Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سیم جینڈر سے جنسی کشش نفسیاتی مسئلہ.تحریر:ملک ارشد

    سیم جینڈر سے جنسی کشش نفسیاتی مسئلہ.تحریر:ملک ارشد

    آج کل کے دور میں بہت سے نوجوانوں میں ہم جنسیت (سیم جینڈر سے جنسی کشش) کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف فرد کی ذہنی حالت کا عکاس ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اور ثقافتی ماحول سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض لوگ اس رجحان کو صرف ایک "ذہنی بیماری” یا "غلط سوچ” سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے جسے مختلف زاویوں سے سمجھنا ضروری ہے۔

    ہم جنسیت کی کشش کی نفسیات میں ایک اہم پہلو "دماغی تربیت” یا "مائنڈ سیٹنگ” ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان میں جنسی کشش موجود ہوتی ہے، اور یہ کشش مختلف لوگوں میں مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات، فرد کا دماغ کسی ایک جینڈر (مخالف یا ہم جنس) کے لئے زیادہ کشش محسوس کرتا ہے۔اگر ہم نفسیاتی لحاظ سے بات کریں، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی فرد نے بچپن میں غیر صحت مند ماحول میں پرورش پائی ہو یا کسی خاص نوعیت کے ذہنی دباؤ یا چیلنجز کا سامنا کیا ہو، تو اس کا دماغ اس صورتحال کو ایک خاص طریقے سے پروسیس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں، وہ ہم جنس سے جنسی کشش محسوس کرنے لگتا ہے۔اس کو ایک طرح سے "برین فیڈنگ” یا "مائنڈ سیٹنگ” کہا جا سکتا ہے جس کے ذریعے فرد اپنے ذہن میں غیر فطری رجحانات پیدا کرتا ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی اثر ہے، جس میں بچپن میں گزرے ہوئے تجربات اور معاشرتی تربیت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔

    ہر انسان میں قدرتی طور پر دونوں جینڈر (مرد اور عورت) سے جنسی کشش محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ کشش معمول کی بات ہے اور ہر فرد کے اندر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ تاہم، جب ہم سیم جینڈر سے جنسی کشش کی بات کرتے ہیں، تو یہ ایک مختلف نوعیت کی کشش ہوتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہم سب اپنے والدین، بہن بھائیوں، اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ محبت اور عزت رکھتے ہیں۔ یہ بھی ایک نوع کی "کشش” ہوتی ہے، مگر اس کشش کی نوعیت اور اس کا اظہار مختلف ہوتا ہے۔ صحت مند نفسیاتی اور سماجی تربیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہم جنس کے افراد کے ساتھ عزت و احترام کی بنیاد پر تعلق قائم کیا جائے، نہ کہ کسی جنسی جذبے کے طور پر۔

    ہماری مذہبی تعلیمات اور اخلاقی تربیت بھی ہماری جنسی کشش کی سمت کو متعین کرتی ہیں۔ اسلام، مسیحیت، ہندومت اور دیگر مذاہب میں ہم جنسیت کو غیر فطری اور غلط سمجھا گیا ہے۔ مذہبی تعلیمات میں بتایا گیا ہے کہ مرد اور عورت کا رشتہ قدرتی اور فطری ہے، اور اسی میں انسان کی جسمانی اور روحانی سکونت ہے۔جب افراد مذہبی تربیت سے آراستہ ہوتے ہیں، تو ان کے ذہن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہم جنسیت کی طرف رغبت غیر فطری ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ یہ تربیت انسان کو اپنی جنسی کشش کو صحیح سمت میں متحرک کرنے میں مدد دیتی ہے اور اس کی زندگی میں سکون و سکونت کا باعث بنتی ہے۔

    ایک اور اہم پہلو جو سیم جینڈر سے جنسی کشش کی طرف رجحان پیدا کر سکتا ہے، وہ بچپن کے زمانے میں ہونے والے نفسیاتی ٹراما (چائلڈ ایج ٹراما) ہیں۔ اگر بچپن میں کسی فرد کو مخالف جینڈر کی طرف سے کوئی منفی تجربہ، تشویش یا جسمانی یا ذہنی اذیت کا سامنا ہوتا ہے، تو اس کا دماغ اس تجربے کو اپنی جنسی کشش کے طور پر پروسیس کر سکتا ہے۔اس کا اثر بعد کی زندگی پر پڑتا ہے، اور فرد سیم جینڈر کی طرف اپنی جنسی کشش محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس نفسیاتی مسئلے کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ چائلڈ ایج ٹراما کو درست طریقے سے علاج کیا جائے، تاکہ دماغ کے کرپٹ سگنلز دوبارہ نیچرل پیٹرن پر آ جائیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر شخص کا دماغ اور تربیت مختلف ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کو سیم جینڈر کی طرف کشش محسوس ہوتی ہے، تو یہ اس کے ذہنی اور نفسیاتی پس منظر پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ذہنی بیماری یا گندی سوچ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ہمیں اپنے ذہنوں میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ احترام اور محبت کے جذبات ہر نوع کے رشتہ میں موجود ہوتے ہیں، چاہے وہ مخالف جینڈر ہو یا ہم جنس۔ یہ صرف تربیت اور ماحول پر منحصر ہے کہ ہم اس کشش کو کس طرح سمجھتے ہیں اور اس کا اظہار کس طرح کرتے ہیں۔

    سیم جینڈر سے جنسی کشش ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جسے صرف ذہنی بیماری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ نفسیاتی، سماجی اور مذہبی عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے، اور اس کے حل کے لیے بہتر تربیت، ذہنی سکون اور مثبت ماحول کی ضرورت ہے۔ اگر کسی فرد میں اس کشش کا اظہار ہو رہا ہو، تو اس کو صحیح طریقے سے سمجھنا اور اس کا علاج کرنا ضروری ہے تاکہ وہ قدرتی، فطری اور صحت مند ذہنی حالت کی طرف واپس آ سکے۔آخرکار، ہمارے ذہنوں کو قدرتی اور صحت مند پیٹرن کے ساتھ تربیت دینا ہماری زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے اور ہمیں سکون فراہم کر سکتا ہے۔

  • عورت کی ہر ادا خود اک تعویذ بن سکتی ہے،تحریر:مہر بشارت صدیقی

    عورت کی ہر ادا خود اک تعویذ بن سکتی ہے،تحریر:مہر بشارت صدیقی

    ہزاروں سال سے انسانوں نے مختلف طریقوں سے اپنی زندگی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان میں ایک بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو روحانی چیزوں میں سکون اور رہنمائی تلاش کرتے ہیں۔ تعویذ، جن کو ہم عموماً ایک کاغذی یا دھاگے میں لپٹے ہوئے نسخے کی صورت میں دیکھتے ہیں، ان کا مقصد کسی قسم کے روحانی یا جسمانی مسائل سے نجات پانا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم بات کرتے ہیں خاص طور پر عورتوں کے تعویذ لینے کی، تو ایک بہت اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا واقعی ہمیں اس طرح کے روحانی نسخوں کی ضرورت ہے، یا پھر ہمارے اندر خود اتنی طاقت اور صلاحیت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں؟

    یہ جو عورتیں تعویذ لینے آتی ہیں کہ "حضرت! میرے شوہر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، وہ میری طرف نہیں آتا یا ہماری زندگی میں خوشی نہیں ہے”، مجھے ذاتی طور پر یہ بہت حیران کن لگتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیوی کی تصویر ہے جو جوان، تعلیم یافتہ، اور عقل و فہم سے مالا مال ہے، پھر بھی وہ روحانی تعویذوں کی تلاش میں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی عورت کے اندر جو خوبیاں اور صلاحیتیں اللہ نے رکھی ہیں، ان کا فائدہ اُٹھا کر اپنے مسائل کا حل کیوں نہ نکالا جائے؟

    یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بے شمار خوبیاں دی ہیں جن میں سب سے بڑی چیز اس کا فطری حسن، محبت کرنے کی صلاحیت، اور سمجھداری ہے۔ ایک نیک و فہمی عورت کی ہر ادا خود ایک تعویذ بن سکتی ہے۔ اللہ نے عورت کے اندر ایسی کشش رکھی ہے کہ وہ اپنی باتوں، انداز، اور طرزِ زندگی سے اپنے شوہر کے دل میں محبت اور تعلق پیدا کر سکتی ہے۔ مرد کی دل کی کشش کا راز بھی عورت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات یا حرکت میں ہوتا ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی عورت اپنے اندر موجود نرگسیت، محبت، اور سمجھداری کا صحیح استعمال کرے، تو وہ اپنے شوہر کو اپنی طرف مائل کر سکتی ہے۔عورت کو ان تعویذوں کی ضرورت نہیں ہے جو کاغذ پر لکھے ہوتے ہیں، بلکہ اسے اپنی باتوں، انداز اور محبت میں چھپی ہوئی طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔ مرد کی دل کی کشش، عورت کی باتوں میں چھپی ہوئی محبت، اور اس کی مسکراہٹ میں بسی ہوئی راحت ہی وہ تعویذ ہیں جن کی واقعی ضرورت ہوتی ہے۔

    جب شوہر تھکا ہارا گھر آتا ہے، تو گھر کا ماحول اس کے لیے سکون اور راحت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ لیکن اگر بیوی بھی تھکی ہوئی ہو، تو ایسا ماحول قائم نہیں ہو پاتا۔ جب شوہر کام سے واپس آتا ہے، تو بیوی کا اس کا استقبال محبت سے، خوش اخلاقی سے، اور ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ کرنا، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو مرد کے دل کو سکون دیتی ہیں۔بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو فریش (تروتازہ) رکھے، اور شوہر کے سامنے محبت بھری باتیں کرے۔ اگر وہ اپنی باتوں اور انداز سے شوہر کو خوش رکھے گی، تو پھر دیکھیں کہ گھر میں کیسی خوشیاں آتی ہیں۔ مرد جب اپنی بیوی سے محبت و پیار دیکھے گا، تو وہ خود بھی ان تمام تر پریشانیوں سے آزاد ہو جائے گا جن کا وہ دن بھر سامنا کرتا ہے۔لہذا، عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی قدرتی صلاحیتوں اور حسن کو سمجھے اور ان کا استعمال کرے۔ اللہ نے اس کے اندر اتنی طاقت رکھی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو خوش رکھ سکتی ہے، اور اپنے گھر میں سکون اور محبت کا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ تعویذ لینے کی بجائے، وہ اپنے طرزِ زندگی اور رویے میں تبدیلی لائے، تاکہ وہ اپنے شوہر کے دل میں محبت اور تعلق پیدا کر سکے۔

    یاد رکھیں کہ ایک نیک و فہمی اور محبت کرنے والی بیوی کے لیے اس کی ہر حرکت، ہر بات اور ہر انداز ایک تعویذ کی مانند ہوتا ہے۔ عورت کے اندر ایسی بے پناہ طاقت ہے کہ وہ اپنے شوہر کے دل میں محبت اور سکون کا خزانہ بنا سکتی ہے۔ اس کا تعلق روحانیت اور محبت سے ہے، نہ کہ کسی کاغذی تعویذ سے۔

    baaghi blogs

  • محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں .تحریر:ساجدہ امیر

    محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں .تحریر:ساجدہ امیر

    کسی نے لکھا ” کون کہتا ہے برداشت کا عنصر صرف عورت کے پاس ہے؟ اس مرد کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے محض باپ کی لاج رکھنے کے لئے فقط ماں کے دونوں جڑے ہاتھوں کی لاج رکھنے کے لئیے اپنی پسندیدہ عورت کو تیاگ دیا ہو؟ اور اپنے گھر آنے والی اس عورت کو وہ سب مقام دیے ہوں جسکے خواب اسنے اپنی محبوب عورت کے لیے سینچے تھے۔میں ہمیشہ لکھتی ہوں کہ محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں فرق فطرت کا ہوتا ہے۔ہر مرد کی فطرت میں قربانی نہیں ہوتی اسی طرح ہر عورت کی فطرت میں ایک مقام پر ٹھہرنا نہیں ہوتا۔ فرق ہر جنس کی اپنی اپنی فطرت کا ہے۔کہیں مرد قربانیاں دیتا چلا جاتا ہے کہیں عورت سہتے سہتے قربان ہو جاتی ہے۔”

    بالکل درست لکھا ہے۔۔۔
    "میں نے ایسے مرد بھی دیکھے ہیں جن کے پاس اختیار ہوتا ہے جو خود مختار ہوتے ہیں مگر وہ خود کو روک لیتے ہیں اس عورت پر اکتفا کرلیتے ہیں جن کو اس پر نافذ کیا گیا تھا مسلط کیا گیا تھا۔عورت تو یہ قربانی صدیوں سے دیتی آرہی ہے مگر مرد بھی یہ قربانی بارہا دے چکا ہے، پھر مرد کو بے وفائی کا ٹیگ لگا دینا یہ سراسر بد دیانتی ہے۔ ایسے مرد بھی دیکھے ہیں میرے مشاہدے سے گزرے ہیں جنھوں نے اپنی بیوی کی اس خطا کو بھی معاف کردیا جس کے بعد چھوڑدینا اس مرد کا حق بنتا تھا مگر پھر بھی اس مرد نے بے وفائی کر کے نادم ہونے پر اس عورت کو وہ مقام دیا جسکی وہ حق دار نہیں تھی۔”

    مرد رب العالمین کی خوبصورت تخلیق ہے، وہی عورت نایاب تخلیق ہے۔ کبھی کبھار مرد کے سامنے باپ کی پگڑی، ماں کا دوپٹہ اور بہن کے آنسو روکاوٹ بن جاتے ہیں ۔۔۔۔ اگر عورت کو باپ کی عزت پیار ہے تو مرد کو بھی پیار ہے۔۔۔۔ اگر عورت مجبور ہو سکتی ہے تو مرد بھی بے بس ہو جاتا ہے۔۔۔۔
    بہرحال سب ایک جیسے نہیں ہیں۔۔۔ جسم کے پجاری مرد اس معاشرے میں ہیں تو پیسے کی لالچی عورت بھی موجود ہے۔۔۔ بہت سے تجربات کے بعد کہہ رہی ہوں کہ اگر سب مرد جسم کے بھوکے ہوتے تو آج ایک عورت بھی زندہ نہ ہوتی اور اگر سب عورتیں لالچی ہوتیں تو کوئی بھی مرد اب تک بینک میں بیلنس رکھے ہوئے نہ ملتا۔۔۔۔

    بے وفائی اور وفاداری کے جراثیم مرد و عورت دونوں میں ہیں۔۔۔۔ ہم نے وہ مرد بھی دیکھے کہ جو اپنی عورتوں کی اس غلطی کو معاف کر دیتے ہیں جس پر طلاق دینا بنتا تھا اور ہم نے وہ عورتیں بھی دیکھی ہیں جنہوں نے طلاق کی پارٹیاں منائی اور فقط آزادی کی خاطر خلع نامہ بھیجا۔۔۔۔
    آج بھی مرد زندہ ہیں جو سچی محبتیں کرتے ہیں اور آج بھی وہ عورتیں زندہ ہیں جو سچی محبت کی متلاشی ہیں ۔

  • قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    توجہ برائے عدالت عظمیٰ! عدالت عالیہ ! ذمہ داران ریاست راولپنڈی اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں گزشتہ کئی سالوں سے لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کے ہاتھوں کئی بے گناہ لوگ قتل ہو چکے ہیں اس قتل عام میں مبینہ طورپر محکمہ مال کے اعلیٰ افسران، سول انتظامیہ، آرڈی اے راولپنڈی ، پولیس اور وہ سیاسی کردار جو لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں ملوث ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے حیرت ہے عام آدمیوں کا قتل عام راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح میں ہو رہا ہے اور ان قبضہ مافیا اور لینڈ مافیا کو کوئی لگام دینے والا نہیں کیا ریاستی ادارے بے بس ہیں؟

    گزشتہ دنوں راولپنڈی سے چند کلومیٹر کے فاصلے گوجرخان میں ہائوسنگ سوسائٹی کی تقریب میں اندھا دھند فائرنگ میں والدین کا واحد سہارا بیٹا قتل ہو گیا جدید اسلحہ سے فائرنگ اتنی شدید کی گئی پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جس ہائوسنگ سوسائٹی میں فائرنگ ہوئی آرڈی اے راولپنڈی اس سوسائٹی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے جبکہ اسی سوسائٹی کے خلاف نیب راولپنڈی میں انکوائری بھی ہو رہی ہے دو سو سے زائد افراد نے درخواستیں دے رکھی ہیں ان دو سو افراد کا سوا دو ارب روپیہ غیر قانونی لے چکی ہے۔ راولپنڈی میں اس طرح کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جن ہائوسنگ سوسائٹیز کو آرڈی اے راولپنڈی غیرقانونی قرار دے چکی ہے وہ دن دیہاڑے ریاستی اداروں کے سامنے اربوں روپیہ کیسے حاصل نہیں کر سکتے؟

    راولپنڈی کے ریاستی اداروں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے راولپنڈی اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی یہ سوسائٹیز غریب دیہاتی لوگوں کی زرعی زمینوں پر قبضے میں بھی ملوث ہیں جبکہ سرکاری زمینوں پر بھی محکمہ مال کی ملی بھگت کئے جا رہے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کا بیشتر حصہ قبضہ مافیا کے قبضے میں ہے سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ ملک کے مظلوم عوام کی مقبوضہ ذاتی ملکیت پر بھی قبضے کئے جا رہے ہیں قبضہ مافیا ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے قبضہ مافیا ایک ایسی طاقت بن چکی ہے جس کے قبضے میں کئی بااثر لوگ اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ملک اور ریاست کے سسٹم کو ان قبضہ مافیا نے یرغمال بنا رکھا ہے ذمہ داران ریاست اگر حرکت میں نہ آئے تو ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور ہوگا

  • گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    ہمارا گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور جانے کا ارادہ ایک مدت سے تھا، اور آخرکار وہ دن آ گیا جب ہم نے یہ سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب صبح جلدی اٹھے، تاکہ سفر کی تھکاوٹ کم ہو اور وقت پر پہنچ سکیں۔ صبح نو بجے تک ناشتہ کر کے ہم نے تیاری شروع کی اور پھر ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں سے ہوتے ہوئے گوردوارہ کرتار پور روانہ ہو گئے۔

    ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں پر سفر کرتے ہوئے سرسبز کھیت، پھلوں کے باغات، اور پرانی طرز کے گھر ہمیں دیہاتی زندگی کا گہرا منظر دکھا رہے تھے۔ یہاں کے لوگ سبزیاں شوق سے اگاتے تھے، اور چارا کاٹ کر گدھوں پر لے جا رہے تھے۔ ان کے روزمرہ کے معمولات میں سادگی اور محنت کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔ ہم نے راستے میں امرود کے تازہ باغات بھی دیکھے، اور وہاں سے تازہ اور رس دار امرود خریدے جو سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے بہت خوشگوار ثابت ہوئے۔

    دربار کے قریب پہنچتے ہی پنجاب پولیس کی طرف سے جگہ جگہ سکیورٹی چیکنگ کا آغاز ہو گیا۔ مختلف ناکوں پر ہمیں روکا گیا، اور شناختی کارڈ کی جانچ کی گئی۔ جہاں ہم نے اپنی گاڑی پارک کی اور میڈیسن اور بیگ بھی وہی چھوڑیں اسلئیے آپ سے گزارش ہے۔ کہ جب بھی آپکا گوردورا جانے کا اردہ ہو تو سوائے پیسوں کے ساتھ کوئی بھی قیمتی اشیا نہ لے جائیں چھری قینچی وغیرہ بھی گاڑی میں نہ ہو اور ہم نے ٹکٹس خریدے اور اندر جانے کے لئے تیار تھے، لیکن میرے نانو کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا، جس کی وجہ سے ہمیں خاصا دیر انتظار کرنا پڑا۔ تاہم، ان کی بزرگ حالت پر رحم کرتے ہوئے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ ایک اچھی بات تھی کہ انتظامیہ اہلکاروں نے انسانیت کو مقدم جانا۔

    اس کے بعد ہمیں ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور لے جایا گیا، اور قدم رکھتے ہی یہاں کی روحانیت اور سکون سے ہم سب دل کے محظوظ ہوئے۔ گوردوارہ کی عمارت نہایت خوبصورت تھی اور اس کی صفائی دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہر طرف سفید سنگ مرمر سے بنی عمارتیں نظر آ رہی تھیں، جو ایک محل کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوردوارہ کے ارد گرد باغات اور تصویریں بھی اس کے جمال کو مزید نکھار رہی تھیں۔ یہ جگہ نہ صرف روحانیت سے بھری ہوئی تھی، بلکہ اس کی عمارت اور مناظر بھی دل کو سکون پہنچانے والے تھے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے 2019 اپنے دور حکومت میں گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ہوا۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ کرتارپور سرحد کھول کر سکھوں کے دل خوشیوں سے بھر دے گا اور وہی ہوا۔اس تقریب میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتری موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھاکہ جب سکھ برادری کی بات ہوتی ہے تو ہم انسانیت کی بات کرتے ہیں، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔ ’ہمارے نبی پاک ص نے انسانیت کی بات کی۔‘

    گوردوارہ کے اندر پہنچ کر ہم نے لنگر خانہ کا رخ کیا، جہاں کھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ یہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ امیر و غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا۔ ہم نے اپنے برتن اٹھائے، جو بڑی صفائی سے رکھے گئے تھے، اور کھانے کا انتظار کیا۔ لنگر خانہ میں سب کو یکساں سلوک ملتا ہے، اور یہی بات انسانیت کی اصل حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ کھانے لیتے وقت روٹی دونوں ہاتھوں سے لینے کی رسم بھی تھی، جو عاجزی اور احترام کی علامت ہے۔ یہ منظر میرے دل میں ایک گہرا تاثیر چھوڑ گیا۔کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب ہم کوئی چیز دونوں ہاتھوں سے لیں تو تب ہمیں اپنی ” میں ” کو مار کر اپنے غرور کو اپنے پاؤں تلے روندھ کر نہایت انکساربننا پڑتا ہے۔

    کھانے کے بعد، ہم نے لنگر خانہ میں بیٹھ کر چائے پی، جو بہت لذیذ تھی۔ چائے کے دوران ہم نے اس جگہ کی روحانیت اور یہاں کے لوگوں کی محبت و بھائی چارے کا احساس ہوا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف اور محبت سے بات کرتے تھے، چاہے وہ بھارتی ہوں یا پاکستانی، سکھ ہوں یا مسلمان۔

    اس دوران ہماری ملاقات ایک بھارتی یاتری، رگجیت سنگھ سے ہوئی۔ وہ بہت خوش اخلاق اور خوش مزاج شخص تھے، انھوں نے نانو اور ماما سے اپنے انداز میں سلام لی اور پیروں کو چھو کر کہا ” پیر پینا ما جی "یہ انداز بہت احترام والا تھا اور انھوں نے میرے بیٹے نادعلی کو اپنے ساتھ گھومتے ہوئے گوردوارہ کے مختلف حصوں کا دورہ کروایا۔ رگجیت سنگھ نے ہمیں اپنی زندگی کی کچھ باتیں سنائیں۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی، حالانکہ اس کے خاندان والے اس کے فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ لیکن آٹھ سال کی محنت اور محبت کے بعد وہ اپنے خاندان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔پھر اس نے اپنی بیوی اور بہنوں سے ہماری ویڈیوکال پر بات کروائی۔وہ سب بہت اخلاق کی مالک خواتین تھی۔

    رگجیت سنگھ نے انڈیا کے بارے میں بھی کچھ معلومات دیں۔ جب میری نانو نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ انڈیا میں سونے کی قیمت تقریباً بہتر ہزار روپے فی تولہ ہے، جب کہ پاکستان میں سونا دو لاکھ روپے سے زائد فی تولہ ملتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انڈیا سے پاکستان آتے وقت انھیں سختی سے کہا گیا تھا کہ پاکستانیوں سے کسی بھی قسم کی خرید و فروخت نہ کریں اور اپنے سامان پر نظر رکھیں، کیونکہ انڈیا میں پاکستانیوں کے بارے میں بعض لوگ منفی تصورات رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ہم پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھے خیالات رکھتے تھے اور ہمارا استقبال انتہائی محبت سے کیا تھا۔

    ہم نے گوردوارہ کے اندرونی حصے کا بھی دورہ کیا، جہاں سکھ یاتری گورو نانک کے دربار پر ماتھا ٹیکنے میں مصروف تھے۔ گوردوارہ کے دربار میں سکھ یاتری اپنے عقیدت کے ساتھ عبادت کر رہے تھے اور گورو نانک کی تعلیمات پر عمل کر رہے تھے۔ اس روحانی ماحول میں بیٹھ کر ہمیں ایک خاص سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔

    گوردوارہ کی عمارت کا منظر بہت دلکش تھا۔ اس کی سفید سنگ مرمر کی عمارتیں ایک محل کی طرح نظر آ رہی تھیں، اور پورا منظر ایک شاندار ورثے کی عکاسی کر رہا تھا۔ ہم نے یہاں تصویریں بنائیں یہاں کا سکون اور آہستہ آہستہ گزرنے والا وقت اس بات کا غماز تھا کہ اس جگہ کی حقیقت محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک روحانی مرکز ہے جہاں گورو نانک کے پیروکار اپنے دل کو سکون پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔

    یہ سفر ہمارے لیے ایک انتہائی یادگار تجربہ تھا۔ نہ صرف ہم نے گوردوارہ کی روحانیت کو محسوس کیا، بلکہ دو مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا حقیقی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ اس سفر نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسانیت کی بنیاد محبت اور احترام پر ہے، اور یہاں کے لوگ اس بات کا زندہ نمونہ ہیں۔
    عینی ملک

  • پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    انیسواں کراچی انٹرنیشنل بک فئیر اپنے اختتام کو پہنچا ۔۔ یوں سمجھیں گویا کوئی عید تھی جو اس شہر میں کتابوں سے محبت رکھنے والے منا رہے تھے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ جس دن کتاب میلے کا آغاز ہوا اسی دن ہم کراچی پہنچے۔ اور اگلے ہی دن بک فئیر میں ۔۔۔۔
    وہاں ایک عید کا سا سماں تھا ۔ بچوں کے کتاب گھر پر ہماری پہلی ملاقات فرحی نعیم سے ہوئی ،فہیم عالم صاحب اور کاوش صدیقی صاحب بھی وہیں موجود تھے ۔نئی نئی کتابیں دیکھ کر ہی دل کو بہت خوشی ہوئی ۔ یہاں ہماری ملاقات کاوش صدیقی صاحب کی جل پری سے بھی ہوئی ۔۔ اٹلانٹس کے اسٹال پر فاروق صاحب کے ساتھ ساتھ کرن صدیقی ، سمیر، ، عقیل عباس جعفری ، راشد اشرف ، محمود احمد مودی صاحبان جیسی شخصیات سے ملاقات ہوئی ۔ کچھ دیر بعد محبوب الٰہی مخمور صاحب اپنی صاحب زادی زوہا کے ساتھ تشریف لائے۔ کچھ دیر بات چیت ہوئی اور پھر ہم آگے چلے۔۔

    اسی دن ہمارے چچا حاطب صدیقی کی کتاب پھولوں کی زباں کی تقریب تھی جو پہلے چار بجے ہونی تھی اور اب پانچ بجے پر چلی گئی تھی اس لیے وہ ہال میں ایڈیٹر جسارت یحییٰ بن زکریا کے ساتھ چہل قدمی فرما رہے تھے۔ یہیں فیصل شہزاد صاحب بھی نظر آئے ۔یہاں پیاری فرزین لہرا بھی تھیں، خالد دانش بھی، معاذ معاویہ صاحب نے اپنی کتاب میرال کی گڑیا کا تحفہ بھی دیا ، معروف مترجم اسد الحسینی سے بھی ملاقات ہوئی اور انہوں نے بھی اپنی ایک عربی کتاب دی۔۔۔ ایک اسٹال پر ہمیں سر سلیم مغل اپنی نواسی کنزا کے ساتھ کتابیں خریدتے دکھائی دیے۔ ننھی کنزا بھی کتابوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔۔ان کے ساتھ بک کارنر پر پہنچے تو وہاں علی اکبر ناطق اور گگن شاہد صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ گگن صاحب نے ہمیں چائے پینے کی دعوت بھی دی لیکن کیا کریں کہ چائے ہمیں اچھی نہیں لگتی انہیں منع کرتے ہوئے بھی تھوڑا سا افسوس ہوا۔ بچوں کے کتاب گھر پر آئے تو دو پیاری پیاری بچیوں ایمن ، حبیبہ اور ان کی امی سے ملاقات ہوئی جو ہماری کہانیوں کی قاری نکلیں۔۔ انہوں نے ہم سے آٹو گراف لیا بچیوں کی خوشی دیکھ کر سچ پوچھیں تو ہمیں شاید ان سے زیادہ خوشی ہو رہی تھی ۔ اب چچا حاطب کی تقریب کا آغاز ہورہا تھا تو ہم اوپر تقریب میں چلے گئے جہاں حفصہ فیصل سے بھی ملاقات ہوئی ۔

    اگلی دن ہمیں ناجیہ شعیب صاحبہ ،فرزین لہرا، ان کی والدہ، آمنہ احسن، ایڈیٹر وی شائن نجیب حنفی صاحب ، ایڈیٹر ساتھی عبدالرحیم متقی ، سابق ایڈیٹر ساتھی اعظم طارق کوہستانی اور ساتھی کی دیگر ٹیم ممبران سے ملاقات ہوئی ۔ خوشی کی بات یہ بھی تھی کہ اس مرتبہ دسمبر کے ساتھی میں ہماری بھی ایک کہانی شامل ہے ۔
    اسما قادری سے بھی اچانک ملاقات ہوئی ۔۔ وہ کسی اور کو اپنا نام بتا رہی تھیں اور ہم نے وہیں انہیں پکڑ لیا۔۔۔

    ذوق شوق کے اسٹال پر مدیر صاحب نے ذوق شوق کا رسالہ اور ایک خوبصورت قلم کا تحفہ دیا۔۔
    اب کچھ کتابوں پر بات ہوجائے۔۔ اس مرتبہ بچوں کی اردو رنگین کتابوں میں کافی ورائٹی نظر آئی، دس بارہ صفحات پر مشتمل آرٹ پیپر پر رنگ برنگی تصویری کہانیوں کی قیمتیں پانچ چھ سو روپے تھیں جو بک فئیر میں آدھی قیمت پر دستیاب تھیں۔ ہال نمبر ایک اور ہال تین میں انگریزی ادب زیادہ تھا۔ بچوں کی انگریزی کتابیں بھی کافی معیاری قیمت پر تھیں۔ کہتے ہیں لوگ کتابیں نہیں پڑھتے لیکن یہاں تو بڑے، بچے بوڑھے سب ہی اپنی پسند کی کتابیں ڈھونڈ رہے تھے۔ کہیں اماں ابا بچوں سے پیسوں کے معاملے میں مک مکا کرتے بھی نظر آئے، میرا نہیں خیال کہ جو ان حالات میں (ایکسپو کے سامنے والی سڑک پر تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک) یہاں آئے، مہنگائی کے اس زمانے میں کتابیں خریدے اور پھر وہ پڑھے نا۔۔۔۔

    ہماری پیاری سہیلیاں صدیقی سسٹرز ہی دو دن میں ساٹھ کتابیں لے گئی ہیں۔ اور کتابیں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔ اگر آپ کو اچھی کتابوں کے نام چاہییں تو گل رعنا صدیقی کی "دیوار "پر جھانک لیں۔۔
    عید کا اختتام ہوا۔ اب ان شاءاللہ کچھ کتابوں پر تبصرہ کتابیں پڑھنے کے بعد کرتے ہیں۔
    آپ نے بھی اس سال بک فئیر میں شرکت کی ؟ کیا آپ کو بھی ہماری طرح اس بک فئیر کا انتظار رہتا ہے ، ہاں جو کتابیں بک فئیر سے لی ہیں یا پڑھنے کے لیے جمع کر رکھی ہیں ان کے نام بھی بتا سکتے ہیں تاکہ ہمارے باقی احباب بھی مستفید ہو سکیں۔

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

  • میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مغل پورہ لاہور میں قتل ہونے والی انیقہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آچکی ہے ۔ سر سے پاؤں تک جسم مضروب ہے ۔ پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہی انیقہ کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا ۔
    چکوال میں مرنے والی پروین کا جسم ضربات کی شدت سے نیلا اور پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول چکا تھا ۔
    بھائی کے ہاتھوں تکیہ منہ پہ رکھ کر مرنے والی ارم کی زبان پھول کر منہ سے باہر نکل آئی تھی ۔
    ڈاکٹر سدرہ کا بھیجا کھوپڑی میں گولی لگنے کی وجہ سے سوراخ سے باہر بہہ نکلا تھا ۔
    ڈسکہ میں سسرال کے ہاتھوں مرنے والی زارا کا سر کہیں تھا ، ہاتھ اور پاؤں کہیں ۔ ہر ٹکڑا چھرے سے کاٹ کر علیحدہ کیا گیا تھا ۔
    ملتان میں پنکھے سے لٹکائی جانے والی بیٹی کا جسم تو مضروب تھا ہی گلا بھی دوپٹے کے نشان سے نیلا پڑ چکا تھا ۔
    گجرات میں ڈنڈے کی شدید ضربات سے حاملہ بیوی کی سب ہڈیاں چکنا چور تھیں ۔ وجہ بیوی کے پیٹ میں بچی کا موجود ہونا تھا ۔

    یہ کچھ عورتیں ہیں جن کا قتل منظر عام پہ آیا ۔ نہ جانے ان جیسی کتنی گمنام رہتے ہوئے لحد میں اتر گئیں اور کوئی جان ہی نہ سکا کہ ان کے جسم کہاں کہاں سے لہولہان ہوئے ۔
    پھر ہم سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ ایک آدھ کیس ہو جاتا ہے اور آپ تمام مرد برادری کو ذمہ دار کیوں ٹھہراتی ہیں ؟ کیا نیک فطرت مردوں کا کال پڑ گیا ؟
    ہم تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں ، بےشک سب مرد ایسے نہیں ہوتے مگر ہر بار ایک مرد ہی تو ہوتا ہے ۔
    لیکن ہمارا بھی ایک سوال ہے ؟
    ہمیں پوچھنا ہے سب مردوں سے کہ گھریلو تشدد کے سلسلے میں وہ لکیر کے کس طرف کھڑے ہیں ؟ مخالفت ؟ موافقت ؟
    اگر آپ گھریلو تشدد کے مخالفین میں سے ہیں تو آپ اس کے خاتمے کے لیے کیا سوچتے ہیں ؟ آپ کا کردار اس میں کیا ہونا چاہیے ؟
    اور اگر آپ گھریلو تشدد کے حق میں ہیں تو کیا کبھی تجربہ کرنا چاہیں گے کہ جسم پہ ایک بھی ضرب لگے تو جسم کا کیا حال ہوتا ہے ؟ آپ اس کو جسٹفائی کیسے کرتے ہیں ؟ اگر آپ کی بیٹی اور بہن اس کا شکار بنیں تب آپ کا ردعمل کیا ہو گا ؟ کیا آپ کو دوسرے انسانوں پہ ہوتا ظلم مضطرب نہیں کرتا ؟
    اور اگر آپ نہ مخالف ہیں نہ موافق اور اس قضیے سے لاتعلق رہتے ہوئے ایک طرف ہو کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو تب آپ منافقین میں گنے جائیں گے کیونکہ ہر زندہ روح کی ایک رائے ، کردار اور فرض ہوتا ہے جو معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔
    آپ کو جاننا چاہیے کہ یہ مسلہ مرد و عورت کا ہے ہی نہیں ، یہ طاقت اور اس کے استعمال سے حاصل ہونے والی اتھارٹی کی بھوک ہے جو اپنے سے کمزور کو گھائل کر کے اپنے دانت تیز کرتی ہے ۔ معاشرے میں عورت کمزور ترین طبقہ ہے جس کے گرد شکنجہ کسنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔ عورت کا قتل معاشرے کے گدلے جوہڑ میں کچھ دن کے لیے ارتعاش پیدا کرتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے جب تک ایک اور نہ ماری جائے ۔
    انصاف کی تلاش میں ورثا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔ تاریخ پہ تاریخ پڑتی ہے ، ضمانتیں ہوتی ہیں اور فائلیں شب وروز کی گرد
    دبتی چلی جاتیں ہیں ۔ نہ قانون بدلتا ہے نہ لوگ بدلتے ہیں اور نہ ہی ریاست عورتوں کے سر پہ دست شفقت رکھنے کو تیار ہوتی ہے ۔
    حل کیا ہے ؟
    معاشرے کا ہر فرد اس کے متعلق نہ صرف آگہی رکھے بلکہ اس کو انتہائی برا سمجھتے ہوئے اس کے خلاف آواز اُٹھائے ۔ آوازوں کا قافلہ بنے جو نہ صرف دھرتی کو ہلائے بلکہ آسمان میں بھی شگاف ڈال دے ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ، انسانیت کا تقاضا ہے کہ عدم سے آنے والی روحوں کو کسی خانے میں تقسیم نہ کیا جائے اور طاقتور جسم ، کمزور جسم کو ملیامیٹ کرنے کی خواہش سے باز رہے ۔
    دنیا تب ہی گلزار ہو گی !

  • "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    ہمارے قریبی ہیں ٖ میاں بیوی میں تعلقات اچھے نہیں تھے ٖ ناراضگی اتنی تھی کہ سالوں تک بچوں نے باپ کی شکل نا دیکھی ٖ وہ ماں کے پاس رہے ٖتقریباً پندرہ سال بعد باپ کے انتقال کی خبر آئی ٖ تب بچے جنازے پر گئے
    میرے ذہن سے بات ہی نہیں نکل رہی کہ باپ کو سالوں بعد اس طرح دیکھ کر بچوں کے دل پر کیا گزری ہوگی ٖ ملاقات ہوئی بھی تو وہ باپ سے بات نا کر سکے ٖ اسے گلے نا لگا سکے ٖ یہ کمی اور خالی پن اب ساری زندگی ان کے دل میں رہے گا وہ اس آخری چہرے کو کبھی بھول نہیں پائیں گے ٖ شاید اس وقت انہیں احساس ہوا ہوگا کہ ہمارا کیا نقصان ہوا ہے ٖ
    کیا ہوا ٖ کس کا قصور تھا ٖ کون وجہ بنا ٖ وہ ساری باتیں تو اب ختم ہوگئی نا ٖ
    میاں بیوی کا رشتہ بچوں کے بعد صرف ان دونوں کا نہیں رہتا ٖ اس میں بہتری یا بگاڑ بچوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے ٖ آپس میں جتنے مرضی اختلافات ہوں ٖ بچوں کے ذہنوں میں گندگی نہیں بھرنی چاہیے ٖ ماں باپ جیسا رشتہ بچوں کی زندگی میں بہ
    ت اہمیت رکھتا ہے ٖ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو اس سے محروم کرے ٖ
    آپ کے لڑائی جھگڑوں میں آپ ٖ بچوں کا بچپن ٖ انکی معصومیت چھین لیتے ہیں ٖ پھر انا اور ضد کی خاطر بچوں کے ذہنوں کو تار تار کر دیتے ہیں ٖ انکی شخصیت میں کبھی نا بھرنے والا خلا چھوڑ دیتے ہیں ٖ
    اسلئے چاہے مرد ہو یا عورت ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں ٖ
    ہمارا رشتہ سسٹم بھی عجیب ہے ٖ پورا خاندان رشتہ دیکھنے چلا جاتا ہے ٖ لیکن جن دو لوگوں نے آپس میں زندگی گزارنی ہوتی ہے انہیں موقع ہی نہیں ملتا کہ بات کر سکیں ٖ
    بیشک یہ نصیب کی بات ہے ٖ لیکن پھر بھی اس رسک کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ٖ بیٹھ کر ایک دوسرے کے مزاج کی بات کر لی جائے ٖ عادات کا بتا لیا جائے ٖ خیالات کا اظہار کر لیا جائے ٖ
    صبر ٖ برداشت ٖ ساتھ اور وفا پر بات کر لی جائے ٖ تا کہ اندازہ ہوجائے سامنے والا انسان کس طبیعت کا مالک ہے اور ہم اس طبیعت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں ٖ مکمل کوئی بھی نہیں ہوتا لیکن کس حد تک کمپرومائز کرنا پڑے گا ٖ اندازہ ہوجائے گا ( یہ بھی اس صورت میں ہی ممکن ہے جب سامنے والی اپنی اصلی شخصیت کو سامنے رکھے)
    رہی بات محبتوں میں ہوئی شادی کی ٖ کہ وہ بھی تو ناکام ہوتی ہیں ٖ
    تو میں اس حق میں ہوں کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تب بھی اختلافات کی گنجائش رکھیں ٖ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نہیں ملے گا ٖ اگر کبھی سمجھانا ہوگا تو کسی وقت سمجھنا بھی پڑے گا ٖ کوئی بات منوانی ہے تو کبھی ماننی بھی پڑے گی ٖ کبھی معذرت بھی کرنی پڑ سکتی ہے
    ٖ وقت کے اتار چڑھاؤ میں آپ کو تحمل مزاجی سے کام لینا ہوگا ٖ محبت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مشکل وقت نہیں آئے گا ٖ تب آپ دونوں ایک الگ رشتے میں ہوں گے ٖ آپ کو اپنی ذات ٖ ایک دوسرے کے علاوہ ایک دوسرے کے رشتوں کو بھی دیکھنا ہوگا ٖ
    زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے ٖ کہیں کانٹوں سے بھی سامنا ہوسکتا ہے ٖ
    یہ محض چار دن نہیں پوری زندگی کی بات ہے ٖ
    اللہ پاک سے دعا کیا کریں وہ آپ کا نصیب کسی ظرف والے شخص سے جوڑیں ٖ کسی ایسے انسان کا ساتھ ہو جسکی قربت میں آپ زندگی کی دھوپ چھاؤں سکون سے گزار سکیں ٖ کوئی ایسا انسان جو آپ کے بچوں کا اچھا باپ یا اچھی ماں بن سکے ٖ
    ایسا جو حقیقی معنوں میں آپ کا گھر ہو ٖآمین

  • خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان  پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہماری قوم ہر دو چار سال بعد تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہے یعنی انتخابات قوم اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد ماضی میں دیکھے۔ تحریکیوں کا بھی دور دیکھا۔ پی این اے ، یو ڈی ایف ، ایم آرڈی ،ملی یکجہتی کونسل ،اسلامک فرنٹ ، اسلامی جمہوری اتحاد ، متحدہ شریعت محاذ ، تحریک نظام مصطفی ، تحریک تحفظ نبوت ، تحریک ناموس رسالتۖ ، تحریک ناموس صحابہ۔ قومی ہیروز کے کئی روپ دیکھے ، مارشل لاء دیکھے ،جمہوری حکومتیں دیکھیں۔ آمریت اور جمہوریت کو ساتھ ساتھ چلتے دیکھا۔ مگر ا فسوس نہ معیشت مستحکم ہو سکی اور نہ ہی علماء کرام آپ ۖ کی ایک حدیث مبارک پرعمل کروا سکے۔ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ملک کے تمام صوبے ملاوٹ کی زد میں ،کھانے پینے سے لے کر ادویات تک سرے عام ملاوٹ ہو رہی ہے ۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ کاسہ گدائی ہاتھ میں لے کر دنیا میں گھوم رہے ہیں۔ ریاست سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسائل میں گری قوم کو بنگلہ دیش اور اب شام کی مثالیں دے کر خوف زدہ کیا جا رہاہ ے ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے ، کیا کبھی کسی نے سوچا؟ ان افواہوں کا اثر ملک وقوم پر کیا پڑتا ہے ؟

    جہاں تک عرب ممالک کاتعلق ہے ، کشمیری مائوں ، بہنوں ،بچوں ،نوجوانوں اور بوڑھوں کا بھارتی افواج نے قتل عام کیا۔ عرب ممالک بھارت میں سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ فلسطین میں کیا ہوا اور کیا ہو رہاہ ے۔ عرب ریاستیں جو اپنے پیسے کی بناء پر اُچھلتی ہیں۔وہ بھی غزہ کی صورت حال کو سامنے رکھاجائے تو ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ ان مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاتھ میں کیسے چڑھ گئے جو سیاستدان کو جانتے تک نہیں یہ اپنے عزیزوں کے ساتھ بھی دست و گریبان ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہتان تراشیوں کے نشتر چلائے جا رہے ہیں ،جمہوریت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھوڑے بے لگام ہو جائیں۔ سیاسی بداخلاقیاں ، بہتان تراشی،افوا سازی ، کیا عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو نقصان نہیں پہنچا رہی ؟ سیاسی قائدین اس ملک پر رحم کریں ۔ اس ملک کے وقار میں اضافہ کریں۔ اپنے ذاتی مفادات ، اختیارات اور پروٹوکول کی خاطر ملکی وقار کو دائو پر لگانے سے گریز کریں

  • آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے
    تحریر:قرۃالعین خالد
    الحمدللہ! دارالفلاح ایک ایسا ادارہ ہے جو بے آسرا ماؤں اور بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ دارالفلاح کی بنیاد 1967 میں رکھی گئی۔1965 کی جنگ کے بعد بہت سی خواتین بیوہ ہو گئیں تو اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پنجاب میں تقریبا چھ شہروں میں دارالفلاح اپنا کام بےحد خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا ہے۔ جن میں لاہور راولپنڈی ملتان بہاولپور سرگودھا اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

    الحمدللہ رب العالمین 12 دسمبر 2024 بروز بدھ "سعدین انسٹیٹیوٹ” کی جانب سے ایک موٹیویشنل سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد خواتین کو زندگی کے مقصد سے آگاہ کرنا تھا۔ زندگی اور خالات سے پریشان خواتین سے بات کر کے ان کا تعلق رب سے جوڑنے کی ادنی سی کوشش کی گئی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر میاں شاہد صاحب سے بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ ان خواتین اور بچوں کی دینی تعلیم کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں۔ وارڈن میم تعظیم صاحبہ بھی اس کار خیر میں اپنی ٹیم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

    گو کہ یہ ادارہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیعت المال گورنمنٹ آف پنجاب کی زیرِ سرپرستی میں ہے لیکن سیالکوٹ کے رہائشی بھی درد دل رکھتے ہوئے ہمیشہ ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ میں قرۃالعین خالد کالم نگار، مصنفہ سی ای او سعدین انسٹیٹیوٹ "مقصد حیات” پر بات کرتے ہوئے اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھرتے دیکھ سکون قلب کے ساتھ واپس گھر آئی۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہمارا حقیقی مقصد حیات سمجھا دے آمین۔

    میں اپنی دوست شافیہ کاشف کی شکر گزار ہوں جس کے توسط سے مجھے دارالفلاح کے انتظامیہ اور وہاں کے رہائشیوں سے اتنے قریب سے ملنے کا موقع ملا۔ دارالفلاح نہ صرف بے بس ماں بچے کے لیے پناہ گاہ ہے بلکہ وہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا مکمل انتظام بھی موجود ہے جسے سیکھ کر خواتین مستقبل میں اپنا اور اپنے بچوں کا خود خیال رکھ سکتی ہیں۔

    مخیر افراد سے گذارش ہے کہ ایسے اداروں کا خاص خیال رکھا کریں اللہ ربّ العزت سب کے رشتوں کو سلامت رکھے آمین۔ آئیے ہاتھ بڑھائیے اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