ امیروں کو شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں اپنی دولت کی نمائش کرنے اور دوسروں پر دولت کے بل بوتے پر دھاک بٹھانے کا ایک موقع مل جاتا ہے جس میں وہ کروڑوں کے گھر سے لیکر گاڑیوں سونے چاندی کے جہیز کے تحائف سے خوب نمائش کر پاتے ہیں _ عام طور پر ہمارے معاشرے میں اس نمائش کا اثر یہ ہوتا ہے کے اکثر لوگ مرعوب ہو جاتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کے خود بھی کچھ ایسا کرسکیں _

    دوسری جانب امیروں میں یہ دوڑ زور پکڑتی ہے اگر فلاں اتنا کرسکتا ہے تو میں اس سے بھی بڑھ کر دکھاؤں گا _ یہی دکھانے کی دوڑ معاشرے میں موجود متوسط اور غریب طبقے کو پیچھے چھوڑتے ہوۓ مزید بے بس بناتی ہے _ جہیز کا بوجھ ہر شخص نہیں اٹھا پاتا اور کچھ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی جب بیٹے کا رشتہ طے کرتے ہیں تو ہونے والی بہو کے گھرانےسے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں _ کچھ لگی لپٹی باتوں سے اظہار کر دیتے ہیں تو کچھ کھل کر مطالبے کرتے ہیں اس احساس کے بغیر کے لڑکی کے والدین خواہ ان مطالبوں کو پورا کرسکیں یا نہیں

    جہیز کے اسی زور پکڑتے مطالبوں نے بہت سی جوان بچیوں کی شادیوں کو تاخیر میں ڈال رکھا ہے _ لڑکی کے والدین کیلئے محض جہیز کا بندوبست کرنا ہی نہیں شادی کا کھانے اور ہونے والی رسموں کا بھی خرچ اٹھانا ہوتا ہے جو کے مہنگائی کے اس دور میں کافی دشوار ہے _

    اتنی جدوجہد اور محنت کے بعد بھی جب غریب آدمی بیٹی کی شادی کا فریضہ ادا کر دیتا ہے تو پھر بھی اسکی بیٹی کو سسرال میں کم جہیز لانے کے طعنے اور کوسنے سننا پڑتے ہیں _ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے _ کیوں کے کچھ لوگوں کی لالچی ذہنیت کسی کی بیٹی کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہے _

    اگر جہیز دیکر بھی والدین اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کی ضمانت حاصل کر سکیں تو بھی کافی ہوتا لیکن اسکے باوجود جہیز کے نامہ پر والدین کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے _ افسوسناک پہلو یہ ہے کے کئی خواتین کی شادی کے بعد علیحدگی اور طلاق کے بعد انکے جہیز پر سسرال کا قبضہ رہتا ہے_ جو کے حقیقت میں ان خواتین کا حق ہے جو انھیں واپس دے دیا جانا چاہئیے _

    ایسی صورتحال میں چند خواتین نے عدالت سے مدد کیلئے رجوع کیا جب انھیں طلاق دے دی گئی تو جہیز واپس نہیں کیا جارہا _ مختلف مقدمات میں جہیز میں خریدے جانے والے سامان کی رسیدیں بھی عدالت میں پیش کی گئیں لیکن سسرال والے ان چیزوں کی موجودگی سے انکاری رہے اور نہ ہی انکو واپس کرنے کو تیار تھے _

    ٹوٹتے گھر کی بربادی ہی کافی نہ ہو بلکے اوپر سے دیا جانے والا جہیز بھی سسرال والے اینٹھ لیں تو یہ مظلوم پر مزید ظلم ہے _

    ایسے میں کئی مقدمات میں یہ شکایت عدالت تک پہنچائی گئی کے عدالتی حکم کے باوجود جہیز کا کافی سامان واپس نہیں کیا گیا _ مشکل یہ ہے کے جہیز کے اس سامان کو دیا جانا ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے _

    ایسے بڑھتے ہوۓ واقعات نے عدالت کو اس مسلے کے حل کرنے کیلئے اقدام کرنے پر مجبور کردیا ہے _ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو اب حکم دیا ہے کے وہ نکاح ناموں میں اضافی خانوں کا اندراج کرے جہاں جہیز کی تفصیل درج کی جاسکے _ ایسے میں ہر چیز نکاح نامے میں لکھ دی جاۓ کے جہیز کے نام پر کیا دیا گیا_ نکاح ایک باہمی معاہدہ ہے اور اس پر جہیز کی تفصیل کا اندراج خواتین کو مستقبل میں تحفظ دے گا کے خدا نخواستہ اگر

    انکی شادی ناکام ہوتی ہے تو انکو دئیے جانے والے جہیز کا اندراج اس بات کو یقینی بناۓ گا کے سسرال کو وہ درج اشیاء واپس دینا ہونگیں _ لہٰذا یہ سب تحریری شکل میں محفوظ ہوگا _ ایسی صورت میں سسرال والے انکار یا جہیز کی واپسی میں حیل وحجت نہیں کرسکیں گے

    لاہور عدالت کے اس فیصلے سے نجی مقدمات کو تیزی سے نبھٹانے اور حقدار کو اسکا حق واپس دلانے میں مدد ملے گی _

    ہم میں سے ہر ایک کو جہیز کی اس لعنت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئیے تاکے جہیز کے نام پر جوان لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی نہ ہوں اور بیٹیوں کے والدین پر کسی قسم کا بوجھ نہ ڈالا جاۓ _

    ہمارے سامنے نبی پاک ﷺ کی ہے جنہوں نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہہ کو چند ایک ضروری استعمال کی چیزوں کے سوا دنیاوی سامان نہ دیا بلکے اپنی بیٹی کو بہترین تربیت علم اور اخلاق سے مزین کیا _ یہی وہ بہترین تحفہ ہے جو والدین اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں _

    بیٹیوں کی دی جانے والے تعلیم ، ہنر ، تربیت اور اخلاق ہی وہ دولت ہے جو تمام عمر انکے ساتھ رہے گی جبکے جہیز کے نام پر ملنے والا مال و اسباب ناپائیدار ہے جو ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتا _

  • عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ان کے گھر بچے کی پیدائش ہوئی، بہت پیارا صحت مند بیٹا۔اس کا نام ذیشان رکھا گیا، لیکن چند ہی دن بعد ایسا محسوس ہوا کہ بچے کے جسم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے چھوٹا اوروہ صحیح طرح حرکت نہیں کر رہا جب اس کو ہسپتال لے گئے تو پتہ چلا کہ بچہ Cerebral Palsy کا شکار ہے۔مدیحہ اور حیات حیران کہ بظاہر بالکل ٹھیک نظر آنے والا بچہ اس بیماری کا شکار کیسے ہوا؟ یہ بیماری میں بچوں کے دماغ کی نشوونما سے روکتی، جس سے اعصاب پر فرق پڑتا ہے بچے چل نہیں سکتے بول نہیں سکتے اور کچھ کیسز میں بات کرنے اورچیزیں سمجھنے سے قاصر ہوتے، یعنی دماغیجسمانی بیماری دونوں ایک ساتھ حملہ کرتی۔ کچھ کیسز میں بچوں کو دورے پڑتے جوکہ بچے کو دماغی اعصابی طور پر مزید کمزور کرتے۔
    یہ خبر ان دونوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ اتنے چھوٹے سے بچے کے ٹیسٹ، اتنی دوائیاں اور ان کا بچہ روتا بھی نہیں تھا کیونکہ بیماری کی وجہ سے اس کے پاس بولنے کی طاقت بھی نھیں تھی۔ جیسے جیسے ذیشان بڑا ہونے لگا تو اس کی معذوری سب کے سامنے آگئی، نا چل سکتا، نا بول سکتا اور چیزیں پکڑ نہیں سکتا ۔ یہاں سے کڑا امتحان شروع ہوا۔ لوگوں نے ان کو طعنے دینا شروع کردیے کہ یہ بچہ ایسا کیوں، تم دونوں نے ضرور کوئی گناہ کیا، لگتا کسی کی بددعا لگ گئی۔ ان کے اپنے خاندان میں گود بھرائی کی تقریب تھی، مدیحہ کو اس لیے رسم نہیں کرنے دی گئی کہ کہیں ان کے جیسا بچہ نا پیدا ہوجائے۔ وہ ساری تقریب میں مجرم کی طرح کھڑی رہی۔ سب اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے۔ لوگ اس کو طعنے دیتے، اس کو کہتے، اور بچے پیدا نہ کرنا تم میں کوئی نقص ہے، جبکہ ایسا نہیں تھا، مدیحہ اور حیات اچھے انسان تھے۔

    بیٹے کی بیماری اور لوگوں کی نفرت نے مدیحہ کو ذہنی مریض بنا دیا، وہ ہر وقت روتی رہتی، تاہم اس کے شوہر نے اس کا بہت ساتھ دیا، وہ بچے کا بھی خیال کرتا اور اس کا بھی دھیان کرتا۔ پھر ایک ماہر نفسیات سے ملنے کے بعد اس کی زندگی میں تبدیلی آئی۔ اُس نے دونوں میاں بیوی کا سمجھایا کہ دماغی اور جسمانی معذوری کے پیچھے طبی وجوہات ہوتی ہیں، یہ کسی بددعا یا جادو ٹونے کا نتیجہ نہیں۔ یہ قسمت میں لکھا تھا کہ آپ دونوں نے دنیا میں جنت کمانی تھی۔ ایک خصوصی بچے کی خدمت اور اس سے پیار کرکے آپ کو جو روحانی سکون ملے گا وہ شاید کسی اور چیز سے میسر نہ آئے۔ نابینا پن، قوت گویائی قوت سماعت سے محروم تو عام انسان بھی ہوسکتا ہے، کچھ حادثات میں انسانوں کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اسی صورت میں علاج اور تھراپی سے کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کو اس قابل کیا جائے کہ وہ روزمرہ زندگی میں اپنا تھوڑا حصہ ڈال سکے۔ ماہر نفسیات نے ان دونوں کو سنٹر برائے خصوصی اطفال میں بھیج دیا، یہ سرکاری ادارہ تھا، سہولیات تو کم تھیں، لیکن سٹاف بہت اچھا تھا، انہوں نے ذیشان کو مختلف ورزشیں کروائ، فزیو تھراپی کروائی، اس کے لیے خصوصی جوتے بنوائے گئے۔ تھراپی، علاج اور اساتذہ کی وجہ سے ذیشان میں تبدیلی آئی۔ پہلے جو شان ہر وقت بستر پر رہتا تھا، اس نے چیزیں پکڑنا شروع کردیں اور چلنے کی کوشش کرنے لگا۔ دو سال میں شان بیٹھنے اور ہاتھ سے چیزیں کھانے کے قابل ہوگیا۔ مدیحہ اور حیات دونوں مل کر ذیشان کا کام کرتے، تاہم وہ دیکھتے کہ خصوصی بچوں کے لیے نہ ہی پارکس میں جھولے اور نہ ہی ان کیلئے کھلونے بازار میں ملتے ۔ وہ اکثر یہ ناانصافی دیکھ کر اداس ہوجاتے۔ ذیشان کو اپنے سکول میں بہت سے دوست مل گئے، کوئی بول نہیں سکتا تھا، کوئی چل نہیں سکتا تھا، کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا، لیکن سب بہت پیارے۔ یہ بچے تو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ معصوم تھے، ایک دوسرے سے کوئی نفرت نہیں تھی، وہاں سب کی مل کی سالگرہیں منائی جاتی۔ بہت سے خاندان ان خصوصی بچوں کی بدولت قریب آگئے۔ حیات کی ٹرانسفر ہوگی، جب دوسرے شہر میں آکرانہوں نے شان کو خصوصی بچوں کے سکول میں داخل کروایا تو وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ فیس پچاس ہزار روپے ماہانہ تھی، یہ سکول صرف خصوصی بچوں کے والدین کو لوٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایسے سکول شاید پورے ملک میں بہت جگہ ہوں، لیکن حکومت کی دلچسپی نہیں، شاید خصوصی بچے ان کی ترجیح نہیں۔ مدیحہ نے ذیشان کی ہوم سکولنگ شروع کروادی اور ساتھ ہی ڈاکٹر سے سپیچ تھراپی اور ایکسر سا ئز بھی۔ وقت گزرتا گیا آج شان آٹھ سال کا ہے، وہ خود چل سکتا ہے، اپنے ہاتھ سے کھانا کھاسکتا ہے اور تھوڑا تھوڑا بول لیتا ہے۔ بہت اچھی تصویریں بناتا ہے، سب کہتے ہیں یہ بڑا ہوکر آرٹسٹ بنے گا۔ وہ خصوصی بچوں کیلئے قائم سرکاری سکول میں جاتا ہے، اس کی والدہ خود اس کو لے کر جاتی ہیں، تھراپی، کونسلنگ اور علاج نے اس کو پہلے سے بہت فعال کردیا ہے۔ طبی بنیادوں پر وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوسکتا، لیکن وہ اب کسی پر بوجھ نہیں ہے۔

    خصوصی ضروریات کی چار اقسام ہیں، وہ جن کو جسمانی مسائل ہوں، جنہیں نشوونما میں مسائل کا سامنا ہو، جن کو جذباتی رویے اور دماغ کے مسائل ہوں اور جس میں کمزوری شامل ہے۔ بچوں میں یہ بیماریاں عام ہیں :Down syndrome، Autism، ADHD، Bipolar disorder، Dystrophy، Epilepsy، Dyslexia، Visually impaired and Blindness۔ ان سے مکمل صحت یاب تو نہیں ہوسکتے، لیکن تھراپی اور ادویات سے جزوی فعال کیا جاسکتا ہے۔ خصوصی بچے اللہ کی نعمت ہیں، جن سے شفقت اور خدمت کرکے ہم جنت کماسکتے ہیں۔ جب بھی کسی خصوصی بچے کو دیکھیں، اس کے والدین سے غیر ضروری سوال نہ کریں۔ والدین کی اجازت سے اس بچے کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ دیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو استقامت دے اور وہ اسی طرح اپنے بچے کا خیال کرتے رہیں۔ خصوصی بچے عذاب نہیں جنت کے پھول ہیں، انہیں پاگل مت کہیں، ان کے والدین کے ساتھ بدتمیزی نہ کریں، ان کو تکلیف نہ دیں۔

  • میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی جہاں لوگ سنت ابراہیمی کو ادا کرنے کے لیے قُربانی کی تیاریوں کا آغاز کر دیتے ہیں وہیں کچھ مذہب بیزار قسم کے لوگ اس فریضے سے اپنی بیزاری کا اظہار بھی کرتے ہیں، یہ انسانیت کے نام نہاد علمبردار انتہائی جذباتی انداز میں پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ حج و قربانی پر اربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کی جائے۔

    یہ نام نہاد سکالرز سوشل میڈیا پر طرح طرح کی تاویلیں پیش کرتے ہیں جن میں سے چند ایک آپکی خدمت میں حاضر ہیں۔
    ایک بھائی صاحب کی پوسٹ دیکھی، جس میں وہ فرما رہے تھے کہ اس بار وہ قربانی نہیں کریں گے بلکہ اُنہی پیسوں سے اُنہوں نے ایک واٹر کولر لگوا دیا ہے۔

    کوئی یہ رونا رو رہا تھا کہ غریب ہمسائے کی لڑکی کی شادی کے لئے مدد نہ دینے والے حاجی صاحب دو لاکھ کا بکرا لے آئے ہیں۔ اور ساتھ یہ عزم بھی کیا کہ وہ حاجی صاحب کی طرح قُربانی نہیں کریں گے بلکہ کسی غریب لڑکی کی شادی کروائیں گے۔

    ایک اور صاحب نے لکھا کہ اس بار وہ عید پر قربانی نہیں کریں گے، کیوں کہ انہیں جانور ذبح ہوتے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، مزید کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنی خوبصورت تخلیق کو کیوں مارا جاتا ہے۔

    ایک بھائی نے لکھا کہ مجھے کافر کہہ لو لیکن مجھے یہ نہیں پسند کہ 72 گھنٹوں میں کئی لاکھ پیارے پیارے اور معصوم جانوروں کا سرِ عام اتنے بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہو۔ لیکن ساتھ اس بات پر بھی افسردہ تھے کہ اب کُچھ دن کے لیے انہیں سبزیوں پر گزارہ کرنا پڑے گا۔

    ایک مشہور شخصیت نے پوسٹ کی کہ لوگوں کو عید الاضحی پر لاکھوں جانوروں کو قربان / ذبح کرنے کی بجائے اپنے آئی فون توڑ (قربان کر) دینے چاہیے۔ مزید یہ بھی کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ ہر سال کروڑوں جانوروں کو قربانی کے نام پر ذبح کر دیا جاتا ہے اور وہ بھی بچوں کے سامنے۔

    جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اُسے عید الاضحی پر کروڑوں جانوروں کے قتلِ عام پر تشویش ہے، قُربانی کے نام پر بڑے پیمانے پر جانوروں کی نسل کشی کی جاتی ہے، اس سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جانوروں کی باقیات سے نہ صرف ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ قربانی کے دوران پانی کے استعمال سے پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔

    ایک شخص نے لکھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ مسلمانوں کے لیڈر بن چُکے ہیں جو قُربانی کی حمایت کرتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ بجائے قربانی کرنے کے وہی رقم کسی غریب کو عطیہ کر دیں، اور ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہمیں انسانیت کے نام پر پُر امن رہنا چاہئے، اور قربانی کے نام پر نمود و نمائش کی بجائے دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔

    بدقسمتی سے یہ چند بیان کیے گئے نظریات کچھ نام نہاد دیسی لبرل مسلمانوں کے ہیں۔ ایک طرف تو یہ لوگ آزادئ اظہار رائے کا پرچار کرتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ دوسروں کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر کوئی قربانی نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے لیکن اُسے دین کا مذاق بنانے یا اپنے عقائد اور مذہب پر عمل کرنے کی وجہ سے دوسروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ انسانیت کے ان ہمدردوں کو غریبوں کی مدد کے لئے صرف حج و قربانی ہی کیوں نظر آتی ہے؟

    اپنی بڑی بڑی گاڑیاں، 24 گھنٹے اے سی چلتے کمرے، محل جیسے پرتعیش گھر، ہر رات آباد ہوتے مہنگے ترین ہوٹل، ہزاروں روپوں کا میک اپ، لاکھوں i جیولری اور کاسمیٹیکس، لاکھوں کی مالیت کے موبائل فون کیوں نظر نہیں آتے؟ ان نام نہاد لوگوں کے لیے یہ سب جائز ہے، لیکن سال بھر میں ایک بار قربانی کرنا غلط؟

    قربانی ایک اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہےبارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔

    سورت الحج آیت نمبر 34 میں اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ (ترجمہ !) "اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللّٰہ نے اُنہیں عطا فرمائے ہیں”۔

    قربانی کی ایک عظیم الشان صورت اللّٰہ تعالی نے امت محمدیہ ﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے، عید الاضحی پر ایک خاص جانور کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور تقرب کی نیت سے سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    دین درحقیقت اتباع کا نام ہے اور اصل مقصد اللّٰہ تعالی کے حکم کی بجا آوری ہے، قرآن مجید میں سورت الحج کی آیت نمبر 37 میں بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ ! "اللّٰہ کو ہرگز نہ اُن کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اُسے تمہاری طرف سے تقوی پہنچے گا۔اسی لئے اس نے اُنہیں تمہارے لئے مسخر کر دیا،تاکہ تم اُس پر اللّٰہ کی بڑائی بیان کرو ،کہ اُس نےتمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والے کو خوشخبری سنا دیجیئے”۔

    سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو وسعت ہو (صاحب نصاب ہو) اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ )

    جو لوگ مالی وسعت یعنی قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی ادا نہیں کرتے وہ آنکھیں کھولیں!اور اپنے ایمان کی خیر منائیں، عیدگاہیں اور مساجد اللّٰہ تعالی کی محبوب جگہیں ہیں، جہاں جمع ہونے والوں پر بارگاہ الہی سے رحمت کی برستی ہے، یہاں کی حاضری سے کسی بدنصیب کو ہی روکا جا سکتا ہے۔

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ و سفید رنگت والے دو خصی مینڈے خریدتے، اُن میں سے ایک اپنے اُن امتیوں کیطرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللّٰہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی،اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل وعیال کیطرف سے قربان کرتے ۔

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو کیوں کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رُخ قبلے کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون،گوبر اور اُون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔

    حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہارے قربانی کے جانور کے)ہر بال کےبدلےمیں ایک نیکی ملے گی ۔ صحابہؓ نے پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ !(جن جانوروں کے بدن پر اُون ہے اُس) اُون کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اُون کے ہر بال کے عوض میں بھی نیکی ملے گی۔

    ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں ہر دوسرا بندہ دین اور مذہبی معاملات پر بغیر کسی تحقیق رائے دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ آج پاکستانی معاشرے کو ایسے خود کو عقل کل سمجھنے والے نام نہاد سکالرز کا سامنا ہے جو مغربی سوچ سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ یہ ہر چیز کو سیکولرازم کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ انہیں مذہب سے متعلق سب کچھ ہی برا لگتا ہے، انکا حجاب میں دم گھٹتا ہے، ہر داڑھی والا دہشت گرد نظر آتا ہے، مدارس تمام مسائل کی جڑ لگتے ہیں اور قربانی کے وقت انہیں غریب غربا یاد آ جاتے ہیں۔

    ہر سال شادیوں کے نام پر لاکھوں کا خرچہ کرتے وقت ان لوگوں کو غریب کی بیٹی یاد نہیں آتی۔ لاکھوں روپے مالیت کے موبائیل سے غریبوں سے ہمدردی کا ڈھنڈورا پیٹتے انہیں واٹر کولر لگوانا اچھا نہیں لگتا۔ ان کے میک اپ، پرفیوم اور کاسمیٹکس کے لاکھوں کے خرچے سے کئی گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں، لیکن اس وقت غریب کا احساس ضروری نہیں ہوتا۔

    عید پر انہیں غریب کی بیٹی کی شادی کی فکر ضرور ستاتی ہے لیکن سارا سال اِن کے بوتیک سے کوئی غریب اپنی بیٹی کی شادی کا جوڑا نہیں خرید سکتا۔ عید پر جانوروں کے ذبح ہونے پر انہیں ظلم ضرور یاد آتا ہے لیکن سارا سال جب یہ گوشت کھاتے ہیں اُس وقت یہ ظلم نہیں ہوتا۔ انہیں قربانی کے وقت پانی کا استعمال ضیاع لگتا ہے لیکن سال بھر اِنکے سوئمنگ پولز میں پانی کا استعمال نظر نہیں آتا، اور انکی مہنگی گاڑیاں ہوا سے دھوئی جاتی ہیں۔

    یہ لوگ فضول خرچی روکنے کے لئے سمارٹ فونز کی خریدو وفروخت پر پابندی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ بیوٹی پارلرز اور لاکھوں کا ایک ایک جوڑا فروخت کرنیوالے بوتیکوں پر اخراجات کی بجائے غریب بچیوں کے گھر بسانے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ پارٹیوں پر لاکھوں خرچ کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟

    قربانی کو متنازعہ بنانے والے یہ سیکولر زکوۃ کی ادائیگی کیوں نہیں شروع کرتے؟ دراصل مسئلہ غریبوں کی حمایت کا نہیں ہے، بلکہ ان کو تکلیف صرف سنت نبویﷺ پر عمل کی ہے۔ یہ لوگ سنت نبویﷺ کو بزور طاقت تو نہیں روک سکتے اور نہ ہی براہ راست تنقید کر سکتے ہیں اس لیے یہ لوگ ایک جذباتی ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بیچارے مغرب کی تقلید میں ان سے بھی بڑھ کر روشن خیال بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

    عیدِ قربان نہ صرف ایک مذہبی تہوار ہے بلکہ ایک بڑی معاشی اور فلاحی سرگرمی کا دن بھی ہے۔ عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔

    ہر سال عید الاضحیٰ پر 200 سے 300 ارب روپے تک کی رقم ہر شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ قربانی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں عارضی نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جانوروں کو منڈیوں اور گھروں میں پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے لے کر انہیں چارے کی فراہمی اور قصابوں تک، لاکھوں لوگ اس معاشی سرگرمی کا حصہ بنتے ہیں۔

    مُلک میں چمڑے کی کل ضروریات کا تقریباً 40 فیصد قربانی کے تین دنوں میں پورا ہو جاتا ہے۔عیدِ قرباں پر بیرون ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ سمیت مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر پاکستانی اپنی قربانی کی رقومات پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ قربانی کا فائدہ ملک کے پسماندہ طبقات کو ہو۔

    دیکھا جائے تو قربانی دراصل غریبوں کے لئے ہی روزگار پیدا کرتی ہے، بُہت سے لوگ جو گوشت افورڈ نہیں کر سکتے اُنہیں ہر سال عید الاضحی پر کھانے کے لیے گوشت ضرور ملتا ہے، قُربانی کی کھالوں سے ایسے فلاحی ادارے چلتے ہیں جو غریبوں کے بچوں کو پڑھاتے ہیں یا پھر ہسپتالوں میں غریبوں کا مفت علاج کرواتے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانانِ عالم کو سنت ابراھیمی ( علیہ السلام) اور سنت رسولﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور قربانی کے مبارک عمل کو بارگاہ جلیلہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔

  • جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ اور سچ یہ عادتیں بچپن ہی سے سیکھائی جاتی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت ماں جو کرتی ہے بچے پر اس کے اثرات  ہوتے ہیں۔ ماں باپ جھوٹ کے عادی ہوں تو یقینا بجے بھی جھوٹ ہی بولیں گے۔ دیکھا جائے تو سچ یا جھوٹ، دھوکہ فریب  ہر قول و فعل ایک دوسرے کے اردگرد ہی گھومتے ہیں
    حدیث شریف کا مفہوم ہے تمام گناہوں کی جڑ جھوٹ ہے
    جھوٹ بول کر انسان دوسرے انسان کو چپ کروا سکتا یے
    دوسرے انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے
    دوسرے انسان کو اپنی چیز بیچ سکتا ہے
    لیکن اللہ تعالٰی کے سامنے کیسے جھوٹ بولے گا
    قول و فعل میں تضاد بھی جھوٹ ہے
    اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور سچائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے۔ سچ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سچ کہا اور جھوٹ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جھوٹ کہا۔ سچ، نجات اور سکون کا باعث ہے اور جھوٹ، تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔جھوٹ بولنا انسان کو دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت سے بھی محروم کردیتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں اس کا اعتبار اور رتبہ ختم کردیتا ہے۔ اور انسان کو نا اتفاقی کے مرض میں مبتلا کردیتا ہے یہ زبان کی آفت اور ایمان کو مسمار کرنے کا  سبب بنتا ہے۔جھوٹ ہی تمام گناہوں کی جڑ ہے۔

     قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے
    ” جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ اور یہی لوگ جھوٹے ہیں”
    ( سوره النحل: 105)

    جھوٹ کے متعلق کچھ احادیث:-

       سچ اور جھوٹ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ’’تم پر سچ بولنا لازم ہے، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے، اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے، جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
    (صحیح مسلم: 6094)

       ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“
    [صحيح بخاري حديث 6095]

    جھوٹ بولنے سے انسان دوسرے انسانوں کی نظر میں تو گرتا ہی ہے ساتھ میں اللہ تعالٰی کے ہاں بھی سخت عذاب کا مستحق بھی ہو جاتا ہے

    دنیا والوں سے تو جھوٹ بول کرنی چھپا سکتا ہے اللہ تعالٰی سے کیسے چھپائے گا
    انسان جب ایک جھوٹ بولتا ہے تو اس کو چھپانے کے لیے اس کو دس جھوٹ اور بولنے کرتے ہیں

    جھوٹ سے انسان اللہ تعالٰی کے ہاں بھی اور دنیا والوں کے ہاں بھی منہ دیکھانے لے قابل نہیں رہتا

    مل کر معاشرے سے جھوٹ جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے

  • ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    کسی دور میں پاکستان فلم انڈسٹری بھارت سے مقابلہ کرتی تھی وحید مراد سنتوش کمار محمد علی ندیم جیسے اداکار ناصر پاکستان بلکہ برصغیر میں شہرت رکھتے تھے فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد ناظرین کیلئے تفریح کا ذریعہ صرف ٹیلی ویژن رہ گیا ۔ ناظرین کی بڑی تعداد 8 بجے آنے والے ڈرامے شوق سے دیکھتی اور اکثر ڈرامہ سیریل مقبولیت کے ریکارڈ بھی قائم کرتے الفا براوو چارلی، بندھن، عینک والا جن، گیسٹ ہائوس اور آغوش غرض ھر عمر کے ڈرامے عوام میں پسند کئے جاتے سڑکیں ویران ھوجاتی۔ عمدہ اداکاری بہترین پروڈکشن اور بہت سبق آموز کہانیاں اداکار اتنے ڈوب کر اداکاری کرتے تھے کہ ان کا اصل نام ہی بھول جاتا تھا اور صرف کردار ذہنوں پر نقش ہو جاتے ۔ تاہم 2010ء کے بعد تو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری بدل کر رہ گئی۔

    معیاری کہانیوں کی جگہ ساس بہو کے جھگڑے طلاقوں گھریلو جھگڑوں نے لے لی اگرچہ کئی اچھے ڈرامے بھی پیش کے گئے تاہم زیادہ تر اوسط درجے کے ڈرامہ سیریل چھوٹی سکرین کا حصہ بنے۔ یہ زیادہ تر ڈرامہ سیریل نجی چینلز پر نشر ہوئے اور کچھ سرکاری ٹی وی کا بھی حصہ بنے۔ ماسوائے چند ڈرامے جیسے ڈرامہ ‘داستان‘ جوکہ 1947ء کی ہجرت کے تناظر میں عکسبند کیا گیا اور رضیہ بٹ کے ناول ‘بانو‘ سے ماخوذ تھا اس کے بعد ‘میری ذات ذرۂ بے نشان‘ نے شہرت کے ریکارڈ قائم کیے ‘درِ شہوار‘ بھی ایک بہترین ڈرامہ تھا اور اسکے علاوہ ‘ھم سفر ‘ ‘زندگی گلزار ہے‘ جیسے انگلی پر گنے جانے والے ڈرامے جن میں کوئی سبق ہویا وہ معاشرے کی حقیقت کے قریب ہوں وہ پیش ھوئے اور انھوں نے ریکارڈ مقبولیت حاصل کی۔ ایسے ڈرامے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے کوئی سبق مل سکے۔ ”سرخ چاندی‘‘ تیزاب گردی پر بنایا گیا ڈرامہ تھا جس نے ناظرین کو ہلا کر رکھ دیا۔

    ان چند سالوں میں پڑوسی ملک کے کلچر کو یہاں یوں فروغ دیا گیا جیسے ثواب کا کام ھو مگر افسسس لوطن کی محبت اور قومی ہیروز پر ڈرامے نا ھونے کے برابر بنائے گئے ڈرامہ نا صرف کردار سازی ذہن سازی میں کردار ادا کرتا بلکہ ملک کا کلچر بھی دنیا کو دکھانے کا ذریعہ بنتا یہ بات غور طلب ہے کہ سنہرے دن اور الفا براوو چارلی کے دو دہائیوں بعد عہدِ وفا بنایا گیا یہ بھی امر قابلِ غور ہے کہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر حالیہ سالوں میں کوئی ڈرامہ سیریل نہیں بنا۔ ۔ ہمارے نجی چینلز ساس بہو کے جھگڑوں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ زیادہ تر ڈراموں میں دو شادیوں‘ متعدد افیئرز اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

