Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    کل میرا زندگی سے نیا تعارف ہوا۔ فیصل ٹاون مون مارکیٹ میں میں نے ایک ایسا واقعہ دیکھا جس نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ شاید اگر میں اس کو ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرتی تو بات کی تشریح آسان ہوجاتی مگر میں اس وقت بغیر کسی دباو کے مشاہدے کرنا چاہتی تھی۔

    رات کالی ہوچکی تھی ، لوگ کھانے کے بعد چائے کی چسکیاں لگا رہے تھے، کہیں قہقہے اور کہیں زندگی کی تلخیوں کی بات چل رہی تھی۔ مںظر وہاں رکا جب گھاس پر سوئے بچے کی اچانک آواز آئی ” ٹائم ہوگیا؟ ” اس کا تکیہ ٹوٹے جوتے تھے لیکن اس کے چہرے کے اطمینان سے لگا رہا تھا گویا وہ روئی کا گولے ہوں۔ اسکی ماں نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا ” 10 بج گئے نیں اٹھ جا ” اور ساتھ ہی ایک ڈبہ اٹھایا۔ بچے نے ایک توڑے میں سے گولڈن جیکٹ نکالی، بٹن ٹھیک کئے اور فوری سیدھا ہوکے بیٹھ گیا۔ ماں نے ڈبے میں سے گولڈن رنگ اس کے منہ اور گردن پر ملنا شروع کیا۔ وہ ایسے بیٹھا رہا جیسے اس کو اس کا کام معلوم ہو اور کسی سیٹ پر پرفارمنس کیلئے جارہا ہو۔ اس کے فوری بعد اس نے ٹوپی پہنی اور درخت کے نیچے پڑے تھیلے میں سے لائٹوں والے جوگر نکال کر پہنے۔ مجھے وہ تھکا ہوا دکھائی دیا مگر اس نے کسی جوان مرد کی طرح خود کو تھپکی دی اور وہاں سے نکل پڑا۔ اسکی ماں دوپٹہ اوڑھ کر وہیں زمین پر سو گئی جہاں اس کا باپ پہلے سے سویا ہوا تھا۔
    میں نے گردن موڑ کر اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ وہ ایک ٹیبل پر گیا اور اچانک روبوٹ بن گیا۔ بچہ بہت چھوٹا تھا لوگ فوری پیسےدے رہے تھے۔ کچھ دیر میں میری باری آئی وہ ایسے ہی مخصوص انداز میں مجھ تک پہنچا میں نے اس سے پیار سے پوچھا ” تھک گئے ہو؟ اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور بڑی بردباری سے کہا ” نہیں ” میں نے اس کی ٹوپی کو سرکاتے ہوئے پوچھا سکول جاو گے؟ اس بار اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لیا اور ذرا اونچی آواز میں کہا ” نہیں ”

    اس کے بعد وہ خاموش کھڑا رہا وہ میرے لیے آج بہت سے سوال چھوڑ گیا تھا کیونکہ اس کی نم آنکھیں، تھکا ہوا چہرہ اور دوسری طرف سوئے ہوئے اس کے ماں باپ اور بہن بھائی اسکی ہمت نہیں آزمائش تھے۔ اسکا لہجہ بہت تکلیف دہ تھا۔
    وہ وہاں سے چلا تھا زندگی کے 5 سال نے اسکو 50 سال کا درد دیا تھا۔
    میں ہرگز نہیں کہہ رہی کہ وہ قابل ترس ہے مگر میں نے اسکے حوصلے سے سیکھا کہ زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے۔

  • میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی

    میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی

    گدائے درِ پنجتن پاک علیہم السلام
    sadiaambergilani@gmail.com

    غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم
    نہایت اس کی حُسینؑ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

    روز ء اول سے حق کی سربلندی کے لئیے اللہ رب العزت کے فرمانبردار و برگزیدہ بندے اللہ رب العزت کے ہر حکم کی تعمیل کرتے رہے ہیں۔ ماہِ محرم الحرام نواسہِ رسول اللہﷺ، جگر گوشہ علیؑ و بتولؑ، برادرِحضرت حسن المجتبیؑ،رکنِ اصحابِ کساءؑ،سید الشہداءؑ، سردارؑ ِ جنت، ریحانۃ النّبیؐ، پیکر ِ صبر و رضا، مثلِ عشق و وفا، سفیر ِ حق، شہنشاہِؑ کربلا سیدنا حضرت حسین ابن علی ؑ سے منسوب ہے۔ اس ماہ کے اوائل ایام سے یومِ عاشور کی شام ڈھلنے تک نبیِ آخر الزمان رحمت اللعالمین ﷺ کے پیارے نواسے امام ء عالی مقام مولا حسین ابن علی علیہ السلام نے دین ء حق کی سر بلندی کے لئیے اپنے صبر و استقامت اور شجاعت سے وہ مثال قائم کی ۔ کہ جو تاقیامت انسانیت کے لئیے ایک مشعل ء راہ بن گئی۔

    امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علیؑ کی ولادت باسعادت روایات کے مطابق 3 شعبان المعظم 4ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؑ چمنِ زہراؑ و علیؑ کے دوسرے پھولؑ ہیں۔ آقا سرورِ کائنات ﷺ نے آپؑ کی ولادت باسعادت پہ تشریف لائے، خوشی کا اظہار فرمایا اور داھنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنیؐ زبان مبارک منہ میں دی۔اس طرح رسول اللہﷺ کا مقدس لعاب دھن حسین ؑ کی غذا بنا۔ رسول اللہﷺ بحکمِ ربی نام حسینؑ رکھا۔ اور ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔آپؑ کی کنیت ابا عبداللہ اور لقب سید الشہداءؑ ٹھہرا۔

    حضور سرور ء کائناتﷺ دونوں شہزادوں حسنین کریمیں علیھم السلام سے بے حد محبت فرماتے اور ان سے محبت رکھنے کا حکم رکھنے کا حکم بھی فرماتے۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا؛
    ’’جس نے حسنؑ اور حسینؑ سےمحبت کی ، اس نے مجھؐ سے محبت کی اور جس نے ان سے بعض رکھا اس نے مجھؐ سے بغض رکھا۔
    (سُنن ابن ماجہ :143)

    ترجمہ؛ ”حسنؑ اور حسینؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“۔( جامع الترمزی)

    حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین ؑ کی طرف دیکھ کر فرمایا:”اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔“
    (ترمذی، الجامع الصحیح، 5: 661، ابواب المناقب، رقم: 3782)

    یہ حسنین کریمین علیھم السلام سے محبتِ آقاِ دو جہاں ﷺ ہے۔ کہ کہیں رسولِ خدا ﷺ سجدہ طویل فرماتے ہیں۔ کہیں اپنے کندھوں مبارک پہ سوار فرماتے ہیں۔ اور کہیں انؑ کے لیے خطبہ روک کے منبر سے تشریف لاتے ہیں۔اور آغوشِ نبوتﷺ میں لے لیتے ہیں۔
    سید الشہداء ؑمولا امام حسین علیہ السلام سے رسول اللہﷺ کی محبت اس فرمان ء عالیشان سے ظاہر ہے۔ فرمایا؛
    ترجمہ:”حسینؑ مجھؐ سے ہے اور میں ؐ حسینؑ سے ہوں، جو حسینؑ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے، حسینؑ میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے۔“(سنن الترمذی، ابواب المناقب، (5/ 658 و659) برقم (3775)، ط/ شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابی الحلبی مصر)

    روایات سے ثابت ہے کہ رسولِ خداﷺ نے سیدنا حضرت حسینؑ کی شہادت کی خبر آپؑ کے بچپن میں ہی سنا دی تھی۔ اور غم کا اظہار فرمایا۔ ایک روایت کے مطابق ہے ۔
    عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے، ان کے ذمے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وضو کی خدمت تھی، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ابوعبداللہ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے؟ فرمایا: میں ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ! کیا کسی نے آپؐ کو غصہ دلایا، خیر تو ہے کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں؟ فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیلؑ اٹھ کر گئے ہیں، وہؑ کہہ رہے تھے کہ حسینؑ کو فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا، پھر انہوںؑ نے مجھؐ سے کہا کہ اگر آپؐ چاہیں تو میں آپؐ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں؟ میںؐ نے انہیںؑ اثبات میں جواب دیا، تو انہوںؑ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھؐے دے دی، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھےؐ قابو نہیں ہے۔ 
    (مسند احمد: 648)

    امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ پہ نظر ڈالیں۔تو آپؑ نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہﷺ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت مولاعلیؑؑ اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن المجتبیؑ کے ساتھ گزارا۔ آپؑ اصحابِ کساء(ع) میں شامل ہیں۔ اور اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے ساتھ مباہلہ میں بھی حاضر تھے۔ جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان میں شرکت فرمائی اور حق کا ساتھ دیا۔

    احادیث و روایات سے ثابت ہے ۔ کہ سید الشہداء سیدنا حسینؑ سیرت و صورت میں اپنے نانا جان سرور ء کائنات رسول خداﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔اور جو بھی آپؑ کو دیکھتا اسے رسول خداﷺ یاد آجاتے ۔
    امامِ عالی سیدنا حسینؑ حَلِیمُ الطَّبْع تھے۔ غلاموں سے درگز فرماتے۔ اور ان کو آزاد فرماتے۔ آپؑ ایک نہایت شجاع، عادل، بلند کردار اور پرہیزگار شخصیت کے مالک تھے۔
    سیدنا حضرت حسینؑ نے فرمایا؛
    "کوئی ایسی بات زبان پر مت لاؤ۔ جو تمہاری قدر و قیمت کو کم کر دے۔”
    (جلاء العیون جلد 2 صفحہ 205)

    امامِ شہداء سیدنا امام حسینؑ کی عظیم شخصیت کی مبارک خصوصیات میں سے ایک روشن خوبی ظلم کو قبول نہ کرنا تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ نواسہِ رسول اللہﷺ نے یزید(لعین) کے ظلم و ناانصافی کو تسلیم کرنے سے صاف انکار فرمایا اور علمِ حق بلند فرمایا۔ آپؑ نے راہِ خدا میں اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنا گھر بار لٹا کے دین حق کی آبیاری فرمائی۔
    واقعہِ کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا فلسفہ،ایک درس اور ایک عظیم مقصد کارفرما ہے۔ اور اس میں شخصیت و کردارِ سیدنا امام حسینؑ ایک مکمل درس گاہ نظر آتی ہے۔ واقعہِ کربلا کو سمجھنے کے لیے فلسفہِ حضرت حسینؑ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مستند تاریخی روایات کے مطابق رجب 60ھ/ 680 ء میں یزید(لعین) نے اسلامی اقدار اور دین کے احکامات کے منافی ظلم، جبر و استبداد پر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا اور بالجبر عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ مدینہ میں بیعت کے لئے سیدنا حسینؑ ابن علی ؑ کو مجبور کیا۔ اور اس سلسلہ میں امامِ عالی مقامؑ پہ سختی کرنے کا حکم جاری کیا۔ سیدنا حسینؑ سے بیعت لینا یزید کی مجبوری تھی۔ کیونکہ امت کی نگاہوں کا مرکز نواسہِ رسول اللہﷺ تھے۔ ظلم و بربریت کے خوف سے اہلِ مدینہ تو خاموش ہو سکتے تھے۔ مگر نواسہ ِ رسول اللہﷺ، ابنِ فاتؑحِ خیبر، سیدنا حسینؑ ابنِ علیؑ کہ جو حق گوئی و حق پرستی کے سائے میں جوان ہوئے ہوں ، جنؑ کی پرورش ہی آغوشِ نبوتﷺ میں ہوئی ہو۔ جنؑ کے سامنے اپنے نانا جان ﷺ کا واضح حکم موجود ہو،
    ترجمہ:”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہء حق کہنا ہے۔“ (ترمذی،أبو داود وابن ماجہٌ)
    جن پر اُس وقت دین خدا کو بچانے کی ذمہ داری عائد ہو رہی ہو، جن پر اُمت کی نگائیں ٹھہری ہوئی ہوں۔خاموش رہ کر ایک بے دین شخص کی بیعت کیسے فرما سکتے تھے۔
    سو سالار ِ شہداءؑ نے اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے حکم پہ عمل فرماتے ہوئے علمِ حق بلند فرمایا اور28 رجب 60ھ کو مدینہ سے مکہ اور پھر 8 ذوالحج 60ھ کو حالات کے تیور دیکھتے ہوئے حرمتِ کعبہ کو بچانے کی خاطر حج کو عمرے میں تبدیل کیا۔ اور مکہ سے کربلا کی طرف سفر فرمایا۔ کہ آپؑ احراموں میں تلواریں چھپائے یزید (لعین) کے بھیجے ہوئے قاتلوں اور ان کے ارادوں کو جان چکے تھے۔ خانوادہِ رسول اللہﷺ سمیت 72 نفوس اکرامؑ نے دینِ حق کی سر بلندی کے لئے قیام فرمایا۔
    شہنشاہِ کربلا سیدنا حسینؑ نے حر بن یزید ریاحی اور اس کے لشکر کے سامنے اپنے خطبے میں فرمایا۔
    "لوگ دنیا کے غلام ہیں ۔ اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے ۔ جب تک دین کے ساتھ ان کا مفاد وابستہ ہے۔ وہ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔ اور جب آزمائش کا وقت آتا ہے۔ تو دین دار تھوڑے رہ جاتے ہیں۔ ”
    (تحف العقول جلد 1 صفحہ 245, تاریخ الطبری جلد 4 صفحہ 300، بحار الأنوار جلد 78 صفحہ 117)

    2 محرم سنہ 61 ھ کو آپؑ اپنے اہل بیتؑ کیساتھ کربلا معلی تشریف فرما ہوئے۔معلوم فرمایا کہ اس جگہ کا کیا نام ہے۔ کربلا معلوم ہونے پر سید الشہداءؑ نے اس جگہ کو خریدا اور یہیں قیام کا فیصلہ فرمایا۔

    اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
    ترجمہ: ”اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔“(153)
    واقعہِ کربلا میں یوم عاشور کی اذانِ شبیہ پیغمبرؑ علیؑ اکبر بن حسینؑ بتاتی ہے۔ کہ اہل بیتؑ اور قرآن ساتھ ساتھ تھے۔ چھ ماہ کے شیر خوار شہید شہزادہ علی اصغرؑ بن حسینؑ سے لے کر 85 سالہ ضعیف صحابیِ رسولؐ حضرت حبیب ابنِ مظاہر اسدیؓ تک،ہر ایک کی قربانی بے مثال و لازوال نظر آتی ہے۔ اگر اہلِ بیت اطہارؑ کی بیبیوں ؑ کا ذکر ہو۔ تو سیدہ زینبؑ بنت علیؑ سے لے معصوم بچی شہزادی سکینہ بنت حسینؑ تک ہر ایک صبر و ہمت کا پیکر تھیں۔

