Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    خود اعتمادی خود پر پختہ یقین کا نام ہے یہ سماجی اور نفسیاتی تفہیم ہے۔ خود اعتمادی اس حالت کو کہتے ہیں جہاں فرد بھرپور اعتماد کی کیفیت میں رہتاہے ۔ خود اعتمادی کے لیے اہم عناصر میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت،عمل کرنے کی صلاحیت اور قوت ہوتی ہے خود اعتمادی ایک ایساجوہر ہے جو خود اعتماد شخص کے ذہن میں ایسی صفات پیدا کردیتا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل کام بھی آسان سمجھنے لگتا ہے اور اس کو مکمل کرنے لئے آخری حد تک اپنی کوشش کرتا ہےاور وہ ہر ذمہ داری کو قبول کرنے اور اس کے نبھانے میں کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کرتا۔ایسے شخص کا چہرہ پر کشش، جازب نظر، گفتار بامعنی اور شخصیت پروقار ہوتی ہے
    یہ خوبی انسان کے بہترین اوصاف میں شمار کی جاتی ہے جس کو خود پر اعتماد ہو وہ انسان اپنی منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے اور اس کے آگے حائل ہونے والی رکاوٹوں سے نہیں ڈرتا ۔خود پر اعتماد کرنے والے لوگ نا صرف زندگی کے ہر میداں کامیاب ہوتے ہیں یہی خود اعتمادی ان کو مضبوط کرتی ہے۔
    خود اعتماد انسان کو اپنے کام اپنی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے مخالف حالات سے ان کے اداروں پر کچھ اثر نہیں پڑتا وہ اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے ہم جیت جائے گے۔ ایسا انسان اپنی خود اعتمادی سے اپنی تقدیرخود بناتا ہے ہار کر بھی جیت کی تلاش میں رہتا ہے خود اعتماد شخص شیشے کی طرح شفافءت پسند ہوتا ہے وہ ناکامی کے بعد بھی اپنی کامیابی کی طرف امید سے دیکھتا ہے ۔

    خود اعتماد شخص ہمیشہ عزت نفس کا قائل ہوتا ہے بہت سے بے بس انسانوں کی خود اعتمادی نے ان کو زندگی میں بلندی تک پہنچا دیا ہے بطور ایک باشعور خود اعتماد اور عزت نفس رکھنے والا شخص ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں اپنی موجودگی کی کوئی اچھی وجہ بنے رہے۔ ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں ہماری عزت برقرار رہے اور انہی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی عزت کو ہم اپنی قدر جانتے ہیں جو شخص خود اعتماد ہوتا ہے وہ عزت نفس کا بھی قائل ہوتا ہے۔
    اپنے اندر خود اعتمادی کیسے بھال کی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا احساس کریں۔ بعض اوقات ایسی چیزوں پر توجہ دیناآسان ہوتی ہے جنہیں آپ حاصل نہ کر سکے ہوں بہ نسبت ان چیزوں کے جو آپ حاصل کر چکے ہیں۔ ایسی چیزوں پر دھیان دے کر جو آپ حاصل نہیں کر سکے آپ آسانی سے اپنا اعتماد کھو سکتے ہیں۔ اپنی زندگی میں مثبت رہیں۔ مثبت سوچے اچھا سوچے ہر کسی کی کچھ خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خوبیوں پر توجہ رکھیں۔ اپنی خوبیوں کا ادراک ہانا چائیے اور اپنی صلاحیتوں کو اپنی خوبیوں کے مطابق ڈھالا جا ئے تو آپ کی خود اعتمادی میں اضافے کا ہوتا ہے اور عزت نفس پیدا ہو گی۔خود اعتمادی ایک ایساوصف ہے جس کے بغیرکوئی بھی خواہ وہ کتنی بھی خوبیوں کا مالک کیوں نہ ہو، کامیاب نہیں ہو سکتا۔ خوداعتمادی ایک صحت مند شخصیت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہےخود اعتمادی ہو توزندگی خوشگوار بن جاتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے کامیابی کی بلند ترین منزلوں کو حاص کرنا آسان ہوتا ہے۔
    آخر میں، اپنی خود اعتمادی کی تعمیر کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرتی رہنی چاہیے اور چھوٹا موٹا خطرہ مول لیتے ہوئے ایسے کام کرنے چاہیئں ہار نہیں منانی چائیے ہار کر بھی جیت کی کوشش جاری رکھنی چاہیئے ایسے کام جو ہم نے پہلے کبھی نہیں کیے ہوتے۔ ہر نئے کام کے اندر ایک چیلنج پوشیدہ ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے چیلنجوں کی وجہ چاہے ہم اس کام کو کرنے میں ناکام رہیں، لیکن ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد آپ کے مسوڑھے میں پھنسے ہوئے پاپ کارن سے لیکر ٹوٹے ہوئے دانت یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ تک کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے۔کچھ دانتوں میں درد عارضی طور پر ھوتا مگر دانتوں کے شدید درد کو دانتوں کے پیشہ ور ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ درد کی جو بھی وجہ ہو اس کو حل کیا جائے۔آج کے کالم میں بتانے کی کوشش کرونگا کے دانتوں کے درد کی وجہ یہ ھوتا کیسے اور اس مناسبت سے اسکا حل و علاج کیا ھونا چاھیئے۔
    دانت کے درد کی ساری وجوہات میں سے چند درج ذیل ھیں
    1۔دانتوں میں کیڑا لگنا
    2۔دانت کا فریکچر ھونا
    3۔ٹوٹی یا خراب فلنگ یعنی بھرائی کا ھونا
    4۔مسوڑوں کا انفیکشن ھونا
    5۔نئے دانت کا بالخصوص عقل داڑھ کا نکلنا
    6۔دانتوں کو رگڑنا گرائنڈ کرنا
    7۔کوی بھی ایسی بیماری یا وجہ جس سے دانت کا کمزور پڑ جانا
    اب آتے ھیں دانت کا درد ھوتا کیسے ھے یہ بات تو صاف ھے کے دانت بذات خود ایک بے جان ھڈی ھے جسکو ٹھنڈا گرم لگنا یا درد کا ھونا ناقابل فہم ھے تو پھر دانت میں کوئی مسئلہ ھو تو درد کیوں ھوتا ھے؟ سنسیٹویٹی کیوں محسوس ھوتی ھے؟اسکی وجہ ھے دانتوں میں موجود Pulp یعنی پلپ یہاں موجود ھوتی تمام innervation عام لفظوں میں ناڑ یعنی nerve supply پس یہی وہ چیز ھے جسکو جب کوی چھیڑخانی ھو تو سردی بھی لگے گی اور گرمی بھی کسی قسم کی انجری ھوی تو درد بھی ھوگا اسکو سمجھنے لئے بتاتا ھوں ایک مریض شدید دانت درد میں آیا اسکا علاج کرنے لئے ٹیکا لگایا جگہ سن ھوگئی دانت کا درد وقتی طور پر غائب ھوگیا یہ درد کیوں غائب ھوا؟ دانت وھی انفیکشن وھی پر تو درد کیسے غائب وہ اسلئے کہ جو ناڑ درد کی زد میں تھی وہ دانت کے اندر pulp میں موجود تھی اور جب وہ سن ھوئی تو درد وقتی غائب ھوگیا یہ pulp دانت کا ڈیفنس سسٹم ھے درد کی شدت جہاں مریض کو سکون سے بیٹھنے نھیں دیتی وھی وہ مریض لئے باعث نعمت بھی ھے کہ اگر یہ محسوس نا ھو اور انفیکشن بڑھتا جائے تو نا صرف دانت بلکہ کئ کیسز میں جبڑا تک لپیٹ میں آجاتا ھے۔

    دانت کے درد کی شدت ایک معمولی سنسناہٹ سے لیکر دل کی تکلیف سے زیادہ تک ھوتی ھے اس شدت کا تعلق بھی اسکی وجوہات میں پوشیدہ ھے دانتوں کے درد دو طرح کے ھوتے ایک درد کو ھم Acute Pain کہتے یہ اچانک ھوتا شدید ترین ھوتا اور فوری علاج بھی مکمل غائب بھی ھوجاتا دوسرا chronic pain کہلاتا یہ پرانا انفیکشن پرانا درد کہلاتا یہ شدت میں کم کسی خاص وقت زیادہ اور کبھی کبھی ھوتا یہ دیر سے ختم ھوتا اکثر دانت کے نکلوانے کیبعد ھی جاکر اس درد کا خاتمہ ھوتا یہ وہ کیسز ھوتے جن کا بگاڑ شوکت خانم ھسپتال جیسے اداروں طرف رخ کرواتے اسکے علاوہ ایک درد جسکو Referred Pain کہتے یعنی ھو کسی اور دانت میں رھا مگر محسوس کسی اور جگہ ھورا ھوتا کہلاتا دانتوں کے درد کا کوی خاص وقت نھیں ھوتا اکثر لوگ جو دانتوں کے مسائل میں گرے ھوتے وہ مجھ سے جب شکایت کرتے انکو رات کے وقت شدید درد ھوتا تو میں انکو سمجھانے لئے بتاتا وہ اسلئے کہ رات کو منہ زیادہ خشک ھوتا تو ایسے میں بیکٹریا کو اپنا پراجیکٹ باآسانی کرنے کو ریلاکس ماحول مل جاتا اسلئے رات سونے سے پہلے نیم گرم پانی نمک ڈال کلی لازمی کریں بہرحال وجوہات کئ تو علاج بھی کئ موجود ھیں انفیکشن ھے کیڑا لگ گیا ھے آدھا ٹوٹ گیا فریکچف ھوگیا تو دانت کا روٹ کینال کرائیں زیادہ خراب ھونے کی صورت نکلوا دیں مسوڑوں کا انفیکشن ھے تو دانت صاف کرائیں ماؤتھ واش توتھ پیسٹ استعمال کریں دانت گرائنڈ کرتے تو اسکے پیچھے جو وجوہات ھیں انکو دور کریں Bells Palsy یا Trigeminal Nuralgia مخصوص nerves کی بیماری ھوتی اسکی وجہ سے منہ میں دانتوں میں شدت کا درد ھوتا یہ باقی دانتوں کے درد سے مختلف اس طرح ھوتا کہ یہ کسی خاص عمل سے ایک دم شروع ھوتا انتہائ شدید ھوتا مگر جلد ختم ھوجاتا جبکہ دانت کا اپنا درد جب ھوا دیر تک رھتا ساتھ کئ کیسزز میں ٹھنڈا گرم بھی ساتھ لگ رھا ھوتا کوی نا کوی دانت کیڑا لگا ھوا ضرور ھوتا اسکا علاج دوائیوں سے لیکر جو ناڑھ زد میں آئی اسکی سرجری تک ھوتا ھے دانتوں کے درد میں وقتی طور انفیکشن کنٹرول لئے دوائیاں دی جاتی اکثر کیسز میں میٹرونیڈازول المعروف flagyl دی جاتی تو مریض کہتا کہ یہ دو معدے لئے ھے تو انکو بتانے لئے کہ کہ antibiotic کوی بھی ھو وہ کسی جسم کے حصے لئے نھیں وہ ھمیشہ مخصوص بیکٹریا لئے ھوتی اب وہ بیکٹیریا اگر منہ میں ھوں یا معدے میں اگر وہ ایک خاص قسم کے ھیں تو دوائ بھی وھی ھوگی درد انفیکشنز کی دوائیاں بھی مختلف ھوتی اس سے اکثر مریض معدے میں جلن اور درد کی شکایت کرتے اسکے لئے معدے کے لئے بھی Antacid ساتھ دیا کرتے گھریلو ٹوٹکوں کے طور پر اکثر لوگ لونگ کا تیل cotton پر لگا کر دانت کے اندر رکھتے نیم گرم پانی میں نمک ڈالکر کلی کرتے اور اسی طرح لہسن کو پیس کر پانی نکال کر cotton ساتھ لگا کر دانت میں رکھ لیتے اس سے وقتی آرام آجاتا

    الغرض دانتوں کے کئی مسائل اور وجوہات کی بنا پر دانتوں میں درد نکل آتا ھے جنکا سدباب بروقت تشخیص اور علاج سے ممکن ھے کسی بھی طور پر کسی درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا بڑی پریشانی اور تکلیف کا باعث بن سکتا ایسی تمام پریشانیوں سے بچنے لئے ڈینٹل سرجن کو لازم چیک کرواکر علاج کرانا بڑی پریشانی و تکلیف سے نجات کا باعث بن سکتا ھے

  • ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    سوال یہ ہے کہ آج مسلم ممالک میں معاشرے میں خواتین کا کردار کیا ہے؟ زندگی کے کن شعبوں میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا خواتین کے کردار میں تبدیلی آرہی ہے خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ ہے۔ اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ کیونکہ ہم خواتین معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں ہمیں خود اپنے دفاع کے لئے کھڑا ہونا ہوگااور اس معاشرے میں اپنے آپ کو منوانا ہوگا کہ ہم ہی ہیں جو اس معاشرے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

    کسی بھی ملک یا ریاست کی تعمیر و معاشی ترقی میں خواتین کا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ اسی طرح خواتین کو بااختیار بنا دیا جائے تو پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ہمارے ملک میں خواتین اپنی جہدِ مسلسل پر گامزن ہیں اور آج بھی انہیں لاتعداد مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے آگے بڑھنے میں صرف نقل وحرکت کی پابندیاں ہی حائل نہیں بلکہ انہیں اجرتوں کے شدید فرق کا مسئلہ بھی درپیش ہے خواتین کے حقوق کو ہمارے ہاں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت پر حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہے کہ موثر پروگرام اور پالیساں وضع کی جائیں اور ان کا نفاذ کیا جائے۔ اس کے علاوہ جو قوانین پہلے سے نافذ ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال میں بہتری لانا بھی انتہائی ضروری ہے۔۔ خواتین کے حقوق کے لئے جنگ جاری رکھنی ہو گی خواتین کے حقوق کے لیے ہمیں نہ صرف قوانین کے ذریعے عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرتے ہوئے جدوجہد کرنی ہوگی یہ ہمارا چیلنج ہے اور خواتین کو امتیازی سلوک اور بدسلوکی کے خلاف جنگ ہم سب کو آگے بڑھ کر لینی ہو گی ہم خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کو خود پہچانا ہوگا

    آج کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور ملک کے بہترین اداروں میں اپنا کردار ادا کر رہی آج کی عورت بدل چکی ہے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہین پاکستان کے آئین میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت
    بھی دی گئی ہے لیکن ان قوانین کے عملدرآمد کے مسائل کی وجہ سے خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں عورتوں کے کون کون سے حقوق شامل ہیں اور خواتین ان قواتین سے
    کیسے اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں اور ان حقوق کی پامالی کرنے پر مجرم کن سزاؤں کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کافی جہگوں پر دیکھا گیا ہے کہ خاص کر پسماندہ علاقوں میں خواتین کو اکثر جائیداد سے بے دخل کردیا جاتا ہے اور ان کو ان کا شرعی اور قانونی حق سے محروم رکھا جاتا۔ ہے لیکن پاکستان کا آئین اس بارے میں بالکل واضح طور پر عورتوں کو ان کا جائیداد میں حق دیا جائے۔
    ہراساں کرنے پینل کوڈ کہ مطابق یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کرے، جس میں ایسےجملے بولے جائے، جو خاتون کو تکلیف پہچائے یا اس کو ہراساں کرے، ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے ایسے خواہ یہ گھر میں ہوں یا دفاتر میں، ایسا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔وہ تمام خواتین جو ان حالات سے گزرنے کے بجائے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے قانونی ذرائع سے انصاف طلب کریں

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • حکومتی لاپرواہی ،تحریر:بسمہ ملک

    حکومتی لاپرواہی ،تحریر:بسمہ ملک

    گزشتہ کئی عرصے سے کئی صحافیوں کے اوپر جانی حملے ہوئے جس کی ایف آئی آر بھی کاٹی گئی لیکن نا تو حکومت کی طرف سے اور نا ہی تفشیشی اداروں کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نا ہی صحافی حضرات کو یقین دہانی کرائی گئی اس حوالے سے چند دن پہلے سٹینڈنگ کمیٹی اف انفارمیشن & ٹیکنجالوجی کے اندر بہت ہی سینئر صحافی ائے تھے جس میں حامد میر، عاصمہ شیرازی، اسد طور وغیرہ شامل تھے تاکہ صحافی حضرات جان سکے کہ حکومت صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کتنے سنجیدہ ہے لیکن بدقسمتی سے ناں تو فیڈرل منسٹرز ائے اور نا ہی چیف منسٹر موجود تھے

    کہا جارہا تھا کہ پرائمنسٹر کسی فنکشن میں بزی ہیں اور وزراء اسی وجہ سے نہیں آئے تھے پہلی بات یہ کہ یہ ایک سیرئیس قسم کا معاملہ ہے اور ان میں سے اگر فیڈرل منسٹرز اور چیف منسٹز اگرآدھا گھنٹہ بھی دے دیتے تو معاملہ حل ہوتا دوسری بات یہ کہ جو ادارے والے آئے تھے ان میں سے جونئیر افیسرز کو بھیجا گیا تھا جن کے پاس کسی قسم کے نا کوئی ثبوت تھے اور نا ہی شواہد تھے کہ یہ معاملہ کس طرح حل کیا جائے گا تیسری بات یہ کہ جو ہمارے سینئر جرنلسٹ آئے تھے ان کو زیادہ پتہ اور معلومات ہیں اپنے کیسز کا اپنے انویسٹیگیشن اور اپنے فنگرپرنٹس کا ،اکثر کے CCTV فوٹیج میں گاڑیوں کے نمبر تک واضح نظر ائے ہیں لیکن جو اداروں کے لوگ آئے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی انفارمیشن نہیں تھی اور نا ہی انہوں نے کوئی پیش رفت کی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کمیٹی کا استحقاق ہے؟ کہ جس منسٹر کو بلائے وہ بالکل اتا ہی نہیں اور نا ہی وہ کمیٹی کو سیرئیس لیتا ہے

