Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کے حقوق اور برابری کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف نظریات ہیں، اور یہ بحث ہمیشہ چلی آ رہی ہے کہ عورت کو مردوں کی طرح زندگی گزارنی چاہیے تاکہ وہ برابری کا حق حاصل کر سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کی برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کی طرح زندگی گزارے یا ان کی طرح طرزِ زندگی اپنائے۔ بلکہ عورت کی برابری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی مکمل شناخت کے ساتھ برابری کی سطح پر لے کر آئے۔

    عورت کو ایک الگ اور خاص شناخت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت، اس کی نفسیات اور اس کی قوتیں مردوں سے مختلف ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کم تر ہے یا اس کو مرد کے ساتھ موازنہ کرنا ضروری ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو اپنے آپ کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے اپنی جگہ بنانی چاہیے۔ اگر عورت مرد بننے کی کوشش کرے گی، تو وہ اپنی حقیقت کو مٹا دے گی اور اپنی شناخت کھو دے گی۔اگر عورت صرف اس لیے مردوں کی طرح زندگی گزارنا شروع کر دے کہ وہ انہیں اپنے سے برتر سمجھتی ہے، تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ عورت کا مردوں کی پیروی کرنا نہ صرف اس کی اپنی شناخت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے اس کے اندر احساسِ کمتری بھی جنم لیتا ہے۔ عورت کی برابری اس میں ہے کہ وہ اپنی فطرت، اپنی صلاحیتوں اور اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے، نہ کہ مردوں کی پیروی کر کے۔

    یہ ضروری نہیں کہ اگر مرد سگریٹ پیتے ہیں تو عورت بھی ان کی تقلید کرے اور یہ سمجھے کہ اس طرح وہ برابری حاصل کر رہی ہے۔ برابری کا مطلب یہ نہیں کہ عورت بھی وہی کرے جو مرد کرتے ہیں۔ برابری کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو پورے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دے، اور اس کا حق مردوں سے کم نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی فطری خصائص کے ساتھ بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔اگر کوئی عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ مردوں کی طرح پنٹ شرٹ پہنتی ہے تاکہ برابری کا احساس ہو، تو وہ اس بات کو نہیں سمجھ پا رہی کہ برابری طرزِ زندگی کی تقلید سے نہیں، بلکہ اپنے آپ کو تسلیم کرنے اور اپنی خصوصیات کو اہمیت دینے سے ملتی ہے۔ برابری کا مطلب اپنی جگہ پر پہنچنا ہے، نہ کہ مردوں کی طرح بننا۔برابری کا مفہوم یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح زندگی گزارے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو وہی مواقع اور حقوق ملیں جو مردوں کو ملتے ہیں، اور اس میں کوئی تفاوت نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح بن جائے، بلکہ یہ ہے کہ عورت اپنے طور پر، اپنی شناخت کے ساتھ، ہر میدان میں کامیاب ہو۔

    عورت کا مقام اس کی فطرت اور شخصیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور اس کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی برابری مردوں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے آپ کے ساتھ ہے۔ جب عورت اپنے اندر کی طاقت کو پہچانے گی اور اپنی مکمل شناخت کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن ہو گی، تو وہ خود کو اور دوسروں کو یہ دکھا پائے گی کہ برابری صرف ایک ہی طریقے سے حاصل کی جا سکتی ہے: وہ ہے اپنی حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی جگہ پر کامیاب ہونا۔

  • ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان

    ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان

    ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،
    ادھر دیکھو، باہر دے ملکاں والیاں نے ویکھنی اے، کی کہن گے سانو، اسکو پکڑو سیدھا کرو
    یہ الفاظ قانون کے محافظوں کے قوم کی عزتوں کے بارے ہیں۔ پولیس تو عزتوں کی محافظ ہوتی ہے تم کیونکر عزتوں کو پامال کرنے والے اور لٹیرے بن گئے۔ خواتین کے چہروں پر تیز ٹارچ کی روشنی کرتے ہوئے ویڈیو بنانا اور یہ کہنا کہ یہ ویڈیو وائرل ہوگی ناصرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی۔ اسی طرح لڑکوں کو بھی ویڈیو بناتے وقت پولیس کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ”تواڈی ویڈیو ٹک ٹاک تے آوے گی“

    جس نے جو جرم کیا اس کیلئے اسے عدالت میں پیش کرنا چاہئے تھا ناکہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا۔ یہ اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میڈم عالیہ نیلم اور چیف منسٹر پنجاب مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے والے تمام پولیس افسران و اہلکاروں کو اس مجرمانہ غفلت پر ناصرف نوکریوں سے فارغ کیا جائے بلکہ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے پیڈا ایکٹ کی کاروائی کی جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، قانون نافظ کرنے والے اداروں اور وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے یہ ٹیسٹ کیس ہے کہ پنجاب میں پولیس گردی چلنی ہے یہ انصاف اور انسانیت۔ یہ پہلا واقع نہیں ہے آئے دن پولیس کی طرف سے ایسی کاروائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا نا کریں اس طرح تو پولیس شک کی بنیاد پر جس کے گھر مرضی گھس جائے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال نہ کریں۔ ہاں اگر کوئی سرعام فحاشی کرتا ہے یا غیر قانونی ڈانسنگ کلب بنا رہا ہے تو قانونی کاروائی کریں نہ کہ ویڈیو بنا کر شوشل میڈیا پر وائرل کریں۔

