Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ انتظامیہ کی بھرپور توجہ معیشت پر ہے اور فسٹ امریکہ پر ہے۔ پاکستان نے نیو ائیر پورٹ گوادر کا افتتاح کردیا ہے۔ اس بڑے منصوبے کی تکمیل میں جمہوری حکومتوں اور پاک فوج جملہ اداروں کا بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان کی معیشت کو لے کر مستقبل میں معاشی مستحکم پاکستان کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ آج اس منصوبے کے مکمل ہونے پر میری بات نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ہوئی جنہوں نے خدا پاک کا شکریہ ادا کیا ۔

    قارئین، پاکستان کو معاشی مستحکم کرنے میں نواز شریف اور اسحاق ڈار جو نواز شریف کے دور حکومتوں میں وزیر خزانہ رہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا مگر سازشوں نے نواز شریف کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی ،ہر بار کوئی نہ کوئی سازش تیار کی گئی، کبھی جلا وطنی ، کبھی اٹک قلعہ ،کبھی اڈیالہ جیل ، کبھی کوٹ لکھپت جیل بند کردیا گیا ۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں ان سازشوں کا حصہ رہیں۔ ملک کے اس عظیم الشان منصوبے سے بہت سے ممالک کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں ۔ نیو ائیر پورٹ کے منصوبے یعنی گوادر پورٹ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک نے خوفناک سازش کی تاہم پاک فوج اور جملہ اداروں نے ان بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے کس کس سازش کا نام لوں۔ اب اس کے فعال ہو جانے سے دبئی پورٹ اور ایران کی بندر گاہ عباس کی پہلے جیسی اہمیت نہیں رہے گی ۔ کاروباری لحاظ سے یہ بہت بڑی منڈی ہے۔ چین کو کم سے کم سمندری اور کم سے کم زمینی فاصلے کی ضرورت تھی ۔ گوادر پورٹ چین کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نہایت اہم روٹ ہے۔ چین نے اس منصوبے میں دل کھول کر سرمایہ کاری کی ہے۔ چین موجودہ دور دور کا اقتصادی سپر پاور ہے ۔ اس سے تجارت اور سیاحت کو فروغ ملے گا ۔ پاکستان کی معیشت کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں کے لئے ایک بہت بڑا مرکز بن جائے گا۔

    گوادر کا یہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ پاکستان کے ایوی ایشن انفراسٹرکچر کو بڑھانے اور گوادر کو علاقائی اور عالمی تجارتی نیٹ ورکس میں مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جنوبی ایشیائی قوم کے لئے ترقی کا ایک نیا باب کھولے گا۔ چین اور پاکستان کے درمیان ٹھوس دوستی کی علامت ہے۔ نیو گوادر ائیر پورٹ جدید ترین ٹیکنالوجی اور تعمیراتی منصوبے سے لیس ہے۔ اگر پاکستان فسٹ پر عمل کرتا رہا تو ایک دن پاکستان بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرلے گا

  • مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گااور حکومتی حلقوں کی سچائیوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ وفاقی و صوبائی وزارت اطلاعات کو خواب خرگوش سے جاگنا ہوگا۔ پی ڈی ایم اور بالخصوص (ن) لیگ کے ترجمانوں کو اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرنی ہوگی۔ گذشتہ کئی سالوں سے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی تحقیقات اور اس میں مبینہ کرپشن کئی سالوں سے اس میں کرپشن کی داستانوں پر فیصلے کا انتظار کرنے والے صاحبان اقتدار خصوصی وفاقی وزیراطلاعات و نشریات اور ان کے مقرر کردہ ترجمان آئے روز ٹی وی مباحثوں میں نوازشریف کے بیانیے کو برتری نہ دلوانے میں اپنی گردنیں جھکائے رکھتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کی ناکامیاں اور کرپشن کو بانی پی ٹی آئی کے سرخرو ہوتے دیکھتے رہتے ہیں۔ القادر یونیورسٹی پر قائم پی ٹی آئی کے بیانیے کوکسی بھی ترجمان کسی بھی حکومتی وزیر نے اس بنیاد پر چیلنج نہ کیا کہ یہ تو سوہاوہ کے نزدیک سنگلاخ چٹانوں پر بے آب زمین پر قائم ہونے والے غیر مکمل عمارت میں موجود ایک یونیورسٹی ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک ڈگری درجے کا کالج ہے جس کی باقاعدہ رجسٹریشن بطور گریجویٹ کالج محکمہ تعلیم کالجز کے ڈائریکٹوریٹ راولپنڈی کے ذریعے ڈی پی آئی کالجز پنجاب کے دفتر میں ہوئی ہے ۔ اور اتنے بڑے نام نہاد پراجیکٹ کے لئے 458 کنال زمین حقیقی مالکان سے کس بھائو خریدی گئی ہے اور بعد میں کس بھائو ٹرسٹ کے نام منتقل ہوئی ۔

