Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    غنڈوں بدمعاشوں کو عام طور پر ”زندہ فرعون“ کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن بیوروکرویسی میں حکمرانوں کی جی حضوری اور اٹھائی گیری میں زمین و آسمان ایک کرکے خود کو قانون سے بالا تر اور ماورائی مخلوق بن کر کرپشن، قانون شکنی اور فاشزم کی انتہا کرنے والے یہ تگڑے افسر جو اپنے قبیل کے سنئیر افسران کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ان کیلئے "سرکاری فرعون” اور "آن ڈیوٹی ڈریکولا” کی ٹرمز استعمال کی جاتی ہیں۔ ان زندہ و حاضر سروس فرعونوں کے سامنے کوئی نہیں بولتا لیکن جب یہ زمینی خدا ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو پھر ساتھی افسران ان کی ریکارڈ توڑ کرپشن، لاقانونیت اورفرعونیت کی داستانیں زبان زدعام کرتے ہیں اور کچھ کتابیں لکھ دیتے ہیں لیکن دوران سروس ان کی شر سے بچنے کیلئے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں کرتے۔ دیر آید درست آید کے مترادف یہ سارے کردار تاریخ میں ایک بدنما داغ اور گالی بن کر رہ جاتے ہیں۔

    اگر میرٹ کی بات کی جائے تو سرکاری ملازم کسی سیاسی جماعت کا ورکر نہیں ہوتا جس کی مرضی حکومت آئے انہوں نے اپناکام کرنا ہے لیکن حقیقت اس کے متصادم ہے یہاں وہی افسر کامیاب ہے جو عوامی فلاح و بہبود کی بجائے سیاسی اور حکومتی نوکری کیلئے خود کو وقف کر دے۔
    سابق حکومت کے ساتھ کام کرنے والوں میں سے کچھ کو بزدار اور پی ٹی آئی سے نتھی کرکے کے کھدے لائن لگا دیا گیا ہے تو کچھ کو پرموشن سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ موجودہ سیٹ اپ میں اہم سیٹوں پر بیٹھے سارے بزداریے ہیں جو بزدار کے پی ایس او، سی ایس او، اسکے ہوم ٹاؤن کے مجاور خاص بن کرگئے تھے وہی افسران آج نئے دربار کی مجاوری کر رہے ہیں۔ ان کی واحد قابلیت اٹھائی گیری میں چیمپئن ہونا ہے، آٹھ سنئیر افسران کے سامنے ٹشو سے بزدار کے جوتے صاف کرنے والا بھی موجودہ حکومت میں فٹ ہوگیا تھا۔

    آج تک ہم سپر ہیروز کی کہانیاں سنتے تھے یا فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھتے تھے کیونکہ ان کرداروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بیوروکریسی کے کماؤ پتر اور لاڈلے افسران کو بھی سپر ہیروز بنا کر پیش کیا جاتا ہے کسی کو جونئیر گریڈ میں ڈی جی، ایم ڈی، سی ای او، پی ڈی اور سیکرٹری لگا دیا جاتا ہے تو کسی کو دو سے تین اضافی چارج دے کر سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا جاتا ہے۔
    گذشتہ دنوں حکومت پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں مینشن تھا کہ صوبائی سروس کے دو افسران کو اس لیے عہدوں سے ہٹایا جارہا ہے کہ یہ این ایم سی کیلئے اہل ہوجائیں۔ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی باقی سارے افسران اہم ترین سیٹوں پر موجود ہیں اور این ایم سی کیلئے اہل بھی ہوگئے سارے قانون صرف صوبائی سروس کے افسران کیلئے؟

    گریڈ بیس سے گریڈ اکیس میں ترقی کیلئے ناگزیر کورس این ایم سی کرنے والے ہر افسر کیلئے بائیس لاکھ روپے کی خطیر رقم حکومتی خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔
    گریڈ بیس سے گریڈ اکیس کیلئے نیشنل مینجمنٹ کورس، گریڈ انیس سے گریڈ بیس کیلئے سنئیر مینجمنٹ کورس اور گریڈ 18سے گریڈ 19 کیلئے مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس تقریباً چار ماہ پر مشتمل ٹریننگ کورسز ہیں۔
    اچھی پوسٹنگ حاصل کرنے والے افسران ٹریننگ کیلئے ہرگز راضی نہیں ہوتے۔ اچھی سیٹ پر موجود افسران ٹریننگ سے بچنے کیلئے زور لگا رہے ہوتے ہیں۔ شیر جنگل کا بادشاہ ہے انڈے دے یا بچے کے مترادف تین دفعہ ٹریننگ کورسز چھوڑنے کی گنجائش موجود ہے سونے پر سہاگہ کہ کمپیٹنٹ اٹھارٹی کی درخواست پر ٹریننگ سے جتنی دفعہ مرضی نام نکلواتے رہیں وہ چانس ضائع کرنا کنسڈر ہی نہیں ہوگا۔ ٹریننگ پر صرف وہی جانا چاہتا ہے جو ”اوایس ڈی” ہو یا پھر کسی کھڈے لائن پوسٹنگ تو وہ سوچتا ہے ویلا بیٹھا ٹریننگ ہی کر لوں۔

    لاقانونیت اور لاڈلے پن کی انتہا کا یہ لیول ہے کہ سفارشی اور تگڑے افسران صرف اس شرط پر ٹریننگ کرتے ہیں کہ انکی پوسٹنگ ساتھ رہے گی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بغیر ٹریننگ کہ تم سے کام ہو نہیں رہا ہوتا اور اتنے تیس مار خان رہے کہ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ پوسٹنگ بھی چاہئے۔ قابلیت کے دعویداروں کا حقیقی حال یہ ہے کہ بہت سارے افسران دوران ٹریننگ رپورٹس اور اسائمنمٹ تک بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، رپورٹس، اسائمنٹس اور ریسرچ پیپر پیسے دے کر ایکسپرٹس سے بنوائے جاتے ہیں۔

    دوران ٹریننگ پوسٹنگ ہولڈ کرنے والے لاڈلے تو خوش ہوجاتے ہیں لیکن عوامی فلاح و بہبود کے کام ٹھپ ہوجاتے ہیں۔ سینکڑوں افسران او ایس ڈی ذلیل ہو رہے ہیں لیکن یہ سفارشی افسران اتنے ناگزیر ہیں کہ ٹریننگ اور پوسٹنگ ایک ساتھ چاہئے نوابوں کو۔ دوران ٹریننگ سارے افسران وفاقی اسٹیبشمنٹ ڈویژن کی ڈسپوزل پر ہوتے ہیں اور ان چار ماہ کی اے سی آر بھی وہی لکھتے ہیں ایسے میں ان افسران کی کسی بھی صوبائی یا وفاقی عہدے پر موجودگی غیر قانونی اقدام ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہوں نے صرف افسران کے ناز نخرے، غیر قانونی اقدامات اور ناجائز خواہشات پوری کرنی ہیں یا عوام کو بھی ڈلیور کرنا ہے۔