    کربلا دینِ حق کی سربلندی کے لئیے صبر و رضا اور ایثار و شجاعت کی ایک ایسی عظیم و لازوال داستان ہے۔ جہاں ہر کردار سخاوت و جرات میں ایک انمول مثال ہے۔ روایات کے مطابق واقعہِ کربلا میں سیدنا حسینؑ کے چار بھائی جناب حضرت عباسؓ بن علیؑ علمدار ِکربلا، حضرت جعفرؓ بن علیؑ، حضرت عبداللؓہ بن علیؑ اور حضرت عثمانؓ بن علیؑ جو کہ مولا علی المرتضی علیہ السلام اور بی بی جناب ام البنینؓ کے بیٹؓے تھے شہید ہوئے۔ شبیہ پیغمبر روایات کے مطابق مولا امام حسن علیہ السلام کے 4 شہزادےؑ اپنے چچا جان امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ کے ساتھ شریک ِجہاد تھے ۔ جن میں سے تین جناب سیدنا ابوبکرؑ بن حسنؑ، سیدنا قاسمؑ بن حسنؑ، سیدنا عبداللہؑ بن حسنؑ کربلا میں شہید ہوئے۔ اور ایک جناب سیدنا حسنؑ مثنی بن حسنؑ شیدید زخمی اور پھر قید ہوئے ۔

    10 محرم 61ھ/ 680ء یوم عاشور،وہ خون ریز و قیامت خیز دن جو اہل بیت رسول اللہﷺ پہ گزر گیا۔ وہی اہل بیتؑ کہ جوؑ شاملِ درود ہیں۔ جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے امت کو خدا کا خوف دلایا تھا۔ انؑہی کو پیاسا شہید کر دیا گیا۔ خُونِ عترتِ رحمۃ للعالمینﷺ تپتے ریگزار میں بہایا گیا۔ جنؑ کو رسول اللہﷺ چومتے، سونگھتے اور سینہِ اقدس سے لگاتے تھے۔ انہیںؑ سردارِؑ جنت ، نواسہ رسول اللہﷺ ، جگر گوشہِ بتولؑ سیدنا حسین ابن علی ؑ کے گلے پہ خنجر چلایا گیا۔ رسول اللہﷺ کے کندھوں کے سوارؑ کے لاشے پہ گھوڑے دوڑائے گئے۔باپردہ بییبوں ؑ پہ شام غریباں طاری کر دی گئی۔ انؑ کے خیمے جلائے گئے۔ اسیر بنایا گیا۔ بازاروں سے گزارا گیا۔ دربار میں کھڑا گیا کیا گیا۔ قید و بند کی ایذائیں پہنچائی گئیں۔۔۔ امت کے رونے کے لئیے تو یہی کافی ہے۔ کہ نواسہ رسول اللہﷺ جن کے گھر سے پردے کی ابتدا ہوئی تھی۔ انہیؑ کو ایک شرابی کے دربار میں بحیثیت قیدی کھڑا ہونا پڑا۔
    امت پہ رونا فرض ہے۔ کہ اس دن انؐ پیغمبر رحمت اللعالمینﷺکے گھرانے کو شہید کیا گیا۔ جنہوںؑ نے امت کو کلمہ پڑھنا اور امت بننا سیکھایا۔

    شہادتِ امامِ شہداءؑ پہ غم کرنا سنت رسول اللہﷺ ہے۔ جو واقعہ کربلا سے پہلے بھی ثابت ہے۔ اور بعد میں بھی۔ شہادتِ امامِ عالی مقام وہ غم ہے۔ کہ جس پہ کائنات کی ہر شے اور جن و انس نے اشک بہائے۔
    طبرانی میں درج ہے۔ کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں۔ کہ میں نے حضرت حسین بن علی علیہ السلام پر جنوں کو نوحہ کرتے ہوئے سنا۔

    واقعہِ کربلا انسانی تاریخ کا وہ خونی باب ہے۔ کہ جس پہ تاقیامت نسلِ انسانی آنسو بہاتی رہے گی۔

    حق و باطل کی جنگ شروع سے اور آخر تک رہے گی۔ مگر واقعہِ کربلا سے ہمیں حسینیت کا درس ملتا ہے۔ کہ "امر باالمعروف اور نہی المنکر” کے نفاذ کے لئیے ظالم کے لشکر کے سامنے 72 بھی نکلیں۔ تو کافی ثابت ہوتے ہیں۔

    امام حسینؑ نے انسان میں حق کے لئیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی سوچ کو بیدار فرمایا ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے۔ کہ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ نے دامنِ رضائے خداوندی نہ چھوڑا اور نہ ہی ظالم و جابر کے ظلم و جبر کو تسلیم کیا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آج ہر باضمیر خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ سیدنا حسین ابنِ علیؑ کو اپنا رہنما مانتا ہے۔ حسنیت کل بھی ژندہ تھی۔ اور تاقیامت ژندہ رہے گی۔
    لاکھوں کروڑوں سلام ہو حق پرستوں کے بادشاہ سیدنا حسینؑ ابن علیؑ اور آپؑ کے جانثار ساتھیوںؓ پہ۔؎
    ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
    سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی

  • آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ

    آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ

    کچھ لوگوں کی حوصلہ افزائی انسان کو بہت تقویت دیتی ہے، آگے بڑھنے کی جستجو اور لگن کو تیز کرتی ہے۔ جب میں پہلی مرتبہ اظہر بھائی سے ملی ایک نو آموز رائٹر تھی جس کی اکا دکا تحریریں کسی میگزین میں شائع ہوئی تھیں۔ لیکن ان تحریروں پر تبصرہ کرنا، مختلف آئیڈیاز دینا کہ کن موضوعات پر بچوں کے لیے لکھنا چاہیے۔ یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کرنا کہ میں چاہتا ہوں میری بیٹی آپ کی طرح بنے۔۔۔ یہ لفظ میری زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں جو اس شخص کے الفاظ تھے جو خود بہت بڑا ادیب، معاشرے میں ایک بہت اچھی حیثیت رکھتا تھا۔ مجھے جب ایوارڈ ملا تو انہوں نے مجھے اسلام آباد سے لاہور آنے کا حکم دیا کہ اتنی جلدی کوئی بڑا پروگرام تو ممکن نہیں لیکن کوئی چھوٹی موٹی تقریب کر لیں گے۔۔ قذافی اسٹیڈیم کی ای لائبریری میں ہونے والی وہ تقریب بھی کوئی چھوٹی سی نہ تھی۔۔ لاہور کے علاوہ دور دور سے بھی بہت سے ادیبوں نے شرکت کی تھی۔۔۔ اور انہوں نے مجھے اتنا بڑا گلدستہ دیا تھا کہ آج تک زندگی میں ویسا گلدستہ دوبارہ نہیں ملا۔۔۔۔

    پھر پچھلے سال جب میں آخری مرتبہ لاہور چلڈرن لٹریری سوسائٹی کی تقریب میں گئی تھی ۔۔ ایک حادثے کی وجہ سے (اس حادثہ ہی کہنا چاہیے) میں تقریب میں جب پہنچی جب تقریباً مہمان جاچکے تھے لیکن اظہر بھائی ابھی بھی تھے۔۔۔
    یا پھر کچھ عرصہ قبل جب ان کی علالت کا پتا چلا تو میں نے انہیں میسج کیا ۔۔ تب ہشاش بشاش آواز میں جواب دیا تھا کہ ارے کچھ نہیں! بیمار ہو گیا تھا اب تو آفس آنا بھی شروع کردیا۔۔ ابھی بھی آفس میں ہی ہوں۔۔۔
    آج صبح اچانک یہ خبر سنی تو پھر فیس بک کھولنے سے دل ڈر رہا تھا۔۔ کاش یہ سچ نہ ہو۔۔
    اتنی دور چلے گئے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بہترین میزبانی کرے، جیسے آپ دنیا میں سب کے لیے مہربان تھے خدائے ذوالجلال اس سے بڑھ کر آپ پر مہربان ہو۔۔
    خدا آپ کے بچوں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
    آپ ہمیشہ ہماری دعاؤں میں رہیں گے۔۔
    اللہ آپ سے راضی ہو ۔۔
    خدا حافظ ۔۔۔
    دل غم سے بھرا ہوا ہے ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں
    انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

  • محرم: قربانی، صبر اور امت کا سبق،تحریر: اقصیٰ جبار

    محرم: قربانی، صبر اور امت کا سبق،تحریر: اقصیٰ جبار

    اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام کے بابرکت مہینے سے ہوتا ہے، جو اپنی تاریخی عظمت، روحانی اہمیت اور قربانیوں کی یادگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک مذہبی موقع نہیں بلکہ ایک لمحۂ فکر اور خود احتسابی کا موقع ہے۔ یہ ہمیں اپنے ماضی کو یاد دلانے، حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے عزم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    محرم الحرام کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کربلا کے میدان میں حق اور باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ گئی جو رہتی دنیا تک حق پر ڈٹ جانے کا پیغام دیتی رہے گی۔ امام حسینؓ نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ اصولوں پر سمجھوتا کسی صورت قبول نہیں۔ ان کی شہادت ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور صبر و استقامت کے ساتھ حق کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے۔

    محرم کی عظمت میں حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کا واقعہ بھی شامل ہے۔ وہ خلیفہ راشد تھے جنہوں نے اسلام کے عادلانہ اصولوں پر مبنی ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جو آج بھی مثالی ہے۔ حضرت عمرؓ کی شہادت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قیادت صرف اقتدار کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری، انصاف اور رعایا کی خدمت کا ایک عظیم فریضہ ہے۔

    آج کی امت مسلمہ ماضی کی اس عظمت کو بھول چکی ہے۔ وہ امت جو کبھی دنیا کے لیے علم، عدل اور اخلاق کی مثال تھی، آج انتشار، فرقہ واریت، اور معاشرتی زبوں حالی کا شکار ہے۔ فرقہ واریت نے مسلمانوں کو تقسیم کر دیا ہے اور ہم نے اپنی توجہ ان باتوں پر مرکوز کر لی ہے جو ہمیں آپس میں دور کرتی ہیں۔ تعلیم کا فقدان، معیشت کی کمزوری اور قیادت کی کمی نے امت کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ اپنی پہچان کھو چکی ہے۔

    محرم الحرام کا پیغام امت مسلمہ کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں فرقہ واریت کو چھوڑ کر مشترکہ مقاصد پر توجہ دینی ہوگی، تاکہ ہم اپنے مسائل کو حل کر سکیں۔ تعلیم اور علم کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انصاف کا فقدان ہو، وہاں ترقی ممکن نہیں۔ ہمیں اپنے عدالتی نظام اور قیادت میں وہی عدل و مساوات لانی ہوگی جو ہمارے اسلاف نے قائم کی تھی۔

    نیا اسلامی سال ہمیں خود احتسابی کا موقع دیتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں، اپنی خامیوں کو سمجھیں اور ان کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہمیں اپنے ماضی سے سبق لینا ہوگا اور اپنے حال کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی ہوگی تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہو۔

    محرم الحرام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم حق پر ثابت قدم رہیں، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور اپنی زندگیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ آج امت مسلمہ کو اپنی عظمت بحال کرنے کے لیے ان اصولوں کو اپنانا ہوگا جو اسلام نے ہمیں دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نئے سال میں اپنی اصلاح کرنے اور امت مسلمہ کی ترقی کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیانات ایسے ،سب شعلہ بیاں،عملی اقدامات صفر،عوام کوکب تک بے وقوف بنایا جائےگا
    دنیا ٹیکنالوجی میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،ہماری ’’کل‘‘ بھی سیدھی نہ ہو سکی ،صرف نعرے رہ گئے
    بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی نہ عوام کو ترقی ملی ، ن لیگ کے سوا ہر جماعت صرف کاغذی منصوبے بناتی رہی
    تجزیہ، شہز ادقریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں سیاستدانوں کے بیانات آ رہے ہیں، جمہوریت کو مستحکم کیا جائے گا، پارلیمنٹ کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، اور آئین کو لے لر بیانات سامنے آرہے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول رہا ہے اور پھر اقتدار کے جام کو تھام کر عقل و شعور کی جگہ جاہ وجلال نے لے لی،سیاسی جماعتوں کو جمہوریت ،پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون کی حکمرانی اور آئین کے بارے بیانات دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمور کے لئے کیا کارنامے سرانجام دئیے، جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں تاہم جمہوریت کے دعویداروں سے خطرات لاحق ہیں، ہماری سیاسی جماعتوں کا جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو خیرآباد کہنے والوں کو دوبارہ کسی دوسری جماعت میں شمولیت کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے، ملکی جمہوریت کو کون سا نام دیا جائے، جمہوریت کی منڈی یا کاغذی جمہوریت ، مذہبی جماعتوں کی حالت بھی نازک ہے، سیاسی جماعتوں میں نظریات ، ضمیر ،اصول وغیرہ بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، ایسی باتیں کرنے والوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے ، اب بھی وقت ہے سیاسی جماعتیں اپنا رُخ عوام کی طرف موڑ دیں ایمانداری اور دیانتداری سے عوام کی خدمت کریں، ذرا غور کریں ہم آج کی جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں بجلی اورگیس کے بحران سے گزر رہے ہیں،حالیہ برسوں میں عوام جن سنگین مسائل کا نشانہ بنے اُن میں سرفہرست دہشت گردی اور بجلی گیس کا بحران ،دہشت گردی کا مقابلہ پاک فوج ،جملہ اداروں اور پولیس نے کیا ، ہمارے افسران اور جوان شہید ہوئے، ملک وقوم کا دفاع کرتے ہوئے کئی سہاگنوں کے ساگ اُجڑ گئے،بچے یتیم ہو گئے، عوام 90 ء کی دہائی سے پہلے لوڈشیڈنگ سے آشنا نہیں تھے ایک ادارہ واپڈا بُرا بھلا جیسا بھی تھا پانی اوربجلی کے نظام کو بہتر انداز میں چلا رہا تھا ، واپڈا کے تربیت یافتہ انجنیئروں نے خلیجی ممالک بجلی کے نظام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، 1994 ء میں پیپلزپارٹی کی دوسری ٹرم کے دوران نئی توانائی پالیسی لائی گئی ۔ واپڈا کے ٹکڑے کرکے کمپنیاں تشکیل دی گئیں ، پیپلزپارٹی کی اس پالیسی کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج تک اس پالیسی کا خمیازہ ملک وقوم بھگت رہے ہیں، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے جات اُس صور ت مل سکتی ہے جب ان پالیسیوں کو دفن کیا جائے گا ورنہ عوام کی نجات مشکل ہے

  • امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد وہ خواب ہے جس کی تعبیر آج تک حاصل نہ ہو سکی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان، جو کبھی "امت واحدہ” کا عملی نمونہ تھے، آج انتشار اور تفریق کا شکار ہیں۔ دنیا کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود وہ عالمی سطح پر اپنی طاقت اور وقار کھو بیٹھے ہیں۔

    فرقہ واریت امت مسلمہ کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔ اسلامی ممالک مختلف فرقوں اور مسالک کے تضادات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ شیعہ سنی اختلافات ہوں یا دیگر فقہی تنازعات، یہ تنازعات صرف مساجد اور مدارس تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاست، معیشت، اور سماجی تعلقات میں بھی سرایت کر چکے ہیں۔ ان اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی طاقتوں نے اسلامی دنیا کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔

    علاقائی سیاست اور خودغرضی بھی اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر، افریقہ کے معدنی وسائل، اور ایشیا کے اسٹریٹجک محل وقوع نے اسلامی دنیا کو عالمی طاقتوں کے لیے ایک میدان جنگ بنا دیا ہے۔ اسلامی ممالک کے رہنما اپنی کرسی اور اقتدار کو بچانے کے لیے بیرونی طاقتوں کے زیر سایہ کام کر رہے ہیں۔ وہ امت کے اجتماعی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ذاتی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تعلیم اور قیادت کی کمی نے مسلمانوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ امت مسلمہ نے اپنی علمی وراثت کو فراموش کر دیا ہے۔ جدید تعلیم اور تحقیق میں پیچھے رہ جانے کے باعث مسلمان نہ تو عالمی مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مسائل کو حل کر پاتے ہیں۔ آج اسلامی دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو فرقہ واریت، تعصب، اور خودغرضی سے بالاتر ہو کر امت کے مشترکہ مفادات کے لیے کام کرے۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
    (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔)
    یہ وہ اصول ہے جو امت کو زوال سے نکال سکتا ہے۔ لیکن اس اصول پر عمل کرنے کے لیے قربانی، ایثار اور خلوصِ نیت کی ضرورت ہے۔

    امت مسلمہ کا اتحاد ممکن ہے، لیکن اس کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک مسلمان اپنی ترجیحات کو درست نہیں کرتے، فرقہ واریت اور تعصب کو ختم نہیں کرتے، اور عالمی سیاست میں اپنی حیثیت کو مضبوط نہیں کرتے، اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ وقت ہے کہ امت مسلمہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے، ان سے سبق لے، اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرے۔

    یہ چیلنج مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ امت مسلمہ کا اتحاد صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے، جو اگر حاصل ہو جائے تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

  • افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

    افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ دنوں پنجاب میں اپنے ہی بیج میٹس کو جس طرح Disgrace کیا گیا یہ نہ تو پہلا واقع تھا اور نہ ہی آخری۔ اپنی سیٹ پکی کرنے کیلئے بیج میٹ اور سنئیرز کو فکس کروانا روٹین میٹر بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی دور میں رقم دو سیٹ لو کے تحت ہونے والی ٹرانسفر پوسٹنگ کے بعد بیوروکریسی میں شروع ہونی والی لوٹ مار اور عیاشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ پیسوں کی عوض ہونے والی خلاف میرٹ ٹرانسفر پوسٹنگ اور تعیناتیوں نے افسران کے درمیان نفرت کی ایسی لکیر کھینچی کہ بیج میٹ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔

    بزدار کا سیاہ ترین اور شرمناک دور ختم ہوا تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کے مشن امپاسبل کو پاسیبل کر دکھایا۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ کے جذبے اور ایمانداری کو سلوٹ لیکن چیف سیکرٹری اور آئی جی میرٹ کے”سپنوں“ کی دنیا دکھا کر ”پک اینڈ چوز“ کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔اس وقت پنجاب میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ 18سے گریڈ 22تک کے 59افسران OSD ہیں۔درجنوں افسران تعیناتی کی منتظر ہیں اور لاڈلوں کو پرموشن ٹریننگ کے باوجود بھی غیر قانونی طور پر سیٹوں پر رکھا ہوا ہے۔

    لاقانونیت اور فرعونیت کی انتہا دیکھیے کہ کچھ افسران 2022 اور 2023 سے اب تک OSD ہیں۔ جبکہ سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران تعینات ہیں۔ اپنے جونئیر کے ماتحت پوسٹنگ ملنے کی وجہ سے افسران کی اکثریت لاوارثوں والی زندگی گزار کر شدید پریشان ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہر وقت key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

    بیج میٹ، بیج میٹ کا دشمن بنا ہوا ہے جبکہ key posting والے جونئیرافسران سنئیرز کا احترام بھول چکے۔
    سرکاری ملازمین کی دنیا بہت چھوٹی ہے انڈرٹریننگ کے دور میں انکی غربت اور لاچاری کی کہانیاں ساتھی بیج میٹ بہت مزے سے سناتے ہیں کہ یہ جب ہمارے ساتھ ٹریننگ کیلئے آیا تو غربت کے کن حالات میں تھا۔ پھر کس پوسٹنگ میں کیا اندھیر نگری مچائی، کس شہر پوسٹنگ میں لوٹ مار کی وجہ سے عوام کے ہاتھوں گالیاں اور چپیڑیں تک پڑیں۔ ساتھی افسران سے ہر روز انکی نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ چند افسران کے بارے مشہور ہے کہ اگر ایک وقت میں انکا سگا باپ کال کرے اور دوسری طرف سے رشوت کے پیسوں کی ڈیل کروانے والا ٹاؤٹ تو وہ ٹاؤٹ کی کال پہلے اٹھائیں گے۔ عوامی اعتماد اور کرپشن کے خاتمے کیلئے چند افسران کو پنجاب سے نکالنے اور بیوروکریسی کی ری شفلنگ ناگزیر ہے۔ماضی میں کمشنر کی مشاورت سے ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی رائے سے اسسٹنٹ کمشنر لگائے جاتے تھے جس سے ایک بہترین ٹیم اور کوارڈینیشن سے سسٹم چلتا تھا۔ ابھی مبینہ طور پر پنجاب میں چیف سیکرٹری کی صورت ون مین شو چل رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سارے اضلاع کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنر ایک دوسرے کے احکامات کے برخلاف گئے ہیں۔ کسی بھی صوبائی محکمے کی کامیابی کا دارومدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ وزیر اور سیکرٹری اپنی مرضی کی ٹیم بنا کر کام کریں۔�

    نگران حکومت سے شروع ہونے والے ”گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ ابھی بھی مذکورہ ”گینگ آف سیون“ درجنوں سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران لگا کر حصے وصول کر رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پک اینڈ چوز کی وجہ سے پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ دی وے جا کر نواز ا گیا۔

    وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ تمام ٹرانسفر پوسٹنگ کا ازسرنو جائزہ لیں۔ خاص طور پر بیرونی فنڈنگ والی تمام پوسٹوں پر افسران کی تبدیلی کی جائے بلکہ انکا آڈٹ بھی کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔ ان پوسٹوں پر تعینات سفارشی جونئیر افسران نے اربوں روپے کی کرپشن کرکے بیرونی فنڈنگ والے اداروں کے سامنے پنجاب اور پاکستان کا ایمج خراب کیا ہے اس لیے یہ کسی صورت رعایت کے مستحق نہیں۔
    صوبائی سیکرٹری، ڈی جی، ایم ڈی، پراجیکٹ ڈائریکٹر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسی طرح ایڈیشنل آئی جی، آر پی او، سی پی او اور ڈی پی او کی تقری کیلئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی صورت فرد واحد کی حکمرانی ختم کرکے کم از کم چھے رکنی سلیکشن ٹیم بنائی جائے جس میں متناسب تعداد میں پارلیمینٹیرین اور افسران شامل کیے جائیں جو میرٹ پر افسران کی تقرری کیلئے سفارشات مرتب کر سکیں۔سندھ میں پیپلز پارٹی کے لگاتار کلین سویپ اور کامیابی کا ایک ہی راز ہے کہ وہاں بیوروکریسی نہیں پارلیمنٹ سپریم ہے۔ "کے پی آئی” کی وجہ سے افسران میں زیادہ سے زیادہ سروس ڈلیوری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ "کے پی آئی” میں عوامی فیڈ بیک کو شامل کیے بن یہ کارگردگی رپورٹ ادھوری ہے کیونکہ "کے پی آئی” اسی صورت حقیقی اور میرٹ رپورٹ سمجھی جاسکتی ہے جب اس میں عوامی فیڈ بیک کے نمبر بھی شامل کیے جائیں۔ سٹیٹ لینڈ کی حفاظت اور تجاوزات کے خاتمے میں ناکام ہونے والوں کو آئندہ ہرگز فیلڈ پوسٹنگ نہ دی جائے۔ کے پی آئی کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ تین ماہ کی رپورٹ کے بعد ٹاپ فائیو کو انعام اور لاسٹ فائیو کو سزا دی جائے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • سانحہ سوات،ذمہ دارکون، تحریر:ملک سلمان

    سانحہ سوات،ذمہ دارکون، تحریر:ملک سلمان

    بہت کوشش کے باوجود ساری رات نیند کوسوں دور رہی۔ سوشل میڈیا پر درجنوں افراد کی طرف سے اپلوڈ کی گئی سانحہ سوات کی ویڈیو کو بار بار اور مختلف زاویوں سے دیکھتا رہا۔

    دریائی گزرگاہ پر مشتمل خیبر پختونخوا کے تمام تفریحی علاقوں میں انتظامی افسران کو منتھلی دے کر تو کچھ سیاسی پشت پناہی سے دریا کنارے غیرقانونی طور پر قائم ریور ویو ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی بھرمار ہے ان غیر قانونی ہوٹلز میں سے ہی سوات کے ایک ریسٹورنٹ میں سیالکوٹ سے تفریح کی غرض سے آئے اس خاندان کے تمام چراغ بجھ گئے۔

    شروع میں جب دریا میں اچانک طغیانی آئی تو متاثرہ خاندان کے تمام افراد مطمئن تھے کہ انکو ریسکیو کرلیا جائے گا ننھے بچے اچانک آنے والے پانی کو ایڈوینچر سمجھ کر انتہائی پر امید انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے مدد کیلئے پکار رہے تھے۔ دریا میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں شدت سے بدقسمت خاندان کے چہرے پر پریشانی نمایاں ہوئی لیکن وہ پھر بھی پرامید تھے کہ وہ بچ جائیں گے، کسی مسیحا کے انتظار میں صدائیں لگاتے خاندان کو موت کا احساس اس وقت ہوا جب اس پندرہ رکنی خاندان کے تین افراد پانی برد ہوئے۔ دریا میں گرنے والے بھی اس ناگہانی افتاد کو نہیں سمجھ پارہے تھے اور باقی بھی اس سب پر یقین نہیں کر پا رہے تھے، مدد کیلے پکارتی آوازیں آنہوں اور سسکیوں میں بدل گئیں تو کچھ کے حلق خشک ہوگئے۔ بچے ماں باپ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ہمیشہ پچانے والے انہیں بچالیں گے جبکہ بزرگ والدین بچوں سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ جوان بازو انکو موت کی آغوش میں نہیں جانے دیں گے۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا دریا برد ہونے والے اگلے کنارے پر بچ جائیں گے۔ تسلی کے الفاظ اور مسیحا کے منتظر باقی افراد بھی ایک ایک کرکے پانی میں بہتے جارہے تھے۔ قیمتی ترین انسانی جانوں کو اس طرح جاتے دیکھ کر آنکھیں پتھرا گئیں ہیں۔

    ہر وقت گاڑیاں اور وسائل مانگنے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی ٹیم میں سے کسی نے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ انتظامی اور سیاسی لیڈرشپ میں سے کسی نے کوشش نہیں کی کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے قیمتی جانوں کو بچا لیا جائے۔ یہ حادثہ نہیں قتل ہے، ایک خاندان کا نہیں، انسانیت کا قتل ہے، سوات، خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاحت کا قتل ہے۔ ایسے بدترین حالات میں بیرونی سیاح تو دور مقامی افراد بھی سیاحت سے ڈر اور سہم کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران نے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر عمران خان کی فوٹو لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا ہوا ہے اور دونوں عوام کو مسائل کے سپرد کرکے مل بانٹ کر وسائل لوٹ رہے ہیں۔ اس قتل کامقدمہ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران دونوں کے خلاف ہونا چاہئے۔

    چند روز قبل ہم گلگت بلتستان سے واپس آرہے تھے تو مشہور سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ جو سطح سمندر سے اونچائی اور تیزسرد ہواؤں کی وجہ سے سیاحوں کا لازم والا سٹاپ ہوتا ہے وہاں غیرقانونی تجاوزات اور آدھ درجن کے قریب زپ لائنز نے اس کی قدرتی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کیا ہوا تھا۔ بیچ سڑک پھل فروش سے پھل خریدتے وقت پوچھا کہ تم کتنا کرایہ دیتے ہو اس نے کہا کہ اس ریڑھی کا پچاس ہزار روپے ماہانہ، میں نے پوچھا کہ زپ لائن اور باقی بڑی شاپس کا کیا کرایہ ہوگا تو اس نے کہا کہ مختلف ہوتا ہے کوئی ماہانہ دیتا ہے تو کسی سے ڈپٹی کمشنر آفس والے سیزن کا ریٹ کرلیتے ہیں۔ ناران کاغان، مہاندری سے مانسہرہ تک سڑک کے دونوں اطراف سرکاری گزرگاہ پر غیرقانونی تعمیرات کی بھرمار۔ ایسا لگتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر آفس کے انتظامی افسران اسی پوسٹنگ سے اتنی کمائی کرنا چاہتے ہیں کہ زندگی بھر کی محرومیاں ختم ہو جائیں۔ اپنی حرام کی کمائی سے معاشی محرومیاں ختم کرتے کرتے یہ بے رحم اور سفاک افسران بھول جاتے ہیں کہ ان کی حرام کمائی کے عوض قائم ہونے والی تجاوزات سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں جبکہ منتھلی کے عوض دریا کنارے غیر قانونی ریسٹورنٹس اچانک ہونے والی دریائی طغیانی میں ہر سال قیمتی جانی و مالی نقصاں کا باعث بنتے ہیں۔ اسی ہفتے 20جون کو تین سیاح ناران میں ہلاک ہوئے لیکن مانسہرہ اور خیبرپختونخوا کے انتظامی افسران اور سیاسی قیادت کی بے حسی میں ذرا برابر کمی نہ آئی۔ جیسی صوبائی سیاسی لیڈرشپ ہو گی ویسے ہی بے حس اور لٹیرے افسران۔ گذشتہ 12سال سے خیبرپختونخوا کرپشن اور بیڈ گوورننس کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ ہیلی کاپٹر کو پشاور سے سوات پہنچنے میں صرف 40منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن 120منٹ میں نہ تو ہیلی کاپٹر آیا اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر اور انتظامی افسر نے پہنچنے کی زحمت کی۔ کیونکہ سیاسی و انتظامی گٹھ جوڑ تو صوبے بھر کے وسائل لوٹنے کیلئے متحد ہے دونوں مل کر کر اسمگلنگ، منرلز، معدنیات اور ٹمبرچور ی میں مصروف ہوتے ہیں۔ چند سال قبل جب گلگت بلتستان میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کا کار خاص بنا ایک افسر ڈپٹی کمشنر سکردو تھا مجھے وہاں کے ایک مقامی سوشل ایکٹیوسٹ نے کہا کہ ڈاؤن (پنجاب) سے آنے والے افسر تو بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن یہ والا صاحب تو اتنا لٹیرا ہے کہ اس کا بس نہیں چلتا کہ پیسے کمانے کیلئے ساری زمین بیچ دے۔ انتظامی افسران کا عوام سے رویہ سیاسی لیڈرشب طے کرتی ہے بزدار دور سے پنجاب میں تعینات افسران کی اکثریت قانون شکن اور کرپٹ پریکٹس کی عادی تھے لیکن جب سے مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بنی ہیں ان کرپٹ افسران کی وہ والی موجیں نہیں رہیں کیونکہ انکو اندازہ ہے کہ وزیراعلیٰ تک پہنچنے والی شکایت کے بعد معافی نہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟
    چین، روس، امریکہ اورعربوں سمیت دوسری عالمی قوتوں نے کیا کردار ادا کیا؟
    امریکہ یورپ میں مساجد موجود ،نمازیں ہوتی ہیں ،آج تک کسی حکومت نے پابندی نہیں لگائی
    دنیا بھر میں جھوٹ کے سہارے صرف عام آدمی کو گمراہ کیا جاتا ہے،سیاسی دکانیں چل رہی ہیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    چین کو مستقبل میں سپر پاور کہا جارہا ہے دنیا کے ترقی پذیر ممالک سے یہ سننے کو ملتا ہے سپر پاور وہ ہوتی ہے جو دنیا کے انتظام میں بڑا کردار ادا کرتی ہے جیسے امریکہ آج عالمی امور میں دخل دیتا ہے لوگوں کو پسند نہیں آتی امریکہ سے پہلے برطانیہ اس سے پہلے سلطنت عثمانیہ ماضی قدیم میں چنگیز خان اور سکندر اعظم جیسے فاتح رہے، آج سب کو ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے ایٹم بم یاد ہیں اس سے پہلے جاپانی کتنے ظالم تھے انہوں نے محکوم عوام پر کتنے ظلم کئے اپنی طاقت کے زعم میں کہاں کہاں حملے کئے وہ بھلایا جا چکا ہے، تاریخ کا مطالعہ کرنے پر انسان جس میں انسانیت ہو کانپ جاتا ہے، دوسری جنگ عظیم میں امریکہ ابتدا میں غیر جانبدار تھا جاپانیوں نے اس کی بندرگاہ پر حملہ کر کے ڈھائی ہزار امریکوں کو مار ڈالا امریکہ کو جنگ میں کودنا پڑا، آج امریکہ میں حقیقی جمہوریت ہے عوام احتجاج کر سکتے ہیں یہ ملک غلطیوں سے سیکھتا ہے ، آج امریکی قوانین اور امریکی معاشرہ ماضی کی بہت سی خامیوں سے پاک ہے ہر چار سال بعد الیکشن ہوتے ہیں بہت سے صدر آئے ہر صدر نے پہلے کی غلطیوں کو درست کیا آج بھی اگر امریکہ غلطی کرتا ہے تو فوراً اس کو احساس ہوتا ہے وہ دنیا سے معذرت کرتا ہے سپر پاور امریکہ ہو یا چین ورلڈ آرڈر برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہوتی ہے، مسلمانوں کی اکثریت کو کہا جاتا ہے کہ امریکہ مسلمانوں کے خلاف ہے اگر ایسا ہوتا تو امریکہ اپنے ملک میں مسلمانوں پر پابندیاں لگاتا ،امریکہ میں ہزاروں مساجد ہیں امام بارگاہیں ہیں جمعہ کے اجتماعات محرم کی مجالس نہ ہوتیں مغربی ممالک میں اسی طرح کے منظر دیکھے جا سکتے ہیں برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں مساجد اور امام بارگاہ موجود ہیں، اسرائیل کو بھی امریکہ سے ویسی شکایات ہیں جیسی مسلمانوں کو وہ امریکہ کو دوست مانتے ہیں لیکن شکوہ بھی کرتے ہیں ، یاد رکھیئے عالمی دنیا کے ممالک میں سیاسی گلیاروں میں سیاستدان ہی تو ہیں جو عام آدمی کو گمراہ کرتے ہیں جھوٹ کا سہارا لے کر اپنی سیاسی دکان چلاتے ہیں آج دنیا بھر میں جھوٹ اور افواہ سازی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے، دنیا میں کہیں جمہوریت کے نام پر جھوٹ کہیں مذہبی لبادہ اوڑھ کر جھوٹ بولا جاتا ہے، امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین یا روس سے فوجی تعاون حاصل کرتے ہیں اس کی چار گنا قیمت ادا کرتے ہیں، نیتن یاہو غزہ کے بچوں کا قاتل ہے مودی کشمیروں کا قاتل ہے، چین، روس، امریکہ اور دوسری عالمی قوتوں نے کیا کردار ادا کیا؟ عرب ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ چین اور اسرائیل کے تعلقات کیسے ہیں ان دونوں کی تجارت کا حجم کتناہے؟ ترکی کی اسرائیل تجارت کا حجم کرتا ہے؟ سچ تو یہ ہے دنیا بھر میں جھوٹ کے سہارے عام آدمی کو گمراہ کیا جاتا ہے

  • قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    غنڈوں بدمعاشوں کو عام طور پر ”زندہ فرعون“ کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن بیوروکرویسی میں حکمرانوں کی جی حضوری اور اٹھائی گیری میں زمین و آسمان ایک کرکے خود کو قانون سے بالا تر اور ماورائی مخلوق بن کر کرپشن، قانون شکنی اور فاشزم کی انتہا کرنے والے یہ تگڑے افسر جو اپنے قبیل کے سنئیر افسران کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ان کیلئے "سرکاری فرعون” اور "آن ڈیوٹی ڈریکولا” کی ٹرمز استعمال کی جاتی ہیں۔ ان زندہ و حاضر سروس فرعونوں کے سامنے کوئی نہیں بولتا لیکن جب یہ زمینی خدا ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو پھر ساتھی افسران ان کی ریکارڈ توڑ کرپشن، لاقانونیت اورفرعونیت کی داستانیں زبان زدعام کرتے ہیں اور کچھ کتابیں لکھ دیتے ہیں لیکن دوران سروس ان کی شر سے بچنے کیلئے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں کرتے۔ دیر آید درست آید کے مترادف یہ سارے کردار تاریخ میں ایک بدنما داغ اور گالی بن کر رہ جاتے ہیں۔

    اگر میرٹ کی بات کی جائے تو سرکاری ملازم کسی سیاسی جماعت کا ورکر نہیں ہوتا جس کی مرضی حکومت آئے انہوں نے اپناکام کرنا ہے لیکن حقیقت اس کے متصادم ہے یہاں وہی افسر کامیاب ہے جو عوامی فلاح و بہبود کی بجائے سیاسی اور حکومتی نوکری کیلئے خود کو وقف کر دے۔
    سابق حکومت کے ساتھ کام کرنے والوں میں سے کچھ کو بزدار اور پی ٹی آئی سے نتھی کرکے کے کھدے لائن لگا دیا گیا ہے تو کچھ کو پرموشن سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ موجودہ سیٹ اپ میں اہم سیٹوں پر بیٹھے سارے بزداریے ہیں جو بزدار کے پی ایس او، سی ایس او، اسکے ہوم ٹاؤن کے مجاور خاص بن کرگئے تھے وہی افسران آج نئے دربار کی مجاوری کر رہے ہیں۔ ان کی واحد قابلیت اٹھائی گیری میں چیمپئن ہونا ہے، آٹھ سنئیر افسران کے سامنے ٹشو سے بزدار کے جوتے صاف کرنے والا بھی موجودہ حکومت میں فٹ ہوگیا تھا۔

    آج تک ہم سپر ہیروز کی کہانیاں سنتے تھے یا فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھتے تھے کیونکہ ان کرداروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بیوروکریسی کے کماؤ پتر اور لاڈلے افسران کو بھی سپر ہیروز بنا کر پیش کیا جاتا ہے کسی کو جونئیر گریڈ میں ڈی جی، ایم ڈی، سی ای او، پی ڈی اور سیکرٹری لگا دیا جاتا ہے تو کسی کو دو سے تین اضافی چارج دے کر سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا جاتا ہے۔
    گذشتہ دنوں حکومت پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں مینشن تھا کہ صوبائی سروس کے دو افسران کو اس لیے عہدوں سے ہٹایا جارہا ہے کہ یہ این ایم سی کیلئے اہل ہوجائیں۔ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی باقی سارے افسران اہم ترین سیٹوں پر موجود ہیں اور این ایم سی کیلئے اہل بھی ہوگئے سارے قانون صرف صوبائی سروس کے افسران کیلئے؟

    گریڈ بیس سے گریڈ اکیس میں ترقی کیلئے ناگزیر کورس این ایم سی کرنے والے ہر افسر کیلئے بائیس لاکھ روپے کی خطیر رقم حکومتی خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔
    گریڈ بیس سے گریڈ اکیس کیلئے نیشنل مینجمنٹ کورس، گریڈ انیس سے گریڈ بیس کیلئے سنئیر مینجمنٹ کورس اور گریڈ 18سے گریڈ 19 کیلئے مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس تقریباً چار ماہ پر مشتمل ٹریننگ کورسز ہیں۔
    اچھی پوسٹنگ حاصل کرنے والے افسران ٹریننگ کیلئے ہرگز راضی نہیں ہوتے۔ اچھی سیٹ پر موجود افسران ٹریننگ سے بچنے کیلئے زور لگا رہے ہوتے ہیں۔ شیر جنگل کا بادشاہ ہے انڈے دے یا بچے کے مترادف تین دفعہ ٹریننگ کورسز چھوڑنے کی گنجائش موجود ہے سونے پر سہاگہ کہ کمپیٹنٹ اٹھارٹی کی درخواست پر ٹریننگ سے جتنی دفعہ مرضی نام نکلواتے رہیں وہ چانس ضائع کرنا کنسڈر ہی نہیں ہوگا۔ ٹریننگ پر صرف وہی جانا چاہتا ہے جو ”اوایس ڈی” ہو یا پھر کسی کھڈے لائن پوسٹنگ تو وہ سوچتا ہے ویلا بیٹھا ٹریننگ ہی کر لوں۔

    لاقانونیت اور لاڈلے پن کی انتہا کا یہ لیول ہے کہ سفارشی اور تگڑے افسران صرف اس شرط پر ٹریننگ کرتے ہیں کہ انکی پوسٹنگ ساتھ رہے گی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بغیر ٹریننگ کہ تم سے کام ہو نہیں رہا ہوتا اور اتنے تیس مار خان رہے کہ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ پوسٹنگ بھی چاہئے۔ قابلیت کے دعویداروں کا حقیقی حال یہ ہے کہ بہت سارے افسران دوران ٹریننگ رپورٹس اور اسائمنمٹ تک بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، رپورٹس، اسائمنٹس اور ریسرچ پیپر پیسے دے کر ایکسپرٹس سے بنوائے جاتے ہیں۔

    دوران ٹریننگ پوسٹنگ ہولڈ کرنے والے لاڈلے تو خوش ہوجاتے ہیں لیکن عوامی فلاح و بہبود کے کام ٹھپ ہوجاتے ہیں۔ سینکڑوں افسران او ایس ڈی ذلیل ہو رہے ہیں لیکن یہ سفارشی افسران اتنے ناگزیر ہیں کہ ٹریننگ اور پوسٹنگ ایک ساتھ چاہئے نوابوں کو۔ دوران ٹریننگ سارے افسران وفاقی اسٹیبشمنٹ ڈویژن کی ڈسپوزل پر ہوتے ہیں اور ان چار ماہ کی اے سی آر بھی وہی لکھتے ہیں ایسے میں ان افسران کی کسی بھی صوبائی یا وفاقی عہدے پر موجودگی غیر قانونی اقدام ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہوں نے صرف افسران کے ناز نخرے، غیر قانونی اقدامات اور ناجائز خواہشات پوری کرنی ہیں یا عوام کو بھی ڈلیور کرنا ہے۔

    آرمی میں بہت اچھا سسٹم ہے کہ آپ ڈائریکٹ ٹریننگ پر نہیں چلے جاتے بلکہ ٹریننگ سے پہلے انٹرنس ایگزام لیا جاتا ہے اس امتحان میں پاس ہونے والے ہی ٹریننگ کیلئے شارٹ لسٹ ہوتے ہیں۔ آرمی، نیوی اور ائیرفورس سمیت افواج پاکستان میں پرموشن کورسز کے دوران پوسٹنگ کا تصور بھی نہیں۔
    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واضح پالیسی دینا ہوگی کہ دوران ٹریننگ کسی کو پوسٹنگ نہیں دی جائے گی۔ پرموشن کورس میں شرکت کیلئے پوسٹنگ پر نہ ہونا لازم کیا جائے۔ کیا پرموشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے کورسز اتنے بیکار اور ناکارہ ہیں کہ افسران پوسٹنگ انجوائے کرتے ہوئے انہیں اوور ٹائم کی وقت گزاری سمجھتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com