    پولیس اہلکاروں کی طرف سے ویڈیو وائرل کرنے کے الفاظ کے عین مطابق بالکل ویسا ہی ہوا 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایف آئی آر میں نامزد 34مردوں اور 21خواتین کو سوشل میڈیا پر سارے پاکستان اور کئی ممالک نے دیکھا۔ اس بدنامی کی بعد ان میں سے کتنے ہی جوان ہیں جو اس شرمندگی کے باعث پاکستان میں نہیں رہ سکیں گے، کتنے ذہین افراد ذہنی ازیت کا شکار ہو جائیں گے۔ جس کسی کو بھی ان نوجوانوں کے بارے ذہین کہنے پر اعتراض ہے ان کی یاداشت کیلئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بیوروکریسی اور سیاسی افراد کی ذہانت پر تو کوئی شک نہیں۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے ڈرگ ٹیسٹ کروا لیں وثوق سے کہتا ہوں کے کم از کم ایک تہائی شراب نوشی اور منشیات کے عادی ملیں گے۔ اسی طرح انہی ذہین افراد کی دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ملیں گے۔

    2023کی بات ہے لاہور میں ایک اہم سیٹ پر پوسٹڈ آفیسر کے سٹاف کی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور رات گئے اسے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے جہاں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان اور پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپس کی باہمی عداوت کے برعکس اس بزم (پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سارے سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور کی پچیس، کراچی کی چھتیس اور اسلام آباد کی بیالیس رقاصاؤں کی گرد گھومتی ہے۔ حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتے ہیں۔ لاہور کے چند افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ اگر پکڑنا ہے تو ان بلیک میلرز کو پکڑیں۔ شوگر ڈیڈی یا جیسا بھی کلچر ہے اگر دونوں فریق طے شدہ مفادات کے تحت تعلق رکھتے ہیں تو کسی بھی فریق کو بلیک میلنگ نہیں کرنی چاہئے۔

    جہاں تک شیشہ کیفے پر پابندی کی بات ہے لاہور، اسلام آباد کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں سینکڑوں کے حساب سے شیشہ کیفے موجود ہیں۔ شیشہ کیفے والے لوکیشن کے حساب سے ایک لاکھ سے تیس لاکھ ماہانہ تک پولیس اور انتظامی افسران کو بھتہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت شیشہ کیفے کی حد تک لیگل ٹیکس کیوں نہیں اکٹھا کرتی بجائے اس کے کہ کروڑوں اور اربوں روپیہ افسران کی جیبوں میں جاتا ہے۔پبلک مقامات، سرکاری و پرائیویٹ دفاتر میں سگریٹ نوشی کرنا جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہے لیکن یہ سیگریت نوشی کرنے والے افسران و افراد پبلک مقامات اور سرکاری دفاتر میں سرعام سگریٹ نوشی کرکے دوسروں کو اذیت دیتے ہیں۔
    جو کوئی جیسی بھی تفریح کرتا ہے اگر وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں کرتا ہے تو اسے جینے دیں۔ پہلے ہی بہت سٹریس ہے لوگوں کی زندگیوں کو عذاب نہ بنائیں۔

  • فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    ایک امت، جسد واحد جس کو ایک جسم کی مانند کہا جاتا ہے۔ جس کے آباؤ اجداد نے کئی کئی سالوں تک کئی مربع میل پر حکومت کی ہے، جن کے نام سے ہی غیر مسلم ڈرتے تھے۔ آج اسی امت کے ایک حصے کو بڑی بے دردی سے ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا حصہ اپنے عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اسی قوم کی مائیں سلطان صلاح الدین ایوبی، محمد فتح پیدا کرتی تھیں، جبکہ آج اسی قوم کی مائیں ٹک ٹاکر، ادکار پیدا کرتیں ہیں۔
    ایک زمانہ تھا کہ جب اس قوم کی عورتوں نے اپنے زیورات، بیٹے تک اللہ کی راہ میں قربان کر دیے تھے، جبکہ آج کی نوجوان نسل اسرائیلی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تک نہیں کر سکتی۔ یہ لوگ macdonald, coca-cola, lay’s l, وغیرہ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہماری آج کی نوجوان نسل کو لگتا ہے کہ گاڑیوں کے پیچھے فلسطین کے جھنڈے لگا لینے سے اور گاڑیوں کے اوپر "free Palestine” لکھنے سے انہوں نے حق ادا کردیا ہے، کل کو قیامت میں ان سے اس حوالے سے سوال وجواب نہیں کیا جائے گا۔ اے امت مسلمہ اپنے ذہنوں سے یہ نکال دو، "کہ تم لوگوں سے سوالات نہیں کیے جائیں گے”. اے امت مسلمہ تم لوگوں سے ضرور پوچھا جائے گا۔ تم لوگ اللہ کے دشمنوں کی مالی مدد کررہے ہو تم کو کیا لگتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ تم کو چھوڑ دے گا؟ تم لوگوں نے اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا یے، تم لوگوں نے اللہ کے احکامات پر اپنے نفس کو ترجیح دی ہے۔ اللہ نے سورتہ البقرہ کی آیت 155 میں فرمایا ہے۔
    وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ
    ترجمہ: اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔

    آج یہ صرف فلسطین کے مسلمانوں کی آزمائش نہیں ہے۔ یہ پوری امت مسلمہ کی آزمائش ہے، وہ لوگ اپنی آزمائش پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہے۔ انہوں نے اللہ کے احکامات پر عمل کرکے اپنے نفس کی خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی رضا حاصل کر لی ہے۔ اور ہم لوگ اسی خیالات میں خوش ہیں کہ قیامت والے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سفارش کر دینی ہے۔ جی بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی سفارش کرنی ہے،
    Surat No 25 : سورة الفرقان – Ayat No 43

    اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
    ترجمہ: کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟

    کیا آج ہم نے اپنے نفس کو اللہ کے احکامات پر ترجیح نہیں دی؟ ہم کو جہاد، قتال کا حکم ہے کیا ہم جہاد کر رہے ہیں؟ کیا ہماری آج کی نوجوان نسل جہاد کےلئے تیار ہے؟ کیا ہماری مائیں اپنے بچوں کو اللہ کی راہ میں قربان کر سکتی ہیں؟ ان سب کا جواب ہے۔ "نہیں” کیوں؟ کیونکہ ہم یہ عیش و عشرت کی زندگی نہیں چھوڑ سکتے، ہم لوگ اپنے نفس کو نہیں مار سکتے، ہم اتنے بہادر نہیں ہیں کہ ہم اپنا جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ ہم لوگ تو بے حیائی کو نہیں چھوڑ سکتے، ہم نوجوان نسل آج اپنی نظروں کی حفاظت نہیں کر سکتی، ہم مائیں بہنیں آج پردہ نہیں کر سکتی، تو یہ جہاد کیوں کر کریں گے؟ اب سب لوگ اپنا محاسبہ کریں کہ کیا کل کو قیامت کے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری سفارش کریں گے؟ جبکہ ہم لوگ اللہ اور اس کے دین کے دشمنوں کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں، ہم لوگ ان کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے، جبکہ ہم اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے مطابق کرنی چاہیے، ان کو صحابہ کرام اور جنگی واقعات سنا کر بڑا کرنا چاہیے، نا کہ کارٹون دیکھا کر۔ ہمیں اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ امت مسلمہ کو اپنی بے حسی چھوڑ کر اللہ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جہاد کےلئے تیار کرنا چاہیے۔

  • اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید

    اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید

    بلوچستان رائئٹرز گلڈ (برگ) نے اپنی ادبی کانفرنس موخر کر دی

    یوم پاکستان کی مناسبت سے اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی جانب سے ایک کثیر اللثانی محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا مشاعرے میں اردو پشتو بلوچی براہوی زبان کے شعرا کرام نے شرکت کی ۔ مشاعرے کی صدارت ممتاز شاعر ادیب اعجاز امر نے کی ۔ جب کہ مہمان خصوصی ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی چیئرمین پشتو اکیڈمی تھے ۔ مہمان اعزاز کی حیثیت سے معروف شاعر و ادیب نواب نور خان محمد حسنی اور تسنیم صنم صاحبہ موجود تھیں ۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔ اعجاز امر کا کہنا تھا کہ اکادمی ادبیات کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے یوم پاکستان کی مناسبت سے ان حالات میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی نے مقامی زبانوں کی ترویج میں ادبیات کے کردار کو سراہا ۔

    تسنیم صنم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ادبیات کی تقریبات میں کچھ عرصے کے لیے رکاوٹ ائی تھی مگر اب تقریبات بحال ہونے سے وہ معاملات بھی حل ہو گئے ۔ تقریب کی نظامت نوجوان شاعر احمد وقاص کاشی نے کی جبکہ دیگر شعرا میں فائزہ شکیل ، فاریہ بتول ، عظیم انجم ہانبھی ، ذوالفقار رضا ، نجیب اللہ احساس ، سومرو۔خاکسار ، عادل اچکزئی ، عزیز حاکم ، ارمش اور ڈاکٹر قیوم۔بیدار شامل تھے

    صوبے کی فعال ، متحرک اور معروف ادبی تنظیم بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے 7 اپریل کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں ہونے والی سالانہ ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کوئٹہ کے حالات اور ذرائع آمد و رفت کی بندش کے پیشِ نظر ملتوی ک دی گئی ہے ۔

    اِس سلسلے میں برگ کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس پروفیسر ڈاکٹر صابر بولانوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں سیکورٹی خدشات اور عدم تحفظ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ 7 اپریل بروز سوموار کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں منعقد ہونے والی ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کو منسوخ کیا جاتا ہے ۔ جبکہ ادبی کانفرنس کیلیے نئی تاریخ کا اعلان جلد باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی ۔

    یاد رہے کہ سالانہ ادبی کانفرنس میں لاہور ، میانوالی ، چشتیہ ، سرگودھا ، ساہیوال ، پاکپتن شریف ، پسنی ، سبی اور لورالائی کے ادباءحضرات و شعراء کرام کے علاوہ کوئٹہ 16 اہلِ قلم کو اْن کی بہترین ادبی تخلیقات پر آغاگل ایوارڈز کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جو جلد پیش کئے جائینگے .آغاگل ایوارڈز پانے والے اہلِ قلم میں ڈاکٹر راحت جبیں رودینی
    دل آویز
    سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی
    پرچھائیاں
    پروفیسر ڈاکٹر شمیم کوثر
    بلوچستان میں اردو ادب
    پروفیسر ارشد راہی
    پپلی کے نیچے
    ڈاکٹر رحمت عزیز خان
    خوابوں کی شہزادی
    ڈاکٹر فضل خالق
    سیالیچک
    محترمہ فرح علوی
    بانس کی باڑ
    محترم شاہد بخاری
    پاکستانی ادب کے معمار
    محترم محمد یٰعقوب فردوسی
    عاشقِ اقبال
    محترمہ غزالہ اسلم
    بہار آنےکو ہے
    محترم عاصم بخاری
    اثاثہ
    محترم عبدالرحیم بھٹی
    راجپوت فبائل
    محترم ریاض ندیم نیازی
    تمھیں اپنا بنانا ہے
    محترم غلام زادہ نعمان صابری
    تقسیم
    محترم اوصاف شیخ
    ہر سفر دائرہ
    محترم علیم مینگل
    آواز کے سائے
    پروفیسر اکبر خان اکبر
    جادو نگری
    شیخ فرید
    برف بولان
    محترم احمد وقاص کاشی
    ش کا رقص
    محترمہ تسنیم صنم
    ہجر کی طاق راتیں
    محترمہ صدف غوری
    تلاشِ وفا
    محترم شفقت عاصمی
    ساربانی سڑک
    محترمہ ذکیہ بہروز ذکی
    موسمِ گل گزر نہ جائےکہیں
    ڈاکٹر اکرم خاور
    چاہتوں کے درمیاں
    محترم عظیم انجم ہانبھی
    بھنوروں کے انتظار میں
    پرفیسر خورشید افروز
    مشاہیرِ بلوچستان
    ڈاکٹر محمد نواز کنول
    رومی اور اقبال
    شبیر احمد بھٹی
    ریوڑ
    کاوش صدیقی
    جل پری
    کامران قمر
    شرفِ قمر
    آسناتھ کنول
    صحراء کی ہتھیلی پہ دیا ، شامل ہیں ۔۔

  • خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

    خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہم سب پاکستان کی موجودہ خستہ صورتحال کے ذمہ دار میں ،مقروض پاکستان کی زبوں حالی کا ذمہ دار کرپٹ سیاست دانوں کو ٹھہرانا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ یا سٹیٹس لگا کر کو ستے رہنا معمول بن چکا ہے لیکن ہم اس امر پر غور کرنا گوارہ نہیں کرتے کہ جہاں غیر منصفانہ ،ظالمانہ اور کرپٹ نظام کے خلاف ہمیں متحد ہو کر کھڑے ہونا اور حق کی آواز بننا چاہیئے وہاں ہم سوشل میڈیا پر خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھتے ہیں جو ایک سنگین جرم ہے جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔

    ظالم کو مزید طاقتور مظلوم کی خاموشی بناتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز اور قوم کی بد حالی کے ذمہ دار اور غداروں کا ہماری خاموشی نے کس طرح ساتھ دیا۔ تاریخ گواہ ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح اپنی ہی قائم کر دہ ریاست میں مٹھی بھر غداروں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکے، قیام پاکستان کی خاطر بھائی کے ہمراہ شانہ بشانہ چلنے والی بانی پاکستان کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اسی ملک میں غدار ٹھہرا دی گئی مگر ہم خاموش رہے۔گزشتہ برس خواب پاکستان دیکھنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال کے پوتے اور بہو کو سر عام تشدد کا نشانہ بنا کر اسی ملک میں ان کی تذلیل کی گئی مگر ہم خاموش رہے۔

    مخلوط نظام تعلیم کے نام پر چلائے جانے والے تعلیمی اداروں نے ہماری نوجوان نسلوں کو فحاشی اور نشے جیسی دلدل میں دھکیل دیا ہم سے۔ہمارا باوقار نظام ،تعلیم چھین کر مخلوط تعلیمی انتظام رائج کر دیا گیا جس کا ہمارے دین میں کوئی وجود نہیں اس طرح ہماری نسلیں دین اسلام کی اصل تعلیم سے دور ہو چکی ہیں مگر ہم خاموش ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام ڈنکے کی چوٹ پر چلایا جارہا ہے جو سراسر اللہ اور اللہ کے رسول خاتم النبین” سے کھلا اعلان جنگ ہے مگر ہم اس پر بھی خاموش ہیں۔ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ، کوئی گستاخی کا واقعہ ہوتو بھی اس پر بھی ہم انتہائی کمزور سا احتجاج کر کے خاموش ہی ہو جاتے ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالت یہ ہے کہ وہا ں انصاف طاقتور اور امیروں کا کھلوناہے جسے بآسانی خریدا جا سکتا ہے تمام تر قوانین صرف غریبوں اور کمزوروں پر لاگو ہیں جبکہ با اثر افراد کوئی بھی گھناونا جرم کرنے کے بعد قانون کی بولی لگا کر مکڑی کے جانے کی طرح پھاڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں عدالتوں کے باہر لگے ترازو میں انصاف نظر نہیں آتا.

    سوال یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے قاتل پکڑے نہ جاسکے ،بے نظیر بھٹو شہید سمیت کئی رہنماؤں کے قاتل آج تک نہیں پکڑے جاسکے، کراچی میں میں ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونیوالے سینکڑوں لوگوں کے قاتل پکڑے نہیں جاسکے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عرصہ دراز سے ہونیوار خود کش دھماکوں کے نشانات ڈھونڈے نہ جا سکے۔ قاتل تو دور کراچی میں ہونے والے سٹریٹ کرائمز کرنے والے تک گرفتار نہ ہو سکے مگرجب غلامی کرنے پر آئیں تو انکل ٹرمپ کی خدمت میں ان کا مجرم محض کچھ ہی گھنٹوں میں پکڑ کر حوالےکر دیا گیا جس پر آج ٹرمپ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کر رہا ہے کہ ہمارے انتہائی مطلوب مجرم کو ہمارے حوالے کر دیا گیا ہے۔ہماری بہن پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج بھی امریکی قید خانے میں بے حد اذیت ناک زندگی گزار رہی ہے مگر ہم خاموش ہیں۔کسی سابقہ امریکی صدرنے ٹھیک کہا تھا کہ یہ پاکستانی چند پیسوں کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں وقت نے ایک بار پھر آج ثابت کر دیا ہے۔یہ ریاست کے فیصلے ہیں، اداروں کے فیصلے ہیں.حکومتوں کے فیصلے ہیں اور یہ ایوانوں میں بھاشن جھاڑنے والے لیڈرز خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں سب ایک ہی جھنکار پر ناچتے ہیں جب آواز آتی ہے۔” ہم تم کو ڈالر دے گا ڈالر ! ”