    آرمی میں بہت اچھا سسٹم ہے کہ آپ ڈائریکٹ ٹریننگ پر نہیں چلے جاتے بلکہ ٹریننگ سے پہلے انٹرنس ایگزام لیا جاتا ہے اس امتحان میں پاس ہونے والے ہی ٹریننگ کیلئے شارٹ لسٹ ہوتے ہیں۔ آرمی، نیوی اور ائیرفورس سمیت افواج پاکستان میں پرموشن کورسز کے دوران پوسٹنگ کا تصور بھی نہیں۔
    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واضح پالیسی دینا ہوگی کہ دوران ٹریننگ کسی کو پوسٹنگ نہیں دی جائے گی۔ پرموشن کورس میں شرکت کیلئے پوسٹنگ پر نہ ہونا لازم کیا جائے۔ کیا پرموشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے کورسز اتنے بیکار اور ناکارہ ہیں کہ افسران پوسٹنگ انجوائے کرتے ہوئے انہیں اوور ٹائم کی وقت گزاری سمجھتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • تبصرہ کتب: تعلیمی تربیتی سنہری کہانیاں

    تبصرہ کتب: تعلیمی تربیتی سنہری کہانیاں

    مصنف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 408
    قیمت : 1500روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹیریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ :37324034 042-
    زیر تبصرہ کتاب ” سنہری کہانیاں “ نوجوان بچوں ، بچیوں اور خصوصاََ آٹھویں ، نویں اور دسویں کے طلبہ وطالبات کے لیے لکھی گئی ہے ۔بچوں اور نوجوانوں کی تربیت واصلاح کے حوالے سے یہ بہت ہی شاندار ، لاجواب اور مفید کتاب ہے ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ جو نوجوان ایک بار یہ کتاب پڑھ لے ۔۔۔۔ممکن نہیں کہ وہ اپنے اندر مثبت اور مفید تبدیلی نہ پائے ۔ ہمارا معاشرہ جس تیزی سے تباہی کا شکار ہے ان حالات میں نوجوانوں کی تربیت واصلاح کی بے حد ضرورت ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ قوم کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔نوجوان ہی قوم کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔24کروڑ آبادی کے حامل ملک پاکستان کی مجموعی آبادی کا 64فیصد حصہ 30سال سے کم عمر کے جوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ان میں 29فیصد 15سے 29سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔اس طرح 195ممالک میں سے پاکستان یوتھ پاپولیشن کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ کسی بھی قوم کی کامیابی وناکامی ، فتح وشکست ، ترقی وتنزلی اور عروج وزوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ باوجود اس بات کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ملک تعمیر وترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہے ۔ وجہ یہ کہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی نہیں کی جارہی ۔ آج بھی اگر نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کی جائے تو یقینا یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل بن سکتا ہے اور قوم کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے ۔اس وقت پاکستان بھر میں دارالسلام انٹر نیشنل بچوں اور نوجوانوں کی تربیت اور رہنمائی کے لیے سب سے زیادہ کتابیں شائع کررہا ہے ۔ پیش نظر کتاب ” سنہری کہانیاں “ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کے مصنف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ” جب بھی کوئی مصنف یا مو¿لف کوئی کتاب لکھتا یا تالیف کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ ” سنہری کہانیاں “ لکھنے کا سبب بھی ایک ایسے سکول ٹیچر ہیں جو ایک دفعہ مجھے سے ملے اور کہنے لگے ” مجاہد صاحب ! میرا معمول ہے کہ کلاس میں بچوں کو پڑھانے سے پہلے آپ کی کسی نہ کسی کتاب کا کوئی واقعہ اپنے شاگردوں کو سناتا ہوں۔ اس سے بچوں کے دل نرم اور دماغ فریش ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح میں بڑے اچھے انداز میں اپنے شاگردوں کو پڑھا لیتا ہوں“ ۔مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ قوم کا ایک معمار اورمعلم بچوں کی اصلاح و تربیت میں میری کتابوں سے مدد لیتا ہے ۔ اس ایک واقعہ سے بچوں کے لیے لکھی گئی کتابوں کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ کتابوں میں لکھے بعض واقعات بہت عمدہ اور دلچسپ ہوتے ہیںجو سامعین کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر واقعات سچے ہوں تو ان کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں۔جبکہ اس کائنات میں سب سے سچی کتاب قرآن مجید ہے جس کا ایک ایک لفظ صحیح ہے یا پھر صحیح احادیث میں جو واقعات مذکور ہیں وہ بھی بالکل صحیح ہیں۔ پیش نظر کتاب ” سنہری کہانیاں “ کی تیاری میں قرآن مجید ، احادیث سیرت و تاریخ کی کتابوں میں موجود واقعات سے مدد لی گئی ہے ۔ اسی طرح بعض واقعات عصر حاضر میں پیش آتے ہیں، بعض معاصر کتابوں اور اخبارات میں جگہ پاتے ہیں ،بعض علماءکرام ، خطباءاور واعظین بیان کرتے ہیں ۔اس طرح کے ایک سو سبق آموز اور نصیحت آموز واقعات اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں ۔ کتاب میں موجود کہانیوں کا انتخاب عمدہ ، دلچسپ ، تربیتی اور اصلاحی ہے ۔جن کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل موضوعات سے کیا جاسکتا ہے : اپنے قاتل پر لطف وکرم ، جب بھی نواسہ رسول ﷺ کو دیکھا آنکھیں بھیگ گئیں ، لاالہ الا کی فضیلت وبرکت ، ایک ذہین جرنیل کی کہانی ، دماغ سے کام لو جیبوں کو بھر لو ، قریشی نوجوان کی ایمان افروز کہانی ، یہودی بچے کی عیادت ، عبرتناک موت کے واقعات ، طاقت کے باوجود معاف کرنے والا جنتی ، انگور کے گوشے نے وزارت دلا دی ، طلبہ کے ساتھ حکمت ، چرواہے کا تقویٰ حیران کرگیا ، بیت الخلا میں موت ، فضول خرچ آدمی شیطان کا بھائی ، احسان اور وفا کا دن ، سب سے زیادہ مہمان نواز مکی گھرانہ ، جھوٹی قسم کھانے والے کا عبرناک انجام ، سر قلم ہونے والا تھا کہ معاف کردیا ، امی فرشہ فرشتہ آگیا آگیا ، اللہ کی رضا پر راضی رہنے والی ماں ، نبی علیہ السلام کی خاص دعا خاص موقع کے لیے ، خیر اور بھلائی کی خصلتیں ، چھوٹے بچے بڑوں کے رہبر ، غریب بڑھیا کی دعا کا معجزہ ، سکول ٹیچر کی کہانی اس کی زبانی ، براءبن مالک نے تاریخ کا رخ موڑ دیا ، بھلائی بری موت سے بچاتی ہے ، میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا ، نبی ﷺ کا ایک خوش قسمت دیہاتی دوست ۔ کتاب میں شامل دیگر موضوعات بھی اسی طرح دلچسپ اور سبق آموز ہیں ۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ کتاب ہر گھر کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہئے کہ گھروں میں اپنے بچوں کو یہ واقعات سنائیں ، اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں یہ واقعات سنائیں ، دوست اپنی محفلوں اور مجالس میں اور واعظین اپنے خطبوں اور تقاریر میں یہ واقعات بیان کریں۔ ان شاءاللہ ان واقعات سے معاشرے میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی آئے گی ۔

  • زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو،تحریر:نور فاطمہ

    26 جون کو دنیا بھر میں انسداد منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے بلکہ معاشرے کو آگاہی دینا اور خاص طور پر نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا بھی ہے جو ان کی زندگیوں، تعلیم، صحت، اور مستقبل کو نگل رہا ہے۔نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب انسان اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے سفر پر نکلتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی عمر منشیات جیسے مہلک جال میں سب سے زیادہ الجھتی ہے۔ سگریٹ، گٹکا، چرس، آئس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء آج ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

    منشیات صرف جسم کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ ذہن، کردار، رشتے، اور مستقبل کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء جب منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں تو ان کی تعلیمی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔منشیات کی لت جرائم، بے راہ روی اور ذہنی دباؤ کو جنم دیتی ہے، جس سے پورا معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔

    دوستوں کی غلط صحبت،ذہنی دباؤ، امتحانی ناکامیاں یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے نوجوان منشیات کی طرف جاتے ہیں،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر منشیات کو "فیشن” کے طور پر دکھایا جاتا ہے اس وجہ سے بھی نوجوان منشیات کی طرف راغب ہوتے ہیں،آسانی سے دستیابی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت کی وجہ بھی منشیات کی طرف لے جاتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھے دوست چُنیں، وہ دوست بنائیں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں، تعلیم میں دلچسپی لیتے ہوں اور آپ کو برے راستوں سے روکیں۔خاندانی رشتوں کو مضبوط کریں،والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ بہتر تعلق نوجوان کو تنہائی اور ذہنی دباؤ سے بچاتا ہے۔مذہب اور روحانیت سے رشتہ جوڑیں،اللہ تعالیٰ پر یقین، نماز، ذکر اور قرآن فہمی ایک مضبوط کردار کی بنیاد بنتی ہے۔

    حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف آگاہی مہم چلائی جائے۔کھیلوں، آرٹس اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان مثبت سرگرمیوں میں مشغول رہیں۔منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کیا جائے۔منشیات وقتی سکون دے سکتی ہیں، لیکن زندگی بھر کی پشیمانی اور تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ نوجوانو، تمہیں اس قوم کا معمار بننا ہے، تمہاری آنکھوں میں پاکستان کا مستقبل بسا ہوا ہے۔ آؤ آج یہ عہد کریں کہ نشے کو نہیں، علم، کردار، محنت اور عزت کو اپنائیں گے۔ کیونکہ "زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو!”

  • وادیٔ کشمیر جنت نظیر میں چار دن.تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وادیٔ کشمیر جنت نظیر میں چار دن.تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ہر سال کی طرح، سال 2025 کے جون میں بھی فیصل آباد پریس کلب نے اپنے صحافی ساتھیوں کو جنت نظیر وادی کشمیر کی سیر کرانے کا عزم کیا۔ اس سفر کا خواب صدر پریس کلب شاہد علی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ترتیب دیا۔ ہر انتظام، ہر مقام، ہر لمحہ اُن کی پیشہ ورانہ سوچ اور محبت کی جھلک لیے ہوئے تھا۔ مگر قدرت نے ایک آزمائش لکھ دی۔ والدہ کی طبیعت ناساز ہوئی اور شاہد علی ٹرپ پر نہ جا سکے۔ لیکن ان کی عدم موجودگی میں بھی پروگرام کی روانی اور شاندار تنظیم نے ثابت کیا کہ ایک اچھے قائد کی تربیت صرف موجودگی سے نہیں، جذبے سے جھلکتی ہے۔ اُن کی ٹیم نے جس انداز سے ہر مرحلے کو نبھایا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وادی کے ہر نظارے میں لیڈر کی دعائیں اور شفقت شامل ہو۔

    یہ کوئی عام دن نہ تھا۔ سورج اپنی پہلی کرنوں کے ساتھ فیصل آباد پریس کلب کی عمارت پر نرمی سے پڑ رہا تھا۔ فضا میں ایک خوشی اور تجسس کی مہک تھی۔ یہ کوئی عام ٹور بھی نہ تھا۔ یہ ایک خواب کی تعبیر، ایک جنت نظیر وادی کی گواہی بننے کا سفر تھا۔ چار خواتین کی موجودگی نے قافلے کو اور بھی متوازن، شائستہ اور جاندار بنا دیا تھا۔19 جون کی رات جب ہم 72 صحافی، دو کوسٹرز اور ایک ہائی ایس گاڑی میں سوار ہو کر موٹر وے کے ذریعے مظفرآباد روانہ ہوئے، تو کسی کے چہرے پر نیند کے آثار تھے، تو کسی کی آنکھوں میں وادیٔ کشمیر کے خواب۔ لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی: جنت نظیر وادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی تڑپ۔موٹر وے کی ہموار سڑک پر گاڑیوں کے پہیے سرپٹ دوڑ رہے تھے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دلوں میں وادی کی دلفریب مناظر دیکھنے کی آرزو بڑھتی جا رہی تھی

    مظفرآباد پہنچتے ہی سنٹرل پریس کلب کی جانب سے پرتپاک استقبال ہوا۔ ناشتہ جیسے جشن کا آغاز تھا۔ پھر ہم پیر چناسی کی بلندیوں کی طرف روانہ ہوئے۔ 9500 فٹ کی بلندی، چار گھنٹے کا سفر، اور بل کھاتی سڑکیں۔ ہر موڑ پر قدرت نے جیسے اپنی نئی تصویر بنائی ہو۔ درختوں سے ڈھکے پہاڑ، بادلوں کی اوٹ میں چھپتا سورج، اور دُور دُور تک پھیلا سبزہ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کسی خیالی دنیا میں داخل ہو چکے ہوں۔
    ہماری اگلی منزل پیر چناسی تھی،
    پیر چناسی ایک سیاحتی مرکز ہے جو مظفر آباد آزاد کشمیر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر ہےپیر چناسی سید حسین شاہ بخاری کو کہتے ہیں ان کا مزار پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔مقامی روایت کے مطابق یہ بزرگ بلوچستان کے علاقے سے 350 سال پہلے ہجرت کر کے تبلیغ کے سلسلے میں یہاں آ کر بس گئے تھے۔ یہ مقام سطح سمندر سے 9500 فٹ بلند ہے۔ نزدیکی آبادی بھی خاصی نیچے پائی جاتی ہے۔ اس کے ایک طرف پیر سہار کو راستہ جاتا ہے، جہاں پیدل جانا پڑتا ہے دوسری طرف نیلم کا خوبصورت پہاڑی سلسلہ اور وادی کاغان۔کے پہاڑ مکڑا کا نظارا ہوتا ہے۔ایک ایسا مقام جو اپنی بلندی اور قدرتی حسن کے لیے مشہور ہے۔9500 فٹ کی بلندی پر واقع اس حسین چوٹی تک پہنچنے کے لیے ہمیں چارگھنٹے کا مشکل مگر حسین سفر طے کرنا پڑا۔ بل کھاتی چڑھائیاں اور درختوں سے ڈھکے سرسبز پہاڑ، ہر منظر دل کو موہ لینے والا تھا۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے فضا میں ایک سحر طاری تھا۔پیر چناسی کی چوٹی پر پہنچ کر ہم نے جو نظارہ دیکھا، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ چاروں طرف پھیلی وسیع و عریض وادی، بادلوں کے جھرمٹ اور پرسکون ماحول نے ایسا جادو کیا کہ ہم مبہوت رہ گئے.پیر چناسی پہنچنے پر الفاظ کم پڑ گئے۔ اُس اونچائی پر مزارِ پیر چناسی ایک روحانی سکون کا مرکز تھا۔ لنگر کی خوشبو، زائرین کا ہجوم، اور دھمال ڈالنے والے ڈھولچی۔ وہ لمحہ ناقابلِ بیان تھا جب ہمارے کچھ ساتھیوں نے دھمال میں شرکت کی اور پورے منظر میں ایک ماورائی کیفیت پیدا ہو گئی۔نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد، ہمارے سپورٹنگ سٹاف نے چوٹی پر قالین بچھا کر کھانا پیش کیا۔ نان، گوشت، سلاد، چٹنیاں، سب کچھ ساتھ لایا گیا تھا۔ جیسے قدرت کی گود میں دعوت کا اہتمام ہو۔پھر شام ڈھلے ہم شاردا وادی کی جانب روانہ ہوئے شارد پاکستان  کی ریاست آزاد کشمیر  کا ایک قصبہ جو ضلع نیلم  کی تحصیل ہے ۔ مظفرآباد سے 136 کلومیٹر (85 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ تحصیل شاردا کا صدر مقام ہے۔ یہ قصبہ ایشیائی تاریخ میں قدیم علمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ قریباً تین ہزار سال قبل مسیح میں وسطی ایشیائی قبائل یہاں وارد ہوئے جو بدھ مت اور شیومتکے پیروکار معلوم ہوئے نے یہ بستی قائم کی۔ ان قبائل میں سے کشن قبیلے نے اپنے واسطے ایک نئی دیوی کی تخلیق کی جسے شاردہ دیوی کہا جاتا تھا۔ اسی دیوی کے نام سے یہ قصبہ آج بھی آباد ہے۔ دریاۓ نیلم کا قدیمی نام کشن گنگا بھی اسی خاندان سے منسوب ہے۔ یہ لوگ علم و فن سے روشناس تھے تاہم انھوں یہاں ایک علمی مرکز قائم کیا۔ تاریخ نویسوں کے مطابق زمانۂِ قدیم میں چین، وسطی ایشیا اور موجودہ پاکستان اور ہندوستان کے باسی حصولِ علم کی خاطر یہاں کا رخ کیا کرتے تھے۔ اس علمی مرکز کے آثار اب بھی  کھنڈر کی شکل میں شاردہ میں موجود ہیں جنھیں  شاردہ یونیورسٹی  کہا جاتا ہے۔ رات کے سناٹے میں چھ گھنٹے کا سفر، اور پھر نیلم کے کنارے دریا پار کرتے ہوٹلوں تک پہنچنا۔ سگنلز کا نہ ہونا ہمیں ماضی کی سیر پر لے گیا۔ ہوٹل نیا تھا، تھانہ شاردا کے پاس۔ رات کے کھانے کے بعد، کمرے میں راقم شاہد نسیم کے علاوہ ساتھیوں عامر بٹ،ملک غلام مصطفے،حافظ احمد نومان،ظفران سرور اور نعیم شاکرنے ایک دوسرے سے یوں باتیں کیں جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ نیند نے دھیرے سے اپنی بانہوں میں لیا اور فجر کی اذان نے جگایا۔ہم نے اپنے کمرے میں ہی نماز ادا کی اور بستر پر لیٹ گئے۔ کمرے میں کوئی پنکھا یا اے سی نہیں تھا، لیکن ہلکے لحاف رکھے گئے تھے اور ہلکی ہلکی ٹھنڈک کا احساس تھا۔ دریائے نیلم کے کنارے ہوٹل میں ہم سب جلد ہی گہری نیند کی وادیوں میں کھو گئے۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے آنکھ اس وقت کھلی جب سیکریٹری عزادار حسین عابدی نے دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا کہ جلدی اٹھو، ناشتہ تیار ہے اور ہمیں ساڑھے نو بجے وادی کیل کے لیے روانہ ہونا ہے ہمیں ناشتے کے قالین تک پہنچایا۔ مرغ چنے، نان، جیم، کیچپ، مایونیز، اور پھر اولپرز چائے۔ ایسا ناشتہ شاید کسی پانچ ستارہ ہوٹل میں بھی نہ ملے۔شاندار چائے نے جسم میں نئی جان ڈال دی۔

    تقریباً دس بجے ہماری تینوں گاڑیاں وادی کیل کے لیے روانہ ہو گئیں۔ کیل  پاکستان  کی ریاست آزاد کشمیر کا ایک قصبہ جو ضلع نیلم  میں مظفرآباد سے 155 کلومیٹر (96 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ]کیل ریاست آزاد کشمیر کا ڈسٹرک نیلم کی تحصیل شاردا کا ایک قصبہ ہے، جو آزاد کشمیر کے کیپیٹل مظفر آباد سے 155 کلومیٹر اور تحصیل شاردا سے 19 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہاں پر 19000 فٹ بلند سارا والی کیل کی چوٹی واقع ہے، جو پہاڑی چوٹیوں اور بڑے گلیشئروں کی جانب جانے والے کوہ پیماؤں کا بیس کیمپ بھی ہے، یہ ایک جدید تفریح گاہ ہے جہاں تک آنے کے لیے بسیں چلتی ہیں، میلوں تک وسیع و عریض سبزہ زاروں میں جولائی کے مہینا میں رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں، یہ بھی چھ گھنٹے کا سفر تھا، جو اپنے اندر کئی خوبصورت مناظر سموئے ہوئے تھا۔ کیل پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ دریا پار کرنے کے لیے چیئر لفٹ استعمال کرنی پڑتی ہے، لیکن رش اتنا زیادہ تھا کہ ہماری باری تین گھنٹے بعد آتی۔ چیئر لفٹ میں صرف بارہ افراد کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے انتظار کرنا پڑتا۔ بہرحال، ہم میں سے کچھ دوستوں، جن میں رانا زاہد، ڈاکٹر سعید طاہر، عزیز بٹ، ڈاکٹر جمیل ملک، ابرار حبیبی، ملک غلام مصطفٰی، اشرف، ملک ظہور ،منیبہ اوررفعت وغیرہ شامل تھے، نے نیچے دریا کی طرف پیدل جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے وہاں دکانوں سے بزرگوں والی اسٹک کرائے پر حاصل کی، اور جاتے ہوئے اسٹک کی مدد سے ہم آرام سے اترتے گئے، تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے بعد ہم دریا کی موجوں کے سامنے تھے۔ پانی میں سب نے خوب انجوائے کیا، ٹھنڈے پانی میں پیر ڈال کر دل کو سکون ملا۔ دو بجے واپسی کا اعلان ہوا تو ڈیڑھ کلومیٹر کی چڑھائی چڑھتے وقت میرے سمیت جن دوستوں کی حالت ہوئی، وہ وہی جانتے ہیں یا خدا جانتا ہے۔ عزیز بٹ نے ہمارا بہت ساتھ دیا اور اوپر تک پہنچنے میں حوصلہ بڑھاتے رہے۔ ہماری ساتھی منیبہ کو تو گھوڑے پر بٹھا کر اوپر پہنچایا گیا۔ گرمی اور دھوپ بھی بہت سخت تھی، لیکن گرتے پڑتے ہم بھی بالآخر اوپر پہنچ گئے۔ واپسی پہاڑ کا دوسرا نام تھی۔ چڑھائی کے ہر قدم پر سانس پھولتی، لیکن عزیز بٹ کی ہمت افزائی ہمیں اوپر لے آئی۔
    سب نے کرائے کی اسٹک واپس کیں اور کھانے کے لیے تیار ہو گئے۔ کھانے میں چاول تھے جو تھکن کے بعد بہت لذیذ محسوس ہوئے۔

    کھانے کے بعد ہم LOC کی طرف روانہ ہوئے۔ دریائے نیلم کی دوسری طرف مقبوضہ کشمیر تھا۔ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ پاکستانی جھنڈا فخر سے لہرا رہا تھا اور دوسری جانب زبردستی تھوپا گیا جھنڈا۔ فضا میں عجیب کشمکش کا احساس تھا۔پھر وہ منظر… جب دریا کے اس پار مقبوضہ کشمیر پر قابض ہندوستان کا جھنڈا، اور اِس طرف کشمیر و پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ آنکھوں نے جو دیکھا، دل نے اسے صرف محسوس کیا۔ اس منظر کے آگے کوئی زبان بےبس ہے۔

    کشمیر کی وادی کیرن میں برفیلے پانی اور تیز بہاوٴ والے دریائے نیلم کی ایک جانب جب سیاح گانے گاتے ہیں تو دوسری جانب سیاح ان کے لیے تالیاں بجاتے ہیں۔ دو ملکوں میں بٹے اس مقام پر سرحد یہی دریا ہے۔
    ایسے میں دریا کے ایک جانب موجود پاکستانی سیاح گیت گائیں تو دوسری جانب انڈین شہری انھیں سن کر داد دے سکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔

    واپسی پر ہم ایک اور جنت نظیر وادی میں رکے، جہاں دریا کے اوپر رسوں اور لکڑی کے پھٹوں کا پل پار کیا۔ اس پل پر ایک وارننگ لکھی ہوئی تھی کہ ایک وقت میں صرف دو لوگ ہی پل پر سے گزر سکتے ہیں۔ پل پار کر کے وہاں پر موجود پاک آرمی کے سپاہی شعیب سے ملاقات ہوئی جو اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اتنے خوبصورت نظارے تھے کہ انہیں الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ ہر طرف سبزہ، صاف شفاف پانی اور بلند و بالا پہاڑ، قدرت کی کاریگری کا حسین امتزاج تھا۔ پاک آرمی کے سپاہی شعیب سے ملاقات، جو اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف تھا۔ قدرت، وطن، اور ذمہ داری کا حسین امتزاج۔رات کو دریا کنارے موٹر بوٹ کا مزہ، شاردا بازار کی رونقیں، اور کچھ ضروری خریداری کی۔

    اگلی صبح، چھ بجے سب کو اٹھا دیا گیا، ناشتےکے بعد ہم نے واٹر فال، انسانی شکل نما پہاڑ ،کنڈل شاہی اور دو مزید خوبصورت مقامات کی سیر کی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان مقامات میں تقریباً 25-30 کلومیٹر اس طرف آزاد کشمیر تھا اور دوسری طرف مقبوضہ کشمیر، اور بیچ میں دریا بہہ رہا تھا۔ یہ سرحد کی تقسیم اور قدرت کی بے پناہ خوبصورتی کا ایک عجیب و غریب امتزاج تھا۔ وہاں سے ہم واپس مظفر آباد آئے اور مظفر آباد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہالہ کے مقام پر دریائے کنارے کھانا کھایا۔ مغرب کی نماز ادا کر کے ہم وہاں سے مری کے لیے روانہ ہو گئے۔ مری ہمارے ٹرپ میں شامل نہیں تھا، لیکن دوستوں کے مشورے سے اسے شامل کر لیا گیا۔ رات 11 بجے ہم مری پہنچے جہاں مال روڈ کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔ رنگا رنگ روشنیوں، سیاحوں کے ہجوم اور ٹھنڈی ہوا نے دل کو مزید شاد کر دیا۔ مال روڈ کی رونقیں، سردی کی خوشبو، اور رات کا حسن۔۔۔ سب کچھ جیسے فلمی سین کا حصہ ہو۔

