Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پاکستانی عوامی نمائندے خوف کی علامت کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی عوامی نمائندے خوف کی علامت کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کے ہر مہذب اور جمہوری ملک میں پارلیمنٹ وہ ادارہ سمجھا جاتا ہے جہاں عوام کی آواز سنی جاتی ہے ان کے مسائل حل کیے جاتے ہیں اور ان کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔ وہاں کے پارلیمنٹیرین اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں ان کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہوتا ہے۔ وہ عوام کے درمیان رہتے ہیں ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے طرز عمل سے اپنے ملک کی عزت وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے ہمارے ملک کے کہیں پارلیمنٹیرین جو عوامی نمائندے کہلاتے ہیں عوام میں خوف اور اضطراب کی علامت بن چکے ہیں۔ اُن کے ارد گرد پانچ، پانچ، چھ، چھ مسلح گارڈز ہوتے ہیں۔ جدید اسلحہ اور کلاشنکوف سے لیس قافلے عوامی سڑکوں پر دوڑتے نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً عوام جنہیں ان نمائندوں سے امید اور تحفظ کا احساس ہونا چاہیے ان کے سامنے خود کو غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کرتی ہے۔ یہ رویہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے

    عوامی نمائندہ وہ ہوتا ہے جو اپنے کردار، علم اور خدمت سے لوگوں کے دل جیتے۔ نہ کہ اپنی طاقت اور اسلحے کے زور پر جب عوام کے نمائندے ہی عوام کو خوفزدہ کرنے لگیں تو پھر ریاستی اداروں، قانون اور انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونا لازمی ہے۔ اس وقت وزیراعلٰی پنجاب جنہوں نے صوبے میں گڈ گورننس، میرٹ اور عوامی فلاح کے لیے کئی بہترین اقدامات کیے ہیں یہ امید ہے کہ وہ اس سنگین مسلے پر بھی توجہ دیں۔ ضروری ہے کہ ملک کی تمام اسمبلیوں میں ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی یا عوامی نمائندہ ذاتی مسلح گارڈز رکھنے کا مجاز نہ ہو۔ اگر ریاست اپنے عوام کی حفاظت کی ضامن ہے تو پھر کسی عوامی نمائندے کو اپنی ذاتی فورس بنانے کی ضرورت نہیں۔ بہت ہو چکا وقت ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرین اپنی اصل ذمہ داریوں کی طرف لوٹیں۔ وہ قانون سازی جو عوام کے حق میں ہو، وہ پالیسیاں جو تعلیم، صحت اور انصاف کو مضبوط بنائیں اور وہ اقدامات جو ملک میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ نہیں بلکہ عوام کا اعتماد اور محبت ہے اگر ہمارے عوامی نمائندے اس حقیقت کو سمجھ لیں اور نہ صرف عوام کا خوف ختم ہوگا بلکہ پاکستان کا سیاسی کلچر بھی مثبت سمت اختیار کرے گا۔ عوام نمائندوں سے خوف نہیں امید چاہتی ہے وہ امید جو خدمت، انصاف اور کردار سے جنم لیتی ہے۔ اگر عوامی نمائندے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی عادات اور رویوں میں تبدیلی لے آئیں تو یقیناً پاکستان ایک مہذب پرامن اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔

  • تبصرہ کتب،پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث

    تبصرہ کتب،پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث

    جب ہم دنیا میں حیات ہوں تو بچے ہمارے لیے رحمت ، راحت اور خوشی کا باعث بن سکتے ہیں اور جب ہم دنیا سے چلے جائیں گے تو اس وقت ہمارے بچے ہمارے لیے بخشش ، نجات اور صدقہ جاریہ بن سکتے ہیں لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہوگا جب ہم بچوں کی تربیت اچھی کریں گے، ان کے اخلاق وکردار کو سجانے اور سنوارنے کے لیے محنت کریں گے اور انھیں دین کی تعلیمات سے آشنا کریں گے لیکن اگر ہم بچوں کی تربیت اچھی نہیں کریں گے اور کا تعلق دین سے نہیں جوڑیں گے تو کل قیامت کے دن یہی بچے ہمارا گریبان پکڑیں گے اور اللہ کی عدالت میں ہم پر دعویٰ دائر کریں گے تب ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا ۔ بچوں کی اچھی تربیت والدین کا فرض ہے ۔ اچھی تربیت میں عمدہ کتابیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ بچوں کے لیے اصلاحی اخلاقی کتابیں شائع کرنے میں دارالسلام انٹرنیشنل کا ایک نام اور مقام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ اس کتاب میں 60ایسی احادیث شامل کی گئی ہیں جو روزمرہ زندگی کے معاملات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ مثلاََ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، حیا ایمان کا حصہ ہے ، نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے ، جنت کی کنجی نماز ہے ، جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ، تم سچائی پر قائم رہو ، مظلوم کی بدعا سے بچو ، تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے ہاتھ ہاتھ سے نہ کھائے ، بے شک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا ، جہنم کی آگ سے بچو ، رشتے داروں سے حسن سلوک عمر میں اضافے کا بعث بنتا ہے ، جھوٹ سے بچو ، جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ اپنی ہتھلیاں اپنے چہرے پر رکھے اور اپنی آواز پست رکھے ، بے شک صدقہ اللہ کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے ، جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ، ماں کی خدمت کرو بلاشبہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے ، جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرے گا ، چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا ، اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے ، جس نے خیر وبھلائی کے کام کی رہنمائی کی اسے نیکی کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا ۔ اسی طرح دیگر احادیث بھی اصلاحی اور اخلاقی موضوع پر ہیں ۔ان احادیث سے اس کتاب کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ بات معلوم ہے کہ اللہ نے انسان کی زندگی کو مزین کیا ہے اولاد کے ساتھ اورمال کے ساتھ۔ یہ اولاد اور مال انسان کے لیے آزمائش ہے۔ مال ہو تو انسان کا حق ہے کہ اسے جائز طریقے سے کمائے اور جائز طریقے سے خرچ کرے اولاد ہو تو انسان کا حق ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرے ۔ اولاد کی تربیت میں غفلت سنگین جرم ہے جس کے دنیا میں بھی انسان کو نتائج بھگتنے پڑتے ہیں اور آخرت میں تو اس کے لیے عذاب عظم ہے ہی ۔ بچوں کو اگر بچپن ہی سے اچھی کتابیں پڑھنے کے لیے دی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی تربیت اچھی نہ ہو ۔ رسول ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لیے ہدایت کا شفاف سرچشمہ ہے ۔ ہمیں زندگی کے ہر ہر لمحے آپ کی پاکیزہ سیرت اور احادیث سے رہنمائی ملتی ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی بڑی محبت سے احادیث اور دین کی باتیں نہ صرف سکھیں بلکہ انھیں محفوظ بھی کیا ۔ آج وہ تمام ذخیرہ احادیث ہماری رہنمائی کے لیے ہمارے پاس موجود ہے ۔ کتب احادیث میں بہت ضخیم کتب بھی موجود ہیں جن کی اپنی اہمیت ہے تاہم مختصر کتب احادیث کی بھی اپنی اہمیت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پیارے بچوں کے ل میں ایسی 60مختصر احادیث جمع کی گئی ہیں جو ہمارے اور ہمارے بچوں بچیوں کے اخلاق اور کردار کو سجا اور سنوار سکتی ہیں ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر شائع کردہ اس کتاب کی قیمت 250روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم نزد لوئر مال سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے ۔

  • جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیویارک، واشنگٹن، ڈی سی، شکاگو، میامی، اور لاس اینجلس، میں امریکہ بھر کے شہروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف (NO KINGS) کے مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی. وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد امریکی صدر کے خلاف یہ پہلا بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے. امریکی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہ احتجاج پورے یورپ میں امریکی سفارت خانوں کے باہر ہوا۔ مظاہرین نے NO KINGS کے نام سے احتجاج کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر خود کو جمہوری لیڈر کے بجائے بادشاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ امریکی سیاسی روایت میں بادشاہ کا تصور نہایت حساس ہے کیونکہ امریکہ کی بنیاد ہی برطانیہ کی بادشاہت کے خلاف بغاوت میں رکھی گئی تھی۔ اس لیے جب ایک صدر خود کو اس علامت کے ذریعے پیش کرے تو یہ سیاسی شعور رکھنے والے امریکیوں کے لیے جمہوریت پر خطرے کی گھنٹی محسوس ہوتی ہے۔ لاکھوں مظاہرین نے NO KINGS کو جمہوریت کے دفاع کے نعرے کے طور پر اپنایا. اس سے حزبِ مخالف کو ایک مضبوط اخلاقی موقف ملا کہ وہ عوامی سطح پر صدر کی طاقت کے حد سے زیادہ کہ استعمال کے خلاف ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ قدامت پسند ریپبلکن ووٹرز نے بھی اس نعرے سے اتفاق کیا حالانکہ وہ ٹرمپ کے حامی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے یہ تحریک پارٹی لائن سے آگے بڑھ کر جمہوری اصولوں کی بات کر رہی ہے۔ ٹرمپ کی ویڈیوز نے آن لائن دنیا میں طنز اور جوابی بیانیوں کی جنگ چھیڑ دی۔ مظاہرین نے ٹرمپ کے KING TRUMP کو الٹا استعمال کیا. NO KINGS کا بیش ٹیگ ٹویٹر پر چند گھنٹوں میں ایک ٹرینڈ بن گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سیاسی طنز دو دھاری تلوار ہے جس سے مقبولیت کے ساتھ ساتھ مخالفت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ویڈیو نے امریکی معاشرے میں پہلے سے موجود تقسیم ڈیموکریٹس بمقابلہ ریپبلکن، شہری، اور دیہی علاقوں کو مزید گہرا کر دیا۔ ایک طبقہ اسے اظہارِ آزادی کہہ کر دفاع کر رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے عوام کی تذلیل سمجھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کی سیاست اب صرف پالیسی نہیں بلکہ جذباتی وفاداری کے جذبات پر مبنی ہے۔

    امریکی نوجوان طبقہ جو عام طور پر سیاست سے دور رہتا ہے اس بار سوشل میڈیا کے ذریعے سرگرم ہوا تحریک نے ان کے لیے جمہوریت اور عوامی NO KINGS آواز کی معنویت کو زندہ کیا یعنی سیاسی شمولیت میں اضافہ ممکن ہوا اس کے مستقبل کی سیاست پر اثرات پڑھیں گے۔ پارٹی کے اندر بعض سینئر رہنماؤں نے نجی طور پر تشویش ظاہر کی کہ ایسی ویڈیو اعتدال پسند ووٹرز کو دور کر سکتی ہیں۔ کچھ پارٹی رہنما اس رجحان کو (CULT POLITICS) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو روایتی ریپبلیکن اقتدار جیسے ادارہ جاتی احترام کے خلاف جا رہی ہے۔

    دوسری طرف ڈیموکریٹس نے اس واقعے کو بے انتخابی بیانیہ میں شامل کر لیا ہم بادشاہ نہیں چاہتے ہمیں عوامی حکمرانی چاہیے۔ اگر یہ بیانیہ موثر رہا تو آئندہ انتخابات میں اسے سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔ کنگ ٹرمپ ویڈیو محض طنزیہ ویڈیو نہیں رہا یہ اب امریکی سیاست کی نئی علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف یہ طاقت کی سیاست کی نمائندگی کرتا ہے دوسری طرف یہ عوام کی خود مختاری کے دفاع کی علامت بن گیا ہے۔ لہذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ ویڈیو دراصل امریکی جمہوریت کے بیانیہ کی جنگ کا نیا محاذ بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہیے اور اپنا رخ جمہور کی طرف موڑ لینا چاہیے انتخابی اصلاحات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت عوامی دباؤ کے تحت اصلاح کرتی ہے تو وہ اصلاح نہیں بلکہ پسپائی ہوتی ہے۔ جس طرح آج لاکھوں افراد صدر ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر نکلے، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں جمہوریت لڑکھڑا چکی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ملک میں قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کو مستحکم کرنے پر توجہ دینا ہوگی اور ان ممالک سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔

  • عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں

    عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے

    وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے

    پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی ہے فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جذبے، ایمان اور قربانی کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ قوم کے اجتماعی شعور میں ایک خلا پیدا ہوا یہی خلا آج پاکستان کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب نے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ مذہبی جماعتوں نے دین کو خدمت خلق کے بجائے سیاسی طاقت کے اصول کا ذریعہ بنایا۔ عوام جو تعلیم اور شعور کی کمی کا شکار ہیں ان نعروں اور مذہبی جذبات کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ یہ وہی کیفیت ہے جس میں عقل پر جذبہ غالب آ جاتا ہے۔ تحریکِ لبیک جیسی دوسری جماعتیں اپنے مخصوص واقعات پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج تو کرتی ہیں مگر ان کے اقدامات سے ریاستی نظام، عوامی زندگی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا فلسطین و اسرائیل کے درمیان امن کی بات کر رہی ہے۔ جبکہ ہم ذرا سوچیے اپنی ہی زمین پر انتشار کا منظر دنیا کو دکھا رہے ہیں۔

    قوموں کی ترقی علم اور عمل کے دو ستونوں پر کھڑی ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً ایک عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کا المیہ یہ نہیں کہ وسائل نہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ شعور نہیں۔ جب عوام علم سے روشنی حاصل کریں گے وہ کسی کے جال میں نہیں پھنسیں گے نہ مذہبی جذبات کے نہ سیاسی نعروں کے۔ اور جب قوم باشعور ہو جائے گی تو پاکستان واقعی وہی بنے گا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا ایک روشن، باوقار اور متحد قوم۔ پاکستان ایک عظیم مقصد کے تحت معرضِ وجود میں آیا تاکہ مسلمان ایک آزاد وطن میں اپنی دینی، تہذیبی اور فکری شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خواب کہیں دھندلا سا ہو گیا۔ آج قوم ایک ایسے دورہ رائے پر کھڑی ہے جہاں جذبات نے عقل پر غلبہ پا لیا ہے اور قوم علم و شعور سے محروم نظر آتی ہے۔ پاکستان کے عوام کے دل میں مذہب کی محبت بے پناہ ہے مگر اسی جذبے کا غلط استعمال بعض مذہبی و سیاسی گروہ اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تعلیم و شعور کی کمی کے باعث عوام اُن نعروں کے پیچھے لگ جاتے ہیں بغیر یہ سوچے اس کا نتیجہ ملک و ملت پر کیا پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں تحریکِ لبیک کے مظاہرے اور سڑکوں کی بندش نے ملک کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا۔ ہر مہذب قوم کا دارومدار علم اور عمل پر ہوتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی حقیقی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ معاشرے میں دلیل کی جگہ نعروں نے لے لی ہے اور برداشت کے بجائے نفرت نے جنم لیا ہے۔

