Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کیا تم نے دل چیر کر دیکھا ہے؟تحریر:قرۃالعین خالد

    کیا تم نے دل چیر کر دیکھا ہے؟تحریر:قرۃالعین خالد

    زندگی بہت مختصر ہے اور سب کو اپنے اپنے حصے کی ملی ہے۔ کوئی انسان کسی دوسرے کی زندگی نہیں کی سکتا نہ کسی کی قسمت میں لکھے غموں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے نہ کسی کو ملی خوشیوں کو جی سکتا ہے۔ کوئی انسان کسی کے سکھ اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا اور نہ کسی کے دکھ بانٹ سکتا ہے۔ جو جس کا ہے وہ اسی کا ہے پھر پتہ نہیں کیوں کچھ لوگ اپنے حصے کی زندگی جینے کی بجائے دوسروں کی زندگی میں ذیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
    الحمدللہ! مجھے میرے پیارے رب نے بہت سے ممالک دیکھنے کا موقع نصیب کیا اور تقریباً پیارے وطن کے تمام شمالی علاقہ جات بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ بے شک یہ میرے رب کا فضل ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر طرف ایک گہما گہمی ہے وہاں ہر طرح کے رابطوں کا ذریعہ بھی یہی میڈیم ہے۔ آج سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ایک کلک کے ساتھ آپ اپنی زندگی کے یادگار لمحات کو ہمیشہ کے لیے اپنی یادوں میں قید کر سکتے ہیں ان کو اپنے پیاروں کے ساتھ شئیر بھی کر سکتے ہیں۔ میں سوشل میڈیا پر بہت ذیادہ ایکٹیو بھی نہیں ہوں لیکن ابھی چند دن ہوئے میں نے چند تصاویر پوسٹ کیں اور میں حیران رہ گئی کہ
    لوگ کیسے دوسروں کو دین سکھاتے ہیں۔
    فتوے جاری کرتے ہیں۔
    تو چلیں کچھ باتیں کرتے ہیں!
    ان لوگوں سے جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو صرف محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو میری اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو مجھے دین سکھانا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے بھی جو مجھے غلط اور صحیح کا درس دینا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو میری فرینڈ لسٹ میں ہیں لیکن فرینڈ نہیں۔
    ان لوگوں سے جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان لوگوں سے بھی جو۔۔۔۔۔۔

    اللّٰہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ میں نے تقویٰ اور فجور انسان کے دل میں ڈال دیا ہے اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کوئی انسان امریکہ جائے، انگلینڈ جائے، دبئی جائے یا دنیا کے کسی کونے میں جائے اس پر تصویر بنانے اور سیلفی لینے میں کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوتا لیکن حرم جو سب سے قیمتی، پیاری، پاک جگہ ہے جہاں کا ایک ایک لمحہ محفوظ کرنا ہر مسلمان کی اولین خواہش ہو سکتا ہے وہاں پر تصویر لینے میں فوراً فتویٰ جاری۔۔۔۔۔میرا سوال اہل علم و دانش سے ہے تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر لگانا غلط ہے یا حرم میں تصویر بنا کر لگانا غلط۔۔۔۔؟ کیونکہ جہاں تک میری ناقص عقل ہے تو غلط تو ہر جگہ غلط ہی ہوتا ہے۔

    میری عبادت، میرا اللّٰہ سے تعلق، میں اس کی خود ذمہ دار ہوں عام عوام کو میرے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر میں حرم سے ہر روز ایک سیلفی لے کر پوسٹ کر رہی ہوں تو بھی میری مرضی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی لوگوں کے اعتراضات کی، کوئی صاحب علم و دانش مجھے سمجھا دے کہ گلے میں دوپٹہ ڈال کر یا کبھی بغیر دوپٹے کے بال کھول کر دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی اپنی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالے تو لوگ ماشاءاللہ کی لائن لگا دیتے ہیں لیکن پردے اور خدود اللّٰہ کا خیال رکھتے ہوئے کوئی اپنی تصویر لگا دے تو اس کا جینا مشکل کر دیتے ہیں لوگ۔
    لوگ بغیر جانے دوسروں کو کیوں جج کرتے ہیں؟
    کسی کے لباس سے کوئی کیسے کسی کا تعلق باللہ جانچ سکتا ہے؟
    کیا اللہ اور بندے کے درمیان کی محبت ماپنے کا کوئی پیمانہ انسانوں کے پاس ہے؟

    اسی لیے ۔۔۔۔اسی لیے۔۔۔۔اسی تنگ نظری کی وجہ سے ہماری نئی نسل دین سے دور ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ اگر ہم پردہ کریں گے تو زندگی کے دروازے ہم پر تنگ ہو جائیں گے۔ میں ان کو بتانا چاہتی ہوں دین اسلام میں بہت وسعت ہے بس خدود اللّٰہ کا خیال رکھتے ہوئے اپنی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق جئیں اور دوسروں کو جینے دیں۔ اگر کسی کی عبادت قبول نہیں ہو رہی تو پلیز آپ لوگ ٹینشن نہ لیں۔۔۔۔۔اگر اچھا نہیں بول سکتے تو برا بھی نہ بولیں۔۔۔۔۔اتنے تو ہم سب مسلمان ہیں نا کہ حطبہ حجہ الوداع میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
    "لوگو! تمھارے خون، تمھارے مال، تمھاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسے کہ تم پر آج کا دن اور اس شہر کی حرمت، دیکھو عنقریب تمھیں اللّٰہ کے سامنے حاضر ہونا ہے وہ تم سے تمھارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔”

