Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ .تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ .تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    جب مکہ فتح ہوا اور کفارِ قریش کے سرداروں کے دل جھکنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دل بھی نورِ ایمان سے روشن ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کی اور دینِ حق میں داخل ہو کر اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ رسول مقبول ﷺ نے ان پر اعتماد کیا،اتنا اعتماد کیا کہ انہیں مقربین میں شامل کرلیا ، یہاں تک کہ انہیں کاتبِ وحی مقرر کردیا۔ یہ کوئی عام منصب نہ تھا، یہ وہ ذمہ داری تھی جو اللہ کے کلام کو زمین پر محفوظ کرنے کے لیے سونپی جاتی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ شخص جس کے ہاتھ سے وحیِ الٰہی لکھی جائے،سبحان اللہ اس کے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا ایمان کس اعلیٰ درجے کا ہوگا ،اس کی امانت، دیانت اور پاکیزگی کیسی ہوگی؟اور ان کے دل میں رسول اللہ اور اہل بیت اطہار کی کیا عظمت ومقام ہوگا۔؟
    رسول مقبول ﷺ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتب وحی مقرر فرمایا بلکہ انھیں اپنے مقرب ترین صحابہ میں شامل کیا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی۔ دعا کیا تھی؟ کوئی دعا نہ تھی بلکہ ایک عطا۔۔۔ ایک سند۔۔۔اورایک گواہی تھی : "اللھم الجعلہ ھادیا مھدیا واھد بہ یعنی اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ۔۔۔اللہ تعالیٰ اور پیغمبر آخر الزمان جناب محمد رسول ﷺ کے محبوب تھے، اور امت کے لیے ذریعہ ہدایت تھے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امت کے لیے خدمات تاریخ کا ایک شاندار ، ایمان افروز اور سنہرا باب ہے۔یہ باب اپنے اندر فتوحات اور جرات وبہادری کے اسباق لیے ہوئے ہے۔ ان کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کی پہلی بحری فوج بنائی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان سمندروں میں جانے سے گھبراتے تھے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں سے یہ خوف نکالا اور انہیں یہ بتایا کہ اسلام نہ صرف خشکی پر بلکہ سمندر پر بھی غالب آ سکتا ہے۔ انہوں نے قبرص فتح کیا، بحری بیڑے کو مضبوط کیا، اور دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حلم و بردباری تھی۔ ان کے دشمن گالی دیتے، مگر وہ خاموش رہتے۔ ایک بار کسی نے ان سے بد زبانی کی، تو آپ نے فرمایا : اگر میں بدلہ لوں تو تم خوش ہو جاو گے، اگر میں معاف کر دوں تو میرا رب راضی ہو جائے گا، اور میں اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ وہ جواب تھا جو صرف وہی دے سکتا ہے جس کا دل معرفت ومحبت الٰہی اور تقویٰ سے لبریز ہو، اور جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر امت کے نفع کے بارے میں سوچتا ہو۔
    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کادور خلافت۔۔۔۔ تاریخ اسلام کا مستحکم، طاقتور اور پرامن دور مانا جاتا ہے۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ رعایا مطمئن، عدالتیں فعال اور دشمن خاموش تھے۔ آپ نے شریعت کی روشنی میں نظام حکومت چلایا اور اہل علم کو عزت دی۔ ان کا طرزِ حکمرانی آج بھی حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    دور حاضر میں کچھ ناعاقبت اندیش جن کے دل در حقیقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بغض سے بھرے ہوئے ہیں وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے یزید کو ولی عہد بنانے یا امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف و غیرہ کی آڑ میں سیدنا امیر معاویہ پر تبصرے اور تجزیہ کے نام پر زبان طعن دراز کرتے ہیں،کیا وہ اہل سنت والجماعہ کا موقف نہیں جانتے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم امجعین کے درمیان جو اختلافات ہوئے، وہ اجتہادی تھے، ذاتی مفاد پر مبنی نہ تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو بھی کیا وہ امت کے اتحاد، عدل اور فتنہ سے بچاو کی نیت سے کیا اور نیت پر اللہ گرفت نہیں کرتا، بلکہ عمل اور نتیجہ بھی نیت سے پرکھا جاتا ہے۔اور سب سے بڑھکر جب اللہ رب العزت والجلال نے انہیں قرآن کریم میں اپنی رضامندی کی سندیں عطا کردیں انہیں فائزون قرار دے دیا ، انہیں مفلحون کے لقب سے نواز دیا انہیں راشدون کا سرٹیفکیٹ عطا کردیا انہیں السابقون الاولون کے مقام پر فائز کردیا۔ ان کے دلوں کو کائنات کے بہترین دل قرار دے دیا۔پھر دور حاضر کے خود ساختہ تجزیہ نگاروں ، کی تبصروں اور تجزیہ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے وہ دراصل بغض صحابہ کی بدترین بیماری میں مبتلا ہیں ، اور اپنا خبث باطن چھپا نہیں پارہے اس لیے سیدنا امیر معاویہ کو نشانہ بنا کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں ، جس میں نہ آج تک کامیاب ہوئے ہیں کہ کبھی کامیاب ہونگے کیونکہ امام الانبیاءنے انکو خیر القرون کی سند جاری کردی ہے۔

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات 60 ہجری میں دمشق میں ہوئی۔ ان کی وفات صرف ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک دور کا اختتام تھا۔۔۔۔ایک ایسا دور جو عدل، حکمت، حلم، اور فہم سے مزین تھا۔ علماءکرام و محدثین عظام نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی تعریف کی ہے۔ امام احمد بن حنبل، امام ذہبی، امام ابن کثیر، امام ابن تیمیہ، امام غزالی سب نے ان کی مدح کی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے امت کو علم کے نور سے روشن کیا اور ان کی گواہی آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایمان پر ایمان رکھنا، ان سے محبت کرنا، ان کے مناقب بیان کرنا صرف محبت نہیں ایک مسلمان کے عقیدہ کا جزو لازم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے ا صحاب کو گالی نہ دو، کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرو، ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اتحاد امت کے داعی ، کاتب وحی ، رسول اللہ کے مقرب ، اہل ایمان کے خال ( ماموں ) فتنوں کو دبانے والے ،آپ کی زندگی قرآن و سنت کی روشنی سے منور اور آپ کی حکمرانی امت کے لیے باعثِ رحمت تھی۔ آپ پر اعتراض تبصرے یا تجزیے کرنے والا عالم نہیں، جاہل اور متعصب ہے, اس کا ایمان مشکوک ہے۔ اور آپ سے محبت کرنے والا صاحب ایمان ہے،
    اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت اطہار، تمام صحابہ کرام ، بالخصوص سیدنا علی ابی طالب ، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھم کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان فتنہ انگیز زبانوں سے محفوظ رکھے جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے، یہی راہِ اعتدال ہے، اور یہی راستہ ایمان کی خوشبو سے لبریز ہے۔

  • حمیرا اصغر کی موت، قومی میڈیا سے سوشل میڈیا کا کردار،تحریر:دعا مرزا

    حمیرا اصغر کی موت، قومی میڈیا سے سوشل میڈیا کا کردار،تحریر:دعا مرزا

    اس وقت حمیرا اصغر کے فون لاک کھل جانے کی خبر سب سے بڑی قومی خبر ہے، ہر گھنٹے بعد فون اٹھائے ہر کوئی انتظار کر رہا ہے کہ فون میں کیا کچھ نکلے گا دوسری طرف حمیرا کی بھابھی کو بھی اس کی موت سے سہارا مل گیا ہے کہ وہ اپنی داد رسی کیلئے ہر چینل پر نظر آرہی ہیں ۔

    یوٹیوبرز کو تھمب نیل کے فن اور ان کے آنسوؤں سے اس مہینے ڈالرز بھی ٹھیک ٹھاک آجائیں گے، عائشہ آپا کی 15 روز پرانی لاش نے اب حمیرا کی 9 ماہ پرانی لاش کی جگہ لے لی ہے، میں نے کئی لوگوں کو یہ بھی تجزیہ کرتے ہوئے سنا کہ عائشہ آپا تو چلو بوڑھی تھیں بے چاری مگر یہ تو خوبرو دوشیزہ تھی ہائے اس کا جانا نہیں بنتا تھا۔ میں ایک لمحے کیلئے یہ سوچنے لگی کہ بس اتنی سی بات ہے انسان اور انسانیت تو کہیں پیچھے رہ گئی، کسی کو یاد بھی ہے عائشہ یوسف ؟ نور مقدم ، سارہ انعام اور ایسی کئی کہانیاں جو وقت کے ساتھ مدھم ہوگئیں، ان کے ساتھ بھی تو ہم نے یہی کچھ کیا تھا، کیا اس کے بعد واقعات رونما نہیں ہوئے ؟

    اصل مدعا تو یہ ہے کہ ہم وجہ جاننا ہی نہیں چاہتے ، ہمارے اندر باہر بے حسی ہے ، ہم سراپا نقصان ہیں ، بے چین ہیں ، نفسا نفسی کا عالم ہے کہ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں، مرنے والوں پر ماتم کا ڈھونگ اور زندہ لوگوں پر زمین تنگ کرنے کا رواج عام ہوچکا ہے، اگر میں یوں کہوں کہ اب ایسے سوانح ایک خبر سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہیں تو شاید غلط نہیں ہے۔ حمیرا کی خبر سنتے ہی نیوز گروپ میں ان کی ویڈیو پر نظر پڑی تو مجھے اچانک لگا کہ یہ میں بھی ہوسکتی تھی، میں گہری سوچ میں چلی گئی میرے ساتھ بیٹھی ایک خاتون سے میں نے کہا یار میری ٹانگیں کانپ رہی ہیں پتہ نہیں کیوں اس سے پہلے ہم حمیرا پر بات کر رہے تھے اس نے بڑی لاپرواہی سے موبائل میں ریلز دیکھتے ہوئے کہا گرم سرد ہوگیا ہوگا موسم بھی ایسا ہے ناں اور پھر وہ مجھے کوئی اور قصہ سنانے لگی۔

    ایک اورخاتون کی ویڈیو کا تھمب نیل دیکھا تو بہت تکلیف ہوئی، انہوں نے اس کو زنا بالجبر کہہ دیا تھا حالانکہ انہی کو گزشتہ مہینے لاہور ہائیکورٹ نے ایسے غلیظ تھمب نیلز اور کانٹینٹ پر اچھی خاصی ڈانٹ پلائی تھی اور تحریری معافی کے ساتھ عہد بھی لیا تھا مگر ڈالرز کا نشہ ہے کیا کیجیے، بس جس کو جو ملا اس نے وہ بیچا۔پھر ایک صحافی نے سب بے بڑی خبر بریک کر کے بتایا کہ حمیرا کا فون ان لاک کر لیا گیا ہے اور قاتل کا پتہ لگا لیا گیا ہے اس کی لوکیشن میر پور خاص تھی اور پھر اس فلیٹ میں تھی، ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ200 وائس نوٹ اور 439 ویڈیوز ہیں جو دیکھنے کے قابل نہیں ہیں اس لئے ان کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

    جو رہا سہا رحم کسی کے ذہن میں آ بھی سکتا تھا وہ بھی گیا اب جب کبھی اس واقعے کا ذکر کرکے کوئی سبق حاصل کرنا بھی چاہے تو اس کو کبھی اس کے کردار اور کبھی اس کے انڈسڑی میں آنے پر اعتراض لگا کر اسکی موت پر مزاق بنایا جائے گا، وقوعہ سانحہ بننے کی بجائے موت برحق اور انجام ایسا ہی ہوتا ہے تک رہ جائے گا۔سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ رہی کہ انٹرویوز میں حمیرا اصغر کے نام کے ساتھ جمع کا صیغہ استعمال کرنے کی بجائے انتہائی بدتمیزی سے ان سے دوستوں سے ان کے بارے میں اس کہہ کر تذکرہ کیا گیا پھر ان کی لاش لینے جب ان کے بھائی پہنچے تو وہاں موجود ہر شہری اور مائیک تھامے صحافی نے ان کا ایسے احتساب کیا گویا کھلی کچہری لگی ہو بہت سوں نے تو فیصلہ بھی جاری کیا کہ ان کو لاش دینی ہی نہیں چاہیے تاہم لاش کو کراچی سے لاہور منتقل ہونے تک کئی چہ مگوئیاں سامنے آئیں۔

    ہر آدھ پونے گھنٹے بعد ایک نئی بات ان سے منسوب سامنے آتی، کسی نے قتل کی پیش گوئی کی اور کوئی ان کو نشے کا عادی کہتا رہا کسی کے مطابق ان کو زبردستی ہمبستری کا کہا گیا بس یہ کہیں کہ جس نے جہاں تک ہوا غلاظت کا سامان کیا۔پولیس کے مطابق ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے جواس واقعے کی تحقیقات کر کے موت کی وجہ جاننے کی کوشش کرے گی البتہ تب تک مردہ جسم کو قبر سے نکال کر کب تک ہم تماشہ بنائیں گے اس کا تعین کرنا فی الحال مشکل ہے۔

    یہ وقت جہاں ہر شخص کو معاشرتی بگاڑ سے متعلق سنجیدہ ہو کر سوچنے کا ہے وہیں پر بے لگام کرائم رپورٹرز کو اب ذرا سنبھلنے کی ضرورت ہے کیونکہ معاشرے کی گھٹن میں کانٹینٹ سانس کا سا کام کرتا ہے ۔

  • ایران ،چین فضائی دفاعی معاہدہ: امریکی بالادستی کے لیے دھچکہ،تحریر: ناصر اسماعیل

    ایران ،چین فضائی دفاعی معاہدہ: امریکی بالادستی کے لیے دھچکہ،تحریر: ناصر اسماعیل

    ایران کی جانب سے جدید چینی فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی حالیہ تصدیق عالمی جغرافیائی سیاست میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امریکی غلبے کو مزید چیلنج کرتی ہے اور ایک ابھرتی ہوئی کثیر قطبی عالمی ترتیب کو تقویت دیتی ہے۔ تجزیہ نگار کارل ژا، برائن برلیٹک، ڈینی ہائی فونگ اور کے جے نوہ نے اس پیش رفت کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے نہ صرف ایران کی اسٹریٹجک ازسرنو صف بندی کو اجاگر کیا بلکہ امریکی و اسرائیلی عسکری حکمت عملی کی بڑھتی ہوئی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔

    ### *ایران کے لیے ایک اسٹریٹجک سہارا*
    ایران کا فیصلہ کہ وہ چینی سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز (SAMs) حاصل کرے گا—جو بظاہر تیل کے بدلے میں فراہم کیے جائیں گے—اس وقت آیا جب اسرائیلی فضائی حملوں نے اس کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ چین کی صنعتی صلاحیت کی بدولت فوری ترسیل ممکن ہو سکی ہے، اور اب تہران اپنے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول مزائل لانچ سائٹس، کو بہتر طور پر محفوظ بنا سکتا ہے۔ یہ اقدام ایران کے بیجنگ اور ماسکو کی طرف جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ مغربی پابندیاں اور امریکی دشمنی نے اس کے دیگر راستے محدود کر دیے ہیں۔

    ### *امریکہ اور اسرائیل کی کمزوریاں بے نقاب*
    اس بحث میں امریکی اتحادوں کی سب سے بڑی کمزوری یعنی سپلائی چین کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ امریکہ یوکرین کے لیے بھی کافی پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے سے قاصر ہے، چہ جائیکہ وہ بیک وقت روس، ایران اور چین سے محاذ آرائی کرے۔ اسرائیل کو بھی حالیہ حماس اور حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اپنے انٹرسیپٹر ذخائر کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس، چین کی نایاب ارضی عناصر (rare earth elements) پر اجارہ داری، جو جدید اسلحے کے لیے لازم ہیں، مغربی عسکری پیداوار کے لیے طویل المدتی خطرہ بن چکی ہے، خاص طور پر جب بیجنگ نے ان کے برآمدی ضوابط کو مزید سخت کر دیا ہے۔

    ### *کثیر قطبی اتحادوں میں نیا تقسیم کار نظام*
    امریکہ کے برعکس، جو ہتھیاروں کی فروخت کے ساتھ سیاسی شرائط بھی منسلک کرتا ہے، چین کا "بے شرائط” ماڈل شراکت داری کو مضبوط بناتا ہے۔ ایران کا مہنگے لڑاکا طیاروں کے بجائے مؤثر اور کم قیمت فضائی دفاعی نظام پر توجہ دینا ایک عملی حکمت عملی ہے، جو ایک تھکا دینے والی جنگی صورتحال کے تجربے سے اخذ شدہ ہے۔ اگرچہ روس یوکرین میں مصروف ہے، وہ اب بھی ایران کا اہم پارٹنر ہے، لیکن چین کی مرکزی اسلحہ سپلائر حیثیت ایک وسیع تر ازسرنو صف بندی کی علامت ہے۔

    ### *تاریخی تسلسل اور مستقبل کی جنگیں*
    صدیوں پر محیط چین-ایران تعلقات اس جدید پارٹنرشپ کو ایک گہرائی فراہم کرتے ہیں، جو امریکی اتحادوں کی سطحی اور کاروباری نوعیت سے بالکل مختلف ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق مستقبل کی جنگیں تیز فتح کے بجائے صبر آزما مقابلے ہوں گی—ایسی صورتحال میں چین کی صنعتی طاقت اور ایران کی مزاحمتی حکمت عملی مغربی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں برتری حاصل کر سکتی ہے۔

    ### *نتیجہ: کثیر قطبی دنیا کی ناقابلِ روک پیش قدمی*
    چینی دفاعی نظام کے ساتھ ایران کی مسلح سازی صرف ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں، بلکہ یہ یک قطبی نظام کے زوال کی علامت ہے۔ امریکہ کی حد سے بڑھی ہوئی عسکری مداخلت اور کمزور ہوتی سپلائی چینز کے باعث طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ امریکی غلبے کا دور بتدریج اختتام پذیر ہے اور اب بیجنگ، ماسکو اور علاقائی طاقتیں جیسے ایران، اپنے اپنے اثرورسوخ کے علاقے قائم کر رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کثیر قطبی تبدیلی ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ واشنگٹن اسے کتنی شدت سے روکنے کی کوشش کرے گا۔

    *آخری خیال:*
    جب امریکہ اپنے مخالفین کو قابو میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے، تو اس کا سب سے بڑا دشمن شاید چین یا ایران نہیں، بلکہ اس کا اپنا حد سے بڑھی ہوئی عسکریت پسندی اور زوال پذیر صنعتی ڈھانچہ ہے۔

  • سعودی عرب کا  اثر و رسوخ اور غزہ و کشمیر کے مسئلوں میں کردار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سعودی عرب کا اثر و رسوخ اور غزہ و کشمیر کے مسئلوں میں کردار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    غزہ کی منظم تباہی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام روکنے کے لئے مسلم ممالک کے مذمتی بیانات جو صدیوں سے جاری ہے واحد راستہ ایک امام کے پیچھے کھڑے ہوجائیں وہ امام سعودی عرب ہے۔ سعودی عرب دوسرے اسلامی ممالک کو ساتھ لے کر عالمی طاقتوں سے مذاکرات کرے تاکہ غزہ اور کشمیر کا فیصلہ ہوسکے۔ غزہ میں مزید ہلاکتوں کو روکنے کا واحد راستہ یہی ہے عالم اسلام کے ممالک سعودی عرب کی امامت میں عالمی قوتوں سے مذاکرات کریں۔ سعودی عرب کے موجودہ حکمران اچھی پوزیشن میں ہیں وہ عالمی قوتوں پر دبائو ڈال کر اچھا فیصلہ کروانے کی پوزیشن میں ہیں۔ سعودی عرب عالم اسلام کی مرکزی طاقت ہے کئی اسلامی ممالک پر سفارتی اثر رکھتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعاون ہے۔ سعودی عرب امریکہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب بالواسطہ طور پر غزہ جنگ بندی میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے عرب ممالک اور دیگر دنیا کے اسلامی ممالک اپنی قیادت سعودی عرب کے سپرد کریں تو سعودی عرب اور امریکہ سمیت دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے فیصلے کروانے میں کردار ادا کرسکتا ہے مشرق وسطی کے بعض ممالک جن میں مصر ہے وہ بھی کردار ادا کرے مصر کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر یہ قدیمی جنگ جو صدیوں سے جاری ہے پہل کرنی چاہئے۔ مسئلہ کشمیر کو لے کر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں ہوچکی ہیں جنگوں کے علاوہ سفارتی کوششیں ہوچکی ہیں مگر بھارت ہندو بن کر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان بن کر اگر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ مسئلہ حل ہوجاتا ،بھارت میں انسانیت مرچکی ہے جن عالمی طاقتوں کے سامنے انسانوں کا قتل عام ہورہا ہے وہ اپنے اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کے طاقتور ترین ملک اپنے مفادات کی زنجیر میں بندھے ہیں۔ انسانوں کے درمیان نفرتوں’ تعصبات اور جنگوں کا سلسلہ شاید اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک مفادات دفن نہیں کرتے۔ سچ تو یہ ہے کہ عالمی سیاسی کھلاڑیوں نے مکر و فریب کے کیا کیا جال بچھا رکھے ہیں۔ دنیا کی اکثریت جن کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں انسان جنگوں کو پسند نہیں کرتے وہ عالمی دنیا میں امن چاہتے ہیں۔

  • $2.6B روس-پاکستان ڈیل: بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی؟تحریر:ناصر اسماعیل

    $2.6B روس-پاکستان ڈیل: بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی؟تحریر:ناصر اسماعیل

    *کراچی اسٹیل مل کا تاریخی احیاء*
    روس اور پاکستان نے کراچی میں واقع پاکستان اسٹیل ملز (PSM) کے احیاء اور توسیع کے لیے 2.6 ارب ڈالر کا ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے، جو 1970 کی دہائی میں سوویت یونین کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ نئے پلانٹ میں جدید روسی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی اور یہ موجودہ جگہ کے 700 ایکڑ پر محیط ہوگا، جس کے دو سال کے اندر کام شروع ہونے کی توقع ہے۔

    اس منصوبے سے پاکستان کے اسٹیل درآمدی بل میں 30% تک کمی آ سکتی ہے، جس سے ملک کو 2.6 ارب ڈالر کی بچت ہوگی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا۔

    *اسٹریٹجک اور معاشی اثرات*
    یہ معاہدہ خطے میں اتحادوں کی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں روس پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور صنعتی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے، جبکہ بھارت کو سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ روس کے نائب وزیر اعظم اور دیگر عہدیداروں نے پاکستان کو "قدرتی اتحادی” قرار دیا ہے، اور دونوں ممالک ریل رابطوں، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید تعاون پر غور کر رہے ہیں۔

    *باریٹر ٹریڈ اور پابندیوں سے بچاؤ*
    بین الاقوامی پابندیوں اور ادائیگی کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے، روس اور پاکستان نے ایک باریٹر ٹریڈ سسٹم قائم کیا ہے۔ روسی کمپنیاں چنے اور دالوں کی برآمد کر کے پاکستانی چاول، کینو اور آلو حاصل کر رہی ہیں، جس سے دونوں ممالک ڈالر کے لین دین اور مغربی بینکنگ کی نگرانی سے بچ سکتے ہیں۔

    ماسکو میں منعقدہ پاکستان-روس ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم میں 60 سے زائد پاکستانی کمپنیوں نے حصہ لیا اور 500 ملین ڈالر سے زائد کے معاہدے کیے، جس میں برآمدی سامان کی ایک وسیع رینج پیش کی گئی۔

    *بھارت کو سفارتی دھچکا*
    بھارت، جسے کبھی روس کا "ہر موسم کا اتحادی” سمجھا جاتا تھا، اب سفارتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد روس کی طرف سے بھارت کو حمایت نہ ملنا اور اس کے بعد بھارت کے "آپریشن سندور” نے بھارت کی تنہائی کو گہرا کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا اور اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ روایتی اتحادی دور ہو رہے ہیں اور پاکستان کو نئی بین الاقوامی حیثیت مل رہی ہے۔

    *جیو پولیٹیکل اثرات*
    روس-پاکستان شراکت داری کو جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان روسی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا نیا مرکز بن کر ابھر رہا ہے، جبکہ بھارت کا خطے میں اثر کم ہو رہا ہے۔ اس معاہدے کو بھارت کے لیے ایک سفارتی دھچکا بھی سمجھا جا رہا ہے، جو چین اور روس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے درمیان اپنی علاقائی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

    *اہم نکات*
    – روس-پاکستان اسٹیل مل ڈیل ایک بڑی اقتصادی اور اسٹریٹجک پیش رفت ہے، جو پاکستان کی صنعتی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے اور اربوں ڈالر کی درآمدی لاگت بچا سکتی ہے۔
    – باریٹر ٹریڈ کے ذریعے دونوں ممالک مغربی پابندیوں اور ڈالر پر انحصار سے بچ سکتے ہیں، جس سے ان کے اقتصادی تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔
    – بھارت کی سفارتی تنہائی واضح ہے، جہاں سابق اتحادی چین اور روس کی طرف رخ کر رہے ہیں، اور نئی دہلی پر خارجہ پالیسی کی ناکامیوں پر تنقید ہو رہی ہے۔
    – روس-پاکستان تعلقات جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے خطے کے مستقبل پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

  • یہ ایک معاشی جھوٹ امریکہ کو اندر سے تباہ کر رہا ہے.تحریر:ناصر اسماعیل

    یہ ایک معاشی جھوٹ امریکہ کو اندر سے تباہ کر رہا ہے.تحریر:ناصر اسماعیل

    دہائیوں سے، امریکیوں کو ایک افسانہ سنایا جا رہا ہے— کہ سرمایہ داری ایک منصفانہ، میرٹ پر مبنی نظام ہے جو محنت اور جدت کو انعام دیتا ہے اور سب کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ لیکن یہ جھوٹ حقیقت کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ موجودہ ساخت میں سرمایہ داری ایک دھوکہ ہے، جو دولت اور طاقت کو چند ایک کے ہاتھوں میں مرکوز کرتا ہے جبکہ مزدوروں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔

    ### *سب کے لیے خوشحالی کا افسانہ*
    حاکم معاشی بیانیہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آزاد منصوبے قدرتی طور پر دولت کو منصفانہ طور پر تقسیم کرتے ہیں۔ لیکن پچھلے 50 سالوں میں، مزدوروں کا قومی آمدنی میں حصہ گر کر *1970 کی دہائی کے وسط میں 75% سے آج صرف 46%* رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس، امیر ترین *1% (اور خاص طور پر 0.01%)* نے تقریباً تمام معاشی فوائد اپنے نام کر لیے ہیں۔ اجرتیں جامد ہیں، رہائش اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں، اور ملازمت کی حفاظت ختم ہو رہی ہے— لیکن کارپوریٹ منافعوں اور سی ای او کی تنخواہوں کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔

    یہ کوئی حادثہ نہیں؛ یہ ایک منصوبہ بند عمل ہے۔ امیروں کے لیے ٹیکس میں کمی، ڈی ریگولیشن، یونینوں کو توڑنا، اور وال اسٹریٹ کی بالادستی نے منظم طور پر طاقت کو مزدوروں سے سرمایہ داروں کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ نتیجہ؟ ایک خالی ہوتا متوسط طبقہ اور ایک ایسی نسل جو زوال پذیر معیار زندگی کا سامنا کر رہی ہے۔

    ### *”معاشی جھوٹ” کی قلعی کھولنا*
    اس دھوکے کی بنیاد یہ خیال ہے کہ منڈیاں غیر جانبدار ہیں اور انعامات محنت کی بنیاد پر ملتے ہیں۔ حقیقت میں، دولت مزید دولت پیدا کرتی ہے— وراثت، سیاسی اثر و رسوخ، اور اجارہ داری کنٹرول کے ذریعے۔ امیر لوگ قوانین کو اپنے حق میں موڑتے ہیں: بیل آؤٹس، ٹیکس چھوٹوں، اور مزدور مخالف پالیسیوں کے لیے لابنگ کرتے ہیں جبکہ دوسروں کو "آزاد منڈی” کا سبق دیتے ہیں۔

    یہاں تک کہ معاشیات کی تعلیم بھی اس جھوٹ کو ہوا دیتی ہے، طاقت کے تعلقات کو نظر انداز کرتی ہے اور استحصال کا وجود ہی نہیں مانتی۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ *ٹرکل ڈاؤن اکنامکس* کام کرتا ہے، حالانکہ دہائیوں کا ثبوت یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ صرف امیر ترین لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

    ### *ایک متبادل: ورکر کوآپریٹیوز اور معاشی جمہوریت*
    ایک بہتر راستہ موجود ہے۔ *ورکر کوآپریٹیوز*— وہ کاروبار جو ملازمین کی ملکیت ہوتے ہیں اور جمہوری طور پر چلائے جاتے ہیں— ثابت کرتے ہیں کہ مساوات اور کارکردگی ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔ مطالعے بتاتے ہیں کہ کوآپریٹیوز میں اکثر یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں:
    ✔ *زیادہ پیداواریت* (ملازمین زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں)
    ✔ *زیادہ استحکام* (معاشی بحران میں کم ملازمتوں کا خاتمہ)
    ✔ *زیادہ منصفانہ اجرتیں* (سی ای او اور مزدور کی تنخواہ کا تناسب 300:1 جیسا نہیں ہوتا)

    کاروباروں کو جمہوری بنانے سے، ہم ایک ایسی معیشت تعمیر کر سکتے ہیں جہاں خوشحالی بانٹی جائے، نہ کہ چند ہاتھوں میں مرکوز ہو۔

    ### *امریکہ ایک فیصلہ کن موڑ پر*
    امریکہ گرتی ہوئی سلطنتوں کے راستے پر چل رہا ہے— دولت کی ارتکاز، زندگی کے معیار کا زوال، اور سیاسی بے راہ روی۔ بنیادی تبدیلی کے بغیر، یہ بحران اور گہرا ہو گا۔ انتخاب واضح ہے: ایک ٹوٹے ہوئے نظام سے چمٹے رہیں یا ایک ایسی معیشت کی تشکیل کریں جو عوام کے لیے کام کرے، نہ کہ چند کے لیے۔

    *جھوٹ ختم ہو چکا ہے۔ اب سچ کا وقت ہے— اور ایک نئے راستے کا۔*


    *اہم نکات:*
    – سرمایہ داری کا "انصاف” کا افسانہ انتہائی عدم مساوات کو جواز دیتا ہے۔
    – مزدوروں کا آمدنی میں حصہ گر گیا ہے جبکہ امیر سب کچھ لے رہے ہیں۔
    – ٹرکل ڈاؤن اکنامکس ایک دھوکہ ہے؛ ورکر کوآپریٹیوز حقیقی حل پیش کرتے ہیں۔
    – بنیادی تبدیلی کے بغیر، امریکہ کا زوال تیز ہو گا۔

    *”کاروباروں کو جمہوری بنانے سے، ہم ایک ایسی روزمرہ جمہوریت تعمیر کر سکتے ہیں جو سب کے لیے کام کرے۔

  • رچرڈ وولف کی سخت انتباہ: ٹرمپ کا معاشی منصوبہ امریکہ کو نہیں بچائے گا .تحریر: ناصر اسماعیل

    رچرڈ وولف کی سخت انتباہ: ٹرمپ کا معاشی منصوبہ امریکہ کو نہیں بچائے گا .تحریر: ناصر اسماعیل

    دہائیوں تک، امریکی معیشت ڈالر کی بالادستی اور غیر ملکی قرضوں کی بدولت عالمی سطح پر غالب رہی۔ لیکن معاشیات دان رچرڈ وولف اپنے حالیہ تجزیے میں خبردار کرتے ہیں کہ یہ دور اب ختم ہو رہا ہے۔ امریکہ کے زوال کی اصل وجہ غیر ملکی مقابلہ نہیں بلکہ ملک میں پرورش پانے والی کارپوریٹ لالچ، نظامی عدم مساوات اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامیوں کا سامنا کرنے سے انکار ہے۔ ٹرمپ کا ٹیرف پر مبنی معاشی منصوبہ امریکی صنعت کو بحال کرنے سے قاصر ہے، بلکہ یہ ایک مایوس کن چال ہے جو مزدوروں کو مزید دبائے گی، عالمی سطح پر جوابی کارروائیوں کو جنم دے گی اور زوال کی رفتار کو تیز کرے گی۔

    ### *امریکہ کا سنہری دور کیسے ختم ہوا؟*
    وولف اس زوال کی جڑ 1971 تک لے جاتے ہیں جب صدر نکسن نے سونے کے معیار کو ترک کر دیا، جس سے امریکہ کو بے تحاشہ ڈالر چھاپنے کی آزادی مل گئی۔ غیر ملکی ممالک—پہلے جاپان، پھر چین—نے اپنے ڈالرز کو امریکی قرضوں میں تبدیل کر کے امریکی استعمال کو مالی معاونت فراہم کی۔ لیکن اب یہ نظام ٹوٹ رہا ہے۔ ڈالر پر اعتماد کم ہو رہا ہے، سونے کی مقبولیت پھر سے بڑھ رہی ہے اور قرض دہندگان امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، امریکی کارپوریشنز نے زیادہ منافع کے لیے ملازمتیں بیرون ملک منتقل کر دیں، مینوفیکچرنگ کو کھوکھلا کرنے کے بعد غیر ملکیوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ وولف کا مؤقف ہے کہ "اصل مجرم تو سی ای اوز اور شیئر ہولڈرز تھے جنہوں نے ملازمتیں بیرون ملک بھیجیں اور منافع اپنی جیبوں میں ڈال لیا۔”

    ### *ٹرمپ کے ٹیرف: مزدوروں پر ٹیکس، کوئی حل نہیں*
    ٹرمپ کا منصوبہ ٹیرف پر انحصار کرتا ہے، لیکن وولف اس کے پیچھے کی منطق کو بے نقاب کرتے ہیں:
    – *صارفین قیمت چکاتے ہیں*: ٹیرف درحقیقت خفیہ ٹیکس ہیں جو کام کرنے والے طبقے کے اخراجات بڑھاتے ہیں جو پہلے ہی جامد اجرتوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔
    – *بہانہ بازی: چین یا میکسیکو کو مورد الزام ٹھہرانا امریکی کارپوریشنز کے کردار سے توجہ ہٹاتا ہے جنہوں نے ملازمتیں ختم کیں۔ "ملازمتیں ‘بھاگی’ نہیں تھیں—انہیں *جان بوجھ کر منتقل کیا گیا تھا،” وولف کہتے ہیں۔
    – *قلیل مدتی لالچ، طویل مدتی نقصان*: ٹیرف بڑے کاروباروں کا تحفظ کرتے ہیں، مزدوروں کا نہیں۔ یہ جوابی کارروائیوں کو دعوت دیتے ہیں، امریکہ کو الگ تھلگ کرتے ہیں اور حقیقی اصلاحات کو مؤخر کرتے ہیں۔

    ### *گہری بیماری: ایک دھوکے باز نظام*
    یہ بحران صرف معاشی نہیں—یہ جمہوریت کا بھی بحران ہے۔ صرف 3% امریکی آجروں کے طور پر کام کرتے ہیں جبکہ اکثریت کو کام کی جگہ پر فیصلوں میں کوئی آواز حاصل نہیں۔ دولت انتہائی غیر منصفانہ طور پر مرتکز ہے: سب سے امیر 1% آبادی کے پاس نیچے کے 90% سے زیادہ دولت ہے۔ کارپوریشنز اربوں ڈالر اسٹاک خریداری پر خرچ کرتی ہیں جبکہ مزدوروں کو نظر انداز کرتی ہیں۔ دونوں سیاسی جماعتوں—ڈیموکریٹس نے نیم حکمت عملیوں اور کارپوریٹ تعلقات کے ذریعے جبکہ ریپبلکنز نے یونینوں کو توڑنے اور ڈی ریگولیشن کے ذریعے—نے اس نظام کو ممکن بنایا ہے۔

    ### *کیا کوئی راستہ باقی ہے؟*
    وولف کو بڑھتے ہوئے تحریکوں—مزدور تنظیمیں، اشتراکیت میں بڑھتی دلچسپی، ورکر کوآپریٹیوز—میں امید نظر آتی ہے، لیکن وہ وقت کی کمی سے خبردار کرتے ہیں۔ نظامی تبدیلی کے بغیر، امریکہ ناقابل واپسی زوال کا شکار ہو جائے گا۔ "ٹرمپ کا منصوبہ ٹائٹینک پر کرسیوں کو دوبارہ ترتیب دینے جیسا ہے،” وولف کہتے ہیں۔ "سوال صرف سرمایہ دارانہ نظام کے زوال سے بچنے کا نہیں—بلکہ یہ ہے کہ کچھ بہتر کیسے تعمیر کیا جائے۔”

    *حتمی خیال*: اصل تقسیم بائیں اور دائیں کے درمیان نہیں—بلکہ اشرافیہ اور باقی سب کے درمیان ہے۔ جب تک معاشی طاقت کو جمہوریت نہیں دی جاتی، نہ تو کوئی ٹیرف اور نہ ہی کوئی ٹیکس کی چھوٹ ہمیں بچا سکتی ہے۔

  • بلوچستان پھر لہولہو،سیاسی  اورمذہبی لیڈر کہاں سو گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان پھر لہولہو،سیاسی اورمذہبی لیڈر کہاں سو گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے گناہ شہری اور جوان کب تک شہید ہوتے رہیں گے،کیا حملے روکنا صرف فوج کی ذمہ داری!
    بیورو کریسی اور سول انتظامیہ کس مرض کی دوا ،’’را‘‘ کا نیٹ ورک توڑنے کیلئے ایک ہونا ہوگا
    نواز شریف قوم کی امید، سابق وزیر اعظم موثر کردارادا کریں لوگوں نے آس لگالی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنی سمت درست کریں،مکالمے کو فروغ دیں، اپنا رُخ عوامی خدمت قومی اور بین الاقوامی مسائل جن کا ملک کو سامنا ہے اُن پر توجہ د یں، مسخرے پن سے باہر نکل کر سنجیدہ سیاست کریں، تب جا کر امریکہ سمیت عالمی دنیا سیاسی جماعتوں اور ملکی جمہوریت پر انحصار کرے گی ، سیاسی گلیاروںمیں وہی شور ،وہی ہنگامہ ایک دوسرے پر الزامات،کیا جو کچھ سیاسی گلیاروں میں ہو رہاہے اس سے استحکام پاکستان کا خواب مکمل ہوگا؟ بلوچستان اور ایشیاء کا خوبصورت ترین علاقہ سیاحتی علاقہ کے پی کے لہولہان ہے، کیا ملک کی سیاسی جماعتوں نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوچا کہ آخر وہ کون سا گناہ ہے جس کی سزا ہماری عوام کو مل رہی ہے؟ کیا پاکستان اور عوام کی سلامتی کے ذمہ دار صرف پاک فوج جملہ ادارے اور پولیس ہی ہیں ؟ سیاستدانوں ، مذہبی جماعتوں ، بیوروکریٹ ، بیورو کریسی اور انتظامیہ کی بھی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں،بلاشبہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کردار ادا کررہا ہے ، بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کا نیٹ ورک بلوچستان میں اور افغانستان میں پھیلا ہے، پاکستا ن میں موجود جو چھوٹے بڑے شہروں میں افغانی مبینہ طور پر اس میں ملوث ہو سکتے ہیں، بلوچستان میں بے گناہ لوگ شہید ہو رہے سیکیورٹی فورسز اور شہری ،یہ نہایت سنگین اور پیچیدہ مسئلہ ہے ، اس کو روکنے کے لئے ایک جامع پائیدار اور سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کو سفارتی ذرائع سے روکاجائے ، امریکہ یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں موجود سفارت کار اپنا کردار ادا کریں، اندرون ملک ایسے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ کوئی بیرونی قوت فائدہ نہ اُٹھا سکے، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بلوچستان کو لے کر اپنا کردار ادا کریں، صدقے دل سے اس لہولہان بلوچستان اور کے پی کے کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، اس سلسلے میں نواز شریف کی سربراہی میں تمام سیاسی قائدین گول میز کانفرنس میں فیصلہ کریں ، نواز شریف ملک کے ایک ممتاز سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی سیاست میں کئی دہائیوں تک فعال کردار ادا کیا ہے ، وہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں ، نواز شریف بطور سابق وزیراعظم اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، لاہور میں موجود نواز شریف ملک وقوم کے لئے اُمید ہے ،اپنا موثر کردار ادا کریں گے

  • خود فراموشی کا انجام،تحریر: اقصیٰ جبار

    خود فراموشی کا انجام،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب صرف منزل کا کھو جانا المیہ نہیں ہوتا، بلکہ راستے کا بھٹک جانا اور خود کو پہچاننے سے انکار کرنا اصل تباہی بن جاتا ہے۔ پاکستان آج ایک ایسے ہی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف معاشی بحرانوں کا لامتناہی سلسلہ، دوسری طرف سماجی بگاڑ کی انتہا، اور ان سب کے درمیان بطور امت مسلمہ ہماری بےحسی اور لاتعلقی، گویا خود کشی کی مکمل تصویر ہے۔

    یہ سچ ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی اور عدالتی نظام کی کمزوریاں ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں، مگر اصل زہر ہماری اجتماعی بےحسی میں ہے۔ آج کا پاکستانی فرد صرف اپنی ذات تک محدود ہو چکا ہے۔ اسے ہمسائے کی بھوک نظر نہیں آتی، اسے مزدور کی محنت کی قدر نہیں، اسے استاد کی توقیر کا شعور نہیں۔ معاشرتی اقدار صرف تقریروں تک محدود ہو چکی ہیں اور کردار سازی کا عمل تعلیمی نصاب میں دفن ہو چکا ہے۔

    ہم نے دین کو صرف عبادات تک محدود کر دیا، حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قرآن صرف رواجی تلاوت کے لیے رکھا گیا، اور سنت صرف تقریر کا موضوع بنی رہی۔ ہم نے دین کو دل سے نہیں، رسم سے اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ نمازیں بڑھتی گئیں اور معاملات بگڑتے گئے، داڑھیاں لمبی ہوئیں مگر دل تنگ، مساجد آباد ہوئیں مگر بازار بےایمان۔

    پاکستان کے بازاروں میں جھوٹ عام ہے، دفاتر میں رشوت معمول، سڑکوں پر بدتمیزی عام، اور تعلیمی اداروں میں اخلاقیات ناپید۔ ہم نے ترقی کو صرف عمارتوں سے جوڑا، انسانوں کے معیارِ فکر اور احساس کو نظر انداز کر دیا۔ اسی لیے آج ہمارے ہاں شرحِ خواندگی تو بڑھ رہی ہے، مگر شعور گھٹ رہا ہے۔

    امتِ مسلمہ کی حالت بھی مختلف نہیں۔ ہم جو کبھی ایک صف میں کھڑے ہونے کا فخر رکھتے تھے، آج قومیت، مسلک، اور مفادات میں بٹ چکے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، روہنگیا اور غزہ کی چیخیں صرف سوشل میڈیا پر دکھ بھری پوسٹوں تک محدود ہیں۔ عملی اقدامات کا جذبہ ناپید ہو چکا ہے۔ او آئی سی جیسے ادارے صرف اجلاس منعقد کرنے کے لیے رہ گئے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مسلمان امت کا مفہوم قیادت، علم، اخلاق اور عدل سے جڑا تھا، اور آج ہم صرف ردعمل سے کام چلا رہے ہیں۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم خود احتسابی کریں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے زوال کا سبب باہر نہیں، ہمارے اندر ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنے رویوں، سوچ اور ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ عبادات کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانا ہوگا۔ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، سچ بولنے، حق کا ساتھ دینے، اور علم کو بنیاد بنانے کا عہد کرنا ہوگا۔

    کیونکہ اگر ہم نے اب بھی آنکھ نہ کھولی، تو تاریخ صرف ہمارا نوحہ لکھے گی، فخر نہیں۔

  • امریکہ ایک فیصلے کے موڑ پر: بدلتی دنیا میں ڈھل جاؤ یا ختم ہو جاؤ.تحریر:ناصر اسماعیل

    امریکہ ایک فیصلے کے موڑ پر: بدلتی دنیا میں ڈھل جاؤ یا ختم ہو جاؤ.تحریر:ناصر اسماعیل

    امریکہ ایک بحران کے دہانے پر کھڑا ہے— لیکن یہ بحران فوجی شکست یا معاشی تباہی کا نہیں، بلکہ غیر اہمیت کا ہے۔ دہائیوں تک، دوسری جنگ عظیم کے بعد کا عالمی نظام واشنگٹن کی بالادستی کے گرد گھومتا رہا، لیکن دنیا آگے بڑھ چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ بدلتے حالات کے مطابق ڈھلے گا یا ماضی کو تھامے رہے گا جبکہ نئی طاقتیں عالمی منظر نامے کو نئی شکل دے رہی ہیں۔

    ### *سپر پاور کا پرانا کھیل ختم ہو رہا ہے*
    امریکی ڈالر کی کمی اس کہانی کو بیان کرتی ہے۔ کبھی عالمی تجارت کا ناقابل چیلنج ستون رہنے والی یہ کرنسی صرف اس سال ہی 10 فیصد گر چکی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 2025 کے آغاز میں امریکی مارکیٹوں سے 500 ارب ڈالر نکال لیے، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتیں خاموشی سے یوآن اور یورو جمع کر رہی ہیں۔ پابندیاں، جو کبھی طاقت کا بے رحم ہتھیار تھیں، اب الٹا اثر کر رہی ہیں، کیونکہ روس اور جیسے ممالک ڈالر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے روپے میں تیل کی تجارت کر رہے ہیں۔

    دریں اثنا، BRICS—جس میں اب سعودی عرب اور ایران جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں—دنیا کی کل GDP کا تقریباً 45 فیصد حصہ ہے۔ چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے نے براعظموں میں پھیلے ہوئے 1 ٹریلین ڈالر کے انفراسٹرکچر کے ذریعے اپنا اثر بڑھایا ہے، جبکہ افریقہ کے 53 ممالک کے ساتھ صفر ٹیرف معاہدے نے "باہمی فائدے” کو محض ایک نعرے سے زیادہ بنا دیا ہے۔

    ### *تحفظ پسندی بمقابلہ شراکت داری*
    امریکہ کا ردعمل؟ دیواریں اور بلند۔ افریقہ اور یورپ کی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف نے اتحادیوں کو مایوس کر دیا ہے، اور معیشتیں دوسری طرف دیکھ رہی ہیں۔ اس کے برعکس چین کا افریقہ کے ساتھ تجارتی عروج: سڑکیں، بندرگاہیں اور فیکٹریاں جو کسی نظریاتی شرط کے بغیر بنائی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افریقی رہنما اب واشنگٹن نہیں، بلکہ بیجنگ کو اپنا سب سے بڑا معاشی پارٹنر کہتے ہیں۔

    صنعت میں بھی فرق بڑھ رہا ہے۔ امریکی مینوفیکچرنگ دنیا کی کل پیداوار کا صرف 17 فیصد ہے، جو چین کے 30 فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پینٹاگون کے لامتناہی بجٹ بھی اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتے کہ ویت نام، افغانستان اور اب یوکرین کی جنگیں بغیر معاشی استحکام کے فوجی طاقت کی حدیں ظاہر کر چکی ہیں۔

    ### *نئی عالمی نظام کا انتظار نہیں کرے گا*
    روس اور چین کے 2024 کے دفاعی معاہدے نے سب کو جگا دیا۔ اسی طرح بھارت کا روس کے ساتھ روپے میں تیل کا سودا بھی ایک اشارہ تھا۔ ممالک اپنے اختیارات بڑھا رہے ہیں، اور امریکہ، جو اب بھی سرد جنگ کے ذہنیت میں جکڑا ہوا ہے، ایک تماشائی بننے کے خطرے سے دوچار ہے۔

    سبق؟ دباؤ کا طریقہ کام کرتا ہے— لیکن صرف ایک حد تک۔ دنیا اب کثیر قطبی ہو چکی ہے، اور ممالک کے پاس متبادل موجود ہیں۔ اگر امریکہ وفاداری کا مطالبہ کرتا رہا لیکن احترام یا باہمی فائدہ پیش نہیں کرے گا، تو طویل عرصے کے اتحادی بھی راستہ بدل سکتے ہیں۔

    ### *مستقبل کے لیے ایک انتخاب*
    یہ مایوسی پھیلانے والی بات نہیں— یہ حقیقت ہے۔ امریکہ میں اب بھی بے مثال اختراع، ثقافتی اثر اور جمہوری اقدار موجود ہیں۔ لیکن جب تک یہ تکبر کو لچک، پابندیوں کو سفارت کاری اور تحفظ پسندی کو حقیقی شراکت داری سے نہیں بدلتا، یہ تاریخ کے غلط رخ پر جا سکتا ہے۔

    اکیسویں صدی ان لوگوں کو موقع دیتی ہے جو تعاون کرتے ہیں، نہ کہ جنہیں حکم چلاتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا واشنگٹن بروقت سیکھ پائے گا؟