Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • تم جنگ ہی نہیں دل بھی جیت چکے .تحریر:ملک سلمان

    تم جنگ ہی نہیں دل بھی جیت چکے .تحریر:ملک سلمان

    حالیہ پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنے سے دس گنا بڑی فوج، دفائی بجٹ اور جدید جنگی سازوسامان والے بھارت کو شکست دے کر دنیا بھر میں بہادری کی انمٹ تاریخ رقم کردی۔

    پاکستانی عوام نے بھی اپنے محسنوں اور محافظوں کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گلیوں، بازاروں، مسجدوں، مدرسوں، امام بارگاہوں، تعلیمی اداروں سے لیکر ہر مکتبہ فکر کے افراد نے افواج پاکستان زندہ باد، شکریہ پاک فوج کی ریلیاں اور جلسے کیے، یوم تشکر اور جشن فتح کی کیک کاٹے جا رہے ہیں۔ کراچی سے خیبر، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہر جگہ سارا پاکستان اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتا نظر آرہا ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں موجود اوورسیز پاکستانی بہت عرصے بعد ناصرف متحد نظر آئے بلکہ انتہائی فخر سے دنیا کو بتاتے نظر آئے کہ ہم پاکستانی ہیں وہ بہادر پاکستانی جنہوں نے دشمن کے مزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ و ناکام کر دیا۔

    ناقابل تسخیر افواج پاکستان کی بدولت پاکستان صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں دنیا کی سب سے مضبوط طاقت بن کر ابھرا ہے۔
    جس ریسٹورنٹ، کیفے، شاپ پر دیکھیں افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں کیلئے 30سے 50فیصد ڈسکاؤنٹ کے ویلکم بینر لگے ہوئے ہوئے ہیں، پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے فوجیوں کے بچوں کیلئے فری ایجوکیشن کے بورڈ لگادیے۔ معمولی ٹھیلے، کھوکھے سے لیکر مارٹ اور میگامالز ہر جگہ افواج پاکستان کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹس کا اعلان کردیا گیا ہے۔ تاجروں اور عوام کا کہنا تھا کہ آج ہم جس فخر اور تحفظ کے ساتھ زندگی انجوائے کررہے ہیں اس کا تمام تر کریڈٹ افواج پاکستان کو جاتا ہے جنہوں نے ہرمشکل گھڑی میں ہمارا تحفظ کیا۔ اس لیے ہم عوام اپنی خوشی اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر افواج پاکستان کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹ آفر کر رہے ہیں۔

    دنیا میں چوتھے نمبر پر ملٹری فورسز اور دفاع کیلئے سب سے زیادہ 88ارب ڈالر سالانہ بجٹ استعمال کرنے والے ملک بھارت کو صرف ساڑھے سات ارب ڈالر بجٹ کے ساتھ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والے پاکستان نے ایسی عبرت ناک شکست دی کی دنیا بھر کے تمام جنگی ماہرین تعریف کیے بن نہ رہ سکے۔
    بھارت نے اسرائیل کے سب سے طاقتور اور جدید ترین جنگی ڈرونز کا استعمال کیا جسے افواج پاکستان نے فضاء میں ہی تباہ و برباد کردیا جبکہ کچھ ڈرونز کو حفاظت کے ساتھ فوجی تحویل میں لے لیا۔ جنگی جہازوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل فرانس کے تیارکردہ دنیا کے مہنگے ترین اور سب سے خطرناک جنگی طیارے رافیل کو فضاء میں مار گرانے کے کارنامے نے دنیا بھر کو حیران و پریشان کردیا کیونکہ یہ تاریخ کا پہلا واقع ہے کہ جنگی جہاز رافیل کو مار گرایا۔ افواج پاکستان کے ہاتھوں رافیل کی تباہی سے بین الاقوامی مارکیٹ میں فرانس کی اسلحہ ساز کمپنی کے شئیر گرچکے ہیں۔
    دنیا میں جنگی سازو سامان کیلئے بڑی انڈسٹری کے طور پر جانے والے روس کے سب سے پاورفل ائیر ڈیفینس سسٹم S-400کو چند منٹوں میں راخ کے ڈھیر میں بدل کر پاکستان نے نہ صرف دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ بھارت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، بھارت نے امریکہ کے زریعے رحم اورجنگ بندی کے ترلے کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کی۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہرمشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

  • ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا
    نواز شریف اورذوالفقار بھٹو کی محنت نے دفاع وطن کو ناقابل تسخیر بنا دیا
    فضائیہ کیلئے موٹرویز کی شکل لاتعداد رن ویز اور نوجوانوں کو جدیدٹیکنالوجی دی گئی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاکستان کی ایٹمی، صلاحیت پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، پاک چائنہ دوستی کے ثمرات اور دفاعی تعاون پاکستان میں سائبر ٹیکنالوجی کا فروغ ،ایسے عوامل ہیں جنکی بدولت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیاگیا ، بھارت کی علاقے میں برتری کے خواب چکنا چور ہو گئے، قارئین گرامی! پاکستان کو میسر نصرت خداوندی کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی دستیابی میں کن شخصیات اور قومی محسنوں کا ہاتھ تھا یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے، ایٹمی صلاحیت کے حصول اور پاک چائنہ دوستی کی بنیاد میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، پاک چائنہ دوستی کو آگے بڑھاتے ہوئے چین اور پاکستان کے مابین جے ایف تھنڈر کی پاکستان میں ہی تیاری کا کرشمہ اور ایٹمی دھماکوں سے لیکر پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیت کا نوجوانوں میں فروغ، موٹروے کی صورت میں پاک فضائیہ کو لامحدود رن ویز کی دستیابی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول میں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم اوراس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی فنڈز کی فراخدلانہ فراہمی اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھروں اور غلیلوں کے بجائے لیب ٹاپس کے ذریعے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا فروغ کے نتائج آج سامنے آگئے،،اس میں میاں محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت کو داد دینا بنتی ہے، آج ہماری قوم کو فتح مبارک ہو اور ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذہانت اور بے لوث خدمت، میاں نواز شریف کے جذبہ حب الوطنی سے پاکستان کے استحکام کے لئے اقدامات،بری ، بحری و فضائی افواج کی بہادری اور قربانیوں کو یاد رکھنا ہو گا، ہماری قوم کو یہ بھی عزم کرنا ہو گا کہ اپنے مکار دشمنوں کو نیچا دکھانے کے لئے میاں نواز شریف کے ویژن کے مطابق پاکستان کی ترقی کے لئے ہمہ تن مصروف مریم نوازشریف کی پاکستان میں تعلیم و ترقی کے لئے جاری کاوشوں کو تسلسل دینا ہو گا، کیونکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق لیب ٹاپس، سائبر تعلیم اور پاکستان میں انفراسٹرکچر کی جدت ہی استحکام پاکستان ہے، نوجوانوں کو کمپیوٹر ایجوکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے نہ کہ غلیلوں اور پتھروں کے بل بوتے پر اپنی ہی افواج اور ریاست پاکستان پر تنقید کے نشانے کی!نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے،،ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی،،افواج پاکستان زندہ باد ،،پاکستان پائندہ باد

  • آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    10 مئی 2025 کو پاکستانی مسلح افواج نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ آپریشن بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب تھا، جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستانی فوج نے اس آپریشن کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دنیا کو ثابت کر دیا کہ پاکستان پر میلی نظر رکھنے والے دشمنوں کو کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر ایک اور جارحیت کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور بھارتی فوج کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کا آغاز اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    پاکستانی فوج کی بری، بحری، اور فضائی افواج نے اپنے بھرپور عزم، طاقت اور حکمت عملی کے ساتھ بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کی کامیابی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی افواج کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کو اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس آپریشن نے نہ صرف پاکستانی عوام کا اعتماد جیتا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے دفاعی معیار اور عزم کو بلند کیا۔پاکستانی عوام نے افواجِ پاکستان کی اس بے مثال بہادری اور جوابی کارروائی کو سراہا۔ لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی قربانیوں کی قدر کی۔ عوام کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ کبھی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے، لیکن جب بھی وطن کی سلامتی کے لیے ضرورت پڑی، وہ اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کر کے حملہ کیا، لیکن پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے اس کی ساکھ کو دنیا بھر میں خاک میں ملا دیا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جس جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی، وہ اس کے لیے ایک بدترین ناکامی ثابت ہوئی۔ پاکستان نے نہ صرف بھارتی عزائم کو ناکام بنایا بلکہ اپنی فوج کی طاقت کو عالمی سطح پر ثابت کیا۔پاکستان کی افواج کی اس کامیابی نے نہ صرف دشمن کو ناکامی سے دوچار کیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کر دیا۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ یہ کامیابی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے مزید مضبوط اور معتبر بناتی ہے۔ پاکستانی عوام نے اس موقع پر یہ عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر ان کا ساتھ دیں گے۔ یہ عہد پاکستان کی طاقت، عزم اور یکجہتی کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

    10 مئی 2025 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب افواجِ پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپریشن پاکستانی فوج کی بے مثال بہادری، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کی مثال ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کو سلام، اور ہم سب کا عہد ہے کہ وطن کی دفاع میں ہم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

  • یہ گلشن سدا سلامت رہے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    یہ گلشن سدا سلامت رہے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    عمر گریزاں کا سفر بے شک تیزی سے گزررہا ہے لیکن اس کا دورانیہ کچھ بڑھ جائے یا زندگی کی چند سانسوں کی مزید مہلت مل جائے توخوشیاں مسرتیں محبتیں امن ،کرب تکلیفیں مصیبتیں ان کیفیات کا احساس بیدار ہونے لگتا ہے اور سمجھ بوجھ یعنی عقل سلیم عطا ہو تی ہے دینے والا وہ رب ذوالجلال ہے کچھ بھی دے سکتا ہے دکھ غم روگ تکلیفیں خوشیاں محبتیں امن سکون اس شہنشاہ کی اپنی مرضی،
    گزشتہ کچھ روزکربناک اور اعصاب شکن رہے یہ زندگی بس گزر جاتی ہے مقصد بڑا ہو تو یہ بڑی دلچسپ بھی ہو جاتی ہے بے مقصد زندگی تو ویسے ہی فضول سی گزرتی ہے ہم بھی اسی بے مقصد زندگی کا حصہ ہوئے دشوارگزار کٹھن اور ہاں کبھی کبھی کچھ لمحوں کی خوشیاں بھی نصیب ہوئیں یعنی کبھی خوشی کبھی غم۔۔۔۔ لیکن رواں دواں تھی خوب چل رہی تھی ہم سفر ہے کبھی ہنساتی ہے کبھی رلاتی ہے ساتھ تو چلنا ہے نا اسے جینا تو ہے لیکن اچانک سے گھٹیا دشمن اپنی طاقت کے زعم اور اپنی چوہدراہٹ دکھانے۔۔۔ امن کا دشمن بن گیا بدامنی کا خوف چھاگیا اور ایسا چھایا کہ بہت کچھ سکھا گیا ہمارا پڑوسی ملک بھارت گھٹیا ترین دشمن ۔۔۔وہی دشمن جو اپنے دیس کے انسانوں اور مسلمانوں کا بھی دشمن ہے
    اس نے امن کا ماحول تہس نہس کردیا اور ہم پر زبردستی جنگ تھوپ دی نجانے اس خطے کا بدمعاش بننے کا شوق کہاں سے چرا لایا پرامن بستیوں کو اجاڑنے کا خواب تو دیکھ لیا لیکن اس کی تعبیربھی نہ پاسکا کود پڑا ہمیں شکست دینے۔۔۔
    خیر اس نے اپنے دانت کھٹے کروانے اور لیٹ کر مارکھانے کے بعد اپنے آقا سے کہا کہ حضور اب ہمیں بچا لیجئے ہماری صلح کروا دیجئے یہ پاکستان ہمیں کھا جائے گا

    سو تادم تحریر جنگ بندی کا اعلان ہوچکا ہے سکون کی وہ گھڑیاں واپس لوٹ آئی ہیں اور سکھ کے سانس آنے جانے لگے ہیں ،اگر انسان گھر کی باتیں باہر چوک پر سنانے لگے تو وہ گھر تادیر سلامت نہیں رہتے ہاں گھر کے اندر بہت دفعہ جھگڑے ہوتے ہیں اور ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن اگر گھر کے دروازے پر کوئی دشمن آتشیں اسلحے سے لیس ہوکر سامنے کھڑا ہو اور اندر جھگڑے جاری ہوں تو تب امن سلامت نہیں رہتا دشمن موقع سے فائدہ اٹھاکرپورے گھرکو ختم کرسکتا ہے

    بہت سے لوگوں کو اپنی افواج سے اختلافات اور تحفظات ہوسکتے ہیں لیکن یہ افواج نہ ہوں تو سلامتی خطرے میں رہتی ہے اور گھر سلامت رہیں تو ہمیشہ کے یہ مسائل بعد میں بھی سلجھائے جاسکتے ہیں چونکہ میں یہ کالم گزرے تکلیف دہ اور اعصاب شکن ایام میں تحریر کررہا تھا جب ملک بھر میں دشمن اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہم پر وار کررہا تھا اس تحریر کو مکمل نہ کرسکا کالم کا بقیہ حصہ آج مکمل کرنے کا وقت ملا تو ہماری فوج تب بھی دشمن کو للکاررہی تھی جب سرحدوں پر دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کررہی تھی اور آج بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے محاذ پر ڈٹی ہوئی ہے یہ ہمارے ہی بیٹے ہیں ہمارے ہی بھائی ہیں بھوک پیاس نیند کو بھلا کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ان کے ہوتے ہوئے ہم راتوں کو سکون کی نیند سوتے ہیں اور ہم سب نے گزشتہ دنوں یہ راتیں بھی سکون سے بے فکر ہوکر گزاری ہیں یہ سکون کی نیندیں انہی ماؤں کے بیٹوں کی بدولت ہیں جن پر ہمیں پوری امیدیں ہیں آج دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے پاگل ہوچکا ہے اور پاگل پن میں تو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے اپنی پاک فوج کی ہمت بڑھائیں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں فوج ہے تو ملک ہے اور ملک ہے تو ہم ہیں امن سکون اورترقی کے لئے وطن کے بیٹوں کا حوصلہ بنیں سوشل میڈیا پر فوج مخالف پراپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں یہ دشمن کی وارداتیں ہیں اپنوں کا ساتھ دیں اپنے گھر کی سلامتی کو ترجیح دیں اپنے بچوں کی مسکراہٹوں کو بکھیرنے کا سبب بنیں نہ کہ چیخوں کی ۔۔۔۔

    جنگیں سفاک ہوتی ہیں بے رحم ہوتی ہیں ان کی راہوں میں جو کچھ آتا ہے مٹ جاتا ہے تباہی اور بربادی مقدر بن جاتی ہے ہم امن کے داعی ہیں دونوں طرف انسانیت ہے خون نہیں چاہتے لیکن گھٹیا دشمن ہمارے سر پر سوار ہے پاک فوج انشااللہ ہمیشہ اسے سبق سکھاتی رہے گی یہ فوج ہمارا فخر ہے ہمیں اپنےان جانبازوں پر مان ہے وقت کا تقاضا ہے اپنی فوج کا بھرپور ساتھ دیں دشمن کی کسی بھی سازش کا حصہ نہ بنیں اپنے پیارے وطن کے محافظوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہیں اللہ تعالی ہماری افواج کو سلامت رکھے اوریہ گلشن امن محبتوں اور خوشیوں کا مسکن رہے اور یوں ہی سدا مہکتا رہے
    پاکستان پائندہ باد
    فیڈبیک کے لئے قارئین واٹس ایپ پر رابطہ کرسکتے ہیں
    03004897576