    ہم سب پاکستان کی اپنی اور اپنی نسلوں کی تباہی خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں ، بجلی ، گیس ، پانی کے بلوں میں ناجائز بے حد اضافہ، ٹیکس غریب کا گلہ گھونٹ رہے ہیں، روٹی سے لے کر کفن تک ٹیکس ادا کرنے والی قوم کا بچہ پیدا ہوتے ہی مقروض ہیں،مگر ہم خاموش ہیں،ظالموں کے ظلم کو ہماری خاموشی تقویت بخش رہی ہے، یہ کیسا خوف ہے جو ہمیں ہماری تباہی کے ذمہ داروں کا ساتھی بنا رہا ہے۔حضرت علی کا فرمان ہے۔، قبرستان بھرے پڑے ہیں ایسے لوگوں سے جو حق کیلئے اس لیئے کھڑے نہ ہوئے کہ کہیں وہ مارے نہ جائیں ؟لہذا خاموشی کو محفوظ پناہ گا ہ سمجھنا ہمیں نہ صرف خود کا مجرم بنارہا ہے بلکہ یہ بزدلانہ عمل ہی ہماری تباہی کا اصل ذمہ دار ہے ہمیں بلا کسی خوف کے حق کیلئے یکجا ہو کر ظالموں کے ہاتھ کاٹنے کی ضرورت ہے۔

  • ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کا "منصب” ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، مطالعہ، مشاہدہ اور فکری جدوجہد ہی کسی لکھاری کا اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ لیکن آج کچھ ادارے اور افراد ادب کے نام پر پیسے کے عوض تحریریں شائع کر کے نہ صرف اس عظیم فن کی بے حرمتی کر رہے ہیں بلکہ نئے لکھنے والوں کو ایک غلط سمت میں دھکیل رہے ہیں۔ ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔
    ادب ہمیشہ سے انسان کے باطن کی وہ زبان رہا ہے جو لفظوں میں سچائی، خلوص، درد، خواب اور سوال بُنتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ایک معاشرہ خود کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ادب صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ تہذیبی شعور، فکری بلوغت اور اجتماعی ضمیر کی بیداری کا استعارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے ادب کو ایک مقدس امانت تصور کیا جاتا رہا ہے—ایسی امانت جو نہ صرف لکھنے والے کا کردار مانگتی ہے بلکہ قاری کا شعور بھی آزماتی ہے۔
    مگر موجودہ دور میں اس مقدس فن کے گرد ایک ایسا بازار سج چکا ہے جس میں لفظوں کی بولی لگتی ہے، تخلیق کی قیمت طے ہوتی ہے اور ادیب کا مقام جیب کی گہرائی سے مشروط ہو چکا ہے۔ "ادب کی خدمت” کے مقدس دعوے کے ساتھ کچھ افراد اور ادارے پیسوں کے عوض تحریریں شائع کرنے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ نوآموز لکھنے والوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ صرف چند ہزار روپے دے کر ان کی تحریر کسی "ادبی مجموعے” یا "مشترکہ کتاب” کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس جھانسے میں آ کر کئی ناپختہ قلم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ اب باقاعدہ "مصنف” بن چکے ہیں۔ گویا تخلیق، جو کبھی روح کی پکار اور شعور کی گہرائیوں سے جنم لیتی تھی، اب ایک چیک یا آن لائن ٹرانزیکشن سے پیدا ہو سکتی ہے۔یہ روش ادب کے تقدس کو محض مجروح نہیں کرتی، بلکہ اسے تماشہ بنا دیتی ہے۔ جب تحریر کے معیار کی جگہ مالی ادائیگی اہم ہو جائے تو کتاب محض صفحات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مجموعے جو بازار میں آ کر جلد ہی بھلا دیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی فکری گیرائی، فنی چمک یا تخلیقی تڑپ نہیں ہوتی۔ یہ محض لفظوں کی سجاوٹ ہوتی ہے، جن کے پیچھے نہ کوئی تجربہ ہوتا ہے نہ کوئی پیغام۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل اہل قلم—جو برسوں کی ریاضت، مطالعے، مشاہدے اور فکری مکالمے سے ادب کی خدمت کرتے ہیں—ان کا مقام دھندلا پڑنے لگتا ہے۔ ان کی تحریریں ان کہی سی ہو جاتی ہیں کیونکہ بازار میں "چھپنا” ہی مقام کا معیار بن چکا ہوتا ہے۔

    یہ ایک ایسا دھندہ ہے جسے ہم سب نے یا تو نظر انداز کیا یا خاموشی سے قبول کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ اس رجحان کو روکنے کے لیے ادبی برادری، نقاد، اساتذہ، اور سنجیدہ قارئین کہاں ہیں؟ کیا ہماری ادبی انجمنیں صرف مشاعرے کروانے، پھولوں کے گلدستے دینے، اور یادگاری تصاویر بنوانے تک محدود ہو گئی ہیں؟ کیا یہ ادارے اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے کہ وہ نوآموز لکھنے والوں کو اس مکاری سے بچائیں اور انہیں تخلیق کی اصل روح سے روشناس کروائیں؟

    ادب کا سفر کبھی آسان نہیں رہا۔ غالب سے لے کر فیض تک، عصمت چغتائی سے انتظار حسین تک، سب نے زندگی کی سچائیوں کو الفاظ میں ڈھالنے کے لیے کرب سہا، تنقید برداشت کی، محرومیوں کا سامنا کیا، مگر کبھی تخلیق کو بیچنے کا تصور بھی نہ کیا۔ ان کے لیے ادب ایک عہد تھا، ایک فکری جدوجہد جسے سرمایہ نہیں، صداقت چلاتی تھی۔ آج جب کوئی پیسے دے کر چھپنے کا خواب دیکھتا ہے تو وہ اس عہد سے غداری کرتا ہے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ادب کو اس کے اصل وقار کے ساتھ زندہ رکھیں۔ یہ کام صرف لکھنے والوں کا نہیں، پڑھنے والوں کا بھی ہے۔ اگر قاری صرف چمکدار سرورق، مصنف کی پروفائل تصویر، یا اشاعت کی تعداد دیکھ کر کتاب کو "اچھی” سمجھ لے گا تو پھر بازار کا راج رہے گا، اور ادب کے مقدس مینار چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر چھپی ہوئی تحریر ادب نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر چھپنے والا ادیب ہوتا ہے۔

    ادب میں مقام حاصل کرنے کے لیے علم، مطالعہ، مشاہدہ، محنت اور خلوص درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور کبھی کبھار تنہا سفر ہوتا ہے۔ پیسے دے کر چھپنا اس سفر کی شارٹ کٹ نہیں، بلکہ اس سے ہٹ جانے کا راستہ ہے۔ ادب خود فریبی برداشت نہیں کرتا۔ وہ صرف انہی کو قبول کرتا ہے جو اس کی شرائط پر پورا اترتے ہیں—چاہے وہ دیر سے پہچانے جائیں، مگر اصل پہچان پائیدار ہوتی ہے۔

    آخر میں، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ادب کو پیکیج بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں یا ایک فکری میراث کے طور پر سنوارنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو آنے والی نسلیں ادب کو ایک سنجیدہ فن کے بجائے محض چھپنے کا ذریعہ سمجھیں گی۔ ہمیں اب بھی وقت ہے کہ آواز بلند کریں،پاکستان میں ادب کے نام پر ہونے والی اس سوداگری کے خلاف قلم اٹھائیں، اور سچے تخلیق کاروں کا ساتھ دیں۔ کیونکہ ادب کو اگر زندہ رکھنا ہے تو اسے مالی لفظوں کی نہیں، فکر کی قدر دینی ہو گی۔یہی پہچان پاکستان ہے

  • رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں سب سے زیادہ خطرناک دشمن وہ نہیں ہوتے جو سامنے سے وار کرتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوستوں، رشتہ داروں یا خیرخواہوں کا چہرہ لے کر ہمیں اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی غداریوں سے زیادہ تباہ ہوئیں۔ یہی اصول ہماری ذاتی زندگیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔باہر کے لوگ جب مخالفت کرتے ہیں تو کم از کم ہمیں اس کا علم ہوتا ہے، ہم دفاع کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو اپنائیت کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے وار کرتے ہیں، ان کی چالاکیاں دیر سے سامنے آتی ہیں، اور تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی نفرت، ان کے خیرخواہی بھرے الفاظ کے پیچھے چھپا حسد، اور ان کی خاموشیوں میں چھپے راز،یہ سب ہمیں اندر سے توڑ دیتے ہیں۔

    جب کوئی قریبی شخص، جس پر ہم آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں، ہمیں دھوکہ دیتا ہے تو وہ صرف ایک دھوکہ نہیں ہوتا، بلکہ ہماری امید، اعتماد اور دل کو ایک ساتھ توڑ دیتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے راز دوسروں کو بتاتے ہیں، ہماری کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں، اور بظاہر ہماری خوشیوں میں شریک ہو کر اندر سے ان کی جڑیں کاٹتے ہیں۔زندگی میں ہر رشتہ آزمانا چاہیے، لیکن اندھا اعتماد نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کی پہچان ان کے عمل سے کریں، نہ کہ صرف ان کی باتوں سے۔ جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کا دفاع کریں، وہی آپ کے اصل خیرخواہ ہیں۔

    سچے رشتے وہی ہوتے ہیں جن میں خلوص، سچائی اور وفاداری ہو۔ نہ کہ وہ رشتے جو صرف دکھاوے کے لیے ہوں، جہاں مسکراہٹ تو ہو لیکن دل میں کینہ ہو، جہاں بظاہر ساتھ ہو لیکن نیت میں دشمنی ہو۔ ایسے رشتوں کو وقت کے ساتھ پرکھیں، اور دل کی آنکھوں سے دیکھیں۔زندگی میں اندرونی غداروں سے بچنا آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ خود کو مضبوط بنائیں، اپنی ذات پر یقین رکھیں، اور ان لوگوں کا ساتھ دیں جو آپ کے اندر کا سکون برباد نہیں کرتے بلکہ اس کو اور سنوارنے میں مدد دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، سچائی اور خلوص ہمیشہ دیرپا ہوتے ہیں، باقی سب وقتی چمک ہے۔

  • بی ایل اے  کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان

    بی ایل اے کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان، پاکستان کا وہ خطہ ہے جو قدرتی وسائل، ثقافت اور حب الوطنی میں بے مثال ہے۔ بلوچ قوم نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے، چاہے وہ دفاع وطن ہو، ترقیاتی منصوبے ہوں یا قومی یکجہتی کی بات۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ شرپسند عناصر اور بیرونی ایجنڈوں پر کام کرنے والی تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی)، اس خطے کی خوبصورتی کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔بی ایل اے ایک شدت پسند تنظیم ہے جو خود کو بلوچوں کی نمائندہ ظاہر کرتی ہے، مگر درحقیقت یہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور دیگر غیر ملکی طاقتوں کی آلہ کار بن چکی ہے۔ ان کا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان میں بدامنی، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے قتل جیسے جرائم میں ملوث ہے۔

    بی ایل اے اور ان کے حمایتی "مسنگ پرسن” کے نام پر اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ چلا رہے ہیں۔ یہ ایک پرانی چال ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا، ریاستی اداروں پر بداعتمادی پھیلانا اور دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نام نہاد "لاپتہ افراد” خود دہشت گرد تنظیموں کا حصہ ہوتے ہیں یا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں۔اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست ان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ بی ایل اے جیسے عناصر اور ان کے بیرونی آقا، چاہے وہ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، پاکستان کی سالمیت کے خلاف کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ان کے ناپاک عزائم کو روکنے کے لیے ہر سطح پر قومی اتحاد اور مضبوط پالیسی کی ضرورت ہے۔

    ملک کے اندر ہر محب وطن شہری، چاہے وہ بلوچ ہو، پنجابی، سندھی، پٹھان یا کشمیری، سب کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ پاکستان دشمن عناصر کے خلاف ایک مضبوط اور منظم ردعمل ہی ہمیں اس منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہاں سے دہشتگرد عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے۔بلوچ قوم پاکستان کی ایک غیرت مند اور باوقار قوم ہے۔ بی ایل اے جیسے شدت پسند گروہ اس قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ یہ پاکستان دشمن طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ریاست اور عوام مل کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں اور بلوچستان کو امن، خوشحالی اور ترقی کا گہوارہ بنائیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ غیر ملکی مداخلت کو روکا جائے اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔بلوچ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں سے دور رہیں۔ انہیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، اور یہاں کے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں۔ ہمیں مل کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

  • عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    ایک ایڈیشنل سیکرٹری مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ بھائی آپ سے ایک درخواست کرنی ہے کہ بیوروکریسی میں سنئیر افسران کی اخلاقی تربیت پر بھی آرٹیکل لکھیں۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے صرف عزت کیلئے سول سروس جوائن کی تھی لیکن وہ سنئیر افسران کے رویے سے شدید مایوس ہے کیونکہ دو تین بیج سنئیر افسر بھی اپنے سے جونئیر کو تحقیر امیز انداز میں بائی نام بلاتا ہے۔ زیادہ برا اس وقت لگتا ہے جب کسی عوامی جگہ یا ماتحتوں کے سامنے بھی سنئیر افیسر صرف نام لیکر بلاتا اور آرڈر کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کم از کم بیوروکریسی کے افسران کو باہم اتنی تمیز اور شرم تو ہونی چاہئے کہ اپنے افسر کو بائی نام بلانے کی بجائے تھوڑی عزت دیتے ہوئے نام کے ساتھ صاحب لگا لیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے جونئیر افسر نہیں سیکرٹری کا ذاتی ملازم ہوں۔ ہم تحصیل اور ضلع کمانڈ کرچکے ہیں اتنے بھی جونئیر نہیں کہ "فار گرانٹڈ” لیا جائے۔
    میں نے اسے کہا کہ میں اس پر ایک دفعہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔

    مذکورہ آفیسر نے کہا کہ اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ نے اس ٹاپک پر لکھا تھا میں چاہتا ہوں کہ آپ دوبارہ سے لکھیں سوکالڈ سنئیرز کو تھوڑی شرم دلائیں کہ ”ایس او پی“ ہونی چاہئے کہ کم از کم پی ایم ایس اور سی ایس ایس افسران اپنی کمیونٹی کے جونئیرز کو صرف نام لیکر بلانے کی بجائے صاحب لگا لیں اس سے ان کی شان اور سنیارٹی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    میں نے اسے کہا کہ آپ جس کا ذکر کررہے ہیں اسے تو خود اپنے سنئیر افسران کا بچہ کہلانے پر فخر ہے۔ ایسے بہت سارے نمونے ہیں جو سیاسی شخصیات، اہم ادارے کے عہدیداران اور سنئیر افسران کا ناصرف بچہ کہلانا پسند کرتے ہیں بلکہ خود مشہور کرتے ہیں کہ وہ فلاں کا تعلق دار ہے اور دوسری طرف باقی افسران کے ساتھ ”تم“ کہہ کر بات کرتے ہیں۔

    میں نے اسے بتایا کہ بھائی افسران کی تو مجبوری ہے کہ وہ تم اور بائی نام بلانے والوں کو منہ پر جواب نہیں دے سکتے پیچھے ضرور گالیاں دیتے ہیں کہ گھٹیا انسان کو بولنے کی تمیز نہیں۔
    میں تو زیروٹالرینس کا عادی ہوں جو جس لہجے میں بات کرے اسی لہجے میں جواب دیتا ہوں۔
    احترام سے بلائے تو ڈبل احترام، چکڑ چوہدری بنے تو اسی کے لہجے میں ”اوئے توئے“
    میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ٹیلیفونک کال کے حوالے سے ذکر کیا تھا
    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کیا حال ہے۔
    میں نے کہا کہ الحمد اللہ۔
    وہ دوبارہ مخاطب ہوا۔۔کہاں گم ہو تم آج کل؟
    میں نے کہا جی۔۔۔
    اس نے دوبارہ رپیٹ کرتے ہوئے بھائی کا اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تم کہاں لاپتہ ہو
    میں نے کہا کہ یہیں، کہاں جانا، تم سناؤ
    اس دفعہ سرپرائز ہونے کی باری اس کی تھی
    ذرا شرمندہ ہوتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوا۔۔۔ تو چھوٹا بھائی ہے
    میں نے پھر ریپلائی کیا۔۔۔۔ تیری مہربانی ہے اگر تو سمجھتا ہے تو۔اگر تم بھائی سمجھتے ہو تو میں بھی تمہیں بالکل ویسے ہی سمجھتا ہوں۔
    وہ سمجھ گیا اور فوری تم سے آپ پر آگیا۔
    ایسے ہی ایک دفعہ ایک اور خودساختہ سنئیر کو ”شٹ اپ“ کال دے کر بلاک کیا۔

    ہمارے ہاں روٹین میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ اپنا چھوٹا بھائی ہے، تابعدار ہے اپنا، برخوردار ہے، بچہ ہے اپنا۔
    اگر کوئی آپ کی عزت کرتا ہے تو اس کو ڈائجسٹ کرنا سیکھیں نا کہ اس طرح کی فضولیات بکنا شروع کردیں۔
    ایم پی اے، ایم این اے، منسٹر، بیوروکریٹ، جج، اینکر، کالم نویس، آرمی آفیسر یا بزنس ٹائیکون غرض اگر آپ کسی بھی اچھی جگہ ہیں تو ہر کوئی آپ کا رشتہ دار ہے۔ضروت طے کرتی ہے کہ اس نے کس کو، کونسا رشتہ دینا ہے اور مشہور کرنا ہے کہ فلاں تو میرا چاچا، ماما، پھوپھا ہے حتٰی کہ بوقت ضرورت اسے بہنوئی اور تایا ابو بھی بنا لیتے ہیں تایا مجبوری کی وجہ سے لگاتے ہیں ورنہ وہ ابو کہنے کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔

    ہمیں اس منافقت اور احساس کمتری سے باہر نکلنا ہو گا خود کو اہم ثابت کرنے کیلئے دوسروں کو ان کو غیر موجودگی میں نیچا دکھانا چھوڑ دیں۔جیسی عزت آپ منہ پر کرتے ہیں ویسی ہی عزت انکی غیر موجودگی میں کریں۔ اہم کا وہم پالے ہم اس قدر احسان فراموش اور بے شرم ہوجاتے ہیں کہ اپنے ہی دوستوں اور رشتہ داروں کو پہچاننے سے انکاری ہوتے ہیں۔جس سے آپکی متعدد ملاقاتیں اور تعلق ہو لیکن اس کی غیر موجودگی میں اس طرح ڈرامے کریں گے کہ جیسے اسے جانتے ہی نہیں۔
    آج کے دور میں کوئی بھی برخوردار اور تابعدار کہلانا تو دور، بھائی یا صاحب جیسے تکریمی القابات کے بغیر ڈائریکٹ بائی نام بلانا بھی توہین اور گستاخی سمجھتا ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کی طرف آئیے عزت کریئے اور عزت کروائیے۔

    ملک سلمان

  • خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نوازشریف نے 1985ء میں ترقی کے سفر کی بنیاد رکھی ،آج تک جاری ہے
    پاکستان میں کئی لیڈرآئے اور گئے،قوم کو نواز شریف جیسا کوئی نہ مل سکا
    ٹرمپ غیر مسلم،اللہ پر یقین پختہ،ہم مسلمان ہوکر اللہ کی جانب راغب کیوں نہیں ہوتے
    تجزیہ،شہزا د قریشی

    قوموں کے عروج و زوال ترقی و تنزلی میں قائدین کا اہم کرادر ہوتا ہے،قوموں کی ترقی میں قائدین کی بصیرت اور حکمت عملی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،جو قائدین اپنی قوم اور ملک کے لئے فکر مند ہوں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ قوم بھی اپنے قائدین کی قدر اور ان پر اعتماد کرے،بلاشبہ وطن عزیز میں ایسے قائدین رہے ہیں جنہیں ملک وقوم کی فکر تھی، جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے تھے،وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی دیکھنا چاہتے تھے، آج کی سیاست میں اقتدار ،اختیارات ،غرور وتکبر ،ہوس زر کے پیچھے بھاگتی نظر آتی ہے،ماضی میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک و قوم کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا،1985 ء سے شروع ہونے والا تعمیر وترقی کا یہ سلسلہ تین بار وزارت عظمیٰ تک جاری رہا ،نواز شریف کابطور وزیراعظم تعمیر و ترقی میں بلوچستان اور گلگت بلتستان تک جاری رہا، گلگت بلتستان کو شناخت دی ، تعمیر وترقی کے لئے بجٹ مختص کیا،بجٹ میں اضافہ کیا ، جس سے گلگت بلتستان کی عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئی، جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی سطح کے فیصلے کرنا شروع کئے ہیں،دنیا میں افراتفری کا سماں ہے تاہم امریکی عوام ٹرمپ کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں،ٹرمپ کی زندگی کی کہانی اور ان کی جدوجہد کئی عشروں سے لوگوں کے سامنے ہے، ٹرمپ ونڈر فل سیاستدان ہونے کے ساتھ ونڈر فل کرسچین بھی ہیں ، ان کے کان کے نزدیک گولی گزری تو کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے بچایا ،ہر فیصلے کے بعد ٹرمپ کی زبان پرGOD HELP ME ہوتا ہے،روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طے ہونے والے ہیں بلکہ بہت ہی قریب ہیں، ایران کو امریکہ نے دھمکی ضرور دی ہے تاہم ایران کے تین یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات جنیوا میں جاری ہیں، اندازہ ہے کہ امریکہ اور ایران بات چیت سے اپنے مسائل حل کرلیں گے