قوموں کے عروج و زوال کا تعلق صرف معیشیت سیاست یا دفاعی طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ ان کے اجتماعی رویوں اور سوچ کے تسلسل سے ہوتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے فیصلوں، موقف اور ترجیحات میں یک رنگی اختیار کرتی ہے تو دنیا اسے ایک سنجیدہ معتبر اور باوقار قوم کے طور پر پہچانتی ہے۔ لیکن جب یہی قوم حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات، رائے اور رویے بدلنے لگے تو اس کا تاثر متزلزل ہو جاتا ہے اور بدقسمتی سے آج ہمیں اپنے معاشرے میں دکھائی دیتی ہے۔ ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو جب پاک بھارت جنگ ہوئی اس وقت پوری قوم نے اپنی فوج اور عسکری قیادت پر فخر کیا۔ پوری قوم نے آرمی چیف کو ہیرو قرار دیا فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا اور ان کی قیادت کو قومی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ مگر وقت گزر گیا اور حالات بدلنے پر وہی قوم اسی شخصیت کے بارے میں مختلف آراء اختیار کرنے لگی۔ سوال یہ نہیں کہ اختلاف کیوں کیا جا رہا ہے اختلاف رائے تو ہر جمہوری معاشرے کی خوبصورتی ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے موقف میں اصولی تسلسل برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم حالات کے مطابق رائے بدلتے ہیں یا اصول کے مطابق؟ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے رویے وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اصولی بنیادوں پر استوار ہوں۔ یہ تضاد یا دورنگی رویہ ہمیں دنیا کے سامنے کمزور ظاہر کرتا ہے دنیا یہ دیکھتی ہے کہ پاکستانی قوم کبھی اپنے ہی فیصلوں پر فخر کرتی ہے اور پھر انہی فیصلوں پر نقطہ چینی شروع کر دیتی ہے۔ یہی رویہ قومی اداروں کے احترام اور اجتماعی اعتبار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اقبال نے اسی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا
یک رنگ ہو جا اے میرے دل کے درد کی دعا
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
یہ شعر محض تصوف یا اخلاقیات کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ قومی تعمیر کی بنیاد بھی ہے جب تک ہم اپنی سوچ اپنی زبان اور اپنے فیصلوں میں استقامت پیدا نہیں کریں گے تب تک ہماری اجتماعی ساکھ مضبوط نہیں ہو سکتی قوموں کی پختگی کا پیمانہ ان کی یکجہتی دیانت فکر اور تسلسل رائے میں ہوتا ہے نہ کہ وقتی تعریفوں اور موسمی تنقیدوں میں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آراء کو وقتی جذبات سے ازاد کریں اصولوں کے تابع بنائیں اور بطور قوم ایک رنگ اختیار کریں کیونکہ قوموں کا معیار دو رنگی نہیں بلکہ یک رنگ میں پوشیدہ ہے۔
Author: باغی بلاگز

بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان
سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی، وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔
لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔ سابق دور حکومت میں اینٹی کرپشن کو آنٹی کرپشن کہا جا تا تھا بالکل اسی طرح آج کل PERA یعنی اینٹی انکروچمنٹ فورس آنٹی انکروچمنٹ فورس بنتی جارہی ہے۔ انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے چند پولیس افسران ملنے آئے تو کہنے لگے کہ جن اہلکاروں کو پولیس یونیفارم میں ریڑی والے بھی مفت پھل نہیں دیتے تھے جب سے انہوں نے PERA یونیفارم پہنی ہے ان سے قسم لے لو کہ انہوں نے اس دن سے گھر کا راشن، پھل اور سبزیاں تک خریدی ہوں سب کچھ مفت باری پر چل رہاہے۔چند دن قبل گارڈن ٹاؤن لاہور میں عجیب منظر دیکھنے کو ملا، پھل خریدنے کیلئے گاڑی روکی تو دکاندار روتے ہوئے بولا جی سر میں نے اظہار ہمدردی پوچھا کہ خیریت رو کیوں رہے ہو کہنے لگا کہ ہر ہفتے PERA , ایل ڈی اے اور ایم سی ایل والے آجاتے ہیں، آج صبح PERA والے پیسے لیکر گئے ہیں تھوڑی دیر پہلے PERA کی ایک اور گاڑی والے آئے تو انکو کہا کہ صاحب جی صبح آپکی ٹیم سے ملاقات ہوگئی تھی تو وہ گالیاں دینے لگے کہ ہم تو ابھی آئے ہیں، ہماری خدمت کرو نہیں تو سارا کچھ گاڑی میں رکھو اور سٹیشن چلو۔۔۔۔۔۔نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دکاندار بتانے سے بھی قاصر تھا کہ پہلے کونسی گاڑی ”بھتہ“ لے کر جا چکی۔پیرا PERA کی گاڑیوں پر نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دوسری تحصیل سے بھتہ خوری کی جاسکتی ہے یا پھر ہوسکتا ہے کہ طریقہ واردات ہوکہ پہلے ایک گاڑی جائے پھر دوسری بھی چلی جائے۔
اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا گیا ہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہے۔ بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں میں ڈالہ گردی اور غندہ ازم کرتی پھر رہی ہے۔
ایک دوست نے لاہور کی اہم ترین تحصیل کے ایس ڈی ای او پیرا کا وائس نوٹ سنایا جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ آپ کی بار بار شکایات سے تنگ آکر میں نے انکروچمنٹ کی ٹیم بھیج کر آپ کو ابلائج کیا ورنہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ گلیوں میں تجاوزات دیکھیں، جوابی وائس نوٹ میں مذکورہ ایس ڈی ای او کو غیرت دلائی کہ بھائی تم نے ٹیم بھیج کر جو ابلائج کیا ہے بتا دو کہ کیا تمہاری ٹیم نے ایک پتھر بھی ہٹایا؟
ایس ڈی ای او ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ اس نے ابلائج کیا کیونکہ رہائشوں علاقوں میں کونسا کسی نے پیسے دینے ہیں یا اسے ”پروٹیکشن منی“ مل جائے گی جو وہ تجاوزات ہٹائے جبکہ بازار میں تو ہر چکر پر مال ہی مال اکٹھا کیا جاتا ہے۔
مجھے حیرانگی ہوئی کہ نئے افسران اس قدر ذہنی مریض اور بے حیا ہوچکے ہیں کہ جس کام کیلئے انہیں پوسٹنگ دی گئی اس لیگل کام کو کرنا احسان جتلانا اور ابلائجمنٹ سمجھتے ہیں جبکہ حرام اکٹھا کرنا استحقاق۔حاکمیت اور بدمعاشی والی اسی غلیظ سوچ کے ساتھ سرکاری افسران اغوا برائے تاوان جیسی وارداتیں ڈال رہے ہیں۔
مجھے امید ہے یہ بچہ عنقریت رہائشی ایریاز والے معزز شہریوں کو کہے گا آپ سے بھتہ نہ لیکر آپ کو ابلائج کر رہا ہوں کیونکہ ہر کاروباری سے تو لیتے ہی ہیں ایسے میں رہائشیوں سے نہ لینا یقینی طور پر ابلائجمنٹ ہی ہے ، مذکورہ نوجوان افسر کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ تمہاری تحصیل میں سرکاری دفاتر تک کے دائیں بائیں بھی دس دس فٹ کی تجاوزات ہیں۔
صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ تجاوزات کی صورت انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر ”وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔لاء انفورسمنٹ ایجنسیز، اینٹی کرپشن اور سی سی ڈی کو چاہئے کہ سرکاری بھتہ خوری اور بنا نمبر پلیٹ سرکاری ڈالہ گردی کو بھی لگام ڈالیں۔چیف سیکرٹری کو چاہئے کہ تجاوزات کی سرپرستی کرنے والے افسران کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ جیل بھیجا جائے۔

دہشت گردی کے خلاف قومی عزم،خلا کہاں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی
وطن عزیز ایک بار پھر لہو میں نہا گیا ۔ اسلام آباد کی عدالت کے باہر ہونے والا خودکش دھماکہ جس میں درجن سے زائد قیمتی جانیں اور زخمی ہونے والوں شہریوں اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں کالج پر دہشت گردوں کا حملہ اس تلخ حقیقت کی تصدیق ہے کہ دہشت گردی کا جن ابھی پوری طرح بوتل میں بند نہیں ہو سکا۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں کبھی آپریشن راہ نجا ت، ضرب عضب اور ردالفساد کے نعرے گونجتے تھے۔جہاں قوم نے قربانیاں دیں ،پاک فوج جملہ اداروں پولیس نے قربانیاں دیں اور جہاں یہ اُمید بندھی تھی کہ اب امن مستقل ٹھکانہ بنے گا۔ مگر حالیہ حملے یہ بتا رہے ہیں کہ دہشت گردی کی جڑیں صرف پہاڑوں یا سرحدی علاقوں میں نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے میں کہیں نہ کہیںدوبارہ پنپ رہی ہیں۔ اسلام آباد جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں خودکش دھماکہ ایک علامتی پیغام ہے۔دوسری جانب وانا میں کیڈٹ کالج پر حملہ اس بات کا عندیہ ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک دوبارہ منظم ہو رہے ہیں ۔یہ صورت حال اس سوال کو جنم دیتی ہے آخر ریاست کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی میں کہاں خلاء باقی ہے ؟ کیا سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کے خلاف قومی یکجہتی کو کمزور کردیا ہے ؟ بلاشبہ ان حملوں کی جڑیں بھارت اور افغانستان کی سرزمین پر موجود گروپوں سے جڑی ہیں۔ اگرسرحد پار عناصر سرگرم ہیں تودیکھنا ہوگا اندرون ملک ان کے سہولت کار کون ہیں؟ دہشت گردی کو روکنے کے لیے سرحدوں پر ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی ، اور معلوماتی اشتراک ناگزیر ہے ۔ پسماندہ علاقوں میں روزگار، تعلیم اور انصاف کی فراہمی انتہا پسندی کا سب سے موثر توڑ ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی جنگ اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب سیاستدان آپس میں برسرپیکار ہوں۔ شدت پسندی کے خلاف فکری اور دینی سطح پر بیانیہ تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے۔ وطن عزیز نے دہشت گردی کے حوالے سے بہت قربانیاں دی ہیں۔ فوجی جوانوں سے لے کر معصوم بچوں تک ہر طبقہ نشانہ بنا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوم نے ہر بار اٹھ کھڑا ہونا سیکھا ہے۔ آج بھی اگر سیاسی ،عسکری اور سماجی قوتیں ایک صف میں کھڑی ہو جائیں تو دہشت گردی کے خلاف اس اندھیرے کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں قوم اپنی سوچ بدلنے پر آمادہ ہو تو کوئی اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان
آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،اپووا ایک تنظیم ہی نہیں ایک ادارہ ہے جس سے ہزاروں لوگ بلاواسطہ یا براہ راست جڑے ہوئے ہیں اور مستفید ہو رہے ہیں،اپووا اپنے احباب اور جڑے لوگوں کی عزت اور عزت نفس کا محافظ ہے اور الحمدللہ دن رات محنت لگن خلوص سے جانب منزل رواں دواں ہے اور اپنی صلاحیتوں اور نت نئے پروگرامز متعارف کروانے پہ اپنی مثال آپ ہے
آزمائشوں اور تجربات سے گزر کر مذید پختہ ہوتا جا رہا ہے
ایم ایم علی نے جو پودا لگایا تھا اج وہ پوری قدوقامت کے ساتھ کھڑا پھل دے رہا ہے
کئی پھل گر کر پرندے کھا گئے کئی خشک ہو گئے مگر پودا اپنی جگہ پر قائم ہے
ہمیشہ کی طرح نو نومبر کو بھی یوم اقبال پہ اپووا نے ایک منفرد اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا جس میں اپووا کے خیر خواہ اوربے لوث چاہنے والوں کا جم غفیر تھا لاکھوں کے نقد انعامات اور بکس تقسیم کی گئیں
تمام ممبران نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ایم ایم علی اور اس ساری محفل کے روح رواں جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب حافظ زاہد صاحب اور سفیان فاروقی اور محترمہ پروفیسر سمیرا صاحبہ ماریہ خان،لاریب، حفضہ خالد ایمن سعید اور دیگر تمام معزز خواتین و حضرات کا جنہوں نے اس مقدس محفل میں حصہ لیا،اور شکر گزار ہوں ان تمام معزز مہمانان گرامی قدر کا جو شامل ہوئے،
انشاءاللہ تعالیٰ اپووا اسی طرح کے شاندار پروگرام کر کے اپنی شناخت کو خوب سے خوب تر کی طرف لیجانے کی ڈگر پہ چلتا رہیگا انشاء اللّه
اور مجھے فخر ہے کہ میں اپووا کا ایک کارکن ہوں،ایک بار پھر ایم ایم علی،جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب اور تمام اپووا کے محبت کرنے والوں خیر خواہوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد
اور اگر کسی کا نام بھول گیا ہوں تو معذرت خواہ
ہمارا نعرہ ہے کہ
اپووا تھا
اپووا ہے
اپووا رہے گا
انشاءاللہ تعالیٰ
اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت، تحریر:طارق نوید سندھو
آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیراہتمام ایک نہایت بامعنی اور روح پرور تقریب، “عطائے ارمغانِ عقیدت”لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ دلوں کی کیفیات، عشقِ رسول ﷺ کے رنگ اور قلم کی لطافتوں کا حسین امتزاج تھی۔یہ محفل اُن خوش نصیب اہلِ قلم کے نام تھی جنہوں نے اپووا کے تحت منعقدہ مراسلاتی مہم میں سرورِ کائنات ﷺ کے حضور خطوط تحریر کیے۔ ان خطوط میں کسی نے ندامت کے آنسو لفظوں میں سموئے، کسی نے عقیدت کے پھول نذر کیے، تو کسی نے اپنی زندگی کے مدعا کو آقائے دو جہاں ﷺ کے حضور بیان کیا۔ ہر خط اپنے اندر ایک داستانِ عشق، ایک نغمۂ محبت اور ایک پیامِ وفا سمیٹے ہوئے تھا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا جس نے فضا کو معطر کردیا۔حافظ محمد زاہد نے تلاوت کی جبکہ حفصہ خالد نے نعت رسول مقبول پڑھی، اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے شرکا کو خوش آمدید کہاسینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان بھی محفل پرنور کی زینت بنے، ان کی گفتگو میں ادب کے فروغ اور عشقِ رسول ﷺ کی ترویج کا جوش نمایاں تھا۔تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی اور شریکِ محفل، مجھے بھی عزت و احترام سے نوازا گیا۔ اپووا کی پوری ٹیم کی محبت اور خلوص نے دل کو ممنون کر دیا۔ اس موقع پر جناب ایم ایم علی، ناصر بشیر و دیگر نے بھی خطاب کیا،
اختتامی لمحات میں اُن تمام لکھنے والوں کو یادگاری اسناد اور ارمغانِ عقیدت سے نوازا گیا جنہوں نے اپنے خطوط کے ذریعے عشق و عقیدت کا حق ادا کیا۔ ان تحریروں میں وہ کیف و جذب تھا جو لفظوں سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔یہ تقریب دراصل ایک عہدِ نو کی بشارت تھی کہ جب لفظ عشق کے تابع ہوں اور قلم محبت کے رنگ میں تر ہو، تو ادب عبادت بن جاتا ہے۔ اپووا کی یہ کاوش یقیناً ادبی تاریخ میں محبتِ رسول ﷺ کے فروغ کی ایک روشن مثال بن کر یاد رکھی جائے گی۔
جب قلم محبت کے چراغ جلائے،
اور دل عقیدت کی روشنی میں بھیگ جائے،
تو الفاظ محض حروف نہیں رہتے، وہ دعائیں بن جاتے ہیں۔
“تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت” دراصل انہی دعاؤں کا سنگم تھی
جہاں محبتِ رسول ﷺ نے ہر دل کو منور کیا،
اور ہر قلم نے اپنی سیاہی کو نعت کی خوشبو سے معطر کر دیا۔
حکومت کا 22 ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ موجود ہے،سید قمر رضا
اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی) حکومت پاکستان کا مجموعی طور پر 22 ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ موجود ہے۔ یعنی ان ممالک کی شہریت رکھنے والوں کو پاکستان کی شہریت حاصل کرنے کے لیے اپنی شہریت چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان ممالک میں برطانیہ، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، آئس لینڈ، آسٹریلیا، نیوی لینڈ، کینیڈا، فن لینڈ، مصر، اردن، شام، سوئٹزرلینڈ، نیدر لینڈز، امریکہ، سویڈن، آئرلینڈ ، بحرین، ڈنمارک، جرمنی اور ناروے شامل ہیں۔ پاکستانی شہریت کے حوالے سے سیٹیزن شپ ایکٹ 1951 موجود ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کون پاکستانی شہریت کا حامل ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔ اس قانون کی 23 شقیں ہیں جس میں مختلف شرائط کے ساتھ پاکستانی شہریت کے حوالے سے تفصیلات درج ہیں۔ اس ایکٹ کی دفعہ 10 میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ شادی کی صورت میں کون پاکستانی شہریت کا حق دار ہوگا اور کون نہیں۔ اس دفعہ کے تحت پاکستانی مرد اگر کسی غیر ملکی خاتون سے شادی کرتے ہیں تو ان کی ساتھی اس بات کی حق دار ہے کہ وہ پاکستانی شہریت حاصل کر سکے۔ مگر یہ حق خاتون کو نہیں دیا گیا ہے۔ پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سنہ 2012 میں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت یہ شرط بھی رکھی کہ ہر امیدوار کو یہ بیان حلفی جمع کروانا ہوگا کہ وہ کسی اور ملک کا شہری نہیں ہے۔ مختلف مواقع پر سیٹیزن شپ ایکٹ 1951 میں ترامیم کی جاتی رہی ہیں۔ رواں برس اگست میں بھی اس قانون میں ترمیم کی گئی جس کے تحت کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے والے پاکستانی شہریت چھوڑنے والے افراد کو دوبارہ پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔
اس سلسلے میں او پی ایف کے چیئرمین سید قمر رضا نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین چار دن سے پاکستان میں موجود اور بیرون ملک میں موجود افواہ ساز فیکٹریاں اورسیز پاکستانیوں کے بارے میں ڈبل نیشنلٹی کو لے کر افواہیں پھیلا رہی ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اور پرتگال میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کو بھی ڈبل نیشنلٹی رکھنے کا قانون پاس کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اس میں ترکیہ میں موجود اورسیز پاکستانیوں کے بارے میں بھی سوچا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے واحد چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر ہیں جنہوں نے امریکہ سمیت یورپ بھر میں مقیم اورسیز پاکستانیوں کے پاس خود جا کر ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی ہے اور پاکستان میں ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگ اورسیز پاکستانیوں کے بارے میں پروپیگنڈا کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سید قمر رضا نے کہا کہ اورسیز پاکستانی ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں جو اپنی محنت، دیانت اور لگن سے نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں بلکہ زرمبادلہ کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں ان کی قربانیاں اور خدمات ہمارے قومی ترقی کے سفر میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

معیشت کا جنازہ ہے ذرہ دھوم سے نکلے،تحریر: علی ابن ِسلامت
چھ اگست 2025 کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک کی بیورو کریسی کے متعلق انکشاف کیا تھا کہ آدھی سے زائد بیورو کریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے، دوسری جانب پاکستان کی وفاقی حکومت میں اس وقت اٹھاون وزارتیں اور لا تعداد مشیر کام کر رہے ہیں، یہ تعداد وقتاً فوقتاً کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں کبھی وزارتوں کو ضم بھی کر دیا جاتا ہے تو کبھی ناراض اراکین کو نکال دیا جاتا ہے، ان وزارتوں کے انڈر میں تقریباً چالیس سے زائد بڑے محکمے کام کرتے ہیں، بہت سے محکمے اور وزارتیں ایسی ہیں جو ہونی ہی نہیں چاہیے۔صرف لاہور شہر میں چھ جی او آر ہیں، جہاں مختلف سرکاری افسران کو رہائش فراہم کی جاتی ہے، بیوروکریسی کو ہر طرح کی سہولیات فراہم ہیں، ڈرائیور، کک، آفس بوائے، سب کچھ میسر لیکن کام زیرونظر آتا ہےیہ صرف پنجاب یا لاہور کا مسئلہ نہیں بلکہ سندھ ، کے پی، بلوچستان ، ہر جگہ مافیہ نے اداروں کو عیاشی کا اڈا بنایا ہوا ہے۔
واسا ایک وسیع بجٹ لینے کے باوجود برسات میں پانی کی نکاسی کا انتظام نہیں کر سکتا، بیوروکریٹس جو سب کچھ اس ملک کا کھاتےجا رہے ہیں ، غریب عوام کے احساس تک نگل جاتےہیں، سہولیات ان کو نمبر ون چاہیے ہوتی ہیں ورنہ پریس کلب، سیکرٹریٹ یا مال روڈ پر احتجاج کروا دیا جاتا ہے، آئے دن پورا لاہور شہر بند کر دیا جاتا ۔ میں اگر چھوٹی سہولیات کی بھی بات کروں تو یہ اخراجات ملک کو کھا رہے ہیں، اگست دو ہزار چوبیس میں پنجاب حکومت کے صوبائی خزانے سے اسپیکر کیلئے اٹھارہ کروڑ کی پانچ گاڑیاں خریدی گئیں تھیں۔ جنوری دو ہزار پچیس میں صرف ایف بی آر نے حکومت کی گردن پر پاؤں رکھ کر چھ ارب روپے مالیت کی ایک ہزار دس گاڑیاں حاصل کیں، جن میں سے کچھ مل چکیں اور کچھ باقی ہیں، یہ وہی ادارہ ہے جو اپنا ٹیکس ہدف بھی پورا نہیں کر سکا، جس دن گاڑیاں خریدی گئیں اسی ادارے کو تین سو پچاسی ارب ٹیکس شارٹ فال کا سامنا تھا۔
عمران خان کی حکومت کے بعد صرف ویگو ڈالے کی تین سو گاڑیاں روزانہ بک رہیں تھیں اگست دو ہزار چوبیس تک تین سال میں چار سو پچاس ارب روپے کی پینتیس ہزار گاڑیاں بک چکی تھیں، اگست دو ہزار چوبیس میں پتہ چلا کہ سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے ایک سو اڑتیس لگژری گاڑیاں خریدنے کیلئے دو ارب روپے مانگے جبکہ اگلے مہینے یعنی ستمبر میں پتہ چلا کہ سندھ حکومت کے پاس اربوں روپےکی دو سو سے زائد فالتو گاڑیاں پہلے سے موجود ہیں جو بغیر مناسب دیکھ بھال یا استعمال کے کباڑ بن رہی تھیں ان میں سے آگ لگنے سے تیس سے زائد گاڑیاں جل گئیں تھیں۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں وفاقی وزراء کیلئے پچیس لگژری گاڑیاں خریدی گئیں حالانکہ پابندی لگی تھی،اس تمام عیاشی کے باوجود بیوروکریٹس حکومت اور عوام سے ناراض رہتےہیں ۔