    پاک فوج اور جملہ ادارے ہمیشہ سے پاکستان کی سلامتی، وقار اور بقاء کی ضامن رہی ہے۔ جیسے ایک مرغی اپنے بچوں کو باز یا چِیل کے حملے سے بچانے کے لیے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے ویسے ہی پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ عناصر خواہ وہ بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہوں یا اندرونی انتشار پھیلانے والے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ اور افوائیں پھیلاتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کا مقصد قوم اور فوج کے درمیان اعتماد کی دیوار کو گرانا ہے حالانکہ فوج وہ ادارہ ہے جس نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس قوم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ وطن عزیز کو اپنے اصل مقصد کی طرف واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں۔

  • جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں

    پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے

    سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی

    سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قومی اداروں پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے جس کی تازہ مثال وزیر اعلٰی کے پی کے کی جذباتی تقریر ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    جنوبی ایشیائی ملک خاص طور پر بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پچھلے چند سالوں میں جمہوری عمل کمزور ہوتا دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ ہے۔ اگر ملک کی سیاسی جماعتوں نے منظم طریقے سے نیچے تک مضبوط اندرونی جمہوریت پر توجہ نہ دی تو قومی سیاست میں ان کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کی صورتحال ایک دہائی میں عوامی حکمرانوں کے سیاسی خلا، اظہار رائے اور انتخابی مقابلے جیسے عناصر ظاہر ہوئے جن کے باعث جمہوریت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ انتخابات میں تنازع اور شفافیت کے الزامات لگے۔ سری لنکا کی بھی یہی صورتحال ہے معاشی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں طرز حکمرانی میں دیکھی گئی اقتصادی بد انتظامی اور سیاسی مرکزیت جمہوری اداروں کو تیزی سے کمزور کرتی گئی۔ یہی صورتحال نیپال میں دیکھی گئی مسلسل سیاسی عدم استحکام بار بار کابینہ میں تبدیلیاں اور آئینی جمہوری خامیوں نے جمہوری تسلسل کو متاثر کیا۔ اگرچہ بعض اوقات عدلیہ یا پارلیمانی طریقے سے بحال بھی ہوئی، ان ممالک میں مرکزی قیادت اور قائدانہ مرکزیت طاقت کا حد سے زیادہ مرکزیت میں جمع ہونا، ادارہ جاتی کمزوری، آزاد عدلیہ، میڈیا اور سیکیورٹی اداروں میں توازن کمزور ہونا معاشی بد انتظامی، عوامی ناراضگی اور سیاسی بحران نے جنم لیا۔ موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں الگ الگ انداز میں ظاہر ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، ضلعی ڈویژن اور تحصیل سطح پر باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کی خراب صورتحال، سیاسی عدم استحکام پاکستان کے ملکی نوجوانوں جو پاکستان کا مستقبل ہیں ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ہر جماعت کے آئین میں شفاف امیدوار چننے کے ضوابط، شکایات کے میکنزم اور مدت طے کرنی ہوگی۔ مقامی لیڈرز، ووٹر، رجسٹریشن، انتخابی ضوابط فورم اور ورکشاپس کے انتظامات کرنے ہوں گے۔ پارٹی فنڈنگ کے اخراجات کے باقاعدہ آڈٹ اور عوامی خلاصے پر توجہ دینی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو پالیسی سازی، امیدواروں کی نشاندہی اور شفاف الیکشن کرانا ہوں گے۔ نوجوان و خواتین لیڈر شپ پروگرام اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ صرف طاقت حاصل کرنے کے بجائے واضح پالیسی پر ایجنڈا بنائیں اور اس کی پیمائش کریں۔ سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی۔ قیادتوں کو بااختیار بنانے سے عوامی نمائندگی بہتر ہوگی۔ سیاسی جماعتیں صرف حکومت حاصل کرنے پر مرتکز رہیں گی جو تنظیمی کمزوریاں، جمہوریت کے بحران میں بدل سکتی ہیں۔ پارٹی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے ساتھ شراکت ضروری ہے۔ قطع تعلقی ہمیشہ جنگ زدہ لسانیت مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اندرونی اصلاحات کے بجائے صرف زبانی دعوے کریں تو عوام کا اعتماد کمزور ہوگا جس کے اثرات جمہوریت پر پڑھیں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں تو صوبائی، ضلعی سطح کی شاخیں، خود مختار فنڈ ریزنگ اور مقامی نمائندگی کو مضبوط کریں۔ نوجوان و خواتین کی قیادت کی مضبوطی اور پالیسی بیسڈ سیاست قائم کریں تاکہ پاکستان جمہوری تسلسل میں مستحکم رہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں تبھی کامیاب ہوں گی جب وہ عملی اقدامات کریں گی ورنہ پاکستان کی جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اپنے قومی اداروں جس میں پاک فوج جملہ اداروں اور پولیس پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور تو کر سکتا ہے مضبوط نہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال وزیراعلٰی خیبر پختون خواہ کی تازہ ترین تقریر ہے جسے ایک جذباتی تقریر کہا جا سکتا ہے۔

  • اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا

    نیتن یاہو کو آگاہ کیا گیا اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا

    امریکی صدر کا پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کرنا پاکستان کی عوام اور عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی باہمی رہائی اور امن معاہدے پر مصر میں دستخط ہو گئے ہیں۔ یہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سفارتی اور بڑی کامیابی ہے۔ علاقائی استحکام میں اضافہ ہوگا ارد گرد کے ممالک کے لیے بھی امن و خوشحالی لائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کی جیت ہے، جنگ کی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ماضی میں ایک مجوزہ معاہدے کی بنیاد پر قرارداد 2735 منظور کی تھی۔ جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر زور دیا گیا تھا مگر اس کی عملی پیش رفت ہمیشہ محدود رہی اور نقصان کا دائرہ وسیع ہوا۔ موجودہ معاہدے کی امریکہ، مصر، ترکی، قطر اور دیگر ممالک معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں جو ایک مثبت بین الاقوامی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ امید ہے غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع ملے گا اور خوراک، پانی، دوائیں وغیرہ کی فراہمی بہتر ہوگی۔ امریکہ نے اس معاہدے کی بہت شدت سے حمایت کی ہے اور اس معاہدے کو تاریخی کامیابی کہا ہے۔ مصر نے ثالث کا کردار نبھایا ہے اور اجلاس کی میزبانی کی۔ عرب ممالک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اسے استحکام کا راستہ قرار دیا ہے یہ معاہدہ ایک ابتدائی نقطہ عروج ہے۔ امید ہے امریکہ، مصر، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک جو اس معاہدہ میں شامل ہیں وہ کسی کو خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ تاہم اس کا کریڈٹ عالمی مبصرین امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو دے رہے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پہلے کھیلتا ہے، تدبیریں کرتا ہے، پیش قدمی کرتا ہے، پیچھے ہٹتا ہے، گولی چلاتا ہے، یاد کرتا ہے اور راستہ بدلتا ہے، ساری دنیا اس کی حرکات و سکنات کو دیکھتی ہے، وہ عالمی سطح کا رونالڈو ہے، وہ بالی وڈ کے سٹارز سے زیادہ پرجوش ہے، وہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے اور یقین دلاتا ہے، وہ دھمکی دیتا ہے پھر معاہدہ کرتا ہے، وہ انتہائی حد تک جانے کا بہانہ کرتا ہے پھر کم سخت شرائط کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے، عالمی مبصرین کے مطابق دنیا اس کے مزاج کے مطابق اپنی رفتار طے کر رہی ہے، وہ سوشل میڈیا میں ہلچل مچانے کے لیے کافی ہے، وہ ایک شعلہ بیاں خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہے، اس کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے، ناراض ہو جاتا ہے، مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا۔ مبصرین نے کہا ہے کہ ان کے معاونین انکی لامتنائی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی تاریخ کے عظیم ترین صدر ہیں کیونکہ وہ ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے۔ غزہ کی جنگ کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے، کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، مغربی کنارے کا کوئی الحاق نہیں ہوگا۔ حماس اپنے ہتھیاروں اور سرنگوں کو الوداع کہہ دے گی اور غزہ پر حکمرانی بند کر دے گی۔ فلسطینی اتھارٹی کا انحصار ان اصلاحات پر منحصر ہے جو وہ انجام دے گی۔ صورتحال ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو کو اگاہ کیا کہ اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا۔ امید ہے اس کا نتیجہ بھی کامیاب رہے گا۔ دوسری طرف امریکی صدر جو پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کر رہے ہیں جو پاکستان کی عوام اور پاک فوج کی عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارت حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

  • بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران اور بیوروکریسی میں مذہبی رسم و رواج کو زور و شور سے منانے اور ہر وقت مذہبی گفتگو کا منجن بیچنے والوں میں اکثریت اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی ٹچ کو ”فیس سیونگ ٹول“ استعمال کرتے ہیں۔چاہے کوئی بھی فرقہ ہو، مذہبی ٹچ ہر طرح کی کمیونٹی میں بکتا ہے اس لیے سب سے کارآمد طریقہ واردات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    مذہبی ٹچ کی جعل سازیاں، مذہب اور فرقوں کا پرچار کرنا قابلیت نہیں بلکہ اس حلف کی خلاف ورزی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ سرکاری فرائض میں مذہب، فرقہ اور رشتہ داری کو ترجیح نہیں دینی بلکہ میرٹ اور انصاف کرنا ہے۔
    اصل گیم تو پارٹی گروپ کی ہے۔ جہاں ساری طبقاتی تقسیم ختم ہے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپ کی باہمی عداوت کی بجائے اس بزم(پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی رقاصاؤں کی زلفوں اور قدموں کی چھنکارکے گرد گھومتی ہے، حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتی ہے۔

