Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے ،میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے ،میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    حکومتوں کا آنا جانا مکافات عمل نہیں ،ہردور میں پہلا گیا اور نیا آیا
    نواز شریف دور میں ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے پابندیاں لگیں ،دوست ممالک نے بھرپور ساتھ دیا
    چین کی مدد سے جے ایف تھنڈر طیارہ بنانا بھی نواز شریف کا کارنامہ،مضبوط خارجہ پالیسی طرہ امتیاز رہا
    موجودہ حکومت میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی بہترین خارجہ پالیسی سے کامیابیاں ملنے لگیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    سابق وزیر اعظم عمران خان پر مقدمات حقیقت ہیں یا افسانہ، اس کو مکافات عمل قرار دیا جارہا ہے، تاریخ کا مطالعہ کریں اچھے سے اچھے تاجدار بھی ایک وقت میں اپنے اقتدار سے الگ ہوئے مثلا اورنگزیب عالمگیر اور عمر بن عبدالعزیز تو کیا ان کے لئے تخت شاہی سے علیٰحدہ ہو جانا کسی مکافات عمل کا نتیجہ تھا ،ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک پراسس ہے کہ اس دنیا فانی سے ہر ایک کو رخصت ہونا ہے اور اسکی جگہ دوسرے نے لینی ہے لہٰذا اس پراسس کو مکافات عمل قرار دینا ہرگز مناسب نہیں ،بھٹو سے قبل اور بھٹو کے بعد نواز شریف سے لیکر محترمہ بینظیر بھٹو شہید تک جتنے بھی وزارت عظمی کے عہدوں پر فائز رہے جو کچھ ان پر گزری اسکی بڑی وجہ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نہ جمہوریت ہے، ہماری سیاست اور جمہوریت انتقام سے شروع ہو کر انتقام ہی پر ختم ہوتی ہے، آج بھی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے موجود ہیں مگر ان کی آوازیں دب چکی ہیں ،سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری اور مفاد پرست اور مسخرے پن کی حدوں کو کراس کرنے والے سیاست دانوں کی اکثریت ہے کسی زمانے میں سیاست نظریہ کے گرد گھومتی تھی آج کی سیاست اور جمہوریت صرف اور صرف اقتدار اور اقتدار کے گرد گھومتی ہے، مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے کاروباری سیاست اور مفاداتی سیاست کو مدفن کرنا ہو گا، بقول شاعر ،،
    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے
    میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے

    پاکستان کے عالمی دنیا کے کئی ممالک کیساتھ تعلقات ہیں اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کہتے ہیں کسی بھی ملک کا داخلی اور خارجی استحکام ہے خارجہ پالیسی بناتے وقت سول حکومت اور ذمہ داران ریاست شامل ہوتے ہیں عمران حکومت کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان خارجہ محاذ پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا کہا جا رہا تھا شاہ محمود قریشی کی خارجہ امور پر گرفت بہت مضبوط ہے مگر نتیجہ صفر رہا، نواز شریف کے دور حکومت میں خارجہ پالیسی میں نمایاں کامیابی نظر آئی ہے، بینظیر بھٹو شہید کے دور حکومت میں امریکہ نے ایف 16 طیاروں کی قیمت وصول کرنے کے بعد پاکستان کو طیارے نہیں دئیے نواز شریف کے دورے حکومت میں جب ایٹمی دھماکوں کی پاداش میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگیں نواز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب چین اور دیگر ممالک نے پاکستان کی مدد کی اور چین کی مدد سے جے ایف تھنڈر طیارہ بنا لیا گیا، نواز شریف کے دور حکومت میں سعودی عرب نے چونتیس ممالک کا فوجی اتحاد بنایا جس کی سربراہی پاکستان کے حصے میں آئی، نواز شریف کے دورے حکومت میں چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا معاہدہ ہوا چین کے تعاون سے متعدد منصوبے شروع کئے گئے نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے مزید قریب ہوئے موجودہ حکومت نواز شریف کی ہی خارجہ پالیسی پر عمل کر رہی ہے ،سینیٹر اسحاق ڈار کو داد دینا ہو گی انھوں نے پاک بھارت ، اسرائیل ایران جنگ میں روایتی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں ایسے اقدامات کئے پاکستان اور قوم پر مستقبل میں اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے بلاشبہ اسحاق ڈار کی کامیاب خارجہ پالیسی سے مستقبل میں نئے معاشی امکانات سمیت خارجہ پالیسی میں پاکستان کو کامیابیاں حاصل ہوں گی

  • مجروح قافلے  کی  مرے  داستاں  یہ  ہے ،رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ  ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مجروح قافلے کی مرے داستاں یہ ہے ،رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہور جمہور کرنے والی پارٹیاں پہلے اپنے اندر جمہوریت لائیں
    ماتمی سیاست چھوڑ کر ملک وقوم کےمستقبل کیلئے سوچنا ہوگا،کوئی تو پہل کرے
    نواز شریف کو تین بار گھر بھیجنے والوں نے کیا کمایا،ملک کو کہاں پہنچایا ،قوم کا سوال تو بنتا ہے؟
    بھٹو کوبار بار مٹانے والے آج کہاں ہیں ؟بلاول بھٹو نے پارٹی میں نئی روح پھونک دی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلاول بھٹو نے 5 جولائی کے پیغام میں کہا ہے کہ عوامی حکومت پر شب خون مارا گیا پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل کر نفرت کے بیج بوئے گئے،انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر آمریت کے پھیلائے ہوئے اُن اندھیروں کا خاتمہ کریں، جمہوری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں، پیپلزپارٹی اس دن کویوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے، بلاشبہ بھٹو شہید کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل برداشت ہی نہیں قابل نفرت ہے، جمہوریت اور آمریت کے درمیان پاکستان اورعوام جھولتے رہے ، افسوس سیاسی جماعتوں نے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا، نواز شریف کو تین بار عوام نے منتخب کیا اور تین بار اُن سے اقتدار چھین لیا گیا، نام نہاد پانامہ کو لے کر عدالت کے ذریعے اُن کو اقتدار سے الگ کردیا گیا، ملک کی سیاسی جماعتیں ان تین جمہوری حکومتوں کے خاتمے کو کون سا نام دیں گی ؟ کیا یہ عوامی رائے اور جمہوریت کا قتل نہیں تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی حکومتوں کی تاریخ بڑی درد ناک ہے ،سیاسی جماعتیں جمہوریت اور آئین کی صدائیں تو بلند کرتی ہیں مگر جمہوریت کے قتل میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے
    بقول شاعر،
    مجروح قافلے کی مرے داستاں یہ ہے ،
    رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ،