    چوتھی بات یہ ہے کہ جو رپورٹ ہے اس کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ پوری قوم کو پتہ چلے کہ حکومت کہاں تک صحافیوں کی تحفظ کرنے میں کامیاب رہی ہے تحریک انصاف والے اقتدار میں انے سے پہلے صحافتی ازادی اور صحافیوں کی تحفظ کی فراہمی کے تو بڑے دعوے سے کررہے تھے اب دیکھتے ہیں کہ اب جب تحریک انصاف برسراقتدار ائی تو کیا وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہونگے؟ کیا تحریک انصاف صحافیوں کے گلے شکوہ دور کرنے میں کامیاب ہوپائے گی؟ یا تحریک انصاف کی باقی وعدوں جیسے صحافیوں والی بات بھی بس صرف باتوں کی حد تک محدود تھی اگے اگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

    Tweeter ID Handel
    @BismaMalik890

  • ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم  .تحریر:صائمہ رحمان

    ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم .تحریر:صائمہ رحمان

    ہماری قوم پاکستانی ایک مضبوط، بہادر مستحکم قوم تصور کی جاتی ہے یوں تو ہم بڑے جوش جذبے سے نعرے لگاتے ہیں قائداعظم محمد علی جناج زندہ باد کے نعرے لگاتے لیکن کیا ہم قائد کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل پیرا ہیں بھی یا نہیں ؟ اتحاد ، ایمان اورتنظیم
    اپریل 1948ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میرے نوجوان دوستو! آپ اپنی شخصیت کو محض سرکاری ملازم بننے کے خول میں محدود نہ کیجئے۔ اب نئے میدان، نئے راستے اور نئی منزلیں آپکی منتظر ہیں۔ سائنس، تجارت، بنک، بیمہ، صنعت و حرفت اور نئی تعلیم کے شعبے آپکی توجہ اور تجسس کے محتاج ہیں۔” آج بھی قائد اعظم کے بتائے اصول ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ قائد اعظم ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنا تمام تر وقت حصولِ علم کیلئے وقف کریں اور اپنے ملک کیلئے حقیقی معنوں میں اثاثہ بنیں اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنالیں۔ آج آدھی صدی گذار چکے ہیں جس ریاست کے قیام کے لئے انتھک جدوجہد قربانیاں دی گئی جس مقصد کے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ہم اس مقصد سے بہت دور ہو چکے ہیں ہم صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں ملک کا نہیں سوچ رہء کیتنی مشکلات کے بعد ہم نے حاصل کیا گیا اور ہم اپنے پاکستانی قوم کی حثییت کیا ہم اہنا اپنے ملک کے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟

    ہم اس ملک کو تخلیق کرنے کے مقاصد ہی نہ پورے کر پا رہے دستور کی تدوین سے لیکر جمہوری اداروں کی تشکیل ہو یا ملکی استحکام سے لے کر داخلی و خارجی پالیسیوں کی ترتیب ہو، سب کچھ ادھورا چھوڑا ہوا ہے کوئی بھی اس ملک کا نہیں سوچ رہا قائداعظم کے فرمان سے ہم پاکستانی قوم بہت پیچھے رہے گئی ہے۔ بس حوسِ اقتدار کی خاطرحکمران قائد اعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے الجھ کر گروہوں میں بٹ چکے ہیں ۔ پاکستان کو ترقی دینے قائداعظم کی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے بجائے نسلی، لسانی، علاقائی اور صوبائی تعصبات کا شکار ہو چکے ہیں ملک میں اب صرف ۔ اقتصادی بحران، دہشت گردی، مہنگائی، کرپشن، اقرباء پروری اور قتل و غارت گری ہے اس سب کا ذمہ دار ہم سب پاکستانی ہیں
    یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کیا ہم وہ سنہری اصول جن کی بنیاد پر پاکستان کو حاصل کیا گیا کیا ہم ان اصولوں پر چل رہے ہیں یعنی محبت، یقین محکم، تحمل اور برداشت آج ہم نے خود ان اصولوں کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ رہے ہیں کیا ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم وقت کی پابندی کرتے ہیں ؟ قانون پر چلتے ہیں؟

    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم واقعی زندہ قوم ہیں ؟یا یہ ایک نغمہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
    علامہ اقبال نے کہا تھا؛ نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
    کہ صبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں۔۔۔
    ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہم نے پاکستان کی ترقی کے لئے کیا کیا ہے یہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ کیا بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم نے کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ سرانجام دیا ہے جو زندہ قوموں کا شیوہ ہوتا ہے ؟
    شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس پاکستانی قوم کو اٹھانے کے لئے کے لئے اپنی ساری زندگی صرف کر دی۔ بڑی مشکل سے یہ قوم جاگی اور بالآخر پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیربنایالیکن بد قسمتی دیکھئے کہ یہ قوم بلا آخرپھر سو چکی ہےنہ انہیں اپنی خبر ہے اور نہ کسی اور کی خبر ۔
    اگر ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم سچے دل سے صرف پاکستان کا سوچئے تو یہ ملک بہت ترقی کرسکتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ایسی کوئی کمی نہیں بس اس ملک سے سچی محبت کرنے والے لوگ چاہیے جو اس ملک کو ترقی کی طرف لے جائے اور ہم پر فرض ہے ہم اس کو سنھبانے اور اس لو ٹنے کے بجائے اس کی حفاظت کرے کیوں کہ یہ ملک ہیں تو ہم ہیں۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    آج سے دس سال پہلے جب میں نے ڈینٹل پریکٹس شروع کی تو تب سے اب تک روزانہ ھر قسم کے دانتوں کے مرض سے جڑے لوگوں کا چیک اپ کیا پہلے پہل سال میں ایک آدھ کیس ایسا آتا جس میں مریض کو منہ کے کینسر کا مرض لاحق ھوتا پھر یوں ھوا کہ کچھ عرصے سے اب قریبا روزانہ نھیں تو ایک آدھ دن چھوڑ کر مجھے ایسے مریضوں کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے اس خیال سے کہ شاید یہ اتفاق ھو میں نے اور بھی اپنے دوست ڈینٹل سرجنز سے اس بارے میں جانکاری لی انھوں نے بھی کچھ ایسے ھی پیٹرن کا ذکر کیا سول ھسپتال اور بڑے سرکاری اداروں میں تناسب انتہائ زیادہ ھوچکا ھے دو دن پہلے باغی ٹی وی سے برادرم ممتاز اعوان اور انکے ساتھیوں کو کینسر اور سیگرٹ نوشی پر کی ایک کمپیئن پر دیکھا تو سوچا اس ٹاپک پر میں بھی ضرور لکھوں
    کینسر کی کئی اقسام ھیں اور کئ وجوہات ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ idiopathic جسکو ھم کہتے کہ نامعلوم وجہ کہتے وہ ھے اسکے علاوہ tobacco یعنی تمباکو ھے radiation یعنی شعائیں arsenic food یعنی کیمیکل سے بنے کھانے ھی کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک ھے
    کینسر دو طرح کے ھوتے Benign یعنی نا پھیلنے والا اور Malignant یعنی پھیلنے والا دونوں ھی خطرناک ھیں مگر ملیگننٹ کینسر عمومی طور پر اگر فوری علاج نا کیا جائے تو وہ جان لیوا ثابت ھوسکتا میں اس کالم میں صرف منہ کے کینسرز پر ھی بات کرونگا کیونکہ میرا تعلق اس شعبے سے تو اسکو سمجھانا میری ڈومین میں ھی آتا منہ کے کینسر مختلف قسم کے ھوتے
    منہ کے فلور پر زبان پر ھونٹوں پر اوپر والی ھڈی پر نیچے والے جبڑے پر یہ مختلف ھوتے اور ھر ایک کی وجہ مختلف ھوتی
    سب سے زیادہ 90 فیصد جو منہ کا کینسر مریض کو لاحق ھوتا اسکو Squamous cell carcinoma کا نام دیا گیا یہ زیادہ تر زبان پر ملیگا اکثر زبان پر چھوٹے سے چھوٹا زخم بار بار چھیڑنے یا irritation سے اس کینسر میں تبدیل ھوجاتا اگر اس کینسر کا بروقت علاج نا کرایا جائے تو یہ جان لیوا ھوتا اکثر کیسز میں اسکو ختم کرنے لئے سرجری کرنی پڑتی جس میں جبڑے تک کو ریمو کرنا پڑسکتا

    منہ کی کوی بیماری ھو خدارا اسکو معمولی نا سمجھیں دانتوں کا چھوٹے سے چھوٹا انفیکشن کب بگڑ کر کینسر کی شکل اختیار کرلے کوئی نھین جانتا مریض کو جب یہ بتایا جاتا کہ کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک وجہ سگریٹ نوشی تمباکو نوشی پان گھٹکا چھالیہ ھے تو اس پر مریض ایک عذر دیتا کہ چھوڑ نھیں سکتے یا اتنی دنیا پیتی ھے انکو کیوں نھیں ھوتا اور ایک عذر کی گورنمنٹ اسکو بین کیوں نھیں کرتی

    تو پہلا عذر کے عادت نھیں جاتی تو یہ ایک حقیقت ھے کہ سگریٹ تمباکو ایک ایسا نشہ ھے جسکو چھوڑنا ناممکن نا سہی مگر مشکل ضرور ھے میں نے کئ لوگ دیکھے وہ کسی ایک بات پر مصمم ارادہ کرلیتے اور پھر پورا کرتے یہ کوی ھیرویئن چرس جیسا نشہ تو ھے نھین کہ اسکو چھوڑنے پر سائیڈ ایفکٹ میں بندا بیمار پڑجائے یا حالت غیر ھوجائے میرے پاس ایک مریض دانت صاف کرانے آیا میں نے پوچھا سگریٹ پیتے تو کہتا پیتا تھا روز دو ڈبیاں خالی کردیتا تھا مگر جب ایکبار بیٹے نے کہا پاپا مت پیئں مجھے اچھا نھیں لگتا تب سے چھوڑ دیا دس سال ھوگئے اس بات کو تو یہ مثال میں یہاں ان لوگوں کو دے رھا جو ارادہ کرنے کی نیت تو کرتے مگر حوصلہ نھیں کرپاتے اسی طرح ایک مریض میرے پاس آیا میں نے کہا سیگریٹ چھوڑ دو آج اکیلے علاج کرانے آئے ھو کل یہ نا ھو کسی سہارے سے علاج کرانے جاو تین سال بعد میرے پاس آیا کہتا ڈاکٹر صاحب آپکی اس بات نے دل میں چوٹ دی قسم کھائی کہ سیگریٹ نھیں پیئونگا

    تمباکو اصل میں جسم کے ٹیشوز کی لائٹنگ کی ساخت تبدیل کردیتا جس پر یہ کینسر با آسانی حملہ آور ھوجاتے تو یہ وہ دوسری وجہ کہ مجھے کیوں ھوگیا کا جواب ھے کہ ھر انسان کا دفاعی نظام کینسرز سیل کے مقابلے میں مختلف ھوتا کسی کو ایک سیگریٹ ھی موت کے دھانے لے جاسکتا تو کسی کئ ھزار ڈبیاں بھی کچھ نھیں کہتی کسی کو چند ھفتوں بعد مسئلہ بن جاتا تو خودکشی کرنے کی اس کوشش کو جاری رکھنا حماقت ھے تیسرا عذر کہ گورنمٹ کچھ کیوں نھیں کرتی تو یہ ایک واقعتا قابل فکر امر ھے کہ گورنمنٹ ھر سال سیگریٹ پر ٹیکس تو بڑھاتی جاری مگر اس پر پابندی نھین لگاری ھونا تو یہ چاھیئے ھر قسم کے تمباکو پر مکمل پابندی لگائ جائے مگر بہرکیف ایسا پوری دنیا میں کہیں نھین ھورا تو اسکا مطلب ھے کہ مشتری ھوشیار باش جر شخص احتیاط خود کرے دوسرا ھر شخص کو سوچنا چاھیئے کہ کوی اگر زھر بیچ رھا ھو تو کیا آپ وہ خریدلوگے آپ مفت بھی نھین خریدو گے تو پھر سیگریٹ پان گھٹکا چھالیہ کو چھوڑنے کا ارادہ کریں اور جان چھڑائیں اس عادت سے

    یہاں پر شاباش دیتا ھوں ایسی تمام این جی اوز فلاحی اداروں کا جو سگریٹ تمباکو کیخلاف اٹھ کھڑے ھوئے ھیں لوگوں میں شعور پیدا کر رھے ایسے میں باغی ٹی وی کی تعریف نہ کرنا صریحا زیادتی ھوگی

  • کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابوں کی اہمیت اور ضرورت کسی بھی دور میں ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ کتابیں ہماری بہترین دوست ہوتی ہیں۔ اور ہمیں سیر کرواتی ہیں معلومات کا بہترین ذریعہ ہے لیکن ہر شخص اس بات پر متفق ہے کہ مطالعہ کرنے سے علم و معلومات میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہر شخص مطالعہ نہیں کرتا البتہ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں وہ اس سے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں مطالعہ نہ کرنا بہت دیکھا جارہا ہے لوگوں میں کتب بینی کا شوق ختم ہوتا جا رہا ہے لوگ زیادہ محنت کرنے کے بجائے انٹرنیٹ سے معلامات حاصل کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں بعض لوگ اپنی ملازمت سے مطمئن ہوکر مطالعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تجارت پیشہ افراد اپنی کاروباری مصروفیات کا بہانہ بناتے ہیں اور جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر افراد بے ترتیب مطالعہ کرتے ہیں، کبھی کوئی کتاب اٹھالی، کبھی کوئی کتاب دیکھ لی، اس لئے مطالعہ کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر ۔ہم کتابوں کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں اس کے لئے ہمیں سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں کتابوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کتابیں پڑھنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، اور وہ فوائد زندگی بھر قائم رہ سکتے ہیں۔ وہ ابتدائی بچپن میں شروع ہوتے ہیں اور سینئر سالوں تک جاری رہتے ہیں۔ یہاں ایک مختصر وضاحت دی گئی ہے کہ کتابیں پڑھنا آپ کے دماغ کو اور آپ کے جسم کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔پڑھنا آپ کے ذہن کو لفظی طور پر بدل دیتا ہے۔ مصروف رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
    ایم آر آئی اسکین کا استعمال کرتے ہوئے ، محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پڑھنے میں دماغ میں سرکٹس اور سگنلز کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آپ کی پڑھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی جاتی ہے ، وہ نیٹ ورک بھی مضبوط اور زیادہ نفیس ہوتے جاتے ہیں۔
    کہانیاں جو کرداروں کی اندرونی زندگی کو دریافت کرتی ہیں – دوسروں کے جذبات اور عقائد کو سمجھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو طالب علم چھوٹی عمر سے باقاعدگی سے کتابیں پڑھتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ بڑی ذخیرہ الفاظ تیار کرتے ہیں۔

    کتابیں پڑھنے کے فوائد یہ آپ کی زندگی پر کس طرح مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔دماغ کو مضبوط کرتا ہےالفاظ کی تعمیر کرتا ہے۔علمی زوال کو روکتا ہےتناؤ کو کم کرتا ہےڈپریشن کو دور کرتا ہے۔
    اکثر کتابیں پڑھنے کے فوائد کو نہیں سمجھتے ، کچھ کہتے ہیں کہ یہ وقت کا ضیاع ہے ، کچھ اسے بورنگ سمجھتے ہیں ، اور بہت سی وجوہات کی بنا پر لوگ یقین رکھتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ذہنیت ہے کہ کتابیں پڑھنا اتنا مفید نہیں ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ، صرف ایک وقت کا ضیاع ، توانائی کا ضیاع ، تاہم حقیقت اس طرح کی ذہنیت کے برعکس ہے ، اس کی مختلف وجوہات ہیں کیوں کہ پڑھنا بہت اہم اور فائدہ مند ہے۔
    کتب بینی آپ کو نئی چیزوں ، نئے طریقوں ، نئی تفہیم ، نئی معلومات ، حالات کو سنبھالنے کے نئے طریقے اور ان کو حل کرنے کے نئے طریقوں سے روشناس کراتا ہے ، پڑھتے ہوئے آپ چیزوں کو مختلف نقطہ نظر سے سمجھتے ہیں ، اس سے آپ کو دنیا اور اپنے آپ کو ایک مختلف انداز میں سمجھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ، پڑھنے سے آپ کو اپنے مشاغل معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، اور آپ ایسی چیزوں کو دریافت کر سکتے ہیں جو بالآخر آپ کا کیریئر اور مستقبل میں کامیابی بن جاتی ہیں
    پڑھنا آپ کو اپنے آپ کو مختلف طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے ، یہ آپ کے ذہن کو کھولتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے میں مدد دیتا ہے ، اور آپ کو زندگی کے مختلف مثبت پہلوؤں کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اور دنیا کو زیادہ صحیح طریقے سے سمجھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ پڑھنا آپ کو ہوشیار بناتا ہے۔انسانی تہذیب کے ارتقاء داستان کتاب اور کتب خانوں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی یہ سب تاریخ ان کتابوں میں بند ہیں تحریروں اور دستاویزات کے ان ذخیروں کو جس جگہ محفوظ کیا گیا وہی کتب خانے کی ابتدائی شکل تھی۔
    کتب خانےپہلا اور اہم فائدہ مفت کتابیں مل جاتی ہے کتب خانے یعنی لائبریری کو کتابوں کا خزانہ کہنا غلط نہیں ہو گا جی ہاں! مفت کتابیں! ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ لائبریریاں آپ کو کتابیں بالکل مفت میں لینے دیتی ہیں۔ آپ کو کسی بھی کتاب کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو آپ ادھار لیتے ہیں۔ وہ لوگ جو شوق سے پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کتابیں بہت مہنگی ہوسکتی ہیں اور اگر آپ کوئی خریدنے جاتے ہیں تو آپ کی جیب میں بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک بار پڑھنے کے لیے کتابیں خریدنا حماقت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ آپ کو صرف ایک مہنگی کتاب کیوں خریدنی چاہیے تاکہ اسے بیکار بنا سکیں جب آپ اس کے ساتھ کام کر لیں۔ ہوشیار انتخاب کریں اور مقامی لائبریری کی طرف جائیں اور جتنی کتابیں آپ لے سکتے ہیں ادھار لیں۔ یہ بہت مفید بھی ہے کیونکہ آپ کے پاس کتابیں حاصل کرنے کی کوئی حد نہیں ہوگی اور آپ اس کے مکمل ہونے کے بعد اس کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور پڑھنے کے لیے ایک نئی کتاب حاصل کر سکتے ہیں۔ کتاب پڑھنے کی خواہش کو صرف اس لیے ختم نہ کریں کہ یہ مہنگی ہے۔ لائبریری کارڈ حاصل کریں اور لطف اٹھائیں۔
    ہر قسم کی کتابوں کی دستیابی۔ لائبریری کتابوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آپ کو یہاں ہر قسم کی کتابیں مل سکتی ہیں۔ مختلف نوع کی کتابیں جیسے سائنس فکشن ، افسانہ اور بہت کچھ لائبریری میں لوگوں کے لیے ادھار لینے کے لیے رکھا گیا ہے۔ آپ لائبریری میں موجود کتابوں کو بہت سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی تحقیق میں مدد کے لیے دیگر حوالہ کتابوں کے ساتھ مطالعہ کرنے میں مدد کے لیے ٹیکسٹ بکس استعمال کر سکتے ہیں۔ مختلف قسم کی کتابوں کی دستیابی آپ کی زندگی کو آسان بنا دے گی کیونکہ آپ کو پورے شہر میں کتابیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایک چھت تلے ہر چیز مل سکتی ہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • جرم کسی جنس کی میراث نہیں تحریر:اقصٰی یونس