    منشیات کے استعمال اور دیگر حرکات پر”اہم ادارے“سے نکالا گیا بچہ بھی صوبائی سول سروس میں آچکا ہے اور ناصرف خود منہ کالا کرتا پھرتا ہے بلکہ دیگر افسران کا سہولت کار بھی بنا ہوا ہے۔ مذہبی ٹچ والے اور پارٹی گروپ جو بھی کرتے ہیں یہ انکا ذاتی معاملہ ہے جو مرضی کریں لیکن ذاتی اس لیے نہیں رہتا کہ اسی گروپنگ کی بنیاد پر اپنے مذہبی ٹچ اور پارٹی گروپ کو اہم سیٹوں اورعہدوں پر نوازا جاتا ہے۔ گندہ ہے پر دھندہ ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی کے کم از کم ایک تہائی افسران شراب نوشی اور منشیات کے عادی ہیں جبکہ دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ہیں۔

    چند سال قبل کی بات ہے کہ اس وقت کے اے ڈی سی آر لاہور کے سٹاف آفیسرکی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے۔ اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور وہاں پہنچا تو موصوف اپنے کپڑے پھاڑ اور اتار کر دوسرے افسران کو کہہ رہا تھا کہ مجھے اپنی گود میں بیٹھاؤ، خیر اسے بامشکل گاڑی میں بیٹھایا اور رات گئے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جہاں شراب و شباب اور ہر طرح کا نشہ کرتے ہیں، لائنیں کھینچتے ہیں۔

    سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے، ”پاور کاریڈور“ میں داخل ہونے کا ”شارٹ کٹ“ لگانے والے افسران فوری ”کی پوسٹ“ پر ہوتے ہیں۔انتہائی دکھ اور شرم کا مقام ہے کہ اسی دیکھا دیکھی میں کچھ خواتین افسران بھی پارٹی گروپ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ سنئیر افسر، تگڑے سیاستدان کی گرل فرینڈ کی دعویدار خواتین افسران محکمے میں سیاہ و سفید کی مالک ہوتی ہیں۔ کچھ سرکاری جوڑوں کی ماضی میں ویڈیوز بھی لیک ہوچکی ہیں۔

    بیوروکریسی شدید زوال کا شکار ہے جہاں نئے افسران کی اکثریت شدید کرپٹ اور بدنسلی ہیں وہیں یہ نئے بچے کہیں بلیک میلر اور کہیں سپلائر کا کردار ادا کررہے ہیں۔لاہور کے چند نوجوان افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ انہی محرکات اور”سپلائی چین“ والے خفیہ تعلقات کی وجہ سے نئے افسران کی اکثریت ناصرف عام عوام کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ اپنے سنئیر افسران کو بھی "فار گرانٹڈ” لیتے ہیں۔ اہم سیٹوں پر تعیناتی والے ان کماؤ اور پلاؤ پتر بچوں نے ابھی وقت کا پہیہ گھومتا نہیں دیکھا، وقت بدلتے ہی جب یہ او ایس ڈی ہوں گے تو اوقات میں آجائیں گے اور بندہ شناسی کا ہنر بھی جان جائیں گے۔

    پرتگالی گروپ سمیت دیگر ممالک میں ”سیٹنگ“ والے افسران بھی ٹولیوں کی صورت میں بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنی آل اولاد کی نیشنیلٹی کرواتے ہیں۔
    ملک سلمان

  • بھارت کی افغانستان  میں دلچسپی پاکستان  کے لئے براہ راست سلامتی  کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور دہشت گردی کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کے ذکر نے ہلاکر رکھ دیا تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط شدہ اس دستاویز پر عمل نہ کرنا بقول شاعر:
    مجروح قافلے کی میری داستان یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں ،مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے۔ ذرا سوچئے ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ کیوں یہ آگ بھڑک اُٹھتی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ بات تو طے ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور آج بھی ملوث ہے ۔ علاقائی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے نہ صرف خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کی ہیں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے بھارت کی افغانستان میں دلچسپی کوئی نہیں بات نہیں۔ 2001 کے بعد بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جن میں سے ،سلم ڈیم ، افغان پارلیمنٹ بلڈنگ اور مختلف سڑکوں وتعلیمی منصوبوں کی تعمیر شامل ہے ۔ یعنی بھارت وسط ایشیا تک اپنی رسائی بڑھانا اور پاکستان کے مغربی اثر کو محدود کرنا ہے ۔ طالبان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بھارت پھر افغانستان کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے جو ظاہرکرتا ہے کہ دہلی اپنی نرم طاقت کی حکمت عملی دوبارہ فعال کررہا ہے ۔ بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ہے۔ خاص طورپر کے پی کے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں۔ بھارت افغانستان تعاون علاقائی تجارت، مفادات خصوصا سی پیک اور وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے منصوبوں پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔ چین ، ایران اورروس افغانستان میں استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے اپنے مفادات ہیں۔

    چین پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے معاشی راہداری قائم کرنا چاہتاہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ بھارت کی سرمایہ کاری اس کے راستوں سے ہو جیسے چاہ بہار پورٹ ۔ اس پیچیدہ ماحول میں پاکستان کو محتاط مگر متحرک سفارتکاری اختیار کرنا ہوگی ۔ پاکستان کو اپنے مفادات کویقینی بنانا ہوگا۔ چین، ایران ، ترکی اور روس جیسے ملک کے ساتھ پالیسی ہم آہنگی بڑھانا ناگزیر ہے ۔ عالمی فورمز پر پاکستان کو شواہد کے ساتھ بھارت کے کردار کو پیش کرنا چاہیئے۔ اندرونی استحکام کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا اصل مضبوط داخلی نظام ، سیاسی اتفاق رائے اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے ۔ بھارت افغانستان کے تعلقات کا بڑھانا خطے کے لئے نیا منظر نامہ تخلیق کررہا ہے ۔ پاکستان کے لئے یہ چیلنج ضرور ہے مگر خطرہ تب بنتا ہے جب وہ محض رد عمل میں پالیسی بنا ئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان حکمت عملی ، سفارتی کاری اور داخلی استحکام تینوں محاذوں پر متوازن اور سنجیدہ کردار ادا کرے۔ خطے میں امن و استحکام کادارومدار اسی بات پر ہے کہ ہر ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے یہی امن کی بنیاد ہے۔

  • امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    کبھی کبھی قوموں پر ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب وہ اپنے وجود، اپنی بقا اور اپنی سمت کے تعین کے لیے خود سے سوال کرتی ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑا ہے ، ایک ایسا موڑ جہاں دشمن صرف سرحدوں کے پار نہیں بلکہ ہمارے اندرونی امن اور یکجہتی کو بھی للکار رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نعرہ ہمیں متحد کر سکتا ہے تو وہ ہے: نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد،ترجمانِ پاک فوج کی حالیہ پریس کانفرنس میں یہی پیغام پوری وضاحت سے سامنے آیا۔سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کے نکات قومی منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسا منشور جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوقوں سے زیادہ، ارادوں اور اتحاد سے جیتی جاتی ہے۔

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر ہمارے زخم ہرے کر دیے ہیں۔ ہمارے نوجوان شہید ہو رہے ہیں، ماؤں کے آنچل لہو سے تر ہو رہے ہیں، اور دشمن اپنی ناپاک سازشوں میں مصروف ہے۔ان حملوں کے پیچھے ازلی دشمن بھارت ہے، جو “فتنۂ خوارج” کے ذریعے وطنِ عزیز کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔کیا برادر اسلامی ملک کا یہ رویہ زیب دیتا ہے کہ پاکستان کے صبر اور بارہا احتجاج کے باوجود وہ ان عناصر کو روکنے میں ناکام رہے جو پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کا خون بہا رہے ہیں؟یہ صرف پاکستان نہیں، پوری امتِ مسلمہ کا اخلاقی امتحان ہے۔

    نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات صرف ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ وہ آئینہ ہیں جن میں ہم اپنی کمزوریاں اور ترجیحات دیکھ سکتے ہیں۔ ان نکات پر عملدرآمد ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ پلان سیاسی ترجیحات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کہیں فرقہ واریت کا زہر، کہیں صوبائی تعصب کی دیوار، اور کہیں مصلحت کی دبیز تہہ نے اس پلان کی روح کو ماند کر دیا۔اب وقت آگیا ہے کہ اس بھولی ہوئی ترجیح کو ازسرنو زندہ کیا جائے۔نیشنل ایکشن پلان کو محض کاغذی خاکہ نہیں بلکہ ریاستی عزم اور عوامی اعتماد کا استعارہ بنانا ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے ہمارے بہادر سپاہی اور جوان دراصل اس قوم کے وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں بھی روشنی بانٹتے ہیں۔ ان کی شہادتیں محض تاریخ کے اوراق نہیں بلکہ عہدِ وفا کی داستانیں ہیں۔یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری ملتِ پاکستان کی مشترکہ میراث ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وطن کی حفاظت کسی ایک فورس یا طبقے کی ذمہ داری نہیں ، یہ ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔

    دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اس کا مقصد ایک ہی ہے، انتشار، خوف اور بداعتمادی پھیلانا۔ لیکن یہ قوم وہی ہے جو بارہا لہو میں نہا کر بھی سر اٹھا کر کھڑی ہوئی۔افواجِ پاکستان اور عوام آج بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات سے نہیں، عزم اور تدبر سے کام لیں۔پاکستان کی سیکورٹی کی ضمانت ہماری افواج ہیں، مگر پائیدار امن کی بنیاد عوامی یکجہتی ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد، صوبوں میں بہتر گورننس، انصاف تک عام رسائی، اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی ہی وہ راستہ ہے جو قوم کو دوبارہ اعتماد اور سکون کی فضا مہیا کر سکتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ محض بندوقوں کی گھن گرج سے نہیں جیتی جا سکتی؛ اس کے لیے فکری بیداری، قومی شعور اور اجتماعی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے” محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے اور یہ عہد ہم سب کو نبھانا ہے۔آج جب دشمن ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، ہمیں اپنے گھر کے چراغ مضبوطی سے تھامنے ہیں۔یہی قومی اتحاد، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل، یہی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ یکجہتی ہمارا ہتھیار ہے، ہماری ڈھال ہے، ہمارا فخر ہے۔امن کی صبح دور نہیں، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کر لیں، اور اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک بار پھر متحد قوم بن جائیں،پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم کبھی جھکنے والی نہیں، اور یہ وطن ہمیشہ اپنے شہیدوں کے لہو سے زندہ رہے گا۔ یہ وقت قوم کے اتحاد، نیشنل ایکشن پلان کے احیاء اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا ہے۔ کیونکہ جب قوم اور فوج ایک ہو جائیں تو کوئی دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، پاکستان کے امن کو پامال نہیں کر سکتا۔

  • غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ، جنگ بندی انسانیت کیلئے امید کی نئی کرن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ، جنگ بندی انسانیت کیلئے امید کی نئی کرن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کی ان کوششوں سے ثابت ہوا کہ جب دنیا ایک ساتھ انسانیت کے لیے کھڑی ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے

    پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ سیاسی محاذ پر انتشار، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے

    عوام کے دکھ، مسائل اور امیدیں سیاسی کھینچا تانیوں میں دب گئیں سیاست خدمت کے بجائے ایک کھیل یا تماشہ بن چکی ہے

    مریم نواز عوامی خدمت کے ذریعے عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیں مگر کچھ سیاستدان اس کے خلاف سازش میں مصروف ہو گئے ہیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    غزہ میں امن کی جانب پیش رفت اور قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ ایک انسانی سطح پر بڑی کامیابی ہے خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو برسوں سے درد، جدائی اور خوف میں جی رہے تھے۔ غزہ میں جنگ بندی کی خبریں انسانیت کے لیے امید کی نئی کرن ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی انتظامیہ، یورپی ممالک، اسلامی دنیا اور تمام ان ممالک کا جنہوں نے اس امن میں مثبت کردار ادا کیا۔ امن کی یہ کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ جب دنیا ایک ساتھ انسانیت کے لیے کھڑی ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ امن دیر پا ہو گا اور غزہ سمیت پوری دنیا میں انصاف، احترام اور بھائی چارہ قائم ہوگا۔ دوسری جانب پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب ملک کے لیے ہمارے جوان اپنی جان قربان کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف سیاسی رہنما اپنے ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش اور ایک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوتے ہیں۔ عوام کے دکھ، مہنگائی اور سکیورٹی جیسے اصل مسائل اکثر پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی عوام میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ سیاست خدمت کے بجائے ایک کھیل یا تماشہ بن چکی ہے۔ جب تک سیاستدان قوم کے حقیقی مفاد کو اپنی انا اور مفادات سے اوپر نہیں رکھیں گے تب تک دورِ ابتلاء جاری رہے گا۔ پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے ایک طرف ملک کی بہادر فوج روزانہ اپنی جانیں قربان کر کے وطن کے امن، سلامتی کی حفاظت کر رہی ہے، اور دوسری طرف سیاسی محاذ پر انتشار، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے۔ عوام کے دکھ، مسائل اور امیدیں ان سیاسی کھینچا تانیوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ وعدے تو کرتی ہیں مگر عملی طور پر اکثر ان کے فیصلے ذاتی مفاد، طاقت اور انتقام کے گرد گھومتے ہیں۔ پارلیمان کے ایوانوں سے لے کر میڈیا کے مباحثوں تک شائستگی اور دلیل کی جگہ طنز، الزام اور شور و غوغا نے لے لی ہے۔ عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے وہ سیاست دانوں کی تقاریر میں امید ڈھونڈتا ہے مگر ہر بار اسے مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔ عوام کے نزدیک سیاست اب خدمت کا نہیں بلکہ مفاد کے تحفظ کا کھیل بن چکی ہے ایک ایسا کھیل جس میں ہار ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے۔ عجب تماشہ ہے جو سیاست دان عوام کی خدمت کے راستوں پر چلتا ہے اس کے خلاف سازش شروع ہو جاتی ہے اس کی مثال مریم نواز ہے۔ بلاشبہ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب میں عوام کی خدمت کرتے ہوئے عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیں حیرت ہے کہ اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے کچھ سیاستدان اس کے خلاف سازش میں مصروف ہو گئے ہیں جو عوام کے حقوق پر ایک ڈاکے کے مترادف ہے۔ ملک کو اس وقت اتفاق، انصاف اور حقیقی قیادت، ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کے زخموں پر مرہم رکھ سکے نہ کہ انہیں مزید گہرا کرے۔ جب تک سیاست میں اخلاقیات، شفافیت اور قومی مفاد کو ترجیح نہیں دی جاتی پاکستان اپنی حقیقی ترقی اور استحکام کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