    دوسری طرف بھارت ہمارے مسلمان ہیروز کے کرداروں کو مسخ کر رہا ‘ ایک فلم پدماوت میں علائو الدین خلجی کے کردار کو یکسر متضاد پیش کیا گیا ہے جبکہ ‘پانی پت‘ فلم میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کیا گیا۔ اس کے ساتھ آن لائن ویب سٹریم پر بھی بھارت کی اجاہ داری ہے‘ ہر دوسرا سیزن پاکستان کے خلاف بن رہا ہے جبکہ پاکستانی ہدایتکار کشمیر، بلوچستان، ایل او سی، سیاچن، سرحدی امور، ملکی حالات، فوجی اور سویلینز شہدا کی قربانیوں سے نظر چرا کر ٹی وی پر معاشقے کروانے میں مصروف ہیں، عورتیں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں، نندیں بھابھیوں کے گھر تباہ کر رہی ہیں اور گھروں میں ایک

    خدارا پاکستانیوں پر رحم کریں‘ تحریک پاکستان، 1965، 1971، کارگل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضربِ عضب، رد الفساد جیسے آپریشنز ان پر ڈرامے بنایئں وہ ہیں ہمارے اصل ہیرو‘ ان پر ڈرامے اور فلمز بنانی چاہئیں۔ اس کے علاوہ غازیوں، پولیس کے ہیروز اور سویلینز کی قربانیوں کو اجاگر کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ آج کی نسل کو پتا ہو کہ ان کے اصل ہیرو کون ہیں ورنہ تیاری پکڑیں کچھ عرصے بعد ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ویسا ہی حال ہو گا‘ جو فلم انڈسٹری کا ہو چکا۔

  • کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    ساوتھ افریقہ کے 79 سالہ سابق صدر جیکب زوما جنہوں نے ٢٠٠٩ سے ٢٠١٨ تک حکمرانی کی ان پر کرپشن کے الزامات تھے جن پر انہوں اکڑ دکھاتے ہوئے آئینی عدالت میں پیش نہ ہونے کو ترجیح دی اور عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہوۓ جس پر عدالت نے انھیں چار جولائی تک کی مہلت دی کے یا تو گرفتاری دیں یا پھر پولیس سابق صدر کو گرفتار کرے سابق صدر جیکب زوما نے مہلت ختم ہونے سے چند لمحے پہلے خود کو حکام کے حوالے کردیا اور اب قانون کے مطابق وہ پندرہ ماہ کی جیل کی سزا کاٹیں گے

    عدل و انصاف کا نظام اسلامی ریاست کی اساس رہا ہے لیکن دیکھا جاۓ توعدل وانصاف کے اس نظام کا مملکت خدا داد پاکستان میں فقدان ہے ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں لیکن اسکے برعکس ہمارے سزا یافتہ حکمران بلندوبانگ دعووں کیساتھ عیش و آرام سے رہتے ہیں اور آزادی سے بیرون ملک سفر کرتےاور پھر عدالتی بلاوے کو روندڈالتے ہیں_

    ساوتھ افریقہ کے صدر کے حق میں کسی نے نعرہ نہیں لگایا اسکو چھوڑ دو اور ووٹ کو عزت دو . بلکہ وہاں پر عوامی تجسس یہ تھا کہ آیا سابق صدر اور پولیس آئینی عدالت کے حکم کا پاس کریں گے یا نہیں کیوں کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور قانون کے احترام میں معاشرے کی بقا ہے ہمارے سیاستدان عدالتی فیصلوں اور تصدیق شدہ جرائم کے باوجود ضمانتیں لیکر انتخابی تحریکیں چلاتے اور اپنا نظریہ عوام میں پھیلاتے ہیں اور یہ سوال پوچھتے ہیں ‘کیا آپ ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں کا وزیراعظم عدالتوں میں پیش ہو ؟_

    ہمارے ہاں قانون اور عدالتی بالادستی کیساتھ عوامی شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کے قانون سے کوئی افضل نہیں اگر خلیفہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اپنی زائد چادر کا حساب دینے کے پابند تھے تو آج کےاور سابقہ حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوۓ جوابدہی میں اپنی ہتک نہیں سمجھ سکتے اس لیے کے قانون سب کیلئے برابر ہونا چائیے

  • لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پطرس بخاری نے اپنے مضمون "لاہور کا جغرافیہ” میں لکھا کہ:
    ” کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلبہ کی سہولت کے ليے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا۔ جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔ “

    بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتا ہوا رقبہ ایک ایسی کینسر نما بیماری ہے جو شہر لاہور کو لاحق ہو گئی ہے۔ جس سے نہ صرف لاہور کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے بلکہ بُہت سارے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اِسکی کچھ رونقیں کھو سی گئی ہیں۔

    اگرچہ بُہت سارے مسائل ہیں جو لاہور کو لاحق ہیں لیکن چند چیدہ چیدہ مسائل مسائل میں درختوں کی کٹائی، ماحولیاتی تغیر، زیرِ زمین پانی کی کمی، وینس کی جھلک، ٹرانسپورٹ کی کمی، زرعی زمینوں کا کم ہونا، صحت اور تعلیم کی نا کافی سہولیات، اور معدوم ہوتے تہوار وغیرہ شامل ہیں۔
    گزشتہ حکومتوں کے بر عکس اگرچہ موجودہ حکومت بہت سارے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے لیکن ان مسائل کو حل ہونے میں وقت لگے گا۔

    درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی تغیر

    گزشتہ کئی سالوں سے لاہور ماحولیاتی تغیر سے نبرد آزما ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، شدید گرمی اور فاگ سے بہت سارے مسائل نے جنم لیا ہے۔ ہر سال سینکڑوں افراد گرمی کی شدت سے بیمار ہو کر ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح فضائی آلودگی اور فاگ کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں، گلے اور آنکھوں کا انفیکشن، سانس لینے میں دشواری،دمہ اور کھانسی وغیرہ بھی پریشان کن ہیں۔ بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کے پھیپھڑے خراب ہو رہے ہیں۔
    ان مسائل کی بڑی وجوہات میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں، اینٹوں کے بھٹے، فیکٹریوں میں ربڑ کا استعمال اور درختوں کی کٹائی شامل ہیں۔
    اگرچہ موجودہ حکومت نے تقریباً تمام بھٹے جدید ذگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیے ہیں اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت پاکستان نے گاڑیوں کے لیے اچھی کوالٹی کا ایندھن (euro 5) منگوانا شروع کیا ہے، لیکن دوسری وجوہات پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے۔
    بڑھتی ہوئی گرمی اور آلودگی کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2017 تک لاہور کے 75٪ درخت کاٹ دیے گئے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف بارشوں میں کمی ہوئی بلکہ گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا۔ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے فضائی آلودگی اور فاگ جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس، باغوں کے شہر لاہور سے درخت ہی کاٹ دیے گئے ہیں۔
    موجودہ حکومت نے اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے جاپانی تیکنیک پر شہر بھر میں 50 میاواکی جنگل لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے جو کہ اگرچہ نا کافی ہے لیکن حکومت کی سنجیدگی کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
    لاہور لبرٹی مارکیٹ میں لگایا گیا مياواکی فوریسٹ 8 کنال رقبے پر مشتمل ہے اور اُس میں 10 ہزار سے زائد درخت/پودے لگائے گئے ہیں۔
    درختوں کی کٹائی اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے بارشوں میں بھی کمی آئی ہے۔ بارشوں میں کمی اور زیرِ زمین سے مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے مستقبل میں پانی کا بحران نظر آ رہا ہے۔ جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے وہیں زیرِ زمین پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے اس صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات کا اعلان کیا ہے، اس ضمن میں راوی ریور پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں، لیکن یہ منصوبے پورے ہونے میں وقت لگے گا۔
    لاہور کو پیرس بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، یہ پیرس تو نہ بن سکا لیکن ہر سال وینس کا نظارہ ضرور کرواتا ہے۔ سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے ہر سال مون سون کی بارشوں میں لاہور کو سیلابی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ایک طرف پانی کی کمی ہے وہیں ہر سال بارشوں کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے اور سیلابی صورتحال کا تدراک کرنے کے لیے موجودہ حکومت سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین 10 سے زائد واٹر سٹوریج ٹینک بنا رہی ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ کتنے مددگار ثابت ہوں گے۔

    پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت

    ایک وقت تھا کہ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پورے شہر میں کہیں بھی جایا جا سکتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب لاہور کا سب سے بڑا بس اسٹیشن تھا جہاں سے پورے لاہور کے لیے بسیں چلتی تھی۔ لیکن یہ شعبہ بھی اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ 2009 میں پنجاب حکومت نے جہاں دیگر کئی کمپنیاں بنائی وہیں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی بھی بنائی گئی۔
    لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے ابتدا میں 400 ائیر کنڈیشنڈ بسوں کے ساتھ تقریباً 19 بڑے روٹس اور کچھ چھوٹے روٹس پر کام کا آغاز کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بسوں کی تعداد میں کمی ہوتی گئی۔ افسران کی غفلت کی وجہ سے کمپنی 2017 میں سروس آپریٹرز کے ساتھ ختم ہونے والے معاہدوں کی تجدید نہ کر سکی جس کی وجہ سے یہ کمپنی بند ہو گئی اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب۔
    ریکارڈ کے مطابق 2014 سے مسلسل حکومت کو نئی بسوں کے لیے درخواست دی جاتی رہی لیکن کوئی کام نہ ہوا۔ اگرچہ لاہور میٹرو بس اور میٹرو ٹرین آپریشنل ہے لیکن ان کی سروس مخصوص روٹ پر ہے۔
    اس وقت لاہور کی ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو پورا کرنے کے لیے کم و بیش 1500 بسوں کی ضرورت ہے۔اگرچہ موجودہ حکومت سروس بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے لیکن ابتدائی طور پر صرف 300 بسیں فراہم کی جائیں گی۔
    اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بلیو لائن اور پرپل لائن کے منصوبے جو کہ 2007 میں تجویز کیے گئے تھے فلحال کاغذوں تک ہی محدود ہیں۔

    لاہور کے گرد پھپھوندی کی طرح پھیلتی ہاؤسنگ اسکیمز بذاتِ خود ایک مسئلہ ہیں۔ زرعی زمینوں پر بننے والی ان سوسائٹیوں میں نہ صرف سہولیات کا فقدان ہے بلکہ بے ہنگم بھی ہیں۔ اِن کی وجہ سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا مسئلہ غذائی اجناس کی قلت ہے۔ ان زرخیز زمینوں پر پہلے سبزیاں، چاول، گندم اور دیگر غذائی اجناس کی کاشت کی جاتی تھی جو کہ شہر لاہور کی ضروریات کو کسی حد تک پورا کرتی تھیں لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ اب زرخیزی کی جگہ صرف بے ہنگم آبادی ہے۔

    لاہور میں جہاں دیگر بُہت سے مسائل ہیں وہیں پر صحت کی نا کافی سہولیات بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ کئی سالوں میں کوئی نیا ٹرشری کیئر ہسپتال نہیں بنایاگیا، اگرچہ موجودہ حکومت نے لاہور میں 2 نئے ہسپتال بنانے کا آغاز کیا ہے، لیکن شمالی اور مشرقی لاہور میں کوئی بھی بڑا سرکاری ہسپتال نہ ہی موجود ہے اور نہ ہی عنقریب کسی کی امید ہے۔ ہسپتالوں میں جدید مشینری یا تو موجود نہیں اور اگر موجود ہے تو وہ خراب ہے۔
    یہ اور ایسے بُہت سے دیگر مسائل ہیں جو کہ شہر لاہور کو لاحق ہیں، اگر ان مسائل کی تفصیل بیان کرنا شروع کی جائے تو ہر مسئلے کے لیے ایک علیحدہ آرٹیکل لکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے صرف ایسے پروجیکٹ شروع کیے گئے جو کہ ذاتی مشہوری کے لیے ضروری تھے، اگرچہ موجودہ حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ہیں جن سے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی نظر آتی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ منصوبے مکمل ہو کر کس حد تک ان مسائل کو حل کریں گے۔

  • غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی بہت مشکل سے گزار رہے ہیں
    اکثر تو ایسے ہیں جو 2 وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر سکتے اور ہم ایک وقت کا اتنا کھانا بنا رہے ہوتے ہیں جو غریب کو مل جائے تو وہ 4 دن اس سے آرام سے گزار سکے
    ہم اپنی ضرورت سے زیادہ کھانے کو کچرے میں پھینک دیتے ہیں لیکن پڑوس میں غریب کو اس کی بو تک نہیں لگنے دیتے
    اگر وہ ہی کھانا ہم خود سے بچا ہوا ہی کیوں نا ہو پڑوسی ی
    کو دے دیں اس کے بچے بھوکے نا سوئیں
    وہ کم از کم 2 ٹائم پیٹ بھر کر کھانا تو کھا سکے
    اس کے دل سے ہمارے دعائیں نکلیں
    اللہ پاک ہمارے گھروں، ہمارے رزق میں برکت ڈالیں لیکن ایسا ہم سوچتے بھی نہیں ہیں
    ہم صرف اپنا پیٹ بھرنے کی سوچ میں لگے رہتے ہیں
    ہم ہار سنگار تو کر لیتے ہیں غریب کے بچے کو پورے کپڑے بھی نہیں ملتے
    ہم پر ہفتے شاپنگ تو کر لیتے ہیں لیکن غریب کو 2 روپے دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے
    ہم بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانے کھا اور کھلا رہے ہوتے ہیں لیکن غریب کا نہیں سوچتے

    قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں
    (سورة البقرةآیت177)

    قرآن حکیم کی سورة البقرہ ہی میں ارشاد ہے” (لوگ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں۔ فرما دیجئے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے) مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتے دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“ 

    اللہ تعالٰی نے بھی ہمیں غریب کا احساس کرنے کا حکم دیا ہے
    خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں غریبوں کا احساس، غریب کا ساتھ کر عملی نمونہ بتاتا

    محسن انسانیت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا بلکہ عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی ہمیشہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کرتے

    ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا

    آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے
    جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا
    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے

    اج ہم بھی اگر مل کر اپنے معاشرے میں غریبوں کا احساس شروع کر دیں تو غریبوں کے بچے بھی بھوکے نا سوئیں، ننگے نا گھومیں، اچھے نہیں تو کم از کم سرکاری سکولز میں پی پڑھ سکیں

    ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود اپنے آپ کو پہلے پیش کرنا ہو گا غریب کا ساتھ دینے کے لیے

  • شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    32سالوں میں ہر قسم کی حمایت کے باوجود آج تم لوگ گٹر کا پانی پینے پر مجبور ہو ایم کیو ایم کو گیارہ بار الیکشن جتوانے کی پہلی شرط کوٹہ سسٹم کا خاتمہ تھا مہاجر قومی فنڈ سے حاصل کئے گئے فنڈز سے مہاجروں کے لئے چھوٹے کارخانے لگنے تھے جس میں وہ عزت کے ساتھ نوکری کرنے والے تھے مہاجروں نے تو فنڈ دیا کیا کارخانے لگیں سوال چھوڑے جارہا ہوں مہاجر پورے پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی قوموں میں شمار ہوا کرتی تھی لوگ پورے پاکستان سے تہذیب سیکھنے کراچی آیا کرتے تھے پھر یہ ہوا کہ مہاجر پورے پاکستان میں ٹارگٹ کلرز کی نظروں سے دیکھا جانے لگا 3 مارچ کو واپس آکر مصطفیٰ کمال نے مجھے عزت اور احترام واپس دیا میں اپنے اللّٰہ کے سامنے سرخرو ہو گیا میں مہاجر منجن والوں کا اعلیٰ کار نہیں، مجھے مہاجر ہونے پر فخر ہے لیکن لسانی سیاست کرنے سے اگر فوائد ہوتے تو آج مہاجروں کا یہ حال نہیں ہوتا

    ہم پاکستانی شہری کی حیثیت سے اپنے حقوق کی جدوجہد لسانی سیاست کے بغیر مصطفیٰ کمال کی قیادت میں کریں گے پاکستان میں زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کی بھیک وہ مانگے جن کا پاکستان بنانے والوں کی اولادوں سے کوئی واسطہ نا ہو پاکستان بنانے والوں کی اولادیں پاکستان میں نئی کھینچی جانے والی کسی لسانی صوبے کی لکیروں پر نہیں پورے پاکستان پر حکومت کرنے کا اپنا آئینی حق استعمال کریں گی جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا اور اپنے حقوق آئین کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش میں آپ کو اپنی جدوجہد میں شامل ہونے کی آواز لگاتے رہیں گے میری آواز آپ کے دلوں میں اتارنا میرے رب کی مرضی ہے کیونکہ جب مسجد سے اذان کی آواز لگتی ہیں تو جسے رب العالمین توفیق دیتا ہے وہی نمازوں میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح آواز ہم دیتے رہیں گے آپ کا ہمارے ساتھ شامل ہونا میرے رب کی مرضی پر منحصر ہے

     قوم نے ایک پارٹی کو ہر لحاظ سے سپورٹ کر کے اس کے وفاقی وزیر، صوبائی وزیر اور وزیر داخلہ بنائے مگر وہ ان پولیس والوں کو کیفرِ کردار تک نا پہنچا سکے جن پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا گیا قوم نے ووٹ اور عزت دے کر 14 سال کے لئے گورنر بنایا مگر وہ بھی اس عمل کو بے نقاب کرنے سے قاصر رہا اور مہاجروں کی سپورٹ پر گورنر کا منصب سنبھال کر 14 سال پاکستان کی تاریخ کی سب لمبی گورنری سے ہٹنے کے اگلے ہی دن مہاجروں کو گٹر ملا پانی اور کچرے کے ڈھیر میں چھوڑ کر دبئی کی پر فضا ماحول میں قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اگلی فلائٹ سے روانہ ہوگیا اور آئے دن مہاجروں کو چڑانے کے لئے روز آنے اور ان پر حکومت کرنے کے شوشے چھوڑتا رہتا ہے اور اس گروپ میں موجود لوگ ایک نئی ایم کیو ایم کے قیام کی خبریں دیتے ہوئے خوشی کے ترانے بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں

    شکریہ مصطفیٰ کمال مجھے اپنی قوم سے منافقت کرنے کے دلدل سے نکالنے پر شکریہ میرے شہر میں روز مرنے والی میری قوم کے نوجوانوں کو شہداء قبرستان میں دفنانے سے بچانے پر شکریہ میری قوم کے بیروزگار کو پورے کراچی میں حصول رزق کے لئے نوگو ایریاز ختم کرانے اور حلال رزق کمانے کا راستہ ہموار کروانے کے لئے شکریہ منافقین کے چہروں پر چڑھے معصومیت کے نقاب نوچ ڈالنے کا۔شکریہ مہاجروں کے روز بند ہوتے روزگار کو مستقل جاری رہنے کے اسباب پیدا کرنے کا۔

    شکریہ سالوں سے بچھڑے جوانوں کو ان کے والدین سے ملانے کا۔شکریہ معصوم بچوں کی دروازے پر لگی اپنے والد کے چہرے کو دیکھنے کی آرزوں پوری کروانے کا۔ شکریہ دربدر بھٹکنے والے میری قوم کے نوجوانوں کو سہی راہ پر گامزن کرنے کا اور سب سے بڑھ کر شکریہ مسلمانوں سے لسانیت کے نام پر جاری دہائیوں کی دشمنی کو ختم کرکے بھائی کو بھائیوں کے گلے ملوانے کا۔شکریہ مصطفیٰ کمال .پاکستان ذندہ باد