Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    پاکستان کی تاریخ میں بہت سی اہم ہستیاں گزری ہیں جن کے نام آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں، لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام ایک الگ ہی نوعیت کی کہانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عافیہ صدیقی ایک ایسی شخصیت ہیں جو نہ صرف اپنے ملک کی بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی کا قصہ ایک ایسی المیہ کہانی ہے جس میں ظلم، بربریت اور بے گناہی کے تمام پہلو سامنے آتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی کے ایک تعلیم یافتہ اور معتبر گھرانے سے تھا۔ 1972 میں کراچی میں پیدا ہونے والی عافیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور محنت نے انہیں تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ 1992 میں عافیہ نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں ٹیکساس میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔عافیہ نے امریکہ میں رہ کر ایک ایسی اہم تحقیق کی جس کے بعد وہ عالمی سطح پر شناحت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کی تحقیق میں ایک ایسا فارمولا دریافت کیا گیا جو کہ مہلک ہتھیار تیار کرنے کی بنیاد بن سکتا تھا۔ عافیہ کی اس تحقیق کو امریکہ کے لیے اہمیت حاصل تھی، لیکن عافیہ نے اس فارمولا کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فارمولا امریکہ کے ہاتھ لگ گیا تو یہ اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔عافیہ کی ذاتی زندگی بھی اتنی آسان نہیں تھی۔ 1995 میں ان کی شادی ایک پاکستانی سائنسدان امجد محمد خان سے ہوئی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ 2002 میں ان کے درمیان اختلافات شدید ہو گئے اور بالآخر طلاق ہو گئی۔ ان اختلافات کے دوران امجد خان نے عافیہ پر مختلف الزامات عائد کیے۔

    عافیہ کا سفر ایک سنگین موڑ پر 2003 میں آیا جب امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد عافیہ کو پاکستان سے گرفتار کر کے افغانستان پھر امریکہ منتقل کر دیا گیا۔عافیہ کی گرفتاری کے پانچ سال بعد، اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ امریکی جیل میں قید ہیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس دوران امریکہ نے عافیہ پر شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کیا تاکہ وہ اپنے فارمولا کے بارے میں بتائے۔ عافیہ نے اپنے عزم کو قائم رکھا اور امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔عافیہ کو اتنے سخت سزاؤں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کی ذہنی حالت مفلوج ہو گئی۔ امریکہ نے بار بار کوشش کی کہ وہ عافیہ سے اس تحقیق کا فارمولا حاصل کرے، مگر عافیہ کا جواب ہمیشہ یہی رہا کہ وہ یہ فارمولا کسی قیمت پر نہیں دے گی۔

    دوران قید، امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی رہائی کے لیے بات کی، اور 2012 میں امریکہ کے صدر بارک اوباما نے پاکستان سے کہا کہ وہ عافیہ کی واپسی کے لیے تیار ہیں، مگر پاکستانی حکومت نے اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ اس طرح عافیہ آج بھی امریکہ کی قید میں ہیں، اور ان کے خاندان والے ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی نہ صرف ظلم اور جبر کی کہانی ہے، بلکہ اس میں ایک ایسی عورت کی قربانی کی داستان بھی چھپی ہوئی ہے جس نے اپنے وطن، اپنے نظریات اور اپنی قوم کے لیے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ قربان کر دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں اور عالمی سطح پر اس کی آزادی کے لیے کوششیں کریں۔عافیہ کے خاندان کی جدو جہد اور ان کے صبر و استقلال نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ ظلم کے باوجود سچ اور اصول کی جیت ہوتی ہے۔ ہمیں ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے تاکہ ان کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔

  • ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول کا نام اردو ادب میں ہمیشہ احترام اور محبت سے لیا جائے گا۔ وہ ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کے الفاظ نہ صرف جذبات کے عکاس تھے بلکہ معاشرے کے دکھوں اور ناانصافیوں کو بھی قلم کی نوک پر لا کر ایک سچائی کے آئینے میں سجا دیتے تھے۔ ان کی شاعری ایک مجبور ماں کی مامتا، زندگی کے نشیب و فراز، اور ایک حساس دل کی گہرائیوں کی ترجمانی کرتی رہی۔ آج وہ ہم میں نہیں رہیں، مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گےریحانہ کنول کی زندگی کسی کہانی سے کم نہ تھی۔ ان کا ہر لمحہ، ہر دن ایک جدوجہد کی مانند گزرا، لیکن انہوں نے صبر و استقامت کو اپنا شعار بنایا۔ وہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے بے پناہ مشکلات کے باوجود اپنی اولاد کی بہترین پرورش کی اور ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کی تحریروں میں سچائی اور درد کی خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی ان کی زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ایک بیوہ ماں ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت صبر اور ہمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ وہ نہ صرف اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط سہارا تھیں بلکہ ان کے خیالات اور نظریات سے بے شمار لوگوں کو روشنی ملی۔ ان کے دل میں درد بھی تھا اور اس درد کی بازگشت ان کی شاعری میں سنائی دیتی تھی۔ وہ لفظوں کے ذریعے وہ سب کچھ بیان کر دیتی تھیں جو ایک عام انسان محسوس تو کر سکتا ہے مگر الفاظ میں ڈھالنے کی سکت نہیں رکھتا2024 میں جب بزمِ اوج کے سالانہ مشاعرے میں انہیں جہانیاں منڈی آنا تھا، تو ان کی کمر کی تکلیف نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے معذرت کی، مگر جلد آنے کا وعدہ کیا۔ کچھ دن بعد وہ میرے گھر تشریف لائیں اور ایک پورا دن ہماری فیملی کے ساتھ گزارا۔ یہ ان کی محبت اور خلوص کا عملی مظاہرہ تھا۔ وہ الفاظ کی دنیا میں منفرد مقام رکھتی تھیں، مگر اپنی ذات میں بھی ایک عظیم انسان تھیں۔ ان کی سادگی، محبت اور خلوص ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ سننے والا ان کے الفاظ میں کھو جاتا تھاکچھ ماہ قبل انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، جہاں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا، مگر کسی مجبوری کی بنا پر میں شریک نہ ہو سکا۔ وہ ایک ماں ہونے کے ناطے اپنی اولاد کی خوشیوں میں سب سے آگے رہیں، مگر ان کی زندگی کے کئی پہلو ایسے بھی تھے جو ان کے حساس دل اور گہرے درد کی عکاسی کرتے تھےوہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی تمام خواہشات اور ضروریات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے خود تکالیف سہیں مگر اپنی اولاد کو ہر ممکن خوشی دینے کی کوشش کی۔ یہ ایک ایسی قربانی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ راتوں کو جاگتی رہیں، دکھوں کو سہتی رہیں، مگر اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑی رہیں ریحانہ کنول کی وفات کے بعد ان کے بچے ایک بار پھر آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیے گئے۔ پہلے ہی والد کی جدائی کا زخم سہنے والے یہ معصوم اب اپنی ماں کے سائے سے بھی محروم ہو گئے۔ والدہ کی ممتا، شفقت، اور دعاؤں کی چھاؤں سے نکل کر وہ بے رحم زمانے کی بے حسی اور تلخ رویوں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ زندگی کے اس بے رحم کھیل میں وہ مزید تنہا ہوگئے، جہاں انہیں ماں کی مسکراہٹ، اس کے نصیحت بھرے الفاظ، اور اس کے سائے کی ضرورت تھی، وہی سب کچھ ان سے چھن چکا تھاریحانہ کنول کی شاعری محض لفظوں کا امتزاج نہیں تھی بلکہ ایک ایسے حساس دل کی آواز تھی جو معاشرتی ناانصافیوں، اپنوں کی بے حسی اور زندگی کی تلخیوں کو شدت سے محسوس کرتا تھا۔ وہ ان جذبات کو اپنی شاعری میں اس طرح پروتی تھیں کہ قاری کے دل پر براہِ راست اثر ہوتا تھا۔ ان کے اشعار میں المیہ، بغاوت، اور سچائی کا حسین امتزاج تھا۔ ان کے الفاظ کا چناؤ اتنا گہرا ہوتا کہ ایک عام قاری بھی ان کے جذبات کو شدت سے محسوس کرنے لگتا

    یادگار غزل

    چوڑیاں پہنی نہ مہندی ہی لگائی میں نے
    ایک مدت سے نہیں عید منائی میں نے

    بیٹیاں پالنا جنت کی خریداری ہے
    بیٹیاں پال کے جنت ہے کمائی میں نے

    سنتی آئی ہوں کہ ہیرے سے ہے ہیرا کٹتا
    پیٹ کی آگ ہے فاقوں سے بجھائی میں نے

    وہ محبت مِری تکلیف کا سامان ہوئی
    جس محبت کے لئے چھوڑی خدائی میں نے

    کون سا جرم ہے میرا کہ ہوئے ہو دشمن
    اپنا حصہ ہی تو بس مانگا ہے بھائی میں نے

    خالقِ کون و مکاں تیری بھری دنیا سے
    ایک تسکین کی ساعت ہے چرائی میں نے

    دنیا کی آنکھ نے زخمایا مِرے ہونے کو
    اپنی میت ہے کئی بار اٹھائی میں نے

    خوش گمانی نے سہولت کو اذیت جانا
    اپنے حصے کی سہولت بھی نہ پائی میں نے

    صرف ایسا تو نہیں ہے کہ ہوں کپڑے سیتی
    دکھ کی پوشاک کی بھی کی ہے سلائی میں نے

    ایک احساس یہی باعثِ تسکین رہا
    اپنی خاطر نہ لڑی کوئی لڑائی میں نے

    میں نے ہر شخص کو انسان سے تعبیر کِیا
    جتنی دولت تھی بھروسے کی، لٹائی میں نے

    ساعتِ وصل کی دستک پہ بھی در وا نہ کِیا
    رسمِ ہجراں ہے کنول ایسے نبھائی میں نے

    ریحانہ کنول کی جدائی اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں، ان کی تحریریں آج بھی روشنی دے رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک شاعرہ تھیں بلکہ ایک بہترین انسان بھی تھیں جن کی موجودگی دوسروں کے لیے ایک نعمت تھی آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، تو ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کے اشعار اور ان کا اندازِ فکر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ وہ چلی گئیں مگر اپنی تحریروں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کی شاعری کے ذریعے ہم ان کی روح کے درد اور احساسات کو محسوس کر سکتے ہیں ریحانہ کنول ایک ایسی ہستی تھیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ ان کی جدائی ایک ذاتی نقصان بھی ہے اور ادبی دنیا کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی نقصان۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا کرے۔ آمین

  • تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    گذشتہ روز ہر کوئی نئے کپڑے زیب تن کیے عید کی خوشیاں منانے میں مشغول تھا، بینک کے اے ٹی ایم پر گیا تو بینک گارڈ کو دیکھا کہ وہ نئے کپڑوں کی جگہ اپنی وردی میں کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ انکل جی آپ کو عید کی چھٹی نہیں ملی اس نے کہا کہ سر اتنی قسمت کہاں دو میں سے کسی ایک عید کی ہی چھٹی ملتی ہے۔ میں نے پیسے نکلواتے وقت فیصلہ کیا کہ اگر کوئی عیدی کا حقدار ہے تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ کر اپنی عید قربان کرکے رزق حلال کما رہے ہیں۔میں نے اسے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ چاچا عیدی اس نے دعائیں دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح چند اور مقامات پر ڈیوٹی پر مامور افراد کو عیدی دی۔ خاص طور پر لاہور اور گاؤں دونوں جگہ گھریلو ملازمین اور محلے کے گارڈ کو عیدی دی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے ریسٹوران کا رخ کیا تو وہاں بھی ویٹر کو روٹین سے زیادہ ٹپ بطور عیدی دی۔ ان تھوڑی تنخواہ والے ملازمین کو تھوڑی سی رقم بطور عیدی دیکر نیکی کی فوری قبولیت کا احساس ہوا۔ یقین کریں قبولیت کا احساس نماز، روزہ اور عبادات سے بھی زیادہ تھا، حقیقی سکون اور خوشی۔

    نماز، روزہ اور عبادات لازم ہیں اور ریگولر کرتے بھی ہیں اس کے باوجود اللہ سے قبولیت کیلئے دعا گو بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ عبادات بھی ایسے اعمال سے ہی قبول کرے گا۔ چند ہفتے قبل دوران سفر ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کیلئے رکا، گاڑی سے مصلیٰ (جائے نماز) لی، جمعہ کی دوسری اور آخری رکعت میں سلام پھیرنے سے چند لمحے قبل ایک نمازی ساتھ شامل ہوا اور میرے ساتھ سڑک پر تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا، میں سفر میں بھی تھا اور جلدی بھی تھی لیکن سوچا کہ ”سلمان“ اللہ ایسا جلدی والا جمعہ قبول کرے نہ کرے لیکن اس بندے کو نماز کیلئے مصلیٰ دینے سے اللہ ضرور راضی ہو گا، میں سلام پھیر کر کھڑا ہوگیا اور جائے نماز اسکی طرف کردی کہ اپنی نماز مکمل کرلو یقین کریں واقعی ایسا ہوا، بہت سکون ملا کہ اللہ نے یہ عمل ضرور قبول کیا ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے عبادات کا اصل مقصد انسانیت ہی رکھا ہے اگر نماز اور عبادات کے بعد بھی ہم میں احترام انسانیت نہیں تو پھر اپنا محاسبہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ مجھے بینک کے پریمئم ورلڈ کارڈ پر اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، روٹین میں کسی نہ کسی بیکری سے ڈسکائنٹ پر بریڈ لیکر گاڑی میں رکھ لیتا ہوں جہاں کوئی کتا، بلی یا جانور نظر آتا ہے گاڑی آہستہ یا روک کر اسے کھلا دیتا ہوں یقین کریں ان بے زبان جانوروں کو معمولی سا کھانا کھلا کر جو تسکین ملتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ریسٹوران پر جاتا ہوں تو اگر کھانا بچ جائے تو پیک کروا کر خود راستے میں کسی نہ کسی جانور کو کھلا دیتا ہوں۔
    ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں، عید آتی ہے اور گزر جاتی ہیں لیکن جس عید پر حقیقی خوشی ملی وہ 2005کی عید ہے۔ اکتوبر2005کے زلزلے میں اپنے گھر سے کمبل رضائیاں، کھانے کی اشیاء سمیت اچھا خاصاسامان لیا۔ ابو، امی، بہن بھائیوں سب کے نئے کپڑے اور جوتیاں زلزلہ زدگان کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور پڑھتا تھا تو اسلامی جمیعت طلبہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے ”عید کاروان“ روانہ کرنا تھا۔ عید کاروان کیلئے بہت سارے طلبہ رضاکارانہ طور پر مدد کیلئے جارہے تھے ضلع قصور سے میں، جواد سلیم اور عرفان چوہدری بھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ اپنے نئے کپڑے زلزلہ زدگان کو عطیہ کرکے خود پرانے کپڑوں کے ساتھ گھڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے گزاری اس عید کی حقیقی خوشی کو آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔
    میرے قریبی دوست اکثر کہتے ہیں کہ آپ اشرافیہ اور بدمعاشیہ سے جتنے پنگے لیتے ہیں غریبوں اور بے زبان جانوروں کی دعائیں ہی ہیں جو آپ کو بچا دیتی ہیں۔

  • ہم بھول گئے ہر بات،مگر،،،،،،،،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہم بھول گئے ہر بات،مگر،،،،،،،،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحریک انصاف کااقتدارجمہوری تھا،اپوزیشن موجیں کرتی رہی؟
    نواز شریف،خاندان اور ساتھیوں کے خلاف جو کچھ کیا گیا وہ سب جمہوری تھا؟
    پی ٹی آئی کو اب کچھ بھی یاد نہیں ،اگر وہ دور جمہوری تھا آج جمہوریت پر واویلا کیسا؟
    سیاسی لڑائی لڑیں ،فوج اورملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈا بند کیا جائے
    تجزیہ شہزاد قریشی
    پریسلر ترمیم۔ کیری لوگر بل اور اب پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ ۔ موجودہ ایکٹ امریکی کانگریس میں اس وقت پیش کیا گیا جب سابق صدر پاکستان عارف علوی خود امریکہ میں موجود ہیں اور وہ وہاں کانگریس کے اراکین اور سینٹ کے ارکان سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ افسوس ا س پر ہے کہ جن کے کاندھوں پر اس ملک کی سلامتی اور قوم کی سلامتی ہے جنہوں نے ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دی ، شہید ہوئے ، شہید ہو رہے ہیں ، کئی غازی ہیں ۔اُن کی قیادت کرنے والوں کے خلاف یہ زہریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ اس بل ڈیمو کریسی ایکٹ کا آگے چل کر کیا ہو گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟ وطن عزیز کے خلاف اس سے بڑی اور کیا سازش ہوگی وطن عزیز اس وقت نہ صرف بیرونی دشمنوں میں گھرا ہوا ہے اس کے اندر بھی بااثر لوگوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ملک کے مسائل بے شمار ہیں ،عالمی قوتوں کے لئے اس کی ایٹمی گستاخی سرفہرست ہے اور اس ایٹمی حامل پاکستان پر مامور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف افوا سازی پھیلانا کون سا قومی فریضہ ہے ؟ اپنی زندگی میں فوجی حکمرانی بھی دیکھی ، سول حکمرانی بھی ،جمہوریت کا مطلب جمہور کی خدمت ،جمہور تو تادم تحریر گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے ۔کیا جمہوریت صرف اقتدار کا نام ہے؟ سیاسی گلیاروں میں جب سے تکبر اور غرور نام نہاد رہنما پیداہوئے ان سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔ کیا فوجی حکمرانوں کو سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کندھا نہیں دیا ؟ کیا پی ٹی آئی کو تھیوری انداز میں اقتدار ملا تھا؟ جو ظلم اور زیادتی پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں اپوزیشن کے ساتھ کیا گیا ، کیا وہ جمہوری تھا؟ نواز شریف کے او ران کے خاندان پر اور جماعت پر کیا گیا وہ جمہوری عمل تھا؟ سابق صدر عارف علوی بتانا پسند فرمائیں گے کیامریم نواز و جیل بھیجنا جمہوری عمل تھا؟کون ساظلم ہے جو پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن پر نہیں کیا ؟ یاد رکھیئے ہماری جمہوریت سے دنیا آگاہ ہے ۔ قوم کو بالخصوص نوجوان نسل کو ایک بات یاد رکھنی چاہیئے ملک و قوم کی حفاظت پر مامورپاک فوج اورجملہ ادارے نہ ہوتے تو آج ہماری حالت عراق، شام ، لیبیا اور افغانستان سے ہرگز مختلف نہ ہوتی ۔ نام نہاد سیاسی نام نہاد قائد اور نام نہاد لیڈر اس ملک وقوم پر رحم کریں۔

  • بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا شہباز شریف پر اعتماد.تحریر:ملک سلمان

    بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا شہباز شریف پر اعتماد.تحریر:ملک سلمان

    آئی ایم ایف کا پاکستان کیلئے 37 ماہ کے توسیعی فنڈ کی سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پہلے جائزے اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے دو ارب ڈالر کے نئے سٹاف لیول معاہدے پر اتفاق خوش آئند ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کے اقتصادی استحکام، توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے معاون ثابت ہو گا۔ آئی ایم ایف نے شہباز حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ حکومتی کارگردگی میں بہتری کا اعتراف کرتے ہوئے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں افراط زر 2015 کے بعد سے کم ترین سطح پر ہے۔شہباز حکومت کی معاشی استحکام کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مالی پالیسی میں بہتری کے ساتھ ساتھ قرضوں کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے اور بیرونی توازن بھی مضبوط ہوا ہے۔آئی ایم ایف جیسے بڑے مالیاتی ادارے کی طرف سے حکومتی اقدامات کی تعریف سے پاکستان کی معیشت کی پائیداری اور عالمی سطح پر اس کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

    ایسے وقت میں جب پاکستان ڈیفالٹ کی دہانے پر کھڑا تھا ایسے میں ملکی بقا و سلامتی کے ایجنڈے پر متحد ہوکر بڑی سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی کا تخت الٹ کر پی ڈی ایم حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ شروع کیا تو خالی ملکی خزانے بیرونی و اندرونی قرضوں میں پھنسی ہوئی حکومت لیکر کوئی بھی سیاسی جماعت اور شخصیت اپنی سیاست قربان کرنے کو تیار نہیں تھی۔ ان مشکل ترین حالات میں شہباز شریف نے اپنی سیاست قربان کرکے ریاست بچانے کا فیصلہ کیا تو ہر کسی کا کہنا تھا کہ سیاسی خودکشی ہے لیکن شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاست سے ریاست زیادہ ضروری ہے۔ ملکی استحکام کیلئے ناگزیر آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکایا تو آئی ایم ایف پہلے سے ناراض تھا کیونکہ حکومت جاتے دیکھ کر پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کے معاہدوں کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی۔ پاکستان کی معاشی امداد روکنے کیلئے پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے۔ بدخواہوں کی ساری تدبیروں کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کی پیرس میں ڈی جی آئی ایم ایف کے ساتھ ملاقات رنگ لائی اور آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط ہو گئے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ناگزیر معاہدے کی کامیابی اور چائنہ، سعودی عرب، متحدہ امارات سمیت دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کے اعلانات سے معاشی استحکام ملا اور پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا گیا۔گزشتہ برس نگرانوں کی ناتجربہ کاری سے شہباز شریف کو ایک بار پھر سے پی ڈی ایم حکومت والی صورت حال کا سامنا تھا ۔ ستمبر2024 میں وزیراعظم شہباز شریف کی بدولت آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دی۔ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا نے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس کے بعد حکومت پاکستان کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو سات ارب ڈالر کی خوشخبری سنائی۔ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مثبت اصلاحات کی ہیں اور پیدوار کا گراف اُوپر کی جانب جا رہا ہے جبکہ افراط زر نیچے آ رہی ہے اور معیشت استحکام کے راستے پر گامزن ہے۔

    آئی ایم ایف کے ’’لیٹر آف کانفیڈنس‘‘ کے بغیر پاکستان جیسے ممالک پر ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے کیونکہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والے قرضوں کا انحصار آئی ایم ایف سے ہری جھنڈی ملنے پر ہوتا ہے۔ گذشتہ ماہ عالمی بینک کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک (سی پی ایف) کی منظوری دے دی، ورلڈ بینک نے پاکستان کو پہلے ایسے ملک کے طور پر منتخب کیا ہے جہاں وہ 10 سالہ شراکت داری کی حکمت عملی متعارف کرانے جا رہا ہے۔ عالمی بینک پاکستان کو 20 بلین ڈالر کے قرضوں کے علاوہ نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت عالمی بینک کے ذیلی اداروں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے ذریعے مزید 20 بلین ڈالر کے نجی قرضے کی حمایت بھی کرے گا اس طرح کل پیکج 40 بلین ڈالر ہو جائے گا۔ ملکی معاشی استحکام کا اثر براہ راست عام عوام پر پڑتا ہے، معاشی استحکام کا ہی نتیجہ ہے کہ افراط زر39 فیصد سے3 فیصد تک آ گئی، سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر آچکی ہے، روپے کی قدر میں بہتری، شرح سود میں ریکارڈ کمی سے صنعتی ترقی کا پہیہ چلنے لگا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب پالیسیوں اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ ملکی معیشت صحیح سمت اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔ پاکستان کا استحکام اور معاشی ترقی شہباز شریف کے ساتھ وابستہ ہے کیوں کہ چین، خلیجی ممالک سمیت بیشتر ممالک عسکری قیادت کی گارنٹی اور شہباز حکومت کے تسلسل کی یقین دہانی پر پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے رضامند ہوئے ہیں۔

  • دشمن دن رات سازشوں میں مصروف،ہم کب سمجھیں گے؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    دشمن دن رات سازشوں میں مصروف،ہم کب سمجھیں گے؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    یوم پاکستان حب وطن کا جذبہ یاد کرانے کا دن،آئیں ایک ہوجائیں
    نواز شریف کی قیادت میں ملک وقوم کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا
    بلوچستان کے نام پر سی پیک کے خلاف سازش جاری،کیوں؟ملکر سوچیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    23 مارچ بحیثیت قو م ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں،یہ دن تاریخ یاد کرنے کی آواز لگاتا ہے،دشمن کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنے کا جذبہ عطا کرتا ہے ،ارض وطن میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے کا سبق دیتا ہے، ملکی مفادات کے لئے ذاتی مفادات قربان کرنے کا اشارہ کرتا ہے، غیرت و حمیت کا فلسفہ سکھاتا ہے، اسلام کے بنیادی اصول کے مطابق زندگی گزارنے کی صدائیں لگاتا ہے، الفاظ کی شطرنج بچھانے کی بجائے عمل کی تاکید کرتا ہے، جس طرح مسلمانوں کو ایک الگ ریاست کی ضرورت تھی، آج وطن عزیز کو اُسی جذبے کی ضرورت ہے جو اس وقت کے مسلمانوں میں موجود تھا، آئیے! وطن عزیز کی ترقی ،عوام کی خوشحالی میں اپنا کردار اد کریں،یہ وطن ایسے ہی حاصل نہیں ملا،تاریخ اسے کبھی بھلا نہیں پائے گی،وطن عزیز کے حالات کا نقشہ بدلنے کی ضرورت ہے، بھارت روز اول سے ہمارا دشمن ہے اور افغانستان کے راستے بلوچستان میں سرگرم ہے، ہمارے سیاستدان مصلحتوں سے نکل کر قومی سلامتی اور یکجہتی کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں ،اقتدار کی دوڑ میں شامل سیاسی رہنمائوں کی جانب سے قومی یکجہتی اور ملکی وحدت کا خیال نہ رکھنا افسوسناک ہے، یاد رکھیئے اس خطے کے سب سے بڑے منصوبے پاکستان چین اکنامک کوریڈور کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے ، بلوچستان کی ترقی کا یہ منصوبہ نہ صرف بلوچ بہن بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا بلکہ وطن عزیز کا معاشی مستقبل بھی اس اہم ترین منصوبے سے جڑا ہے،

    سی پیک پورے ملک کی ترقی کا منصوبہ ہے،کچھ شرپسند عناصر دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، شرپسند عناصر کو پاک فوج اورجملہ اداروں نے زمین بوس کیا اور کررہے ہیں ،ملکی سلامتی کے اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے،سیاسی و مذہبی جماعتوں بلوچ سرداروں اور دیگر کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا، سیاست دانوں کو یاد رکھنا ہوگا بلوچستان اور کے پی کے حالات تقاضا کرتے ہیں اگر عوام میں زندہ رہنا ہے تو سیاسی اورمذہبی جماعتیں دل بڑا کریں اپنے مفادات کو قربان کریں، نواز شریف جیسے زیرک اور بڑے سیاسی لیڈر کی قیادت میں متحد ہو کر امن کے لئے وطن عزیزکے مفاد میں اکٹھے ہوں اور اپنا کردار ادا کریں۔

  • اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر:  راحین راجپوت

    اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر: راحین راجپوت

    پاکستان کے علاقے فیصل آباد کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سول سروس میں جانے کا فیصلہ کیا اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے ایک اچھے آفیسر کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کو منوایا ۔اسی دوران انہیں پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کے جنرل مینیجر کے طور پر بھی کام کرنے کا موقع ملا ۔یہی وقت تھا جب ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی غربت کے خاتمے کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم "اخوت” کی بنیاد رکھی اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ۔انہوں نے دس ہزار روپے کے معمولی سرمائے سے غریب لوگوں کو بلا سود قرضے دینے کا آغاز کیا ۔آج ان کا ادارہ سود کے بغیر چھوٹے قرضے دینے والا دنیا کا ایک بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے ۔اخوت تنظیم بلا سود قرضوں اور پیشہ وارانہ رہنمائی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے غریب لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کر رہا ہے ۔”اخوت تنظیم” نادار اور ضرورت مند لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لئے بیس سے پچاس ہزار تک کے بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے ۔یہ قرضے بغیر کسی لمبی چوڑی تفتیش کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک سادہ درخواست اور شخصی ضمانت کے ذریعے دیئے جاتے ہیں ۔گزشتہ کئی برسوں میں ” اخوت تنظیم” اربوں روپے مالیت کے بلا سود قرضے غریب اور پسماندہ لوگوں میں تقسیم کر چکی ہے اور لاکھوں غریب خاندان مستفید ہو چکے ہیں ۔”اخوت تنظیم ” پاکستان کے صوبوں کے علاوہ فاٹا ، کشمیر اور گلگت بلتستان کے کئی علاقوں تک پھیل چکی ہے "اخوت تنظیم "کی طرف سے دیئے گئے قرضوں سے خواتین اور ملک کی اقلیتی برادریاں بھی مستفید ہوئی ہیں ۔” اخوت تنظیم” کا ادارہ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے غریب لوگوں کی مدد کے لئے گرجا گھروں میں خصوصی فلاحی تقریبات کا اہتمام بھی کرتا ہے ۔”اخوت تنظیم” نے پاکستان کی قومی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے غریب لوگوں کی مدد کے لئے شروع کی جانے والی کئی سرکاری فلاحی سکیموں کی شفاف تکمیل کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اپنی خدمات پیش کیں ۔اس فلاحی ادارے کو پاکستان کے مخیر حضرات بڑی تعداد میں سپورٹ کرتے ہیں ۔یہ فلاحی ادارہ کاروبار کرنے والے خواہش مند افراد کی مدد کرنے کے علاوہ گھر بنانے ، بچوں کی تعلیم اور شادی کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات کے لئے قرضے فراہم کرتا ہے ۔

    اس وقت ” اخوت تنظیم” کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب کی زیر نگرانی قرضوں کی فراہمی کے پروجیکٹ علاوہ متعدد فلاحی منصوبے بھی چلائے جا رہے ہیں ، جن میں اخوت کلاتھ بنک ، اخوت ہیلتھ سروسز ، اخوت ڈریمز پروجیکٹ ، اخوت ایجوکیشن اسسٹنس پروگرام اور اخوت فری یونیورسٹی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ یہ ادارہ خواجہ سراؤں کی سرپرستی بھی کر رہا ہے ۔”اخوت تنظیم” کے ماڈل کو دنیا کے کئی ممالک اور کئی یونیورسٹیز میں سٹڈی کیا جاتا ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ” پاکستان کی مشکلات کا پائیدار حل غیر ملکی امداد سے ممکن نہیں ، ان کے بقول بھیک مانگنے والی اقوام کبھی ترقی نہیں کر سکتیں ۔ پاکستان کے اقتصادی حالات کی بہتری کے لئے پاکستانیوں کو ہی اٹھنا ہوگا ۔ غربت کے خاتمے کے لئے لوگوں کو سماجی آگاہی ، کپیسٹی بلڈنگ ، کاروباری تربیت اور دوسروں کی مدد کرنے والی رضاکارانہ سوچ سے مزین کرنا ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچاس فیصد پاکستانی بقیہ پچاس فیصد پاکستانیوں کی مدد کا مخلصانہ تہیہ کر لیں تو لوگوں کی مشکلات میں بہت حد تک کمی لائی جا سکتی ہے ، کیونکہ ان کے تجربے کے مطابق پاکستان ایک دیانتدار قوم ہے اس لئے تو لاکھوں لوگ چھوٹے چھوٹے قرضوں سے اپنے کاروبار سیٹ کر کے ہمیں قرضے واپس کر رہے ہیں ، بلکہ ” اخوت تنظیم "کے ڈونر بن رہے ہیں ۔” ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ "اخوت تنظیم” کا ماڈل روائتی اقتصادی تصورات کے ذریعے سے نہیں سمجھا جا سکتا ۔ ان کے بقول سودی قرضوں کی معیشت مسابقت ، منافع کے لالچ اور مارکیٹ فورسز کے تحت کام کرتی ہے ، جبکہ وہ ایثار و قربانی اور دوسروں کی مدد کر کے ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔”

    ڈاکٹر امجد ثاقب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں ستارہ امتیاز ، پاکستان کا تیسرا اعلیٰ سول ایوارڈ اور ایشیا کے معروف اعزازات میں سے ایک ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ شامل ہیں ۔ ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ فلپائن کے سابق صدر رامون دلفیئرو میگ سائے سائے کی یاد میں بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ایشیا میں کام کرنے والے ایسے لوگوں کی خدمات کو سراہنا جو دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے بے لوث انداز میں کام کرتے ہیں ۔ اس ایوارڈ کو عام طور پر ایشیا کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے ۔ رامون میگ سائے سائے ایوارڈ دنیا کے معروف ترین اعزازات میں سے ایک ہے ۔ ماضی میں یہ ایوارڈ نو پاکستانیوں کو دیا جا چکا ہے جن میں عبد الستار ایدھی ، بلقیس بانو ایدھی اور عاصمہ جہانگیر بھی شامل ہیں ۔
    ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کے خاتمے اور سماجی ترقی میں بے مثال اور بے لوث خدمات کے اعتراف میں "عشرے کا عالمی آدمی ” ( Global Man of dekad ) کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے لندن میں منعقدہ ( گلوبل ویمن ایوارڈ 2003 ء) کی تقریب میں ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کہا کہ ” میں اس عالمی اعزاز کو حاصل کرنے پر بہت فخر محسوس کر رہا ہوں ۔ میرے لئے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ مجھے یہ ایوارڈ بہت سے رہنماؤں ، مردوں اور عورتوں کی موجودگی میں مل رہا ہے جو اس دنیا کو تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ” ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنا یہ ایوارڈ پاکستان کے عوام اور رضاکاروں کے نام وقف کیا جو دنیا کی بہتر تعمیر کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ، ایک ایسی دنیا جو غربت اور استحصال سے پاک ہو ۔
    اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں ملکہ برطانیہ نے ( common wealth ‘s point of light ) سے نوازا ۔ اور ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے "Entrepreneur of the year 2018″ کے لئے مقرر ہوئے ۔ نوبل انعام 2022 ء کے لئے دنیا بھر سے 343 امیدواروں
    کا انتخاب کیا گیا جن میں 251 انفرادی شخصیات اور 92 ادارے شامل ہیں ۔ ان ناموں میں ایک نام ڈاکٹر امجد ثاقب کا بھی ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کا نام غربت کے خاتمے کے لئے کوشش اور انسانیت کی خدمت پر نوبل امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے ، جو پاکستان میں بلا سود قرضے فراہم کرنے کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلا رہے ہیں ۔ ان سب فلاحی کاموں کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کئی کتابوں کے مصنف اور مقرر بھی ہیں ۔ ان کی تصانیف میں چار آدمی ، مولو موصلی ، اخوت کا سفر ، ایک یادگار مشاعرہ ، گوتم کے دیس میں ، غربت اور مائیکرو کریڈٹ ، اخوت دشت ظلمت میں ایک دیا ، سیلاب کی کہانی اور کامیاب لوگ شامل ہیں ، اور اس کے ساتھ ہی ان کے کالم بہت سے رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کو کئی مرتبہ آکسفورڈ یونیورسٹی ، ہارورڈ یونیورسٹی اور اقوام متحدہ جیسے معتبر اداروں میں اظہار خیال کرنے کا موقع ملا ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ” چار آدمی ” کو جس خوبصورت انداز سے تحریر کیا گیا ہے ، وہ بہت منفرد اور ممتاز کرنے والا ہے ۔

    ” چار آدمی "کتاب کے بارے میں ڈاکٹر خورشید رضوی کا کہنا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
    ” ڈاکٹر امجد ثاقب کی زندگی مسلسل انسانیت کے لئے وقف ہے ۔ غربت کا خاتمہ اور باصلاحیت مگر نادار طلباء کے لئے تعلیم ، اس کے بعد اخوت فاؤنڈیشن کی صورت میں گزشتہ بیس برس کے دوران جو کچھ کیا اس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جانا بہت فخر کی بات ہے ۔”
    فاؤنٹین ہاؤس کے موجودہ سربراہ کی حیثیت سے ڈاکٹر امجد ثاقب عید کا دن مسرت سے محروم مریضوں کے ساتھ گزارتے ہیں ، عید کی اس محفل میں انہیں وہ تین افراد ملے جو اب اس دنیا میں موجود نہیں ، مگر ان کی درد مندی اور اخلاص کے نتیجے میں فاؤنٹین ہاؤس وجود میں آیا ۔سر گنگا رام ، ڈاکٹر رشید چوہدری اور جناب معراج خالد ، دیکھتے ہی دیکھتے موجود لوگوں کا مجمع منظر سے غائب ہو گیا اور ڈاکٹر امجد ثاقب ان تین رفتگان کی آپ بیتی سننے کے لئے بزمِ خیال میں بیٹھے رہ گئے ۔
    یہ کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے ، اس آپ بیتی سے عبارت ہے جو از حد دلچسپ اور دلنشین اسلوب میں قلمبند کی گئی ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کی اس کتاب کا شمار ان کی کامیاب تصانیف میں ہوتا ہے ۔ اور یہ کتاب سینکڑوں دلوں میں درد مندی ، خدمت خلق اور انسانیت کے چراغ روشن کرے گی ۔”
    شکیل عادل زادہ کا اس کتاب کے بارے میں کہنا ہے کہ ۔۔۔” پڑھتے جاؤ پڑھتے جاؤ ، کہانی ختم ہو جائے ، تجسس و تاثر ختم نہیں ہوتا ۔ کچھ حاصل ہونے کی آسودگی سے تحریریں ممتاز ہوتی ہیں ۔ تحریریں آئینہ دکھاتی ہیں اور تحریریں نہاں خانے کے دھندلکوں میں اجالوں کا سبب بنتی ہیں ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی یہ کتاب امید جگانے ، کچھ کر گزرنے کے لئے اپنے قاری کو آمادہ کرتی ہے ۔ڈاکٹر امجد ثاقب کی ذات ہمہ پہلو ایک مثال ہے ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کے عزم و یقین ، نیت کی صداقت اور شفافیت کے بغیر ان کی تحریر میں یہ دلگیری و دلپزیری شائد ممکن نہ ہوتی ۔”

    عطاء الحق کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر امجد ثاقب کی نثر پڑھتے ہوئے مجھے کئی مقامات پر مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں کوئی خوبصورت انشائیہ پڑھ رہا ہوں ۔ سادہ ، سلیس ، پرمغز اور دل میں اتر جانے والی تحریر ! ۔۔۔۔۔۔۔ اتنی خوبصورت تخلیقی نثر اللّٰہ تعالیٰ کی دین ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی دین ایسے ہی نہیں ہوتی ، اس کے پیچھے لاکھوں غریبوں کی "سفارش” موجود ہے ۔”
    آخر میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر امجد ثاقب کے عزم و ہمت کو یونہی قائم و دائم رکھے اور رزق قلم میں اور اضافہ فرمائے ۔ ( آمین ثم آمین )

  • بلوچستان میں امن کی بحالی کیلیے نواز شریف کردار ادا کریں، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان میں امن کی بحالی کیلیے نواز شریف کردار ادا کریں، تجزیہ :شہزاد قریشی

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    اس بات پر کیسے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ خود کو نیٹو سے دور کررہا ہے ۔ امریکہ نیٹو کے لئے اور نیٹو امریکہ کے لیے بہت اہم ہے ۔ کچھ بین االاقوامی پالیسیوں کو لے کر امریکہ اوریورپی ممالک میں جو اختلافات نظر آرہے ہیں اُن کو حل کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج کی غیر یقینی دنیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم عالمی حکمرانوں کا زوال ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کے دلخراش حالات پر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنی جماعت کے ایک وفاقی وزیر اور بلوچستان کے دو سینئر وکلاء سے ملاقات کی ہے اور ہدایت کی کہ وہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں اپنا کردار ادا کریں ۔ بلاشبہ ماضی میں بھی بلوچستان میں امن وامان کو لے کر نواز شریف نے اہم کردار کیا تھا اور جس بُحران سے ماضی میں نواز شریف نے نکالا تھا اُس سے ہر خاص و عام آگاہ ہے۔ یوں تو ہمارے بہت سے سیاستدانوں ،سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاسی وڈیروں ،بلوچ سرداروں ،سیاسی گلیاروں میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے ۔ پاکستان اور بلوچستان کے حالات پر ان کی بے بسی ایک سوالیہ نشان ہے ؟ تاہم نواز شریف نے جو کردار ماضی میں ادا کیا تھا و ہ کردار آج بھی کر سکتے ہیں، بلوچستان کے سرداروں کو جاتی عمرہ میں دعوت دیں اور اپنا سیاسی کردار ادا کریں۔ یہ ایک حقیقت ہے پاک فوج اور جملہ ادارے ملک وقوم کی حفاظت پر مامور ہیں اور قربانیاں بھی دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔ بھارت بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے اپنے مکروہ مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے حالات کا بہتر مطالعہ کرلیا ہے اور وہ اس فساد کو ختم کرنے کے لئے پُر عزم ہیںمگر پاکستان کے اندراور پاکستان کے باہر سوشل میڈیا جو فیک نیوز پھیلانے کے ماہر ہیں بالخصوص دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حکومت کو ایسے عناصر کو عبرت کا نشان بنانا چاہیئے جو وطن عزیز کی سلامتی اور اس کی سلامتی پر مامور اداروں پر بے بنیاد پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔پاک فوج اور جملہ اداروں نے بلوچستان میں سر اٹھاتی دہشت گردی کو زمین بوس کررہا ہے ۔ وطن عزیز کے خلاف بیرونی اور اندرونی سازش کرنے والے عناصر کو پیغام دیا ہے کہ وطن عزیز اور قوم کی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ملک وقوم کی سلامتی کے پیش نظر سیاسی ومذہبی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • جاتی عمرہ چوک بھی محفوظ نہیں .تحریر:ملک سلمان

    جاتی عمرہ چوک بھی محفوظ نہیں .تحریر:ملک سلمان

    دنیا بھر میں سرکاری ملازم قانون کا پاسدار اور آئین کا پابند ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں سرکاری ملازم آئین شکنی اور لاقانونیت کو اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔

    انتظامی افسران کہتے پھر رہے ہیں کہ روزے اور عید ہے اس لیے تجاوزات کے خلاف ہم سختی نہیں کر رہے جبکہ جہاں جہاں نرمی کی جا رہی ان تمام تجاوزات مافیا کا کہنا ہے کہ یہ نرمی اللہ واسطے نہیں بلکہ انتظامیہ کو "ایڈوانس عیدی” دے کر ہی بازاروں اور سڑکوں پر دکانداری کی اجازت دی جاتی ہے۔ سرکاری ریڑی بازار کی ریڑھیاں فٹ پاتھ سے سڑک پر آچکی ہیں جبکہ دیگر رکشہ ریڑی والے تو بیچ سڑک دکان چلا رہے ہیں۔ افطاری کے نام پر ویڈیوشوٹ اور دکھاوا کرنے والے گلیوں اور سڑک کی ایک سائیڈ بند کردیتے ہیں کہ افطاری ہورہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور ٹریفک پولیس ان جعل سازوں کو کس کپیسٹی میں چار سے سات تین گھنٹے کیلئے مین شاہراہ بند کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

    تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔انہی وجوہات سے رمضان میں ٹریفک حادثات کے ریکارڈ بن رہے ہیں۔ ایک دوست کی طرف افطاری پر گیا تو دیکھا کہ پنجاب پولیس کے تھانوں میں دی گئی گاڑی بغیر نمبر پلیٹ کھڑی تھی۔ گاڑی کے چاروں اطراف پنجاب پولیس کا لوگو اور نام لکھا تھا لیکن گاڑی نمبر یا کوئی شناخت نہیں تھی میزبان سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ آئی جی آفس کی ایک برانچ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے۔ اس وقت لگ بھگ پچاس اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک سو کے قریب سپرنٹنڈنٹ ہیں جن میں سے بہت ساروں کو ایسے پولیس ڈالے دیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نان یونیفارم ملازمین/آفس ورک نوکری والوں کو یونیفارم پولیس کا ڈالہ دینا اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا نہیں۔

    میں کم از کم پانچ دفعہ لکھ چکا ہوں کہ بلانمبر پلیٹ گاڑیاں سنگین جرم ہے جس پر وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت کاروائی کا حکم دیا لیکن موثر کاروائی نہیں ہو رہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والے سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟ مجھے اس آفیسر نے بتایا کہ رمضان سے چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے اندرون لاہور کا دورہ کیا تو بے ہنگم ٹریفک جام پر وزیراعلیٰ نے سی ٹی او لاہور کو Displeasure بھیجنے کو کہا۔ وزیراعلیٰ آفس کی طرف سے Displeasure کے جواب میں دو دو عہدے انجوائے کرنے والے سی ٹی او نے وزیراعلیٰ آفس کے متعلقہ آفیسر کو وربل جواب دیا کہ وزیراعلیٰ رش والے ٹائم آئیں تو میں کیا کرتا۔ جو سی ٹی او اپنی غلطی تسلیم کرنے اور ٹریفک پولیس کے معاملات میں بہتری کی بجائے یہ کہے کہ رش والے اوقات میں وہ کیا کرے وہاں ٹریفک پولیس میں بہتری کی امید چھوڑ دیں۔ ایسا لگتا ہے پنجاب ٹریفک پولیس نے پورے پنجاب میں سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔

    پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے ۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے ؟آنکھوں کو چندیا دینے والی غیر نمونہ فلیشر لائٹ سے حادثات ہو رہے ہیں لیکن کاروائی نہیں ہو رہی۔

    جناب چیف آف آرمی سٹاف آپ کے افسران اور جوان ان سول افسران کی لاقانونیت کی وجہ سے دہشت گردوں کا سافٹ ٹارگٹ بن کر شہید ہو رہے ہیں۔ جناب چیف آف آرمی سٹاف آپ ان افسران اور جوانوں کی شہادتوں کا بدلہ دہشت گردوں سے تو لے رہے ہیں لیکن فرائض سے غفلت کرکے اور بنا نمبر پلیٹ قانون شکن اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا کب تنگ کریں گے؟۔
    جناب چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم آپ دونوں کی کوششوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے لیکن سرکاری ملازمین کی مجرمانہ غفلت، کرپشن اور لاقانونیت سے تنگ آکر مقامی سرمایہ کار بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں تو بیرونی سرمایہ کاروں کو کیسے اعتماد دلائیں گے۔

  • پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    گزشتہ چند ماہ سے ملک عزیز پاکستان میں دہشت گردی خطرناک حد تک روز افزوں ھے۔۔۔صوبہ بلوچستان اور کے پی کے میں سکیورٹی فورسز پر حملے تو آئے دن معمول تھے ہی۔۔بےگناہ لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر شہید کرنے کے دلسوز واقعات بھی آئے روز ھو رھے تھے لیکن 11مارچ کو پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ ھوا جس میں کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس کو بولان مچھ کے علاقے میں دہشت گردوں نے ہائی جیک کر لیا۔۔ دہشت گردوں نے 400سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔۔اور 24مسافروں کو شہید کر دیا جن میں کئی مسافر سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔۔۔۔۔۔یہ تو اللہ کا شکر ھوا کہ سکیورٹی فورسز نے بڑی مہارت سے کامیاب آپریشن کو مکمل کرتے ھوئے باقی تمام مسافروں کو دہشت گردوں کے چنگل سے بخیریت بازیاب کرا لیا۔۔۔اس آپریشن میں صرف ایک سکیورٹی اہلکار شہید ھوا۔۔۔
    تاھم اس کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں تھما اور روزانہ سکیورٹی اہلکاروں پر ایسے حملے جاری ہیں۔۔۔

    پاکستان کے دشمن روز اول سے پاکستان کو ختم کرنے کے ہمیشہ درپے رھے ہیں۔۔اس کے لیے ہمارا دشمن ایک دن بھی آرام سے نہیں ںیٹھا۔۔وہ کھلی جنگ میں تو ہماری بہادر افواج سے ہمیشہ شکست فاش کھاتا رہا جیسا کہ 1965 کی جنگ میں پاک فوج نے اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔۔۔اس وقت کے بعد چانکیائی سیاست کے ماہر ہمارے اس مکار دشمن نے اچھی طرح سوچ لیا کہ وہ پاکستان کو کھلی جنگ میں تو کبھی شکست نہیں دے سکتا لیکن سازش،جھوٹا پروپیگنڈہ اور قوم کو باہم تقسیم کر کے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلا کر وہ یہ جنگ آسانی سے جیت سکتا ھے۔۔چنانچہ 1965 کے بعد وہ پوری تندہی سے اسی ایجنڈے پر پوری تیزی اور سنجیدگی سے اور بڑی برق رفتاری سے عمل کرنے لگا۔۔سب سے پہلے اس نے مشرقی پاکستان میں لسانیت کے نام پر نفرت کی آگ لگائی اور ہمارے بنگالی بھائیوں کو مغربی پاکستان،پنجاب اور پاک فوج کے خلاف کھڑا کر دیا۔۔دشمن کی اس سازش میں ہمارے اپنے ہی کچھ لیڈر اپنے مفادات کے لیے اس کے آلہ کار اور سہولت کار بن گئے۔۔۔ ۔یقینا اس میں مغربی پاکستان کے لیڈروں،اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں سے بھی غلطیاں ھوئی ھوں گی،ممکن ھے ان سے بھی کچھ استحصال ھوا ھو لیکن ایسا استحصال تو ہندو بنیا اس سے بھی کئی گنا زیادہ بھارت کی مختلف قوموں کے ساتھ شروع دن سے برت رہا ھے جیسا کہ دلت،سکھ اور مسلم کمیونیٹیز کو وہاں دیوار کے ساتھ لگا کے رکھا گیا ھے۔۔۔ان کا قتل عام وہاں معمول ھے۔۔۔نہ ان کی عبادت گاہیں محفوظ نہ ان کی جان و مال۔۔۔یہ قومیں ہندو بنیے کے ساتھ ایک برتن میں پانی تک نہیں ہی سکتیں۔۔۔اس سے بڑا استحصال کسی قوم کا اور کیا ھو سکتا ھے۔۔۔دلت اور بڑی ذات کے ہندؤوں کے مندر تک الگ ہیں۔۔۔دنیا میں خط غربت کی انتہائی شرح سے بھی نیچے لوگ بھارت میں رہتے ہیں ۔۔پاکستان میں بھی یقینا غربت بہت ھے لیکن جتنی غربت انڈیا میں ھے اور جتنے لوگ انڈیا کے بڑے شہروں میں فٹ پاتھوں پر لاکھوں کی تعداد میں سوتے ہیں،پاکستان میں الحمدللہ پھر بھی اتنے کربناک حالات نہیں۔۔انڈیا میں غربت کا یہ عالم ھے کہ وہاں گھروں میں لیٹرین کا نہ ھونا سب سے بڑا مسئلہ ھوتا ھے اور وہاں سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا منشور ہی یہ ھوتا ھے کہ وہ ہر گھر میں لیٹرین مہیا کریں گے۔۔وہاں اکثر ایسے محلے اور کالونیاں ھوتی ہیں جہاں پورے محلے کے لیے اجتماعی طور پہ صرف دو لیٹرینیں ھوتی ہیں لیکن افسوس پاکستان نے انڈیا کی اس قدر غربت اور محروم قوموں کے کارڈ کو کبھی استعمال نہیں کیا۔۔۔حالانکہ انڈیا کی یہ محروم قومیں بھارت کے اسی استحصال اور غربت کے خلاف ایک عرصہ سے علم بغاوت بلند کیے ھوئے ہیں۔۔ ناگا لینڈ،میزورام،آسام، تامل ناڈو وغیرہ کے بے شمار ضلعے ایسے ہیں جہاں حکومت بھارت کی رٹ تک نہیں لیکن پاکستان نے کبھی بھارت کے ان حالات سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔کشمیریوں کی بیداری اور تحریک آزادی ہمارے لیے کافی مددگار ثابت ھوئی جس سے بھارت کو پہلی بار اپنی پڑ گئی اور یوں پاکستان کے لیے کشمیری ایک ڈھال بن کے کھڑے ھو گئے لیکن افسوس یہ ڈھال بھی ہمارے ہی حکمران طبقہ نے کمزور کر دی اور اس میں سب ہی نے اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔۔۔چنانچہ انڈیا نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس نے اپنی روایتی پروپیگنڈہ سازشوں کے ذریعے پاکستان میں نفرت کی آگ ایک بار پھر لگانا شروع کردی، خاص طور پہ اس نے ہمارے دو صوبوں بلوچستان اور کے پی کے کو اپنا اھم ہدف بنا لیا۔۔
    اب ضرورت اس امر کی ھے کہ حکمران طبقہ سے لے کر عوام تک سبھی اپنے دشمن کی سازشوں کو سمجھیں اور ملک کی مضبوطی اور دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔۔کشمیر کی تحریک کو پھر مضبوط کرنے کی ضرورت ھے۔۔اسلام پاکستان کی 99فیصد اکثریت کا دین ھے جو ہم سب کو متحد رکھنے کے لیے ایک مضبوط مشترکہ بنیاد ھے۔۔ھم سب اپنے اختلافات رنگ،نسل اور قومیت کی بجائے اسلام کے پرچم تلے متحد ھو کر ختم کر سکتے ہیں۔۔ہمیں دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھنے کی اشد ضرورت ھے۔۔۔وہ ہمیں باہم لڑا کر ملک کو ایک بار پھر توڑنے کا اپنا ناپاک مشن پورا کرنا چاہتاھے۔۔ہمارا یہ فرض ھے کہ ھم کسی بھی بہانے اور کسی بھی نعرے کی اڑ میں دشمن کے ان عزائم کو پورا نہ ھونے دیں اور ایسی کسی سرگرمی میں شریک نہ ھوں جس سے ملک کے استحکام پر ضرب پڑے کیونکہ ملک ھے تو ھم ہیں۔۔۔اگر ملک ہی نہ رہا تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔۔۔دشمن ہمیں بے دست و پا کر کے ہمارا حال فلسطین و کشمیر ،برما اور عراق و شام اور لیبیا جیسا کرنا چاہتا ھے۔۔ہمارا دشمن زبردست سیاہ پروپیگنڈہ کا ماہر ھے۔۔ابھی حالیہ ٹرین واقعہ میں بھی اس نے کتنی ہی فیک وڈیوز پھیلائیں۔۔کہیں اس نے پوری ٹرین کو جلتا ھوا دکھایا تو کہیں اس نے پاک فوج میں بغاوت کی جھوٹی وڈیوز پھیلائیں۔۔۔اسی سے اندازہ لگا لیں کہ اس ساری دہشت گردی کے پیچھے اصل ہمارا یہی دشمن چھپا ھے۔۔۔اسی دشمن نے ٹرین دہشت گردوں کے حق میں سافٹ امیج بھی پیدا کرنے کی پوری کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ دہشت گردوں نے عام مسافروں کو خود جانے دیا اور صرف سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔۔حالانکہ یہی دشمن بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر بے گناہ لوگوں کو مارتا رہا ھے۔۔سوال یہ ھے کہ یہ دہشت گرد اگر اتنے ہی رحمدل اور انسان دوست ہیں تو اس وقت اس کا سافٹ امیج اور انسانیت کہاں تھی۔۔۔اس لیے دشمن کے ایسے کسی بھی پروپیگنڈہ سے ہمیں خبردار رہنا چاہیے ۔۔ ائیے آگے بڑھیں۔۔اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے اصل دشمن کو پہچان کر اس کے خلاف سیسہ پلائی ھوئی دیوار بن جائیں ۔ھم اپنے غیر متزلزل اتحاد سے ہی دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔۔اج ہمارے بنگالی بھائیوں کی بھی آنکھیں کھل چکی ہیں اور وہ اپنے اس مکار دشمن کو پہچان کر ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ اپنی محبتیں نچھاور کر رھے ہیں لیکن ہمارے لیے ابھی وقت ھے کہ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے اور دشمن اپنا وار کر جائے،ھم اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کریں اور دشمن کی ہمیں باھم لڑا کر ملک تباہ کرنے کی جو گہری سازش ھے،اس کو اپنے اتحاد سے ناکام بنا دیں۔۔۔۔۔