Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • نام نہاد ڈپریشن  : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    نام نہاد ڈپریشن : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    گزشتہ سالوں میں کتنے ہی سول سروس کے آفیسر اس نام نہاد ڈپریشن کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
    عام عوام کی یہ غلط فہمی ہے کہ ہر خودکشی کرنے والا ظالم اور حرام خوری کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہو گا جبکہ اکثر اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔
    کون نہیں جانتا کہ ملک عظیم پر اشرافیہ کا ایک ٹولہ قابض ہے ۔
    سیاست سے بیورو کریسی تک ہر جگہ انہی کا قبضہ ہے ۔ یہ ٹولہ عوام کے سامنے جو مرضی نورا کشتی کر لیں لیکن حقیقت میں تو یہ ایک کلٹ کا ہی حصہ ہیں جن کے مفادات مشترک ہیں تو ایسے میں آگر کوئی بھی قسمت سے اس ایلیٹ کلب میں اپنی محنت کے بل بوتے پر چلا بھی جائے تو اس کے لیے دو ہی راستے ہیں پہلا کہ ان کے ساتھ مل جائے اور فائدے میں رہے دوسرا اگر ایمانداری کے اصولوں پر چلے تو پھر ڈپریشن کے لیے تیار رہے اب یہ اشرافیہ کا کلٹ اس آفیسر کو زچ کرنے کے لیے ہر حربہ اپنائے گا اس کی پرموشن روک دی جائے گی اسے محکمے میں سائیڈ لائن کر دیا جائے گا ۔۔

    آگر یہ خودکشی کرنے والے آفیسرز ڈپریشن میں اس وجہ سے تھے جیسا عام عوام کی رائے بتاتی ہے مطلب عوامی حقوق کی پامالیاں اور مالی بے ضابطگی ۔۔تو پھر یہ بڑے بڑے مگر مچھ جو ملک لوٹ کھا گئے … یہ ڈپریشن میں جا کر خود کشی کیوں نہیں کرتے ؟..
    آخر ہر بار کم رینک کا آفسر ہی اوپر والوں کے دباؤ کی وجہ سے خودکشی کیوں کرتے ہیں ؟…
    آخر حکومت پر قابض مافیا ان سے ایسا کونسا مطالبہ کرتا ہے جسے کرنے کی بجائے یہ لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ؟..
    کوئی خود کشی کرنے والا افسر انتہائی غریب گھرانے سے آ کر آفسر بنا تو کسی کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے کیا انسان خود اندر سے اتنا کمزور ہو سکتا ہے کہ ان حالات کے باوجود اپنی جان لے لے؟…

  • اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    ماضی میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی صرف سرحدیں ہی نہیں بلکہ دل بھی ملتے ہیں لیکن اب اثر زائل ہو چکا ہے، اس اثر کے خاتمے کے اسباب افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کے ساتھ کچھ سیاسی طاقتوں کے نا توازن تعلقات تھے۔ افغانستان کی جغرافیائی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن اس کی موجودہ سرحدیں تنازعات میں گھری ہوئی ہیں، میں اس بات سے قرینہ قیاس کرتا ہوں کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات بہتر کرنا بھی غلطی ہو گی۔

    دنیا گواہ ہے کہ جب جب افغانستان کے ساتھ جس نے وفا کی وہ مارا گیا۔دی وال سٹریٹ جرنل کے جرنلسٹ سون اینجل راسموسن نےسال 2024 میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان Twenty Years: Hope, War and the Betryal of an Afghan Generation تھا۔ یہ کتاب خصوصی طور پر افغانیوں کی بے وفائی اور عالمی برادی کے کردار پر لکھی گئی۔ اس کتاب میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سیاسی تنازعات اور الزامات پر بھی بحث کی گئی ہے،کتاب میں جہاں افغان خطے میں بسنے والے لوگوں کی بے وفائی پر تبصرہ ہے وہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے مخصوص واقعات وجہ موضوع ہیں نہ کہ پوری افغان نسل یا پٹھان قوم کو الزامات کا نشانہ بنانا مقصود ہے۔ آن دی ادر سائیڈ، یہ بات سچ ہے کہ افغانی حکمرانوں نے کبھی اپنے لوگوں سے بھی وفا نہیں کی۔قطع نظر کہ ماضی میں پاکستان کی سیاسی قیادت کی وجہ سے بھی معاملات میں جھول تھے ۔

    افغانستان کی موجودہ شکل کا قیام 1747 میں احمد شاہ درانی نے کیا تھا جس کا رقبہ 6 لاکھ 52 ہزار 864کلومیٹر ہے۔ویسے تو افغانستان کی تاریخ آریانہ سے شروع ہوئی تھی جو آج کے افغانستان ، خراسان پر مشتمل تھی اسی وجہ سے افغانستان کی سرحدیں مختلف ادوار میں تبدیل ہوتی رہیں۔آج افغانستان کی موجودہ سرحدیں 6 ممالک سے ملتی ہیں واضح رہے کہ افغانستان کسی بھی ملک میں طالبان کو نہیں بھیج سکتا اور نہ ہی کوئی ملک افغانستان کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان نے افغانی مہاجرین کا 40 سال بوجھ برداشت کیا جس کا ثمر یہ ملا کہ آج ہم دہشت گردی کے چنگل سے نہیں نکل پا رہے،پاکستان پچھلے چند سالوں میں دہشت گردی کی وجہ سے 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے،آج اکتوبر 2025 تک اسی ہزار سے زائد لوگوں کی قربانیاں دے چکا ہے لیکن آج بھی افغان طالبان کی نظر میں پاکستان بُرا ہے ۔ پاکستان اپنے بڑے بھائی کو ہمیشہ گلے لگا کر دشمن کی سازشوں سے بچاتا رہا ۔

