Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • عکسِ بےنظیر، آصفہ بھٹو،وقار، مسکراہٹ اور خدمت کا سفر.تحریر:راجہ سفیر

    عکسِ بےنظیر، آصفہ بھٹو،وقار، مسکراہٹ اور خدمت کا سفر.تحریر:راجہ سفیر

    سیاسی تاریخ میں بعض چہرے ایسے ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے، بلکہ ایک علامت بن جاتے ہیں،روشنی، جدوجہد اور تسلسل کی علامت۔ پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید بھی ایسی ہی شخصیت تھیں جن کے وقار، اندازِ گفتگو، مسکراہٹ اور عوامی محبت نے نسلوں کو متاثر کیا۔آج جب آصفہ بھٹو کو دیکھا جاتا ہے تو اُن میں اپنی والدہ کی جھلک دکھائی دیتی ہےوہی ٹھہراؤ، وہی نرمی، اور وہی عوام سے قریبی تعلق کا احساس،بینظیر بھٹو کی وراثت صرف سیاسی نہیں تھی؛ وہ امید، جدوجہد اور ایک بہتر پاکستان کے خواب کی وراثت تھی۔ آصفہ بھٹو ان ہی خوابوں کے تسلسل کو اپنے انداز میں آگے بڑھاتی نظر آتی ہیں۔

    سیاسی میدان میں اُن کی موجودگی نسبتاً نئی سہی، مگر سماجی سطح پر وہ عرصہ دراز سے سرگرم ہیں،بالخصوص صحت، انسانی حقوق اور فلاحی کاموں میں اُن کی دلچسپی نمایاں رہی ہے۔ پولیو کے خاتمے کی مہم میں ان کی سرگرم شمولیت انہیں نئی نسل میں ایک ایسی آواز بنا دیتی ہے جو خدمت اور ذمہ داری کو سیاست سے پہلے رکھتی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو تک، عوامی رابطہ اس خاندان کی شناخت رہا ہے۔آصفہ بھٹو کی عوامی تقریبات، دورے اور سوشل پالیسی سے جڑے موضوعات پر توجہ بھی اسی روایت کا تسلسل محسوس ہوتی ہے۔ اُن کے انداز میں ایک سادگی اور باوقار سنجیدگی ہے جسے دیکھ کر لوگ اکثر کہتے ہیں کہ “یہ بینظیر کی مسکراہٹ ہے”۔

    آصفہ بھٹو نہ صرف ایک سیاسی خانوادے کی نمائندہ ہیں بلکہ نئی نسل کے احساسات اور طرزِ فکر کی بھی عکاس ہیں۔ وہ جدید سیاسی بیانیے، سوشل میڈیا سے عوامی رابطے، خواتین کے حقوق اور نوجوانوں کے کردار جیسے موضوعات پر کھل کر بات کرتی ہیں۔یہی وہ پہلو ہے جو انہیں پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی سماجی آواز بناتا ہے۔بینظیر بھٹو نے ہمیشہ کہا کہ وہ پاکستان کی بیٹی ہیں۔آصفہ بھٹو کے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ وہ اپنی ماں کے نامکمل خوابوں کو اپنے طریقے سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں،چاہے وہ تعلیم کا فروغ ہو، صحت کے مسائل ہوں، یا کمزور طبقات کی آواز بننے کا معاملہ،ان کے لہجے میں وہی نرمی ہے، اور اُن کی گفتگو میں وہی احترام جو بینظیر کی شخصیت کا حصہ تھا۔

    آصفہ بھٹو کا سفر ابھی طویل ہے، مگر اُن کی شخصیت میں موجود وہ وقار، مسکراہٹ اور عوام سے محبت انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔وہ نہ کسی کا نعم البدل ہیں، نہ کسی کے سائے میں چھپی ہوئی شخصیت،بلکہ ایک خود مختار، اعتماد سے بھرپور اور انسان دوست آواز جو اپنے انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔وہ واقعی عکسِ بےنظیر کی طرح محسوس ہوتی ہیں،مگر اپنی شناخت کے ساتھ، اپنی روشنی کے ساتھ، اور اپنے عزم کے ساتھ۔

  • ہم جنس رجحانات، اثرات اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:آصف شاہ

    ہم جنس رجحانات، اثرات اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:آصف شاہ

    دنیا بظاہر جتنی وسیع نظر آتی ہے، انسانی جذبات اور رجحانات کی دنیا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ وقت کے ساتھ نظریات بدلتے ہیں، رویّے ڈھلتے ہیں، اور معاشرتیں نئے سوالوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں بھی ایک ایسا موضوع زیرِ بحث ہے جو اکثر غلط فہمیوں، جذباتی ردِعمل، اور معلومات کی کمی کا شکار رہتا ہے ہم جنس رجحانات،ہم جنس پرستی۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے سنجیدگی، حکمت، اور علمی توازن کے ساتھ دیکھیں، نہ کہ نفرت، الزام یا خوف کے زاویے سے۔

    پاکستانی معاشرے میں معلومات، میڈیا، اور انٹرنیٹ کے بے تحاشا پھیلاؤ نے نوجوان نسل کو بے شمار عالمی رویّوں سے روشناس کر دیا ہے۔ ایسے میں بعض نوجوان جسمانی بلوغت، ذہنی الجھنوں، یا تشنۂ توجہ کے باعث بعض ایسے رجحانات کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں جن کی اصل وجوہات وہ خود بھی نہیں سمجھتے۔تاہم یہ سمجھنا لازم ہے کہ ہم جنس رجحان کسی ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوتا،اس کے پیچھے کئی نفسیاتی، سماجی، اور بعض صورتوں میں طبی عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ ہم جنس رویّوں کو صرف "فیشن”، "بگاڑ” یا "مغربی اثر” قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔اصل تشویش نوجوانوں کی اخلاقی، ذہنی، اور جسمانی سلامتی ہے،نہ کہ کسی فرد کی ذاتی شناخت یا اس کے احساسات،یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کسی بھی انسان کی تذلیل یا نفرت انگیزی سے بچیں۔ نفرت کبھی اصلاح نہیں لاتی، بلکہ بگاڑ کو بڑھاتی ہے۔ نوجوانوں کو صحیح رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، لیبلز اور طعنوں کی نہیں۔

    وہ نوجوان جو کم عمری میں کسی جسمانی یا جذباتی تجربے سے گزریں، بعد میں شدید ذہنی پریشانی یا شناختی کشمکش کا شکار ہو سکتے ہیں۔ایسے نوجوان اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ان کے جذبات کی نوعیت کیا ہے، اور معاشرہ ان سے کیا چاہتا ہے۔ نتیجتاً وہ خاموش تنہائی یا خوف میں رہنے لگتے ہیں۔اصل نقصان "رجحان” نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ یا استحصالی تعلقات ہیں،چاہے وہ ہم جنس ہوں یا مخالف جنس،ان میں جذباتی شکاری ، بلیک میلنگ، یا نقصان دہ رویّے شامل ہو سکتے ہیں۔نوجوانی وہ دور ہے جہاں انسان جذبات، جسم اور ذہن کے نئے دروازے کھلتے محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں کئی عوامل نوجوان کو عارضی یا وقتی ہم جنس کشش کی طرف لے جا سکتے ہیں،گھر میں بے توجہی، سختی یا جذباتی تنہائی نوجوان کو ایسے لوگوں کی طرف دھکیل سکتی ہے جو اسے فوری توجہ اور قبولیت دیں۔بعض اوقات گہری دوستی جذباتی انحصار میں بدل جاتی ہے، اور نوجوان بغیر سمجھے اسے رومانوی کیفیت سمجھ لیتے ہیں۔کم عمری میں کسی اذیت ناک تجربے کے باعث ذہن بعض اوقات اپنے ردعمل میں عارضی یا مستقل بدلاؤ پیدا کر لیتا ہے۔آن لائن مواد ذہن کو فریب دے سکتا ہے، خاص طور پر جب نوجوان کو صحیح رہنمائی نہ مل رہی ہو۔

    نوجوان دورِ جدید میں اپنی "شناخت” کو تلاش کرنے کے لیے اکثر جذبات کو امتحان سمجھتے ہیں۔نوجوان نسل کو صرف منع کردینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی حفاظت کا راز مکالمے، اعتماد اور تربیت میں ہے۔اگر بچہ والدین سے ہر بات کھل کر کر سکے تو وہ غیر صحت مند تعلقات کی طرف کم جائے گا۔ جنسی تعلیم یہ تعلیم بے حیائی نہیں، بلکہ تحفظ ہے۔نوجوان کو یہ جاننا ضروری ہے جسم کی حدود کیا ہیں؟کون سی دوستی اچھی اور کونسی درست نہیں ہے؟بلیک میلنگ کیا ہوتی ہے؟آن لائن کیا خطرات چھپے ہیں؟مضبوط مذہبی اور اخلاقی بنیاد نوجوان کو مضبوط کردار عطا کرتی ہے۔لیکن یہ تربیت محبت سے ہو،دھمکی یا خوف سے نہیں۔اسکول اور کالج کی فضا کو محفوظ اور مثبت بنانا ضروری ہے، تاکہ وہاں کوئی بچہ تنہا یا غیر محفوظ محسوس نہ کرے۔اگر کوئی نوجوان شدید الجھن، ڈپریشن یا خوف کا شکار ہو تو اسے فوراً تربیت یافتہ سائیکالوجسٹ تک پہنچانا چاہیے۔یہ کوئی "کمزوری” نہیں بلکہ ذہنی صحت کی حفاظت ہے۔

    ہماری ذمہ داری یہ نہیں کہ کسی نوجوان پر لیبل لگا دیں۔ بلکہ اسے سمجھیں،اس کے خوف کو سنیں،اس کی غلطیوں پر شفقت سے اصلاح کریں،اور اسے محفوظ راستہ دکھائیں،جو معاشرہ گفتگو کے دروازے بند کر دے، وہاں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔جو معاشرہ محبت اور حکمت کے ساتھ رہنمائی کرے، وہاں کردار مضبوط ہوتے ہیں۔ہم جنس رجحانات کا موضوع صرف تنقید یا جذباتی بحث کا معاملہ نہیں۔ یہ ہمارے نوجوانوں کی ذہنی کیفیت، ان کی شناخت، اور ان کی حفاظت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔اسے حل کرنے کے لیے نہ نفرت کی ضرورت ہے، نہ خوف کی،بلکہ علم، حکمت، اور انسان دوستی کی ضرورت ہے۔اگر ہم نوجوان نسل کو محبت، رہنمائی، اعتماد اور مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کریں، تو وہ خود بخود صحت مند راستے کا انتخاب کرے گی۔معاشرتی اصلاح کا واحد صحیح راستہ دل کے دروازے کھولنا، مکالمہ قائم رکھنا، اور ہر انسان کی عزت کو مقدم رکھنا ہے۔

  • استحصال بھی صوبائی سروس کا اور احتساب بھی صوبائی افسران کا،تحریر:ملک سلمان

    استحصال بھی صوبائی سروس کا اور احتساب بھی صوبائی افسران کا،تحریر:ملک سلمان

    پیپلز پارٹی کی سندھ میں دہائیوں سے مسلسل حکومت کا ایک ہی راز ہے کہ وہ اپنے صوبائی افسران اور سیاسی کارکنان کو عزت دیتے ہیں۔ یہی پالیسی خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے لگاتار تیسرے اقتدار کی وجہ بنی۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں صوبائی افسران شدید محکومی اور استحصال کا شکار ہیں۔ جہاں گریڈ 22میں صوبائی افسران کی سیٹ ہی نہیں تو گریڈ 21 اور 20 میں انتہائی کم سیٹیں دی گئیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک ساتھ این ایم سی اور ایس ایم سی کرنے والے وفاقی افسران تو فوری پرموٹ ہوجاتے ہیں جبکہ صوبائی افسران اس انتظار میں لگ جاتے ہیں کہ پہلے جائیں گے تو ہماری باری آئے گی۔ یہی حالات گریڈ 18سے19میں جانے والوں کے ہیں جہاں 100 سے زائد افسران پی پی جی کرکے کئی سال سے ترقی کی راہ تک رہے ہیں، اسی طرح 17سے18 کیلئے پی ایس ایم جی کرکے انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔

    صوبائی افسران کی ترقی ”مشن امپاسبل” سے کم نہیں، مہینوں ٹریننگ لیٹ کی جاتی ہے، سارے تاخیری حربوں کے باوجود ٹریننگ کرنے میں کامیاب ہونے والوں کو پروموشن بورڈ میں غیر ضروری تاخیر کرکے لامتناہی انتظار کی سولی پرلٹکا دیا جاتا ہے۔ خدا خدا کرکے بورڈ کیا جاتا ہے تو وہاں بھی صوبائی افسران کو ترقی دینے کی بجائے بغیر کسی سولڈ وجہ کے ڈیفرڈ کر دیا جاتا ہے۔صوبائی سروس کے جن افسران کو معزز عدلیہ الزامات اور کیسز سے باعزت بری کر چکی ہے انہی کیسز میں انٹی کرپشن کی طرف سے تفتیش جاری کا کہہ کر ترقی نہ دینا سخت زیادتی اور توہین عدالت کے مترادف ہے۔جس کیس میں مرکزی ملزم چوہدری پرویز الہیٰ عدالت سے بری ہوچکے ہیں۔ اسی کیس میں صوبائی افسران پر الزامات کی تفتیش کو تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، بدنیتی کی انتہا کہیے کہ تین سال سے چالان نہیں جمع کروایا جارہا اور زیر تفتیش کا کہہ کر صوبائی افسران کو ترقی نہ دینا انٹی کرپشن کی نااہلی اور بدترین انتقامی کاروائی ہے۔ اسی کیس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر ان بھی کمیٹی ممبر تھے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں اور صوبائی افسران کو جیل بھی جانا پڑا اور آج تک ترقی کی راہ تک رہے ہیں۔

    ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل سے لیکر تمام ملکی و غیر ملکی تنظیموں کی سروے رپورٹ میں پولیس کرپشن انڈیکس میں ہمیشہ ٹاپ تھری پوزیشن پر رہی ہے لیکن جب سے انٹی کرپشن کے قوانین کے برخلاف پولیس افسران کو انٹی کرپشن کا ہیڈ لگایا گیا ہے کسی ایک پی ایس پی افسر تو درکنار ڈی ایس پی لیول کے جونئیر پولیس افسر کے خلاف بھی کاروائی نہیں کی گئی۔ کرپٹ پولیس اہلکاروں کا احتساب تو درکنار، گریڈ 17کے ڈی ایس پی کو ڈویژنل سربراہ انٹی کرپشن لگا دیا گیا۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز شرمناک ڈرامہ کیا ہوگا کہ جہاں گریڈ 20کے کمشنر، آر پی او اور سی پی او ہوں وہاں گریڈ 17 کا ڈی ایس پی ڈویژنل سربراہ انٹی کرپشن۔ حتیٰ کہ انٹی کرپشن کے گریڈ 18کے ڈپٹی ڈائریکٹر بھی بھی گریڈ17کے ڈی ایس پی ماتحت ہیں۔
    میڈم وزیر اعلیٰ اور ملکی سلامتی کی محافظ ایجنسیز کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
    چیف سیکرٹری نے اہم پوزیشن پر اوپر سے لیکر نیچے تک سنئیر سیٹوں پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران لگا رکھے ہیں جبکہ صوبائی افسران کے ساتھ استحصال کا معاملہ الٹ ہے کہ بہت ساری جگہوں پر پی ایم ایس کے سنئیر افسران کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران کے ماتحت لگایا گیا ہے۔
    کج شہر دے لوک وی طالم سن
    کج سانو مرن دا شوق وی سی

    یہی وجوہات ہیں کہ صوبائی سروس کے بہت سارے افسران گریڈ 20میں جانا عذاب سمجھتے ہیں کہ انہیں نوے ماڈل کھٹارا گاڑی اور کھڈے لائن پوسٹنگ دے کر کلرک بنادیا جائے گا۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران کی پوسٹنگ دیکھتے جائیں اور شرماتے جائیں گریڈ سترہ والے کو اٹھارہ جبکہ کتنے ہی گریڈ اٹھارہ کے افسران کو گریڈ انیس اور بیس میں ڈی جی، ایم ڈی اور سی ای او کی سنئیر سیٹوں پر نوازشیں کی گئی ہیں۔ ان مزکورہ لاڈلے افسران کے بارے یہ بات زبان زدعام ہوتی جا رہی ہے کہ فلاں جونئیر افسر فلاں پاور فل سنئیر افسر کا کماؤ /پلاؤ پتر ہے۔میڈم وزیراعلیٰ آپ کے دور حکومت میں خواتین افسران کوسیکرٹری، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی اہم ترین سیٹوں پر تعینات کیا گیا لیکن صوبائی سروس سے کسی ایک خاتون آفیسر کو بھی سیکرٹری، کمشنر یا ڈی سی نہیں لگایا گیا۔

    پنجاب کی صوبائی سیکرٹریز کی 42 سیٹوں میں سے 6/7سیکرٹریز کی سیٹیں بامشکل پی ایم ایس افسران کو دی گئی ہیں وہ بھی غیر اہم سے محکمہ جات۔ 41 میں سے صرف 12 اضلاع میں صوبائی سروس کے ڈپٹی کمشنر ہیں باقی تمام اہم اضلاع میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران تعینات ہیں۔ اسی طرح اہم اضلاع کے اے ڈی سی آر اور اسسٹنٹ کمشنر کی بڑی تحصیلوں پر بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر ترین افسران براجمان ہیں۔سی ای او IDAP، خود مختار اٹھارٹیز، ورلڈ بنک سمیت انٹرنیشنل فنڈنگ والی تمام سیٹیں بھی پی ایم ایس افسران کے لیے شجر ممنوعہ قرار دے کر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران کو اربوں روپے کے استعمال کیلئے سیا و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ جس صوبے کی آپ وزیراعلیٰ ہیں اسی کے صوبائی افسران بے یارومددگار دہائیاں دے رہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔میڈم وزیراعلیٰ صوبائی افسران کو انکا جائز حق دیا جائے تاکہ وہ دل و جان سے پنجاب کی خدمت کرسکیں.

  • عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    کائنات کے وسیع و عریض صحرا میں، جہاں سخت چٹانیں بھی موجود ہیں اور نرم ریت بھی، فطرت نے چند چیزوں کو خاص مہربانی کے ساتھ تراشا ہے۔ ان میں سے ایک عورت ہے،جس کی نرمی میں طاقت ہے،جس کی نزاکت میں وقار ہے،اور جس کی خاموشی میں پوری کائنات کی گونج چھپی ہے۔عورت، گویا کسی شاعر کے دل سے پھوٹا ہوا نغمہ ہو، جسے ہوائیں بھی ذرا آہستہ چھوتی ہیں، اور روشنی بھی دبے قدموں اترتی ہے۔

    عورت نازک ہے، مگر یہ نازکی اس کے وجود کی کمزوری نہیں، اس کی نفاست کا وہ روپ ہے جسے قدرت نے بڑی محبت سے چنا ہے۔وہ پھول کی مانند ہےجو نرم ضرور ہوتا ہے،لیکن خوشبو کی صورت دلوں کو فتح کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ دل کا چراغ ہے،جو ذرا سے جھونکے میں لرز بھی جاتا ہے،اور اسی لرزش میں گھر بھر کی روشنی بھی چھپی ہوتی ہے۔عورت کی قیمت اس کے وجود سے ہے،دنیا کی ہر قیمتی شے نرم، نازک اور دلکش ہوتی ہے۔مگر عورت کی قیمت محض حسن میں نہیں،وہ اس کے کردار کی وسعت،اس کی محبت کی گہرائی،
    اور اس کی برداشت کی بلندی میں ہے۔وہ ماں بن کر محبت کا سمندر بانٹتی ہے،بیٹی بن کر گھر کی رونق کا چراغ بنتی ہے،بہن بن کر وفا کی ڈھال ہوتی ہے،اور بیوی بن کر ایک مرد کی دنیا کو سکون کا گھر بنا دیتی ہے۔ایسی ہستی کمزور نہیں ہوتی،وہ پورے گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔

    قدرت نے مرد کے کندھوں پر عورت کی حفاظت کا فریضہ رکھا ہے،یہ فریضہ کوئی تخت نہیں، ایک امانت ہے۔محافظ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مرد حکم چلائے،بلکہ یہ کہ وہ عورت کے احساسات کا سپاہی بنے،اس کی عزت کا نگہبان ہو،اور اس کے اعتماد کا پاسبان،طاقت اس وقت تک طاقت نہیں بنتی جب تک وہ کسی کی حفاظت کا وسیلہ نہ بنے۔اگر یہ قیمتی نعمت آپ کے نصیب میں آ جائے،اگر زندگی نے آپ کے دامن میں عورت کی صورت میں ایک ہمسفر رکھ دیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ قسمت نے آپ پر مہربانی کی ہے۔یہ وہ نعمت ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی،یہ وہ خوشبو ہے جو دل کے چاروں گوشوں کو مہکا دیتی ہے۔لہٰذا اس کی مسکراہٹ کی قیمت پہچانیے،اس کی خاموشیوں کی زبان سمجھئے،اس کے خوابوں کو سہارا دیجئے،اس کے خوفوں کی چھاؤں بنیے،اور اس کے نازک دل کو اپنی طاقت سے امن دیجئے،یہی وہ "حفاظت” ہے جس کا حق عورت رکھتی ہے اور جس کا امتحان مرد پر لازم ہے۔

    عورت ایک پھول نہیں، ایک باغ ہے۔وہ ایک نغمہ نہیں، پوری غزل ہے۔وہ نازک ضرور ہے، مگر اس نرمی میں دنیا کو سنوار دینے کی قدرت ہے۔اس کی حفاظت کیجیےکیونکہ حفاظت اس کی ضرورت نہیں،اس کی قدر کا ثبوت ہے.

  • بے حسی کا زمانہ اور گم ہوتی ذمہ داری،تحریر:شاہد یوسف

    بے حسی کا زمانہ اور گم ہوتی ذمہ داری،تحریر:شاہد یوسف

    کبھی ایک وقت تھا جب قومی اخبارات میں کسی مسئلے کی نشاندہی کی جاتی تو پورے محکمے میں ہلچل مچ جاتی تھی افسران حرکت میں آتے تحقیقات شروع ہوتیں اور عوام کو یقین ہوتا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے مگر آج منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے میڈیا شور مچاتا رہتا ہے رپورٹس شائع ہوتی ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی عوامی مسائل اب سرکاری فائلوں میں دب کر رہ گئے ہیں اور جنہیں ان کے حل کا ذمہ دار بنایا گیا تھا وہی اب اس بے حسی کا حصہ بن چکے ہیں کرپشن اقربا پروری اور اختیارات کا غلط استعمال اب معاشرتی معمول بن گیا ہے وہ ادارے جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے تھے وہی عوامی مشکلات کی جڑ بن چکے ہیں اے سی سے لے کر چیف سیکرٹری تک اور ایس ایچ او سے لے کر آئی جی تک سب کسی بڑے واقعے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ بعد میں رسمی کارروائی کی جا سکے چھوٹے مسائل پر بروقت توجہ نہ دینے کے باعث وہی مسئلے وقت کے ساتھ سنگین بحران میں بدل جاتے ہیں اگر ذرا قریب سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ بدعنوانی اے سی اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کے زیرِ انتظام چلنے والے شعبہ پٹوار میں نظر آتی ہے زمینوں کے انتقال حدبندی اور فرد کے اجراء سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے کاغذ تک سب کچھ چائے پانی کے بغیر ممکن نہیں عام شہری برسوں فائلوں کے پیچھے دوڑتا ہے مگر انصاف اور قانون صرف ان کے لیے دستیاب ہوتا ہے جن کے پاس تعلق یا سفارش ہو۔

    سوال یہ ہے کہ جو افسر اپنے دفتر میں بیٹھے پٹواریوں کو ایمانداری سے کام نہیں کرواتا وہ اپنی تحصیل یا ضلع میں کس تبدیلی کا خواب دیکھ سکتا ہے دوسری طرف محکمہ پولیس کی مثال لیجیے اربوں روپے کی مراعات جدید سہولیات اور وسائل کے باوجود کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ تھانوں میں کرپشن کم ہوئی ہے ایک عام شہری آج بھی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے سفارش ڈھونڈتا ہے اور اکثر اوقات بغیر کچھ دئیے انصاف کا دروازہ بند رہتا ہے ظلم یہ ہے کہ عوام کے محافظ خود شکایت کا مرکز بن چکے ہیں افسران بالا جب کبھی فیلڈ میں جا کر کارروائی کرتے ہیں تو میڈیا کے کیمرے ان کے ساتھ ہوتے ہیں چند تصاویر اور بیانات کے بعد عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اصلاح شروع ہو گئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی افسران کے اپنے دفاتر میں کرپشن اور نااہلی کا راج ہے جب اپنے دفتر میں ایمانداری قائم نہیں کی جا سکتی تو فیلڈ میں قانون کی عملداری کیسے ممکن ہے ریاست صرف قانون بنانے سے نہیں چلتی بلکہ قانون پر عمل درآمد سے مضبوط ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں قانون کمزور اور طاقتور مضبوط ہوتا جا رہا ہے عوام کا اعتماد اداروں سے ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ انصاف اب فائلوں فون کالز اور سفارشوں کے گرد گھومتا ہے اگر واقعی تبدیلی مقصود ہے تو اس کا آغاز نیچے سے ہونا چاہیے دفاتر کے اندر سے احتساب دیانت اور شفافیت صرف نعرے نہیں بلکہ نظام کی بنیاد بننے چاہیے جب تک افسران اپنے ماتحت عملے کو قانون کے تابع نہیں کریں گے جب تک پولیس اپنے دروازے عام آدمی کے لیے نہیں کھولے گی اور جب تک کرپشن کو معمول سمجھنے کا رویہ ختم نہیں ہوگا تب تک کوئی اصلاح ممکن نہیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب عوام کا یقین مکمل طور پر ختم ہو جائے گا میڈیا شور مچاتا رہے گا رپورٹس بنتی رہیں گی مگر سننے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری دفاتر کے دروازوں پر چھوڑ دی ہے۔

    شاہد یوسف نارنگ منڈی

  • جماعت اسلامی کا اجتماع عام۔۔۔۔۔ بدل دو نظام ،تحریر:محمد یوسف انور

    جماعت اسلامی کا اجتماع عام۔۔۔۔۔ بدل دو نظام ،تحریر:محمد یوسف انور

    عظیم الشان اجتماع عام جماعت اسلامی پاکستان جواکیس،بائیس،تئیس نومبر2025 ء کو مینارِپاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے جا رہا ہے یقیناً اپنے معنوی اور نظریاتی پس منظر کے اعتبار سے ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ”بدل دو نظام“ کے جرات افروز سلوگن کے زیرِ سایہ یہ اجتماع ایک نئے عزم، نئی توانائی اور ایک اُٹھتے ہوئے شعور کی علامت بنتا دکھائی دیتا ہے۔ گٹھا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کا مینار بن جانے کا تصور صرف ایک استعاراتی پکار نہیں بلکہ ایک اجتماعی اُمید، ایک اجتماعی جدوجہد اور ایک اجتماعی بیداری کی علامت ہے جو قوم کے دلوں میں نئی زندگی پھونکنے کے لیے بے قرار ہے۔یہ اجتماع صرف سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل، نظریاتی استقامت اور تحریکی سفر کا وہ قدم ہے جو کم و بیش ایک صدی کے فاصلوں پر محیط جدوجہد کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ولولہ انگیز، فکر انگیز اور غیر متزلزل قیادت نے جس قافلے کو روانہ کیا تھا، وہ قافلہ آج بھی اُسی جذبے، اُسی حرارت اور اُسی اخلاص کے ساتھ رواں دواں ہے۔ سیدمودودیؒ کا فکر، اُن کی تعلیمات اور اُن کا تصورِ انقلاب آج بھی اِس سفر کی بنیاد، سمت اور رُوح ہے۔اِسی فکری مشعل کو لے کر میاں طفیل محمدؒ نے جس سوزِ دروں، انکساری اور عزمِ راسخ کے ساتھ قافلے کی رہنمائی کی، وہ تاریخِ پاکستان کے تحریکی اور سیاسی سفر میں ایک روشن باب بن چکی ہے۔ پھر قاضی حسین احمدؒ کی جرات مندانہ قیادت نے جماعت اسلامی کے سفر میں نئی تیزی، نیا ولولہ، نئی توانائی اور نئی وسعتیں پیدا کیں۔ اِن کی خطابت، اِن کا عوامی رشتہ اور اِن کی فکری پختگی نے جماعت کو ایک نئی شناخت عطا کی۔ اِن کے بعد سید منور حسنؒ نے ایک مدبرانہ، متین اور عمیق بصیرت پر مبنی قیادت کا سلسلہ آگے بڑھایا جس نے جماعت اسلامی کے نظریاتی تشخص کو مزید استحکام بخشا۔ سراج الحق کی درویشانہ صفات اور نرم خو مگر پُرعزم قیادت نے جماعت کے حسنِ کردار اور خدمتِ خلق کے پہلو کو اور زیادہ نمایاں کیا۔آج اِس تسلسل کے بعد محترم حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان کی صورت میں جماعت کے سامنے ایسی قیادت موجود ہے جس میں جرات بھی ہے وژن بھی ہے حکمت بھی ہے اور عمل کی برق رفتاری بھی۔ اِن کی شاہین صفت پرواز جماعت کے کارکنان اور عام لوگوں میں نئی اُمید پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ کراچی کی سیاست سے لے کر قومی سطح کے مسائل تک اِن کی جدوجہد نے اِنہیں ملک کے نوجوانوں، متوسط طبقے اور شہری مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنے والے طبقات کے دلوں میں مقبول کر دیا ہے۔ اِن کی قیادت میں ”بدل دو نظام“ کا نعرہ محض ایک سیاسی جذباتیت نہیں بلکہ تبدیلی کے ایک منظم، باوقار، سنجیدہ اور بامقصد راستے کی طرف دعوت ہے۔اِس عظیم اجتماع کے ناظم کہنہ مشق اور منجھے ہوئے سیاست دان لیاقت بلوچ ہیں جن کی سیاسی بصیرت، تنظیمی مہارت اور مزاج کی پختگی اِس اجتماع کو ایک نئی سمت، نئی توانائی اور متاثرکن نظم دے رہی ہے۔ اِن کی موجودگی اِس اجتماع کی وقعت اور اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔یہ اجتماع نہ صرف پاکستان کے اندر مایوسی کے اندھیروں کو چاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ انقلابِ اسلامی کی نوید، ایک نئی صبح کے آغاز اور قوم کے لیے اُمید کی کرن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی، معاشی، سماجی اور تہذیبی صورتحال میں جب ہر سمت اضطراب، بے یقینی اور بے سمتی کے بادل چھائے ہوئے ہیں ایسے میں یہ اجتماع ایک اجتماعی شعور کی بیداری، اتحادِ امت کی مضبوطی اور پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نئی راہ کا تعین کر سکتا ہے۔اِس اجتماع میں نہ صرف ملک بھر سے لاکھوں افراد شرکت کریں گے بلکہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے قائدین بھی اِس میں شریک ہوں گے جو نہ صرف باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنے گا بلکہ امتِ مسلمہ کے اندر وحدت، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجز، بحران اور اختلافات ایسے مواقع کا تقاضا کرتے ہیں جہاں ایک سنجیدہ، بامقصد اور نظریاتی بنیادوں پر قائم تحریک سب کو ایک ساتھ بٹھا کر مشترکہ لائحہ عمل سوچنے کا ماحول فراہم کرے۔یہ اجتماع پاکستان کے عوام میں بھی ایک ولولہ تازہ پیدا کرے گا۔ عام آدمی جو مہنگائی، معاشی عدم استحکام، بے روزگاری، ظلم، ناانصافی اور کرپٹ نظام سے تنگ آ چکا ہے اِسے ایک منظم، باکردار، اُصولی اور متبادل قیادت کا تصور فراہم کیا جائے گا۔ یہ احساس کہ قوم تنہا نہیں، یہ وطن محض مایوسی کی داستان نہیں بلکہ یہاں بھی ایک ایسا کردار موجود ہے جو اُمید دلانے، راستہ دکھانے اور عملی جدوجہد کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مینارِ پاکستان کا تاریخی مقام اِس اجتماع کی معنویت کو مزید گہرا کرتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے ایک تاریخی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک وطن کا تصور پیش کیا تھا۔ آج وہی مقام ایک نئی قرارداد، ایک نئے عزم، ایک نئے سفر اور ایک نئی تبدیلی کی طرف خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ یہ اجتماع اِس بات کا اعلان ہے کہ قوم ایک بار پھر اپنی توانائی، اپنی وحدت، اپنے شعور اور اپنی دینی و قومی ذمہ داری کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگر یہ اجتماع اپنے مقاصد، اپنی روح اور اپنے سلوگن کے مطابق کامیاب ہوتا ہے تو یقیناً یہ پاکستان کے لیے وہ موڑ ثابت ہو سکتا ہے جس کے بعد قوم اپنی راہیں خود متعین کرے، اپنی منزلیں خود چنے اور اپنے مستقبل کو نئی روشنیوں سے ہمکنارکر دے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد،اِس کی قیادت کی مسلسل قربانیاں اور اِس کا نظریاتی استحکام پاکستان کے لیے ایک نعمت بن سکتا ہے بشرطیکہ قوم اِس بیداری کے لمحے کو پہچانے اور اِسے مضبوطی کے ساتھ تھام لے۔یہ اجتماع نہ صرف جماعت اسلامی کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ اُمید کی نوید بھی ہے جدوجہد کی علامت بھی اور تبدیلی کا اعلان بھی۔ اگر قوم نے اِس پکار کا مثبت جواب دیا تو یہ اجتماع واقعی اندھیروں میں روشنی کا مینار ثابت ہو سکتا ہے۔وہ روشنی جو آنے والی نسلوں کے لیے تابناک مستقبل کی خبر بھی دے اور راستہ بھی دکھائے

  • پاکستانی سیاست میں فکری زوال،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں فکری زوال،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سابق وزیراعظم کی بیگم کو لے کر اکانومسٹ میں جادو ٹونے کی جو کہانی شائع ہوئی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی سابق وزیراعظم کی بیگم کے بارے میں جادو ٹونے کی کہانیاں میڈیا پر آتی رہیں۔ لیکن موجودہ سٹوری کا الزام ایک ایسی شخصیت پر لگایا جا رہا ہے جو اس طرح کی چیزوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔ پرویز رشید کو میں سالوں سے جانتا ہوں پرویز رشید آج بھی پاکستان کے ان چند سیاست دانوں میں شامل ہوتے ہیں جو دلیل، گفتگو، اصول اور برداشت کے قائل ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ آزمائشیں دیکھیں، جیل کی صحبتیں برداشت کیں مگر راستہ وہی رکھا جو آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں سے جڑا ہوا تھا۔ پرویز رشید کی سیاست اس بات کی علامت ہے کہ طاقت کے بغیر بھی باوقار سیاست کی جا سکتی ہے۔ وہ سیاست کو صرف کھیل نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری بھی سمجھتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ پی ٹی آئی اور کچھ صحافی اس شخص پر الزام لگا کر اپنی ذہنی پستی کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان میں سیاست کے معیار کو بلند کرنا ہے تو پرویز رشید جیسے رہنماؤں کی طرز فکر کو سمجھنا اور اپنانا ضروری ہے۔ سیاسی زندگی میں اختلافات اور تنازعات ناگزیر ہوتے ہیں مگر ان کا طریقہ سیاست ہمیشہ غیر جارحانہ، شائستہ اور مدلل رہا۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی ذاتی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا ان کی گفتگو ہمیشہ سیاسی، فکری اور مذہبی رہی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا آسان نہیں مگر پرویز رشید نے ہمیشہ کھل کر اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کیا ان کا بیانیہ ہمیشہ یہ رہا کہ ریاست کی ذمہ داری شہریوں کا مذہبی درجہ طے کرنا نہیں بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ یہی سوچ انہیں ایک روشن خیال، متعدل مزاج اور آئینی سیاست کے رہنما کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔

    پرویز رشید کو مسلم لیگ ن کے اندر ایک باوقار ساتھی کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ وہ نواز شریف کے قریب ترین رفقاء میں شمار ہوتے ہیں لیکن ان کی قربت محض سیاسی نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی کی بنیاد پر مضبوط ہے۔ وہ ایک فکری سیاستدان ہیں کتاب اور دلیل کو سیاست کی طاقت پر فوقیت دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان پر کسی بھی مالی بدعنوانی یا کرپشن کا کبھی کوئی الزام نہ لگا نہ ثابت ہوا۔ وہ صاف ستھری سیاست کے نمائندہ رہنماؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ ملکی سیاست میں فکری بلوغت، جمہوری مزاحمت اور شائستگی کے نمائندہ چہرے سمجھے جاتے ہیں پرویز رشید نہ جادو ٹونے کی اس بےہودہ رسموں کو تسلیم کرتے ہیں۔

    اسلام نے جادو ٹونہ، فال گیری، نجومیوں سے پیشگوئیاں کروانے اور ماوراتی غیر شرعی طریقوں پر بھروسہ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ قران مجید میں جادو کو گمراہ کن عمل قرار دیا گیا ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص واقعی ایسی چیزوں پر یقین رکھتا ہے یا ان کا سہارا لیتا ہے یہ نہ صرف دین سے متصادم ہے بلکہ توحید کے عقیدے کے خلاف بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ امریکہ نے ترقی سائنس، تحقیق، تعلیم اور نظم و ضبط سے کی۔ یورپ نے ترقی صنعتی انقلاب، سیاست کے استحکام، اداروں کی مضبوطی اور معاشی نظم پر کی۔ چین، جاپان، کوریا، سنگاپور جیسے ممالک نے ٹیکنالوجی اور محنت کے ذریعے مقام پایا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک چاہے وہ سپرپاور ہو یا ترقی پذیر جادو ٹونے کے سہارے نہیں چلا قومیں صرف علم، محنت، قانون، انصاف اور مضبوط اداروں سے بنتی ہیں۔ ملکی سیاسی اور سماجی گفتگو کو اس سطح پر لایا جا رہا ہے کہ ملک کی قیادت کو جادو ٹونے کے زاویے سے دیکھا جائے یہ ایک غیر سنجیدہ اور غیر دانشدانہ انداز ہے۔ یہ قوم کی فکری سوچ کو نقصان پہنچاتی ہے ترقی کے مسائل، معیشت تعلیم، قانون، گورننس پیچھے رہ جاتے ہیں اور موضوع بحث جادو ٹونہ رہ جاتا ہے۔ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹتی ہے لوگ دلیل کو چھوڑ کر افواہوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ وطن عزیز کی اصل ضرورت مضبوط اداروں، سائنسی سوچ، تعلیم کی بہتری، انصاف کے نظام، سیاسی بلوغت، میڈیا میں ذمہ دارانہ گفتگو نہ کہ ایسی بحثوں کی جو قوم کی فکری پستی کو ظاہر کریں۔ اسلامی معاشرہ ہو یا جدید ریاست جادو ٹونہ کی بحثیں نہ دینی طور پر فائدہ مند ہیں نہ قومی سطح پر۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان دعوؤں کو ہوش سے دیکھیں بلا تحقیق الزامات کو زبان نہ دیں اور بحث کو ایسے موضوعات کی طرف لے جائیں جو قوم کی ترقی کا سبب ہوں۔

  • عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی   اصل  مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہنگامہ ہے کیوں برپا۔ آئین اور آئینی عدالت کو لے کر ایک ہنگامہ بنا ہے۔اگردیکھا جائے تو آئین دو اور دو جمع چار کی طرح آسان سوال ہے جبکہ آئین میں سب کچھ درج ہے آئینی حدیں موجود ہیں۔ دنیا میں آئینی عدالتوں کا کوئی ایک عالمی نظام، سسٹم یا مشترکہ ڈھانچہ موجود نہیں دنیا کے ہر ملک نے اپنی ضروریات ، سیاسی تاریخ اور آئینی ڈھانچے کے مطابق الگ الگ ماڈل اختیار کیا ہوا ہے ۔ دنیا میں دوبڑے ماڈل رائج ہیں جن کے مطابق آئینی عدالتی نظام چلتے ہیں ۔ خصوصی عدالتوں کا ماڈل اس ماڈل میں ایک الگ آئینی عدالت ہوتی ہے جو صرف آئین کی تشریح ،آئینی تنازعات اور قوانین کی آئینی حیثیت کاجائزہ لیتی ہے ۔ آئینی عدالت سپریم کورٹ سے علیحدہ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کا بنیادی طور پر آئینی جائزہ لیتی ہے ،آئینی شکایات کو سنتی ہے ۔ حکومتی اداروں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتی ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں یہ ماڈل موجود ہیں ۔ جرمنی، اٹلی، اسپین ، آسٹریا ، ترکیہ ، جنوبی افریقہ ، مصر، کئی یورپی ممالک اور لاطینی امریکی ممالک میں یہ ماڈل موجود ہیں۔ا مریکن سپریم کورٹ ماڈل اس نظام میں آئینی معاملات کی نگرانی ، سپریم کورٹ ہی کرتی ہے کوئی الگ آئینی عدالت نہیں ،امریکن سپریم کورٹ ماڈل بھارت ، کینیڈا ، آسٹریلیا اور پاکستان میں موجود تھا۔

    پاکستان نے بھی آئینی تنازعات کے حل کے لئے آئینی عدالت بناد دی۔ ہر ملک کے آئینی مسائل اور عدالتی ڈھانچے مختلف ہوتے ہیں نہ کوئی عالمی کنٹرولنگ باڈی ہے ۔ نہ کوئی بین الاقوامی آئینی کورٹ ۔ نہ ہی کوئی مشترکہ قوانین۔ دنیا کے کئی ممالک میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ہی آئینی معاملات کو دیکھتی ہے جبکہ یورپی ممالک کے کئی ممالک میں الگ آئینی عدالتیں موجود ہیں۔ رہا سوال عدالتوں کا ، عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف کا ہے ۔ دنیا کے بنائے ہوئے عدالتی نظام اپنی جگہ ا ہم ہیں مگر سب سے بڑی حقیقت یہ ہے انسان نے ایک دن اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ وہاں نہ سفارش نہ جھوٹ، نہ دنیاوی طاقت ۔ وہاں صرف سچ اور عدل قبول ہو گا۔ وہ لوگ جو انصاف تقسیم کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں اپنے حلف اور اپنے ضمیر کی پاسداری کریں۔ عدالت کا منصب کوئی دنیاوی اعزاز نہیں بلکہ ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت سب سے بڑا ظلم ہے۔ اگر کوئی جج ، ا فسر، یا اختیار رکھنے والا شخص اپنے فیصلوں سے سچائی سے ہٹ جائے وہ انسانوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے بلکہ خود اپنے انجام کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے ۔ دنیا کی عدالتیں وقتی ہیں ان کے فیصلے محدود ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی عدالت ابدی ہے وہاں پورا حساب لیا جائے گا۔انصاف صرف کتابوں کا لفظ نہیں یہ دلوں کی گہرائی میںاُتر کر انسانیت کو روشنی دیتا ہے اور وہ معاشرہ ہی ترقی پا سکتا ہے جہاں انصاف زندہ ہو اور ہر شخص اپنے اختیار کو ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرے۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یاد رکھیے و لوگ زمینی عدالتوں میں انصاف سے روگردانی کرتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ وہ انسانوں کے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حق کو مجروح کرتے ہیں۔

  • بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوموں کے عروج و زوال کا تعلق صرف معیشیت سیاست یا دفاعی طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ ان کے اجتماعی رویوں اور سوچ کے تسلسل سے ہوتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے فیصلوں، موقف اور ترجیحات میں یک رنگی اختیار کرتی ہے تو دنیا اسے ایک سنجیدہ معتبر اور باوقار قوم کے طور پر پہچانتی ہے۔ لیکن جب یہی قوم حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات، رائے اور رویے بدلنے لگے تو اس کا تاثر متزلزل ہو جاتا ہے اور بدقسمتی سے آج ہمیں اپنے معاشرے میں دکھائی دیتی ہے۔ ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو جب پاک بھارت جنگ ہوئی اس وقت پوری قوم نے اپنی فوج اور عسکری قیادت پر فخر کیا۔ پوری قوم نے آرمی چیف کو ہیرو قرار دیا فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا اور ان کی قیادت کو قومی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ مگر وقت گزر گیا اور حالات بدلنے پر وہی قوم اسی شخصیت کے بارے میں مختلف آراء اختیار کرنے لگی۔ سوال یہ نہیں کہ اختلاف کیوں کیا جا رہا ہے اختلاف رائے تو ہر جمہوری معاشرے کی خوبصورتی ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے موقف میں اصولی تسلسل برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم حالات کے مطابق رائے بدلتے ہیں یا اصول کے مطابق؟ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے رویے وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اصولی بنیادوں پر استوار ہوں۔ یہ تضاد یا دورنگی رویہ ہمیں دنیا کے سامنے کمزور ظاہر کرتا ہے دنیا یہ دیکھتی ہے کہ پاکستانی قوم کبھی اپنے ہی فیصلوں پر فخر کرتی ہے اور پھر انہی فیصلوں پر نقطہ چینی شروع کر دیتی ہے۔ یہی رویہ قومی اداروں کے احترام اور اجتماعی اعتبار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اقبال نے اسی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا
    یک رنگ ہو جا اے میرے دل کے درد کی دعا
    دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
    یہ شعر محض تصوف یا اخلاقیات کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ قومی تعمیر کی بنیاد بھی ہے جب تک ہم اپنی سوچ اپنی زبان اور اپنے فیصلوں میں استقامت پیدا نہیں کریں گے تب تک ہماری اجتماعی ساکھ مضبوط نہیں ہو سکتی قوموں کی پختگی کا پیمانہ ان کی یکجہتی دیانت فکر اور تسلسل رائے میں ہوتا ہے نہ کہ وقتی تعریفوں اور موسمی تنقیدوں میں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آراء کو وقتی جذبات سے ازاد کریں اصولوں کے تابع بنائیں اور بطور قوم ایک رنگ اختیار کریں کیونکہ قوموں کا معیار دو رنگی نہیں بلکہ یک رنگ میں پوشیدہ ہے۔

  • ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان

    ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان

    سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی، وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔
    لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔ سابق دور حکومت میں اینٹی کرپشن کو آنٹی کرپشن کہا جا تا تھا بالکل اسی طرح آج کل PERA یعنی اینٹی انکروچمنٹ فورس آنٹی انکروچمنٹ فورس بنتی جارہی ہے۔ انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے چند پولیس افسران ملنے آئے تو کہنے لگے کہ جن اہلکاروں کو پولیس یونیفارم میں ریڑی والے بھی مفت پھل نہیں دیتے تھے جب سے انہوں نے PERA یونیفارم پہنی ہے ان سے قسم لے لو کہ انہوں نے اس دن سے گھر کا راشن، پھل اور سبزیاں تک خریدی ہوں سب کچھ مفت باری پر چل رہاہے۔

    چند دن قبل گارڈن ٹاؤن لاہور میں عجیب منظر دیکھنے کو ملا، پھل خریدنے کیلئے گاڑی روکی تو دکاندار روتے ہوئے بولا جی سر میں نے اظہار ہمدردی پوچھا کہ خیریت رو کیوں رہے ہو کہنے لگا کہ ہر ہفتے PERA , ایل ڈی اے اور ایم سی ایل والے آجاتے ہیں، آج صبح PERA والے پیسے لیکر گئے ہیں تھوڑی دیر پہلے PERA کی ایک اور گاڑی والے آئے تو انکو کہا کہ صاحب جی صبح آپکی ٹیم سے ملاقات ہوگئی تھی تو وہ گالیاں دینے لگے کہ ہم تو ابھی آئے ہیں، ہماری خدمت کرو نہیں تو سارا کچھ گاڑی میں رکھو اور سٹیشن چلو۔۔۔۔۔۔نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دکاندار بتانے سے بھی قاصر تھا کہ پہلے کونسی گاڑی ”بھتہ“ لے کر جا چکی۔پیرا PERA کی گاڑیوں پر نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دوسری تحصیل سے بھتہ خوری کی جاسکتی ہے یا پھر ہوسکتا ہے کہ طریقہ واردات ہوکہ پہلے ایک گاڑی جائے پھر دوسری بھی چلی جائے۔

    اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا گیا ہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہے۔ بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں میں ڈالہ گردی اور غندہ ازم کرتی پھر رہی ہے۔
    ایک دوست نے لاہور کی اہم ترین تحصیل کے ایس ڈی ای او پیرا کا وائس نوٹ سنایا جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ آپ کی بار بار شکایات سے تنگ آکر میں نے انکروچمنٹ کی ٹیم بھیج کر آپ کو ابلائج کیا ورنہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ گلیوں میں تجاوزات دیکھیں، جوابی وائس نوٹ میں مذکورہ ایس ڈی ای او کو غیرت دلائی کہ بھائی تم نے ٹیم بھیج کر جو ابلائج کیا ہے بتا دو کہ کیا تمہاری ٹیم نے ایک پتھر بھی ہٹایا؟
    ایس ڈی ای او ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ اس نے ابلائج کیا کیونکہ رہائشوں علاقوں میں کونسا کسی نے پیسے دینے ہیں یا اسے ”پروٹیکشن منی“ مل جائے گی جو وہ تجاوزات ہٹائے جبکہ بازار میں تو ہر چکر پر مال ہی مال اکٹھا کیا جاتا ہے۔
    مجھے حیرانگی ہوئی کہ نئے افسران اس قدر ذہنی مریض اور بے حیا ہوچکے ہیں کہ جس کام کیلئے انہیں پوسٹنگ دی گئی اس لیگل کام کو کرنا احسان جتلانا اور ابلائجمنٹ سمجھتے ہیں جبکہ حرام اکٹھا کرنا استحقاق۔

    حاکمیت اور بدمعاشی والی اسی غلیظ سوچ کے ساتھ سرکاری افسران اغوا برائے تاوان جیسی وارداتیں ڈال رہے ہیں۔
    مجھے امید ہے یہ بچہ عنقریت رہائشی ایریاز والے معزز شہریوں کو کہے گا آپ سے بھتہ نہ لیکر آپ کو ابلائج کر رہا ہوں کیونکہ ہر کاروباری سے تو لیتے ہی ہیں ایسے میں رہائشیوں سے نہ لینا یقینی طور پر ابلائجمنٹ ہی ہے ، مذکورہ نوجوان افسر کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ تمہاری تحصیل میں سرکاری دفاتر تک کے دائیں بائیں بھی دس دس فٹ کی تجاوزات ہیں۔
    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ تجاوزات کی صورت انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر ”وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔لاء انفورسمنٹ ایجنسیز، اینٹی کرپشن اور سی سی ڈی کو چاہئے کہ سرکاری بھتہ خوری اور بنا نمبر پلیٹ سرکاری ڈالہ گردی کو بھی لگام ڈالیں۔چیف سیکرٹری کو چاہئے کہ تجاوزات کی سرپرستی کرنے والے افسران کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ جیل بھیجا جائے۔