Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • دوہرا معیار ایک گورکھ دھندہ .تحریر :عائشہ اسحاق

    دوہرا معیار ایک گورکھ دھندہ .تحریر :عائشہ اسحاق

    یوں تو ہم پاکستان کے بیشتر مسائل سے بخوبی واقف ہیں جو اکثر زیر بحث رہتے ہیں، ان تمام مسائل اور ان کی مختلف وجوہات کے متعلق گفتگو کرنا اپنے اور اپنی نسلوں کے انجام سے بے خبر عوام کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے تمام تر مسائل کی جڑ دوہرا معیار ہے، اس دوہرے معیاری نظام کی وجہ سے پاکستان مسلسل بدحالی اور غربت کا شکار ہے۔اصل میں دوہرا معیار ی نظام ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جس میں ایک غریب کا بچہ ساری زندگی امیر کے بچے کی جیسی زندگی حاصل کرنے کے لیے کوشش میں لگا رہتا ہے مگر وہ مقام پر نہیں پہنچ سکتا جہاں امیر کا بچہ پیدائشی طور پر ہی مزے اڑا رہا ہوتا ہے اسی طرح زندگی کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھک کر غریب اپنی زندگی تمام کر بیٹھتے ہیں مگر کبھی بھی وہ ترقی وہ آسائشات حاصل نہیں کر پاتے جو انہیں دور کہیں دکھائی دیتی ہیں، غریب لوگ صرف کامیابی ترقی دولت آسائشات ایک دھندلے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں مگر ان تک کبھی پہنچ نہیں سکتے۔یہ کوئی تقدیر کا لکھا ہوا عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک انسانی گھناؤنا جال ہے۔دوہرا معیار ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت ملک میں دو گروہ قائم ہیں پہلا گروہ وہ ایلیٹ کلاس طبقہ ہے جس میں سیاستدان, بیوروکریٹس, بڑے بڑے سرمایہ دار, جاگیردار, زمیندار اور اعلی افسران شامل ہیں۔ دوسرا گروہ عوام کا ہے جس میں مڈل کلاس یعنی درمیانے درجے کے لوگ جو اپنا گزر بسر کسی نہ کسی طرح کچھ بہتر انداز میں چلا رہے ہوتے ہیں اس کے بعد نہایت غریب لوگ آتے ہیں جنہیں پہننے کے لیے کپڑا رہنے کے لیے چھت تو دور کی بات ہے کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی بھی ہوئی میسر نہیں ہوتی یہ وہ بد قسمت طبقہ جن کی زندگی جانوروں سے بھی زیادہ بدتر ہے ساری زندگی چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لیے ترستے ترستے آخر کار فانی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ہزاروں خوابوں اور امیدوں سے بھری آنکھیں کسی روز بے نور ہو جاتی ہیں۔

    حقیقت کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلا گروہ یعنی ایلیٹ کلاس سارا کھیل عام مڈل کلاس اور غریب عوام کے ذریعے ہی کھیلتا ہے سادہ الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایلیٹ کلاس ہی عام عوام کے تمام حقوق پر قابض ہے یہ نہایت منظم طبقہ ہے جو اپنی طاقت کا پرزور استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ مڈل کلاس اور غریب عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے ان کے تمام تر حقوق اور وسائل کو ہڑپ کر جاتا ہے اور یہی چیز انہیں مزید دولت مند اور طاقتور بنا رہی ہے۔جس طرح ایک شکاری بخوبی جانتا ہے کہ اسے اپنا مطلوب شکار پھانسنے کی خاطر جال کس طرح بچھانا ہے اور اس میں شکار پکڑنے کے لیے دانہ کس طرح ڈالنا ہے اسی طرح یہ ایلیٹ کلاس طبقہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ عوام کو کس طرح اپنے ذاتی مفادات کی خاطر استعمال کرنا ہے ۔تمام تر قوانین پالیسیاں اور ایکٹ یہ با اثر طبقہ اپنے ذاتی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی بناتا ہے جس سے غریب عوام کا کوئی فائدہ نہیں۔واضح الفاظ میں بات کی جائے تو ان لوگوں کی نظر میں عام غریب عوام احمق غلاموں اور کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کس طرح سے عام عوام کا استعمال کرتے ہیں، یوں تو غیر منصفانہ اور انسانی حقوق کی پامالی کی داستانیں بہت طویل اور قصے بے شمار ہیں مگر یہاں کچھ ایسی مثالیں ہیں جو واضح کر سکتی ہیں کہ یہ الیٹ کلاس طبقہ کس طرح سے عوام کو بے وقوف بنانے میں سرگرم ہے۔

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عوام جن میں اکثریت زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے یہ پولیٹیکل اور ایلیٹ سادہ عوام کو ایسے سنہرے خواب دکھاتے ہیں کہ آپ اور آپ کی نسلیں سنور جائیں گی،آپ بہت خوشحال ہو جائیں گے ملک کی تقدیر بدل جائے گی، وغیرہ وغیرہ جب کہ حقیقت میں وہ تمام پالیسیاں اور منصوبے ان لوگوں کے ذاتی فائدے کی خاطر ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر آج سے غالبا 22 سال پہلے جنرل مشرف نے کہا کہ گوادر پورٹ پاکستان کی قسمت بدل کر رکھ دے گا ہمارا ملک دبئی بن جائے گا ایسا سننا ہی تھا کہ پاکستانیوں نے خوشی میں جھومتے ہوئے رییل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ کرنا شروع کر دیا پورا ملک پھولے نہ سما رہا تھا۔ لیکن ہوا کیا ہے کیا اج وہاں پر گوادر پورٹ تو موجود ہے ہوٹل موجود ہیں مگر وہ معاشی معجزہ کہیں نظر نہیں آیا جس کا خواب عوام کو دکھایا گیا تھا ،عام عوام کی حالت کل بھی خستہ تھی اور آج بھی ویسی ہی ہے۔ اسی طرح 2014 میں سی پیک کا اعلان کیا گیا جس کو پاکستان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ یہ گیم چینجر ثابت ہوگا اس کی بیس پر چائنا نے کافی انویسٹمنٹ کی مگر اس انویسٹمنٹ کا کوئی رزلٹ پاکستانی عوام تک نہیں پہنچ سکا، گیم چینج تو بالکل نہ ہوا البتہ چائنہ کا قرض عوام پر ضرور پڑھتا چلا گیا۔شروع میں دکھائے جانے والے سنہرے خواب عوام کے لیے ڈراؤنے خواب بن جاتے ہیں اور ان کا اصل فائدہ اور مزہ پولیٹیکل اور ایلیٹ کلاس طبقہ ہی لیتا ہے۔

    صرف اتنا ہی نہیں غریب عوام کے نام پر جو قرض آئی ایم ایف سے لیا جاتا ہے وہ پیسہ بھی ایلیٹ کلاس اپنے لائف سٹائل کو مزید بہتر بنانے میں ہی اڑاتے ہیں اور جو بچ جاتا ہے اسے ڈبل پرافٹ والی سکیمو ں میں لگا دیا جاتا ہے بجائے اس کے کہ عوام کی فلاح و بہبود پر استعمال کیا جائے وہ پیسہ بھی انہی لوگوں کی لگژری لائف کو مزید لگژری بنانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس سے جو خلا پیدا ہوتا ہے اس کو پورا کرنے کے لیے پاکستان مزید قرض اٹھاتا ہے یعنی قرض کی ادائیگی کے لیے مزید قرض اٹھانے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح بڑھ جاتی ہے اور عوام پر مزید اضافی ٹیکس لگا دیے جاتے ہیں۔ پورا پیسہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کے بعد عوام کو مہنگائی اور بے جا ٹیکس کا تحفہ دیا جاتا ہے۔پاکستان 40 فیصد قرضوں کی ادائیگی میں دیتا ہے تو ایسے میں فلاح و بہبود کیسے ہو سکتی ہے قرض دینے والے اور قرض لینے والے دونوں ہی پیسوں کے مزے اڑاتے ہیں اور عوام کو ایوانوں میں کھڑے ہو کر نعرے لگا لگا کر بے وقوف بنایا جاتا ہے کہ ملک کو اسلام کا قلعہ بنا دو سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ ایوانوں کی تقریریں آج بھی سن لیں وہی جوش ولولہ اور سنسنی نظر اتی ہے کہ یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا مگر کچھ بھی بہتر نہیں ہوتا ہے۔

    عوام کی بے وقوفی، غفلت اور بزدلانہ سوچ کی وجہ سے یہ طبقہ بوتل سے آزاد ہوئے جن کی مانند کھلے عام قانون کی خلاف ورزی اور حقوق کی پامالی ڈنکے کی چوٹ پر کر رہا ہے۔گویا انہیں اس بات پر یقین ہو چکا ہے کہ ان کیڑے مکوڑوں اور غلاموں میں سے کوئی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ کوئی عام شہری ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں بھاری چالان اور شدید خواری کا سامنا کرتا ہے جبکہ ایک ایسا واقعہ جو 19 اگست 2024 کو کراچی میں پیش ایا جس میں ایک بڑے صنعت کار کی بیٹی اور چیئرمین گل احمد انرجی لیمٹڈ دانش اقبال کی بیوی نتاشا دانش نشے میں ڈرائیو کرتے ہوئے باپ بیٹی کو موقع پر کچل ڈالتی ہے عوام کہ گھیرنے پرسیکورٹی اہلکار ایک قاتل عورت کی حفاظت کے لیے فورا موقع پر پہنچ جاتے ہیں یہ ایلیٹ کلاس کے نہایت منظم ہونے کا بھی ثبوت ہے۔نتیجہ کیا چند دنوں بعد وہ عورت وکٹری کا نشان بناتے ہوئے رہا ہو جاتی ہے جو غریب عوام کے منہ پر طمانچہ ہے۔یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ایسے اور بھی بہت سارے واقعات ہیں جو اس نظام کو ننگا کرتے ہیں۔ یہ طبقہ اپنے لیے جب چاہے جیسے چاہے قوانین قائم کر لیتا ہے ،

    طبقاتی فرق ملک کا سب سے گھمبیر مسئلہ ہے۔ جس میں غریب غربت کی دلدل سے کبھی باہر نہیں ا سکتا لیکن جس طرح کوئی تالا چابی کے بغیر نہیں بنتا اسی طرح کوئی مسئلہ بھی ہلکے بغیر نہیں ہوتا ہے حل جاننے کے لیے مسئلے کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے جو کہ غریب عوام سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتی۔ ایلیٹ کلاس لوگ جو تعداد میں کم ہے اور ہم عوام تعداد میں بہت زیادہ ہیں مگر یہ لوگ عوام کی سوچ پر قابو پا لیتے ہیں عوام کی اکثریت یہی بات سوچتی رہتی ہے کہ پاکستان کا تو کچھ نہیں ہو سکتا ہے کچھ نہیں ہوگا ،دراصل یہ مایوسی میری سوچ ہے عوام کے ذہن میں آتی نہیں ہے بلکہ ڈالی جاتی ہے ایلیٹ کلاس تمام تر قوانین کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا بخوبی جانتے ہیں جب بھی کوئی ان کے نظام کے خلاف آگاہی یا مہم چلانے کی کوشش کرتا ہے یہ طبقہ فورا حرکت میں آ جاتا ہے اور ایسی تحریکوں کو دبا دیا جاتاہے، عام عوام کا دماغ فورا تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ اپنے حقوق کو حاصل کرنا سیکھیں آپ بھی منظم ہوں، اتحاد بنائیں اور کسی کے پٹواری یا کسی کے جیا لے بننے سے گریز کریں اپنی بقا کی جنگ لڑیں، یاد رکھیں یہ وہ طبقہ ہے جو آپ کو کبھی نہیں اٹھنے دے گا کیونکہ ان کا مفاد آپ کی غربت سے جڑا ہے ۔آپ نے ان سے اپنے حقوق خود حاصل کرنے ہیں۔یہ بدحالی یہ بدقسمتی کوئی تقدیر کا لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ نہایت ہوشیاری کے ساتھ آپ پر مسلط کی گئی ہے اور آپ کو ایک ایسے شکنجے میں جکڑ لیا گیا ہے جہاں سے نکلنے کے لیے آپ کو متحد اور باہمت ہونا پڑے گا۔ اگر آپ بھی متحد ہو جائیں گے تو وہ دن دور نہیں جب آپ ان کے چنگل سے آزاد ہو جائیں گے۔

  • پاک بھارت جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں .تحریر:ملک سلمان

    پاک بھارت جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں .تحریر:ملک سلمان

    کچھ دن قبل میرے قریبی دوست میجر زاہد کی شادی کا کارڈ ملا کہ بھائی آپ نے 27اپریل کو لازمی شرکت کرنی ہے۔ ابھی تھوڑی دیر قبل میجر زاہدکی کال آئی کہ میں نے اپنے شادی کینسل کردی ہے، جس وقت وطن کو سرحد پر میری ضرورت ہے ایسے وقت میں گھر پر نہیں بیٹھ سکتا، جب امن قائم ہوگا تو نئی تاریخ سے اگاہ کردوں گا۔ یہی جذبہ آرمی، ائیر فورس اور نیوی کے دیگر افسران اور جوانوں کا ہے جو جو چھٹی پر تھا سب نے رضاکارانہ طور پر اپنی چھٹی کینسل کی درخواست دیتے ہوئے بری، بحری اور ہوائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے خود کو پیش کر دیا۔
    گذشتہ روز سے ہونے والی پاک بھارت کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرے کے باوجود میرے سمیت سارا پاکستان بہت سکون اور اطمینان میں ہے۔ شادیاں، فرینڈز گیدرنگ، کاروبار، سینما اور کھیل کے میدان سب ویسے ہی آباد ہیں۔کسی کو بھی جنگ کی فکر نہیں سب روٹین کے کاموں میں مشغول ہیں کیونکہ سارے پاکستان کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ہماری بہادر افواج اپنے سے دس گناہ بڑی انڈین آرمی کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ افواج پاکستان پر قوم کا اعتماد اور یقین یہی وہ طاقت ہے جو افواج کے جوانوں کو ہر طرح کے خطرے سے ٹکرا جانے کا جذبہ دیتی ہے۔
    سوائے افواج پاکستان کے سارا پاکستان روٹین لائف انجوائے کر رہا ہے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ جب بھی وطن کو ضرورت ہوگی تو ایم ایم عالم بن کر خود ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے لیکن عوام پاکستان کو خراش بھی نہیں آنے دیں گے۔ پاکستانی عوام تاریخ سے اگاہ ہے کہ وطن عزیز کیلئے راشد منہاس بن کر موت کو ترجیح دیں گے لیکن اس کی ایک انچ پر بھی دشمن کے ناپاک قدم نہیں پڑنے دیں گے۔
    بھارت کے 88ارب ڈالر سالانہ بجٹ کے مقابلے میں افواج پاکستان کا سالانہ بجٹ صرف ساڑھے سات ارب ڈالر ہے۔
    مسلح افواج کیلئے سالانہ بجٹ کے لحاظ سے امریکہ، چائنہ اور روس کے بعد بھارت چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان چالیسویں نمبر پر ہے۔ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والا پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کی موسٹ پاورفل افواج میں ٹاپ تھری میں ہے۔ گذشتہ ماہ بلوچستان ٹرین ہائی جیکنگ کو جس طرح ناکام بنا کر تمام مسافروں کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ایسا کامیاب آپریشن دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں دیکھا گیا، اس لیے پاکستان آرمی کے اس کامیاب آپریشن کودرجنوں ممالک کی "وارسٹڈی” کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بیسوں ممالک کی آرمی کے سنئیر افسران جنہوں نے ملکی کمانڈ کرنی ہوتی ہے وہ "وارکورس” کیلئے نیشنل ڈفینس یونیورسٹی اسلام آباد آتے ہیں۔ پاکستان کی بہادر افواج کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔
    میں خود بھی روٹین معاملات میں مگن ہوں اور آپ سے بھی یہی کہوں گا کہ آپ اپنی روزمرہ لائف کو انجوائے کریں لیکن اس خود اعتمادی، سکون اور تحفظ کا باعث بننے والی افواج پاکستان کیلئے دل سے شکریہ افواج پاکستان ضرور کہیں، فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ہیش ٹیگ میں بھارت کو مینشن کرکے بتائیں کہ ہم بے فکر ہیں، یہ دیکھو کھیل کی میدانوں میں، سینماؤں، ریسٹورنٹ اور تفریح گاہوں میں میں انجوائے کررہے ہیں کیونکہ ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور افواج پاکستان ہماری محافظ ہے۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہرمشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

  • بھارتی دہشتگردی بے نقاب،دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھارتی دہشتگردی بے نقاب،دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہر الزام پاکستان پر مسلط کرنا مودی کا وطیرہ،بھارتی میڈیا بھی اقدار بھول گیا
    کشمیر جنت نظیر وادی کو خون میں کس نے نہلایا ،دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہیئں
    بزدل مودی سرکار جاہلیت کی ہر حد پار کرگئی،ناٹک پر ناٹک گھٹیا سوچ کےعکاس
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    بھارت کی جانب سے بھارت میں دہشت گردی کے بعد سندھ طاس معاہدہ کی معطلی فیصلہ بھارتی جارحیت اور انتہاپسندی کی نشاندہی کرتا ہے، پاکستان کیخلاف اسی طرح کے دوسرے اقدامات جو سامنے آئے ہیں اس سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ بھارت ایک غیر سنجیدہ ملک ہے مودی حکومت اپنے اندرونی مسائل کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتا، پاکستان خود دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے مودی حکومت بتائے بلوچستان میں دہشت گردوں کی مالی امداد کون کر رہا ہے؟ افغانستان میں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے امن کو کون تباہ کر رہا ہے؟ مقبوضہ جموں و کشمیر تو بھارتی فوج کے کنٹرول میں ہے جہاں بھارتی فوج نے خون کی ندیاں بہا دیں اس جنت نظیر کو برباد کرنے والا کوئی اور نہیں بھارت خود ہے کشمیر میں دہشت گردی کے بعد مودی حکومت بھارتی سوشل اور الیکٹرونک میڈیا نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا ، ایک طوفان برپا کر دیا ، پاکستان نے دہشت گردی کی مذمت بھی کی ہے ،بھارت کی سکیورٹی ایجنسی کہاں تھی، بھارتی سلامتی کے ذمہ دار ادارے کہاں تھے؟ بغیر تحقیق پاکستان پر الزام لگانا اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے، سوال یہ بھی ہے کہ مودی حکومت نے اپنی بقا ءکے لئے یہ دہشت گردی کروائی ہو جیسا کہ سینیٹر مشاہد حسین نے بیان دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے لئے بھارت نے بہانہ بنایا، سچ تو یہ ہے کہ بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا ،بیشمار دفعہ جنگی صورتحال پیدا ہوئی تاشقند سے لے کر شملہ اور لاہور سے لے کر آگرہ تک مصنوعی معاہدے بھی ہوئے لیکن ایسے ہر دور کے بعد صورتحال ماضی سے زیادہ ابتر ہوتی چلی گئی، بالخصوص موجودہ مودی سرکار ایک ناٹکی حکومت ہی قرار دی جا سکتی ہے ناٹک پر ناٹک

  • کتابوں کا عالمی دن، تحریر:  راحین راجپوت

    کتابوں کا عالمی دن، تحریر: راحین راجپوت

    ایسے لوگوں کا ظرف کیا ہوگا ،

    جن کے گھر میں کوئی کتاب نہیں ۔

    ان کو بینا بھی کہہ نہیں سکتے ،

    جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ۔

    ہر سال 23 اپریل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتابوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔
    ما سوائے برطانیہ اور امریکہ کے ، ان دو ممالک میں کتابوں کا عالمی دن 4 مارچ کو منایا جاتا ہے ۔
    اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں کتب بینی اور علم کو عام کرنا ہے اور پوری دنیا میں کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ۔
    عالمی یوم کتاب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت منایا جاتا ہے ، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عوام میں کتب بینی کا فروغ ، اشاعت کتب اور اس کے حقوق کے بارے میں شعور کو اجاگر کرنا ہے اس دن کو منانے کی ابتداء 1995 ء میں ہوئی ۔
    کتاب اور علم دوست معاشروں میں یہ دن بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔
    جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں اور انہیں عزت دیتے ہیں حقیقت میں وہی لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں ۔
    کیونکہ کتاب ہی آپ کی وہ واحد دوست ہے جو کبھی بھی آپ کو تنہا نہیں ہونے دیتی ۔
    اگر ہم فضولیات کی بجائے کتاب دوستی کو پرموٹ کریں تو ہم کبھی بھی زوال پزیر نہیں ہوں گے ۔ آج تک ہم نے جتنا علم حاصل کیا ہے وہ کتاب ہی کی بدولت ہے ، کیونکہ کتاب کی خوشبو واحد خوشبو ہے جو ہمارے دل و دماغ کو معطر کرتی ہے ۔
    بیشک آج کمپیوٹر دور ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں کتب شائع ہو رہی ہیں اور پڑھی جا رہی ہیں کیونکہ جو مزہ بک ریڈنگ میں ہے وہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا ۔
    آپ اگر اپنی دن بھر کی تھکاوٹ اور بوریت ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی بک شیلف میں سے ایک عدد کتاب اٹھائیں اور اس کا مطالعہ شروع کردیں ، یقین جانیئے کتاب آپ کو تھپک تھپک کر نیند کی ان خوبصورت وادیوں میں لے جائے گی جہاں نہ ہی بوریت رہے گی اور نہ ہی تھکاوٹ اور جب آپ اٹھیں گے تو ایک الگ طرح کی کیفیت اور طمانیت طاری ہو جاتی ہے کہ آپ سب کچھ بھول کر ایک نئی دنیا میں پرواز کر رہے ہوتے ہیں اور اس پرواز کو کوئی چاہ کر بھی نہیں روک سکتا اور یہ صرف کتاب ہی کی بدولت ہے ۔
    آج تک ہم نے جتنا علم حاصل کیا ہے اس کا سہرا صرف کتاب کے سر جاتا ہے ۔ کتابوں سے محبت ہماری فطرت میں شامل ہونی چاہیئے ، کیونکہ کتاب سے محبت ہی ہمیں اچھے برے میں تمیز کرنا سکھاتی ہے اور ہمارے شعور کے وہ در وا کرتی ہے جس کا ہمیں وہم و گماں بھی نہیں ہوتا ۔
    جس معاشرے میں کتاب کو پرموٹ نہیں کیا جاتا ان کے مقدر میں ذلت ورسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے دوست احباب اور جاننے والوں کو صرف کتاب ہی تحفہ دیا کریں تاکہ ہم بھی کتاب کی اہمیت سے آگاہ ہو سکیں کہ جو ایک کتاب کی اہمیت ہے وہ کسی اور چیز کی نہیں ۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی کتابوں کی اہمیت کے بارے میں روشناس کرائیں اور انہیں بتائیں کہ کتاب آپ کی وہ واحد دوست ہے جو آپ کو کبھی بھی تنہا نہیں ہونے دے گی ۔ اگر آپ اپنی تنہائی کا کسی کو ساتھی بنانا چاہتے ہیں تو کتاب سے بڑھ کر آپ کا کوئی دوست نہیں ۔ کتاب کبھی بھی آپ کو تنہا نہیں ہونے دے گی ۔ کتاب ہماری وہ مخلص ساتھی اور دوست ہے جو ہماری ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور غور وفکر کرنے کے نئے در کھولتی ہے اور ہماری سوچ کو وسعت دیتی ہے ۔
    موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے کتاب کی اہمیت اور قدر کو دھندلا دیا ہے ، اس کے علاوہ شرح خواندگی کی کمی بھی کتاب سے دوری کی بڑی وجہ ہے ۔
    ان مسائل کے حل کے لئے ہمیں مناسب وسائل کی فراہمی ممکن بنانا ہوگی ۔ گھروں میں والدین اور سکول و کالجز کی سطح پر اساتذہ کرام اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر سیمینارز منعقد کروا کر بچوں کو کتب بینی کی طرف راغب کرنا ہوگا ۔

  • کتابیں صرف لفظ نہیں یہ تہذیبوں کا آئینہ ہیں ،پرو فیسر ڈاکٹر کنول امین

    کتابیں صرف لفظ نہیں یہ تہذیبوں کا آئینہ ہیں ،پرو فیسر ڈاکٹر کنول امین

    لائبریری گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی کے زیر اہتمام ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے منایا گیا ۔تقریب کی مہمان خصوصی وائس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر کنول امین تھیں۔ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کتاب انسان کی دانش کا ذریعہ ہے ٹیکنالوجی کبھی کتاب کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔اور کہا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم کی اصل بنیاد کتاب ہے ترقی یافتہ قومیں اپنی لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور تحقیق سے پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائبریری اپگریڈ عوام کی ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے اور کہا کہ اے آئی جیسے ٹولز کی افادیت سے انکار نہیں لیکن یہ صرف مددگار ٹولز ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب اور لٹریچر کو مقامی رنگ اور اپنی ثقافت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے ہمیں اپنی زبان، اپنی شناخت، اور اپنی پہچان پر فخر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب بینی کو اپنی عادت بنائیں اور مختلف مصنفوں کی کتابیں پڑیں اس سے ذخیرہ الفاظ مین اضافہ ہو گا اور آپ اپنے اپ میں تبدیلی بھی محسوس کریں گے ۔پنجابی زبان کی ترویج کے لئے کہا کہ یہ ہماری مادری زبان ہے اسے مرنے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ سکول لیول سے ضروری نصاب کے طور پر سلیبس کا حصہ ہونا چاہیے ۔ تقریب کے دوران مختلف مقررین نے بھی کتاب اور مطالعے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب فیشن کا حصہ ہونی چاہیے ہر پارک، کیفے اور ہوٹل میں ایک بک کارنر ہونا چاہیے تاکہ مطالعہ کو عام کیا جا سکے۔تقریب میں لائبریری کے تحت جاری ڈی سپیس پروجیکٹ کاافتتاح کیا گیا، جس کے تحت یونیورسٹی کی تحقیق اور تخلیقات کو ایک ڈیجیٹل اسپیس میں محفوظ کیا جا ئے گا تاکہ عالمی سطح پر رسائی ممکن ہو سکے۔ ڈاکٹر کنول امین نے لائبریرین مصباح بشیرکی کوششوں کو سراہا کہ انہوں نے نہ صرف اس پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کی بلکہ اس کے نفاذ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔کتاب دوستی کے فروغ کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں واک ، پینل ڈسکشن، اوتھر ٹربیوٹ ،مصنیفین اور شعرا کے ساتھ ایک سیشن ،شوکاز آف شاہ موکھی پنجابی ورنیٹ پروجیکٹ ،سٹیمپس کولیکشن اور کوئز کمپیٹیشن شامل تھے۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو شیلڈ سے نوزا گیا ۔

  • ایمان و حیا،لازم و ملزوم،تحریر:نور فاطمہ

    ایمان و حیا،لازم و ملزوم،تحریر:نور فاطمہ

    ایمان اور حیا دو ایسی بنیادی خصوصیات ہیں جو ایک مسلمان کی شخصیت کی پہچان بناتی ہیں۔ ان دونوں کا تعلق انسان کی روحانیت اور اخلاقی اقدار سے ہے، اور دونوں کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ان میں سے ایک کی کمی، دوسری کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ایمان ایک ایسا عقیدہ ہے جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے احکام پر یقین کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ ایمان انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ کی رضا، اس کی ہدایات، اور آخرت کی حقیقت پر ایمان انسان کو نیک عمل کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ایمان کا اثر انسان کے عمل، سوچ، اور دل پر پڑتا ہے۔ جب ایمان مضبوط ہوتا ہے، انسان میں اچھے اخلاق، صدق، امانت داری، اور سچائی کی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ ایمان کی کمی انسان کو دنیا کی فریب کاریوں میں مبتلا کر سکتی ہے، اور وہ اخلاقی لحاظ سے گرنے لگتا ہے۔

    حیا انسان کی ایک اندرونی خصوصیت ہے جو اسے برے کاموں سے روکنے اور اچھے کاموں کی طرف راغب کرتی ہے۔ حیا کا تعلق انسان کی عفت و پاکیزگی سے ہے۔ جو انسان حیا دار ہوتا ہے، وہ اپنے کردار، زبان اور عمل میں اعتدال کا مظاہرہ کرتا ہے۔ حیا انسان کو کسی بھی برے کام سے بچاتی ہے اور اسے اپنی عزت نفس کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔حیا کا عمل نہ صرف معاشرتی سطح پر ضروری ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی روحانیت سے بھی ہے۔ حیا انسان کے ایمان کا مظہر ہوتی ہے۔ جب انسان میں حیا ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خواہش میں اپنی بےہودہ حرکتوں سے بچتا ہے۔

    ایمان اور حیا ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایمان کی روشنی دل میں کم ہو جائے تو انسان کی حیا بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایمان کی طاقت انسان کو برے کاموں سے روکتی ہے، اور حیا اس کی حفاظتی قوت بنتی ہے۔ اگر ایمان کمزور ہو جائے، تو حیا بھی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ انسان کے دل میں اللہ کی عظمت اور اس کے احکام کا خوف کم ہو جاتا ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "اگر ایمان کسی شخص کے دل میں ہوتا ہے، تو اس کے اندر حیا ضرور ہوگی۔” (صحیح مسلم)اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور حیا ایک دوسرے کا جزو ہیں، اور ان میں سے ایک کی کمی دوسرے کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایمان اور حیا کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں اللہ کی یاد کو اپنی عادت بنائے۔ نماز، ذکر، قرآن کی تلاوت اور صدقہ انسان کو اپنے ایمان کو مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اچھی صحبت، نیک لوگوں کا ساتھ اور برے کاموں سے بچنا بھی ایمان اور حیا کی حفاظت کا اہم ذریعہ ہے۔

    ایمان اور حیا دونوں انسان کے اندر کی خوبصورت خصوصیات ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتیں۔ جب ایمان مضبوط ہوتا ہے، تو حیا کی روشنی دل میں درخشاں ہوتی ہے۔ اور جب حیا موجود ہوتی ہے، تو انسان کی زندگی میں عزت، وقار اور اخلاقی استحکام آتا ہے۔لہذا، ہر مسلمان کو اپنی زندگی میں ایمان اور حیا کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ وہ اللہ کی رضا اور معاشرتی اخلاقی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزار سکے۔ ان دونوں کی حفاظت کی کوشش کرنا ہی اصل میں ہماری روحانیت اور اخلاقی کامیابی کی ضمانت ہے۔

  • ہمیں سوگئے داستاں  کہتے کہتے  .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں ان دنوں گندم کی کٹائی زوروشور سے جاری ہے بارانی علاقوں میں کٹائی کا عمل تقریبا مکمل ہوچکا ہے جبکہ نہری علاقے جہاں گندم کے فصل کو پانی دیا جاتا ہے وہاں یہ سلسلہ کہیں کہیں اب شروع ہورہا ہے اور کچھ علاقوں میں ابھی کٹائی ہونا باقی ہے ہم چونکہ بارانی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں زیر زمین پانی بھی بہت گہرائی میں ہے اور ہمارے لوگوں کو زراعت میں اتنی دلچسپی بھی نہیں ہے خیر یہ ایک الگ موضوع ہے آج کل کچھ لوگ جدیدیت کی طرف بھی آرہے ہیں منی ڈیم کنووں اور بور کی مدد سے پانی حاصل کرکے زمینوں کو سیراب کیا جارہا ہے اور مختلف فصل سبزیاں اگائی جارہی ہیں لیکن بہت کم تعداد میں لوگ اس طرف آئے ہیں
    تو یوں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہمارے اس پوٹھوہاری علاقے تلہ گنگ کے گردونواح میں گندم کی کٹائی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اب ہر طرف تھریشر سے اٹھتے گردوغبار ہیں جو دن بھر دیکھنے کو ملتے ہیں یہ ماضی سے بالکل مختلف زمانہ ہے اس وقت ہم ایک دوسرے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں

    آج کی تحریر کا مقصد ماضی کی کچھ یادوں کو ہی تازہ کرنے کا ہے چونکہ موسم بھی گندم کی کٹائی کا ہے اور ہمارا آج کا موضوع بھی یہی ہے تو ہم ذرا اسی اور نوے کی دہائی میں یادوں کے سہارے واپس اسی سہانے زمانے میں چلتے ہیں اور ان بیتے سنہری دنوں کی یاد میں کچھ لمحے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اسی اور نوے کی دہائی کا ذکر اس لئے ضروری سمجھا کہ یہی وہ دن تھے جب ہم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور والدین کا ہاتھ بٹانے کا عملی کردار بھی ادا کیا بے شک وہ کردار ہم سے زبردستی ادا کروایا گیا لیکن ہم اس کا مکمل حصہ تھے اور آج وہ بیتے دن وہ سہانے دن بہت یاد آتے ہیں ہاں کچھ دماغ سے محو بھی ہوئے کیونکہ اب ہم چپکے سے جوانی کی دہلیز کو پارکرچکے ہیں اور اس عمر میں اکثر بھولنے کی عادت بھی ہو جاتی ہے اور آج کل تو آئے روز ہمارے ساتھ کوئی ایسا واقعہ ہوہی جاتا ہے جس میں ہمیں یہ پریشانی لاحق رہتی ہے کہ واقعی بڑھاپا کتنا مشکل ہوتا ہوگا جو بہت قریب بھی آچکا ہے

    صبح سویرے فجر کی اذان سے قبل کسان حضرات اپنی کھیتوں میں گندم کی کٹائی میں جانے کے لئے اٹھ جایا کرتے تھے گھر کی عورتیں روٹیاں پکانے اور لسی مکھن بنانے کے کام کو جلد نمٹاکر مردوں کے شانہ بشانہ پورا دن گندم کی کٹائی میں مصروف عمل رہا کرتی تھیں نماز ظہر سے تھوڑا پہلے کھانے اور چائے کا وقفہ ہوتا تھا اس سے قبل پانی کے ساتھ گڑ کھانے کا ایک آدھ وقفہ بھی ہوتا تھا جو بہت ہی مختصر وقت کے لئے ہوتا تھا نماز ظہر کی ادائیگی انہیں کھیتوں میں لگے گھنے درختوں کے نیچے ادا کی جاتی تھی اور کچھ وقت سستانے کے بعد پھر سے کھیتوں میں یہی عمل دہرایا جاتا تھا عصر کی نماز کے بعد چھٹی ہوتی تھی اور لوگ گھروں کو روانہ ہوجایا کرتے تھے تب ٹریکٹر نہ ہونے کے برابر تھے اکثر کسان اپنے جانور گائے بیل کی مدد سے ہل چلا کر اور زمین کو اچھی طرح ہموار کرکے اس میں گندم یا اور فصل بویا کرتے تھے یقین کریں اس زمانے میں لفظ خیروبرکت کی اہمیت کا ذرا بھر علم نہ تھا بالکل سمجھ نہیں تھی گزرے دنوں کی خیروبرکت کا آج سے موازنہ کیا تو اپنا دامن خالی پایا اور غموں کی اس دنیا میں اپنے آپ کو غفلت میں ڈوبتا دیکھا آج خیروبرکت ہمارے گھروں کھیتوں اور کہیں بھی پورا وجود نہیں رکھتی یہ حقیقت ہم پر اب عیاں ہوئی ہےاس وقت جدید مشینری کے ذریعے کھیتی باڑی کی جارہی ہے اسی زمین سے سوسو بوری گندم کی پیداوار ہوتی تھی اور آج دس سے پندرہ بوری بمشکل ۔۔۔

    کٹائی کا یہ عمل آٹھ دس روز رہتا اس کے بعد مقامی اوٹھی اپنے اونٹوں پر گندم لاد کر کھلیان تک پہنچایا کرتے تھے اور اپنا پہاڑہ وصول کرتے تھے جو اناج کی شکل میں ہوتا تھا کھلیان پر ایک ڈھیر سا لگ جایا کرتا تھا اور کچھ دن بعد اس گندم کو کھلیان پر بکھیر کر گائے اور بیل کے پیچھے میڑھے باندھ کر گندم کو گہائی کے عمل سے گزارا جاتا ہم اکثر ان میڑھوں پر بیٹھ کر سواری سے بھی لطف اندوز ہواکرتے تھے یوں دن بھر بکھری گندم پرجانوروں کو گھماگھما کرگہائی کے بعد گندم کو اکٹھا کیا جاتا اور ایک لمبا سا ڈھیر لگایا جاتا اور دور کہیں سے ہوا کا جھونکا آتا تو ترینگل کی مدد سے اس گندم کوہوا میں اڑایا جاتا جس سے گندم کا بھوسہ الگ اور دانے الگ ہوا کرتے تھے

    بعد ازاں گندم کے دانوں کا ایک بڑا سا ڈھیر لگ جاتا جسے گاؤں کے موچی کی مدد سے صاف کیا جاتا کسان کرائی سے دانے ہوا میں اچھالتا اور موچی کا کام ان دانوں کی مزید صفائی کے لئے جھاڑو لگانا ہوتا تھا اس کے بعد گندم کے دانوں کی بوریاں بھریں جاتیں اور کسان اپنے کندھے یا کچھ فاصلہ ہوا تو گدھی کی پیٹھ پر بوری لاد کر اپنے گھروں تک پہنچایا کرتے تھے ماضی میں گندم کی کٹائی کے زمانے بڑے دلچسپ بڑے سحرانگیز ہوا کرتے تھے گاؤں میں ہمارے گھر کے عقب میں آباد ی نہیں تھی ایک جنگل سا تھا جنگلی جانور پرندے آزادانہ گھوما کرتے تھے گندم کی کٹائی کے دنوں میں جب ہم صبح سویرے بیدار ہوتے تو ایک پرندہ جسے ہم مقامی زبان میں ڈورڑی کہتے تھے روزانہ اللہ رب العزت کی تسبیح بیان کرتا سنائی دیتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ اس پرندے کا گھونسلہ ہم سے چالیس پچاس فٹ اونچا کھلے آسمان تلے معلق ہے لیکن ہمیں بعد میں پتا چلا کہ اس کا گھونسلہ تو زمین پر پھیلے کھپی کے پودوں میں ہے جس کے انڈے اور بچے بھی ہم کبھی کبھی چرا لیا کرتے تھے وہ پرندہ چالیس پچاس فٹ کے فاصلے کی اونچائی پر اپنے معصوم سے پروں کو پھیلا کر ایک جگہ رک جاتا تھا اور اپنے رب کی تسبیح بیان کرتا رہتا تھا

    برسوں بعد اس پرندے کی موجودگی بارے ہم نے ایک دفعہ اپنی والدہ محترمہ سے پوچھا کہ کیا اب بھی وہ پرندہ صبح منہ اندھیرے اٹھ کر کھلے آسمان کے نیچے ہوا میں معلق ہوکر اپنی معصوم سی بولی میں اپنے رب کی حمد سناتا ہے تو والدہ محترمہ نے ہمیں بتایا کہ نہیں اب وہ پرندہ ناپید ہوچکا ہے یہاں اس کی نسل ختم ہوچکی ہے اوراس کی آواز ایک عرصے سے سنائی نہیں دی ، ہمارے ہاں مقامی سطح پر اب وہ ماضی کی یادیں ہی بچی ہیں اوراب ان یادوں کو سنانے والے بھی دھیرے دھیرے اس معصوم پرندے کی مانند غائب ہوتے جارہے ہیں ہماری طرح کے چند لوگ آج بھی ماضی کے اس خوبصورت زمانے کو یاد کرتے ہیں لیکن وہ زمانہ اب گزر چکا ہے بس یادیں ہی بچی ہیں باقی کچھ بھی نہیں بچا نہ وہ محبتیں رہیں نہ وہ رشتوں کے احترام رہے اور نہ ہی وہ اعلی اقدار اور روایات زندہ رہیں
    زمانہ بڑی شوق سے سن رہا تھا
    ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

  • آغوشِ ماں.تحریر”سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر”سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • تبدیلی ،ہمیشہ خود سے،تحریر:نورفاطمہ

    تبدیلی ،ہمیشہ خود سے،تحریر:نورفاطمہ

    اکثر ہم سنتے ہیں یا خود کہتے ہیں کہ "یہ دنیا بہت بری ہے۔ یہاں اچھے لوگ نہیں رہے۔” لیکن کبھی ہم نے خود سے پوچھا ہے کہ آخر یہ دنیا بری کیوں بنی؟ کیا واقعی دنیا اپنے آپ میں بری ہے یا ہم انسانوں نے اسے ایسا بنا دیا ہے؟

    ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں سے نفرت کرتے ہیں، بغض رکھتے ہیں، حسد کرتے ہیں، پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں، اور موقع ملتے ہی کسی کو نقصان پہنچانے سے نہیں کتراتے۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے دوسروں کی عزت، آرام اور سکون کو قربان کر دیتے ہیں۔اور جب کوئی ہمارے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جیسا ہم نے دوسروں کے ساتھ کیا، تو ہم چیخ اٹھتے ہیں "دنیا بہت خراب ہو گئی ہے۔ لوگ خودغرض ہو گئے ہیں۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں رہی۔”

    یہ دنیا تو ہماری ہی عکاسی کرتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ دنیا وہی ہے جو ہم خود اسے بناتے ہیں۔ دنیا میں محبت ہو، اخلاص ہو، خیرخواہی ہو، یا نفرت، بغض، اور فریب ، یہ سب ہم انسانوں کے رویوں کا عکس ہے۔ دنیا ایک آئینے کی مانند ہے۔ ہم جو اس میں دکھاتے ہیں، وہی ہمیں واپس دکھاتا ہے۔ہم ظلم کرتے ہیں، اور الزام دنیا پر،ایک شخص اگر اپنے اردگرد کے لوگوں کو تکلیف دیتا ہے، انہیں دھوکہ دیتا ہے، زبان سے زخم دیتا ہے، اور دل آزاری کرتا ہے، تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا بری ہے۔ وہ یہ سوچے کہ اس نے خود کتنا برا ماحول پیدا کیا ہے۔ جب ہر شخص اپنے حصے کی روشنی بجھا دے گا تو اندھیرا خود بخود چھا جائے گا۔

    بد اخلاقی، حسد، تکبر، اور نفرت وہ بیماریاں ہیں جنہوں نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہم اپنی زبان سے لوگوں کو کاٹتے ہیں، اپنی آنکھوں سے نفرت کرتے ہیں، اور دل سے دشمنیاں پالتے ہیں۔ پھر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن ہو، محبت ہو، اور بھائی چارہ ہو یہ کیسے ممکن ہے؟اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ دنیا ایک بہتر جگہ بنے، تو ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنے رویے، اپنی نیت، اپنے الفاظ اور اعمال کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب ہر شخص اپنے آپ کو درست کرے گا، تبھی یہ دنیا درست ہو سکتی ہے۔دنیا ویسی ہی ہے جیسا ہم اسے بناتے ہیں۔ اگر ہم اسے محبت، رحم دلی، اخلاص اور حسنِ سلوک سے سجائیں گے، تو یہ خوبصورت ہو جائے گی۔ اور اگر ہم نفرت، بغض، فریب اور ظلم کو عام کریں گے، تو پھر اس میں شکایت کا کوئی حق نہیں رہتا۔تو آئیے، آج سے یہ عہد کریں کہ ہم دنیا کو برا کہنے سے پہلے خود کو بہتر بنائیں گے۔ کیونکہ تبدیلی ہمیشہ خود سے شروع ہوتی ہے۔

  • ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید

    ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید

    کینیڈا سے تشریف لائے معروف باکمال شاعر ڈاکٹر اسد نصیر کے اعزاز میں کل شام ادبی فورم انحراف انٹرنیشنل اور چیپٹرز کے اشتراک سے ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جسے لاہور رنگ ٹی وی نے اپنی سکرین کی زینت بنایا۔
    محترمہ یاسمین حمید کی صدارت اور جناب شہزاد نیر کی خوبصورت نظامت نے محفل کو سحر انگیز بنا دیا۔ جناب شہزاد نیر کا دلی شکریہ انہوں نے مجھے مدعو کیا۔ بینر بنوانے کے لئے شرکت کنفرم کرنے کی بات پر میں نے ان سے درخواست کی کہ بینر پر میرا نام نہ لکھوائیں اور دعوت کو اوپن رہنے دیں، تاکہ اگر کسی مجبوری کے باعث شرکت نہ ہو سکے تو شرمندگی نہ ہو۔ خوشی اس بات کی ہے کہ شہزاد صاحب نے نہ صرف میری بات کو سمجھا بلکہ نہایت خوش دلی سے قبول بھی کیا — اور شاید یہی بات تھی جو مجھے اس شام اس خوبصورت محفل تک کھینچ لائی۔
    سچ کہوں تو کئی بار کی عدم حاضری کے باعث اکثر احباب نے بلانا بھی کم کر دیا تھا۔ لیکن شہزاد نیر صاحب کے خلوص نے ایک بار پھر ادبی محفل سے جوڑ دیا۔ یہ کافی عرصے بعد کسی مشاعرے میں شرکت تھی —
    تمام شعراء سے بہترین کلام سننے کو ملا اور دل جیسے پھر سے زندگی سے بھر گیا۔
    بے حد مبارک باد جناب افتخار الحق اور شہزاد نیر صاحب کو، جنہوں نے نہایت عمدگی سے اس ادبی تقریب کا اہتمام کیا، جو یقینی طور پر ایک یادگار مشاعرہ رہا ۔۔
    اور ہاں ثمینہ سید سے ملاقات کی خوشی الگ سے ہے ۔ اللہ کریم انھیں صحت مند ہنستا مسکراتا رکھے ۔۔
    میرے میڈیا کے دوستوں خاص طور پر محترم عامر نفیس کی شفقت کے لئے بھی ممنون ہوں جنھوں نے اپنی دیرینہ کولیگ کو دوبارہ ایکٹو دیکھ کر نہ صرف بہت خوشی کا اظہار کیا بلکہ بہت سے دعاؤں کے ساتھ میڈیا رپورٹ کو خصوصی طور پر ارسال کیا ۔۔