Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر
    شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
    عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد اور انقلابی منصوبہ "مریم کی دستک” متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان شہریوں کے لیے نہایت مفید ہے جو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے قاصر ہیں یا جنہیں وہاں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "مریم کی دستک” کے ذریعے حکومت نے نہ صرف اپنی خدمات کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچایا ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو سہولت بخش بھی بنایا ہے۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا منصوبہ ہے جو 65 سے زیادہ سرکاری خدمات کو موبائل ایپ اور ویب پورٹل کے ذریعے شہریوں کی دہلیز پر فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو سرکاری دفاتر میں وقت اور وسائل ضائع کرنے سے بچانا اور تمام ضروری خدمات کو ان کے گھر تک پہنچانا ہے۔یہ منصوبہ درج ذیل اہم خدمات فراہم کرتا ہے:
    1. ڈومیسائل سرٹیفکیٹ2. ایف آئی آر کی کاپیاں
    3. پیدائش کے سرٹیفکیٹس4. لرنرز ڈرائیونگ لائسنس
    5. ای-اسٹیمپنگ
    یہ خدمات عوام کے لیے نہایت کارآمد ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو اپنے کام کے دوران وقت نہیں نکال سکتے یا جنہیں نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔یہ منصوبہ خواتین اور بزرگوں کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ خواتین جو گھریلو کاموں یا بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتی ہیں، اکثر سرکاری دفاتر جانے کے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ بزرگ افراد، جن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا یا دفتر پہنچنا مشکل ہوتا ہے، بھی اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے مددگار,وہ افراد جو نوکریوں یا کاروبار کے سلسلے میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں، اکثر سرکاری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ "مریم کی دستک” نے ان کے لیے خدمات کا حصول آسان بنا دیا ہے۔ اب وہ موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں اور تمام خدمات ان کے گھر تک پہنچائی جاتی ہیں۔

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا انقلابی استعمال
    "مریم کی دستک” ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمت کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ موبائل ایپ اور ویب پورٹل کا استعمال حکومت کی جانب سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف عوام کے لیے وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں رش کو بھی کم کرتا ہے۔

    سرکاری دفاتر کی مشکلات کا خاتمہ
    ماضی میں، سرکاری دفاتر میں طویل قطاروں، وقت کی بربادی، اور عملے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی شکایات عام تھیں۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے "مریم کی دستک” متعارف کرائی گئی ہے، جو ان تمام مشکلات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

    بدعنوانی کا خاتمہ
    اس منصوبے کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے سرکاری خدمات میں بدعنوانی کے امکانات کو ختم کیا ہے۔ اب عوام براہ راست خدمات حاصل کرتے ہیں، جس سے درمیانی افراد کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اور بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔

    معاشی فوائد
    "مریم کی دستک” نہ صرف عوام کے وقت کی بچت کرتی ہے بلکہ ان کے مالی وسائل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے، لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے تمام ضروری خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

    چیلنجز اور ان کا حل
    ہر نئے منصوبے کی طرح "مریم کی دستک” کو بھی چند چیلنجز کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنا ضروری ہے:
    1. ڈیجیٹل خواندگی
    دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ اکثر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہوتے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
    2. انٹرنیٹ کی دستیابی
    دیہی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ناکافی ہے، جو اس منصوبے کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حکومت کو انٹرنیٹ کی رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔
    3. سائبر سیکیورٹی
    ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کو شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
    "مریم کی دستک” بلاشبہ ایک انقلابی اقدام ہے جو حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف عوام کی زندگیوں کو آسان بنایا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی بحال کیا ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو مزید وسعت دے اور دیگر خدمات کو بھی اس نظام کا حصہ بنائے۔ مزید برآں شہریوں کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مناسب مہمات چلائی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا ماڈل ہے جسے دوسرے صوبے اور ادارے بھی اپناتے ہوئے اپنی خدمات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ اقدام عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مثالی ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تعبیر کی جانب اہم قدم ہے۔

  • انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت

    انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت

    انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    آج 10 دسمبر ہے، انسانی حقوق کا عالمی دن۔ دنیا بھر میں یہ دن اقوام متحدہ کے 1948 میں منظور کیے گئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریریں، سیمینارز، اور واکس کا انعقاد ہوتا ہے۔ لوگ انسانی حقوق کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہیں، ان کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہیں اور معاشرتی انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حقوق عملی طور پر کب فراہم ہوں گے؟ کیا انسانی حقوق صرف تقریبات اور وعدوں تک محدود رہیں گے یا ہم کبھی انہیں حقیقت میں نافذ کرنے کے قابل ہوں گے؟

    انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال:
    پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ تعلیم، صحت، اظہار رائے، مذہبی آزادی، خواتین اور بچوں کے حقوق اور مزدوروں کے تحفظ جیسے بنیادی مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ عوام کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جبکہ ریاست کی جانب سے ان مسائل کو حل کرنے کے وعدے اکثر سیاسی بیانات تک محدود رہتے ہیں۔

    1. تعلیم اور صحت کے حقوق:
    آئین پاکستان ہر شہری کو مفت تعلیم کا حق دیتا ہے لیکن ملک میں لاکھوں بچے آج بھی سکول جانے سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں سکولوں کی کمی، ناقص تعلیمی نظام اور والدین کی غربت اس مسئلے کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، مہنگی ادویات اور طبی عملے کی کمی عوام کو معیاری صحت کی سہولت سے محروم رکھتی ہے۔

    2. خواتین اور اقلیتوں کے حقوق:
    پاکستان میں خواتین اور اقلیتیں سماجی، مذہبی، اور قانونی امتیازات کا سامنا کرتی ہیں۔ خواتین کو گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی اور تعلیم و ملازمت کے مواقع سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح اقلیتیں جنہیں آئینی طور پر برابر کے حقوق حاصل ہیں، عملی طور پر مذہبی تعصب اور تشدد کا شکار ہیں۔
    3. اظہار رائے کی آزادی
    جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی بنیادی حیثیت رکھتی ہے لیکن پاکستان میں صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو سنسرشپ، دھمکیوں اور حملوں کا سامنا ہے۔ میڈیا پر دباؤ اور سوشل میڈیا کی نگرانی نے آزادی اظہار کے تصور کو محدود کر دیا ہے۔

    4. بچوں کے حقوق
    پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد چائلڈ لیبر، جبری مشقت اور استحصال کا شکار ہے۔ تعلیم کے حق سے محروم یہ بچے کم عمری میں ہی غربت کی چکی میں پسنے لگتے ہیں جبکہ قانون کا نفاذ اس حوالے سے ناکافی ہے۔

    انسانی حقوق کے مسائل کی وجوہات:پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کئی وجوہات ہیں
    1. حکومتی غفلت: حکومت کی ناکامی انسانی حقوق کے مسائل کا بنیادی سبب ہے۔ پالیسیاں بنائی جاتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
    2. سماجی رویے:معاشرتی تعصبات اور روایات انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
    3. معاشی مسائل: غربت، بیروزگاری، اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فروغ دیتی ہے۔
    4. قانونی کمزوری: قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہونا مسائل کو بڑھاتا ہے۔

    انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے تجاویز:انسانی حقوق کے عملی نفاذ کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں
    1. قانونی اصلاحات اور عملدرآمد: حکومت کو چاہیے کہ انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔ عدلیہ کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم ہو سکے۔
    2. تعلیم اور شعور کی بیداری .عوام میں انسانی حقوق کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو اس حوالے سے اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
    3. سماجی رویوں میں تبدیلی .معاشرتی تعصبات اور دقیانوسی سوچ کو ختم کرنے کے لیے آگاہی مہمات شروع کی جائیں۔ یہ مہمات انسانی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
    4.معاشی مسائل کا حل.غربت کے خاتمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے حکومت کو معاشی پالیسیوں پر توجہ دینی ہوگی۔ بیروزگاری کم کرنے اور سماجی بہبود کے پروگرامز متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
    5. بین الاقوامی تعاون .انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے عالمی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے اور ان کے فراہم کردہ وسائل اور رہنمائی کا فائدہ اٹھایا جائے۔

    انسانی حقوق کا عالمی دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور انہیں ان کے حقوق اور آزادیوں کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ لیکن یہ حقوق صرف تقریبات یا وعدوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ انسانی حقوق کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے لیکن اگر نیت اور عمل مخلص ہو تو ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

  • لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ارشد انصاری کا شمار پاکستان کے ان ممتاز صحافیوں میں ہوتا ہے،جنہوں نے نہ صرف صحافت کے میدان میں بے مثالی خدمات انجام دیں بلکہ پریس کلب کی فلاح و بہبود اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور ان کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی رہا ہے۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ایک تجربہ کار اور متحرک صحافی ہیں جنہوں نے کلب کی بہتری اور صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ لاہور پریس کلب کے انتخابات میں جرنلسٹ پروگریسو گروپ کے امیدوار کے طور پر دوبارہ منتخب ہوئے، جس میں انہوں نے صدارت کی سیٹ پر 984 ووٹ حاصل کیے۔ ان کی قیادت اور کام کی وجہ سے کلب کے اراکین نے ان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کیا​​​​۔ارشد انصاری کی خدمات کا دائرہ وسیع اور ہمہ جہت ہے۔ ان کے دور میں کلب میں درج ذیل نمایاں تبدیلیاں اور اصلاحات دیکھنے کو ملیں ،انتظامی اصلاحات اور سہولیات میں اضافے کے طور ،پریس کلب کی لائبریری کو جدید ای-لائبریری میں تبدیل کیا گیا، جہاں کمپیوٹرز اور کیمرے نصب کیے گئے اور دو لاکھ سے زائد ای-بکس کے ساتھ نئی کتابیں مہیا کی گئیں​​۔ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔کئی سالوں بعد کلب کی عمارت کی تزئین و آرائش کی گئی، اور اہم مقامات جیسے کیفے ٹیریا اور لائبریری میں ایئر کنڈیشنز نصب کیے گئے​​۔کلب کے کیفے ٹیریا کے معیار میں بہتری لائی گئی، جہاں کھانے کے معیار اور سہولیات کو اپ گریڈ کیا گیا۔رمضان کے موقع پر خصوصی محفل حسن قرأت و نعت کا اہتمام کیا گیا، اور ممبران کو عمرے کے ٹکٹس فراہم کیے گئے​​۔خواتین ممبران کے لیے خصوصی ٹورز کا اہتمام کیا گیا، جو پریس کلب کی تاریخ میں ایک نمایاں قدم ہے۔اندرون سندھ اور کراچی کے مطالعاتی دورے بھی کرائے گئے، جو صحافیوں کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اہم ہیں​​۔ارشد انصاری کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا ان کی قیادت کی کامیابیوں اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی سربراہی میں کلب میں کی گئی اصلاحات نے ممبران کو بہتر سہولیات فراہم کیں، اور صحافتی برادری کی حمایت حاصل کی۔ 2023 کے انتخابات میں ان کے پینل نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جس میں زاہد عابد نے سیکرٹری، اور دیگر عہدوں پر ان کے پینل کے امیدوار بھی کامیاب رہے​​​​۔ارشد انصاری کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے:صحافیوں کے لیے مزید سہولیات کی فراہمی۔ممبران کی رکنیت سے جڑے مسائل کا حل۔کلب کو مزید جدید اور مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا۔ارشد انصاری کی قیادت نے لاہور پریس کلب کو ایک متحرک اور جدید ادارہ بنایا ہے۔

    ارشد انصاری کی حالیہ کامیابیوں میں سے ایک سب سے اہم کارنامہ وہ فیز 2 کے حوالے سے 200 ایکڑ اراضی کی منظوری ہے جو انہوں نے صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کے قیام کے لیے حاصل کی۔ یہ زمین صحافیوں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جو کئی دہائیوں سے رہائشی مسائل سے دوچار تھے۔ اس منصوبے کے تحت صحافیوں کو مناسب قیمت پر پلاٹ فراہم کیے جائیں گے، جو ان کی مالی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ارشد انصاری کے ویژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر صحافی کو ایک محفوظ اور پرسکون رہائش فراہم کی جائے۔ یہ کالونی نہ صرف رہائشی ضروریات کو پورا کرے گی بلکہ ایک جدید طرز زندگی کے مطابق تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے گی، جن میں تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز، پارکس، اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔ارشد انصاری کو اس ہاؤسنگ کالونی کے منصوبے کی تکمیل کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بیوروکریٹک رکاوٹوں، مالی مسائل، اور زمین کے حصول کے پیچیدہ عمل کے باوجود انہوں نے اپنی قیادت اور عزم سے ان مسائل کو حل کیا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر اس منصوبے کی منظوری کو یقینی بنایا۔ان کی خدمات، اختراعی اقدامات، اور ممبران کے ساتھ مؤثر رابطے نے انہیں صحافی برادری کے لیے ایک مثالی رہنما ثابت کیا ہے۔ ان کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کلب کی بہتری کے لیے مسلسل پرعزم ہیں۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ صحافیوں کے اعتماد اور کلب کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ارشد انصاری کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی قیادت کی صلاحیت ہے۔ وہ ایک وژنری لیڈر ہیں جو نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ ان کی ایمانداری، جرات، اور صحافیوں کے ساتھ ہمدردی نے انہیں صحافی برادری میں ایک خاص مقام عطا کیا ہے۔ارشد انصاری کی خدمات نہ صرف صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں بلکہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ جب ایک رہنما عزم اور خلوص کے ساتھ کام کرتا ہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ 200 ایکڑ اراضی کی منظوری اور ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ان کی محنت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے ان کی غیر معمولی جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی حوالے ممبران لاھور پریس کلب نے آئندہ پریس کلب الیکشن میں ارشدانصاری کو دوبارہ صدر بنوانے کا عزم کیا ہے،کیونکہ ان کے اقدامات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے صحافیوں کے لیے بھی یادگار رہیں گے۔

    shahid naseem

  • کیوں نا چنیں واہ راستہ .تحریر:شاہدہ مجید

    کیوں نا چنیں واہ راستہ .تحریر:شاہدہ مجید

    مدھر سریلی آواز ، خوبصورت سجیلا وجیہہ گلوکار،مبلغ،نعت خواں ……
    جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو طیارہ حادثہ میں دنیائے فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی یادیں مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں
    جنید کی پوری زندگی کا گلوکاری سے لے کر نعت خوانی تک کا سفر شاندار رہا، انکا دل دل پاکستان بھی دلوں کو گرماتا رہا اور ان کی نعت ’محمد کا روزہ قریب آرہا ہے‘ بھی دلوں میں گدازپیدا کرتا رہے گی

    اللہ کریم جب کسی سے بہت خوش ہوتا ہے اور اسے کچھ بہت خاص نوازنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے دین کی سمجھ عطا کرتاہے۔ ہدایت کی سعادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی بھی نعمت بن مانگے عطا کردیتا ہے مگر ہدایت اس سے مانگنا پڑتی ہے۔ ہدایت نصیب کی بات ہے بلکہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ ایسے ہی نصیب والوں میں اک نام جنید جمشید کا بھی شامل ہے۔ جنید انتہائی بلند نصیب والے انسان تھے جب گلوکاری کرتے تھے تب بھی شہرت کے بام عروج پر رہے اور جب عشق نبی میں مغلوب و سرشار ہوکر نعت خواں بن گئے توبھی اللہ کریم نے ان کے نام کو چار چاند لگا دیئے۔ گلوکاری سے نعت خوانی اور نعت خوانی سے تبلیغ اور تبلیغ سے شہادت تک کا یہ سفر محبت، عبادت اور سعادت کا سفر تھا۔ جنید جمشید کے بارے میں سوچو تو رشک آتا ہے کہ ان کے سفر حیات سے سفر آخرت تک قسمت ان پر کتنی محبت سے مہربان رہی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر دور میں توجہ اور محبتیں سمیٹیں ۔ آزمائشوں سے بھی گزرے مگر پھر بھی ان کی زندگی کا ہر دور ہی ان کےلئے وجہ شہرت بنا۔بظاہر ان کی زندگی کا سفر حویلیاںکی پہاڑیوں پر ختم ہوگیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گزشتہ برس 7دسمبر کو چترال سے جماعت کی نصرت کے بعد واپس اسلام آباد آرہے تھے تو ان کا جہاز تباہ ہوکر پہاڑی سے جاٹکرایا۔ جنید جمشید سمیت اس حادثے میں سوارتمام مسافر بھی شہید ہوگئے۔ ان تمام انسانی جانوںپر جتنا بھی افسوس کیا گیا یا کیا جائے گا، کم ہے کہ جانیں تمام ہی قیمتی ہوتی ہیں لیکن اس حادثے کے بعد تمام فوکس جنید جمشید کی شہادت پر رہا۔ تمام ملک ایک صدمے کی کیفیت میں ڈوب گیا بلکہ اس دکھ اور رنج کی لہریں دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے محسوس کیں اور کئی روز تک ٹی وی چینلز کے شوز میں اور لوگوں کے دل اور ذہنوں میں صرف جنید جمشید ہی چھائے رہے۔ ان کی زندگی کے تمام پہلو زیرموضوع رہنے لگے۔ ہر آنکھ نم اور ہر دل افسردہ ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے؟ کیوں جنید کو اس قدر محبت اور توجہ ملی۔ اس کو جاننے کے ئے جنید کی زندگی کی کہانی کو ایک بارپھردہراتے ہیں۔

    روداد حیات
    3ستمبر1964ءکو پیدا ہونے والے جنید جمشید کی 52سالہ زندگی نشیب و فراز اور جدوجہد سے عبارت رہی۔ جنید جمشید کے والد کا تعلق پاکستان ائیرفورس سے ہونے کے باعث ان کے والد نے کوشش کی وہ بھی اسی شعبے سے وابستہ ہوں۔ جنید نے لاہور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور پاک فضائیہ میں بطور کنٹریکٹراپنی سروس کا آغاز کیا۔ جنید کو دور طالب علمی سے ہی موسیقی سے لگاﺅ تھا۔ دوستوں کے ساتھ مل کر میوزیکل بینڈ بھی تشکیل دے دیا اور گلوکاری کرنے لگے۔ جنید جمشید نے اپنے بارے میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ گلوکاری میں منصوبہ بندی سے نہیں آئے بلکہ روحیل حیات کی ان پر نظر پڑ گئی جب انہیں ایک جگہ پر گاتے ہوئے سنا تو انہیں اپنے ساتھ گانے کی دعوت دی اور پھر انہیں گائیکی کی ایسی تربیت حاصل ہوئی کہ نامور موسیقار سہیل رعنا تک انہیں بے حد سراہنے پر مجبور ہوگئے۔
    وائٹل سائنز میوزیکل گروپ انہوں نے 1980 کے عشرے میں بنایا جس میں جنید جمشید مرکزی گلوکار اور روحیل حیات اور سلمان احمد موسیقاروں میں شامل تھے۔ وائٹل سائنز کے گانوں کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور جب 1987 میں جنید جمشید نے دل دل پاکستان گایا تو یہ نغمہ ہر دل کی دھڑکن میں سما گیا اور پھرجنید کی شہرت کے ڈنکے چاروں طرف بجنے لگے۔ اس وقت کوئی ٹی وی پروگرام، ٹاک شو یا میوزیکل پروگرام ایسا نہ ہوگا جس میں اس نغمے کا ذکر نہ ہوتا ہو۔ ٹی وی سے لے کر نجی تقریبات، شادی بیاہ تک ان کا یہ ملی نغمہ چھایا رہا۔ یوم آزادی اور دیگر قومی دنوں پر اس نغمے کی دھنیں بجانا لازمی بن گیا۔
    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دل دل پاکستان دنیا کے پراثرترین قومی نغموں میں بھی شامل ہے جسے پاکستان کا دوسرا قومی ترانہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جنید جمشید کو 2007 میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ وائٹل سائنز نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور بہترین دھنیں پیش کیں۔90ءکے عشرے میں یہ گروپ باہمی اختلافات کا شکار ہوا لیکن جنید جمشید نے اپنا فنی سفر جاری رکھا۔ یہ خوبصورت سجیلا، وجیہہ و رعنا نوجوان ہر کسی کی نظروں سے دل میں جذب ہوتا گیا اور اس کی سریلی مدھر آواز ہر سماعت میں رس گھولتی گئی۔ اس کے گانوں کی شاعری کمال کی ہوتی اور اکثر گانوں کی شاعری میں سننے والوں کےلئے مثبت پیغام ہوا کرتے تھے۔’سانولی سلونی تیری جھیل سی آنکھیں‘ جیسے کئی نغمات سماعتوں میں رس گھولتے رہے۔

    ایک نیا سفر
    پھر اچانک جنید کاحلیہ اور طرززندگی بدل گیا بلکہ جنید کا دل بدل گیا۔ بقول جنید جمشید کہ وہ فائر فائٹربنناچاہتے تھے مگر نہیں بن سکے۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے مگر نہیں بن سکے، وہ گلوکار نہیںبننا چاہتے تھے مگر گلوکاربن گئے۔ گلوکار ی سے انہیں عزت، شہرت، محبت اور دولت سب کچھ ملا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اتنی عزت و پذیرائی کے باوجود انہیں اپنے اندر کسی کمی کا احساس ہوتا تھا۔ یہی بے چینی اور بے قراری انہیں دین کی طرف کھینچ لے گئی اور بالآخر ان کے اندر کا ضطراب ایک روحانی انقلاب میں بدل گیا۔ اس تبدیلی پر کئی بار گفتگو کے دوران ایک واقعے کا بھی ذکر کرتے تھے کہ ایک میوزیکل شو کےلئے ان کی کار کی ٹکر سے ایک کتا جان سے چلا گیا۔ انہوں نے کار سے اتر کر کتے کو سڑک سے ہٹایا اور قریب ایک خالی پلاٹ میں دفن کردیا اور اللہ کو گواہ بنایا کہ وہ اپنی زندگی کوتبدیل کرلیں گے۔

    جنید جمشید جب تک گلوکار تھے تب تک نوجوانوں اور بچوں کے دل میں بستے تھے جب گلوکاری چھوڑ کر دین کے لئے وقف ہوگئے تو ہر بچے، بڑے، نوجوان، بوڑھے غرض ہر انسان کے دل میں گھر کر گئے۔ جنید ایک انتہائی باوقار، بلند اخلاق اور مخلص انسان تھے۔ اخلاق اور اخلاص ان کی ہر ادا میں نظر آتا تھا۔ سعادت ان کی پیشانی پر لکھی تھی۔ قسمت روزاول سے مہربان تھی۔ اللہ کریم نے انہیں حسن وجاہت، دولت و شہرت جیسی نعمتوں سے تو پہلے ہی نواز رکھا تھا پھر دین ہدایت کی محبت دے کر اپنے خصوصی فضل سے نواز دیا اور جنید نے بھی راہ ہدایت پر قدم بڑھا دیے تو پھر پلٹ کر نہ دیکھا ۔ شہرت کی پرواہ کی نہ دولت کی۔ اللہ کے رستے پر چلنا اتنا آسان نہیں ہوتا اس رستے پر شیطان کے بہکاوے اور شاطرانہ چالیں بھی پیچھا کرتی ہیں۔ انسانوں کے دل شکن رویے اور کئی کئی طرح کی رکاوٹیں اور آزمائشیں بھی آتی ہیں اور یہ اللہ کا اپنے بندے سے امتحان بھی ہوتا ہے کہ وہ دی ہوئی نعمت کی قدر اور حفاظت کیسے کرتا ہے۔ آیا وہ استقامت سے نبھاتا ہے یا نہیں اور جنید نے استقامت اور اخلاص کا بہترین مظاہرہ کرکے دکھایا۔عجز و انکساری اور خوش اخلاقی کے علاوہ جنید جمشید کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبصورتی اور خوبی ان کی برداشت کرنے کی خوبی تھی۔ اس سفر میں اسی خوبی کی وجہ سے وہ ہر مصیبت اور تکلیف دہ سلوک اور ناروا رویوں کو بہت خوش اسلوبی اور خندہ پیشانی سے جھیل گئے۔
    راہ حق کے سفر میں کئی تنازعوں کاشکار ہوگئے۔ ملامت اور بدسلوکی کی گئی، طعنوں اور گالیوں سے نوازا گیا مگر آفرین ہے اس اعلیٰ اخلاق کے مالک آہنی اعصاب کے مرد ابریشم اور مخلص و عاجز و منکسر انسان پر کہ پلٹ کر کسی کو جواب نہیں دیا بلکہ معافیاں مانگتے رہے اور دلوں کو جوڑنے کی فکر میں رہے تاکہ رب کے ساتھ اپنا معاملہ درست رکھ سکیں۔ان کے منہ سے کبھی بین المسلکی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے والے الفاظ نہیں نکلے۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس ان کے کوسٹار وسیم بادامی بار بار میڈیا پروگرامز میں گواہی دیتے رہے کہ میں روایتی انداز میں نہیں کہہ رہا جیسے کہ مرنے والوں کےلئے اچھے جملے بولے جاتے ہیں، میں پورے ہوش و حواس سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر گواہی دے رہا ہوں کہ خدا کی قسم میں نے جنید جمشید سے زیادہ اچھا انسان اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا اور ہم پانچ برس اکٹھے کام کرتے رہے ان پانچ سالوں میں، میں نے انہیں پانچ سکینڈ بھی کسی کی غیبت کرتے ہوئے نہیں سنا۔جنید توڑنے والوں میں سے نہیں بلکہ جوڑنے والوں میں سے تھے وہ ہمیشہ دلوں کو جوڑنے میں لگے رہے۔ اس سفر میں کسی ملامت نے انہیں بددل نہیں کیا بلکہ وہ اپنی عاقبت سنوارنے اور دین کی تبلیغ کرنے میں استقامت سے مصروف رہے جب ان کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کئے جاتے تھے تب دل میں خیال آتا کہ شاید اب جنید جمشید اپنے فیصلے پر پچھتاتے ہوں گے۔ ایسے ہی وقتوں کی بات ہے کہ ایک میڈیا پرسن نے ان سے سوال کر ڈالا کہ کیا آپ کے دل میں کوئی پچھتاوہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ پچھتاوہ کیسا بلکہ بے انتہا خوش ہوں، اتنا خوش ہوں کہ کوئی مصیبت آ بھی جائے تودل میں اللہ سکون بھر دیتا ہے۔

    کلین شیو جنید پر کبھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا جب جنید دین کی طرف آئے تو ان پر اعتراضات کے دفتر کھول دیئے گئے، کبھی کسی قول کو لے کر کبھی کسی بیان اور کبھی کاروباری تنقید، تاہم جنید نے اپنی زندگی نے ہر دور میں صبر و تحمل اور رواداری کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ جنید کی پوری زندگی کا گلوکاری سے لے کر نعت خوانی تک کا سفر شاندار رہا۔ انکا دل دل پاکستان بھی دلوں کو گرماتا رہا اور ان کا نعتیہ کلام ’میرادل بدل دے‘ رویے بھی دلوں کو گداز کرتا رہے گا۔ کہاں دنیاوی شان و شوکت سے آراستہ زندگی اور کہاں پھر دین کی تبلیغ اور مبلغ بن کر گزارے جانے والی عجزوانکساری والی زندگی۔ کہاں جینز گٹار والا جنید اور کہاں داڑھی اور ٹوپی، تسبیح اور نور سے روشن چہرے والا جنید جمشید۔ بس یہی وہ خوبی اور قربانی جس نے جنید کو سب سے ممتاز کردیا اور اس کی استقامت صبرواخلاق نے دلوں کو فتح کرایا جو شخص خود کو اللہ کے راستے میں وقف کردے بلکہ فنا کردے تو پھر ایسے ہی دنیا بھر کی تمام عزتیں، برکتیں اس کا حصار کر لیتی ہیں۔ یہی ہمیں سمجھا گیا گزشتہ برس شہادت کا رتبہ حاصل کر کے جہان فانی سے رخصت ہونے والا جنید جمشید۔ ان کی زندگی نوجوانوں اور بزرگوں سب کےلئے قابل تقلید ہے۔ وہ موسیقی کے دلدادہ افرادکے دلوں میں بھی زندہ رہے گا اور آخرت کی فکر کرنے والوں کا محبوب بھی رہے گا۔

  • کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    سعید آسی اردو ادب کاوہ معتبر نام ہے، جو اپنی متنوع تحریری صلاحیتوں کی بنا پر ادب، صحافت اور تحقیق میں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ ان کا سفرنامہ "کس کی لگن میں پھرتے ہو” نہ صرف ایک کتاب ہے بلکہ ایک ایسا تخلیقی آئینہ ہے جو قارئین کو مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے خطوں کی تہذیب، ثقافت، اور تاریخ کے حسین رنگ دکھاتا ہے۔ یہ سفرنامہ ایک ادیب کی خالص جمالیاتی حس اور محقق کی باریک بینی کا حسین امتزاج ہے، جس نے قارئین کو ان ممالک کے دلکش مناظر اور منفرد پہلوؤں سے روشناس کرایا۔کتاب کا عنوان "کس کی لگن میں پھرتے ہو” ایک شعری کیفیت اور فلسفیانہ گہرائی کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف سفر کے ظاہری پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے باطنی معنی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ نام قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید یہ سفر صرف مقامات کے بیچ کا نہیں بلکہ ایک روحانی، فکری، اور تہذیبی جستجو بھی ہے۔سعید آسی صاحب کی نثر کا کمال یہ ہے کہ وہ سادہ مگر موثر الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کا یہ سفرنامہ بھی اس خوبی کا آئینہ دار ہے۔ ان کی تحریر کا بہاؤ اور مناظر کی جزئیات نگاری قارئین کو ان کے ساتھ ہر لمحہ محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ نہ صرف مناظر کی تصویر کشی کرتے ہیں بلکہ مقامی افراد کے رہن سہن، ان کے خیالات اور اقدار کو بھی نہایت گہرائی سے پیش کرتے ہیں۔

    سعید آسی سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ہمراہ 1990ء میں مالدیب گئے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ سفرنامے کا پہلا باب ’’کالا پانی‘‘ پر مشتمل ہے۔ جس میں سعید آسی نے کالا پانی کی سزا پر دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔
    سعید آسی مالدیپ کے نیلگوں پانیوں، شفاف ساحلوں اور قدرتی حسن کی شاندار تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ مقامی باشندوں کی سادگی، مہمان نوازی، اور مالدیپ کے منفرد ثقافتی ورثے کو بڑی محبت اور احترام سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مشاہدات نہ صرف سیاحتی مقامات تک محدود تھے بلکہ وہ ان جزائر کی تہذیب اور اس کی روحانی گہرائی میں بھی جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    برونائی کا سفر سعید آسی نے مارچ 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا۔ سعید آسی نے اپنی کتاب میں ایسے واقعات کو بھی تحریر کیا ہے جو عام مسافروں کو جہاز کے سفر میں پیش آتے ہیں۔برونائی کی شاندار مسجدیں، سلطنت کا انتظام، اور لوگوں کی روحانی وابستگی سعید آسی کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہی۔ وہ برونائی کے عوام کی خوشحالی کو نہ صرف ان کے معاشی نظام بلکہ ان کے روحانی اصولوں سے جوڑتے ہیں۔ وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح یہ چھوٹا سا ملک اپنی دولت کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

    انڈونیشیا کا سفر اس کتاب کے سفرنامے کا آخری حد ہے۔ یہ سفر محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور نصرت بھٹو کے ساتھ طے ہوا۔ اس دورے میں صدرسہارتو سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس عظیم مسلمان لیڈر سے ملاقات کا تفصیلی اور سیر حاصل ذکر بھی سفرنامے بھی موجود ہے۔پاکستان میں کئی لوگوں نے سفرنامے لکھے ہیں لیکن ’’کس کی لگن میں پھرتے ہو‘‘ ایک منفرد اور دلچسپ سفرنامہ ہے۔ انڈونیشیا کی رنگا رنگی اور تہذیبی تنوع اس سفرنامے کا ایک اہم حصہ ہے۔ سعید آسی نے انڈونیشیا کے مختلف جزائر کی تاریخ، مذہبی ہم آہنگی، اور ان کی ثقافتی رنگینی کو اپنی نثر میں بڑی مہارت سے پیش کیا۔ وہ انڈونیشیا کے اسلامی ورثے کو خاص طور پر اجاگر کرتے ہیں اور اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔یہ کتاب ایک عام سیاحتی سفرنامے سے بڑھ کر ایک فکری اور تہذیبی جستجو کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ سعید آسی کا مشاہدہ محض خارجی دنیا تک محدود نہیں بلکہ وہ ان ممالک کے لوگوں کے جذبات، ان کی امنگوں، اور ان کی زندگی کی قدروں کو بھی گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔”کس کی لگن میں پھرتے ہو” صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ کتاب قارئین کو سفر کے ظاہری لطف کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف خطوں کی تہذیبی گہرائی اور روحانی تعلق کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سعید آسی اپنے قارئین کو بتاتے ہیں کہ سفر صرف جگہوں کا بدلنا نہیں بلکہ اپنے اندر کی دنیا کو دریافت کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔
    saeed aasi
    سعید آسی کا یہ سفرنامہ اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ان کی یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک خزانہ ہے جو دنیا کو ایک سیاح، ایک محقق، اور ایک روحانی مسافر کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے حسین ممالک کی عکاسی کرتی ہے بلکہ قاری کو ایک ادیب کی دنیا کے حسین سفر پر بھی لے جاتی ہے۔ سعید آسی کی نثر، مشاہدہ، اور فلسفیانہ سوچ ان کے قارئین کے لیے ہمیشہ ایک رہنمائی کا ذریعہ رہے گی۔آسی صاحب کی روزنامہ نوائے وقت کے ساتھ تقریبا پینتالیس برس کی رفاقت ہے۔ اُن کی کتاب ” کس کی لگن میں پھرتے ہو” بہت متاثر کن ہے۔اس کتاب کے منفرداسلوب نے انہیں اور زیادہ محبوب بنا دیا۔ وہ شعر و ادب سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں ، اُن کی اردو شاعری اور پنجابی شاعری کی دو کتابوں سمیت بارہ کتابیں منظر عام پر ہیں ۔ ایک بہت اہم دلچسپ اور منفرد بات یہ ہے کہ سعید آسی صاحب نے اپنی کسی کتاب کے لیے کسی کی رائے اوردیباچہ وغیرہ شامل نہیں کیا۔سعید آسی کے سفرنامے پر مشتمل یہ ایک ایسی کتاب ہے، جو ادب کی دنیا میں اپنی الگ ہی پہچان اور شناخت رکھتی ہے۔ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل جناب علامہ عبدالستار صاحب نے اسے بڑے پیار و محبت کے ساتھ شائع کیا ہے۔اب یہ کتاب دوبارہ دستیاب ہے،آرڈر کرنے کیلئے ـ0515101-300-0092ــ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
    shahid naseem

  • ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ہرن مینار دیکھنے کی خواہش بچپن سے تھی۔۔۔ کبھی موقع ملا نہ فرصت اور جب یہ دونوں ملے تو یاد نہ رہا۔۔۔ سردیوں کے ابتدائی خوش گوار ترین دنوں میں سیر و تفریح کا شوق کچھ بڑھ جاتا ہے۔۔۔ یونہی بیٹھے بٹھائے فیملی سے ہرن مینار کا پروگرام بنانے کو کہا اور سب نے لبیک کہ دیا۔۔۔
    یکم دسمبر کے روشن صبح تین گاڑیوں کا قافلہ لاہور سے شیخوپورہ روانہ ہوا۔۔۔ راستے کے کھیت کھلیان اور فصلوں کی آب و تاب نے سفر کا لطف دوبالا کر دیا۔۔۔ اتوار کا دن اور صبح کا وقت تھا تو ٹریفک کا زور قدرے کم تھا۔۔۔ ٹکٹیں لے کر قدیم تاریخی عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے۔۔۔ مرکزی دروازے سے مینار تک کے فاصلے میں وسیع و عریض باغات ہیں۔۔کچھ آگے ایک بڑا تالاب ہے ، جہاں کشتی رانی کی سہولت ہے۔۔ صبح میں لوگوں کا رش کم تھا ، جو سہ پہر واپسی تک بہت بڑھ گیا۔۔ ہرن مینار کی سیڑھیوں اور تالاب کے وسط میں موجود بارہ دری کو مقفل کیا ہوا تھا ۔۔۔ مینار بہت خستہ حالی کا شکار ہے۔۔۔ ایک پرانا کنواں بھی مقفل تھا ۔۔۔ بادشاہ کے لاڈلے ہرن کی یاد میں تعمیر کردہ مینار کے ساتھ ہی ایک بڑے احاطے میں ، کچھ چلتے پھرتے دوڑتے بھاگتے ہرن بھی دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔ کینٹین بھی مغلیہ طرز تعمیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔۔۔

