Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر!
    پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت
    یہ وقت جذباتی نعرےنہیں، بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے،داخلی محاذ مضبوط رکھنا ہوگا
    خامنہ ای کی شہادت ہرمسلمان دکھی،جذباتی بیانات اورانتشار سے گریزکرنا ہوگا

    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، خطے میں کشیدگی، سفارتی دباؤ اور طاقت کے توازن کی نئی کوششوں کے درمیان پاکستان نے جس احتیاط، تدبر اور توازن کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھایا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے،پاکستان نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی جائے،اس وقت بھی وزارتِ خارجہ، مسلح افواج اور دیگر قومی ادارے ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں فیصلے کر رہے ہیں، ایسے حالات میں جذباتی بیانات، اندرونی انتشار یا غیر ذمہ دارانہ تنقید نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے،علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر مسلم دنیا میں غم اور افسوس کی فضا ءہے، کسی بھی بڑے رہنما کی شہادت خطے میں جذبات کو بھڑکا سکتی ہے، لیکن ایسے وقت میں دانشمندی اور بردباری ہی قوموں کو بحران سے نکالتی ہے، دکھ اور غم اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور داخلی استحکام ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے،پاکستان اس وقت جس حکمت اور توازن کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہ دراصل اپنی سرزمین، اپنی عوام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی جیسے معاملات میں ذمہ داری، احتیاط اور اتحاد ناگزیر ہوتے ہیں،یہ وقت انتشار کا نہیں، اتحاد کا ہے، یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے، اگر ہم اپنے داخلی محاذ کو مضبوط رکھیں گے تو بیرونی دباؤ خود بخود کمزور ہو جائے گا، پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

  • امن کمزوری نہیں،ترجیح مذاکرات ہونی چاہئے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کمزوری نہیں،ترجیح مذاکرات ہونی چاہئے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ ہے، اور دوسری طرف جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔ یوکرین ہو، فلسطین اور اسرائیل کی کشیدگی ہو یا سوڈان کی خانہ جنگی—ہر جگہ جدید اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور اس کے دھماکوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں فضا، مٹی اور پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔

    جنگ اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ اس کے اثرات بیماریوں، ماحولیاتی تباہی اور نفسیاتی صدمات کی صورت میں نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ باریک زہریلے ذرات ہواؤں کے ذریعے سرحدوں سے پار جا سکتے ہیں، اس لیے نقصان کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کو متاثر کرتا ہے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے موجود ہیں، مگر طاقتور ممالک کے مفادات اکثر امن کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی پائیدار حل نہیں دیتی۔ یہ لاشیں، بیمار معاشرے اور آلودہ فضا چھوڑتی ہے۔ اللہ پاک نے یہ زمین انسانوں کے رہنے کے لیے بنائی، اسے پاک صاف فضا عطا کی، تاکہ انسان سکون اور امن سے زندگی گزار سکے۔ خدا کے لیے اسی خدا کی زمین پر انسانوں کی زندگیاں اس طرح ختم نہ کی جائیں۔ بے گناہوں کا خون بہانا اور زمین کو بارود سے بھر دینا اللہ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہتھیاروں کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ امن کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی بقا اور اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔

  • پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں ،تحریر:ملک سلمان

    پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں ،تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ روز سے ہونے والی پاک افغان کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرے کے باوجود میرے سمیت سارا پاکستان بہت سکون اور اطمینان میں ہے۔ سحری افطاری، فرینڈز گیدرنگ، کاروبار اور کھیل کے میدان سب ویسے ہی آباد ہیں۔
    ابھی سحری کی تیاری ہے اور رات کی افطاری کے لیے دوستوں کو انوائٹ کر چکے ہیں۔ کسی کو بھی جنگ کی فکر نہیں سب روٹین کے کاموں میں مشغول ہیں کیونکہ سارے پاکستان کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ہماری بہادر افواج افغان دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
    مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنے سے 10 گنا بڑی بھارتی فوج کو جس طرح سے شکست دی پوری دنیا اس کی معترف ہے۔ جنگی بخار میں مبتلا بھارت کے سات سے زائد رافیل طیارے اور ان کا ناقابل تسخیر ایس 400 ڈیفنس سسٹم تباہ کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔
    افواج پاکستان پر قوم کا اعتماد اور یقین یہی وہ طاقت ہے جو افواج کے جوانوں کو ہر طرح کے خطرے سے ٹکرا جانے کا جذبہ دیتی ہے۔

    سارا پاکستان روٹین لائف انجوائے کر رہا ہے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ جب بھی وطن کو ضرورت ہوگی تو پاک آرمی کے جوان و افسران خود ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے لیکن عوام پاکستان کو خراش بھی نہیں آنے دیں گے۔ پاکستانی عوام تاریخ سے اگاہ ہے کہ وطن عزیز کیلئے راشد منہاس بن کر موت کو ترجیح دیں گے لیکن اس کی ایک انچ پر بھی دشمن کے ناپاک قدم نہیں پڑنے دیں گے۔
    افواج پاکستان کا سالانہ بجٹ صرف ساڑھے سات ارب ڈالر ہے۔

