Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

    ‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

    ‎آج کے دور میں تمباکو نوشی ایک خطرناک عادت بنتی جا رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ سگریٹ، گٹکا، نسوار اور شیشہ استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے شوق سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ دوستوں کی صحبت یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمباکو نوشی انسان کی صحت، گھر اور پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جو تمباکو سے پاک ہو۔

    ‎تمباکو نوشی سب سے زیادہ انسانی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں ایسے زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مسلسل تمباکو استعمال کرنے والے افراد کو سانس کی تکلیف، کھانسی، دل کی بیماری اور کینسر جیسے خطرناک امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف سگریٹ پینے والا ہی متاثر ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اردگرد بیٹھے لوگ بھی دھوئیں سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بوڑھے اس سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔

    ‎پاکستان میں نوجوان نسل تیزی سے اس بری عادت کا شکار ہو رہی ہے۔ اکثر نوجوان صرف فیشن یا دوستوں کی نقل میں سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ شروع میں وہ اسے معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت بن جاتی ہے۔ بعد میں اسے چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی تعلیم اور صحت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ملک کا روشن مستقبل بن سکتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے بچانا بہت ضروری ہے۔

    ‎تمباکو نوشی صرف صحت ہی نہیں بلکہ پیسے کا بھی ضیاع ہے۔ بہت سے لوگ روزانہ سگریٹ پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہی پیسہ تعلیم، خوراک یا کسی اچھے کام پر لگایا جائے تو انسان اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ غریب لوگ جب تمباکو پر پیسہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے گھر کے دوسرے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح پورا خاندان مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

    ‎تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی لگائے۔ اسکولوں اور کالجوں کے قریب سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اشتہارات کم کیے جائیں تاکہ نوجوان اس کی طرف راغب نہ ہوں۔

    ‎والدین اور اساتذہ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی صحبت اختیار کرنے کی نصیحت کریں۔ اساتذہ کو اسکول میں طلبہ کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر بچپن سے ہی بچوں کو اس کے برے اثرات بتائے جائیں تو وہ اس عادت سے دور رہ سکتے ہیں۔

    ‎میڈیا بھی لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر ایسے پروگرام دکھائے جانے چاہییں جو لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں بتائیں۔ جب لوگ اس کے نقصان کو سمجھیں گے تو وہ خود بھی اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

    ‎اسلام بھی ہمیں ان چیزوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوں۔ تمباکو نوشی چونکہ انسان کی جان اور صحت کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

    ‎آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو پاکستان کو تمباکو سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں خود بھی اس بری عادت سے بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس سے دور رہنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کر سکتی ہے۔ اگر ہمارا پاکستان تمباکو سے پاک ہوگا تو ہمارے نوجوان زیادہ صحت مند، خوشحال اور کامیاب ہوں گے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: عالیہ رمضان

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: عالیہ رمضان

    تمباکو نوشی اس دور کا ایک ایسا خطرناک ناسور ہے جو خاموشی کے ساتھ انسان کی صحت، خاندان کی خوشیوں اور پورے معاشرے کو تباہ کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کروڑوں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اذیت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بھی سگریٹ، گٹکا، نسوار، شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان نسل اس لت کا سب سے زیادہ شکار ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے مستقبل خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے “تمباکو سے پاک پاکستان” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔

    تمباکو نوشی ابتدا میں ایک عام عادت محسوس ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ یہ انسان کی زندگی پر مکمل قبضہ کر لیتی ہے۔ ایک شخص وقتی سکون یا دوستوں کی دیکھا دیکھی سگریٹ پینا شروع کرتا ہے، لیکن پھر یہی عادت اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اکثر نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ صرف ایک یا دو سگریٹ سے کچھ نہیں ہوگا، مگر یہی ایک قدم بعد میں خطرناک نشے میں بدل جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ذہنی دباؤ، پریشانی، ناکامی یا تنہائی کے باعث تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ عادت مسائل کم نہیں بلکہ مزید بڑھا دیتی ہے۔

    سگریٹ کے دھوئیں میں ہزاروں زہریلے کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکل انسانی جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، سانس کی تکلیف، دمہ، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کی بیماریاں تمباکو نوشی کے عام نتائج ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق تمباکو نوشی انسان کی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جسم بیماریوں کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ صرف تمباکو استعمال کرنے والا شخص ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اردگرد موجود افراد بھی دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسے “پیسو اسموکنگ” کہا جاتا ہے۔ ایک باپ اگر گھر میں سگریٹ پیتا ہے تو اس کے بچے اور اہلِ خانہ بھی انہی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

    پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ بری صحبت ہے۔ نوجوان اکثر دوستوں کے دباؤ میں آ کر سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر سگریٹ نوشی کو ایک فیشن یا اسٹیٹس سمبل کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جس سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ خود کو جدید یا بہادر ثابت کرنے کے لیے بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک سوچ ہے کیونکہ حقیقت میں سگریٹ انسان کو کمزور، بیمار اور دوسروں کا محتاج بنا دیتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ معاشی مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔ ایک غریب مزدور جو دن بھر محنت کرکے چند روپے کماتا ہے، اگر انہی پیسوں کا کچھ حصہ سگریٹ پر خرچ کرے تو اس کے گھر کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ وہ رقم جو بچوں کی تعلیم، دوائی یا کھانے پر خرچ ہونی چاہیے، دھوئیں میں اڑا دی جاتی ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کی بڑی تعداد تمباکو نوشی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بری عادت فرد کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    اسلام نے بھی ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو انسانی صحت اور زندگی کے لیے نقصان دہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحت ایک نعمت کے طور پر عطا کی ہے اور اس نعمت کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ تمباکو نوشی چونکہ جسم کو تباہ کرتی ہے، اس لیے یہ ایک نقصان دہ عمل ہے۔ علما کرام بھی اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اس بری عادت سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان کبھی ایسا عمل نہیں کرے گا جو اس کی جان اور دوسروں کی صحت کے لیے نقصان کا باعث بنے۔

    تمباکو سے پاک پاکستان بنانے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی تربیت دیں۔ اگر بچپن سے بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تو وہ مستقبل میں اس عادت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ طلبہ میں شعور بیدار ہو۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی درست رہنمائی کریں اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔

    میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ نوشی کو فیشن کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کے نقصانات دکھائے جائیں۔ سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان حقیقت کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح حکومت کو عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی عائد کرنی چاہیے۔ کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصاویر اور وارننگز کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ اس زہر سے دور رہیں۔

