Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    پاکستان کی تاریخ کئی سانحات کی گواہ ہے، لیکن کچھ سانحات ایسے ہیں جو زخم بن کر رہ جاتے ہیں، اور کچھ ایسی سازشیں جو قوم کے شعور پر حملہ کرتی ہیں۔ لاشوں کی سیاست، جسے آج کے دور کی سب سے مکروہ اور شیطانی حکمت عملی کہا جا سکتا ہے، ان ہی سازشوں میں سے ایک ہے۔ یہ سیاست کسی نظریے کی جنگ نہیں بلکہ خوفناک اور خطرناک سازش ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوام کو گمراہ کرنا بلکہ ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر اس شیطانی کھیل کی دو بدترین اور واضع مثالیں ہیں، جو سیاست کے نام پر پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھے۔

    9 مئی اور 26 نومبر کو تحریک انتشار کے نام نہاد رہنماؤں نے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جو ملک کو خانہ جنگی کی دہلیز پر لے جائے۔ ان کے منصوبے کا بنیادی مقصد تھا خون بہے، لاشیں گریں، اور اس فساد کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جائے۔ 9 مئی کو قومی املاک اور دفاعی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جبکہ 26 نومبر کو قتل و غارت گری کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔

    لاشوں کی سیاست کے اس کھیل کو ہوا دینے میں سب سے بڑا کردار ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا ہے، جو سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیے عام کرتے ہیں۔ یہ عناصر، جو بظاہر آزاد صحافت کے علمبردار بنتے ہیں، درحقیقت پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف عوامی شعور کو مسخ کرنا ہے بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنا بھی ہے۔ 26 نومبر کے بعد جھوٹے بیانیوں اور جعلی خبروں کا جو طوفان کھڑا کیا گیا، اس نے واضح کر دیا کہ یہ عناصر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

    تحریک انتشار کے رہنماؤں نے احتجاج کو پرتشدد بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ علی امین گنڈا پور اور دیگر نے کھلے عام “مارنے اور مرنے” کی باتیں کیں، جبکہ اس مارچ سے قبل جو افغانی اسلحے سمیت گرفتار ہوئے انہوں نے ان کے ناپاک ارادوں کو بے نقاب کر دیاہے کہ یہ اسلحہ مظاہرین کے ہاتھوں قتل عام کے لیے استعمال کیا جانا تھا، تاکہ پاکستان میں بدامنی کی ایک ایسی لہر پیدا کی جا سکے جو قابو سے باہر ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی مہذب معاشرے میں اس طرح کی دہشت گردی کو سیاست کہا جا سکتا ہے؟

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہایت پیشہ ورانہ حکمت عملی سے اس انتشار کو قابو کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے؟ ان جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والوں، چاہے وہ سیاستدان ہوں صحافی ہوں یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہوں کو کب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یہ عناصر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہ جھوٹا پروپیگنڈہ صرف وقتی فساد نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کے لیے ایک طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر اس جھوٹ کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سازشی عناصر مستقبل میں مزید شدت سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت،ریاست، عوام، اور میڈیا مل کر ان عناصر کے خلاف سخت موقف اپنائیں۔کیونکہ لاشوں کی سیاست دراصل پاکستان کی سالمیت پر ایک حملہ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی کھیل نہیں بلکہ ایک منظم عالمی سازش ہے، جس کا مقصد پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔ قوم کو اس وقت اتحاد اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ ان سازشوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ان کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنا اور ذمہ دران کو سخت سزا دینا ہی پاکستان کے وقار اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔ یہ وقت کسی نرمی یا رعایت کا نہیں بلکہ دشمنان وطن کو ہر محاذ پر شکست دینے کا ہے۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    قدر اسی چیز کی ہے جو لاحاصل ہے۔ جو چیز ہاتھ میں آجائے وہ بے مول ہوجاتی ہے۔
    انسانی چاہت کی مثلت انہی تین زاویوں سے بنتی ہے:
    "لاحاصل سے حاصل اور حاصل سے دوبارہ لاحاصل۔”
    لگتا ہے کہ بہت کچھ پالیا ہے۔ لیکن دل کی خانہ ویرانی اکساتی رہتی ہے کہ نہیں۔ جو نہیں ہے، اسی کی چاہ ہے اور اس کے بغیر یہ دامن سمجھو کہ بہت خالی ہے تو پھر چاہے دنیا بھر کی خوشیاں ڈال دو اس میں۔
    پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اکثر سوچتی ہوں کہ کبھی میں چاہتی تھی کہ مجھے فلاں چیز مل جائے۔ تو جب وہ مل جاتی تھی تو دل میں کسی اور چیز کی خواہش جاگ جاتی تھی۔ جب وہ ملتی تھی تو پھر اگلی۔ ختم نہ ہونے والا ایک طویل سلسلہ جس کا شاید کوئی انت ہی نہیں۔
    سنا تھا کہ انسان کا پیٹ نہیں بھرتا، ہمارا تو دل بھی نہیں بھرتا۔ مجال ہے جو بس ایک تمنا پوری ہوجانے پر راضی ہوا ہو۔
    آگے سے آگے کی چاہ ٹھہراؤ نہیں آنے دیتی۔ ذرا سا پڑاؤ ڈال لیا جائے ،تو کیا برا ہے؟
    لیکن اب کوشش ہے کہ دل کی تمناؤں کو محدود کردیا جائے۔ ٹھہر لیا جائے، رک کر سانس لے لیا جائے۔ پڑاؤ ڈال کر دیکھ لیا جائے کہ جو خواہش کے علاوہ مل رہا ہے وہ کتنا بہترین ہے۔ وہ جو اللہ اپنی چاہت سے ہمیں نواز رہے ہیں، اس میں کتنی خیر ہے۔
    بس اب:
    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں”
    مسکان احزم

  • 8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    عالمی مشاعرہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس، کشمیر روڈ، کراچی میں شام 6 بجے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ لینا، اس کی تشہیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔

    اجلاس میں کمیٹی کے معزز اراکین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ شرکاء محفل نے مشاعرے کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اس کے ساتھ مہمان شعراء کی فہرست کو جلد حتمی شکل دینے، سامعین کے لئے آرام دہ سہولتوں کی فراہمی، اور مشاعرے کے دوران اعلیٰ معیار کے آلات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مشاعرے کی لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے عالمی سطح پر اس کے پیغام کو پھیلانے کی تجویز کو بھی سراہا گیا۔

    کاروباری برادری کے نمائندوں جناب ایس ایم تنور، ریاض احمد (مکہ مکرمہ) جناب خالد تواب، جناب میاں زاہد، جناب حنیف گوھر، جناب نوید بخاری، جناب زبیر چھایا، جناب جنید نقی اور دیگر نے اس مشاعرے کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسپانسرشپ کی پیشکش بھی کی۔ اس تعاون سے مشاعرے کی تیاریوں کو مزید تقویت ملےگی ۔ اجلاس کے دوران ایک مختصر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ مختصر مشاعرہ نہ صرف اجلاس کے شرکاء کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ عالمی مشاعرے کے لئے ایک خوبصورت پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

    جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام یہ ہیں ۔
    صدف بنت اظہارِ ۔ہدایت سائر۔ ظفر بھوپالی۔طارق سبز واری۔ سلیم فوز اور ڈاکٹر شاداب احسانی شامل ہیں۔

    اجلاس میں مشاعرے کی کامیابی، ملک و قوم کی ترقی، اور ادب کے فروغ کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات نے اپنی موجودگی سے اجلاس کی رونق کو دوبالا کیا، جن میں حاجی رفیق پردیسی، فرحان الرحمان، شیخ راشد عالم، خالد جمیل شمسی، فیصل ندیم، ندیم معاز جی، عارف شیخانی، ڈاکٹر شاہ فیصل، انجینئر تنویر احمد، ندیم شیخ ایڈووکیٹ، خالد فرشوری، ظفر بھوپالی، محمود راشد۔ ہما۔بخاری اور عارف زبیری شامل ہیں۔

    یہ اجلاس عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا اور اس کے کامیاب انعقاد کے امکانات کو مزید روشن کر دیا۔ شرکاء کی دلچسپی اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب ہوگی، جو پاکستانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    رپورٹ ۔۔
    صدف بنت اظہار ۔
    مکتبہ حیدری پاکستان کراچی ۔

  • قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے یقینی ، مایوسی ،فساد ،انتشار وطن عزیز کے گلشن میں کانٹے بکھیرنے کا کام جو جاری ہے ہر طرف کانٹے بکھیرے جا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں تماش بین افراد کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ بین الاقوامی دنیا میں ملک کے وقار، اس کی عزت کو داغدار کیا جا رہاہے ۔ قوم منتشر ہو چکی ہے ۔ منتشر قوم کے لئے نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی میں موجود بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمسفر افراد اور دیگر سنجیدہ سیاستدان اپنا کردارادا کریں ۔پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ تلاش کریں۔ نواز شریف خود اس وطن عزیز کی عزت اور وقار کے لئے میدان میں نکلیں ۔ قیادت کریں سیاسی راہنمائوں کے دروازے پر دستک دیں- انہیں ایک جگہ جمع کریں وطن عزیز میں ترقی کے لئے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے ۔ ملک کے معاشی حالات کیا ہیں ؟ سب جانتے ہیں ان حالات میں ملک کسی انتشار اور فساد ،قتل وغارت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

    کیا تخلیق پاکستان کا مقصد یہی تھاکہ یہاں بے روزگاری ،لاقانونیت ،ناانصافی ، بدانتظامی ، منافقت ، ملاوٹ ، ناجائزمنافع خوری ، اقربا پروری ، بے اصولی ، کرپشن کو فروغ دیا جائے ؟نہیں ،نہیں پاکستان اس کے لئے نہیں بنایا گیا تھا ہرگز نہیں خدا را بابائے قوم بزرگوں ،لاکھوں شہداء کی روحوں کو اتنا نہ تڑپائو ۔ اللہ کا خوف دلوں میں پیدا کرو۔ تبدیلی اور حقیقی انقلاب اور حقیقی آزادی والی جماعت سے گزارش ہے پاکستان کا قیام بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا محض نعرہ نہیں تھا ،پوری وضاحت کے ساتھ اس انقلاب کے مقاصد تھے۔بھارت سے مسلمانوں نے ہجرت کی ،سر کٹوائے ، گھر بار چھوڑے ، یہ سب انقلابی تھے جو بابائے قوم کی صاف ستھری اور بہادر قیادت میں انقلاب لے کر آئے پاکستان کی صورت میں اس گلشن میں کانٹے بکھیرنے کی بجائے اس گلشن کو آبادرکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔قصر دل میں نرم گوشہ رکھنے والے ہی دلوں پر راج کرتے ہیں ۔کائنات کی خوبصورتی حسن اخلاق میں ہے۔ چنگیز خان ،ہلاکو اور ہٹلر نے توانسانیت کا خون بہایا تھا اچھے الفاظ کی خوشبو سے ہی قبائے دل میں خوبصورت پھول کِھلتے ہیں

  • فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    آج کل جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے فلسطین، لبنان، کشمیر، برما، ہندوستان وغیرہ ممالک میں۔ کیا اب بھی مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہے؟ کیا اب جو مسلم آزاد ممالک ہیں کیا ان پر جہاد فرض نہیں ہے؟ جہاد کیا ہے؟ جہاد صرف تلوار سے لڑنے کو تو نہیں کہتے جہاد کی مختلف اقسام بتائی گئی ہیں ہمیں۔ یہ جو پاکستان کی آدھی سے زیادہ عوام کہتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے؟ یہ سب تو حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ کیوں نہیں کچھ کر سکتے؟ آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تو کر سکتے ہیں نا ؟ آپ کا دل کوک یا lay’s وغیرہ کھانے کو کر رہا ہے لیکن آپ لوگ رک جائیں، نہیں ہم نے نہیں کھانا اپنے دل کو سمجھائیں کہ نہیں کھانا، خود کو کہیں کہ میں اسرائیل کی معیشت کو کیوں مضبوط کروں؟ میں کیوں فلسطین کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگوں، ظاہر ہے میرے ہی دیے پیسوں سے وہ ہتھیار یا جنگ کا باقی سامان خریدتے ہیں۔ یہ ہوگا آپ کا جہاد با لنفس۔ آپ نے یہاں اپنے نفس کو روکا ہے اللہ کےلئے اللہ کے بندوں کےلئے۔

    اب جو ناول نگار ہیں جو سارا دن بیہودہ ناول لکھتے ہیں وہ لکھیں وہ اپنی قوم کو جہاد کے بارے میں بتائیں یہ ہوگا قلم سے جہاد۔ جو لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں یہ جو لیڈرز ہیں یہ سب اپنی اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہیں کہ آئیں ساتھ دیں ہمارا، ہم جہاد کریں گے جب سب پاکستان کی عوام سڑکوں پر نکلے گی تو کیوں نا حکمران مانیں گے؟ یہ ہوگا آپ کا تلوار سے جہاد۔ اب اس وقت جہاد ہم پر فرض ہے اب جو مائیں ہیں یہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں شروع سے جنون ہو اللہ کی راہ میں قربان ہونے کا،

    یاد رکھیں اگر آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس استعمال کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیوں اسرائیل کا ساتھ دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اسرائیل کی معیشت کو مضبوط کیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنا قبلہ اول آزاد کرانے کی کوشش نہیں گی؟ یہ جو پاکستان کی عوام کہتی ہے کہ عمران خان نے، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان یا حکومت نے ان کی مدد کی ہے تو یہ سب جھوٹ ہے پاکستان کی عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو اب فلسطین آزاد ہوتا اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو یہ جو فلسطین کےلئے آواز اٹھا رہے ہیں ان کو جیل میں قید نا کرتے۔

    اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ہو جائیں چھوڑ دیں پاکستانی، سعودیہ، ترکی، پنجابی، سندھی، پلوجی، اہل سنت، اہلحدیث، شعہہ، وہابی اب چھوڑ دو یہ سب فرقہ واریت کا پرچار ،اب ایک ہو جاؤ جسد واحد کی طرح اب اٹھ جاؤ۔
    آپ کو پتا ہے؟ کہ یہودی پوری دنیا میں بہت کم ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ یہ یہودی اپنے مسیح دجال کےلئے راہ صاف کررہے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ کےلئے۔ مسلمانوں آپ لوگ کیا کررہے ہو؟ اپنی ہی بیٹوں کو نچا کر خوش ہورہے ہو، اپنی ہی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں پر تبصرے کرکے خوش ہو رہے ہو ،خدار لوٹ آؤ اسلام کی طرف، لڑکیو چھوڑ دو بے پردگی، چھوڑ دو غیر محرم کی آنکھوں کو سکون دینا ،چھوڑ دوغیر محرم کو اپنا جسم دکھانا، خدار اب اپنی نسل کو ایسے تیار کرو کہ اللہ ان کو حضرت امام مہدی کے لشکر میں شامل کردے

  • ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ہم صرف نام کے آزاد ہیں، ورنہ ہمارے ذہن تو اب بھی غلامی میں ہیں، ہمارے اساتذہ جن کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے تیار کریں کہ وہ حق بات کرتے ہوئے ہچکچائیں نا۔ لیکن وہ بچوں کو ایسے تیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کو بھی دوسروں تک پہنچانے سے پہلے گئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ہماری درس گاہوں میں اگر کبھی کوئی ٹیچر غلط بات کرے اور بچے ٹیچر کو بتا دیں تو ٹیچر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس کو ڈانٹ دیتے ہیں جس سے بچے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ جس بھی جگہ پر کچھ غلط ہوتا دیکھے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں کوئی بہوئیں نہیں لانا چاہتا بلکہ وہ ایک ذہنی غلام لانا چاہتے ہیں جو بھی ان کے ساتھ غلط کرے بس اس کو خاموشی سے برداشت کر لیں۔

    میرے خیال میں بچوں کو سکول لیول پر ہی یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ حق بات کےلئے کھڑے ہوں چاہے وہ غلط بات ٹیچر کرے یا والدین۔ جو بھی بات اسلام کے خلاف ہو اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ جس بھی جگہ پر دیکھیں کہ اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے آواز بلند کریں اس جگہ پر۔ بچے جب صحیح بات کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، بچے جب کسی بڑے کی غلطی کو نوٹ کرکے وہ آپ کی غلطی آپ کو بتائیں تو ان کا شکر ادا کریں۔

  • اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی ،قتل و غارت گری، سماجی معمول کا درجہ اختیار کر جائیں، رشتے مٹ رہے ہوں، احساس ماند پڑ جائے، بیروزگاری، ناخواندگی عام ہو ۔۔کوئی راستہ کوئی منزل نظر نہ آئے ۔ بدعنوانی اور منافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر لیں تو سیاست اور جمہوریت کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ تاہم بدترین داخلی انتشار کے باوجود پاک فوج اور جملہ اداروں نے ریاست کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی اپنی حفاظت میں لیا ہوا ہے۔ یاد رکھیئے! ریاست کے نگہبانوں کو فساد اور انتشار کا سدباب کرنا آتا ہے ریاست کے استحکام پر کسی فرد واحد کو اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ ریاست کے استحکام کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے دیوار چین کی طرح کھڑے ہیں۔

    قوم نے طویل تین مارشل لاء دیکھے موجودہ صدی کے پیروں، نام نہاد گدی نشینوں ، ججز، وڈیروں، سیاستدانوں، نام نہاد دانشوروں، سرمایہ داروں نے ان مارشل لاء لگانے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ،میڈیا نے بھی بھرپور ساتھ دیا الزام صرف فوج پر نہیں لگایا جا سکتا۔ میاں محمد نوازشریف کو تین بار حکومت سے علیحدہ کیا گیا اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ہی آتی ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے، پانامہ لیکس ایک غلط اور بے بنیاد مقدمہ بنا کر نوازشریف اور اسکے خاندان کو بدنام کیا گیا اس مقدمے کے پیچھے سیاستدان ہی تھے، عمران خان جو آج جمہوریت آئین کی بات کرتے تھکتے نہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کیخلاف سازش میں کیوں شامل ہوئے؟ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے کس طرح کامیابی حاصل کی وہ کن ملاحوں کی مدد سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ،نوازشریف کا اس وقت گناہ کیا تھا؟ 2024ء کے الیکشن پر سینہ کوبی کرنے والے بتا سکتے ہیں 2018ء کا الیکشن ہی تھا؟

    یاد رکھیئے۔ پاکستان کی سیاست سیاستدانوں اورنام نہاد جمہوریت سے امریکہ سمیت عالمی دنیا آگاہ ہے سوشل میڈیا جھوٹ بولنے کی فیکٹریاں ہیں بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا بھی سوشل میڈیا کا اسیر بن چکا ہے۔ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت نام نہاد پیروں اور گدی نشینوں، نام نہاد عالم دین، خدا کے عذاب سے ڈرتے نہیں روز محشر خدا کی عدالت میں کس منہ سے کھڑے ہوں گے پاکستان کی سرزمین بھی خدا پاک کی ملکیت ہے اس سرزمین پر بسنے والے خدا پاک کی مخلوق ہے اپنے اقتدار اور اختیارات کی خاطر مذہبی تاویلیں دے کر خدا پاک کو ناراض نہ کریں دین اسلام پر عمل کریں

  • تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    نام کتاب : فتاویٰ برائے خواتین
    جمع وترتیب : محمد بن عبدالعزیز المسند
    صفحات : 488
    قیمت 1450روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    برائے رابطہ :042-37324034
    زیر نظر کتاب” فتاویٰ برائے خواتین “ روزمرہ زندگی میں خواتین کو درپیش مختلف نوعیت کے تمام اہم مسائل اور ان کے علمی و تحقیقی جوابات کا گرانقدر مجموعہ ہے جو کہ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ خواتین کو شرم و حیا اور حجاب و نقاب کے تقاضے ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہئیں۔ بچیوں کو اسلامی تعلیمات سے اچھی طرح روشناس کرانا چاہیے۔ جب وہ جوان ہو جائیں تو ان کی شادی کرنے کے لیے غایت درجہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ لڑکے کے انتخاب میں اس کے اخلاق و احوال دیکھنے چاہئیں۔ یہ تحقیق ضرور کرنی چاہیے کہ جس سے بچی کی شادی کی جارہی کیا وہ نماز کا پابند ہے یا نہیں؟ کسی بے نماز سے ہرگز شادی نہیں کرنی چاہیے۔ کوئی مرد لڑکی کی عمر سے دس پندرہ سال بڑا ہو اور وہ صالح اور صحت مند بھی ہو تو لڑکی کو ایسے مرد سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے لیکن بڑی عمر پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ایک فتوے میں ایک خاتون کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شرابی اور بدکار شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔متعدد فتووں میں بتایا گیا ہے کہ ایامِ حیض میں نماز، روزہ اور طواف بیت اللہ جیسی عبادت کی ممانعت ہے۔شیر خوار بچہ قے کر دے تو لباس ناپاک نہیں ہوتا۔ جو عزیز رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے ان سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے ۔ روزے میں مسواک یا ٹوتھ برش کرنے سے کوئی حرج نہیں۔ ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ کوئی خاتون کتنی ہی پڑھی لکھی ہو، مردوں کی امامت کرانے کی مجاز نہیں۔ ایک خاتون گھر میں اکیلی ہے، نماز پڑھ رہی ہے، دروازے پر مہمان آگیا، اس نے گھنٹی بجائی، اب یہ خاتون کیا کرے؟ اس سوال کا دلچسپ حکیمانہ جواب دیا گیا ہے۔ جو خاتون باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے، اس کےلئے کیا حکم ہے۔ کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں یا صرف سوناہو، اُس پر ادائے زکاة کے ضروری احکام بتائے گئے ہیں۔
    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے سفر میں نماز کا وقت آجائے اس دوران نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو کیا کیا جائے؟ٹیلی فون پر لائن کے دوسری طرف کوئی نامحرم مرد بول رہا ہو تو اُسے جواب دیا جائے یا نہ دیا جائے ؟ ۔ بعض بیگمات کثرتِ اولاد پسند نہیں کرتیں، کیا وہ مانع حمل گولیاں کھا سکتی ہیں یا نہیں؟ مسلمان باورچی نہیں مل رہاکیا ایسی صورت میںغیر مسلم باورچی کھانا پکانے کےلئے رکھا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ شادی کے بعد دولھا میاں کے ساتھ ہنی مون منانے کے لیے سفر و سیاحت پر جاناکیسا ہے؟ ۔
    ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ شوہر فوت ہو جائے توکیا بیوی غسل دے سکتی ہے؟ اسی طرح بیوی وفات پا جائے توکیا شوہر غسل دے سکتا ہے؟۔کتاب میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی مسلمان خود کشی کرلے توکیا اسے بھی غسل دیا جائے گا اور مسنون طریقے کے مطابق تجہیز و تکفین کی جائے گی ؟ ۔ کتاب میں ایک ایسی خاتون کے شوہر کی بے حسی کی داستان سنائی گئی ہے جو اگر چہ نمازی ہے لیکن اس نے بیوی کو فراموش کررکھا ہے۔ کوئی عزیز رشتہ دار آجائے تو ان کے سامنے بیوی کا مذاق اڑاتاہے اس مسئلے کا جو دانشمندانہ حل بتایا گیا ہے وہ غافل شوہروں کی اصلاح کی بہترین تدبیر ہے۔اسی طرح بعض نیک طبع شادی شدہ نوجوان لڑکیوں کو ازدواجی امور کے سلسلے میں کچھ ایسے سوالات کے جوابات دیے گیے ہیںجو ہر شادی شدہ خاتون کو پڑھنا چاہئیں تاکہ وہ عائلی زندگی کے دوران آسانی سے نماز کا التزام، روزے کی حفاظت اور جملہ عبادات کا اہتمام کر سکیں۔ کتاب میں بعض قابل رحم بدقسمت لڑکیوں کی طرف سے دل و نگاہ کے معاملات پیش کیے گئے ہیں اور اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے تلافی کا طریقہ پوچھا گیا ہے۔ ان کے جو سبق آموز اور ایمان افروز جوابات دیے گئے ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اسی طرح جو خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں، شرم اور جھجک کی وجہ سے نازک مسائل زبان پر نہیں لاتیں، یہ کتاب ان کی نارسا آوازوں کا جواب ہے۔اس کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ایک فرد واحد کی کاوش نہیں بلکہ مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن باز مرحوم ، الشیخ مفتی محمد بن صالح العثمین ،الشیخ مفتی عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین اور دارالافتاءکمیٹی سعودی عرب کے دیگر جید علما کے جوابات پر مشتمل ہے جس سے اس کتاب کی علمی وتحقیقی افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔کتاب کا ترجمہ مولانا جاراللہ ضیا نے کیا ہے۔ افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور اس کا مطالعہ ہر مسلمان خاتون کےلئے بے حد ضروری ہے

  • رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    وقت آ گیا ہے کہ …
    رشتہ کرنے سے پہلے ان نقاط پہ بات کی جائے ۔
    بیٹے یا بیٹی کی تعلیم کتنی ہے اور اسکے کیا عزائم ہیں ؟
    اگر بیٹا/ بیٹی نوکری کرتے ہیں تو کونسی ؟ کہاں ؟
    موڈ کے معاملات کیا ہیں ؟ پرجوش؟ شوخ گفتار ؟ کم گو؟
    طبعیت؛
    حساس ؟ ریزروڈ ؟ شکی ؟
    فطرت؛ ملنسار؟ ہنس مکھ؟ سڑیل ؟ مغرور؟ باعتماد ؟ احساس کمتری؟ متجسس؟
    شوق؟ کتابیں؟ فلمیں ؟ دوست
    دونوں کہاں رہیں گے ؟ علیحدہ ؟ کمبائنڈ فیملی سسٹم ؟
    اگر کوئی ایک غیر ملک میں رہتا ہے تو کیا دوسرا اس کے ساتھ جائے گا؟
    شادی کے بعد کیرئر اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے ؟
    اگر دونوں کماؤ ہیں تو کونسی ذمہ داری کس کی ہو گی ؟
    بچہ کب پیداکرنا چاہیں گے ؟ ( ہم کچھ لوگوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان علیحدگی اس بات پہ ہوئی کہ ایک فریق بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا )
    اگر بانجھ پن کے مسائل ہوئے تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا ؟
    اگر کسی ایک نے دوسرے کو دھوکا دیا تب کیا حل نکالا جائے گا ؟ ( غیر ازدواجی تعلقات ، بنا بتائے دوسری شادی، رقم کا استعمال )
    اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کے مسائل ہیں تو ان پہ فریقین کیسے بات کریں گے ؟
    کیا بیوی کو ہر بات میں شوہر کی اجازت درکار ہو گی؟
    فریقین کا اپنے اپنے خاندان کے ساتھ کس حد تک ربط ضبط ہو گا ؟
    اگر کسی ایک کو کوئی بیماری ہے تو کیا دوسرے فریق کو اس کے بارے میں علم ہے ؟ ( کچھ واقعات میں بیماری دوسرے فریق سے پوشیدہ رکھی جاتی ہے )
    والدین اور بہن بھائیوں کے مالی مسائل کی صورت میں شوہر کس حد تک ان کی مدد کرے گا ؟ سسرال کی توقعات کیا ہیں ؟
    کیافریقین جوائنٹ اکاؤنٹ کھولیں گے اور اس کو استعمال کرنے کا حق دونوں کا ہو گا ؟
    طلاق اور خلع کے معاملات کیسے حل کیے جائیں گے ؟
    شادی ایک معاہدہ ہے اور اس کا کنٹریکٹ ایسے ہی طے کریں جیسے کوئی بھی اور معاہدہ کرتے ہیں
    بیٹیوں کا مقدر خدا نے مرنا، قتل ہونا اور تباہ حال زندگی گزارنا نہیں لکھا_
    ایسا آپ کرتے ہیں
    ڈاکٹر طاہرہ کاظمی