Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مذہبی ٹچ،غربت کارڈ اور بدمعاشی نہیں حکومتی رٹ بحال کریں۔تحریر:ملک سلمان

    مذہبی ٹچ،غربت کارڈ اور بدمعاشی نہیں حکومتی رٹ بحال کریں۔تحریر:ملک سلمان

    این ایم سی، ایس ایم سی اور ایم سی ایم سی پرموشن ٹریننگ کورس پر لاہور آئے آفیسر مجھ سے ملنے گھر آئے تو وزیراعلیٰ پنجاب کے درجنوں کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ایکشن سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ سنئیر افسران کا کہنا تھا کہ انکے صوبوں کے وزراء اعلیٰ تجاوزات کے خلاف اس لیے جرات نہیں کر رہے کہ ان کے قریبی عزیز و اقارب کروڑوں اور اربوں روپے کی تجاوزات کے بینیفشریز ہیں دوسرا ووٹ بینک خراب ہونے کا خدشہ۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تجاوزات اور ریڑی والوں کا ووٹ کبھی بھی کسی کو میرٹ پر نہیں ملا، ریڑی والوں نے ہر دفعہ پیسوں کے عوض شناختی کارڈ ہی بیچا ہے۔
    وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات اور لاقانونیت کے خلاف زیروٹالریشن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پڑھے لکھے طبقے کا اچھا خاصا ووٹ بینک ان کی طرف آیا ہے۔ سنئیر افسران کا کہنا تھا کہ انکی خواہش ہے کہ وہ ٹریننگ کے بعد ویژنری وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں کام کرنے کیلئے پنجاب آجائیں۔

    سوشل میڈیا پر تجاوزات کی صورت ہٹائے گئے ایک بورڈ کی تصویر کے ساتھ کیپشن تھا کہ ختم نبوت کا بورڈ زمین پر گرانے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی افسران توہین مذہب کررہے ہیں،ان پر اللہ کا عذاب ہو۔
    میں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو وہ پوسٹ شئیر کرتے ہوئے کال کی کہ بھائی ان سب کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کروا کر انکا سارا مذہبی ٹچ نکالا جائے کہ ذاتی فائدے کیلئے جس پر مرضی توہین مذہب کا الزام لگادیتے ہیں۔ علماء اکرام سے گزارش ہے کہ جذباتی اور جنونی مذہبی ٹچ کی بجائے اصل دین سیکھایا جائے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ راستے سے پتھر ہٹانا بھی نیکی ہے۔ جب پتھر ہٹانا نیکی ہے تو راستوں میں پتھر لگانا اور تجاوزات قائم کرنا گناہ نہیں تو اور کیا ہے؟سرکاری سڑک اور زمین پر ختم نبوت کا بورڈ لگا کر قائم کی گئی تجاوزات کو ہٹانا توہین مذہب نہیں بلکہ تجاوزات قائم کرنا اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی ہے۔ بیچ سڑک مسافروں کو تنگ کرکے دکانداری کرنا حرام عمل نہیں؟

    سب سے زیادہ ٹریفک حادثات رمضان کے مہینے اور افطاری کے وقت ہوتے ہیں، افطاری سے گھنٹہ پہلے ٹریفک پولیس سڑکوں سے غائب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے فل سپیڈ سے گرم گرم سموسے پکوڑے لیکر گھر پہنچ جائے لیکن راستے میں موجود تجاوزات سے ٹکرا کر گھر کی بجائے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔رمضان کے مبارک مہینے میں تجاوزات قائم کرکے آپ شیطان کے چیلے والا کام کرتے ہو۔
    درجنوں نہیں سینکڑوں کی تعداد میں دربار اور مسجدیں سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے قائم کی گئی ہیں۔ علماء کو چاہئے کہ انتظامیہ اور حکومت کو خود سے آفر کریں کے وہ درباروں اور مسجدوں کا غیرقانونی حصہ مسمار کرکے باقیوں کیلیے بھی مثال قائم کریں کہ عبادت بھی تب قبول ہوگی جب غیرقانونی قبضہ کی گئی جگہ چھوڑ کر قانون کی پاسداری کریں گے۔ ایسا کرنا کوئی احسان نہیں علماء کا فرض ہے اگر وہ یہ فرض ادا نہیں کریں گے تو اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے اور اپنے سارے نیک اعمال ضائع کروا لیں گے۔

    راجہ مارکیٹ گارڈن ٹاؤن جہاں سپیکر پنجاب اسمبلی میرے ہمسائے ہیں اب تک آٹھ دفعہ ریڑی والوں کو ہٹایا گیا ہے پھر واپس آجاتے ہیں جب ان کی ریڑی کو زبردستی سرکاری تحویل میں لیا جائے گا تو سوشل میڈیا پر غربت کارڈ شروع ہوجائے گا غریب پر ظلم ہے اس کو وارننگ دے دیتے۔ آٹھ دفعہ ہٹایا گیا، کیا وہ وارننگ نہیں؟
    سرکاری زمینوں پر قبضے اور شاہرائیں بند کرنا غربت کا علاج نہیں۔ باعزت روزگار کیلئے حکومت پنجاب نے بہترین ریڑی بازار قائم کیے ہیں ان کے علاوہ تمام ریڑیاں اور رکشے قبضے میں لے لینے چاہئے۔ ریڑی بازار میں بھی سختی کی ضرورت ہے کوئی بھی ریڑی سے باہر سڑک پر نا تو سامان رکھے اور نہ ہی ریڈ لائن سے باہر نکلے۔
    مذہبی راہنماؤں کو چاہئے کہ درس قران اور جمعہ کے خطبات بھی ناحق زمین پر قبضے کرنے اور راستوں کی بندش کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالیں۔

    حقیقی بات یہی ہے کہ ہمارا معاشرہ اس قدر بے حس اور بے شرم ہوچکا ہے کہ اپنے مفاد کے خلاف احکامات الہی اور فرمان نبوی کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس لیے اس قوم کا ایک ہی علاج ہے وہ ہے بھاری جرمانے اور سخت سزائیں۔ اگر تجاوزات قائم کرنے والوں کو پتا ہوگا کہ انتظامی افسران ہر بار انکی منتیں نہیں کریں گے بلکہ تجاوزات کے جرم میں انکو جرمانہ ہوگا یا جیل جانا پڑسکتا ہے تو تین دن میں سارے ٹھیک ہوجائیں گے۔ سب سے ضروری بات تجاوزات قائم کرنے والوں کیلئے تو سزا ہے لیکن تجاوزات کو ہٹانے میں ناکام ہونے والے انتظامی افسران کیلئے بھی عہدوں سے معطلیاں اور نوکری سے برخاستگی کی کاروائی کیے بن یہ مشن ادھورا ہی رہ جائے گا۔
    میرے آبائی ضلع قصور میں سابق ڈپٹی کمشنر قصور نے تجاوزات کے خلاف اچھا آپریشن شروع کیا تھا لیکن جیسے ہی وہ گئے ہیں ایک دفعہ پھر سے ضلع قصور تجاوزستان بن گیا ہے۔ فیصل آباد اور ڈی جی خان کے اضلاع میں تجاوزات کے خلاف مثالی کاروائی کی جارہی ہے۔

    ملک سلمان

  • خیبرپختونخوا میں تعلیم کا جنازہ.تحریر: جان محمد رمضان

    خیبرپختونخوا میں تعلیم کا جنازہ.تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں تعلیمی شعبہ ایک بدترین بحران سے گزر رہا ہے، جس کی ایک جھلک ہمیں مختلف اعداد و شمار میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ بحران صرف نظام تعلیم کے بگڑنے کا نہیں، بلکہ ایک سنگین قومی مسئلے کا عکاس ہے جس کا اثر نہ صرف ہمارے بچوں کی تعلیم بلکہ ان کے مستقبل پر بھی پڑ رہا ہے۔آج خیبرپختونخوا میں 5.5 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جو کسی بھی قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ جب بچے اسکول سے باہر ہوں، تو نہ صرف ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اسکولوں کی کمی اور معیار کی پستی کے باعث بہت سے بچے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے محروم ہو گئے ہیں، اور یہ ایک نسل کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے اندر 591 سرکاری اسکول ایسے ہیں جو خالی پڑے ہیں۔ ان اسکولوں کی عمارتیں ویران پڑی ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ مقامی سطح پر اساتذہ کی کمی اور مناسب انتظامیہ کا نہ ہونا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 3,000 سے زیادہ اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جیسے پینے کا صاف پانی، باتھرومز، مناسب کلاس رومز، اور درسی کتابیں وغیرہ۔جنوبی وزیرستان جیسے علاقے خصوصاً تعلیم کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان علاقوں میں امن و امان کی خرابی کی وجہ سے بچوں کے لیے اسکول جانا ایک خواب بن چکا ہے۔ یہاں نہ صرف اسکولوں کی تعداد کم ہے بلکہ بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اگر ان علاقوں میں تعلیم کی حالت بہتر نہ کی گئی تو آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا عمل مزید متاثر ہو گا۔

    خیبرپختونخوا کے اساتذہ کا احتجاج اور ہڑتال بھی تعلیم کے بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور بہتر کام کے حالات کے مطالبات پر حکومت کی طرف سے سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ، تعلیمی بجٹ کی بدانتظامی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اسکولوں کی حالت مزید بگڑ چکی ہے۔اس تمام تر تباہی کے باوجود، خیبر پختونخوا کے حکمران سوشل میڈیا پر انقلاب کے خواب بیچ رہے ہیں۔ وہ عوام کو نئے منصوبوں اور تعلیمی اصلاحات کی امید دلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان منصوبوں کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر انقلاب کا نعرہ لگانا اور عملی طور پر کسی تبدیلی کے بغیر کچھ کرنا صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

    اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ اثر پشتون بچوں پر پڑ رہا ہے۔ یہ بچے اس بدترین تعلیمی بحران کا شکار ہیں اور ان کا مستقبل دن بہ دن مزید تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ بچے نہ صرف تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی میں بھی پیچھے رہ جائیں گے۔ہماری حکومتی قیادت اس صورتحال کے لیے ذمہ دار ہے۔ تعلیمی بحران کو حل کرنے کے بجائے، وہ صرف بیانات دیتے ہیں اور کسی بھی عملی قدم سے گریز کرتے ہیں۔ ان کی نااہلی کی وجہ سے اس وقت خیبرپختونخوا کے بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ان کے مستقبل کا کوئی چہرہ نظر نہیں آ رہا۔

    یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں آتا ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ حکومتی ناکامی ہے؟ یا یہ تعلیم کے نظام کی بنیاد میں موجود گڑبڑ ہے؟ ہر حال میں، ہمیں اس بدترین صورتحال سے نکلنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں نہ صرف تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانی ہے بلکہ اساتذہ کی فلاح و بہبود اور بچوں کی تعلیم کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے ہوں گے۔تعلیمی بحران کا حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن ہے، جو اس وقت نااہلی اور بدانتظامی کا شکار ہیں۔ اس بحران کو حل کرنے کے لیے ہمیں ایک مضبوط حکومتی پالیسی اور قوم کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں اور انہیں ایک بہتر تعلیم فراہم کر سکیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ہم اپنے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچانے میں ناکام رہیں گے۔

    jaan

  • والدین کی اہمیت،تحریر:   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    والدین کی اہمیت،تحریر: ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے دوسری شادی کا مشورہ دیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ ایک بیٹے کا ہونا ہے، اور وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے گا۔
    بیٹے کی تربیت
    جب بیٹا بڑا ہوا، تو اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کو سونپ دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا۔
    تنہائی کا احساس
    بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے اپنے گھر کا مکمل کنٹرول اپنی بہو کے حوالے کر دیا۔
    ایک دن کا واقعہ
    بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا بھی دفتر سے آیا۔ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی، تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے۔
    کھانا کھانے کے بعد، والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا۔
    حیرت انگیز خبر
    کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!” والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں اور اب تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟”
    حقیقت کا انکشاف
    لڑکے نے جواب دیا، "بابا، میں اپنی ماں کو آپ کے لیے نہیں لا رہا، نہ ہی ایک ساس کو اپنی بیوی کے لیے لا رہا ہوں! میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکے۔”

  • قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    السلام علیکم ، یاسمین صاحبہ ، کیسی ہیں ؟
    الحمدللہ ، بالکل ٹھیک
    کچھ اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیے کن اداروں سے تعلیم حاصل کی ؟
    کانونٹ جیسز اینڈ میری اور اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فائن آرٹس سٹڈیز میں تعلیم مکمل کی
    پہلی پینٹنگ کب بنائی ؟
    پہلی پینٹنگ دس سال کی عمر میں بنائی جو والد صاحب نے دیکھی اور اینا مولکا کو دکھائی ( اینا مولکا احمد مشہور مصورہ اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ فائن آرٹس کی بانی)
    اور پھر مصوری میں میں اینا مولکا صاحبہ کی پرائیویٹ سٹوڈنٹ رہی
    کانونٹ میں تعلیم اور فائن آرٹس میں دلچسپی کے باوجود اردو شاعری کی طرف کیسے ا ئیں؟
    کانونٹ میں پڑھنے کی وجہ سے میری اردو زرا کمزور تھی وہ میں نے اپنی والدہ صفیہ بیگم صاحبہ سے سیکھی وہ لکھتی تھیں شاعری بھی کرتی تھیں میرے ننھیال کا ماحول بہت علمی و ادبی تھا میرے نانا ماموں سب علامہ اقبال کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے اور گھر میں مولانا ظفر علی خان کا بھی آ نا جانا تھا شاعری میں علامہ اقبال سے متاثر ہوئی .

    شاعری اور مصوری میں کیا قدر مشترک ہے ؟
    میرے خیال میں شاعر اپنے تخیل میں الفاظ سے رنگ بھر کر کے غزل و نظم کہتا ہے اور مصور اپنے تخیل کو رنگوں کی صورت کینوس پر اتارتا ہے دونوں اپنے اپنے تخیل میں رنگ بھرتے ہیں
    بہت خوبصورت بات ہے یاسمین صاحبہ ، یہ بتائیے جب آ پ نے قائد اعظم کی پینٹنگ بنای تو تخیل میں وہ کیسے تھے ؟
    بالکل ویسے تھے جیسے میں نے انہیں زندہ و سلامت دیکھا تھا انہیں ملی تھی اور ان کا دست شفقت آ ج بھی میں اپنے سر پر محسوس کرتی ہوں
    yasmeen
    یاسمین صاحبہ آ پ کا پاکستان کے اہم خانوادہ سے تعلق ہے آ پ کے والد محترم ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے اور آ خری وقت میں ان کے ساتھ تھے اس حوالے سے تفصیل سے بتائیے
    جب تحریک پاکستان زوروں پر تھی تو ان دنوں میری عمر سات آ ٹھ سال تھی اتنا بچہ سمجھ دار ہوتا ہے اسے سب یاد ہوتا ہے میں نے اپنے گھر میں قائد اعظم اور پاکستان کا بہت نام سنا تھا میں سب بچوں کو جمع کرلیتی تھی اور جلوس نکالتی تھی ہلیپرز کے بچے بھی آ جاتے تھے اور میری قیادت میں سب بچے مل کر نعرے لگاتے تھے
    لے کے رہیں گے پاکستان
    دینا پڑے گا پاکستان
    پاکستان ہمارا ہے
    جان سے بڑھ کر پیارا ہے
    بہت جوش وخروش کا عالم تھا میرے تصور میں پاکستان ایسا تھا کہ جہاں پھول کھلے ہونگے اور بہت خوبصورت ہوگا جہاں مسلمان خوش رہیں گے اور قائد اعظم مجھے ہمالیہ سے بھی بلند لگتے تھے اور واقعی وہ بہت بڑے عظیم لیڈر تھے آ ج تک کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آ یا
    اور پھر ایک دن وہ بھی آ یا جب ابا نے سب بچوں بڑوں کو ڈراینگ روم میں بلایا سب وہاں جمع تھے اور خاموش تھے ابا نے ریڈیو آ ن کردیا کچھ دیر بعد ایک آ واز گونجی پہ آ ل انڈیا ریڈیو ہے کچھ دیر بعد اہم اعلان کیا جاے گا
    اور پھر بارہ بج کر سات منٹ پر مصطفی ہمدانی نے اعلان کیا ،، یہ ریڈیو پاکستان ہے ،،
    یہ آ واز اب تک میرے کانوں سے نکلتی نہیں ، سب کی آ نکھوں میں خوشی کے آ نسو تھے ، قائد اعظم جب بمبئی میں تھے تو ڈاکٹر پیٹل کے زیر علاج تھے وہ ایک مہلک بیماری ٹی بی میں مبتلا تھے ڈاکٹر پیٹل نے میرے والد صاحب ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے ھیینڈ اوور کردیا کیونکہ والد صاحب اس وقت برصغیر کے نامور ٹی بی سپشلسٹ تھے اور اس سلسلے میں ایوارڈ حاصل کر چکے تھے امریکہ سے انہوں نے اس بیماری پر ریسرچ کی تھی
    اب وہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے قائد اعظم نے میرے والد سے کہا تھا کہ ڈاکٹر شاہ میری بیماری کو سیکرٹ رکھنا ہے اور میرے والد صاحب نے اسے بہت راز میں رکھا قائد اعظم کی حالت ایسی تھی کہ اب وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے ان کی زندگی کی جتنی مدت ڈاکٹرز نے بتا دی تھی والد صاحب کے علاج کے بعد اس مدت میں کچھ اضافہ ہوا اور وہ مزید اٹھارہ ماہ زندہ رہے
    لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر جناح کی بیماری کا علم ہو جاتا تو پاکستان نہ بنتا
    انگریز اور ہندو یہی چاہتے تھے میرے والد صاحب نے بہت رازداری سے علاج کیا اور کسی کو ان کی حالت کی ہوا نہیں لگنے دی یہ میرے والد صاحب کی پاکستان کے لیے خدمت تھی لیکن انہوں نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا کسی بڑائی کا اظہار نہیں کیا،جب قائد اعظم کراچی آ گئے اور یہیں رہنا چاہتے تھے لیکن ان کی حالت کے پیش نظر والد صاحب اور دوسرے ڈاکٹرز نے آ ب وہوا کی تبدیلی کے لیے انہیں کوئیٹہ زیارت لے جانے کا فیصلہ کیا،کوئٹہ منتقل ہونے کے بعد ان کا علاج جاری تھا ڈاکٹرز کو بہتری کی امید تھی محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ساتھ تھیں ، اب والد صاحب قائد کے علاج کے سلسلے میں لاہور سے کوئٹہ آ تے جاتے رہتے تھے چونکہ قائد ایسے انسان تھے جو دوسروں کا سوچتے تھے کسی کی تکلیف انہیں گوارا نہیں تھی انہوں نے والد صاحب سے کہا ڈاکٹر شاہ آ پ کی فیملی لاہور میں ہے آ پکو کوئیٹہ آ نا پڑتا ہے آ پ فیملی کو بھی یہاں بلا لیں اس طرح والد صاحب نے ہمیں کوئیٹہ بلوا لیا ہم وہاں چلتان ہوٹل میں رہے ان دنوں میری والدہ کی فاطمہ جناح سے بہت دوستی ہو گئی ہم بچوں کو جہاں قائد اعظم تھے زیارت ریزیڈنسی میں نہیں لے جایا جاتا تھا ایک دن میں اور میرا بھائی ضد کر کے والد صاحب کے ساتھ چلے گئے اس دن قائد اعظم کو وہیل چیئر پر لایا گیا ان کے ایک طرف برٹش نرس اور دوسری طرف محترمہ فاطمہ جناح تھیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ وہ کتنے کمزور ہو گئے تھے جب میں پہلے ان سے ملی تھی تو وہ بہت شاندار نظر آ ئے تھے اور انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا،جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں کراچی واپس لایا گیا وہ اپنے جہاز میں جو پہلے ماؤنٹ بیٹن کا تھا ڈکوٹا اس میں کراچی آ ئے اور ایئر پورٹ سے ایمبولینس روانہ ہوئی جس میں میرے والد صاحب محترمہ فاطمہ جناح اور دوسرے ڈاکٹرز تھے اور اس سے تھوڑے فاصلے پر ہماری گاڑی تھی جس میں ہماری فیملی تھی کچھ دور جانے کے بعد ایمبولینس رک گئی اس کا پچھلا دروازہ کھلا برٹش نرس باہر آ ئیں فاطمہ جناح بھی اتریں ہم پریشان ہوے پھر پتہ چلا کہ ٹکنیکل فالٹ ہے ابھی دوسری ایمبولینس آ جائے گی ، یہاں میں ایک بات بتانا چاہتی ہوں کہ قائد اعظم کا ایمبولینس میں انتقال نہیں ہوا اکثر لوگوں نے کہا اور یہ لکھا ہے لیکن یہ غلط ہے میں نے اپنی آ نکھوں سے ایمبولینس میں قائد اعظم کو دیکھا وہ بے چین تھے ہاتھ ہلا رہے تھے محترمہ سے بات کرنے کی کوشش کر رہے تھے ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھلا تھا قائد اسٹریچر پر تھے اور پیچھے ہماری گاڑی تھی میں رونے لگی اور والدہ نے مجھے تسلی دی کہ قائد کو کچھ نہیں ہوگا ، پھر دوسری ایمبولینس آ گئی اور ہم وہاں سے روانہ ہوئے.کراچی پہنچنے کے تھوڑے دنوں بعد ایک رات محترمہ فاطمہ جناح کا والد صاحب کو فون آ یا کہ کہ قائد کی طبیعت بہت خراب ہے آ پ آ جائیں.میرے والد صاحب نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ جب میں وہاں پہنچا تو محترمہ فاطمہ جناح کی گود میں قائد کا سر تھا ان کا آ خری وقت تھا ان کی آ واز مدھم ہوگئی تھی لیکن موت سے پہلے شاید ایک سنھبالا آ یا اور ان کے آ خری الفاظ تھے اللہ اور پاکستان..

    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ
    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ

    یاسمین صاحبہ ، آ پ خؤش قسمت ہیں آ پ نے عظیم لیڈر کو نہ صرف دیکھا بلکہ آ پ کا بچپن ان کے ساتھ گزرا کچھ محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں بتائیے ؟
    فاطمہ جناح بہت گریس فل ، بہت اچھی شخصیت کی مالک تھیں ہمیشہ سفید یا گرے لباس میں ملبوس ہوتیں مجھے بہت اچھی لگتی تھیں لاہور میں ہمارا فارم ہاؤس تھا دلکشا گارڈن وہ جب بھی لاہور آ تیں وہیں ٹھہرتیں اور میں سب سے پہلے جاکر ان سے ہاتھ ملاتی میرا دل چاہتا تھا میں بھی ان جیسی بنوں ایک دن میرا دل چاھا میں ان کے سفید خوبصورت لباس کو ہاتھ لگا کر دیکھوں میں نے ان کی چادر کو چھوا تو انہیں مجھ پر پیار آ یا انہوں نے مجھے پیار کیا اور کہا تم بڑی ہو جاؤ گی تو اپنے ملک کے لیے کام کرنا ، اور مجھے امید ہے تم ضرور کرو گی

    ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور فاطمہ جناح
    یاسمین صاحبہ اب اپنے سوشل ورک کے بارے میں بتائیے اس سلسلے میں آ پ کی بہت خدمات ہیں ؟
    میں امریکہ میں پندرہ سال رہی ہوں وہاں سے صرف اپنے وطن کی خدمت کے لیے واپس آ ئی ہوں اس کا سہرا شمسی صاحب کو جاتا ہے وہ میرے استاد بھی ہیں ہم نے مل کر ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، ا کے نام سے ادارہ بنایا جس کے تحت غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے اور گھر گھر جاکر مستحق لوگوں کی مدد کی جاتی ہے ، غریب جھگیوں والوں کی مدد کی جاتی ہے ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، کے پریذیڈنٹ زاہد شمسی صاحب اور میں وائس پریزیڈنٹ ہوں
    یاسمین صاحبہ نئی نسل کے لیے کوئی پیغام ؟
    میں ساری دنیا میں گھومی ہوں لیکن میں نے اپنی یوتھ کو سب سے اچھا پایا یہ سب کرسکتے ہیں بس انہیں قائد اعظم کے سنہری اصولوں ، اتحاد ، ایمان ، تنظیم کو اپنانا ہوگا
    میرا خیال ہے اب میں ہی زندہ ہوں جس نے پاکستان بنتے دیکھا ان دنوں کا جوش و جذبہ محسوس کیا اور قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح جیسی عظیم شخصیات کو قریب سے دیکھا والد صاحب قائد اعظم کے صرف پرسنل ڈاکٹر ہی نہیں دوست بھی تھے اور انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن کے دنوں میں ان کی حمایت میں ورک بھی کیا تھا پھر میرے نانا اور ماموں علامہ اقبال کی زندگی میں ان سے مل چکے تھے اور گھر میں علامہ اقبال کی شاعری کا بہت ذکر ہوتا تھا سب انہیں بہت پسند کرتے تھے پھر پاکستان اور قائد اعظم کا بہت ذکر ہوتا تھا اس کے علاؤہ مولانا ظفر علی میرے والد کے پیشنٹ بھی تھے پڑوس میں رہتے تھے ان کے گھر بھی آ نا جانا تھا ان کی شاعری اس وقت میری سمجھ میں نہیں آ تی تھی ، بس ان عظیم شخصیات کے ساتھ گزرا میرا بچپن بہت حسین تھا اور میں انہی یادوں کے ساتھ زندہ ہوں اور نئی نسل سے توقع ہے کہ قیام پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے
    اپنے شوہر محترم اور بچوں کے بارے میں بتائیے ؟
    میرے شوہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید سجاد بخاری صاحب ستارہ امتیاز حاصل کر چکے ہیں بیٹا ڈاکٹر احمد جمال بخاری بیسٹ ڈاکٹر کے متعدد ایوارڈز حاصل کر چکا ہے دو بیٹیاں ہیں بڑی عائشہ بخاری اور چھوٹی شہرزادے بخآری
    یاسمین بخاری صاحبہ آ پ سے مل کر بہت اچھا لگا میں خوش قسمت ہوں کہ آ پ جیسی شخصیت سے ملی اور بات چیت کی
    مجھے بھی اچھا لگا
    یہ میرے لیے اعزاز ہے ، بہت شکریہ

  • برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف خوش آئند ،تحریر: جان محمد رمضان

    برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف خوش آئند ،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے وزیر خزانہ کی جانب سے 3 سے 5 سال کے دوران برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ یہ ہدف صنعتی شعبے کی ترقی اور ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، مگر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کچھ اہم مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔پاکستان کی حکومت نے گزشتہ 12 سے 14 ماہ کے دوران معیشت کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں کمی کے فیصلے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اور دوہرے خسارے کو قابو کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ سرکاری نقصانات کو کم کرنے کے لیے اداروں کی رائٹ سائزنگ کی گئی ہے، جس سے حکومتی اخراجات میں واضح کمی آئی ہے۔

    پاکستان کا صنعتی شعبہ ہمیشہ سے برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اگر حکومت پاکستان کی تجارتی شراکت داریوں کو بڑھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہو گا۔ تاہم، پاکستانی معیشت کو ایک بڑی پریشانی کا سامنا برآمدات میں جمود کی صورت میں ہے۔ پاکستان کو اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے، بیرونی شعبے کو بہتر بنانے اور مالیاتی ترقی کے لیے برآمدات کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔حکومت کے حالیہ اقدامات کے برخلاف، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا جا رہا ہے، جو کہ صنعتی شعبے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ صنعتی مقاصد کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ماہانہ، سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ اور نئے ٹیکسوں کی بھرمار نے صنعتی شعبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل ملز اور بڑی فیکٹریوں کا بند ہونا ہزاروں مزدوروں کی بے روزگاری کا سبب بن رہا ہے۔آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں، جس کا اثر بیرون ملک ان کی مانگ پر پڑتا ہے۔ نتیجتاً، برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں تنزلی کا سامنا ہوتا ہے۔

    اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو فوری طور پر صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں کمی لانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نظام میں اصلاحات اور صنعتوں کو سہولت دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور 60 ارب ڈالر تک برآمدات کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔پاکستان کی حکومت کو صنعتی شعبے کی حمایت میں فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وہ 60 ارب ڈالر کے برآمداتی ہدف کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔ اگر ان چیلنجز پر قابو پایا جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت میں بہتری ممکن ہو گی اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔

  • ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کے زیر اہتمام امریکہ سے تشریف لائیں منفرد لہجے کی خوش الحان شاعرہ محترمہ قانع ادا کے اعزاز میں سجی ایک ست رنگی شعری نشست جس کی صدارت فرزند لاہور عالی جناب خواجہ جمشید امام نے کی،تقریب کی میزبانی چئیرمین سپریم کونسل ملی ادبی پنچائیت عزت مآب چوہدری رضوان کاہلوں کا مقدر بنی اور نظامت کے فرائض ریاض احمد احسان نے نبھائے- ادب،صحافت،تجارت اور سیاست کے میدان سے تعلق رکھنے والے پانچ درجن سے زائد معززین شہر اور سفیران ادب کی شرکت سے تقریب معتبر ہوئی-

    سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق لاہور عظیم البرکت محمد نواز کھرل کی خصوصی آمد اور گفتگو نے ماحول معطر کیا،ولائت احمد فاروقی نے نعت رسول ﷺ مقبول اس انداز سے پیش کی کہ ساری محفل سبحان اللہ سبحان اللہ کہتی رہی،استاد نذر عباس کی پرفارمنس نے قلب ونگاہ ہی نہیں روح کو بھی سرشار کیا،استاد محترم ممتاز راشد لاہوری نے خوب داد پائی،ڈاکٹر طارق حسین طارق نے فیاضی بانٹی،پروفیسر ضیغم عباس گوندل نے خوشبو بکھیری،فارحہ نوید نے سخن کے پھول نچھاور کیے،سعدیہ ہما شیخ نے مملو و مرصع نظم پیش کی،ڈیوڈ پرسی نے دلوں میں اترنے والا کلام پیش کیا،محترمہ عتیقہ اشرف نے عارفانہ کلام پیش کیا،”بلبل سخن” سجاد بھنڈر نے ولولہ انگیز خطاب فرمایا،طارق حسین لک ایڈووکیٹ نے کلاسیکی لہجے کی خوب ترجمانی کی،چوہدری رضوان کاہلوں نے موٹیویشنل خطاب کیا،گل بات ود چوہدری اسداللہ کاہلوں کے میزبان چوہدری اسد اللہ کاہلوں اور چوہدری ذیشان کاہلوں کی آمد پر ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا،یوسف نثر محترم ناصف اعوان،کیپٹن ر صماد گریوال،معروف سیاسی و سماجی رہنما اسد علی خان،معروف کاروباری شخصیت ہمایوں یوسف کھچی،پنجاب پولٹری ایسوسی ایشن کے ممبر اشفاق حسین،قومی چیمپئن عبداللہ باکسر اور درجنوں خواتین و حضرات نے داد و تحسین کے وہ پھول نچھاور کیے کہ تخلیق کاروں کی آنکھوں کی مقدس جھالریں بار بار شبنمی ہوتی رہیں-

    شہزادہ علی ذوالقرنین نے مختصر اور جامع گفتگو کرتے ہوئے صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا کے فن اور شخصیت پر گفتگو کی- صاحب صدر خواجہ جمشید امام نے خطبہ صدارت میں صاحبہ جشن کی تخلیقات اور ملی ادبی پنچائیت کے کردار پر خوب روشنی ڈالی—– آخر میں صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا نے خوشگوار ماحول میں سازگار گفتگو کرتے ہوئے ملی ادبی پنچائیت کا شکریہ ادا کیا اور شاعری سنائی- محترمہ قانع ادا نے حاضرین کی فرمائش پر ترنم میں پنجابی کلام بھی سنایا جسے خوب پذیرائی ملی-

    ملی ادبی پنچائیت کسی فرد یا ادارے سے کسی قسم کی مالی مدد یا سہولت نہیں لیتی سو ملی ادبی پنچائیت اپنی مدد آپکے تحت معززین شہر سخن کے اعزاز میں اُن کی زندگی میں انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقریبات کا اہتمام کرتی رہے گی- ان شاءللہ

    ہم ملی ادبی پنچائیت کی تقریبات میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں،عظیم حافیوں،سیاستدانوں،شاعروں،ادیبوں،دانش وروں،خطیبوں اور صنعت و تجارت کی نمائندگی کرنے والے عظیم پاکستانیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں-
    ریاض احمد احسان
    بانی چیئرمین ملی ادبی پنچائیت

  • اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اکیس فروری کو آ واری ہوٹل کے خوبصورت ہال میں ایک منفرد اور یادگار اہل قلم کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست بہت ہی خاص تھی، جس کا اہتمام دو اہم شخصیات، منزہ سہام صاحبہ اور ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے کیا تھا۔ دونوں خواتین اپنی اپنی شعبوں میں انتہائی قابل اور فعال ہیں۔

    منزہ سہام صاحبہ، جو کہ معروف صحافی اور پچاس سال سے زائد عرصے سے شائع ہونے والے ماہنامہ "دوشیزہ ڈائجسٹ” کی چیف ایڈیٹر ہیں، اس محفل میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کی صحافت اور ادب میں خدمات کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔ منزہ صاحبہ نے ہمیشہ قلم کی طاقت کو فروغ دیا ہے اور ان کے والدین، سہام مرزا صاحب اور رخسانہ سہام مرزا کے میگزین نے کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہونے کے بجائے ہمیشہ ایک نئی روشنی کی کرن بن کر ادب کی خدمت کی ہے۔

    دوسری جانب، ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ جو آئرلینڈ سے پاکستان آئی ہوئی ہیں، نہ صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ان کی کتابوں میں "باد سموم”، "ایک تھی ستارہ”، اور "زرد پتوں کی بارش” شامل ہیں، جن میں سے "باد سموم” پر خاصی توجہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب کا دیباچہ بھی معروف مصنفہ سلمہ اعوان صاحبہ نے لکھا ہے۔

    اس نشست میں سلمہ اعوان صاحبہ کی شرکت نے محفل کو مزید پر رونق بنا دیا۔ سلمہ اعوان صاحبہ جو کہ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت یاب ہو کر آئی تھیں، ان کی موجودگی نے سب کو خوشی کا موقع فراہم کیا۔ ان کے علاوہ مسرت کلانچوی صاحبہ بھی اس محفل میں شریک ہوئیں اور اپنی نئی کتاب "تیرگی میں تارہ” کا تحفہ پیش کیا۔ یہ کتاب ایک نیا سنگ میل ہے اور ادب میں ان کی کامیاب کوششوں کا ثبوت ہے۔اس محفل میں بہت سی اہم شخصیات بھی شریک تھیں جن میں شاہین اشرف علی، فرح ہاشمی، کنول بہزاد، نسیم سکینہ صدف، حبیبہ عمیر، غزالہ فرخ، سعدیہ سیٹھی اور دیگر قلمکار شامل تھے۔ ان تمام اہل قلم نے اس نشست کو کامیاب بنانے میں اپنی اہمیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    اس نشست میں مختلف موضوعات پر گہری گفتگو ہوئی۔ منزہ سہام صاحبہ جو کہ کراچی سے آئی تھیں، نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی۔ ان کی باتوں میں کراچی کی مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی حالت کے بارے میں آگاہی تھی۔ ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے آئرلینڈ اور پاکستان کے مابین صحت کے شعبے میں فرق پر بھی روشنی ڈالی اور وہاں کی پریکٹسنگ ڈاکٹری کے تجربات کو شیئر کیا۔محفل کے اختتام پر ایک شاندار اور مزیدار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ اس ڈنر میں اہل قلم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار ماحول میں بات چیت کرتے رہے۔ ڈنر کی تکمیل نے محفل کو ایک خوشگوار یادگار لمحے میں تبدیل کر دیا۔

    یہ نشست ایک بھرپور اور کامیاب محفل تھی جہاں اہل قلم نے ایک دوسرے سے ملاقات کی، مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور اپنے تخلیقی کاموں میں مزید ترقی کی دعا کی۔ منزہ سہام صاحبہ کی شخصیت واقعی متاثر کن ہے، جنہوں نے کم عمری میں ہی بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت اور ادب کی دنیا میں ایک نیا مقام بنایا ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے اور ان کے تخلیقی کاموں میں کامیابی دے۔ آمین۔

     

  • کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شاعر ی وہ لطیف اور حساس اظہار ہے جو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، خیالات، خوابوں اور حقیقتوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس فن میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ ان کے کہے ہوئے الفاظ دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ سرگودھا کی تاریخی تحصیل بھیرہ کے نوجوان شاعر کامران حسانی بھی ایسے ہی خوش نصیب اور باصلاحیت شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام بنایا ہے۔
    کامران حسانی کا نام ادب کے آسمان پر ایک روشن ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام "احساس” ایک خوبصورت تجربہ تھا جسے قارئین نے بے حد سراہا، اور اب ان کی دوسری کتاب "گل تازہ” کی رونمائی ہونے جا رہی ہے۔ یہ تقریب 23 فروری 2025، بروز اتوار، شام پانچ بجے بلوچ میرج ہال بھیرہ میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں مشہور شاعر علی زریون مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ یہ ایک یادگار ادبی محفل ہوگی، جہاں سخن کے متوالے ایک اور خوبصورت شعری مجموعے کو خوش آمدید کہیں گے۔کامران حسانی – ایک تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔کامران حسانی کی شاعری ایک نئے انداز کی نمائندگی کرتی ہے۔
    مری زندگی ہے چراغ سی مجھے روشنی پہ کمال ہے
    مری دشمنی ہے ہواؤں سے مرا زندہ رہنا محال ہے
    مجھے خوف کیا ہو بلاؤں کا ترے ہاتھ ہیں جو اٹھے ہوئے
    تری خیر ہو مری والدہ تری یہ دعا مری ڈھال ہے
    تجھے روکنے کا جواز تو مرے پاس تھا ہی نہیں مگر
    تجھے کہ دیا ہے جو الوداع مری حسرتوں کا زوال ہے
    وہ جذبات کے گہرے سمندر میں اتر کر الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر انہیں ایسے ترتیب دیتے ہیں کہ قاری ایک ہی نشست میں ان کے اشعار کو پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ بھی ہے اور جدید رجحانات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ نہ صرف محبت، حسن اور وفا جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں بلکہ سماجی مسائل، انسانی نفسیات اور جدید دور کی بے حسی کو بھی اپنے اشعار میں بیان کرتے ہیں۔
    دل نشیں دل ربا محبت ہے
    میرا تو مدعا محبت ہے
    اور دوں گا جہاں تلک پہنچے
    یار میری صدا محبت ہے
    ایک درویش نے کہا تھا مجھے
    دل محبت ، دعا محبت ہے
    تجھ کو آنا ہے گر مرے دل تک
    ایک ہی راستہ محبت ہے
    اس نے غصے سے پوچھا کیا ہے تمھیں ؟
    میں نے بھی کہہ دیا محبت ہے
    نام دونوں نے ریت پہ لکھے
    اور یہ بھی لکھا محبت ہے
    ایک مدت کے بعد جیون کا
    راز مجھ پر کھلا ، محبت ہے
    سارے الزام سہہ لیئے لیکن
    میں یہ کہتا رہا محبت ہے
    حل نکالے گا کوئی کیا اس کا
    مسئلہ آپ کا محبت ہے
    کاش تم یہ سمجھ سکو اے دوست
    آدمی کی بقا محبت ہے
    چاہتا ہوں جسے میں حسانی
    یار وہ سر تا پا محبت ہے
    کامران کی شاعری میں ایک خاص کشش ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کا اندازِ بیاں منفرد اور سادہ ہے، جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے۔ وہ روایتی غزل کے ساتھ ساتھ آزاد نظم اور جدید انداز میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد، امید، خواہش، بے قراری، وصل، ہجر، خواب اور حقیقت کی حسین آمیزش ملتی ہے، جو کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔”گل تازہ” – ایک خوبصورت پیشکش ہے۔”گل تازہ” کامران حسانی کے جذبات، احساسات اور تخلیقی سفر کا نچوڑ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ان کے شعری سفر کا ایک سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی کسی تحفے سے کم نہیں ہوگی۔ اس کتاب میں موجود اشعار میں محبت کی خوشبو، ہجر کی تپش، زندگی کی حقیقتیں اور خوابوں کی نرمی یکجا ملے گی۔کتاب کا عنوان "گل تازہ” ہی اس بات کی علامت ہے کہ یہ شاعری کی دنیا میں ایک تازگی اور خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ کامران حسانی نے اپنے تخلیقی فن سے اس کتاب میں وہ رنگ بھرے ہیں جو کسی بھی ادب دوست کو اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ادبی منظرنامے پر کامران حسانی کی اہمیت موجود ہے۔پاکستان میں نوجوان شعراء کی کمی نہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کے زینے طے کرتے ہیں۔ کامران حسانی بھی انہی خوش نصیب شاعروں میں شامل ہیں جو اپنی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف جذباتی اور رومانی شاعری میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ ان کے اشعار میں فکری گہرائی بھی ہوتی ہے۔ وہ روایتی موضوعات کو ایک نئے انداز میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں، اور یہی چیز انہیں دوسرے شعرا سے منفرد بناتی ہے۔
    فقط اتنی کہانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    جہاں تک زندگانی ہے ، محبت جاودانی کے
    ہمیں موسم بدلنے ہیں ، فلک کے دوش پر مل کر
    دھنک ہم نے سجانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    ابھی کھویا نہیں کچھ بھی ابھی سے تم پریشاں ہو
    ابھی تو جاں گنوانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    فنا ہونے کو اس دنیا کے میلے میں سنو یارو
    بھلے ہر چیز فانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    محبت مر نہیں سکتی تمھیں اتنا بتانا ہے
    محبت جاودانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    اسی صحرا کے آخر پر تمھیں دریا ملے گا دوست
    ذرا ہمت بڑھانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    تمھارے بعد بھی ہم کو ملے ہیں لوگ ڈھیروں پر
    تمھارا کون ثانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    سنو نفرت خسارا ہے جو سب کچھ لوٹ لیتی ہے
    مگر جو کامرانی ہے ،محبت جاودانی ہے
    ان کے اشعار میں محبت کی خوشبو بھی ہے، فراق کا کرب بھی، زندگی کی حقیقتیں بھی اور خوابوں کی حسین دنیا بھی۔ یہی تنوع ان کی شاعری کو مزید دلکش بناتا ہے۔تقریبِ رونمائی – 23 فروری 2025 کا دن بھیرہ کے ادبی حلقوں کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔ بلوچ میرج ہال بھیرہ میں ہونے والی اس تقریب میں پاکستان کے نامور شاعر علی زریون بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ علی زریون کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی شاعری نے نوجوان نسل کو ایک نئی سوچ دی ہے، اور ان کا موجود ہونا اس تقریب کو مزید یادگار بنا دے گا۔یہ تقریب نہ صرف "گل تازہ” کی رونمائی ہوگی بلکہ ایک مشاعرہ بھی ہوگا جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے شعراء شرکت کریں گے۔ اس محفل میں سخن کے رنگ بکھریں گے، خوبصورت اشعار کی گونج ہوگی، اور سامعین ایک منفرد ادبی تجربہ حاصل کریں گے۔کامران حسانی جیسے نوجوان شعراء اردو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ان کی شاعری میں جو خلوص، سچائی اور گہرائی ہے، وہ انہیں ایک بڑا شاعر بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ "گل تازہ” نہ صرف ان کے ادبی سفر کا ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ اردو شاعری کے دامن میں بھی ایک خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کتاب نہ صرف قارئین کے دلوں کو چھوئے گی بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کرے گی۔ کامران حسانی کی یہ کامرانی قابلِ ستائش ہے، اور ہم ان کے روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ اسی جذبے، محنت اور لگن سے اردو شاعری کے میدان میں آگے بڑھتے رہیں۔
    یوں تری بزم سے اٹھوں گا چلا جاؤں گا
    تلخیاں دل کی سمیٹوں گا چلا جاؤں گا
    میں بھی اس فکر کی منڈی کا بیوپاری ہوں
    جو بکامال،وہ بیچوں گا چلا چاؤں

  • کشمیریوں کا حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کا کردار .تحریر  :  ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    کشمیریوں کا حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کا کردار .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    اے دنیا کے منصفو ، سلامتی کے ضامنو
    کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو

    27 اکتوبر 1947 ء کو نام نہاد بھارت نے تقسیم ہند کی مخالفت کرتے ہوئے کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر غاصبانہ قبضہ کیا ۔ اسی قبضے کے تناظر میں کشمیری عوام ہر سال 5 فروری کو اپنا حقِ خودارادیت استعمال کرتے ہوئے یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں ۔
    78 سال قبل 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی ، جس میں کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کی حمایت کی گئی ، تاہم اس قرارداد پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ آج اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کے لئے کردار ادا کرے ۔
    آج 2025 ء میں 78 سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام پر بھارت نے ظلم و ستم اور درندگی کی ہر حد پار کر لی ، نہ ہی کسی کی بزرگی کا خیال کیا اور نہ ہی عورتوں کا اور نہ ہی بھوک اور پیاس سے سسکتے بلکتے معصوم بچوں کا ، بس اپنی ہی دھن میں مگن بھارت نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہیں ، بارود اور گولیوں کی وحشت سے کشمیریوں کے دل دہلائے ہیں ۔
    سفاک اور انتہا پسند بھارت ، کشمیر پر جتنے مرضی ظلم کے پہاڑ توڑ دے ، جتنا مرضی پابند سلاسل کردے ، لیکن جلد یا بدیر فتح انشاء اللہ حق کی ہوگی اور کشمیری عوام ظلمت کی تاریک رات کو مٹا کر آزادی کے سورج کو خوش آمدید کہیں گے اور کشمیری عوام ایک بار پھر اس روشن صبح کو طلوع اسلام کا سورج قرار دیں گے ۔
    (انشاء اللہ)
    یارانِ جہاں یہ کہتے ہیں کہ کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

  • باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑا ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کی شہرت اس کی بے باک اور سچی صحافت کی بدولت ہے۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں نے باغی ٹی وی کی نمائندگی لینے کا فیصلہ کیا اور قصور سے باغی ٹی وی کا حصہ بننے کی سعادت حاصل کی۔ باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب، جو کہ سچائی اور حقائق پر مبنی تجزیے اور تبصروں کے لیے جانے جاتے ہیں، میرے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی پہچان "کھرا سچ” ہے، اور یہی وہ فلسفہ ہے جس پر باغی ٹی وی کا پورا نیٹ ورک قائم ہے۔ مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کے حوصلہ افزائی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، میں نے ہمیشہ سچائی کی راہ اپنائی اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کی کوشش کی۔

    اگرچہ باغی ٹی وی کی نمائندگی کرتے ہوئے مجھے چار سال ہو چکے ہیں، لیکن میری مبشر لقمان صاحب سے پہلی ملاقات تقریباً ایک ماہ قبل ہوئی۔ وہ ملاقات میرے لئے ایک بہت اہم موقع تھی میں نے ان سے کہا کہ میں قصور میں باغی ٹی وی کا دفتر قائم کرنا چاہتا ہوں۔ مبشر لقمان صاحب نے نہ صرف میری خواہش کو سراہا بلکہ مجھے بھرپور حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ "آپ دفتر بنائیں، اور میں خود آ کر اس کا افتتاح کروں گا۔” ان کی یہ بات میرے لئے ایک تحریک کا باعث بنی اور یہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا کہ ایک دن وہ خود ہمارے دفتر کا افتتاح کرنے کے لئے قصور آئیں گے۔

    بالآخر وہ دن آیا جب مبشر لقمان صاحب نے قصور آ کر ہمارے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ موقع نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قصور کے صحافیوں اور عوام کے لئے بھی ایک خاص لمحہ تھا۔ افتتاحی تقریب میں باغی ٹی وی اور روزنامہ قدامت کے دفتر کا افتتاح کیا گیا، جس میں وکلا، صحافیوں، اور مقامی دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ تقریب نہایت پروقار اور یادگار تھی جہاں پھولوں کی پتیوں کو نچھاور کر کے دوستوں کا استقبال کیا گیا اور مالا پہنا کر انہیں عزت دی گئی۔

    افتتاحی تقریب کے دوران، مبشر لقمان صاحب نے قصور کے صحافیوں کو اہم نصیحتیں دیں اور انہیں ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا مقصد صرف سچ کو اجاگر کرنا اور عوام کی خدمت کرنا ہے، خواہ وہ کسی بھی رائے یا طاقتور طبقے کے خلاف ہو۔ ان کی باتوں نے ہم سب کو نئی توانائی اور حوصلہ دیا کہ ہم سچائی کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور اپنے ضمیر کے مطابق کام کریں۔

    میں باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور انچارج نمائندگان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کا بھی شکر گزار ہوں۔ ان دونوں کی رہنمائی اور حمایت کی بدولت ہی میں نے اپنا کام بہتر طور پر انجام دیا ہے۔ جب بھی کسی خبر کی اشاعت کی ضرورت ہوتی، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے اسے بروقت شائع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی محنت اور ٹیم ورک کی بدولت، باغی ٹی وی کی کامیابی کو مزید جلا ملی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ قصور کے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور انہیں حل کروانے میں اہم کردار ادا کرنا ہمارا فرض ہے۔ باغی ٹی وی کے ذریعے ہم عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو اٹھائیں گے اور مبشر لقمان صاحب کی نصیحت کے مطابق، مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ ہمیں اس بات کا پختہ عزم ہے کہ ہم اپنے شہر اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے، سچ اور حق کی طرف قدم بڑھائیں گے۔

    ایک بار پھر میں باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں اپنے دفتر کے افتتاح کے لیے قصور آنے کا وقت دیا۔ ان کی موجودگی نے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا اور ہمیں یہ باور کرایا کہ سچائی کی راہ پر چلنا ہی صحافت کا اصل مقصد ہے۔باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ، ہم نے اپنے کام کا آغاز کیا اور آگے بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ ان کی نصیحتوں کے مطابق، ہم ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں گے اور مظلوموں کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کے افتتاحی موقع پر ملنے والے حوصلے اور اعتماد کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    baaghitv