    جرم کسی جنس کی میراث نہیں تحریر:اقصٰی یونس

    کچھ مہینے پہلے ایک واقعہ نظروں سے گزرا ۔ اور وہ کہانی اور وہ واقعہ دیکھ کر ہر فرد چاہے مرد ہو یا عورت ایک بار ضرور پورے قد سے ہلا ہوگا کیونکہ مرد کا یہ بھی روپ اس دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہی بیٹی کو کئی ماہ تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہے اور اسی باپ سے بیٹی چھ ماہ کی حاملہ تھی ۔ اور پھر بھی وہ بھیڑیا نما مرد اس بات سے انکاری تھا کہ اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ غلط کیا۔ بجائے اپنی غلطی ماننے کے وہ اپنی ہی بیٹی پہ الزامات اور تہمتوں کی بوچھار کر رہا تھا ۔ لیکن بھلا ہو ٹیکنالوجی کا کہ ڈی این اے ٹیسٹ نے سارے رازوں سے نہ صرف پردہ اٹھایا بلکہ مرد کا وہ چہرہ بھی دیکھایا جیسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے ۔ ہاں شاید مرد کا یہ روپ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے ۔

    اور انہی آنکھوں نے ایک ایسا منظر بھی دیکھا کہ بیٹی نے اپنے کسی آشنا کے ساتھ مل کر باپ کو موت کی میٹھی نیند سلا دیا ۔ اور وہ قتل فقط اس لئے کیا گیا کہ باپ نے اپنی بیٹی کو دنیا داری ، صحیح غلط کی تمیز سکھاتے ہوئے گناہ کی دلدل میں جانے سے روکا تو بیٹی نے اپنے ہی قبیح ہاتھوں سے اپنے باپ کا گلا دبا دیا ۔ میں حیران تھی اور پریشان بھی جب عورت کا ایسا گھنوؤنا روپ دیکھا ۔ مگر شاید چشم فلک کے مقدر میں یہ بھی دیکھنا باقی تھا ۔

    خواتیں کی ایک محفل میں ہر عورت زور و شور سے خود کا با وفا اور مرد کو بے وفا ثابت کرنے میں بازی لے جانا چاہتی تھی ۔ اور یہ نیک خیالات کا اظہار یوں کیا جا رہا تھا کہ مرد عورتوں کو اپنی طرح دھوکے باز سمجھتے ہیں۔ اور وفا تو انکے خمیر میں ہی شامل نہیں ۔اسی لیے انہیں لگتا ہے کہ ان کا رشتہ خطرے میں ہے اور اسی شک میں زندگی گزار دیتے ہیں کہ کہیں اس کی بیوی کو کوئی دوسرا شخص پسند نہ آ جائے اور یہ بھی کہ صرف عورت کے کردار پہ بات کی جاتی ہے مرد کو تو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔

    اسی طرح ایک مردوں کی محفل جس میں زیر بحث عورت کی ذات تھی اسکا احوال بھی کچھ مختلف نہ تھا بس وہی روایتی باتیں کہ عورت فریبی ہے بری ہے اور دنیا کے سارے فتنے عورت کی ذات سے ہی جڑے ہیں ۔جس میں عورت کے لباس سے لے کر اسکے خدوخال تک کو زیر بحث لانے کے بعد نتیجہ وہی نکلتا ہے کہ سارے فتنے ، فساد اور گناہوں کی جڑ تو عورت ہی ہے ۔

    عورت اور مرد معاشرے کا انتہائی اہم اور خوبصورت حصہ ہیں اور دونوں مل کر نہ صرف ایک خوبصورت گھر بلکہ ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں ۔مرد کے کئی روپ ہیں اور مرد ہر روپ میں بہترین ساتھی ثابت ہوتا ہے یہی مرد باپ کی شکل میں ہے تو فرشتہ ہے بھائی کی شکل میں ہے تو محافظ ، شوہر کی شکل میں ہے تو ایک محبت کرنے والا اور ساتھ نبھانے والا ساتھی اور بیٹے کی شکل میں ہے تو محبت اور مان ہے ۔اور بھی کئی رشتے ہیں جو اس مرد سے وابستہ ہوتے ہیں کہیں پہ دوست ہے تو کہیں پہ بھتیجا بھانجا غرض ہر شکل میں مرد ایک بہترین ساتھی ہے ۔

    جبکہ دوسری جانب عورت وہ ہستی ہے جو مکان کو گھر میں تبدیل کرتی ہے عورت اگر ماں ہے تو سراپا محبت ۔ جبکہ عورت بہن ہے تو بھائی کیلئے ایک مان ہے اگر بیوی ہے تو سراپہ وفا اور اگر بیٹی ہے تو سراپہ رحمت ۔ اسی طرح عورت بھی ہر روپ اور ہر مقام پہ سراپہ محبت وفا اور قربانی ہے ۔ چشم فلک نے ایسی بھی عورت دیکھی جس نے اپنے ساتھی کو اسکی تمام تر کمزوریوں اور معذوری کے باوجود اپنے شریک سفر کا دایاں بازو بنی۔

    دھوکے بازی کسی جنس کی میراث نہیں ہوتی ہے۔ اخلاقی برائیوں کا ٹائیٹل کسی ایک صنف پر نہیں لگایا جاسکتا۔ جیسا کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کو ہمیشہ ظالم اور دھوکے باز ہی پیش کیا جاتا ہے۔جبکہ عورت پہ بے وفائی کا ٹائیٹل لگایا جاتا ہے ۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی کے حقوق کی بات کرتا ہے تو اس میں توازن کا عنصر کھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم خواتین کے حقوق کا پرچار کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور وہ بھی اس معاشرے میں ویسے ہی پس رہے ہیں جیسے کہ خواتین۔ اور اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں کہ عورت کے زیادہ تر مسائل عورت ہی نے کھڑے کئے ہیں ۔ جیسے جہیز ، گھریلو تشدد وغیرہ جس میں مرد سے زیادہ کرداد عورت کا ہوتا ہے ۔

    اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم ایک پدر شاہی معاشرے کا حصہ ہیں،جہاں خواتین کو ویسی طاقت اور آزادی حاصل نہیں جو مردوں کو ہے۔ لیکن اس صورت حال کو کچھ دیگر پہلوؤں سے دیکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں۔ پوری دنیا میں انیسویں صدی سے جہاں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد شروع ہوئی، وہیں مردوں کے حقوق کی تنظیمیں بھی انیسویں اور بیسویں صدی میں اپنی آواز بلند کرنا شروع کرتی رہی۔ مردوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی کچھ تنظیمیں صرف اس لیے وجود میں آئیں تاکہ وہ خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے مدمقابل آسکیں۔ اور فقط یہ ایک مقابلے کی دوڑ تھی اس تنظیم کا موقف یہ تھا کہ معاشرے میں خواتین سے زیادہ مرد ظلم کا شکار ہیں اور وہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں تعصب کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگوں میں ہلاک ہونے والے مرد ہی ہوتے ہیں اور کوئلے کی کان میں جا کر سخت ترین کام بھی مرد کرتے ہیں۔ ان پر جنسی زیادتی کے جھوٹے مقدمات بنا کر انہیں بدنام بھی کیا جاتا ہے۔

    جبکہ اگر عورت کی بات کی جائے تو وہ ظلم کی چکی میں ہمیشہ پستی آئی ہے ، کبھی غیرت کے نام پہ قتل ہوئی تو کبھی قتل کے مقدمے میں ونی کی گئی ۔ کبھی اسکی عزت کو نیلام کیا گیا تو کبھی اسکو جنسی حوس کا نشانہ بنایا گیا ۔ لیکن یہ معاملات فقط پاکستان تک محدود نہیں جنسی اور ہراسانی کے واقعات کی تعداد کا موازنہ اگر یورپ سے کیا جائے تو اب بھی پاکستان میں حالات اتنے حالات اتنے سنگین نہیں ۔ جبکہ مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور انکے بھی مسائل ہیں ۔

