Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سری نگر, پہلگام حملے کے بارے میں ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر نے بھارتی حکومت کے واقعات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیکورٹی ذرائع مودی انتظامیہ کی طرف سے ترتیب دیے گئے "جھوٹے فلیگ آپریشن” کا نام دے رہے ہیں۔ سیکورٹی حکام کے مطابق، ایف آئی آر – پہلگام پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی – ان تضادات کو ظاہر کرتی ہے جس سے حملے کی صداقت پر شک پیدا ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن مبینہ واقعہ کی جگہ سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حملہ دوپہر 1:50 سے 2:20 کے درمیان ہوا، لیکن حیران کن طور پر، ایف آئی آر سرکاری طور پر صرف 10 منٹ بعد 2:30 بجے درج کی گئی۔ سیکورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ غیر معمولی طور پر تیزی سے ایف آئی آر کا اندراج پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مزید برآں، ایف آئی آر میں نامعلوم "سرحد پار دہشت گردوں” کو مجرم قرار دیا گیا ہے – ایک بیانیہ جو ہندوستانی حکومت اکثر بیرونی عناصر سے حملوں کو منسوب کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایف آئی آر میں اس حملے کو اندھا دھند فائرنگ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جب کہ بھارتی حکام اور میڈیا نے اسے مسلسل "ٹارگٹ کلنگ” کے کیس کے طور پر بنایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں استعمال کی گئی اصطلاحات، بشمول "غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر” کی گئی کارروائیوں کے حوالے سے مشتبہ طور پر پہلے سے تیار کیا گیا تھا۔ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی آر کی رہائی نے مبینہ طور پر پہلگام کے جھوٹے فلیگ آپریشن کو سیاسی جوڑ توڑ کی ایک ناقص کوشش کے طور پر بے نقاب کردیا ہے، جس کا مقصد ایک اسٹریٹجک بیانیہ کے طور پر تھا جسے مودی حکومت کے لیے قومی شرمندگی میں بدل دیاہے۔بھارتی حکومت کی جھوٹ پر مبنی پالیسیوں کی قلعی ایک بار پھر کھل گئی۔ اس بار مقام ہے مقبوضہ کشمیر کا خوبصورت مگر زخم خوردہ علاقہ "پہلگام” اور وقت ہے 22 اپریل 2025۔ کہنے کو یہ ایک عام دن تھا لیکن چند گھنٹوں بعد بھارتی میڈیا، سیکیورٹی ادارے اور سیاسی پنڈت ایک طوفان برپا کر چکے تھے۔ دعویٰ کیا گیا کہ پہلگام میں "سرحد پار سے آئے دہشت گردوں” نے 26 سیاحوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن اگلے ہی دن وہ ایف آئی آر سامنے آئی جو اس سارے ڈرامے کی حقیقت کو نہ صرف بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک منظم، منصوبہ بند فالس فلیگ آپریشن تھا جس کا مقصد سیاسی مفادات سمیٹنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔کشمیر میں دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم اور جھوٹے دعوے نئی بات نہیں۔ لیکن اس بار ایف آئی آر ہی نے مودی سرکار کا پردہ چاک کر دیا۔ پہلگام واقعے کے حوالے سے جو ایف آئی آر درج کی گئی، اس میں وقت، ردعمل، اور الفاظ کے انتخاب نے سیکیورٹی ماہرین کو چونکا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق حملہ 13:50 پر شروع ہوا اور 14:20 پر ختم ہوا۔ حیرت انگیز طور پر صرف دس منٹ بعد یعنی 14:30 پر ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی 6 کلومیٹر دور پولیس اسٹیشن تک اطلاع پہنچی، وہاں سے ٹیم آئی، جائے وقوعہ کا جائزہ لیا، رپورٹ تیار کی گئی اور صرف دس منٹ میں مکمل ایف آئی آر درج کر لی گئی؟ یا پھر یہ سب کچھ پہلے سے ہی تیار شدہ اسکرپٹ کا حصہ تھا؟ یہ پہلے سے لکھی کہانی تھی؟ایف آئی آر کے متن میں جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ایک "ریہرسل شدہ” اسکرپٹ تھی۔ ’’نامعلوم سرحد پار دہشت گرد‘‘، ’’بیرونی آقاؤں کی ایماء‘‘، ’’اندھا دھند فائرنگ‘‘ جیسے الفاظ چند منٹ میں کسی سپاہی یا محرر کے ذہن میں نہیں آتے جب تک انہیں پہلے سے لکھا نہ گیا ہو۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی تاریخ ایسے فالس فلیگ آپریشنز سے بھری پڑی ہے جنہیں یا تو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا یا پھر کسی سفارتی دباؤ سے بچنے کے لیے۔یہ صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل ہے،اب سوال یہ ہے کہ مودی حکومت کو اس فالس فلیگ سے کیا حاصل ہوا؟ اس کا جواب بھی ایف آئی آر کے فوراً بعد سامنے آ گیا۔ بھارت نے اگلے ہی روز سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی ایک دن پہلے پہلگام میں "حملہ”، اگلے دن "معاہدہ معطل”۔ یہ واضح ہے کہ فالس فلیگ حملے کو بنیاد بنا کر ایک بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔بھارتی میڈیا ہمیشہ سے مودی سرکار کا ترجمان رہا ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے بغیر تحقیق کے دہشت گردی کا لیبل پاکستان پر ڈال دیا۔ حالانکہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ بلکہ الٹا ایف آئی آر کی زبان اور جلدبازی نے پورے واقعے کو مشکوک بنا دیا۔ ایک طرف ایف آئی آر میں "اندھا دھند فائرنگ” کا ذکر ہے، تو دوسری طرف بھارتی میڈیا اسے "ٹارگٹڈ کلنگ” کہہ رہا ہے۔ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کہیں چھپ کر رہ گیا ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ کا شکار تھا۔ یورپی یونین کی ایک رپورٹ میں کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اسی دوران بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ کا ناٹک رچا کر عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہے، مظلوم ہے، اور پاکستان اس کا ذمہ دار ہے۔ لیکن ایف آئی آر کی قبل از وقت تیاری اور اس میں شامل الفاظ نے ان کا بیانیہ زمین بوس کر دیا۔تاریخی جھوٹ اور فالس فلیگز ،یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا ہو۔ ماضی میں پٹھان کوٹ، اوڑی، اور پلوامہ جیسے واقعات میں بھی یہی انداز اپنایا گیا۔ پلوامہ حملے کے بعد تو باقاعدہ الیکشن جیتنے کے لیے فضائی حملہ کیا گیا، جس میں نہ کوئی ہلاکت ہوئی، نہ نقصان۔ بس ایک درخت گرا۔ آج تک دنیا بھارت سے سوال کرتی ہے کہ پلوامہ میں آخر کیا ہوا تھا؟ اور اب پہلگام اس جھوٹ کی تازہ ترین قسط ہے۔پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر زور دیا ہے کہ اس کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کا یہ نیا ڈرامہ دراصل اصل مسئلے یعنی کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اگر بھارت کے پاس واقعی کوئی ثبوت ہے تو وہ عالمی برادری کے سامنے لائے، صرف الزامات کافی نہیں۔کشمیری عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان پر مسلط حکمران جھوٹ کے کتنے ماہر ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کشمیری نوجوانوں نے جس انداز میں بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، وہ قابل ذکر ہے۔ ’’یہ حملہ ہم پر نہیں، ہماری سچائی پر ہے‘‘ جیسے جملے وائرل ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں کو معلوم ہے کہ ان کا اصل مجرم کون ہے اور اصل نجات کہاں سے آئے گی۔

    پہلگام واقعہ نہ صرف بھارت کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، شفاف تحقیقات، اور امن کی دعوے دار ہے تو اسے اس واقعے کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ اگر دنیا خاموش رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ فالس فلیگ آپریشنز جیسے ہتھکنڈے جائز تصور کیے جا سکتے ہیں، جو ایک خطرناک مثال بنے گی۔

    پہلگام فالس فلیگ واقعہ مودی حکومت کے لیے ایک نیا ہتھیار ضرور تھا، مگر ایف آئی آر کی جلد بازی نے اس ہتھیار کو خود انہی کے خلاف استعمال کر دیا۔ اب نہ صرف کشمیر بلکہ دنیا بھر کے باشعور انسان جان چکے ہیں کہ بھارت ایک بار پھر جھوٹ کے پہاڑ پر چڑھ کر خود ہی پھسل گیا ہے۔ ایسے جھوٹ زیادہ دیر نہیں چلتے۔ آج اگر ایف آئی آر ہی نے ان کا چہرہ بے نقاب کیا ہے، تو کل کوئی عالمی فورم ان کے خلاف فیصلہ بھی دے سکتا ہے۔ فالس فلیگ کا سورج اب غروب ہونے کو ہے، اور سچائی کی کرنیں آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔اسی لئے کہتے ہیں نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    انسانی فطرت میں ایک عجیب سی خصوصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے مفاد یا نقصان کو اپنے دل میں بہت بڑا بنا کر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، جو محبت، مہربانی یا اچھائیاں اس کو ملتی ہیں، وہ بہت جلد بھلا دی جاتی ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر انسان اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔خوشی ایک ایسا جذبہ ہے جس کا ہر انسان پیچھا کرتا ہے۔ کچھ لوگ خوشی کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہیں، کچھ محبت اور تعلقات میں، اور کچھ روحانی سکون کی تلاش میں ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، انسان مکمل خوشی اور سکون کو کبھی حاصل نہیں کر پاتا، کیوں کہ اس کی خوشی اکثر دوسروں کے افعال اور رویوں پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو خوش رکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام بن جاتا ہے۔

    یہ حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کا دل بہت پیچیدہ ہے۔ ایک معمولی بات بھی، جیسے کسی چھوٹے سے مفاد کا ٹوٹنا یا کسی کی طرف سے ایک چھوٹی سی بے توجہی، انسان کی خوشی کو متاثر کر دیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے سمجھی جا سکتی ہے جیسے ایک شخص نے کسی دوسرے کی مدد کی ہو، اس کی بہت سی اچھائیاں کی ہوں، مگر جب وہ شخص اس کے کسی مفاد کو نظر انداز کرتا ہے یا اس سے کچھ توقعات پوری نہیں کرتا، تو وہ ساری محبتیں اور مہربانیاں اس کی نظروں سے مٹ جاتی ہیں۔انسان کا دل اتنا جلدی بدلنے والا ہوتا ہے کہ جو اچھائیاں اس نے کسی سے پچھلے دنوں میں کی تھیں، وہ سب اس کے ذہن سے فوراً محو ہو جاتی ہیں۔ جب تک وہ شخص کسی مسئلے یا مفاد کے پیچھے نہیں پڑتا، وہ ان تمام اچھائیوں کو بھول جاتا ہے اور محض اپنے ذاتی مفاد پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مادی اور عارضی چیزوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

    دوسروں کو خوش رکھنا بہت مشکل کام ہے، اور اس میں کبھی کبھی انسان کو اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان کسی دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی قربانی دیتا ہے، تب بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص اس کی محنت اور محبت کو سمجھ سکے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مفاد کے بغیر دوسروں کی محبت اور مہربانی کو مکمل طور پر سراہ نہیں پاتا۔حقیقت میں خوشی کا راز کسی دوسرے کے افعال پر نہیں بلکہ اپنے اندر ہے۔ جب تک ہم اپنی خوشی کا دارومدار دوسروں پر رکھتے ہیں، ہم کبھی بھی مکمل طور پر خوش نہیں رہ سکتے۔ خوشی ایک داخلی احساس ہے، جو انسان کو تب ملتا ہے جب وہ اپنے آپ سے مطمئن ہو، جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔

    انسانی فطرت میں یہ خاصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے مفاد کو بڑا بنا لیتا ہے اور اس کی وجہ سے اپنی خوشی کھو دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود، انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خوشی کسی دوسرے کی مہربانی یا کسی مفاد پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ یہ خود انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو بہتر سمجھیں گے اور اپنے اندر کی خوشی کو تلاش کریں گے، تب ہم دوسروں کو خوش رکھنے میں بھی کامیاب ہو سکیں گے۔

  • پہلگام  ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    پہلگام ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    چند روز قبل 22 اپریل 2025 کو بھارت مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میں ہونے والا واقعہ انسانیت کے لحاظ سے قابل افسوس ہے مگر بھارت نے اپنے فوج کی غفلت اور نا اہلی کو چھپایا اور پہلگام واقعہ کے فورا بعد بھارتی میڈیا کی بے لگام زبانیں بنا کسی ثبوت اور انکوائری کے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے لگیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ پہلگام وہ جگہ ہے جو امرناتھ یاترا کے بہت قریب ہے اور ہمیشہ سے ہی پرخطر رہی ہے ہر سال تقریبا پورے بھارت سے انے والے ہندو یاتریوں پر حملہ ہونا عام سی بات ہے۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ بھارتی فوج نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ۔ تقریبا 15 سال پہلے مقبوضہ جموں کشمیر کے ڈسٹرکٹ اناتھ ناگ میں واقع ایک بستی جس کا نام چٹی سنگھ پورہ ہے اس میں کچھ افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بے قصور 35 سکھ اپنی جان کی بازی ہار گئے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملہ اور ساؤتھ انڈین زبان بول رہے تھے اور بھارت ماتا کی جے ہو کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ حملہ بھی بھارت کے اندرونی عناصر کی طرف سے ہی کیا گیا ہو بہرحال بغیر کسی شفاف ازادانہ انکوائری اور بغیر کسی ثبوت کے بھارت کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور فوری طور پر جنگی کشیدگی اختیار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا ایک بڑے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلگام حملہ کے پیچھے بھارت کے اپنے مفاداتی عزائم پوشیدہ ہیں۔ درحقیقت بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا وہ اپنا مقصد بغیر جنگ کے پورا کرنا چاہتا ہے جو کہ کسی حد تک کر چکا ہے۔ فضائی حدود بند کرنا, تجارت بند کرنا, سفارت خانے سے پاکستانی سفارت کار وں کو نکالنا , واہگہ بارڈر بند کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب محض دکھاوا ہے بھارت اصل وار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں کر چکا ہے۔ جو کہ انتہائی خطرناک ہے،اس کے بعد بھارت کو کوئی حملہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پانی بند ہونے کی صورت میں پاکستان بنجر ہو جائے گا ہر طرف بھوک پیاس اور غذائی قلت چھا جائے گی یہی وہ تباہی ہے جو بھارت کی درینہ خواہش اور سب سے اہم خواب رہی ہے۔ اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے ۔لائن اف کنٹرول پر بھارت کی اوچھی حرکتیں محض ڈرامے بازی کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقتا بھارت اپنا اصل ہدف پانی روک کر پورا کر چکا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کے معدنیات تک رسائی چاہتا ہے اور اسرائیل گریٹر اسرائیل اسٹیٹ بنانے کا خواہاں ہے، بھارت پاکستان کا پرانا دشمن ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ دوستانہ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس لیے پہلگام حملہ کی آڑمیں بھارت اسرائیل اور امریکہ کو بھی بھرپور موقع فراہم کر رہا ہے اور پاکستانی عوام کا دھیان فلسطین اور معدنیات کی طرف سے ہٹانے کے لیے جنگی ماحول قائم کر رہا ہے اور اسی کی آڑ میں پانی بند کر کے اپنی درینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔ بھارت جنگ کا خواہاں نہیں کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں وہ نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ ہماری سوچ کو بھٹکاتے ہوئےاپنے ہدف پورے کرنا چاہتا ہے۔

    پاک بھارت موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت معاشی جمہوری سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے پاکستان کی نسبت کافی حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ بھارت پوری دنیا میں اپنے اپ کو سافٹ سٹیٹ اور ایک مضبوط جمہوری ریاست کے طور پر منوا چکا ہے اس کے علاوہ پوری دنیا میں تجارتی تعلقات قائم کر چکا ہے۔ بھارت چھوٹے بڑے سینکڑوں ڈیم بنا کر ہمارے دریاؤں خاص طور پر دریائے راوی , ستلج اور بیاس کو پہلے ہی خشک کر چکا ہے ان تینوں دریاؤں کے علاقے جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خشک سالی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ دریا محض نالے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم اور چناب کا پانی روکنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔ اب دریائے سندھ کا پانی روکنے کے لیے کابل افغانستان میں بھی ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے اصل لمحہ فکر ہے ۔اس وقت دشمن کے وار پر جوابی کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندرونی مسائل پر قابو پانا نہایت ضروری ہے قابل غور بات یہ ہے کہ اس امر میں پاکستان کیا کر رہا ہے نہ تو یہاں ڈیم بنائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے پر جو پانی اتا ہے وہ سیلاب کی صورت میں عذاب بن جاتا ہے اور محفوظ نہ کیے جانے کی وجہ سے سارا پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔ بھارت کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ہم نے تمہارا پانی بند کر دیا ہے اس وقت پاکستانی حکمرانوں کو کوئی دوسری تیسری بات کیے بغیر بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے وضاحت دینی چاہیے کہ ہم اپنا پانی کس طرح سے حاصل کریں گے۔ کیونکہ انڈیا اپنا ہدف مکمل کر چکا ہے اب ہم پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ ہم نے پانی کس طرح سے حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں اقوام متحدہ یا امریکہ کی مدد کی طرف دیکھنا بیکار ہے ۔

    تاریخ میں جا کر دیکھیں 1984 میں انڈیا نے سیاہ چین گلیشیئر پر قبضہ کیا اس وقت پاکستان روس کے خلاف جہاد میں امریکہ کا اتحادی تھا اس کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی اس معاملے میں کوئی مدد نہ کی اور سیاہ چین اج بھی بھارت کے قبضہ میں ہے۔ یہی معاملہ 1999 ہوا جب پاکستان نے کارگل پر قبضہ کیا تو امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کی حمایت کی اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں اپنے 600 فوجی افسران قربان کر کے کارگل چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کیا تو امریکہ نے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی جبکہ وہی دھماکے جب بھارت نے کیے تو امریکہ نے زبانی مذمت تک نہ کی۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کو شروع سے امریکہ کی حمایت حاصل ہے ایسا اس لیے ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ اور سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کو امریکہ اپنے غلام کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنے زور بازو پر ہی پانی حاصل کرنا ہوگا لہذا بھارت جنگ چاہے یا نہ چاہے مگر پاکستان کو پانی حاصل کرنے کے لیے بھارت کو آڑے ہاتھوں لینا ہوگا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی بقا کا مسئلہ ہے یاد رہے پانی ہی زندگی ہے اس لیے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے یہ جنگ لڑنا ہوگی۔ بھارت کو اس کے اس وار کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا اس سلسلے میں حکمرانوں کو اپنا بیانیہ، وضاحت کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

    دوسری طرف دیکھیں تو بھارت کا سیاسی اور جمہوری نظام بھی بے حد مضبوط ہے ان کے تمام تر فیصلے عوامی منتخب نمائندے ہی کرتے ہیں اور اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی عوام نہایت غم و غصہ میں مبتلا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں چوری ہونے والا مینڈیٹ ہے۔ غلطیاں انسان سے ہو جایا کرتی ہیں،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ہی ملک کے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی بجائے انہیں جیلوں سے رہا کیا جائے،عمران خان سابق وزیراعظم رہ چکے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پسند کیے جانے والی باصلاحیت شخصیت ھے۔ اس کے برعکس موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا غیر ملکی میڈیا کو دیا گیا بیان پاکستان کا اعتراف جرم ثابت ہو رہا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان 30 سالوں سے دہشت گرد پالنے جیسے گندے کام امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کا نریندر مودی کے پاگل پن اور بھارتی جنگی جنون کے خلاف کوئی بیان نہ دینا اور چپ سادھنا نہایت قابل افسوس ہے لہذا جمہوری نظام کو مضبوط بنایں اور باصلاحیت لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں۔ ہم سب جانتے ہیں پاکستان مرکزی مسلم لیگ وہ محب وطن جماعت ہے جو پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر دم کوشاں ہے مگر بد قسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان اس جماعت کے محب وطن سربراہان کے ہاتھ باندھنے میں مصروف ہے۔ بلا شبہ یہ وہ جماعت ہے جو پاکستان کا مضبوط ستون ہے مگر پاکستان خود ہی اس کی مضبوطی زائل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔اگر پاکستان نے مودی کو جواب دینا ہے تو صرف اعلان کر دیں ہم حافظ محمد سعید کو رہا کر رہے ہیں، پھر دیکھیے گا مودی کو بنتا کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ان ذہین، بہادر، باصلاحیت شخصیات کو وطن عزیز کے لیے اہم خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کریں۔ عوام کا اعتماد بحال کریں۔ دشمن اپنی چالیں چلنے میں کامیاب ہیں اور ہم یہاں اپسی اندرونی مسئلے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں

  • پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل.تحریر:ڈاکٹر عتیق الرحمان

    پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل.تحریر:ڈاکٹر عتیق الرحمان

    پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل
    ایک سیر حاصل تجزیہ: ڈاکٹر عتیق الرحمان
    تجزیہ کار کا تعارف
    ڈاکٹر عتیق الرحمان قائد اعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) میں پی ایچ ڈی ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس، بھارت پاکستان تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی ڈائنامکس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے تجزیے علاقائی تنازعات، واٹر سیکیورٹی اور بھارتی خارجہ پالیسی کے حوالے سے گہرے اور بصیرت افروز ہیں۔

    پہلگام واقعہ کیا ہے؟

    مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں منگل 22 اپریل کی دوپہر کو دہشت گردی کے ایک واقعے میں کم از کم 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ مارے جانے والے فوجی یا سیکیورٹی اہلکار نہیں بلکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خوبصورت وادی پہلگام میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے سیاح تھے۔ بھارت ابھی تک مکمل شواہد اکٹھے نہیں کر پایا اور نہ ہی واقعے کی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ لیکن واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام تراشی شروع ہو گئی۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق پہلگام حملہ دوپہر 3 بجے ہوا اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے 3:05 بجے پاکستان پر الزام لگا دیا۔ حملے کے 30 منٹ بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے #PakistanTerrorError ہیش ٹیگ بنایا۔ واقعے کے 30 سے 60 منٹ کے اندر بی جے پی لیڈرز جے پی نڈا اور امیت شاہ نے ٹویٹس کر دیے۔

    واقعے کے 1 سے 3 گھنٹوں بعد جعلی انٹیلی جنس رپورٹس لیک کی گئیں جنہیں آر ایس ایس کے ٹرول اکاؤنٹس نے بڑے پیمانے پر ری ٹویٹ کیا۔ حیران کن طور پر پہلگام واقعے کے پہلے 15 منٹ میں بی جے پی کے حامیوں کی جانب سے 500 بھارتی اکاؤنٹس سے ایک جیسے ٹویٹس کیے گئے اور 30 منٹ میں #PakistanTerrorError ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں جعلی کشمیری ناموں سے ٹویٹس کیے گئے۔

    یاد رہے کہ پہلگام لائن آف کنٹرول سے تقریباً 397 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے۔

    انڈس واٹر ٹریٹی
    پہلگام واقعے کے کچھ ہی دیر بعد مودی سرکار نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ ختم کر دیا، جس سے پہلگام واقعہ مزید سنگین صورت حال اختیار کر گیا۔ بھارتی حکومت کا سندھ طاس معاہدے کو فوری ختم کرنے کا اعلان اس واقعے کو مشکوک بناتا ہے۔

    قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر راجہ قیصر نے 27 اپریل کو انڈیپنڈنٹ اردو کے کالم میں لکھا:

    "6 نومبر 2019 کو میں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مودی حکومت سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کا غیر متوقع اور سنگین اقدام اٹھا سکتی ہے، جس کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ میں نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ پاکستان کو اگلے پانچ سال میں اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ انڈیا کسی داخلی سیکیورٹی واقعے کو بہانہ بنا کر یہ قدم اٹھا سکتا ہے۔ اس پیش گوئی کی بنیاد انڈیا میں ہندوتوا کی نظریاتی تحریک کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت تھی جو موجودہ پالیسیوں کو چلا رہی ہے اور جس کے رکنے کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔”

    کیا بھارت دریائے سندھ کا پانی روک پائے گا؟
    بھارت تکنیکی اعتبار سے بھی دریائے سندھ کا پانی روکنے سے قاصر ہے۔ آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ
    "اپریل سے ستمبر کے دوران دریاؤں میں پانی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اسے روکا نہیں جا سکتا۔ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو مقبوضہ کشمیر ڈوب جائے گا۔ سندھ کا پانی ہمالیہ ریجن سے انتہائی اونچائی سے نیچے آتا ہے، جسے روکا نہیں جا سکتا۔ دریائے سندھ کا 95% پانی گلگت بلتستان کے دریائی سلسلے اور دریائے کابل سے آتا ہے۔ بگلیار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم چلتے پانی سے بجلی بناتے ہیں، پانی نہیں روک سکتے۔ کراکرم ریجن ٹیکٹونک پلیٹس پر ہے، اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو سکتی۔ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کی کوشش پر عالمی سطح پر شدید ردعمل آئے گا۔”

    انہوں نے مزید کہاکہ بھارت کی ٹیل پر اگر پاکستان ہے تو بھارت چین کی ٹیل پر ہے۔ جو کرے گا، بھگتے گا۔ بھارت ایڈونچر کرے گا تو چین براہم پترا دریا کا پانی روک سکتا ہے، جو سندھ سے بڑا دریا ہے۔ بھارت کے لیے دریائے سندھ کا پانی روکنا قابل عمل ہی نہیں۔”

    بھارت کی بڑی گیم
    بھارت کی اپنے ملک میں دہشت گردی کروا کر پاکستان پر الزام لگانے اور پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی چالوں کو سمجھنے کے لیے بھارت کی اندرونی سیاست اور خارجہ پالیسی کے اہداف کو سمجھنا ضروری ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کے چار بڑے مقاصد ہیں:
    1.معاشی ترقی اور ملٹری طاقت کا حصول (یہ ہدف شاید امریکہ کو پسند نہ ہو)،2.جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کے ذریعے چین کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ،3.انفارمیشن وار میں برتری،4.بحر ہند پر تسلط۔
    اپنے معاشی ہدف تک پہنچنے کے لیے بھارت نے فارورڈ ڈیفنس سٹریٹجی اپنائی ہے کہ اپنے ملک سے باہر دشمن ریاستوں کو الجھاؤ۔ پاکستان اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے۔ پچھلے ایک سال میں دہشت گردی کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 45% اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کی بھارتی پشت پناہی ہے۔

    بحر ہند پر بھارت اور امریکہ کیوں تسلط چاہتے ہیں؟
    بحر ہند وسائل سے مالا مال ہے۔ سیاسی طور پر، یہ تیسرا بڑا سمندر اسٹریٹجک مقابلے کا ایک اہم تھیٹر بن چکا ہے کیونکہ موجودہ دور کی 70% تجارت بحر ہند سے ہوتی ہے۔ یہ عالمی تجارت کی شریان کے طور پر مرکزی تجارتی راستے فراہم کرتا ہے۔ اس میں دنیا کے چار بڑے اسٹریٹجک چوک پوائنٹس ہیں آبنائے ہرمز، باب المندب، ہارن آف افریقہ اور آبنائے ملاکا کے ذریعے سوئز کینال۔ یہ راستے خام ہائیڈرو کاربن کی تجارت کے لیے اہم ہیں۔ بحر ہند اپنے کنارے پر 47 ممالک اور دنیا کی ایک تہائی آبادی پر مشتمل ہے جو اب جیو پولیٹیکل ٹگ آف وار کا میدان بن چکا ہے۔ دنیا کے معلوم تیل کے ذخائر کا 65% اور گیس کا 35% بحر ہند سے وابستہ ہے جو معیشت کے ساتھ ساتھ فوجی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

    بھارتی پیراڈاکس
    دنیا کی تیسری بڑی معیشت، سب سے زیادہ جنگی ہتھیار اور اسلحہ خریدنے والی جمہوریت، لیکن جنوبی ایشیا میں بھی تھانیدار نہیں بن پا رہی اور کوئی بڑا کردار ادا کرنے سے محروم ہے۔ شاید یہی بھارت کی بے چینی کی بڑی وجہ ہے۔ ایک طرف چین، دوسری طرف پاکستان اور اب بنگلہ دیش بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ بھارت تلملائے نہ تو کیا کرے؟

    بھارت کے مستقبل کی ڈور مودی، امیت شاہ اور راج ناتھ کے ہاتھ میں ہے۔ منموہن سنگھ کی محنت سے بنائی گئی جی ڈی پی کو مودی سرکار تباہ کرنے پر تلی ہے۔ بی جے پی حکومت کے تین بڑے ہینڈیکیپ ہیں،ہندو انتہا پسندی، جو تیس کروڑ مسلمانوں، دلیت، اور شودروں کو خوفزدہ کر رہی ہے۔انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت، جو مودی سرکار کو پاکستان کے ساتھ لکیر میٹی کھیلنے پر مجبور کرتی ہے، ورنہ کانگریس میدان مار لے گی۔ہندو انتہا پسندی مودی سرکار کی طاقت بھی ہے اور اس کے گلے کی ہڈی بھی۔

    بھارت پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ میں نہیں، سیکیورٹی ماہرین کہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کبڈی کی طرح ہاتھ لگا کر بھاگ سکتا ہے۔ بالی ووڈ اور آئی پی ایل بھارتی عوام کی تفریح بھی ہیں اور پاکستان کے خلاف غصے کو ہوا دینے کے ہتھیار بھی۔ بھارت نے آئی ٹی سروسز کے علاوہ دنیا کو فیک نیوز اور کرکٹ کو شدید نقصان پہنچانے کا تحفہ دیا ہے۔ بھارت نے کرکٹ کو محدود، انڈین سینٹرک اور سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

    بھارت یہ سب شرارتیں صرف اپنی عوام کو ورغلانے کے لیے کرتا ہے۔ تقریباً ایک ارب ہندو ووٹوں کو کہیں تو مصروف رکھنا ہے۔ بی جے پی کی سوچ بیک وقت ترقی پسندانہ بھی ہے اور رجعت پسندانہ بھی۔ دنیا کی تیسری بڑی معیشت اور سب سے بڑی جمہوریت اپنے آپ کو گلوبل پاور دیکھنا چاہتی ہے، لیکن اپنے ملک میں مسلمانوں، کشمیریوں اور ہندو دلیت ذات کو کچلنا بھی چاہتی ہے۔ اپنے ہمسایہ ملک پاکستان، جو ایٹمی طاقت ہے، اسے دبانا چاہتی ہے۔ چین سے بھی ٹکر لینا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ کے چنگل سے نکل کر آزاد خارجہ پالیسی بنانا چاہتا ہے لیکن امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ بھی انتہا تک لے جانا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات چھپا کر مشرق وسطیٰ اور ایران سے پینگیں بڑھانا چاہتا ہے۔ دہشت گردی کو ہوا دیتا ہے، سپورٹ کرتا ہے، بڑھاوا دیتا ہے اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر بھی بننا چاہتا ہے۔ یہ ہے بھارت کا پیراڈاکس۔

    رجعت پسندانہ اپروچ بھارت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔ ریاست کے استحکام کے لیے فوکسڈ اپروچ چاہیے۔ تھانیداری والی پالیسی ریاستی معاملات میں نہیں چلتی۔ اگر بھارت کی معاشی اور ملٹری طاقت اسے پاکستان کے خلاف جنگ لڑنے کی تحریک دے رہی ہے تو بھارت کو یہ بھی علم ہوگا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ میں سب سے پہلے جی ڈی پی اڑے گی، پھر باقی چیزوں کی باری آئے گی۔ پاکستان کے ساتھ جنگ دراصل تباہی کا اعلان ہے۔ بھارت کی جی ڈی پی اور آئی ٹی سروسز گئیں تو پیچھے صرف آر ایس ایس یا اڈانی گروپ بچتا ہے۔ بھارت کو اپنی معیشت کو بچا کر رکھنا چاہیے۔

    بھارت کو اس وقت پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ 600 ملین لوگ انتہائی پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ بھارت کو دنیا کے کل آبی وسائل کا 18% چاہیے، جبکہ اس کے پاس صرف 4% آبی وسائل ہیں۔ بھارتی سماجی رویے اور حکمرانوں کی تاریخی ہٹ دھرمی بھارت کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ اگر دنیا کی تیسری بڑی معیشت بار بار ایک ہی جگہ اٹک رہی ہے، تو یقیناً کوئی گڑبڑ ہے۔ بھارت اندرونی ڈرامے کر کے جنگ کا ماحول بناتا ہے، دنیا کی توجہ حاصل کرتا ہے اور پھر پروپیگنڈے کو اپنے ڈسکورس کا حصہ بناتا ہے۔

    بھارت کا ڈسکورس اس کے دور رس قومی اہداف سے مماثلت نہیں رکھتا۔ بھارت کا ڈسکورس فیک نیوز، ہندو انتہا پسندی کی ترویج، فالس فلیگ آپریشنز اور انڈین کرونیکلز سے جڑا ہے جبکہ قومی اہداف معیشت کی بہتری، عالمی تجارتی روابط میں بہتری، آزاد خارجہ پالیسی اور خطے میں حاکمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عمل اور کردار کا یہ تضاد بھارت کا المیہ ہے۔

    بھارت: دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار
    بھارت ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدتا ہے جو اس کے 70 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ سے الگ ہے۔ 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کی وجوہات میں حکمران جماعت کی انتہا پسند سوچ، جنوبی ایشیا میں اجارہ داری کے عزائم، کشمیر پر قابض پالیسی اور پاکستان دشمنی شامل ہیں۔ مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت میں مذہبی انتہا پسندی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ بھارت کی داخلہ، خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی پر ہندو انتہا پسند قابض ہو گئے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کی سالمیت کو بھی خطرہ ہے۔

    بھارت کے امریکہ اور فرانس سے اچھے مراسم ہیں کیونکہ بھارت ان دونوں ممالک سے اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ بھارت کی آئی ٹی سروسز کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی امریکہ ہے۔ ظاہر ہے، اسلحہ بیچتے ہیں تو کچھ نہ کچھ خریدنا بھی پڑتا ہے۔

    بھارت کا کمزور حساب کتاب
    بھارت کا گیم تھیوری میں حساب کتاب کمزور ہے۔ اس کھیل میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا چال چلی جائے کہ نقصان کم سے کم ہو۔ کیا دو نیوکلیئر ہمسایہ ممالک جنگ لڑ سکتے ہیں؟ بھارت کی نان سٹیٹ ایکٹرز کی پشت پناہی نے خطے کی سیکیورٹی کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی پرورش کرتا ہے۔ یہ تضادات کی بھرمار ہے۔

    امریکہ کا ردعمل اور چین کا کردار
    صدر ٹرمپ کے پہلگام واقعے پر دیے گئے بیان کا بغور جائزہ لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ٹکراؤ کو سیریس نہ لیا جائے۔ اگر بھارت کی الزام تراشیوں میں کوئی دم ہوتا تو دنیا کی اکلوتی سپر پاور امریکہ کو کچھ فکر تو ہوتی، خاص طور پر جب بھارت امریکہ کا اتحادی اور خطے میں چین کے خلاف اہم پارٹنر ہے۔

    جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین کے کردار کو مت بھولیں۔ چین اس خطے کو میدان جنگ نہیں بننے دے گا۔ چین پاکستان کا اتحادی اور یوریشین ریجن میں امن کا خواہش مند ہے۔ بھارت اب یکطرفہ فیصلوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواب بھول جائے۔ عالمی سیاست کے تمام جز معیشت، مصنوعی ذہانت، صحت، تعلیم، کرنسی، تجارت، ریاستیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں، نان سٹیٹ ایکٹرز، اور عالمی ادارے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت-پاکستان کی جنگ پوری دنیا کی تباہی کا عندیہ ہو گی۔ کیا دنیا اس کے لیے تیار ہے؟

    بھارتی ڈسکورس
    جنگیں لڑنے کے تبدیل ہوتے طریقہ کار میں انفارمیشن کی بالادستی بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کا ڈسکورس قابل توجہ ہے۔ بھارتی سینما 2014 کے بعد نئی کروٹ لے چکا ہے۔ محبت اور رومانس کی جگہ انتہا پسندی اور پروپیگنڈے نے لے لی ہے۔

    ہر ریاست اپنی کہانی اپنے ملک کے گرد بُنتی ہے، لیکن بھارت وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی کہانی پاکستان کے گرد جھوٹ سے بنائی ہے۔ دنیا میں ہیرو اور ولن کی کہانی بہت بکتی ہے۔ بھارت اپنے آپ کو ہیرو اور پاکستان کو خطرہ پیش کرتا ہے۔ یہ سیاسی کہانی اب بھارتی فلم انڈسٹری کی ہٹ سٹوری بن چکی ہے۔

    پاکستان کا سینما اور انٹرٹینمنٹ ٹی وی کمزور ہے۔ ہم اپنی کہانی نہیں بیچ پائے، جس کا فائدہ بھارت نے اٹھایا اور ثقافتی و عالمی سیاسی محاذ پر پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔ اب بھارت OTT پلیٹ فارمز استعمال کر رہا ہے۔بھارت نے ابھینندن کی سبکی کے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے فلم "Fighter” بنائی۔ ایسی بے ربط کہانی کا حقیقت سے دور تک کوئی واسطہ نہیں۔
    2010 سے اب تک لگ بھگ 103 بھارتی فلمیں اور ان گنت ویب سیریز پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کے لیے بنائی جا چکی ہیں۔ بھارت نے 2005 سے پاکستان کے خلاف انڈین کرونیکلز آپریشن جاری کر رکھا ہے، جس کا مقصد پاکستان مخالف ایجنڈا ہے۔ یہی کہانی بھارت پوری دنیا کو سنا رہا ہے۔

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ایک طالب علم نے 2018 میں بھارتی فلم انڈسٹری پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھا، جس میں چار فلموں”26/11″، "بیبی”، "ویلکم ٹو کراچی” اور "فینٹم”کا تجزیہ کیا۔ طالب علم نے تحقیق کے مروجہ طریقوں سے ثابت کیا کہ بھارتی فلم انڈسٹری پاکستانی عوام، ریاست اور اداروں کو دہشت گردوں کا سہولت کار پیش کرتی ہے۔ ان کی فلموں کے ڈائیلاگ اور کہانی تحقیق سے نہیں گزرتے بلکہ سیدھے باکس آفس پر جاتی ہیں اور ہٹ کرائی جاتی ہیں۔ عوام کو ورغلانے کے لیے سٹارڈم کا سہارا لیا جاتا ہے۔ہالی ووڈ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی افغانستان پر بننے والی درجنوں فلمیں اور ویب سیریز پاکستان کو ایک خاص رخ سے دکھاتی ہیں،پہلگام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    انڈین کرونیکلز کے بغیر بھارتی پروپیگنڈے کی اصل کہانی ادھوری ہے۔ انڈین کرونیکلز دراصل ڈیجیٹل میڈیا میں جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا بانی پروگرام ہے۔ یورپی یونین کی ڈس انفارمیشن لیب نے 2020 میں اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کا بھانڈا پھوڑا تھا۔ 119 ممالک میں 750 جعلی میڈیا نیٹ ورک، 550 ویب سائٹس اور 10 این جی اوز سے شروع ہونے والا یہ نیٹ ورک اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔

    پاکستان اور پاکستانی فوج کی برتری
    ہر قوم کا ایک کردار ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم کا خاصہ یہ ہے کہ وہ بحران میں یکجان ہو جاتی ہے، خاص طور پر بھارت کی طرف سے کسی خطرے کے وقت۔ پاکستانی قوم پورے جوش و جذبے سے متحد ہوتی ہے۔میدان حرب سے شناسائی سپاہی کے خوف کو ختم کر دیتی ہے۔ اندازہ کریں کہ جو فوج پچھلے بیس سال سے حالت جنگ میں ہے، وہ کس حد تک بے خوف ہو چکی ہو گی۔
    جنہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیلا، انہوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ یہ حرکت پاک فوج کو ناقابل تسخیر بنا دے گی۔ ہمارے افسران اور جوان بیس سالہ جنگ سے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے لڑاکا سپاہی بن کر نکلے ہیں۔ یہ بے خوف، تربیت یافتہ اور انتہائی پیشہ ور فوج آہنی اعصاب کی مالک ہے۔

    ایک تاریخی واقعہ سناتا ہوں کہ سپاہی میدان حرب میں کیسے بے خوف بنتا ہے:
    جنرل جارج ایس پیٹن، امریکہ کے معزز فوجی خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد امریکی انقلاب اور دیگر اہم جنگوں میں داد شجاعت دے چکے تھے۔ ان کی بہادری کی داستانوں سے متاثر ہو کر پیٹن نے فوج میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن پیٹن ایک حساس شخص تھے اور انہیں خوف تھا کہ جنگ میں بزدلی سے ان کے خاندان کا نام بدنام نہ ہو جائے۔
    1918 میں ٹینک ٹروپس کی کمان کرتے ہوئے ایک موقع آیا جب پیٹن کے اعصاب شکست کے خوف سے شل ہو گئے۔ اسی لمحے ان کا دھیان اپنے بزرگوں کی دلیری کی طرف گیا، جو انہیں کہہ رہے تھے کہ لڑتے ہوئے ہمارے پاس آ جاؤ۔ اس ایک لمحے نے پیٹن کی زندگی بدل دی۔ وہ خوف پر قابو پا گئے، نعرہ مارا اور دشمن پر چڑھ دوڑے۔اس کے بعد حتیٰ کہ جب وہ جنرل بن گئے، پیٹن خوفناک وارفرنٹ لائنوں پر جاتے تاکہ خوف ختم ہو جائے۔ انہوں نے خود کو بار بار آزمایااور ہر بار خوف پر قابو پانا آسان ہوتا گیا۔

    پیٹن کی کہانی سے سبق ملتا ہے کہ خوف کا سامنا کریں، اسے سطح پر آنے دیں، نہ کہ نظر انداز کریں۔

    اب اندازہ کریں کہ جو فوج پچھلے بیس سال سے صبح شام موت کا سامنا کر رہی ہے، وہ ایک اور جنگ سے کیا گھبرائے گی؟

  • مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے حق میں نہیں تاہم کشمیر میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر مودی حکومت خود پھنس چکی ہے بلاشبہ عالمی دنیا نے اس واقعہ کی مذمت کی مگر عالمی دنیا سوال اٹھا رہی ہے کہ بغیر ثبوت بھارت کس طرح پاکستان پر الزام تراشی کر سکتا ہے بھارت کو اب عالمی دنیا کو جواب دینا ہوگا۔ وطن عزیز کی علاقائی و صوبائی سیاسی جماعتیں پانی کی نہروں کو لے کر سینہ کوبی کرتی نظر آرہی ہیں کالا باغ ڈیم جیسے عظیم قومی منصوبے کی مخالفت کس نے کی اس قومی منصوبے کو پیپلزپارٹی نے دفن کیوں کیا؟ کون سی سیاسی جماعت یہ نہیں جانتی تھی کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہوگا ڈیمز بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ نوازشریف نے اپنے دور اقتدار میں ایک ٹیم کی رپورٹ پر بھی عملی اقدامات اٹھائے جس رپورٹ میں کہا گیا کہ ریت کے نیچے پانی ہے پر عمل کرنا چاہا جس سے چولستان کو زرخیز بنایا جا سکتا ہے سیاسی افراتفری کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرنے دیا گیا پھر دوبارہ پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے نوازشریف نے قدم بڑھایا تو نام نہاد پانامہ لیکس اور سیاسی افراتفری نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا۔ پانی کو لے کر سینیٹر پرویز رشید اس وقت بار بار اپنی آواز بلند کرتے رہے مگر حوس اقتدار اور حکومت کرنے کے خواہشمندوں نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا نہروں کو لے کر پیپلزپارٹی اج سینہ کوبی کر رہی ہے 1990ء میں نہروں کو لے کر جو منصوبہ نوازشریف نے بنایا تھا اس پر صوبہ سندھ سے لے کر تمام صوبوں کا اتفاق تھا۔

    2022ء میں ایک آبی ماہر حسن عباس نے ایک رپورٹ بنائی جس کو گرین پاکستان کا نام دیا گیا تھا اس منصوبے پر جناب آصف زرداری نے اتفاق کیا تھا منصوبے کے تحت چار نہریں پنجاب دو سندھ تھرپارکر میں بنائی جانی تھیں پی پی پی آج سیاسی منافقت سے کام لے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی یاد رکھے گرین پاکستان منصوبہ ترک نہیں کیا جا سکتا اس میں وطن عزیز اور کروڑوں پاکستانیوں کی بقا کا مسئلہ ہے ویسے بھی دریائے سندھ پر صرف سندھ کا لفظ ہونے کی بنا پر سندھ کا قبضہ نہیں ہو جاتا یہ دریا کے پی کے بالائی علاقوں سے نکلتا ہے اس منصوبے سے پاکستان کی بھلائی ہے، یاد رکھیئے! پاکستان اور عوام کی ضروریات کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ سمجھ نہیں آتا ہماری سیاست اور جمہوریت کیسی ہے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے ملک و قوم کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیتے ہیں آپ نوازشریف سے اختلاف کر سکتے ہیں نوازشریف کسی ولی یا فرشتہ کا نام نہیں لیکن وطن عزیز اور قوم کے لئے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی ملک و قوم کے لئے خدمات کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی کرتے ہیں بلاول بھٹو اگر اپنے نانا اور اپنی والدہ محترمہ کی سیاسی زندگی پر عمل کریں تو پیپلزپارٹی دوبارہ قومی جماعت بن سکتی ہے ورنہ ایک صوبے تک ہی محدود رہے گی۔

  • ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی میں انسان کو بہت ساری چیزوں کا سامنا ہوتا ہے: محبت، نفرت، خوشی، غم، کامیابیاں، ناکامیاں، ان سب کے درمیان انسان اکثر بھول جاتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری اللہ کے ساتھ تعلق اور اُس سے ڈرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوف انسان کے دل میں ہونا چاہیے، کیونکہ جب اللہ کا خوف دل میں ہو، تو انسان کی زندگی ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اللہ سے ڈرنا ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو اپنی زندگی کی ہر حرکت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جب اللہ سے ڈرنے کا خوف انسان کے دل میں ہوتا ہے، تو وہ برائیوں سے بچتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور اللہ کی رضا کے مطابق عمل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے متعدد بار اپنے بندوں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ صرف اُس سے ڈریں، کیونکہ وہی سچا مالک ہے، اُس کا عذاب بہت سخت ہے، اور اُس کی رضا میں ہی اصل سکون اور کامیابی ہے۔

    اللہ کا خوف انسان کو اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی رضا کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے دل میں فکریں اور پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو بھی ہو، اللہ کے فیصلے میں بہتری ہے۔ اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف ہو، تو انسان برے کاموں سے دور رہتا ہے اور نیک عملوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ کا ڈر انسان کو دونوں جہانوں میں کامیاب کرتا ہے۔ دنیا میں اللہ کی رضا سے انسان کو سکون، خوشی اور کامیابی حاصل ہوتی ہے، اور آخرت میں اللہ کی مغفرت اور جنت کی بشارت ملتی ہے۔

    نماز اللہ سے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنی نمازوں میں خشوع اور خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکیں، تو ہمارا دل اُس سے جڑ جائے گا اور ہمیں اللہ کا خوف اور محبت محسوس ہوگی۔اللہ کا ذکر کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ قرآن پاک اور اذکار کی تلاوت انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اللہ کی کتاب قرآن کا مطالعہ کرنے سے ہمیں اللہ کی رضا، اس کے راستوں اور اُس کے عذاب سے بچنے کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ قرآن انسان کو اُس کے عمل پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔: اللہ کے خوف کے ساتھ انسان جب نیک عمل کرتا ہے، تو اُس کی زندگی میں بہت ساری خوشیاں آتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے عملوں میں اللہ کی رضا کی کوشش کرنا انسان کے ایمان کو مضبوط بناتا ہے۔

    جو شخص اللہ کا ڈر رکھتا ہے، اُس کی زندگی میں کامیابیاں اور برکتیں آتی ہیں۔ اللہ کے ڈر کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کی رضا اور خوف میں ہی انسان کی کامیابی اور سکون ہے۔اللہ کا ڈر ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو ہمیشہ درست راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں اس خوف کو پیدا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے قریب جا سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ،”ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا”۔اس خوف کے ساتھ جینے سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔

  • ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ہر مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کو اپنے ملکی فرائض کی ادائیگی کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کی آمدنی کے تین اہم ذرائع ہیں۔ ٹیکس ،ملکی افراد کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی وہ قانونی ادائیگی جو کہ وہ اپنی سالانہ آمدنی و منافع جات اور اشیا و خدمات کی خریداری پہ ادا کرتے ہیں۔سرچارجز،حکومت کی جانب سے اشیاء و خدمات کے بنیادی اخراجات میں شامل کردہ وہ اضافی فیس جو کہ ان اشیاء و خدمات کی قیمت میں شامل ہوتی ہے۔ نان ٹیکس ذرائع ،ٹیکسوں کے علاؤہ بھی حکومت کی آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں ۔ جو بوقت ضرورت استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ جیسے بیرونی تحائف ، اندرونی و بیرونی قرضہ جات ،بیرونی قرضہ جات پہ منافع جات، جرمانے و فیسیں اور سرکاری املاک کی نجکاری و فروخت کاری وغیرہ

    ٹیکس ،ٹیکس لاطینی زبان کے لفظ”Taxare”سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی قدر یا اندازہ کے ہیں۔ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ٹیکس عوام کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی ایسی ادائیگی ہے۔ کہ جس کے بدلے انہیں براہء راست تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی حکومت اجتماعی طور پہ عوام کی بھلائی و ملکی ترقی کے لئیے خرچ کرتی ہے۔ٹیکسوں کو صارفین/ ٹیکس ادا کنندگان پہ ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی ماہر معاشیات میںسگریو نے اسے تین بوجھوں میں تقسیم کیا ہے۔ مخصوص بوجھ ،اس ٹیکس بوجھ میں عوام پہ تو ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے ۔ تاہم حکومتی اخراجات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ تفرقی بوجھ ،یہ بوجھ ایک ٹیکس کی جگہ دوسرا ٹیکس لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس بوجھ کا تعلق سرکاری اخراجات کے برقرار رہتے ہوئے ایک ٹیکس کی جگہ دوسرے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات کے تجزیے سے ہے۔متوازن بجٹ بوجھ،جب حکومت اپنے اخراجات بڑھانے کے لئیے کوئی نیا ٹیکس عائد کرتی ہے۔ تو اس ٹیکس بوجھ کو متوازن ٹیکس بوجھ کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق نئے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات اور سرکاری اخراجات میں تبدیلی کے تجزیے سے ہے۔مگر درحقیقت یہ متوازن بوجھ اسی وقت ہو گا ۔ کہ جب یہ حکومتی اضافی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی معاشی ترقی کے لئیے ہوں۔

    ایک سروے کے مطابق ترقی پزیر ممالک جن کی فی کس آمدنی کم تھی۔ وہاں بالواسطہ ٹیکس یا صرفی ٹیکس، کل ٹیکس ریونیو کا 2 تہائی، جبکہ ترقی یافتہ و بلند فی کس آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 1/2 رہی۔ کیونکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی فی کس آمدنی کم ہونے کی بنا پہ ان پہ انکم ٹیکس کم اور بالواسطہ ٹیکس/صرفی ٹیکس زیادہ لگایا جاتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہونے کی بنا پہ انکم ٹیکس و منافع ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔

    کلاسیکل ماہرین معاشیات کے نظریات میں ٹیکس محض حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھے۔ مگر جدید معاشیات میں ٹیکس حکومتی آمدنی کے ذریعے کے ساتھ ساتھ معیشت کے اور بھی اہم معاشی متغیرات پہ ضاربی اثرات کے حامل ہیں ۔ اور انہیں ، ان معاشی و حقیقی متغیرات کے کنٹرول کے لئیے بھی بطور ٹولز استعمال کیا جاتا ہے۔

    ٹیکس اور نظامِ ٹیکس معیشت کے مختلف اہم شعبوں پہ درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔جب افراد کی آمدنی پہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ تو اس سے ان کی قابل تصرف شخصی آمدنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے ان کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنے صرف یعنی اخراجات میں کمی کر دیتے ہیں۔اسی طرح بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کی بنا پہ بھی صارفین کی قوتِ خرید گر جاتی ہے۔ جس سے صرف میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ٹیکس خواہ براہِ راست ہوں یا کہ بالواسطہ یہ صرف میں کمی کا موجب بنتے ہیں۔ اس لئیے جب کبھی حکومت کسی شے کے صرف کو کم کرنا چاہے ۔ تو بھی اس پہ ٹیکس عائد کر دیتی ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی آمدنیاں کم ہو جاتی ہیں۔ جس میں وہ اپنی ضروریاتِ زندگی ہی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ بچتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اور ضاربی اثرات کا حامل ہے۔ کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی بچتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بچتوں میں کمی سرمایہ اندوزی میں کمی کا موجب بنتی ہے۔ جو آگے سرمایہ کاری میں کمی پھر ملکی پیداراوار میں کمی اور ملکی پیداوار میں کمی لوگوں کی آمدنیوں میں کمی کا باعث بن جاتی ہے۔ دوبارہ آمدنیوں میں کمی دوبارہ بچتوں میں مزید کمی کی وجہ بنتی ہے۔ اس طرح یہ منفی اثرات جب تک کہ گورنمنٹ اعانوں اور ملکی فلاح و ترقی کی صورت میں اپنے اخراجات میں اضافہ نہ کر دے، بڑھتے رہتے ہیں۔

    ماہر معاشیات جے_ایم_کنیز نے ٹیکسوں کو ‘لیک ایج’ کا نام دیا ہے۔ کیونکہ یہ آمدنی کا غیر پیداواری استعمال ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے سے بچتوں اور سرمایہ اندوزی میں کمی، سرمایہ کاری میں کمی کا موجب بن جاتی ہے۔ منافعوں پہ ٹیکسوں کے نفاذ سے سرمایہ کار ایک طرف تو بددل ہو جاتے ہیں۔ کہ ان کی آمدنی گورنمنٹ لے گئی تو دوسری طرف وہ ٹیکسوں کے اضافے کے منفی اثرِ آمدنی و اثرِ دولت کے تحت سرمایہ کاری میں کمی کر دیتے ہیں۔ جس سے ملکی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو مزید منفی ضاربی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اگر حکومت ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتوں کے لئیے اعانوں کی فراہمی کے لئیے اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کر دے ۔ تو سرمایہ کاری و معاشی ترقی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے جب سرمایہ کاری میں کمی ہوتی ہے ۔ تو روزگار و معیارِ زندگی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم ٹیکسوں کے نفاذ کا ایک اہم مقصد ملکی فلاح و ترقی کے لئیے وسائل کا حصول ہے۔ اور اگر حکومت ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی ملکی فلاح و ترقی کے لئیے خرچ کرے ۔ تو ملکی روزگار و معیار زندگی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

    ٹیکس معیشت میں مساویانہ تقسیمِ دولت کے حصول کا بہترین ذریعہ ییں۔ اگر ان کا نفاذ مساویانہ ہو۔ یعنی امیروں پہ زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہو اور متوسط آمدنی والے افراد پہ کم شرح سے، مزید غریب افراد کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا جائے۔بابائے معاشیات ایڈم سمتھ نے اس سلسلہ میں چار اہم اصول وضع کیئے ہیں۔ٹیکس جہاں منفی اثرات کے حامل ہیں۔ تو ان کے مثبت اثرات بھی ہیں۔ اگر ان سے حاصل کردہ آمدنی عوام کے فلاح و بہبود اور معاشی ترقی پہ خرچ کی جائے۔ تو ٹیکس "فائدہ مند بوجھ” بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ عوام پہ محض ایک "تکلیف دہ بوجھ” ہیں

  • خواتین جنسی تعلق سے انکار کیوں کرتی ہیں؟انکشاف

    خواتین جنسی تعلق سے انکار کیوں کرتی ہیں؟انکشاف

    ہم سب جانتے ہیں کہ جنسی تعلق کے لیے ہر وقت دل نہیں چاہتا اور مختلف وجوہات کی بنا پر خواتین کبھی کبھار انکار کر دیتی ہیں۔ لیکن حالیہ تحقیق کے مطابق، ایک خاص اور حیرت انگیز وجہ ہے جس کی بنا پر زیادہ تر خواتین جنسی تعلق کے لیے انکار کرتی ہیں۔

    فلپس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق، تقریباً ایک تہائی خواتین جنسی تعلق سے انکار کر دیتی ہیں اگر ان کےجسمانی بال ٹھیک طرح سے صاف نہ ہوں۔ خاص طور پر، خواتین اپنے جسم کے بال صاف کیے بغیر جنسی تعلق میں شامل ہونے سے گریز کرتی ہیں، خاص طور پر اگر ان کی ٹانگوں کے بال بڑھ گئے ہوں۔ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ خواتین کو جنسی تعلق کے لیے تیار ہونے میں ایک اہم عنصر یہ ہے کہ وہ خود کو صاف ستھرا اور خوبصورت محسوس کریں۔

    اس تحقیق میں شامل 2000 خواتین میں سے نصف سے زیادہ نے یہ کہا کہ اگر وہ نہائی نہ ہوں تو وہ جنسی تعلق نہیں بنائیں گی۔ اسی طرح، تقریباً 48 فیصد خواتین نے بتایا کہ اگر ان کے دانت صاف نہ ہوں تو وہ جنسی تعلق سے انکار کر دیتی ہیں۔ اسی طرح تقریباً 30 فیصد خواتین یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے بغل کے بال نہیں صاف کیے تو وہ جنسی تعلق میں حصہ نہیں لیں گی۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ 90 فیصد خواتین یہ چاہتی ہیں کہ وہ جنسی تعلق سے پہلے اچھی طرح سے تیار ہوں تاکہ ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔ ایک نمائندے نے بتایا کہ "جبکہ دوسرے شخص کو یہ بات شاید اہم نہ لگے، لیکن جنسی تعلق کے سب سے ذاتی لمحوں میں اپنے آپ کو بہترین حالت میں محسوس کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔”

    اگرچہ بہت سی خواتین جنسی تعلق سے انکار کرتی ہیں، ایک دوسری تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ خواتین ہر ہفتے 20 بار تک جنسی تعلق بناتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جنسی تعلق کے بارے میں خواتین کی پسند مختلف ہوتی ہے، اور یہ سوالات کی بنیاد پر چار مختلف زمروں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں: نرم، معتدل، شدت پسند اور خواہش مند۔

    ایڈم بوڈے، جو اس تحقیق کے سربراہ اور آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی طالب علم ہیں، نے کہا، "حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کی جنسی پسند ایک جیسی نہیں ہوتی۔” اس تحقیق کے مطابق، کچھ خواتین ہفتے میں اوسطاً 2.5 بار جنسی تعلق کرتی ہیں جبکہ دوسری طرف، "خواہش مند” خواتین ہر ہفتے 20 بار تک جنسی تعلق میں ملوث ہوتی ہیں۔یہ تحقیق اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ہر عورت کی جنسی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں اور ان کے جذباتی یا جسمانی حالات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کس حالت میں خود کو زیادہ آرام دہ اور پر اعتماد محسوس کرتی ہیں۔

  • عورت مرد میں دلچسپی لے توکونسی”ادائیں”کرتی ہے،ڈیٹنگ کوچ کا انکشاف

    عورت مرد میں دلچسپی لے توکونسی”ادائیں”کرتی ہے،ڈیٹنگ کوچ کا انکشاف

    اگر کسی خاتون کی نظریں چوری چوری آپ کی طرف اٹھ رہی ہیں، اور اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ہے، تو یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ ڈیٹنگ کوچز کے مطابق، ایسی علامات اس بات کا واضح اشارہ ہو سکتی ہیں کہ وہ آپ میں دلچسپی رکھتی ہے ، چاہے اُسے خود اس کا شعور نہ ہو۔

    ڈیٹنگ ایکسپرٹ گریسی پلیشکورٹ، جنہیں رومانس اور تعلقات کے حوالے سے گہری سمجھ بوجھ حاصل ہے، نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں خواتین کے مخصوص "باڈی لینگویج” سگنلز پر روشنی ڈالی، جو کسی مرد کو پرکشش پانے پر ان کے لاشعور سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کی ویڈیو کو اب تک 20 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔گریسی نے بتایا:”یہ وہ پانچ حرکات ہیں جو عورتیں اس وقت کرتی ہیں جب وہ کسی مرد کو دل سے پسند کرنے لگتی ہیں،
    اپنے لباس کو درست کرنا یا ٹاپ کو ایڈجسٹ کرنا یہ اشارہ سب سے نمایاں اور شعوری طور پر کم محسوس ہونے والا عمل ہے، جو خواتین غیر ارادی طور پر کرتی ہیں تاکہ خود کو بہتر انداز میں پیش کریں۔جیولری کے ساتھ کھیلنا ، چاہے وہ کان کی بالیاں ہوں یا گردن کا لاکٹ، خواتین جب کسی کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں تو زیورات کے ساتھ کھیلنا ایک نازک سا پیغام ہوتا ہے۔

    سر کو ایک طرف جھکا کر دلچسپی سے سننا، یہ اشارہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ نہ صرف آپ کی بات سن رہی ہے، بلکہ اس میں سنجیدہ دلچسپی بھی رکھتی ہے۔اپنے ہونٹوں کو چھونا ،یہ ایک فطری لیکن بے حد دلکش اشارہ ہے جو لاشعوری طور پر کشش کو ظاہر کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، اگر یہ باڈی لینگویج آپ کو واضح نہ لگے، تو ایک اور آزمودہ طریقہ ہے، ہنسی۔

    ناروے کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہر نفسیات، پروفیسر لیف ایڈورڈ اوٹسین کینیئر کے مطابق:
    "جب کوئی عورت کسی مرد کی باتوں پر ہنستی ہے یا قہقہہ لگاتی ہے، تو یہ ایک بہت طاقتور فلرٹ کرنے کی تکنیک ہے ،مرد و عورت دونوں کے لیے۔”ایک اور دلچسپ تکنیک کو "Sticky Eyes” یعنی "چپکنے والی نظریں” کہا جاتا ہے، جس کا ذکر سوشل میڈیا اسٹار چیلسی اینڈرسن نے کیا۔

    چیلسی کا کہنا ہے،”اپنا ہدف منتخب کریں، اُس کی طرف مسلسل دیکھیں جب تک کہ وہ بھی آپ کی طرف نہ دیکھ لے۔ جیسے ہی آنکھیں چار ہوں، فوراً نظریں ہٹا لیں، جیسے آپ پکڑی گئی ہوں۔””پھر دوبارہ نظریں ملیں تو ہٹائیں نہیں — اُس وقت تک دیکھتے رہیں جب تک وہ نظریں نہ چرائے۔””تقریباً 45 سیکنڈ کے اندر وہ شخص خود آپ کے سامنے آ جائے گا — جیسے کسی جادو سے بلایا گیا ہو!”چیلسی اس تکنیک کو اپنے سب سے طاقتور "لائف ہیکس” میں شمار کرتی ہیں۔

  • بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دینا محض ایک سیاسی چال نہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے امن پر کھلا وار اور آبی دہشتگردی کے مترادف ہے۔ یہ اقدام بھارت کے اُس توسیع پسندانہ عزائم کی ایک نئی قسط ہے جس کی ابتدا مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور پاکستان دشمنی پر مبنی بیانات سے ہو چکی ہے۔ اب پانی جیسی قدرتی نعمت کو ہتھیار بنا کر بھارت نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ اسے بین الاقوامی قوانین کی پروا ہے اور نہ ہی انسانیت کا لحاظ۔
    1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی معاونت سے سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جس کے تحت تین مشرقی دریا (ستلج، بیاس، راوی) بھارت کو جبکہ تین مغربی دریا (جہلم، چناب، سندھ) پاکستان کو دیے گئے۔ اس معاہدے نے پاکستان کی زراعت اور معیشت کو وہ پانی فراہم کیا جس پر ہماری لاکھوں ایکڑ زمین انحصار کرتی ہے۔ بھارت کو اس معاہدے کی بدولت مشرقی دریا مکمل طور پر ملے، جب کہ پاکستان نے اعتماد، مروت اور عالمی ثالثی پر بھروسا کرتے ہوئے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے۔بھارت کا اس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان، دراصل اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی عام دو طرفہ مفاہمت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی حیثیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی ثالثی قوانین کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا مطلب ہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا آغاز کر رہا ہے بلکہ وہ جنوبی ایشیا میں تباہ کن تنازع کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
    پاکستان کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہم نے ہمیشہ سفارتکاری کو ترجیح دی، لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے اگر جواب دینے کا فیصلہ کر لیا، تو وہ محض الفاظ یا احتجاج تک محدود نہ ہوگا۔ اگر ہماری زمینیں بنجر ہوئیں، تو بھارت کی فضائیں بھی محفوظ نہ رہیں گی۔ اگر ہمارے کسان پیاسے مرے، تو بھارتی معیشت بھی پانی کے ایک قطرے کو ترسے گی۔ جنگ ہم نہیں چاہتے، لیکن اگر دشمن ہم پر مسلط کرے گا تو ہم تاریخ کو یہ بھی دکھا دیں گے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے کیسے دیا جاتا ہے۔بدقسمتی سے بین الاقوامی طاقتیں، جو ہر چھوٹے مسئلے پر بیان بازی کرتی ہیں، آج بھارت کے اس سنگین اقدام پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کو اب جاگنا ہو گا، کیونکہ اگر بھارت کو کھلی چھوٹ دی گئی تو دنیا کے کئی خطوں میں آبی وسائل کی جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔
    بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان صرف زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گا تو یہ اُس کی سب سے بڑی بھول ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن کمزوری نہیں۔ اگر بھارت نے کسی بھی مغربی دریا پر پانی روکا، تو یہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ہم نہ صرف بھرپور سفارتی، قانونی اور عسکری جواب دیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کو آبی دہشتگرد اور معاہدہ شکن ملک کے طور پر بے نقاب کریں گے۔سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، بقاء کا مسئلہ ہے۔ بھارت اگر سمجھتا ہے کہ وہ پانی روک کر پاکستان کو زیر کر لے گا تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے ایٹمی دھماکے بھی اپنے دفاع میں کیے تھے، پانی کے ایک قطرے کے لیے بھی ہم وہی جذبہ رکھیں گے۔ دشمن کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم متحد ہو جائے تو نہ صرف دریاؤں کا رخ موڑ سکتی ہے بلکہ تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتی ہے۔
    اب جب کہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی بھارت کو سخت جواب دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ اب صرف الفاظ سے کام نہیں چلے گا۔ قومی سلامتی کے ادارے، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت سب ایک صفحے پر ہیں اور یہ پیغام بھارت سمیت پوری دنیا کو پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی آبی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دشمن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم امن پسند ضرور ہیں، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پھر ہر میدان، ہر محاذ اور ہر دریا پر پاکستان کی جیت ہو گی۔ سندھ طاس معاہدہ ہماری زندگی کی ضمانت ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے ہم ہر حد تک جائیں گے — چاہے وہ سفارتی محاذ ہو یا سرحدی مورچے۔