برطانیہ میں حکومت کے پاس جو سرکاری گاڑیاں ہیں ان کی کل تعداد پینتالیس ہے ،یعنی پینتالیس گاڑیوں کا ایک پول ہے جو تمام وزارتوں اور سرکاری دفاتر میں استعمال کیا جاتا ہے اور کوئی گاڑی کسی کے نام پر نہیں ہے ، دوسری طرف صرف صوبہ سندھ میں سرکاری گاڑیوں کی تعداداٹھارہ ہزار ہے اور پنجاب حکومت پچیس ہزار گاڑیوں کی مالک ہے۔ خیبرپختونخوا کی افسرشاہی سرکاری گاڑیوں پر سالانہ تقریباً سات ارب روپے کے تیل کی مفت سہولت لے رہی ہے ، پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے دو ہزار اکیس سے بائیس میں نئی گاڑیوں کی خریداری پر تین اعشاریہ دوارب روپے خرچ کئے۔سال دو ہزار بائیس سے تیئس کے میڈیا اعدادوشمار کیمطابق خیبرپختونخوا میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں سولہ ہزار ایک سو ایک سرکاری گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور دو ہزار سترہ کے بعد کے ماڈل کی چار ہزار نوسو دس نئی گاڑیاں رجسٹر ہوئیں،کے پی حکومت نے صرف سال دو ہزار اکیس سے بائیس کے دوران تقریباً چار ارب روپے ادا کیے ، یوں ایک سال کے دوران گاڑیوں کی مرمت پر ایک ارب بیس کروڑ روپے خرچ ہوئے۔میں نے موٹا موٹا حساب نکالا وہ تقریباً چوبیس ارب اسی کروڑ سات لاکھ سے زائد رقم بنتی ہے، یعنی صرف ایک کے پی حکومت نے سال دو ہزار سترہ سے دو ہزار بائیس تک اربوں روپے عیاشی میں اڑا دئیے جو صرف گاڑیوں کی مد میں چلے گئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے جن کا ریکارڈ محکمہ ایکسائیز کے پاس موجود ہی نہیں یا پھر وہ اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہیں ۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق پنجاب کے حکومتی محکموں میں پچیس ہزار سے زائد گاڑیاں ایسی ہیں جو ٹوکن ٹیکس کے زمرے میں آتی ہیں۔ جن میں سے سترہ ہزار دو سو تہتر گاڑیاں اس وقت محکمہ ایکسائز کی ڈیفالٹر لسٹ میں شامل ہیں۔یعنی پنجاب حکومت کے پاس پچیس ہزار سرکاری گاڑیاں موجودہیں اور ستر فیصد سے زائد گاڑیوں کا ٹیکس ہی نہیں ادا ہوا، اور یہ پچھلے سال کی بات ہے جس پر پنجاب حکومت نے اب جا کر ایکشن لینا شروع کیا تھا۔
ملک میں تین کروڑ سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، اور صرف پنجاب میں پچاس فیصد سے زائد گاڑیاں ٹیکس ڈیفالٹر ہیں، نا جانے یہ کون لوگ استعمال کرتے ہیں، ستمبر دو ہزار چوبیس میں حکومت کا وی آئی پیز کیلئے اناسی گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ سامنے آیا تھا جن کی قیمت اکسٹھ کروڑ سے زائد تھی، اور بارہ بلٹ پروف گاڑیاں وزیراعظم کیلئے تھیں، پھر یہ خریدی بھی گئیں، وفاقی وزیر قانون کیمطابق ایک وزیر کو تنخواہ کہ علاوہ سہولیات میں پندرہ سو سی سی گاڑی اور چار سو لیٹر پیٹرول ملتا ہے، پچھلے مہینے وزراء کی تنخواہیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔
حیران کن طور پر اس وقت اراکینِ پارلیمان کی صرف تنخواہوں کا مجموعی حجم پینتیس ارب چون کروڑ ستر لاکھ روپے ماہانہ ہے ۔ ہاؤس رینٹ، گاڑی، گھر کے بل، ٹکٹ، بیرون ملک دورے اور رہائش اس میں اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر، وزرا، وزرائے اعلیٰ، گورنرز، وزیر اعظم، صدر کی تنخواہیں شامل نہیں ہیں۔مختلف اجلاسوں کے اخراجات اور بونس ملا کرسالانہ خرچ پچاسی ارب روپے کے قریب پہنچ جاتا ہے اور اکثر یہ لوگ خود ٹیکس نہیں دیتے۔ ریٹائرڈ افسرجوغیر ممالک میں اپنی مرضی سے مقیم ہیں انھیں ڈالر اور یورو میں پنشن ادا کی جارہی ہے۔ وزارت خارجہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایسے پنشنرز کی تعداد ایک سو چونسٹھ کے قریب ہے جنھیں غیر ملکی کرنسی میں ہر ماہ پنشن ادا کی جاتی ہے، جس کی مالیت دو سو ملین روپے کے قریب ہے۔
در اصل یہ حقائق کبھی سامنے نہیں آتے مگر آئین میں کی گئی اٹھارویں ویں ترمیم کی شق نائینٹین ۔اےکے عوام کو یہ حقائق جاننے کا موقع مل گیا تھا، افسوس یہ ہے کہ معیشت کا جنازہ یہ اشرافیہ دھوم سے نکالنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ جہاں عوام روٹی، پانی سے محروم ہے وہاں اپنے حقوق جاننے کا حق کون دے گا؟
نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

آئینی ترامیم اور اختیارات کی کشمکش،تجزیہ:شہزاد قریشی