    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے، ماتمی سیاست کو چھوڑیں ملک وقوم کے اچھے مستقبل کے بارے سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہو گا، جمہوریت ایک ذمہ داری کا نام ہے عام لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرنا سب سے معتبر چیز ہے، ذرا سوچئے ہم کن راہوں پر چل نکلے ،بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت مکروہ کھیل میں شریک ہے، افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی پاک فوج کے جوان ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں،گزشتہ کئی سالوں سے آخر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ ملکی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کبھی یہ سوچا آخر ہمارے ملک میں دہشت گردی کی آگ کیوں بھڑک اُٹھتی ہے ؟ مشرق وسطیٰ کے حالات ہمارے سامنے ہیں ایک دوسرے کے تنازعات نے ان کو معیشت مستحکم ہونے کے باوجود کمزور بنا رکھا ہے، مشرق وسطٰی کے ممالک اپنا دفاع نہیں کر سکتے اس کی وجہ ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات،ملکی سیاسی جماعتیں پہلے جمہوری انداز اپنائیں پھر جمہوریت کی بات کریں

  • تبصرہ کتب،شخصیت سازی کے سنہرے اصول

    تبصرہ کتب،شخصیت سازی کے سنہرے اصول

    مصنف : محمد بلال لاکھانی
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    قیمت :770روپے ۔4کلر آرٹ پیپر
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ’’ 21ویں صدی کے ماڈرن مسلمان کے لئے شخصیت سازی کے سنہرے اصول ‘‘ دارالسلام کی بہت ہی خوبصورت اور مفید کتاب ہے۔ اس کتاب کے مصنف محمد بلال لاکھانی ہیں جو قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ جدید علوم پر بھی دسترس رکھتے ہیں محمد بلال لاکھانی نے اصل میں یہ کتاب انگریزی زبان میں real Life Lesson From The Holy Quran(for the 21 Ist Century Muslim) کے نام سے لکھی تھی ۔ زیر نظر کتاب انگلش کااردوترجمہ ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے آرٹ پیپر پر چہار کلر، دلکش اور جاذب نظر طریقے سے باتصویر شائع کیا ہے ۔ اس کتاب کی افادیت اور اہمیت کااندازہ اس کے نام سے بھی کیاجاسکتا ہے ۔یہ کتاب کامیاب زندگی گزارنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے مشعل راہ اور کامیابی کازینہ ہے ۔ زندگی بہت قیمتی شئی ہے ، اسے ہم اپنی مرضی سے نہیں گزارسکتے۔ اس لئے کہ زندگی کاایک ایک پل اور ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ زندگی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کی جائے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ کامیاب زندگی بسر کرے ، اس کی زندگی میں آرام اورسکون ہو ۔ آرام دہ اور پرسکون زندگی کاراز اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے ۔ دنیاامتحان گاہ ہے اور زندگی ایک امتحان ہے ۔امتحان میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو محنت کرے اور امتحان کی تیاری کے لئے سب سے پہلے طے شدہ نصاب پڑھے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں پر بہت مشفق ومہربان ہے یہ اس کی شفقت ومحبت اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں دنیا میں ہی نصاب اور امتحان کے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے مقصد یہ ہے کہ ہم اچھے طریقے سے تیاری کرلیں ۔ یہ نصاب قرآن مجید ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے اس نصاب کو بہت کم پڑھاجاتا ہے یا پڑھتاتو جاتا ہے لیکن سمجھا نہیں جاتا ۔ زندگی کے پرچے حل کرتے وقت جوبڑی غلطیاں کی جاتی ہیں وہ نصاب ِ زندگی کوتوجہ سے نہ پڑھنے کا ہی منطقی نتیجہ ہے ۔ چنانچہ دنیا کے دیگر امتحانوں کی طرح زندگی کے امتحان کے نصاب کو پڑھنا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے ۔ پیش نظر کتاب کا مقصد بھی یہی باور کروانا ہے کہ اکیسویں صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان قرآن مجید سے زندگی کے اسباق تلاش کریں اور اس کو نصاب زندگی کے طور پرپڑھیں ۔ یہ کتاب ان شاء اللہ قارئین میں قرآن مجیدکے تفصیلی مطالعے اور اس پر گہرے غوروخوض کاشوق اور جذبہ پیداکرے گی ۔ اس کتاب میں اکیسویں صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان کے لئے قرآن مجید سے اخذ کئے گئے سو سے زائد اسباق دیے گیے ہیں اور زندگی کے معاملات ومسائل کے متعلق قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کے آسان اور موثر طریقے بتائے گئے ہیں ۔ کتاب کاانداز بیان سادہ ، دلنشین اور عام فہم ہے ۔ قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کے لئے مختلف اسالیب کی مناسب تشریح بھی کتاب میں شامل ہے ۔ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں بتایاگیا ہے کہ زندگی خوشگوار ہوتوکیاکرنا چاہئے ،زندگی خوشگوار نہ ہوتو کیاکرناچاہئے ،اللہ تعالیٰ دولت اور صحت واپس لے لے توکیاکرناچاہئے ؟مشکلات ومصائب میں کون سی قرآنی آیات مددگار ہیں ، آدمی خود کوشیطان کاپیروکار بنتادیکھے توکیاکرے ؟ ۔ دوسرے باب میں حصول جنت کی قدم بہ قدم منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ اور ان افعال ، احوال اور معاملات کاتذکرہ کیاگیاہے جن پر عمل پیرا ہوکر بندہ یقینی طور جنت کاحقدار بن جاتا ہے ۔ تیسرے باب میں جہنم سے بچنے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں اور کارآمد نصیحتیں بیان کی گئی ہیں ۔چوتھے باب میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کی روشنی میں حقیقی زندگی کے اسباب بیان کئے گئے ہیں ۔ آخری باب میں بیان کیا گیا ہے کہ روپیہ اور اسلام دوست ہیں یادشمن ؟ ۔اہم بات یہ ہے کہ کتاب میں مذکور تمام واقعات اور تمثیلات قرآن مجید سے ہی لئے گئے ہیں اور قرآن مجید سے خوب استفادہ کیا گیا ہے ۔ کتاب کاہرہر باب اچھی ، کامیاب اور حقیقی زندگی گزارنے کے متعلق کئی کئی اسباق پر مشتمل ہے ۔ قرآن مجید کے زریں اصولوں ، ہدایات ، اسباق پر مشتمل یہ کتاب ہرنوجوان بچے ، بچی کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید سے ماخوذ نصاب ِ زندگی کی یہ کتاب اکیسویں صدی کے جدید مسلمان کو غلطیوں سے بچائے گی اور سیدھی راہ پرچلائے گی ۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب دنیا کے انسان اپنے مسائل کے حل کے لئے قرآن مجید سے رہنمائی لیں ۔ ظاہری اعتبار سے یہ کتاب جس قدر خوبصورت ہے مضامین کے اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت اور دلکش ہے ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے ۔ یہ کتاب اپنے بچوں ، بچیوں اور دوست احباب کو تحفہ میں بھی دی جاسکتی ہے ۔

  • قرآن سے دوری، امت مسلمہ کا زوال،تحریر: اقصیٰ جبار

    قرآن سے دوری، امت مسلمہ کا زوال،تحریر: اقصیٰ جبار

    اسلامی معاشرے کی بنیاد قرآن کریم پر رکھی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جس نے انسانیت کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف گامزن کیا۔ یہ کتاب صرف عبادات کا ضابطہ نہیں، بلکہ سیاسی، سماجی، اخلاقی، معاشی اور فکری زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کی امت مسلمہ اپنے ہی ضابطۂ حیات سے بے خبر ہو چکی ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف ثواب، تعویذ، رسمِ قل، اور رمضان کی رسمی تلاوت تک محدود کر دیا ہے۔ جس کتاب نے غلاموں کو حکمران، جاہلوں کو معلم، اور بکھری قوم کو ایک قیادت عطا کی، آج ہم نے اُسی کتاب کو طاقچوں کی زینت اور دفتری فائلوں کا عنوان بنا کر رکھ دیا ہے۔ قرآن جسے اللہ نے "ھدیً للناس” قرار دیا، آج ہم نے اسے صرف "مردوں کی بخشش” کا ذریعہ بنا دیا۔

    اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "وقال الرسول يا رب إن قومي اتخذوا هذا القرآن مهجوراً” (اور رسول نے کہا: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا — الفرقان: 30)۔ یہ شکایت آج کی امت مسلمہ پر پوری اترتی ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف الفاظ کی سطح پر اپنایا، معنیٰ اور مقصد سے غفلت برتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں، نوجوان نسل مغربی تہذیب کے فریب میں گم ہے، اسلامی تہذیب صرف ماضی کے صفحات تک محدود ہو گئی ہے، حلال و حرام کا شعور مدھم پڑ چکا ہے، قرآن کی زبان سے ناواقفیت عام ہو چکی ہے، اور فرقہ واریت نے ہمیں ایک جسم کے بجائے متصادم گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ قیادت کے میدان میں ہم محروم ہو گئے ہیں، کیونکہ قیادت قرآن کے عدل، امانت، اور شوریٰ جیسے اصولوں پر استوار ہوتی ہے — جنہیں ہم نے فراموش کر دیا۔

    اس زوال سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے: قرآن کی طرف واپسی۔ لیکن یہ واپسی صرف زبانی یا رسم و رواج کی نہیں، بلکہ شعوری، فکری، عملی اور اجتماعی سطح پر ہونی چاہیے۔ ہمیں قرآن کو صرف تلاوت کی نہیں بلکہ فہم اور تدبر کی کتاب بنانا ہوگا۔ ہر فرد روزانہ ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے کی عادت اپنائے، اسے زندگی کے فیصلوں میں رہنمائی کا ذریعہ سمجھے۔ گھروں میں والدین قرآن فہمی کی مجلسیں منعقد کریں، بچوں کو محض قرأت نہیں، قرآن کی اخلاقیات بھی سکھائی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں قرآن کا نصاب صرف ناظرہ کی حد تک نہ رہے، بلکہ تدبر، سیاق و سباق، اور عملی استنباط کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ریاستی سطح پر عدل و انصاف کے وہی اصول لاگو کیے جائیں جو قرآن نے بیان کیے ہیں۔ قیادت، سیاست، معیشت، اور عدالتی نظام میں قرآن کی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر قرآن سے ربط کو فروغ دینے والی مہمات چلائی جائیں تاکہ نوجوان نسل دوبارہ قرآن سے جڑ سکے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ خلافت راشدہ کا عدل، اندلس کا علم و حکمت کا دور، اور صلاح الدین ایوبی کی قیادت ایسے ادوار تھے جن کی بنیاد قرآن سے جڑے رہنے پر تھی۔ جن قوموں نے قرآن کو تھاما، وہ دنیا کی قیادت پر فائز ہوئیں، اور جنہوں نے اسے چھوڑا، وہ غلام بن کر رہ گئیں۔ آج کا اسلامی سال کا آغاز ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم رک کر سوچیں، اپنا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوں، اور قرآن سے اپنا رشتہ پھر سے جوڑیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں "اقْرَأْ” — یعنی "پڑھ!” — کی صدا دوبارہ سننی چاہیے، کیونکہ یہی صدا انسانیت کے لیے بیداری کا پہلا اعلان تھی۔

    آج امت مسلمہ کو صرف جلسوں، جلوسوں، اور نعروں کی نہیں بلکہ عملی رجوع کی ضرورت ہے۔ ہمیں قرآن کو اپنے انفرادی اور اجتماعی فیصلوں میں شامل کرنا ہوگا، اسے صرف مدرسے اور مسجد کی دیواروں تک محدود نہیں رکھنا، بلکہ بازار، عدالت، میڈیا، اور سیاست تک پھیلانا ہوگا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم ایک ایسی منتشر قوم بنے رہیں گے جو ماضی پر فخر تو کرے گی، لیکن حال میں خوابِ غفلت میں مبتلا رہے گی۔ لیکن اگر ہم نے قرآن سے دوبارہ جڑنے کا عزم کر لیا، تو وہ رب جو رحمٰن اور رحیم ہے، ہمیں نہ صرف معاف کر دے گا، بلکہ دوبارہ عزت، قیادت، اور بیداری عطا فرما دے گا۔

  • زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    کل میرا زندگی سے نیا تعارف ہوا۔ فیصل ٹاون مون مارکیٹ میں میں نے ایک ایسا واقعہ دیکھا جس نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ شاید اگر میں اس کو ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرتی تو بات کی تشریح آسان ہوجاتی مگر میں اس وقت بغیر کسی دباو کے مشاہدے کرنا چاہتی تھی۔

    رات کالی ہوچکی تھی ، لوگ کھانے کے بعد چائے کی چسکیاں لگا رہے تھے، کہیں قہقہے اور کہیں زندگی کی تلخیوں کی بات چل رہی تھی۔ مںظر وہاں رکا جب گھاس پر سوئے بچے کی اچانک آواز آئی ” ٹائم ہوگیا؟ ” اس کا تکیہ ٹوٹے جوتے تھے لیکن اس کے چہرے کے اطمینان سے لگا رہا تھا گویا وہ روئی کا گولے ہوں۔ اسکی ماں نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا ” 10 بج گئے نیں اٹھ جا ” اور ساتھ ہی ایک ڈبہ اٹھایا۔ بچے نے ایک توڑے میں سے گولڈن جیکٹ نکالی، بٹن ٹھیک کئے اور فوری سیدھا ہوکے بیٹھ گیا۔ ماں نے ڈبے میں سے گولڈن رنگ اس کے منہ اور گردن پر ملنا شروع کیا۔ وہ ایسے بیٹھا رہا جیسے اس کو اس کا کام معلوم ہو اور کسی سیٹ پر پرفارمنس کیلئے جارہا ہو۔ اس کے فوری بعد اس نے ٹوپی پہنی اور درخت کے نیچے پڑے تھیلے میں سے لائٹوں والے جوگر نکال کر پہنے۔ مجھے وہ تھکا ہوا دکھائی دیا مگر اس نے کسی جوان مرد کی طرح خود کو تھپکی دی اور وہاں سے نکل پڑا۔ اسکی ماں دوپٹہ اوڑھ کر وہیں زمین پر سو گئی جہاں اس کا باپ پہلے سے سویا ہوا تھا۔
    میں نے گردن موڑ کر اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ وہ ایک ٹیبل پر گیا اور اچانک روبوٹ بن گیا۔ بچہ بہت چھوٹا تھا لوگ فوری پیسےدے رہے تھے۔ کچھ دیر میں میری باری آئی وہ ایسے ہی مخصوص انداز میں مجھ تک پہنچا میں نے اس سے پیار سے پوچھا ” تھک گئے ہو؟ اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور بڑی بردباری سے کہا ” نہیں ” میں نے اس کی ٹوپی کو سرکاتے ہوئے پوچھا سکول جاو گے؟ اس بار اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لیا اور ذرا اونچی آواز میں کہا ” نہیں ”

    اس کے بعد وہ خاموش کھڑا رہا وہ میرے لیے آج بہت سے سوال چھوڑ گیا تھا کیونکہ اس کی نم آنکھیں، تھکا ہوا چہرہ اور دوسری طرف سوئے ہوئے اس کے ماں باپ اور بہن بھائی اسکی ہمت نہیں آزمائش تھے۔ اسکا لہجہ بہت تکلیف دہ تھا۔
    وہ وہاں سے چلا تھا زندگی کے 5 سال نے اسکو 50 سال کا درد دیا تھا۔
    میں ہرگز نہیں کہہ رہی کہ وہ قابل ترس ہے مگر میں نے اسکے حوصلے سے سیکھا کہ زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے۔

  • میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی

    میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی

    گدائے درِ پنجتن پاک علیہم السلام
    sadiaambergilani@gmail.com

    غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم
    نہایت اس کی حُسینؑ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

    روز ء اول سے حق کی سربلندی کے لئیے اللہ رب العزت کے فرمانبردار و برگزیدہ بندے اللہ رب العزت کے ہر حکم کی تعمیل کرتے رہے ہیں۔ ماہِ محرم الحرام نواسہِ رسول اللہﷺ، جگر گوشہ علیؑ و بتولؑ، برادرِحضرت حسن المجتبیؑ،رکنِ اصحابِ کساءؑ،سید الشہداءؑ، سردارؑ ِ جنت، ریحانۃ النّبیؐ، پیکر ِ صبر و رضا، مثلِ عشق و وفا، سفیر ِ حق، شہنشاہِؑ کربلا سیدنا حضرت حسین ابن علی ؑ سے منسوب ہے۔ اس ماہ کے اوائل ایام سے یومِ عاشور کی شام ڈھلنے تک نبیِ آخر الزمان رحمت اللعالمین ﷺ کے پیارے نواسے امام ء عالی مقام مولا حسین ابن علی علیہ السلام نے دین ء حق کی سر بلندی کے لئیے اپنے صبر و استقامت اور شجاعت سے وہ مثال قائم کی ۔ کہ جو تاقیامت انسانیت کے لئیے ایک مشعل ء راہ بن گئی۔

    امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علیؑ کی ولادت باسعادت روایات کے مطابق 3 شعبان المعظم 4ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؑ چمنِ زہراؑ و علیؑ کے دوسرے پھولؑ ہیں۔ آقا سرورِ کائنات ﷺ نے آپؑ کی ولادت باسعادت پہ تشریف لائے، خوشی کا اظہار فرمایا اور داھنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنیؐ زبان مبارک منہ میں دی۔اس طرح رسول اللہﷺ کا مقدس لعاب دھن حسین ؑ کی غذا بنا۔ رسول اللہﷺ بحکمِ ربی نام حسینؑ رکھا۔ اور ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔آپؑ کی کنیت ابا عبداللہ اور لقب سید الشہداءؑ ٹھہرا۔

    حضور سرور ء کائناتﷺ دونوں شہزادوں حسنین کریمیں علیھم السلام سے بے حد محبت فرماتے اور ان سے محبت رکھنے کا حکم رکھنے کا حکم بھی فرماتے۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا؛
    ’’جس نے حسنؑ اور حسینؑ سےمحبت کی ، اس نے مجھؐ سے محبت کی اور جس نے ان سے بعض رکھا اس نے مجھؐ سے بغض رکھا۔
    (سُنن ابن ماجہ :143)

    ترجمہ؛ ”حسنؑ اور حسینؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“۔( جامع الترمزی)

    حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین ؑ کی طرف دیکھ کر فرمایا:”اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔“
    (ترمذی، الجامع الصحیح، 5: 661، ابواب المناقب، رقم: 3782)

    یہ حسنین کریمین علیھم السلام سے محبتِ آقاِ دو جہاں ﷺ ہے۔ کہ کہیں رسولِ خدا ﷺ سجدہ طویل فرماتے ہیں۔ کہیں اپنے کندھوں مبارک پہ سوار فرماتے ہیں۔ اور کہیں انؑ کے لیے خطبہ روک کے منبر سے تشریف لاتے ہیں۔اور آغوشِ نبوتﷺ میں لے لیتے ہیں۔
    سید الشہداء ؑمولا امام حسین علیہ السلام سے رسول اللہﷺ کی محبت اس فرمان ء عالیشان سے ظاہر ہے۔ فرمایا؛
    ترجمہ:”حسینؑ مجھؐ سے ہے اور میں ؐ حسینؑ سے ہوں، جو حسینؑ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے، حسینؑ میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے۔“(سنن الترمذی، ابواب المناقب، (5/ 658 و659) برقم (3775)، ط/ شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابی الحلبی مصر)

    روایات سے ثابت ہے کہ رسولِ خداﷺ نے سیدنا حضرت حسینؑ کی شہادت کی خبر آپؑ کے بچپن میں ہی سنا دی تھی۔ اور غم کا اظہار فرمایا۔ ایک روایت کے مطابق ہے ۔
    عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے، ان کے ذمے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وضو کی خدمت تھی، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ابوعبداللہ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے؟ فرمایا: میں ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ! کیا کسی نے آپؐ کو غصہ دلایا، خیر تو ہے کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں؟ فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیلؑ اٹھ کر گئے ہیں، وہؑ کہہ رہے تھے کہ حسینؑ کو فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا، پھر انہوںؑ نے مجھؐ سے کہا کہ اگر آپؐ چاہیں تو میں آپؐ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں؟ میںؐ نے انہیںؑ اثبات میں جواب دیا، تو انہوںؑ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھؐے دے دی، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھےؐ قابو نہیں ہے۔ 
    (مسند احمد: 648)

    امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ پہ نظر ڈالیں۔تو آپؑ نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہﷺ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت مولاعلیؑؑ اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن المجتبیؑ کے ساتھ گزارا۔ آپؑ اصحابِ کساء(ع) میں شامل ہیں۔ اور اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے ساتھ مباہلہ میں بھی حاضر تھے۔ جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان میں شرکت فرمائی اور حق کا ساتھ دیا۔

    احادیث و روایات سے ثابت ہے ۔ کہ سید الشہداء سیدنا حسینؑ سیرت و صورت میں اپنے نانا جان سرور ء کائنات رسول خداﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔اور جو بھی آپؑ کو دیکھتا اسے رسول خداﷺ یاد آجاتے ۔
    امامِ عالی سیدنا حسینؑ حَلِیمُ الطَّبْع تھے۔ غلاموں سے درگز فرماتے۔ اور ان کو آزاد فرماتے۔ آپؑ ایک نہایت شجاع، عادل، بلند کردار اور پرہیزگار شخصیت کے مالک تھے۔
    سیدنا حضرت حسینؑ نے فرمایا؛
    "کوئی ایسی بات زبان پر مت لاؤ۔ جو تمہاری قدر و قیمت کو کم کر دے۔”
    (جلاء العیون جلد 2 صفحہ 205)

    امامِ شہداء سیدنا امام حسینؑ کی عظیم شخصیت کی مبارک خصوصیات میں سے ایک روشن خوبی ظلم کو قبول نہ کرنا تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ نواسہِ رسول اللہﷺ نے یزید(لعین) کے ظلم و ناانصافی کو تسلیم کرنے سے صاف انکار فرمایا اور علمِ حق بلند فرمایا۔ آپؑ نے راہِ خدا میں اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنا گھر بار لٹا کے دین حق کی آبیاری فرمائی۔
    واقعہِ کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا فلسفہ،ایک درس اور ایک عظیم مقصد کارفرما ہے۔ اور اس میں شخصیت و کردارِ سیدنا امام حسینؑ ایک مکمل درس گاہ نظر آتی ہے۔ واقعہِ کربلا کو سمجھنے کے لیے فلسفہِ حضرت حسینؑ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مستند تاریخی روایات کے مطابق رجب 60ھ/ 680 ء میں یزید(لعین) نے اسلامی اقدار اور دین کے احکامات کے منافی ظلم، جبر و استبداد پر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا اور بالجبر عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ مدینہ میں بیعت کے لئے سیدنا حسینؑ ابن علی ؑ کو مجبور کیا۔ اور اس سلسلہ میں امامِ عالی مقامؑ پہ سختی کرنے کا حکم جاری کیا۔ سیدنا حسینؑ سے بیعت لینا یزید کی مجبوری تھی۔ کیونکہ امت کی نگاہوں کا مرکز نواسہِ رسول اللہﷺ تھے۔ ظلم و بربریت کے خوف سے اہلِ مدینہ تو خاموش ہو سکتے تھے۔ مگر نواسہ ِ رسول اللہﷺ، ابنِ فاتؑحِ خیبر، سیدنا حسینؑ ابنِ علیؑ کہ جو حق گوئی و حق پرستی کے سائے میں جوان ہوئے ہوں ، جنؑ کی پرورش ہی آغوشِ نبوتﷺ میں ہوئی ہو۔ جنؑ کے سامنے اپنے نانا جان ﷺ کا واضح حکم موجود ہو،
    ترجمہ:”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہء حق کہنا ہے۔“ (ترمذی،أبو داود وابن ماجہٌ)
    جن پر اُس وقت دین خدا کو بچانے کی ذمہ داری عائد ہو رہی ہو، جن پر اُمت کی نگائیں ٹھہری ہوئی ہوں۔خاموش رہ کر ایک بے دین شخص کی بیعت کیسے فرما سکتے تھے۔
    سو سالار ِ شہداءؑ نے اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے حکم پہ عمل فرماتے ہوئے علمِ حق بلند فرمایا اور28 رجب 60ھ کو مدینہ سے مکہ اور پھر 8 ذوالحج 60ھ کو حالات کے تیور دیکھتے ہوئے حرمتِ کعبہ کو بچانے کی خاطر حج کو عمرے میں تبدیل کیا۔ اور مکہ سے کربلا کی طرف سفر فرمایا۔ کہ آپؑ احراموں میں تلواریں چھپائے یزید (لعین) کے بھیجے ہوئے قاتلوں اور ان کے ارادوں کو جان چکے تھے۔ خانوادہِ رسول اللہﷺ سمیت 72 نفوس اکرامؑ نے دینِ حق کی سر بلندی کے لئے قیام فرمایا۔
    شہنشاہِ کربلا سیدنا حسینؑ نے حر بن یزید ریاحی اور اس کے لشکر کے سامنے اپنے خطبے میں فرمایا۔
    "لوگ دنیا کے غلام ہیں ۔ اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے ۔ جب تک دین کے ساتھ ان کا مفاد وابستہ ہے۔ وہ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔ اور جب آزمائش کا وقت آتا ہے۔ تو دین دار تھوڑے رہ جاتے ہیں۔ ”
    (تحف العقول جلد 1 صفحہ 245, تاریخ الطبری جلد 4 صفحہ 300، بحار الأنوار جلد 78 صفحہ 117)