    ستم یہ ہے کہ اس کالج کی زمین کے نیچے سنگلاخ چٹانوں میں قابل استعمال زیر زمین پانی بھی میسر نہیں ۔ ادھر وفاقی وزارت خارجہ اور وزارت ہوا بازی نے یورپ میں پی آئی اے کی پروازوں کا دوبارہ آغاز کروایا جو کہ ایک تاریخ ساز کامیابی ہے لیکن وزارت اطلاعات اور پی آئی اے کی پبلسٹی ونگ کی غفلت نے سوشل میڈیا پر حکومتی کامیابی کو جھوٹے اوربے بنیاد بیانیے کے ہاتھوں شکست دلوائی۔ آخر کیوں اور کب تک حکومت اور بالخصوص (ن) لیگ کوا پنی ابلاغیات کی جنگ میں نئی صف بندی کرنی ہوگی ایسے کہنہ مشق اور آزمائے ہوئے مخلص اذہان کو آزمانا ہوگا ۔ جو دلیل مکالمے اور ڈائیلاگ کے کرشمے سے جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ثابت کرنے کا کمال رکھتے ہوں۔ نواز شریف کی قربانیاں اور مریم نواز کی انتھک محنت اورا ن کی مخلص ٹیم کی کارکردگی جھوٹے نعروں کے بیانیے میں دب جائے گی۔

  • معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

    معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
    قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے کان پک گئے،رکھوالے آج بھی مافیازکےزیر اثر
    جھوٹ،نفرت،غیبت،ملاوٹ عام،ملک خاک ترقی کرے گا،جمہوری تماشے بند،محاسبہ ضروری
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،سمجھ سے باہر ہے،امن وامان کو لے کر اسلام آباد راولپنڈی کو کس کی نظر لگی ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی، معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف کسی نے نہ دھرنا دیا نہ لانگ مارچ کیا نہ کسی نے درس دیا، آج اگر معاشرے میں برائیاں سر اُٹھا رہی ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں،معاشرے کو سدھارنے کے لئے کچھ نہیں کیا،بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری ، نیکی ،تقویٰ،دیانت داری ، پاکیزگی کا یہ عالم ہے ملاوٹ شدہ خوراک ، جعلی ادویات فروخت کرنے میں کوئی ندامت نہیں،قتل وغارت ،عریانی ،بے حیائی ایک دوسرے کو کافر قرار دینا، جھوٹ، نفرت ، غیبت ،ملاوٹ کرنے میں ذرا بھر خوف نہیں آتا،ہم سب کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، پورا ملک لینڈ مافیا کے قبضہ مافیا کے یارانے محلات میں رہنے والوں کے ساتھ ہیں، لینڈ اور قبضہ مافیا نے پورے ملک میں قانون کے رکھوالوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے،

    حکومتوں کی تبدیلی ،سیاسی گٹھ جوڑ میں بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکون ملوث ہیں، سیاسی گلیاروں میں پراپرٹی ٹائیکون جب سے داخل ہوئے ہیں،سیاست اورجمہوریت کسی تماشے سے کم نہیں، حکمران ،سیاسی قائدین ،علماء کرام،گدی نشین ، پیر خانے ،اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری ،نفسانفسی سے باہر نکل سکتا ہے،ضروریات زندگی سے زیادہ دولت نے انسانوں کو انسانیت سے دور کردیا ہے، ملک کی سول بیورو کریسی ، سول انتظامیہ ، بیوروکریٹ ، پولیس افسروں سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، وی آئی پی کلچر سے باہر نکل کر سوچیں ، موت کو یاد رکھیں ، قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں اور عمل کریں ، امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے، قانون کی حکمرانی ہے، انصاف ہے،جمہوریت ہے، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے،ہماری سیاست اورجمہوریت سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے،جعل سازی ،جھوٹ اور فریب جیسی سماجی برائیاں ،سماجی اقدار بن رہی ہیں، ملکی سیاست میں بڑھکوں ،دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رحجان بے سبب ہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے خدارا بس کیجئیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دیں

  • چڑیا نہیں …..شیرنی ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    چڑیا نہیں …..شیرنی ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ہم نے پانچویں کلاس سے پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بس سے سکول جانا شروع کیا ۔شروع میں آپا ساتھ ہوتیں کہ ان کا کالج سکول کے ساتھ ہی تھا لیکن ان کا بی اے ختم ہوگیا تو ہم اور ہماری چھوٹی بہن ۔
    بس میں بہت رش ہوتا ، بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی اور ہم عورتوں کے بیچ سینڈوچ بن کر کھڑے ہوتے ۔اچھت پہ لگے ڈنڈے کو تو ہمارا ہاتھ نہ پہنچتا سو ہم کسی نہ کسی سیٹ کو تھام لیتے ۔

