ٹھٹھہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار راجہ قریشی)پرائیمیری ٹیچرز ایسوسی ایشن کامردم شماری کامعاوضہ نہ ملنے پراحتجاج
تفصیل کے مطابق پرائیمری ٹیچرز ایسوسی ایشن ٹھٹھہ کے زیر اہتمام مردم شماری کرنے والے اساتذہ کو مصاوضہ نہ ملنے آئی بی پاس ٹیچرز کو تنخواہ نہ ملنے کے خلاف مکلی پارک سے ڈی سی آفس تک احتجاجی ریلی اور دھرنا دیاگیا،احتجاج میں گسٹا اور پ ٹ الف کے نمائیندے غلام نبی خشک ، خیر محمد بروھی ، شریف تونیو غلام مصطفیٰ مینگل بھی شامل،اگر مطالبات پورے نا کئے گئے تو ضلع کے تمام اسکول بند کرکے بائیکاٹ کریں گے روڈ راستے بند کریں گے مظاہرین
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

ٹھٹھہ :پرائیمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کامردم شماری کامعاوضہ نہ ملنے پراحتجاج
-

ٹھٹھہ : ساکرو پولیس نے گٹکا سے لوڈ کارپکڑلی،مکلی میں 24 گھنٹوں میں 4 موٹرسائیکل چوری
ٹھٹھہ،باغی ٹی وی( نامہ نگار راجہ قریشی)ساکرو پولیس نے گٹکا سے لوڈ کارپکڑلی،مکلی میں 24 گھنٹوں میں 4 موٹرسائیکل چوری
تفصیل کے مطابق ایس ایچ او تھانہ ساکرو انسپیکٹر گل حسن کچھار بمعہ اسٹاف نے دوران گشت خفیہ اطلاع ملنے پر قریشی فارم ساکرو کے قریب کامیاب کارروائی کرکے مہران کار نمبر BPQ-096 میں گھٹکہ مٹیریل سپلائی کرنے کی کوشش کو ناکام بناکر 1 گھٹکہ مٹیریل سپلائر ملزم ایاز علی ولد علی محمد کنبھارکو گرفتار کرکے لیا۔ دوران کارروائی پولیس نے مہران کار کو حراست میں لیکر 180 کلو تمباکو پتی اور 200 پیکٹ گھٹکہ ماوا برآمد کرکے تھانہ ساکرو پر مقدمہ درج کردیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
ٹھٹھہ اور مکلی پر موٹر سائیکل چوری پر قابو نہ پایا جاسکا 24 گھنٹوں کے اندر مزید چار موٹر سائیکل چوری مکلی تھانے کی حدود میں درگاہ مخدوم آدم کے پاس مکلی کے رہائشی نوجوان غلام محمد کنبہار کی موٹر سائیکل نا معلوم افراد چوری کر کے لے گۓ دوسری جانب سول ہسپتال مکلی سے چھتو چنڈ کے رہائشی نظام عباسی کی موٹر سائیکل نامعلوم افراد چوری کرکے لے گۓ، اور مکلی ہاشم آباد کالونی کے رہائشی پولیس اہلکار غفار پلیجو کی موٹر سائیکل چوری کر کے لے گۓ اس طرف مکلی فٹ بال گراؤنڈ سے عبدالرحیم میر جتنے کی موٹر سائیکل نامعلوم افراد چوری کر کے لے گۓ دوسری جانب گورنمنٹ گرلز اسکول مکلی سے نا معلوم چور بجلی کی تاریں چور چوری کر کے لے گۓ ٹھٹھہ اور مکلی تھانوں پر رپورٹیں درج ہونے کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ٹھٹھہ اور مکلی کی عوام نے ایس ایس پی ٹھٹھہ سے مطالبہ کیا ہے فوراََملزمان کو کارروائی کر کے چوری ہونے والی موٹر سائکلیں واپس کرا کے مالکوں کو دی جائیں. -