    پاکستان کے ساتھ جو افغان سرحد ملتی ہے اس کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے جس کی لمبائی 2670 کلومیٹر ہے ،دوسرے نمبر پر تاجکستان کی سرحد افغانستان کے ساتھ 1206 کلومیٹر ہے جبکہ ایران 936،ترکمانستان 744اور چین کی سرحد 76 کلومیٹر ہے ۔ چھ ممالک میں سے افغانستان کا بس کسی ملک میں نہیں چلتا مگر پاکستا ن کی سرحد بھی پار کرتے ہیں اور گالی بھی دیتے ہیں، تمام احسانات کے باوجود جو پاکستان نے آج تک نہیں جتلائے افغانستان سابقہ حریف انڈیا کو موجودہ دوست بنا چکا ہے ،لگتا یوں ہے کہ افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلق قائم کرنا اپنے ساتھ دشمنی کرنےکے مترادف ہے۔پچھلے ہفتہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر متقی نے ایک ہفتہ انڈیا کے دورہ پر تھے جس کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان اپنی پالیسی بدل چکا ہے۔ افغانستان کی اپنی تاریخ جہاں بہت پرانی ہے وہاں افغانی طالبان آج بھی ازلوں سے چلتی دشمنی کی تاریخ کو مسخ نہیں کرنا چاہتے اور بار بار ہار جاتے ہیں۔ گوریلا وار کے ماہر پاکستان کو گرانے کو سوچتے ہوئے خود گر جاتے ہیں ، شاید کچھ لوگ سوچیں کے افغانستان نے امریکہ جیسی سپر پاور کو شکست دی ، واضح رہے کہ امریکہ کو شکست دلانے میں صرف افغانستان کا ہی کردار نہیں تھا۔افغانستان کے چونتیس صوبے ہیں لیکن کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جہاں جہاد کے نام پر مجاہدین کی ریل بیل نہیں تھی، آج جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کو چار برس گزر چکے ہیں کسی ملک نے باقاعدہ طور پر افغان طالبان کو تسلیم نہیں کیا۔ کنارہ کشی کے باوجود پاکستان ہمیشہ بازو بنا ، بارِ دیگراں تعلقات خراب ہوئے لیکن معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ، آج حقانی گروپ اور قندھاری گروپ میں آپسی لرائیاں جاری ہیں جس کا فائدہ دشمن اٹھانے کی لاکھ کوشش کر رہا ہے۔یہ آج کی بات نہیں 1994 سے بھارت افغانستا ن کو ایک پراکسی کے طور پر دیکھ رہا رتھا جس کے ذریعے اپنی پراکسیوں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اگر یہی صورتحال افغان طالبان کی رہی تو نہ صر ف افغان خطہ بلکہ ملحقہ خطوں کی بقاء کا مسئلہ بنے گا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان دوست وفا میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔

    آج افغانستان میں بہت سے لسانی گروہ اپنی قوم کی شناخت کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن افغان طالبان کی غلط پالیسیاں نہ صرف قوم کی شناخت بلکہ خطے کی شناخت کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔1979 سے افغانستا ن میں مردم شماری نہیں کی گئی، 2008 میں مردم شماری کی کوشش بھی ناکام ہو گئی، 2013 میں اعداوشمار تو جمع کیے گے لیکن کامیابی نہ مل سکی کیونکہ طالبان پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی سازشوں میں مصروف تھے۔
    آج افغانستان کی آبادی تقریباً 4 کروڑ سے زائد ہے جن میں 42 فیصد سے زائد پشتون اور دوسرا بڑا گروہ تاجک ہے ، نقطہ یہ ہے کہ اتنے بڑے اسلحہ ڈپو اور وسائل کے ساتھ طالبان اپنی قوم کی بہتری کا سوچ سکتے ہیں مگر وہ غیر قانونی جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں ۔ میں یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا کہ اگر افغانستان کی خواتین کو حقوق ملیں، بندوقیں بیچ کر اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتا بیں تھما دی جائیں تو نہ صرف ایک بلکہ دو خطوں کی عوام کئی یورپی ممالک سے مضبوط اور لٹریسی ریٹ کا عالمی سطح پر تذکرہ کیا جائے گا ۔ لیکن میں پھر کہوں گا یہ سب تب ممکن ہو گا جب اپنوں کو مارنے سے نکل کر گلے لگانے کا سلسلہ شروع ہو گا۔انیس اکتوبر کو پاک افغان جنگ بندی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی وجہ سے ایک نئی امید کا پہلو نکلا ،لہذا اُمید ہے کہ دشمن کے آنچل میں پہنچنے کے بعد یہ اُمیدیں دم نہیں توڑیں گی بلکہ طالبان آبیاری کے لیے نئی اور بہتر اسٹر ٹیجی کا سوچیں گے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    قوموں کی تعمیر صرف عمارتوں اور صنعتوں سے نہیں ہوتی بلکہ کردار اور ایمان سے ہوتی ہے۔ کردار کی تعمیر وہی قوم کر سکتی ہے جو اپنی نئی نسل کو اپنے دینی و اخلاقی سرمایے سے روشناس کرائے۔ اور ہمارے لیے سب سے بڑا سرمایہ قرآن و سنت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے؛ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”یہ فرمان آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا ساڑھے چودہ سو برس پہلے تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کے ذہنوں میں قرآن و سنت کی روشنی اتارنے کا وہ حق ادا کیا ہے جو ہونا چاہیے؟ افسوس کہ آج ہمارے بچوں کی لائبریریاں رنگ برنگی کہانیوں اور مغربی کرداروں سے بھری پڑی ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، ان کے پیغام اور ان کی سنت کے حوالے سے مواد نہایت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔یہی وہ خلا ہے جسے دارالسلام انٹرنیشنل نے اپنی خوبصورت کاوش 20 احادیث فار کڈز (انگلش) سے پر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب بچوں کے معصوم ذہن کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ بیس صحیح احادیث کا انتخاب، ان کا نہایت سادہ ترجمہ اور عام فہم تشریح، اور ساتھ ہی دلچسپ مشقیں یہ سب کچھ مل کر کتاب کو ایک ایسی تحریر بنا دیتے ہیں جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ دل میں اترنے کے لیے ہے۔یہ کتب خانوں کی سجی سجائی الماریوں کے لیے نہیں بلکہ گھروں کے ڈرائنگ روم، کلاس روم کی میز اور ہر اس جگہ کے لیے ہے جہاں بچوں کے ذہن پروان چڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ بچے ہی تو ہمارے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر ان کے دل میں ابھی سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور احادیث کی روشنی ڈال دی جائے تو آنے والی نسلیں یقیناً گمراہی کے اندھیروں سے بچ جائیں گی۔کتاب کی ایک اور بڑی خوبی اس کی طباعت ہے۔ چہار رنگوں کے ساتھ آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی یہ کتاب بچے کے ذوق کو اپیل کرتی ہے۔ رنگوں کی یہ دلکشی اس کے پیغام کو اور زیادہ جاذبِ نظر بنا دیتی ہے۔ سادہ سا مواد اگر خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے تو وہ ذہن پر کئی گنا زیادہ اثر ڈال دیتا ہے، اور یہی خصوصیت اس کتاب کو بھی امتیازی حیثیت دیتی ہے۔قیمت کے اعتبار سے بھی کتاب ہر والدین کی دسترس میں ہے۔ محض 450 روپے میں یہ قیمتی تحفہ لاہور کے معروف ادارے دارالسلام انٹرنیشنل سے دستیاب ہے۔ ایک ایسی سرمایہ کاری جو ہر مسلمان گھرانے کو کرنی چاہیے، کیونکہ اس کا منافع دنیاوی دولت نہیں بلکہ بچوں کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے۔یہ کتاب صرف ایک اشاعتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ یہ والدین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھ میں محض کھلونے نہ دیں، بلکہ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے آراستہ وہ تحفہ دیں جو انہیں زندگی بھر روشنی عطا کرے۔ یہ اساتذہ کو بھی پیغام دیتی ہے کہ وہ نصاب کے بوجھ سے نکل کر بچوں کے لیے وہ علمی غذا فراہم کریں جو ان کے کردار کو سنوارے۔حقیقت یہ ہے کہ 20 احادیث فار کڈز ہماری نئی نسل کے لیے ایک چراغ ہے۔ ایک ایسا چراغ جو گھروں کی دیواروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرتا ہے۔ یہ کتاب صرف خریدنے کے لیے نہیں بلکہ اپنانے کے لیے ہے، اور ہر اس والدین پر قرض ہے جو اپنی اولاد کو ایمان کی امانت دینا چاہتا ہے۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل 36لوئر مال نزد سیکرٹریٹ لاہور پر دستیاب ہے

