Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • آخر کب۔۔؟ تحریر :عائشہ اسحاق

    آخر کب۔۔؟ تحریر :عائشہ اسحاق

    اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی وحشت ناک بمباری سے ہونے والی تباہی سے انسانیت کا جذبہ رکھنے والے غیر مسلم بھی سراپا احتجاج ہیں مگر خاموش ہیں تو صرف مسلم ممالک کے حکمران اور افواج جو انتہائی قابل ہیں،امت مسلمہ اور ایٹمی پاکستان کے حکمران عوام کو جوابدہ ہیں کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی فلسطینی مظلوم بہن بھائیوں کی مدد کیوں نہ کی گئی غزہ جل گیا رفحہ جل گیا مگر امت مسلمہ کے حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کی جا رحیت کے خلاف ایک دھمکی آمیز ٹویٹ تک بھی نہ آیا ،یہ وہی خاموشی ہے جس کے متعلق قران کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا” اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں عورتوں اور بچوں کی مدد کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنی طرف سے کوئی حمایتی عطا فرما اور ہمیں اپنی طرف سے مددگار عطا فرما ( سورۃ نساء 75) .اور آج بھی فلسطین کے مظلوم پکار رہے ہیں یہ بات ناقابل فراموش ہے کہ 57 ممالک کی خاموشی ایک طرف اور پاکستان ایک طرف ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اہل غزہ کی مدد کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی جا رہی ہے.

    یوں تو اسرائیلی جارحیت گزشتہ 80 برس سے جاری ہے مگر گزشتہ 18 ماہ سے تباہی دیکھنے میں جو آرہی ہے ان کا بیان کرنا مشکل ہے جن میں سے ایک ایسی ہی رات جس کی ہولناکی الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی، محض ایک رات میں 100 سے زائد بچے شہید کر دیے گئے ایسے بچے بھی دفنائے گئے جن کے سر دھڑ سے الگ تھے ،معصوم پھولوں کے لاشے بم کی شدت سے ہوا میں اڑے اور پھر زمین پر آ گرے، کل بچوں کی تعداد 18 ہزار بتائی جاتی ہے جو اسرائیلی اور امریکی مشترکہ بمباری کا لقمہ اجل بنے، جنگ کے بھی کچھ قوانین ہوا کرتے ہیں مگر اسرائیل تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کھلے عام کر رہا ہے کیا اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے کہاں ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ کہاں ہیں اقوام متحدہ کے امن سفیر ؟کہاں ہیں وہ لبرل تنظیمیں جو حقوق برابری کا ڈھونگ رچائے پھرتی ہیں. اسرائیل نے عالمی قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ سلامتی کونسل ،سارے امریکہ اور اسرائیل کی ذیلی تنظیمیں ہیں. اس لیے ان کی خاموشی پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ،کوئی ملال نہیں ، یہ سب دیکھنے کے بعد خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے شہید مفتی منیر شاکر کی بات درست ثابت ہوتی ہے کہ” تم میں سے کوئی مسلمان نہیں” واقعی سب مسلمانوں کی اصلیت کھل کر سامنے آچکی ہے اور ثابت ہو گیا کہ آج کے مسلمان غیرت ایمانی سے خالی ہیں.

    ڈائریکٹر غزہ ڈاکٹر منیر البریش کا ٹویٹ” غزہ آخری سانسیں لے رہا ہے تمہارا بہت انتظار کیا اللہ حافظ” تمام نام نہاد مسلمانوں کے منہ پرطمانچہ ہے. کیا قدرت اس مجرمانہ خاموشی پر ہمیں معاف کر دے گی یا کسی دن ہمارا بھی یہی حال ہوگا اور باقی سب خاموش رہیں گے، ایسی خاموشی کے متعلق مشہور فلاسفر کا کہنا ہے "اگر کہیں پر ظلم ہو رہا ہو اور مجھے موقع ملے تھوکنے کا تو میں خاموش رہنے والوں کے منہ پر تھوکوں گا ظالموں کے منہ پر نہیں” (چی گویرا) ۔ اسلام بے شک امن کا درس دیتا ہے مگر ہم جہاد سے انکار نہیں کر سکتے. نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جسم قرار دیا اور فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کا ایک حصہ کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو دوسرا اس کو محسوس کرتا ہے یعنی جب جہاں کہیں بھی مسلمانوں‌پر ظلم حد سے تجاوز کر جائے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے جید مفتیان کرام کا جہاد کے لئے فتوی دینا خوش آئند ہے مگر ہماری تمام علماء کرام سے گزارش ہے کہ پاکستانی وزیراعظم اور سپہ سالار جو کہ جدید اسلحہ اور ایٹمی طاقت کے حامل ہیں ان سے اس حوالے سے مشترکہ بیانیہ جاری کرنے کا مطالبہ کریں. اس سب کے علاوہ یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ اکثر سوشل میڈیا کے صارفین جو اپنے اکاؤنٹس بلاک ہو جانے کے ڈر سے خاموش دکھائی دیتے تھے یکدم بیدار ہوئے ہیں اور متواتر مایوسی پھیلا رہے ہیں، یاد رکھیں اہل غزہ نے جس بہادری، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ باعث فخر ہے اور انہوں نے دشمنوں کے آگے سر جھکانے سے انکار کیا اس لیے سوشل میڈیا کے نادان غازی اہل غزہ کے متعلق مایوسی کی فضا قائم کرنے سے گریز کریں کیونکہ مایوسی گناہ ہے اور حالت جنگ میں مایوسی پھیلانا زہر قاتل ہے. فلسطینی صحافی خلیل ابو الیاس ڈاکٹر منیر اور ہماری دیگر فلسطینی بہنوں کے فیس بک اور ٹویٹر پر انے والے بھی ہونے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکے ہیں بلکہ ان کے بیانات کا مقصد یہ ہے کہ شاید اسلامی ممالک کے حکمرانوں میں غیرت ایمانی جاگ اٹھے۔جیسا کہ ایک فلسطینی بہن نے لکھا "ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی یہ صرف چند دنوں کی بات ہے اور پھر سب ختم ہو جائیں گے اللہ اس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا”. یہ بیان سوئے ہوئے مسلمانوں کی غیرت جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ اس بہن نے کیا لکھا ہے کہ اللہ اس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا اب اس بات پر غور کرنی چاہیے کہ عام عوام کیا کر رہے ہیں محض دعاؤں پر استفادہ کرنے والے حضرات اور صرف یہ بات کہہ دینے والے لوگ کہ ہم تو عام لوگ ہیں،ہم کیا کر سکتے ہیں یہ تو حکمرانوں کا کام ہے ہم صرف دعا کر سکتے ہیں ایسے چند بہانے بنا کر خود کو بری الزمہ تصور کر لینا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔درحقیقت ہم عام شہری بھی معاشی ضروریات کے پیچھے اس طرح سے لگے ہوئے ہیں کہ روٹی کپڑا اور اعلی آسائشیں ہی ہماری اولین ترجیح ہے آج کے مسلمان کو اپنے سٹیٹس کی فکر لگی رہتی ہے اسی وجہ سے ہم بھی بزدلی کے اعلی مقام تک پہنچ چکے ہیں۔جب کہ ہم عام شہری ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں اس بات کا جواب یہ ہے کہ جو متحد ہو کر اپنے موجودہ حکومت سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ آپ فلسطین کی مدد کے لیے کیوں نہیں جا رہے ہیں ان کی خاموشی پر ہماری خاموشی اور محض یہ کہہ دینا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ہمیں بھی مجرم بنا رہی ہے۔کرنا یہ ہے کہ ہم سب کو یکجا ہو کر آواز اٹھانی ہے اور وزیراعظم سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ تمام تر وسائل کے باوجود پاکستان فلسطین کی مدد کے لیے کیوں نہیں جا رہا ہے ، ہمیں ذاتی طور پر بھی اسرائیلی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے اور ہمیں حکومت پاکستان سے اس چیز کا بھی پرزور مطالبہ کرنا چاہیے کہ اسرائیلی تمام مصنوعات کی خرید و فروخت پر پاکستان میں مکمل طور پر پابندی عائد کی جائے آخر اسرائیلی مصنوعات جس کی اجازت سے پاکستان میں خریدی اور بیچی جا رہی ہیں اس اسرائیل کے ساتھ تمام کاروباری معاملات ختم کرنے چاہیے اس طرح ہم دشمن کی معیشت کو تباہ کر سکتے ہیں یہ وہ مطالبات ہیں جو ہم عام شہری ہم عام عوام کو متحد ہو کر اپنے موجودہ حکمرانوں سے کرنے چاہیے۔ہم شہری ہیں ہم طاقت نہیں رکھتے ہیں اس بات کی آڑ میں چھپے رہنا نہایت بزدلانا عمل ہے۔

    حضرت ثوہان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "قریب ہے کہ قوم تم پر اس طرح ٹوٹ پڑے جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اس وقت مسلمان تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے لیکن سمندر کی جھاگ کی مانند ہو گے، اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب اور دبدبہ نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا. پوچھا گیا یا رسول اللہ وہن کیا ہے؟ آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کا ڈر (سنن ابی داؤد 4297 صحیح). اور یہی حال آج ہمارا ہے، ہمیں اس وقت باقی اسلامی ممالک کا چھوڑ کر خود اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے ہم تعداد میں بہت زیادہ ہیں پاکستانی 25 کروڑ عوام اپنے حکمران اور سپہ سالار کو کیوں مجبور نہیں کر سکتی، دعائیں کرنا اپنی جگہ ضروری ہے مگر اس معاملے میں عملی طور پر متحد ہونا زیادہ ضروری ہے . لہذا اس بہانے سے خود کو تسلی دینا بند کریں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، اس چیز کا اسلام میں کوئی تصور نہیں قران پاک میں ذکر ہے "نکل کھڑے ہو خواہ ہلکے ہو یا بھاری اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو (سورت توبہ 41). ہمیں فریضہ جہاد کی علمی، عملی، ذہنی ،بدنی انفرادی اور اجتماعی تربیت کی تیاری کرنی چاہیے، دنیا کی لذتوں میں مد ہوش مسلمان ہوش میں آئیں، یاد رکھیں،موسی کی قوم نے ظالموں سے لڑنے سے انکار کیا کہ وہ بہت طاقتور ہیں تم اور تمہارا خدا ہی جا کر لڑو پھر اللہ نے ان پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی ،غزہ نے عزت، حریت اور شہادت کو ترجیح دی اور ایمان پر ثابت قدم رہے ہم کیا کر رہے ہیں؟اہل غزہ کو ہمارے آنسوؤں کی ضرورت نہیں، ذرا سوچیں روز محشر جب فلسطین کے مظلوم اور شہیدوں کے متعلق باز پرسی ہوگی تو ہم کیا جواب دیں گے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کیسے کریں گے، ابھی بھی وقت ہے غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں ورنہ یاد رکھیں "اللہ کی پکڑ بہت مضبوط ہے” (القران)، یاد رکھیں غزہ ختم نہیں ہوا غزہ ایک تاریخ لکھ چکا ہے جسے وقت کی گردش بھی مٹا نہیں سکتی مگر اس ڈھال کے سائے میں چین کے نیند سونے والوں کو اپنے انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ جب دیوار گر جائے تو جھونپڑیاں زیادہ دیر قائم نہیں رہتی ہیں، مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے متحد ہو کر نکلیں اور پرزور مطالبہ کریں کہ فلسطین کی مدد کے لیے عملی طور پر جلد از جلد حکمت عملی کا اعلان کیا جائے۔ان مطالبات کے ذریعے ہم عام عوام حکومت پاکستان کو فلسطین کی حمایت میں متحرک کر سکتے ہیں تاکہ روز محشر ہم اپنے رب سے کہہ سکیں کہ اے اللہ ہم نے کوشش کی۔

    خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

  • گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت،تحریر:شہزاد قریشی

    گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت،تحریر:شہزاد قریشی

    دنیا کو کسی اور پھر بے اختیار ادارے کی ضرورت نہیں ،جو خالی بیانات جاری کرے۔ دنیا کو بین الاقوامی سطح پر ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو دنیا کا دفاع کر سکے ۔خلق خدا کو جنگوں سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ میری مراد اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی ،عرب لیگ وغیرہ وغیرہ ۔ اسی طرح دنیا کو کسی ایسی عدالت کی ضرورت نہیں جس کے حکم پر عمل نہ کیا جائے۔ وطن عزیز کی ہنگامہ خیز سیاست ، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو خلق خدا کے لئے اور پاکستان کے وقار سلامتی کے لئے ہنگامی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ پاکستان کو اس وقت گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کی داخلی اورخارجہ پالیسیاں تبدیلیا ں ہو رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے اثرات بلاشبہ پاکستان پر بھی پڑے گی ۔

    دنیا میں معاشی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے ۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان یعنی امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ پاکستان کی قومتی سلامتی کے اداروں نے بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا ہماری دفاعی طاقتوں کا کردار قابل ستائش ہے ۔ ملک وقوم کی حفاظت پر مامور دفاعی ادارے جو انمردی سے ان موت کے سوداگروں کو شکست سے دوچار کررہے ہیں۔ ماضی میں دفاعی اداروں نے دہشت گردوں اور ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کیا ، ایک عالم گواہ ہے۔ وطن عزیز کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ بھارت کا ناپاک خواب ہمارے دفاعی ادارے کبھی پورے نہیں ہونے دیں گے۔ موجودہ عالمی تجارتی جنگ میں امریکہ سمیت عالمی دنیامیں تعینات سفیروں کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کویقین دلانا ہوگا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے ،اپنی بیگمات کی این جی اوز سے توجہ ہٹا کر وطن عزیز کی معیشت پر توجہ دینی ہوگی۔ دنیا بھر میں تعینات کمرشل قونصلر اپنے آپ کو کمرشل کرنے کی بجائے وطن عزیز کی معیشت اور تجارت پر توجہ دیں۔ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ہنگامی سیاست سے نکل کر وطن عزیز کی سلامتی اوروقار کو مد نظر رکھتے ہوئے سرجوڑ کر بیٹھیں ۔ ملکی مفاد کو اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینا کون سی قومی خدمت ہے۔

  • عورت، ایک انمول کتاب،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، ایک انمول کتاب،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کو اگر کتاب سے تشبیہ دی جائے تو یہ مثال نہایت خوبصورت اور معنی خیز ہے۔کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ جذبات، خیالات، فہم و ادراک، اور وقت کا عکس ہوتی ہیں۔ عورت بھی کچھ ایسی ہی ہستی ہے،گہرائیوں سے بھری ہوئی، نرمی سے مزین، اور اسرار سے لبریز،مرد کی فطرت میں تجسس ہے۔ وہ عورت کو جاننا، سمجھنا اور اس کے دل کے رازوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔لیکن عورت محض ظاہر میں موجود خوبصورتی یا نرم لہجے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک پورا جہان آباد ہوتا ہے۔اس جہان تک رسائی حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

    کتاب کو پڑھنے کے لیے صرف آنکھیں کافی نہیں ہوتیں، دل، وقت، توجہ، اور احترام بھی درکار ہوتا ہے۔اسی طرح عورت کو سمجھنے کے لیے محض گفتگو یا ظاہری حرکات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ احساس درکار ہوتا ہے،صبر درکار ہوتا ہے،سمجھ بوجھ،اور سب سے بڑھ کر احترام درکار ہوتا ہے،بہت سے مرد عورت کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتے ہیں، جبکہ عورت ایک آزاد ہستی ہے، ایک مکمل وجود، جسے صرف محبت سے، سمجھ بوجھ سے اور عزت دے کر ہی پڑھا جا سکتا ہے۔

    چند خوش نصیب مردوہہوتے ہیں جو عورت کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ سے زیادہ اس کی خاموشیوں کو سمجھتے ہیں۔
    جو اس کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کرتے ہیں۔جو عورت کو ایک شخصیت، ایک انسان سمجھتے ہیں، نہ کہ محض ایک کردار،ایسے مرد عورت کی کتاب کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اسے سلیقے سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عورت کے ہر صفحے پر ایک الگ کہانی ہے،کبھی ماں کی محبت،کبھی بیوی کی وفاداری،کبھی بیٹی کی معصومیت،
    اور کبھی بہن کی شفقت،عورت کو سمجھنے کے لیے کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں،بلکہ خود اس "کتاب” کو سمجھنے کی نیت، ہنر، اور سلیقہ ہونا چاہیے۔جو یہ سلیقہ سیکھ لیتے ہیں، وہ زندگی کی سب سے حسین اور گہری کتاب کو پا لیتے ہیں۔

  • جو چاہو کھو دو، مگر اس دل کو مت کھونا.تحریر:نبیلہ رحمان

    جو چاہو کھو دو، مگر اس دل کو مت کھونا.تحریر:نبیلہ رحمان

    زندگی میں ہر انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ کوئی شہرت چاہتا ہے، کوئی دولت، کوئی کامیابی کے پیچھے دوڑتا ہے اور کوئی رشتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان تمام ترجیحات میں ایک چیز اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے ، دل۔ہم اکثر ان لوگوں کی قدر تب کرتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتے۔ وہ لوگ جو دن رات ہمیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہماری چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے ہیں، ہمارے لیے اپنے جذبات کو قربان کر دیتے ہیں، ہم انہیں معمولی سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے خلوص کو، ان کے پیار کو، ان کی توجہ کو ہم کبھی مکمل طور پر محسوس ہی نہیں کرتے۔لیکن وقت جب ہاتھ سے نکل جاتا ہے، تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ "کچھ دل کبھی دوبارہ نہیں ملتے”

    دل جو خاموشی سے محبت کرتا ہے،ایسے دل نہ تو واویلا کرتے ہیں، نہ ہی محبت کے لیے مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ دل صرف چاہتے ہیں کہ انہیں سمجھا جائے۔ ان کی بے آواز چیخوں کو سنا جائے، ان کی خاموش قربانیوں کو پہچانا جائے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اُن دلوں کو کھو دیتے ہیں، جو ہمارے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔جب ایک طرف سے محبت ہو، اور دوسری طرف صرف بے نیازی، تو ایک وقت آتا ہے جب وہ مخلص دل بھی تھک کر خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ جو کبھی تمہیں خوش کرنے کے لیے ہر حد پار کرتا تھا، وہ ایک دن خاموش ہو کر دور ہو جاتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل ٹوٹتے ہیں ، نہ صرف ایک، بلکہ دونوں طرف کے۔

    اگر ہم وقت پر آنکھیں کھولیں، اگر ہم اُن لوگوں کی قدر کریں جو بے غرض محبت کرتے ہیں، تو ہم بہت کچھ بچا سکتے ہیں۔ ہم اُن دلوں کو سنبھال سکتے ہیں جو شاید وقت کے ساتھ تھکنے لگے ہیں۔محبت کرنے والے دل بہت نایاب ہوتے ہیں۔ جس دل نے آپ کے لیے بہت کچھ کیا ہے، جس نے ہر بار آپ کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا ہے، اُسے کبھی نہ کھوئیں۔ کیونکہ جب وہ دل چلا جاتا ہے تو نہ وقت واپس آتا ہے، نہ وہ خلوص، نہ وہ جذبہ،جو چاہو کھو دو، مگر کبھی اس دل کو مت کھونا۔۔۔ کیونکہ کچھ دل واقعی کبھی دوبارہ نہیں ملتے۔

  • سب سے بڑی دلیری،تحریر:رائے نوشین بھٹی

    سب سے بڑی دلیری،تحریر:رائے نوشین بھٹی

    دنیا کی بھیڑ میں، جہاں ہر شخص کسی نہ کسی نقاب کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے، وہاں سب سے بڑی دلیری یہی ہے کہ انسان خود کو وہی ظاہر کرے جو وہ حقیقت میں ہے۔ یہ ایک سادہ سا جملہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر ایک بہت گہری دانائی چھپی ہوئی ہے۔آج کی دنیا میں لوگ اکثر دوسروں کی خوشنودی، سماجی دباؤ یا ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے خود کو چھپاتے ہیں۔ ہم اکثر وہ دکھاتے ہیں جو دوسرے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ بولتے ہیں جو دوسرے سننا چاہتے ہیں، اور وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو معاشرہ ہم سے چاہتا ہے۔ مگر اس سارے عمل میں ہم خود سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے اصل کو کھو بیٹھتے ہیں۔

    اپنی اصل کو قبول کرنا کیوں مشکل ہے؟
    خود کو اپنی حقیقت کے ساتھ ظاہر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں
    تنقید کا خوف: اگر میں نے اپنے خیالات اور جذبات سچ سچ بیان کیے تو لوگ کیا کہیں گے؟
    رد کیے جانے کا ڈر: کیا اگر میں اپنی اصل شکل دکھاؤں تو لوگ مجھے قبول کریں گے؟
    موازنہ: سوشل میڈیا اور دنیاوی کامیابیوں نے ہمیں دوسروں سے موازنہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہم وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو "کامیاب” دکھائی دیتا ہے، چاہے وہ ہماری فطرت سے میل نہ کھاتا ہو۔

    حقیقی دلیری کیا ہے؟
    حقیقی دلیری تلوار چلانے یا اونچی آواز میں بولنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانک کر، اپنی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ خود کو ایسے قبول کرنا جیسا کہ ہم ہیں، اور بغیر کسی خوف یا دکھاوے کے ویسا ہی دنیا کے سامنے پیش آنا—یہی اصل بہادری ہے۔

    خود کو اپنی حقیقت میں ظاہر کرنے کے فوائد
    اندرونی سکون: جب آپ خود کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے، تو دل کو ایک سکون ملتا ہے۔
    خالص رشتے: آپ کے اردگرد وہی لوگ رہتے ہیں جو آپ کو حقیقت میں پسند کرتے ہیں، نہ کہ آپ کے نقاب کو۔
    ذاتی ترقی: جب آپ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہیں تو ہی آپ انہیں بہتر بنا سکتے ہیں۔
    اعتماد میں اضافہ: جب آپ خود پر اعتماد کرتے ہیں، تو دوسروں کا اعتماد بھی آپ پر بڑھتا ہے۔

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں سب سے خوبصورت ساتھی ہمارا "اصل خود” ہے۔ تو کیوں نہ ہم اس کے ساتھ سچائی سے جئیں؟ سب سے بڑی دلیری یہی ہے کہ ہم خود کو نہ بدلیں، نہ چھپائیں، بلکہ اپنی اصل کو فخر سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔

  • اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نے کہا تھا
    وجود زن سے تصویر کائنات میں ہے رنگ
    یہ درست ہے اس کائنات میں خواتین کا رول بہت اہم ہے نسل انسانی کو پروان چڑھانے اور ان کی تربیت کی زمہ داری اللہ تعالیٰ نے خواتین کے کندھوں پر ڈالی اور تاریخ شاہد ہے جن خواتین نے یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائی ان کی اولاد نے اپنے اعلیٰ اوصاف سے ایسے رنگ بھرے کہ جو کبھی ماند نہیں ہوئے، فاطمہ جناح اپنے بھائی کے ہم قدم رہیں کبھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑا ،رعنا لیاقت علی خان نے اپنے شوہر لیاقت علی خان کا ساتھ دیا مال و دولت جمع نہیں کیا اسی طرح تاریخ اسلام اور دنیا کی تاریخ خواتین کے کار ناموں سے بھری پڑی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ حقوق جو اسلام نے اور قانون نے عورتوں کو دئیے ان پر عملدرآمد بہت کم دیکھنے میں آ یا اور معاشرے میں خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا اور ایسے ماحول میں اگر خواتین کو عزت و تکریم دینے اور ان کی صلاحیتوں کو سراہنے کی کی بات ہو تو بہت خوش آئند ہے، اسی حوالے سے آ ل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن ( اپووا ) نے کل بارہ اپریل ہفتے کے دن پاک ھیرٹج ہوٹل میں ایک تقریب منعقد کی .


    اپووا کے بانی اور صدر ایم ایم علی ہیں جبکہ چئیرمین زبیر احمد انصاری ہیں ان کی طرف سے منعقد کردہ یہ تقریب شاندار تھی اپنی صلاحیتوں کے اعتراف میں ایوارڈ حاصل کرنے پر خواتین خوش نظر آ رہی تھیں تمام گیسٹ سپیکرز اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز مقام رکھتی تھیں ان میں سامعہ خان ، عذرا آ فتاب ، عارفہ صبح خان ، دعا مرزا ، ثنا آ غا خان ، ڈاکٹر فضلیت بانو ، گل ارباب ، کومل جوئیہ ، لالہ رخ اور دیگر شامل تھیں اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب کو غزہ کے مظلوموں سے منسوب کیا گیا کالی پٹیاں باندھ کر اور فلسطین کے جھنڈے لہرا کر احتجاج کیا گیا اور فلسطین کی مظلوم عورتوں اور بچوں سے اظہار یک جہتی کیا گیا ،اس تقریب میں پشاور ، کراچی ، اور کئی دوسرے شہروں سے آ نے والی خواتین شامل تھیں یہ بھر پور اور باوقار تقریب تھی اس کے لیے اپووا کے بانی اور چئیرمین لائق تحسین ہیں ان کو بہت مبارکباد اور انتظامیہ میں شامل تمام خواتین جن میں سحرش خان ، ڈاکٹر ثمینہ طاہر اور دیگر بہت مستعد تھیں ان سب کا بھی شکریہ اور مبارکباد
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    الحمداللہ! 12 اپریل 2025 کو لاہور کے پاک ہیرٹج ہوٹل میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے پانچویں خواتین کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں پاکستان کے تمام صوبوں سے خواتین نے شرکت کی۔ مختلف شعبہ جات میں کامیاب خواتین نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نئی نسل کو آگے بڑھنے کا جذبہ دیا۔ بہت سے مسائل پر گفتگو کی گئی۔ کانفرنس کا مقصد بہت بڑا تھا۔

    آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اللہ پاک نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے بس اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم قانون قدرت کی حدود کو پامال کرتے ہیں۔ حکمرانی، اقتدار، داتا، ملکیت، تکبر سب اللّٰہ ربّ العزت کی صفات ہیں جب بھی کسی انسان نے یا کسی قوم نے ان صفات کی حدود کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ فرمان نبوی کے مطابق اگر آپ کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے منع کرو اور اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو اسے دل سے برا جانو اگرچہ یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ "مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کے کسی ایک حصے میں درد ہو گی تو دوسرا حصہ خود بخود تکلیف میں ہو گا۔” کانفرنس میں غزہ کے مسلمانوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور ان کے ساتھ یکجتی کا اظہار کیا گیا مگر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہم ایمان کے کون سے درجے پر ہیں۔ نہ ہم ہاتھ سے روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ ہماری زبان حق کے لیے بولتی ہے تو کیا ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے سے بھی گر گئے جہاں ہم کفار کو برا بھلا ہی کہہ سکیں؟ ان کی بنائی مصنوعات کو چھوڑ سکیں؟ مسلمان جو ایک جسم کی مانند ہیں پھر ہمارا جسم ہمارا دل ہماری روح غزہ کے مسلمانوں کے لیے تکلیف میں کیوں نہیں؟ کیا ہم مسلمان ہی نہیں رہے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر۔

    خواتین کانفرنس میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا میں تو سمجھتی ہوں جس کا جتنا برتن ہوتا ہے اس میں وہ اتنی اشیاء بھر لیتا ہے۔ ایک سپیکر خاتون نے تو جیسے میرے دل کی باتیں کہیں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میں نے باہر معاشرے میں نکل کر دیکھا ہے جتنی ٹانگ خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کھینچتی ہیں اس کے برعکس مردوں میں حسد جلن اور نفرت کے جذبات بہت کم ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کامیابی برداشت نہیں کرتیں بلکہ ان کو سیدھے راستے کی بجائے غلط راستہ دکھاتی ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے وہ چاہتی ہیں کسی دوسری کے پاس نہ ہو۔

    تو واقعی خواتین کا عالمی دن منانے سے کچھ نہیں ہونے والا میری نظر میں خواتین کے حقوق کی جنگ مردوں سے نہیں اپنی ہی ہم جنس خواتین سے ہے۔ مقابلہ تو برابر والے سے ہوتا ہے جنگ کے اصولوں میں بھی برابری شامل ہے۔ ہم جو پلے کارڈ اٹھا کر مردوں کے سامنے آ گئی ہیں ان کے برابر کے حقوق مانگنے اگر عورت اپنی سوچ کو مثبت کر لے تقدیر پر راضی رہنا اور ہمیشہ دوسری عورت کی مدد کرنا اس کا ساتھ دینا سیکھ لے تو ہمیں کسی مرد سے اپنے حق مانگنے کی ضرورت نہیں۔ باقی میں متفق ہوں کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا کسی کام کو حقیر نہ سمجھیں بس اللہ نے آپ کو جتنی طاقت اور جتنی ہمت و سہولت دی ہے اس میں انسانیت کو فایدہ پہنچاتے رہیں۔ آگے بڑھ کر اپنی خواتین ساتھیوں کی مدد کریں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جو کسی کا مقدر ہے وہ آپ چھین نہیں سکتیں اور جو آپ کا مقدر ہے وہ کوئی آپ سے لے نہیں سکتا تو پھر ڈر کس بات کا۔ یہ دنیا فانی ہے اس کی ہر شے کو فنا ہے یہ دولت یہ شہرت یہ عزت یہ مقام سب منوں مٹی تلے دب جانے ہیں باقی رہ جانی ہیں صرف اور صرف نیکیاں۔ عورت مرد کے شانہ بشانہ چلنے اور برابری کے چکر میں یہ بھول ہی گئی ہے اس کی عزت اس کا وقار اس کے سر کی چادر اور سر کے سائیں کے ساتھ ہے۔ اپنی چادر اور اپنے سائیں کی عزت کا خیال رکھیں کبھی معاشرہ آپ کے حقوق نہیں چھینے گا۔ دوپٹہ یا چادر اتار کر ہم نہ مرد بن سکتیں ہیں نہ ان کے برابر جس کو اللہ نے قوام بنایا ہم اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں۔ آدم کے لیے حوا لازم تھی اور حوا کے لیے آدم۔ ہم بھی اپنے ساتھی اور ہمارا ساتھی ہمارے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ سب باتیں لکھنا کہنا برتنا آسان نہیں ہیں۔ مجھے اٹھارہ سال لگے یہ سب لکھنے میں مگر دلیل کے ساتھ اپنی بات کہنی سیکھیں لڑائی جھگڑے اور پلے کارڈز اٹھا کر سڑکوں پر نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جس کے ساتھ حقوق مانگنے کی جنگ ہے وہ کسی سڑک پر نہیں رہتا وہ ہمارے گھر پر ہمارے دل میں رہتا ہے اور یہ جنگ لڑائی جھگڑے سے نہیں بلکہ محبت اور دلیل کے ساتھ جیتنی ہے ان شاءاللہ!


    میری نظر میں ہر عورت خاص ہے چاہے وہ باہر کام کرنے والی خاتون ہے یا گھر سنبھالنے والی۔ عورت اللہ کی مخلوق ہے اس کے خاص ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کیا۔ حدود اللّٰہ میں رہتے ہوئے جو عورت بھی معاشرے کے لیے نفع مند رہے گی وہ کبھی ناکام نہیں رہے گی۔

    میں اپووا کی تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اتنے کامیاب پروگرام کے لیے۔ علی بھائی، زاہد بھائی، ثمینہ آپا، مدیحہ، سحرش اللہ پاک آپ سے آپ کی تمام کوششوں کو قبول فرمائے اسی طرح سب کو ہمت دلاتے رہیں اللہ پاک آپ کی عزت میں اضافہ فرمائے آمین
    قرۃالعین خالد
    نائب صدر پنجاب (اپووا)
    سیالکوٹ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ


    آج کا دن میرے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا، جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس میں میری خواتین ایوارڈ کے لیے نامزدگی کا اعلان ہوا، جس کا میں طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ یہ لمحہ میرے لیے بے حد اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ یہ میرے لئے نہ صرف ایک اعزاز تھا بلکہ خواتین کی کامیابیوں کو سراہنے کا بھی ایک شاندار موقع تھا۔کانفرنس میں جانے سے پہلے، میرے ذہن میں کئی سوالات تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں وہاں کس طرح جاؤں گی، کیونکہ وہاں کوئی میری جان پہچان کا نہیں تھا،سب نئے لوگ تھے، لیکن جب میں کانفرنس میں پہنچی، تو آ پی ثمینہ طاہر بٹ نے جس اپنائیت کے ساتھ میرا استقبال کیا، اور تمام عہدیداران اور ممبران نے جتنی مہمان نوازی کی، وہ سب کچھ میرے لیے بے حد دل کو چھو لینے والا تھا۔ ان سب کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد میں حصہ لیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔بانی صدر آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، ایم ایم علی بھی کانفرنس میں متحرک نظر آئے،ایم ایم علی کا خصوصی شکریہ…کیونکہ میرے ایوارڈ کی نامزدگی کی منظوری انہوں نے دی تھی.

    اپووا کی خواتین کانفرنس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی باوقار خواتین نے شرکت کی اور اپنی موجودگی سے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی۔ اس کے بعد سیدہ مصور صلاح الدین نے عقیدت و احترام سے نعتیہ کلام پیش کیا۔سحرش خان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، نمرہ ملک کی خوبصورت اور پراثر پنجابی نظم نے محفل کو ایک خاص رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔کانفرنس میں کچھ اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں معروف لکھاریہ گل ارباب، پی آر او ٹو گورنر پنجاب محترمہ لالہ رخ ناز، ڈپٹی سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، عالمی شہرت یافتہ اسٹرولوجر سامعہ خان، لیجنڈری اداکارہ عذرہ آفتاب، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر عارفہ صبح، دبنگ جرنلسٹ دعا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان، ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر فضیلت بانو، معروف شاعرہ کومل جوئیہ، لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ، اور تحریک نفاذ اردو کی متحرک رکن فاطمہ قمر شامل تھیں۔

    میرے لیے یہ ایک شاندار موقع تھا کہ مجھے اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنایا گیا اور میری محنت اور جدوجہد کو تسلیم کیا گیا۔ میں خاص طور پر سینئر صحافی اور اینکر پرسن، سی ای او باغی ٹی وی، مبشر لقمان صاحب کی بے حد مشکور ہوں کہ ان کی وجہ سے مجھے یہ مقام حاصل ہوا۔ باغی ٹی وی کی بدولت ہی آج میں یہاں ہوں اور اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنی ہوں۔کانفرنس کے اختتام پر جب واپس جانے کا وقت آیا، تو دل میں بہت سی باتیں گئیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں وہاں دیگر خواتین کیسی ہوں گی، مگر جب وہاں پہنچ کر جو دل جیتنے والا استقبال ہوا، وہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی۔ اللہ تعالٰی اپووا کے تمام منتظمین کو ڈھیروں کامیابیاں عطا کرے۔

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس کے انعقاد پر تمام عہدے داران اور تمام خواتین کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اتنی محبت دی۔ اور جب ایوارڈ دینے کے لئے مجھے اسٹیج پر بلایا گیا اور کہا گیا کہ کہ میں مبشر لقمان کے چینل سے ہوں ، تو یہ میرے لیے فخر کا مقام تھا۔ میں ان سب خواتین،اپووا کے منتظمین کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا اور مجھے اتنی عزت دی۔یہ دن میری زندگی کا ایک یادگار دن بن چکا ہے، اور اس کانفرنس کی کامیابی کا کریڈٹ آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ٹیم اور اس کے منتظمین کو جاتا ہے۔مبارکباد اور ڈھیروں دعائیں…..

  • کمالِ  فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید

    کمالِ فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید

    قومی ادبی ایوارڈز سے بلوچستان کے ادیبوں کو نوازا گیا
    کوئٹہ کےادبی منظر پر اداسی چھائی رہی
    وادیء شال کی بہار رْت اب کے آتے آتے گلوں کو اداس کر گئی ، بادام کے پیڑوں پر سفید کونپلوں اور سیب کی گلابی غنچوں نے بھی تاخیر کی ، اور ادبی منظر پر اداسی کے بادلوں نے اہلِ علم و ادب مضطراب رکھا ۔اتوار کو بزم صائم نے بہاریہ مشاعرے کرنا تھا جو نہ پایا ۔7اپریل کو بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے ادبی کانفرنس اور آغاگل ایوارڈز کا اعلان کر رکھا تھا جو ملتوی کر دیا گیا ۔
    کوئٹہ کا زمینی رابطہ منقطعہ ہے ۔ کاروبار شیدید متاثر ہے ۔اور شہر کی فضا اداس ہے ۔ اسی اداسی میں اکادمی ادبیات پاکستان نے سال 2023ء کے کمالِ فن ادبی ایوارڈ کا اعلان کیا ۔تفصیلات کے مطابق اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ادباء وشعراء کے لیے پچاس لاکھ روپے سے زائد مالیت کے انعامات کا اعلان کیا گیا ۔
    اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمال فن ایوارڈ2023 کے لیے معروف شاعر افتخار عارف کو منتخب کیا گیا ہے ۔اس کا اعلان ڈاکٹر نجیبہ عارف صدر نشین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ۔
    ’’کمالِ فن ایوارڈ ‘‘ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کی رقم دس لاکھ روپے ہے۔2023کے ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، جناب اصغر ندیم سید، پروین ملک، مدد علی سندھی ، انورسن رائے ، ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، نیلوفر اقبال، حسام حر، حفیظ خان ، ڈاکٹر محمد سفیراعوان ، ڈاکٹر واحد بخش بزدار، عبدالقیوم بیدار، ڈاکٹر ناصر عباس نیر ، اورڈاکٹر بصیرہ عنبرین شامل تھے۔اجلاس کی صدارت مدد علی سندھی نے کی ۔ ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔اب تک اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین ،مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز ،شوکت صدیقی، منیر نیازی ، ادا جعفری،سوبھو گیان چندانی ،ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک ، عبداللہ جان جمالدینی،محمدلطف اللہ خان ، بانو قدسیہ ، محمد ابراہیم جویو ، عبداللہ حسین ، افضل احسن رندھاوا ، فہمیدہ ریاض،کشور ناہید، امر جلیل ، ڈاکٹر جمیل جالبی، منیراحمد بادینی، اسد محمد خاں ، جناب ظفر اقبال اور جناب حسن منظر کو ’’کمال فن ایوارڈ ‘ دیے جا چکے ہیں ۔

    اس موقع پر’ ’قومی ادبی ایوارڈز‘‘ برائے سال2023ء کا بھی اعلان کیاگیا۔چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پریس کانفرنس میں قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردو نثر( تخلیقی ادب) کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈ طاہر ہ اقبال کی کتاب ’’ ہڑپا ‘ (منصفین نیلوفراقبال ، ڈاکٹر معین نظامی اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر ) ، اردو نثر (تحقیقی وتنقیدی ادب) کے لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ڈاکٹرامجد طفیل کی کتاب "ہمعصر اردو افسانہ ” اور فرخ یار کی کتاب ’’ عشق نامہ ‘‘(منصفین:ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر اور ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی) ، اردو شاعری کے لیے ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ غلام حسین ساجد کی کتاب ’’تجاوز‘‘ (منصفین: نذیرقیصر ڈاکٹر وحید احمد اور ڈاکٹر سحر انصاری ) ، پنجابی شاعری کے لیے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘ قابل جعفری کی کتاب ’’ اپار‘‘،پنجابی نثر کے لیے’’ افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘ ‘ نصیراحمد کی کتاب ’’ کیہ پاتر د ا جیونا ‘‘ (منصفین:پروین ملک ، (انجم سلیمی اورزبیراحمد ) ، سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ ‘‘ابرار ابڑو کی کتاب ’’اکین کی پندھ کرنوآ‘‘، سندھی نثرکے لیے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر مشتاق باگانی کی کتاب ” ننگر ٹھٹے جو سماج ” (منصفین: مدد علی سندھی، شبنم گل اور ڈاکٹر شیرمہرانی) ، پشتو شاعری کے لیے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ م ۔ر شفق کی کتاب ” گل رنگ "،پشتو نثر کے لیے ’’ محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ ‘‘ ڈاکٹر عبدالکریم بریالے کی کتاب ” درحمان بابا کلیاتو دمتن انتقادی ثیڑنہ ” (منصفین: ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ، ڈاکٹر اسیر منگل اور نورالامین یوسفزئی) ، بلوچی شاعری کے لیے ” مست توکلی ایوارڈ” وہاب شوہاز کی کتاب ” چراگاں دم نہ برتگ” ، بلوچی نثر کے لیےسید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف کی کتاب ” بلوچی ءُ براہوئی زبانانی سیالی ” (منصفین:ڈاکٹر فضل خالق، ڈاکٹر زینت ثنا اورمحمد یوسف گچکی) ، سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘عزیز شاہد کی کتا ب ’’چاک‘ ، سرائیکی نثر کے لیے”ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ”رفعت عباس کی کتاب’’ نیلیاں سلہاں پچھوں ‘‘ (منصفین: رانا محبوب اختر، سلیم شہزاد، حبیب موہانہ) ، براہوئی شاعری کے لیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ ‘‘بابل نور کی کتاب ’’ چنکس استار ” ، براہوئی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ عمران فریق کی کتاب ’’ ادبی تھیوری ؤ براہوئی ادب ‘‘ (منصفین: عبدالقیوم بیدار، افضل مراد، افضل مینگل ) ، ہندکو شاعری کے لیے ’’ سائیں احمد علی ایوارڈ ‘‘ڈاکٹر خاور چوہدری کی کتاب ’’ بجھنا ڈیوا ‘‘،ہندکو نثر کے لیےخاطر غزنوی ایوارڈ اختر نعیم کی کتاب ” قسطنطنیہ، انگورا ،سمرنا ” (منصفین:ناصر علی سید، محمد ضیاء الدین اور حسام حر ) ، انگریزی نثر کے لیے پطرس بخاری ایوارڈ ایم اطہر طاہر کی کتاب
    "Second Coming "، انگریزی شاعری کے لیے داؤد کمال ایوارڈ اعجاز رحیم کی کتاب “Beyond Dates and Pomegranates” منصفین: ڈاکٹرمحمد سفیراعوان، منیزہ شمسی اور حارث خلیق) اور ترجمے کے لیے ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘شوکت نواز نیازی کی کتاب ’’ جلاوطنی اور سلطنت(آلبرٹ کامیو) ‘‘ کو دیا گیا(منصفین :ارشد وحید ، ڈاکٹر خالد اقبال یاسر اورڈاکٹر سید جعفر احمد) ۔قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دودولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جائیں گے۔
    اکادمی ادبیات پاکستان کا تقسیم ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کرنا یٰقیناً ایک مستحسن اور قابلِ ستائش اقدام ہے مگر کیا ہی اچھا ہو۔کہ قومی ادبی ایوارڈ کا دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے صوبائی سطح پر لایا جائے تاکہ ہر صوبہ اپنے طور پر مقامی اہلِ قلم کی نامزدگی ممکن ہو اور علاقائی علم و ادب کو فروغ ملے ۔
    بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے اپنے ایک اعلامیہ میں چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف کو دلی طور پر مبارک باد پیش کی ہے ۔

  • زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں ہمیں کئی سوالات، کئی راستے، اور کئی چہرے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور کچھ سوالات خاموشی کے پردوں میں دبے رہتے ہیں۔زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں ایک نہ ایک بار ایسے سوالات کے سامنے ضرور کھڑا ہوتا ہے جن کے جواب آسان نہیں ہوتے۔ اور جب ان کے جوابات ملتے ہیں، تو یا تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے یا ہم خود بدل چکے ہوتے ہیں۔

    کچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیر لگی
    کون دشمن ہے، کسے دوست سمجھنا ہے یہاں
    ہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

    یہ اشعار سادہ الفاظ میں ایک پیچیدہ حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کا یہ کرب صرف اس کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کی آواز ہے۔ ہر وہ شخص جو زندگی میں دھوکہ کھا چکا ہو، جو رشتوں کی پہچان میں غلطی کر چکا ہو، اس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔یہ اشعار صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک پوری کہانی کا نچوڑ ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں دھوکہ، بھروسہ، حقیقت اور فریب سب شامل ہیں۔زندگی ہمیں بچپن میں سیدھی لگتی ہے، لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، سوالات پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ ’’کیا یہ شخص میرا خیرخواہ ہے؟‘‘ ’’کیا جس پر بھروسہ کیا، وہی پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپے گا؟‘‘انسانی فطرت بڑی پیچیدہ ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کا ایک چہرہ دوسروں کو دکھاتا ہے، اور دوسرا چہرہ چھپائے رکھتا ہے۔ بسا اوقات دشمن وہ نہیں ہوتا جو سامنے آ کر مخالفت کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ساتھ چلتا ہے، دعائیں دیتا ہے، مگر دل میں نفرت لیے ہوتا ہے۔ انسانی رشتے سب سے زیادہ دھوکہ دے سکتے ہیں۔ بسا اوقات جو مسکرا کر ملتا ہے، وہی اندر ہی اندر جلن ،حسد رکھتا ہے۔ اور جو سخت بولتا ہے، وہی اصل میں خیرخواہ ہوتا ہے۔

    انسان سیکھتا ہے، مگر سیکھنے کے لیے قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کبھی عزت کی صورت میں، کبھی اعتماد کی، کبھی جذبات کی۔ حالات ہمیں گراتے ہیں، توڑتے ہیں، مگر پھر جوڑتے بھی ہیں۔ اور یہی زندگی ہے،جب ہم حالات سے سیکھتے ہیں، تو ہم صرف ہوشیار نہیں ہوتے، بلکہ حقیقت پسند بھی ہو جاتے ہیں۔ ہم جذباتی نہیں، عقلمند بن جاتے ہیں۔ اور اس سیکھنے کا لمحہ چاہے جتنا بھی تکلیف دہ ہو، ہماری شخصیت میں وہ پختگی لے آتا ہے جو برسوں کے مطالعے سے بھی نہیں آتی۔

    دوستی کی پہچان وقت کرتا ہے۔ وہ وقت جو کٹھن ہو، جو آزمائشوں سے بھرپور ہو۔ کیونکہ آسان وقت میں سب ساتھ ہوتے ہیں، مگر جب حالات خراب ہوں، تب ہی اصلی چہرے سامنے آتے ہیں۔کئی بار ہم خود کو صحیح سمجھتے ہیں، مگر حالات ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں، مگر اصل علم تب آتا ہے جب ہم آزمائش سے گزرتے ہیں۔یہ ایک احساس ہے، پچھتاوے کا، سبق کا، سچ کا۔ لیکن یہی دیر، ہمیں نیا انسان بناتی ہے۔ ہمیں اندر سے مضبوط کرتی ہے۔

    زندگی میں سیکھنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور کبھی کبھی سیکھنے میں دیر ہو بھی جائے، تو کوئی بات نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہم نے سیکھا۔ چاہے تکلیف کے ذریعے، چاہے دھوکہ کھا کر، چاہے تنہائی میں جا کر۔ مگر اس سب کے باوجود، سیکھنا، آگے بڑھنا اور خود کو بہتر بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