    ہمیں دو گھنٹے کا وقت دیا گیا جس میں ہم نے مال روڈ کی سیر کی اور خریداری کی۔ اس کے بعد سارے ساتھی اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر واپس فیصل آباد کی طرف روانہ ہو گئے۔ فیصل آباد پہنچے تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، جو اس یادگار سفر کا ایک خوشگوار اختتام تھا۔ جہاں بارش ہماری واپسی پر اشک بار تھی۔ شاید قدرت بھی ہمیں رخصت کرتے ہوئے اداس تھی۔

    یہ سفر صرف ایک ٹور نہ تھا، یہ ایک خواب، ایک افسانہ، ایک روحانی تجربہ تھا۔ وادیٔ کشمیر جنت نظیر ہے، نہ صرف قدرتی حسن کی وجہ سے بلکہ ان جذبات، احساسات، اور لمحوں کی بدولت جو انسان کو اپنے اندر نرمی، شکر، اور محبت سے بھر دیتے ہیں۔

    بلاشبہ اس سارے سفر کے دوران محمدعقیل،میاں رمضان،رومان رومی، سجاد اور کاشف کی خدمات ہر لحاظ خالصتا ناشتےا،کھانے کے بندوبست کے حوالے سے قابل تعریف ہیں۔ جنکی بناء پر تمام صحافیوں کو شاندار انتظامات میسر آئے۔ سیکریٹری عزادار عابدی،طاہر نجفی نے بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں سے مکمل انصاف کیا۔۔۔۔
    یہ سفر صرف ایک تفریحی دورہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے ہمیں قدرت کے حسین شاہکاروں سے متعارف کرایا، باہمی بھائی چارے اور دوستی کے رشتے کو مضبوط کیا اور وطن عزیز کے حسین گوشوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ وادی کشمیر، بلاشبہ جنت نظیر ہے، اور فیصل آباد پریس کلب کی یہ کاوش قابل تحسین ہے جس نے صحافیوں کو اس حسین وادی کی سیر کا موقع فراہم کیا۔ یہ سفر ہماری یادوں میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔کشمیر کا یہ ٹور صرف ایک سفر نہ تھا، یہ دلوں کا بدل جانا، احساسات کا نیا جنم اور وطن سے جڑت کا نیا روپ تھا۔ ہر صحافی اب صرف قلم نہیں، کشمیر کا سفیر بھی بن چکا ہے۔ اگر کسی نے اس ٹور کی ایک تصویر کھینچی ہو، تو وہ صرف منظر نہ ہو گا، وہ ایک جذبہ ہو گا… ایک وعدہ ہو گا کہ ہم اس جنت نظیر خطے کی محبت، اس کی خوبصورتی، اس کے سچ کو دنیا کے سامنے لاتے رہیں گے۔

  • اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان

    اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان

    قلم کی لو سے روشن ہے، یہ بزمِ بیداری
    لفظوں میں ہے طاقت، اور فن میں دل‌داری
    ادب کے قافلے کی ہے، یہ شانِ نیازی
    اپووا ہے وہ تنظیم، ہے سب پر یہ بھاری
    ادیبوں کی پکار ہے، لکھاریوں کی شان
    خیالوں کا یہ قافلہ، نہیں کوئی عام کاروان
    جو حرف میں بغاوت ہو، جو نظم میں ہو جان
    اپووا کے ہر رکن کا، ادب سے جڑا ہے ایمان
    یہ بزمِ علم ہے ایسی، جو سوچ جگاتی ہے
    اندھیر دل میں بھی کچھ خواب ٹانک جاتی ہے
    جو خامشی میں بولے، جو چپ توڑ جاتی ہے
    اپووا وہ امید ہے، جو حوصلہ بڑھاتی ہے۔
    مشاعرے ہوں یا اجلاس، ہو کوئی تخلیق کا باب
    یہ کارواں ادب کا ہے، نرالا، بے حساب
    قلم سے انقلاب آئے، سچائی ہو کامیاب،
    اپووا ہے وہ محاذ، جہاں لفظ ہو جواب۔
    تو آؤ، ارادوں سے ہم روشن چراغ جلائیں
    اپووا کی چھاؤں میں، نئی دُنیائیں بسائیں
    ادب کا پیغام لے کر، ہم سب کو ساتھ لائیں
    یہ بزمِ فن کہتی ہے — چلو، دلوں کو ملائیں
    یعقوب اعوان

  • مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    26 مئی پیر کے دن کاسمو پلیٹن کلب میں مسرت کلانچوی صاحبہ کے اعزاز میں ایک شام منانے کا اہتمام کیا گیا یہ اہتمام انجن ترقی پسند مصنفین اور پاک میڈیا فاؤنڈیشن طرف سے تھا بہت خوبصورت شام تھی جس میں مصنفین، صحافیوں اور پی ٹی وی سے وابستہ افراد اور مسرت صاحبہ کے دوستوں نے بھر پور شرکت کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا .

    مسرت کلانچوی جو تغمہ امتیاز سمیت بہت سے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں انہوں نے ادب کی ہر صنف میں لکھا اور بہت خوب لکھا ان کی صلاحیتوں کو بہت پذیرائی ملی ان کے لکھے ڈرامے ہوں یا افسانے ناول ہوں یا بچوں کا ادب اور پھر سیرت نبوی پر بھی لکھا اردو میں بھی اور سرائیکی میں بھی لکھا بلکہ وہ سرائیکی کی پہلی افسانہ نگار ہیں نام و نمود سے دور وہ ایک جینوئن تخلیق کار کی طرح بچپن سے اب تک فن کی آبیاری کرتی رہیں
    اس پروگرام میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، پروگرام کی نظامت جاوید صاحب نے کی مہمانان خصوصی میں پروین ملک صاحبہ، بلقیس ریاض صاحبہ، حفیظ طاہر صاحب، ڈاکٹر ایوب ندیم ، آ غا قیصر عباس، ڈاکٹر امجد طفیل شامل تھے جبکہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے کمال مہربانی سے اپنی دوستوں کو بھی مہمانان خصوصی کا درجہ دیا اور ہم سب کو باقاعدہ اسٹیج پر بلوا کر بٹھایا اور گفتگو کا موقع دیا دوستوں میں دعا عظیمی، ثمینہ سید ، کنول بہزاد ، رقیہ اکبر ، شاہین اشرف علی ، فاطمہ شیروانی اور دیگر شامل تھیں .

    بلقیس ریاض صاحبہ نے کہا کہ میں نے جب مسرت کلانچوی کا سارا تخلیقی کام دیکھا تو بہت حیران اور متاثر ہوئی کہ اتنا بہترین تخلیقی کام ان کے کریڈٹ پر ہے ثمینہ سید اور کنول بہزاد نے بھی مسرت صاحبہ کے تخلیقی کام پر عمدہ گفتگو کی ڈاکٹر ایوب ندیم ، پروین ملک ، کامریڈ تنویر صاحب اور تمام گیسٹ سپیکرز نے مسرت صاحبہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا

    میں نے کہا کہ مسرت صاحبہ بھاگوان یعنی نصیب والی ،خوش قسمت ہیں کہ ان کو ساز گار جہان ملا ان کے والد نے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی ان کو اچھا ماحول دیا اور پھر ان کی شادی بھی ایسے شخص سے ہوئی جہاں ان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ مزید جلا ملی علامہ اقبال نے ایک شعر میں کہا تھا
    گفند جہان ما آ یا بہ تو می سازد؟
    گفتم کہ نمی سازد گفند کہ برہم زن
    (کیا تمہیں میرا جہان ساز گار ہے ؟
    کہا ، نہیں، کہا، تو پھر اسے درہم برہم کردو)
    اس دنیا میں بہت سے لوگوں کو جہان ساز گار نہیں ملتا لیکن وہ اسے درہم برہم نہیں کر سکتے بلکہ بہت سے لوگوں کی زندگی ایسے گزرتی ہے کہ
    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    مسرت کلانچوی صاحبہ نے آخر میں بہت خوبصورت گفتگو کی اور اپنے لکھے پہلے ڈرامے ،، ایک منٹ، ، کا پس منظر بیان کیا ان کا پہلا ڈرامہ ہی نصرت ٹھاکر اور پی ٹی وی کے ارباب اختیار کو بہت پسند آیا اور آن ایئر ہونے پر عوام کو بھی پسند آیا ، مسرت کلانچوی صاحبہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ واقعی خوش قسمت ہیں ان کے والد اور شوہر اسلم ملک صاحب نے بھر پور تعاون کیا،مسرت کلانچوی صاحبہ کے اس مقام تک پہنچنے میں قسمت کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی محنت اور فن سے ان کی گہری وابستگی، کمٹمنٹ کا بھی ہاتھ ہے، ایسے لگتا ہے وہ پیدائشی تخلیق کار ہیں بچپن میں ہی کہانیاں لکھنا مصوری کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ ننھی مصورہ آج بہت عروج پا چکی ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ،پروگرام کے منتظمین کو اتنا اچھا پروگرام ترتیب دینے پر بہت مبارکباد

  • وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    دنیا میں قوموں کی شناخت ان کے اصولوں اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ایک امت کی شکل میں جینے کا درس دیا، اور یہی اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ قرآن کہتا ہے:
    "تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی میں نہ پڑو۔”
    مگر آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ اس رسی کو چھوڑ چکی ہے، اور اس کے نتیجے میں ہماری طاقت منتشر ہو گئی ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے، دنیا ان کے قدموں میں جھکتی تھی۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے نہ صرف دنیا کو بہترین عدل و انصاف دیا بلکہ علم، حکمت، اور ثقافت کا چراغ بھی روشن کیا۔ سلطنت عثمانیہ کا زوال ہماری وحدت کے خاتمے کی داستان سناتا ہے، اور آج کی حالت تو یہ ہے کہ ہم قوموں کی صف میں اپنے وقار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    ہماری وحدت کا خاتمہ کیسے ہوا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنی اجتماعی ناکامیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وطن پرستی نے ہمیں ایک قوم کے بجائے مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اپنی سرحدوں کے اندر محدود ہو کر رہ گئی ہے، اور اس محدود سوچ نے امت کے تصور کو دھندلا کر دیا ہے۔

    اقبال نے اسی حقیقت کو بڑے زور دار الفاظ میں بیان کیا تھا:
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے، وہ ملت کا کفن ہے

    وطن سے محبت فطری ہے، اور اسلام اسے روکتا بھی نہیں، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ محبت ہماری اصل شناخت، یعنی امت مسلمہ، پر غالب آ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک تھے۔ آج ہم ان حدود کے قیدی بن چکے ہیں جو ہم نے خود کھینچی ہیں۔

    ہماری سیاسی قیادت، جو امت کی رہنمائی کی ذمہ دار تھی، اب خود مفادات کی سیاست کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمارے اندرونی اختلافات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے، اور دوسری طرف بیرونی طاقتیں ہمیں تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہ آئیں، کیونکہ ہمارا اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

    اقبال نے ہمیں بار بار یاد دلایا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کا ایک امت ہونا ہے:
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

    اب سوال یہ ہے کہ اس زوال کا علاج کیا ہے؟ کیا ہم اپنی تاریخ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق دے سکتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار ہونے کا مطلب صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمیں ایک امت بن کر جینے کا درس دیتا ہے؟ یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ مدارس اور جامعات میں ایسا نصاب متعارف کرائیں جو امت کے تصور کو زندہ کرے۔ علماء اپنے خطبوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد کا درس دیں۔ میڈیا، جو آج زیادہ تر نفرت کے بیج بوتا ہے، اسے ایک مثبت پیغام کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اور سب سے اہم، ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عزم کرے کہ وہ امت مسلمہ کا حصہ ہے اور اس کا کردار اسی وحدت کو مضبوط کرنے میں ہے۔

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آج بھی ہم اپنی سمت درست کر لیں اور اللہ کی رسی کو تھام لیں، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہ امت ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی عظمت کا لوہا منوا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کی دیواریں گرا دیں اور ایک جسم بن جائیں، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:
    "مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔”

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو پہچانیں اور ان نظریاتی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ تب ہی ہم اس امت کی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

  • امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    Email;jabbaraqsa2@gmail.com

    دنیا بھر میں امت مسلمہ کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، مگر ان میں ایک سب سے بڑا چیلنج ہے اخلاقی زوال۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر نہ صرف میڈیا کم توجہ دے رہا ہے بلکہ ادب اور معاشرتی مباحث میں بھی اس کی گونج بہت کم سنائی دیتی ہے۔

    اخلاقیات، کسی بھی قوم کی بنیاد اور اس کی پہچان ہوتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اخلاق کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔” مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر ان تعلیمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جھوٹ، بددیانتی، رشوت، حسد، اور خود غرضی جیسے عیوب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

    اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اخلاقی اقدار کے ذریعے ہی دنیا کو متاثر کیا۔ مسلمانوں کی سچائی اور امانت داری کی مثالیں آج بھی تاریخ کے اوراق میں جگمگا رہی ہیں۔ مگر موجودہ دور میں، ہم اپنی اس میراث کو فراموش کر چکے ہیں۔

    معاشرتی سطح پر، اخلاقی زوال کی سب سے بڑی مثال ہمارے رویے ہیں۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ محلے کی سطح سے لے کر عالمی تعلقات تک، ہم اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ نتیجتاً، امت مسلمہ دنیا میں اپنی عظمت اور مقام کھو رہی ہے۔

    میڈیا اور ادب کو چاہیے کہ اس مسئلے کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور بیدار کریں۔ ایسے موضوعات پر ڈرامے، مضامین، اور کالم لکھے جائیں جو لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔ تعلیمی نظام میں اخلاقیات کے مضامین کو شامل کیا جائے اور والدین کو بھی بچوں کی تربیت میں اخلاقی اقدار کو ترجیح دینی چاہیے۔

    یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ان میں بہتری لائیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو اخلاقی اقدار کے ذریعے دوبارہ حاصل کرے۔

    اگر ہم اپنی اخلاقیات کو درست کر لیں، تو دنیا میں ہماری پہچان دوبارہ قائم ہو سکتی ہے اور ہم دنیا کے لیے ایک مثالی قوم بن سکتے ہیں۔

  • اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) نے حال ہی میں پشاور چکوال اور تلہ گنگ کا ایک انتہائی کامیاب اور یادگار دورہ مکمل کیا، جس نے ادبی، صحافتی اور معاشرتی میدان میں نئے افق روشن کیے۔ یہ دورہ قلمکاروں کے باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے اور خاص طور پر دور دراز علاقوں کی باصلاحیت مرد و خواتین لکھاریوں کو قومی دھارے میں لانے کے اپووا کے غیر متزلزل عزم کی عملی مثال بنا۔

    اپووا کے وفد نے پشاور پہنچنے پر سب سے پہلے گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی، جو اس دورے کا سب سے اہم اور بنیادی حصہ تھا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور معاشرتی ترقی میں قلمکاروں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات نے اپووا کے مقاصد اور کوششوں کو حکومتی سطح پر نہ صرف پذیرائی دلائی بلکہ مستقبل کے لیے نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے۔

    گورنر ہاؤس سے ملاقات کے بعد، اپووا کے وفد نے ” چائنہ ونڈو” کا دورہ کیا، جو چین کی ثقافت اور اقدار کو پاکستانی عوام سے متعارف کرانے کا ایک منفرد اور دلکش پلیٹ فارم ہے۔ یہیں اپووا کے پہلے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح کیا گیا، جو خطے میں قلمکاروں کے لیے ایک نئے مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اپووا کی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا، ناز پروین نے اس موقع پر وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا جس میں مقامی کھانوں کی لذت اور روایتی پشاوری قہوے کی مہمان نوازی نے وفد کے دل موہ لیے۔
    apwwa


    پشاور میں اگلا پڑاؤ حیات آباد تھا، جہاں باہمی رشتوں کے احترام کی ایک مثال قائم کی گئی۔ اپووا کے پی کے وومن ونگ کی صدر فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر ان کے شوہر کے انتقال پر تعزیتی ملاقات کی گئی اور حیات آباد میں ہی اپووا کے ریجنل آفس کا بھی افتتاح عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عمر شہزاد اور اپووا کی ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کی جانب سے وفد کے لیے ایک مزیدار ہائی ٹی کا انتظام کیا گیا۔ اور کیک کاٹا گیا ۔اس موقع پر نئے عہدوں کا بھی اعلان کیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔


    مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی، رانی عندلیب کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان کے تاثرات اس دورے کا سب سے متاثر کن اور عزم سے بھرپور حصہ تھے: "میں اپووا کی انتہائی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی خاتون کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے اور اس کو اپنے وفد میں شامل کر کے گورنر ہاؤس تک لائے جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں خواتین کے فیلڈ میں کام کرنا کو برا سمجھا جاتا ہے، مجھ پر اس سے پہلے تو دو تین حملے ہو چکے ہیں لیکن میں اپنے شوق اور لگن کی وجہ سے کام کر رہی ہوں۔ انتہائی مشکور ہوں کہ اپووا نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا اور اس وفد میں شامل کیا”۔ رانی عندلیب کی کہانی عزم، ہمت اور قلم کی طاقت کی ایک زندہ مثال ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپووا کس طرح پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔


    پشاور کے بعد، اپووا کا وفد "شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین” تلہ گنگ پہنچا، جو اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، اور متحرک رکن ممتاز اعوان کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ یہاں بھی اپووا کے ضلعی آفس کا پروقار افتتاح کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے صحافی اور لکھاری شریک ہوئے۔ یہ بھرپور شرکت اپووا کی علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر شیخ فیضان کو اپووا کوارڈینیٹر تلہ گنگ اور چکوال مقرر کیا گیا۔ اس تقریب میں ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا، جو علاقے کے ادبی حلقوں کے لیے ایک خوشگوار آغاز ثابت ہوا۔ یہ دورہ صرف دفاتر کے افتتاح یا ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ قلمکاروں کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپووا کے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر تھا۔ اس تاریخ ساز دورے نے پاکستان میں ادبی اور صحافتی تحریک کو نئی جہتیں دی ہیں اور نئی نسل کو قلم کے ذریعے مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دی ہے۔

  • اپووا  اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    پشاور: آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے وفد نے حال ہی میں پشاور میں قائم "چائنہ ونڈو” کا خصوصی دورہ کیا۔ یہ دورہ اپووا کی کے پی کے جنرل سیکرٹری اور چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین کی خصوصی دعوت پر ترتیب دیا گیا۔

    چائنہ ونڈو، چین کی ثقافت، تاریخ اور طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ایک اہم پروجیکٹ ہے۔ یہاں چینی ثقافت سے متعلق ہر چیز، بشمول ان کی کرنسی، روایتی لباس، اور دیگر اشیاء کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ زائرین چین کے بارے میں جامع معلومات حاصل کر سکیں۔اس مرکز میں چینی زبان کی کلاسز بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ مقامی افراد چینی زبان سیکھ سکیں۔ اس دورے کے دوران یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اپووا کے تمام ممبران کو چائنہ ونڈو میں ساڑھے تین ماہ کا چینی زبان کا کورس بالکل مفت کروایا جائے گا۔

    اس کے علاوہ، چائنہ ونڈو میں اپووا کا ایک ضلعی آفس بھی قائم کیا گیا ہے، جو دونوں اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور ثقافتی تبادلے کو مزید فروغ دے گا۔ یہ اقدام اپووا کے ممبران کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا اور پاکستان اور چین کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ڈائریکٹر چائینہ ونڈو ناز پروین کی طرف سے اپووا وفد کے اعزاز میں پر تکلف لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