    غور سے پڑھیے گا تمھارے اعمال کے بارے میں سوال ۔۔۔۔۔۔میرے نہیں ۔۔۔۔۔ کسی اور کے اعمال کے بارے میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے اعمال کے بارے میں اللہ نے پوچھنا ہے۔
    "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔” یہاں تو زبان اور ہاتھ رکتے ہی نہیں۔ جب جس کا دل چاہتا ہے ہاتھ کی انگلیوں سے بٹن دبایا اور تنقید اپنا حق سمجھ لیا۔ اگر تنقید برائے اصلاح ہو تو وہ ان باکس میں کرنی چاہیے کمینٹ باکس میں اصلاح نہیں بلکہ بے عزتی ہوتی ہے۔ صحن حرم میں لی گئی ایک تصویر پر مجھ سے دوستی کے دعوے داروں کا کمینٹ آتا ہے کہ حرم میں جوتا پہنا ہے۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ جوتا اتارتی تو زیادہ عاجزی نظر آتی۔ پھر ایک کمینٹ آتا ہے کہ یہی جوتا واش روم میں لے کر گئیں اور یہی صحن حرم میں، مجھے کوئی ان سے پوچھ کر یہ بتائے جب میں حرم میں واش روم گئی تھی تو یہ میرے ساتھ تھے انہوں نے دیکھا تھا کہ میں نے یہی جوتا پہنا ہے؟ یہاں بھی کوئی سعودی گورنمنٹ کا فتویٰ ہے تو ضرور کوئی مجھے بتائے ورنہ میں نے تو حرم میں ہر سوئیپر کو، ہر پولیس والے کو، ہر ملازم کو ہر ایک کو جوتوں نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ مٹی لگے ہوئے بھاری بھرکم بوٹوں میں دیکھا ہے۔ خدارا دین کو تنگ نہ بنائیں۔
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دین میں آسانی پیدا کرو مشکل میں نہ ڈالو، خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو۔”
    دین کے ٹھیکے دار بننے کی بجائے اپنے اپنے اعمال کی طرف توجہ دیں۔ دور نبوت میں سیدنا اسامہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے ایک سریہ کے دوران ایسے شخص کو پایا جس نے تلوار دیکھ کر فوراً لا الہ الا اللہ پڑھ لیا مجھے لگا اس نے تلوار اور موت کے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے جب یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا: "اسامہ! کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ تمھیں کیسے پتہ کہ اس نے سچ میں کلمہ پڑھا یا موت کے ڈر سے۔” پھر رسول اللّٰہ بار بار یہ بات دہراتے گئے اور میں نے سوچا کاش میں نے آج اسلام قبول کیا ہوتا اور میرے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے۔(حوالہ صحیح مسلم:7)
    کسی کا اللہ سے کیا تعلق ہے؟
    وہ حرم میں تصویر بنائے یا ننگے پاؤں چلے۔۔۔۔وہ فرمان نبوی ہے نا کہ "اللہ بندے کی قربانی کا گوشت یا خون نہیں بلکہ اس کے دل کا تقویٰ دیکھتا ہے۔”
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق:”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔”
    اور جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں تو ابھی تک سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ دلوں اور نیتوں کو جانچنے والا کوئی آلہ بنا لیا ہو۔ دوسروں کی نیتوں پر نہیں اپنی نیتوں پر غور کریں۔ خدارا دین میں آسانیاں پیدا کریں جیں اور جینے دیں۔ اللہ پاک ہم سب کی مدد فرمائے آمین!

  • آزاد کشمیر میں احتجاج: غیر ضروری ہنگامہ،تحریر:یوسف صدیقی

    آزاد کشمیر میں احتجاج: غیر ضروری ہنگامہ،تحریر:یوسف صدیقی

    آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کے مظاہرے انتظامیہ اور عوام دونوں کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں یہ مظاہرے شروع میں پرامن تھے، مگر کچھ مقامات پر صورتحال پرتشدد بھی ہو گئی۔ تین پولیس اہلکار اور ایک شہری جاں بحق ہوئے جبکہ سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ احتجاج قابو سے باہر ہے اور انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔

    مظاہرین کے 38 نکاتی مطالبات میں بجلی، گندم اور دیگر ضروری اشیاء پر سبسڈی شامل تھی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مطالبات پہلے ہی پورے کر دیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں آج بجلی اور آٹا سستی دستیاب ہیں۔ باقی رہ جانے والے مسائل بنیادی طور پر قانون سازی کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، جس کے لیے وقت درکار ہے۔ اس کے باوجود، کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے تحت احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں، جس سے عوامی مسائل کا اصل مقصد دھندلا گیا ہے۔

    اس احتجاج میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تنظیم کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا موقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے اور پاکستان یا بھارت دونوں کی مداخلت سے بچنا چاہیے۔ JKLF کے رہنما عوامی ایکشن کمیٹی کے ذریعے مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ عوامی مفاد کے اصل مسائل پہلے ہی حل ہو چکے ہیں۔ باقی رہ جانے والے مسائل قانون سازی کے ذریعے حل ہوں گے۔ بعض حلقے JKLF کی قیادت میں احتجاج کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ JKLF اور دیگر سیاسی گروہ پرامن اور قانونی راستے اپنائیں تاکہ احتجاج صرف ہنگامہ یا سیاسی مفاد کا ذریعہ نہ بنے۔

    مظاہرین میں شامل کچھ گروہ عوام کو بلیک میل کر کے احتجاج میں شامل کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عوام کے حقیقی مسائل پس پشت رہ گئے ہیں۔ سڑکوں پر شور مچانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پرامن مذاکرات اور قانونی طریقے ہی اصل حل ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کو چاہیے کہ وہ عوامی مفاد میں سنجیدہ اقدامات پر توجہ دیں۔

    حکومت پاکستان نے فوری اقدامات کیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی، متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کی اور مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ حکومت کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے نوے فیصد مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور باقی پر بات کے لیے بھی تیار ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے بھی پرامن مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں سے عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ احتجاج صرف ہنگامہ پیدا کر رہا ہے اور عوام کے مسائل حل نہیں کر رہا۔

    بھارتی میڈیا نے مظاہروں کو منفی رنگ دینے کی کوشش کی اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ پاکستانی حکام نے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں اور پروپیگنڈے پر دھیان نہ دیں اور حکومت کی اقدامات پر اعتماد رکھیں۔

    زیادہ تر مطالبات پہلے ہی پورے ہو چکے ہیں اور باقی مسائل قانون سازی اور عملی اقدامات سے حل ہو سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کے ضیاع اور علاقے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ احتجاج نے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مظاہرین اور سیاسی گروہ پرامن، قانونی اور شفاف طریقے اپنائیں۔

    آزاد کشمیر میں احتجاجی مظاہرے وقت کا ضیاع اور عوام کے مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کو چاہیے کہ پرامن مذاکرات اور قانونی اقدامات پر توجہ دیں۔ یہی واحد راستہ ہے جو انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے اور علاقے میں دیرپا امن قائم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

  • اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست دانوں کو بھی اپنے اختلافات آئینی اور پارلیمانی راستوں سے حل کرنے چاہیں
    آمریت کو کندھا دینے والے جمہوریت کے محافظ بھی بنتے نظر آتے ہیں
    مریم نواز گُڈ گورنس میرٹ کی پالیسی اپناتے ہوئے پنجاب ہی نہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز ٹھہریں
    یورپی یونین کی جانب سے مریم نواز کے طرز حکمرانی کی تعریف کرنے کیساتھ انکے اقدامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی گلیاروں میں موجود بعض سیاست دان فوج کے خلاف بیانیہ بنا کر عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ کرتے ہیں انہیں حقیقی ہیرو نہیں کہا جا سکتا۔ اصل ہیرو وہ ہے جو ملکی اداروں کو آئین کے مطابق چلائے اداروں میں توازن قائم کرے اور عوام کو تقسیم نہ کرے۔ اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں۔ فوج کسی فرد واحد کا نام نہیں یہ ایک ادارہ ہے فوج سمیت تمام ادارے آئین کے تابع ہیں۔ سیاست دانوں کو بھی اپنے اختلافات آئینی اور پارلیمانی راستوں سے حل کرنے چاہیں۔ قومی سلامتی کے ادارے فوج، رینجرز، پولیس، انٹیلیجنس اور دیگر ملک و قوم کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی سیاستدان یا گروہ سیاسی اختلاف کو دشمنی بنا کر فوج یا دیگر اداروں کو کمزور کرے تو وہ ملک کو کمزور کرتا ہے۔ کچھ سیاستدان مغربی ممالک اور اداروں کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جمہوریت پسند ہیں اور فوجی اثر و رسوخ کے خلاف ہیں تاکہ انہیں سیاسی یا سفارتی مدد مل سکے۔ ماضی میں ملک و قوم کو مارشل لاء کا سامنا رہا کچھ سیاست دان آمریت کو کندھا بھی دیتے رہے۔ آمریت کو کندھا دینے والے جمہوریت کے محافظ بھی بنتے نظر آتے ہیں۔ تاہم ملکی سیاست میں فوج کے کردار پر بیانیہ ہمیشہ ایک مرکزی اور متنازع موضوع رہا ہے۔ اس وقت صوبوں میں سیاسی حکومتیں موجود ہیں۔ پنجاب میں ایک خاتون وزیراعلٰی ہے۔ اُس خاتون وزیراعلٰی جن کا نام مریم نواز ہے اس نے اپنی گُڈ گورنس میرٹ کی پالیسی اپنائی اور صوبہ پنجاب ہی نہیں ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز ٹھہریں۔ مریم نواز شریف انسانی حقوق، قانون کی بالادستی، جمہوریت اور کمزور طبقات، خواتین، یتیم بچے، معذور افراد وغیرہ کے حقوق کے حوالے سے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی و ملکی تنظیمیں یورپی یونین سمیت ان سے مل رہے ہیں۔ یورپی یونین مریم نواز کے طرز حکمرانی کی تعریف کر رہی ہے۔ جرمنی سمیت یورپی ممالک کے سفارت خانے ماحول، زرعی ٹیکنالوجی، معاشی تعاون، سبز توانائی، خواتین کی بااختیاری، مریم نواز کے اقدامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین امید ہے پنجاب میں اعلٰی درجے کی طرز حکمرانی کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں تعلیم، صحت، آئی ٹی، گرین انرجی میں سرمایہ کاری کرے۔ مریم نواز شریف کو صوبے میں باخبر نگرانی اور جواب دہی کے نظام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    بقول شاعر
    وہی ہے اصل سیاست جو ہو عوام کے نام
    یہی ہے شانِ قیادت یہی ہے خدمت کا کام

  • وقارِ وطن پر کوئی سمجھوتہ نہیں،تحریر: نعیم اشرف

    وقارِ وطن پر کوئی سمجھوتہ نہیں،تحریر: نعیم اشرف

    جو معاملات ریاستِ پاکستان کے وقار سے وابستہ ہوں، وہاں ذاتی پسند و ناپسند، سیاسی وابستگیوں یا انفرادی رائے کو بالائے طاق رکھنا قومی فرض بن جاتا ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ بعض طبقات نے حب الوطنی کے اس بنیادی اصول کو فراموش کر دیا ہے۔ حالیہ ایشیا کپ کی اختتامی تقریب میں پیش آنے والے واقعے کو جس انداز سے موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک قوم کی صورت میں سوچنے کے قابل رہ گئے ہیں؟ اس تقریب میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ، محسن نقوی، صرف ایک شخص نہیں تھے۔وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انکے ہاتھ میں موجود ٹرافی محض ایک کرکٹ سیریز کا انعام نہیں، بلکہ اس ریاست کے وقار کی علامت تھی جس کی بنیاد قربانیوں پر رکھی گئی۔ جب بھارتی ٹیم نے ان سے ٹرافی لینے سے انکار کیا، تو یہ انکار کسی فرد کا نہیں، ایک ریاست کے وقار کا انکار تھا۔ یہ عمل نہ صرف سفارتی آداب کے منافی تھا بلکہ کرکٹ جیسے شائستہ کھیل کی روح کے بھی برخلاف تھا۔ایسے میں چیئرمین پی سی بی نے جو ردعمل دیا، وہ کسی ہنگامی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک اصولی مؤقف تھا۔ "اگر آپ ہم سے ٹرافی نہیں لینا چاہتے، تو پھر یہ آپ کو کسی اور سے بھی نہیں ملے گی” یہ ایک سادہ سی بات نہیں، بلکہ وہ جملہ تھا جس نے برصغیر میں روایتی طور پر بھارتی بالا دستی کے تصور کو چیلنج کیا۔

    برسوں سے یہ روایت رہی ہے کہ بھارت جو چاہے،جیسے چاہے، ویسا کرے اور باقی ممالک اس کے فیصلے کو خاموشی سے تسلیم کر لیں۔ مگر اس بار ایک پاکستانی نمائندے نے، اپنے ادارے کی سطح پر، غیرتِ قومی اور ریاستی وقار کو پہلی ترجیح دیتے ہوئے روایت کو توڑا۔بدقسمتی سے، داخلی سطح پر بعض عناصر نے اس جرات مندانہ اقدام کو ذاتی انا سے تعبیر کیا۔ کچھ نے اسے محض "محسن نقوی کے خلاف احتجاج” کا رنگ دے کر معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ بین الاقوامی فورمز پر شخصیات کے پیچھے ریاستیں کھڑی ہوتی ہیں؟ کیا ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ اگر آج ایک پاکستانی نمائندے کو نظرانداز کرنا آسان سمجھا گیا تو کل یہ طرزِ عمل پاکستان کے صدر یا وزیراعظم کے ساتھ بھی دہرایا جا سکتا ہے؟ یہ وہ موقع تھا جب قوم کو ایک آواز میں بولنا چاہیے تھا، اورکہنا چاہیے تھا کہ "نہیں، یہ پاکستان کی توہین ہے اور ہم اسے برداشت نہیں کریں گے”۔ جو لوگ اس وقت محسن نقوی کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں، اگر یہی ٹرافی کسی غیر ملکی نمائندے کے ذریعے دی جاتی اور محسن نقوی پیچھے ہٹ جاتے تو یہی حلقے اسے کمزوری اور غلامانہ ذہنیت سے تعبیر کرتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار خاموشی اور نرمی کے بجائے، ایک واضح اور دوٹوک پیغام دیا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ علامت اس تبدیلی کی، جس کی اس قوم کو مدتوں سے ضرورت تھی۔ وہ تبدیلی جو ہمیں اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا حوصلہ دے، جو ہمیں بتائے کہ وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اب ہر محفل میں صرف ان کی مرضی نہیں چلے گی۔ یہ وقت قوم کی پشت پر کھڑے ہونے کا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی قیادت، اپنے اداروں اور اپنے فیصلوں کا دفاع نہ کیا تو کل کو ہمیں ہر سطح پر پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔ دنیا صرف ان کا احترام کرتی ہے جو اپنی خودداری کا بھرم رکھتے ہیں، اور یہی وہ پیغام ہے جو پاکستان نے اس چھوٹے سے واقعے کے ذریعے دیا ہے۔محسن نقوی کی ذات اس تحریر کا محور نہیں۔ اصل نقطہ یہ ہے کہ اگر ایک ادارہ ملکی وقار کے لیے کھڑا ہو، تو ہم سب کو اس کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے۔ ہمیں ان رویوں کو ترک کرنا ہوگا جو ہر قومی عمل کو تنقید، تمسخر یا تعصب کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔

    اب وقت ہے کہ ہم اپنی فکری آزادی کو ریاستی وقار سے ہم آہنگ کریں۔ یہ کوئی سیاست کا سوال نہیں، یہ حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ہر موقع پر مخالف سمت کھڑے ہو کر صرف تنقید کا چراغ جلاتے رہیں گے یا پھر ایک قوم کی طرح، ایک جھنڈے کے نیچے، ایک مؤقف کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان کا پرچم سرنگوں نہیں ہوتا اور نہ ہی ہم کسی قیمت پر وقارِ وطن پر سمجھوتہ کریں گے۔

  • تبصرہ کتب،نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    تبصرہ کتب،نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    پیش نظر کتاب ” نوجوان نسل کےلئے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ عبدالمالک مجاہد کی نئی تالیف ہے جسے دینی کتابوں کے ادارہ دارالسلام انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے ۔یہ کتاب کتب ِ سیرت میں ایک خوبصورت موتی کی طرح گرانقدراضافہ ہے ۔ موضوع جس قدر عظیم ہے عبدالمالک مجاہد نے اسی قدر بہتر طریقے سے اسے لکھنے کاحق ادا کیا ہے ۔ کتاب میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جو بغیر سند کے مذکور ہویاجس کی صحت مشکوک ہو ۔ یہ کتاب آپ ﷺ کی حیات مبارک کو مختصر طور پر پڑھنے کی خواہشمند نوجوان نسل کے لئے لاجواب اور بےمثال تحفہ ہے ۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود سیرت النبی کے تمام پہلوﺅں کا مکمل احاطہ کرتی ہے اس میں نبی ﷺ کی مبارک زندگی کے تمام گوشے خوبصورت طریقے سے بیان کئے گئے ہیں ۔کتاب کااسلوب نہایت دلچسپ اورعام فہم ہے جوکہ بطور خاص نوجوان نسل کالجوں ، یونیورسٹیز اوردینی اداروں کے طلبہ وطالبات کے لئے نہایت مفید ہے۔

    انداز بیاں میں سادگی اورروانی ہے تاکہ نوجوان نسل اسے دلچسپی سے پڑھے ۔ اس لئے کہ یہ محبوب الہیٰ کا تذکرہ ہے ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے دنیا میں بسایا اس کے بعد بیشمار ادوار گزرتے چلے گئے تاآنکہ انسانی جذبات واحساسات نے تحریرکی شکل اختیار کی اول اول انسان نے پتھروں پر لکھنا شروع کیا تب سے اب تک جتنے ادور بھی گزرے، لوگ لکھتے رہے اور لکھتے چلے جائیں گے لیکن سیرت رسول پر لکھنے کا حق ادا نہیں کرسکیں گے سیرت طیبہ کے ہدی خوانوں میں عبدالمالک مجاہد بھی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ”پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ میں تمام واقعات مستند اور صحیح ہیں ۔ یہ واقعات سیرت کی قابل اعتماد کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔ قرآنی آیات ، احادیث اور دیگر عربی عبارات کے ترجمے کو لفظی ترجمے کی بجائے آسان ترین اوربامحاورہ ترجمے کی صورت میں لکھا گیاہے ۔کتاب اللہ کے نبی ﷺ کی روشن زندگی کے روشن اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے جس کے مطالعہ سے ہم دین ودنیا کی کامیابیاں سمیٹ سکتے اوردنیا کو بھی انسانیت، امن ، سلامتی کاایک امیدافزا پیغام دے سکتے ہیں ۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لوئر مال لاہور پر دستیاب ہے۔ یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ 416صفحات پر مشتمل اس کتاب کے لوکل ایڈیشن کی قیمت 1000روپے ، آرٹ پیپر دو کلر ایڈیشن کی قیمت 1300روپے ہے جبکہ امپورٹڈ پیپر پر طبع شدہ ایڈیشن کی قیمت 1900روپے ہے ۔

  • بیوروکریسی کا سوشل میڈیا کا غلط استعمال،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کا سوشل میڈیا کا غلط استعمال،تحریر:ملک سلمان

    گزشتہ برس میں نے سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی جعل سازیوں اور واحیات حرکات پر تفصیلی کالمز لکھے اور وزیراعظم کو اسکی سنگینی سے اگاہ کیا تو وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے فوری طور پر اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن اور غیرضروری مشہوری پر پابندی کا نوٹیفیکیشن کرنے کا حکم دیا۔

    2ستمبر2024کے وزیراعظم شہباز شریف کے حکم کے باوجود پولیس سمیت پنجاب کے افسران ٹک ٹاک سٹار بنے ہوئے تھے میں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی توجہ مبذول کروائی تو انہوں نے بھی سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے احکامات جاری کر دیے۔سیلابی صورت حال میں سرکاری ملازمین نے پھر سے وہی جعل سازی شروع کردی جس پر میں نے گزشتہ ہفتے دوبارہ کالمز لکھے کہ سرکاری ملازمین اپنا اصل کام چھوڑ کر سیلف پروجیکشن اور سوشل میڈیا پر ایکٹنگ اور اینکرنگ میں لگے ہوئے ہیں الحمدللہ آج وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر ایک دفعہ پھر سے پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین کو ناصرف غیر قانونی سیلف پروجیکشن سے روکنے بلکہ غیر ضروری تشہیر اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تجزیہ کاری اور تبصروں سے بھی دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا دور ایک طرف افسران کو سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے سے روکنے میں ناکام رہا وہیں پر بیسوں افسران کو ترقیوں سے محروم کرنے کی وجہ سے بھی متنازع رہا۔ موجودہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کی تعیناتی سے میرٹ پر یقین رکھنے والے افسران بہت خوش اور پرامید ہیں کہ اب انہیں انکا جائز حق یعنی اگلے گریڈ میں ترقی ضرور مل جائے گی۔ جہاں افسران کو ان سے انصاف اور میرٹ کی یقین ہے وہیں میرے جیسے رول آف لاء کی بات کرنے والے بھی یقین کامل رکھے ہوئے ہیں کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ہوگا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے گزارش ہے اس اہم ترین سیٹ بطور سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ ’’افسروں کا افسر“ والی سیٹ پر آپ افسران کو انکا جائز حق اگلے گریڈ میں ترقی ضرور دیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ افسران کی جعل سازیوں اور سیلف پروجیکشن کی غیرقانونی حرکات پر محاسبہ بھی کریں گے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان سے گزارش ہے کہ انتہائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فوری ایکشن لیا جائے اور سیلف پروجیکشن پر پابندی کا واضح اور نیا نوٹیفیکشن جاری کی جائے کیونکہ سابق سیکرٹری اسٹیشمنٹ نے ”گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے“والا کام کرتے ہوئے 2020میں پی ٹی آئی حکومت میں ہونے والے نوٹیفیکیشن کو ہی دوبارہ جاری کر دیا تھا۔ یاد رہے پی ٹی آئی دور حکومت میں بھی میں نے ہی کالمز لکھے تھے جس پر اس وقت کی حکومت نے جولائی 2020میں سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے ناصرف پالیسی بنائی بلکہ درجنوں افسران کو نوٹس جاری کیے۔

    موجودہ صورت حال میں بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کے سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے نئے نوٹیفیکیشن میں واضح پابندی لگائی جاتی کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔ سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔ سرکاری افسران میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کی پیش نظر ہر طرح کی ذاتی پروجیکشن پر واضح پابندی عائد کی جائے ،بدقسمتی سے سرکاری افسران شہرت کی دوڑ میں اپنی بنیادی ذمہ داری بھول بیٹھے ہیں۔ عوام لٹتی رہے لیکن سوشل میڈیا پر ”صاحب“ کا اقبال بلند رہنا چاہئے۔
    وزیراعظم اور تمام وزراء اعلیٰ کو چاہئے افسران کی ذاتی پروجیکشن اور سوشل میڈیا ماڈلنگ پر پابندی لگائی جائے۔ عوامی خدمت کی بجائے ذاتی پروجیکشن میں مصروف افسران کو فی الفور عہدوں سے فارغ کیا جائے اور انکے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے۔ عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔

    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم کون ہو ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔بہت سارے پراجیکٹس کی افتتاحی پلیٹ پر بھی افسران نے اپنے نام کنندہ کیے ہوئے ہیں جو کہ سرا سر اختیارات سے تجاوز ہے۔ عوامی فلاح و بہبود کے تمام تر پراجیکٹس سمیت ہر طرح کی میڈیا پروجیکشن صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے۔جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے وہ ہمارے منتخب نمائندے ہیں۔انہیں ہم اپنے ووٹ اور مرضی سے سلیکٹ کرتے ہیں۔اس لیے وہ وسائل کے امین ہیں۔ سرکاری افسران کا کام حکومتی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے حکومت وقت کی مثبت تشہیر کرنا ہے نہ کہ ذاتی پروجیکشن۔

    حکومت وقت کو چاہئے کہ اس لاقانونیت کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں اور کسی بھی سرکاری ملازم کو میڈیا پروجیکشن کی اجازت نہ دی جائے۔

  • جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ ہردور میں امن معاہدے لایا،عمل نہ دارد !
    ٹرمپ منصوبے کا یہ مطلب نہیں،پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا
    پاکستان میں کئی مقبول لیڈر اقتدار میں آئے،قوم کیلئے صرف نواز شریف فکرمند
    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل، فلسطین 20 نکاتی منصوبہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ٹرمپ سے قبل بھی، بل کلنٹن، بش اور اوباما نے بھی اپنے اپنے ادوار میں امن معاہدے دنیا میں پیش کئے، 1993 میں اوسلو معاہدہ، پھر بش دور میں امریکہ، یورپی یونین ،روس اور اقوام متحدہ نے پیش کیا اوباما دور میں مذاکرات متعدد بار ہوئے، اب امریکی صدر ٹرمپ نے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک سوالیہ نشان ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا یا کرنے جا رہا ہے، پاکستان دیگر اسلامی ممالک کی طرح اسرائیل، فلسطین امن معاہدے میں شامل ہیں،

    پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈرشپ کا فقدان ہے، سیاسی جماعتوں میں موجود علاقائی سیاستدان مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر رہے ہیں،جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کب تھی کس کا کیا کردار رہا، اس سلسلے میں پاکستان سمیت ایک عالم گواہ ہے،کیا انہی سیاست دانوں کی وجہ سے آئین کا قتل عام نہیں ہوا؟ کیا آئین کے قتل عام میں ملوث یہ سیاستدان نہیں تھے؟ کہا جاتا ہے کہ عمران خان مقبول لیڈر ہے چلیے مان لیا عمران خان مقبول لیڈر ہیں، کیا وہ جس کشتی میں سوار ہو کر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تھے، اس کشتی کے ملاح کون تھے؟ جمہور کے مسائل کا کسی کو ادراک ہے، نہ تھا، نہ ہے، کس طرح اقتدار حاصل کیا جائے اور کیسے کیا جائے اقتدار کی فکر سب کو ہے اس ملک کو اس عوام کی فکر کسی کو نہیں،سوچیے اور غور کیجئے،

    نواز شریف ملکی سیاسی تاریخ میں ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں، جنہوں نے ملکی دفاع مضبوط کرنے کے بعد 2013 اور 2017 جب وزیراعظم بنے تو ان کی توجہ کا مرکز معاشی ترقی تھی آج کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار گواہ ہیں، ان کے خلاف پانامہ سے قبل جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور نااہلی جیسے مقدمات انہی سیاستدانوں کے سامنے بنائے گئے، خدا کی پناہ اعلیٰ ججوں کا ایک گروپ بھی اس سازش میں ملوث نہیں تھا؟ بحیثیت قوم ہم نے اپنے سیاسی لیڈرشپ کی قدر نہیں کی، جس کا خمیازہ آج ملک و قوم دونوں بھگت رہے ہیں، جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کی آڑ لیکر سیاستدانوں کی اکثریت نے عوام اور اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، آج کی بین الاقوامی سیاسی شطرنج کھیلے جانے والی گیم میں پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، ملکی معیشت کو سنبھالنا ایک چیلنج ہے، پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وفاقی وزیر خارجہ کی سیاسی حکمت عملی درست راستوں پر چل رہی ہے،

    پاک فوج کسی ایک فرد کا نام نہیں پاک فوج اور جملہ اداروں کو اس ملک کی سرحدوں کی فکر تھی اور یہ جاری ہے، تاہم ہم نے بحیثیت قوم، سیاسی جماعتوں نے اپنے قائدین سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا،،بقول شاعر ،،
    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں
    کون سا داغ نکال کر دل سے ثبت سرےدیوان کریں

  • جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    گزشتہ چند برسوں میں ہمارے معاشرے میں یہ رجحان شدت سے بڑھا ہے کہ جیسے ہی کوئی بڑا جرم رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا اسے اپنی اولین ترجیح بنا لیتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے طوفان برپا ہو جاتے ہیں، اخبارات کی سرخیاں سنسنی خیز انداز میں لکھی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ تصویریں اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ اطلاع رسانی کا عمل ہے مگر اصل میں یہ ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو معاشرتی اقدار، نفسیات اور قانون پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

    جب کسی شہر یا علاقے میں جرم ہوتا ہے اور اسے بار بار نشر یا شیئر کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر یقینی اور خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جرم ہر جگہ ہے اور وہ کسی وقت بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر معاشرے کو غیر محفوظ بنا کر پیش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ میڈیا اکثر مجرم کے نام، تصویر اور تفصیلات ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جیسے وہ کوئی غیر معمولی شخصیت ہو۔ اس عمل سے نادانستہ طور پر مجرم کو شہرت ملتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جرم سے زیادہ مجرم کی جرأت یا "کارنامے” کو یاد رکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے تاثر سے دوسرے افراد کو بھی یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ اسی راستے پر چلیں تاکہ انہیں بھی پہچان مل سکے۔

    جرائم کی خبر دیتے ہوئے بعض اوقات میڈیا اس حد تک تفصیل بیان کرتا ہے کہ مجرم کے طریقۂ واردات کی مکمل کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ اس سے وہ افراد جو جرم کی طرف میلان رکھتے ہیں، انہیں عملی "رہنمائی” مل جاتی ہے۔ یہ رجحان بالخصوص بینک ڈکیتی، اغوا یا انٹرنیٹ فراڈ جیسے جرائم میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ جرائم کی مسلسل تشہیر نوجوان نسل پر نہایت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب وہ روزانہ قتل، چوری، ڈاکہ یا زیادتی جیسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ یہ سب "عام” باتیں ہیں۔ یوں جرائم کے خلاف حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے اور برائی کے خلاف اجتماعی ردِ عمل دھندلا جاتا ہے۔

    میڈیا کا کام حقیقت بیان کرنا ہے، لیکن خبر کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ خوف و ہراس یا سنسنی پھیلائے، صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کی اطلاع دے مگر اس کو تفریح یا ڈرامے کا رنگ نہ دے۔ بدقسمتی سے آج زیادہ تر میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا چینلز ریٹنگ اور ویوز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خبر کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے غیر ضروری تفصیلات اور جذباتی تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں صحافتی اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داری پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ میڈیا کو اپنی زبان، الفاظ اور انداز پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ سخت الفاظ، ڈرامائی بیانات اور خوفناک تصاویر استعمال کرنے سے خبر ایک "تفریحی پیکیج” بن جاتی ہے۔ صحافتی اصول یہ کہتے ہیں کہ جرم کی خبر سادہ، مؤثر اور غیر جانبدار انداز میں دی جائے۔

    ریاست پر لازم ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے ایک واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کرے۔ ایسا ضابطہ جو بتائے کہ کون سی معلومات عوام تک پہنچانی ضروری ہیں اور کون سی معلومات جرم کو بڑھا سکتی ہیں۔ صرف ضابطہ بنا دینا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اداروں کو سختی کے ساتھ نگرانی کرنی ہوگی تاکہ میڈیا ریٹنگ کی خاطر قانون کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اگر کوئی چینل یا پلیٹ فارم جرم کی غیر ضروری تشہیر کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

    اگر جرم کی خبر دینی ہی ہے تو اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ عوام کو اس سے سبق ملے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں ڈکیتی ہوئی ہے تو اس کے ساتھ عوام کو حفاظتی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جائے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کے طریقۂ واردات پر نہیں بلکہ اس کے اسباب پر بات کرے۔ مثلاً بے روزگاری، غربت، منشیات یا سماجی ناانصافی جیسے عوامل پر روشنی ڈالی جائے تاکہ اصل بیماری کا علاج ہو سکے۔ جرائم کی خبر کے ساتھ عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ جرم سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور اگر جرم ہو جائے تو کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے۔

    آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جرم کی خبر دینا ایک صحافتی ضرورت ہے، مگر اس خبر کو اس انداز میں پھیلانا کہ معاشرہ خوف زدہ ہو یا مجرم ہیرو بن جائے، نہایت خطرناک ہے۔ خبر کا مقصد عوامی شعور بیدار کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ریٹنگ بڑھانا یا سنسنی خیزی پھیلانا۔ اگر میڈیا اور ریاست دونوں اپنی ذمہ داری پوری کریں تو جرائم کی تشہیر کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور خبر کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

  • صارف کے حقوق اور موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار،تحریر:یوسف صدیقی

    صارف کے حقوق اور موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار،تحریر:یوسف صدیقی

    صارف کے حقوق آج کے جدید دور میں نہایت اہم موضوع بن چکے ہیں۔ موبائل فون اور ڈیجیٹل خدمات ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ چاہے تعلیم حاصل کرنا ہو، کاروبار کرنا ہو یا روزمرہ کے امور انجام دینا ہوں، موبائل سروسز کے بغیر زندگی تقریباً نامکمل ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے حقوق کی پامالی اور غیر ضروری چارجز کے ذریعے لوٹ مار کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

    صارف کے حقوق صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہیں۔ ایک صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شفاف قیمتوں پر معیاری خدمات حاصل کرے، اسے مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی یا اضافی چارجز سے بچایا جائے۔ پاکستان میں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر عملی طور پر شکایات کا فوری حل اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ یہی کمزوری موبائل کمپنیوں کے لیے صارف سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

    موبائل سروسز میں لوٹ مار کی کئی شکلیں عام ہیں۔ اکثر کمپنیاں صارف کو پیکج کے فوائد بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، جبکہ اصل میں وہ خدمات محدود یا اضافی چارجز کے تحت دستیاب ہوتی ہیں۔ صارفین کی معلومات کا غلط استعمال بھی عام ہوتا ہے، جیسے غیر ضروری اشتہارات بھیجنا یا ڈیٹا کی نجی معلومات فروخت کرنا۔ شکایات کے حل میں تاخیر اور غیر سنجیدگی صارف کے حق کی پامالی میں شامل ہے۔

    گذشتہ چند سالوں میں پاکستان میں متعدد صارفین نے موبائل کمپنیوں کے خلاف شکایات درج کروائی ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی صارف نے ڈیٹا پیکج خریدا، لیکن اس کا ایک حصہ غیر متوقع اضافی چارجز کے ساتھ وصول کیا گیا۔ ایسے معاملات میں صارف کو نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ کمپنی پر اعتماد بھی ختم ہوا۔ عالمی سطح پر بھی مثالیں موجود ہیں جہاں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین موجود ہیں اور کمپنیاں مجبور ہیں کہ وہ شفاف اور ذمہ دار رہیں۔

    پاکستان میں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے Consumer Protection Act اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) موجود ہیں، جو صارفین کی شکایات سننے اور حل کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ تاہم، عملی طور پر شکایات کا فوری اور مؤثر حل اکثر ممکن نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے صارفین کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائیں اور موبائل کمپنیوں کو صارف کے حقوق پامال کرنے سے روکیں۔

    صارفین کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ وہ آگاہ اور بااختیار ہوں تاکہ informed choices کر سکیں۔ موبائل کمپنیوں کی شفافیت یقینی بنانا اور غیر ضروری یا چھپے ہوئے چارجز ختم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو شکایات کے فوری حل کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے اور صارفین کی کمیونٹی، فورمز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کا تبادلہ اور کمپنیوں کی نگرانی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ قانونی چارہ جوئی کے عمل کو آسان اور سستا بنایا جائے تاکہ ہر صارف اپنے حقوق کے لیے آسانی سے اقدام کر سکے۔

    صارف کے حقوق کا تحفظ صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ جب صارف اپنے حقوق سے باخبر ہوگا تو موبائل کمپنیاں مجبور ہوں گی کہ وہ شفاف اور ذمہ دار سروس فراہم کریں۔ لوٹ مار اور دھوکہ دہی کے خلاف جدوجہد صرف صارف کی تعلیم اور آگاہی سے ممکن ہے۔ ہر صارف کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے اور شفاف خدمات کا مطالبہ کرے۔ موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار روکنا صرف ایک ادارے یا قانون کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ پوری معاشرتی ذمہ داری ہے جس میں حکومت، ادارے اور صارف سب مل کر اپنا کردار ادا کریں۔

  • غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    امریکہ کی جانب سے پیش کیا گیا نیا غزہ امن منصوبہ خطے میں ایک نئی بحث کا سبب بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ 21 نکات پر مشتمل ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی بے دخلی، عبوری حکومت کے قیام اور اسرائیلی انخلاء جیسے نکات شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر ایسی شقیں موجود ہیں جو فلسطینی عوام کے لیے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔

    منصوبے کے مطابق معاہدے کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں یرغمالیوں اور مرنے والوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔ یہ اقدام انسانی ہمدردی کے طور پر پیش کیا گیا ہے مگر حقیقت میں یہ فلسطینیوں پر فوری دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ اگر بڑے معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو یہ صرف وقتی خاموشی ہوگی جس کے بعد اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔منصوبہ کہتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کر کے اقتدار سے الگ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو کون پر کرے گا؟ موجودہ حالات میں کوئی بھی جماعت فوری طور پر عوامی سطح پر متبادل کے طور پر قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ یہ خلا مزید انتشار اور غیر ریاستی عناصر کے ابھرنے کا سبب بن سکتا ہے۔منصوبے میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرنے کی تجویز بھی ہے جو بین الاقوامی نگرانی میں کام کرے گی۔ اس حکومت کو تعلیمی، عدالتی اور انتظامی ڈھانچوں کو چلانے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اگر یہ حکومت مقامی نمائندگی کے بغیر قائم ہوئی تو اسے عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ خطرہ یہ ہے کہ یہ عبوری مرحلہ طویل المدتی ہو جائے اور فلسطینی خودمختاری ایک خواب بن کر رہ جائے۔

    اسرائیل نے غزہ سے انخلاء پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر شرط یہ ہے کہ متبادل سیکیورٹی فورسز تعینات ہوں۔ یہ شرط منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری ہے، کیونکہ اگر متبادل فورسز کی تیاری میں تاخیر ہوئی تو اسرائیل دوبارہ اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔منصوبے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امن قبول کرنے والے حماس ارکان کو معافی یا محفوظ راستہ دیا جائے۔ بظاہر یہ مفاہمت کی کوشش ہے مگر متاثرین اور فلسطینی عوام کے لیے یہ اقدام ناانصافی محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں داخلی تقسیم اور مزید اختلافات پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔منصوبے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ ہے جو اسرائیل کو عبوری مرحلے کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی اختیارات دیتا ہے۔ اگر فلسطینی انتظامیہ مطلوبہ شرائط پوری نہ کر سکی تو اسرائیل کو ریاست کے قیام کے وعدے سے دستبردار ہونے کا اختیار ہوگا۔ اس طرح فلسطینی ریاست کا قیام محض ایک مشروط وعدہ بن جاتا ہے۔

    ایک اور پہلو جو سامنے آیا ہے وہ ہے “غزہ ریویرا” منصوبہ، جس کے تحت غزہ کو دوبارہ تعمیر کر کے ایک ساحلی اور سیاحتی مرکز بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر آبادی کی عبوری یا مستقل نقل مکانی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ناقدین اس کو نسلی صفایا اور آبادیاتی انجینیئرنگ سے تعبیر کر رہے ہیں۔یہ منصوبہ بظاہر امن کا خاکہ پیش کرتا ہے مگر اس کے اندر ایسے کئی خطرناک پہلو موجود ہیں جو فلسطینی خودمختاری کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ عوامی نمائندگی، شفاف وقت بندی اور واضح قانونی ضمانتوں کے بغیر نافذ ہوا تو یہ اسرائیلی مفاد کا اوزار بن کر رہ جائے گا۔ فلسطینی عوام کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے حقِ خود ارادیت کو کسی بھی بین الاقوامی منصوبے میں بنیادی شرط کے طور پر منوائیں۔