    جو افراد تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں بھی حوصلہ افزائی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان اور دوست اگر ان کا ساتھ دیں تو وہ اس عادت سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ کھیل، ورزش، مطالعہ اور مثبت سرگرمیاں انسان کو بری عادتوں سے دور رکھتی ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت، خوابوں اور مستقبل کو ترجیح دیں، کیونکہ ایک صحت مند جسم ہی کامیاب زندگی کی بنیاد ہوتا ہے۔

    آئیے ہم سب مل کر اس مہم کا حصہ بنیں اور اپنے وطن کو ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان بنائیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کرے تو وہ دن ضرور آئے گا جب ہمارا پیارا وطن حقیقت میں “تمباکو سے پاک پاکستان” کہلائے گا۔

  • تحصیل چونیاں کے شہری صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کیوں؟تحریر: میاں عدیل اشرف

    تحصیل چونیاں کے شہری صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کیوں؟تحریر: میاں عدیل اشرف

    "جو ووٹ کی خاطر گلیوں میں دستک دینے آتے ہیں
    وہ پیاسی عوام کو سسکتا چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں
    سرکاری پائپوں سے اب پانی نہیں، بیماری بہتی ہے
    یہ کیسے حکمران ہیں جو عوام کو صاف پانی تک نہیں دے پاتے..!۔”

    ایک لاکھ سے زائد کی آبادی پر مشتمل تحصیل کا درجہ رکھنے والا شہرِ چونیاں جو ایک پرانی تاریخ کا حامل قدیمی شہر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا شہر آج پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ترین انسانی ضرورت سے بھی محروم ہو چکا ہے۔ جہاں دیگر ممالک میں صاف پانی کی فراہمی ریاست کی پہلی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، وہی پاکستان میں شہری آج بھی کئی شہروں اور دیہات میں اس نعمت سے محروم ہیں۔ چونیاں، الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے عوام کے لیے یہ بنیادی انسانی ضرورت ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ چونیاں شہر کا زیرِ زمین پانی قدرتی طور پر کھارا یعنی نمکین ہے، جس کا واحد حل واٹر فلٹریشن پلانٹس یا منظم واٹر سپلائی سسٹم تھا۔ مگر افسوس! یہاں فلٹریشن پلانٹس نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو گنتی کے چند فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں، وہ انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ رہی سہی کسر واٹر سپلائی کے ناقص نظام نے پوری کر دی ہے، چونیاں شہر میں بچھائی گیی واٹر سپلائی کی پائپ لائنیں جگہ جگہ سے لیک ہو چکی ہیں۔ نالیوں کا گندا اور بدبودار پانی ان لیکجز کے ذریعے واٹر سپلائی لائنوں میں شامل ہو کر شہریوں کے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ شہری اس گندے اور زہر آلود پانی کو پینے پر مجبور ہیں اور جو لوگ یہ پانی پی رہے ہیں، وہ ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، گردوں اور معدے جیسی دیگر موذی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیونکہ میڈیکل سائنس کے مطابق آدھی سے زیادہ انسانی بیماریوں کی جڑ آلودہ پانی کا استعمال ہے، اور چونیاں کی عوام کو دانستہ طور پر اس دلدل میں سرعام بے فکر ہو کر دھکیلا جا رہا ہے۔

    اس مجرمانہ غفلت کے اصل ذمہ دار وہ عوامی نمائندے، اسمبلی ممبرز اور سول سوسائٹی کے نام نہاد لیڈران ہیں جو الیکشن کے دنوں میں چونیاں، الہ آباد، چھانگامانگا اور کنگن پور کی گلیوں میں ووٹ کی بھیک مانگنے آتے ہیں۔ چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کا ایم این اے (MNA) ہو یا ایم پی اے (MPA)، ووٹ لے کر اسمبلی کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد ان سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ انہوں نے آج تک چونیاں کی پیاسی عوام کے اس سنگین مسئلے پر اسمبلی کے فلور پر آواز اٹھانا تو دور، کبھی مقامی سطح پر بھی اس کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ان عوامی نمائندوں کی ترجیحات میں عوام کی صحت نہیں، بلکہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات ہیں۔ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر اور میونسیپل کمیٹی کے افسران تک، سب ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ شہریوں اس مسلئے پر ہونے ولے متعدد احتجاج، سوشل میڈیا پر اٹھتی آوازیں اور میڈیا رپورٹس ان خاموش تماشائیوں کو جگانے میں ناکام رہی ہیں۔ عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے اور مٹھی بھر بیوروکریسی پورے علاقے کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔

    جب ایک لاکھ سے زائد آبادی والا مرکزی شہر چونیاں اس بنیادی ترین سہولت کے حق سے محروم ہے، تو الہ آباد، کنگن پور، چھانگا مانگا اور ان سے ملحقہ سینکڑوں دیہاتوں کا تو کوئی نام لینے والا ہی نہیں ہے۔ ان دیہی علاقوں اور قصبوں میں رہنے والے لاکھوں انسانوں کو تو شاید حکومت انسان ہی نہیں سمجھتی۔ وہاں کے لوگ آج بھی دور دراز سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں یا پھر زیادہ ٹی ڈی ایس کا حامل گندا پانی پی کر اپنے بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ اگر ہم عالمی سطح پر ترقی کا جائزہ لیں تو دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں بھی پینے کا صاف پانی ریاست بلا معاوضہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جدید دور کے دعووں کے باوجود، پاکستان بھر میں زیر زمین پانی ہونے کے باوجود تمام شہر پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔ یہ اس نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ آخر اس بدترین مسئلے کا ذمہ دار کون ہے؟ کس نے اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور کب تک چونیاں اور اس کے گردونواح کے لوگ یہ زہر پی کر بیمار ہوتے رہیں گے؟ اگر عوام اپنے کسی بھی حق تلفی پر روڈ بلاک یا احتجاج کرے تو ان پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہیں۔ اور ریاست اپنی ذمہ داریاں بھول چکی ہے تو عوام جائے تو کہاں جائے۔

    چونیاں شہر کا پانی تو مکمل طور پر کھارا یعنی نمکین ہونے کی بنا پر پینے لائق ہی نہیں۔ لیکن تحصیل بھر کے شہروں اور متعدد گاؤں دیہات میں جا کر جب ٹی ڈی ایس میٹر سے پانی چیک کیا گیا تو وہاں بھی پانی کے ٹی ڈی ایس 400 سے 600 تک آ رہے ہیں، جو انسانی جانوں کے لیے نقصان دہ پانی ہے۔ چونیاں تحصیل بھرکی تقریباً 9 لاکھ سے زائد لوگوں پر مشتمل آبادی آج صاف پانی جیسی عظیم نعمت سے مزید محروم ہوتی جا رہی ہے۔
    شہریوں نے نہ صرف حکومتِ پاکستان سے بلکہ عالمی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے وہ یہاں اپنی ٹیمیں بھیجیں اور پانی چیک کریں۔ انہوں نے خاص طور پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور یونیسف (UNICEF) جیسی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چونیاں میں پینے کے پانی کے اس سنگین انسانی بحران کا نوٹس لیں۔ ان عالمی اداروں کو یہاں آ کر پانی کے نمونے ٹیسٹ کرنے چاہئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ کیسے شہریوں کو بنیادی حق سے محروم کر کے "سلو پوائزن” پلایا جا رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور سیکرٹری پبلک ہیلتھ سے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چونیاں کی واٹر سپلائی لائنوں کو ہنگامی بنیادوں پر تبدیل کیا جائے، بند فلٹریشن پلانٹس کو چالو کر کے مزید نئے پلانٹس لگائے جائیں اور الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے لیے بھی فوری طور پر کلین واٹر اسکیمیں شروع کی جائیں۔ اگر پبلک ہیلتھ اور مقامی انتظامیہ یہ بنیادی ترقیاتی کام نہیں کر سکتی، تو تحصیل اور ضلعی لیول پر تعینات تمام ناکارہ عملے کو فارغ کیا جائے تاکہ عوام کا پیسہ ان افسران کی عیاشیوں اور تنخواہوں پر ضائع ہونے کے بجائے مقامی واٹر اسکیموں پر لگے۔ چونیاں کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کر کے ان کی زندگیوں کو بچانا اب ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، پانی کی فراہمی نہ صرف ریاست کی ذمہ داری ہے بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت اور حق ہے۔ عوام سے ان کا کوئی بھی حق چھیننا یا فراہم نہ کرنا ریاست کو ظالم بناتا ہے۔

  • بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔

    وزیراعظم کے احکامات پر گذشتہ ماہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 میں بہت واضح انداز میں سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کا Statutory Regulatory Order جاری کردیا گیا۔
    اس مشن امپاسیبل کو پاسیبل کرنے کا کریڈٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان اور وفاقی سیکرٹریز کو جاتا ہے جنہوں نے سول سروس کی بے توقیری کو روکنے کیلئے سخت قوانین کے فوری اطلاق کی بھرپور حمایت کی۔
    بیوروکریسی کے سنئیر افسران کو یقین کامل ہے کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ضرور ہوگا۔ سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ کا کہنا تھا کہ بہت جلد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نا صرف قانون شکن ٹک ٹاکر افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں گے بلکہ روٹیشن پالیسی کے تحت کئی سال سے ایک ہی صوبے اور وفاق میں تعیناتی کی بہاریں لوٹنے والوں کو بھی صوبہ بدر کریں گے۔

    کوئی بھی سرکاری افسر ذاتی سوشل میڈیا پیج یا اکاؤنٹ پر وردی، سرکاری دفتر اور آفیشل گاڑی سمیت سرکاری سرگرمیاں نہیں شئیر کرسکتا نہ ہی موٹیویشنل سپیکر اور رہمنائی کا ٹھیکیدار بن سکتا ہے۔ تمام سرکاری سرگرمیاں سرکاری پیج پر ہی شئیر کی جاسکتی ہیں، ذاتی ناموں سے قائم کردہ پیجز اور اکاؤنٹس پر سرکاری سرگرمیاں لگانا ناصرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی تھڑی ہوئی اور واحیات حرکت ہے۔ سرکاری پیجز پر اگاہی پیغامات والی پوسٹ میں سرکاری افسران کی تصاویر لگانا بھی شہرت کی بھوک کیلیے ہلکان ہونے کے مترادف ہے۔ آسان سا طریقہ ہے کہ ضلعی انظامیہ، کمشنر، آرپی او آفس یا جو بھی متعلقہ آفس ہے اس کا نام لکھا جائے نہ کہ عزت ماب جانب فلاں صاحب مع تصاویر۔

    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم ہو کون ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔

    وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ منتخب عوامی نمائندے اور وسائل کے امین ہیں تمام تر مثبت تشہیر کا حق صرف عوامی نمائندوں کا ہے نہ کہ سرکاری ملازمین۔

    چیف سیکرٹری پنجاب ناجانے کس مصلحت کی وجہ سے پنجاب کو بنانا ریپبک بنانے والے ٹک ٹاکر افسران کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہیں۔ چیف سیکرٹری کی ٹک ٹاکر افسران کی خلاف کاروائی نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے تمام اچھے کاموں کا کریڈیٹ افسران خود لیتے ہیں جبکہ ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ پر ڈال دیا جاتا ہے۔

    انہی حرکات کی وجہ سے آج بیوروکریسی گالی بن چکی ہے پاکستان کا ہر بچہ جوان اور بوڑھا بیوروکریسی سے نفرت کرنے لگا ہے بیوروکریسی کو وسائل پر قابض غندہ، بدمعاش اور لعین سمجھتا ہے۔گاڑی، ڈالے، دفاتر اور وردی پبلک سروس کیلئے ہے ناکہ تمہاری عیاشیوں اور سیلف پروجیکشن کیلئے۔عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔ایکٹنگ اور ماڈلنگ کی بات کی جائے تو ستھرا پنجاب کے ورکر سے لیکر ڈی سی اور کمشنر تک سپاہی سے لیکر ڈی پی او اور ایڈیشنل آئی جی تک وردی گاڑی اور کرسی کا فرق نہ ہو تو ایک جیسے آوارہ لونڈے لپاڑے لگتے ہیں۔اے سی، ڈی سی اور ڈی پی او تو ابھی بچے ہیں وہ شودے پن کی جہالت کا مظاہرہ کریں تو اتنی حیرت نہیں ہوتی لیکن جب کمشنر اور ڈی آئی جی لیول کے افسران سیلف پروجیکشن جیسی چھچھوری حرکتیں کرنے لگ جائیں تو پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے سنئیر افسران قابل تعریف ہیں جو سیلف پروجیکشن والی اس بے حیائی، بے غیرتی اور گھٹیاپن کے راستے سے اعلان لاتعلقی کرکے افسری کی Grace اور تقدس قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں خوش لباسی اور اخلاقی اقدار بیوروکریسی کی پہچان ہوتی تھی اس لیے آج بھی لوگ سنئیر افسران کا احترام کرتے ہیں جبکہ موجودہ اے سی، ڈی سی نیکر شرٹ پہن کر گرلز سکول اور نرسنگ ہاسٹل وزٹ کرتے ہیں،خواتین کے سکول کالج وزٹ کے بہانے تلاشتے ہیں جبکہ آئے روز شہریوں سے بدتمیزی کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

    مجھے حیرانگی ہے ان ٹک ٹاکر افسران پر جنہوں نے افسری کی عزت کی بجائے لچوں اور لفنگوں والا ٹک ٹاکری کا راستہ اپنایا۔
    قانون شکنو تم نے سوشل میڈیا پر دفاتر کھول لیے ؟
    بے شرمو تمہیں کسی قانون کا ڈر نہیں؟
    او ظالمو تم اس قدر فسطائیت پرست ہوچکے ہو کہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو؟
    جناب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ان ٹک ٹاکرز پر سول سرونٹ ایفیشینسی رولز اور پیڈا ایکٹ کی خلاف ورزی کی کاروائی کریں عوام کی پرائیویسی خراب کرنے پر پیکا ایکٹ کا پرچہ کٹوائیں۔
    اس میں کچھ شک نہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مترادف سرکاری افسران اپنی کرپشن، نااہلی اور تمام قانون شکن اقدامات کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا سہارا لیتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
    پولیس اور دیگر افسران سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔بیوروکریسی کے عزت دار افسران ناصرف سیلف پروجیکشن کے شدید خلاف ہیں بلکہ خود بھی ٹک ٹاکر افسران کو لعین سمجھتے ہیں۔بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چند افسران کو نوکریوں سے فارغ اور عہدوں سے ہٹانا ناگزیر ہے تاکہ باقی سب کو واضح پیغام دیا جائے کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔
    سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • بحریہ یونیورسٹی: علم، خواب، کامیابی اور امکانات کا روشن جہاں،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    بحریہ یونیورسٹی: علم، خواب، کامیابی اور امکانات کا روشن جہاں،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    کچھ ادارے صرف عمارتوں، کلاس رومز اور ڈگریوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان سے وابستہ یادیں وقت گزرنے کے باوجود دل کے کسی روشن گوشے میں محفوظ رہتی ہیں۔ میرے لیے بحریہ یونیورسٹی بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس سے میری بے شمار کھٹی میٹھی یادیں وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جامعہ کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک پورا سفر، ایک عہد اور ایک خوبصورت داستان تازہ ہو جاتی ہے۔

    بحریہ یونیورسٹی کا قیام سن 2000ء میں پاکستان نیوی کے زیر انتظام عمل میں آیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چارٹر ملنے کے بعد اس جامعہ نے مختصر عرصے میں پاکستان کی ممتاز جامعات میں اپنا مقام بنا لیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر E-8 میں واقع اس کا مرکزی کیمپس آج علم، تحقیق اور کردار سازی کا ایک اہم مرکز ہے، جبکہ ایچ الیون ۔نیول اینکریچ، کراچی اور لاہور کے کیمپس بھی ہزاروں طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
    جب میں اس جامعہ کی ترقی پر نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی ایک بیج سے تناور درخت بننے کی داستان ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ ادارہ اپنے محدود وسائل اور ایک عمارت کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر رہا تھا، مگر آج یہ ایک وسیع، متحرک اور ہمہ جہت تعلیمی دنیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ قائد بلاک، سر سید بلاک، اقبال بلاک، فاطمہ گرلز ہاسٹل، بزنس اسکول، بحریہ انوویشن سینٹر، سِک بے، اسٹوڈنٹس اسپورٹس سینٹر اور جہانگیر خان جمنازیم اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ ادارہ مسلسل ترقی اور بہتری کی راہ پر گامزن رہا ہے۔

    اس جامعہ کی نمایاں خصوصیت صرف اس کی جدید عمارتیں یا تعلیمی پروگرام نہیں بلکہ وہ نصابی اور ہم نصابی ماحول ہے جو طلبہ کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنسز، مینجمنٹ سائنسز، قانون، سماجی علوم اور دیگر شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ یہاں سے صرف ڈگری لے کر نہیں نکلتے بلکہ عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

    بحریہ یونیورسٹی کی ایک اور اہم خصوصیت اس کا بین الاقوامی معیار اور متنوع تعلیمی ماحول ہے۔ یہاں پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی زیرِ تعلیم ہیں، جو اس جامعہ کے عالمی معیار اور وسیع تعلیمی افق کی عکاسی کرتے ہیں۔ طلبہ کی علمی و پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مختلف اسکالرشپس، لیپ ٹاپ اسکیم، تحقیقی سرگرمیاں، تعلیمی مقابلے اور اسٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ مواقع نوجوانوں کو عالمی سطح پر سیکھنے، سوچنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
    بحریہ یونیورسٹی کا ایک نمایاں طرۂ امتیاز مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے افکار کے فروغ کے لیے اس کی مسلسل کاوشیں ہیں۔ جامعہ میں ہر سال قومی اور بین الاقوامی سطح کی اقبال کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں ملک و بیرونِ ملک سے ممتاز محققین، دانشور اور ماہرینِ اقبالیات شرکت کرتے ہیں۔ یہ علمی روایت نہ صرف اقبال کے پیغام کو نئی نسل تک منتقل کرتی ہے بلکہ تحقیق، مکالمے اور فکری بیداری کو بھی فروغ دیتی ہے۔اور اس سلسلے میں،اقبال چئیر کے نام سے ایک پورا ڈیپارٹمنٹ کام کر رہا ہے

    میری اس جامعہ سے وابستگی صرف ایک مشاہدے تک محدود نہیں۔ میرے اپنے گھر کی ایک کامیاب داستان بھی اس ادارے سے جڑی ہوئی ہے۔ میرا ایک بیٹا اسی جامعہ سے تعلیم حاصل کرکے ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوا اور آج ماشاءاللہ National University of Sciences and Technology (NUST) میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ اس کامیابی میں بحریہ یونیورسٹی کی تعلیم، تربیت اور رہنمائی کا نمایاں کردار شامل ہے۔ میرا دوسرا بیٹا بھی اسی ادارے میں زیرِ تعلیم ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ جامعہ اس کے خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    آج جب میں بحریہ یونیورسٹی کے پھیلتے ہوئے تعلیمی افق کو دیکھتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ننھا سا پودا وقت کے ساتھ ایک گھنے اور سرسبز باغ میں تبدیل ہو گیا ہو۔ اس باغ کی شاخوں پر علم، تحقیق، کردار، قیادت اور کامیابی کے بے شمار پھول کھلے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے مختلف کیمپس دن رات ایک بہتر تعلیمی معاشرہ تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔ یہ جامعہ محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ ایک ایسا روشن تعلیمی جہان ہے جہاں صلاحیتوں کو سمت ملتی ہے، خوابوں کو پرواز ملتی ہے اور امکانات کامیابیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ اس عظیم ادارے کو مزید ترقی، عزت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ اس کے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ کے علم و عمل میں برکت دے۔ بحریہ یونیورسٹی ہمیشہ علم کے چراغ روشن کرتی رہے، نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر دیتی رہے اور وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور فکری بالیدگی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔
    آمین۔
    بحریہ یونیورسٹی — جہاں خواب حقیقت بنتے

  • عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    ریاست کو ہمیشہ ماں کہا جاتا ہے۔ماں جو اپنے بچوں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے ان کی بھوک، پیاس، سانسوں اور خوابوں کی محافظ ہوتی ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی سب سے مقدس ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ مگر جب یہی ریاست اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے، تو پھر سڑکوں پر صرف حادثے نہیں ہوتے جنازے اٹھتے ہیں۔ضلع حویلی کہوٹہ کے علاقے خورشید آباد میں پیش آنے والا المناک حادثہ صرف ایک خبر نہیں سات ماؤں کا نوحہ ہے۔سات نوجوان، سات خواب، سات گھروں کے چراغ ایک لمحے میں بجھ گئے۔

    دوستوں کا یہ گروہ ہلاں آبشار کی سیر کے لیے گیا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے نکلے تھے مگر واپسی پر سفید کفنوں میں لپٹے لوٹے۔ واپسی کے دوران ان کا لوڈر رکشہ بے قابو ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے حویلی کی فضاؤں میں چیخیں گونج اٹھیں۔ ہر گلی ماتم کدہ بن گئی ہر دروازے پر کہرام برپا ہو گیا۔اور سوال یہ ہے کہ اُس وقت ہماری “ماں” ریاست کہاں تھی؟حضرت عمرؓ کا وہ قول آج بھی حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے جب آپ نے فرمایا تھا:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی پیاس سے مر جائے، تو عمر اس کا بھی جوابدہ ہو گا۔” مگر سات نوجوان تڑپ تڑپ کر جان دے گئے تو سوال یہ ہے کہ ان معصوم جانوں کا جوابدہ کون ہو گا؟کون ان ماؤں کے آنسوؤں کا حساب دے گا؟
    کون ان اجڑے گھروں کی خاموشیوں کا بوجھ اٹھائے گا؟
    اور کون قیامت کے دن ان بجھتے چراغوں کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کر سکے گا؟
    کیا زخمیوں کو بروقت ایمبولینس فراہم کی گئی؟

    اگر تمام سہولیات موجود تھیں تو پھر زخمی نوجوان نجی گاڑیوں اور ڈالوں میں ہسپتال کیوں منتقل کیے گئے؟ خون میں لت پت جسم، سڑک کنارے تڑپتی سانسیں، اور پیچھے خاموش کھڑی سرکاری مشینری یہ منظر کسی بھی حساس دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔دو نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ پانچ شدید زخمی حالت میں رات گئے ہسپتال پہنچائے گئے۔ مگر سوال اب بھی زندہ ہے:
    کیا انہیں بروقت طبی امداد ملی؟
    کیا ایمبولینسوں میں آکسیجن سلینڈر موجود تھے؟
    کیا ابتدائی طبی سہولیات دستیاب تھیں؟یا پھر ان کی سانسیں بھی سرکاری غفلت کے اندھیروں میں بجھ گئیں؟پانچ زخمیوں کو ادویات تک میسر نہ ہونا حادثہ نہیں ایک بے حس نظام میں کھلا قتل ہے۔

    یہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی المیہ ہے جو ہماری انتظامی بے حسی، ناکارہ نظام اور مردہ ضمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ریاست ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا کردار ادا کرنے لگے تو پھر بیٹے یوں ہی سڑکوں پر دم توڑتے ہیں۔گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ تو چیک کیے جاتے ہیں، مگر ان سرکاری ایمبولینسوں کی فٹنس کون دیکھتا ہے؟ان خطرناک سڑکوں پر حفاظتی بیرئیر کیوں موجود نہیں؟
    کیا یہاں انسان کی جان واقعی پتھروں سے بھی سستی ہو چکی ہے؟
    اور افسوس کی انتہا یہ ہے کہ انہی علاقوں سے منتخب ہو کر لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کرسی ملتے ہی اپنے ہی لوگوں کے زخم بھول جاتے ہیں۔ اقتدار تو مل جاتا ہے، مگر احساس مر جاتا ہے۔

    عید کے دوسرے دن جب ہر گھر میں خوشیوں کی روشنی تھی حویلی کے سات گھروں میں قیامت اتر آئی۔ ایک روزہ سوگ کا اعلان کر کے شاید ذمہ دار ادارے بری الذمہ ہو جائیں، مگر ان والدین کی زندگی اب ہمیشہ کے لیے سوگ بن چکی ہے۔ جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا وہ درد ہے جو انسان کو زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے دفن کر دیتا ہے۔ اولاد چند ماہ کی بھی ہو تو اس کا چھوٹا سا جنازہ باپ کے کندھے جھکا دیتا ہے اور یہاں تو سات گھروں کے سہارے ایک ساتھ چھین لیے گئے۔یہ دکھ، یہ ماتم، یہ المیے آخر حویلی کے نصیب ہی کیوں بنا دیے گئے؟

    ابھی عمر راٹھور معصوم کی ترازو کے نیچے دبی چیخوں کے زخم بھرے بھی نہ تھے کہ سات نئے زخم دلوں پر ثبت ہو گئے۔ اب ان گھروں میں عیدیں شاید کبھی پہلے جیسی نہ آئیں۔ ان کے دروازوں پر خوشیوں کے بجائے خاموشیاں دستک دیں گی۔ جنہوں نے اپنا جگر کا ٹکڑا کھویا ہو صرف وہی اس اذیت کو محسوس کر سکتے ہیں۔
    اور ایک سوال دل کو چیر دیتا ہے۔۔
    اگر ان نوجوانوں کی جگہ کسی وزیر، مشیر یا بااختیار شخصیت کے بچے ہوتے تب بھی کیا یہی ہوتا؟
    کیا تب بھی ایمبولینسیں دیر سے پہنچتیں؟
    کیا تب بھی سڑکوں پر حفاظتی انتظامات نہ ہوتے؟
    کیا تب بھی خاموشی چھا جاتی؟
    ہم صرف مظلوم نہیں، کہیں نہ کہیں ظالم بھی ہیں
    ظالم اس لیے کہ ہم خاموش ہیں۔ہم لاشیں گنتے ہیں، چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلے سانحے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔محکمہ صحت کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ان سڑکوں پر ہونے والے کام کی حقیقت بھی سامنے آنی چاہیے۔ کہیں یہ ترقی بھی مظفر آباد کے فلائی اوور جیسی تو نہیں، جو نام کا منصوبہ اور حقیقت میں کھنڈر ثابت ہوا؟

    اور اگر واقعی ہم ایسے سانحات کو روکنا چاہتے ہیں تو صرف افسوس اور تعزیتی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ خطرناک سڑکوں پر مضبوط حفاظتی بیرئیر نصب کیے جائیں، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے سیاحتی مقامات پر ریسکیو مراکز اور مکمل سہولیات سے آراستہ ایمبولینسیں ہر وقت موجود ہوں۔ ڈرائیورز کی تربیت اور گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس چیکنگ کو یقینی بنایا جائے اور حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ کیونکہ حادثات صرف قسمت سے نہیں ہوتے اکثر غفلت بھی جانیں لے لیتی ہے۔
    خدارا اب تو بولو!
    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
    کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید ہماری باری ہو۔

  • پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،
    دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، دفاعی جدیدکاری اور بازدارانہ حکمتِ عملی کے ماہر، نیز ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    بحیرۂ عرب کا تزویراتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بحرِ ہند کے خطے (IOR) میں بڑھتی ہوئی بحری رقابت، بھارت کی بلیو واٹر نیوی کی توسیع پسندانہ خواہشات، اور سمندر سے حاصل ہونے والی بازدارانہ صلاحیت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے پاکستان نیوی کو اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں میں سب سے اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث موضوع پاکستان کے ساحلی دفاعی راکٹ اور میزائل نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن ہے، جسے غیر رسمی طور پر “منی نیول راکٹ فورس” بھی کہا جاتا ہے۔

    دفاعی حلقوں اور علاقائی عسکری تجزیوں کے مطابق پاکستان اپنی ساحلی دفاعی رسائی کو تقریباً 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے شمالی بحیرۂ عرب میں بحری جنگ کے عملی خدوخال تبدیل ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کے ساحلی دفاعی نظریے کا ارتقا*
    تاریخی طور پر پاکستان کی بحری حکمتِ عملی مہنگی طاقت کے اظہار (Power Projection) کے بجائے دفاعی نوعیت کے “Sea Denial” پر مبنی رہی ہے۔ بھارتی بحریہ کے مقابلے میں وسائل اور بجٹ کی محدودیت کے باعث پاکستان نے درج ذیل شعبوں پر سرمایہ کاری کی:

    * تیز رفتار حملہ آور کشتیاں
    * اینٹی شپ میزائل سسٹمز
    * آبدوزی جنگی صلاحیت
    * ساحلی میزائل بیٹریاں
    * بحری نگرانی اور انٹیگریٹڈ سرویلنس

    اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ دشمن بحری افواج کو پاکستان کے ساحل اور اہم بحری تنصیبات کے قریب آزادانہ کارروائی سے روکا جائے۔

    اس نظریے کی اہمیت مزید بڑھ گئی جب
    * بھارت نے اپنے کیریئر بیٹل گروپس میں اضافہ کیا،
    * طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے بحری طیارے تعینات کیے،
    * براہموس میزائل کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کیا،
    * اور بحرِ ہند میں بھارت اور امریکہ کے بحری تعاون میں اضافہ ہوا۔

    نتیجتاً پاکستان کو ایک ایسی کثیر پرت (Layered) اینٹی ایکسس/ایریا ڈینائل (A2/AD) صلاحیت کی ضرورت محسوس ہوئی جو دشمن بحری بیڑوں کے لیے بھاری قیمت کا باعث بن سکے۔

    300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر: اس کی اہمیت کیا ہے؟
    ساحلی حملہ آور صلاحیت کو 500 کلومیٹر تک بڑھانا جنگی ماحول کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔
    300 کلومیٹر کی حد تک ساحلی دفاع بنیادی طور پر تحفظ فراہم کرتا ہے
    * کراچی کے بحری راستوں کو،
    * گوادر کے قریب سمندری علاقوں کو،
    * اہم بندرگاہوں کو،
    * اور ساحل کے قریب موجود بحری اثاثوں کو۔

    جبکہ 500 کلومیٹر کی رسائی پاکستان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ
    * دشمن جہازوں کو بحیرۂ عرب کے زیادہ اندر تک نشانہ بنایا جا سکے،
    * بحری بازدارانہ صلاحیت میں اضافہ ہو،
    * میزائل انگیجمنٹ زونز ایک دوسرے سے جڑ جائیں،
    * سمندری تجارتی راستوں کا بہتر تحفظ ممکن ہو،
    * اور دشمن کے کیریئر گروپس کی کارروائیاں پیچیدہ بن جائیں۔

    عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن بحری کمانڈروں کو پاکستان کی سمندری حدود کے قریب پہنچنے سے بہت پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کے خطرے کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

    جدید بحری جنگ میں انضمام
    جدید بحری جنگ صرف پلیٹ فارمز کی جنگ نہیں رہی بلکہ اب یہ نیٹ ورک سینٹرک جنگ بن چکی ہے۔ آج کے ساحلی میزائل سسٹمز انحصار کرتے ہیں
    * اوور دی ہورائزن ٹارگٹنگ پر،
    * سیٹلائٹس پر،
    * میری ٹائم پیٹرول طیاروں پر،
    * ڈرونز پر،
    * الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز پر،
    * اور ریئل ٹائم ڈیٹا فیوژن پر۔

    دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون غالباً پاکستان کی مدد کر رہا ہے:
    * ہدف کے حصول میں،
    * میزائل رہنمائی کے نظام میں،
    * ساحلی ریڈار نیٹ ورکنگ میں،
    * اور مربوط بحری نگرانی میں۔

    ممکنہ مقصد ایک ایسا مربوط “Kill Chain” تشکیل دینا ہے جو درج ذیل اجزاء کو آپس میں جوڑ دے:
    1. بحری نگرانی کے ذرائع
    2. ساحلی کمانڈ مراکز
    3. میزائل لانچ بیٹریاں
    4. بحری فضائیہ
    5. آبدوزی قوت

    اس قسم کا انضمام حملہ آور صلاحیت اور بقا دونوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    “منی نیول راکٹ فورس” کا تصور
    اگرچہ “منی نیول راکٹ فورس” کوئی سرکاری اصطلاح نہیں، لیکن تزویراتی اعتبار سے یہ ایک اہم تصور ہے۔ یہ ساحلی دفاع کے روایتی جامد نظام سے نکل کر ایک متحرک، نیٹ ورکڈ اور درست نشانہ لگانے والی قوت میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس میں شامل ہو سکتے ہیں:
    * ٹرک پر نصب اینٹی شپ میزائل لانچرز،
    * طویل فاصلے تک مار کرنے والی ساحلی راکٹ آرٹلری،
    * موبائل کمانڈ گاڑیاں،
    * دھوکہ دہی (Decoy) سسٹمز،
    * اور تیز رفتار مقام کی تبدیلی کی صلاحیت۔

    متحرک لانچر اس لیے اہم ہیں کیونکہ مستقل ساحلی تنصیبات پیشگی فضائی یا میزائل حملوں کا آسان ہدف بن سکتی ہیں۔

    یہ تصور ان نظریات سے مشابہت رکھتا ہے جو
    * چین،
    * ایران،
    * اور دیگر چھوٹی بحری ریاستیں
    غیر متناسب بازدارانہ حکمتِ عملی کے طور پر اپناتی جا رہی ہیں۔

    بحیرۂ عرب پر تزویراتی اثرات
    500 کلومیٹر تک مؤثر ساحلی دفاعی صلاحیت کے کئی اہم نتائج ہو سکتے ہیں:
    1۔ گوادر کا بہتر تحفظ
    گوادر بندرگاہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک اہم ستون ہے۔ وسیع میزائل کوریج سے تحفظ ملے گا:
    * تجارتی جہاز رانی کو،
    * توانائی کی سپلائی لائنز کو،
    * بحری لاجسٹکس کو،
    * اور مستقبل کی بحری تنصیبات کو۔

    2۔ کیریئر بیٹل گروپس کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
    طیارہ بردار بحری جہاز محفوظ فاصلے سے کارروائی پر انحصار کرتے ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل ان کی آپریشنل منصوبہ بندی کو زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

    3۔ دوسری جوابی ضرب (Second Strike) کے ماحول کو مضبوطی
    پاکستان کی بحری بازدارانہ حکمتِ عملی بتدریج ایسی صلاحیتوں کی جانب بڑھ رہی ہے جو دوسری جوابی ضرب کی بقا کو یقینی بنائیں۔ ساحلی دفاعی نظام بحری اثاثوں اور سمندر میں موجود بازدارانہ قوت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

    4۔ کم لاگت میں مؤثر غیر متناسب دفاع
    طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعمیر اور دیکھ بھال انتہائی مہنگی ہے، جبکہ ساحلی میزائل سسٹمز نسبتاً کم لاگت میں بڑی بحری طاقتوں کے خلاف مؤثر بازدارانہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنجز
    ترقی کے باوجود کئی چیلنجز باقی ہیں
    * انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) میں خلا،
    * بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار،
    * سیٹلائٹ صلاحیتوں کی محدودیت،
    * الیکٹرانک وارفیئر کے خطرات،
    * اور مقامی میزائل پیداوار کی محدود گہرائی۔

    صرف میزائل کی رینج بڑھا دینا کافی نہیں، جب تک:
    * قابلِ اعتماد ٹارگٹنگ سسٹمز،
    * محفوظ مواصلاتی نظام،
    * اور جنگی حالات میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچہ
    موجود نہ ہو۔

    وسیع علاقائی تناظر

    بحرِ ہند تیزی سے عسکری نوعیت اختیار کر رہا ہے۔ اس خطے میں:
    * بھارت،
    * چین،
    * امریکہ،
    * اور خلیجی بحری قوتوں
    کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت علاقائی بحری نظریات کو نئی شکل دے رہی ہے۔

    اس ماحول میں پاکستان کی بحری جدیدکاری محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ بحیرۂ عرب میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔

    نتیجہ
    پاکستان کی جانب سے ساحلی دفاعی رسائی کو 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی کوشش بحری بازدارانہ حکمتِ عملی میں ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ساحلی میزائل فورسز کی جدیدکاری، نگرانی کے مربوط نظام، اور متحرک اینٹی شپ حملہ آور صلاحیتوں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی اکیسویں صدی کی بحری جنگ کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔

    بڑی بحری طاقتوں سے روایتی انداز میں مقابلہ کرنے کے بجائے پاکستان اپنی غیر متناسب بحری حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، جس کا مرکز سمندری انکار (Sea Denial)، بقا (Survivability) اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت ہے۔

    اگر یہ تمام صلاحیتیں ایک جامع A2/AD نظام میں مؤثر طور پر ضم کر دی جائیں تو یہ جدید ساحلی دفاعی نیٹ ورک شمالی بحیرۂ عرب میں آپریشنل توازن کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستان کی بحری تزویراتی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

  • دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نازک موڑ پر سفارتی تعطل اور جنگی خطرات میں اضافہ

    امریکہ، ایران اور روس تنازع عالمی امن کو نئے چیلنجز درپیش

    بڑھتی کشیدگی، کمزور سفارت کاری دنیا کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک غیر یقینی، بے اعتمادی اور طاقت کے توازن کی نئی جنگ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں رومینیا میں روسی ڈرون گرنے کے واقعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ رومینیا یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ملک ہے۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق یہ براہِ راست مکمل جنگی حملہ نہیں بلکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک ڈرون واقعہ بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔

    میری رائے میں مسئلہ صرف جنگوں کا نہیں، بلکہ قیادت کے بحران کا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اب فوری حل کے بجائے “اسٹریٹجک انتظار” کی پالیسی پر چل رہی ہیں۔ امریکہ، جو خود کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھتا ہے، اسے صرف ردعمل نہیں بلکہ پیشگی سفارت کاری، مؤثر مذاکرات اور تنازعات کے مستقل حل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ایران کے ساتھ معاہدہ مسلسل تعطل کا شکار ہے، مشرقِ وسطیٰ میں بے یقینی موجود ہے، روس اور یوکرین کی جنگ پورے یورپ کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ خطے کے کئی دیگر تنازعات بھی حل طلب ہیں۔

    حیرت ہے اگر ایک معاملہ حل نہیں ہو رہا تو دوسرا محاذ کھل جاتا ہے۔ یہی صورتحال عالمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ کہیں جنگ بندی پائیدار نہیں، اور کہیں سفارت کاری سیاسی مفادات کی نذر ہو رہی ہے۔ دنیا میں طاقت تو موجود ہے، مگر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔

    لیکن یہاں ایک احتیاطی نقطہ بھی ضروری ہے: ہر واقعہ کو فوری طور پر “عالمی جنگ” کا آغاز سمجھنا شاید درست نہ ہو۔ اکثر اوقات سرحدی یا جنگی سیکیورٹی اور سیاسی تناؤ بڑے بحران کا اشارہ تو ہوتے ہیں، مگر عالمی طاقتیں انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ رومینیا کے معاملے پر نیٹو نے سخت ردعمل دیا ہے، مگر ساتھ ہی کشیدگی کو مکمل جنگ میں بدلنے سے بچنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

    دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں انا، سیاسی مفادات اور طاقت کے کھیل سے اوپر نہ اٹھیں تو چھوٹے واقعات بڑے تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ امریکہ سمیت عالمی قیادت کو سنجیدہ، دوراندیش اور فوری سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، ورنہ دنیا امن سے زیادہ خوف، غیر یقینی اور تقسیم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

  • محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان ،تحریر: بینا علی

    محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان ،تحریر: بینا علی

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے!!
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا!!

    عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے؛ ایسے افراد کے لیے تاریخ کو مدتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی بے مثال ذہانت، محنت اور حب الوطنی سے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
    آپ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور یہاں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یورپ کا رخ کیا جہاں آپ نے فزکس کے میدان میں اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوایا۔ بعد ازاں آپ نے یورپ میں ہی ملازمت شروع کر دی جہاں جدید سائنسی علوم خصوصاً ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت حاصل کی۔جب بھارت نے ایٹمی تجربات کیے تو آپ یورپ ہی میں مقیم تھے، مگر وطنِ عزیز کی سلامتی آپ کے دل کے نہایت قریب تھی۔ آپ نے فوراً پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ممکن وسائل فراہم کیے۔ آپ کی شبانہ روز محنت، عزمِ صمیم اور انتھک جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان نے مختصر عرصے میں ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی۔

    بالآخر 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے، جس کے ساتھ ہی پاکستان دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا اور اسے یومِ تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
    ڈاکٹر عبد القدیر خان نہ صرف ایک عظیم سائنس دان تھے بلکہ ایک سچے محبِ وطن بھی تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خلوصِ نیت، محنت اور عزم کے ساتھ کوئی بھی مشکل ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج بھی قوم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں ہمیشہ فخر و احترام کے ساتھ یاد کرتی رہے گی۔

  • دکھوں کے بیچ لکھی گئی عید،تحریر: بینا علی

    دکھوں کے بیچ لکھی گئی عید،تحریر: بینا علی

    کچھ عرصے سے دلی کیفیت ایسی ہے کہ کچھ المیے، کچھ سانحے، اپنی جڑیں دل کے ساتھ دماغ میں بھی پیوست کر جاتے ہیں۔ اور کچھ کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ زیرِ تحریر لانا بھی محال ہو جاتا ہے۔ گذشتہ ہفتے میں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے جنہوں نے دلی طور پر بہت اداس کر دیا، اور ان گونگے جذبات کو لفظوں کے ذریعے زبان ملتی رہی۔ یقین جانیےبجب کسی کے درد کو تحریر کرتی ہوں تو لفظ خود نشتربن کر مجھے کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ تب سوچتی ہوں کہ اس درد سے گزرنے والوں کے لیے کتنی اذیت ہوتی ہو گی۔

    کوئٹہ میں خودکش دھماکے میں عورتوں، بچوں سمیت 47 شہری شہید اور تقریباً سو زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں 20 فوجی جوان بھی شامل تھے۔ کل ہی یکے بعد دیگرے دو واقعات نے دل چیر دیا: ایک بزرگ کو بیوپاری نے نقلی نوٹ دے کر جانور لے لیا۔ جب وہ اشیائے خوردونوش خریدنے گئے تو پیسے جعلی نکلے۔ اس بزرگ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ رہا۔

    دوسرا واقعہ یہ کہ ایک ڈرائیور نے جرمانے اور گاڑی ضبطگی کے خوف سے، گاڑی میں بیٹھے اہلکار سمیت کوسٹر کو دریا بُرد کر دیا۔ کوسٹر دریا بُرد ہوئی اور بمشکل دونوں کی جان بچائی جا سکی۔ اور شہر مظفرآباد میں ہی ایک بزرگ نے قربانی کے جانور فروخت کیے۔ سگا بیٹا تین لاکھ روپے لے کر فرار ہو گیا اور بزرگ در بدر سڑکوں پر پھرتے رہے کرایے کے پیسے بھی نہیں تھے۔تہوار ہمیشہ سے ان لوگوں کے لیے مشکل رہے ہیں جنہوں نے اپنے جاں سے پیارے رشتے کھو دیے۔ ہم ہنستے، بولتے، کھاتے پیتے ہیں بس جیتے نہیں۔ عمر راٹھور کے ساتھ انصاف کی دہلیز پر ہونے والی بے انصافی۔ اس کا چہرہ نہیں ہٹتا۔ اس کی تکلیف ان لفظوں سے کہیں بڑھ کر ہے جو لفظ بیان کر سکتے ہیں۔ پانچ سال میں یہ پہلی عید ہے جس پر مجھے اپنا نوحہ، اپنا دکھ ہی یاد نہیں رہا۔ جب شوہرِ محترم کہتے ہیں کہ “آپ بہت بدل گئی ہو” تو میں ان سے یہی کہتی ہوں:
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا!!
    راحتیں اور بھی ہیں، وصل کی راحت کے سوا!!
    آپ سب کو پھر بھی، دل کی گہرائیوں سے، عید الاضحیٰ مبارک ہو۔