    عام طور پہ سواریاں بس جس طرف کو چل رہی ہوتی ، اسی طرف منہ کر کے کھڑی ہوتیں ۔ایک بار ایسا ہی رش تھا اور ہم سیٹ کو تھامے کچھ یوں کھڑے تھے کہ ہمارا منہ دوسری سمت میں تھا ۔ ہمارے بالکل سامنے ایک عورت ، کالے برقعے میں ملبوس ، ایک ہاتھ سے سائیڈ پر لٹکا ہوا بچہ اور دوسرے ہاتھ سے بس کا ڈنڈا تھامے ہوئے ۔

    ہمارا قد اتنا تھا کہ بمشکل عورت کی چھاتی تک پہنچتا تھا۔ ہم اپنے خیالوں میں گم کہ ہم نے عورت کو کسمساتے محسوس کیا ۔ سر اٹھا کر دیکھا تو ایک مردانہ ہاتھ عورت کی چھاتی پہ ۔ عورت بار بار کسمساتی ، ایک لحظے کو ہاتھ پیچھے جاتا ، مگر دوسرے ہی سیکنڈ دوبارہ سے چھاتی پہ مصروف عمل ہو جاتا ۔
    ہم نے عورت کی سائیڈ سے منہ نکال کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی کہ یہ آخر چکر کیا ہے ؟
    عورت کے بالکل پیچھے ایک کریہہ الصورت شخص کھڑا تھا جو یہ کھیل کھیلنے میں مصروف تھا ۔
    سوچئیے گیارہ بارہ برس کی لڑکی نے کیا کیا ہو گا ؟
    ترکیبیں سوچنے میں ماہر تو تھے ہم سو بستے میں سے پرکار نکالی اور تیار ہو گئے ۔
    اب ہاتھ جونہی آگے آیا اور چھاتی پکڑی ، ہم نے پوری قوت سے پرکار کی نوک اس ہاتھ میں گھسا دی ۔ بجلی کی سی تیزی سے ہاتھ واپس گیا اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
    گھر پہنچنے پہ آپا کو اپنا کارنامہ سنایا ، آپا ہنسیں تو سہی مگر کچھ خوفزدہ بھی ہوئیں … اگر وہ مرد تمہیں پکڑ کر مارتا تو ؟
    ایسے ہی … اتنا شور مچاتے کہ دنیا اکھٹی کر لیتے ۔
    یہ واقعہ یوں یاد آیا کہ کل کسی نے کمنٹ لکھا کہ کمپنی ھذا کیا کرسکتی ہے ؟
    سو بہنو اور بھائیو ، تھوڑی سی ہمت ، تھوڑی سی عقل اور تھوڑا سا اعتماد آپ کی بیٹی کو ایساانگارہ بنا سکتا ہے جو دوسروں کو جلا کر راکھ کر دے ۔
    چڑیا نہیں بننے کا …… شیرنی بنو شیرنی !

  • الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    ہر صبح ایک نئی امید لے کر آتی ہے۔ جب سے یہ کائنات معرضِ وجود میں آئی ہے امید بھی تبھی سے وجود میں آئی ہے۔ مومن اپنے رب کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وقت کبھی بھی کسی کے لیے نہیں رکتا وقت کا کام تو بس چلنا ہے اور وہ چلتا ہی رہتا ہے۔ حالات کے تھپیڑے ہوں یا مشکلات کی آندھیاں چلیں، خوشیوں کی بارات ہو یا غموں کی برسات ہو، وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔ کیلنڈر کے صفحات کی طرح ماہ و سال بدلتے رہتے ہیں۔ سال 2024 بچھڑ گیا اور سال 2025 کا کیلنڈر دیواروں کی زینت بن گیا۔ یہ دنیا اور اس کی ہر شے فانی ہے۔ نہ غم ذیادہ دیر کہیں ٹھہر سکتا ہے نہ خوشیاں کہیں مستقل بسیرا کر سکتی ہیں۔ دن رات کا بدلنا، موسموں کا تغیر اس بات کی دلیل ہے کہ گزرا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ پر سکون زندگی کا ایک راز یہ بھی ہے جو گزر گیا اس پر شکر ادا کریں اور جو آنے والا ہے اس کی امید اچھی رکھیں۔

    سال 2024 کو اگر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو بہت کچھ کھویا بہت کچھ پایا۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں میں سے یہ حقیقت ویسے ہی ہے جیسے فلک پر چمکتا چاند اور روشن ستارے کہ دکھوں کا ساتھی رب العزت کے سوا کوئی نہیں ہوتا اور خوشیوں کے ساتھی سبھی ہوتے ہیں۔

    میں قرۃالعین خالد آپ کو اپنے غموں کے قصے نہیں سناؤں گی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے ساتھی رہیں۔ 7 جنوری 2024 کو میری عیشتہ الراضیہ کی پاکٹ سائز کتاب "فرسٹ ایڈ باکس” میرے ہاتھوں میں آئی۔ فروری میں لاہور ایکسپو سینٹر بچوں کے ساتھ کتب میلہ گئی اور وہاں بہت سے نئے افراد سے ملنے کا موقع ملا۔ اللّہ رب العزت نے ایک نیا جہاں میرے لیے آباد کر دیا۔ پیاری عیشہ نے نئے جہاں میں قدم رکھا نیا اسکول نئے دوست بنے۔ بلیک کاسٹل سے کڈز کلب کا سفر اگرچہ عیشہ کے لیے دشوار تھا مگر رب کی رحمت سے یہ سفر بھی آسان ہو گیا۔ کامیابیوں کے لیے نئے جہاں دریافت کرنے کرتے ہیں۔ اپووا خواتین کانفرنس نے مارچ کے مہینے کو ہمیشہ کے لیے میری یادوں میں محفوظ کر دیا۔ مجھے ہمیشہ نئے لوگوں سے ملنا پسند ہے نئی دوستیاں کرنا اچھا لگتا ہے۔ مارچ میں” تسخیرِ کائنات” نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ اے اللہ رب العزت! میری "تسخیرِ کائنات” کو خوب عزت بخشنا۔ آمین!

    اپریل میں سعدین کے لیے منصوبہ بندی کی اور مئی کے آغاز میں رمضان کے بابرکت مہینے میں سعدین کی بنیاد رکھی۔ زندگی نے بڑے تجربات کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پہلی بار پروفیشنل کیمرے کا سامنا کیا اور پروگرام ہوسٹ کرنے کا موقع رب العزت نے عطا کیا۔ اس فانی دنیا میں اپنا گھر اللّہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جون 2024 کو اللّٰہ پاک نے ہمیں اس نعمت سے نوازا جس پر میں رب کا جتنا شکر ادا کروں کو کم ہے۔ کرایے کے اذیت ناک سفر سے اپنے گھر تک کی راحت کوئی اس انسان سے پوچھے جس کے پاس اپنی چھت نہیں۔ اللہ پاک سب کو اپنا گھر نصیب فرمائے اس میں خوشیوں اور سلامتی کے ساتھ رہنا نصیب کرے آمین۔

    اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب 6 جولائی کو اپووا ٹیم میرے گھر میں آئی۔ میرے گھر میں آنے والے پہلے مہمان آپ ہی تھے۔ مجھے چائے بنانی نہیں آتی مگر میں نے بنائی اور سب سے مزے کی بات مدیحہ کنول آج بھی کہتی ہے چائے بہت مزے کی تھی۔ ہائے کوئی میرے چاہنے والوں کو بھی بتائے کہ چائے مزے کی تھی۔ سعدین انسٹیٹیوٹ کے تحت امید سیریز کا آغاز جولائی میں کیا۔ اگست میں نفیس کیڈٹ اکیڈمی میں تربیت اولاد کے حوالے سے سیشن ہوا۔ جس میں میری والدہ اور میری پیاری بہن دوست ماہ پارہ میری معاون رہیں۔ ستمبر تومجھے بہت عزیز ہے میری پیدائش کا مہینہ، اکتوبر میری شادی کا مہینہ، واہ واہ دونوں مہینے ساتھ ساتھ ،نومبر میں اپووا ورکشاپ کی مزے دار کی تیاریاں اور اس سال نیا تجربہ کہ ایک سگمینٹ کو اسپانسر کرنے کا موقع ملا۔ مجھے گفٹ دینا بہت پسند ہے الحمدللہ!

    نومبر میں حور کا اچانک آنا نومبر کو باغ و بہار کر گیا۔ کون کہتا ہے دسمبر اداس ہوتا ہے ہائے میرا تو بہت شور شرابے والا تھا بچوں کی اسکول کی چھٹیاں اور ہر سو ہنگامے ہی ہنگامے دسمبر میں ایک بار پھر اپووا ٹیم سے ملنے کا موقع ملا۔

    عزت اور ذلت اللّٰہ کے اختیار میں ہے پھر بھی پتہ نہیں کچھ لوگ اسے اپنا اختیار کیوں سمجھتے ہیں۔ اس سال میری پیاری بیٹی حورالعین نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اس کا داخلہ کیڈٹ کالج میں ہوا ،میرا ابراہیم بھی اسکول جانے لگ گیا۔ حافظ وقاص صاحب کے پیچھے تراویح پڑھنے ایک الگ احساس کا نام ہے یا اللہ! تیرا شکر ہے۔ اس بار ہم نے بچوں کے ساتھ آخری روزے اور عید اسکردو ہنزہ گلگت بلتستان میں کی وہ ایک الگ کہانی ہے اور عید الاضحی سوات میں کرنے کا الگ ہی مزہ تھا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی اللہ نے چلائے رکھا اس سال میں نے اپنی سوئی ہوئی کیلی گرافی کو پھر سے زندہ کیا۔ ناول لکھنے کی طرف توجہ کی کئی ایوارڈ عزت حاصل کی۔ میری سرجری ہوئی اور کچھ رشتوں پر سے پردہ اٹھا۔ ارے میں تو بتانا بھول گئی ایک اہم بات سوچا جاتے جاتے بتا دوں اس سال لوگوں کے دھوکے پیسوں کے فراڈ جھوٹ فریب حسد کینہ بغض بھی دیکھے لیکن ان جیسے لوگوں کو یہ بتا دوں مجھے آپ کی ان حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا جنہوں نے پیسوں یا جذبات کا فراڈ کیا ہے وہ ہی غریب رہیں گے ان شاءاللہ! میرے پاس تو پھر بھی سب کچھ ہے۔ جنہوں نے محبتوں اور عزت سے نوازا اللہ پاک ان کی عزتوں میں اضافہ فرمائے جنہوں نے دھوکے دئیے ان کا بہت شکریہ وہ نہ ہوتے تو مجھے سیکھنے کا موقع نہ ملتا.

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

  • باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    آج، باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا دن ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں گزشتہ دو برسوں سے باغی ٹی وی کی ٹیم کا حصہ ہوں۔ یہ میرے لئے نہ صرف ایک پروفیشنل کامیابی ہے بلکہ ایک ذاتی سفر بھی ہے جس نے میری زندگی اور کیریئر کو نئی سمت دی۔

    جب میں پہلی بار باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو دینے گئی، تو میرے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ میں بے حد پرجوش اور نروس تھی، لیکن سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات نے میرے تمام خوف کو دور کیا۔ ان کا پرسکون اور پروفیشنل انداز، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جو مختصر انٹرویو لیا، وہ ایک یادگار لمحہ تھا۔ چند منٹ بعد ہی ایڈیٹر باغی ٹی وی، سرممتاز اعوان کی جانب سے خوشخبری آئی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے۔ یہ لمحہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا، کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح ایک معروف اور کامیاب ادارے کا حصہ بنوں گی۔

    میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ مجھے باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ میری ذمہ داری میں فیس بک پیجز، ٹویٹر، انسٹاگرام، اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ شامل تھی، جسے میں انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ انجام دے رہی ہوں۔ابتدا میں میرے کام کو دیکھنے کے بعد میری ذمہ داری بڑھا دی گئی، سوشل میڈیا کے لئے پوسٹر بنانا بھی میرے ذمے لگ گیا، میں اب شیئرنگ کے ساتھ ساتھ پوسٹرز بھی بناتی ہوں، اس کام کے دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، خاص طور پر سر عبداللہ، جو کہ سوشل میڈیا کے ہیڈ ہیں، ان کی رہنمائی سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کی مشورے اور ہدایات نے میری کارکردگی کو بہتر بنایا اور مجھے سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت دلائی۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تو میں پہلے بھی تھی، لیکن باغی ٹی وی میں آنے کے بعد میں نے اس شعبے میں نہ صرف مہارت حاصل کی بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی کیا۔ دن ہو یا رات، کوئی بھی وقت ہو، باغی ٹی وی کی ٹیم ہمیشہ متحرک رہتی ہے۔ یہاں کی ٹیم کی محنت اور لگن بے مثال ہے، اور یہ بات میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں۔ جب بھی کوئی اضافی کام آتا ہے یا کوئی چیلنج ہوتا ہے، میں اپنے وقت سے زیادہ کام اور وہ بھی مکمل ایمانداری سے کرتی ہوں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں

    سر مبشر لقمان کے وی لاگ کا میں پہلے بھی شوق سے مطالعہ کرتی تھی اور ان کے سوشل میڈیا پر کمنٹس بھی کرتی رہتی تھی۔ جب ان کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ میرے لئے ایک فخر کا لمحہ تھا۔ ان کا طرزِ عمل، ان کی قیادت، اور ان کے نظریات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا ایک خواب کی حقیقت بن گیا، اور میں ہمیشہ ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتی ہوں۔

    آج، جب باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، تو میں سر مبشر لقمان سمیت تمام ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کو مزید کامیابیاں حاصل ہوں اور یہ ادارہ اپنے مشن اور مقصد کی تکمیل میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے، اور میں امید کرتی ہوں کہ میں ہمیشہ اسی طرح باغی ٹی وی کے ساتھ اپنے تجربات کو مزید بہتر بناتی رہوں گی۔ باغی ٹی وی کے 13 سال پورے ہونے پر ایک نیا عزم اور جذبہ محسوس ہوتا ہے، اور میں دعا گو ہوں کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں اور وژن کے مطابق کامیابی کی بلندیوں تک پہنچے۔

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    noor

  • باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جو پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو چکی ہے۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک خبر رساں ادارہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں مثبت صحافت، سچائی کی آواز، اور وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز اس کی معیاری اور سچ پر مبنی خبریں، تجزیے اور تجزیاتی پروگرامز میں پوشیدہ ہے، جو عوام کے درمیان اعتماد اور سچائی کے لئے ایک معتبر ذریعہ بنے ہیں۔باغی ٹی وی کا آغاز پاکستان میں ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس چینل نے نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ باغی ٹی وی کی خبریں ہمیشہ سچ پر مبنی اور غیر متنازعہ ہوتی ہیں، جس سے عوام میں ایک مثبت اور حقیقت پر مبنی آگاہی پیدا ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان نے اپنی محنت اور قابلیت سے اس چینل کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ ان کی قیادت میں، باغی ٹی وی نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ مبشر لقمان کے صحافتی تجربے اور عزم نے اس ادارے کو پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک معتبر مقام دلایا ہے۔باغی ٹی وی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچائی کی آواز بن کر اُبھرا ہے۔ اس نے کبھی بھی کسی غیر اخلاقی یا جھوٹی خبر کی نشر کی اجازت نہیں دی، بلکہ ہر خبر کے پیچھے سچائی اور تحقیق کا سہارا لیا ہے۔ اس کے علاوہ، باغی ٹی وی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جب بھی پاکستان دشمن عناصر نے ملک کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور وطن عزیز کی سالمیت کا دفاع کیا۔

    باغی ٹی وی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ علاقائی مسائل کو بھی اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں نمائندے ہیں جو مقامی مسائل کو عالمی سطح پر پیش کرتے ہیں۔ یہ چینل نہ صرف بڑے شہروں کی خبریں دکھاتا ہے بلکہ دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کرتا ہے، تاکہ ان مسائل پر توجہ دی جا سکے۔باغی ٹی وی کو ایک سپاہی کا کردار ادا کرنے والا ادارہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے ہر نمائندے نے وطن عزیز کی حرمت کے لئے اپنے قلم کو ہتھیار بنایا ہوا ہے۔ یہ چینل ملکی دفاعی امور، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے بھی آواز اُٹھاتا رہتا ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر، ہم سب کو اس کی کامیابیوں اور اس کے صحافتی اصولوں کو سراہتے ہیں، سینئر صحافی اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان نے باغی ٹی وی پر ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور ملکی مفادات کو اولین ترجیح دی ہے، اور ان کے اس عزم نے اسے پاکستان میں ایک مضبوط صحافتی ادارہ بنا دیا ۔ آئندہ بھی یہ چینل اپنی اس روش پر گامزن رہے گا، اور پاکستان کی خدمت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    malik arshad

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • صحافت کے سرخیل کو 62 ویں اور باغی ٹی وی کو 13 ویں سالگرہ مبارک،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    صحافت کے سرخیل کو 62 ویں اور باغی ٹی وی کو 13 ویں سالگرہ مبارک،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    صحافت کے سرخیل کو 62 ویں اور باغی ٹی وی کو 13 ویں سالگرہ مبارک ہو
    صحافت کے سرخیل مبشر لقمان کی آج 11 جنوری کو 62 ویں سالگرہ ہے، وہ جرات مند، بیباک اور حق گو صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا وژن باغی ٹی وی کی صورت میں ایک شاندار حقیقت بن چکا ہے، جو کل 12 جنوری کو اپنی 13ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مبشر لقمان اور باغی ٹی وی سچائی کی علامت ہیں۔مبشر لقمان پاکستانی صحافت کا وہ چمکدار ستارہ ہیں جنہوں نے اپنی بے باک صحافت، جرات مندانہ تبصروں اور حق گوئی سے ہمیشہ سچائی کا علم بلند رکھا۔ ان کا نام دیانت داری اور غیر متزلزل اصولوں کی علامت بن چکا ہے۔

    باغی ٹی وی، جو مبشر لقمان کے وژن کا عکاس ہے، نہ صرف خبروں کی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے بلکہ سچائی کی آواز بن کر عوامی مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ مبشر لقمان اور باغی ٹی وی ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں، جنہوں نے صحافت کے نئے معیار قائم کیے ہیں اور عوام کا اعتماد جیتا ہے۔مبشر لقمان پاکستان کے ان چند صحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بے باکی، دیانت داری اور حقیقت پسندی کو اپنا شعار بنایا۔ 11 جنوری 1963 کو لاہور میں پیدا ہونے والے مبشر لقمان نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور ہی سے حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور اپنی ذہانت، حاضر دماغی اور بے مثال تجزیاتی صلاحیتوں کی بدولت جلد ہی نمایاں حیثیت حاصل کر لی۔

    مبشر لقمان کی صحافتی خدمات
    مبشر لقمان نے اپنے کیریئر کا آغاز چینل "بزنس پلس” سے کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے معاشی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی آواز کو بلند کیا۔ ان کے شاندار تجزیات اور بے لاگ تبصرے انہیں جلد ہی عوام میں مقبول بنا گئے۔ پروگرام کھرا سچ میں انہوں نے ہمیشہ حقائق کو سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ان کا سب سے مشہور پروگرام "کھرا سچ” ہے، جو اب ان دنوں 365 نیوز پر پیر سے جمعہ شام آٹھ بجے نشر ہوتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے نہ صرف سیاستدانوں کی کرپشن کو بے نقاب کیا بلکہ عوام کو ان مسائل سے آگاہ کیا جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ان کا نعرہ ہمیشہ یہ رہا کہ سچ بولنا اور سچ کے ساتھ کھڑے رہنا ہی صحافت کی اصل روح ہے۔

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ
    مبشر لقمان نے صرف روایتی میڈیا تک محدود رہنے کے بجائے ڈیجیٹل میڈیا میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے "باغی ٹی وی” کے قیام کے ذریعے پاکستانی میڈیا کو ایک نئی سمت دی۔ باغی ٹی وی آج اردو، انگریزی، چینی، پشتو اور دری سمیت کئی زبانوں میں عوام تک خبریں پہنچا رہا ہے۔باغی ٹی وی کا بنیادی مقصد سچائی اور حقائق کو عوام تک پہنچانا ہے، چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں۔ یہ میڈیا ہاؤس پاکستان کا سب سے بڑا ڈیجیٹل نیٹ ورک بن چکا ہے، جو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے۔

    ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں کامیابی
    مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشل” پاکستان کے مقبول ترین چینلز میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے بے خوف تبصرے اور جرات مندانہ تجزیے انہیں ایک منفرد حیثیت عطا کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ سچ کی حمایت کرتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کے دباؤ کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    کھیل اور دیگر خدمات
    مبشر لقمان صرف ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک شاندار منتظم اور کھیلوں کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان برج فیڈریشن کے صدر ہیں اور ایشیا و مڈل ایسٹ برج فیڈریشن کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں سے لاہور میں بین الاقوامی برج مقابلے منعقد ہوئے، جس میں بھارت سمیت کئی ممالک نے شرکت کی۔ یہ نہ صرف ان کی بلکہ پاکستان کی بھی ایک بڑی کامیابی تھی۔

    سالگرہ کا موقع: ایک تجدید عہد
    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کی صحافت کو نہ صرف ایک نئی پہچان دی بلکہ نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مشعل راہ بھی بنے۔ ان کی بے باکی، سچائی اور دیانت داری ہر اس شخص کے لیے مثال ہے جو صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک خدمت سمجھتا ہے۔

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ بھی مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے کی کامیابیوں کا جشن ہے۔ یہ پلیٹ فارم ان تمام لوگوں کی آواز بنا ہے جن کی باتیں کہیں اور نہیں سنی جاتیں۔ باغی ٹی وی کی ترقی دراصل مبشر لقمان کے عزم، جرات اور غیر متزلزل قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مبشر لقمان اور باغی ٹی وی دونوں نے پاکستان کی صحافت میں اپنا ایک الگ مقام بنایا ہے۔ مبشر لقمان کی زندگی اور خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر آپ میں سچائی کی طاقت اور دیانت داری کا جذبہ ہو تو کوئی بھی رکاوٹ آپ کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ ان کی سالگرہ کے اس موقع پر ہم دعاگو ہیں کہ وہ اسی طرح حق اور سچ کے علمبردار رہیں اور باغی ٹی وی مزید کامیابیاں حاصل کرے۔

  • اڑان پاکستان،  عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اڑان پاکستان، عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اڑان پاکستان ایک اچھا نعرہ ہے ۔ لیکن یاد رکھیئے جب تک عمل نہیں ہوگا اُ س وقت تک کوششیں رنگ نہیں لائیں گی میری عمر کے لوگوں نے اس طرح کے نعرے بہت سنے ،صدق دل سے اس نعرے پر عمل کیا جائے امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اورعمل ہے ۔ پیچیدہ بحرانوں کے بوجھ تلے دبی قوم اور پاکستان کے لئے اُمید سے بھرا نعرہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے توا س نعرے پر عمل شروع کردیاہے۔ باقی صوبے بھی عملی اقدامات کریں ۔ صوبہ سندھ ،سندھ کے دیہی علاقوں میں تعلیم پر توجہ دیں۔ ہم جس عہد کے مسافر ہیں اس عہد میں پُرفتن حالات سوچنے کا تقاضا کرتے ہیں خلق خدا کو اس طوفان بلاخیز سے بچانا ان کی رہنمائی کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ پنجاب میں نوجوان بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے حوالے سے جو کچھ پنجاب کی وزیراعلٰی کر رہی ہیں، وہ قابل تحسین ہے۔ علم کی برکت سے زندگی کے راستے تبدیل ہوتے اور اسلوب زندگی میں عالمگیر انقلاب پیدا ہوتاہ ے۔

    پاکستان جس طرح ایک سُپر اوراسلامی دنیا کا واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے کا ش ہمارے پاس طاقت اور سیاسی لیڈر شپ بھی ہوتی ۔ بدقسمتی سے بھٹو ، بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف ہی سیاسی گلیاروں میں سُپر پاور تھے۔ نواز شریف نے دفاعی لحاظ اور معیشت مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ ملک کی سیاسی جماعتوں نے ہی سازش کی اور نواز شریف کو ایک سازش یعنی نام نہاد پانامہ کیس بنا کر چوراور ڈاکو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی مشرف دور میں طیارہ اغواء اور نہ جانے کیسے کیسے کیسوں میں اُلجھا دیا گیا ۔ آج جو جماعتیں قانون آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کی باتیں کرتی ہیں یہ ان سازشوں کا باقاعدہ حصہ رہیں۔ نام نہاد ڈان لیکس کا کھیل کھیلا گیا اور سینیٹر پرویز شید جیسے بے ضرر انسان کو نشانہ بنا دیا گیا۔ پرویز رشید سیاسی گلیاروں میں سادگی کی عملی مثال ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں بہت ہی کم ایسے لوگ رہ گئے جن کی مثال د ی جا سکتی ہے۔ آج بھی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات اور سیاسی مستقبل کے ایک دوسرے کے خلاف سازش میں مبتلا ہیں ۔

    کے پی کے تحریک انصاف کے پاس ہے ، صوبہ سندھ پیپلزپارٹی اور پنجاب (ن) لیگ ۔ پیپلزپارٹی نے آئینی عہدے اپنے پاس کھے ہوئے ہیں مگر وہ صوبہ پنجاب پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ پنجاب کے کچھ ڈویژن میں اختیارات مانگ کر کیا وہ ملک وقوم کی کونسی خدمات سرانجام دینا چاہتی ہے ؟ پنجاب میں (ن) لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پی پی پی پنجاب میں(ن) لیگ کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

  • بے باک صحافت  کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    پاکستانی صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی محنت اور عزم سے کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ان کی جرات مندانہ اور بے باک اندازِ صحافت نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام دے دیا۔ ان شخصیات میں سے ایک اہم نام مبشر لقمان کا ہے، جنہوں نے ہمیشہ سچ کی پرچار کی ہے اور کبھی بھی کسی خوف یا دباؤ کے آگے نہ جھکے ہیں نہ بکے ہیں۔ ان کا مشہور پروگرام "کھرا سچ” صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے جس میں وہ سچ کو بے لاگ اور بے دھڑک طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو سچ سے آگاہ کرنا اور ان کے ذہنوں میں موجود مفروضات کو توڑنا ہے۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر ہمیشہ ایک چیلنج کی طرح رہا ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا میں جہاں اکثر ادارے اور صحافی مختلف دباؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں مبشر لقمان نے کبھی کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا غماز ہے کہ صحافت میں اگر سچ بولنے کا عزم ہو تو آپ تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سچ کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔مبشر لقمان کا یہ جرات مندانہ رویہ نہ صرف پاکستانی میڈیا میں بلکہ جونیئر صحافیوں کے لئے ایک اہم سبق بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سچ کے علمبردار بنے رہے ہیں اور سچ کو بیان کرنے میں کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کا یہ بے خوف طرزِ صحافت پاکستان کے نوجوان صحافیوں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے میں ہمیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    پاکستان میں سچ بولنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے آپ کو نہ صرف جرات کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ آپ کو مختلف دباؤ، تنقید، گالیاں اور کبھی کبھار مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مبشر لقمان جیسے صحافی ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، خواہ اس کے لئے انہیں ذاتی یا پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    ہم جیسے لکھاری اور صحافی ہمیشہ مبشر لقمان کے تجزیوں اور رپورٹنگ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کا دبنگ انداز، عزم اور جرات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جس میں سچائی کا پرچار کرنا سب سے اہم ہے۔”کھرا سچ” ایک ایسا پروگرام ہے جس میں مبشر لقمان نہ صرف معاشرتی اور سیاسی معاملات پر گہرے تجزیے پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ان مسائل کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ پروگرام پاکستانی عوام کے لئے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے حالات سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ انہیں ملک کے اہم مسائل کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔یہ پروگرام پاکستانی میڈیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مبشر لقمان کسی بھی جانب داری یا مفادات کے بغیر صرف اور صرف سچ بولتے ہیں۔ اس میں حقیقت کو کھلے دل سے بیان کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔

    آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منا ئی جا رہی ہے، تو ہم ان کے شجاعانہ اور سچے رویے کو سراہتے ہیں، ان کی بے باک صحافت نے نہ صرف میڈیا کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بہت سے نوجوان صحافیوں کو یہ سکھایا ہے کہ سچ بولنے کا عزم کیا ہوتا ہے۔ ان کی سالگرہ پر ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کی مزید بلندی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند، کامیاب اور خوشحال زندگی دے اور ان کی جرات مندانہ صحافتی کاوشوں کو ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔آمین

    تحریر: محمدمزمل اقبال

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں