Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • دکھاوے کی زندگی کا فریب،تحریر:صدف ابرار

    دکھاوے کی زندگی کا فریب،تحریر:صدف ابرار

    آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل منظوری نے ہماری زندگیوں پر راج قائم کر لیا ہے، وہاں اصلیت اور بناوٹ کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے۔ اب زندگی ایک ذاتی سفر نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی کارکردگی بن چکی ہے جو ایک "نظر نہ آنے والے” سامعین کے لیے مسلسل پیش کی جا رہی ہے۔ فلٹر شدہ خوشیوں سے لے کر بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی بیماریوں تک، ہم ایک ایسی ثقافت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جہاں احساسات سے زیادہ ظاہری تاثر اہمیت رکھتا ہے۔

    ایک وقت تھا جب ذاتی دکھ درد صرف قریبی اور مخلص لوگوں سے شیئر کیے جاتے تھے، اور خوشیاں ان کے ساتھ منائی جاتی تھیں جن کا ساتھ اصل ہوتا تھا۔ آج، زندگی کی معمولی باتیں — ہلکا سا سر درد، ایک کپ چائے، اُداس لمحہ یا زبردستی کی مسکراہٹ — سب کچھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ہم زندگی گزار نہیں رہے، بلکہ اسے اسٹیج پر دکھا رہے ہیں —وہ بھی محض توجہ، تعریف اور تالیوں کے لیے۔

    اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے لمحے کی اطلاع دوسروں کو دینا صرف عادت نہیں، بلکہ ایک اندرونی خلا کو ظاہر کرتا ہے — وہ خلا جو تسلی، اہمیت اور تسکین کی تلاش میں ہے۔ لوگ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بیماری کا بہانہ کرتے ہیں، کامیاب دکھنے کے لیے جھوٹی خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور خود کو بہتر ظاہر کرنے کے لیے جعلی طرزِ زندگی اپناتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس مجمع کے لیے یہ سب کیا جاتا ہے، اسے درحقیقت آپ کی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    چلیے سچ تسلیم کریں — لوگوں کو واقعی آپ کی زندگی کی اونچ نیچ سے کچھ خاص سروکار نہیں۔ وہ ایک لائک، ایک تبصرہ، یا ایک ایموجی ضرور دے سکتے ہیں، مگر ان کے ذہن اپنے مسائل، اپنی فکریں اور اپنی اہمیت کی تلاش میں الجھے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی کامیابی یا ناکامی پر کوئی نیند نہیں کھوتا۔ یہ تلخ حقیقت اکثر بہت دیر سے سمجھ آتی ہے — جب آپ کئی سال اپنی زندگی صرف دوسروں کو متاثر کرنے میں گزار چکے ہوتے ہیں۔

    اپنی زندگی دوسروں کو اپڈیٹ کرنے کے لیے جینا ایسے ہی ہے جیسے کسی خالی ویرانے میں پکارنا — شاید آواز گونجے، لیکن کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ یہ دکھاوٹی رویہ نہ تو عزت دلاتا ہے اور نہ ہی وقار، بلکہ ترس یا مذاق کا نشانہ بناتا ہے۔ یہ انسان کو ایک ایسی شخصیت میں بدل دیتا ہے جو اندر سے کھوکھلی، مگر باہر سے چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    جعلی زندگی کا جذباتی بوجھ
    ظاہری دکھاوے کو برقرار رکھنا آسان نہیں — یہ ذہنی سکون، اصلیت اور حقیقی تعلقات کی بھاری قیمت پر ہوتا ہے۔ ہر وقت ‘ٹھیک’ یا ‘کامیاب’ نظر آنے کی کوشش انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ جب آپ وہ بننے کی اداکاری کرتے ہیں جو آپ ہیں ہی نہیں، تو آپ کی اصل خوشیاں بھی کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ، جب لوگ جذباتی کمزوری یا بیماری کو ڈرامہ بنا کر پیش کرتے ہیں، تو وہ ان لوگوں کی حقیقی تکلیف کو کم تر کرتے ہیں جو واقعی درد سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح ہمدردی ایک وقتی ردعمل بن کر رہ جاتی ہے — ایموجیز اور ری ایکشنز کی شکل میں۔

    خاموشی اور نجی زندگی کی طاقت

    خاموشی میں حکمت ہے۔ ہر بات کو شیئر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ نجی زندگی کوئی راز نہیں بلکہ خود احترام کی علامت ہے۔ نہ ہر کامیابی تالی مانگتی ہے، نہ ہر درد ہمدردی۔ زندگی کے کچھ باب صرف اپنے لیے ہوتے ہیں — انہی میں اصل سکون پوشیدہ ہے۔بالغ سوچ یہ ہے کہ ہر کوئی آپ کی زندگی کی اسکرین پر بیٹھا تماشائی نہیں ہونا چاہیے۔ گہرائی کو اپنائیں، دکھاوے کو چھوڑیں، اور ظاہری کارکردگی کی بجائے اندرونی سکون کو اہمیت دیں۔

    زندگی گزاریں، اسٹیج ڈرامہ نہ بنائیں
    یہ دوسروں کو خوش کرنے کا معاملہ نہیں — اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے ساتھ سچے ہیں یا نہیں۔ خواہ وہ جھوٹی خوشی ہو، فرضی تکلیف ہو یا مصنوعی کامیابی — دکھاوا صرف آپ کو چھوٹا اور بے وقوف بناتا ہے۔جنہیں واقعی آپ کی پرواہ ہے، انہیں آپ کی زندگی کا ثبوت سوشل میڈیا پر نہیں چاہیے۔ اور جنہیں پرواہ نہیں، ان کے لیے جینا دانشمندی نہیں۔ اس لیے اسٹیج سے اتر جائیں، اور اصل زندگی گزارنا شروع کریں۔”آپ کی قدر اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ آپ کی زندگی کو کتنے لوگ دیکھ رہے ہیں، بلکہ اس سے طے ہوتی ہے کہ آپ اسے کتنی سچائی سے گزار رہے ہیں۔”

  • خود سے وفاداری.تحریر:کوثر رحمتی

    خود سے وفاداری.تحریر:کوثر رحمتی

    زندگی کا سفر جب بچپن اور جوانی کی دہلیز سے نکل کر شعور، تجربے اور سکون کی تلاش کی طرف بڑھتا ہے تو بہت سی چیزیں بدل جاتی ہیں۔ انسان کی ترجیحات، اس کے رشتے، اس کی باتیں، اس کی خاموشیاں ، سب کا مطلب بدل جاتا ہے۔ایک وقت آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”میرے پاس بے معنی دوستیاں، جبری تعلق اور غیر ضروری گفتگو کرنے کی توانائی نہیں ہے”

    یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ زندگی کے تجربات، تھکن، سچائی، اور اندرونی امن کی ایک چیخ ہے۔ بے معنی دوستیاں ، جب دل کا رشتہ صرف نام کا رہ جائے،بچپن میں ہم بہت سے لوگوں کو دوست کہتے ہیں۔ ہر ساتھ کھیلنے والا، ہر ہم جماعت، ہر ہنسی بانٹنے والا دوست بن جاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ سمجھ آتی ہے کہ سچی دوستی بہت نایاب ہوتی ہے۔ ایسی دوستیاں جو،صرف وقتی فائدے پر مبنی ہوں،جہاں سننے والا صرف اپنی کہتا ہو، دوسروں کی نہ سنے،جہاں آپ کا دکھ مذاق بن جائے،یا آپ کا سکون، ان کی حسد کی آگ میں جلنے لگے،ایسی دوستیاں، تعلقات نہیں بلکہ ایک ذہنی بوجھ بن جاتی ہیں۔ اصل دوستی وہ ہے،جو خاموشی میں بھی آپ کو سمجھ لے،جو آپ کے بغیر بولے دل کا حال جان لے،جس کے ساتھ آپ "خود” بن کر رہ سکیں، بنا دکھاوے کے

    ہماری زندگی میں کچھ رشتے صرف اس لیے موجود ہوتے ہیں کہ معاشرہ کہتا ہے، یا ہماری پرورش میں یہ سکھایا گیا ہوتا ہے کہ رشتہ کبھی توڑنا نہیں چاہیے، خواہ وہ آپ کو اندر سے توڑتا ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے رشتے جہاں،عزت نہیں، صرف زبردستی ہو،دل سے نہیں، صرف فرض سے نبھایا جا رہا ہو،جہاں آپ کی ذات کا انکار ہو، مگر تعلق کا دکھاوا باقی ہو،ایسے رشتے قید بن جاتے ہیں۔ کبھی کبھار خود کو بچانے کے لیے رشتے سے فاصلہ اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مطلب بے وفائی نہیں، بلکہ خود سے وفاداری ہے۔

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاموشی کو کمزوری اور مسلسل بولنے کو "ملنساری” سمجھا جاتا ہے۔ مگر جیسے جیسے انسان خود سے جڑتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے،”ہر بات ضروری نہیں، اور ہر خاموشی اداسی نہیں۔”لوگوں کے فالتو تبصرے،بیکار گپ شپ،جھوٹی تعریفیں،روزمرہ کے رسمی سوالات جن کا کوئی مقصد نہ ہو، کب بات کی جائے؟جب بات دل سے ہو،جب بات کا مقصد ہو،جب خاموشی سے زیادہ بات ضروری ہو

    ہم دوسروں کے جذبات کو سمجھنے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ خود کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے۔ وہ چیخ کر نہیں، خاموشی سے کہتا ہے،”اب مجھ میں باقی سب کے بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔”یہ خود غرضی نہیں، بلکہ خود شناسی ہے۔ یہ احساس کہ سکون ہر قیمت پر ضروری ہے،تنہائی بہتر ہے بجائے جھوٹے ہجوم کے،”نہیں” کہنا بھی ایک طرح کی عبادت ہے، اب بس سادگی، خلوص اور سکون چاہیے،میری زندگی اب ان لوگوں اور باتوں کے لیے کھلی ہے جو سچے ہوں،جو زبردستی نہ ہوں،جو خاموشی کو بھی سمجھ سکیں،اور جو میرے ساتھ مجھے ہی رہنے دیں،”زندگی چھوٹی ہے، اور دل نازک، دونوں کو سنبھالنا ہے تو خود پر رحم کرنا سیکھنا ہوگا۔ اور اس کی پہلی سیڑھی ہے،بے معنی لوگوں اور باتوں سے کنارہ کشی،

  • انتقام…کبھی نہیں، تحریر:نور فاطمہ

    انتقام…کبھی نہیں، تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کا سفر سیدھا نہیں ہوتا۔ یہ اونچ نیچ، خیر و شر، محبت و نفرت، وفا و بےوفائی سے بھرا ہوتا ہے۔ ہم سب نے کبھی نہ کبھی ایسے لمحات ضرور گزارے ہیں جہاں کسی نے ہمیں دھوکہ دیا ہو، ہماری نیکی کا غلط فائدہ اٹھایا ہو، ہمارے جذبات کو پامال کیا ہو یا پھر …. ایسے وقت میں انسان کے دل میں فطری طور پر انتقام کی آگ بھڑکتی ہے۔جب کوئی ہمیں تکلیف دے، تو سب سے پہلا خیال جو ذہن میں آتا ہے، وہ یہ ہوتا ہے کہ "میں بھی اس کو وہی دکھ دوں گا، جو اس نے مجھے دیا ہے۔” ہم سمجھتے ہیں کہ بدلہ لینے سے ہمیں سکون ملے گا، ہماری روح کو قرار آئے گا، لیکن سچ یہ ہے کہ انتقام ایک ایسا زہر ہے جو سب سے پہلے خود انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔انتقام ہمیں اس شخص سے جوڑ کر رکھتا ہے جس نے ہمیں تکلیف دی، اور یوں ہم اس سے نجات نہیں پا سکتے۔ ہماری توانائیاں، ہمارے خیالات، ہمارا سکون سب کچھ اس ایک انسان کی گرفت میں آ جاتا ہے، اور ہم زندگی کے اصل حسن سے محروم ہو جاتے ہیں۔

    قدرت کا نظام خاموش ضرور ہوتا ہے، مگر اندھا نہیں،یاد رکھو، ہر انسان کا ایک خدا ہے، جو دیکھ رہا ہے۔تمہاری خاموشی، تمہارے آنسو، تمہارے صبر کا ایک ایک لمحہ اُس کے علم میں ہے۔جب تم کسی پر ظلم کرتے ہو تو تم اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہو، لیکن جب تم ظلم برداشت کرتے ہو اور بدلہ نہیں لیتے، تو تم اپنے کردار کی بلندی کا مظاہرہ کرتے ہو۔

    اکثر لوگ خاموشی کو کمزوری سمجھتے ہیں، لیکن دراصل خاموشی بہت بڑی طاقت ہے۔ جب تمہارا دل ٹوٹا ہو، آنکھیں نم ہوں، دل انتقام کی آگ سے بھر جائے، لیکن تم صرف اللہ پر چھوڑ دو ، یہ ایمان کی معراج ہے۔تم بس دور ہو جاؤ۔مشاہدہ کرتے رہو۔اور ایک دن تم دیکھو گے کہ وہی شخص، جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا، وہ تقدیر کے ہاتھوں کیسا بےبس ہوتا ہے۔تمہارا کام صبر ہے، حساب اللہ کا کام ہے،تم اپنا دامن صاف رکھو، اپنی نیت درست رکھو، اپنی محنت جاری رکھو۔تمہارے ساتھ جو ہوا، وہ تمہیں روکنے کے لیے نہیں، تمہیں بلند کرنے کے لیے تھا۔جو تمہارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، وہ دراصل خود اپنے لیے برا بیج بوتے ہیں۔اور یاد رکھو، قدرت کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتی۔

    زندگی بہت مختصر ہے کہ اسے بدلے، نفرت یا غصے میں ضائع کیا جائے۔سکون صبر میں ہے، خاموشی میں ہے، اللہ پر چھوڑ دینے میں ہے۔جب تم کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرو، انتقام نہ لو، تو اللہ تمہاری حفاظت خود کرتا ہے، تمہیں عزت دیتا ہے، اور تمہیں ایسے مقام پر پہنچاتا ہے جہاں تمہارا دشمن صرف تمہیں دیکھ سکتا ہے، چھو نہیں سکتا۔تو بس یاد رکھو،
    "وہ مہلت دیتا ہے… مگر نظر انداز نہیں کرتا۔”

  • اوورسیز کنونشن اورشہباز شریف سے وابستہ توقعات.تحریر:ملک محمد سلمان

    اوورسیز کنونشن اورشہباز شریف سے وابستہ توقعات.تحریر:ملک محمد سلمان

    اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9ماہ میں 28 بلین ڈالر جبکہ مارچ میں ریکارڈ4.1بلین ڈالر ترسیلات زر پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ معاشی استحکام کا کریڈٹ چیف آف آرمی سٹاف اور حکومتی ٹیم کے ساتھ ساتھ اورسیز پاکستانیوں کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کو درپیش فارن ایکسچینج کے چیلنج کے گیپ کو پورا کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کی جلد پروسیڈنگ کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں قائم کردی گئی ہیں جبکہ پنجاب میں بھی ایسی عدالتوں کے قیام کا عمل جاری ہے، پنجاب میں قانون سازی ہوچکی ہے اور دیگر صوبوں میں بھی بہت جلد یہ کام ہوگا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے شواہد کی ای ریکارڈنگ کی سہولت بہت جلد دی جائے گی تاکہ آپ کو پاکستان نہ آنا پڑے اور مقدمات کی بھی ای فائلنگ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، یہ کام انشااللہ 90 دن کے اندر مکمل ہوجائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی چارٹر یونیورسٹیز میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے 5 فیصد جبکہ میڈکل کالجز میں 15 فیصد کوٹہ دینے کی خوشخبری بھی سنائی۔ ٹیکس ادائیگی میں بڑا ریلیف دیتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کو فائلرز کے طور پر ٹریٹ کرنے کا اعلان کیا جبکہ سرکاری نوکری کی حد عمر میں 10 سال کی خصوصی رعائیت کا اعلان کیا۔ زیادہ ترسیلات زر بھیجنے اور بیرون ممالک پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کیلئے سول ایوارڈ کی خوشخبری بھی سنائی گئی۔

    ماضی میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کی تکلیف کو سب سے پہلے شہباز شریف نے محسوس کیا تھا اور بطور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2014ء میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب قائم کیا۔ آن لائن کمپلینٹ پورٹل بنایا گیا جہاں اوورسیز پاکستانی دنیا بھر سے اپنی شکایات کا اندرج کراسکتے ہیں۔ شہباز شریف خود ہر ماہ اس کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے تھے جس کی بدولت او پی سی پنجاب کے ذریعے ہزاروں اوورسیزپاکستانیوں کے مسائل حل ہوئے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کنوشن سے خطاب کیلئے آئے تو حال عاصم منیر زندہ آباد پاک آرمی زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب میں جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا آپ کے جذبات دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ آپ کیلئے ہمارے جذبات اس سے بھی زیادہ مضبوط ہیں، آپ پاکستان کی وہ روشنی ہیں جو پورے اقوام عالم پر پڑتی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ہمیشہ اپنا سرفخر سے بلند رکھیں کیونکہ آپ ایک عظیم اور طاقتور ملک کے نمائندے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھاکہ دشمن کو غلط فہمی ہے کہ مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان یا پاکستان کی تقدیرکا فیصلہ کرسکتے ہیں؟بلوچستان پاکستان کی تقدیر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہے، غیور عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور آپ کی فوج ہر مشکل سے نبرد آزما ہونے کیلئے تیار ہے۔ کسی کو بھی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔

    مختلف ممالک سے آئے اوورسیز سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے درخواست کی کہ وزیراعظم تک یہ بات بھی ضرور پہنچایئے گا کہ اوورسیز پاکستانی بیرون ملک کسی تکلیف یا مسئلے کیلئے پاکستانی سفارت خانے جائیں تو کوئی بھی سرکاری بابو ان کی بات سننا تو درکنارملنا گوارا نہیں کرتا۔ فارن آفس کے سفارتی افسران کمیونٹی کی خدمت اور پاکستان کے مثبت ایمج کیلئے سفارتی کوششیں کرنے کی بجائے تحائف اکٹھے کرنے اور اپنے خاندان کے افراد کیلئے وہاں کی نیشنیلٹی لینے کیلئے جان لڑا رہے ہوتے ہیں۔ سفارتی افسران کا ایک ہی طریقہ واردات ہے رشتے داروں کے نام پر ویزہ انویٹیشن لیٹر مانگتے ہیں۔ گفٹ اور ویزہ انویٹیشن دینے کی سکت نہ رکھنے والے عام پاکستانیوں کو حقیر سمجھ کر ملنا بھی گواراہ نہیں کرتے جبکہ بڑے کاروباری افراد کے آگے پیچھے دم ہلاتے ہیں۔ ویزہ پالیسی میں سختی اور پاکستانیوں کی بے قدری کی سب سے بڑی وجہ سفارت خانے کا عدم تعاون ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی آرمی افسر بطور سفیر تعینات کیا جاتا ہے تو ناصرف تحفے تحائف والا سلسلہ رک جاتا ہے بلکہ پاکستانیوں کے لیے بلا روک ٹوک سفارت خانے کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں اس لیے سفارتی سطح پر آرمی افسران کی تقرری سے نہ صرف کرپشن اور عام پاکستانیوں کی تذلیل رکتی ہے بلکہ وہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کی عزت و وقار میں اضافے کو پہلی ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے تمام اہم ممالک میں آرمی افسران کو سفیر مقرر کرکے دنیا بھر میں پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی عزت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں کسی ہائوسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لیتے ہیں تو انکو دکھایا کچھ جاتا ہے اور دیا کچھ ۔قیمت سب سے قیمتی پلاٹ کی لی جاتی ہے اور دیا سب سے ارزاں والا جاتا ہے ۔ لینڈ مافیااور سرکاری افسران کی ملی بھگت سے جعلی کاغذات کے ذریعے اوورسیز کے گھر اور پلاٹوں پر قبضے ہونامعمول بن چکا۔ اوورسیز اسی کو قسمت کا فیصلہ سمجھ کر دوبارہ پاکستان میں انویسٹمنٹ نہ کرنے کا تہیہ کرکے نکل جاتے تھے لیکن ابھی وزیراعظم کی طرف سے خصوصی عدالتوں کے قیام سے انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر ایف آئی اے اہلکاروں کا سخت رویہ اور کسٹم والوں کا قیمتی تحائف رکھنا معمول ہے، اتنے کی چیز نہیں ہوتی جتنا کسٹم ٹیکس ڈال کر قبضے میں رکھ لیتے ہیں ۔وزیراعظم شہباز شریف سے گزارش ہے کہ ایئرپورٹ سے کرپٹ اور بدتمیز افسران اور اہلکاروں کو فوری ہٹایا جائے اور تمام ایئرپورٹس پر اوورسیز فیسلیٹیشن ڈیسک بنائے جائیں۔

  • "نہیں” کب کہنا ہے؟تحریر:نور فاطمہ

    "نہیں” کب کہنا ہے؟تحریر:نور فاطمہ

    نہیں، نہیں، نہیں۔۔۔
    یہ تین لفظ بظاہر چھوٹے ہیں، لیکن عورت کی زندگی میں ان کی طاقت بے حد بڑی ہوتی ہے۔ ہماری معاشرتی روایات میں خواتین کو اکثر سکھایا جاتا ہے کہ وہ نرم مزاج، برداشت کرنے والی، اور خاموش رہنے والی ہوں۔ لیکن کیا ہم کبھی یہ سکھاتے ہیں کہ عورت کو "نہیں کہنا” بھی آنا چاہیئے؟”نہیں” کہنا کمزوری نہیں، شعور ہے،عورت جب کسی چیز سے انکار کرتی ہے، تو اکثر اُسے ضدی، خودسر یا بدتمیز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ "نہیں” کہنا، ایک مضبوط ذہن، خود اعتمادی اور حد بندی کی نشانی ہے۔ جب ایک عورت نہیں کہتی ہے، تو وہ دراصل خود کو، اپنے جذبات کو، اور اپنی زندگی کو ترجیح دے رہی ہوتی ہے۔

    کب "نہیں” کہنا ضروری ہے؟
    جب دل راضی نہ ہو،خواہ وہ کسی رشتے کی بات ہو، شادی، یا کسی تعلق کی نوعیت، اگر دل مطمئن نہیں ہے، تو نہیں کہنا حق ہے۔ عورت کو مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ محض خاندان یا سماج کے دباؤ میں فیصلے کرے۔ جب جسمانی یا ذہنی حدود کی خلاف ورزی ہو،اگر کوئی عورت کی جسمانی یا ذہنی حدوں کو پار کرنے کی کوشش کرے، چاہے وہ قریبی ہو یا اجنبی، تو "نہیں” کہنا ایک حفاظتی دیوار ہے۔ اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دینا بزدلی نہیں بلکہ عقلمندی ہے۔ہر بار "ہاں” کہنا، عورت کو تھکا دیتا ہے۔ اگر کوئی کام آپ کی ذہنی یا جسمانی صحت پر اثر ڈال رہا ہے، تو اسے رد کرنا سیکھنا ضروری ہے۔ اپنی حدوں کو سمجھنا اور ان کا دفاع کرنا زندگی کو متوازن بناتا ہے۔کبھی کبھی لوگ عورت کی نرم دلی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بار بار جذباتی بلیک میلنگ، یا فائدہ اٹھانے کی کوشش پر خاموش رہنا خود کے ساتھ زیادتی ہے۔ ایسے وقت میں "نہیں” کہنا ضروری ہوتا ہے۔

    "نہیں” کہنا سیکھنا کیسے ممکن ہے؟سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی رائے، احساسات اور حدود اہم ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں "نہیں” کہنے کی مشق کریں، جیسے غیر ضروری وعدے، یا ایسے کام جن کا آپ پر بوجھ ہو۔دوسروں کی ناراضی کا خوف چھوڑ دیں،سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں، اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اپنی خوشی کو ترجیح دیں۔صاف گوئی سے بات کریں،”نہیں” کہنے کے لیے بے احترامی یا سختی کی ضرورت نہیں، بلکہ نرمی سے لیکن واضح انداز میں انکار کرنا سیکھیں۔

    عورت کا "نہیں” کہنا، اُس کی خودمختاری، شعور اور طاقت کی علامت ہے۔ یہ صرف انکار کا لفظ نہیں، بلکہ یہ اعلان ہے کہ "میری زندگی، میرے فیصلے میرے ہاتھ میں ہیں۔”یاد رکھیں، جب عورت "نہیں” کہنا سیکھ جاتی ہے، تو وہ اپنی تقدیر خود لکھنا شروع کر دیتی ہے۔نہیں، نہیں، نہیں،یہ الفاظ کمزور نہیں، بہادر لوگوں کے ہوتے ہیں۔

  • اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ

    اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، جس میں ہم بہت سے چہروں سے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے ہمیں خوشی دیتے ہیں، کچھ ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے بغیر ہم زندگی کا تصور بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن کبھی کبھار وہی چہرے ہمیں سب سے زیادہ دکھ دے جاتے ہیں۔ ایسے میں دل چاہتا ہے کہ رو لیا جائے، کسی سے شکوہ کیا جائے، لیکن ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”اتنی سی انا تو ہونی چاہئے”

    محبت کا مطلب زبردستی تھوڑی ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کا ساتھ چھوڑنا چاہتا ہے، تو اُس کی خواہش کا احترام کرو۔ دل کا تعلق زبردستی سے نہیں جڑتا۔ ایسے تعلق کو نبھانے کا فائدہ کیا جس میں دوسرا فریق دل سے آپ کے ساتھ نہ ہو؟اکثر ہم اُسی شخص کی طرف لوٹ جاتے ہیں جو ہمیں توڑ چکا ہوتا ہے۔ لیکن یہ خود پر ظلم ہے۔ خودداری کا مطلب یہی تو ہے کہ جس نے ایک بار آپ کو گرا دیا، اُس کے ہاتھ پھر سے پکڑنے کی نوبت نہ آئے۔ سہارے تلاش کرنا کمزوری نہیں، لیکن غلط سہارے بار بار چننا خود پر ظلم ضرور ہے۔جب کسی کا لہجہ اجنبی سا لگنے لگے، اُس میں محبت کی بجائے طنز، سختی اور بیگانگی نظر آئے، تو سمجھ جاؤ کہ احساسات یک طرفہ ہو چکے ہیں۔ اپنے مخلص جذبات کو وہاں ضائع نہ کرو جہاں ان کی قدر نہیں۔ مخلصی کا جواب اگر خاموشی یا سختی ہو، تو وہ تعلق زہر بن جاتا ہے۔

    محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو عزت مانگتا ہے۔ اگر بار بار آپ کی قدر نہیں کی جا رہی، اگر آپ کے جذبات کو مذاق سمجھا جا رہا ہے، تو پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔ خود کو اتنا سستا نہ کرو کہ کوئی آپ کو استعمال کرے اور آپ خاموش رہو۔زندگی کا راستہ طویل ہے۔ کبھی کبھی ساتھی راستے میں چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سفر ختم ہو گیا۔ اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کرو کہ اکیلے بھی چل سکو، خود سے جڑ سکو، اور خود کو مکمل محسوس کر سکو۔تعلق میں سب سے بڑی بے رُخی یہ ہے کہ جب آپ کسی کو پوری اہمیت دیتے ہو اور وہ آپ کو نظر انداز کرے۔ ایسے میں بار بار اُس کی توجہ کے لیے خود کو پیش کرنا خودداری کے خلاف ہے۔ بس نظریں ہٹا لو، خود کو مصروف رکھو، اور اُن لوگوں کے ساتھ جڑو جو تمہیں اہم سمجھیں۔

    "انا” اور "غرور” میں فرق ہوتا ہے۔انا وہ وقار ہے جو ہمیں خود سے پیار کرنا سکھاتا ہے، جو ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔ یہ خود کو عزت دینا ہے، اپنی ذات کو مقام دینا ہے۔تو بس…اتنی سی انا تو ہونی چاہئے کہ خود کو ہر بار قربان نہ کرنا پڑے، اور جب وقت آئے، تو خاموشی سے، وقار سے، رخصت ہو جاؤ۔

  • "گوگل میپس اور ہماری بھٹکی ہوئی منزلیں”.تحریر:شازیہ عالم شازی

    "گوگل میپس اور ہماری بھٹکی ہوئی منزلیں”.تحریر:شازیہ عالم شازی

    کبھی آپ نے گوگل میپس کی ہدایت پر چلتے ہوئے خود کو کسی کھیت میں پایا ہے؟ یا پھر ایسی سڑک پر جہاں صرف بکریاں اور خچر چل سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو یقیناً آپ بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں گوگل نے "شارٹ کٹ” دکھا کر لمبا گھما دیا۔
    گوگل میپس، بظاہر ایک نہایت دانشمند ایپ ہے۔ اس کا انداز، اس کی آواز اور اس کا اعتماد دیکھ کر لگتا ہے جیسے ابھی اڑ کر منزل پر پہنچا دے گی۔ "Turn left in 100 meters”، وہ نرمی سے کہتا ہے، اور ہم بھی بلا چون و چرا اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں جیسے بچپن میں ٹیچر کی بات مانتے تھے، حالانکہ دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ "میڈم غلط بول رہی ہیں”
    ایک بار میرے ایک دوست نے گوگل میپس کے کہنے پر پہاڑ کے بیچوں بیچ ایک تنگ سی پگڈنڈی پکڑ لی گوگل فرما رہا تھا "یہ سب سے تیز راستہ ہے”، اور وہ بیچارہ اسی بھروسے پر چل پڑا۔ آدھے راستے میں نیٹ بند، بیٹری ختم، اور سامنے صرف ایک بھینس کھڑی تھی جو غالباً وہی سوچ رہی تھی جو میرا دوست سوچ رہا تھا یعنی: "یہ یہاں کیا لینے آ گیا ہے؟” گوگل میپس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ انتہائی اعتماد سے غلطی کرتا ہے۔ مثلاً وہ آپ کو ایسی گلی میں لے جائے گا جو دراصل ایک نالہ ہو، اور پھر بھی اگلے موڑ پر کہے گا:
    "In 200 meters, turn right”
    حالانکہ اگلے 200 میٹر میں صرف پانی، کچرا اور مچھروں کی بادشاہی ہے،شہری علاقوں میں تو چلیں کسی حد تک گوگل بچ بچا کر لے جاتا ہے، مگر جیسے ہی آپ کسی دیہی علاقے میں قدم رکھتے ہیں، گوگل بھی خود کو گمشدہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ ایسی سڑکیں دکھاتا ہے جو صرف نقشوں میں موجود ہوتی ہیں۔ گاؤں کے بزرگوں سے پوچھیں تو وہ حیرت سے پوچھتے ہیں:”یہ راستہ؟ ارے پتر وہ تو دس سال پہلے بند ہو گیا تھا!” اس ضمن میں گوگل ہمارے چاچا رحمت کا مقابلہ نہیں کرسکتا یعنی آپ اگر کسی علاقے کے چاچا رحمت سے راستہ پوچھیں تو وہ پانچ منٹ میں آپ کو نہ صرف منزل سمجھا دیں گے بلکہ راستے میں کون سا نلکا میٹھا پانی دیتا ہے، کون سے درخت کے نیچے سایہ اچھا ملتا ہے، سب بتا دیں گے۔ اس کے برعکس گوگل میپس تو بس یہی کہے گا:
    "ری روٹنگ…”اور آپ سوچتے رہیں گے کہ کیا زندگی بھی "ری روٹنگ” ہو سکتی ہے؟
    آج کے ڈیجیٹل دور میں گوگل میپس جیسی ایپس ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ چاہے کسی نئے شہر کی سیر ہو یا روزمرہ کے سفر کی منصوبہ بندی، ہم میں سے اکثر لوگ ان ایپس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ گوگل میپس اکثر ایسا راستہ دکھاتا ہے جو یا تو زیادہ طویل ہوتا ہے، یا پھر ناقابلِ عبور، یا کبھی کبھار مکمل طور پر غلط بھی نکلتا ہے؟ ہم بہت بار اس کا شکار ہوئے ہیں رمضان میں ہی نیٹ ورک پرابلم سے ہماری افطاری راستے میں اور ہم منزل مقصود پر افطار پر نہ پہنچ سکے

    پسِ پردہ حقیقت میں گوگل میپس کا انحصار مختلف ذرائع پر ہوتا ہے جیسےGPS ڈیٹا،صارفین کی رپورٹنگ،
    ٹریفک سینسرز،اور سٹلائٹ تصاویر لیکن یہ سب ڈیٹا ہر وقت مکمل درست نہیں ہوتا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نیٹ ورک کوریج کمزور ہو
    سڑکوں کی اپڈیٹڈ معلومات دستیاب نہ ہوں
    یا جہاں سڑکوں کی مقامی صورتحال بدلتی رہتی ہو (جیسے گاؤں یا پہاڑی علاقے) اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مقامی فرد جس راستے سے 15 منٹ میں پہنچ جاتا ہے، گوگل میپس اس کے بجائے ایسا راستہ تجویز کرتا ہے جو 30 منٹ کا ہو، صرف اس لیے کہ وہ سڑک ایپ کے ڈیٹا بیس میں رجسٹرڈ نہیں یا اس پر اپڈیٹ کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں، نئی تعمیر شدہ سڑکوں یا وقتی تبدیلیوں (جیسے روڈ بلاک، مرمت وغیرہ) میں گوگل میپس کی رہنمائی ناقص ثابت ہوتی ہے۔
    گوگل میپس واقعی ایک کارآمد ٹول ہے، لیکن ہر سہولت کے ساتھ کچھ حدود بھی ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے مشاہدے اور مقامی علم کو بھی استعمال میں لائیں تاکہ سفر واقعی آسان اور پُر سکون بن سکے۔

  • ” کون ہے میرا؟ "تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ” کون ہے میرا؟ "تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ستاروں کی جھلملاتی روشنیوں، سمندر کے گہرے پانیوں اور انسانوں کے جذبات واحساسات نے ہماری التفات کو ایسے اپنی جانب مبذول کیا یے کہ ہم اپنی ذات سے پرے انہی لطافت میں کہیں کھو گئے ہیں۔ ہم انسانوں کی ایک دوسرے سے انیست اور محبت کی ضرورت کسی طور کم نہیں ہو سکتی۔ ازل یہ نظام محبت قائم ہے۔ جب یہ دنیا تخلیق کی گئی تو حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام دونوں کو ساتھ زمین پر اتارا گیا، تاکہ وہ ایک دوسرے کے لیے سکون و راحت کا سبب بنے۔

    بتدریج انبیاء کرام آتے رہے، اور لوگوں کو اللّٰہ کی راہ پر گامزن کرتے رہے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ نظام کائنات بدلتا گیا، لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات اور انبیاء کرام کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں۔ اور نتیجتاً اپنی اصل کو بھولتے گئے۔ جب ساتویں صدی عیسوی میں اسلام آیا، تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے رہے اور ایمان رگوں میں سرایت کرتا گیا۔ مگر اکیسویں صدی کے لوگ جدیدیت کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ تمام کام جن کو کرنے کی ممانعت کی گئی ہے، اب انہیں بصد شوق سر انجام دیا جاتا ہے اور پھر اسے ” ماڈرنزم” کا لقب دے جاتا ہے

    درحقیقت یہ ماڈرنزم انسان کی اصل کو تیرگی میں چھپا دیتی یے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں، ہمیں زندگی بخشنے والا کون ہے؟ اور ہم سے زندگی چھینے والا کون ہے؟ ہم یوں ہی تو دنیا میں نہیں آگئے ہیں؟
    ” لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
    اپنی خوشی آئے نہ اپنی خوشی چلے ”
    وقت بدلتا گیا، اور چیزوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے جذبات واحساسات میں بھی ملاوٹ کی آمیزش ہوتی گئی۔ اور گزرے سمے کے ساتھ محبت بھی زائل ہوتی گئی۔ لوگ اپنے ہی جیسے لوگوں کی تلاش میں سرگراں رہے۔
    "اتم سے اتم ملے اور ملے نیچ سے نیچ، پانی سے پانی ملے اور ملے کیچ سے کیچ”
    جب اپنی ہی صفات و نوعیت کے لوگوں میں کیف و سرور نہ ملا تو، انسان اپنے ذہن میں بنتے حبس میں مبتلا ہوتا گیا، یوں محبت اور عقیدت کی آس میں ڈپریشن کا مریض بن گیا۔
    دماغ میں چلتی ہزار ہا فکروں اور پریشانیوں کے ملبے تلے یہ آواز آئی۔
    ” کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو”
    یکایک دل سے صدا آئی:
    ” کون ہے میرا؟ ”
    یہ سوال سن کر روح نے عہد الست کی یاد تازہ کی۔
    جب عالم ارواح میں اللّٰہ تعالیٰ نے تمام روحوں سے عہد و پیمان باندھا تھا۔
    "کیا میں تمہارا رب نہیں ؟”
    کیوں نہیں؟ ” تو ہی تو ہمارا رب ہے۔”

  • قناعت میں چھپی مسکراہٹ.تحریر:نور فاطمہ

    قناعت میں چھپی مسکراہٹ.تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کی گہما گہمی، مقابلے کی دوڑ، اور مادی خواہشات کی بھرمار نے آج کے انسان کو بے چین کر رکھا ہے۔ ہر شخص بہتر زندگی کی تلاش میں ہے، لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ "بہتر زندگی” کا مطلب صرف زیادہ دولت، آسائشیں یا شہرت نہیں بلکہ دل کا سکون اور قناعت ہے۔ یہی قناعت خوش رہنے کا وہ راز ہے جس سے لوگ آج بھی غافل ہیں۔”خوش رہنے والوں کے پاس ہر چیز نہیں ہوتی، بلکہ وہ جو کچھ ہوتا ہے، اس پر مطمئن رہتے ہیں” یہ جملہ گویا ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ خوشی کا انحصار ہماری سوچ پر ہے، نہ کہ وسائل پر۔

    قناعت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے "راضی رہنا”۔ جو لوگ قناعت کو زندگی کا اصول بنا لیتے ہیں، وہ ہمیشہ شکر گزار ہوتے ہیں۔ ان کے دل میں لالچ، حسد یا جلن کے لیے جگہ نہیں ہوتی۔ وہ جانتے ہیں کہ،”جو کچھ میرے پاس ہے، وہی میرے لیے کافی ہے۔”قناعت انسان کو سکون عطا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ہماری ذہنی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ہماری روحانی ترقی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف خود خوش رہتے ہیں بلکہ دوسروں میں بھی مثبت توانائی پھیلاتے ہیں۔اکثر لوگ خوشی کو باہر تلاش کرتے ہیں۔ نئے کپڑے، قیمتی موبائل، بڑی گاڑی یا بیرونِ ملک سفر ، یہ سب وقتی خوشی دے سکتے ہیں، مگر اصل اور دیرپا خوشی ہمیشہ اندر سے آتی ہے۔ خوش رہنے والے لوگ اپنی اندرونی دنیا کو صاف، روشن اور مثبت رکھتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اگر ان کے پاس کم وسائل ہوں تو بھی وہ ان میں سے اچھائی تلاش کرتے ہیں۔ اگر مشکلات آئیں، تو صبر سے کام لیتے ہیں۔ ان کی خوشی کسی شے سے منسلک نہیں بلکہ ان کی سوچ سے جُڑی ہوتی ہے۔

    آج کا انسان ہر وقت دوسروں سے خود کا موازنہ کرتا رہتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جب ہم دوسروں کی چمکتی زندگی کو دیکھتے ہیں، تو اپنی زندگی کم تر لگنے لگتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی کہانی الگ ہے، ہر کسی کا سفر مختلف ہے۔خوش رہنے والے لوگ دوسروں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں، لیکن خود کو ان سے کمتر نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی زندگی میں موجود ہر نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔شکر گزاری وہ خوبی ہے جو خوش رہنے والے لوگوں میں لازمی پائی جاتی ہے۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں کو محسوس کرتے ہیں،ماں کی دعا، بچوں کی ہنسی، بارش کی خوشبو، پرندوں کی چہچہاہٹ ، یہ سب چیزیں ان کے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق، جو لوگ روزانہ شکر ادا کرتے ہیں وہ زیادہ خوش، صحت مند اور مثبت ہوتے ہیں۔ وہ پریشانیوں کو بھی زیادہ بہتر انداز میں جھیل سکتے ہیں۔

    خوشی ہمیشہ مہنگی چیزوں میں نہیں ہوتی۔ اکثر وہ لوگ جو سادہ زندگی گزارتے ہیں، زیادہ مطمئن اور خوش ہوتے ہیں۔ خوش رہنے والے لوگ دکھاوے سے دور ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سادگی میں عظمت ہے۔ ان کے لیے خوشی کا مطلب کسی چیز کو پانا نہیں بلکہ کسی لمحے کو محسوس کرنا ہے۔یہی لوگ ہوتے ہیں جو دوستوں کے ساتھ چائے کے کپ، کسی کتاب کا مطالعہ، یا تنہا کسی باغ میں وقت گزارنے کو بھی خوشی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔خوش رہنے والے لوگ اندر سے پر سکون ہوتے ہیں۔ ان کا ذہن الجھنوں سے پاک، اور دل نفرتوں سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرنا جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معاف کرنا دوسروں سے زیادہ خود کے لیے ضروری ہے۔آج کامیابی کو صرف مادی پیمانوں پر ناپا جاتا ہے، لیکن خوش رہنے والے لوگ کامیابی کی تعریف کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کامیابی دل کا سکون ہے،والدین کی دعائیں ہیں،کسی کو ہنسانا ہے،روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں جینا ہے،یہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ یہ انسان کو اندر سے خوش اور مطمئن رکھتی ہے۔خوشی ایک انتخاب ہے، حالت نہیں۔ اگر ہم یہ سیکھ لیں کہ جو ہمارے پاس ہے وہی کافی ہے، اور ہر حال میں شکر ادا کریں، تو زندگی خود بخود خوبصورت لگنے لگے گی۔

    لہٰذا، اگلی بار جب دل پریشان ہو، تو خود سے ایک سوال کریں،”کیا میں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں جو میرے پاس نہیں ہے؟ یا میں شکر گزار ہوں ان نعمتوں کے لیے جو مجھے حاصل ہیں؟” خوش رہنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ ہو۔ بلکہ ضروری یہ ہے کہ جو کچھ ہے، اس پر دل سے راضی رہیں۔

  • شعور، خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے،تحریر:  رضوانہ چغتائی

    شعور، خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے،تحریر: رضوانہ چغتائی

    شروع سے سکھایا جاتا ہے کہ بیٹیاں وہی اچھی ہوتی ہیں جو ریڈ کارپٹ بن جائیں کہ ہر رشتے کے قدموں تلے بچھ جائیں ۔۔۔۔ ماں کے سامنے، باپ کے سامنے، بھائی، شوہر، سسرال، معاشرہ—سب کے سامنے۔۔۔۔۔
    لیکن پھر۔۔۔۔کہیں سے ایک لہر اُٹھتی ہے۔ پہلے سوال بنتی ہے۔۔۔۔۔۔پھر سوچ… پھر شعور… اور آخر میں ایک طوفان—فیمنزم کا طوفان۔
    ہاں، اس میں بہت کچھ بکھر جاتا ہے۔کچھ اقدار، کچھ رشتے، کچھ سلیقے۔۔۔۔لیکن جو باقی رہ جاتا ہے۔۔۔۔
    وہ صدیوں کی بند زنجیروں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے— خودی، اختیار، اور "نہیں” کہنے کا ہنر۔۔۔۔۔ پھر بہت ہی عام سی گھرانوں کی بیٹیاں بھی سمجھنے لگتی ہیں کہ” نہیں ” کہنا اتنا مشکل نہیں ہے۔۔۔۔ باؤنڈریز بنانا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔۔۔۔

    بہت ذیادہ شعور نہیں تھا جب میری چھوٹی پھپھو کی ڈیتھ ہوئی لیکن اب سوچنے سے مطالعہ کرنے سے ان کی زندگی کے بارے میں جو باتیں شعور میں رہ گئیں تو یاد آتا ہے کہ وہ کمال کی فیمینسٹ خاتون تھیں۔۔۔ وہ پہلی خاتون جو اپنے حق کے لئے لڑتی تھیں ، یقیناً وہ ہمارے ٹیپیکل پرانی روایات والے خاندان کی پہلی بیٹی تھیں جنہوں نے ہمارے لاشعور میں فٹ کر دیا کہ عورت کو doormat نہیں ہونا۔۔۔۔ جو بھی ہو جائے ایک واضح سیدھی لکیر کھینچنا ضروری ہے۔۔۔۔
    میری زندگی کی وہ پہلی فیمینسٹ ہیں جن کو اپنی زندگی میں فیمینزم کا پرچار کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ ان کا نام نسیم تھا۔۔۔۔ اور وہ اپنے ڈیٹا پر پورے کانفیڈنٹ سے نسیم چغتائی لکھتی اور بولتی تھیں۔۔۔۔ یہ وہ دور تھا جب خواتین کا شادی کے بعد آئی ڈی کارڈ پر ذیادہ تر بی بی یا شوہر کا نام ساتھ لگا دیا جاتا۔۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی ” نہیں” کہنے کی۔۔۔۔

    باؤنڈری بنانا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر ان لوگوں کے سامنے جنہیں آپ کی خاموشی، خدمت اور قربانیوں کی عادت پڑ چکی ہو۔۔۔۔۔ جو لوگ آپ سے صرف فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ کبھی بھی آپ کی حقیقت، آپ کے جذبات، اور آپ کی قائم کردہ حد بندی کو اچھا نہیں جانیں گے،قرآن میں بھی بار بار ہمیں "عدل” اور "نفس کی حفاظت” کا سبق دیا گیا ہے۔ "وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ” (سورہ الاسراء: 29) — "اور نہ ہی اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا رکھو (کہ کچھ دو ہی نہ)، اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو (کہ سب کچھ خرچ کر ڈالو)”۔ یہ آیت ہمیں توازن سکھاتی ہے—اپنے آپ کو ضائع کیے بغیر دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔۔۔۔

    اگر آپ خوش قسمتی سے باؤنڈری بنا سکی ہیں، اور لوگ آپ سے دور ہو گئے ہیں—تو سمجھ لیجیے وہ کبھی آپ کے اپنے تھے ہی نہیں۔ جو رشتے باؤنڈریز کے احترام پر قائم ہوں، وہی دیرپا اور مخلص ہوتے ہیں۔ باقی سب محض استعمال کی خواہش ہوتی ہے، جس کا پردہ "محبت” اور "تعلق” کے الفاظ سے ڈھانپا گیا ہوتا ہے۔اس لیے اگر آپ کو باؤنڈریز بنانے کی قیمت چکانی پڑی ہے، تو یاد رکھیں آپ نے کچھ کھویا نہیں، بلکہ اپنے گرد موجود منافقت کا پردہ چاک کیا ہے۔ اور یہ پہچان، یہ شعور، یہ خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے۔۔۔۔۔!!!