    ہم ایک پدر شاہی معاشرے میں رہتے ہیں ۔
    ‎جناب پدرسری کا مطلب ہے ایسا معاشرہ جہاں والد یا گھر کا کوئی مرد خاندان کی نگہداشت کرتا ہے لیکن جدید معاشرے کی خواتین اس کا کچھ یوں مطلب لیتی ہیں ’ایسا معاشرہ جہاں سارے نظام کی باگ ڈور مردوں کے ہاتھ میں ہو اور خواتین کو اس سے دور رکھا جاتا ہو‘۔
    ‎گذشتہ چند برسوں سے خواتین کی ایک بڑی تعداد مارچ میں مارچ پر نکلتی ہے۔ زیادہ تر بڑے شہروں کی خواتین اس مارچ کا حصہ بنتی ہیں اور اسی نعرے کا پرچار کرتی نظر آتی ہیں کہ عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیے جائیں اور انہیں کسی بھی صورت مرد حضرات سے کم تر نہ سمجھا جائے۔
    ‎بطور مسلمان اور بطور پاکستانی آپ سب ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ قرآن اور پاکستان کے آئین میں خواتین اور مردوں میں تفریق نہیں۔

    ‎قرآن میں عورتوں اور مردوں کو علیحدہ علیحدہ مخاطب کیا گیا ہے بلکہ ہمیشہ ہی اے ایمان والوں! کہہ کر پکارا گیا۔ اسی طرح ملک کے آئین میں بھی فرد کی بات کی گئی ہے یعنیٰ معاشرے کا ہر فرد عورت اور مرد برابر ہے۔
    ‎اب معاشرے کی بات چل نکلی ہے تو ذرا پاکستانی معاشرے کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں واقعی گھر کا سربراہ مرد ہوتا ہے اور اس کی کفالت میں بیوی بچوں کے علاوہ والدین ہوتے ہیں۔
    ‎وہ ہر دُکھ سُکھ اور خوشی وغم کے موقعے پر خرچہ کرتا ہے۔ اپنی آمدنی کا ایک حصہ خصوصی تقریبات کے لیے صرف کرتا ہے اور جب بیٹی یا بہن کی شادی کرنا ہو تو اپنی حیثیت سے بڑھ کر اور بہت مرتبہ اُدھار کا بھار اُٹھا کر جہیز پورا کرتا ہے۔ ہمیشہ وہ اپنی ذات سے زیادہ اپنے سے منسلک عورتوں پہ خرچ کرتا ہے ۔
    بسا اوقات مرد کو ایک اے ٹی ایم مشین سمجھا جاتا ہے ۔
    ‎اب ذرا گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر حالات پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کی نشستیں مخصوص ہیں۔ ان کی عظمت و عزت اور غیرت کے پیش نظر ان کے ساتھ نہ کسی مرد کو بٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی خواتین کی طرف سے بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
    ‎اگر کسی کمپنی میں شفٹس کی صورت میں نوکری کی جاتی ہے تو نائٹ شفٹ میں صرف مرد حضرات سے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ اگر مزدوری کی بات جائے تو یہ کام بھی صرف مردوں کے ذمے ہے۔
    ‎وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھی آج تک صرف مرد فوجی ہی جان سے گئے۔ ایک بھی نشان حیدر کسی خاتون کو نہیں ملا، اللہ کرے وہ دن بھی آئے کہ ایک نشان فاطمہ کا اعلان کیا جائے اور وطن کی بیٹی کو دیا جائے۔
    اور اگر بات جنسی حراسانی کی آئے تو عورت عورت کارڈ کے نام پہ اگر ہراسمنٹ کا ڈرامہ رچاتی ہے اور پورا معاشرہ بغیر کسی تحقیق اورتفتیش کے اس عورت کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے اور صرف یہی نہیں کبھی کبھار صرف ایڈونچر کے نام پہ لڑکیاں کسی بھی راہ چلتے شخص کی تصویر بنا کر اسے سوشل میڈیا پہ ڈال کر تماشہ دیکھتی ہیں ۔

    بہرحال جب کسی جرم یا گناہ کی بات کی جائے تو ہم شدت پسندی کا تاثر دیتے ہوئے سارے قصور مرد کے زمے لگا کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں جبکہ کسی بھی جرم کا تعلق جنس سے نہیں ہوتا ۔ معاشرے میں بری عورتیں بھی موجود ہیں اور مرد بھی لیکن اسی معاشرے میں رہنے والے مرد اور عورت کے کرداد نہایت خوبصورت ہیں ۔ تو کسی بھی ایک برے مرد کی وجہ سے #Allmenaretrash کا ٹرینڈ چلانے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ معاشرہ مختلف طرز اور مزاج کے لوگوں سے بنتا ہے جس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور یہی ایک معاشرے کی خوبصورتی بھی ہے کہ جہاں اگر ایک مرد ہراس کرتا ہے تو 1 لاکھ مرد آپکی آواز بن کر انصاف کے طلبگار بھی ہوتے ہیں ۔ جب اس آرٹیکل کو لکھتے ہوئے میری میں نے مختلف مردوں کی آرا جانی تو یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور دکھ بھی کہ مرد کو نہ تو اپنے حقوق کی زیادہ فکر ہے اور نہ ہی انکی جستجو ۔ بہت سے مردوں نے بات کو بس یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ہمیں حقوق نہیں چاہیے بس یہ معاشرہ ہماری محنت اور لگن کو تسلیم کرکے ہمیں عزت دے یہی ہمارے لئے کافی ہے۔ تو عزت اور احترام مرد اور عورت دونوں کی ضرورت بھی ہے اور حق بھی ۔ اس معاشرے کا ایک باشعور فرد ہونے کی حیثیت سے آج یہ عہد کریں کہ ہم ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتے ہوئے ہمیشہ جرم اور مجرم کو الزام دیں گے نہ کہ کسی بھی جنس کو ۔<Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • نور  بھی  کسی  گھر  کی  آنکھ  کا  تارا  تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    آج کل کے ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں انسان کا Exposure اتنا ہو گیا ہے کہ چھ سال کے بچے کو آج اتنا پتا ہے جو ساٹھ سال کے بزرگ کو نہیں پتا اور ہر لمحہ خبر اور دنیا میں پے در پے ہونے والی زیادتی کی خبروں نے اس حد تک ناظرین کے دماغوں کو بے حس کر دیا ہے کہ اللہ کی پناہ۔۔ کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے۔ ہم اسے کے بارے میں ایک لمحہ سوچتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
    لیکن ان انکشافات پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں تھوڑا سا آپ کے ضمیر کو جھنجوڑنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں نور مقد م صرف ایک کیس نہیں ہے بلکہ ایک جیتی جاگتی اور ہنستی کھیلتی لڑکی کا نام تھا۔ لوگ کہتے ہیں نور مقدم کیس پر تو مٹی ڈل گئی ہے۔ عائشہ کا کیس آگیا ہے، لاری اڈا چنگچی والا واقعہ پیش آ چکا ہے۔وہاڑی سے آنے والی ماں اور بیٹی کی لاہور میں دن دیہاڑے آبرو ریزی ہو چکی ہے۔
    اب تو یہ کیس پرانا ہو گیا ہے۔ نہیں نور مقدم کا کیس اس وقت تک پرانا نہیں ہو گا جب تک ظالم درندے کو پھانسی اور اس کے سہولت کاروں کو سزا نہیں ہو جاتی۔ اس ظالم درندے کو کس نے اتنی ہمت دی کہ اس نے ایک معصوم کا سر تن سے جدا کر دیا۔ کس کی شہ پر ، کس طاقت کے نشے میں وہ اتنا مطلق العنان سوچ کا مالک ہو گیا تھا کہ اس نے ایک بچی کو ذبحہ کر ڈالا۔ کیا اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد کیسے اس صورتحال سے نکلے گا۔ وہ کیسے اپنے آپ کو پھانسی کے پھندے سے بچائے گا۔ یقینا سوچا ہو گا لیکن پھر اس نے یہ بھی سوچا ہو گا کہ میرے بابا اسے سنبھال لیں گے۔ ان کے پاس ایسے لوگ ہیں جو لاش کو ٹھکانے لگانے کی کابلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کوئی مسئلہ نہیں میں نور کو ختم کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھاوں گا۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ سب کی لاڈلی تھی ۔
    23 october کو یعنی قتل کے تین ماہ بعد جب اس کی سالگرہ اآئے گی تو اسکے گھر والے اور دوست اسے یاد کر کے کتنا روٴیں گے۔ وہ نور مقدم جو جہاں جاتی تھی اپنی ملنساری سے دل جیت لیتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا اپنے دوستوں کے لیے شوق سے لے جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو ہر روز اپنے والد کو پھل کاٹ کر دیتی تھی۔وہ نور مقدم جو مہمان آنے کی صورت میں آپنی ماں کی مدد کرتی تھی۔وہ نور مقدم جو اآپنے والدیں کے ساتھ ہر رشتے دار کے گھر جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی بڑی بہن سے آٹھ نو سال چھوٹی ہونے کے باوجود اس کی بہترین دوست تھی وہ نور مقدم جو اپنے بھانجے کی بہترین دوست تھی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے، کئی کئی گھنٹے اس کے ساتھ کھیلتی تھی۔وہ نور مقدم جو دنیا بھر میں گھومنے کے باوجود پاکستان سے پیار کرتی تھی اور پاکستان میں رہنا چاہتی تھی اور بیرون ملک اپنے رشتہ داروں کو بھی پاکستان میں رہنے کی ترغیب دیتی تھی۔وہ نور مقدم جسے پینٹنگ کا شوق تھا اور اس کے ہاتھ سے بنائی ہوئی پینٹنگ آج بھی اس کے گھر میں لگی ہوئی ہیں۔وہ نور مقدم جو کسی کو بھی دکھی دیکھ کر غمگین ہو جاتی تھی اور دوسروں کو Comfortable کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور یہی چیز اس کی جان لے گئی۔
    ایک منٹ کے لیے رکیں اور سوچین نور کی کتنی عادتیں ہماری بیٹیوں سے مشترک تھی اگر آپ ایک دفعہ بھی نور سے ملے ہوتے تو آپ کو نور میں اپنی بیٹی نظر آتی۔۔کیا ہم اپنی بیٹی کے قاتلوں کو اس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں۔ نہیں بلکل نہیں۔نور قدم کیس کے حوالے سے میں مسلسل آپ کو اپ ڈیٹ دیتا آرہا ہوں۔
    اورہر روز ایک نئی گتھی جہاں سلجھتی ہے وہاں کئی گتھیاں الجھ جاتی ہیں۔اس وقت نور مقدم کیس میں درندے ظاہر جعفر اس کے والدین، تین نوکر سمیت پانچ اہلکار تھراپی ورکس کے اور چھٹا مالک گرفتار ہے۔بائیس سے زائد لوگوں کے بیانات قلم بند کروائے جا چکے ہیں۔ DNAFinger prints سمیت کئی فرانزک آچکے ہیں جبکہ لیپ ٹاپ کا فرانزک بقایا ہے۔ آج نور مقدم کو قتل ہوئے ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے درندے ظاہر جعفر کے فون کے ڈیٹا کا کچھ اتا پتا نہیں آخری اطلاع کے مطابق وہ ایف آئی اے کے حوالے کیا جا چکا ہے اور اس کی سکرین ٹوٹی ہوئی ہے۔
    ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت ایک دفعہ ریجکٹ ہو چکی ہے اور دوسری دفعہ کے لیے وہ مناسب وقت کے انتظار میں ہیں ۔ وہ اس وقت کے انتظار میں ہیں کہ قوم اس بچی کو بھولے اور وہ کرپٹ سسٹم کو اپنی مرضی کے مطابق گھمائیں۔اور تو اور تھراپی ورکس کا مالک طاہر ظہور اب معصوم بننے کی کوشش کر رہا ہے
    وہ کہتا ہے کہ میں تو موقعہ واردات پر گیا ہی نہیں، میں تو معصوم ہوں۔ میری عمر 73 سال ہے اور میں شوگر، دل اور کڈنی کے امراض میں مبتلا ہوں۔ کوئی اس ظالم آدمی سے پوچھے کے ایک تہتر سال کے بوڑھے کو پارٹیاں کروانا زیب دیتا ہے۔ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے ملازم بھجوائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قتل کا پتا چلنے کے باوجود حقائق کو پولیس سے چھپائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ملازم امجد پر مجرم کے حملوں کو روڈ ایکسیڈینٹ بنا دے۔ کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ڈگر ی نہ ہونے کے باوجود۔ جعلی تھراپی ورکس چلائے اور لوگوں کے بچوں کے علاج کی بجائے انہیں مزید عذاب میں مبتلا کروا دے۔ یہ پاکستان میں اشرافیہ کا وطیرہ ہے ظلم کرتے ہیں زیادتیاں کرتے ہیں ، ملک کی دولت لوٹتے ہیں اور جب قانون کا شکنجہ گردن پر پڑتا ہے تو فورا معصوم بن جاتے ہیں۔تھراپی ورکس کے مالک طاہر کے وکیل فرماتے ہیں کہ میرے موکل کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے ایسا جرم کیا ہے کہ انہیں جیل میں رکھا جائے۔
    واہ کیا بات ہے۔۔۔ سبحان تیری قدرت
    لاشیں ٹھکانے لگانے والے آج اپنا جرم پوچھ رہے ہیں ، قاتل درندے کو مشکل صورتحال سے نکالنے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔ حقائق کو مسخ کرنے اور چھپانے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔اور تو اور زخمی امجد جو تھراپی روکس کے لیے کام کرتا ہے، اور قاتل اور مقتول کو سب سے پہلے دیکھتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ اس کیس کا سب سے بہترین گواہ ہے۔
    اسی نے پولیس کو فون کر کے بتایا۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پتا ہی نہیں چلا کہ فون کس نے کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بتانے والے نے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی تھی۔ ورنہ پولیس کو اطلاع دینے والوں کے تو فون نمبر سے لے کر شناختی کارڈ تک کا پوچھ لیا جاتا ہے۔ اور جو شخص یہ دعوی کر رہا ہے کہ اس نے پولیس کو بتایا وہی ہسپتال میں اپنے زخمی ہونے کی وجوہات چھپا رہا ہے۔ وہی کہہ رہا ہے کہ میرا روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ اس وقت کیوں اس نے یہاں تک کہ ہسپتال سے حقائق چھپائے تاکہ اسے شامل تفتیش کر کے کہیں ظالم درندے کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے۔ امجد پر یقینا طاہر کا پریشر ہو گا کہ وہ حقائق چھپائے تاکہ اس کے کلائنٹ پر کوئی مشکل نہ اآئے۔ اور بات یہ ہے کہ اگر امجد کو گواہ بنا لیا گیا۔ جو اب تک ان کا کردار رہا ہے اگر اس نے آگے جا کر یہ کہہ دیا کہ وہاں ظاہر کے علاوہ بھی نقاب پوش لوگ تھے۔ اور وہ کھڑکی سے بھاگ گئے تو سارا کیس وہیں تباہ ہو جائے گا۔
    کہ نور مقدم کیس کے چشم دید گواہ نے جو دیکھا وہ بتا دیا اور کیس کا رخ ہی تبدیل ہو گیا۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی صورت حقائق چھپانے والوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔
    طاہر کا کردار اس کیس میں بہت اہم ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر قاتل درندے کا وٹس ایپ ڈیٹا ریکور کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اور ہر وٹس ایپ اکاونٹ کا
    Back up
    بھی ہوتا ہے جسے بڑے آرام سے فون نمبر کی مدد سے کسی بھی فون پر ریکور کیا جا سکتا ہے۔ اگر پولیس یہ کرنے میں ناکام رہی جو کہ بہت ہی آسان کام ہے تو سمجھ لیں کہ کافی لوگوں کو بچالیا گیا ہے۔
    تھراپی ورکس کے بارے میں میں واحد شخص نہیں ہوں جو تشویش میں مبتلا ہو اس جعلی ڈاکٹر کو لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعا ئیں دے رہے ہیں۔ اور کئی نے تو اس کے خلاف کیس بھی کیا ہوا ہے۔ایک بلکل اسی طرح کا کیسTherapy Works & Tahir Zahoor Ahmed کے خلاف Dec 2020میں کیا گیا Civil Suit 1080/20
    تھا جو Sr. Civil Judge South, Karachi کی عدالت میں آج بھی پینڈنگ پڑا ہے۔ اور رہی بات تھراپی ورکس کے جعلی این او سی کی۔ یہاں پر نہ صرف مریضوں کو لوٹا جاتا ہے بلکہ طالب علموں کو بھی چونا لگایا جاتا ہے۔ جو لوگ بھی یہاں سے بھاری معاوضہ دے کر کو رس کرتے ہیں انہیں شائد ہی کبھی سرٹیفیکیٹ ملا ہو۔

  • افغانستان  کیسے  دنیا  کا  امیر  ترین  ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب

    افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب

    آج کی اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک اور پاکستان کیسے دنیا کی سب سے اہم منڈی بن سکتا ہے۔ جبکہ چین کیوں امریکہ کی حماقتوں پر خوش ہے اور آنے والے دن کیسے اس خطے کی قسمت بدلنے والے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں جو بات ہم بار بار سنتے ہیں وہ یہ ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی افغانستان کے حوالے سے کئی چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ اس وقت چین امریکی صدر بائیڈن کے غلط فیصلوں پر قہقے لگا رہا ہے۔ جہاں بھارت یہ شور مچا رہا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں سب سے بڑا فاتح ہے وہاں دنیا کے بڑے معاشی ملک یہ کہہ رہے ہیں کہ چین طالبان کے زیر قبضہ دولت کو استعمال کر کے اپنی طاقت میں حیران کن اضافہ کر سکتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ سمیت یورپ میں 2030 کے بعد شائد ہی کوئی ایسی گاڑی ہو جو الیکٹرک نہ ہو اور پٹرول سے چلتی ہو اس کی وجہبڑھتی ہوئی Pollution سمیت ماحولیات سے دنیا کو لاحق خطرات سے نبٹنا ہے اور جب دنیا کی سب گاڑیاں خاص طور پر مغربی ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں الیکٹرک ہو جائیں گی تو انہیں چلانے کے لیے پٹرول کی بجائے۔ طاقتور بیٹریوں کی ضرورت ہو گی۔
    آج گاڑی چلانے کے لیے جتنا اہم سعودی عرب کا پٹرول ہے دس سال بعد وہ اہمیت بیٹریاں بنانے والی دھاتیں لے لیں گی۔

    اور دھات وہ چیز ہے جسے فیکٹریوں میں نہیں بنایا جا سکتا بلکہ معدنیات کے طور پر زمین سے نکالا جاتا ہے۔ بیٹری ایک دھات لیتھیم سے بنتی ہے ۔ اور دنیا بھر میں لیتھیم کی ڈیمانڈ میں دوہزار چالیس تک چالیس گنا اضافہ ہو جائے گا۔clean energy technologiesکے لیے جن اہم منرلز کی ضرورت ہےاس میں Solar PV
    اور Electricity networks بنانے کے لیے کاپر، ایلومینیم جبکہ EVs and battery storage کے لیئے کاپر، نکل کوبالٹ،لیتھیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ معدنیات آج کی ماڈرن انڈسٹری کی Backbone ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پینٹا گون کی ایک اسٹڈی کے مطابق افغانستان کے چونتیس میں سے صرف ایک صوبے غزنی میں$1 trillion
    کےuntapped mineral depositsموجود ہیں۔جبکہ اس سے پہلے ہونے والی اسٹڈیز کے مطابق افغانستان میںiron, copper, cobalt, goldاور دیگر ایسے منرل جس میں
    Lithiumبھی شامل ہے کے بڑے خزانے ہیں۔ جو آج کی ماڈرن انڈسٹری کے لیے ضروری ہیں اور یہی چیز افغانستان کو دنیا کے سب سے اہم Mining centers
    میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ ماننا ہے امریکی حکام کا۔۔پینٹا گان کے Internal memo کے مطابقافغانستان لیتھیم کا سعودی عرب ہے۔ یعنی جتنا تیل سعودی عرب میں ہے اتنا لتھیم افغانستان میں ہے اور لیتھیم کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر افغانستان میں موجود ہیں۔ جو موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ، کیمروں، ڈرونز اور دوسری ڈیوائسز کی بیٹریز کے علاوہ الیکٹرک کارز کی ری چارج ایبل بیٹریز کا بھی لازمی جزو ہے۔جو آج دنیا میں ختم ہو جائیں تو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کا کام ٹھپ ہو جائے۔ اور افغانستان میں تیس کھرب ڈالر سے زائد کی یہ معدنیات موجود ہیں۔ جبکہ بہت سی جگہیں افغانستان میں بد امنی اور دیگر وجوہات کی بنا پر آج تکExplore ہی نہیں ہو سکی۔جیسے تیل سے مشرقِ وسطیٰ کی معیشت دیکھتے ہی دیکھتے بدل گئی ویسے ہی معدنیات سے مالامال ملک ان سے فائدہ اٹھا کر اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔جبکہ افغانستان میں یہ معدنیات اتنی بہتات میں موجود ہیں کہ یہ دنیا بھر کی انویسٹمنٹ کمنیوں کو اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں اور وہاں نسلوں سے جنگیں لڑنے والے نوکریاں ملنے کی صورت میں اپنی قسمت بدل سکتے ہیں۔
    لیکن اس وقت امریکہ کی صورتحال دیکھ کر چینی حکام یقینا قہقے لگا رہے ہوں گے۔ کہ امریکہ نے بیس سال میں ٹریلین ڈالر لگا کر ہزاروں فوجیوں کی قربانی دے کر کیا پایا۔جبکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چین جو روڈ نیٹ ورکس بنانے کا ماہر ہے، افغانستان میں کابل سے اسلام آباد تک روڈ کا منصوبہ تیار کیے بیٹھا ہے، کاپر کی مائننگ کا بڑا کنٹریکٹ وہ کرزئی حکومت کے دور میں لے چکا ہے جبکہ لیتھیم کی مائننگ کے منصوبے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین، روس اور پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام ہے جبکہ چین اور پاکستان کے آپس میں تعلقات بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لیے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کی دولت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ وہ افغانستان سے مزید Copper, cobalt اور سونا بھی نکالنے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہے تو امریکہ کو کیا ملا۔ امریکہ کی انڈسٹری اب کیسے Survive کرے گی جبکہ چین افریکہ میں بھی معدنیات کے بڑے منصوبے شروع کر کے بیشتر افریکی ممالک کو اپنے ہاتھ میں کر چکا ہے۔دنیا کو سمجھ نہیں آرہی کہ بائیڈن نے یہ کیا کیا ہے اور یہ امریکہ کی ایک Major strategic failure ہے۔ افغانستان کو اس وقت انفرا سٹرکچر کی ضرورت ہے جبکہ چین کو بھی اپنے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے لیے افغانستان میں انفرا سٹرکچر بلڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں کی ضرورتیں بھی ایک ہیں اور دوستی بھی۔چین کے پاس یہ قابلیت ہے کہ و ہ ایک سال میں 100 coal power plant تیار کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے اسے Raw material کی ضرورت ہے جو اب وہ افغانستان سے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔

    امریکہ کی منصوبہ بندی تھی کہ اس خطے میں امن قائم نہ ہو تاکہ چین یہاں پر اپنا کام نہ کر سکے اسی لیے اس نے ایک طرف طالبان سے معاہدہ کر کے نکلنے کا منصوبہ بنا لیا تو دوسری طرف افغان فورسز کو لڑائی کے لیے نہ صرف تیار بلکہ اکساتا رہا ۔ لیکن افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے امریکہ کی اس چال کو الٹ کے رکھ دیا۔ اب طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں اگر امن قائم ہوتا ہے تو چین اس سے سب سے زیادہ مستفید ہو سکتا ہے۔
    دوہزار دس کی ہی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 420 ارب ڈالر مالیت کا لوہا270 ارب ڈالر مالیت کا تانبہ بھی موجود ہے۔ جبکہ افغانستان کی جی ڈی پی بارہ بلین ڈالر کے قریب ہے۔ افغانستان میں غیر قانونی کان کنی پہلے ہی زوروں پر ہے،2001 کے بعد سے افغان حکومت کو مقامی سرداروں اور وار لارڈز کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر سالانہ کا نقصان ہو رہا تھا۔ جب امریکہ نے دوہزار ایک میں افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت بھی افغانستان کے صوبے لوگر میں چین ایک تانبہ کی کان میںMining کر رہا تھا۔ صرف اسی کان میں تانبہ کی مالیت کا اندازہ لگایا جائے تو وہ پچاس بلین ڈالر سے زائد ہے۔لیکن میں یہ ویڈیو کرتے ہوئے مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ پاکستان کو اس کا کیا فائدہ ۔۔۔۔ طالبان کے بعد اگر کوئی دوسرا گروپ یا ملک اگر اس فتح کا کریڈٹ لینے کا مستحق ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اگر سب کچھ چین ہی لے جائے گا تو پاکستان کو اتنی قربانیاں دینے کا کیا فائدہ ہو گا۔ پاکستان کے پاس بلوچستان میں معدنی ذخائر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تو افغانستان میں کیا کرے گا۔ کیا پاکستان صرف اپنی راہداری، گوادر اور سی پیک سے ہی مستفید ہو پائے گا۔ کیا پاکستان معدنیات کی منڈی نہیں بن سکتا۔چین کے پاس افغانستان پہنچنے کا پاکستان کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ افغانستان سے چین کی سرحد ایک برفانی اور پہاڑی علاقہ پر ہے جہاں سفر کرنا بہت مشکل اور مہنگا پڑتاہے۔
    افغانستان کے صوبہ بدخشان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے مویشی پالتے ہیں اور وہاں تاجر ٹرکوں پر کھانے پینے کی چیزیں اور آٹا لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے مویشی خرید لاتے ہیں۔ اس روٹ پر ایک چکر کم از کم پندرہ دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اور یہ صرف گرمیوں میں ہی ممکن ہوتا ہے۔تو پاکستان چین کے پاس واحد روستہ ہے اپنی چیزوں کو دنیا کی منڈیوں تک پہنچانے کا۔لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم ساری زندگی اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ بھی کچھ کر پائیں گے۔
    بہر حال افغانستان میں امن پاکستان کو سینٹرل ایشیا سمیت پورے رجن کا تجارتی مرکز بنا دے گا، پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کا توانائی سے مالامال علاقہ بھی کھل جائے گا۔
    لیکن طالبان کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اس کے لیے امن سمیت سرمایہ کاری کے لیےPerfect
    ماحول فراہم کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن پاکستان اس کے باوجود بلوچستان کی معدنیات سے مستفید نہیں ہو پا رہا۔ افغانستان کی معدنیات بھی ایک بٹن دبانے سے باہر نہیں آجائیں گی۔ بلکہ اس کے لیے دنیا کی بہترین کمپنیوں سے بہتریں کان کنوں کی ضرورت ہو گی۔ جبکہ شفاف کنٹریکٹس اور ممالک کے ساتھ معاہدے بھی ایک بڑا امتحان ہو گا۔
    جبکہ اس وقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے اور طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان پر قبضہ کرنا آسان اور اسے MAINTAINکرنا مشکل ہے۔ افغانستان کے تمام وار لارڈز ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں ان کی طاقت ابھی تک موجود ہے، اگر طالبان نے انہیں حکومت میں جائز حق دے کر قومی حکومت نہ بنائی تو افغانستان میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