  • بھارتی ڈرامے اور پاکستانی منہ توڑ جواب ،تجزیہ : شہزاد احمد قریشی

    بھارتی ڈرامے اور پاکستانی منہ توڑ جواب ،تجزیہ : شہزاد احمد قریشی

    پاکستان کی بری، فضائی، اور بحری افواج نے دنیا کی عسکری تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کروا دیا ، بھارت کو پہلگام میں دہشت گردی کے ڈرامے کو پاکستان کے سر تھوپ کر ، پاکستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم پر اسے نہ صرف شکست فاش ہوئی بلکہ بین الاقوامی برادری نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پاکستان بھارت جنگ اور باہمی تعلقات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے ممالک میں تعینات سفراء پریس اور دیگر افسران کو بھی خواب خرگوش سے بیدار ہو کر جعفر ایکسپریس، ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ کارروائیوں، بی ایل اے کی بلوچستان میں کاروائیوں، کلبھوشن سے لیکر جعفر ایکسپریس میں بھارت کے پوشیدہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اقوام عالم کو بتانا ہو گا بلاشبہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاک بھارت تنازعہ کے دوران شب و روز ہمہ تن مصروف رہے اور تمام دوست ممالک کی اعلی قیادت کیساتھ رابطے میں رہے بیرون ملک تعینات سفارت خانوں میں تعینات افسران کو پاکستان کیساتھ ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کا پرچار کرنا ہو گا (بلاشبہ ہماری عسکری قیادت سرحدوں کی حفاظت پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے) بھارتی وزیر اعظم کے ماضی سے ایک عالم گواہ ہے کہ وہ کن بھارتی شہر گجرات سمیت بہت سی کاروائیوں میں ملوث رہے اصل مسلہ پاکستان کو چین کے قریب ہونے اور سی پیک کی سزا مل رہی ہے بھارت نے پہلگام کروا تو دیا جسکے ثبوت اس کے پاس نہیں بھارت یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ چین بھارت کے راستے میں ایک دیوار بن کر حائل ہے .

    یاد رہے عالمی طاقتوں کے یہ بات نوٹس میں ہے کہ بھارت میں پہلے ہی کئی ریاستوں میں علیحدگی پسند تنظیمیں موجود ہیں، اصل میں بھارت پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے آئی ایم ایف سے بھی کہا کہ پاکستان کو قرض نہ دیا جائے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر نقصان ہو، پاکستان کی موجودہ ابھرتی ہوئی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، حکومت پاکستان کو معیشت کو مستحکم کرنے پر بھرپور توجہ دینی چاہیے بھارت پہلگام کی دہشت گردی پاکستان کے نام کرکے ترقی و حمایت کی راہیں محدود کرنے کی ناکام کوشش کی ہے مودی سرکار ابھی تک دنیا کو پہلگام واقعہ کے ثبوت فراہم نہ کر سکا پاکستان کی ابھرتی معاشی صورتحال کو رکاوٹوں سے دوچار کرنے کے لیے کشیدگیاں و تلخیاں مودی سرکار نگر نگر گھوم رہی ہے کہ کہیں ہندو توا کا تاج گر نہ جائے بلاشبہ امریکی صدر اور دیگر اقوام نے پاک بھارت جنگ میں مداخلت کرکے پورے خطے کو بچا لیا مودی سرکار کو روس اور چین کی بڑھتی ہوئی قربتیں اچھی نہیں لگ رہیں، عالمی ذرائع کے مطابق روس چین تعلقات کو ایک نئے عالمی نظام کے قیام میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے ، نام نہاد جمہوریت کے روپ میں عالمی دنیا اگر آمریت دیکھنا چاہتی ہے تو اسے بھارت کے اندرونی علیحدگی پسند تنظیموں کو دیکھنا ہو گا، مودی کا ماضی اور حال اور پہلگام کے خودساختہ خونی ڈرامے کی نمائش سامنے آجائے گی،

  • مال کی حوس فتنہ اور اسی فتنے کانام دنیا ہے،تحریر:ظفر اقبال ظفر

    مال کی حوس فتنہ اور اسی فتنے کانام دنیا ہے،تحریر:ظفر اقبال ظفر

    دنیا کی بناوٹ کو اس کے وجود کے اعتبار سے دیکھتا ہوں تو زمین پر ہوئی ساری کی ساری تخلیق قدرت کی مصوری کا پتا دیتی ہے اور خدا کو جاننے کے تناظر میں یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خدا کاسب سے پسندیدہ مشغلہ تخلیق ہی رہا ہے اور ہر تخلیق اپنی ابتدا سے ہی اپنے حسن پر برقرار کھڑی ہے اور زمین کا سارا انتظام انسانی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا ہوا ہے تو یہ جو پانی پہ زمین کا تخت انسان کے لیے سجایا گیا ہے اس پہ دنیا نام کی کیا حقیقت ہے جس کو اس کے بنانے والے نے بھی برائیوں فتنوں خرابیوں حقیر اور ناجانے کیا کیا ناپسندیدہ القاب سے پکارا بتایا سمجھایا ہے تبھی تو خدا کے محبوب بندوں نے دنیا کبھی دنیا بنانے والے سے بھی نہیں مانگی۔ میں بہت غور و فکر اور ذاتی زندگی کے تجربے سے جس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا نام کی ساری خرابیوں کو جمع کرکے اسے کوئی نام دیا جائے تو وہ مال و دولت ہی ہوگا جس سے دنیا کے سارے فتنے رونما ہوتے ہیں ویسے تو ایمان والوں کے لیے دولت کے علاوہ بھی کئی صورتوں کو فتنے کا نام دیا گیا ہے مگر جس نے سب سے زیادہ سکون انسانی برباد کیا وہ مال ہی ہے جسکی غیرموجودگی نے اچھوں کو برا کر دیکھایا اورموجودگی نے بروں کو اچھا بنا کر پیش کیا۔ اصل میں دنیا ہی ہے مال کا نام جس کی حوس ایمان ہی کیا پورے کے پورے انسان کو ہی کھا جاتی ہے تبھی یہ انسان نگلنے والی بلا سے نفرت کے تناظر میں خدا اور خدا کے بندوں کے سخت اقوال خوب وضاحت کرتے ہیں حدیث مبارکہ ہے کہ دنیا مردار ہے اور اس کا طالب کتا ہے قول علی ؓہے کہ دنیا میرے نزدیک ایسے ہے جیسے سور کی انتڑیاں جو کوڑھے کے ہاتھوں میں ہو۔

    جس انسان کی جائز ضرورتوں کو اس کے لیے آسان رکھ کر اسے مال کی حوس سے آزاد کردیا گیا اُس کی غربت بھی بادشاہی کا اک روپ ہے اور جیسے ضرورتوں سے زیادہ ما ل دے کرمزید مال کی حوس میں جکڑ دیا گیا اس شخض کی اپنی قیمت بھی ختم ہو جاتی ہے میں نے لاکھوں کرڑوں کے ایسے کئی مالک دیکھے ہیں جن کے پاس مال تو ہے مگر خود دوکوڑی کے بھی نہیں ہوتے ان بے قیمت لوگوں کو پا کر میں سوچتا تھا دنیا جتنی خود گری ہوئی ہے اس کا انتخاب خود سے زیادہ گرے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں یعنی دنیا اُنہی کے پاس جاتی ہے جو دنیا کے مزاج کے ہوتے ہیں خوش قسمت ہیں وہ روحیں جنہیں دنیا راس ہی نہیں آتی اور وہ دنیاوی نظام کو ٹھکرا کر آسمانی دنیا کے دھیان میں رہتے ہیں جنہیں لوگوں نے غربت کی نفرت میں ددھکار دیا وہی لوگ آسمان والے کے لاڈلے ٹھہرے ہیں۔ دنیا کی مشکلیں صبر کرنے والوں کے لیے اگلے جہان کی آسانیاں ہیں مگر میں ایمان و انسان کے سارے رشتے کھا جانے والی دولت نامی بلا کی اتنی اہمیت کیوں بنائی پر مبنی سوال بارگاہ خداوندی میں کرتا تو جواب آتاکہ ایمان صورت حسینی میں جتنی نایاب و پاکیزہ دولت ہے اسے آزمانے کے لیے یزیدی دنیا ہی درکار تھی اپنے اردگرد کی دنیا دیکھئے مال کے چکر میں ایمان کی بدصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے دولت دنیا نے انسان کے ہاتھوں ہی انسان کو بے قیمت بنا کر رکھا دیا انسانیت کی جگہ کثرت مال دیکھ کر عزت و اہمیت دی جاتی ہے جبکہ یہ عزت و اہمیت دولت کی طرح جھوٹ کی وہ تصویر ہے جیسے مفاد کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے۔

    کثرت زر کی حوس میں ڈوبی بدبودار رُوحیں حقوق کی زمین پہ فساد کی جڑ ہیں ان کی زندگی کا واحد اصول۔ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔ یہ قدرت کی طرف سے رکھا گیا حلال بھی اپنی حوس زدہ سوچ سے حرام بنا کر برکت کی توہین کے گنگار لوگ ہیں اسلامی معاشرے کا سب سے بھیانک چہرہ اُن لوگوں کا ہے جواسلامی حیلے میں دنیا جمع کرنے کے لیے اخلاقی شرعی قانون کی حرمت پامال کرتے ہیں مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر شرافت کا ڈھونگ کرتے ہیں جبکہ ان کی شرافت شر اور آفت کا مجموعہ ہوتی ہے میں نے پانچ وقت کے حرام خور نمازی بھی دیکھے ہیں جو نہ نماز چھوڑتے ہیں نہ حرام چھوڑتے ہیں ان کی عبادت عبادت نہیں عادت ہے جو ان کی اندر کی حرام حوس کو مارنے پربے اثر رہتی ہے ان پر بات کی جائے تو یہ اپنے بدکردار کی نشاندہی کوتوہین مذہب سے جوڑ کر اللہ کے بدمعاش بن جاتے ہیں دنیا کے عاشق دنیا کے حیلے میں ہی کماؤ دین کا لبادہ اُوڑھنا ہے تو دین کوکردار میں اپناؤ خریدا ہوا مال واپس اور تبدیل کرنے کے ساتھ شرعی منافع رکھوکیا یہ غرض مال دنیا کی منافقت نہیں کہ خریدتے وقت عیب نکالیں جائیں اور وہی چیز فروخت کرتے ہوئے تعریفیں بیان کی جائیں

    اپنی دکانوں کے باہر لوگوں کا راستہ کرایے پر دینے والوں کو اس حدیث پر ایمان کیوں نہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے راستے کی جگہ پہ تو نمازتک نہیں ہوتی جب سب سے افضل عبادت جائز نہیں ہوتی تو روزی کیسے جائز ہو سکتی ہے اس عمل سے منسلک دونوں افراد حرام کا شکار ہیں طالب دنیا کے پھیلائے فتنوں پہ جتنی بھی بات کرو یہ پھیلتی ہی چلی جائے گئی آپ کے اپنے زہن میں بھی بے شمار حوالے آ رہے ہوں گے جو روزمرہ کی زندگی میں اپنے معاشرے کے طرزعمل سے سب کو نظر آتے ہیں ان ساری خرابیوں پر بات کرنے کی سمجھداری تو سبھی رکھتے ہیں مگراصل ضرورت اس بات کی ہے جس سے اصلاح کا ایسا نظام کیسے بنایا جاسکے جس سے انسان انسان کو حوس دنیا میں ڈسنا بند کر دیں اس کے لیے پہلے تو دنیا کی اُس نفرت کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو خدا اور خدا کے محبوب بندوں میں پائی جاتی ہے۔یہ کیامسلمانیت کی بدقسمتی ہے کہ آسمانی معیار کی سوچ کو چھوڑ کر زمینی خرابیوں کو اصول زندگی بنا لیا جائے مصنوعی مہنگائی اور زمینی بے روزگاری کے طوفان کے آگے پل باندھنے کی بجائے اس کے نئے راستے اُس جانب کھولے جائیں جہاں مجبور بے بس انسان بستے ہیں اخلاقی قدروں کو تباہ کرنے والے حالاتوں سے سمجھوتہ کرکے اوپر کے ظلم نیچے والوں پہ تقسیم کرنے کی بجائے ظالم کو اصلاح پہ مجبور کیا جائے ریاست کی ترقی کے لیے انسانیت کے اخلاقی کردار کو مسخ کرنے والے صاحب اختیار لوگوں کی جگہ صاحب ضمیر لوگوں کو بیٹھایا جائے غربت اگر اتنی ہی بری ہوتی تو خدا اپنے ہرمحبوب بندے کو یہ تحفے میں نہ دیتا بدکردار دولت مندی کی بجائے باکردار غربت پہ فخر کرنا شیوہ پیغمبری ہے حلال و جائز زرائع سے روزی کمانا عین عبادت ہے اور اس عبادت کو قضا کرنے والے کی خدائی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی دین کے نام پر لوگوں کی آخرت کی فکر کرنے کی بجائے لوگوں کی دنیا دین کے مطابق بنانا دین سے سب سے بڑی خدمت ہے دنیاوی نظام کو دینی نظام میں ڈھالنا ہی آخرت کی تیاری ہے دنیاوی زندگی میں آسانی ہے۔ بندہ کسی بندے کا گنہگار نہ نکلا تو بخش دیا جائے گا مگرکسی بندے کا گنہگار نکلاتوہمیشہ ہمیشہ کی زلتوں میں جکڑ دیا جائے گا

  • آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان کی دفاعی تاریخ میں جب بھی ذکر ہوتا ہے، وہ کچھ نہ کچھ خاص لمحے ہوتے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔ ان لمحوں میں سے ایک وہ وقت،دس مئی، بعد نماز فجر،جب پاکستان نے اپنے دشمن بھارت کو ایک زبردست فوجی جواب دیا۔ اس آپریشن کا نام تھا "بنیان مرصوص”، اور اس میں استعمال ہونے والے میزائل کا نام تھا "الفتح”۔

    "الفتح” عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "فتح” یا "کامیابی”۔ یہ نام اس میزائل کو دیا گیا کیونکہ اس کا مقصد دشمن کو شکست دینے اور کامیابی حاصل کرنے کا تھا۔ "الفتح” ایک جدید اور انتہائی طاقتور میزائل تھا، جو کسی بھی دشمن کی دفاعی لائن کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس میزائل کا مقصد نہ صرف فوجی طاقت کو ظاہر کرنا تھا بلکہ دشمن کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔پاکستان کے اس فوجی آپریشن کا نام "بنیان مرصوص” رکھا گیا، جو کہ قرآن مجید کی ایک آیت سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کے اتحاد اور مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ "بنیان مرصوص” کا لغوی معنی ہے "ایک مضبوط دیوار” یا "ایک مضبوط قلعہ”۔ اس آپریشن کا مقصد دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنا اور اپنی سرحدوں کی مکمل حفاظت کرنا تھا۔ آپریشن کی کامیابی کی وجہ سے اس کا نام "بنیان مرصوص” بہت مناسب ثابت ہوا۔

    آپریشن کا وقت بھی ایک خاص روحانیت اور تاریخ سے جڑا ہوا تھا۔ اس آپریشن کا آغاز ایک حدیث سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ حدیث میں آتا ہے،”جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہو، تو تمہاری کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔”یہ حدیث مسلمانوں کے عزم و حوصلے کو بڑھاتی ہے، اور اس آپریشن کی کامیابی میں اس کا بڑا عمل دخل تھا۔ آپریشن کی کامیابی اور طاقت کے پیچھے ایک عظیم ایمان اور عزم کا راز تھا۔

    پاکستانی فوج کے ہر آپریشن کی طرح اس آپریشن کی ابتداء بھی "بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم” سے کی گئی۔ یہ نہ صرف ایک روحانی آغاز تھا بلکہ اس سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اس آپریشن میں اللہ کی مدد شامل ہے۔ فوجی افسران اور جوانوں نے اس کلمے کے ذریعے اپنے دلوں میں عزم پیدا کیا اور دشمن کے خلاف جنگ میں کامیابی کی دعائیں کیں۔جب آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی کو حاصل کیا گیا، تو اس کا اختتام بھی ایک روحانی انداز میں کیا گیا۔ اس کا اختتام "الحمدللہ رب العالمین” سے کیا گیا، یعنی "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔” یہ اس بات کا اظہار تھا کہ اس عظیم کامیابی کا سارا کریڈٹ اللہ کی ذات کو جاتا ہے۔ اس اختتام سے یہ پیغام دیا گیا کہ جب انسان اپنی محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرتا ہے تو کامیابی خود بخود ملتی ہے۔

    آپریشن "بنیان مرصوص” نے بھارت کو ایک ایسا جواب دیا جس نے اس کی فوج کو ہلا کر رکھ دیا۔ بھارت کی دفاعی حکمت عملی اور طاقت کے باوجود، پاکستان نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس سے بھارت کو شدید دھچکا لگا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں بھارت کی تباہی کا منظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان کی فوج کی طاقت اور حکمت عملی نے عالمی سطح پر بھارت کی چالاکیوں کو بے نقاب کر دیا۔پاکستان کے اس کامیاب آپریشن کے بعد، بھارت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مدد مانگی۔ اس میں بھارت کی شکست اور پاکستان کی کامیابی کا واضح پیغام تھا۔یہ تمام واقعات نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنے، بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ پاکستان ہر حال میں اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ "الفتح” میزائل اور "بنیان مرصوص” آپریشن کی کامیابی نے دنیا بھر میں پاکستان کی فوجی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔

  • "بھارتی جارحیت اور پاکستانی رد عمل” .تحریر :عائشہ اسحاق

    "بھارتی جارحیت اور پاکستانی رد عمل” .تحریر :عائشہ اسحاق

    6 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے بزدلانہ وار کیا گیا اور رات کی تاریکی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں بیک وقت مزائل حملے کیے گئے جن میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا بقول ڈی جی آئی ایس پی ار احمد شریف کے بھارت نے مریدکے ، بہاولپور، مظفرباد، کوٹلی، شکرگڑھ اور دیگر مقامات پر میزائل حملے کیے۔ جن کی وجہ سے مساجد اور نہتے بے گناہ عام پاکستانی شہید ہوئے۔یہ خالصتا سویلین آبادی پر حملہ ہے اور بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔بھارت نے نہ صرف بین الا قوامی قوانین کی سرحد پار کی بلکہ پاکستان کی جغرافیائی حدود اور خود مختاری کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ ہماری مسجدیں، مدرسے، بچے ،خواتین اور نہتے شہری شہید ہوئے بھارتی میزائل ہمارے گھروں تک آگئے ہیں۔ یہ بھارت کی ننگی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔

    حملے کے تمام اہداف خفیہ نہیں تھے بھارتی سوشل میڈیا صارفین پہلے ہی بتا چکے تھے کہ وہ کن جگہوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ اس کے باوجود ہم اتنے غیر تیار کیوں رہے؟ بہرحال افواج پاکستان کا دفاعی رد عمل بلا شعبہ قابل تعریف رہا ۔ پاکستانی ایئر فورسز کی جانب سے گرایا جانے والا بھاری رقم کے عوض فرانس سے خریدا گیا زبردست جنگی طیارہ رافیل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے باعثِ ندا مت بنا۔بھارتی کھلی جارحیت کے بعد 7 مئی 2025 کو رانا ثنا اللہ کی جانب سے بیان دیا جاتا ہے کہ "افواج نے کاروائی کی ہے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جا چکا ہے اگر بھارت مزید کوئی کاروائی نہیں کرے گا تو ہم بھی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کاروائی نہیں کریں گے” دشمن پہلے ہی گھر میں گھس کر ہمارے لوگوں کو شہید کر چکا ہے اس پر ایسا غیر سنجیدہ اور احمقانہ بیان پاکستان کو ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے بھی نہایت کمزور دکھا رہا ہے اور پھر ہوتا کیا ہے کہ بھارت اپنی مزید جارحیت کو جاری رکھتے ہوئے ایک ہی روز میں پاکستان کے مختلف شہروں لاہور، کراچی، پنڈی، گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں میں تقریبا 77 ڈرون اٹیکز کرتا ہے۔ یہ انتہا ہے کہاں کہاں سے ڈرونز گر رہے ہیں، بھارت مسلسل جارحیت کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ بھارت نے ڈرونز کے ذریعے جاسوسی کر کے جو معلومات حاصل کرنا تھی وہ کر چکا ہے یہ ڈرونز فرا دینا محض دفاعی رد عمل ہے،

    قابل غور بات ہے کہ اگر بھارت واقعی اس معاملے کو بڑھانا چاہے تو اس کے پاس تمام معلومات دستیاب ہیں جن کی بنا پر وہ پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ دفاع کرنے اور جواب دینے میں کافی فرق ہے۔ جیسا کہ بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا اور پاکستان کے 35 لوگ جن میں بچے بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں شہید کر دیے اور پھر پاکستان اسی حملے کے دفاع میں بھارتی طیارے اور ڈرونز گراتا ہے بھارت کو نقصان پہنچاتا ہے تو یہ صرف دفاع ہے جواب نہیں۔ دفاع کا مطلب ہوتا ہے اپنے نقصان کو روکنا، اپنی حفاظت کرنا، دشمن کی طرف سے کیے گئے وار کو ناکام بنانا، انہیں روکنا جبکہ جواب کا مطلب ہوتا ہے دشمن کو یہ احساس دلانا کہ جو نقصان تم نے ہمیں پہنچایا ہے اس کی قیمت تمہیں چکانی پڑے گی تاکہ آئندہ دشمن ایسا حملہ اور ایسی حماقت کرنے کی جرات نہ کر سکے .

    بھارت جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے پاکستان کے شہروں کے اندر اآکر نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت کے وزیر دفاع خواجہ اصف کی طرف سے بیان آتا ہے کہ” ہم بھارتی شہریوں کو کبھی نشانہ نہیں بنائیں گے” بطور پاکستانی ہمارا مطالبہ ہے کہ جو جرات بھارت نے دکھائی ہے اس کا جواب دندان شکن ہونا چاہیے۔ اگر بھارتیوں کو نشانہ نہیں بھی بنانا تو مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کی طرف آے والے دریاؤں پر بنائے گئے تمام چھوٹے بڑے ڈیمز آپریشن تجاوزات کی طرح گرانا بے حد ضروری ہیں ۔موجودہ حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کی بھارتی جارحیت پر خاموشی قابل افسوس ہے اس پر عطا تاڑ کا بزدلانا بیان” بھارت نے پاکستانی سرزمین پر جارحیت کی عالمی برادری نوٹس لے” نہایت شرمناک ہے۔

    ایک آزاد ملک کے آزاد شہریوں کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ دشمن کی طرف سے کی جانے والی ہر جارحیت کے بعد ہم صرف جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، کیا ہم یہ کہنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں کہ بھارت ہمارے گھر تک آگیا اور ہم نے ان کے جہاز گرا دیے یا سلامتی کونسل کے ذریعے بھارت کے اس عمل کی مذمت کی جائے۔ پاکستانی عوام کو یہ کہہ کر مطمئن نہ کیا جائے بلکہ بھارت کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ بھارت کو آئندہ ایسی ننگی جارحیت کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑے۔ قوم پاکستان، افواج پاکستان کی طرف سے دفاعی رد عمل کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھرپور منہ توڑ جواب دینے کی منتظر ہے ایسا جواب جب پوری دنیا میں پاکستان کی طاقت کا لوہا منوا سکے۔ پاکستان زندہ باد

  • شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    صبح جاگتے ہی جاب کے لیے دوڑ، دوپہر کو جلدی جلدی میں کچھ کھا لینا، اور رات کو باہر سے کچھ آرڈر کر لینا — یہ آج کی شہری زندگی کا معمول بن چکا ہے۔زندگی کی اس تیز رفتاری میں ہم اپنی صحت، کلچر اور اصل ذائقے کو بھولتے جا رہے ہیں۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہ دیسی کھانے جو آپ کے بڑوں کے دسترخوان کی شان ہوا کرتے تھے، اب بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں؟آئیے جانتے ہیں کہ شہری زندگی کے ساتھ دیسی کھانوں کو کیسے اپنایا جا سکتا ہے — وہ بھی آسانی اور کم وقت میں!

    1. ہفتہ وار پلاننگ کریں
    ہفتے کے آخر میں تھوڑا وقت نکال کر دالیں، سبزیاں، شوربے یا سالن تیار کر لیں۔
    اس طرح ہفتے بھر میں آپ آسانی سے دیسی کھانے کھا سکیں گے — بغیر وقت ضائع کیے۔

    2. جلدی تیار ہونے والی دیسی ڈشز اپنائیں:
    مثلاً:

    پالک دال

    بھنڈی فرائی

    آلو کے پراٹھے

    دال چاول
    یہ کھانے نہ صرف آسان ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی۔

    3. دیسی ناشتہ واپس لائیں
    آج کل کا ناشتہ صرف چائے اور بسکٹ؟
    اس کی جگہ انڈہ پراٹھا، دہی یا ستّو کا شربت شامل کریں — صحت مند بھی اور سستا بھی۔

    4. دیسی گھی اور مصالحوں کا درست استعمال:
    اعتدال میں دیسی گھی، ہلدی، زیرہ، ادرک، لہسن کا استعمال کریں — یہ کھانوں کو ذائقہ اور صحت دونوں دیتے ہیں۔

    5. باہر کے بجائے گھر کا "Quick Lunch” اپنائیں:
    دفتر کے لیے 10 منٹ میں تیار ہونے والے کھانے جیسے:

    ابلے انڈے

    دال چاول

    سبزی والے رول

    یہ بہترین اور practical آپشنز ہیں۔

    6. فریزر فرینڈلی دیسی کھانے:
    کچھ سالن یا قیمہ فریز کر لیں تاکہ مصروف دنوں میں صرف گرم کرنا پڑے۔

    شہری زندگی اور دیسی کھانے — توازن ممکن ہے!
    اگر ہم تھوڑی سی پلاننگ، اعتدال اور شعور سے کام لیں تو نہ صرف اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہ سکتے ہیں بلکہ صحت مند بھی رہ سکتے ہیں۔
    یاد رکھیں،دیسی کھانے محض خوراک نہیں، اپنی پہچان سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

    خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں