Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    الحمداللہ! 12 اپریل 2025 کو لاہور کے پاک ہیرٹج ہوٹل میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے پانچویں خواتین کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں پاکستان کے تمام صوبوں سے خواتین نے شرکت کی۔ مختلف شعبہ جات میں کامیاب خواتین نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نئی نسل کو آگے بڑھنے کا جذبہ دیا۔ بہت سے مسائل پر گفتگو کی گئی۔ کانفرنس کا مقصد بہت بڑا تھا۔

    آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اللہ پاک نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے بس اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم قانون قدرت کی حدود کو پامال کرتے ہیں۔ حکمرانی، اقتدار، داتا، ملکیت، تکبر سب اللّٰہ ربّ العزت کی صفات ہیں جب بھی کسی انسان نے یا کسی قوم نے ان صفات کی حدود کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ فرمان نبوی کے مطابق اگر آپ کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے منع کرو اور اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو اسے دل سے برا جانو اگرچہ یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ "مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کے کسی ایک حصے میں درد ہو گی تو دوسرا حصہ خود بخود تکلیف میں ہو گا۔” کانفرنس میں غزہ کے مسلمانوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور ان کے ساتھ یکجتی کا اظہار کیا گیا مگر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہم ایمان کے کون سے درجے پر ہیں۔ نہ ہم ہاتھ سے روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ ہماری زبان حق کے لیے بولتی ہے تو کیا ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے سے بھی گر گئے جہاں ہم کفار کو برا بھلا ہی کہہ سکیں؟ ان کی بنائی مصنوعات کو چھوڑ سکیں؟ مسلمان جو ایک جسم کی مانند ہیں پھر ہمارا جسم ہمارا دل ہماری روح غزہ کے مسلمانوں کے لیے تکلیف میں کیوں نہیں؟ کیا ہم مسلمان ہی نہیں رہے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر۔

    خواتین کانفرنس میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا میں تو سمجھتی ہوں جس کا جتنا برتن ہوتا ہے اس میں وہ اتنی اشیاء بھر لیتا ہے۔ ایک سپیکر خاتون نے تو جیسے میرے دل کی باتیں کہیں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میں نے باہر معاشرے میں نکل کر دیکھا ہے جتنی ٹانگ خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کھینچتی ہیں اس کے برعکس مردوں میں حسد جلن اور نفرت کے جذبات بہت کم ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کامیابی برداشت نہیں کرتیں بلکہ ان کو سیدھے راستے کی بجائے غلط راستہ دکھاتی ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے وہ چاہتی ہیں کسی دوسری کے پاس نہ ہو۔

    تو واقعی خواتین کا عالمی دن منانے سے کچھ نہیں ہونے والا میری نظر میں خواتین کے حقوق کی جنگ مردوں سے نہیں اپنی ہی ہم جنس خواتین سے ہے۔ مقابلہ تو برابر والے سے ہوتا ہے جنگ کے اصولوں میں بھی برابری شامل ہے۔ ہم جو پلے کارڈ اٹھا کر مردوں کے سامنے آ گئی ہیں ان کے برابر کے حقوق مانگنے اگر عورت اپنی سوچ کو مثبت کر لے تقدیر پر راضی رہنا اور ہمیشہ دوسری عورت کی مدد کرنا اس کا ساتھ دینا سیکھ لے تو ہمیں کسی مرد سے اپنے حق مانگنے کی ضرورت نہیں۔ باقی میں متفق ہوں کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا کسی کام کو حقیر نہ سمجھیں بس اللہ نے آپ کو جتنی طاقت اور جتنی ہمت و سہولت دی ہے اس میں انسانیت کو فایدہ پہنچاتے رہیں۔ آگے بڑھ کر اپنی خواتین ساتھیوں کی مدد کریں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جو کسی کا مقدر ہے وہ آپ چھین نہیں سکتیں اور جو آپ کا مقدر ہے وہ کوئی آپ سے لے نہیں سکتا تو پھر ڈر کس بات کا۔ یہ دنیا فانی ہے اس کی ہر شے کو فنا ہے یہ دولت یہ شہرت یہ عزت یہ مقام سب منوں مٹی تلے دب جانے ہیں باقی رہ جانی ہیں صرف اور صرف نیکیاں۔ عورت مرد کے شانہ بشانہ چلنے اور برابری کے چکر میں یہ بھول ہی گئی ہے اس کی عزت اس کا وقار اس کے سر کی چادر اور سر کے سائیں کے ساتھ ہے۔ اپنی چادر اور اپنے سائیں کی عزت کا خیال رکھیں کبھی معاشرہ آپ کے حقوق نہیں چھینے گا۔ دوپٹہ یا چادر اتار کر ہم نہ مرد بن سکتیں ہیں نہ ان کے برابر جس کو اللہ نے قوام بنایا ہم اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں۔ آدم کے لیے حوا لازم تھی اور حوا کے لیے آدم۔ ہم بھی اپنے ساتھی اور ہمارا ساتھی ہمارے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ سب باتیں لکھنا کہنا برتنا آسان نہیں ہیں۔ مجھے اٹھارہ سال لگے یہ سب لکھنے میں مگر دلیل کے ساتھ اپنی بات کہنی سیکھیں لڑائی جھگڑے اور پلے کارڈز اٹھا کر سڑکوں پر نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جس کے ساتھ حقوق مانگنے کی جنگ ہے وہ کسی سڑک پر نہیں رہتا وہ ہمارے گھر پر ہمارے دل میں رہتا ہے اور یہ جنگ لڑائی جھگڑے سے نہیں بلکہ محبت اور دلیل کے ساتھ جیتنی ہے ان شاءاللہ!


    میری نظر میں ہر عورت خاص ہے چاہے وہ باہر کام کرنے والی خاتون ہے یا گھر سنبھالنے والی۔ عورت اللہ کی مخلوق ہے اس کے خاص ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کیا۔ حدود اللّٰہ میں رہتے ہوئے جو عورت بھی معاشرے کے لیے نفع مند رہے گی وہ کبھی ناکام نہیں رہے گی۔

    میں اپووا کی تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اتنے کامیاب پروگرام کے لیے۔ علی بھائی، زاہد بھائی، ثمینہ آپا، مدیحہ، سحرش اللہ پاک آپ سے آپ کی تمام کوششوں کو قبول فرمائے اسی طرح سب کو ہمت دلاتے رہیں اللہ پاک آپ کی عزت میں اضافہ فرمائے آمین
    قرۃالعین خالد
    نائب صدر پنجاب (اپووا)
    سیالکوٹ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ


    آج کا دن میرے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا، جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس میں میری خواتین ایوارڈ کے لیے نامزدگی کا اعلان ہوا، جس کا میں طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ یہ لمحہ میرے لیے بے حد اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ یہ میرے لئے نہ صرف ایک اعزاز تھا بلکہ خواتین کی کامیابیوں کو سراہنے کا بھی ایک شاندار موقع تھا۔کانفرنس میں جانے سے پہلے، میرے ذہن میں کئی سوالات تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں وہاں کس طرح جاؤں گی، کیونکہ وہاں کوئی میری جان پہچان کا نہیں تھا،سب نئے لوگ تھے، لیکن جب میں کانفرنس میں پہنچی، تو آ پی ثمینہ طاہر بٹ نے جس اپنائیت کے ساتھ میرا استقبال کیا، اور تمام عہدیداران اور ممبران نے جتنی مہمان نوازی کی، وہ سب کچھ میرے لیے بے حد دل کو چھو لینے والا تھا۔ ان سب کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد میں حصہ لیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔بانی صدر آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، ایم ایم علی بھی کانفرنس میں متحرک نظر آئے،ایم ایم علی کا خصوصی شکریہ…کیونکہ میرے ایوارڈ کی نامزدگی کی منظوری انہوں نے دی تھی.

    اپووا کی خواتین کانفرنس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی باوقار خواتین نے شرکت کی اور اپنی موجودگی سے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی۔ اس کے بعد سیدہ مصور صلاح الدین نے عقیدت و احترام سے نعتیہ کلام پیش کیا۔سحرش خان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، نمرہ ملک کی خوبصورت اور پراثر پنجابی نظم نے محفل کو ایک خاص رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔کانفرنس میں کچھ اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں معروف لکھاریہ گل ارباب، پی آر او ٹو گورنر پنجاب محترمہ لالہ رخ ناز، ڈپٹی سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، عالمی شہرت یافتہ اسٹرولوجر سامعہ خان، لیجنڈری اداکارہ عذرہ آفتاب، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر عارفہ صبح، دبنگ جرنلسٹ دعا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان، ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر فضیلت بانو، معروف شاعرہ کومل جوئیہ، لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ، اور تحریک نفاذ اردو کی متحرک رکن فاطمہ قمر شامل تھیں۔

    میرے لیے یہ ایک شاندار موقع تھا کہ مجھے اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنایا گیا اور میری محنت اور جدوجہد کو تسلیم کیا گیا۔ میں خاص طور پر سینئر صحافی اور اینکر پرسن، سی ای او باغی ٹی وی، مبشر لقمان صاحب کی بے حد مشکور ہوں کہ ان کی وجہ سے مجھے یہ مقام حاصل ہوا۔ باغی ٹی وی کی بدولت ہی آج میں یہاں ہوں اور اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنی ہوں۔کانفرنس کے اختتام پر جب واپس جانے کا وقت آیا، تو دل میں بہت سی باتیں گئیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں وہاں دیگر خواتین کیسی ہوں گی، مگر جب وہاں پہنچ کر جو دل جیتنے والا استقبال ہوا، وہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی۔ اللہ تعالٰی اپووا کے تمام منتظمین کو ڈھیروں کامیابیاں عطا کرے۔

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس کے انعقاد پر تمام عہدے داران اور تمام خواتین کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اتنی محبت دی۔ اور جب ایوارڈ دینے کے لئے مجھے اسٹیج پر بلایا گیا اور کہا گیا کہ کہ میں مبشر لقمان کے چینل سے ہوں ، تو یہ میرے لیے فخر کا مقام تھا۔ میں ان سب خواتین،اپووا کے منتظمین کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا اور مجھے اتنی عزت دی۔یہ دن میری زندگی کا ایک یادگار دن بن چکا ہے، اور اس کانفرنس کی کامیابی کا کریڈٹ آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ٹیم اور اس کے منتظمین کو جاتا ہے۔مبارکباد اور ڈھیروں دعائیں…..

  • کمالِ  فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید

    کمالِ فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید

    قومی ادبی ایوارڈز سے بلوچستان کے ادیبوں کو نوازا گیا
    کوئٹہ کےادبی منظر پر اداسی چھائی رہی
    وادیء شال کی بہار رْت اب کے آتے آتے گلوں کو اداس کر گئی ، بادام کے پیڑوں پر سفید کونپلوں اور سیب کی گلابی غنچوں نے بھی تاخیر کی ، اور ادبی منظر پر اداسی کے بادلوں نے اہلِ علم و ادب مضطراب رکھا ۔اتوار کو بزم صائم نے بہاریہ مشاعرے کرنا تھا جو نہ پایا ۔7اپریل کو بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے ادبی کانفرنس اور آغاگل ایوارڈز کا اعلان کر رکھا تھا جو ملتوی کر دیا گیا ۔
    کوئٹہ کا زمینی رابطہ منقطعہ ہے ۔ کاروبار شیدید متاثر ہے ۔اور شہر کی فضا اداس ہے ۔ اسی اداسی میں اکادمی ادبیات پاکستان نے سال 2023ء کے کمالِ فن ادبی ایوارڈ کا اعلان کیا ۔تفصیلات کے مطابق اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ادباء وشعراء کے لیے پچاس لاکھ روپے سے زائد مالیت کے انعامات کا اعلان کیا گیا ۔
    اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمال فن ایوارڈ2023 کے لیے معروف شاعر افتخار عارف کو منتخب کیا گیا ہے ۔اس کا اعلان ڈاکٹر نجیبہ عارف صدر نشین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ۔
    ’’کمالِ فن ایوارڈ ‘‘ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کی رقم دس لاکھ روپے ہے۔2023کے ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، جناب اصغر ندیم سید، پروین ملک، مدد علی سندھی ، انورسن رائے ، ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، نیلوفر اقبال، حسام حر، حفیظ خان ، ڈاکٹر محمد سفیراعوان ، ڈاکٹر واحد بخش بزدار، عبدالقیوم بیدار، ڈاکٹر ناصر عباس نیر ، اورڈاکٹر بصیرہ عنبرین شامل تھے۔اجلاس کی صدارت مدد علی سندھی نے کی ۔ ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔اب تک اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین ،مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز ،شوکت صدیقی، منیر نیازی ، ادا جعفری،سوبھو گیان چندانی ،ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک ، عبداللہ جان جمالدینی،محمدلطف اللہ خان ، بانو قدسیہ ، محمد ابراہیم جویو ، عبداللہ حسین ، افضل احسن رندھاوا ، فہمیدہ ریاض،کشور ناہید، امر جلیل ، ڈاکٹر جمیل جالبی، منیراحمد بادینی، اسد محمد خاں ، جناب ظفر اقبال اور جناب حسن منظر کو ’’کمال فن ایوارڈ ‘ دیے جا چکے ہیں ۔

    اس موقع پر’ ’قومی ادبی ایوارڈز‘‘ برائے سال2023ء کا بھی اعلان کیاگیا۔چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پریس کانفرنس میں قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردو نثر( تخلیقی ادب) کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈ طاہر ہ اقبال کی کتاب ’’ ہڑپا ‘ (منصفین نیلوفراقبال ، ڈاکٹر معین نظامی اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر ) ، اردو نثر (تحقیقی وتنقیدی ادب) کے لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ڈاکٹرامجد طفیل کی کتاب "ہمعصر اردو افسانہ ” اور فرخ یار کی کتاب ’’ عشق نامہ ‘‘(منصفین:ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر اور ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی) ، اردو شاعری کے لیے ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ غلام حسین ساجد کی کتاب ’’تجاوز‘‘ (منصفین: نذیرقیصر ڈاکٹر وحید احمد اور ڈاکٹر سحر انصاری ) ، پنجابی شاعری کے لیے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘ قابل جعفری کی کتاب ’’ اپار‘‘،پنجابی نثر کے لیے’’ افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘ ‘ نصیراحمد کی کتاب ’’ کیہ پاتر د ا جیونا ‘‘ (منصفین:پروین ملک ، (انجم سلیمی اورزبیراحمد ) ، سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ ‘‘ابرار ابڑو کی کتاب ’’اکین کی پندھ کرنوآ‘‘، سندھی نثرکے لیے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر مشتاق باگانی کی کتاب ” ننگر ٹھٹے جو سماج ” (منصفین: مدد علی سندھی، شبنم گل اور ڈاکٹر شیرمہرانی) ، پشتو شاعری کے لیے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ م ۔ر شفق کی کتاب ” گل رنگ "،پشتو نثر کے لیے ’’ محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ ‘‘ ڈاکٹر عبدالکریم بریالے کی کتاب ” درحمان بابا کلیاتو دمتن انتقادی ثیڑنہ ” (منصفین: ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ، ڈاکٹر اسیر منگل اور نورالامین یوسفزئی) ، بلوچی شاعری کے لیے ” مست توکلی ایوارڈ” وہاب شوہاز کی کتاب ” چراگاں دم نہ برتگ” ، بلوچی نثر کے لیےسید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف کی کتاب ” بلوچی ءُ براہوئی زبانانی سیالی ” (منصفین:ڈاکٹر فضل خالق، ڈاکٹر زینت ثنا اورمحمد یوسف گچکی) ، سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘عزیز شاہد کی کتا ب ’’چاک‘ ، سرائیکی نثر کے لیے”ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ”رفعت عباس کی کتاب’’ نیلیاں سلہاں پچھوں ‘‘ (منصفین: رانا محبوب اختر، سلیم شہزاد، حبیب موہانہ) ، براہوئی شاعری کے لیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ ‘‘بابل نور کی کتاب ’’ چنکس استار ” ، براہوئی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ عمران فریق کی کتاب ’’ ادبی تھیوری ؤ براہوئی ادب ‘‘ (منصفین: عبدالقیوم بیدار، افضل مراد، افضل مینگل ) ، ہندکو شاعری کے لیے ’’ سائیں احمد علی ایوارڈ ‘‘ڈاکٹر خاور چوہدری کی کتاب ’’ بجھنا ڈیوا ‘‘،ہندکو نثر کے لیےخاطر غزنوی ایوارڈ اختر نعیم کی کتاب ” قسطنطنیہ، انگورا ،سمرنا ” (منصفین:ناصر علی سید، محمد ضیاء الدین اور حسام حر ) ، انگریزی نثر کے لیے پطرس بخاری ایوارڈ ایم اطہر طاہر کی کتاب
    "Second Coming "، انگریزی شاعری کے لیے داؤد کمال ایوارڈ اعجاز رحیم کی کتاب “Beyond Dates and Pomegranates” منصفین: ڈاکٹرمحمد سفیراعوان، منیزہ شمسی اور حارث خلیق) اور ترجمے کے لیے ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘شوکت نواز نیازی کی کتاب ’’ جلاوطنی اور سلطنت(آلبرٹ کامیو) ‘‘ کو دیا گیا(منصفین :ارشد وحید ، ڈاکٹر خالد اقبال یاسر اورڈاکٹر سید جعفر احمد) ۔قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دودولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جائیں گے۔
    اکادمی ادبیات پاکستان کا تقسیم ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کرنا یٰقیناً ایک مستحسن اور قابلِ ستائش اقدام ہے مگر کیا ہی اچھا ہو۔کہ قومی ادبی ایوارڈ کا دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے صوبائی سطح پر لایا جائے تاکہ ہر صوبہ اپنے طور پر مقامی اہلِ قلم کی نامزدگی ممکن ہو اور علاقائی علم و ادب کو فروغ ملے ۔
    بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے اپنے ایک اعلامیہ میں چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف کو دلی طور پر مبارک باد پیش کی ہے ۔

  • زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں ہمیں کئی سوالات، کئی راستے، اور کئی چہرے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور کچھ سوالات خاموشی کے پردوں میں دبے رہتے ہیں۔زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں ایک نہ ایک بار ایسے سوالات کے سامنے ضرور کھڑا ہوتا ہے جن کے جواب آسان نہیں ہوتے۔ اور جب ان کے جوابات ملتے ہیں، تو یا تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے یا ہم خود بدل چکے ہوتے ہیں۔

    کچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیر لگی
    کون دشمن ہے، کسے دوست سمجھنا ہے یہاں
    ہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

    یہ اشعار سادہ الفاظ میں ایک پیچیدہ حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کا یہ کرب صرف اس کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کی آواز ہے۔ ہر وہ شخص جو زندگی میں دھوکہ کھا چکا ہو، جو رشتوں کی پہچان میں غلطی کر چکا ہو، اس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔یہ اشعار صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک پوری کہانی کا نچوڑ ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں دھوکہ، بھروسہ، حقیقت اور فریب سب شامل ہیں۔زندگی ہمیں بچپن میں سیدھی لگتی ہے، لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، سوالات پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ ’’کیا یہ شخص میرا خیرخواہ ہے؟‘‘ ’’کیا جس پر بھروسہ کیا، وہی پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپے گا؟‘‘انسانی فطرت بڑی پیچیدہ ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کا ایک چہرہ دوسروں کو دکھاتا ہے، اور دوسرا چہرہ چھپائے رکھتا ہے۔ بسا اوقات دشمن وہ نہیں ہوتا جو سامنے آ کر مخالفت کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ساتھ چلتا ہے، دعائیں دیتا ہے، مگر دل میں نفرت لیے ہوتا ہے۔ انسانی رشتے سب سے زیادہ دھوکہ دے سکتے ہیں۔ بسا اوقات جو مسکرا کر ملتا ہے، وہی اندر ہی اندر جلن ،حسد رکھتا ہے۔ اور جو سخت بولتا ہے، وہی اصل میں خیرخواہ ہوتا ہے۔

    انسان سیکھتا ہے، مگر سیکھنے کے لیے قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کبھی عزت کی صورت میں، کبھی اعتماد کی، کبھی جذبات کی۔ حالات ہمیں گراتے ہیں، توڑتے ہیں، مگر پھر جوڑتے بھی ہیں۔ اور یہی زندگی ہے،جب ہم حالات سے سیکھتے ہیں، تو ہم صرف ہوشیار نہیں ہوتے، بلکہ حقیقت پسند بھی ہو جاتے ہیں۔ ہم جذباتی نہیں، عقلمند بن جاتے ہیں۔ اور اس سیکھنے کا لمحہ چاہے جتنا بھی تکلیف دہ ہو، ہماری شخصیت میں وہ پختگی لے آتا ہے جو برسوں کے مطالعے سے بھی نہیں آتی۔

    دوستی کی پہچان وقت کرتا ہے۔ وہ وقت جو کٹھن ہو، جو آزمائشوں سے بھرپور ہو۔ کیونکہ آسان وقت میں سب ساتھ ہوتے ہیں، مگر جب حالات خراب ہوں، تب ہی اصلی چہرے سامنے آتے ہیں۔کئی بار ہم خود کو صحیح سمجھتے ہیں، مگر حالات ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں، مگر اصل علم تب آتا ہے جب ہم آزمائش سے گزرتے ہیں۔یہ ایک احساس ہے، پچھتاوے کا، سبق کا، سچ کا۔ لیکن یہی دیر، ہمیں نیا انسان بناتی ہے۔ ہمیں اندر سے مضبوط کرتی ہے۔

    زندگی میں سیکھنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور کبھی کبھی سیکھنے میں دیر ہو بھی جائے، تو کوئی بات نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہم نے سیکھا۔ چاہے تکلیف کے ذریعے، چاہے دھوکہ کھا کر، چاہے تنہائی میں جا کر۔ مگر اس سب کے باوجود، سیکھنا، آگے بڑھنا اور خود کو بہتر بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔

  • تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کا ذمہ دار کون؟تحریر:ملک سلمان

    تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کا ذمہ دار کون؟تحریر:ملک سلمان

    ووٹ بینک خراب ہونے کے ڈر سے جتنی بھی حکومتیں آئیں کسی نے بھی تجاوزات کے خلاف ایکشن لینے کی زحمت نہیں کی جس کے نتیجے میں تجاوزات بلین ڈالرز کی اندسڑی بن گئی تھی اور یہی لگتا تھا کہ تجاوزات کا خاتمہ مشن امپاسبل ہوچکا، جتنے بھی حکمران آئے وہ تجاوزات کے اصل بینیفشریز پارلیمنٹیرین اور بیوروکریسی کے سامنے بے بس ہوکر ہار مان جاتے تھے۔ تجاوزات پورے پاکستان کا مسئلہ ہے لیکن سوائے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے کسی نے بھی تجاوزات کے خاتمے کیلئے کوشش نہیں کی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تجاوزات مافیا کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کا حکم دیا تو عارضی اور پختہ تجاوزات کو ہٹایا گیا، کئی ہزار ارب کے زمینیں واگزار ہوئیں۔ مختلف یونیورسٹیز میں ہونے والے سروے اور ریفرنڈم میں مریم نواز نوجوانوں کی مقبول ترین لیڈر بن کرسامنے آئی ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات اور لاقانونیت کے خلاف زیروٹالریشن اور نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف ، خواتین کیلئے سکوٹی سمیت درجنوں منصوبوں کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پڑھے لکھے طبقے کا اچھا خاصا ووٹ بینک ان کی طرف آیا ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ نے بھی تجاوزات کے خلاف کاروائی کا حکم دیا۔ تجاوزات کا خاتمہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جرات اور حب الوطنی کی پہچان بن چکا ہے۔سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا مریم نواز نے اٹھایا ہے اس کیلئے پنجاب کا ہر فرد وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے۔ انتظامی افسران نے خودساختہ فیصلے کے تحت رمضان اور ’’عید لگانے دو ‘‘ کے نام پر تجاوزات کے خلاف کاروائی روک دی جس کے نتیجے میں صورت حال ایک دفعہ پھر سے زیرو پر آچکی ہے۔ میڈم وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کو بلا تعطل جاری رہنا چاہئے اور ایسے افسران کا بھی احتساب ضروری ہے جو تجاوزات کے خاتمے میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اس مافیا کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تجاوزات قائم کرنے والوں کیلئے تو سزا ہے لیکن تجاوزات کو ہٹانے میں ناکام ہونے والے انتظامی افسران کیلئے بھی عہدوں سے معطلیاں اور نوکری سے برخاستگی کی کاروائی کیے بن یہ مشن ادھورا ہی رہ جائے گا۔ باعزت روزگار کیلئے حکومت پنجاب نے بہترین ریڑھی بازار قائم کیے ہیں۔ ان کے علاوہ تمام ریڑھیاں اور رکشے قبضے میں لے لینے چاہئیں۔ مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ جدید پنجاب کو عملی شکل دینے کیلئے سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔ چھوٹی بڑی شاہرائیں ریڑھی اور رکشہ شاپ بن چکی ہیں۔ تجاوزات کا سامان ہرگز واپس نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ دن میں کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو شام کو وہی تجاوزات واپس آجاتی ہیں۔ حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اورسڑک۔ تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔ فیصل آباد، ڈی جی خان، جہلم، مری، حافظ آباد، جھنگ اور ساہیوال کے اضلاع کے علاوہ کہیں بھی تجاوزات کے خلاف قابل ذکر کاروائی نہیں کی گئی۔ اس مشن کی کامیابی اور عوامی شکایات کیلئے وزیراعلیٰ پورٹل بنایا جائے جہاں تجاوزات کی نشان دہی کی ویڈیوز اور تصاویر بھیجی جاسکیں، وزیراعلیٰ آفس ہفتہ وار رپورٹ لے۔ ایڈیشل چیف سیکرٹری کی سپرویژن میں تجاوزات فری پنجاب کے نام سے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کا گروپ بنایا جائے تاکہ کام کرنے والوں کو شاباش اور نہ کرنے والوں کر شرم دلائی جاسکے۔ ہائی ویز اور جی ٹی روڈ پر ابھی تک تجاوزات کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام اور حادثات معمول بن چکا ہے۔ سڑکوں اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کاروائی بھی ناگزیر ہے ۔ سڑک سے تجاوزات ہٹانا صرف ڈی سی کا کام نہیں بلکہ ناجائز پارکنگ اور مختلف کاروباری بورڈ لگا کر سڑکوں اور گلیوں کو بند کرنے پر ٹریفک پولیس کو بھی کاروائی کرنی چاہئے۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی نرسریاں، ایکسٹرا ریمپ اور نوپارکنگ کے نام پر مین شاہراہ اور گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔ لاہور سمیت پنجاب میں سرکاری زمینوں پر بنائی گئی پختہ اور عارضی تجاوزات کا ماہانہ کرایہ لینے والے سنئیر افسران اور سیاستدان بہت ساری اہم جگہوں سے تجاوزات کے خاتمے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہئے کہ ایک دفعہ پھر سے واضح احکامات جاری کیے جائیں کہ کسی بھی سیاسی اور انتظامی افسران کے پریشر کو خاطر میں لائے بن تجاوزات مافیا کا قلع قمع کیا جائے تاکہ تجاوزات مافیا کے زیر قبضہ چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمینوں کو حکومت کی تحویل میں لیا جاسکے۔ لاہور کا ذکر کرنا اس لیے ضروری ہے کہ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے چیف ٹریفک آفیسر ، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ تجاوزات کی کمائی کھانے کیلئے پنجاب کو لاقانونیت کی بدترین تصویر بنانے والے تجاوزات مافیا اور ان کو سپورٹ کرنے والے انتظامی افسران کو جیل بھیجا جائے تاکہ قانون کا ڈر اور سٹیٹ کی رٹ بحال ہو۔

  • معافی…. مگر حدوں کے ساتھ.تحریر: نور فاطمہ

    معافی…. مگر حدوں کے ساتھ.تحریر: نور فاطمہ

    معافی دینا ایک خوبصورت عمل ہے۔ یہ دل کی وسعت، ظرف کی بلندی اور انسان کی انسانیت کا ثبوت ہے۔ مگر ہر خوبی تبھی خوبصورت رہتی ہے جب وہ اپنی حدود میں ہو۔ اندھا دھند معاف کرتے جانا، خود کو بار بار تکلیف میں جھونک دینا، اور زہر گھولنے والوں کو بار بار پینے دینا ، یہ بخشش نہیں، بے خبری ہے۔

    ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے،”معاف کر دینا بہتر ہے، جو اللہ معاف کرتا ہے، بندہ کیوں نہ کرے؟”بیشک یہ بات سچ ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ بھی وہی گناہ معاف کرتا ہے جن پر سچی توبہ ہو، ندامت ہو، اور آئندہ نہ دہرانے کا پکا ارادہ ہو۔ تو کیا ہم انسان یہ حق نہیں رکھتے کہ یہ دیکھیں کہ معافی مانگنے والے کی نیت کیا ہے؟ کیا وہ واقعی شرمندہ ہے یا صرف حالات نے اُسے مجبور کیا ہے؟دنیا میں ہر دکھ کے بعد سکون آتا ہے، ہر اندھیرے کے بعد اجالا۔ لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو صرف وقت سے نہیں، بلکہ فاصلوں سے بھرے جاتے ہیں۔جس نے نہ صرف ایک بار، بلکہ بار بار آپ کے جذبات کو مجروح کیا۔ جس نے آپ کے احساسات کے ساتھ کھیلا اور جان بوجھ کر آپ کو توڑا۔ ایسے شخص کے "معاف کر دو” کہنے پر دل نرم نہ کریں۔

    جب آپ نے اخلاص سے رشتہ نبھایا، جب آپ نے ہر قدم پر ساتھ دیا، اور بدلے میں تحقیر، بدگمانی اور طنز ملا ، تو یہ محبت کا مذاق ہے۔ اور مذاق اُڑانے والے کو کبھی عزت کے ساتھ واپس نہیں لایا جاتا۔جب کسی کا برتاؤ آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرے کہ اب آپ ہر سچے جذبے پر شک کرنے لگیں، ہر مسکراہٹ میں مطلب ڈھونڈیں، اور ہر خلوص کو فریب سمجھنے لگیں ، تو یہ صرف ایک رشتہ نہیں، ایک شخصیت کی تباہی ہے۔ اس تباہی کا سبب بننے والے کو معاف کرنا اپنے آپ سے بے وفائی ہے۔یقین وہ بنیاد ہے جس پر ہر رشتہ قائم ہوتا ہے۔ ایک بار اگر یہ بنیاد ہل جائے تو پوری عمارت لرزنے لگتی ہے۔ جو شخص آپ کا یقین توڑتا ہے، وہ صرف بھروسہ نہیں توڑتا بلکہ آپ کے اندر ایک گہرا خلا پیدا کرتا ہے۔ ایسے خلا کو بھرنے کے لیے مہینے، سال، اور بعض اوقات پوری زندگی لگ جاتی ہے۔

    معافی ایک نعمت ہے، مگر جب یقین ٹوٹ جائے، تو وہ صرف ایک لفظ بن جاتی ہے، بے معنی، خالی، اور کھوکھلا، "ایسے لوگوں کو جانے دیں جو اپنی آسانی اور ضرورت کے حساب سے آپ کو ضروری سمجھیں۔”یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو تب چاہتے ہیں جب ان کو اکیلا محسوس ہوتا ہے، جب ان کے کام رک جاتے ہیں، یا جب دنیا ان کی طرف نہیں دیکھتی۔ یہ تعلقات نہیں ہوتے، بلکہ وقتی سہارا ہوتے ہیں۔ اور انسان کوئی کرسی نہیں جو بس سہارا دے ،انسان ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے،

    پہلا قدم یہ ہے کہ خود کو معاف کریں ، اس لمحے کے لیے جب آپ نے خود سے زیادہ کسی اور کو اہم جانا۔ جب آپ نے اپنی قدر گھٹا کر کسی کو اوپر رکھا۔ جب آپ نے آنکھیں بند کر کے کسی پر بھروسہ کیا۔زندگی ایک استاد ہے۔ وہ سبق سکھاتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تلخ ہو جائیں، یا ہر کسی سے بدگمان۔ ہر کوئی برا نہیں ہوتا ، بس اب آپ جانتے ہیں کہ اچھے اور برے میں فرق کیسے کرنا ہے۔معذرت ایک خوبصورت عمل ہے، مگر صرف تب، جب دل سے ہو۔ ورنہ وہ ایک بہانہ بن جاتی ہے، واپس آنے کا، پھر تکلیف دینے کا،اپنے دل، اپنے سکون، اور اپنی خودی کی حفاظت کریں۔ اور یاد رکھیں ،”وہی لوگ معاف کیے جانے کے لائق ہوتے ہیں جو آپ کو کبھی تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے۔”

    noor fatima

  • تمباکو نوشی کیخلاف پنجاب حکومت کا احسن فیصلہ،تحریر: نور فاطمہ

    تمباکو نوشی کیخلاف پنجاب حکومت کا احسن فیصلہ،تحریر: نور فاطمہ

    تمباکو نوشی دنیا بھر میں لاکھوں جانیں لینے والی ایک خاموش قاتل ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں حکومتِ پنجاب نے ایک جرات مندانہ اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس 2002 پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد شہریوں، خاص طور پر نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق، اب راولپنڈی سمیت پورے صوبے میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت مخصوص مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانے کی رقم 1000 روپے سے لے کر 1 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔

    تمام سرکاری اور نجی دفاتر،تعلیمی ادارے (اسکول، کالج، یونیورسٹیاں)،اسپتال، کلینکس اور دیگر طبی مراکز،شاپنگ مالز، مارکیٹیں، ہوٹلز،پبلک ٹرانسپورٹ، بس اسٹینڈز، ریلوے اسٹیشنز اور ہوائی اڈے ان تمام مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہو گی،یہ فیصلہ نہ صرف عوامی صحت کی بہتری کے لیے ہے بلکہ صاف ستھری اور تمباکو سے پاک فضا کے قیام کی طرف ایک مثبت قدم بھی ہے۔حکومت نے سگریٹ و تمباکو مصنوعات فروخت کرنے والے دکانداروں کے لیے بھی سخت ضابطے متعارف کرائے ہیں،ہر دکان پر نمایاں طور پر “تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” کا نوٹس آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔کسی بھی تعلیمی ادارے کے 50 میٹر کے اندر سگریٹ یا کسی بھی تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی ہو گی۔یہ ضابطے اس لیے بھی اہم ہیں تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو کم عمری میں اس لت سے دور رکھا جا سکے۔

    حکومتِ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ پولیس، مقامی انتظامیہ، محکمۂ صحت اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ،تمباکو نوشی کے خلاف مہمات چلائی جائیں گی،خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر جرمانے کیے جائیں گے،عوام میں شعور و آگاہی بڑھانے کے لیے آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جائے گا

    سگریٹ نوشی صرف ایک عادت نہیں، بلکہ ایک ایسا خطرناک عمل ہے جو کئی جان لیوا بیماریوں کا پیش خیمہ ہے، جیسے کہ پھیپھڑوں کا کینسر،دل کی بیماریاں،سانس کی بیماریاں (دمہ، برونکائٹس)،منہ، گلے اور معدے کا کینسر و دیگر،عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہر سال دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے 80 لاکھ سے زائد اموات واقع ہوتی ہیں۔یہ قانون صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود سگریٹ نوشی سے پرہیز کرے، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے باز رکھے۔ معاشرے کے تمام طبقات بشمول والدین،اساتذہ،دکاندار،میڈیا،سوشل ایکٹیوسٹکو چاہیے کہ وہ اس قومی مہم کا حصہ بنیں اور اپنے اردگرد تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کریں۔حکومت پنجاب کا انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر یہ فیصلہ سنجیدگی سے نافذ کیا گیا اور عوامی شعور کو بھی بیدار کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بنے گا بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک صاف ستھرا اور تمباکو سے پاک ماحول فراہم کرنے میں بھی مدد دے گا۔آئیے! ہم سب مل کر اس مہم کا حصہ بنیں اور ایک تمباکو فری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

  • رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں بے شمار لوگ آتے ہیں، کچھ لمحوں کے لیے، کچھ سکھ ،تکلیف،دینے کے لیے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے۔ مگر اُن سب میں سے "کسی کو چُننا” یہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک چہرے، ایک آواز، یا کسی مسکراہٹ کو چُننا نہیں ہوتا۔یہ دراصل ایک مکمل انسان کو، اُس کی مکمل ذات کے ساتھ اپنانے کا عمل ہے۔ اور یہی بات تعلقات کی اصل روح ہے۔جب ہم کسی کو چُنتے ہیں تو ہم اُس کی پسندیدہ عادتوں، اُس کی مسکراہٹ، اُس کے اندازِ گفتگو، اور اُس کی موجودگی سے ملنے والی خوشی کو اپناتے ہیں۔مگر اصل چناؤ تب ہوتا ہے جب ہم اُس کی ناپسندیدہ باتوں، اُس کی چپ، اُس کے ماضی کے زخموں، اور اُس کی کمزوریوں کو بھی اُسی اپنائیت سے قبول کرتے ہیں۔قبولیت صرف خوبصورت پہلوؤں کی نہیں ہوتی، بلکہ ہر اُس ٹوٹ پھوٹ، ہر اُس تلخی، ہر اُس کمزوری کی ہوتی ہے جو ایک انسان کو مکمل بناتی ہے۔

    اکثر رشتے اِس غلط فہمی میں قائم ہوتے ہیں کہ دوسرا انسان ہمیشہ خوش رہے گا، ہمیشہ محبت دے گا، اور کبھی نہیں بدلے گا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک اندرونی جنگ چل رہی ہوتی ہے، وہ کبھی ہار رہا ہوتا ہے، کبھی تھک جاتا ہے، کبھی خود سے بھی بات نہیں کر پاتا۔وہ لمحے جب وہ چپ ہو جاتا ہے، جب اُس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوتی ہے، جب وہ خود سے دور ہو جاتا ہے ، یہی اصل وقت ہوتا ہے اُسے اپنانے کا، اُسے سمجھنے کا، اور اُس کا ساتھ دینے کا۔

    ہم اکثر رشتوں کو خوشیوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن سچا رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں آنسو بھی قبول کیے جاتے ہیں۔
    جہاں صرف "میں تمہارے ساتھ ہوں” کہنا کافی نہیں، بلکہ ساتھ بیٹھ کر، خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام کر، اُس کے دُکھ میں شریک ہونا ضروری ہوتا ہے۔کسی کی تکلیف میں اُس کے قریب ہونا، صرف لفظوں سے نہیں، احساسات سے اُسے تھپکی دینا یہی” محبت "ہے۔جب ہم کسی کو اپناتے ہیں، تو اُس کے ماضی کو بھی اپناتے ہیں۔ اُس کے پرانے زخم، اُس کی تلخیاں، اُس کی کہانیاں ، یہ سب اُس کی موجودہ ذات کو تشکیل دیتے ہیں۔
    اگر ہم کسی کے ماضی کو رد کر دیتے ہیں، تو ہم اُس کی مکمل شناخت کو مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔رشتے میں اعتماد تب قائم ہوتا ہے جب ہم ماضی کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، نہ کہ اُس پر طعنہ دیتے ہیں۔

    محبت اور تعلق صرف ایک جذباتی بندھن نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے۔جب دو لوگ ایک دوسرے کی تکلیفیں، کمزوریاں، خوشیاں، اداسیاں سب کچھ بانٹتے ہیں تو وہ ایک ایسا رشتہ بناتے ہیں جسے وقت، فاصلہ، یا حالات بھی کمزور نہیں کر سکتے۔ایسے رشتے میں "میں” اور "تم” ختم ہو جاتے ہیں، اور صرف "ہم” باقی رہ جاتا ہے۔کسی کو چننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ایک کامل شخص چُنا ہے۔بلکہ آپ نے ایک ایسا شخص چُنا ہے جس کے اندر خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ، اور آپ نے اُسے ہر صورت میں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔محبت صرف یہ نہیں کہ آپ اُس کے ساتھ اچھے وقت گزاریں، بلکہ یہ کہ آپ اُس کے برے وقت میں بھی اُسی شدت سے اُس کے ساتھ رہیں۔اسی میں اصل انسانیت، اصل رشتہ، اور اصل محبت چھپی ہے۔

    noor fatima

  • کتاب: جناب عالی،شاعر: صغیر احمد صغیر ،تبصرہ: منزہ سحر

    کتاب: جناب عالی،شاعر: صغیر احمد صغیر ،تبصرہ: منزہ سحر

    ایک ڈرے، سہمے، مفاد پرست اور تعفن زدہ معاشرے میں طاغوتی قوتوں کو للکارتی ہوئی آواز ۔۔۔ جناب عالی! جناب عالی!
    یہ کاٹ دار لہجہ ان منفی کرداروں سے مخاطب ہے جو نا صرف معاشرتی اقدار پہ حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ دلوں پر بھی بے دریغ وار کرتے ہیں اور اندھا دھند اپنے مفاد کے گھوڑے سرپٹ دوڑاتے ہوئے انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ایسے میں کوئی ایک ایسا دلیر، غیور اور نڈر کردار ان کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اور ان کی سوالیہ نظروں کے جواب میں یہ ڈائیلاگ بولتا دکھائی دیتا ہے جنابِ عالی! جنابِ عالی!
    صورتحال کچھ فلمی سی تو لگتی ہے مگر کیا کیجیئے جب ہمارے لیے حالات ہی ایسے بنا دئیے جائیں تو ان کا جواب بھی اسی طریقے سے واجب ہو جاتا ہے ۔ اور پھر تاریخ بھی ایسے کردار کو فراموش نہیں کر سکتی بلکہ وہ دوسروں کے لیے ایک مثال بن کر ابھرتا ہے اور اپنے حصے کا کام کر جاتا ہے ۔
    جناب صغیر احمد صغیر کا زیر نظر شعری مجموعہ "جناب عالی!” عین اس صورتحال کا آئینہ ہے ۔ انہوں نے بنا کسی خوف و خطر مزاحمتی شاعری کو آگے بڑھاتے ہوئے انقلابی شاعروں کی پیروی بھی کی ہے اور اپنا منفرد اسلوب اور واضح نکتہ نظر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے ۔ شعری مجموعہ "جنابِ عالی! ” شاعر کے نڈر طرزِ فکر کو اجاگر کرتا ہے ۔ وہ معاشرے کے کرتا دھرتاؤں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
    میں زمانے سے جدا ہوں سو جدا بولنا ہے
    اس پہ معلوم ہے لوگوں نے برا بولنا ہے
    قاضی وقت کی اوقات یہی ہے کہ اسے
    حکم لکھا ہوا ملتا ہے کہ کیا بولنا ہے۔
    حرف غلط ہے جو بھی مٹا دینا چاہیے
    یہ ظلم کا نظام گرا دینا چاہیے
    جس شہر پر یزید کی فرماں روائی ہو
    اس شہر کو صغیر جلا دینا چاہیے ۔
    صغیر احمد صغیر بیک وقت پنجابی ، اردو اور انگریزی کے بہترین شاعر ہیں وہ نا صرف سنجیدہ شاعری میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں بلکہ ان کی مزاح سے بھرپور شاعری بھی سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہے یہ کثیر اللسانی اور کثیر الجہتی ان کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ وہ جہاں بھی کلام سناتے ہیں بے پناہ داد وصول کرتے ہیں۔ حیاتیات کے پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی ان کا مضمون رہا ہے اس لیے آپ کو ان کے اشعار میں تاریخی حوالے بھی ملیں گے۔
    اک ایک شاہ پہ گزری ہر ایک شاہ کے بعد
    پناہ ڈھونڈو گے تم دیکھنا پناہ کے بعد
    ہر ایک جبر کے انجام کی خبر ہے ہمیں
    کہ صبح ہوتی ہے آخر شب سیاہ کے بعد
    اس خوفزدہ اور گھٹن کی فضا میں کوئی جاندار للکار مایوس اور تھکے ہوئے اذہان کے لیے تقویت اور طمانیت کا باعث ہے اور اس نفسا نفسی کے عالم میں زاد راہ کی طرح منزل پر پہنچنے کے کام آتی ہے ۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ۔
    تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
    پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا
    میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا
    تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا
    جنہوں نے مل کر مرے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے
    انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا ۔
    کون اپنے تھے جو دشمن کے حواری نکلے
    بات نکلی ہے تو پھر ساری کی ساری نکلے
    ہم تو سمجھے تھے کہ تقدیسِ قلم جانتے ہیں
    ہائے جو لوگ کرائے کے لکھاری نکلے
    جو تری میز پہ رکھا ہے یہ دائیں جانب
    منصفا اس ترے میزان سے خوف آتا ہے
    وہ جہاں چاہے وہاں آگ لگا دیتا ہے
    شہر کے شہر کو سلطان سے خوف آتا ہے ۔
    محبت کسی بھی شاعر کی شاعری کا پہلا اور آخری مسئلہ ہے وہ بیشک جتنے بھی مضامین اپنی شاعری میں شامل کرے محبت سے جان نہیں چھڑا سکتا ۔ دل ٹوٹنے پر دل برداشتہ ہونا اور بے حد اداس ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو سنبھالنا بھی کسی کسی کا کام ہے یہاں بھی محترم شاعر اپنے محبوب کو اپنی شخصیت کا مظبوط رخ دکھاتے نظر آتے ہیں ۔ یہ اشعار دیکھئیے
    نہ کوئی واہمہ اب ہے نہ ڈر اداسی کا
    لگی ہے عمر تو آیا ہنر اداسی کا
    تمہاری چہرہ شناسی کو مان جاؤں گا
    بتاؤ مجھ پہ ہے کتنا اثر اداسی کا
    آدمی عشق میں جب حد سے گزر جاتا ہے
    عشق جاتا ہے یا پھر ہاتھ سے گھر جاتا ہے
    اس نے سمجھا ہی نہیں ہے مری خاموشی کو
    اتنا خاموش رہے کوئی تو مر جاتا ہے
    اک وہی ہے جو مرے دل کی زباں جانتا ہے
    ورنہ دنیا میں مجھے کوئی کہاں جانتا ہے
    قہقہے اتنے لگاتا ہوں کہ رو پڑتا ہوں
    میرے ہنسنے کا سبب کون یہاں جانتا ہے
    اور اب اس مشہور زمانہ غزل کے چند اشعار جس کی ردیف اس کتاب کے سرورق پہ چمک دمک رہی ہے ۔
    کبھی تو دیکھو گے ان کی لالی جنابِ عالی!
    ہماری آنکھیں جو ہیں سوالی جنابِ عالی!
    عجب قرینہ، عجب مہارت ہے گفتگو میں
    جو اتنا اچھے سے بات ٹالی جنابِ عالی!
    جناب دنیا سے ڈر گئے نا ؟بدل گئے نا؟
    ہمارے پیچھے بھی تھی یہ سالی جنابِ عالی!
    جناب صغیر احمد صغیر کے شعری سفر میں اب تک چار شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں سے ایک پنجابی شعری مجموعہ اور تین اردو شاعری کے مجموعے شامل ہیں دو مزید اردو شعری مجموعے زیر اشاعت ہیں اور خبر ہے کہ جلد ہی منظر عام پر ہوں گے یوں کل ملا کر وہ چھ عدد شعری مجموعوں کے خالق ہیں جو کہ ان کی محنت و ریاضت کا نچوڑ ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے دعائیں اور نیک تمنائیں ۔

  • وزیراعلیٰ ہو تو مریم نواز جیسی…تحریر: نورفاطمہ

    وزیراعلیٰ ہو تو مریم نواز جیسی…تحریر: نورفاطمہ

    جب مریم نواز نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو وہ پنجاب کی تاریخ میں یہ منصب سنبھالنے والی پہلی خاتون بنیں۔ ان کی یہ حیثیت نہ صرف ایک تاریخی لمحہ تھی بلکہ تبدیلی کی نوید بھی۔ وزیراعلیٰ کے طور پر ان کے ابتدائی اقدامات نے واضح کر دیا کہ وہ صرف منصب کی روایتی ذمہ داری نہیں نبھانا چاہتیں بلکہ حقیقت میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہیں۔ان کے کئی اقدامات عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکے ہیں، لیکن ان میں سے ایک سب سے نمایاں اور متاثر کن قدم طلبا کے لیے دی جانے والی سکالر شپ اسکیم ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو نہ صرف سمجھتی ہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہی ہیں۔ سکالر شپ کا مقصد یہ ہے کہ مالی مسائل کسی طالبعلم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ پنجاب کے ہزاروں طلبا و طالبات، جو تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے، اب اپنی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہو رہے ہیں۔سکالر شپ سے کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع مل رہے ہیں۔باصلاحیت طلبا اب اپنی مکمل توجہ تعلیم پر مرکوز کر سکتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان ہی کسی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔خاص طور پر طالبات کے لیے یہ سکالر شپ ایک حوصلہ افزا قدم ہے، جو والدین کو ان کی تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔عوام کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر مریم نواز کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ طلبا، والدین اور اساتذہ سب ہی اس سکیم کو ایک مثبت اور دور رس اثرات رکھنے والا قدم قرار دے رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے پنجاب کی طرح ہونہار سکالرشپ سکیم کی بھی منظوری دی ہے جو کہ انتہائی احسن فیصلہ ہے۔ یہ سکیم ملک بھر کے طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کرے گی، تاکہ تعلیم کے میدان میں قابلیت کی بنیاد پر انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے۔مریم نواز نے پنجاب میں طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد کو بڑھا کر ایک لاکھ 10 ہزار کر دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے،تعلیم دوست اقدامات سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہریوں کے دل جیت لئے ہیں،

    وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ہونہار سکالر شپ ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا گیاہے،ہونہار سکالر شپ سکیم کے لئے طلبہ واٹس ایپ،لینڈلائن نمبراور سوشل میڈیا پررجوع کر سکتے ہیں۔ صبح9بجے سے شام5تک ہونہار سکالر شپ ڈیسک طلبہ کی رہنمائی کرے گا۔ ہونہار سکالرشپ کے ڈیسک پر انفارمیشن اور درپیش ممکنہ شکایات سے متعلق فوری حل کے لئے رابطہ کیا جا سکے گا۔ طلبہ ہونہار سکالر شپ کے لئے ہیلپ لائن نمبر042-99231903-4پر رابطہ،0303-4002777 اور0303-4002999 پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔ ہونہار سکالر شپ کے لئے آن لائن complainthonhaar@punjabhec.gov.pkپر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ہونہار سکالر شپ کے لئے آن لائنhonhaar@punjabhec.gov.pkپر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    noor fatima