    مسلح افواج کیلئے سالانہ بجٹ کے لحاظ سے امریکہ، چائنہ اور روس کے بعد بھارت چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان چالیسویں نمبر پر ہے۔ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والا پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کی موسٹ پاورفل افواج میں ٹاپ تھری میں ہے۔ بلوچستان ٹرین ہائی جیکنگ کو جس طرح ناکام بنا کر تمام مسافروں کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ایسا کامیاب آپریشن دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں دیکھا گیا، اس لیے پاکستان آرمی کے اس کامیاب آپریشن کو درجنوں ممالک کی "وارسٹڈی” کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بیسوں ممالک کی آرمی کے سنئیر افسران جنہوں نے ملکی کمانڈ کرنی ہوتی ہے وہ "وارکورس” کیلئے نیشنل ڈفینس یونیورسٹی اسلام آباد آتے ہیں۔ پاکستان کی بہادر افواج کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔

    میں خود بھی روٹین معاملات میں مگن ہوں اور آپ سے بھی یہی کہوں گا کہ آپ اپنی روزمرہ لائف کو انجوائے کریں لیکن اس خود اعتمادی، سکون اور تحفظ کا باعث بننے والی افواج پاکستان کیلئے دل سے شکریہ افواج پاکستان ضرور کہیں، فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ہیش ٹیگ میں دشمن ممالک بھارت اور افغانستان کو مینشن کرکے بتائیں کہ ہم بے فکر ہیں، یہ دیکھو کھیل کی میدانوں میں، ریسٹورنٹ اور تفریح گاہوں میں میں انجوائے کررہے ہیں کیونکہ ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور افواج پاکستان ہماری محافظ ہے۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہر مشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

    maliksalman2008@gmail.com

  • افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے کھڑی ہے۔ اگر علاقائی کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ آگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون زیادہ ذمہ دار ہے اور کون آگے بڑھ کر قیادت کا کردار ادا کرتا ہے۔

    2021 کے بعد قائم ہونے والی افغان عبوری حکومت کو عالمی سطح پر مکمل تسلیم تو نہیں کیا گیا، مگر عملی سطح پر مختلف ممالک اس کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاری، تجارتی تعلقات اور سیاسی رابطے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہی اثر و رسوخ خطے میں امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا؟ اگر معاشی تعاون جاری رہ سکتا ہے تو سیکیورٹی ضمانتوں اور انسدادِ دہشت گردی کے واضح اقدامات کو اس سے مشروط کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

    علاقائی سطح پر سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ترکی ایسے بااثر ممالک ہیں جو نہ صرف معاشی طاقت رکھتے ہیں بلکہ سفارتی محاذ پر ثالثی کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ دوحہ سے لے کر دیگر علاقائی تنازعات تک، یہ ممالک بارہا مذاکرات کی میز سجانے میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ریاستیں محض تماشائی یا سرمایہ کار نہ رہیں بلکہ ضامنِ امن بن کر سامنے آئیں، مشترکہ علاقائی کانفرنس بلائیں، سرحدی سلامتی اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف مربوط حکمت عملی طے کریں اور واضح پیغام دیں کہ خطے کو کسی نئی جنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    دوسری طرف پاکستان کی صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑتا آیا ہے۔ بے شمار جانوں کی قربانی اور بھاری معاشی نقصانات کے باوجود اس نے اپنی دفاعی صلاحیت اور ریاستی عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، مگر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اصل ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ کشیدگی کو سفارت کاری، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے کم کیا جائے۔

    بین الاقوامی تناظر میں اگر افغانستان میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ وسط ایشیا کی ریاستیں، خلیجی ممالک، حتیٰ کہ یورپی خطہ بھی مہاجرین کے نئے بحران، انتہا پسند عناصر کی نقل و حرکت اور تجارتی و توانائی راہداریوں پر دباؤ کی صورت میں اس کے اثرات محسوس کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ کسی ایک سرحد یا دو طرفہ کشیدگی کا نہیں بلکہ عالمی امن اور معیشت کا سوال بن چکا ہے۔
    آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ علاقائی قیادت فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی اپنائے، اقتصادی تعاون کو سیکیورٹی اقدامات سے جوڑے، اور عالمی طاقتوں کو بھی فعال سفارتی کردار ادا کرنے پر آمادہ کرے۔ اگر خلا پیدا ہوا تو شدت پسند قوتیں اسے پُر کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں بروقت فیصلہ نہیں کرتیں تو حالات ان کے لیے فیصلے کر دیتے ہیں۔

    جنگ کی گونج سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی، مگر دانشمندانہ قیادت تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ آج خطے کو اسلحے کی نمائش نہیں، بصیرت، تدبر اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ فیصلہ طاقت کا نہیں، قیادت کا ہے،اور یہی قیادت آنے والی نسلوں کے امن کی ضامن بن سکتی ہے۔

  • قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    معاشرے میں صحافت کو ہمیشہ سچ کی آواز اور مظلوم کی ڈھال سمجھا گیا ہے۔ اخبار کے صفحات کو وہ مقدس جگہ مانا جاتا ہے جہاں حقائق بولتے ہیں اور انصاف کی امید جاگتی ہے۔ مگر جب یہی صفحات کچھ لوگوں کے لیے ذاتی مفادات اور ناجائز تقاضوں کا ذریعہ بن جائیں تو نہ صرف صحافت کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔
    آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں خبریں شائع کروانے کے خواہشمند افراد خصوصاً خواتین کو غیر اخلاقی تعلقات یا ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا المیہ ہے۔ خبر شائع کروانا ایک حق ہے کوئی سودا نہیں۔ مگر جب اس حق کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا دیا جائے تو متاثرہ شخص کی عزت خودداری اور اعتماد سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

    سوچیے، ایک بیوہ ماں اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اخبار کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، ایک طالبہ ہراسانی کے خلاف ثبوت لے کر آتی ہے یا ایک غریب مزدور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستان سنانا چاہتا ہے۔ایک قلم کار اپنے قلم سے عوام میں شعور اجاگر کرنا چاہتی ہے اسکو اپنی حوس مٹانے پر مجبور کرنے کی آبیتی بیان کرنا چاہتی ہے یہ لوگ انصاف کی امید لے کر آتے ہیں مگر اگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی مجبوریوں کا سودا کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔

    یہ مسئلہ صرف اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی جرم ہے۔ ایسے رویے متاثرہ افراد کو خاموشی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر انصاف مانگنے کی قیمت عزت ہو تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔ یوں ظلم بڑھتا جاتا ہے اور سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

    صحافت کا اصل مقصد طاقتور کو جوابدہ بنانا اور کمزور کو آواز دینا ہے۔ ایک سچا صحافی اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔ جو لوگ اس مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں، وہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے شعبے کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ ان کے سبب وہ بے شمار دیانتدار صحافی بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھے جانے لگتے ہیں جو واقعی حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے اپنے اندر سخت احتسابی نظام قائم کریں۔ شکایات کے لیے محفوظ اور خفیہ راستے فراہم کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی ناجائز مطالبے کے سامنے جھکنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔
    یہ وقت ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو بچائیں سچ کی آواز کو مضبوط کریں اور ان مجبور خاموشیوں کو زبان دیں جو خوف اور بلیک میلنگ کے سبب دب جاتی ہیں۔ کیونکہ جب خبر چھپتی نہیں بلکہ بیچی جانے لگے تو صرف صحافت نہیں مرتی، معاشرہ بھی اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
    آخر میں ایک سوال ہم سب کے لیے:
    کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف کی قیمت عزت ہو؟
    جہاں عورت کو حوس بجھانے کا نا سمجھا جائے ؟
    یا ایسا جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو اور خبر شائع کروانا کسی کی خودداری کا سودا نہ بنے؟
    فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

  • راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سن 1982 کا راولپنڈی یاد آتا ہے تو ایک مختلف منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اُس وقت نہ سوشل میڈیا تھا، نہ ہر ہاتھ میں موبائل فون۔ اطلاعات کے ذرائع محدود تھے — پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی)، ریڈیو پاکستان اور چند قومی اخبارات۔ مگر اس کے باوجود ریاستی رِٹ واضح دکھائی دیتی تھی۔ قانون کا خوف تھا، نظم و ضبط کا احساس تھا، اور عوام کو یہ یقین تھا کہ ادارے موجود ہیں اور متحرک ہیں۔

    آج 2026 کا راولپنڈی دیکھیے — بظاہر ترقی یافتہ، مصروف اور پھیلتا ہوا شہر — مگر اندرونی طور پر بے چینی، عدم تحفظ اور بداعتمادی کا شکار۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل ہیں؛ سوال یہ ہے کہ مسائل پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیوں نظر نہیں آتی؟

    راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے۔ یہ صرف ایک ضلع نہیں بلکہ ملک کے سیاسی و عسکری تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قانون کی کمزوری صرف مقامی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ قومی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

    قبضہ مافیا اور منشیات کا پھیلاؤ
    شہر میں قبضہ مافیا کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کمزور اور متوسط طبقہ اپنی جائیداد کے تحفظ کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ منشیات فروشی ایک ناسور کی طرح نوجوان نسل کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ گلی محلوں میں مشکوک سرگرمیاں عام ہیں، مگر کارروائیاں یا تو وقتی ہوتی ہیں یا غیر مؤثر۔

    یہ تاثر عام ہے کہ کچھ عناصر کو "پشت پناہی” حاصل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کارروائیوں کا تسلسل کیوں نہیں؟ مستقل مزاجی کیوں نہیں؟
    غیر قانونی مقیم افراد اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان
    غیر قانونی مقیم افراد کا مسئلہ بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ اگر کوئی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کا اندراج اور کارروائی ہونی چاہیے۔ مگر جب قانون کا اطلاق منتخب انداز میں ہو، تو سوالات جنم لیتے ہیں۔
    چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ عوام کو یہ احساس نہیں کہ ان کی شکایت سنی جائے گی، اس پر عمل ہوگا اور انہیں انصاف ملے گا۔

    کیا پولیس عوام کی خدمتگار ہے یا حاکم؟
    یہ تاثر کہ راولپنڈی میں ہر افسر اپنی "سلطنت” کا مالک ہے اور عوام رعایا — ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر عوام کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ادارے ان کے نہیں رہے، تو ریاستی اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

    تھانہ کلچر کی شکایات نئی نہیں، مگر اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود عام شہری کو فوری ریلیف کیوں نہیں ملتا؟ ایک ایس ایچ او کا رویہ پورے نظام کی تصویر بن جاتا ہے۔ اگر دروازے پر انصاف نہ ملے تو پھر شہری کہاں جائے؟

    ذمہ داران سے سوال
    یہ سوال براہِ راست متعلقہ حکام سے ہے:
    پنجاب پولیس کی قیادت کیا راولپنڈی کی صورتِ حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے؟
    (وزیراعلیٰ پنجاب) اور حکومت پنجاب کی ترجیحات میں راولپنڈی کہاں کھڑا ہے؟
    کیا مؤثر احتسابی نظام موجود ہے جو اختیارات کے غلط استعمال کو روکے؟
    راولپنڈی کو الگ سلطنت بنانے کا تاثر ختم کرنا ہوگا۔ قانون کی بالادستی صرف بیانات سے نہیں، عملی اقدامات سے قائم ہوتی ہے۔

    حل کیا ہے؟
    پولیسنگ کا شفاف نظام — تھانوں کی کارکردگی عوام کے سامنے لائی جائے۔
    قبضہ مافیا اور منشیات کے خلاف مستقل آپریشن — نمائشی نہیں، نتیجہ خیز۔
    شکایات کے فوری ازالے کا نظام — شہریوں کو آن لائن اور آف لائن مؤثر پلیٹ فارم۔
    افسران کا احتساب — اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی لازم۔
    ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ اگر ماں اپنے بچوں میں فرق کرے یا ان کی فریاد نہ سنے تو گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ راولپنڈی پاکستان کا اہم شہر ہے، اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔
    اب سوال یہ نہیں کہ مسائل کب تک چلیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز کب ہوگا؟
    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے — اور جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

  • عوامی مطالبہ: اسٹریٹیجک تحمل سے نمایاں بازداریت تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    عوامی مطالبہ: اسٹریٹیجک تحمل سے نمایاں بازداریت تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک سوگوار قوم بھی ہے — اور ایک ایسی قوم بھی جو سخت سوالات پوچھ رہی ہے۔
    خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کے ریگزاروں تک، سبز ہلالی پرچم بار بار ان تازہ قبروں پر سرنگوں ہو رہا ہے جن میں وہ سپاہی آسودۂ خاک ہیں جو ایک ایسے غیر مرئی دشمن سے لڑتے رہے — ایسا دشمن جو پراکسیز، محفوظ پناہ گاہوں اور ہائبرڈ جنگ کے ذریعے وار کرتا ہے۔
    گلیوں میں غصہ حقیقی ہے۔
    شہداء کے گھروں میں غم حقیقی ہے۔
    اور پورے ملک میں گونجنے والا مطالبہ اب واضح ہوتا جا رہا ہے:
    پاکستان آخر کب تک صرف وار سہتا رہے گا؟
    وہ نقشہ جو عوام دیکھ رہے ہیں
    بلوچستان میں مربوط حملے، سکیورٹی تنصیبات کے خلاف کواڈ کاپٹرز کا استعمال، وفاقی دارالحکومت میں دھماکہ، فوجیوں کا اغوا، حتیٰ کہ ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا — یہ الگ الگ واقعات نہیں۔
    عوام کے ذہن میں یہ سب ایک ہی تصویر بناتے ہیں:
    پاکستان کو ایک مسلسل پراکسی جنگ کے ذریعے لہولہان کیا جا رہا ہے۔
    اور جب تابوت مسلسل آتے رہیں تو اسٹریٹیجک تحمل عام شہری کی نظر میں اسٹریٹیجک غیر فعالیت محسوس ہونے لگتا ہے۔

    جوابِ آں غزل” کا ابھرتا ہوا بیانیہ
    سوشل میڈیا، ڈرائنگ رومز، جامعات اور سابق فوجیوں کے حلقوں میں ایک جملہ قومی گفتگو پر حاوی ہے:
    بازداریت کا اثر محسوس ہونا چاہیے، صرف بیان نہیں ہونا چاہیے
    عوام اب صرف دفاعی کامیابی پر مطمئن نہیں۔
    یہ مطالبہ بڑھ رہا ہے کہ:
    جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سہولت کاری کرتے ہیں، انہیں اس کی قیمت چکانی چاہیے۔
    پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی محفوظ پناہ گاہیں مزید مفت نہیں رہنی چاہئیں۔
    ہائبرڈ جنگ کا جواب اسی میدان میں دیا جانا چاہیے جس میں یہ لڑی جا رہی ہے۔
    یہ کسی مہم جوئی کی پکار نہیں — بلکہ ایک زخمی قوم کا ردعمل ہے جو اپنے سپاہیوں کو جرات سے لڑتے دیکھتی ہے جبکہ اسٹریٹیجک ماحول تبدیل نہیں ہوتا۔
    بازداریت ایک نفسیاتی مساوات ہے
    جدید تنازعات میں بازداریت صرف صلاحیت سے حاصل نہیں ہوتی۔
    یہ تب حاصل ہوتی ہے جب دشمن کو یقین ہو جائے کہ:
    پاکستان کو نقصان پہنچانے کی قیمت کسی بھی ممکنہ فائدے سے زیادہ ہوگی۔
    اس وقت عوامی تاثر یہ ہے کہ قیمت صرف پاکستان ادا کر رہا ہے۔
    یہ تاثر — چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو — تزویراتی طور پر خطرناک ہے کیونکہ یہ داخلی اعتماد کو کمزور اور مخالف بیانیے کو مضبوط کرتا ہے۔

    کشمیر: بنیادی سیاسی و اخلاقی محاذ
    علاقائی سلامتی کی کوئی بحث کشمیر کے بغیر مکمل نہیں — تقسیم کا نامکمل ایجنڈا اور دنیا کا سب سے زیادہ فوجی محاصرہ زدہ خطہ۔
    کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کوئی وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ تاریخی اور قانونی مؤقف ہے۔

    آج عوام چاہتے ہیں کہ یہ حمایت
    مزید نمایاں ہو
    مزید تسلسل کے ساتھ ہو
    عالمی سطح پر مزید فعال ہو
    بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے بغیر — مگر اس انداز میں کہ مسئلہ دوبارہ متحرک ہو اور اس جمود کو توڑا جا سکے جسے دشمن منجمد رکھنا چاہتا ہے۔
    ردعمل سے پہل کی جانب
    عوام کا ابھرتا ہوا مطالبہ صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ پہل ہے۔
    ہائبرڈ جنگ کے ماحول میں جامع جواب میں شامل ہیں:
    انٹیلی جنس کی بنیاد پر درست اور بروقت صلاحیت
    خطرات کو جنم لینے سے پہلے ختم کرنے کی صلاحیت۔
    علاقائی انسدادِ دہشت گردی سفارت کاری
    پاکستان کے خلاف سرگرم نیٹ ورکس کو عالمی توجہ کا مرکز بنانا۔
    اطلاعاتی جنگ میں برتری
    بین الاقوامی اور داخلی سطح پر بیانیے کی جنگ جیتنا۔
    داخلی استحکام
    بیرونی سرپرستی میں ہونے والی عدم استحکام کا سب سے مضبوط جواب سیاسی و معاشی طور پر مستحکم پاکستان ہے۔
    نمایاں بازدارانہ اشارے
    کشیدگی نہیں — بلکہ یہ واضح پیغام کہ پاکستان کی سرخ لکیریں حقیقی اور قابلِ نفاذ ہیں۔
    بے عملی کی قیمت
    ہر شہید کی نمازِ جنازہ صرف غم کا لمحہ نہیں — یہ ایک اسٹریٹیجک پیغام بھی ہے جسے دوست اور دشمن دونوں دیکھتے ہیں۔
    اگر قوم قیمت عائد کرنے سے قاصر دکھائی دے تو پراکسی جنگ کا ماڈل مخالف قوتوں کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔
    اگر قوم عزم دکھائے تو مساوات بدل جاتی ہے۔
    قومی مزاج بدل چکا ہے
    پالیسی سازوں کے لیے سب سے اہم حقیقت یہ ہے:
    پاکستانی عوام اب صبر کے مرحلے میں نہیں — مطالبے کے مرحلے میں ہیں۔
    مطالبہ برائے:
    سلامتی
    جواب میں برابری
    نمایاں بازداریت
    اسٹریٹیجک وضاحت
    ریاست فیصلے جذبات پر نہیں کرتی — مگر قومی مزاج سے کٹ کر بھی نہیں رہ سکتی۔

    خلاصہ
    بازداریت کی نئی ترتیب کا وقت
    پاکستان تنازع نہیں چاہتا۔
    مگر پاکستان ایسی صورتِ حال بھی قبول نہیں کر سکتا جس میں:
    ہمارے سپاہی روز شہید ہوں،
    ہمارے شہر نشانہ بنتے رہیں،
    اور ہمارے مخالف محفوظ رہیں۔
    آگے کا راستہ غیر ذمہ دارانہ کشیدگی نہیں۔
    آگے کا راستہ بازداریت کی نئی ترتیب ہے — ذہین، متوازن، کثیر جہتی اور غیر مبہم۔
    کیونکہ ہائبرڈ جنگ میں بقا سب سے زیادہ صبر کرنے والی ریاست کو نہیں ملتی —
    بلکہ اس ریاست کو ملتی ہے جو اپنے دشمن کو یقین دلا دے:
    پاکستان کو لہولہان کرنے کی قیمت ناقابلِ برداشت ہوگی۔

  • ہماری ترجیحات  صرف پروٹوکول  یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہماری ترجیحات صرف پروٹوکول یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    وقت نے ثابت کر دیا کہ ہماری ترجیحات عوامی نہیں کیونکہ پچھلے 78 سالوں سے ہم بطور پاکستان ایک لیبارٹری کا کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کبھی ہم الف انار سے آگے نہیں بڑھ سکے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے برسر اقتدار لوگوں کو اپنے پروٹوکول سے عرض ہے اور اگر ہم الف انار سے آگے نکل گئے تو الف سے اللہ پڑھ لیا تو لوگوں کے ذہنوں میں اللہ کی محبت جاگنے لگے گی جو کہ پروٹوکول والوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اس لیے الف انار ہی کافی ہے ۔

    پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ڈی سی، اے سی اور پرائس کنٹرول والے ادارے بے بس نظر آتے دکھائی دیتے ہیں شائد سسٹم میں خرابیاں ہیں جو ہم دور نہیں کرنا چاہتے پکڑ دھکڑ ایف آئی آر حوالات میں بند کرنا جو حل نہیں مسلئہ کی روح کو سمجھنا ضروری ہے جو ہم کرنا ہی نہیں چاہتے ۔

    بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار سکڑ رہے ہیں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ لیکن اگر ہمارے ریاستی اور انتظامی رویّوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اصل مسائل معیشت، روزگار اور عوامی فلاح نہیں بلکہ پروٹوکول، نمائشی دورے اور عہدوں کی شان و شوکت بن چکے ہیں۔

    آج بھی کسی سرکاری شخصیت کی آمد کی اطلاع ملے تو سڑکیں بند، ٹریفک معطل اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ معمول کی بات ہے۔ مریض ایمبولینس میں انتظار کرتے رہتے ہیں، طلبہ امتحان کے لیے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی وقار کا تقاضا عوام کو تکلیف دینا ہے؟ یا اصل وقار عوام کی سہولت اور خدمت میں ہے؟

    بدقسمتی سے ہمارے ہاں پروٹوکول ایک انتظامی ضرورت سے بڑھ کر اختیار اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔ لمبے لمبے قافلے، درجنوں گاڑیاں، غیر ضروری سکیورٹی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ایک ایسا کلچر بن چکا ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔دوسری طرف ملک کی معیشت کمزور ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر ہیں۔لاکھوں کی تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں جن میں ڈاکٹر انجینئر اور پڑھا لکھا طبقہ دیدارِ غیر کی پرواز کرچکا ہے اور باقی انتظار میں ۔چھوٹے کاروبار مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ صنعتوں کی رفتار سست ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کی اولین ترجیح معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور عوامی ریلیف ہونی چاہیے، لیکن عملی طور پر زیادہ توجہ نمائشی سرگرمیوں اور رسمی تقریبات پر دی جا رہی ہیں۔

    یہ پروٹوکول کلچر صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے میں بھی سرائیت کر چکا ہے۔ عہدہ، دولت یا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد خود کو عام شہری سے مختلف اور برتر سمجھنے لگے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم اور احساسِ محرومی کو بڑھا دیا ہے۔ جب ایک عام شہری دیکھتا ہے کہ قانون اور سہولیات سب کے لیے برابر نہیں تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں اعلیٰ حکام سادگی کو ترجیح دیتے ہیں، عوام کے درمیان بغیر غیر ضروری پروٹوکول کے آتے جاتے ہیں، اور ریاستی وسائل کا ہر ممکن بچاؤ کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کارکردگی کو اہمیت دی جاتی ہے، نمود و نمائش کو نہیں۔جب کہ اسلام بھی اس منع کرتا ہے ۔

    پاکستان کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے جب کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ غیر ضروری پروٹوکول اور نمائشی اخراجات کو کم کر کے وسائل کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کا عہدہ اختیار نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری ہے۔مگر یہ اب تک ممکن نہیں ہوسکا بہرحال امید قوی ہے اتنا انتظار مزید کرنے سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے خاص طور پر ضلعی اور مقامی سطح پر بھی اس سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عوامی مسائل—ٹوٹے ہوئے روڈ، سیوریج کے مسائل، پینے کے پانی کی کمی، سرکاری اداروں کی کارکردگی—ان پر توجہ دینے کے بجائے اگر سارا زور استقبال، پروٹوکول اور رسمی سرگرمیوں پر ہو تو عوام کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ دونوں مل کر ایک نئی سوچ کو اپنائیں۔ سادگی، خدمت اور کارکردگی کو عزت دی جائے ووٹ والی بات الگ ہے جبکہ نمود و نمائش اور غیر ضروری پروٹوکول کی حوصلہ شکنی کی جائے۔مگر کون کرے گا جو پروٹوکول کے دلدادہ ہیں حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی طاقت لمبے قافلوں یا بند سڑکوں میں نہیں، بلکہ خوشحال عوام، مضبوط معیشت اور برابر کے نظام میں ہوتی ہے۔جب حکمرانی کا مرکز عوام بن جائیں گے تو ترقی خود راستہ بنا لے گی۔ پہلے قوم بننا ضروری ہے ، آخر کب تک امید کا دامن تھامے رکھو گے ؟

  • امریکہ اور ایران: جنگ کی آہٹ یا سفارت کی ضرورت؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران: جنگ کی آہٹ یا سفارت کی ضرورت؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے۔ کبھی جوہری پروگرام کا معاملہ، کبھی مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی جنگ، اور کبھی اسرائیل سے وابستہ تنازعات،یہ سب عوامل دونوں ممالک کو بارہا آمنے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

    حقیقت یہ ہے کہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا امکان کم ضرور ہے، مگر خطرہ بہرحال موجود رہتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ ایران کوئی کمزور ملک نہیں۔ اس کے پاس میزائل صلاحیت موجود ہے، خطے میں اس کے اتحادی گروہ ہیں، اور آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام پر اس کا جغرافیائی اثر نمایاں ہے۔ دوسری طرف ایران بھی سمجھتا ہے کہ براہِ راست جنگ اس کی معیشت اور داخلی استحکام کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اسی لیے دونوں ممالک عمومی طور پر براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں، مگر محدود کارروائیاں یا پراکسی محاذ آرائی کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتی ہے۔

    اگر خدانخواستہ جنگ شروع ہوتی ہے تو سب سے پہلے خلیجی خطہ متاثر ہوگا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک، جہاں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات موجود ہیں، دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے۔عراق، شام اور لبنان جیسے ممالک پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ ایران کے اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ ممالک ممکنہ پراکسی جنگ کا میدان بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں دہشت گردی، خانہ جنگی اور سیاسی افراتفری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

    ایران کے پڑوسی ممالک بھی اس صورت حال سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ پاکستان کو سرحدی کشیدگی، مہاجرین کے ممکنہ دباؤ اور سفارتی توازن کے نازک مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ترکی اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کریں گی، مگر معاشی اثرات سے بچنا آسان نہیں ہوگا۔عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت کو سست روی کا شکار کر سکتا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت صف بندی کریں گی، جس سے عالمی سیاست میں نئی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔

    لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی بدامنی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایک اور جنگ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مسئلے کا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہے۔

  • بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بسنت بے شمار خرابیوں، بربادیوں کا مجموعہ، معاشرتی اقدار اور ریاستی رٹ کے قتلِ عام کی علامت بن گئی ۔ جس کی قیمت معصوم شہری اپنی جانوں، اعضا اور محنت کی کمائی سے ادا کرتے رہے ، اگر چہ بسنت کو خوشی کے ایک تہوار کا نام دیا حالانکہ یہ خوشی کا تہوار نہیں بلکہ ایک ایسا خونی تہوار اور سفاکیت کی علامت بن گیا جس کی ڈور تلوار کی طرح گردنیں کاٹ دیتی ہے ، موٹر سائیکل سوار موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ، جس کے شیشے، کیمیکل اور دھات سے بنے دھاگوں نے شہر میدانِ جنگ بنا دیے !

    پرویز مشرف حکومت کے خاتمہ کے بعد جب نئے انتخابات ہوئے تو پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے انھوں نے بسنت منانے ، پتنگیں اڑانے پر سخت پابندی لگا دی ۔ اس پابندی کی وجہ سے پنجاب کے عوام نے سکھ اور سکون کا سانس لیا ۔ کئی سال تک پنجاب میں امن اور سکون رہا لیکن معلوم نہیں کیا وجہ بنی کہ میاں شہباز شریف کی بھتیجی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو یہ سکون پسند نہ آیا انھوں دوبارہ سے سرکاری سطح پر بسنت منانے اور پتگیں اڑانے کی اجازت دے دی ہے ۔ شنید ہے کہ لاہور کے بعد پنجاب کے باقی شہروں میں بھی یہ ہندووانہ خونی تہوار منایا جائے گا ۔

    نام نہاد تفریح کے نام پر معصوم شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی گئیں ۔ اس خونی ہندووانہ رسم کی وجہ سے کئی بچے یتیم ہوئے ، عورتیں بیوہ ہوئیں اور لاتعداد گھر اجڑ گئے ہیں ۔ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ بسنت تفریح نہیں بلکہ ایک قاتل سرگرمی بن چکی ہے۔
    کہنے کی حد تک ایک ڈور ہے ، ایک پتنگ ہے اور ایک وہ ہے جو اس پتنگ کو اڑانے والا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک قاتل ڈور ہوتی ہے جو ا نسانی لاشیں گراتی ہے ۔ بسنت کے دوران استعمال ہونے والی ڈوریں براہِ راست انسانی قتل کا ذریعہ بن چکی ہیں۔یہی وجہ ہے اس بار بھی کئی افراد موت کے گھاٹ اترے اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے ، کئی افراد کے سر قلم ہوئے یا گردن کٹنے جیسے ہولناک حادثات کی وجہ سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔یہ ایک ایسا قبیح عمل ہے کہ جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار، مزدور، طالب علم یہاں تک کہ اسکول جاتے بچے محفوظ نہیں۔
    اس دفعہ جب بسنت منائی گئی اس دن سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی، ڈاکٹر اور نرسیں اضافی ڈیوٹیاں انجام دیتے رہے ، ریاست لاکھوں روپے صرف اس لیے خرچ کرتی ہے کہ چند لوگ آسمان پر کاغذ اڑا سکیں۔
    سوال یہ ہے کہ یہ اخراجات کس نے ادا کئے ؟
    کیا ریاست نے ؟ نہیں۔
    کیا حکومت نے ؟ نہیں۔
    یہ قیمت عام شہری، ٹیکس دہندہ اور متاثرہ خاندانوں سے وصول کی گئی ۔
    بسنت کا سب سے تاریک پہلو وہ معصوم بچے ہیں جو چھتوں پر پتنگ لوٹتے ہوئے گر کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یا جن کی گردن قاتل ڈور سے کٹ جاتی ہے۔ ان بچوں کے والدین کے لیے بسنت ایک دن نہیں بلکہ عمر بھر کا زخم بن جاتی ہے ، کوئی قانون، کوئی روایت، کوئی ثقافت اس دکھ کا مداوا نہیں کر سکتی۔
    بسنت کی وجہ سے صرف معاشی نقصان ہی نہیں ہوتا بلکہ چھتوں سے زیادہ قبرستان آباد ہوتے ہیں ۔
    بسنت کو سیاحت اور معیشت کے فروغ کا ذریعہ قرار دینے والے یہ حقیقت جان بوجھ کر چھپاتے ہیں کہ اس تہوار سے ہونے والا مالی اور جانی نقصان اس کے مبینہ فوائد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بجلی کے تار کٹتے ہیں ، ٹرانسفارمر جلتے ہیں ، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہوتی ہے ، عمارتوں، گاڑیوں اور سولر سسٹمز کو نقصان پہنچتا ہے ، پولیس، ریسکیو اور ہسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے
    افسوس کہ بسنت مافیاجس میں صنعتکار، سیاست دان اور بااثر حلقے شامل ہیں بڑے بڑے پلازوں اور حویلیوں کی چھتوں پر پتنگیں اڑاتے جبکہ لاشیں ہمیشہ غریبوں کے حصے میں آتی ہیں۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بات مت بھولیں کہ ہمارے دین نے انسانی جان کو سب سے قیمتی قرار دیا ہے۔ ایک جان کا ضیاع پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ایسے میں ایک ایسی سرگرمی جو مسلسل جانیں لے رہی ہو، اسے ثقافت کے نام پر جائز قرار دینا بدترین اخلاقی دیوالیہ پن ہے ۔
    معاشرے وہی ترقی کرتے ہیں جو تفریح اور ذمہ داری کے درمیان حد قائم رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے یہ حد کب کی پار کر لی ہے۔
    میڈیا اور اشرافیہ کا کردار بھی قابل افسوس ہے ۔میڈیا بسنت کو رنگین مناظر، ڈرون شاٹس اور موسیقی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اشرافیہ محفوظ فارم ہاؤسز اور بلند عمارتوں پر جشن مناتی ہے، جبکہ سڑکوں پر مرنے والے عام لوگ ہوتے ہیں۔یہ طبقاتی تفریق بسنت کو مزید قابلِ نفرت بنا دیتی ہے۔ حل کیا ہے؟ حل کوئی مشکل نہیں، بس نیت کی ضرورت ہے مکمل اور مستقل پابندی قاتل ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے پر پابندی اور ناقابلِ ضمانت سزائیں ۔
    اس سلسلہ میں عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ جب تک لاشوں کے بدلے صرف بیانات آتے رہیں گے تب تک بسنت قاتل ہی رہے گی۔
    آخری سوال
    کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم ہیں جو چند گھنٹوں کی تفریح کے لیے اپنے بچوں کی جانیں قربان کرنے پر تیار ہیں؟یا پھر اب بھی وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں ۔۔۔۔بسنت یا انسان۔۔۔۔؟ یہ فیصلہ ریاست کو بھی کرنا ہے، معاشرے کو بھی اور ہر اس فرد کو بھی جو بسنت کو محض تفریح کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
    یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ بسنت پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی تھی جو قیمتی انسانی جانوں کے مسلسل ضیاع کے بعد لگائی گئی تھی۔ عدالتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خود حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی تھیں کہ بسنت ایک خطرناک، جان لیوا اور ناقابلِ کنٹرول سرگرمی بن چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود حالیہ برسوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری سرپرستی میں بسنت منانے کا اقدام نہ صرف افسوسناک بلکہ اخلاقی، انتظامی اور انسانی سطح پر مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
    جب ایک حکومت خود اس سرگرمی کو فروغ دے جس پر وہ ماضی میں پابندی لگا چکی ہو تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ریاستی فیصلے لاشوں کی تعداد کے مطابق بدلتے رہیں گے؟ کیا وہی سرگرمی جو کل قاتل تھی، آج محض اس لیے ثقافت بن گئی کہ سیاسی فائدہ یا وقتی مقبولیت حاصل کی جا سکے؟ یہ دوغلا پن دراصل عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی جانوں کی کوئی مستقل قدر نہیں، سب کچھ سیاسی مفاد کے تابع ہے۔
    سرکاری سطح پر بسنت کی اجازت دینا درحقیقت بسنت مافیا کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے، جو اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جب حکومت خود پشت پناہی کر رہی ہے تو پابندی، قانون اور احتیاط کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اس سرکاری سرپرستی نے نہ صرف قانون کی ساکھ کو مجروح کیا ہے بلکہ ان تمام خاندانوں کے زخم بھی ہرے کر دیے ہیں جنہوں نے ماضی میں بسنت کی نذر ہو کر اپنے پیارے کھوئے تھے ۔
    یہ فیصلہ دراصل ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے:آج بسنت، کل کوئی اور جان لیوا روایت۔۔۔۔ یوں ریاست خود اپنے شہریوں کی قاتل بن جاتی ہے۔