زرتاج گل اورعثمان بزدارکو10 اپریل کو اینٹی کرپشن کا بلاوا
ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی)سابق وفاقی وزیر زرتاج گل اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اینٹی کرپشن نے طلب کر لیا۔
ترقیاتی منصوبوں پر کرپشن کرنے پر سابق MNA وسابق وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل اینٹی کرپشن کے ریڈار پر آ گئیں ،اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نےسابق MNA زرتاج گل سمیت انکے خاونداخوند ہمایوں ۔پرائیویٹ سیکرٹری محمود بھٹی اور دیگر الزام علیہان کو 10اپریل کو طلب کر لیا
تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان سے سابق MNA وسابق وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ذرتاج گل اور ان کے شوہر اخوند ہمایوں اور پرائیویٹ سیکرٹری محمود بھٹی سمیت دیگر الزام علیہان کو طلب کر لیاگیا مدعی اسفند جنید نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو موقف دیا کہ MNA زرتاج گل اور ان کے شوہراخوند ہمایوں نے ان کے دور میں ہونے والے تمام ترقیاتی کاموں کےلیے جاری ہونے والے ٹینڈرز پر 10 پرسنٹ کک بیکس لیتے رہے ہیں اور ڈیرہ غازی خان کی تمام یوسیز میں ٹف ٹائل، سیوریج، اور نالیوں کے کاموں میں کرپشن کی جس کی ٹیکنیکل ونگ سے تحقیقات کرائے جانے پر ناقص میٹریل سمیت کرپشن ثابت ہو جائے گی اسفند جیند نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو درخواست دی اور اینٹی کرپشن نے زرتاج گل اوران کے شوہر اخوند ہمایوں سمیت محمود بھٹی سمیت دیگر کو دس اپریل کو طلب کر لیا ہے اوراینٹی کرپشن نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام (3) سکیموں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔اینٹی کرپشن نے زرتاج گل، ہمایوں اخوند اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران کو 10 اپریل کو طلبی کا نوٹس جاری کر دیا۔

تونسہ میں بھارتی سے کھرڑ بزدار تک 70 کروڑ روپے کی لاگت سے 50 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر میں کرپشن کا معاملہ
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو 10 اپریل کو طلب کر لیا۔سابق وزیر اعلیٰ نے محکمہ ہائی وے کے افسران اور ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے کرپشن کی۔ تعمیر میں ناقص میٹریل کا استعمال سے سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان احمد بزدار نے بھارتی کیلئے کروڑوں روپے کی ٹف ٹائل کی منظوری دی تھی۔ٹف ٹائل میں ناقص میٹریل استعمال کیا گیا تھا، عثمان بزدار کی ذاتی رہائش گاہ پر کروڑوں روپے کی لاگت سے سرکاری فنڈ سے کثیر مقصدی ہال تعمیر کیا گیا۔ عثمان بزدار نے قبرستان کی چاردیواری کی تعمیر کیلئے چھ کروڑ کے ٹھیکے میں بھی کک بیکس وصول کی ۔ عثمان بزدار نے اپنے فرنٹ مین اور قریبی رشتہ دار ڈاکٹر اعجاز لغاری کو ٹھیکوں کی مد میں کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا۔ -

میں ہوں ناں
میں ہوں ناں
تحریر : سیدسخاوت الوری
میں نے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان کو بنتے اور بگڑتے دیکھا ہے۔۔۔۔ پہلی بار جوش تھا، جذبہ تھا، خوشی تھی کہ ہم ایک ایسے اسلامی وطن کے مالک ہیں، جہاں اللہ تبارک تعالی کا نازل کردہ آفاقی نظام نافذ ہوگا۔ حضور پاک صل اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر سنت کے مطابق عمل ہوگا۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہو گی ا ور کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔ اسی اسلامی نشاط ثانیہ کی سوچ میں مسلمانان ہند نے جان و مال، عزت و آبرو جہتی کہ اپنے بزرگوں کی قبروں تک کو غیر مسلموں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دیار پاک کی راہ لی ۔ دوسری بار اسلامی تعلیمات سے منحرف سیاستدانوں کی خود غرضی سے مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قت لعام، اقتدار کے بھوکوں کا دشمنان ملک وملت کی گود میں بیٹھ کر وطن عزیز کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر دو لخت کر دینا تھا، جس پر آج بھی شرمندگی ہے۔ اور آج قومی سیاسی رہنمائوں کی مفادات سے بھر پور قیادت ،،ایڈ یٹ ہے، لیکن اپنا ہے، کی سیاست، اشرافیہ کی مبینہ کرپشن کی کہانیاں، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر قومی خزانے کی لوٹ مار پر مبنی مضامین و پروگرامز میں کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات سن اور پڑھ کر میں اپنی عمر کے 87 اور وطن عزیز کی75 سالہ قومی زندگی کے چوراہے پر کھڑا سوچ رہا ہوں کہ یا الہی صراط مستقیم کونسا ہے۔ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو عقل کام نہیں کرتی، بولنے کی جرات رندانہ پیدا کرتا ہوں تو بولنے سے ڈر لگتا ہے اور پھر نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے۔ اس دوران پاکستانی سیاست کی یہ تاریخ رہی ہے کہ حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اقتدار اور اختلاف کے نشے میں ایسی ایسی بیوقوفیاں کیں کہ الامان الحفیظ۔ سیاسی اختلافات بڑھے تو غیر سیاسی قوت کو دعوت دی تو فوج اقتدار پر براجمان ہوئی، ایوب خان کے جانشین یحیی خان اور اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کی انا پسندی نے سقوط ڈھاکہ کی منظر کشی کر کے پاکستان کا نقشہ تبدیل اور تقریبا نوے ہزار قیدیوں کے حوالے سے اسلامی تاریخ میں انتہائی شرمناک باب کا اضافہ کر دیا۔ اس شرمناک حرکت کا ذمہ دار کون ہے ، تاریخ آج بھی خاموش ہے۔ جس کی وجہ سے ان تاریخی سیاسی کرداروں کے خونی اور سیاسی وارث آج بھی پاکستانی سیاست یا قیادت پر قابض ، بلکہ اپنے بزرگوں کی متعین کردہ راہ کے مسافر ہیں ۔ آج پھرانا کا مسئلہ ہے، افواہیں زدعام ہیں ، سیاست دان اور انکے کارکنان موجودہ سیاسی چپقلش کو انا یافنا سے تعبیر کرتے ہوئے ریموٹ کنٹرولڈ ہو گئے ہیں۔ قوت برداشت اور صبر کا مادہ جو سیاست کی بنیاد ہے ختم ہو چکا ہے۔ اِدھر ہم اُدھر تم کا منظر نامہ پیش منظر ہے۔ قومی ادارے نا قابل اعتبار گردانے یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑ وا تھو تھو کئے جارہے ہیں ۔ غیر یقینی کیفیت کی باعث معیشت کی زبوں حالی کی باعث عوام کی اکثریت ناصرف نان شبینہ سے محروم بلکہ ذہنی مریض بھی ہو گئی ہے، جس کی باعث دگرگوں ملکی وقومی حالات میں کسی بھی وقت معمولی سی تپش بھی اسے آتش فشاں بنا کر بین الاقوامی مسئلہ پیدا کرسکتی ہے ۔ بین الاقوامی مسلمہ اصول ہے کہ جب تمام راستے مسدود ہو جائیں اور جان بچانے یا بندگلی سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں آخری پیغام ( ایس اوالیس، زندگی بچانے کی اپیل )کیا جاتا ہے۔ تا کہ قرب و جوار میں موجود کسی طور کسی مدد کی صورت پیدا ہو سکے اور جس قدر ہو سکے جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے بچیں۔ یہی فعل طبی زبان میں آپریشن کہا جاتا ہے، جو بحالت مجبوری مریض کی جان بچانے کیلئے کیا جاتا ہے۔ مذکورہ اصول کی روشنی میں،میں(بارہ سالہ معصوم کا رکن تحریک قیام پاکستان و چشم دید گواہ ہجرت ) تمام محب وطن سیاسی قائدین سے دست بدست عرض گزار ہوں کہ وہ سوکنوں کی اس لڑائی سے کنارہ کش ہو کر گھر تباہ کرنے کی ناپاک سازش کو ناکام بنانے میں اپنا قومی اور اخلاقی فرض ادا کریں، نیز محب وطن مقتدر حلقوں اور صاحبان عقل و دانش سے بھی استدعاہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر قوم و ملک کے وسیع تر مفاد میں بابائے قوم کی طرح ایک اصولی مئوقف اتحاد تنظیم اور یقین محکم اختیار کر کے بچگانہ ذہنیت کے حامل مفاد پرست اور سیاسی نابالغوں کو یکسر مستر دکر کے اپنی قومی اور اسلامی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے قائد اعظم کے فرمان عالیشان ، پاکستان تا قیامت قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے، کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا فرمائیں، راہ میں حائل دشواریوں کو دور کرنے میں پیش آنے والی ہر رکاوٹ کو پوری قوت اور عوامی طاقت سے دور کیا جائے ۔ یادر کھیئے ، پاکستان ہے تو ہم ہیں، ورنہ آج آسٹریلیا نے پاکستانی کرپٹ مافیا کے داخلے پر پابندی لگائی ہے، خاکم بدہن کل ہم سب کتوں کی طرح مارے مارے پھر رہے ہونگے اور کوئی ہمیں پہچاننے یا قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ بہر حال یہ میری ذاتی مخلصانہ رائے ہے، جس میں حب الوطنی کے علاوہ نا کوئی چورن ہے اور نا ہی کسی کی مخالفت یا موافقت، کیونکہ ان ہی سیاستدانوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہور کو ووٹ ڈالنے کے علاوہ تمام حقوق سے محروم کر کے، جمہوریت بہترین انتقام ہے، کا نعرہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں اگر مقتدرہ حلقے انا کو دفن کر کے عہد یقینی فرمائیں کہ میری تحریری تجاویز پر من وعن عملدرآمد ہوگا تو پوری ذمہ داری سے تحریری وعدہ کرتا ہوں کہ ملک اور قوم کی بقا ، سلامتی ، تمام قومی مسائل کے حل اور تعمیر وترقی کیلئے د ئیے گئے اہداف کی بروقت عدم تکمیل پر ہر مجوزہ سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں۔ صرف تین ماہ کے عرصے میں آثار نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ ان شا اللہ ۔۔۔۔۔ یادر ہے، تاریخ کے دانت نہیں ہوتے لیکن یہ کاٹتی بہت زور سے ہے۔

-

ٹھٹھہ:درگاہ حضرت عبداللہ شاہ اصحابی کے تعمیراتی کام میں ناقص مٹیریل کا استعمال
ٹھٹھہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار راجہ قریشی)مکلی کی تاریخی درگاہ حضرت عبداللہ شاہ اصحابی کے تعمیراتی کام میں ناقص مٹیریل استعمال کی خبریں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر چلنے اور عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کی نشاندھی پر ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ غلام فاروق سومرو نے نوٹس لیتے ہوۓ اسسٹنٹ کمشنر ٹھٹھہ انیس احمد عباسی ،کو خصوصی ٹھٹھہ کے تاریخی درگاہ پر تعمیراتی کام کا جائزہ لینے کے احکامات جاری کردۓ جس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر انیس احمد عباسی اسسٹنٹ مختیار کار ٹھٹھہ عبدالعزیز میمن کے ساتھ مکلی کے تاریخی درگاہ حضرت عبداللہ شاہ اصحابی پر پہنچ کر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا انجینئر ٹھیکیدار اقبال سیال سے کام بابت تفصیلات معلوم کیں، درگاہ پر چلنے والے کام میں ناقص مٹیریل ناکارہ مٹی ریتی کم قیمت والا سیمنٹ استعمال کرنے پر فوری کام بند کرا دیا اور انجینئر ٹھیکیدار اقبال سیال ٹھیکیدار شفیع محمد کو آج رکارڈر کے ساتھ آفس طلب کر لیا اسسٹنٹ کمشنر نے درگاہ پر حاضری دی.
-

اوکاڑہ :شیرگڑھ،غیرت کے نام پرشوہر نے بیوی اور ساس کوقتل کردیا
اوکاڑہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگارملک ظفر)اوکاڑہ :شیرگڑھ،غیرت کے نام پر خاوند نے بیوی اور ساس کوقتل کردیا
تفصیل کے مطابق شیرگڑھ کے نواحی قصبہ میں خاوند نے غیرت کے نام پر بیوی اور ساس کو فائرنگ کر کے قتل کردیاڈی پی او اوکاڑہ کا نوٹس ،
شیرگڑھ کے نواحی گاؤں چک نمبر23 ڈی میں ارشد علی بھٹی نے کھیتوں میں کام کرتی ہوئی بیوی عابدہ جبکہ گھر میں گھس کر اپنی ساس عشراں بی بی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ملزم ماں بیٹی کے کردار پر شک کرتا تھا اطلاع ملنے پر اے ایس پی منزہ کرامت پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئیں تھانہ شیر گڑھ پولیس کی نگرانی میں ریسکیو ٹیموں نے پوسٹمارٹم کیلئے لاشیں اسپتال منتقل کردی ہیں پولیس نے قانونی کاروائی کا آغاز کردیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا- -

اوکاڑہ :ایک اور مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈکیت ہلاک
اوکاڑہ باغی ٹی وی (نامہ نگار ملک ظفر )تھانہ صدر کی حدود 22 جی ڈی کے قریب پولیس اور ڈاکووں کے مابین کراس فائرنگ کا واقعہ
1 نامعلوم ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 2 فرار، 3 کس نامعلوم ڈاکو 22 جی ڈی پل پر ناکہ لگا کر لوٹ مار کر رہے تھے کہ پولیس پارٹی پہنچ گئی،ڈاکوؤں نے پولیس کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیسترجمان کے مطابق پولیس نے بھی حق حفاظت خود اختیاری کے تحت جوابی فائرنگ کی،فائرنگ کے نتیجہ میں 1نامعلوم ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک جبکہ 2 فرار ہو گئے،ہلاک ڈاکو کی تاحال شناخت نہ ہو سکی. جائے وقوعہ سے ناجائز اسلحہ برآمد۔ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا فرار ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لئے سرچ آپریشن جاری۔

یاد رہے 30 مارچ کوبھی تھانہ حجرہ شاہ مقیم کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے میں 4 ڈاکو ہلاک ہوگئے تھے
پولیس کے مطابق اوکاڑہ کے تھانہ حجرہ شاہ مقیم کی حدود میں ڈاکو ناکہ لگا کر شہریوں سے لوٹ مار کررہے تھے کہ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ڈاکوؤں نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ کردی، فائرنگ کے دوران 4 ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے جبکہ 4 ڈاکو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے. -

بلوچستان سے ایرانی پیڑول اور ڈیزل کی اسمگلنگ عروج پر ہے،آئے روز حادثات
بلوچستان سے ایرانی پیڑول اور ڈیزل کی اسمگلنگ عروج پر ہے، اسمگل شدہ تیل کی حکام کی ملی بھگت سے سندھ اور پنجاب تک ترسیل کی جارہی ہے، ایرانی تیل سے لدی گاڑیوں اور مسافر بسوں کے باعث آئے روز حادثات بھی پیش آتے ہیں۔
کوئٹہ سیمت ملک بھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھ جانے کے بعد ہمسایہ ملک ایران سے سستا ایرانی پیڑول بڑی مقدار میں بلوچستان سندھ اور پنجاب میں سمگل کیا جارہا ہے۔ڈیرہ غازیخان ایرانی پٹرول و ڈیزل کاحب بنتاجارہاہے،غیرقانونی ٹرکوں الٹریشن کرکے برے ٹینک بناکر ان کے اوپر ٹرک کی باڈی کی خالی چادر لگادی جاتی ہے جو بظاہر ٹرک نظر آتے لیکن ان میں خفیہ ٹینک بنے ہوتے ہیں ،جو ایرانی ڈیزل لاتے ہیں.
عارف حبیب لمیٹڈ ریسرچ کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اس اسمبگلنگ کے باعث پاکستان میں ڈیزل کی فروخت میں 43 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

مالیاتی امور کے ایک ماہر عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ٹرک انڈسٹری سے وابستہ بہت سے لوگوں کا رجحان ایرانی ڈیزل کی طرف ہوگیا ہے، جو کراچی کے مضافات میں آسانی سے دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومت ڈیزل پر ٹیکس وصول کرنے کی کوشش کرتی ہے تو پرائس ڈیلٹا اسمگلنگ کو فروغ دیتا ہے۔

اندرون بلوچستان دو سو روپے اور کوئٹہ میں دو سو بیس روپے میں اسمگل شدہ پیٹرول سرعام فروخت ہورہا ہے۔مسافر بسوں میں پیڑول اور ڈیزل کی ترسیل کے باعث کئی حادثات بھی قومی شاہراہوں پر پیش آچکے ہیں۔کوئٹہ میں صنعتیں نہ ہونے کے باعث بے روزگاری عام ہے، اس لئے ہر سڑک پر ایرانی پیٹرول فروخت ہورہا ہے۔
ایران سے تیل پاکستان کس طرح اسمگل کیا جاتا ہے
پنجگور اور دیگر سرحدی علاقوں سے سوراب، بیلہ میں قائم بڑے نجی ڈپو ایرانی تیل کے بڑے مراکز ہیں، جہاں سے مسافر بسوں اور گاڑیوں کی خفیہ ٹنکیوں میں بھر کر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل ملک بھر میں اسمگل کیا جارہا ہے۔ایک گمنام ڈیٹا ماہر نے حال ہی میں اس مسئلے پر ایک بہت ہی قابل اعتماد ٹویٹر تھریڈ لکھا۔انہوں نے اس تھریڈ میں کہا کہ، ”ڈیزل کی اسمگلنگ قانونی کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے، ٹیکسوں سے بچنے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بلوچستان میں منظم جرائم کو ہوا دینے اور سرحدی کنٹرول کے مؤثر اقدامات کے فقدان کے باعث جاری ہے۔“
اسمگلروں کا سب سے بڑا ذریعہ دریائے دشت کے راستے جیوانی کا سمندری راستہ ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے ڈیزل کو کنستروں یا ڈرموں میں بھر کر اسپیڈ بوٹس کے زریعے لایا جاتا ہے اور روزانہ لاکھوں روپے مالیت کا ڈیزل، پیٹرول، اسلحہ اور منشیات سے بھری ہزاروں کلشتیاں تقریباً پورے پاکستان کیلئے مال سپلائی کرتی ہیں۔
یہ تمام اسپیڈ بوٹس شہرک مسکنین اور سیستان صوبہ کے دیگر قریبی علاقوں سے آتی ہیں جو پاکستانی سرحد عبور کرنے کے بعد جیوانی تک پہنچنے کے لیے 15 سے 18 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہیں۔

جیوانی پہنچنے کے بعد تقریباً 4.7 کلومیٹر (گوگل کے مطابق) لمبا ساحل ہے، جو ڈیزل یا پٹرول اور اسمگل شدہ سامان کو اتارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں سیمنٹ کے ٹینک، اسٹوریج اور ہوٹلوں کا مناسب انتظام ہوتا ہے جہاں اسمگلنگ سے وابستہ روزانہ ہزاروں لوگ موجود ہوتے ہیں۔طویل ساحل پر کین سے ایندھن کو زیر زمین ٹینکوں میں ڈمپ کیا جاتا ہے، جہسں سے بعد میں اسے ٹویوٹا پک اپ اور کارگو ٹرکوں میں بھر دیا جاتا ہے۔ ان ٹرکوں کے اندر بھی خفیہ ٹینک موجود ہوتے ہیں اور انہیں مختلف سامان سے چھپایا جاتا ہے۔
یہ ٹرک گوادر پہنچتے ہیں جہاں نقل و حمل کے ذرائع تبدیل کئے جاتے ہیں۔
وہاں اسے نان کسٹم پیڈ (ایرانی) ٹویوٹا پک اپس میں ہائی وے پر منتقل کرنے کے لیے دوسرے کین میں بھرا جاتا ہے اور روزانہ ہزاروں گاڑیاں اس اسمگل شدہ سامان کو پورے بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں لے جاتی ہیں۔
یہاں عوام کے روزگار کا یہی واحد ذریعہ ہے، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس مافیا کو روکنے میں ناکام ہیں، جس کی وجہ بہت بڑے پیمانے پر کرپشن ، سردار اور اعلیٰ سرکاری اشرافیہ ہیں۔#Thread#Balochistan Diesel Mafia⚠️
(How it works)
Diesel smuggling continues to undermine legitimate business activities, evade taxes, and fuel organized crime in Balochistan among law enforcement agencies and the lack of effective border control measures.
(1/n) pic.twitter.com/4Ono2YWdwv— Ciphar 1337 (@Callsign_Ciphar) April 2, 2023
-

مغوی لڑکی کی اغوا کار سے شادی
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک ماہ قبل کراچی سے اغواءہونے والی لڑکی لاہور سے بازیاب ہو گئی، جہاں اس نے اپنے اغواءکار کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ ڈیلی ڈان کے مطابق لڑکی کی عمر 12،13سال بتائی گئی ہے، جو کراچی کی شاہ فیصل کالونی کی رہائشی ہے۔ 13فروری کو وہ لاپتہ ہوئی تھی۔
لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے ایف آئی آر میں عبداللہ نامی شخص کو نامزد کیا گیا تھا۔ پولیس نے پشاور اور لاہور میں چھاپے مارے اور لاہور سے لڑکی برآمد ہو گئی جس نے عبداللہ نامی ملزم کے ساتھ نکاح کر رکھا تھا۔ایس ایس پی کورنگی ساجد امیر سدوزئی کا دعویٰ ہے کہ لڑکی گھر سے اپنی مرضی سے بھاگی اور اپنی مرضی سے اس آدمی کے ساتھ نکاح کیا۔
پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ لڑکی اور عبداللہ کے شادی کے کاغذات کی تصدیق کرائی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کراچی کی لڑکی دعا زہرہ بھی اسی طرح گھر سے لاپتہ ہو گئی تھی اور بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے بھاگ کر لاہور چلی آئی تھی اور ایک لڑکے کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ -

فلپائن میں 6.6 شدت کا زلزلہ
منیلا (ویب نیوز) مشرقی فلپائن کے ساحل پر 6.6 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔ مقامی حکام نے آفٹر شاکس اور ممکنہ نقصان کی وارننگ دی ہے۔ خؒبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی جیولوجیکل سروے نے کہا ہے کہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق منگل کو رات 9:00 بجے لوزون کے مرکزی جزیرے سے قریب 120 کلومیٹر کے فاصلے پر آیا۔
چائنہ ڈیلی کے مطابق فلپائنی انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی نے بتایا کہ منگل کی شام مشرقی فلپائن میں 6.6 کی ابتدائی شدت کے ساتھ ایک آف شور زلزلہ آیا جس میں ابھی تک کسی مالی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سمر جزیرے اور لوزون جزیرے کے علاقے بیکول میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ فلپائن میں بحرالکاہل کے ‘رنگ آف فائر’ کے ساتھ واقع ہونے کی وجہ سے اکثر زلزلے کی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