    قدیم تاریخی عمارتوں کو دیکھنے سے ایک الگ ہی طرح کا احساس دل و دماغ کو جکڑ لیتا ہے۔۔ کچھ دیر کو جیسے نظریں اور دھیان ساکت ہو جاتا ہے۔۔ تخیل اس دور کے شکوہ کی تصویر کشی کرنے لگتا ہے۔۔۔ حال اور ماضی کا ربط اور زمانی فاصلہ کسی فلم کی طرح چلتا محسوس ہوتا ہے ۔۔ ایسی عمارتیں خود بولتی ہیں اور اپنی کہانی سنانے لگتی ہیں ۔۔۔ بس ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے۔۔۔

  • ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    میں قربان .قسط 1
    منیبه کا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا کیونکہ آج ہاؤس وارمنگ پارٹی تھی، شادی کے کئی برس بعد بھی منیبه اور وقاص اپنا خود کا مکان نہیں خرید پاۓ تھے لیکن دو سال قبل مری کے ٹرپ سے لوٹتے وقت بڑی ترنگ میں وقاص نےاپنے بیوی بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ 2021 میں جب دنیا ملینیم سال منائے گی وہ بھی اپنے نۓ گھر میں یادگار جشن منائیں گے،قدرت مہربان تھی کاروبار اچھا چلا اور وعدہ پورا ہوگیا -اس وقت مہمانوں کی آمد سے خوب رونق لگی ہوئی تھی ،وقاص نے گھر کی کشادہ چھت پر بہترین عشائیے کا انتظام کیا ہوا تھا خوبصورتی سے سجی ہوئی کھانے کی ٹیبلز سے زرق برق ملبوسات پہنے مہمان پلیٹوں میں کھانا لے کر اپنی نشستوں پر اینجواۓ کر رہے تھے ،ہر کوئی وقاص کی محنت اور منیبه کے سلیقے کی تعریفیں کر رہا تھا،یہ سلسلہ جاری تھا کہ بیل بجی تو ملازم نے آکر بتایا کہ آرکسٹرا والے آگۓ ہیں-

    کھانے کے بعد غزل کی محفل اور رتجگے کا بندوبست وقاص کی جانب سے اپنے گھر اور سسرال والوں کے لیۓ خصوصی گفٹ تھا ،میوزیشنز کی آمد کی اطلاع پر سبھی کی بانچھیں کھل گئیں لیکن ! وقار ماموں اور ان کی پوری فیملی نے فوری طور پر کھانے سے ہاتھ روکے اور جانے کے لیے کھڑے ہو گۓ منیبه نے ماموں سسر سے درخواست کی کہ کم از کم بچوں کو کھانا تو کھانے دیتے لیکن انہوں نے ناگواری سے جواب دیا کہ "تم لوگوں کو پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ یہ گانے بجانے کی محفل ہے تو ہم آتے ہی نہیں ،اب اگر معلوم ہو گیا ہے کہ یہ موسیقی کی محفل ہے تو ہمارے لیے یہ کھانا جائز نہیں” منیبه سخت ہکا بکا تھی کہ ابھی تو سب کچھ حلال تھا ایک دم سے حرام کیسے ہو گیا ! بہرحال ماموں کی فیملی بغیر کسی سے ملے سیدھے نیچے اترے اور یہ جا وہ جا ….اس بدمزگی اور کرکراہٹ پر سبھی نے وقاص اور منیبه کو تسلی دی کہ ان کی تو عادت ہی یہی ہے ،تم لوگوں نے انہیں بلایا ہی کیوں تھا.پھر سب نے رات بھر خوب میوزک اینجواۓ کیا بظاہر منیبه نے بھی لیکن اندر سے وہ بہت بے چین تھی ،اس لیۓ نہیں کہ اسے بے عزتی محسوس ہوئی تھی بلکہ اس بات پر کہ ایسا کیا ہوا کہ ماموں کے بچوں نے بھی اتنے لذیذ کھانے سے فوری ہاتھ روک لیے اور بخوشی رنگوں بھری محفل یکدم چھوڑ کر چلے گۓ –
    ——————-
    امی جی میں اپنی بہن کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا بتا دیں اس خبیث کو کہ اب ہم اسے واپس رلنے کے لیے نہیں بھیجیں گے،میں نے بات کی تو پھر اس سے ہاتھا پائی پولیس کچہری ہو جانی ہے ،شوکت نے غصے میں چاۓ کا کپ رکھتے ہوئے ماں کو اپنا فیصلہ سنایا اور روتی ہوئی بہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے پچکارتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوہ نکالتے ہوئے کہا "نہ رو میرا بچہ یہ لے یہ پیسے لے کر اپنی بھابھی کے ساتھ رکشے پر جاکے بدھ بازار سے نیا سوٹ لے آ …پھر بیوی کو ڈپٹ کر آواز لگائی او نادیہ کدھر ہے بھئی کاکے کو امی کو دے اور صابرہ کو بدھ بازار لے کر جا ،مونہہ سوجھ گیا ہے بیچاری کا سوکھ کر کانٹا ہوتی جارہی ہے جب سے بیاہ کر گئی ہے اس ہڈ حرام کے ساتھ "- سوٹ کا نام سنتے ہی صابرہ کے اداس چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی،مگر بہت لاڈ سے بھائی سے اٹھلا کر بولی نہیں میں نے بدھ بازار سے نہیں سوٹ لینا وہ جو نیا مال کھلا ہے نا ڈرائیونگ سینما کی جگہ پہ ….نادیہ نے جلدی سے کہا "وہ میلینیم مال ! ادھر تو بڑی مہنگی دکانیں کھلی ہیں ” شوکت نے بیوی کو جھڑک کر کہا تو اس کے بھائی کے پاس کمی ہے پھر جیب سے مزید رقم نکال کر بہن کو تھماتے ہوئے پوچھا کم تو نہیں پڑیں گے نا !صابرہ خوشی سے پیسے جھپٹتے ہوئے کمرے سے اپنی چادر لینے چلی گئی ،نادیہ نے کہا "میرے دانت کے درد کی دوا لاۓ ہیں نا اب برداشت نہیں ہو رہی درد مجھ سے ” شوکت چڑ کر بولا "جب سے آئی ہے میری زندگی میں کبھی صحت مند بھی رہتی ہے ؟ بچپن میں ماں باپ نے اچھی خوراک کھلائی ہوتی تو میرے سر یہ مصیبت تو نہ آتی "نادیہ نے جھگڑے سے بچنے کے لیے شوہر سے کہا مجھے پیسے دے دیں میں خود ہی لیتی آؤں گی ،شوکت نے خالی بٹوہ دکھاتے ہوئے کہا صبر کر لے آج تو پھر کل لیتا آؤں گا ”
    ————-
    اب کتنے دن استخارہ کرو گی نیک بخت تمہاری سگی بہن کا بیٹا ہے بچپن کا دیکھا بھالا ہےاور مجھے امید ہے کہ ناروے میں بھی یہ لڑکا بگڑا نہیں ہوگا ویسے بھی باجی اور نیاز بھائی نے شروع سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کی تربیت عمدہ اصولوں پر کی ہے…. اور دل کی بات کہوں تو میری اپنی خواہش تھی سلیمان کو آمنہ کے لیے مانگ کر اپنا داماد بنا لوں لیکن جانتی ہو نا پاکستانی کلچر ہمارے دین سے کتنا مختلف ہے ،لڑکی والے رشتہ مانگنے میں پہل نہیں کرسکتے، پتہ نہیں اور کتنے برس یہ سلسلہ چلے گا دوہزار بیس بھی گزرا جا رہا ہے لیکن !….ارے میں ہی بولے جارہا ہوں تم کب وظیفہ ختم کرکے بولو گی ….جواب میں زبیدہ نے رونا شروع کر دیا سراج صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں وہ بیگم کو کندھے سے لگا کر تسلی دینا چاہ رہے تھے لیکن بیٹی کی جدائی کے خیال سے خود بھی رودیے –
    —————–
    "باجی یہ کیسی سہیلی ہیں آپ کی یہ ٹی وی نہیں دیکھتیں ؟ ” ثروت نے کل وقتی کم عمر ملازمہ کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا "کیا مطلب؟” ملازمہ نے سینڈوچز گنتے ہوئے کہا باجی 2021 چل رہا ہے اب کون اتنے بچے پیدا کرتا ہے،ٹی وی دیکھتیں تو سن لیتیں کہ بچے دو ہی اچھے ثروت نے حیرت اور مسکراہٹ دبا کر خفگی سے کہا "ماشاللہ کہتے ہیں اور اتنی بڑی بڑی باتیں چھوٹے بچوں کے مونہہ سے اچھی نہیں لگتیں،ان کے دو دو تو جڑواں بچے ہیں نا ” پھر ناشتے کی ٹرے لے کر لاؤنج میں آگئ جہاں ردا چھوٹے بیٹے کو گرمی لگنے پر ہلکے کپڑے پہنا رہی تھی ساتھ ہی دو عدد لڑتے ہوئے بیٹوں کا مقدمہ بھی سلجھ رہا تھا-ردا اس کے بچپن کی سہیلی تھی جس کی شادی بھی ثروت کے میاں عاقل کے دوست سے ہوگئی تھی اسی لیے ان کی فیملیز کی بہت بنتی تھی ،ساتھ سفر کرتے ساتھ ساتھ پکنک پر جاتے بچے بھی تقریبا ساتھ ہی ہوتے رہے لیکن ثروت کے پانچ بچے تھے جبکہ ردا کے آٹھ اور سب سے بڑا دس سال کا تھا .ردا بہت ہی ہنس مکھ اور کھلے دل کی لڑکی تھی ،ہاں یہ بھی قدرت کی مہربانی تھی اس پر کہ کم عمری میں شادی اور بچوں کے کاموں میں ایکٹیو رہنے کی وجہ سے وہ اب بھی لڑکی ہی دکھائی دیتی تھی ،اتنی مصروفیت کے باوجود سسرال کو دیکھنا ساس سسر کی پوری ذمہ داری نبھانا اور خوش باش رہنا ،شاید شوہر کی محبت اور توجہ بھی تھا اس کا راز .

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    میں قربان .قسط 2
    نادیہ کو صابرہ پر کبھی ترس آجاتا کبھی غصه .
    غصہ اس لیے کہ وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ صابرہ کا شوہر خرم اتنا بھی برا انسان نہیں بلکہ وہ تو ایک شریف النفس انسان ہے جو بیوی کا اتنا غصّہ اور بار بار روٹھ کر میکے چلے جانا برداشت کر لیتا ہے لیکن بیوی کی مادی فرمائشیں پوری کرنے کی خاطر زیادہ کی لالچ میں حرام کی طرف نہیں جاتا اور یہ بات اس نے صابرہ کو کئ بار واضح طور پر بتا دی ہے.
    دوسری جانب صابرہ کی ازلی سستی گھر کے کاموں میں عدم دلچسپی اور اپنے سجنے سنورنے گھومنے پھرنے کے شوق کو پورا کرنے کی بے لگام خواہش اس کے شوہر کی تنخواہ سے بہت بڑھ کر ہے تو بیل کیسے منڈھے چڑھے ۔
    صابرہ بچپن سے اپنے ابا جی کی بہت ہی لاڈلی تھی ،جب جب اس کی ماں چاہتی کہ یہ گھر کے کام سیکھ جائے تو اس کا باپ ہمیشہ ہی اسے ان کاموں سے روک دیا کرتا تھا کہ میری بیٹی تھک جائے گی ، ماں بھی میاں کے سامنے تھوڑی بہت بات ہی کرپاتی تھی کہ آگے جا کر ہماری بچی کو نباہ میں بہت مشکل ہو جائے گی تو وہ کہتا کہ آگے اللہ آسانی کرے گا۔ میری شہزادی تو کسی بڑے گھر میں ہی بیاہ کر جائے گی جہاں اسے ان چھوٹے موٹے کاموں کو کرنا ہی نہیں پڑے ۔صابرہ اسی سوچ اور تربیت کے ساتھ بڑی ہوتی گئی، باپ اس کے نخرے اٹھاتا رہا وہ منہ سے کوئی بات نکالتی کہ مجھے فلاں چیز چاہیے اور کبھی اپنی تنگدستی کی وجہ سے وہ پورا نہیں کر پاتا تو پھر صابرہ نیند میں اس بارے میں رونا یا بڑبڑانا شروع کر دیتی تھی ماں کہا کرتی کہ یہ بڑبڑاتی نہیں ہے مکر کرتی ہے اور جب اس کو ہنسانا یا جگانا چاہتی تو باپ روک دیتا کہ نہیں میری شہزادی کی نیند خراب ہو جائے گی مگر اپنی بھوک اور نیندیں قربان کر کے اس کی فرمائش پوری کیا کرتا تھا.
    صابرہ کے والد اپنی بیٹی کے لاڈ کے سامنے اس کی ماں کی ایک نہیں سنتے تھے یوں اس کی پرورش میں یہ چیزیں شامل ہوتی چلی گئیں تو وہ ہر ایک سے زور زبردستی اپنا آپ منوانا شروع ہو گئی ۔
    یہ سب باتیں نادیہ کو اس لیے معلوم تھیں کہ وہ ان کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھی ۔
    اور اکثر صابرہ کی ماں نادیہ کی ماں سے ہی مشورے کیا کرتی تھی۔
    رفتہ رفتہ صابرہ کا مزاج سخت سے سخت ہوتا چلا گیا ، زبان اس سے بھی زیادہ تیز ہوتی چلی گئی۔ جب اسے غصہ آتا تو اپنی ماں کو بھی اچھے سے باتیں سنانے سے نہ چوکتی اور محلے پڑوس میں کبھی کسی سے کوئی بات ہوجاتی تب بھی چھوٹے بڑے کا لحاظ کیے بغیر ان سے خوب لڑا کرتی ،رشتہ داروں میں سے کسی کی کوئی بات اسے بری لگتی تو گھر بیٹھے ہی ان کو برا بولتی رہتی اور باپ اس کا ساتھ دیتا رہتا کہ کیسے اپنے حق کی بات کرتی ہے میری بیٹی تو وہ اور شیر ہو جایا کر تی ۔ حتی کہ بعض دفعہ باپ سے بھی بد تمیزی کر جاتی لیکن وہ اسے لاڈ ہی مانتا ۔بہرحا ل تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے، ایک دن صابرہ کے والد کا ہارٹ فیل ہوا اور وہ اسے روتا چھوڑ کر دنیا سے کوچ کر گۓ ۔
    والد کی وفات کے بعد گھر کا سارا بوجھ شوکت کے کاندھوں پر آ گیا ۔ وہ ابھی کالج میں ہی تھا ساتھ ہی سارے گھر کا ذمہ اٹھانا پڑا اس نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ وہ صابرہ کو کبھی بھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دے گا ۔تو باپ کی جگہ شوکت نے لے لی یعنی ماں جو سمجھتی تھی کہ اب بھی صابرہ کو راہ راست پر لایا جا سکتا ہے اس کی بیٹے کے سامنے کچھ نہ چل سکی،۔شادی کی عمر ہوئے تک صابرہ کی بدمزاجیوں کے جوہر محلے اور رشته داروں سب پر اتنے کھل چکے تھے کہ اس سے لوگ رشتہ کرنا تو دور اس کے لیے رشتہ لانے سے بھی ڈرا کرتے ،جس قسم کےرشتے خالہ رشتے والی لا رہی تھیں وہ صابرہ کو بالکل بھی پسند نہیں آرہے تھے، پھر جب اس کی عمر تھوڑی بڑھنی شروع ہوئی اور دو چارقریبی لوگوں نے بھی اسے سمجھایا کہ انسان کو اپنے ہی جیسے لوگ ملتے ہیں ، تم جس طرح کے خواب سجا کے بیٹھی ہو ایسا رشتہ مشکل سے ہی ملتا ہے،صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ سےامید رکھو کہ شادی کے بعد جیسے جیسے تمہارے شوہر کی ترقی ہوگی تو تم سارے خواب پورے کر لینا لیکن صابرہ میں کمی صبر ہی کی توتھی ۔اسے اپنے ہونے والے شوہر کا سوشل اسٹیٹس بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا،

    ہاں اسے شادی کرلینے کا آئیڈیا اس لیے پسند آ گیا تھا کہ پھر اماں جو کہتی تھیں کہ ابھی لپسٹک نہ لگاؤ، ابھی تیار ہو کے باہر نہ جاؤ ،بال نہ کھولو ان سب باتوں کی آزادی اسے شادی شدہ ہونے کے بعد مل جانی تھی اسے جہیز کے لیے بہت ساری چیزوں کا شوق تھا یہ ساری خواہشات اس کے بھائی نے پوری کیں تاکہ صابرہ کو باپ سے محرومی کا احساس نہ ہو
    اپنے بہت سے خرچے نظر انداز کر کے کئی خواہشات پس پشت ڈال کر شوکت نے بہن کے لیے جہیز تیار کیا ،اس سے بھی صابرہ میں ایک احساس تکبر پیدا ہو گیا تھا شادی کے دن سے ہی صابرہ نے بہت زیادہ سخت مزاجی اور ترش روی کا مظاہرہ کیا۔
    اس کے سسرال سے جب جوڑا آیا تو اس نے غصے میں اس کو اٹھا کے پٹخ دیا اور زیور ایک طرف ڈال دیے کہ یہ کوئی چڑھاوے پہنانے کی چیز ہے،ایسے ہلکے زیور پہنوں گی میں ! کم از کم میرے سسرال والوں کو اتنا اور اتنا تو کرنا ہی چاہیے تھا ،معیار اس نے اپنے ذہن میں اتنا زیادہ بلند کر کے رکھا تھا کہ وہ چیز پوری ہو کر نہیں دے رہی تھی ۔

    صابرہ کو سسرال کی ذمہ داریاں بھی اپنے سر نہیں لینی تھیں۔ اس نے چند ہی دنوں میں الگ گھر لینے کا مطالبہ کر دیا اور اس بات پر روٹھ کر میکے آ گئی اور تب سے یہ روٹھنا منانا شروع ہوا جو شادی کے دو سال بعد تک بھی جاری ہے لیکن کیونکہ اس کا شوہر جانتا ہےکہ اس لڑکی کا باپ بھی نہیں ہے اور یہ غریب گھر کے لڑکی ہے تو وہ جس حد تک رعایت کر سکتا تھا کرتا رہا ہے لیکن اب یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسےوہ بھی تھک چکا ہو
    نادیہ سوچ رہی تھی کہ عجیب انتہاؤں پر ہوتے ہیں لوگ میرے میکے میں بیٹیاں کتنی ہی لائق فائق ہوں ان کی قدر ہی نہیں لیکن لڑکا کتنا ہی نکما ہو اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں جبکہ صابرہ کے کیس میں بیٹی کو سر پر بٹھا کر اسے اپنے ہی گھر میں ٹک کر بیٹھے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیا میں اپنی ہونے والی بیٹی کو اعتدال سے پال سکوں گی ؟
    ———-
    منیبہ پہروں بیٹھی سوچا کرتی تھی کہ اس کے شوہر نے کتنی محنت سے یہ گھر بنایا لیکن ساتھ ہی امریکہ کی ایمیگریشن کے لیے بھی کاغذات جمع کروا دیے تھے ،وہ بھرا پرا میکہ خاص کر بڑھاپے کو پہنچنے والے والدین کو چھوڑ کر کیسے رہ سکے گی ؟ کتنا مزہ آئے کہ ان کے پیپر ریجیکٹ ہو جائیں ،اگر ویزہ مل گیا تو کیا وہ عین وقت پر اپنے شوہر کو پاکستان چھوڑ کر نہ جانے کے لیے منا سکے گی ؟ کیا کریں گے فیملی کے بغیر ؟ اسے تو سسرال میں بھی مزہ ہی آتا تھا بس کبھی کبھی دونوں نندوں کی ناسمجھی سے بیزار سی ہو جایا کرتی تھی وہ بھی اپنے لیے نہیں ان ہی کے بچوں کی تربیت کے لیے.
    منیبه نے دبے لفظوں میں پہلے بھی اپنی دونوں ہی نندوں کو الگ الگ یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ بلا شبہ ان میں مثالی محبت ہے اور ان کے شوہر بھی ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں لیکن آمنے سامنے اپارٹمینٹس میں مزید رہتے رہنا دانشوری ہرگز نہیں،ایک تو یہ کہ آپا کے بیٹے بڑے ہو رہے ہیں خالہ کے گھر بلا جھجک پہنچ جانے کی عادت پر ہی کم از کم پابندی ہونی چاہۓ، دوسرا یہ کہ نگہت کی بیٹی گو کہ چار پانچ سال کی کمسن بچی ہے لیکن کزنز کے ساتھ سودا سلف لینے تنہا بھیج دیا کرنا دونوں کی اولادوں کے لیے ٹھیک نہیں لفٹ میں ننھی نادان بچی کزنز کے ساتھ جائے یہ مناسب نہیں .جس پر نہ صرف دونوں بہنیں اس کی ذہنی آلودگی پر برس پڑی تھیں بلکہ بھائی سے بھی اس کی بیگم کی اس گھٹیا سوچ پر شکایت لگادی تھی جس پر وقاص منیبه پر بہت برہم ہوا تھا اور منیبه نے ان بھائی بہنوں کی بے عقلی پر ماتم کرکے اس معاملے سے خود کو الگ کرلینے کا پکا فیصلہ کر لیا تھا،البتہ ساس سسر جو آج کل نگہت کے گھر ہی رہنے گۓ ہوئے تھے ان تک غالبا یہ ان بن والی باتیں نہیں پہنچائی گئی تھیں تبھی انہوں نے اس کی پیشی طلب نہیں کی تھی لیکن ! آج ساس کی طبعیت کی خرابی کا سن کر اس سے رہا نہ گیا،جلدی جلدی پرہیزی کھانا تیار کیا کہ بچوں کے سکول سے واپس لوٹنے سے پہلے ہو آۓ گی
    تو انہیں سرپرائز دینے کی غرض سے بغیر اطلاع دییے پہنچ گئی لیکن اوپر آکر سوچا کہ اس سے پہلے کہ کوئی کڑوی بات سنائی جائے خود ہی بڑی آپا کو سلام کرتے ہوئے نگہت کی طرف جانا چاہۓ،لیکن دستک کے بعد دروازہ کھلنے پر اسے اپنے غصے پر قابو پانا مشکل لگ رہا تھا پہلے اسے صرف خدشہ تھا کہ آپا کا بڑا بیٹا راشد کسی فتنے کا شکار ہو چکا ہے اسی لیے نگہت کی معصوم حنا کو اس کی پہنچ سے دور رکھنا چاہۓ لیکن اس وقت تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی جب ارشد نے بتایا کہ مما تو خالہ جانی کے گھر ہیں نانو کی خدمت کرنے گئی ہیں اس نے ڈپٹ کر پوچھا کہ حنا یہاں کیوں ہے تم سکول میں کیوں نہیں تو بڑے سکون سے جواب دیا کہ مامی سکول میں تو پڑھائی ہوتی ہی نہیں میں گھر پر ٹیسٹ کی تیاری کے لیے رک گیا تھا ….اور یہ حنا موٹلو اپنے گھر میں رہتی کہاں ہے کبھی بلو اسے لے آتا ہے کبھی سنی کبھی مما بابا بلا لیتے ہیں سارا دن کبھی کینڈیز کھاتی ہے کبھی چاکلیٹ وہاں گھر پر تو خالو جان اسے یہ کھانے سے منع کرتے ہیں نا ….منیبه کو دال میں کالا نہیں دال ہی کالی دکھائی دے رہی تھی لیکن کس سے کہتی ….شاہد بھائی ہاں وہ باپ ہیں حنا کے، ان کی غیرت کو جگانا پڑے گا،وہ اپنے ماتھے پر پڑی تیوریوں سے راشد کو باآور کروا چکی تھی کہ اسے یوں اکیلے گھر میں حنا کو ساتھ رکھنا سخت ناگوار گزرا ہے،اس نے حنا کا ہاتھ تھامے بہ مشکل ایک قدم ہی پیچھے کیا ہوگا تو خود کو نگہت کے گھر کے سامنے پایا.راشد ساتھ ہی آگیا تھا اور اس سے پہلے ہی بغیر دستک دیے سیدھا گھر کے اندر جاکر بتایا کہ بڑی مامی آئی ہیں .
    منیبہ غصے پر قابو پاتے ہوئے سب سے اچھے سے ملی ساس سے مسکرا کر پوچھا کہ سچ بتائیں کیا بدپرہیزی کی تھی تو سسر نے ہنستے ہوئے بتایا کہ سب آئسکریم کھا رہے تھے تو ہماری بیگم سے رہا نہیں گیا اب دیکھو ذرا کتنی تکلیف اٹھا رہی ہیں.
    منیبه نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "امی آپ کو لاسٹ ٹائم ڈاکٹر نے کتنی تاکید کی تھی نا کہ آپ کا جسم بہت کمزور ہو گیا ہے ٹھنڈی میٹھی کسی چیز کی لالچ میں نہیں آنا ورنہ صرف شگر نہیں بڑھے گی بلکہ نمونیہ بھی ہو سکتا ہے ” دونوں نندوں نے بہ یک زبان بھاوج کی بات کاٹی بلکہ آپا نے تو قدرے سخت لہجے میں کہا کہ "اللہ کی بندی بات تو اچھی کیا کرو”جبکہ نگہت نے منمناتے ہوئے کہا "بھابھی برا نہیں مانیے گا لیکن جب سے نیا گھر لیا ہے نا آپ نے لگتا ہے جیسے سب کو شرمندہ کرنے کا علم اٹھالیا ہے آپ نے” ،منیبه ہکا بکا رہ گئی ،نگہت کا شکوہ جاری تھا "میں اکیلے ہی محسوس نہیں کرتی کہ آپ کہیں کہ میں اپنے بھائی کی ترقی سے جلنے لگی ہوں نقاش بھائی بھی کہہ رہے تھے کہ اب وہ بات نہیں رہی بھابھی کے رویے میں”منیبه کی حیرت میں مزید اضافه ہو گیا تھا کہ اس کے پیٹھ پیچھے وہ نند اور دیور جن کا ہر بھلے برے وقت میں جی جان سے ساتھ دیا اس کے بارے میں کیا کیا باتیں کرتے ہیں ،مگر شادی کے اتنے عرصے بعد وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ ان سب کو صفائی دینے پر یہ مل جل کر کوئی دوسرا الزام اس کے سر ڈال دیں گے لہذا وہ اس بات کو اگنور کر کے دھیمے سے اٹھ کر ساس کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی دواؤں کا جائزہ لینے لگی …پھر ٹھٹھک کر مڑی اور آپا سے پوچھا "ان دونوں دواؤں کی ایکسپائری ڈیٹ تو بہت نزدیک کی ہے کس میڈیکل سٹور سے لی ہیں ؟ وقاص تو امی ابا کی دوائیں ہمیشہ اچھے سٹورز سے لیتے ہیں ،ختم ہو رہی تھیں دوائیں تو انہیں فون کر دیتے "- آپا نے چونک کر راشد کی طرف دیکھا کہ اس نے پھر پیسوں میں ڈنڈی مار لی ہے لیکن بھاوج کے سامنے بہانہ بنادیا کہ ارے یہ تو راشد جلد بازی میں نیچے والی دکان سے پورا پتہ لے آیا میں ابھی تم سے یہی تو کہنے والی تھی کہ وقاص کو کہہ دینا دفتر سے آتے وقت امی کی دوائیں لیتے آئے تم بیٹھو چاۓ تو پیو،راشد ماں کی آنکھوں میں قہر دیکھ کر واپس اپنے گھر ٹیسٹ کی تیاری کرنے چلا گیا

    میں قربان .قسط 3
    وقاص کھانے کے بعد چائے پیا کرتا تھا منیبه جب بھی چائے کا کپ لے کر اتی تو وہ کھانے کی پلیٹ کی طرف دیکھتی، اگر کھانا پورا ختم کر لیا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وقاص کو پسند آگیا ہے البتہ کھانے میں کبھی کوئی نقص ہوتا تو وہ برملا اس کا اظہار کرتا اور کبھی منیبه کو ہلکی پھلکی ڈانٹ بھی پڑ جایا کرتی کہ کھانا دھیان سے نہیں بناتی اور یہ ہمیشہ سے اس کی عادت تھی کہ اگر بیوی کی کوئی بات پسند آجاۓ تو اسے کوئی گفٹ دلا دیا کرتا تھا لیکن مونہہ سے کچھ نہیں بولتا تھا-منیبه کو ان اشیا کی ضرورت نہیں تھی ، اس کے کان تو ہردلعزیز متاع جان کے دو اعترافی بول کے لیے ترس رہے ہوتے تھے، ساری دنیا منیبه کی خوبیوں کی معترف تھی لیکن وہ جس سے سننا چاہتی تھی وہاں سے کوئی لفظ سماعتوں سے ٹکرانے کی جسارت نہ کرتا تھا-

    کھانے کی پلیٹ صاف تھی اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوگیا، چائے دے کے وہ وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگی بچے اپنے کمرے میں ہوم ورک کر رہے تھے، وقاص کو یاد آیا تو بتانے لگا ” ارے آج دفتر میں آفتاب بھائی سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ کہہ رہے تھے کہ پرسوں یہ لوگ ہماری طرف آئیں گے "اس پر منیبہ مسکرا کر بولی ” اچھا میں بچوں کو بتا دیتی ہوں” وقاص سمجھ گیا وہ بچوں سے کیا کہے گی اس لیے ذرا چڑ کر بولا "یار یہ بہت بری عادت ہوجاتی ہے بچوں کے اندر کہ وہ اپنی ہر چیز اٹھا کرکسی کے آنے سے پہلے چھپا دیں تو بڑے ہو کران میں بڑے لیول پر شیئرنگ کی ہمت اور عادت کیسے آئے گی ” منیبه نے دھیمے لہجے میں کہا ” بس کچھ نازک یا بہت خاص چیزیں جو نایاب ہوتی ہیں ان کے لیے ہی میں انہیں کہتی ہوں کہ ایک طرف سنبھال لیں کیونکہ دوسرے اکثر بہت بے دردی یا لاپرواہی سے استعمال کرتے ہیں میں اس لیے بھی احتیاط کرتی ہوں کہ چیزوں کے پیچھے ہمارے تعلقات خراب نہ ہوں، بچوں کی کچھ چیزوں کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچمنٹ ہوتی ہے احساس تحفظ بھی تو ہمیں ہی دینا ہے نا انہیں اور جناب یہ بھی تو دیکھیں نا کہ ان اصولوں پر چل کر ہماری دوستی کتنے عرصے سے قائم ہے”- پھر جب وہ بچوں کومطلع کرتی ہے تو بیٹا بہت خوشی کا اظہار کرتا ہے جب کہ بیٹیاں شکوہ کرتی ہیں کہ "مما وہ لوگ ہمارے سارے کھلونے خراب کر دیتے ہیں اور گھر بھی گندا کر دیتے ہیں ہمیں بعد میں صاف کرنا پڑتا ہے ” وقاص بڑی بیٹی کوقریب بلاتا کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے کہتا ہے کہ اپنی چیزیں شیئر کرنے کی عادت ڈالتے ہیں،آپ کی بہت ساری پرانی چیزیں ایسی ہوں گی جو آپ کو یاد بھی نہیں ہوں گی کہ وہ کہاں ہیں کس کو دیں کس حال میں ہوں گی تو کبھی کبھی کچھ چیزیں اپ کے سامنے بھی اگر خراب ہو جاتی ہیں تو تھوڑا بہت صبر کر لینا چاہیے ،آپ اگر اپنی ہر چیز اٹھا کے رکھ دو گے توآپ کھیلو گے کیسے؟ پھر آپ کی باتیں بھی ختم ہو جائیں گی، پڑھائی تو نہیں کر سکتے نا جب دوست آتے ہیں ،تھوڑی بہت چیزیں شیئر کر لینی چاہیے اگر کوئی کھلونا ٹوٹا تو میں اپ کو دلا دوں گا”-بچوں نے سر ہلا کر اس کی بات سمجھ لینے کا سگنل دیا اور اپنے کمرے میں واپس چلے گئے –

    وقاص نے منیبه کی طرف شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا” لڑکیوں کو تو بچپن سے شئیرنگ آنی چاہیے تاکہ شادی کے بعد اپنے شوہر کو اپنی مسلمان بہنوں سے شئیر کر سکیں” منیبه نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا "پھر وہی مذاق ” تو وقاص نے ہنستے ہوئے کہا "مذاق کہاں کر رہا ہوں،دل کے ارمان اپنی بیوی کے سامنے نہیں رکھوں گا تو کہاں جاؤں گا میں بیچارہ ” منیبه نے نرمی سے کہا "میں یہ بات کسی بھی انداز میں آپ سے سننا نہیں چاہتی،بہت سی باتیں میں آپ کی ایک ہی بار میں مان لیتی ہوں تو یہ ایک بات آپ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود بھی کیوں نہیں مانتے؟” پھر منیبه غصے میں برتن سمیٹ کر لیجانے لگی تو وقاص نے اسے کلائی سے پکڑ کرواپس بٹھا لیا اور بولا
    "تو منع کر دوں اس بیچاری کو نازک سا دل ٹوٹ جائے گا اس کا ….” منیبه غصے میں بھناتی ہوئی ہاتھ چھڑا کر کچن میں چلی گئی ،وقاص نے پیچھے سے آواز دی” ہنس رہی ہو نا ” نومی نے آکر بتایا "نہیں پاپا مما رو رہی ہیں ،آپ نے پھر سے ان کو رلا دیا میں تو اپنی بہنوں کو نہیں رلاتا”
    اگلے دن آفتاب اور ان کی بیگم ردا اپنے سب بچوں کے ساتھ پہنچے تو گھر میں ایک شور اور بڑی رونق والا ماحول ہو گیا بڑے عرصے بعد یہ لوگ ملے تھے ، دفتر اور بچوں کی مصروفیات کی وجہ سے کم کم ہی ملنا ہوتا تھا اورفون کی
    لائن تو اتنی خراب تھی کراچی میں کہ ایک بندہ بات کرتا تو تین اور لوگوں کی لائن اس میں کنیکٹ ہو جایا کرتی ویسے بھی پیچھے بچوں کا شور اتنا ہوتا تھا کہ فون پہ بات کرنا دشوار ہو جایا کرتا تھا -وقاص اور آفتاب اوپر ڈرائنگ روم میں چلے گئے بچے لاؤنج میں کھیل رہے تھے اور ساتھ والے کمرے میں منیبہ اور ردا بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ردا کا چھوٹا والا کافی بھوکا نظرآ رہا تھا اس نے سب سے پہلے اس کا ڈائپر چینج کیا پھر بیگ سے پیالی چمچہ سیریل اور بوتل سب نکال کر مکس کر کے بچے کو کھلایا ،اس دوران منیبه نے ملازمہ کی مدد سے ٹیبل پر کھانا لگوایا کا یہ لوگ جب کبھی بھی ملتے تو بہت زیادہ پرتکلف کھانا نہیں ہوا کرتا تھا ،اچھی سی ایک دو چیزیں ہوتی تھیں اور سب مل کر خوشی سے کھا لیا کرتے تھے کھانے کو پر تکلف بنانے پہ ویسے اس لیے بھی ایک عرصے سے محنت نہیں کررہے تھے کہ انہیں سمجھ آچکا تھا کہ ہم اگر اس کام میں تھک چکے ہوں گے توآپس میں اچھے سے ایک دوسرے کو وقت نہیں دے سکیں گے اس لیے ملنے سے پہلے اپنی اور بچوں کی نیند پہ بہت توجہ دیا کرتے تھے- بہت محدود توانائی ہوتی ہے ایک انسان میں اس کو کس طرح استعمال کرنا ہے یہ سلیقہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ آگیا تھا-

    کھانے کے بعد بچوں کا شور کچھ اور زیادہ ہی ہو گیا تھا آفتاب کو سگریٹ پینے کی عادت تھی تو وہ یہ کہہ کر کہ ” ہم باہر سے بچوں کے لیے آئسکریم لے آتے ہیں”وقاص کے ساتھ چلے گئے پیچھے ردا اور منیبہ نے سوچا کہ بچوں کو ہم ٹی وی پر کچھ لگا کے دے دیتے ہیں تو اس نے وی سی آر کی لیڈ دراز سے نکالی اور شیشے کے کیبنیٹ میں سے کارٹون والی کیسٹ نکال کر لگا دی، بچے سکون سے بیٹھے تو منیبہ اور ردا ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ردا ہنستے ہوئے کہنے لگی کہ "تمہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی مجھے پتہ چلا کہ اب مزید ایک اور بچہ میری زندگی میں آرہا ہے تو سب سے زیادہ جب سپورٹ کی ضرورت تھی نا یار دیکھو اپنی ماں ہی سب سے زیادہ یاد آتی ہےنا تکلیف میں! لیکن میری ماں نے ہی مجھے تیسرے بچے کے بعد سے ہی ہر بار اتنا ڈاٹا اتنا ڈانٹا …وہ میری محبت میں ہی مجھے ڈانٹتی ہیں یہ بات مجھے پتہ ہے اگر نہ پتہ ہوتی تو شاید میں اور تکلیف میں چلی جاتی لیکن جب مجھے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے مجھے ان کی گود چاہیے ہوتی ہے مگر وہ مجھے ایسے ڈانٹ رہی ہوتی ہیں جیسے یہ بچہ نکاح کے بغیر ہی آگیا ہے میری زندگی میں ، ماں کے بعد اگر مجھے کوئی سہولت چاہیے ہوتی ہے تو اپنی ڈاکٹر سے چاہیے ہوتی ہے جب میں ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں تو وہ میری شکل دیکھ کے کہتی ہے تم پھر آگئیں !” منیبہ نے کہا "پھر تم یہ سارا غصہ اپنے بچوں کے اوپر اتارتی ہو” ردا نے کہا "نہیں پہلے کرتی تھی اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ بچوں کو مارنا نہیں ہے پھر مجھے ابا نے یعنی میرے سسر نے بھی کہا کہ بچوں کے چہرے پر نہیں مارتے تو بس صبر کرنا ہوتا ہے بہن برداشت کرنا ہوتا ہے اور کیا اللہ تعالی نے کچھ پلان کیا ہوگا میرے لیے ان بچوں کے لیے ،دیکھو کچھ لوگ ترستے ہیں اولاد کی نعمت کے لیے اور کچھ لوگ اس نعمت کو سمجھ ہی نہیں پاتے” ردا کی آنکھیں نم ہو گئیں کہنے لگی "بہت سوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ رپورٹ پازیٹو آجاۓ تو پھر اپنا آپ ہی مارنا ہوتا ہے، اس بچے کو نہیں مارنا ہوتا ، اپنی میں قربان کرنی ہوتی ہے، جو آسان نہیں ہے لیکن مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے نا تو وہ آسان کر دیتا ہے ” منیبه اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی اور بولی ” ، مجھے تو یہی سمجھ نہیں آتا کہ تم اپنے بچوں کے کام وام نمٹا کر ساس سسر کو کیسے دیکھ لیتی ہو اور اکیلی ہوتی ہو تمہارے شوہر مطلب کہ آفتاب بھائی کی میں برائی نہیں کر رہی ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ خود اپنے والدین کی خدمت میں بہت کم ہوتے ہیں اور تم آگے آگے "تو ردا ہنس دی کہ اس بندے کے پاس وقت کہاں ہوتا ہے تمہیں خود اپنے شوہر کا بھی اندازہ ہو گا کہ دفتر والے فیملی کے لیے وقت کہاں رہنے دیتے ہیں ” پھر یہ کاروبار بھی کر رہے ہیں اس میں بھی ٹائم لگتا ہے تو یہ ہم سب کے لیے ہی کر رہے ہیں نا؟ یہ رزق حلال کما رہے ہیں اور ہم رزق حلال کو بچانے کے کام کر رہے ہیں؛ ہے کہ نہیں ؟ یہ جو میں اتنے کام بھاگ بھاگ کے کر لیتی ہوں ادھر ادھر کے وہ بھی میں اپنے شوہر کی محبت میں کرتی ہوں ، مطلب اگر میں نہیں کروں گی یہ سارے کام اور وہ آ کر کریں گے تو شوہر کا ٹائم مجھے کیسے ملے گا؟ میں ان کے حصے کے کام کر دیتی ہوں اور ان کا وقت مجھے مل جاتا ہے” منیبه کہتی ہے "اس طرح سے تو تم نے ڈبل لوڈ لے لیا تم اتنی اچھی بن کر رہو گی تو سب تمہارے اوپر اور کام کا بوجھ ڈالتے ہی چلے جائیں گے” تو ردا نے کہا ” نہیں میں سمجھتی ہوں کہ میرے اندر بہت زیادہ اعتماد آیا ہے ان تمام کاموں سے کہ جب آفتاب مجھے کہتے ہیں کہ اچھا تم نے یہ بھی کر لیا تو وہ مجھے بہت شاباشی دیتے ہیں،شکریہ ادا کرتے ہیں ،اعتراف کرتے ہیں کہ میں ان سے زیادہ ان کے والدین کا خیال رکھتی ہوں ،اور سچی بات ہے کہ اس سے زیادہ کی مجھے طلب ہے نہ ہوس ".
    ———————-
    کسی تناور درخت کو بھی بار بار ہلایا جائے تو وہ بھی اپنی جڑیں کمزور کر دیتا ہے ، یہی صابرہ کے ساتھ ہوتا نظر آ رہا تھا ، ماں بھی نہ رہی تھی اس وجہ سے نادیہ ہی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تو صابرہ ہتھے سے اکھڑ جاتی اور یہ بات جب شوکت کو پتہ لگتی تو نادیہ اور شوکت کے اپنے رشتے میں کڑواہٹ پیدا ہوجاتی –
    ایک روز نادیہ سوئی ہوئی تھی کہ وہ خواب میں دیکھتی ہے کہ وہ اور صابرہ کسی جگہ پر گئی ہیں جہاں بہت رش ہے، اس کے ہاتھ میں اپنے بہت سارے زیور ہیں، وہ چاہتی ہے کہ اس میں سے کچھ صدقہ کر دے مگر وہاں
    رش اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے ، دھکم پیل ہوتی ہے کہ جب وہ اپنا پرس کھولتی ہے تو اس میں کافی سارے زیورات نیچے گر جاتے ہیں اور وہ ان کو جھک کر اٹھا بھی نہیں سکتی کیونکہ وہاں اتنا رش تھا تو لوگ نیچے گرے ہوئے زیورات کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں ، صابرہ اس صورتحال سے بے نیاز نادیہ سے کہتی ہے کہ مجھے پانی پینا ہے اور ضد لگا لیتی ہے کہ پانی پلا دیں، وہ دونوں مل کر ڈھونڈتے ہیں تو ایک جگہ نظر آتی ہے جہاں ابھی کنواں کھودا جا رہا ہوتا ہے لیکن اس میں پانی ابھی پورا ہوتا نہیں ہے ، گدلا پانی ہوتا ہے،وہاں جو کام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نہیں،
    آپ یہ نہ پیئیں ،یہ ابھی صاف نہیں ہے آپ تھوڑا سا صبر کر لیں اور آگے جا کر صاف پانی پی لیں ، لیکن صابرہ کہتی ہے مجھے یہی پانی چاہیے ، مٹی اس کے حلق میں پھنس جاتی ہے تو وہ اسے تھوک دیتی ہے ، اور جب وہ زور زور سے کھانس رہی ہوتی ہے تو تکلیف کی وجہ سے نادیہ کی آنکھ کھل جاتی ہے-
    نادیہ جب یہ خواب اپنی ماں کو سناتی ہے تو اس کی ماں اس پر بہت زیادہ غصہ کرتی ہے کہ تم صابرہ کے لیے ہلکان ہونا چھوڑ دو، وہ اپنے لیے اچھا فیصلہ نہیں کر پا رہی ہے جس سے تمہاری خوشیاں بھی اس کی بے صبری کی وجہ سے لٹ جائیں گی۔
    تمہارے پاس جو زیور تھے، وہ تمہاری خوشوں کا تھیلا تھا ،جو اس کی وجہ سے خراب ہو رہی ہیں اور وہ جو بھی دھکے پڑ رہے تھے وہ حالات ہیں جو اس کی بدزبانی کی وجہ سے آئیں گے اور اس میں تمہیں بھی پریشان ہو گی، اور وہ جو پانی والی بات ہے وہ اس کی بے صبری ہے کہ اس نے میٹھے پانی کا انتظار نہیں کیا اور وہی کیچڑ والا پانی پینےکی کوشش کی جسے تھوک دیا اور اس کو پھندا بھی لگ گیا ۔
    تو تم اپنے آپ کواس کی ساری کاروایوں سے دور رکھو اب آگے جو چیزیں بھی خراب ہوں گی ،اس سے تمہیں بہت تکلیف بھی ہو سکتی ہے تم اپنا صدقہ وغیرہ دو۔
    آخر وہی ہواجس کے بارے میں سب کو پہلےسے اندازہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔
    صابرہ کی کاہلی اور بدزبانی کی وجہ سے خرم ایک دن آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھائے لیکن اس روز یہ ہو گیا تو صابرہ نے رو رو کر بد دعائیں دے دے کر محلہ سر پر اٹھا لیا ،شوہر کے خاموش کروانے پر اس سے اتنی زیادہ بدزبانی کی کہ آواز تک بیٹھ گئی پھر بھی صبر نہ آیا تو غم و غصے میں شرکیہ، کفریہ الفاظ بولنے سے بھی باز نہ رہی- بہرحال محلے میں سے ہی جان پہچان کےلوگوں نے اس کے بھائی کے گھر فون کیا تو بھائی اسے لینے پہنچا صابرہ کو امید تھی کہ بھائی خرم سے میرے تھپڑ کا بدلہ ڈنڈے سوٹے سے لے گا لیکن محلےداروں نے ڈھیر ساری گواہیاں صابرہ کے خلاف اور خرم کے حق میں دینی شروع کردیں، لہٰذا یہ جھگڑاوہیں تھم گیا اور شوکت شرمندگی کے ساتھ بہن کو اپنے گھر لے آیا ۔ وہ حیران تھا کہ اسے اس سے پہلے وہ سب باتیں معلوم ہی نہیں تھیں جو محلے والوں نے بتائیں ۔
    جن سے اسے دلی صدمہ بھی ہوا کہ اس کی پیاری بہن کیسی نادان ہے اس نے نادیہ سے اپنا غم ہلکا کرتے ہوئے کہا اس پگلی نے اپنی زندگی کے ساتھ کیا کچھ کر ڈالا ہے۔نادیہ دل میں سوچ کر رہ گئی کہ "صرف اپنی زندگی یا ہم سب کی زندگیوں کے ساتھ ”
    ———-
    نادیہ کی طبعیت کافی خراب رہنے لگی تھی، اس کی دیکھ بھال صابرہ کے سر آچکی تھی وہ بہ مشکل کچن سنبھالتی اور تھک کر چور ہو جاتی ،شوکت دن بھر کا تھکا جب گھر آتا تو نہ کھانا بنا ملتا نہ ہی بیٹے سعد کا حلیہ ٹھیک ہوتا ،صبح ناشتے میں پاپے کھا کر نکلتا اور واپسی میں ہفتے بھر کھانے میں وہی پتلی کھچڑی یا دلیہ ملتا رہا جو صابرہ مارے باندھے نادیہ کے لیے بنا لیا کرتی تھی .
    شوکت پرایک نئی حقیقت آشکار ہو رہی تھی کہ اس کی بیوی نے گھر کو کتنی مستعدی سے جان مار کر سنبھالا ہوا تھا حتی کہ اس کی امی کو بھی آخر وقت تک اور صابرہ تو اب بھی کہیں شادی کر کے گھر سنبھال لینے کے قابل خود کو نہیں بنا سکی ہے ،لیکن جوان لڑکی ہے شادی تو کرنی ہی ہوگی مگر ایسے کیسے گھر چلاۓ گی اپنا ؟
    نادیہ اپنی کمزوری کی وجہ سے دلگرفتہ تو تھی لیکن خوش بھی تھی کہ شوکت کو اندازہ تو ہو جاۓ گا حالات کا ….تو کیا وہ اسے سراہے گا ؟ کیا کسی مسجد کے خطبے سے سکول سے والدین سے اپنے کام پر اس نے اتنی سی بات سیکھی ہو گی کہ بیوی کو سراہا جانا چاہۓ ، وہ چند لفظ اس کے ذمہ داری سے لائی ہوئی دواؤں پھلوں اور دودھ سے زیادہ نادیہ کو طاقت بخش دیتے،محبت کا اظہار شادی کے شروع دنوں میں تو مجھے تم سے محبت ہے کہہ دینے سے ہو جاتا ہے لیکن کچھ سال بعد کبھی کبھی مجھے تم پر فخر ہے ،مجھے تم پر بھروسہ ہے مجھے تھماری محنت کا ادراک ہے ،مجھے تمھارے صبر کی قدر ہے کچھ تو، کبھی تو ، اندھے فقیر کے کاسے میں کھنکھناتے ہوئے سکوں کی آواز کی مانند درکار ہوتے ہیں.

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی قوم کی اکثریت اپنی فوج اور جملہ اداروں سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہے فوج کے خلاف غلیظ زبان کا استعمال اور پروپیگنڈہ کوئی نہیں بات نہیں، پہلے بھی پاک فوج کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈہ کئے گئے عوام کی اکثریت نے کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا۔ یہ وہی فوج ہے جس نے ضرب عضب اور ردالفساد میں خودشہید ہو کر ملک میں انتہا پسندی کا اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا، ضرب عضب نواز شریف کے دور حکومت میں شروع ہوا فوج کے ساتھ پولیس نے بھی بھاری قربانیاں دیں جبکہ عام شہری بھی دہشت گردی کی زد میں آئے۔ یاد رکھیئے پاکستان دشمن قوتوں اور بالخصوص بھارت سے ایک فو ج ہی ہے جو پاکستان اور عوام کو بچا سکتی ہے ۔ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعدو ضو ابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے ۔

    سیاستدانوں اپنی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں پر توجہ دیں۔ جس ملک میں سیاستدان گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کچھ نہ کر سکے جس ملک کے سیاستدانوں کے ہی ہاتھوں تین بار نواز شریف کی حکومت کو چلتا کیا گیا وہاں کیسی سیاست اور کیسی جمہوریت ؟حقیقی آزادی اورتبدیلی کا نعرہ لگانے والے بتا سکتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے خاتمے میں اُن کا کیا کردار تھا؟ کیا وہ کردار جمہوری تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ سیاست کے کنگ کانگ تادم تحریر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ عالمی دنیا میں پاکستان کی سیاست اورجمہوریت اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ آج ملکی معیشت کہاں کھڑی ہے ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ عام آدمی بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟

    پنجاب میں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے اپنی حکومت اگر عوامی خدمت پر رُخ موڑ دیاہے تو کیا آج بھی اُن کے خلاف سازشیں نہیں ہو رہی؟ سیاستدان بتائیں ہم اگر غربت کی لکیر سے اگر نیچے گر رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یاد رکھیئے موجودہ صدی میں وہ ملک ترقی کریں گے جن کی آبادی تعلیم یافتہ ہوگی اور وہ جدید ٹیکنالوجی ضروریات کو سمجھ سکتی ہوگی۔وطن عزیز کے نوجوان اپنی بھرپور توجہ تعلیم پر دیں وطن عزیز کا مستقبل میں آپ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں۔ اپنے اپنے حلقے کے نام نہاد سیاستدانوں سے سوال کریں۔ مصنوعی نعرہ لگانے والے سیاستدانوں سے سوال کریں ہم ترقی پذیر کیوں ہیں، ترقی یافتہ کیوں نہیں؟ سمجھ نہیں آتا روز محشر ہمارے سیاسی ٹائیکون کس کس چیز کا حساب دیں گے

  • آج کا مسلمان .تحریر : ارم ثناء

    آج کا مسلمان .تحریر : ارم ثناء

    افسوس! ہے کہ آج کا مسلمان اپنے فرائض سے غافل ہے۔ افسوس! ہے آج کے مسلمانوں پر، جنہوں نے دنیا کو ہی سارا کچھ سمجھ لیا ہے جنہوں نے دنیا کی زندگی کو ہی ہمیشہ کی زندگی سمجھ لیا ہے۔ ہر انسان روازنہ کسی نا کسی کی موت کی خبر سنتا ہے ، مرد حضرات جنازوں میں شرکت بھی کرتے ہیں۔ لیکن افسوس! پھر بھی ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ ویسے ہی ہم دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ویسے ہی ہم جھوٹ بولتے ہیں، ویسے ہی ہم اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ ہمارا ملک صرف اب نام کا ہی اسلامی ملک ہے اس میں کچھ بھی اسلام کے مطابق نہیں ہورہا۔ ہر معاملے میں ہمارے اسلام نے ہماری رہنمائی کی ہے لیکن ہم نے کیا کیا ہے ہم نے اس کو چھوڑ کر انگریزوں کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا ہے۔ اسلام میں جمہوریت کا کوئی نظام نہیں ہے لیکن ہم نے کیا کیا خلافت کے نظام کو چھوڑ کر جمہوریت کو اپنایا۔

    ہم نے اپنے معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کےلئے چینل بنا لیے۔ ہم درحقیقت ایک بے حیاء اور بے رحم قوم بن چکے ہیں۔ ہم نے اپنے نفس کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ ہم نے ہمارے معاشرے میں بے حیائی کے فروغ کےلئے ٹی وی چینلز پر بہودہ ڈرامے چلانے شروع کردیے جیسے اقتدار، تیرے پن، برزخ،کروس روڈ، اے عشق جنوں وغیرہ جیسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں سوائے بے حیائی پھیلانے کے کوئی اور سبق نہیں دے رہے۔ ہماری نوجوان نسل آج وہ کام کررہی ہے جس سے ہمارے دین نے ہم کو منع کیا ہے۔ ہمارے دین نے ہم کو جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے، عورتوں کو بے پردہ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے، مردوں اور عورتوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے لیکن ہم جان بوجھ کو غیر محرموں کو دیکھتے ہیں، کوئی ڈرامہ اچھا لگا تو وہ دیکھنا شروع کردیا۔ ہمیں پتا ہے کہ ڈراموں میں غیر محرم ہوتے ہیں، ہمیں پتا ہے کہ اس میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے، ہمیں پتا ہے کہ اس میں ایک غیر محرم عورت ایک غیر محرم کو چھوتی ہے لیکن ہم پھر بھی ان کو سارا سارا دن دیکتھے رہتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کا بائیکاٹ کریں ان کے خلاف آواز اٹھائیں، لیکن ہم کچھ نہیں کرتے۔

    قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ جب غیر مسلم تم پر حملہ آور ہوں تو ان کا جواب دو، لیکن آج کی بزدل نوجوان نسل جن کے آئیڈیل عمران خان، نواز شریف، بلاول بھٹو، عمران عباس بلال عباس جیسے لوگ ہیں یہ اپنے ان آئڈیل کےلئے تو جان دے سکتے ہیں لیکن دین اسلام کےلئے نہیں، یہ لوگ ناکام محبت کے پیچھے تو خود کشی کرسکتے ہیں لیکن مسجد اقصی کو بچانے کےلئے ایک نہیں ہو سکتے۔ در اصل غیر مسلموں نے اپنے ہتھیاروں( سوشل ایپس) وغیرہ کے ذریعے ہماری ذہنی سازی ہی ایسے کی ہے کہ اب ہمیں دنیا کے علاؤہ کچھ نظر ہی نہیں آتا، ہمیں انہوں نے اپنا ذہنی غلام بن لیا ہے۔

    مسلمانوں اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ اپنے مقصد کو پہچانو اپنا آئیڈیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ کو بناو، اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت دین اسلام کے مطابق کرو کیونکہ کل کو انہوں نے ایک نسل تیاری کرنی ہے، ان میں خلافت کا جذبہ پیدا کرو، ان کو اپنے حق کےلئے آواز بلند کرنے کا حوصلہ دو

  • شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اداروں کے کردار پر تنقید یا ان کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن حالیہ واقعات میں شہباز گل جیسے سیاسی رہنما کی جانب سے ایسے بیانات اور حرکات سامنے آئی ہیں جنہوں نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ قومی وحدت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اسلام آباد میں ایک حالیہ ناکام احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کے 128 اہلکار مختلف وجوہات کی بنا پر ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو سکے۔ اس واقعے کے بعد افسران نے ان اہلکاروں کی لسٹیں تیار کیں اور ان سے جواب طلبی کا عمل شروع کیا۔ ڈیوٹی سے غیر حاضری ایک سنگین معاملہ ہے، خاص طور پر جب یہ معاملہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط سے جڑا ہو۔ لیکن اس پر شہباز گل کا ردعمل ایک غیر متوقع اور متنازعہ تھا۔

    شہباز گل نے اپنی ٹویٹ میں غیر حاضر اہلکاروں کو "ہیرو” قرار دیا اور انہیں یقین دلایا کہ اگر موجودہ حکومت انہیں نکال بھی دیتی ہے تو ان کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں بحال کیا جائے گا اور انعامات سے نوازا جائے گا۔ یہ بیان نہ صرف کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایک عوامی رہنما کی جانب سے ایک حساس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا عکاس بھی ہے۔شہباز گل کی یہ سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔شہباز گل کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک عوامی شخصیت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانا ایک سنگین حرکت ہے۔ یہ عمل اداروں میں نظم و ضبط کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔قومی سلامتی کے ادارے اور قانون نافذ کرنے والی فورسز ملک کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان اداروں میں بے چینی یا تقسیم پیدا کی جائے تو اس کا نتیجہ نہ صرف حکومتی رٹ کی کمزوری بلکہ عوامی اعتماد کے فقدان کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔شہباز گل کا ماضی متنازع کردار کا حامل رہا ہے

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شہباز گل نے قومی اداروں کے خلاف اس قسم کے بیانات دیے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان آرمی کے خلاف متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں بغاوت کے مقدمے گرفتار کیا گیا، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے بیماری کا بہانہ بنایا اور عدالتوں میں اپنی حالت پر آنسو بہائے۔ وھیل چیئر پر بیٹھ کر آکسیجن ماسک لگانے کا ڈرامہ کیا۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب سخت بیانات دے کر اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری جانب قانونی گرفت سے بچنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔

    قانونی اور اخلاقی پہلو کے لحاظ سےقانون کے مطابق، سرکاری اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری یا ان کی جانب سے احکامات کی تعمیل نہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دیگری اہلکاروں کے لیے ایک مثال قائم ہو۔ دوسری طرف، کسی بھی سیاسی رہنما کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی فورم پر ایسے بیانات دے جو قانون کی حکمرانی یا اداروں کے نظم و ضبط کو متاثر کریں۔شہباز گل کے حالیہ بیانات صریحا کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں، جو ایک قابل سزا جرم ہے۔ ان کے بیانات کا مقصد بظاہر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، لیکن اس کے نتائج زیادہ سنگین اور خوفنا ک ہو سکتے ہیں۔ ایسے بیانات عوام میں اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان اہلکاروں کو بھی غلط پیغام دیتے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اہمیت دیتے ہیں۔اداروں اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری بہت اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں قومی اداروں کی مضبوطی اور یکجہتی انتہائی اہم ہے۔ سیاست دانوں اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ عوام اور اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں، نہ کہ تنازعات کو ہوا دیں۔ شہباز گل جیسے رہنماؤں کو اپنی بیان بازی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن یہ اختلافات ایسے بیانات کی شکل میں نہیں ہونے چاہییں جو قومی سلامتی یا اداروں کی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں۔ شہباز گل جیسے رہنما اگر واقعی عوامی خدمت کے جذبے سے سیاست میں ہیں، تو انہیں قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دینی ہوگی۔شہباز گل جیسے افراد اگر امریکہ میں بیٹھ کر امریکی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کریں تو انہیں سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی قوانین، خاص طور پر "Sedition Act” اور دیگر قومی سلامتی کے قوانین، کسی بھی فرد کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیتے۔ امریکی حکومت ایسے بیانات یا اقدامات کو ریاست کے خلاف جرم سمجھتی ہے، اور ایسے افراد پر فوری طور پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے، چاہے وہ امریکی شہری ہوں یا غیر ملکی۔ شہباز گل جیسے بیانات کی مثال امریکہ میں ممکن نہیں کیونکہ وہاں اداروں کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔پاکستان میں بھی ان جیسے افراد کے لئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔شہباز گل کے بیانات ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کے لیے اخلاقی تربیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مزید یہ کہ ایسے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے جو عوامی بیانات کے ذریعے قومی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہباز گل کو یاد رکھنا چاہیے کہ قومی ادارے کسی بھی جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست کے ہیں، اور ان کی حفاظت اور عزت ہر پاکستانی کا فرض ہے۔پاکستان کو ایک مضبوط اور متحد قوم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری اور رہنما اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور اپنے الفاظ و افعال کے ذریعے قومی وحدت کو مضبوط کرے، نہ کہ اسے نقصان پہنچائے۔شہباز گل کے اس طرز کے بیانات ۔ سیکورٹی اداروں کے لئے بھی ایک چیلنج ہے