Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پیکا او پیکا تیری کون سی کل سیدھی۔ پارلیمنٹ ہائوس میں جمہوریت کے علمبرداروں نے مشترکہ طور پر پہلے قومی اسمبلی ،پھر سینٹ میں ایک قانون پاس کرکے صدر ہائوس بھجوایا۔ اب وہ قانون بن گیا ۔ ملک بھر کے صحافی سراپا احتجاج ہیں۔ التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ لکھنے والے اور بولنے والوں کو نہ ستائیں ۔ ہر صحافی فروخت کنندہ نہیں۔ گو کہ صحافیوں کی صفوں میں بھی ایسی مخلوق داخل ہو چکی ہے جو قومی فریضہ سے کوسوں دور ہیں۔ا یسے لوگوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے۔جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے۔ میڈیا کاکوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو گیا، یعنی اس نے اپنی حیثیت اور وقار کو ختم کردیا ۔ میڈیا کی آزادی کے لئے ماضی میں بڑی قربانیاں دی گئی ہیں ۔ماضی میں قومی مسائل اور تحریکوں میں میڈیا کا کردار بہت اہم رہاہے۔ لیکن جب پیسہ بولنے اور لکھنے لگتا ہے تو پھر سوالیہ نشان میڈیا پر آتا ہے۔ آج میڈیا کو لکھنے اور بولنے کی آزادی ہے ۔

    قربانیو ں کی لمبی کہانی ہے ایک ا یسا وقت بھی آیا ان پر کوڑے برسائے گئے۔ جیلوں میں بند کردیا گیا۔ اظہار رائے کی آج جو آزادی ہے اس کا کریڈٹ ماضی کے اُن صحافیوں کو جاتا ہے جنہوں نے قربانیاں دیں۔ اُن صحافیوں کی ایک لمبی کہانی ہے ۔ پیکا قانون بنانے والوں کو یاد رکھنا چاہیئے میڈیا آپ کا اُس وقت تک کچھ بگاڑ نہیں سکتا جب تک آپ خود اپنے بگاڑ پر آمادہ نہ ہوں۔یہ بھی حقیقت ہے صحافت کا گلہ دبانے والے خود اپنے پھندے تیار کررہے ہوتے ہیں۔

    نئے امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کی طرف سے آنے والے دنوں میں بھارت کے لئے اچھی خبریں نہیں ہیں ۔ روسی صدرپیوٹن جو برکس کی میٹنگ بلائی تھی اس میں بھارت بھی شامل تھا۔ اُ س میٹنگ کا مطلب امریکہ کو ایشیا سے باہر نکالنا تھا یعنی ڈالر کو ختم کیا جائے ۔ روس کو کامیابی تو حاصل نہ ہوسکی تاہم مودی کی لومڑی کی چال امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ یہ جان چکے ہیں کہ مودی امریکہ اور یورپ کو روس کے ساتھ مل کر کمزورکرنے میں شامل رہا۔ ٹرمپ کے آنے سے امریکہ کو ایشیا سے دورکرنے والا روس خود دور جاتے دکھائی دینے لگا ہے۔ چین نارتھ کوریا کا حال دیکھ کر امریکہ کے خلاف کسی بھی سازش میں جانے کا ارادہ نہیں کرے گا۔ افغانستان اور ایران کو لے کر پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔ ویسے بھی سعودی عرب امریکہ میں ٹرمپ کے کہنے پر 6 سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مستحکم تعلقات ہیں۔ صدر ٹرمپ لاطینی امریکہ یورپ اور مشرق وسطٰی کے نقشوں میں تبدیلی کرکے دنیا کو چونکا دے گا۔ صدر ٹرمپ صدارتی کرسی پر بیٹھ کر گھوم گھوم کر فائلیں دیکھ رہے ہیں۔ اور امریکہ فسٹ اور امریکہ گریٹ بنانے کا نعرہ لگا رہے ہیں

  • انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    ستمبر 2024 سے اب تک پاکستان میں پولیو کے کیسز میں ایک نمایاں کمی آئی ہے، جو کہ انسداد پولیو مہم کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا اثر پورے ملک میں دیکھا جا رہا ہے، اور اس نے عوامی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے عزم اور کوششوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔پولیو ایک مہلک وائرس ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں پولیو کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، وہاں اس وائرس کی روک تھام کے لیے کئی سالوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن 2024 کے آخری حصے میں پولیو کیسز میں کمی نے انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کو ثابت کیا ہے۔پاکستان کے مختلف صوبوں میں، خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کمی کا تعلق ان علاقوں میں انسداد پولیو مہم کی بھرپور کاوشوں سے ہے جہاں پہلے پولیو کے کیسز زیادہ ریکارڈ ہوئے تھے۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے پولیو کے کیسز میں کمی اور پولیو کی بروقت شناخت کے لیے تمام صوبوں کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کیسز میں یہ کمی ملک بھر میں حکومت کے عزم، انتظامیہ کی محنت، اور عوام کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پولیو کا مکمل خاتمہ صرف وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہو گا۔پولیو کیسز میں کمی کو صوبوں کی انتظامیہ کی انتھک محنت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ مختلف صوبوں کی حکومتوں نے انسداد پولیو مہم کو اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور طریقے سے جاری رکھا اور بچوں تک ویکسین پہنچانے کے لیے ہر ممکن تدابیر اختیار کیں۔ صوبوں نے اپنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا اور پولیو کے وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے۔

    پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے تمام پہلوؤں کی نگرانی کے لیے ایک جدید آئی ٹی ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے حکام پولیو مہم کی ترقی، ویکسینیشن کی شرح اور کیسز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد مہم کی ہر سطح پر بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا اور فوری طور پر کسی بھی چیلنج کا حل تلاش کرنا ہے۔سال 2025 کے آغاز میں پولیو سے متاثرہ اضلاع میں پولیو کیسز میں مزید کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں واضح کمی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کی حکمت عملی کامیاب جا رہی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے حکومتی عزم اور عوامی تعاون کا بڑا ہاتھ ہے۔

    پاکستان میں پولیو کے کیسز میں کمی ایک مثبت قدم ہے اور یہ پاکستان کے عوام، حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کی بدولت پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تاہم، اس کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے اور عوام کو مسلسل آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔پاکستان کے تمام حصوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کی اہمیت واضح ہو چکی ہے۔ ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے ہی پولیو کو پاکستان سے مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

    jaan

  • دنیا بدل رہی پاکستان میں مذاکرات کا کھیل ختم نہیں ہورہا۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    دنیا بدل رہی پاکستان میں مذاکرات کا کھیل ختم نہیں ہورہا۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف
    ٹرمپ کے آنے سے امریکی پالیسیاں بد ل گئیں،پاکستان کو بھی سٹینڈ لینا ہوگا
    امریکی صدر نے غزہ جنگ بند کراکر امن کا پیغام دیدیا،ہمیں بھی آگے بڑھنا چاہیے
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    بھارت اور افغانستان کی دوستی ،سیاسی اور اقتصادی تعلقات کون نہیں جانتا،ان تعلقات کے نتائج کیا نکلیں گے،یاد رہے تادم تحریر کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے، طالبان پورے ملک پر قابض نہیں ہیں ، حزب اختلاف کی مختلف تحریکیں ہیں جو طالبان کے خلاف مسلح تصادم کو بحال کرنے میں مصروف ہیں، پاکستان کی وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،دنیا بدل رہی ہے، دنیا کی پالیسیاں تبدیل ہو رہی ہیں، ماضی کیا تھا اُسے بھول جائیے ،مستقبل کے بارے سوچئے، ہمیں امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا ہوگی، پاکستان کی مدد اور حمایت کے بغیر امریکہ خطے میں امن قائم نہیں کر سکتا،پاکستان خطے کا اہم لک ہے،افغانستان کی موجودہ حکومت امریکہ سمیت دنیا کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے ؟ بھارت نے ماضی میں بھی افغان سرزمین دہشت گرد ی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لئے استعمال کی جس کے ثبوت پاکستان کے پاس موجودہیں ، ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کے مسائل مشکلات نئے حالات میں سمجھنا ہوگا، افغانستان کو لے کر امریکہ ایک بار پھر پاکستانی مدد کا خواہاں ہوگا جبکہ ایران کے معاملات طے کرنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑے گی، بھارت جتنی مرضی افغانستان میں سرمایہ کاری کا دعویٰ کرے ،ٹرمپ انتظامیہ افغانستان کے ساتھ معاملات پاکستان کے ذریعے ہی حل کرنے کی کوشش کرے گا، پاکستان امریکہ کا اتحادی رہا ہے امریکہ کی کوشش ہو گی کہ اس خطے میں پاکستان کا کردار تعمیری ہو۔ ملک کی موجودہ صورت حال اورٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی،

    پاکستان آج کی بدلتی صورت حال میں اُس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں پر امریکہ اور دوسری عالمی قوتوں کے تعلقات میں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر بات کر سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی فسٹ امریکہ پالیسی اور گلوبل امن کا نعرہ یقینا قابل تحسین ہے، ٹرمپ کے آنے سے امریکہ بدل گیا ہے اس کی پالیسی بدل گئی ہے نئی پالیسی کے اثرات دنیا پر بھی پڑیں گے،ٹرمپ کے آنے سے غزہ میں جنگ بندی کا ثبوت ہے، روس اور یوکرین کی جنگ کا خاتمہ بھی قریب نظر آرہا ہے، ٹرمپ کی بھرپور توجہ معیشت پر ہے، وہ دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ جنگوں سے نکل کر معیشت پر توجہ دیں، اپنے اپنے ممالک میں عوا م کے بنیادی مسائل حل کریں، اپنے اپنے ممالک اور عوام پر توجہ دیں، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات مذاکرات کے کھیل سے باہر نکل کر دنیا کی بدلتی صورت حال پر توجہ دیں اور پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • چین کا نیا قمری سال، ترقی کا جشن،تحریر:جان محمد رمضان

    چین کا نیا قمری سال، ترقی کا جشن،تحریر:جان محمد رمضان

    چین کا نیا قمری سال، جو دنیا بھر میں خوشی، امید اور ترقی کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے، ایک خاص موقع ہے۔ اس دن کو چین کے عوام اپنے روایتی طریقوں سے جشن مناتے ہیں اور اسے خاندانوں، دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ گزار کر نئی امیدوں کے ساتھ ایک نیا آغاز کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے چین کے عوام، قیادت اور حکومت کو نئے قمری سال کی دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔چین کا نیا سال نہ صرف چین کے لیے خوشی کا موقع ہوتا ہے بلکہ پوری دنیا میں اس کے اثرات اور اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ تہوار چین کی تاریخ، ثقافت اور روایات کی گہری جڑوں کی عکاسی کرتا ہے اور ہر سال یہ موقع چین کے عوام کی محنت، کامیابیوں اور ان کی مسلسل ترقی کا جشن منانے کا ہوتا ہے۔

    پاکستان اور چین کی دوستی ایک مثال ہے جو دنیا بھر میں ہر طرف سراہا جاتا ہے۔ ہماری یہ دوستی صرف ایک سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری برادرانہ وابستگی پر مبنی ہے جس میں اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کا عزم شامل ہے۔ چین کی قیادت نے ہمیشہ دنیا کے سامنے ایک نئی مثال پیش کی ہے جس میں استقامت، محنت اور لگن کی بدولت وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ چین نے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جس طرح کے اقدامات کیے ہیں، وہ قابل تحسین ہیں اور پوری دنیا کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔پاکستان اور چین کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہوئی ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ایک گہرا ثقافتی تعلق بھی قائم ہو چکا ہے۔ ہم ہمیشہ چین کی ترقی اور کامیابیوں کا دل سے احترام کرتے ہیں اور اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

    چین کی غیر معمولی ترقی اور کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے، ہم دعا گو ہیں کہ یہ نیا قمری سال چین اور پاکستان کے لیے خوشحالی اور ترقی کا باعث بنے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات میں مزید گہرائی آئے، اور دونوں کے عوام کے درمیان محبت، احترام اور تعاون کا سلسلہ جاری رہے۔پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون کا سلسلہ ایک روشن مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گا۔

    چین کے نیا قمری سال نہ صرف چین کی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کی گہری دوستی اور تعاون کی داستان کو بھی مزید نکھارتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی طرف سے چین کے عوام اور قیادت کو نیک تمناؤں کے ساتھ نئی امیدوں اور کامیابیوں کا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، محنت اور عزم کے ذریعے ہم ہر چیلنج کو کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

    jaan

  • پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اردو ادب کی ترویج و ترقی کا عظیم الشان اجتماع
    »» ایک ایسا ادبی جشن، جہاں لفظ بولیں گے اور تحریر گواہی دے گی!”
    »» ادب کے چراغ روشن کرنے کا عظیم الشان اجتماع!”
    »» نئےقلمکاروں کی خدمات کا اعتراف، اردو زبان کی ترقی کا سنگ میل!”

    پہچان پاکستان نیوز گروپ کا یہ میگا ادبی فیسٹیول "لفظوں کی دنیا میں ایک تاریخ ساز لمحہ ہوگا،جہاں اردو ادب کی کہکشاں کے درخشاں ستارے ایک جگہ! پر ہونگے،”ایک یادگار لمحہ ہوگا، جب ادب کے معمار ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کریں گے!”
    اردو ادب کی تاریخ میں مختلف ادوار میں ایسے ادبی اجتماعات منعقد ہوتے رہے ہیں، جنہوں نے ادب کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ لاہور، جو ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، ایک بار پھر ایک شاندار ادبی تقریب کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پہچان پاکستان نیوز گروپ کی جانب سے میگا ادبی فیسٹیول 24 فروری 2025 کو الحمرا ہال نمبر 3، لاہور میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر، کالم نگار، اور اردو ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ لکھاری شرکت کریں گے۔

    یہ فیسٹیول محض ایک تقریب نہیں بلکہ اردو ادب سے جڑے افراد کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا اور انہیں عزت و توقیر سے نوازا جائے گا۔ اس پروگرام میں نمایاں ادبی شخصیات کو میڈلز، سرٹیفکیٹس اور شیلڈز دی جائیں گی، تاکہ ان کے ادبی سفر کو سراہا جا سکے اور آئندہ نسلوں کے لیے ادب کے فروغ کی راہیں مزید ہموار کی جا سکیں۔
    اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے پروگرامز کی ضرورت محسوس کی گئی ہے جو ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول ایک ایسا ہی عظیم الشان ایونٹ ہے، جو نہ صرف اردو ادب کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ادب سے وابستہ شخصیات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بھی ذریعہ بنے گا۔یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرے گا کہ وہ سینئر ادیبوں اور شاعروں سے سیکھ سکیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مفید مشورے حاصل کریں۔ ادب کی قد آور شخصیات کی موجودگی اس تقریب کو مزید باوقار بنا دے گی اور ادبی ذوق رکھنے والے افراد کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔

    اس فیسٹیول میں پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نامور ادیب، شاعر، نقاد، کالم نگار، اور محققین شرکت کریں گے۔ یہ ایک سنہری موقع ہوگا جب اردو ادب کے قدآور ستون ایک جگہ اکٹھے ہوں گے اور اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔تقریب میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادبی شخصیات کو ایوارڈز دیے جائیں گے، تاکہ ان کی کاوشوں کو تسلیم کیا جائے اور ان کی محنت کو سراہا جا سکے۔ یہ نہ صرف ان کے لیے ایک اعزاز ہوگا بلکہ ادب کی ترویج کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہوگا۔
    نوجوان ادیبوں اور شاعروں کے لیے ایک پلیٹ فارمادب سے جڑے نوجوان تخلیق کاروں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہوگا کہ وہ اپنے پسندیدہ ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات کریں، ان سے گفتگو کریں اور ان کے تجربات سے سیکھیں۔تقریب میں مختلف ادبی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جن میں اردو ادب کے مسائل، اس کی ترقی کے امکانات، جدید ادب کے رجحانات، اور دیگر موضوعات پر مباحثے ہوں گے۔ اس پروگرام میں مختلف کیٹیگریز میں نمایاں شخصیات کو اعزازات دیے جائیں گے، جن میں درج ذیل شامل ہوں گےبہترین ادبی خدمات کے اعتراف میں نمایاں ادبی تحقیق پر بہترین شاعری، نثر، اور کالم نویسی پر سرٹیفکیٹ ،شیلڈز ،گولڈ میڈل دئیے جائیں گے۔اس تقریب میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی جائیں گی، تاکہ ادب کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔یہ فیسٹیول اردو ادب کو نئی جہتیں فراہم کرے گا اور ادیبوں و شاعروں کو ایک دوسرے سے جُڑنے اور سیکھنے کا موقع دے گا۔ اس کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں:نوجوان نسل میں اردو ادب کا شوق بڑھے گا اس تقریب سے نئی نسل میں اردو ادب سے دلچسپی بڑھے گی اور وہ اس کی مختلف اصناف میں تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کی کوشش کریں گے۔ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس ملنے سے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ مزید جوش و جذبے سے ادب کی خدمت کریں گے۔اس فیسٹیول میں ہونے والے مذاکروں سے اردو ادب کے موجودہ مسائل اجاگر ہوں گے اور ان کے حل کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔پہچان پاکستان نیوز گروپ کا میگا ادبی فیسٹیول2025ایک ایسا ادبی اجتماع ہوگا جو اردو ادب سے جُڑے تمام افراد کے لیے ایک یادگار لمحہ بنے گا۔ الحمرا ہال 3، لاہور میں ہونے والی یہ تقریب ادب کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔یہ فیسٹیول نہ صرف اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے والے افراد کو عزت و تکریم دینے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک ترغیب کا باعث بنے گا۔ اس طرح کے ادبی فیسٹیولز کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، تاکہ اردو زبان کی ترویج و ترقی کو مزید تقویت دی جا سکے۔

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول 2025 کے انعقاد پر پہچان پاکستان نیوز گروپ ,چیف ایڈیٹر زکیر احمد بھٹی اور ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظور کو دلی مبارکباد! یہ ادبی فیسٹیول اردو ادب کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا، جہاں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر اور کالم نگار ایک چھت تلے جمع ہوں گے۔ آپ کی کاوشوں سے ادب سے وابستہ شخصیات کی خدمات کا اعتراف کیا جا رہا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اردو ادب کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ ادب دوست اقدامات پر آپ کو خراجِ تحسین!یہ محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ادب کی ترویج کا ایک نیا سفر ہے! ،اردو ادب کی خدمت کا یہ تسلسل ہمیشہ جاری رہے گا!،یہ فیسٹیول ایک یادگار لمحہ ہوگا،اور اس کا اختتام نہیں، بلکہ نئے ادبی سفر کی شروعات ہوگی! کیونکہ پہچان پاکستان نیوز گروپ ـــ ادب کی پہچان اور تخلیق کی زبان ہے۔۔

  • کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا جمہوری چہرہ دن بدن زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ صرف ایک دھوکہ ہے۔ بھارت میں جمہوریت، سیکولرازم اور انسانی حقوق کی دعوے صرف لفظوں تک محدود ہیں اور ان دعووں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک نے بھارت کے جمہوری دعووں کو ایک کھلا جھوٹ ثابت کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کی فورسز کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں۔ 7 دہائیوں سے کشمیری عوام بھارت کی حکمرانی کے تحت نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں بلکہ ان کے انسانی حقوق کی بدترین پامالی بھی کی جا رہی ہے۔ ہر روز کشمیری عوام کو بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کا استعمال، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔

    ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام نے کبھی بھی اپنی آزادی کی جدوجہد سے پیچھے قدم نہیں اٹھایا۔ بھارت نے انہیں اپنے حقِ خودارادیت سے محروم کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کیا ہے جو کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں۔جب بھارت یومِ جمہوریہ مناتا ہے، تو یہ دن کشمیری عوام کے لئے یومِ سیاہ بن چکا ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا دعویٰ کشمیری عوام کے لئے ایک مذاق بن چکا ہے، کیونکہ بھارت نے ان کے جمہوری اور انسانی حقوق کو مسلسل غصب کر رکھا ہے۔ کشمیری عوام نے تیسری نسل تک اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھا ہے اور اس دوران بے شمار جانوں کی قربانی دی ہے۔

    کشمیری عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے: اپنے حقِ خودارادیت کا حق حاصل کرنا۔ اس حق کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تسلیم کیا جا چکا ہے، لیکن بھارت نے مسلسل اس مطالبے کو نظرانداز کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے فوری اقدامات کریں۔کشمیری عوام کی یہ جدوجہد عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے جاری ظلم و ستم کو روکنا اور کشمیری عوام کو ان کے حقوق دینا عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

    بھارت کا جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ صرف ایک دکھاوا ہے، جو کشمیری عوام اور بھارت کی اقلیتوں کے حقوق کو پامال کرنے کے عمل کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ کا دن کشمیری عوام کے لئے ایک لمحہ افسوس ہے کیونکہ اس دن بھارت اپنی جمہوریت کے دعوے کے بجائے کشمیریوں کی آزادی کو نظرانداز کرتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔

    jaan

  • پیکا ایکٹ کیا ہے۔۔ کیوں ضروری ہے؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پیکا ایکٹ کیا ہے۔۔ کیوں ضروری ہے؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جس کا مسودہ منظر عام پر آگیا ہے۔
    مجوزہ ترمیم کے تحت حکومت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرے گی، ڈی آر پی اے کو سوشل میڈیا مواد کو ’ریگولیٹ‘ کرنے کا اختیار ہوگا۔

    اتھارٹی پیکا ایکٹ کے تحت شکایات کی تحقیقات اور مواد تک رسائی کو ’بلاک‘ یا محدود کرنے کی مجاز بھی ہوگی۔
    پیکا ترمیمی بل2025 کے مسودے کے مطابق اتھارٹی کے پاس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مواد ہٹانےکی ہدایت کا اختیار ہوگا۔نظریہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی مواد ہٹانے کا اختیاراتھارٹی کے پاس ہوگا، عوام کو قانون،اداروں، ریاست کیخلاف اُکسانے والی پوسٹ ہٹانے کا اختیار ہوگا۔،اس کے علاوہ دہشت، خوف پھیلانے والی پوسٹ رکھنے والوں کیخلاف کارروائی کااختیاراور اسمبلی میں حدف شدہ الفاظ کہیں پوسٹ یا نشر کرنا قابل سزا جرم ہوگا۔آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں انٹرنیٹ نے انسانی زندگی کو بے حد آسان بنایا ہے، وہاں اس نے چیلنجز اور مسائل کا ایک نیا باب بھی کھول دیا ہے۔ انٹرنیٹ کے بے تحاشہ استعمال کے ساتھ ساتھ جرائم کی نئی شکلیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں آن لائن ہراسانی، جعلی خبروں کی تشہیر، سائبر بُلنگ، اور ڈیجیٹل فراڈ شامل ہیں۔ ان تمام مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ پاکستان نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا ایکٹ) متعارف کروایا۔ اس قانون کا مقصد انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کی روک تھام اور ان کے سدباب کو یقینی بنانا ہے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں پچھلے چند سالوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن شاپنگ، اور ای میلز کے ذریعے معلومات کا تبادلہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن اس تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں جرائم پیشہ افراد نے بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اسی صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پیکا ایکٹ متعارف کروایا گیا تاکہ سائبر کرائمز سے نمٹا جا سکے اور شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔پیکا ایکٹ کے تحت مختلف جرائم کی وضاحت اور ان کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان میں سے چند اہم شقیں درج ذیل ہیں:
    اگر کوئی شخص انٹرنیٹ کے ذریعے کسی کو ہراساں کرتا ہے، تو اسے سزا دی جائے گی۔
    فرقہ وارانہ یا مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کی اشاعت پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ جعلی خبریں: جھوٹی معلومات یا افواہیں پھیلانے پر سخت سزا کا تعین کیا گیا ہے۔
    غیر اخلاقی مواد: فحش مواد کی تشہیر یا کسی کی نجی زندگی میں مداخلت قابل سزا جرم ہے۔
    ڈیجیٹل فراڈ: آن لائن مالی دھوکہ دہی یا ہیکنگ جیسے جرائم پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
    ڈیٹا چوری: کسی کے ذاتی یا کاروباری ڈیٹا کو چرا کر غیر قانونی استعمال کرنا جرم ہے۔

    پیکا ایکٹ کیوں ضروری ہے؟پیکا ایکٹ کی ضرورت اور اہمیت کو کئی حوالوں سے سمجھا جا سکتا ہے:انٹرنیٹ کی دستیابی اور آسان رسائی کے باعث سائبر کرائمز کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں لوگ روزانہ جعلی اکاؤنٹس، مالی دھوکہ دہی، اور آن لائن ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ پیکا ایکٹ ان مسائل کا قانونی حل فراہم کرتا ہے۔ڈیجیٹل دنیا میں لوگ اکثر اپنی پرائیویسی کے حوالے سے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ پیکا ایکٹ شہریوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور ان کے ڈیجیٹل حقوق کا دفاع کرتا ہے۔سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں اور افواہیں نہ صرف معاشرتی انتشار پیدا کرتی ہیں بلکہ سیاسی اور مذہبی کشیدگی کا بھی سبب بنتی ہیں۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے ان جرائم کا سدباب ممکن ہے۔پیکا ایکٹ نفرت انگیز مواد اور فرقہ واریت پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کرتا ہے، جو کہ ایک پرامن معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔پاکستان میں ای کامرس اور ڈیجیٹل کاروبار کی ترقی کے لیے ایک محفوظ آن لائن ماحول ضروری ہے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے کاروباری افراد اور صارفین کو اعتماد ملتا ہے کہ ان کے مالی لین دین محفوظ ہیں۔پیکا ایکٹ کی افادیت کے باوجود، اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ بعض حلقے اس قانون کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت اس قانون کا استعمال مخالفین کو دبانے کے لیے کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ، قانون کے نفاذ میں بعض اوقات تفتیشی ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں، جس سے شہریوں کی نجی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

    پیکا ایکٹ کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
    1. شفافیت کو یقینی بنانا: قانون کے استعمال میں شفافیت اور غیرجانبداری کو یقینی بنایا جائے۔
    2. تربیت یافتہ عملہ: سائبر کرائمز کی تحقیقات کے لیے تربیت یافتہ افراد کو تعینات کیا جائے۔
    3. آگاہی مہمات: عوام کو ان کے ڈیجیٹل حقوق اور سائبر کرائمز سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔
    4. عدالتی نظام میں بہتری: سائبر کرائمز کے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے عدالتوں میں خصوصی سیل قائم کیے جائیں۔پیکا ایکٹ ایک ایسا قانونی فریم ورک ہے جو ڈیجیٹل دور میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگرچہ اس قانون پر تنقید اور خدشات موجود ہیں، لیکن ان کو دور کر کے اسے ایک مؤثر اور منصفانہ قانون بنایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، پیکا ایکٹ کا نفاذ پاکستان کے معاشرتی اور اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف شہریوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے بلکہ ایک پرامن اور محفوظ ڈیجیٹل معاشرہ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے

  • پاکستان میں انسانی سمگلنگ: وزیراعظم  کیلئے ایک سنگین چیلنج ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں انسانی سمگلنگ: وزیراعظم کیلئے ایک سنگین چیلنج ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا مسئلہ ایک ایسا موضوع ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومتوں، سوسائٹی، اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن رکھا ہے۔ انسانی سمگلنگ ایک سنگین جرم ہے جس کا شکار بیشتر افراد غربت، بے روزگاری، اور کمزوری کے شکار ہوتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی زندگیوں کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے، بلکہ پورے معاشرتی نظام میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کا تدارک حکومت کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہوتی ہے، جنہیں یا تو جنسی استحصال، جبری مشقت، یا دیگر غیر قانونی مقاصد کے لیے اغوا کیا جاتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کا یہ عمل سرحدوں کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہوتا ہے، جہاں پاکستانی شہریوں کو دوسرے ممالک میں غیر قانونی طور پر منتقل کیا جاتا ہے اور انہیں مختلف قسم کی غیر انسانی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے۔پاکستان کے مختلف حصوں سے انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کو اغوا کیا جاتا ہے اور انہیں غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ ان افراد کو ٹریفکنگ، جبری مشقت، اور جنسی زیادتی جیسے جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، سمگلرز ان افراد کو انسانی اعضاء کی تجارت یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث کرتے ہیں۔غربت اور بے روزگاری: پاکستانی معاشرہ ایک ایسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں معاشی حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ زیادہ تر افراد خاص طور پر دیہاتوں میں غربت کے باعث بہتر زندگی کے لیے کسی بھی خطرے کو گوارا کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ انسانی سمگلروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جو انہیں بہتر زندگی کا وعدہ کر کے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔تعلیمی کمی اور آگاہی کی کمی: پاکستان میں تعلیمی شرح کم ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ انسانی سمگلنگ کے خطرات سے واقف نہیں ہوتے۔ اس کمی کی وجہ سے لوگ آسانی سے سمگلروں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر قوانین کی کمی اور ان پر عمل درآمد میں مشکلات ہیں۔ بیشتر سمگلروں کے خلاف کارروائیاں ناقص رہتی ہیں، اور یہ جرائم بااثر افراد کی پشت پناہی کی وجہ سے اجتناب پاتے ہیں۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے سمگلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ نوجوانوں کو آن لائن اشتہارات اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے بہکایا جاتا ہے اور انہیں غیر قانونی راستوں پر بھیجا جاتا ہے۔انسانی سمگلنگ کے اثرات نہ صرف متاثرہ افراد پر بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان افراد کی زندگیوں کو تباہ کر دیا جاتا ہے، اور ان کے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کی آزادی چھین لی جاتی ہے اور انہیں جبری مشقت، جسمانی تشدد، اور جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    علاوہ ازیں، انسانی سمگلنگ پاکستان کی عالمی شہرت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کی تصویر ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر ابھرتی ہے، جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معیشت اور سماجی صورتحال پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔حکومت کے لیے چیلنج پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا تدارک حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکومت کو کئی شعبوں میں مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

    قانونی اصلاحات اور ان کا مؤثر نفاذپاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے سب سے اہم اقدام قانون سازی ہے۔ حکومت کو ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے جو سمگلنگ کے حوالے سے سخت سزائیں اور مؤثر تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ، ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جانا چاہیے تاکہ سمگلروں کو کسی بھی قسم کی پناہ نہ مل سکے۔ عوامی آگاہی اور تعلیم عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ عوامی شعور کو بڑھانے کے لیے حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی پروگرامز چلائے جا سکتے ہیں تاکہ لوگ اس مسئلے کی نوعیت اور اس کے خطرات سے آگاہ ہوں۔

    معاشی ترقی اورروزگار کے مواقع اگر حکومت معاشی ترقی کی طرف قدم بڑھائے اور روزگار کے مواقع فراہم کرے، تو لوگوں کو اپنی زندگی کی بہتر حالت حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی راستوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ معاشی ترقی کے ذریعے لوگوں کے لیے جائز روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، جس سے انسانی سمگلنگ کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تعاون ،پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے خلاف تعاون کو مزید بڑھانا ہوگا۔ مختلف ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے، تاکہ سمگلنگ کے نیٹ ورک کو عالمی سطح پر ناکام بنایا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی سمگلنگ کے خلاف جنگ میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ جدید نگرانی سسٹمز، ڈیٹا بیس، اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ذریعے سمگلنگ کے نیٹ ورک کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انسانی سمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا تدارک حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے مؤثر قوانین، عوامی آگاہی، معاشی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف حکومت کو اس مسئلے کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ انسانی سمگلنگ کی لعنت کو ختم کیا جا سکے اور پاکستان کو اس سنگین مسئلے سے نجات دلائی جا سکے۔

    shahid naseem

  • بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    دہشت گرد تنظیمیں، جیسے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، نہ صرف پاکستان کے امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، بلکہ یہ تنظیمیں بلوچستان کی ترقی کی دشمن بھی ہیں۔ ان تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور ان کے حملوں نے نہ صرف بلوچستان کے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ پورے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلایا ہے۔ ان تنظیموں کے وحشیانہ حملوں کی حقیقت اب روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے۔

    9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ میں ہونے والے حملے میں 2 معصوم شہریوں کی شہادت نے ایک بار پھر بی ایل اے اور بی ایل ایف کے وحشیانہ عزائم کو بے نقاب کیا۔ ان شہریوں کے بھائیوں کی آہ و پکار اور دل دہلا دینے والے حقائق نے بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے اسباب کو واضح کیا۔ ان حملوں کی حقیقت نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے سامنے آ چکی ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں صرف انسانیت کے دشمن ہیں۔

    29 ستمبر 2023ء کو مستونگ میں ایک مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں 50 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ اس دھماکے میں شہید ہونے والی ایک کمسن بچی کا والد اپنی بیٹی کی تصویر ہاتھ میں لیے غم سے نڈھال تھا۔ بی ایل اے نے اس حملے کی ذمے داری خود قبول کی، جو ان کے دہشت گردانہ عزائم کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس حملے نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ تنظیمیں انسانیت کے خلاف ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

    2024ء میں 33 بلوچوں کی شہادت،گزشتہ برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے 33 معصوم بلوچوں کی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔ بلوچ عوام، طلبہ اور روتی ہوئی مائیں ان دہشت گرد تنظیموں کی درندگی کی شدید مذمت کر رہی ہیں۔ ان واقعات نے بلوچستان کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ان تنظیموں کی حقیقت کیا ہے اور وہ کس مقصد کے لیے یہ جانی نقصان کروا رہے ہیں۔

    4 جنوری 2025ء کو تربت میں ہونے والے بس حملے میں ایک نوجوان کی شہادت ہوئی۔ اس حملے کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی۔ اس نوجوان کی والدہ نے اپنی آہ و پکار کے ذریعے یہ سوال اٹھایا کہ ’’بی ایل اے کے دہشت گردوں نے میرے بیٹے کو بے دردی سے کیوں مارا؟‘‘، اس سوال نے اس بات کو مزید تقویت دی کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں بے گناہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔

    بی ایل اے کے دہشت گرد بشیر نے حال ہی میں گرفتاری کے بعد اپنی تنظیم کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔ اس نے بی ایل اے کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس تنظیم کا مقصد صرف تباہی اور خونریزی ہے۔ بشیر کی گواہی نے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عوامی شعور کو مزید بیدار کیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کارروائیاں کسی بھی طور پر بلوچ عوام کی خدمت نہیں کر رہیں، بلکہ یہ ان کے خون سے کھیل کر اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالب علم، طلعت عزیز، کو بھی بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جھانسا دے کر پہاڑوں میں لے گئے۔ ان دہشت گردوں نے اس معصوم طالب علم کی زندگی کو خطرے میں ڈالا اور اس کا اغوا کیا۔ اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا کہ یہ تنظیمیں صرف بلوچوں کے حقوق کی بات نہیں کر رہیں، بلکہ ان کا مقصد عوامی تعلیم اور ترقی کو بھی روکنا ہے۔

    11 جنوری 2025ء کو بی ایل اے نے تمپ میں 2 بے گناہ شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ اس حملے میں 15 سالہ معراج وہاب کی موت نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ معراج کے والدین نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور بی ایل اے کے ’’ریاستی ڈیتھ سکواڈ‘‘ جیسے جھوٹے الزامات کی تردید کی۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں بے بنیاد الزامات اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

    ان تمام واقعات کے بعد بلوچستان کے عوام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بلوچ عوام اب خاموش نہیں رہیں گے اور اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے آزاد کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ سکیورٹی فورسز بھی اب پوری قوت سے ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف نے جس طرح بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں معصوم عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے، اس کی حقیقت اب پوری دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔ ان دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے بلوچ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں، اور ان کی بربریت کا جواب دیا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز اور عوام کا عزم مضبوط ہے، اور وہ ان دہشت گردوں کے خلاف اپنا حق چھیننے کے لیے لڑیں گے۔آخر میں، یہ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ان دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا مقابلہ کریں اور ایک پرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں۔

    jaan

  • جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    جیل میں قید مرشد پارسا، مرشد کے دوست پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض بھی پارسا،لینڈ مافیا اور قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کرنے والے سیاستدان، بیورو کریٹ، بیورو کریسی، اعلیٰ ترین پولیس افسران، سول انتظامیہ اور محکمہ مال کے افسران بھی پارسا، لاہور، کراچی، راولپنڈی میں بطور گفٹ پلاٹ اور کوٹھیاں لینے والے بھی پارسا۔ تمام ادارے پارسا پارسائی کے تمام دعوے دار پھر پاکستان عالمی اداروں کا مقروض کس نے کیا؟ عام آدمی نے؟ پیرخانے بھی مالدار، گدی نشین بھی مالدار، عام آدمی غریب کیوں ہے؟
    کہاں میں اور کہاں یہ آب کوثر سے دھلی خلقت
    میرا تو دم گھٹ رہا ہے ان پارسائوں میں

    کیا ہم کو تسلیم کر لینا چاہئے ملک ریاض نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جیل میں قید مرشد سے تو خطا ہو ہی نہیں سکتی۔ بقول شاعر۔
    مجروع قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
    رہبر نے مل کر لوٹ لیا راہزن کیساتھ

    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے مشکلات میں گھرے عوام اور پاکستان کو اس بے معنی شور نے اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جس کی توقع نہیں تھی۔ سیاسی گلیاروں میں چمچہ گیری، چاپلوسی اور واہ ہی واہ کرنے والوں اور اپنے ہی سیاسی قائدین کی مخبری کرنے والوں میں اضافہ ہو چکا ہے ذرا سوچئے! ہم کن راہوں پر چل نکلے ہمارا کیا بنے گا؟ وطن عزیز اور اس کے اداروں کی ناقدری نہ کریں غیروں کی سازشوں کا آلہ کار نہ بنیں۔ گھر کے سیاسی جھگڑوں کو لندن اور امریکہ کی پارلیمنٹرین کے سامنے اپنے وطن عزیز اور اداروں کو بدنام کر کے ہم کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت مکروہ کھیل میں شریک ہے۔ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی، پاک فوج اور جملہ ادارے وطن عزیز اور عوام کی سلامتی کے لئے شہید ہو رہے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں موجود مرشد کے عاشقان مرشد سے التجا ہے کہ وطن عزیز اور اس کی حفاظت پر مامور اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کریں قوم کب تک محو تماشا رہے گی تاریخ آپ کو کوڑے دان میں پھینک دے گی۔ انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم آج تک ترقی پذیر ہیں صدق دل سے وطن عزیز کی ترقی میں ہر آدمی اپنا اپنا کردار ادا کرے ترقی پذیر ممالک یک ترقی کا راز علم، عمل اور قانون کی حکمرانی ہے انصاف ہے۔ قوم کو اپنی پاک فوج اور جملہ اداروں کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد بھارت کی توجہ کا مرکز ہیں پاک فوج ہی جس نے قربانیاں دے کر ان کا راستہ روکا ہوا ہے