    2 محرم سنہ 61 ھ کو آپؑ اپنے اہل بیتؑ کیساتھ کربلا معلی تشریف فرما ہوئے۔معلوم فرمایا کہ اس جگہ کا کیا نام ہے۔ کربلا معلوم ہونے پر سید الشہداءؑ نے اس جگہ کو خریدا اور یہیں قیام کا فیصلہ فرمایا۔

    اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
    ترجمہ: ”اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔“(153)
    واقعہِ کربلا میں یوم عاشور کی اذانِ شبیہ پیغمبرؑ علیؑ اکبر بن حسینؑ بتاتی ہے۔ کہ اہل بیتؑ اور قرآن ساتھ ساتھ تھے۔ چھ ماہ کے شیر خوار شہید شہزادہ علی اصغرؑ بن حسینؑ سے لے کر 85 سالہ ضعیف صحابیِ رسولؐ حضرت حبیب ابنِ مظاہر اسدیؓ تک،ہر ایک کی قربانی بے مثال و لازوال نظر آتی ہے۔ اگر اہلِ بیت اطہارؑ کی بیبیوں ؑ کا ذکر ہو۔ تو سیدہ زینبؑ بنت علیؑ سے لے معصوم بچی شہزادی سکینہ بنت حسینؑ تک ہر ایک صبر و ہمت کا پیکر تھیں۔

    کربلا دینِ حق کی سربلندی کے لئیے صبر و رضا اور ایثار و شجاعت کی ایک ایسی عظیم و لازوال داستان ہے۔ جہاں ہر کردار سخاوت و جرات میں ایک انمول مثال ہے۔ روایات کے مطابق واقعہِ کربلا میں سیدنا حسینؑ کے چار بھائی جناب حضرت عباسؓ بن علیؑ علمدار ِکربلا، حضرت جعفرؓ بن علیؑ، حضرت عبداللؓہ بن علیؑ اور حضرت عثمانؓ بن علیؑ جو کہ مولا علی المرتضی علیہ السلام اور بی بی جناب ام البنینؓ کے بیٹؓے تھے شہید ہوئے۔ شبیہ پیغمبر روایات کے مطابق مولا امام حسن علیہ السلام کے 4 شہزادےؑ اپنے چچا جان امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ کے ساتھ شریک ِجہاد تھے ۔ جن میں سے تین جناب سیدنا ابوبکرؑ بن حسنؑ، سیدنا قاسمؑ بن حسنؑ، سیدنا عبداللہؑ بن حسنؑ کربلا میں شہید ہوئے۔ اور ایک جناب سیدنا حسنؑ مثنی بن حسنؑ شیدید زخمی اور پھر قید ہوئے ۔

    10 محرم 61ھ/ 680ء یوم عاشور،وہ خون ریز و قیامت خیز دن جو اہل بیت رسول اللہﷺ پہ گزر گیا۔ وہی اہل بیتؑ کہ جوؑ شاملِ درود ہیں۔ جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے امت کو خدا کا خوف دلایا تھا۔ انؑہی کو پیاسا شہید کر دیا گیا۔ خُونِ عترتِ رحمۃ للعالمینﷺ تپتے ریگزار میں بہایا گیا۔ جنؑ کو رسول اللہﷺ چومتے، سونگھتے اور سینہِ اقدس سے لگاتے تھے۔ انہیںؑ سردارِؑ جنت ، نواسہ رسول اللہﷺ ، جگر گوشہِ بتولؑ سیدنا حسین ابن علی ؑ کے گلے پہ خنجر چلایا گیا۔ رسول اللہﷺ کے کندھوں کے سوارؑ کے لاشے پہ گھوڑے دوڑائے گئے۔باپردہ بییبوں ؑ پہ شام غریباں طاری کر دی گئی۔ انؑ کے خیمے جلائے گئے۔ اسیر بنایا گیا۔ بازاروں سے گزارا گیا۔ دربار میں کھڑا گیا کیا گیا۔ قید و بند کی ایذائیں پہنچائی گئیں۔۔۔ امت کے رونے کے لئیے تو یہی کافی ہے۔ کہ نواسہ رسول اللہﷺ جن کے گھر سے پردے کی ابتدا ہوئی تھی۔ انہیؑ کو ایک شرابی کے دربار میں بحیثیت قیدی کھڑا ہونا پڑا۔
    امت پہ رونا فرض ہے۔ کہ اس دن انؐ پیغمبر رحمت اللعالمینﷺکے گھرانے کو شہید کیا گیا۔ جنہوںؑ نے امت کو کلمہ پڑھنا اور امت بننا سیکھایا۔

    شہادتِ امامِ شہداءؑ پہ غم کرنا سنت رسول اللہﷺ ہے۔ جو واقعہ کربلا سے پہلے بھی ثابت ہے۔ اور بعد میں بھی۔ شہادتِ امامِ عالی مقام وہ غم ہے۔ کہ جس پہ کائنات کی ہر شے اور جن و انس نے اشک بہائے۔
    طبرانی میں درج ہے۔ کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں۔ کہ میں نے حضرت حسین بن علی علیہ السلام پر جنوں کو نوحہ کرتے ہوئے سنا۔

    واقعہِ کربلا انسانی تاریخ کا وہ خونی باب ہے۔ کہ جس پہ تاقیامت نسلِ انسانی آنسو بہاتی رہے گی۔

    حق و باطل کی جنگ شروع سے اور آخر تک رہے گی۔ مگر واقعہِ کربلا سے ہمیں حسینیت کا درس ملتا ہے۔ کہ "امر باالمعروف اور نہی المنکر” کے نفاذ کے لئیے ظالم کے لشکر کے سامنے 72 بھی نکلیں۔ تو کافی ثابت ہوتے ہیں۔

    امام حسینؑ نے انسان میں حق کے لئیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی سوچ کو بیدار فرمایا ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے۔ کہ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ نے دامنِ رضائے خداوندی نہ چھوڑا اور نہ ہی ظالم و جابر کے ظلم و جبر کو تسلیم کیا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آج ہر باضمیر خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ سیدنا حسین ابنِ علیؑ کو اپنا رہنما مانتا ہے۔ حسنیت کل بھی ژندہ تھی۔ اور تاقیامت ژندہ رہے گی۔
    لاکھوں کروڑوں سلام ہو حق پرستوں کے بادشاہ سیدنا حسینؑ ابن علیؑ اور آپؑ کے جانثار ساتھیوںؓ پہ۔؎
    ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
    سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی

  • آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ

    آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ

    کچھ لوگوں کی حوصلہ افزائی انسان کو بہت تقویت دیتی ہے، آگے بڑھنے کی جستجو اور لگن کو تیز کرتی ہے۔ جب میں پہلی مرتبہ اظہر بھائی سے ملی ایک نو آموز رائٹر تھی جس کی اکا دکا تحریریں کسی میگزین میں شائع ہوئی تھیں۔ لیکن ان تحریروں پر تبصرہ کرنا، مختلف آئیڈیاز دینا کہ کن موضوعات پر بچوں کے لیے لکھنا چاہیے۔ یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کرنا کہ میں چاہتا ہوں میری بیٹی آپ کی طرح بنے۔۔۔ یہ لفظ میری زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں جو اس شخص کے الفاظ تھے جو خود بہت بڑا ادیب، معاشرے میں ایک بہت اچھی حیثیت رکھتا تھا۔ مجھے جب ایوارڈ ملا تو انہوں نے مجھے اسلام آباد سے لاہور آنے کا حکم دیا کہ اتنی جلدی کوئی بڑا پروگرام تو ممکن نہیں لیکن کوئی چھوٹی موٹی تقریب کر لیں گے۔۔ قذافی اسٹیڈیم کی ای لائبریری میں ہونے والی وہ تقریب بھی کوئی چھوٹی سی نہ تھی۔۔ لاہور کے علاوہ دور دور سے بھی بہت سے ادیبوں نے شرکت کی تھی۔۔۔ اور انہوں نے مجھے اتنا بڑا گلدستہ دیا تھا کہ آج تک زندگی میں ویسا گلدستہ دوبارہ نہیں ملا۔۔۔۔

    پھر پچھلے سال جب میں آخری مرتبہ لاہور چلڈرن لٹریری سوسائٹی کی تقریب میں گئی تھی ۔۔ ایک حادثے کی وجہ سے (اس حادثہ ہی کہنا چاہیے) میں تقریب میں جب پہنچی جب تقریباً مہمان جاچکے تھے لیکن اظہر بھائی ابھی بھی تھے۔۔۔
    یا پھر کچھ عرصہ قبل جب ان کی علالت کا پتا چلا تو میں نے انہیں میسج کیا ۔۔ تب ہشاش بشاش آواز میں جواب دیا تھا کہ ارے کچھ نہیں! بیمار ہو گیا تھا اب تو آفس آنا بھی شروع کردیا۔۔ ابھی بھی آفس میں ہی ہوں۔۔۔
    آج صبح اچانک یہ خبر سنی تو پھر فیس بک کھولنے سے دل ڈر رہا تھا۔۔ کاش یہ سچ نہ ہو۔۔
    اتنی دور چلے گئے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بہترین میزبانی کرے، جیسے آپ دنیا میں سب کے لیے مہربان تھے خدائے ذوالجلال اس سے بڑھ کر آپ پر مہربان ہو۔۔
    خدا آپ کے بچوں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
    آپ ہمیشہ ہماری دعاؤں میں رہیں گے۔۔
    اللہ آپ سے راضی ہو ۔۔
    خدا حافظ ۔۔۔
    دل غم سے بھرا ہوا ہے ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں
    انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

  • محرم: قربانی، صبر اور امت کا سبق،تحریر: اقصیٰ جبار

    محرم: قربانی، صبر اور امت کا سبق،تحریر: اقصیٰ جبار

    اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام کے بابرکت مہینے سے ہوتا ہے، جو اپنی تاریخی عظمت، روحانی اہمیت اور قربانیوں کی یادگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک مذہبی موقع نہیں بلکہ ایک لمحۂ فکر اور خود احتسابی کا موقع ہے۔ یہ ہمیں اپنے ماضی کو یاد دلانے، حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے عزم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    محرم الحرام کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کربلا کے میدان میں حق اور باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ گئی جو رہتی دنیا تک حق پر ڈٹ جانے کا پیغام دیتی رہے گی۔ امام حسینؓ نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ اصولوں پر سمجھوتا کسی صورت قبول نہیں۔ ان کی شہادت ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور صبر و استقامت کے ساتھ حق کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے۔

    محرم کی عظمت میں حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کا واقعہ بھی شامل ہے۔ وہ خلیفہ راشد تھے جنہوں نے اسلام کے عادلانہ اصولوں پر مبنی ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جو آج بھی مثالی ہے۔ حضرت عمرؓ کی شہادت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قیادت صرف اقتدار کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری، انصاف اور رعایا کی خدمت کا ایک عظیم فریضہ ہے۔

    آج کی امت مسلمہ ماضی کی اس عظمت کو بھول چکی ہے۔ وہ امت جو کبھی دنیا کے لیے علم، عدل اور اخلاق کی مثال تھی، آج انتشار، فرقہ واریت، اور معاشرتی زبوں حالی کا شکار ہے۔ فرقہ واریت نے مسلمانوں کو تقسیم کر دیا ہے اور ہم نے اپنی توجہ ان باتوں پر مرکوز کر لی ہے جو ہمیں آپس میں دور کرتی ہیں۔ تعلیم کا فقدان، معیشت کی کمزوری اور قیادت کی کمی نے امت کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ اپنی پہچان کھو چکی ہے۔

    محرم الحرام کا پیغام امت مسلمہ کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں فرقہ واریت کو چھوڑ کر مشترکہ مقاصد پر توجہ دینی ہوگی، تاکہ ہم اپنے مسائل کو حل کر سکیں۔ تعلیم اور علم کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انصاف کا فقدان ہو، وہاں ترقی ممکن نہیں۔ ہمیں اپنے عدالتی نظام اور قیادت میں وہی عدل و مساوات لانی ہوگی جو ہمارے اسلاف نے قائم کی تھی۔

    نیا اسلامی سال ہمیں خود احتسابی کا موقع دیتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں، اپنی خامیوں کو سمجھیں اور ان کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہمیں اپنے ماضی سے سبق لینا ہوگا اور اپنے حال کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی ہوگی تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہو۔

    محرم الحرام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم حق پر ثابت قدم رہیں، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور اپنی زندگیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ آج امت مسلمہ کو اپنی عظمت بحال کرنے کے لیے ان اصولوں کو اپنانا ہوگا جو اسلام نے ہمیں دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نئے سال میں اپنی اصلاح کرنے اور امت مسلمہ کی ترقی کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیانات ایسے ،سب شعلہ بیاں،عملی اقدامات صفر،عوام کوکب تک بے وقوف بنایا جائےگا
    دنیا ٹیکنالوجی میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،ہماری ’’کل‘‘ بھی سیدھی نہ ہو سکی ،صرف نعرے رہ گئے
    بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی نہ عوام کو ترقی ملی ، ن لیگ کے سوا ہر جماعت صرف کاغذی منصوبے بناتی رہی
    تجزیہ، شہز ادقریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں سیاستدانوں کے بیانات آ رہے ہیں، جمہوریت کو مستحکم کیا جائے گا، پارلیمنٹ کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، اور آئین کو لے لر بیانات سامنے آرہے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول رہا ہے اور پھر اقتدار کے جام کو تھام کر عقل و شعور کی جگہ جاہ وجلال نے لے لی،سیاسی جماعتوں کو جمہوریت ،پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون کی حکمرانی اور آئین کے بارے بیانات دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمور کے لئے کیا کارنامے سرانجام دئیے، جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں تاہم جمہوریت کے دعویداروں سے خطرات لاحق ہیں، ہماری سیاسی جماعتوں کا جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو خیرآباد کہنے والوں کو دوبارہ کسی دوسری جماعت میں شمولیت کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے، ملکی جمہوریت کو کون سا نام دیا جائے، جمہوریت کی منڈی یا کاغذی جمہوریت ، مذہبی جماعتوں کی حالت بھی نازک ہے، سیاسی جماعتوں میں نظریات ، ضمیر ،اصول وغیرہ بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، ایسی باتیں کرنے والوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے ، اب بھی وقت ہے سیاسی جماعتیں اپنا رُخ عوام کی طرف موڑ دیں ایمانداری اور دیانتداری سے عوام کی خدمت کریں، ذرا غور کریں ہم آج کی جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں بجلی اورگیس کے بحران سے گزر رہے ہیں،حالیہ برسوں میں عوام جن سنگین مسائل کا نشانہ بنے اُن میں سرفہرست دہشت گردی اور بجلی گیس کا بحران ،دہشت گردی کا مقابلہ پاک فوج ،جملہ اداروں اور پولیس نے کیا ، ہمارے افسران اور جوان شہید ہوئے، ملک وقوم کا دفاع کرتے ہوئے کئی سہاگنوں کے ساگ اُجڑ گئے،بچے یتیم ہو گئے، عوام 90 ء کی دہائی سے پہلے لوڈشیڈنگ سے آشنا نہیں تھے ایک ادارہ واپڈا بُرا بھلا جیسا بھی تھا پانی اوربجلی کے نظام کو بہتر انداز میں چلا رہا تھا ، واپڈا کے تربیت یافتہ انجنیئروں نے خلیجی ممالک بجلی کے نظام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، 1994 ء میں پیپلزپارٹی کی دوسری ٹرم کے دوران نئی توانائی پالیسی لائی گئی ۔ واپڈا کے ٹکڑے کرکے کمپنیاں تشکیل دی گئیں ، پیپلزپارٹی کی اس پالیسی کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج تک اس پالیسی کا خمیازہ ملک وقوم بھگت رہے ہیں، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے جات اُس صور ت مل سکتی ہے جب ان پالیسیوں کو دفن کیا جائے گا ورنہ عوام کی نجات مشکل ہے

  • امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد وہ خواب ہے جس کی تعبیر آج تک حاصل نہ ہو سکی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان، جو کبھی "امت واحدہ” کا عملی نمونہ تھے، آج انتشار اور تفریق کا شکار ہیں۔ دنیا کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود وہ عالمی سطح پر اپنی طاقت اور وقار کھو بیٹھے ہیں۔

    فرقہ واریت امت مسلمہ کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔ اسلامی ممالک مختلف فرقوں اور مسالک کے تضادات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ شیعہ سنی اختلافات ہوں یا دیگر فقہی تنازعات، یہ تنازعات صرف مساجد اور مدارس تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاست، معیشت، اور سماجی تعلقات میں بھی سرایت کر چکے ہیں۔ ان اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی طاقتوں نے اسلامی دنیا کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔

    علاقائی سیاست اور خودغرضی بھی اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر، افریقہ کے معدنی وسائل، اور ایشیا کے اسٹریٹجک محل وقوع نے اسلامی دنیا کو عالمی طاقتوں کے لیے ایک میدان جنگ بنا دیا ہے۔ اسلامی ممالک کے رہنما اپنی کرسی اور اقتدار کو بچانے کے لیے بیرونی طاقتوں کے زیر سایہ کام کر رہے ہیں۔ وہ امت کے اجتماعی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ذاتی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تعلیم اور قیادت کی کمی نے مسلمانوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ امت مسلمہ نے اپنی علمی وراثت کو فراموش کر دیا ہے۔ جدید تعلیم اور تحقیق میں پیچھے رہ جانے کے باعث مسلمان نہ تو عالمی مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مسائل کو حل کر پاتے ہیں۔ آج اسلامی دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو فرقہ واریت، تعصب، اور خودغرضی سے بالاتر ہو کر امت کے مشترکہ مفادات کے لیے کام کرے۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
    (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔)
    یہ وہ اصول ہے جو امت کو زوال سے نکال سکتا ہے۔ لیکن اس اصول پر عمل کرنے کے لیے قربانی، ایثار اور خلوصِ نیت کی ضرورت ہے۔

    امت مسلمہ کا اتحاد ممکن ہے، لیکن اس کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک مسلمان اپنی ترجیحات کو درست نہیں کرتے، فرقہ واریت اور تعصب کو ختم نہیں کرتے، اور عالمی سیاست میں اپنی حیثیت کو مضبوط نہیں کرتے، اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ وقت ہے کہ امت مسلمہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے، ان سے سبق لے، اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرے۔

    یہ چیلنج مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ امت مسلمہ کا اتحاد صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے، جو اگر حاصل ہو جائے تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