Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید

    ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید

    کینیڈا سے تشریف لائے معروف باکمال شاعر ڈاکٹر اسد نصیر کے اعزاز میں کل شام ادبی فورم انحراف انٹرنیشنل اور چیپٹرز کے اشتراک سے ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جسے لاہور رنگ ٹی وی نے اپنی سکرین کی زینت بنایا۔
    محترمہ یاسمین حمید کی صدارت اور جناب شہزاد نیر کی خوبصورت نظامت نے محفل کو سحر انگیز بنا دیا۔ جناب شہزاد نیر کا دلی شکریہ انہوں نے مجھے مدعو کیا۔ بینر بنوانے کے لئے شرکت کنفرم کرنے کی بات پر میں نے ان سے درخواست کی کہ بینر پر میرا نام نہ لکھوائیں اور دعوت کو اوپن رہنے دیں، تاکہ اگر کسی مجبوری کے باعث شرکت نہ ہو سکے تو شرمندگی نہ ہو۔ خوشی اس بات کی ہے کہ شہزاد صاحب نے نہ صرف میری بات کو سمجھا بلکہ نہایت خوش دلی سے قبول بھی کیا — اور شاید یہی بات تھی جو مجھے اس شام اس خوبصورت محفل تک کھینچ لائی۔
    سچ کہوں تو کئی بار کی عدم حاضری کے باعث اکثر احباب نے بلانا بھی کم کر دیا تھا۔ لیکن شہزاد نیر صاحب کے خلوص نے ایک بار پھر ادبی محفل سے جوڑ دیا۔ یہ کافی عرصے بعد کسی مشاعرے میں شرکت تھی —
    تمام شعراء سے بہترین کلام سننے کو ملا اور دل جیسے پھر سے زندگی سے بھر گیا۔
    بے حد مبارک باد جناب افتخار الحق اور شہزاد نیر صاحب کو، جنہوں نے نہایت عمدگی سے اس ادبی تقریب کا اہتمام کیا، جو یقینی طور پر ایک یادگار مشاعرہ رہا ۔۔
    اور ہاں ثمینہ سید سے ملاقات کی خوشی الگ سے ہے ۔ اللہ کریم انھیں صحت مند ہنستا مسکراتا رکھے ۔۔
    میرے میڈیا کے دوستوں خاص طور پر محترم عامر نفیس کی شفقت کے لئے بھی ممنون ہوں جنھوں نے اپنی دیرینہ کولیگ کو دوبارہ ایکٹو دیکھ کر نہ صرف بہت خوشی کا اظہار کیا بلکہ بہت سے دعاؤں کے ساتھ میڈیا رپورٹ کو خصوصی طور پر ارسال کیا ۔۔

  • یومِ وفات: علامہ محمد اقبال ، تحریر:کنزہ محمد رفیق

    یومِ وفات: علامہ محمد اقبال ، تحریر:کنزہ محمد رفیق

    حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی خوابیدہ قوم کی بیداری اور بہبود کے لیے اپنی زندگی تیاگ دی، مگر ہم آج کہاں کھڑے ہیں ؟
    کہاں تک ان کی شاعری کی اور ان کے خیالات کی تقلید کی ہے ؟
    ہم آج ان کی تصانیف اور ان کے نظریات کو پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو نفس کے حوالے کر بیٹھے ہیں۔ اور یوں خود کو دنیا میں غیر حاضر قرار کر دے کر ہم اللّٰہ تعالیٰ کے اس بیش قیمت تحفے سے سراسر انحراف کر رہے ہیں۔
    ہم میں سے ہر شخص کے لیے اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہ ” خودی” کو نہ پا لے۔
    آخری خودی ہے کیا ؟
    خودی انسان میں پوشیدہ خوبیاں ہیں، اس میں پنہاں طاقتیں ہیں، جو انسان ان گوہر نایاب تک پہنچ جاتا ہے، اسے کامیابی سے کوئی نہیں تھام سکتا۔
    کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں خودی کی تربیت اور پرورش کامیابی کے حصول کے لیے شرطِ اول ہے، چوں کہ خودی زندہ اور پائندہ ہوگی تو کائنات آپ کے آگے جھک جائے گی، اور اگر خودی بیدار نہ ہو تو وہی ہوگا جو آج ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
    ڈپریشن، ڈپریشن اور ڈپریشن!
    ہائے! میری دنیا، میری دنیا، میری دنیا۔
    دنیا کو پانا ہے تو خودی کو پانا ہوگا، خود کو ڈھونڈیے دنیا خود آپ کو ڈھونڈے گی۔
    اقبال اپنی قوم پر مہربان تھے، وہ اپنے عوام کو باشعور، کامران اور اونچا اونچا اڑتے دیکھنے کے خواست گار تھے۔ مگر ہم ہیں فرنگیوں کے پیروکار، آخر یہ بات کب ہمارے شعور کا حصہ بنا گی کہ وہ ہمیں تلف کر دینا چاہتے ہیں، اور ہمارے رہ نما ہمیں سرفراز دیکھنا چاہتے تھے۔
    اقبال نے فرمایا:
    "خودی کا سرِ نہاں لا الہ الااللہ
    خودی ہے تیغ فساں لا الہ الااللہ ”
    خودی تک انسان تب پہنچتا ہے جب وہ اللّٰہ کو پہچاننے لگتا یے، چوں کہ خودی کی تلوار کو توحید آب دار اور طاقت ور بناتی ہے، ہم جتنا اللّٰہ کا قرب پاتے جائیں گے خودی کو اتنا ہی استحکام نصیب ہوتا جائے گا، پھر ہر خوف پس و پیش بکھر جائے گا، کیوں کہ ہر وقت زباں پر ہوگا:
    ” لا الہ الااللہ، لا الہ الااللہ”

  • اک آواز…پرسکون کرنے کی طاقت،تحریر:نورفاطمہ

    اک آواز…پرسکون کرنے کی طاقت،تحریر:نورفاطمہ

    زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہم میں سے ہر ایک کو کبھی نہ کبھی تناؤ اور اضطراب کا سامنا ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ اور جسم پر اس کا برا اثر پڑتا ہے، اور ہمیں سکون کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسی سکون کی تلاش میں ہم مختلف طریقے آزمانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز وہ جادوئی نسخہ ثابت ہو سکتی ہے جو آپ کے عصاب کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ آواز نہ صرف دل کو سکون دیتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی کم کر دیتی ہے۔آواز کا دماغ پر اثر ایک قدرتی عمل ہے جو انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ جب ہمیں کسی پسندیدہ شخص کی آواز سنائی دیتی ہے، تو دماغ میں ایک قسم کا سکون پیدا ہوتا ہے۔ یہ آواز ہمارے دماغ کو ایک محفوظ اور محبت بھری حالت میں لے آتی ہے، جو کہ ہمارے جسم میں اینڈورفنز (یعنی خوشی کے ہارمونز) کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔

    اینڈورفنز، جو کہ قدرتی درد کش دوا کی طرح کام کرتے ہیں، ہمارے جسم کو سکون فراہم کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب آپ اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو یہ آواز آپ کے اندر ایک خاص احساس پیدا کرتی ہے جو آپ کے دماغ کو خوشی اور سکون کی حالت میں لے آتی ہے۔جب آپ اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو یہ آپ کے دماغ میں ان یادوں کو تازہ کرتی ہے جو آپ نے اس شخص کے ساتھ گزاری ہیں۔چائے کی محفلیں،کھانے کی دعوتیں،دفتر میں گزرے پل،تنہائی کے حسین لمحے، وہ یادیں،باتیں اور تعلقات آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، اور جب وہ آواز آپ کے کانوں میں گونجتی ہے، تو وہ احساسات دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ان یادوں اور تعلقات کا دماغ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ صرف آپ کو خوشی اور سکون نہیں دیتے، بلکہ آپ کو ایک محفوظ جگہ کا احساس بھی دلاتے ہیں، جو کہ ذہنی سکون کے لئے ضروری ہے۔ یہ تعلقات اور یادیں آپ کے جسم میں ایک حفاظتی نظام کی طرح کام کرتے ہیں، جو کہ اضطراب اور پریشانی کو کم کرتا ہے۔

    آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز کا دماغ پر اثر صرف ذہنی سکون تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کا جسمانی اثر بھی ہوتا ہے۔ جب آپ کو سکون ملتا ہے، تو آپ کا جسم بھی آرام دہ ہو جاتا ہے۔ آپ کی دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے، اور آپ کے جسم میں تناؤ کم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کی سانسوں کا رفتار بھی نارمل ہو جاتا ہے، اور آپ کا جسم مکمل طور پر ریلیکس ہوتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق، جب ہم کسی کو اپنی پسندیدہ آواز میں بات کرتے ہوئے سنتے ہیں، تو ہمارے جسم میں ایک طرح کی فلاحی حالت پیدا ہوتی ہے جو ہماری صحت کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔

    آج کل کے جدید دور میں ہم اپنی زندگی کے بیشتر حصے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے گزار رہے ہیں۔ موبائل فون، ویڈیو کالز، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع نے ہمیں اپنے پیاروں سے میلوں دور ہونے کے باوجود جڑا رکھا ہے۔ جب ہم ان ذرائع کے ذریعے اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو ہمیں وہی سکون ملتا ہے جو ہم انہیں قریب محسوس کرنے پر پاتے ہیں۔یہی نہیں، بلکہ اب ہم کسی بھی وقت، کہیں بھی اپنے پسندیدہ شخص سے بات کر سکتے ہیں، اور یہ آوازیں ہمیں زندگی کے دباؤ سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے میلوں دور رہ کر بھی وہ احساسات اور سکون ہمیں فراہم کیا ہے جو ہم کبھی اس طرح سے نہیں محسوس کر پاتے تھے۔آخرکار، یہ کہنا کہ میلوں دور سے آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز آپکے عصاب کو پرسکون کرنے کی طاقت رکھتی ہے، محض ایک خیال نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ جب آپ کے اندر سکون اور سکون کا احساس آتا ہے، تو آپ کا دماغ اور جسم دونوں بہتر طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں۔ یہ آپ کو اپنی زندگی کی مشکلات کا بہتر مقابلہ کرنے کے لئے توانائی فراہم کرتا ہے۔یاد رکھیں کہ زندگی میں پرسکونیت اور سکون کے لمحے بہت اہم ہیں، اور یہ صرف آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز سے ہی نہیں، بلکہ ان لمحوں سے جڑے ہوئے جذبات سے بھی ملتا ہے جو آپ کے اندر موجود ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کی آواز ایک عجیب جادوئی اثر رکھتی ہے جو ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب وہ شخص ہمارے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہو، تو اس کی آواز ہمارے اندر ایک سکون کی لہر پیدا کر دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارا دماغ پرسکون ہوتا ہے، بلکہ ہمارا جسم بھی ایک توانائی محسوس کرتا ہے جو ہمیں روزمرہ کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں، یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب آپ کا پسندیدہ شخص آپ کو اپنی آواز کے ذریعے سکون دینے آتا ہے، اور اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،کبھی بھی نہیں، غلطی سے بھی نہیں، اور اگر نظر انداز کر دیں تو سمجھیں…..بہت کچھ کھو دیا…

  • تبصرہ کتب ،قلب مضطر،مبصر:کنزہ محمد رفیق

    تبصرہ کتب ،قلب مضطر،مبصر:کنزہ محمد رفیق

    ” وہ جس سے بھی محبت کرتا تھا، وہ اسے چھوڑ جاتا تھا۔ ”
    ماں باپ کی موت، بھائی کی دھتکار، نیلی کی بے وفائی، جان نثار کر دینے والے دوست کا دکھ، ہریرہ کا ہجر، منہ بولی بہن (تمکین) سے جدائی اور لاحاصل خوابوں نے اسے بے خود کر دیا تھا۔
    آخر زندگی نے اسے کیا دان کیا؟
    محض محرومیاں، کلفتیں اور اذیتیں ؟
    یہ کہانی ہے جنید کی، اور اس کی حرماں نصیبی کی۔
    اور یہ کہانی ہے ابوذر کی اور اس کے بلند بخت کی۔
    ” آخری خط، آخری ملاقات، آخری جملہ، آخری امید، اور آخری لمس اس کی زندگی کھا گیا تھا۔
    جنید کے اذیتوں بھرے کردار کے لیے ساحر لدھیانوی کا یہ شعر موزوں رہے گا۔
    ” اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں مَیں
    اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے”
    اور مسیحا ابوذر کے کردار کا یہ شعر ترجمان ہے۔
    "کسی کے زخم پہ مرہم لگا دینا
    مسیحائی ہے، خدا کو پا لینا”

    یہ جدا جدا دو کردار نہیں، بلکہ ایک ہی کردار کے دو رخ ہیں۔ جنید کو ابوذر بنانے اور ذہنی اور روحانی طور پر مضبوط کرنے والوں میں ڈاکٹر زبیر خان، ڈاکٹر بہروز، رومیصہ، جلال بابا اور چاچا رفیق نے کلیدی کردار ادا کیا۔
    ماضی کے لوگوں نے اس حساس دل انسان کو ذہنی مریض بنا دیا تھا، ہمہ وقت وہ اسی آواز کے ساتھ چیختا چلاتا۔
    ” ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
    مرے دکھ کی دوا کرے کوئی”
    "قلب مضطر ” حنا وہاب صاحبہ کے قلم سے لکھا اصلاحی ناول ہے، اس ناول میں سماج میں بکھرے کئی موضوعات کو سمیٹ دیا گیا یے، جیسے، پیٹ پالنے کے لیے حرام کاموں میں ملوث ہونا، محبت اور اپنائیت کے اظہار میں کنجوسی کرنا اور پھر بعد میں پچھتاوا کرنا، ٹک ٹاک پر ناچ کر شہرت پانا، اور آئے روز لڑکیوں کو اچھی شکل و صورت نہ ہونے کی وجہ سے ٹھکرا دینا، لوگوں کی مسیحائی کرنا اور ہم سفر کا انتخاب کرتے وقت ظاہر سے زیادہ باطن کو مقدم رکھنا، مگر اس کا اساسی موضوع "ڈپریشن” ہے۔ جو ان تمام وجوہات کا نتیجہ یے۔ جس نے آج ہر دماغ پر راج کر رکھا ہے۔

    اکیسویں صدی کا ہر دوسرا شخص نفسیاتی مرض ( ڈپریشن) میں مبتلا ہے۔ جہاں امید اور آس نہ ہو وہاں ویرانی ہوتی یے، دل پر قنوطیت کے بادل چھائے رہتے ہیں اور ہمہ وقت یاسیت کی برکھا برستی رہتی ہے جو دل کو کلی طور کھوکھلا کر کے رکھ دیتی یے۔

    ہر مرض کی مانند ڈپریشن کا بھی علاج موجود ہے، جنید کے روحانیت پر مبنی سیشنز ہوتے رہے، اسے رنگوں سے کھیلنا پسند تھا، وہ رنگوں سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا۔ برابر سیشن ہوتے رہے اور وہ کشاں کشاں اپنے آپ کو سنبھالنے لگا، اس مرض سے فرار کے بعد وہ لوگوں کا مسیحا بن گیا، انہیں ڈپریشن جیسے مرض سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ، اور اس نے ایک سیشن ایسی لڑکی کا کیا، جس کو گھر آئے ہر رشتے نے ٹھکرا کر ذہنی مریض بنا دیا تھا، ابو ذر نے اسے کھلے دل سے اپنایا اور ہمیشہ کے لیے اپنا نام دے کر اسے معاشرے میں معتبر کر دیا۔
    ادب میں بہت سے ادیب معاشرے میں پھیلی برائیوں کو یکجا کر دیتے ہیں، مگر اس کا سدّباب قارئین کے سامنے پیش نہیں کرتے ہیں، یہ حنا وہاب صاحبہ کا خاصہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف معاشرے میں پھیلتی بیماری کو بیاں کیا بلکہ اس کا تریاق بھی قلمبند کیا تاکہ قارئین اپنی زندگیوں کو اللّٰہ سے جوڑ کر تباہی اور زوال سے بچ سکیں۔

    آج معاشرے میں مقابلہ زیادہ ہے، گھٹن زیادہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے دور جا رہے ہیں، اور دلوں کو عناد اور نفاق ایسی خوارک فراہم کر رہے ہیں۔
    ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ نے ثابت کیا ہے کہ ڈپریشن ایسا ذہنی مرض خوراک کی تبدیلی، دواؤں، یا جھاڑ پھونک سے صحیح نہیں ہوتا بلکہ اس کا علاج ” گفت گو” سے ہوتا یے۔
    ٹاک تھراپی سے مریض اپنے اندر کی بھڑاس نکال کر ہلکا پھلکا ہو جاتا۔
    پس معاشرے کو پُرامن اور لوگوں کو پُر سکون کرنے کے لیے۔۔۔۔
    ” بات سنتے رہو، بات کہتے رہو۔”
    صفحہ نمبر 68
    ” سڑکوں پر لگی ہوئی لائٹس نے دن میں رات کا سماں کر رکھا تھا اسی لیے کسی نہ کسی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”
    کیا اس جملے کی ترتیب صحیح ہے؟
    ریس تو رات میں شروع ہوئی تھی پھر دن میں رات کا سماں؟
    کچھ سمجھ نہیں آیا۔
    شاید جملہ کچھ اس طرح ہوگا :
    ” سڑکوں پر لگی ہوئی لائٹس نے رات میں دن کا سماں کر رکھا تھا اسی لیے کسی نہ کسی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”
    صفحہ نمبر 27
    ” اس کے داہنے ہاتھ پر برنولہ لگا ہوا تھا”
    برنولہ یا کینولا ؟
    صفحہ نمبر 37
    پرواہ یوں لکھا ہوا ہے، جب کہ پروا کے املا میں آخر میں "ہ ” نہیں آتا۔ ” پروا”
    صفحہ نمبر 78
    بارش کی آمد سے قبل باد نسیم کو محسوس کرتے۔
    بادِ نسیم صبح کی یا شام کی تازہ ہوا کو کہتے ہیں۔ جب کہ بارش سے قبل ہوا میں نمی اور زیادہ ٹھنڈک ہوتی یے تو اسے "بارانی ہوا” کہتے ہیں۔
    کتاب کے صفحات اور طباعت بہتر یے جب کہ سرِ ورق بہترین ہیں۔
    اصلاحی اور وقت کی ضرورت پر مبنی اس ناول کی اشاعت پر حِنا صاحبہ کو دلی مبارکباد۔
    اسی طرح اپنے قلم سے معاشرے کی اصلاح کرتی رہیے، اور اپنے حصّے کے دیپ روشن کرتی جائیے ان شاءاللہ آپ کی کاوشوں سے معاشرے میں ضرور سدھار آئے گا۔
    مشاہدہ کرتی رہیے، سوچتی رہیے اور لکھتی رہیے۔

  • عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں ایک شاندار ادبی نشست، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں ایک شاندار ادبی نشست، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    یو ایم ٹی میں ایک ادبی نشست منعقد کی گئی جو معروف ادبی شخصیت عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں تھی اس میں یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس سمیت شاعروں ادیبوں اور عطا الحق قاسمی کی تحریروں کو پسند کرنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی یونیورسٹی کا سیمینار ہال کھچا کھچ بھرا تھا ،سٹیج پر عطا الحق قاسمی کے ساتھ معروف صحافی سہیل وڑائچ موجود تھے جنہوں نے عطاء الحق قاسمی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں دئیے، کئی موقعوں پر ہال کشت زعفران بن گیا عطا الحق قاسمی کی کتابوں اور تحریروں کا زکر رہا ،

    تقریب میں بیگم عطا الحق قاسمی اور ان کے صاحب زادے عمر قاسمی نے بھی شرکت کی عطا الحق قاسمی کے دوست احباب بھی بڑی تعداد میں موجود تھ،ے ایرانی قونصلیٹ آ غاے اصغر مسعودی نے بھی شرکت کی فارسی اور اردو میں اظہار خیال کیا اور عطا الحق قاسمی کو خراج تحسین پیش کیا عطا الحق قاسمی کے کالم ،، روزن دیوار سے ،، کا زکر رہا ،پروگرام کے بعد ایک فنکار نے اپنی خوبصورت آ واز میں عطا الحق قاسمی کا کلام پیش کیا اور علی امام من است و منعم غلام علی ، ہزار جان گرامی فداے نام علی منقبت پیش کی ، اس موقع پر سونیر بھی پیش کییے گئے اور آ خر میں کھانے کا بھی عمدہ انتظام تھا یونیورسٹی انتظامیہ اس عمدہ ادبی نشست کے لیے مبارکباد کی مستحق ہے –

  • فلسطین: ڈیڑھ برس کی داستانِ کرب ، انسانیت پر حملہ،تحریر:نور فاطمہ

    فلسطین: ڈیڑھ برس کی داستانِ کرب ، انسانیت پر حملہ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹا سا علاقہ فلسطین آج ایک ایسے کرب سے گزر رہا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں 12 ہزار سے زائد اجتماعی قتل عام، 51 ہزار سے زائد معصوم جانوں کا ضیاع، جن میں 18 ہزار سے زائد بچے اور 12 ہزار سے زیادہ خواتین شامل ہیں یہ اعدادوشمار نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر پر پڑنے والے زخم ہیں۔یہ صرف چند سرخیاں نہیں، یہ ہر اس شخص کی چیخ ہے جو ظلم کا نشانہ بنا۔ یہ صرف فلسطینیوں کی آزمائش نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا امتحان ہے۔ یہ ظلم صرف غزہ پر نہیں، انسانیت پر حملہ ہے۔

    فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کوئی حادثاتی جنگ نہیں بلکہ ایک منظم نسل کشی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں پوری کی پوری نسلیں صفحہ ہستی سے مٹادی گئیں۔20 لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔طبی عملہ، صحافی، طلبا، سیکیورٹی اہلکار اور شہری دفاع کے کارکنان کو بھی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔یہ وہ اقدامات ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ مگر افسوس، عالمی برادری کی خاموشی اس ظلم کی سب سے بڑی پشت پناہی بن چکی ہے۔غزہ کی گلیاں آج بھی شہداء کے خون سے تر ہیں، مائیں اپنے بچوں کو ملبے تلے سے نکال رہی ہیں، بچے اپنے والدین کی لاشیں تھامے بیٹھے ہیں، اور نوجوان اپنی برباد بستیوں میں امید کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔

    ہم فلسطینیوں کے جذبہ قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کے بدلے عزت و وقار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں حضرت حسینؑ کی کربلا یاد دلاتی ہے، کم تعداد، بے سروسامانی، مگر سچائی کے لیے سر کٹانے کا حوصلہ،لیکن سوال یہ ہے کہ …ہم کہاں کھڑے ہیں؟آج سوال فلسطین کا نہیں، سوال ہمارے ایمان، ہماری غیرت اور ہمارے ضمیر کا ہے۔ کیا ہم صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے دعاؤں، مالی امداد، شعور و آگہی پھیلانے اور آواز اٹھانے سے بھی قاصر ہیں؟ہمیں یاد رکھنا ہوگا
    "جو ظلم کے خلاف خاموش رہے، وہ بھی ظالم کے ساتھ کھڑا ہے۔”

    ہم اپنے فلسطینی بھائیوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ہم تمہاری قربانیوں کو ضائع نہیں جانے دیں گے۔ہم ہر ممکن پلیٹ فارم پر تمہارے لیے آواز اٹھائیں گے۔ہم دنیا کو بتائیں گے کہ فلسطین کی جنگ، انسانیت کی جنگ ہے۔یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، یہ وقت دنیا کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا ہے۔ ہمیں ان طاقتوں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اس بربریت کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ ہمیں عالمی برادری پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اس نسل کشی کو روکے اور فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق دلوائے۔فلسطین کی سرزمین لہو رنگ ہے، وہاں کی فضائیں سسکیوں سے بھری ہوئی ہیں، لیکن وہاں کے لوگوں کا حوصلہ بلند ہے۔ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یقیناً ایک دن فتح ان کا مقدر بنے گی۔ ہم دعا گو ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب فلسطین آزاد ہو اور وہاں امن و امان قائم ہو۔آئیے مل کر دعا کریں، آئیے مل کر آواز اٹھائیں، آئیے مل کر ان مظلوموں کا ساتھ دیں، یہی انسانیت کا تقاضا ہے۔

  • پسند کے تعاقب میں زندگی رواں.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    پسند کے تعاقب میں زندگی رواں.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ اور الحمد اللّٰہ میں اللّٰہ تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھتی ہوں۔
    اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں سے قرآن میں وعدے کرتا یے، ان تمام عہدوں میں سے ایک عہد یہ بھی ہےکہ آپ جیسے ہوں گے، ہم سفر بھی ویسا ملے گا۔
    اگر آپ خبیث ہیں، تو خباثت آپ کی منتظر ہے۔ اور اگر آپ نیک ہیں اور نیکی آپ کے لیے محو انتظار ہے۔
    خبیث کو خبیث ملنا ہے اور طیب کو طیب !
    یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے۔
    اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ۔ ( سورہ نور)
    ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے۔
    پس اسی کے پیشِ نظر اس قسم کی باتیں میری بشاشت کا ساماں نہیں بن پاتیں۔ میں ہر بار یہی کہتی ہوں کہ میں اپنی ہم عمر لڑکیوں بالیوں سے بہت مختلف ہوں، مجھے اپنی تعریف اور توصیف سن کر ذرا خوشی نہیں ہوتی، میرے پاس لٹوں کو سنبھالنے کا وقت نہیں اور فیشن کرنے میں میری کوئی دل چسپی نہیں، البتہ کوئی دل سے تعریف کرے تو میں پہچان لیتی اس میں کتنا صدق اور اخلاص ہے، بس پھر ذرا مسکرا دیتی ہوں۔ جھوٹی تعریفوں پر مسکرایا نہیں جاتا۔
    میری خواہشات کی فہرست میں پہلی خواہش یہی ہے کہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی پسندیدہ بن جاؤں۔
    پس اللّٰہ تعالیٰ نفیس ہے اور نفاست کو پسند کرتا یے، وہ لطیف ہے اور لطافت کو پسند ہے۔ وہ پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے۔
    لہذا انہی پسند کے تعاقب میں زندگی رواں ہے۔

  • مسلسل تباہی لیکن آخر کب تک..تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسلسل تباہی لیکن آخر کب تک..تجزیہ :شہزاد قریشی

    عالمی افق میں بدلتی صورت حال کے پیش نظر وطن عزیز میں استحکام اور ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے سیاسی اکابرین اور مقتدرہ کو جرات مندانہ فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ، قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی ۔ تخلیقی سوچ ایماندار اور ترقی پسند و مخلص کردار کی لیڈر شپ مہیا کرنا ہوگی۔ صوبائی تعصب ، اقربا پروری اور کرپشن کسی بھی ملک اور قوم کے لئے زہر قاتل ہیں اور بابائے قوم نے بھی اپنے خطابات میں ان قباحتوں سے بچنے کی تلقین کی تھی۔ اور انہی سے نجات میں ملک کا استحکام پوشیدہ ہے آج وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے۔ بلاشبہ نواز شریف نے اپنے سابقہ ادوار میں ملک میں موٹرویز ، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے ، بیروزگاری میں کمی ،روزگار کے لئے آسان قرضوں کی فراہمی ،ایٹمی دھماکوں بیرونی قرضوں سے نجات اور خود انحصاری کی جانب کئی اقدامات اٹھائے اور پھر سی پیک جیسے منصوبے کو لاکر پاکستان کوبین الاقوامی معاشی ترقی میں خطے کی اُبھرتی ہوئی معیشت کی صفوں میں لاکھڑا کیا۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی او ر معاشی استحکام کا سفر اُسی جذبے اور بصیرت سے جاری رکھا جائے ۔ آج بھی ماضی کی طرح نواز شریف آج بھی بلوچستان کی دکھتی رگ پراپنا ہاتھ رکھ کر علیحدگی پسند سوچوں کی چنگاریں کو بجھا سکتے ہیں۔ آج بھی نواز شریف اور اُنکی ٹیم مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ استحکام پاکستان خطے میں پائیدار امن اورترقی کا ضامن ہے۔بین الاقوامی طاقتوں اور خطے کے علاقائی طاقتوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ملک کی سیاست اور مقتدرہ کو درست وقت اور درست سمت کا تعین کرنا ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کا مستقبل کیا ہے ، کیا ہونے جا رہاہے۔ روس یوکرین جنگ کا خاتمہ ہو گا یا نہیں مشرق وسطی اور کشمیر کی گونج دہائیوں سے عالمی دنیا کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے ۔ خون ریزی اور تباہی کی کہانیاں کون نہیں جانتا۔دنیا مسلسل غرق ہور ہی ہے امریکہ اور عالمی قوتوں کے سامنے مسلسل تباہی ہو رہی ہے ۔ آخر کب تک ؟

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز  کا عوام دوست وژن.تحریر:نور فاطمہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عوام دوست وژن.تحریر:نور فاطمہ

    وزیراعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف نے عوامی فلاح و بہبود کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی ہے۔ اُن کی قیادت میں پنجاب حکومت ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جہاں ہر طبقہ فکر، خاص طور پر پسماندہ اور نظر انداز کیے گئے افراد، کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اعلانات اور اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وزیراعلیٰ کی توجہ صرف اعلانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام سرکاری عمارتوں میں خصوصی افراد کے لیے ریمپ بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اُن افراد کو بھی معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہے جو جسمانی معذوری کے باعث محدود ہیں۔یہ سہولت نہ صرف سرکاری دفاتر تک ان کی رسائی کو آسان بنائے گی بلکہ انہیں احساسِ شمولیت بھی دے گی۔

    مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پہلے پانچ ماہ میں 30 ہزار گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں، جو کہ "اپنی چھت، اپنا گھر” پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔ یہ کارنامہ پاکستان کی تاریخ میں ایک مثال بن چکا ہے، کیونکہ اس سے پہلے کوئی بھی حکومت عوام کے لیے تین ہزار گھر بھی نہ بنا سکی۔ان کا ہدف ہے کہ سال کے آخر تک 1 لاکھ گھر مکمل کیے جائیں تاکہ ہر بے گھر کو چھت فراہم کی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا”میں ہر اس شخص تک پہنچنا چاہتی ہوں جو ریاست کا انتظار کر رہا ہے۔”یہ جملہ نہ صرف ان کے وژن کا عکاس ہے بلکہ اُن کی فلاحی سوچ کی گہرائی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حکومت اب صرف دفتر کے دروازے کھول کر انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود عوام کے دروازے تک پہنچے گی۔

    معذور اور جسمانی طور پر کمزور افراد کے لیے ایک اور خوشخبری یہ ہے کہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا پورٹل فعال کر دیا گیا ہے۔جو افراد جسمانی کمزوری کا شکار ہیں وہ اس پورٹل پر رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔حکومت ضرورت کے مطابق معاون آلات ان کے گھروں تک پہنچائے گی۔یہ اقدام ان افراد کو زندگی میں مزید آزادی اور خود مختاری دے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے یکم مئی کو ایک اور تاریخی قدم اٹھایا جا رہا ہے،پاکستان کا سب سے بڑا راشن کارڈ پروگرام لانچ کیا جائے گا۔اس پروگرام کے تحت 12.5 لاکھ خاندانوں کو 10 ہزار روپے نقد رقم فراہم کی جائے گی۔یہ اسکیم مہنگائی کے مارے افراد کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف بن کر سامنے آئے گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے کیے گئے یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت صاف ہو اور وژن مضبوط ہو تو تبدیلی ممکن ہے۔ معذور افراد کی سہولت، بے گھر افراد کو چھت، اور غریب طبقے کیلئے معاشی امداد ، یہ سب ایک ہمہ گیر فلاحی وژن کا حصہ ہیں۔اب یہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں، خود بھی رجسٹریشن کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی آگاہ کریں۔

  • ‎یہ خاموشی کب تک؟تحریر:‎ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ‎یہ خاموشی کب تک؟تحریر:‎ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ‎موسم گرما کی ایک ایسی دوپہر جب چیل بھی انڈا چھوڑ جاتی ہو، سکول بس سے اترنے والی بچی نے ادھر ادھر دیکھا اور ایک طرف کو چل دی۔ ہر روز بس معمول کے مطابق رکتی، وہ بس سے چھلانگ لگا کے اترتی، بستہ کمر پہ بندھا ہوتا اور تیزی سے چلتی ہوئی اس گلی میں داخل ہو جاتی جو دو تین موڑ مڑتی اس کے گھر تک جاتی تھی۔‎وسیع سڑک پہ دو رویہ دکانیں تھیں جو دوپہر کے وقت عموماً خالی پڑی ہوتیں اور ددوکاندار گرمی کی شدت سے بیزار گاہکوں کے انتظار میں اونگھ رہے ہوتے۔‎اس دوپہر وہ بچی گلی میں داخل ہونے کی بجائے اس جنرل سٹور کی طرف مڑ گئی جس کے برآمدے میں بہت سے ایسے ریک پڑے ہوتے جو مختلف کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کے ہمراہ رکھوا دیتیں۔ ہر ریک کے اوپر اس چیز کا بڑا سا اشتہار بھی لگا ہوتا جس سے ریک کے اندر موجود شے کا علم ہو جاتا۔‎بچی برآمدے میں پڑے اس ریک کے پاس رکی جس کے اوپر لگے اشتہار میں ایک خوبصورت عورت ایک جھولے پہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ نیچے ریک کے شیلف پہ بہت سے پیکٹ پڑے ہوئے تھے۔
    ‎بچی کو آتے دیکھ کے اونگھتا دوکاندار سیدھا ہو کے بیٹھ گیا،
    ‎“بیٹا، کونسی چاکلیٹ دوں”
    ‎“نہیں انکل، چاکلیٹ نہیں چاہیے” بچی با اعتماد لہجے میں بولی۔
    ‎“پھر کیا چاہیے بیٹا آپ کو؟” دوکاندار نے شفقت سے پوچھا۔
    ‎“وہ”
    ‎بچی کی انگلی اس ریک کی طرف اشارہ کر رہی تھی جس پہ وہ مسکراتی ہوئی عورت براجمان تھی۔
    ‎دوکاندار نے حیران ہو کے بچی کی طرف دیکھا۔ شاید بچی کو اس کی بڑی بہن یا ماں نے خریدنے کو کہا ہو، کہ خواتین شرم کے مارے کہنا مشکل سمجھتی تھیں اور اس کی دکان پہ اس ریک کی سیل بہت ہی کم تھی۔ بغیر کچھ کہے اس نے ایک خاکی لفافے میں پیکٹ لپیٹ کر بچی کو تھما دیا جو اس لفافے کو سکول بیگ میں رکھ کر جلدی سے سیڑھیاں اتر گئی!

    ‎ہمارا سن ہو گا یہی کوئی بارہ تیرہ برس کا اور ہم محسوس کر چکے تھے کہ کلاس میں ہم جماعتوں کی کھسر پھسر بڑھ چکی ہے۔ دبی دبی آواز میں رازو نیاز، شرمائی لجائی مسکراہٹ، دوپٹہ اوڑھنے میں احتیاط اور پابندی، اٹھتے بیٹھتے دامن کو جھٹکنا اور پشت سے قمیض سیدھی کرنا تو تھا ہی مگر کچھ اور بھی تھا جس کی پردہ داری تھی اور وہ ہم پہ کھلتا نہیں تھا۔
    ‎اب ماجرا یہ تھا کہ ہم کلاس کی اکژیت سے معصوم اور کم عمر دکھائی دیتے تھے سو کئی موضوعات ہمارے لئے شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔ گو یہ سمجھنے والے یہ نہیں جانتے تھے کہ ہماری آگہی کا درجہ بیشتر ہم جماعتوں سے اوپر ہی تھا۔
    ‎کبھی کبھار کچھ لڑکیاں ٹوہ لینے کے انداز میں ہماری طرف دیکھتیں گویا اندازہ لگا رہی ہوں کہ ہم کیمپ میں ساتھی بنے کہ نہیں۔ سیدھے سبھاؤ لوگ ہماری معصومیت کو داغدار کرنے کا حوصلہ نہیں پاتے تھے۔
    ‎کتابیں اور رسائل پڑھ کے کچھ اندازے تو ہم لگا چکے تھے سو ایک روز آپا کے سر ہوئے کہ مخفی امور و رموز کی مزید تفصیلات سے دلچسپی تھی۔ آپا سے ہم نے بات کچھ یوں شروع کی کہ نہ جانے کیوں ہم جماعتیں ٹٹولتی ہوئی نظروں سے ہمیں دیکھتی رہتی ہیں؟ آپس میں تو کچھ کہتی ہیں لیکن جب ہم پاس پہنچتے ہیں تو خاموش ہو جاتی ہیں؟
    ‎آپا نے پہلے کچھ ٹال مٹول کرنے کی کوشش کی لیکن ہماری ضد کے سامنے بھلا کب تک ٹھہرتیں۔ چلیے جی انہیں بتانا ہی پڑا کہ ہمیں بھی ایک ناگہانی کا سامنا کرنا ہو گا لیکن یہ علم نہیں کہ کب؟ کہاں؟ کس وقت؟

    ‎منصوبہ ساز تو ہم شاید پیدائشی طور پہ تھے کہ ہر بات پہلے سے سوچ کے رکھتے۔ اب دماغ اس جوڑ توڑ میں مصروف تھا کہ ہم نے اس آفت سے نبٹنا کیسے ہو گا؟ آپا کے مطابق تو وقت پڑنے پر ہمیں روئی کا ایک بنڈل فراہم کیا جانا تھا جس کے ساتھ ڈاکٹری پٹی بھی ہو گی۔ حسب ضرورت روئی اور اس پہ لپٹی جالی نما پٹی…. بھئی یہ تو بہت فضول آئیڈیا ہے، روئی اور پٹی سے تیاری … کچھ اور ہونا چاہئے، ہم نے دل میں سوچا۔
    ‎اسی سوچ بچار میں کچھ دن گزرے کہ ہمیں حل سمجھ آ گیا اور اس کا سہرا اخبار کے سر بندھا جس میں چھپے اشتہار ہم بہت شوق سے پڑھتے تھے۔
    ‎اب اگلا مرحلہ کہاں سے اور کیسے کا تھا۔ وہ بھی ہماری عقابی نظر کی بدولت سر ہوا کہ سکول واپسی پہ جس سڑک پہ ہم بس سے اترا کرتے تھے ، وہیں ایک جنرل سٹور کے برآمدے میں ایک ریک پہ ہماری مشکل کا جواب رکھا ہوا تھا۔ یہ ہماری اور سینٹری پیڈز کی پہلی شناسائی تھی، جانسن اینڈ جانسن کے بنائے ہوئے موڈیس پیڈز!

    ‎اس دن جنرل سٹور سے پیڈز خرید کر لانے کے بعد گھر میں انہیں چھپا کر رکھنا بھی ہمارا ایک کارنامہ تھا۔ اپنی تیاریوں کی خبر ہم اماں اور آپا کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ پیڈز خرید کر اب ہماری حالت اس سپاہی کی سی تھی جو محاذ جنگ پہ سرحد کے پاس چوکنا ہو کے دشمن کا انتظار کر رہا ہو اور دشمن ہو کہ آ ہی نہ چکتا ہو۔‎کچھ ہی ماہ کے بعد وہ وقت آ ہی گیا جس کے لئے ہم کمر کس کے تیار بیٹھے تھے۔ بنا پریشان ہوئے یا روئے دھوئے ہم نے اس صورت حال سے بخوبی نمٹ لیا۔ اور مزے کی بات یہ کہ اماں اور آپا کو اگلے چھ ماہ تک پتہ ہی نہ چل سکا کہ ان کی ناک کے نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے؟

    ‎یہ راز یوں اگلنا پڑا جب اماں نے پریشان ہو کر ہمیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ علم ہونے پہ ہم کھلکھلاتے ہوئے بولے، ہم بالکل نارمل ہیں اور ہمیں ماہواری ہوتے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔
    ‎اماں اور آپا کی حیرت زدہ پھٹی پھٹی آنکھیں ہمیں آج تک نہیں بھول پائیں!
    ‎ان کی لاپروا الہڑ بیٹی معاشرتی دباؤ کے ساتھ جنگ کا آغاز کر چکی تھی۔