Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن صرف امیر مقام،پورا خاندان بھرتی کرلیا،دیکھیں کوئی رہ تو نہیں گیا
    کسی کوبرا لگے یا اچھا ، دنیا میں عزت اور مقام صر ف پاک فوج کو ملا،سیاست صرف گپ شپ تک محدود
    اکثر سیاسی اقتدار میں صرف پروٹو کول انجوائے کرتے رہے ،مریم نواز نے پہلی بار ہی پنجاب کا نقشہ بدل دیا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی ہو یا جمعیت علماء اسلام ، جو کچھ سینٹ کے الیکشن میں ہوا، اس نظام زر میں سیاست نہ جمہوریت، عوام کاکوئی مقدر نہیں، سیاسی گلیاروں میں منڈی کا راج ہے،جمہوریت نہیں ہے،عوام کو اس نرکھ میں سسکنا ا ور سلگنا پڑے گا، ملکی سیاسی جماعتوں میں حاکمیت دولت کی رہے گی، سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے، پہلا اور آخری معیار دولت ٹھہرا، نورا کشتیاں ، مفادات کے تابع ہیں ، امریکہ سے مغربی ممالک اور مغربی ممالک سے مڈ ل ایسٹ تک دنیا ہماری سیاست اور جمہوریت سے مکمل آگاہ ہے، کے پی کے مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی امیر مقام اپنی فیملی میں دیکھیں اگر کوئی باقی رہ گیاہے تو اُسے بھی ٹکٹ یا عہدہ دلوانے میں دیر نہ کریں، لگتا ہے مسلم لیگ ن کے پی کے میں صرف آپ اور آپ کے خاندان تک محدود ہے، امریکہ سے لے کر مغربی ممالک مڈل ایسٹ کسی کو اچھا لگے یا بُرا ان ممالک کا اعتماد پاک فوج اور جملہ اداروں پر ہے ، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ایک منظم اور طاقت ور ادارہ فوج اور جملہ ادارے ہیں ، دنیا ہمارے سیاسی گلیاروں اور ہماری جمہوریت سے باخبر ہے،

    عوام ان سیاسی سوداگروں کی باتوں میں آکر ملکی سلامتی کے اداروں کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرنے سے گریز کریں، ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ اقتدار کا حصول رہا ہے ، ان دلخراش حالات میں اگر جمہوریت سیاسی گلیاروں میں زندہ ہے تو ہر سیاسی جماعت میں بااصول شخصیات کی بدولت لیکن بااصول شخصیات کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جو ملک میں جمہوریت ، پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین کی حکمرانی ،ایمانداری اور دیانتداری کا پرچار کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں میں موجود جمہوریت ،ایمانداری ،دیانت داری کا پرچار کرنے والے موجودہیں مگر ان کی آواز دب چکی ہے،اس وقت 25 کروڑ عوام سیاسی تماشے دیکھ ر ہےہیں ، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے پنجا ب میں عوام کی خدمت کی مثال قائم کردی ، مریم نواز کی مقبولیت پنجاب کے نوجوان طلباء اور خواتین میں دیکھی جا سکتی ہے ، مریم نواز کا سیاسی مستقبل اُمید اور امکانات سے بھرپور ہے

  • جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں نکاح، جو قرآن کی رو سے عبادت ہے، معاشرتی عزت کے "قانون” کے خلاف جائے تو جرم بن جاتا ہے۔ جہاں بیٹی کا مسکرانا گوارا ہے، مگر اس کا فیصلہ کرنا ناقابلِ برداشت۔ جہاں بیٹی کے ہاتھ میں اگر قرآن ہو بھی، تب بھی اس کے حقِ انتخاب پر گولی حلال اور محبت حرام سمجھی جاتی ہے۔

    حالیہ دنوں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں ایک جوڑے کو، جو مکمل شرعی نکاح کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے تھے، ایک قبائلی غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں خوشی کی تقریب کے بہانے بلایا گیا، مگر وہ دعوت کھانے کی نہیں تھی، وہ غیرت دکھانے کی تھی۔ قرآن کے سائے میں بندوقوں کے سامنے کھڑے کیے گئے ان دو انسانوں نے موت کو سامنے دیکھا، مگر پیچھے نہیں ہٹے۔ لڑکی کے ہاتھ میں قرآن تھا، اور زبان پر سکوت۔ اس نے بس اتنا کہا: "صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔”

    یہ جملہ فقط ایک جملہ نہیں تھا، یہ پوری صدیوں پر محیط خاموش چیخ تھی—اس چیخ سے بلند، جو مظلوم عورتوں نے آج تک کبھی نہ نکالی۔ لیکن جو نکاح کے دائرے میں اپنی مرضی سے جینا چاہے، اس کے لیے نہ چیخ کا حق ہوتا ہے، نہ رحم کی کوئی گنجائش۔

    ہمیں سوچنا ہوگا:
    اگر نکاح جرم بن جائے،
    اور محبت گناہ،
    تو پھر دین کی کون سی بنیاد سلامت رہے گی؟

    قرآن مجید سورۃ النساء کی تیسری آیت میں واضح ارشاد فرماتا ہے:
    "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم…”
    "نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں۔۔۔”

    یہ آیت دونوں فریقین کے انتخاب کی آزادی کو تسلیم کرتی ہے۔ نہ صرف مرد کو، بلکہ عورت کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ نکاح کے فیصلے میں اپنی پسند کو مقدم رکھے۔ یہ شریعت کا دیا ہوا اختیار ہے، نہ کہ کوئی مغربی نظریہ یا غیر شرعی دعویٰ۔ مگر افسوس، ہمارے قبائل، ہمارے معاشرتی ادارے، اور بعض اوقات ہمارے گھروں کے در و دیوار بھی اس اختیار کو بغاوت سمجھتے ہیں۔

    اصل مسئلہ غیرت نہیں، بلکہ اختیار کا ہے۔ عورت کے فیصلے کو تسلیم کرنا، ایک ایسی برابری ہے جو مردانہ انا کو قبول نہیں۔ اسی لیے جب کوئی عورت اپنی مرضی کا اظہار کرتی ہے، تو یہ "غیرت کے خلاف” گناہ قرار پاتا ہے۔ اور اس گناہ کا کفارہ صرف موت ہے—وہ بھی زندہ گواہیوں کے سامنے۔

    اسلام میں غیرت کا مفہوم عزت، حیاء، اور طہارت سے جڑا ہوا ہے۔ مگر ہم نے اسے بندوق، قتل اور دھمکی سے منسلک کر دیا ہے۔ غیرت اب ایمان کا جزو نہیں رہی، بلکہ مردانگی کے زخم پر رکھی جانے والی پٹی بن چکی ہے۔ جس کی تہذیب، تربیت اور تقویٰ سے کوئی نسبت نہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ صرف ایک بیٹی ماری گئی۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں قرآن کے ساتھ کھڑے ہونے والی کو گولی مار دی جائے، وہاں دین اور ظلم کا فاصلہ کتنا رہ جاتا ہے؟

    یہ قتل ایک لڑکی کا نہیں تھا—یہ قتل تھا اُس حق کا جو دین نے اسے دیا۔ یہ قتل تھا اُس قرآن کی سچائی کا، جسے اس نے اپنا محافظ سمجھا۔ یہ قتل تھا اُس اسلام کا، جس نے لڑکی کو دفن ہونے سے بچایا، مگر ہم نے اُسے نکاح کے بعد دفن کر دیا۔

    آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل نہ صرف مزید بیٹیاں مریں گی، بلکہ اسلام کی روح، اس کی تعلیمات، اور اس کا پیغام بھی قاتلوں کی زبان پر رسوا ہوتا رہے گا۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم پگڑی بچانے کی غیرت کے بجائے بیٹی بچانے کی غیرت کو زندہ کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ قبیلے کی عدالت کے بجائے قرآن کی عدالت کو مانا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—کیا ہم قرآن کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف؟

    اگر معاشرہ قاتل ہے،
    تو ہمیں گواہ بننا ہوگا—
    اسلام کے، انصاف کے، اور انسانیت کے۔

  • بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کو نام نہاد جمہوری قوتوں نے تین بار گھر بھیجا ،کئی چہرے بے نقاب ہوگئے
    مخالف سیاسی جماعتیں ہر نواز دور میں روڑے اٹکاتی رہیں،اپنوں نے بھی پیٹھ میں چھرا گھونپا
    آج پارلیمنٹ چور،غدار ڈاکو جیسے نعروں کا گھر ،سیاست مسخرے پن کی آخری حدوں کو چھو گئی
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پارلیمنٹ ہائوس میں کسی زمانے میں مستحکم جمہوریت آئین قانون کی حکمرانی عوامی مسائل پر تقریریں ہوا کرتی تھیں آج اسی پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو غدار چور ڈاکو کہہ کر ہائوس کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ، مسخرے پن کی حدیں کراس ہوگئیں ،سیاستدانوں نے آئین اور جمہوریت کو تماشابنا کر رکھ دیا ، جمہوریت کے اندر جمہوریت نہیں سیاسی قیادت کی اکثر یت کرپشن اقرباء پروری کا شکار رہی، عوام کی بڑی تعداد سیاسی شعور اور جمہوریت کی اہمیت سے ناآشنا ، اکثر جمہوری حکومتیں شفافیت اور عوامی خدمت کے معیار پر پورا نہیں اتر سکیں، بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، غربت، مہنگائی اوربیروزگاری جیسے مسائل پیدا ہوتے گئے، ملک تین بار مارشل لاء سے بھی گزرا ان تین مارشل لاء کو سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھرپور تعاون رہا اور اپنی ہی سیاسی جماعت کے قائدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،اسکی زندہ مثال نواز شریف ہیں، جنکو تین بار اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اس میں ن لیگ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کا کردار موجود تھا، جمہوریت اور جمہوری حکومت کے خاتمے میں عدلیہ کا کردار رہا جس کو ہم نظریہ ضرورت کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس کی مثال ہمارے سامنے ایک قد آور سیاسی شخصیت بھٹو ہے، جنکی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا، اسی نظریہ ضرورت کا نشانہ نواز شریف کو نام نہاد پانامہ لیکس کے ذریعے بنایا گیا، اس کیس میں آج کے حقیقی آزادی اور جمہوریت کے طلبگار عمران خان نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا اور ایک منتخب جمہوری حکومت کو چلتا کرنے پر بھنگڑے ڈالے گئے، عمران خان نے تو مذہب کا بھی استعمال کیا اور معاشرے کو تقسیم کر دیا .

    ملک میں جمہوریت کی ناکامی کسی ایک فریق کی غلطی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہے جمہوریت صرف ایک نظام حکومت نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے جسے اپنانا اور فروغ دینا سب کی ذمہ داری ہے سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے انتخابی اصلاحات پر بات کی جائے ملک کے تمام ریاستی اداروں کو آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے، آئینی ترمیم صرف قومی مفادات اور جمہوری طریقے کار کے تحت کی جائیں

  • یاسمین بخاری  سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    گزشتہ دنوں مجھے سعادت حاصل ہوئی کہ میں یاسمین بخاری صاحبہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کر سکوں۔ یہ ملاقات نہ صرف ایک عزت افزائی تھی بلکہ ادب کے ایک نادر خزانے سے بھی روشناس کرانے والی تھی۔ یاسمین بخاری صاحبہ نے مجھے ایک خوبصورت کتاب تحفے میں دی، جو رثائی ادب کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کے بہترین کلام پر مشتمل ہے، جو کربلا والوں کی پیاس کو ایک گہرے استعارے کی صورت میں بیان کرتی ہے۔

    یہ کتاب کربلا کے واقعات اور وہاں کے شہداء کی پیاس کو مرکزی موضوع بنا کر ان کی بے مثال جرأت، بہادری، قربانی اور مصائب کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ زاہد شمسی صاحب کا کلام اس کتاب میں ایک ایسا آفاقی پیغام دیتا ہے جو صرف تاریخی حقائق پر مبنی نہیں بلکہ انسانی جذبوں اور ایمانی قربانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔کتاب کی ایک خاص بات اس کا عالی نسبی ذکر ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعلق سے کیا گیا ہے۔ اس میں حمد و نعت سے آغاز ہوتا ہے، جو روحانی فضا کو مزید معطر کر دیتا ہے۔ ہر شعر میں عقیدت، محبت اور عزم کی ایسی خوشبو ہے جو قاری کو سیدھا امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔

    کتاب کا ٹائٹل خود یاسمین بخاری صاحبہ نے رکھا ہے، جو کتاب کے موضوع اور مزاج سے بخوبی ہم آہنگ ہے۔ اس کے ساتھ ایک خوبصورت آیل پینٹنگ بھی شامل ہے، جو امام حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہ کو نہایت نفاست اور خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ یہ پینٹنگ کتاب کی روح کو مزید جلا بخشتی ہے۔یاسمین بخاری صاحبہ نے اس کتاب کو اپنے والد، ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے نام منسوب کیا ہے جو قائداعظم کے ذاتی معالج تھے۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائداعظم کے آخری لمحات میں بھی ان کے ساتھ ایمبولینس میں موجود رہے۔ یاسمین صاحبہ نے اپنی اس کوشش کو ڈاکٹر صاحب اور ان کے خاندان کے ایصال ثواب کے لیے وقف کیا ہے، جو ایک انتہائی قابل تحسین عمل ہے۔

    یہ ملاقات اور تحفہ میرے لیے ایک قیمتی تجربہ رہا۔ رثائی ادب میں ایسے الفاظ اور احساسات کو دیکھنا جو تاریخ کی تلخیوں کو جذبات کی زبان میں ڈھال سکیں، واقعی ایک نعمت ہے۔ یاسمین بخاری صاحبہ اور ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کو ادب کی خدمت پر میری دلی دعا ہے کہ وہ ایسے قیمتی کام جاری رکھیں اور ہماری تہذیب و ثقافت کو مزید روشنی بخشیں۔

  • دروازے جو کبھی کھلے  نہیں،تحریر ؛ اقصیٰ جبار

    دروازے جو کبھی کھلے نہیں،تحریر ؛ اقصیٰ جبار

    کبھی کچھ دن تاریخ میں ایسے آتے ہیں جن کے ہونے سے زیادہ ان کا "نہ کھلنا” ہمیں یاد رہ جاتا ہے۔ 13 جولائی 1931ء بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ سری نگر کی فضا اُس دن خاموش نہ تھی، لیکن آج تک گونجی جا رہی ہے۔ جیل کے باہر سینکڑوں کشمیری جمع تھے۔ وہ کسی احتجاجی مارچ، کسی ہنگامہ آرائی، یا کسی بیرونی سازش کے لیے نہیں آئے تھے۔ وہ فقط ایک اذان مکمل کرنا چاہتے تھے۔ مگر ریاست نے یہ سادہ ترین مذہبی حق بھی برداشت نہ کیا۔ اذان شروع ہوئی، گولی چلی۔ ایک نوجوان شہید ہو گیا۔ دوسرا آگے بڑھا، پھر گولی۔ یہاں تک کہ بائیس نوجوانوں نے اذان کے ہر جملے پر اپنی جان دے دی، تب جا کے اذان مکمل ہوئی۔

    یہ اذان، صرف نماز کی دعوت نہیں تھی۔ یہ اذان، استبداد کے خلاف مزاحمت تھی۔
    یہ بغاوت نہیں، حق کی بازیافت تھی۔
    لیکن اُس دن جو دروازہ بند تھا—انصاف کا، آزادی کا، انسانیت کا—وہ آج 90 سال بعد بھی کھلا نہیں۔

    کشمیر کو "مسئلہ” کہنے والے اسے ایک زمینی تنازع، دو ملکوں کی ضد، یا علاقائی سیاست کا فٹ بال سمجھتے ہیں۔ لیکن جو کشمیری اپنی زندگی، عزت، شناخت اور دین کی حفاظت کے لیے روز جیتا اور مرتا ہے، اس کے لیے یہ مسئلہ نہیں، زندگی کا سوال ہے۔ اور یہ سوال، اُس دن سے باقی ہے جب بائیس جنازے اٹھے، اور دروازے بند رہ گئے۔

    وقت بدل گیا۔
    راجہ ہری سنگھ کی آمریت ختم ہوئی، مگر نئے چہرے نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ آئے۔
    1947 کے بعد کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے ساتھ اور دوسرا بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں منظور ہوئیں، استصوابِ رائے کا وعدہ کیا گیا، لیکن وہ وعدے بھی ان بند دروازوں کے ساتھ دفن ہو گئے۔

    5 اگست 2019 کو جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تو گویا آخری قفل بھی جڑ دیا گیا۔
    نہ اب وہاں کوئی پرچم بلند ہو سکتا ہے، نہ آواز۔
    انٹرنیٹ بند، صحافت پر پابندی، سیاسی کارکن لاپتہ، اور ہر کشمیری ایک قیدی۔
    ایک ایسا قیدی جس کے ہاتھ میں زنجیر بھی ہے، اور دنیا اس کی زنجیروں کی آواز سن کر بھی انجان بن چکی ہے۔

    یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا بھارت کشمیر میں بدترین آمریت کی مثال بن چکا ہے۔ پیلٹ گنز سے بچوں کی بینائی چھینی گئی، خواتین کو ہراساں کیا گیا، بزرگوں کی داڑھیاں نوچی گئیں، اور نوجوانوں کو بنا مقدمے کے قید کر دیا گیا۔

    لیکن ان مظالم سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان سب پر دنیا خاموش ہے۔
    اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں کو فراموش کر چکی ہے، مسلم دنیا مفادات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، اور ہم—ہم صرف سال میں ایک دن، 5 فروری یا 13 جولائی کو، چند تقریریں، چند پوسٹر، اور کچھ اخباری مضامین کے ذریعے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔

    یہ بند دروازے صرف بھارت نے بند نہیں کیے،
    ہم نے بھی اپنی بے حسی، کمزوری، اور وقتی جذباتی ردِعمل سے ان دروازوں پر تالا ہی ڈالا ہے۔
    ہم نے کشمیریوں کو امید ضرور دی، لیکن عملی طور پر ان کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ نہ دکھا سکے۔

    آج اگر کشمیر میں گولی چلتی ہے، تو اس کی بازگشت پاکستان کے دل میں سنائی دینی چاہیے۔
    کیونکہ کشمیر کوئی علیحدہ سرزمین نہیں، یہ ہماری شہ رگ ہے۔
    لیکن اگر شہ رگ میں درد ہو اور ہم اُسے محسوس نہ کریں، تو ہمیں اپنے ضمیر پر سوال اٹھانا ہوگا۔

    مسئلہ کشمیر، صرف کشمیریوں کا نہیں—یہ انسانیت کا امتحان ہے۔
    اور اس امتحان میں ناکامی صرف مظلوم کی شکست نہیں، ظالم کے حوصلے کی جیت بھی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے تک محدود نہ رہیں،
    بلکہ یہ طے کریں کہ ان بند دروازوں کو کھولنے کے لیے اب ہمیں کتنی ہمت، کتنی عقل، اور کتنی حکمت درکار ہے۔
    کشمیر کو آزاد دیکھنے کی خواہش اگر دل میں زندہ ہے،
    تو یاد رکھیں—دعاؤں کے ساتھ ساتھ فیصلوں کی بھی ضرورت ہے۔

    وہ اذان تو مکمل ہو گئی تھی،
    مگر جو دروازے اُس دن بند ہوئے تھے،
    اب اُنہیں کھولنے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔

  • پنجاب آرٹس کونسل کے ڈرامے اور سہولت کار۔ تحریر: یوسف

    پنجاب آرٹس کونسل کے ڈرامے اور سہولت کار۔ تحریر: یوسف

    وزیر ثقافت عظمیٰ بخاری کے آنے کے بعد سے تھیٹر سے وابستہ لوگوں کو جھوٹی تعریفیں کرتا بھی دیکھا گیا۔ اس کی وجہ نا عوام سے پوشیدہ ہے نہ اداروں کی سطح پر فعال کرداروں کے لیے یہ کوئی ان ہونی بات ہے۔ وزیر صاحبہ نے سیاسی پوائنٹ سکرونگ کے لیے جو اقدامات کیے وہ آہستہ آہستہ ان اداروں کے گلے پڑ چکے ہیں جن کا تھیٹر کے حوالے سے کبھی کلیدی کردار رہا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وزیر صاحبہ کا سیاسی ایجنڈا جب سماجی عناصر کے ہاتھوں اپنی نوک پلک سنوارتا ہے تو اس کے اثرات شہ سرخیاں بن جاتے ہیں اور ویسے بھی ان کے پاس اطلاعات کا قلم دان بھی ہے ، ایسے میں اپنی بنائی ثقافت کی اطلاع کانوں میں رس گھولتی ہے۔ فیملی تھیٹر کی بحالی کا جو ایجنڈا عظمیٰ بخاری لے کر چلیں اس کا سپہ سالار پنجاب آرٹس کونسل کو بنایا گیا جس میں رانا تنویر ماجد اور مغیث بن عزیز پیش پیش رہے۔ یہ وہی مغیث بن عزیز ہے جن کی گریڈ 19 میں مشکوک ترقی کا شور صوبائی اسمبلیوں تک گیا ہے اور نہلے پر دھیلا یہ ہے کہ پارلیمانی سیکرٹری شازیہ رضوان نے مغیث بن عزیز اور اس کے پی پی ایس سی کے ذریعے گریڈ 17 میں بھرتی رفقاء کو ہر حوالے سے نشانہ عبرت بنانے کی کوشش کی جس کی نشاندہی خود ان کے دفتر سے جاری خطوط او ر مراسلے چیخ چیخ کر کر رہے ہیں۔ یہ تو 2011ء میں پی پی ایس سی سے بھرتی افسروں کی خوش قسمتی کہ وہ 2019 ء میں بھرتی افسروں کے سیاسی و مفاداتی و ادارتی وار سے تاحال محفوظ ہیں۔ بات کدھر تھی کدھر نکل آئی۔ خیر مغیث بن عزیز نے اپنی ڈرامہ ٹیم کے ہمراہ لاہور میں فحاشی اور عریانی کے تدارک کے لیے تھیٹر کی کامیاب مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جس پر تھیٹر مافیا سر کے بل محترمہ وزیر کے روبرو آہ و بکا کرتے نظر آئے۔ یہی تو سیاسی زندگی ہوتی ہے کسی بھی سیاسی ورکر کی۔ مغیث بن عزیز اور تنویر ماجد جیسے سرکاری افسروں کا خون چوس کر اپنی سیاسی ساکھ بنانا کوئی اچنبے کی بات نہیں ۔ جی میڈم کے ورد نے انہیں دور دراز کے تبادلےاور او ایس ڈی شپ سے بچائے رکھا ہے مگر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ افسروں کی جنس بھی بازار کی رونق بن چکی ہے، استعمال کیا اور چلتے بنے ،

    پنجاب کی بیوروکریسی کا کم و بیش حال بھی پنجاب آرٹس کونسل کے افسران جیسا ہے۔ اب جب بادی النظر میں فتح کا علم سیاسی وزرا کے ہاتھوں میں ہے وہیں ان ہاتھوں کو مضبوط کرنے والوں کے اپنے پاؤں کے نشان گم ہو چکے ہیں اور انہی حالات میں محکمہ اطلاعات و ثقافت پر نئے آسیب وارد ہو چکے ہیں ورنہ آج تک تھیٹر ایس او پیز جاری ہو چکے ہوتے۔ یہ وہی تھیٹر ایس او پیز ہیں جن کی وجہ سے لگ بھگ ایک درجن عدالتی فیصلوں میں پنجاب آرٹس کونسل کو خفگی اٹھانی پڑی۔ نو آبادیاتی ڈرامہ ایکٹ کی بھاگ دوڑ اطلاعات و ثقافت کے ہاتھ آنے کے بعد ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایس او پیز کا نہ ہونا خود محکمہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ جہاں آرٹس کونسل کے ڈویژنل ڈائریکٹر عدالتوں میں جھوٹ بولتے پائے گئے یا عدالتوں کے آگے کسی بھی سوال پر ہمیشہ کے لیے گم سم ہو گئے۔ ان عناصر میں کئی ایک یقینی طور پر اسی پرانی روش پر تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے ہوں گے مگر یہ سب کچھ محکمے کے بڑوں کی غفلت کا ہی شاخسانہ ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کی حدود میں موجود خان محل تھیٹر علی پور درد سر بن چکا ہے۔ متعلقہ آرٹس کونسل کے حکام صمٌ ّبکمٌّ ہو چکے ہیں۔ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عدالتی فیصلوں کی غلط تشریح کر کے اس کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ اسی طرح صادق آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بہاولپور آرٹس کونسل سے خلاف ورزی کرنے والے تھیٹروں کے خلاف کارروائی سے معذرت کر لی ہے۔کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا ای مانیٹرنگ کا نظام فیل ہو چکا ہے۔ عدالتی فیصلوں اور سیاسی برجوں کی بے توجہی نے متعلقہ افسران کو بے دلی میں مبتلا کر دیا ہے جہاں اخباروں میں آئے روز کامیڈیا ٹرائل ان کا مقدر بن چکا ہے تو دوسری طرف ضلعی انتظامیہ اپنے اختیارات کم ہونے پر منافقت سے کام لے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب آرٹس کونسل کے افسران کی ٹریننگ کی جائےاور اس کے ساتھ ساتھ محکمہ کی ذمہ داریوں کو شفاف رکھنےاور محکمے کی ساکھ کو بچانے کے لیے افسروں کے آڈٹ کرنے کی بھی ضرورت ہے ورنہ پنجاب تھیٹر صادق آباد، نور محل رحیم یار خان، کراؤن تھیٹر چشتیاں، راوی تھیٹر بہاول نگر اور شیخوپورہ ، صنوبر تھیٹر دریا خان، خان محل تھیٹر علی پور، کراؤن تھیٹر دوکوٹہ، ریکس تھیٹر ملتان کی وجہ سے سرکاری خزانے کو نقصان تو پہنچے گا ساتھ میں ریاستی رٹ اور مغیث بن عزیز جیسے ذمہ دار افسران کی محنت پر بھی پانی پھر جائے گا۔ خدارا اداروں میں سیاسی مداخلت کم کی جائے ورنہ تبادلوں کا خوف اور جی حضوری کا کلچر پاکستان خصو صاً پنجاب کو تباہی کے دھانے پر لے آئے گا۔ جہاں ترقیاتی سکیموں کا شفاف آڈٹ وقت کی ضرورت ہے وہیں تھیٹر مافیا کو محکمے میں موجود مال روڈ (بزم اقبال) کی بلڈنگ میں واقع ’’منزلِ مقصود‘‘ راستہ دیتی رہے گی جہاں آج بھی ہمدان اور بخارا سے آئے زیرک افراد کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جا رہی ہے خدا نہ کرے کہ وہ اس ساری واردات میں سہولت کار نکلیں؟

    پنجاب میں تھیٹر بحران شدت اختیار کر گیا، محکمہ ثقافت اور ضلعی انتظامیہ آمنے سامنے
    پنجاب میں تھیٹر کی دنیا اس وقت شدید بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور بدعنوانی کی زد میں ہے۔ جہاں حکومت ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کی دعوے دار ہے، وہیں اسٹیج تھیٹرز انتظامی بدنظمی، غیر قانونی تجاوزات اور سیاسی اثر و رسوخ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

    گزشتہ دنوں وزیرِ ثقافت نے ایک غیر رسمی تقریب میں تھیٹر کی بحالی اور خاندانی شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر معروف فنکار قیصر پیا سمیت دیگر سینئر فنکار موجود تھے۔ وزیر موصوفہ کے بیان کے بعد پنجاب کے تاریخی اوپن ایئر تھیٹر کی بحالی کی خبر سامنے آئی، جسے ماضی میں صادقین، امان اللہ اور دیگر بڑے فنکاروں کی میزبانی کا شرف حاصل رہا ہے۔یہ مقام طویل عرصے سے بلدیاتی غفلت کا شکار رہا، یہاں تک کہ اسے آوارہ کتوں نے اپنا مسکن بنا لیا تھا۔ اب حکام کا دعویٰ ہے کہ صفائی اور بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

    اداکارہ عفت عمر کو حال ہی میں محکمہ ثقافت میں بطور مشیر تعینات کیا گیا ہے، جسے کئی حلقوں نے خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔ تاہم، ساتھ ہی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کی اوپن ایئر تھیٹر پر بڑھتی ہوئی گرفت تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تھیٹر کی موجودہ انتظامیہ نہ صرف مالی طور پر بدحال ہے بلکہ اس کی حیثیت ایسے افراد جیسی ہو چکی ہے جو خود اپنا ہی گھر گرا کر اب اس کی حفاظت کے لیے امداد مانگ رہے ہیں۔ اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کہیں یہ تاریخی ورثہ بھی پی ایچ اے کے حوالے نہ کر دیا جائے۔

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں تھیٹروں کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ لاہور کے سوا دیگر اضلاع میں ضلعی افسران اور بعض پارلیمانی عہدیداران کی ملی بھگت سے نہ صرف شو کے اوقات کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ تھیٹروں سے غیر قانونی وصولیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔شیخوپورہ میں ایک پارلیمانی دفتر سے منسلک اہلکار پر روزانہ کی بنیاد پر تھیٹروں سے رقوم لینے اور پنجاب آرٹس کونسل کی اسکرپٹ سکروٹنی فیس کے علاوہ اضافی چارجز وصول کرنے کا الزام ہے۔ جب ضلعی افسر نے کارروائی کرتے ہوئے اسے ہٹانے کا حکم دیا تو مذکورہ پارلیمانی خاتون نمائندہ فوری طور پر شیخوپورہ پہنچ گئیں اور مالکان سے مذاکرات شروع کر دیے۔ذرائع کے مطابق یہ اہلکار اب بھی اپنے عہدے پر فائز ہے اور اسے سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔

    پنجاب آرٹس کونسل پر بھی کرپشن اور اقربا پروری کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اخبار میں شائع رپورٹس کے مطابق کئی بار خلاف ضابطہ طور پر تھیٹرز کو بند کیا گیا، جب کہ قانون کے مطابق صرف محکمہ اطلاعات و ثقافت کو یہ اختیار حاصل ہے۔کئی تھیٹرز اس وقت بغیر تجدید شدہ لائسنس کے چل رہے ہیں، کیونکہ ان کا انتظامی کنٹرول ہوم ڈیپارٹمنٹ سے محکمہ ثقافت کو منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ اور آرٹس کونسل، دونوں ادارے بیک وقت اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

    راولپنڈی کے موتی محل تھیٹر میں سات غیرقانونی اسٹیج ڈرامے اس وقت منظرِ عام پر آئے، جن کے خلاف نہ کوئی نوٹس جاری ہوا اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا قانون صرف عام شہریوں کے لیے ہے؟ یا بیوروکریسی اور ان کے عزیز و اقارب ہر قسم کی احتسابی کارروائی سے محفوظ ہیں؟

    ثقافتی ماہرین اور تھیٹر سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تھیٹرز محض تجارتی ادارے بن کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی پشت پناہی کی بنا پر اگر کوئی ناقد بنے تو جھوٹی رپورٹس تیار کی جاتی ہیں، اور اگر کسی کو بچانا ہو تو قانون کی آنکھیں بند کر دی جاتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ وزیرِ ثقافت کے وعدے اور دعوے صرف سیاسی بیانات تھے یا ان میں کوئی عملی قدم بھی شامل ہے؟ محکمہ ثقافت میں ایماندار افسران کی تعیناتی کب ہو گی؟ کیا پنجاب آرٹس کونسل واقعی اصلاحات کا منتظر ہے یا بدعنوان عناصر کا مرکز بن چکا ہے؟

    ڈرامہ فیسٹیول کی منسوخی پر فنکاروں کا احتجاج، سیاسی مداخلت کا الزام
    راولپنڈی پریس کلب کے باہر مقامی فنکاروں نے ایک پُرامن احتجاج کیا، جس میں اچانک منسوخ کیے گئے ڈرامہ فیسٹیول کے خلاف شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ فنکاروں نے الزام عائد کیا کہ فیسٹیول کی منسوخی سیاسی شخصیات کی ثقافتی امور میں مداخلت کا نتیجہ ہے اور یہ فنکارانہ اظہار کی آزادی کو دبانے کے مترادف ہے۔
    احتجاج کا ہدف پنجاب کی پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافت شازیہ رضوان تھیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ راولپنڈی آرٹس کونسل کے معاملات میں سیاسی مداخلت فوری طور پر ختم کی جائے۔سینئر فنکارہ اسما بٹ نے "دی رپورٹرز” سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈرامہ فیسٹیول کی تیاریاں دو ماہ سے جاری تھیں، اور اس کی نگرانی کے لیے سینئر فنکاروں اور تھیٹر ماہرین پر مشتمل ایک اسکرونٹی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد باقاعدہ شیڈول جاری کیا گیا تھا۔اسما بٹ نے بتایا کہ ان کا ڈرامہ ’’خالی اسٹیج‘‘ 2 جون کو راولپنڈی آرٹس کونسل میں پیش کیا جانا تھا، لیکن ایک دن پہلے آرٹس کونسل کے حکام نے انہیں مطلع کیا کہ شازیہ رضوان نے وزیرِ اطلاعات سے شکایت کی ہے اور ان کے ڈرامے کو فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا: ’’مجھے کہا گیا کہ فیس بک پر یہ پوسٹ کردوں کہ میں بیمار ہوں اور پرفارم نہیں کر سکتی۔ میں نے انکار کر دیا اور واضح کیا کہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ مقررہ وقت پر ڈرامہ پیش کروں گی۔ اگر روکا گیا تو میں معاملہ عوام کے سامنے لاؤں گی۔‘‘اسما بٹ کے مطابق، اس "شرمندگی” سے بچنے کے لیے آرٹس کونسل نے پورا ڈرامہ فیسٹیول ہی منسوخ کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے بعد راولپنڈی آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر سجاد حسین کا تبادلہ بھی کر دیا گیا ہے۔اسما بٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے واقعے کا نوٹس لینے اور ثقافتی اداروں کو سیاسی دباؤ سے بچانے کی اپیل کی ہے۔

  • خدایا…ماں کو سلامت رکھ،تحریر:نور فاطمہ

    خدایا…ماں کو سلامت رکھ،تحریر:نور فاطمہ

    ماں، وہ لفظ جس میں دنیا کی ساری محبت اور شفقت سمٹ کر آتی ہے۔ ماں وہ ذات ہے جس کے قدموں تلے جنت بستی ہے، جس کی دعاؤں میں ہزاروں خوشیاں پنہاں ہوتی ہیں، اور جس کی محبت میں انسان کو زندگی کا حقیقی مطلب سمجھ آتا ہے۔ ماں کی عظمت کا اندازہ صرف ان لمحوں میں ہوتا ہے جب ہم اس کے بغیر زندگی کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یا اللہ! میرے رب، تو ہی سب کا خالق اور سب کا مالک ہے، ماں کی صحت، اس کی سلامتی، اور اس کی زندگی میں برکت دے۔ ماں کی ہنسی کبھی ختم نہ ہو، اس کے قدموں کی تھکن دور کر، اس کے دل کو سکون دے، اور اس کی عمر دراز فرما۔ ماں کی دعاؤں کی روشنی ہماری زندگیوں کو ہمیشہ روشن رکھے، اور اسے ہر بیماری، ہر دکھ، اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھ۔ اے رب، ماں کی صحت کو اپنی رحمتوں کی چھاؤں میں رکھ، اور اسے ہمیشہ خوش و خرم رکھ۔آمین

    ماں کی محبت اور قربانی کے سامنے دنیا کی تمام نعمتیں بے رنگ ہیں۔ ماں وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے گھر کو مہکاتا ہے، وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید جگاتی ہے۔ ماں کے بغیر گھر خالی سا لگتا ہے، اس کی دعا کے بغیر انسان بے سہارا سا محسوس کرتا ہے۔ماں ایک ایسی مخلوق ہے جس کی ہمت، صبر، اور محبت کی کوئی حد نہیں۔ اس کی محبت بے لوث اور بے مثال ہوتی ہے۔ وہ اپنے خوابوں کو پیچھے رکھ کر اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے زندگی وقف کر دیتی ہے۔ ماں کی گود میں انسان کو سکون ملتا ہے، اس کے سینے سے چمٹ کر دنیا کی ہر پریشانی بھاگ جاتی ہے۔

    ادب اور شعور نے ہمیشہ ماں کی عظمت کو اپنی زبانوں میں پرویا ہے۔ شاعر کہتے ہیں،ماں کی دعا میں جنت بسی ہے، ماں کے قدموں تلے دنیا چھپی ہے۔اور سچ یہی ہے کہ ماں کی دعا میں جنت کی خوشبو ہے، جو ہر دکھ کو دور کر دیتی ہے۔ماں کی محبت نہ صرف ہماری زندگی کو روشن کرتی ہے بلکہ ہمیں انسانیت، اخلاقیات، اور قربانی کا درس بھی دیتی ہے۔ ماں کے بغیر زندگی ایک کتاب ہے جس کے صفحات خالی ہوں۔

    آئیے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت مند رکھے، انہیں خوش رکھے، اور ان کی عمر میں برکت دے۔ ماں کی عظمت کو پہچانیں اور ان کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں کیونکہ ماں کی خدمت ہی خدا کی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

  • ٹرمپ کا ممکنہ دورہ،اسحاق ڈار کی سفارتکاری  سے بھارتی ایجنڈا زمین بوس

    ٹرمپ کا ممکنہ دورہ،اسحاق ڈار کی سفارتکاری سے بھارتی ایجنڈا زمین بوس

    نواز شریف اور ٹیم نے اس ملک کی تقدیر بدل دی،ہردور میں میگا پراجیکٹس دئیے
    معرکہ حق میں بھارت کی ذلت آمیز شکست نے پاکستان کو دنیا کا مقبول ترین ملک بنا دیا
    ٹرمپ جنوبی ایشیا آئے تو کشمیر پر ثالثی کرسکتے ہیں کیونکہ وہ اس خواہش کا اظہار کرچکے

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    امریکی صدر پاکستان آئیں گے یا نہیں ،دفتر خارجہ اور امریکی سفارتخانہ لاعلم،تاہم صدر ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان اور بھارت کو کئی زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے ، اس وقت دونوں ملکوں کے معاملات کشیدہ ہیں،امریکی صدر اپنے اس دورے میں کشمیر پر بات کر سکتے ہیں، بھارت کشمیر کو لے کر بیرونی مداخلت کو ناپسند کرتا ہے ، پاکستان ہمیشہ ثالثی کا حامی رہا ہے، دو جوہری طاقتوں کو کیا امریکی صدر جو ایک عالمی قوت ہے ،سفارتی میز پر لے آئیں گے ؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟ امریکی صدر ٹرمپ خود کو ایک ڈیل میکر کے طور پر پیش کرتے ہیں ، امریکی صدر پیچیدہ تنازعات میں قدم رکھ کر کسی بڑی پیش رفت کے دعوے کرنا پسند کرتے ہیں، یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کشمیر تنازع پر پہلے ادوار میں ثالثی کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، امریکی صدر دوبارہ کشمیر پرثالثی کی بات کر سکتے ہیں جس سے سفارتی ہلچل پیدا ہو سکتی ہے، یہاں بات ذہن میں رہے کہ خطے میں استحکام کے لئے پاکستان بہت اہم ہے، چین اور روس امریکی صدر کے ممکنہ دورے پر گہری نظر رکھے گا ، دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی ، چین کا بڑھتا ہوا اثر ، افغانستان کا موجودہ منظر نامہ ، تاہم امریکی صدر اس خطے میں ا یک مضبوط سفارتی کارڈ کھیلنے کی خواہش رکھتے ہیں، اس وقت پاکستان عالمی ممالک میں توجہ کا مرکز ہے،جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے ، پاکستان کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں،

    حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاک فوج نے ایک مستحکم پیشہ وارانہ اور موثر کردار ادا کیا، بروقت دفاع جوابی کارروائیاں ٹیکنالوجی پر انحصار اورایک مضبوط عسکری قیادت نے اندرون ملک اور عالمی دنیا پاکستان توجہ کا مرکز بنا ، سفارتی سطح پر بھارت نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا مگر عالمی و پاکستان کی وزارت خارجہ اور موجودہ وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار جو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہے ، انہوں نے بھارتی پروپیگنڈے کو زمین بوس کردیا، نواز شریف اور ان کی ٹیم کا ہی کمال ہے کہ انہوں نے پاکستان کی عوام کو موٹرویز، میٹرو بسیں،سی پیک توانائی منصوبوں کے ذریعے ترقیاتی سیاست کو فروغ دیا ، نواز شریف کو اکثر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ، نواز شریف کو ترقی اور مضبوط معیشت کا علمبردار کہا جاتا ہے

  • روپے اور پیسے کا معاشی چکر.تحریر:مبشر حسن شاہ

    روپے اور پیسے کا معاشی چکر.تحریر:مبشر حسن شاہ

    (جہاں صارف دائرے میں گھومتا ہے مگر منافع سیدھا سفر کرتا ہے)
    تحریر مبشر حسن شاہ
    سٹیٹ بینک آف پاکستان ایک روپے کی قدر سے کم کے سکے سے جاری کرنا 2013 کے بعد مکمل بند کر چکا ہے۔
    1 پیسہ 1961 سے 1994 تک
    2 پیسے 1961 سے1994 تک
    5 پیسے 1961 سے 1994 تک
    10 پیسے 1961 سے 1994 تک
    25 پیسے 1963 سے 2013 تک
    50 پیسے 1963 سے 2013 تک
    اب تو 2025 میں 1 روپے۔ دو روپے پانچ روپے کے سکے بھی نایاب ہوچکے اگرچہ قانوناً یہ سکے پاکستانی کرنسی کا حصہ ہیں اور جاری ہیں لیکن عملاً ان کا لین دین بند ہو چکا ہے ۔ وجہ مہنگائی کا بڑھنا ہے اب شائد ہی کوئی چیز ایک روپے دو روپے یا پانچ روپے کی ملے ۔ دکاندار بھی یہ سکے اب قبول نہیں کرتے کیونکہ کاروبار میں عملاً ان کا لین دین ختم ہو چکا ہے۔ سٹیٹ بینک اگرچہ یہ سکے فراہم کرتا ہے لیکن کمرشل بینک اب صارفین کو نہیں دیتے ۔ لوگ بھی ان کو لینے سے کتراتے ہیں۔ گھر میں بھی سکے بچوں کو دیے جاتے ہیں لہذا بڑی تعداد سکے گردش سے باہر ہو جاتے۔
    لیکن ہم سب سرمایہ دارانہ نظام کی ایک ایسی چال کا شکار ہیں جو غیر محسوس طریقے سے ہماری جیب سے ان گنت پیسے نکال کر اربوں روپے کمانے کا راز ہے۔ ایک ماہ میں دو مرتبہ آپ اور میں بڑی بے صبری سے خبر پڑھتے ہیں پٹرولیم مصنوعات میں 10 روپے 13 پیسے اضافہ۔ حکومت نے پٹرول سستا کر دیا فی لیٹر قیمت میں 6 روپے تیس پیسے کمی۔ اس کے بعد ہم حسب عادت حکومت کو گالیاں دے کر اور کسی کام میں لگ جاتے اب ذرا حساب کتاب کیجیے۔فروری 2025 میں اوگرا کو مقامی آئل ریفائنری نے خط لکھا جس کے مطابق ملک میں 39 دن کا ڈیزل اور 32 دن کے استعمال کا پٹرول موجود ہے مزید ذخیرہ نہ منگوایا جائے۔
    اسی تناظرمیں دستیاب ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں روزانہ پٹرول کی کھپت 2 کروڑ بیس لاکھ لیٹر اور ڈیزل کی روزانہ خریداری 2 کروڑ 79 لاکھ لیٹر ہے۔ ہمیشہ پٹرول پمپ پر وصولی کے وقت پیسوں کو اگلے روپے میں شامل کر کے وصولی کی جاتی ہے اس طرح روزانہ 4 کروڑ اور ماہانہ ایک ارب 20 کروڑ آئل کمپنیاں مفت میں کما رہی ہیں جبکہ ہم میں سے اکثر کو اس کا علم تک نہیں ۔ (اوپر کے ننانوے لاکھ مصلحت کے تحت چھوڑے کہ بعض دفعہ پچھتر پیسے، پچاس پیسے ، پچیس پیسے،بیس پیسے،دس پیسے،پانچ پیسے ہوں تو اور لیٹر جفت تو وہ اگلے روپے میں درست طور پر کنورٹ ہوجاتی)
    جب بھی پٹرول کی قیمت بڑھتی فی لیٹر قیمت ضرب دو کروڑ بیس لاکھ لیٹر پٹرول اور دو کروڑ اناسی ہزار لیٹر ڈیزل کی روزانہ مقدار ۔ یہ وہ منافع ہے جو اکثر ملتا ۔ اصولاً جب تک پٹرول کا سٹاک پرانا ہو ریٹ بھی پرانا ہی ہونا چاہیے۔ اب کچھ لوگ سوچیں گے کہ جب پٹرول سستا ہوتا ہے تو تب آئل کمپنیاں نقصان بھی تو اٹھاتی ہیں۔ ایک تو کمپنیاں منافع اتنا نکالتی کہ یہ نقصان کچھ نہیں ہے دوسرا PDC (Price Differential Claim) کے ذریعے حکومت اکثر یہ نقصان پورا کر دیتی۔ مٹی کا تیل اور دیگر مصنوعات کا بھی اندازہ کر لیجیے بگا
    یہ صرف آئل کا معاملہ نہیں موبائل کمپنیز کو لے لیں۔ بیلنس چیک کرنے پر بھی کٹوتی۔ کارڈ یا ایزی لوڈ کرانے پر ٹیکس کاٹ لیا جاتا لیکن پھر بھی کسی بھی پیکج کے لیے ایک مرتبہ پھر ٹیکس۔۔۔کالز کے ریٹ ہمیشہ روپے کے ساتھ پیسوں میں وہی پٹرول والا فارمولا کال چارجز میں پیسوں کی جگہ اگلا روپیہ چارج۔ ہر ری چارج پر ٹیکس ہر پیکج پر ٹیکس ہر کال ایس ایم ایس پر پیسوں کی کٹوتی اور کتنے لوگوں کو یہ علم ہے کہ موبائل کمپنیاں دانستہ ایک یا دو ہندسوں کے کوڈ ملانے پر جو اکثر غلطی سے بٹن پریس ہونے پر فعال ہوجاتے ایسے کئی پروگرامز جان بوجھ کر رکھتی ہیں
    VAS (Value Added Services) جیسے: خبریں، لطیفے، حب الرومانٹک quotes، اسلامک SMS وغیرہ 1 سے 10 روپے روزانہ
    Flash SMS / Push SMS
    آپ کی مرضی کے بغیر ایک پاپ اپ آتا ہے "OK” دبانے پر سروس چالو ہو جاتی ہے 3–5 روپے روزانہ
    Internet background data Mobile data آن رہنے سے apps خاموشی سے ڈیٹا استعمال کرتے ہیں MB کے حساب سے کٹوتی
    Balance Save
    سروس فعال نہ ہونا موبائل ڈیٹا آن ہوتے ہی کچھ KB استعمال سے پورا بیلنس کٹ جاتا ہے
    کال کنیکٹ ٹون / RBT "آپ جس سے رابطہ کر رہے ہیں…” والی ٹون بغیر مرضی لگ جاتی ہے 2–5 روپے روزانہ
    Internet packages auto renew
    کئی پیکجز auto-renew ہوتے ہیں جب تک بند نہ کروائیں ہفتہ وار/ماہانہ
    Free trial بعد چارجنگ پہلی بار کوئی سروس free trial دیتی ہے، پھر auto-paid version فعال ہو جاتا ہے 5–10 روپے روزانہ
    اس کے علاوہ آپ خود یا دکان دار کے ریچارج کرتے وقت غلطی سے بیلنس زیادہ لکھ دیں اور اکاونٹ میں رقم ہوتو کٹوتی ہو جاتی لیکن پیسے واپس نہیں ملتے ۔اکثر پیکجز کے نام دانستہ مبہم رکھ کر صارفین کو دھوکا دیا جاتا بعد میں غور کریں تو باریک۔ سا ایک کونے میں لکھا ہوتا رات 12 سے صبح 9 تک محدود آفر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ آمدن 78 سے 86 ارب ماہانہ ہے الگ الگ کمپنی کی آمدن بھی پڑھیں
    Jazz (PMCL)
    31–33 ارب روپے
    Zong
    22–24 ارب روپے
    Telenor
    16–18 ارب روپے
    Ufone (PTCL Group)
    9–11 ارب روپے
    اس میں چالیس فیصد یعنی کل 86 ارب کی آمدن میں 34 ارب کالز اور پیکجز کے علاوہ سروسز کی کمائی ہے۔
    بجلی کے محکمہ میں چلتے ہیں رجسٹر کنکشن 4 کروڑ سے زائد فی یونٹ ٹیرف
    Life‑line
    100 یونٹس سے زیادہ یا کم 4.78 / 9.37*
    Protected
    (1–100) 1–100 یونٹس ≈ 8.52
    Protected
    (101–200) 101–200 یونٹس ≈ 11.51
    Non‑protected
    (201–300) 201–300 یونٹس ≈ 34.03
    Non‑protected
    (>300) 301+ یونٹس ≈ 48.46
    صرف نمونہ پیش ہے کہ پیسوں والی ہیرا پھیری ادھر بھی موجود ہے ۔
    مزید ستم یہ کہ 200 یونٹ تک جو ریٹ فی یونٹ ہے وہ 201 یونٹ ہوتے ہی ڈبل ٹرپل ہو کر سارے یونٹس پر اپلائی ہوجاتا یعنی 200 پر اور حساب ایک یونٹ اضافی یا مزید پر اصولاً صرف اضافی یونٹس کا ریٹ زیادہ ہونا چاہیے لیکن نہیں۔ چلتے ہیں دبے پاوں کہ کوئی جاگ نہ جائے
    غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے۔ ہم بس تبصرے کر سکتے اونچا اونچا بول سکتے گالیاں دے سکتے لیکن عملاً سنجیدہ کوشش نہیں کرنی ۔
    بجلی کے بل میں اتنا بل نہیں ہوتا جتنے ٹیکسسز ہوتے۔اور سارے نہیں تو آدھے مبہم ۔ جی ایس ٹی۔ فردر جی ایس ٹی ۔ویری ایبل چارجز ، فکس چارجز ، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ، جی سیس ٹی آن فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ، کواٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ، نیلم جہلم سرچارج، پرووینشل ڈیوٹی ۔ اپ کو پتا ہے یہ کیا ہے؟ مجھے بھی نہیں پتا لیکن ہم ہر ماہ ادا کرتے ۔ چلیں ایک نیلم جہلم سرچارج کی وضاحت پڑھیں۔ نیلم-جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ (969 میگاواٹ) کی تعمیر اور قرضے کی خدمات کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے 2008 میں دس پیسے فی یونٹ آپ کی جیب سے وصول ہوا ,2018 میں یہ پروجیکٹ مکمل ہوا لیکن 2021 تک کٹوتی جاری۔
    ان لایعنی ٹیکسسز سے زیادہ اپنی فہم پر رونا آتا کہ ویسے ہم کوئی بل دینے لگیں تو کارل فریڈرک گاؤس اور ایڈم سمتھ(مانا ہوا ریاضی دان کارل فریڈرک گاؤس اور ماہر معاشیات ایڈم سمتھ) کی روح ہم میں حلول کرجاتی لیکن یہاں بجلی کے بل پر سب چپ بھی اور ادا بھی کردیتے۔ ایک چھوٹی سی کرپشن کم شرارت زیادہ اور بھی ہے آپ کی بجلی کا میٹر اپنے سسٹم کو فعال رکھنے کے لیے اور چھوٹا سا سرخ بلب جلانے کے لیے ایک ماہ میں 0.076 واٹ بجلی استعمال کر لیتا ہے یہ پورے سال کی ایک یونٹ سے کم بجلی ہے سالانہ 0.8 واٹ لیکن جب کنکشن 4 کروڑ ہوں تو اوسط قیمت کم سے کم 12 روپے یونٹ کے حساب سے اس چھوٹے سے خرچ پر ڈالتے
    ماہانہ یونٹ 28 لاکھ 44 ہزار اور سالانہ 3 کروڑ۔ 44 لاکھ یونٹ
    رقم یا قیمت فی یونٹ 12 روپے کے حساب سے ماہانہ تین کروڑ چوالیس لاکھ روپے اور سالانہ 41 کروڑ 28 لاکھ جو ہم ادا کرتے مل کر ۔
    اچھا اداروں سے نکلتے ہیں ایک اور بات کرتے آج کل دکان پر کسی چیز کے روپے میں رقم راونڈ فگر نہ ہو تو ہم میر عثمان علی خان( امیر ترین ریاست دکن کا والی ریاست) کے پڑپوتے سکے واپس لینا شاہی آداب کے منافی سمجھتے . اس کا نقصان غریب دیہاڑی دار مزدور کو ہوتا جو ایسی گستاخی کرے تو دکان دار اسے کہتا تمہارے لیے میں کدھر سے لاوں سکے ۔ اس کے علاوہ اکثر 23 روپے کی چیز ہو تو تیس روپے رکھ لیے جاتے اور دو ٹافیاں ہمارے ہاتھ پر رکھ دی جاتیں جبکہ آپ کسی دن دکان دار کو بیس روپے اور دو ٹافیاں دے کر 23 دوپے کی کسی چیز کا مطالبہ کیجے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ بینک سالانہ ہمارے اے ٹی ایم کارڈ کی فیس کس خوشی میں کاٹ لیتے اور اے ٹی ایم کسی اور بینک کی مشین میں
    استعمال کرنے پر ٹیکس یا کٹوتی کی وجہ جبکہ بینک ہمارے ہی پیسے سے کاروبار الگ کر رہا ہوتا۔
    یہاں بھی چھوٹی چھوٹی ہیرا پھیری کیش میں ہوتی راونڈ فگر جے چکر میں شام تک کشئیر کے پاس معقول رقم جمع ہو چکی ہوتی جو بینک کے حساب سے الگ ہوتی۔ یہاں ایک مشہور افسانوی داستان جس پر سپر مین تھری اور آفس سپیس فلم بھی بنی پڑھیں
    بینک کے ایک کشئیر جس کے دماغ میں ایک اچھوتا آئیڈیا آیا
    اس شخص نے بینک کا سافٹ ویئر یا حساب کتاب کا نظام سمجھا
    اسے معلوم ہوا کہ جب سود، چارجز یا ٹیکس لگتے ہیں تو بعض اوقات 1 پینی کا "راؤنڈ آف” ہو جاتا ہے وہی پاکستان والا پیسوں کا چجر
    ان بے کار، نظر نہ آنے والے پینیوں کو وہ اپنے خفیہ اکاؤنٹ میں جمع کرنے لگا
    روزانہ ایک پینی ہر اکاؤنٹ سے؛ اگر 10 لاکھ اکاؤنٹ ہوں تو روزانہ £10,000 جمع ہو سکتے ہیں!
    یہ عمل 15 سال تک جاری رہا
    بالآخر ایک یہودی تاجر روز اپنی بینک سٹیٹمنٹ ایک ماہ لگاتار دیکھتا رہا تو اسے لگا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے وہ بینک گیا مینجیر کو ملا اور شکایت کی مینجر نے یہ سن کر قہقہ لگایا اسے ایک پاونڈ دیا اور کہا لیں آپ کا نقصان پورا۔ وہ تاجر برہم ہوا اور یہ کہہ کر چلا گیا کہ مجھے رقم کی کمی نہیں میں تم لوگوں کے سسٹم میں کسی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد مینجر کو احساس ہوا کہ یہ کتنا بڑا سکینڈل بن سکتا اس نے تحقیقات کروائیں اور 15 سال سے جاری یہ فراڈ پکڑا گیا۔ پس تحریر میں نے بھی اپنے سسٹم میں موجود خرابی کی نشاندہی کی ہے اب دیکھیں کون سنتا اور کون قہقہہ لگاتا

  • اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    دنیا ایک برق رفتاری سے بدلتی ہوئی تصویر کی مانند ہے، جہاں علم و ہنر کی تازگی کے بغیر نہ فرد زندہ رہ سکتا ہے، نہ قوم۔ ایسے میں جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کی آغوش میں پل رہی ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ایک بصیرت افروز اقدام کے تحت "اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” کا انعقاد کیا، جو بچوں کے لیے ایک روشن چراغ اور نئی نسل کی فکری تربیت کا عملی نمونہ ثابت ہوا۔7 جولائی سے 14 جولائی 2025 تک جاری رہنے والا یہ آن لائن تربیتی کیمپ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ آئی ٹی کے زیرِ انتظام منعقد کیا گیا۔ اس میں پاکستان بھر سے 9 سے 13 سال کے بچوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ کیمپ کا مقصد صرف جدید مہارتوں کی تعلیم دینا نہ تھا، بلکہ بچوں میں خود اعتمادی، تخلیقی شعور، اور عصری دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا بھی اس کا ایک اہم حصہ تھا۔

    اس موقع پر ملک وقاص سعید، سربراہ شعبہ آئی ٹی مرکزی مسلم لیگ، نے کہا اسمارٹ اسکلز کیمپ، بچوں کی فکری دنیا کو وسعت دینے اور ان کے اندر خود اعتمادی، تخلیق اور تجسس کے چراغ روشن کرنے کی ایک شعوری کاوش ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل کے معماروں کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں

    کیمپ کے سات دن، ہر لمحہ علم کی روشنی سے لبریز رہے۔ یہ محض لیکچر نہیں تھے، بلکہ ایک فکری مہم تھی، جس میں بچوں نے نہ صرف سنا بلکہ محسوس کیا، سیکھا اور تخلیق کیا۔ مختلف موضوعات پر تجربہ کار ماہرین نے بچوں کو جدید دنیا کے اہم ترین اسکلز سکھائے۔ ان میں شامل تھے
    مصنوعی ذہانت اور اینیمیشن – ملک وقاص سعید: ایک دنیا جو مستقبل کی راہ دکھاتی ہے۔
    ڈی آئی وائی کریئیٹوٹی – انایا: بچوں کی تخلیقی سوچ کو عملی شکل دینے کا فن۔
    پریشر اور بُلیئنگ ہینڈلنگ – بشریٰ اقبال: نفسیاتی طاقت اور جذباتی ذہانت کی تعلیم۔
    اسپوکن انگلش – قرۃ العین: بین الاقوامی زبان میں خود اظہار کی مہارت۔
    آن لائن سیفٹی – عائشہ طارق: ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ اور آگہی۔
    ماحولیاتی تحفظ – عروبہ سلطان: قدرت سے رشتہ استوار رکھنے کا درس۔
    انٹرپرینیورشپ – حفصہ ادریس: چھوٹی عمر میں بڑی سوچ کا آغاز۔
    کینوا ڈیزائننگ – خدیجہ نوید: جمالیاتی ذوق اور گرافک فن کی ابتدا۔
    ان موضوعات کے ساتھ ساتھ ای بُک کریئیٹنگ، پوڈکاسٹ سازی، مشین لرننگ، سائبر سیفٹی، بزنس پلاننگ جیسے شعبہ جات میں بھی بچوں نے عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھا۔ یہ ایک مکمل، مربوط اور تخلیقی تربیتی تجربہ تھا۔

    کیمپ کے دوران والدین نے اس بات کا بارہا اظہار کیا کہ کیمپ کا ماحول نہایت محفوظ، رہنمائی سے بھرپور، اور تربیتی لحاظ سے مؤثر تھا۔ بچوں نے جو سیکھا، وہ صرف ہنر نہ تھا بلکہ سوچنے کا نیا انداز، خود اعتمادی کی نئی روح، اور مستقبل کی بنیادوں کی نئی تعمیر تھی۔ ملک وقاص سعید نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ صرف سیاسی میدان میں سرگرم نہیں، بلکہ ہمارا مقصد ہے کہ ہم نئی نسل کو بااخلاق، باشعور اور باصلاحیت شہری بنائیں۔ ہمارا ہر قدم اسی وژن کی جانب ہے،”اپنا کماؤ انیشیئیٹو” کے تحت لاکھوں پاکستانیوں کو مفت ڈیجیٹل کورسز، ای کامرس اور فری لانسنگ کی تربیت دی گئی، تاکہ ہر فرد اپنے گھر بیٹھے خود کفیل بن سکے۔ اور اب یہی سفر بچوں سے شروع ہو رہا ہے، تاکہ آنے والی نسل اپنے ہنر اور علم سے وطن کی تعمیر کرے۔

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” نہ صرف بچوں کی فکری، تخلیقی اور ڈیجیٹل تربیت کا مظہر ہے بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جس میں ہم ایک خود کفیل، باہنر، اور باوقار پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ یہ کیمپ اس امید کا چراغ ہے جو ایک دن پورے معاشرے کو علم و شعور کی روشنی سے منور کرے گا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید پروگرامز نوعمروں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے بھی پیش کیے جائیں گے۔ مقصد ایک ہی ہے: ہنر ہر گھر تک، خود کفالت ہر فرد تک۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی ایسے تعلیمی اور تربیتی مواقع سے مستفید ہوں، تو مرکزی مسلم لیگ کے آئندہ پروگرامز پر نگاہ رکھیں۔