نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان میں سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر سے ملاقات میں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مثبت روابط جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ قارئین نئی ٹرمپ انتظامیہ کو لے کر پاکستان کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کیا ہے ۔ یاد رکھئے امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ہو یا ماضی کی انتظامیہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں کانگریس، سینیٹ ، سی آئی اے انسانی حقوق کا پرچار کرنے والوں کے ساتھ پینٹا گان موجود ہے امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پینٹا گان کی پالیسی سب پر حاوی ہوتی ہے۔ امریکہ ملک میں سیاسی جماعتوں کو لے کر آگاہ ہے ملک کی جو سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے پاک فوج اور جملہ اداروں پر تنقید کرتی ہیں وہ اقتدار میں ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اس کی حمایت کرتے ہیں ملک کی سیاسی جماعتوں میں بدلتے اتحادوں، انحراف آپس کی لڑائی اور اقربا پروری سے امریکہ سمیت مغربی ممالک آگاہ ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے امریکہ پاک فوج کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو اسلامی ممالک اور خطے کا اہم ملک سمجھتا ہے پاکستان ایک جوہری طاقت ہے ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان خطے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا امریکہ پاکستان تعلقات پاکستان کی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ بہت سے امریکی ٹیکنو کریٹس فوجی اور امریکی سفارتکاروں کی نظر میں پاکستان نے بالخصوص پاک فوج اور جملہ اداروں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا اور پاکستان آج بھی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے امریکہ اور مغربی ممالک ماضی میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان کے بعض سیاسی رہنما بعض اوقات امریکہ مخالف جذبات کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یاد رکھیئے امریکہ اور چین دونوں مستحکم پاکستان کے خواہاں ہیں اور نہ ہی دونوں پاکستان کے اندرونی معاملات میں زیادہ الجھنا چاہتے ہیں۔ امریکی ساق صدور سے لے کر بائیڈن انتظامیہ اور اب ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی فرسٹ امریکہ ہی رہی ہے پاکستان کو بھی فرسٹ پاکستان پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ چلنا ہوگا۔ امریکہ کسی فرد واحد سیاستدان کے لئے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔ موجودہ وزیر خارجہ کو نئی ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے رابطے تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔
Author: باغی بلاگز
-

تبصرہ کتب، ننھے مقرر
نام کتاب : ننھے مقرر
مصنف : حافظ صداقت اکرام
صفحات : 217
قیمت : 1100روپے
ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل
برائے رابطہ : 04237324034
بچوں کیلئے تربیتی ، تعمیری اور اصلاحی کتب پیش کرنا دارالسلام انٹرنیشنل کا طرہ امتیاز ہے ۔ بلکہ دارالسلام بچوں کیلئے کتب شائع کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ ننھے مقرر ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے یہ کتاب فن تقریر کے موضوع پر سکول اور مدارس کے مڈل لیول کے بچوں کے لیے ایک شاہکار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف حافظ صداقت اکرام ہیں جو خود بھی زمانہ طالب علمی میں اعلیٰ پائے مقرر رہ چکے ہیں اور کئی ایک انعامات بھی حاصل کرچکے ہیں ۔فن تقریر کے موضوع پر ان کی ایک اور کتاب ’’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘ قارئین سے داد ِ تحسین پاچکی ہے جبکہ ایک کتاب ’’ متاع ِ سخن ‘‘ زیر تصنیف ہے ۔ یوں تو اس وقت فن تقریر کے موضوع پر بازار میں بیشمار کتب دستیاب ہیں تاہم یہ کتاب کئی ایک اعتبار سے دیگر تمام کتب سے منفرد اور ممتاز ہے ۔مثلاََ ہر تقریر قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے ۔ تمام عربی عبارتوں کے حوالہ جات دیے گئے ہیں ۔ موضوع کی مناسب سے ہر تقریر میں خوبصورت اور برمحل اشعار شامل کیے گئے ہیں ۔ بچوں کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ کا چنائو کیا گیا ہے ۔جملے طویل نہیں بلکہ مختصر ہیں تاکہ یاد کرنے اور ادا کرنے میں آسانی ہو ۔یہ کتاب ایک سو تقریروں کا مہکتا ہوا گلدستہ ہے جن میں سے چند ایک موضوعات درج ذیل ہیں :اللہ ہمارا رب ہے ، محمد ﷺ ہمارے رہبر ہیں ، قرآن ہمارا دستور ہے ، اسلام ہمارا دین ہے ، نماز کی اہمیت ، روزہ عظیم عبادت ہے ، حج کی فضیلت ، ہم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہوکر ، حسن اخلاق کی فضیلت ، زبان کی حفاظت ، ہمیشہ سچ بولو ، خاموشی میں نجات ہے ، غرور وتکبر کی مذمت ، حیا انسانیت کا زیور ہے ، کتاب سے دوستی ، تندرستی ہزار نعمت ہے ، نیا سال نیا عزم ، یوم مزدور ، یوم یکجہتی کشمیر ، یوم دفاع پاکستان ، قائد اعظم ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز شخصیت ، علامہ اقبال ۔۔۔ایک فرد ِ عظیم ، محنت کی عظمت ، نظم وضبط کی اہمیت ، استاد کی عظمت ، بڑوں کی تکریم وتوقیر ، ہمسائے کے حقوق ، دھوکے بازی قابل مذمت فعل ، بخل معاشرتی برائی ، باہمی تعاون کی اہمیت ، حسد ایک مہلک مرض ، کفایت شعاری ، اتفاق میں برکت ہے ، مہمان نوازی اسلامی شعار ، حقیقی کامیابی ، اخوت کی اہمیت ۔اسی طرح دیگر موضوعات بھی بہت ہی مفید ہیں ۔بہترین موضوعات کی وجہ سے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب محض تقریر پر رہنمائی فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے پڑھنے والا جہاں ایک اچھا مقرر بنے گا وہاں وہ ایک باعمل مسلمان اور اچھا شہری بھی بنے گا ۔
اس کے لیے ایک ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کو جلا بخشے اور اچھا مقرر بننے میں ان کی معاون ہو۔ جس میں عقائد، اخلاقیات، معاملات اور حسن معاشرت جیسے عنوانات دلائل کے ساتھ عمدگی سے بیان کیے گئے ہوں۔ ننھے مقرر طلبہ کی اسی اہم ضرورت کی تکمیل ہے۔ یہ کتاب جہاں طلبہ کے ذوق تقریر کی آبیاری کرے گی، وہیں فن تقریر کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی
مہنگائی اور غربت میں کمی کے حکومتی دعوے جھوٹے ہیں،سبیل اکرام
بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،بیرسٹر گوہر
-

اقتدار کی لالچ سے باہر نکل کر حقیقی ترقی کی راہ اپنانا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی
ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا رُخ اپنے ذاتی مفاد ،اقربا پروری سے ہٹا کر عوام کی طرف موڑنا ہوگا ۔کرپشن سے پاک ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے ۔ عوام کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جعلی نمود ونمائش سے باہر نکل کر خلق خدا کی خدمت کرنا ہوگی۔ عوام اورریاست کو درپیش مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ ملکی سیاستدانوں کو خود کی خدمت کرنے والا غیر مہذب ناقابل اعتماد مذاق سے باہر نکلنا ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کو سیاست اور جمہوریت کے مستقبل پر غور کرنا چاہیئے۔ صف اول کی سیاسی قیادت کو ضلعی اور تحصیل سطح کے ارکان اسمبلی کو لینڈ مافیا ، منشیات اسمگلروں ،غنڈوں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی سے روکنا ہوگا۔ اس کے اثرات سیاسی جماعتوں پر پڑتے ہیں اور صف اول کی سیاسی قیادت اس کا خمیازہ داخلی اور خارجی سطح پر ماضی میں بھگت چکی ہے اور بھگت رہی ہے اور بھگت رہی ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت اب ایسے سیاستدانوں ایسی قیادت کی خواہاں ہے جو حقیقت پسند ، بامعنی ، اُمید مند اور بااختیار ہو جو سیاسی قیادت خود کو اپنے شہریوں کے اعتماد کا اہل ثابت کرے گی اُسی پر اعتماد کریں گے۔ ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لئے مختلف رکاوٹوں کو بہانا بنا کر اب قوم کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا ۔ معاشی مشکلات سے ملک وقوم کو نکالنے کے اقدامات کرنا ہونگے۔
قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی
عالمی دنیا میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ دبئی اور سنگاپور کی مثالیں موجود ہیں۔صدق د ل سے سیاستدانوں ،بیورو کریسی ، بیورو کریٹ ،سول انتظامیہ قومی سلامتی کے ادارے مل کر اس ملک وقوم کے روشن مستقبل کی طرف توجہ دیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے ۔ہم عمل سے کوسوں دور ہیں۔کیا ایک اسلامی مملکت کو زیب دیتا ہے کہ وہ نجومیوں اور جادو ٹونے والوں سے پوچھتی پھرے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے ۔ کیا میں اس ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہوں۔
میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی
غور کیجئے کیا ہم اسلامی مملکت کے دعویدار ہیں؟قرآن وحدیث کو چھوڑ کر ہم سامری جادوگر کے پیرو کار بنتے جا رہے ہیں۔ جادوگروں اور نجومیوں کے جھرمٹ میں رہنے والوں پر فوری طور پر امریکہ اور مغربی ممالک نے اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے۔ روس یو کرین کی جنگ میں بھارت کی دوغلی پالیسی امریکہ اور مغربی ممالک پر عیاں ہو چکی ہے ۔ روس پر پابندیوں کے باوجود بھارت مودی حکومت تیل اور برکس رکن ممالک میں شمولیت امریکہ مغربی ممالک کی نظر میں ہیں۔ ٹرمپ برکس ممالک کو صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کی امریکہ فسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے
مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب بدلنے لگا، تجزیہ : شہزاد قریشی
بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی
معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی
-

معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی
2024 غزہ کو لے کر دیگر اسلامی ممالک کے لئے ایک خوفناک سال رہاہے۔ پاکستان کو ان ممالک کے حالات کو مد نظر رکھ کر بالخصوص پاک فوج اور جملہ اداروں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ممالک کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ان ممالک میں وہ آوازیں بند ہو چکی ہیں یا کر دی گئی ہیں جن کی وجہ سے یہ ممالک محفوظ تھے، کسی زمانے میں عراق میں صدام حسین کی گرج تھی تو لیبیا میں کرنل قذافی کی للکار ،ایران میں آیت اللہ خمینی کا وقار تھا۔ سعودی عرب میں شاہ فیصل ایک فراخدل انسان تھے۔ فلسطین میں یاسرعرفات ۔آج اسلامی ممالک کے حالات اقوام عالم کے سامنے ہیں۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں جو عالمی قوتوں کو دھمکی کا جواب دے سکیں۔ نواز شریف کی جگہ اُن کے بھائی نے لے لی ہے ۔ اسی طرح دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں میں وہ شخصیات ہیں جن کی آواز میں وہ طاقت نہیں جو عالمی قوتیں دب جائیں۔
موجود خطرناک حالات میں عسکری قیادت کو ملکی سلامتی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات خود ہی کرنا ہوں گے۔ اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی دبائو سے بچا کر رکھنا سیاسی جماعتوں کے بس کی بات نہیں۔ ملک کی موجودہ سیاست کی تصویر دنیا میں کہیں نہیں ،یہ کیسے سیاستدان ہیں ایک دوسرے کو غدار اور عالمی قوتوں کے ایجنٹ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ بلاول بھٹو نےنواز شریف کو مودی کا یار ،آج کل عمران خان کو اسرائیل کا یار کہا ۔ دنیا میں کہیں سیاسی گلیاروں میں ہوتا ہے ؟ مذہبی جماعتیں مدارس کو لے کر آمنے سامنے ہیں۔
افغان حکومت بہت ہی احسان فراموش ثابت ہوئی ہے ۔ پاکستان کو نیکی کاصلہ بھائی چارگی سے نہیں دیا۔ ایک طرف بین الاقوامی دبائو دوسری طرف افغانستان ۔ان حالات میں ان سیاستدانوں کا ملک وقوم کی حالت پر آنکھ سے آنسو ٹپکا ہو۔ تاہم اپنے ہی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنے کا کوئی سلیقہ ان سے سیکھے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کوبقا اور شخصیات کو فنا ہے قوم کے نوجوانوں کو گمراہ کرنا ان کی سیاست رہ گئی ہے ۔ کمال کی سیاست اور لاجواب لیڈر شپ پاکستان میں موجود ہے۔یاد رکھیئے اس طرح کی پاکستان پر عالمی پابندیاں ماضی میں بھی لگیں ۔ ان پابندیوں کا سیاسی طور پر ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو،نواز شریف نے مقابلہ کیا تھا آج کے دور میں معذرت کے ساتھ پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ہو چکا ہے
-

مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟تجزیہ:شہزاد قریشی
پاکستان سیاستدانوں نے بنایا تھا ماضی کے وہ سیاستدان اپنی ذات کی نہیں قوم کے لئے سیاست کرتے تھے ۔موجودہ سیاست پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ پچیس کروڑ عوام یعنی خلق خدا ایک نیا تماشا دیکھ رہی ہے، ایک بار پھر مذاکرات ہو رہے ہیں ایک مذاکراتی ٹیم اپوزیشن سے مذاکرات کر رہی ہے، دوسری مذاکراتی ٹیم پنجاب میں اختیارات ، پروٹوکول ، وزارت مانگ رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات سیاسی جماعتیں اس کو جمہوریت کا حسن قرار دیتی ہیں مگر یہ کیسا حسن ہے جس حسن کے فائدے ان سیاسی جماعتوں کو ہی ہوتے ہیں۔ ریاست اور خلق خدا کوسوں دور ہوتی ہے۔ دومذاکراتی ٹیموں میں ایک مذاکراتی ٹیم مریم نواز پر سیاسی خودکش حملہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے بطور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں دوبارہ اضافہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی صف او ل کی قیادت کو کب ہوش آئے گا مسلم لیگ (ن) سیاسی دفتروں سے اٹھنے والی محلاتی سازشوں کا شکار کیوں بن جاتی ہے؟ مریم نواز بطور وزیراعلیٰ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے پنجاب کی خلق خدا کے لئے ترقیاتی کاموں کاایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے حکومت پنجاب کی بھرپور توجہ عوامی فلاح پر مرکوز ہے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں اختیارات کے بجائے صوبہ سندھ پر توجہ دینی چاہئے۔
ویسے بھی ملک دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کے لئے عملاً جنگ کر رہا ہے داخلی محاذ پر سیاسی گرداب، ٹکرائو، محاذ آرائی اور الجھائو کی سیاست کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک میں دہشت گردی کے حملوں اور پاک فوج کے جوانوں کی شہادتیں دیکھ کر زندہ بچ جانے والے پاک فوج کے جوانوں کو جو قابل فخر ہیں خدا ان مجاہدوں کو سلامت رکھے یہی وہ مجاہد ہیں جو ملک و قوم کے محافظ ہیں ملک و قوم کی عزت اور فخر ہیں خدا پاکستان کو ٹویٹی سیاست سے محفوظ رکھے ملک کی سیاست کے معیار بدل گئے۔ سیاست کے آداب بدل گئے ملک کی سیاست ایسے لوگوں کے پاس چلی گئی سیاست کیا سے کیا ہو گئی سیاستدانوں کی سیاست کو دیکھ کر ملک میں جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے
-

ٹرمپ،مشرق وسطیٰ، روس،یوکرین جنگ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی
سال 2025 جنوری وائٹ ہائوس کا نیا مکین ٹرمپ وائٹ ہائوس میں واپسی ، مشرق وسطیٰ روس یو کرین اور نیٹو کو لے کر قیاس آرائیاں عروج پر ہیں ۔ نئے امریکی صدر کیا کریں اور کیا نہیں کریں گے ،بحث جاری ہے۔ دنیا کے لئے ان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ وائٹ ہائوس میں وہ پہلی بار نہیں بلکہ دوسری بار داخل ہو رہے ہیں۔ روس یو کرین جنگ کولے کر عالمی تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو روس کے لئے ہمدردی کا رویہ سمجھا جاتا ہے ۔ مسئلہ امریکہ کے امیج کا ہے ۔ یوکرین کی جنگ کا نتیجہ روس کو مضبوط بناتا ہے اور یو کرین کو کمزور کرتا ہے۔ امریکہ اپنے امیج کا خیال رکھتے ہوئے تاریخ نہیں دہرائے گا۔مثال کے طورپر افغانستان سے سبکدوش ہونے والی امریکی انتظامیہ کے تباہ کن انخلاء کے برابر ہوگا۔ تاہم ٹرمپ کی نئی انتظامیہ میں تقرریاں یوکرین کے لئے اچھی علامت ہے ۔ قومی سلامتی کے مشیر والٹنر اور وزیر خارجہ کے نامزد کردہ مارکو روبیو دونوں نے ماضی میں یو کرین کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ادھر اگلے سال نیٹو کا سربراہی اجلاس ایک اہم موڑ ہو گا۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق2024 ء میں یو کرین کی فطری حمایت نے روس کو اپنے وسیع مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا ہے تاہم آنے والا سال تمام فریقین کے سفارتی فوجی اور سیاسی عزم کا امتحان لے گا۔ جس سے عالمی سلامتی کا توازن برقرار رہے۔
رہا سوال پاکستان کا نہ جانے ہماری سیاسی جماعتوں کی سانس کیوں پھولی ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی سمیت دوسری جماعتوں سے وابستہ کارکن سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا ہے جس کا فائدہ نہ پاکستان اور نہ ہی عوام کو ہے ۔ یاد رکھیئے ہم جیسے ممالک دنیا میں بہت ہیں ۔ امریکہ میں پاکستان تادم تحریر موضوع بحث نہیں نہ پاکستان میں جنگی ماحول ہے ۔ ،داخلی سیاسی مسائل کو لے کر امریکہ کے پاس وقت نہیں کہ وہ پاکستان کے داخلی سیاسی مسائل پر توجہ دے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی تجارت کی طرف دینی چاہیئے ۔پاکستان کی اصل طاقت معیشت میں ہے۔ مضبوط معیشت میں پاکستان کی مضبوطی ہے۔
یاد رکھیئے امریکہ اور عالمی دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انتشار قبول نہیں ،پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے۔ اسے انتشار کی سیاست کو دفن کرکے پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کی قیادت کویہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی امریکہ میں سب پالیسیوں پر حاوی پالیسی پینٹاگان کی ہی ہوتی ہے
-

غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!
غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!
شاہد نسیم چوہدری
ادب اور شاعری انسانی معاشرت کی گہری عکاسی کرتے ہیں لیکن ادب کے اس روشن چہرے پر جب گروپ بندی، سطحیت اور تجارتی مفادات کے دھبے نظر آنے لگیں تو یہ ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے کیا ادب اپنی تخلیقی بنیادوں سے دور ہو رہا ہے؟صفدر ہمدانی کی حالیہ فیس بک پوسٹ جس میں انہوں نے اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کیا، نے مجھے گہرے افسوس اور حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ پوسٹ محض ایک اعلان نہیں بلکہ اس میں ہمارے معاشرتی اور ادبی ماحول کی تلخ حقیقتوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ صفدر ہمدانی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ پچھلے ساٹھ برس سے اردو ادب کے لیے خاموشی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری، نثر اور مرثیہ نگاری اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ تخلیق کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور کبھی کسی طمع یا ستائش کی تمنا نہیں کی۔ لیکن ان کا یہ قدم کہ وہ اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کر رہے ہیں ایک ایسا لمحہ ہے جو اردو ادب کے موجودہ منظرنامے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
ادبی ماحول میں تخلیق کی جگہ تجارت کا غلبہ ہو گیا ہے، ادب کا اصل مقصد انسانی جذبات، سماجی مسائل اور تخلیقی اظہار کو آگے بڑھانا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا ادبی ماحول ان مقاصد سے بہت دور جا چکا ہے۔ صفدر ہمدانی نے اپنی پوسٹ میں جن حقائق کا ذکر کیا وہ محض ان کا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ ہر سنجیدہ تخلیق کار کی مشترکہ شکایت ہے۔
مشاعرے جو کبھی شعری ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ تھے آج محض تجارتی تقاریب بن چکے ہیں۔ ان میں شرکت کا انحصار شاعری کے معیار پر نہیں بلکہ ذاتی تعلقات اور مالی مفادات پر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں صفدر ہمدانی جیسے سنجیدہ تخلیق کاروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ صفدر ہمدانی نے اردو کے فروغ کے نام پر ہونے والی عالمی اردو کانفرنسوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کانفرنسوں پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے، لیکن ان کے نتائج نہایت مایوس کن ہیں۔ اردو زبان کو قومی سطح پر نافذ کرنے کا خواب آج بھی تشنہ ہے اور ان کانفرنسوں نے اس سلسلے میں کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔
بیرون ملک منعقد ہونے والے مشاعرے اور کانفرنسیں ایک الگ داستان ہیں۔ یہ تقاریب زیادہ تر مخصوص افراد کے لیے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں جبکہ حقیقی تخلیق کار ان سے باہر ہی رہتے ہیں۔ صفدر ہمدانی کی مرثیہ نگاری پچاس برسوں پر محیط ہے لیکن اس صنف کے ساتھ ہونے والے سلوک نے انہیں بھی مایوس کیا ہے۔ مرثیہ جو کبھی معاشرتی مسائل اور انسانی جذبات کا آئینہ دار تھا، آج رسمی تقاریب تک محدود ہو چکا ہے۔ یہ ادب کی وہ صنف ہے جسے ہمارے تحفظ کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہونے والے رویے نے اس کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت: ادب کے زوال کی علامت لگ رہی ہے۔ صفدر ہمدانی کا اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کرنا ایک جانب ان کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے اور دوسری جانب یہ ادب کے زوال کی طرف اشارہ بھی ہے۔ ڈیڑھ ہزار کے قریب غیر مطبوعہ اشعار جو ان کے تخلیقی سفر کی گواہی دیتے ہیں ایسے قارئین اور شعری محققین کے منتظر ہیں جو ان کی قدر کریں۔ یہ اقدام شاید روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا ادبی ماحول تخلیقی افراد کے لیے اتنا سازگار نہیں رہا کہ وہ اپنی تخلیقات کو معیاری پلیٹ فارمز تک پہنچا سکیں۔ادب کے لیے آگے کا راستہ دیکھنا چاہیے۔ صفدر ہمدانی کے اعلان کو ایک موقع کے طور پر لینا چاہیے تاکہ ہم اپنے ادبی ماحول کا جائزہ لے سکیں اور اس میں بہتری کے لیے اقدامات کر سکیں۔ ہمیں ادب کو گروپ بندی اور سطحیت سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ تخلیق کاروں کو وہ مقام دینا ہوگا جو ان کا حق ہے اور مشاعروں و کانفرنسوں کو ادب کے اصل مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔
صفدر ہمدانی کی آواز ہم سب کی پکار ہونی چاہیے۔ صفدر ہمدانی کی پوسٹ ایک ایسی پکار ہے جسے سننے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ان کی ذاتی کہانی نہیں بلکہ ہر اس تخلیق کار کا درد ہے جو ادب سے محبت کرتا ہے۔ ہمیں اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ادب کے اصل مقاصد کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔ اردو ادب ایک قیمتی اثاثہ ہے اور صفدر ہمدانی جیسے افراد اس کے اصل محافظ ہیں۔ ہمیں ان کی آواز کو سننا اور اس کا احترام کرنا ہوگا تاکہ ادب اپنی اصل روح کے ساتھ اگلی نسلوں تک پہنچ سکے۔
صفدر ہمدانی کی تحریر اُس پکار کی ترجمان ہے جو ادب اور تخلیق کے حقیقی معنوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کیا ہے تاکہ وہ لوگ اسے اپنائیں جو اس کی قدر کریں اور اسے آگے بڑھائیں۔ یہ قدم شاید روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہو لیکن تخلیق اور ادب کے تحفظ کے لیے اس سے بہتر راستہ شاید نہ ہو۔ میں ان تمام افراد کو دعوت دیتا ہوں جو ادب کے حقیقی علمبردار ہیں کہ آئیں اور اس مشن میں دل برداشتہ صفدر ہمدانی صاحب کا ساتھ دیں۔
تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا
گھر میں مجھے خود اپنا ہی مہمان کر دیابس اک ذرا سی بھول ہوئی اختلاف کی
بے دخل کر کے تخت سے دربان کر دیااے بد نصیب میرا یقیں مجھ سے چھین کر
تجھ کو یہ زعم ہے مرا نقصان کر دیابزدل تھا میں جو کر نہ سکا خود یہ انتظام
صد شکر تم نے موت کا سامان کر دیاہائے لگا کے آگ چراغاں کے شوق میں
حاکم نے سارے شہر کو ویران کر دیاقد سے مرا سوال بڑا تھا سو اس لیے
محسن کو اپنے داخل زندان کر دیاخیرات دے کے گزرا ہے جو میرے پاس سے
اس نے کبھی مجھے بھی تھا بھگوان کر دیایوں تو میں محتسب رہا اپنا تمام عمر
تم نے مگر بتا کے یہ حیران کر دیاصفدرؔ قنوطیت کا یہ اعزاز جو ملا
اعزاز دینے والے نے احسان کر دیانوٹ: یہ کالم ایک تخلیقی قدم کے جواز اور ادب کی موجودہ حالت پر تنقید کے طور پر لکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ قارئین کو ادب کی گمشدہ قدروں پر سوچنے کی تحریک دے گا۔

-

طلاق کیوں ضروری ہے ؟ تحریر:معظمہ تنویر
وہ شادی شدہ جوڑے جو باہمی عزت و احترام کے ساتھ سچے دل سے ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں انہوں نے واقعی اپنے گھر کو ایک چھوٹی سی جنت بنا رکھا ہے ۔لیکن بد قسمتی سے ازدواجی خوشیوں سے محروم ایسے زوجین کی افسوسناک خبریں بھی آئے دن سامنے آتی رہتی ہیں جو نفرت ،غصے اور انتقام میں ایک دوسرے کی جان تک لینے سے دریغ نہیں کرتے۔
آخر کیوں لوگ ایسے خراب تعلق کو نبھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ قتل و غارت کی صورت میں نکلتا ہے ؟ اس ضمن میں ایسے واقعات بھی تواتر کے ساتھ رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں شادی شدہ افراد کسی غیر کی محبت میں مبتلا ہو کر اپنے شریک حیات کو راستے سے ہٹانے کے لیے اسے موت کی وادی میں پہنچا دیتے ہیں ۔ ایسی خبریں ہماری نظروں سے گزرتی رہتی ہیں جہاں کبھی بیوی اپنے شوہر کو آشنا کی مدد سے قتل کر دیتی ہے تو کہیں شوہر اپنی محبوبہ کو پانے کے لیے بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔۔آخر یہ کیسا جنونی بلکہ خونی عشق ہے جو نکاح جیسے مقدس بندھن کو پامال کر کے رکھ دیتا ہے۔ جو عورت کسی غیر مرد کو پانے کے لیے اپنے شوہر کو قتل کرا دیتی ہے وہ کسی اور سے کیا وفا کرے گی؟ اور جو شوہر دوسری عورت کی خاطر اپنی زوجہ کومار ڈالتا ہے وہ بھلا کیسے کسی سے پیار کر سکے گا؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کیا سوچ کر یہ بے حس لوگ اس حد تک سفاکیت کا مظاہرہ کرجاتے ہیں۔ان کے دلوں میں نہ تو خدا کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی قانون کا کوئی ڈر۔اگرچہ یہ ظالم افراد اپنے انجام کو ضرور پہنچتے ہیں لیکن جن معصوم لوگوں کے خون سے انہوں نے ہاتھ رنگے ہوتے ہیں ان غریبوں کا کیا قصور تھا؟ کتنا اچھا ہوتا کہ یہ جنونی لوگ انہیں بے دردی سے قتل کرنے کی بچائے راہیں جدا کر لیتے ۔
طلاق کا راستہ اسی لیے تو موجود ہے کہ اگر زوجین میں سے کوئی ایک یا دونوں ایک دوسرے کے لیے ناپسندیدہ اور ناقابل برداشت ہو جائیں تو وہ ایک دوجے کی زندگی سے نکل جائیں ۔ایک ہی چھت تلے رپتے ہوئے چپکے چپکے اپنے شریک حیات کے لیے قتل کی سازش تیار کرنا کس قدر گھناؤنا عمل ہے ۔وقتی طور پر اچانک طیش میں آکر دوسرے فریق کو قتل کردینا بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ اس انسانیت سوز فعل کے پیچھے ایک طویل مدت سے نفرت پل رہی تھی ۔تو پھر کیوں نہ کسی کی جان لینے سے پہلے،اس انسان سے اپنی جان چھڑا لی جائے تاکہ ہمارا معاشرہ ایسے اندوہناک واقعات سے پاک ہو سکے ۔طلاق اگرچہ ایک ناپسندیدہ عمل ہے لیکن زندگی چھن جانے سے کئی گنا بہتر ہے ۔
-

پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا
پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک نہایت اہم، لازمی، اور قومی حیثیت کا حامل پروگرام ہے جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی بلکہ اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ پروگرام پورے ملک کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا دفاع ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کو ملک کے تمام شہریوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے یکجہتی کے ساتھ حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ پاکستان میں سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن اس اسٹریٹجک پروگرام کے حوالے سے ملک بھر میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اور قوم ایک ہی صفحے پر ہیں کہ اس پروگرام کی حفاظت اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانا قومی مفاد میں ہے۔ اس بات کا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک مفادات پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام میں بنیادی طور پر ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور جوہری طاقت کے تحفظ پر زور دیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس بات کا بھرپور پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت جیسے خطے میں موجود دیگر ممالک بھی اسی طرح کی دفاعی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات اصولی نہیں ہیں اور یہ کسی نہ کسی طرح کی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امریکہ کے اسٹرٹیجک فیصلوں پر پاکستان کا موقف یہ ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کے مفادات کے خلاف اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کا اسٹریٹجک پروگرام اس کی خود مختاری اور دفاع کے لیے ہے، اور اسے بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان کی سیاسی قیادت، عوام اور تمام ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام نہ صرف اس کی دفاعی صلاحیتوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ یہ قومی مفاد اور خودمختاری کی ضمانت بھی ہے۔ اس لیے، پاکستان ہر قسم کی بیرونی مداخلت یا اس پروگرام میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتا ہے، اور یہ پیغام پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر قانونی یا ناجائز مداخلت کے سامنے نہیں جھکے گا۔
تحریر؛مہر اقبال انجم

-

میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی
امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا پاس رکھنا ہوگا۔ پاکستان خطے میں واحد ملک ہے جو چار ممالک، بھارت، چین، افغانستان اور ایران کے درمیان میں موجود ہے ان چار ممالک کی زمینی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کو اپنی سلامتی اور دفاعی پالیسی خارجہ پالیسیان چار ممالک کے موڈ اور ذہین کو مدنظر رکھ بنانا پڑتی ہے۔ ان چار ممالک میں بھارت پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کی ترقی و سالمیت اور خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ اور عالمی دنیا گواہ ہے بھارت براستہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا پاکستان کے پاس اس کے ثبوت بھی ہیں۔ امریکہ کو پاکستان جس نے نائن الیون سے قبل اور اسکے بعد جانی و مالی قربانیاں دیں،
اس طرح کی پابندیاں امریکہ کو خود سوچنا ہوگا حالیہ پابندیوں سے دنیا کو کیا پیغام دیا ہے؟ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں دنیا کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کا بغور جائزہ لے کر سیاست کریں ملکی سلامتی کے پیش نظر اپنی فوج اور جملہ اداروں کیخلاف سازشوں سے باز رہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو چوکنا رہنا ہوگا جو کچھ اسلامی ممالک میں ہو رہا ہے اس کا بغور جائزہ لیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں نے بڑی قربانیاں دے کر ملک و قوم کو دہشت گردی سے آزاد کرایا بحیثیت قوم ہمیں وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ وطن عزیز کی سلامتی کے ضامن اداروں کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ملک کو داخلی اور خارجی دبائو سے بچا کر رکھنے والی پاک فوج اور اس کے جملہ ادارے ہی ہیں۔
سیاسی گلیاروں میں جو اس وقت ماحول ہے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاک فوج اور اسکے جملہ ادارے دہشت گردی کا تن تنہا سامنا کر رہے ہیں امریکہ کو یہ نظر کیوں نہیں آتا پاک فوج اور جملہ ادارے داخلی سلامتی اور امن و امان کے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں امریکہ پاکستان کی داخلی خودمختاری کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ملک کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کئی ہمسایہ ممالک کے دورے کر چکے ہیں وہ اپنے ہمسایہ ممالک کو اپنے موقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔ امید ہے وہ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان پر اس طرح کی پابندیوں سے آزاد کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے.