Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    ایک بار پھر اللہ کریم کا ہزار ہا شکر گزار ہوں جس نے مجھ نا چیز پر قلم اور قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کو سراہنے کی ذمہ داری ڈالی۔جسے میں اور اپووا کی پوری ٹیم جانفشانی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہی ہے۔اپووا نے اس بار ادبی کانفرنس کے لئے شہر ِ شاعر مشرق(سیالکوٹ) کا انتخاب کیا ۔اس کانفرنس کی میزبانی معروف شاعرہ ثوبیہ راجپوت نے اپنے ذمہ لی اور میزبانی کی ذمہ داری خوب نبھائی بھی …

    ہمیشہ کی طرح اپووا ٹیم کی یہ خواہش تھی کہ ایسے لوگوں کو بطور مہمان بلایا جائے جو اپنے تجربات کی روشنی میں نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔۔اپووا کی بنیاد رکھتے ہوئے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ تنظیم ملکی اور غیر ملکی سطح پر اتنی جلدی اپنی گرہیں مضبوط کر لے گی۔چیئرمین سر زبیر احمد انصاری کی سر پرستی میں ہماری تنظیم ملکی اور غیر ملکی سطح پر اپنی کام یابی کا لوہا منوا چکی ہے۔زبیر بھائی سماجی اور سیاسی شخصیت تو ہیں ہی مگر ادب سے بھی بے پناہ لگاو رکھتے ہیں۔۔ایک مخلص اور ادب دوست انسان ہیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے اور اپووا ٹیم کو سپورٹ کیامیں ان کی محبتوں کا ہمیشہ مقروض رہوں گا۔کانفرنس سے تقریباً ایک ماہ پہلے زبیر صاحب ہی کی قیادت میں اپووا ٹیم نے سیالکوٹ کا دورہ کیا تھا جہاں سی ای او اللہ مالک ہوٹل گروپ محترم نواز انصاری صاحب نے پھر پور مہمان نوازی کی تھی اور تب ہی یہ طے ہوا تھا کہ سیالکوٹ میں ادبی کانفرنس اللہ مالک ایوینٹ کملیکس میں ہوگی۔

    بات ہو رہی تھی اپووا کی تواپووا کا مقصد یہ نہیں کہ صرف بڑے بڑے نامور لکھاریوں کو اعزازات سے نوازے۔ بلکہ اپووا کا مقصد دور دراز کے چھوٹے اور گمنام علاقوں سے ٹیلنٹ کھوج کر سامنے لانابھی ہے۔اور ان نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ہی ہمارا حقیقی مقصد ہے۔بات ہو رہی تھی سیالکوٹ کانفرنس کی تو اپنے شہر سے دور جا کر کوئی بھی ایوینٹ کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہوتا ہے اور کافی چیلنجز درپیش ہوتے ہیں ۔ایسے میں ثوبیہ راجپوت نے اپنی ذمہ داریاں بااحسن نبھائیں اور ان ہی کی تواسط سے گھوئنکی لائن کلب کے صدر محترم عمر سلیم گھمن صاحب نے بھی بھر پور معاونت فراہم کرکے ادب دوست ہونے کا عملی ثبوت دیا ۔اس کے علاوہ بہت ہی پیاری آپی فرظینہ مقصودبٹ(USA) جو اپووا صدر ثمینہ طاہر بٹ کی چھوٹی بہن بھی ہیں انہوں نے اس بار بھی اپنی بھر پور محبتوں سے نوازاآپ دیار غیر میں بیٹھ کر بھی اپنے وطن کی مٹی اور اپنے وطن سے جڑے لوگوں سے بہت انسیت رکھتی ہیں جو آپ کے اعلی ظرف ہونے کا ثبوت ہے۔ ان کے علاوہ میں شکر گزار ہوں دیا ویلفیئر آرگنائزیشن کا جنہوں کانفرنس کے موقع پر فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا اور دیا ویلفیئر آرگنائزیشن کی وائس چیئر پرسن راحیلہ اشرف صاحبہ مصروفیات کے باوجود کانفرنس کے اختتام تک میڈیکل کیمپ میں موجود رہیں۔عین ضرورت کے وقت ہمیشہ کام آنے والے میرے دیرینہ دوست اور نائب صدر اسلم بھائی اور میں کانفرنس سے ایک روز قبل سیالکوٹ پہنچے۔ہمارا لنچ ثوبیہ راجپوت صاحبہ کے گھر تھا ثوبیہ کے گھر سے پرتکلف لنچ کرنے کے بعد ہم کاروان قلم کی ٹیم کے ہمراہ ہوٹل پہنچے اور کانفرنس کی تیاریوں کو حتمی شکل دی ۔رات کا ڈنر سیالکوٹ کے معروف صحافی و لکھاری مہر اشتیاق نے اللہ ملک ہوٹل میں دیا اور ہماری رہائش بھی مہر اشتیاق کے دولت خانہ میں تھی اشتیاق بھائی نے بھی میزبانی کا خوب حق ادا کیا اگلے دن صبح انہوں نے ہمیں پائے کا بھر پور ناشتہ کروایا اور اس کے بعد ہم اللہ مالک ہوٹل پہنچے تو مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا… سب سےپہلے،فاکہہ قمر اس کے بعد قرۃ العین خالد اور ان کی بہن الماس العین خالد ان کے ساتھ ہی ڈاکٹر ندیم ملک اور امین رضا مغل ڈسکہ سے اپنی ٹیم کے ہمراہ ہوٹل پہنچے اس کے بعد سرگودھا سے معروف ادبی شخصیت اور انتہائی محبت اور شفقت کرنے والے ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب تشریف لائے ان کے ہمراہ معروف براڈ کاسٹر ممتاز عارف صاحب بھی موجود تھے ممتاز عارف صاحب کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا ۔

    کھاریاں سے معروف قانون دان سعدیہ ہماشیخ بھی تشریف لائیں۔لاہور سے وائس چیئرمین حافظ محمد زاہد کی زیر نگرانی ،لیجینڈاداکار راشد محمودصاحب ،معروف شاعر شہزد نیئر صاحب،سنئیر صحافی ندیم نظرصاحب،معروف براڈ کاسٹر اور شاعرہ ریحانہ عثمانی ڈرامہ نگار ثمینہ طاہر بٹ ،جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول،معروف ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری،معروف لکھاری اظہر حسین بھٹی ،محترم نادر فہمی،نائب صدر و مصنف سفیان علی فاروقی،فاطمہ طاہر بٹ ،سوشل ایکٹیوسٹ ساجدہ اصغر صاحبہ اور کینڈا سے ان کی صاحبزادی ۔معروف صحافی سجاد علی بھنڈر،معروف لکھاری و صحافی نبیلہ اکبر،نوجوان لکھاریہ لاریب اقراء اور بالخصوص رشنا اختر جو اپووا ویب کی ایڈیٹر بھی ہیں وہ محمود کوٹ سے طویل سفر طے کر کے پہلے لاہور اور پھر لاہور سے کارواں کے ساتھ سیالکوٹ پہنچیں ۔معروف سیاسی و سماجی رہنما ریاض احمد احسان ،معروف شاعرہ عروج درانی،معروف شاعر ضیغم عباس گوندل بھی لاہور سے تشریف لے آئے سیالکوٹ سے بھی مہمانوں کی آمد کا سلسہ جاری رہا ۔جن میں گھوئینکی لائن کلب کے عہدیدرارن و ممبران کے علا وہ سمیرا ساجد،مقبول شاکر،ڈاکٹر نصیر احمد اسد،عاصمہ فراز،ڈاکٹر الیاس عاجز،اعجاز عزائی ،سید زاہد حسین بخاری،ملک ساجد اعوان ،ڈاکٹرمحمد خرم ،عبدالشکور,ڈاکٹر اکبر غازی،آصفہ مریم اور دیگر بڑے بڑے نام شامل تھے .

    مدیحہ کنول نے حسب روایت اپنی کمپرئینگ کی ذمہ داریاں بہت احسن طریقے سے نبھائیں۔ہمیشہ کی طرح تقریب کا اآغاز زاہد بھائی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا اور حفصہ خالد نے نعت رسول صلی اللہ وسلم پڑھ کر سماء باندھ دیا ،گجر انولہ سے تشریف لائی معروف شاعرہ فرحانہ عنبر نے اپووا پر لکھی خوبصورت غزل سنا کر خوب داد سمیٹی ۔سبز صحافت تنظیم کی طرف سے چئیرمین زبیر انصاری،وائس چئیرمین حافظ محمد زاہد ،صدر ثمینہ طاہر بٹ ،جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول اور راقم کو نشان صحافت دیا گیا جس پر میں فیصل افضل بھائی کا طے دل سے مشکور ہوں۔تقریب میں تشریف لانے والے معزز مہمانوں کے علاوہ وہ تمام دوست احباب اور ٹیم ممبرز جنہوں نے پوری محنت سے اس کانفرنس کو کامیاب کروانے میں مدد کی ان سب کا بھی شکر گزار ہوں چونکہ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کے نام بہت زیادہ ہیں اس لئے سب کے نام نہیں لکھ پایا جن کے نام رہ گئے ان سے دلی طور پر معزرت خواہ ہوں۔اپووا سے جڑے ایک ایک فرد کی میرے دل میں جگہ اور عزت ہے اور ہمیشہ رہے گی۔الحمد للہ مجھے مخلص لوگوں کا ساتھ ملا۔اس کام یابی میں اپووا ٹیم کا پورا ساتھ اور پورا ہاتھ ہے۔

    کانفرنس کے بعد سیالکوٹ سے واپسی پر قرۃ العین خالد کے دولت خانے پر مختصر قیام کے بعد کا رواں رات گئے لاہور پہنچ گیا ۔ذہنوں پر انمنٹ نقوش لئے یہ پر وقار تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔سیالکوٹ کے ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں منفرد نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس تھی ۔اور ہماری حوصلہ آفزائی کے لئے یہ بات ہی کافی ہے۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم ادب کو فروغ دیں اور ادب پر محنت کی جائے تا کہ ادب اور بالخصوص اردو ادب کا لوہا ملکی اور غیر ملکی سطح پر منوایا جا سکے۔۔نئے لکھنے والوں کو سیکھنے کے مواقع دئیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ ہم اردو زبان کو عالمی سطح پر ایک خاص مقام پے دیکھنا چاہتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ایسی کانفرنسز کو بیرون ملک تک لے جایا جائے۔اور میرا ایک بڑا خواب ہے کہ لکھاریوں کے لئے ایک الگ ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جا سکے،جس میں لکھاریوں اور ان فیملیز کو علاج کی مفت سہولت میسر آسکے۔ جسے میں پورا کرنا چاہتا ہوں۔مجھے امید ہے، بلکہ یقین ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گا(ان شاء اللہ) میرے ہوتے نہ سہی میرے بعد سہی۔۔ آخر میں نئے لوگوں سے اتنا ضرور کہوں گا ہم اپنے حصے کی شمع روشن کر چکے ہیں۔اب مزید مشعلیں روشن کرنا آپ کا کام ہے۔میں تمام شرکا کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جو سیالکوٹ یا سیالکوٹ سے باہر دور دراز سے تشریف لائے۔ اپووا ٹیم نے کانفرنس کو کام یابی سے ہمکنار کروانے میں دن رات محنت کی اگر کہیں کوئی کمی کوتائی رہ گئی ہو تو درگزر کیجئے گا۔۔میری یہ دعا ہے کہ ہماری اس چھوٹی سی کاوش کو مدتوں یاد رکھا جائے اور اپووا ٹیم کے حوصلے ہمیشہ یوں ہی بلند،رہیں۔۔۔۔۔۔آمین

  • اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیر اہتمام سیالکوٹ میں منعقدہ ادبی کانفرنس اپنی تمام تر رعنائیوں اور کامیابیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف اہلِ ادب کے لیے ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوئی بلکہ نئے لکھاریوں کے لیے بھی ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کر گئی
    کانفرنس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسول مقبولﷺ سے ہوا۔ اس کے بعد اپووا کے معزز عہدیداران اور معروف ادبی شخصیات نے افتتاحی خطابات کیے، جن میں ادب کی ترقی اور ترویج پر زور دیا گیا۔ملک کے نامور شاعر، ادیب اور نقاد اس ادبی محفل کا حصہ بنے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اردو ادب کی موجودہ صورتِ حال، اس کے چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالی۔اس کانفرنس میں نئے لکھنے والوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اورادبی ترقی کی نئی راہیں سامنے آئیں ۔اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو شیلڈز،میڈلز اور سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے ۔

    اختتامی تقریب میں اپووا کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے علمی و ادبی اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ ادب کے فروغ کا یہ سفر جاری رہے۔کانفرنس کے شرکاء نے اس پروگرام کو ایک شاندار اور یادگار لمحہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ایسی تقریبات ادب دوست افراد کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں اور انہیں مزید فروغ دینا چاہیے۔یہ ادبی کانفرنس سیالکوٹ کی سرزمین پر ایک تاریخی حیثیت اختیار کر گئی، جہاں الفاظ نے جذبات کو چھوا، خیالات نے نئے آفاق دریافت کیے، اور ادب کی شمع مزید روشن ہو گئی۔ اپووا کی یہ کاوش بلاشبہ قابلِ تحسین ہے، جو اردو ادب کی خدمت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔
    مدیحہ کنول
    جنرل سیکرٹری( اپووا)

  • مریم نواز ثابت قدم رہنا. آپ تاریخ کا روشن باب رقم کرنے جا رہی ہیں. تحریر: ملک سلمان

    مریم نواز ثابت قدم رہنا. آپ تاریخ کا روشن باب رقم کرنے جا رہی ہیں. تحریر: ملک سلمان

    ڈی جی پی آئی ڈی شفقت عباس نے سنئیر صحافیوں اور حکومت پاکستان کی دعوت پر آئے بنگلہ دیشی صحافیوں کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔
    ایک بجے کا وقت تھا مہمان پونے دوبجے کے قریب پہنچے تو ہم نے پی آئی ڈی والوں سے پوچھا کہ آپ خود لیٹ پہنچے ہیں تو انکا کہنا تھا کہ ہر طرف ٹریفک جام اور تجاوزات ہیں کیا کریں، مینار پاکستان سے گلبرگ پہنچنے میں 55منٹ لگے اگر غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات نہ ہوں تو یہ فاصلہ صرف پندررہ منٹ کا ہے۔
    سنئیر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ شکرکریں ابھی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کرچکی ہیں ورنہ آپکو اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا تھا۔ بنگالی مہمانوں نے لاہور کی خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے واپس جانے کو دل نہیں چاہتا۔ ایک اور بنگالی صحافی نے کہا کہ ہارس اینڈ کیٹل شو کے ایڈورٹائزنگ بینرز اور بورڈ مجبور کر رہے ہیں کہ ہمیں بھی یہ ثقافتی میلہ لازمی دیکھنا چاہئے۔ ایک بنگالی صحافی نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ تاریخی اہمیت کے حامل شہر لاہور میں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیاں کیسے چل سکتی ہیں، پاکستان کی میزبانی میں چیمپئن ٹرافی جیسا اہم ایونٹ شروع ہوچکا ہے تو بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں اور رکشے سکیورٹی تھریٹ نہیں؟چند ہفتے پہلے چائنیز نے بھی بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    بدقسمتی کی انتہا ہے کہ پنجاب کی ٹریفک پولیس آوورآل جبکہ لاہور ٹریفک پولیس خاص طور پر ناجائز پارکنگ مافیا کے خاتمے کی بجائے انکو سپورٹ کرنے سے باز نہیں آرہی۔ فلیشر لائٹ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی۔ سڑکوں بازاروں اور عام گلیوں میں بھی ناجائز پارکنگ سٹینڈ بن چکے ہیں۔ چوک چوراہوں اور بیچ سڑک پارکنگ اور تجاوزات مافیا کا راج ہے۔سنئیر صحافی مجیب الرحمٰن شامی، سلمان غنی، حسین پراچہ، نوید چوہدری، محمد مہدی سمیت اکثریت کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ایسا کام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا اقبال ٹاؤن، گرین ٹاؤن اور ٹاؤن شپ لاہور کا حصہ نہیں وہاں تو تجاوزات ویسے کی ویسے ہیں۔ میں نے انہیں اپنی مثال دی کی میری رہائش احمد بلاک گارڈن ٹاؤن ہے میں چھے دفعہ راجہ مارکیٹ اور برکت مارکیٹ گارڈن ٹاؤن تجاوزات کی ویڈیوز بھیج چکا ہے۔ ویڈیو کے فوری بعد ڈپٹی کمشنر تجاوزات ہٹوا دیتے ہیں لیکن ٹھیک دو چار گھنٹے بعد ساری تجاوزات واپس آجاتی ہیں۔ ماضی کی حکومت میں اتنے جعلی آپریشن ہوئے ہیں کہ اب تجاوزات مافیا کو قانون کا ڈر ہی نہیں رہا۔
    میڈم وزیراعلیٰ کو سمجھنا چاہئے کہ بیوروکریسی ایک دفعہ کا فوٹو شوٹ کرکے جعلی کارگردگی شو کر رہی ہے۔ جو تجاوزات چھے دفعہ شکایت کرنے کے بعد واپس آگئیں باقی علاقوں کا کیا حال ہوگا۔ گذشتہ دنوں راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا تو ایسا لگا کا تجاوزات کے ہیڈ آفس آگیا ہوں۔

    آج کل اتنی شادیاں اٹینڈ کرنا پڑ رہی ہیں کہ پورے پنجاب کے کئی چکر لگ چکے ہیں۔ ذاتی مشاہدے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ خانیوال، خوشاب، بہاولپور سیالکوٹ، گجرات، چکوال اور اوکاڑہ کے اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے، ہر طرف گندگی جبکہ فوٹو شوٹ کے بعد تجاوزات وہیں کی وہیں ہیں۔

    معروف کالم نویس حسین پراچہ کا کہنا تھا کہ بار بار تجاوزات ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ سرکاری جگہوں پر قبضے کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سزائیں دینے سے ہی قانون کی رٹ بحال ہوگی۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سٹیٹ لینڈ کی حفاظت اور تجاوزات کے خاتمے کے مشن میں اپنے اراکین پارلیمنٹ کو ناراض کرکے اس مشن کو چلائے ہوئے ہیں اب بیوروکریسی کو بھی شرم کرنی چاہئے کہ قانون پسند وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ساتھ دیں نہ کہ تجاوزات مافیا کا۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ہمارا ڈپٹی کمشنر تو تجاوزات ہٹوانے میں رتی برابر ا سیریس نہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے تجاوزات کا خاتمہ آپکی جرات اور حب الوطنی کی پہچان بن چکا ہے۔تجاوزات فری پنجاب مریم نواز کا ٹریڈ مارک ہونا چاہئے۔سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا مریم نواز نے اٹھایا ہے اس کیلئے پنجاب کا ہر فرد وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے۔ اس نیک کام کو روکنے کیلئے تجاوزات کی کمائی کھانے والے چند سیاستدان اور سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو لیکن میڈم وزیراعلیٰ آپ نے ثابت قدم اور مضبوط رہنا ہے انشاء اللہ آپ کا یہ کارنامہ تاریخ کا روشن باب ہوگا۔

    میڈم وزیراعلیٰ آپ اپنی اپیکس کمیٹی کی میٹنگ سے اندازہ لگا لیں کہ وہاں بھی کچھ لوگ تجاوزات کے خلاف ایکشن میں نرمی کا کہہ کرحقیقت میں تجاوزات مافیا کو سپورٹ کرنا چاہ رہے تھے لیکن آپ کی استقامت اور دوراندیشی کو سلام کہ آپ نے سمپل جواب دے کر سب کا منہ بند کروادیا کہ تجاوزات کے خلاف ایکشن ریاست کے مفاد میں ہے؟ اگر ریاست کے مفاد میں ہے تو جاری رہے گا، مجھے کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہیں میرے لیے اس مٹی کی حفاظت زیادہ عزیز ہے۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ نے 70ہزار ارب کی سٹیٹ لینڈ کو ریکور کروا کر پاکستان کو اندرونی اور بیرونی قرضوں سے نجات دلانی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کی ٹریفک پولیس پارکنگ مافیا کی بی ٹیم بن چکی ہیں۔ ٹریفک پولیس میں سخت بھل صفائی کی ضروت ہے۔

    حکومت دہشت گردوں ، سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرے.حافظ خالد نیک

    پاکستان میں کاروباری اعتماد میں بتدریج اضافہ ہوا،گیلپ سروے

    malik salman

  • دو ریاستی حل  پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری،تجزیہ شہزاد قریشی

    دو ریاستی حل پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری،تجزیہ شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی فورم پر سوالیہ نشان ہے ؟عالمی طاقتیں اپنے ریاستی مفادات کے لئے استعمال کرتی آرہی ہیں۔عرب بادشاہوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ فلسطین اور کشمیری عوام پر وحشیانہ تشدد جاری رہا۔ اقوام متحدہ اورد یگر عالمی ادارے فلسطینی عوام اور کشمیری عوام کو انصاف دلانے میں تادم تحریر ناکام رہے۔ روسی اور چینی حکمرانوں کی پالیسیاں بھی معاشی مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں نے فلسطین اورکشمیر کو داخلی دوکانداری کے لئے استعمال کیا۔ غزہ اور کشمیر دونوں میں کھلی اور آزاد فضا میں سانس لینا مشکل ترین ہے۔ دونوں کی عوام قید خانوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ غزہ میں جب خیموں میں لپٹی ہوئی آبادی پر گولہ باری اور بھوک پوری طرح سے گر رہی تھی۔ اقوام متحدہ ، دیگر عالمی ادارے ،عالمی طاقتیں ،عرب بادشاہ ،د یگر جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعویدار اسلامی ممالک کہاں تھے؟ وہ عرب بادشاہ اور عرب ممالک کہاں تھے ،جب غزہ کی خواتین اور بچے چیخ رہے ہیں تھے، مدد کو پکار رہے تھے ۔ عالمی دنیا بھی کہاں تھی۔عالمی تبصرہ نگاروں کے مطابق امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے مطابق فلسطینی علاقوں ایران اور یوکرین میں اہم ڈیڈ لائنز قریب آرہی ہیں دو رسیاستی حل پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری ہے، اس جاری مسئلے کا واحد حل کا یہی راستہ ہے سعودی عرب ایک سرکردہ عرب اور دیگر اسلامی ممالک جو اس مسئلے کے حل کے لئے صلاحیت رکھتے ہیں،کردار ادا کریں ٹرمپ کی تجاویز کا متبادل منصوبہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر تیار کریں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بات کریں دنیا بدل رہی ہے پاکستان کو بھی اگر بدلنا ہے تو ہمارے حکمرانوں ،سیاسی جماعتوں کے قائدین اورطاقتور حلقوں کو بدلنا ہوگا دنیا کے ساتھ نئے طور طریقے بدلنا ہوں گے۔ ریاستی مفادات اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر بدلنا ہوگا۔ داخلی بُحران کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔بلاشبہ مسائل پیچیدہ ہیں لیکن ان کا حل ناممکن نہیں۔ اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنا ہوگا ۔ اس پاکستان کی بقا اور سلامتی کی خاطر اس مقدس سرزمین کے لئے بڑی قربانیاں دی گئیں اس کے وقار میں اضافے کا سبب بنیں ۔ پاکستان خطے کا اور اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے۔ اس کا کردار عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک میں اہم ہی ہونا چاہیئے ۔ اس کے لئے صدق دل سے اپنے ذاتی مفادات کو وطن عزیز کے لئے قربان کرنا ہوگا۔

  • مریم کی قیادت میں پنجاب بدل رہا. تحریر: نور فاطمہ

    مریم کی قیادت میں پنجاب بدل رہا. تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان کی سیاست میں خواتین کی نمائندگی ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک ایسی شخصیت بن کر ابھری ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت، قائدانہ صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے جذبے سے سب کو متاثر کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پنجاب نے ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں اور عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔مریم نواز نے جیل بھی کاٹی. گرفتاریاں بھی دیں لیکن والد کا ساتھ نہ چھوڑا.

    وزیراعلیٰ پنجاب مریمنواز کا سیاسی سفر ایک عام کارکن سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی محنت، لگن اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کی تقاریر میں ہمیشہ ایک واضح پیغام ہوتا ہے جو عوام کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو سمجھا اور ان کے حل کے لئے کوششیں کیں۔عام انتخابات میں مریم نواز الیکشن جیتیں تو انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے پر نامز د کیا گیا، وہ وزیراعلیٰ بنیں تو پنجاب بدلنے لگا.وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پنجاب نے کئی ترقیاتی منصوبے دیکھے ہیں۔ تعلیم، صحت، زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں ان کی توجہ قابل ستائش ہے۔ طلبا کو سکالر شپ،لیپ ٹاپ، غریب عوام کے لئے اپنا گھر منصوبہ، کسانوں کے لئے کسان کارڈ، معذوروں کے لیے وہیل چیئر،آلہ سماعت، غرض جس شعبے میں جائیں، ہر طرف وزیراعلیٰ مریم نوا ز کا نام اور کام بول رہا ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب کی مقبولیت کا راز ان کی عوام سے قربت ہے۔ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہتی ہیں اور ان کے مسائل کو سنتی ہیں۔ ان کی سادگی اور اخلاص نے عوام کو ان کا گرویدہ بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی فعال موجودگی ہے جہاں وہ عوام سے براہ راست رابطے میں رہتی ہیں۔یقینی طور پر، وزیراعلیٰ پنجاب کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان جیسے مسائل ابھی تک موجود ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔ تاہم، ان کی قیادت میں پنجاب حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ ایک بہترین سیاستدان بن کر ابھری ہیں۔ ان کی قیادت میں پنجاب کا مستقبل روشن ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنی محنت اور لگن سے عوام کی خدمت کرتی رہیں گی اور پنجاب کو ترقی کی مزید منازل تک لے کر جائیں گی۔
    noor fatima

  • روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی میں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی میں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بین الاقوامی اُفق پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں اور پالیسی سازوں نے زمانہ حاضر کے مطابق ترجیحات اور اہداف مقرر کرنے اور عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکہ اور یورپی تعلقات کو لے کر پینٹگان کے سربراہ نے نیٹو کے اجلاس کے لئے یورپ کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ روس اور یو کرین کی جنگ کو لے کر امریکی صدر اور روس کے صدر کی طویل ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ عالمی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یورپ میں ایک مضبوط اور مصروف امریکہ نہ صرف براعظم کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ یہ امریکی قومی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کے لئے ضروری ہے ۔ یورپ امریکی معیشت کی بہتری کے لئے بہت اہم ہے۔

    ادھر گزشتہ ہفتے ترکیہ کے صدر نے تین ممالک کے دورے کئے ہیں جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ترکیہ کی مصروفیت کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ترکی کے صدر نے ملائیشیا ، انڈونیشیا اور پاکستان ک ا دورہ کیا۔ ترکی کے صدر نے ان تین ممالک کے دورے کے دوران غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی شریک سربراہی کا وعدہ کیا ۔غزہ سمیت عالمی انسانی مسائل جیسے پلیٹ فارمز کی ڈی ایٹ اور او آئی سی وغیرہ کی اہمیت پر زور دیا ۔ ترکیہ اور پاکستان کا صدیوں سے ایک رشتہ چلا آرہا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ نے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ۔دفاعی ،جدید ٹیکنالوجی بالخصوص فوجی تعاون نے ترکی اور پاکستان کے تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایک اہم شراکت دار کے طور پر ترکی کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔ مغرب سے مشرق کی طرف طاقت کی عالمی تبدیلی ایشیاء کی طرف محور کا رحجان مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورت حال ترکی کی عملی خارجہ پالیسی نے ایشیا ء کی طرف انقرہ نے ایک اہم موڑ کو تشکیل دیا ہے۔تاہم انقرہ کو مزید اور مستقل توجہ کی ضرورت ہے۔

    پاکستان نے اگر دنیا کے ساتھ ترقی کرنی ہے تو رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل کرنا ہوگا۔ نااہل کرپٹ ، بددیانت ، ذاتی مفادات ، اقربا پروری ، متکبر اور چاپلوس ، خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہوگی ۔ روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی پر ہے۔ پہلے پاکستان پالیسی پر ہے ۔ پاکستان کے مفاد پر ہے ۔ تباہ کن انداز کو اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہوگا۔ بہت ہو چکا اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات ایک طرف رکھیں،پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مشرق وسطیٰ ، امریکی نئی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مد نظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں.

  • تبصرہ کتب.خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب.خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات

    خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    صفحات : 224آرٹ پیپر 4کلر
    قیمت : 2500روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب ’’ خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات ‘‘ کے مولف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔پیش نظر کتاب میں مسلمانوں کی عظیم ماں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا زندگی کے ان تمام پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو مسلم بچیوں اور خواتین کیلئے ہی نہیں مردوں کیلئے بھی مشعل راہ ہیں ۔سیدہ خدیجہ ہماری وہ عظیم ماں ہیں جو دور جاہلیت میں بھی طاہرہ کے لقب سے معروف تھیں ۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عقل و فہم ، دینداری ، ایمانداری ، اخلاص ، ثابت قدمی ، وفا شعاری اور مجاہدانہ کردار کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ گویا قاری اسی دور میں موجود ہے اور ام المئومنین کی زندگی کا بچشم خودمشاہدہ کررہا ہے ۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے اہم ترین واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد اور اہل بیت کی زندگی پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے ۔ اس سارے عمل میں تحقیق کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ضعیف و بے اصل واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے ۔ امید ہے یہ کتاب امت مسلمہ کی خواتین کیلئے مشعل راہ ثابت ہوگی ۔ دنیا بھر میں کوئی مسلمان ایسا نہیں جو خاتون اول ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے نام اور تذکرہ سے آشنا نہ ہو ۔اس میں شک نہیں کہ تاریخ اسلامی کے اوراق گر دانتے ہوئے ایسی بے شمارخواتین کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے شمع اسلام کی سر بلندی اور دین حق کی دعوت کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں اور تاریخ کے چہرے کو ضیاء بخشی ہے تاہم ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان عظیم خواتین سے عظیم تر تھیں کیونکہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے اوپر پہلی وحی کا تذکرہ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کیا ا ور کہا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے تو اس عظیم خاتون نے اپنی عظمت ، شان اور حکمت کے عین مطابق نبی آخر الزمان ، رسول خداﷺ کو ان الفاظ میں حوصلہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کی قسم ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ آپ کو ناکام اور نامراد کردے ، آپ کی مدد نہ کرے کیونکہ آپ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ، تھکے ، ہارے اور درماندہ انسانوں کو ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں ، بے ٹھکانہ مسافروں کو اپنا مہمان بناتے ہیں اور حق بجانب امور میں معین و مدد گار رہتے ہیں ۔ پھر صرف ان ہی جملوں پر اکتفا نہی کیا بلکہ اپنے سرتاج ، شریک حیات اور محسن انسانیت کومکمل یقین دلانے کیلئے انہیں چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور سارا واقعہ سنا کر اللہ کے رسول ﷺ کو مزید تسلی اور حق پر قائم رہنے کیلئے ہمت بندھائی ۔ دعوت اسلام کو پھیلانے میں ہماری اس ماں کا نہایت معتبر کردار اس کتاب کے اوراق میں تاریخ اسلام سے الفت رکھنے والوں کو میسر آئے گا ۔ اس عظیم خاتون کی تمام خوبیاں ایک طرف۔ان کی صرف یہی شان اور عظمت کافی ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ نے جب اسلام کی دعوت پیش کی تو خواتین میں سے سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو قبول اسلام کا شرف حاصل ہوا ۔ خاتون اول محض ایک تاجرہی نہیں بلکہ نہایت مالدار، باوقار ، ذہین ، شریف ، معاملہ فہم اور دور اندیش خاتون تھیں ۔ انہو ں نے اپنا مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ، رسول ﷺ کی بیٹیوں کی نہایت عمدہ تربیت کا حق ادا کیا ، حضرت خدیجہ کا مرتبہ اورمقام سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ رسول ﷺ اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جنت کی سردار کہا ہے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت خدیجہ کے بطن ہی سے ہی دنیائے فانی میں تشریف لائیں ۔ رسول ﷺکو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اتنی محبت تھی کہ ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی۔ وہ بلا شبہ نہایت امیر کبیر شہزادی بلکہ ملکہ تھیں مگر شعب ابی طالب میں رسولﷺ کے ساتھ نہایت صبر و تحمل سے تین مشکل ترین سال گزارے ۔ زیر نظر کتاب ان مائوں ،بہنوں اور بیٹیو ں کے لیے لکھی گئی ہے جو امہات المئومنین رضی اللہ عنہا کے اسوہ حیات کو جاننا چاہتی ہیں ۔ اس کتاب کو خوبصورت ڈیزائن ، بہترین سرورق ،عمدہ بائینڈنگ،آرٹ پیپر پر چہار کلر طباعت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ شائع کیاگیا ہے ۔ یہ کتاب اپنے مضامین اور طباعت کے اعتبار سے اتنی عمدہ ، خوبصورت اور جاذب نظر ہے کہ بیٹیوں کو شادی بیاہ کے موقع پر تحفے میں دی جانی چاہئے ۔اس سے یقینا ہماری بچیاں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نقش دم چلیں گی

  • سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف حکومتوں نے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم سیاست میں آنے والی پیچیدگیاں اور بعض سیاسی جماعتوں کے بیانیے نے ملک کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے، پی ٹی آئی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں ترسیلات زر بھیجنے سے گریز کریں۔ تاہم جنوری 2025 کے اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس بیانیے کے اثرات کم ہو گئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔سول نافرمانی ایک ایسا سیاسی عمل ہے جس میں عوام کسی حکومتی پالیسی یا فیصلے کے خلاف غیر قانونی طور پر مزاحمت کرتے ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال بھی دی گئی تھی، تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس بیان میں ان کی کوشش تھی کہ پاکستانی عوام حکومت کی غیر مقبول پالیسیوں کا مقابلہ کریں۔تاہم، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں اضافہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ عوام اس قسم کے بیانیے سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ اضافے نہ صرف حکومت کے پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہیں بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ پاکستانی قوم کی محبت اپنے وطن کے ساتھ کبھی کم نہیں ہوتی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پیسہ پاکستان بھیجا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی بیرون ملک اپنے وطن کی حالت بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔یہ اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بیرون ملک پاکستانی اپنے پیسوں کو پاکستان بھیجتے ہیں، تو اس کا مقصد صرف مالی امداد نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک علامت ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن کی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ جنوری 2025 میں بھیجی جانے والی 3 ارب ڈالر کی رقم صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے آئیں، جہاں پاکستانیوں نے 72.83 کروڑ ڈالر بھیجے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 62.17 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 44.36 کروڑ ڈالر، اور امریکہ سے 29.85 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے وطن کی معیشت کے لیے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ماہرین معاشیات اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافے کا ایک اہم سبب حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب حکومت نے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تو اس کا اثر بیرون ملک پاکستانیوں کی سوچ اور رویوں پر بھی پڑا۔یہ تمام ترسیلات زر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لوگ حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنے پیسوں سے پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کا "ملک دشمن بیانیہ” اب اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اس بات کو سمجھا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ہر شخص کا کردار اہم ہے، اور وہ کسی سیاسی جماعت یا بیانیے کے اثرات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    جنوری 2025 میں ترسیلات زر میں اضافہ ایک اہم سنگ میل ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی کسی بھی سیاسی یا جذباتی بیانیے سے متاثر ہوئے بغیر اپنے وطن کی ترقی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنے وطن کے مستقبل کے لیے یکجا ہیں اور اپنے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی مدد فراہم کر رہے ہیں۔یہ ایک پیغام ہے کہ اگر حکومت اور عوام کے درمیان ایک مثبت تعلق قائم ہو، تو ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر    :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    مولانا دین محمد وفائی 14اپریل 1894ءکو سندھ مردم خیز ضلع شکار پور کے گوٹھ بنی آباد میں پیدا ہوئے ۔
    ابتدائی تعلیم و تربیت ان کے والد حکیم گل محمد نے کی ۔جب مولانا نو برس کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔والد کے انتقال کے بعد مزید تعلیم کی ذمّہ داری قریبی مدرسے کے استاد محمد اسلم کو سونپی گئی ان کی زیر نگرانی مولانا نے صرف 12سال کی عمر میں فارسی زبان میں مہارت حاصل کرلی ۔عربی زبان سیکھنے کے لئے انہوں نے لاڑکانہ کے علاقے سونو جتوئی میں واقع مدرسے کا رخ کیا ۔18 سال کی عمر میں آپ نے رسمی تعلیم مکمل کر لی۔اور اپنے کیریئر کا آغاز سکول ٹیچر سے کیا ۔کچھ ہی عرصے میں ان کی شہرت ایک بہترین استاد کی حیثیت سے پورے سندھ میں پھیل گئی ۔یہی وجہ تھی کہ رانی پور کے پیر نے اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لئے آپ کو استاد مقرر کیا ۔اس کے بعد امام الدین راشدی نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ کی خدمات حاصل کیں ۔

    مولانا دین محمد وفائی کا شمار سندھ کے ان بہادر سپوتوں میں ہوتا ہے جن پر یہ دھرتی ہمیشہ ناز کرتی رہے گی ۔
    مولانا صاحب ایک عالم فاضل شخص تھے ۔انہوں نے اگرچہ مغربی فلسفے سے بھی استفادہ کیا لیکن ان کی فکر کی اساس دانش مشرقی اور علوم دینیہ پر رکھی گئی تھی ۔ انہوں نے نثر اور نظم دونوں میں اپنے قلم کو آزمایا ۔ان کی تحریر کردہ کتب کی تعداد پانچ درجن سے زائد ہے ۔مولانا نے دنیائے صحافت سے اپنے جوہر منواۓ اور "توحید”کے عنوان سے سندھی پرچہ جاری کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے تحریک خلافت کے دوران بھی مجاہدانہ کردار ادا کیا ۔ پہلی عالم گیر جنگ کے دوران ترکی کے عثمانی خلیفہ نے جرمنی کا ساتھ دیا ۔اس دور میں خلافت عثمانیہ کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ حکومت سمجھا جاتا تھا ۔جب عثمانی خلیفہ نے سلطنت برطانیہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو بر صغیر کے مسلمانوں نے بھی انگریزوں کے خلاف مہم تیز کر دی ۔1918ءمیں ترکی کو جنگ میں شکست حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں اتحادیوں نے عثمانی سلطنت کے حصے کر دئیے اور خلیفہ کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ۔اسی پس منظر میں بر صغیر کے مسلمانوں نے "تحریک خلافت”چلائی تھی ۔
    1919ءمیں مولانا صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ ان حالات میں سیاست سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتے اور یہ ان کی مذہبی ذمّہ داری ہے کہ وہ خلافت کے تحفظ کی عملی جدو جہد میں شریک ہوں ۔اس طرح انہوں نے تحریک خلافت کے سر گرم کارکن کے طور پر طویل اور صبر آزما جدو جہد کا آغاز کیا ۔جس کے نتیجے میں ان کا شمار سندھ کے قابل احترام سیاسی رہنماؤں میں ہونے لگا ۔
    انگریزوں نے جیسے ہی ہندوستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی خطرے کی بو سونگھی فوراً ہی چند زر خرید علماء سے "تحریک خلافت”کی مخالفت میں فتویٰ دلا دیا ۔مولانا نے اس فتویٰ کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ تحریک بھی چلائی ۔اس حوالے سے انہوں نے مولانا تاج محمد امروٹی کی رہنمائی میں ایک کتاب بھی تحریر کی جو مارچ 1920ءمیں لاڑکانہ میں منعقدہ”خلافت کانفرنس”کے دوران تقسیم کی گئیں ۔اس کتاب کو خراجِ تحسین پیش کرنے والوں میں ابوالکلام آزاد ،مولانا شوکت علی اور مولانا عبد الباری لکھنوی جیسے جید علمائے کرام شامل تھے ۔
    مذکورہ کانفرنس کے بعد مولانا صاحب کو جمعیت العلمائے سندھ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ۔
    مولانا کی شخصیت کا ایک پہلو سندھی صحافت کے لیے ان کی گراں قدر خدمات بھی ہیں ۔1918ءمیں انہوں نے "الکاشف”کے نام سے ایک سندھی جریدے کی اشاعت شروع کی ۔1920ءمیں انہیں سندھی روز نامہ "الوحید”کی اشاعت اور مقبولیت بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ان کے مضامین کو سندھی زبان وادب کے بہترین نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔مولانا صاحب کی صحافتی صلاحیتوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے کراچی سے سندھی زبان میں ایک ماہنامہ "توحید”کے نام سے جاری کیا اس پرچے کا سلوگن تھا
    توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
    آساں نہیں مٹانا ، نام ونشان ہمارا
    علمی ،ادبی،تاریخی،مذہبی،سماجی اور تعلیمی نوعیت کے مضامین اس پرچے کی زینت بنتے تھے ۔1943ءمیں مولانا صاحب نے ایک ہفت روزہ اخبار "آزاد”کے نام سے جاری کیا جو کراچی میں واقع ان کے پرنٹنگ پریس میں ہی چھپا کرتا تھا ۔بعد میں ان کے بیٹے علی نواز وفائی نے اس اخبار کی ذمّہ داریاں سنبھالیں ۔
    برٹش راج کے دنوں میں نصابی کتب کا آغاز ملکہ وکٹوریا کی تاجپوشی کے تذکرے سے اور اختتام اس وقت کے برطانوی حکمران شاہ جارج پنجم کی صحت اور درازی عمر کے لیے دعا پر ہوا کرتا تھا ۔مولانا نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی سنہری تاریخ سے واقف کرانے کے لیے بھرپور جد و جہد کی کیونکہ ان کا موقف تھا کہ جو قوم اپنی تاریخ سے ناواقف ہو اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کی یاد داشت کھو گئی ہو اور جب تک افراد ملت اپنے سنہرے ماضی سے بے خبر رہیں گے ان میں مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے درکار خود اعتمادی پیدا نہ ہو سکے گی ۔
    مولانا سے متاثر ہوکر پیر علی محمد راشدی، پیر حسام الدین راشدی اور دیگر دانشوروں نے سندھ کی تاریخ کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ۔
    مولانا نے تاریخی موضوعات پر جو کام کیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
    پیر حسام الدین راشدی نے انہیں "سندھی مورخین”کا امام قرار دیا ۔
    سندھ کے ممتاز ماہر تعلیم ،شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ انہیں "زندہ ڈکشنری”کہا کرتے تھے ۔
    جبکہ پیر علی محمد راشدی انہیں "چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا”کہا کرتے تھے ۔
    مولانا صاحب محض مذہبی علوم میں ملکہ نہ رکھتے تھے بلکہ انہیں تاریخ ،عمرانیات،جغرافیہ،لسانیات اور قدیم سندھی شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے کلام میں انہیں ممتاز مقام حاصل ہے ۔
    انہوں نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے حوالے سے دو کتب تحریر کیں ۔جن میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی تعلیم و تربیت اور فکری ارتقاء کو موضوع بنایا گیا ہے ۔جبکہ دوسری کتاب میں تاریخ بیان کی گئی ہے ۔انہوں نے 60سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے بعض کی اشاعت کی نوبت ہی نہیں آئی ۔
    ان کی مشہور و معروف تصانیف میں مشاہیر سندھ ،تجریدبخاری اور تجرید صحیح بخاری شامل ہیں ۔
    جسے احادیث کی مستند ترین کتاب کا پہلا سندھی ترجمہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔
    مولانا صاحب کی دیگر کتب میں الہام باری ،محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ،صدیق اکبر رضہ،فاروق اعظم رضہ ،سیدنا عثمان غنی رضہ ،حیدر قرار رضہ ،خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضہ ،اذکار حسین رضہ ،قرآنی صداقت،غوث اعظم ،ہندودھرم اور قربانی اور توحید اسلام جیسی کتب شامل ہیں ۔10اپریل1950ءکو سندھ کے اس عظیم مجاہد نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انہیں سکھر کے آدم شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین )

  • مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کا نام تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ایک ایسے مجاہد تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر دی اور بالآخر اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ ان کی شہادت محض ایک واقعہ نہیں بلکہ تحریکِ آزادی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ 11 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ان کی پھانسی نے کشمیر کے عوام میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کیا، جو آج بھی جاری ہے۔مقبول بٹ 18 فروری 1938 کو وادی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ترہگام گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک عام کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی سوچ غیر معمولی تھی۔ وہ بچپن سے ہی غلامی اور ناانصافی کے خلاف حساس تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے سری نگر اور پھر پاکستان کا رخ کیا، جہاں انہوں نے صحافت اور سیاست میں اپنی فکری نشوونما جاری رکھی۔

    ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1958 میں ہوا جب وہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ یہ لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ ان کی سوچ واضح تھی: کشمیر کو ایک خودمختار، آزاد ریاست ہونا چاہیے جو کسی بھی بیرونی تسلط سے پاک ہو۔
    1965 میں مقبول بٹ نے "جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ” (JKLF) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔ یہ تنظیم کشمیری قوم پرستی اور آزادی کے نظریے پر قائم کی گئی تھی۔ مقبول بٹ نے عسکری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ طاقت کے بغیر کوئی قابض حکومت آزادی نہیں دیتی۔انہوں نے مسلح جدوجہد کے ذریعے بھارتی تسلط کے خلاف آواز بلند کی۔ 1966 میں وہ ایک اہم مشن کے دوران گرفتار ہوئے اور ان پر بغاوت، قتل اور غیر قانونی سرحد پار کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ بھارتی حکومت نے انہیں سزائے موت سنائی، لیکن وہ 1968 میں جیل سے فرار ہو کر پاکستان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔پاکستان میں مقبول بٹ کو ایک اور چیلنج درپیش تھا۔ یہاں پر کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر موجود تھے۔ کچھ لوگ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے، جبکہ مقبول بٹ کشمیر کی مکمل خودمختاری پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے خیالات کو ہر جگہ مکمل حمایت نہ مل سکی۔ تاہم، انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور مسلسل اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔1976 میں وہ دوبارہ بھارت گئے، جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی حکومت نے انہیں دوبارہ سزائے موت سنائی، اور طویل عرصے تک قید میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کے نظریات اور مقاصد مزید واضح ہو گئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہیں شہید کر دیا جائے تو ان کی قربانی کشمیری عوام کے لیے ایک نئی تحریک کو جنم دے گی۔

    11 فروری 1984 کو، بغیر کسی قانونی ضابطے کی تکمیل کے، بھارتی حکومت نے مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی۔ ان کی لاش کو بھی کشمیری عوام کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ جیل کے اندر ہی دفن کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پورے کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔مقبول بٹ کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی روح پھونکی۔ ان کی شہادت کے بعد کشمیر میں مسلح جدوجہد مزید شدت اختیار کر گئی، اور یہ تحریک آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے۔مقبول بٹ کی قربانی نے کشمیر کی جدوجہد کو مزید مضبوط کر دیا۔ آج بھی کشمیری عوام ہر سال 11 فروری کو "یومِ شہادت” کے طور پر مناتے ہیں۔ ان کا فلسفہ سادہ تھا: آزادی کی جدوجہد میں اگر جان بھی دینی پڑے تو یہ ایک معمولی قربانی ہے۔کشمیریوں کے لیے مقبول بٹ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ وہ نظریاتی، فکری اور عملی جدوجہد کی علامت ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی کشمیری نوجوانوں کو متحرک کرتے ہیں اور آزادی کے حصول کی راہ میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔مقبول بٹ کی شہادت کے بعد بھی عالمی برادری نے کشمیر کے مسئلے پر وہ توجہ نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔ بھارت نے ہمیشہ اس معاملے کو "داخلی مسئلہ” قرار دے کر دبانے کی کوشش کی، جبکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں انصاف کے اصولوں پر قائم ہیں یا صرف اپنے مفادات کے تابع ہیں؟ مقبول بٹ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا اور آج بھی ان کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔مقبول بٹ کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ وہ ایک ایسا بیج بو گئے جو آج تناور درخت بن چکا ہے۔ کشمیر کے بچے، بوڑھے، جوان سبھی ان کی جدوجہد کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کا عکس نظر آتا ہے۔

    کیا کشمیری عوام کو وہ حق ملے گا جس کے لیے مقبول بٹ نے جان دی؟ کیا عالمی برادری انصاف کرے گی؟ یہ سوال آج بھی موجود ہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ جب تک کشمیری عوام میں مقبول بٹ جیسے جذبے موجود ہیں، آزادی کی یہ شمع کبھی نہیں بجھے گی۔