  • دو نومبر :مینار پاکستان کی  طرف سے دعوت نامہ،تحریر:ریاض احمد احسان

    دو نومبر :مینار پاکستان کی طرف سے دعوت نامہ،تحریر:ریاض احمد احسان

    دو نومبر وہ دن جب مینارِ پاکستان پھر سے اپنی تاریخ کی روح سے ہمکلام ہونے والا ہے
    یہ وہ مینار ہے جو فقط پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ قوم کے عزم، ایمان اور نظریے کا مجسم اظہار ہے اس کے سائے میں وہ تعبیریں سانس لیتی ہیں جو اقبالؒ اور قائداعظمؒ نے دیکھیں مینارِ پاکستان آج پھر اپنی فصیلوں سے ایک صدا بلند کر رہا ہےکہ اے اہلِ وطن! میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں اپنے عہد کی تجدید کے لیے، اپنے نظریے کی حفاظت کے لیے، اپنی وحدت کے استحکام کے لیے،اپنی ریاست کی تعمیر کے لیے،اپنی معیشت کی مضبوطی کے لیےدو نومبر کو مینارِ پاکستان کی فضائیں پھر سے زندہ ہوں گی یہاں ایک قوم اپنے شعور کے ساتھ جمع ہوگی،ایک نظریہ اپنے اظہار کے ساتھ نمایاں ہوگا اور ایک ملت اپنی نئی سمت کے تعین کے لیے صف بستہ ہوگی۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ہونے والا یہ تاریخی ورکرز کنونشن فقط ایک سیاسی اجتماع نہیں یہ دلوں کی بیداری، جذبوں کی تجدید،عزمِ تازہ سے جسم باندھ لینے کا اعلان اور روحِ پاکستان کے احیاء کا لمحہ ہے۔یہ وہ وقت ہے جب اہلِ سیاست و ریاست، علماء و مشائخ، اہلِ قلم و دانش، تاجر و صنعتکار، قانون دان و صحافی سب ایک عزم کے ساتھ مینارِ پاکستان کے دامن میں جمع ہوں گے تاکہ وطن کی تقدیر کے نئے باب کو رقم کیا جا سکے-مینارِپاکستانآج در در محبت و خلوص بھری دعوت لے کر دستک دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں وہ مینار ہوں جس کے سائے تلے تمہارے بزرگوں نے ایک نقشہ کھینچا تھا ایسا نقشہ جس کے رنگ نظریے،سوچ،ایمان، قربانی اور استقلال سے بھرے ہوئے تھے انہی فصیلوں کے نیچے وہ قرارداد پڑھی گئی تھی جو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا اعلان بن گئی۔ آج وقت ہے کہ ہم اس عہد کو پھر سے زندہ کریں، اس مینار کو پھر سے آباد کریں اس قرارداد کو اپنی رگوں میں دوڑتا ہوا محسوس کریں .

    آج مشرقی و مغربی سرحدوں پر تنی ہوئی بندوقیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وطن کی آزادی صرف ایک نعمت نہیں ایک ذمہ داری بھی ہے۔دشمن ہماری وحدت کے در و دیوار پر وار کرتا ہے تو ہمیں اپنی صفوں کو اتنا مضبوط کر دینا ہے کہ کوئی بھی دراڑ نہ ڈال سکے یہ کنونشن ان غازیوں اور شہداء کے نام ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں جن کے خون سے یہ سبزہلالی پرچم باوقار ہے جن کے لہو نے زمینِ وطن کو مقدس بنایا۔ہم ان کے وارث ہیں اور یہ وراثت ہمارے ایمان، ہماری سیاست، اور ہماری قومیت کی اساس ہے۔

    آج وطن کے اندرونی حالات بھی ہمیں پکار رہے ہیں۔ سیاسی انتشار نے سوچ کو منتشر کر دیا ہے، فرقہ واریت نے دلوں میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں اور ذاتی مفادات نے قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے لیکن مینارِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں فرقوں سے نہیں، نظریے سے بنتی ہیں۔ وہ نظریہ جس نے ہمیں ایک ملت بنایا تھا آج پھر ہماری رہنمائی کا طلبگار ہے۔ آئیں،اس نظریے کو زندہ کریں۔ اپنے اندر سے تعصب کے بت پاش پاش کریں،بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ختم کریں اور پاکستان کو اس کے اصل مقصد سے ہم آہنگ کریں-اسلامیت، انسانیت اور پاکستانیت کے ملاپ سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو امن، عدل اور محبت کی خوشبو سے خود بھی مہکے اور اسی مہک کا پرچار بھی کرے

    یہ اجتماع اُن کارکنوں کے نام بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں قوم و ملت کے لیے وقف کر دیں جو گلی گلی، بستی بستی پاکستان کے نام پر روشنی پھیلاتے رہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ان محنت کشوں، غازیوں، اور نظریاتی سپاہیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے خدمت کو شعار بنایا۔ دو نومبر ان سب کے عزم و ایثار کا دن ہے، ان کی قربانیوں کے اعتراف کا دن ہے، ان کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔

    آئیں، ہم سب مینارِ پاکستان کی سمت چلیں کہ یہ عزت و عظمت والا مینار ہمیں بلا رہا ہے
    اور یہ کہہ رہا ہے کہ اپنے دلوں کو نظریے کی روشنی سے منور کرو، اپنی صفوں کو وحدت کے رشتے سے جوڑو، اپنی زبانوں کو نفرت کے نہیں محبت کے کلمات سے آراستہ کرو۔ یہ ملک تمہاری امانت ہے، اسے وفا سے سنبھالو
    دو نومبر کو مینارِ پاکستان اپنے بازو پھیلائے اعلان کر رہا ہوگا
    یہ وہ دن ہوگا جب پاکستان اپنی تاریخ کے اوراق سے مدد لیتے ہوئے نیا عہد لکھے گا۔
    یہ وہ لمحہ ہوگا جب ہم اپنے شہداء کے خون سے وفا کا عہد نبھائیں گے
    اور جب ساری قوم ایک آواز میں کہے گی
    ہم پاکستان کے ہیں، پاکستان ہمارا ہے
    ہم اس کے دفاع، وحدت اور وقار کے محافظ ہیں۔
    اے اہلِ پاکستان
    دو نومبر کو مینارِ پاکستان آپ کو بُلا رہا ہے
    کیا تم اس پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہو؟
    اے اوورسیز پاکستانیو! تم جو دیارِ غیر میں بھی وطن کی مٹی کی خوشبو میں سانس لیتے ہو کیا تم اس صدا پر لبیک کہو گے؟
    اے اہلِ صحافت! تم جو قلم کو امانت اور سچائی کو عبادت سمجھتے ہو کیا تم اس آواز میں اپنی آواز ملاؤ گے؟
    اے صنعت و تجارت کے امین لوگو! تم وہ ہو جن کے کارخانے اور دکانیں وطن کی معیشت کی دھڑکن ہیں کیا تم مینارِ پاکستان کی اس پکار پر سینہ تان کر کہو گے
    لبیک، ہم حاضر ہیں
    کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء
    یہ وقت کتابوں کے حرفوں سے نکل کر تاریخ کے صفحوں پر عمل لکھنے کا ہے
    اٹھو کہ مینارِ پاکستان تمہیں اپنے پرچم اور اپنے نظریے کی گواہی دینے کے لیے بلا رہا ہے
    اے علماء و مشائخ! تم جو منبر و محراب کے وارث ہو تمہاری زبانوں سے نکلنے والا ایک ایک لفظ قوم کی سمت بدل سکتا ہے کیا تم بھی مینارِ پاکستان کے سائے میں امت کی وحدت کا علم بلند کرو گے؟
    اے بار و بینچ کے نگہبانو تم تو وہ ہو
    جن کے فیصلے تاریخ کے دھارے موڑ سکتے ہیں کیا تم اس وطن کے دستور اس کے وقار اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ بن کر مینارِ پاکستان کی پکار کا جواب دو گے؟
    اے سُرخ سیبوں کی سرزمین یعنی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے والے غیرت مندو کیا تم محسنِ شہ رگِ پاکستان کی ہدایت پر مینارِ پاکستان پہنچو گے؟
    اے اہلِ ایمان! اے اہلِ غیرت
    مینارِ پاکستان تمہیں پکار رہا ہے
    وہ مینار جس کی اینٹ اینٹ میں قومی وحدت کی خوشبو ہے، جس کے سایے تلے قراردادِ آزادی نے انگڑائی لی تھی آج پھر اپنے فرزندوں کو وارم اپ ہونے کی صدا دے رہا ہے
    اے عزت والو!
    اٹھو! کہ یہ مٹی تمہاری غیرت کا قرض مانگتی ہے
    اٹھو! کہ تاریخ پھر تمہارے نقشِ قدم کی گواہ بننا چاہتی ہے
    مینارِ پاکستان کا وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب میدان تمہیں بلا رہا ہے
    کہ آؤ اور اس دھرتی کے نام پر پھر سے نعرۂ تکبیر بلند کرو
    اے وطن کے سپاہیو! اے علم و قلم کے امین لوگو
    یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں یہ وقت للکارنے کا ہے
    یہ وقت ہے کہ تمہارے لبوں سے “اللہ اکبر” کی گونج فضا میں گھل جائے
    اور مینارِ پاکستان کی چوٹی پر وہی روشنی اتر آئے
    جو کبھی 1940 کے دنوں میں دلوں سے اٹھی تھی اور تاریخ بن گئی تھی
    اے غیرت والو
    اب تمہاری باری ہے
    کہ تم بھی اپنی صفوں کو یکجا کرو، اپنے عزم کو پختہ کرو
    اور دنیا کو دکھا دو کہ یہ قوم ابھی زندہ ہے
    یہ قوم ابھی جھکی نہیں، یہ قوم ابھی مٹی نہیں
    اے جوانو
    مینارِ پاکستان تمہیں بلاتا ہے
    کہو لبیک اس پکار پر
    اور تاریخ کے نئے باب میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھ دو
    اٹھو کہ قوم تمہاری راہ تک رہی ہے
    اٹھو کہ وطن تمہارے قدموں کی چاپ سننا چاہتا ہے
    لبیک کہو… کہ یہی لمحہ ہے، یہی عہد ہے، یہی وطن کی پکار ہےیہی مینارِ پاکستان کی پرخلوص دعوت ہے،یاد رہے کہ مینارِ پاکستان میں ہوں،مینارِ پاکستان آپ ہیں اور مینارِ پاکستان
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہے
    کیا تم لبیک کہتے ہو؟
    ریاض احمد احسان

  • بھٹو خاندان کی تاریخ میں نصرت بھٹو کا کردار ، ایک روشن چراغ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو خاندان کی تاریخ میں نصرت بھٹو کا کردار ، ایک روشن چراغ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کے صفحات میں کچھ نام ایسے رقم ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے وہ استقامت قربانی اور حوصلے کے استعارے بن جاتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو مرحومہ انہی میں سے ایک تھیں وہ عورت جس نے اپنی انکھوں کے سامنے اپنے شوہر کو تختہ دار تک جاتے دیکھا بیٹے کو لہو میں لت پت پایا۔ بیٹیوں کو جدوجہد کی بھٹی میں جلتے دیکھا مگر وہ ایک لمحے کے لیے کمزور نہ پڑیں۔ ان کا نام نصرت بھٹو تھا لیکن نصرت پاکستان بن گئیں۔ جب ظلم اپنی انتہا کو چھو رہا تھا جب ہر دروازے پر آہنی زنجیریں اور دیواروں پر سناٹے تھے تب وہ ایک ماں نہیں ایک تحریک بن گئیں۔ مارشل لاء کے اندھیرے دور میں جب بھٹو کا نام لینا جرم تھا تب نصرت بھٹو نے اس نام کو اپنے دل پر کندہ کر لیا۔ وہ جیلیں دیکھتی رہیں ان کی آنکھوں میں آنسو ضرور آئے مگر ان آنکھوں میں اور آنسوؤں میں شکست نہیں تھی عزم کا عکاس تھا۔ نصرت بھٹو نے نہ صرف اپنی فیملی بلکہ پوری قوم کے حوصلے کو سہارا دیا۔ میر مرتضٰی بھٹو کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا بینظیر بھٹو کو بار بار قید و جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ نصرت بھٹو ان سب دکھوں کو دبا کر قوم کو کہتی رہیں یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی سیاسی جدوجہد کا اصل زیور صبر ہے انتقام نہیں۔ نصرت بھٹو نے اپنے خاندان کو نہیں ایک نظریے کو زندہ رکھا وہ بھٹو خاندان کی وہ چٹان تھیں جن کے سائے میں تاریخ نے کئی طوفان دیکھے مگر ان کے ایمان کا چراغ کبھی بجھا نہیں۔

    بھٹو خاندان کی اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہر صفحے پر نصرت بھٹو کی خاموش آنکھیں نظر آتی ہیں جن میں آنسو نہیں روشنی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جس نے بینظیر بھٹو کو جمہوریت کی علامت بنایا اور پیپلز پارٹی کو قربانی اور جدوجہد کا نشان۔ ملکی سیاسی تاریخ میں نصرت بھٹو کا نام ایک مجاہدہ اور ایک عہد کی علامت کے طور پر ہمیشہ روشن رہے گا۔ دوسری جانب خاتون بیگم کلثوم نواز مرحومہ تھیں جس نے اپنے خاوند نواز شریف کی رہائی کے لیے جدوجہد کی۔ اسلام آباد آبپارہ سے لاہور تک سفر میں ان کے ساتھ گاڑی میں خواجہ سعد رفیق، راولپنڈی کی ایک خاتون طاہرہ اورنگزیب تھیں بڑے بڑے نام نہاد ن لیگی رہنماؤں نے کلثوم نواز مرحومہ کو اکیلا چھوڑ دیا۔ مسلم لیگ ن کے انتہائی اہم عہدے پر فائز ایک شخص نے آبپارہ میں خود گرفتاری دے دی تاکہ بیگم کلثوم نواز کے ساتھ سفر نہ کرنا پڑے۔ نواز شریف سمیت اعلٰی قیادت جیلوں میں بند تھی بیگم کلثوم نواز کے ساتھ جو کچھ ہوا ایک عالم گواہ ہے۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے جدوجہد کو جاری رکھا جیلیں بھی کاٹیں اور اپنے اوپر بنائے گئے مقدمات کا سامنا کیا اور اپنی جماعت کو زندہ رکھا۔ ماضی قریب کے اکابرین نے جمہوریت، آزادی اظہار اور حقوق انسانی کے لیے جدوجہد کی۔ بیگم نصرت بھٹو جیسے اور بیگم کلثوم نواز جیسے درخشاں ستاروں سے ہمارا دامن بھرا ہوا ہے خالی نہیں۔

  • گلی گلی نگر نگر  ، دو نومبر! دو نومبر،تحریر : ریاض احمد احسان

    گلی گلی نگر نگر ، دو نومبر! دو نومبر،تحریر : ریاض احمد احسان

    مینارِ پاکستان،بادشاہی مسجد اور اسکی مضافاتی فضاؤں میں ولولوں اور جذبوں کا طوفان ہے،زمین کے ذرے ذرے میں ایک نیا عزم جاگ رہاہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ورکرز کنونشن قریب ہے وہ لمحہ جس کی دھڑکن ملت کے سینے میں تیزی سے دھڑک رہی ہے، وہ دن جب لاہور کے مینار سے پھر نعرۂ تکبیر کی صدائیں ایک نئی توانائی کے ساتھ بلند ہوں گی

    اہلِ ایمان جانتے ہیں کہ یہ وہی مینار ہے جس نے غلامی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلایا تھا،جس کے سائے تلے قوم نے اپنے وجود اور مستقبل کا اعلان کیا تھا آج پھر وہی مینار پکار رہا ہے آج پھر وہی فضا گواہ بننے والی ہے کہ اس قوم کا ضمیر جاگ چکا ہے،اس کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں اور اس کے کارکن میدان میں اتر چکے ہیں اس وقت ملک کا کوئی گوشہ،کوئی کونا ایسا نہیں جہاں اس پیغام کی گونج نہ پہنچی ہو۔

    بلوچستان کے ریگزاروں سے لے کر وادیٔ سوات کے نیلگوں چشموں تک، سندھ کے صحراؤں سے پنجاب کے زرخیز کھیتوں تک، کشمیر کے برف پوش پہاڑوں سے کراچی کے ساحلوں تک ایک ہی ولولہ ہے، ایک ہی جذبہ ہےایک ہی خواب ہے، ایک ہی پکار ہے اور ایک ہی دعوت ہے کہ دو نومبر کو مینارِ پاکستان کے سائے تلے قوم اپنی وحدت کا مظاہرہ کرے گی، اپنے ایمان کی تجدید کرے گی، اپنے عہدکو نبھانے کے لیے عزمِ تازہ سے جسم باندھے گی کہ آج اساتذہ اپنے شاگردوں کو جوشِ ملی کا سبق دے رہے ہیں،علماء و مشائخ محراب و منبر سے ملت کو اتحاد کی دعوت دے رہے ہیں۔تاجر اپنے دکانوں پر، مزدور اپنے کارخانوں میں، کسان اپنے کھیتوں میں، طلباء اپنے ہاسٹلز میں اور وکلاء اپنے بار رومز میں سب ایک ہی آواز میں لبیک مینارِ پاکستان ،لبیک مرکزی مسلم لیگ کہتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ فاتح قوم اور متحد قوم کا حقیقی چہرہ اور تعارف پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہی ہے

    اوورسیز پاکستانی بھی جذبات کے دریا بن گئے ہیں
    لندن کی سڑکوں سے، نیویارک کے ایونیو سے، دبئی کے بازاروں سے، جدہ و مدینہ کی مقدس فضاؤں سے وہ سب ایک ہی نعرہ دہرا رہے ہیں کہہم ارضِ پاک کے ساتھ ہیں، ہم نظریۂ پاکستان کے محافظ ہیں

    وہ جو دیارِ غیر میں ہیں ان کے دل آج بھی اسی خاک سے بندھے ہیں جسے علامہ اقبال نے “ارضِ پاک” کہا تھا، جس کے لیے قائدِ اعظم نے اپنی جوانی، اپنی صحت، اپنی زندگی نثار کر دی تھی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قائدین سے کارکنان تک دن رات سرگرم عمل ہیں،کہیں بینر لگ رہے ہیں، کہیں وال چاکنگ ہو رہی ہے، کہیں گلیوں میں ترانے گونج رہے ہیں،کہیں تربیتی نشستیں ہو رہی ہیں،کہیں دعوتی دسترخوان سجائے جا رہے ہیںآئی ٹی اسپیشلسٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آسانیاں اور آسودگیاں بانٹتے دکھائی دے رہے ہیں،گرافکس والے اپنا ہنر آزما رہے ہیں،شعبہ خدمتِ خلق مکمل فعال،متحرک اور توانا ہے
    شعبہ میڈیکل مکمل فعال ہے ،ورکرز کنونشن کی حفاظت پر مامور لوگ سربسجدہ ہو کر اللہ رب العزت کی مدد مانگ رہے ہیں ،جماعتی ترجمان مین اسٹریم میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا تک کی موثر اور جامع رہنمائی کر رہے ہیں،عدالتوں کے وکلاء عدل کے ایوانوں سے نکل کر پیغامِ وحدت عام کر رہے ہیں۔تاجر و صنعتکار اپنی مجلسوں میں وطن کی تعمیر کا عہد دہرا رہے ہیں۔اساتذہ اپنے شاگردوں میں اُمید کے چراغ جلا رہے ہیں۔اور کسان وہی مٹی کے بیٹے اپنے کھیتوں میں پسینہ بہاتے ہوئے کہہ رہے ہیں..ہم نے زمین سے سونا اگایا، اب ہم قوم کے دلوں میں اُمید اگائیں گے اور اپنے پانیوں پر پہرہ دیں گے..ان کے چہرے دھوپ سے تمتمائے ہوئے ہیں لیکن ان آنکھوں میں روشنی ہے، ایمان کی روشنی، وطن کی محبت کی روشنی۔

    یہ صرف ایک ورکر کنونشن نہیں یہ قوم،ملک اور سلطنت کی روح کا احیاء ہے۔
    یہ مینارِ پاکستان کے عہد کی تجدید ہے، یہ قراردادِ لاہور کے وعدے کی تکمیل ہے۔
    یہ وہ دن ہے جب قوم اپنے خالق کے حضور سرِ نیاز جھکائے گی، اپنے وطن سے وفا کا عہد دہرائے گی
    اور کہے گی
    ہم نظریۂ پاکستان کے سپاہی ہیں، ہم اتحاد، ایمان اور نظم کے پرچم دار ہیں
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اسی بیانیے کا اظہار کیا ہے کہ قومیں نعرے یا دعوے سے نہیں۔کردار سے بنتی ہیں
    اور کردار اسی وقت جنم لیتا ہے جب دلوں میں ایک مقصد، ایک درد اور ایک سوز بیدار ہو۔
    دو نومبر کا دن وہی سوز جگانے والا دن ہے۔
    دو نومبر کا سورج گواہ ہوگا
    کہ یہ قوم بکھری نہیں، متحد ہے
    مایوس نہیں، پرعزم ہے
    خاموش نہیں، بول رہی ہے
    اور اس کی زبان پر ایک ہی پیغام ہے
    ایمان، اتحاد، نظم
    یہی ہماری پہچان ہے

    اے فرزندانِ پاکستان!دو نومبر کا یہ ورکرز کنونشن آپ کو اکٹھا کر رہا ہے
    اپنے خالق کے نام پر، اپنے شہیدوں کے لہو پر، اپنے قائد کے خواب پر
    محسنِ شہ رگ پاکستان کی ہدایت پر
    آؤ دو نومبر کو مینارِ پاکستان کی آغوش میں وعدہ کریں
    کہ ہم اس ملک کو جہالت سے علم کی طرف
    نفرت سے محبت کی طرف
    انتشار سے استحکام کی طرف
    مایوسی سے عزم و یقیں کی طرف
    خدمتِ ذات سے خدمتِ انسانیت کی طرف
    بے راہ روی سے ذمہ داری کی طرف
    تخریب سے تعمیر کی طرف
    بے روزگاری سے روزگار کی طرف
    بے ہنری سے ہنر کی طرف
    اور بدامنی سے امن کی طرف
    لے کر جائیں گے
    یہی ہے اصل انقلاب — یہی ہے اصل پاکستان
    اور یہی ہے
    گلی گلی نگر نگر _،،،دو نومبر!دونومبر
    کا ایک مقصد اور نامکمل پیغام کہ ابھی بہت سی باتیں،حکمت عملیاں ،منصوبے اور سرپرائز باقی ہیں

  • پاکستانی عوامی نمائندے خوف کی علامت کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی عوامی نمائندے خوف کی علامت کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کے ہر مہذب اور جمہوری ملک میں پارلیمنٹ وہ ادارہ سمجھا جاتا ہے جہاں عوام کی آواز سنی جاتی ہے ان کے مسائل حل کیے جاتے ہیں اور ان کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔ وہاں کے پارلیمنٹیرین اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں ان کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہوتا ہے۔ وہ عوام کے درمیان رہتے ہیں ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے طرز عمل سے اپنے ملک کی عزت وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے ہمارے ملک کے کہیں پارلیمنٹیرین جو عوامی نمائندے کہلاتے ہیں عوام میں خوف اور اضطراب کی علامت بن چکے ہیں۔ اُن کے ارد گرد پانچ، پانچ، چھ، چھ مسلح گارڈز ہوتے ہیں۔ جدید اسلحہ اور کلاشنکوف سے لیس قافلے عوامی سڑکوں پر دوڑتے نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً عوام جنہیں ان نمائندوں سے امید اور تحفظ کا احساس ہونا چاہیے ان کے سامنے خود کو غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کرتی ہے۔ یہ رویہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے

    عوامی نمائندہ وہ ہوتا ہے جو اپنے کردار، علم اور خدمت سے لوگوں کے دل جیتے۔ نہ کہ اپنی طاقت اور اسلحے کے زور پر جب عوام کے نمائندے ہی عوام کو خوفزدہ کرنے لگیں تو پھر ریاستی اداروں، قانون اور انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونا لازمی ہے۔ اس وقت وزیراعلٰی پنجاب جنہوں نے صوبے میں گڈ گورننس، میرٹ اور عوامی فلاح کے لیے کئی بہترین اقدامات کیے ہیں یہ امید ہے کہ وہ اس سنگین مسلے پر بھی توجہ دیں۔ ضروری ہے کہ ملک کی تمام اسمبلیوں میں ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی یا عوامی نمائندہ ذاتی مسلح گارڈز رکھنے کا مجاز نہ ہو۔ اگر ریاست اپنے عوام کی حفاظت کی ضامن ہے تو پھر کسی عوامی نمائندے کو اپنی ذاتی فورس بنانے کی ضرورت نہیں۔ بہت ہو چکا وقت ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرین اپنی اصل ذمہ داریوں کی طرف لوٹیں۔ وہ قانون سازی جو عوام کے حق میں ہو، وہ پالیسیاں جو تعلیم، صحت اور انصاف کو مضبوط بنائیں اور وہ اقدامات جو ملک میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ نہیں بلکہ عوام کا اعتماد اور محبت ہے اگر ہمارے عوامی نمائندے اس حقیقت کو سمجھ لیں اور نہ صرف عوام کا خوف ختم ہوگا بلکہ پاکستان کا سیاسی کلچر بھی مثبت سمت اختیار کرے گا۔ عوام نمائندوں سے خوف نہیں امید چاہتی ہے وہ امید جو خدمت، انصاف اور کردار سے جنم لیتی ہے۔ اگر عوامی نمائندے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی عادات اور رویوں میں تبدیلی لے آئیں تو یقیناً پاکستان ایک مہذب پرامن اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔

  • تبصرہ کتب،پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث

    تبصرہ کتب،پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث

    جب ہم دنیا میں حیات ہوں تو بچے ہمارے لیے رحمت ، راحت اور خوشی کا باعث بن سکتے ہیں اور جب ہم دنیا سے چلے جائیں گے تو اس وقت ہمارے بچے ہمارے لیے بخشش ، نجات اور صدقہ جاریہ بن سکتے ہیں لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہوگا جب ہم بچوں کی تربیت اچھی کریں گے، ان کے اخلاق وکردار کو سجانے اور سنوارنے کے لیے محنت کریں گے اور انھیں دین کی تعلیمات سے آشنا کریں گے لیکن اگر ہم بچوں کی تربیت اچھی نہیں کریں گے اور کا تعلق دین سے نہیں جوڑیں گے تو کل قیامت کے دن یہی بچے ہمارا گریبان پکڑیں گے اور اللہ کی عدالت میں ہم پر دعویٰ دائر کریں گے تب ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا ۔ بچوں کی اچھی تربیت والدین کا فرض ہے ۔ اچھی تربیت میں عمدہ کتابیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ بچوں کے لیے اصلاحی اخلاقی کتابیں شائع کرنے میں دارالسلام انٹرنیشنل کا ایک نام اور مقام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ اس کتاب میں 60ایسی احادیث شامل کی گئی ہیں جو روزمرہ زندگی کے معاملات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ مثلاََ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، حیا ایمان کا حصہ ہے ، نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے ، جنت کی کنجی نماز ہے ، جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ، تم سچائی پر قائم رہو ، مظلوم کی بدعا سے بچو ، تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے ہاتھ ہاتھ سے نہ کھائے ، بے شک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا ، جہنم کی آگ سے بچو ، رشتے داروں سے حسن سلوک عمر میں اضافے کا بعث بنتا ہے ، جھوٹ سے بچو ، جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ اپنی ہتھلیاں اپنے چہرے پر رکھے اور اپنی آواز پست رکھے ، بے شک صدقہ اللہ کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے ، جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ، ماں کی خدمت کرو بلاشبہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے ، جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرے گا ، چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا ، اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے ، جس نے خیر وبھلائی کے کام کی رہنمائی کی اسے نیکی کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا ۔ اسی طرح دیگر احادیث بھی اصلاحی اور اخلاقی موضوع پر ہیں ۔ان احادیث سے اس کتاب کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ بات معلوم ہے کہ اللہ نے انسان کی زندگی کو مزین کیا ہے اولاد کے ساتھ اورمال کے ساتھ۔ یہ اولاد اور مال انسان کے لیے آزمائش ہے۔ مال ہو تو انسان کا حق ہے کہ اسے جائز طریقے سے کمائے اور جائز طریقے سے خرچ کرے اولاد ہو تو انسان کا حق ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرے ۔ اولاد کی تربیت میں غفلت سنگین جرم ہے جس کے دنیا میں بھی انسان کو نتائج بھگتنے پڑتے ہیں اور آخرت میں تو اس کے لیے عذاب عظم ہے ہی ۔ بچوں کو اگر بچپن ہی سے اچھی کتابیں پڑھنے کے لیے دی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی تربیت اچھی نہ ہو ۔ رسول ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لیے ہدایت کا شفاف سرچشمہ ہے ۔ ہمیں زندگی کے ہر ہر لمحے آپ کی پاکیزہ سیرت اور احادیث سے رہنمائی ملتی ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی بڑی محبت سے احادیث اور دین کی باتیں نہ صرف سکھیں بلکہ انھیں محفوظ بھی کیا ۔ آج وہ تمام ذخیرہ احادیث ہماری رہنمائی کے لیے ہمارے پاس موجود ہے ۔ کتب احادیث میں بہت ضخیم کتب بھی موجود ہیں جن کی اپنی اہمیت ہے تاہم مختصر کتب احادیث کی بھی اپنی اہمیت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پیارے بچوں کے ل میں ایسی 60مختصر احادیث جمع کی گئی ہیں جو ہمارے اور ہمارے بچوں بچیوں کے اخلاق اور کردار کو سجا اور سنوار سکتی ہیں ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر شائع کردہ اس کتاب کی قیمت 250روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم نزد لوئر مال سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے ۔

  • جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیویارک، واشنگٹن، ڈی سی، شکاگو، میامی، اور لاس اینجلس، میں امریکہ بھر کے شہروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف (NO KINGS) کے مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی. وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد امریکی صدر کے خلاف یہ پہلا بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے. امریکی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہ احتجاج پورے یورپ میں امریکی سفارت خانوں کے باہر ہوا۔ مظاہرین نے NO KINGS کے نام سے احتجاج کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر خود کو جمہوری لیڈر کے بجائے بادشاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ امریکی سیاسی روایت میں بادشاہ کا تصور نہایت حساس ہے کیونکہ امریکہ کی بنیاد ہی برطانیہ کی بادشاہت کے خلاف بغاوت میں رکھی گئی تھی۔ اس لیے جب ایک صدر خود کو اس علامت کے ذریعے پیش کرے تو یہ سیاسی شعور رکھنے والے امریکیوں کے لیے جمہوریت پر خطرے کی گھنٹی محسوس ہوتی ہے۔ لاکھوں مظاہرین نے NO KINGS کو جمہوریت کے دفاع کے نعرے کے طور پر اپنایا. اس سے حزبِ مخالف کو ایک مضبوط اخلاقی موقف ملا کہ وہ عوامی سطح پر صدر کی طاقت کے حد سے زیادہ کہ استعمال کے خلاف ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ قدامت پسند ریپبلکن ووٹرز نے بھی اس نعرے سے اتفاق کیا حالانکہ وہ ٹرمپ کے حامی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے یہ تحریک پارٹی لائن سے آگے بڑھ کر جمہوری اصولوں کی بات کر رہی ہے۔ ٹرمپ کی ویڈیوز نے آن لائن دنیا میں طنز اور جوابی بیانیوں کی جنگ چھیڑ دی۔ مظاہرین نے ٹرمپ کے KING TRUMP کو الٹا استعمال کیا. NO KINGS کا بیش ٹیگ ٹویٹر پر چند گھنٹوں میں ایک ٹرینڈ بن گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سیاسی طنز دو دھاری تلوار ہے جس سے مقبولیت کے ساتھ ساتھ مخالفت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ویڈیو نے امریکی معاشرے میں پہلے سے موجود تقسیم ڈیموکریٹس بمقابلہ ریپبلکن، شہری، اور دیہی علاقوں کو مزید گہرا کر دیا۔ ایک طبقہ اسے اظہارِ آزادی کہہ کر دفاع کر رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے عوام کی تذلیل سمجھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کی سیاست اب صرف پالیسی نہیں بلکہ جذباتی وفاداری کے جذبات پر مبنی ہے۔

    امریکی نوجوان طبقہ جو عام طور پر سیاست سے دور رہتا ہے اس بار سوشل میڈیا کے ذریعے سرگرم ہوا تحریک نے ان کے لیے جمہوریت اور عوامی NO KINGS آواز کی معنویت کو زندہ کیا یعنی سیاسی شمولیت میں اضافہ ممکن ہوا اس کے مستقبل کی سیاست پر اثرات پڑھیں گے۔ پارٹی کے اندر بعض سینئر رہنماؤں نے نجی طور پر تشویش ظاہر کی کہ ایسی ویڈیو اعتدال پسند ووٹرز کو دور کر سکتی ہیں۔ کچھ پارٹی رہنما اس رجحان کو (CULT POLITICS) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو روایتی ریپبلیکن اقتدار جیسے ادارہ جاتی احترام کے خلاف جا رہی ہے۔

    دوسری طرف ڈیموکریٹس نے اس واقعے کو بے انتخابی بیانیہ میں شامل کر لیا ہم بادشاہ نہیں چاہتے ہمیں عوامی حکمرانی چاہیے۔ اگر یہ بیانیہ موثر رہا تو آئندہ انتخابات میں اسے سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔ کنگ ٹرمپ ویڈیو محض طنزیہ ویڈیو نہیں رہا یہ اب امریکی سیاست کی نئی علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف یہ طاقت کی سیاست کی نمائندگی کرتا ہے دوسری طرف یہ عوام کی خود مختاری کے دفاع کی علامت بن گیا ہے۔ لہذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ ویڈیو دراصل امریکی جمہوریت کے بیانیہ کی جنگ کا نیا محاذ بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہیے اور اپنا رخ جمہور کی طرف موڑ لینا چاہیے انتخابی اصلاحات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت عوامی دباؤ کے تحت اصلاح کرتی ہے تو وہ اصلاح نہیں بلکہ پسپائی ہوتی ہے۔ جس طرح آج لاکھوں افراد صدر ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر نکلے، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں جمہوریت لڑکھڑا چکی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ملک میں قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کو مستحکم کرنے پر توجہ دینا ہوگی اور ان ممالک سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔

  • عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں

    عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے

    وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے

    پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی ہے فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جذبے، ایمان اور قربانی کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ قوم کے اجتماعی شعور میں ایک خلا پیدا ہوا یہی خلا آج پاکستان کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب نے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ مذہبی جماعتوں نے دین کو خدمت خلق کے بجائے سیاسی طاقت کے اصول کا ذریعہ بنایا۔ عوام جو تعلیم اور شعور کی کمی کا شکار ہیں ان نعروں اور مذہبی جذبات کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ یہ وہی کیفیت ہے جس میں عقل پر جذبہ غالب آ جاتا ہے۔ تحریکِ لبیک جیسی دوسری جماعتیں اپنے مخصوص واقعات پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج تو کرتی ہیں مگر ان کے اقدامات سے ریاستی نظام، عوامی زندگی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا فلسطین و اسرائیل کے درمیان امن کی بات کر رہی ہے۔ جبکہ ہم ذرا سوچیے اپنی ہی زمین پر انتشار کا منظر دنیا کو دکھا رہے ہیں۔

    قوموں کی ترقی علم اور عمل کے دو ستونوں پر کھڑی ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً ایک عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کا المیہ یہ نہیں کہ وسائل نہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ شعور نہیں۔ جب عوام علم سے روشنی حاصل کریں گے وہ کسی کے جال میں نہیں پھنسیں گے نہ مذہبی جذبات کے نہ سیاسی نعروں کے۔ اور جب قوم باشعور ہو جائے گی تو پاکستان واقعی وہی بنے گا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا ایک روشن، باوقار اور متحد قوم۔ پاکستان ایک عظیم مقصد کے تحت معرضِ وجود میں آیا تاکہ مسلمان ایک آزاد وطن میں اپنی دینی، تہذیبی اور فکری شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خواب کہیں دھندلا سا ہو گیا۔ آج قوم ایک ایسے دورہ رائے پر کھڑی ہے جہاں جذبات نے عقل پر غلبہ پا لیا ہے اور قوم علم و شعور سے محروم نظر آتی ہے۔ پاکستان کے عوام کے دل میں مذہب کی محبت بے پناہ ہے مگر اسی جذبے کا غلط استعمال بعض مذہبی و سیاسی گروہ اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تعلیم و شعور کی کمی کے باعث عوام اُن نعروں کے پیچھے لگ جاتے ہیں بغیر یہ سوچے اس کا نتیجہ ملک و ملت پر کیا پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں تحریکِ لبیک کے مظاہرے اور سڑکوں کی بندش نے ملک کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا۔ ہر مہذب قوم کا دارومدار علم اور عمل پر ہوتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی حقیقی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ معاشرے میں دلیل کی جگہ نعروں نے لے لی ہے اور برداشت کے بجائے نفرت نے جنم لیا ہے۔

    پاک فوج اور جملہ ادارے ہمیشہ سے پاکستان کی سلامتی، وقار اور بقاء کی ضامن رہی ہے۔ جیسے ایک مرغی اپنے بچوں کو باز یا چِیل کے حملے سے بچانے کے لیے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے ویسے ہی پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ عناصر خواہ وہ بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہوں یا اندرونی انتشار پھیلانے والے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ اور افوائیں پھیلاتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کا مقصد قوم اور فوج کے درمیان اعتماد کی دیوار کو گرانا ہے حالانکہ فوج وہ ادارہ ہے جس نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس قوم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ وطن عزیز کو اپنے اصل مقصد کی طرف واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں۔