دنیا کے چند ممالک ایسے ہیں جن کے جمہوری ڈھانچے آئینی تحفظات اور سول آزادیوں کی روشنی میں انہیں بہترین جمہوری ممالک کے طور پر اکثر سراہا جاتا ہے۔ ناروے، سویڈن، ڈنمارک، یورپی ممالک سمیت امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، فرانس، سوئٹزرلینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے 1947 کے بعد انڈیا ایکٹ 1935 عارضی آئین کے طور پر اپنایا۔ 1956 میں پہلا تحریری آئین آیا لیکن 1958 میں مارشل لگا اور آئین منسوخ کر دیا گیا۔ 1962 میں جنرل ایوب خان نے نیا آئین دیا جو صدارتی نظام پر مبنی تھا۔ پھر ممتاز عوامی لیڈر مسٹر بھٹو نے پارلیمانی جمہوری آئین بنایا جس کو 73 کا آئین کہا جاتا ہے۔ یہ آئین ایک پارٹی کا نہیں بلکہ تمام جماعتوں کا مشترکہ معاہدہ تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان، جے یو پی، ان سب نے مل کر 1973 کے آئین پر دستخط کیے۔ پھر 1977 اور 1988 ضیاء الحق مرحوم کے دور میں 1985 کو آٹھویں ترمیم کی گئی صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا آرٹیکل 58 ٹو بی پھر آئین کا توازن بگڑ گیا۔ پھر محترمہ بینطیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ادوار 1988 ،تا 1999 میں سیاسی کشمکش کے باعث پارلیمانی نظام کمزور رہا صدر کا استعمال بار بار ہوا۔ پھر جنرل مشرف مرحوم کے دور 1999 میں 2008 ، 17ویں ترمیم 2003 صدارتی اختیارات بحال کیے گئے۔ پھر جمہوریت کی بحالی کے بعد اٹھارویں ترمیم 2010 صوبائی خود مختاری بحال کی گئی۔ صدر کے اختیارات کم اور پارلیمنٹ کے زیادہ، جنرل ضیاء الحق مرحوم اور مشرف مرحوم کے ادوار میں کی گئی تبدیلیوں کا توازن درست کیا گیا۔
1973 کا عظیم آئین درجنوں ترامیم کی وجہ سے اس کا اصل ڈھانچہ پیچیدہ ہو گیا۔ تاہم اس آئین کے بنیادی اصول اسلام، وفاق، جمہوریت، آزادی، مساوات، سماجی انصاف اب بھی وہی ہیں جو 1973 کے آئین میں طے ہوئے تھے۔ 1973 کا آئین دراصل پاکستان کی قوم، سیاست اور مذہب کے درمیان ایک تاریخی مفاہمت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آئیں مگر اس آئین کی روح اب بھی اتحاد اور جمہوریت کی علامت ہے۔ اب ایک بار پھر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر بحث جاری ہے۔ پیپلزپارٹی نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ صوبائی خود مختاری پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔ اس شق کے حق میں ووٹ نہیں دیا جائے گا دوسری کئی شقوں کے علاوہ مجسٹریٹی نظام کو بھی ووٹ نہیں دیا جائے گا۔ مجسٹریٹی نظام دراصل نوآبادیاتی دور کی ایک انتظامی وراثت ہے۔ جب انتظامیہ ہی عدلیہ کا کردار ادا کرے تو انصاف غیر جانبدار نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر ایک ہی انتظامی افسر پولیس کی تفتیش کی نگرانی بھی کرے اور سزا بھی دے تو انصاف کیسے غیر جانبدار ہوگا؟ آئینی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 175 عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرتا ہے۔ مجسٹریٹی نظام میں عوامی نمائندے کمزور اور بیوروکریسی طاقتور ہو جاتی ہے بہتر راستہ یہ ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کی مکمل علیحدگی برقرار رکھی جائے۔ جوڈیشل نظام کو مضبوط کیا جائے نہ کہ انتظامیہ کو عدالتی کردار دیا جائے۔ پیپلز پارٹی آرٹیکل 243 کی حمایت کرے گی۔ پارلیمنٹ میں جو موجود ارکان اسمبلی یاد رکھیں جمہوریت کی بنیاد صرف پارلیمنٹ، قانون یا اقتدار نہیں بلکہ وہ اعتماد اور خدمت ہے جو عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان قائم ہو۔ عوام کے بنیادی مسائل روزگار، تعلیم، صحت، انصاف پر توجہ دے۔ اگر پارلیمنٹ صرف اقتدار کی سیاست میں مصروف رہے اور عوامی مشکلات نظر انداز ہوں تو جمہوریت ایک نظام نہیں بلکہ ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران متعدد مواقع پر یہ دعوی کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کروانے یا جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے۔ ایسے بیانات سے وقتی طور پر عالمی توجہ ضرور حاصل ہو جاتی ہے مگر خطے کے دیرینہ اور اصل مسلے یعنی کشمیر پر امریکی پالیسی ہمیشہ خاموش اور مبہم رہی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تر تناؤ، سرحدی جھڑپوں اور بداعتمادی کی جڑ مسلہ کشمیر ہے۔ جب تک اس تنازع کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں واضح طور پر تسلیم شدہ ہے۔ امریکہ اگر واقعی خطے میں امن کا خواہاں ہے تو اسے محض جنگ بندی کروانے یا کشیدگی کم کروانے کے بیانات سے آگے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے عملی اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
طاقتور ممالک کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ وقتی بحرانوں کو سنبھالیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی پالیسی اختیار کریں تاکہ تنازعات کی جڑیں ختم ہو سکیں۔ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور امن کی بات کرتا رہا ہے مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی برادری کی سرد مہری کے باعث یہ مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ نتیجتا لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے کشیدگی بڑھ جاتی ہے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور خطے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ امن صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ انصاف سے آتا ہے اور انصاف تب ہی ممکن ہے جب کشمیر کے عوام کو وہ حق دیا جائے جس کا وعدہ ان سے برسوں پہلے کیا گیا تھا۔

ووٹ وعدے اور فاصلے،تحریر: شاہد یوسف
ہمارے معاشرے میں سیاست کا موسم جب آتا ہے تو منظر ہی بدل جاتا ہے گلیوں میں رونقیں بڑھ جاتی ہیں وعدوں کی بارش ہونے لگتی ہے اور عوام کے دروازے اس طرح بجتے ہیں جیسے برسوں کی رفاقت ہو امیدوار جھک کر سلام کرتے ہیں چائے پیتے ہیں تصویریں بنواتے ہیں اور دلوں میں امیدیں جگاتے ہیں کہ اب شاید تبدیلی آئے گی اب شاید عام آدمی کی عزت بحال ہوگی مگر الیکشن جیتنے کے بعد جیسے منظر پہاڑی راستے کی طرح اچانک موڑ بدل لیتا ہے وہی لوگ جو کل تک عوام کے قدموں میں بیٹھتے تھے آج ہجوم سے دور پروٹوکول کے حصار میں نظر آتے ہیں فون کا جواب تک ملنا مشکل ہو جاتا ہے اور عوام کی آوازیں اقتدار کے بند دروازوں میں گم ہو جاتی ہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ عام آدمی کے دکھ سکھ میں شریک ہونا بھی ان کے لیے غیر ضروری مشقت سمجھا جاتا ہے غریب کے گھر فوتگی ہو جائے تو وہاں ان کے قدم نہیں پہنچتے عام آدمی کا غم شاید ان کے مصروف شیڈول میں جگہ نہیں پاتا خوشیوں میں بھی ان کی آمد صرف ان گھروں تک محدود رہتی ہے جہاں طاقت پیسہ اور اثر و رسوخ ہو جیسے دعوت اور تعزیت بھی اب طبقاتی نظام کے تابع ہو گئی ہو اور یہاں ایک سوال شدت سے جنم لیتا ہے آخر یہ کن کے نمائندے ہیں کیا وہ چند خاندانوں کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے کیا وہ صرف ان ہاتھوں کے مرہون منت ہیں جن کے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر سیاست کی بریفنگ لی جاتی ہے اگر نہیں تو کیا انہیں احساس ہے کہ تخت تک پہنچانے والے ہاتھ ان خاص محفلوں میں نہیں بلکہ عام گھروں چھوٹے ووٹروں کچی گلیوں اور سادہ لوگوں کی انگلیوں میں ہوتے ہیں اقتدار کا راستہ عوام کے دلوں اور ووٹوں سے ہو کر جاتا ہے نہ کہ دوچار خوشامدی مشیروں اور چند بااثر خاندانوں کی چوکھٹوں سے پھر کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل طاقت وہی عام آدمی ہے جسے وہ بعد میں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے فراموش کر دیتے ہیں –
اصل مسئلہ سیاست دانوں کا نہیں ہماری خاموشی کا ہے ہم ہر بار جذبات میں بہہ جاتے ہیں اور اگلے الیکشن تک اپنی ناراضگی کو سلا دیتے ہیں جب تک عوام سوال نہیں اٹھائیں گے جواب بھی نہیں ملے گا جب تک ہم یاد نہیں دلائیں گے کہ ووٹ عبادت بھی ہے اور ذمہ داری بھی تب تک ہمارے دروازے صرف انتخابی موسم میں ہی بجتے رہیں گے وقت ہے سوچنے کا ووٹ کے روز ہماری دہلیز پر جھکنے والے کل بھی اسی طرح جھکتے رہیں یہی اصل جمہوریت ہے ورنہ پھر یہی ہوگا وعدوں کے موسم اور پھر طویل فاصلوں کی سرد ہوا-








