Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ٹھٹھہ : سجاول روڈ پرحادثہ ،10سالہ بچہ جاں بحق،ایک ہی خاندان کے 15 افراد زخمی

    ٹھٹھہ : سجاول روڈ پرحادثہ ،10سالہ بچہ جاں بحق،ایک ہی خاندان کے 15 افراد زخمی

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار راجہ قریشی) سجاول روڈ پرحادثہ ،10سالہ بچہ جاں بحق،ایک ہی خاندان کے 15 افراد زخمی
    تفصیل کے مطابق ٹھٹھہ سجاول روڈ پر برانچ موری کے قریب تیز رفتار ہائی روف ویگن الٹنے کے سبب دس سالہ بچہ جاں بحق ،عورتوں، بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 15 افراد زخمی،جانبحق ہونے والے 10 سالہ بچے کی پہچان ذیشان کے نام سے ہوئی اور زخمیوں میں مہرین، حلیماں، صنم، زر بانوں، کشف، مدیحہ و دیگر کو سول ہسپتال پہنچا دیا گیا جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے

  • ٹھٹھہ : ایم ڈی واٹر بورڈکا ورلڈ بینک وفد کے ہمراہ "کے فور انٹیک پوائنٹ” چلیا کا دورہ

    ٹھٹھہ : ایم ڈی واٹر بورڈکا ورلڈ بینک وفد کے ہمراہ "کے فور انٹیک پوائنٹ” چلیا کا دورہ

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار راجہ قریشی)ایم ڈی واٹر بورڈکا ورلڈ بینک وفد کے ہمراہ "کے فور انٹیک پوائنٹ” چلیا کادورہ
    سی ای او / ایم ڈی واٹر بورڈ انجینئر سید صلاح الدین احمد نے ورلڈ بینک وفد کے ہمراہ کے فور انٹیک پوائنٹ چلیا ٹھٹھہ کا دورہ کرکے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم کے فور فیز ون منصوبے پر پیش رفت اور جاری کاموں کا تفصیلی معائنہ اور جائزہ لیا جبکہ دورے کے دوران واٹر بورڈ کے بلک واٹر سسٹم سمیت دھابیجی پمپنگ اسٹیشن اور پپری فلٹر پلانٹ کا بھی معائنہ کیا گیا، اس موقع پر ورلڈ بینک کے وفد میں کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ناجی بیناسین (Najy Benhassine) اور آپریشن مینیجر فار پاکستان گیلیس ڈروگیلیس (Gailius Draugelis) شامل تھے جبکہ دورے کے دوران سی او او واٹر بورڈ انجینئر اسداللہ خان، چیف انجینئر بلک سکندر زرداری، چیف انجینئر ای اینڈ ایم انتخاب احمد راجپوت، پی ڈی کے فور واپڈا عامر مغل سمیت واٹر بورڈ اور واپڈا کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، دورے کے موقع پر سی او او واٹر بورڈ انجینئر اسداللہ خان اور پی ڈی کے فور عامر مغل نے کے فور منصوبے جبکہ چیف انجینئر ای اینڈ ایم نے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے متعلق ورلڈ بینک وفد کو تفصیلی بریفنگ دی، سی او او واٹر بورڈ انجینئر اسداللہ خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم کے فور فیز ون منصوبے کا بنیادی مقصد کراچی میں پانی کی ترسیل کے نظام کو مزید بہتر اور پائیدار بنانا ہے، کے فور منصوبہ فیز ون 260 ایم جی ڈی ٹھٹھہ اور ملیر اضلاع میں زیر تعمیر ہے، منصوبہ 100 کلومیٹر فاصلے سے دور یعنی کینجھر جھیل ٹھٹھہ سے تین آبی ذخائر (ریزروائر) کی مدد سے کراچی کو پانی فراہم کیا جاسکے گا، پی ڈی کے فور واپڈا عامر مغل نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کے فور منصوبے کے تحت 650 ایم جی ڈی کا اسٹریکچر تعمیر ہورہا ہے اور 650 ایم جی ڈی کا گریوٹی چینل کینجھر پمپنگ کمپلیکس تک بنانا ہے، 260 ایم جی ڈی کے فور منصوبے کے تحت تین آبی ذخائر (ریزروائر) اور پمپنگ اسٹیشن نادرن بائی پاس این ای کے اولڈ اور پپری فلٹر پلانٹ کے پاس بنائے جائیں گے انکا کہنا تھا کہ فور منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے اس ضمن میں منصوبے کے جلد تکمیل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں انشاء اللہ منصوبہ اپنے مقررہ وقت میں مکمل ہوگا، اس موقع پر سی ای او واٹر بورڈ انجینئر سید صلاح الدین احمد کا کہنا تھا کہ کراچی شہر میں پانی کی کمی دور کرنے کیلئے کے فور نہایت اہم منصوبہ ہے، انکا کہنا تھا کے فور منصوبہ شہریوں کو پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل بنائے گا، سی ای او واٹر بورڈ نے واپڈا حکام کی جانب سے کے فور منصوبے پر تیز رفتاری سے جاری کاموں پر پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو اپنے مقررہ کردہ وقت کے مطابق تکمیل کیلئے واٹر بورڈ کی جانب سے واپڈا کے ساتھ بھرپور معاونت اور تعاون کیا جائے گا، انکا مزید کہنا تھا ہمیں پوری امید ہے واپڈا حکام اپنی پیشہ ورانہ اور ماہرانہ صلاحیتوں سے کے فور منصوبے کو اپنے مقررہ وقت میں مکمل کرینگے، واضح رہے کہ کے فور منصوبہ کراچی شہر کو کینجھر جھیل دریائے سندھ سے یومیہ 650 ملین گیلن پانی کی فراہمی کیلئے تشکیل دیا گیا ہے جبکہ کے فور منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل سے کراچی شہر کو 260 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جاسکے گا، وفاقی حکومت نے اِس منصوبے کے پہلے مرحلے کی تعمیر کی ذمہ داری واپڈا کے سپرد کی ہے۔

  • ٹھٹھہ :آج نگرایکشن کمیٹی کے زیرانتظام ،نامکمل دولہ دریا خان پارک کیخلاف، سکولوں کے طلباء اور شہری احتجاج کریں گے

    ٹھٹھہ :آج نگرایکشن کمیٹی کے زیرانتظام ،نامکمل دولہ دریا خان پارک کیخلاف، سکولوں کے طلباء اور شہری احتجاج کریں گے

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار راجہ قریشی )آج نگرایکشن کمیٹی کے زیرانتظام ،نامکمل دولہ دریا خان پارک کیخلاف، سکولوں کے طلباء اور شہری احتجاج کریں گے
    تفصیل کے مطابق آج نگر ایکشن کیمیٹی ٹھٹھہ کے جانب سے کامریڈ عبدالرزاق خشک اور منور صابرو کی سرپرستی میں ٹھٹھہ کے مختلف سرکاری اور نجی اسکول کےطلباء اور شہریوں اور بچوں کے جانب سے نامکمل چھوڑا گیا کرڑوں کی مالیت کی اسکیم دولہ دریا خان پبلک پارک اور ثقافتی سر گرمیاں آدھے میں تعمیر شدہ بلڈنگ کے آگے اعلانیہ مظاہرے میں سخت احتجاج کرتے ہوے مطالبا کرتے ہوۓ کہا پارک اور کمپلیکس کی تعمیر کے نام پر کروڑوں روپیوں کی کرپشن کرنے والے سابقہ وزیر ثقافت سسی پلیجو اور اس کے شوہر سہیل کلہوڑو سابقہ ایم پی اے غلام قادر پلیجو کیخلاف احتجاج ہوگااور اسکیم میں غیر قانونی طریقے سے ایجوکیشن ورکس کے انجنئیر کو جلد گرفتار کرکے اس کا احتساب کرنے کے ساتھ پبلک پارک کے تعمیر کا کام شروع نہ کیا تو اب بلاول ہاؤس کراچی کے آگے بھی کچھ دنوں میں احتجاج کرینگے.

  • کراچی دہشت گردی: ملتان کا رینجرز سب انسپکٹر اور لاڑکانہ کا پولیس ہیڈ کانسٹیبل بھی شہید

    کراچی دہشت گردی: ملتان کا رینجرز سب انسپکٹر اور لاڑکانہ کا پولیس ہیڈ کانسٹیبل بھی شہید

    کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگرد حملے میں رینجرز سب انسپکٹر سمیت پولیس ہیڈ کانسٹیبل شہید ہوگئے جبکہ 6 رینجرز اہلکار زخمی ہوگئے۔
    رینجرز کے ترجمان کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملہ آور دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران رینجرز کا ایک سب انسپکٹر تیمور شہید جبکہ 6 اہلکار زخمی ہوئے۔ترجمان کے مطابق دہشتگردوں سے مقابلے میں شہید ہونے والے رینجرز سب انسپکٹر کا تعلق ملتان سے تھا۔رینجرز ترجمان کے مطابق دہشتگردوں سے مقابلے میں زخمی ہونے والے 6 رینجرز اہلکاروں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے، رینجرز اور پولیس کے تمام زخمیوں کو کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
    کراچی پولیس آفس پر دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس ہیڈ کانسٹیبل غلام عباس کا تعلق لاڑکانہ سے ہے اور وہ ٹینک چوک کے رہائشی تھے۔
    شہید غلام عباس نے 2011 میں سندھ پولیس میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، ترقی کر کے ہیڈ کانسٹیبل بنے،کراچی پولیس آفس پر حملے کے وقت ہیڈ کانسٹیبل غلام عباس ڈیوٹی پر مامور تھے اور دہشتگرد حملے میں شہید ہوئے، انہوں نے لواحقین میں 3 بیٹوں اور ایک بیٹی سمیت بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔
    کراچی پولیس آفیس پر حملے میں کے پی او کا سوئیپر اجمل بھی شہید ہوا۔
    واضح رہے کہ کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا تھا۔

  • ہلاک دہشتگردوں سے 2 خودکش جیکٹس، 8 دستی بم اور 3 گرنیڈ لانچر ملے، بم ڈسپوزل اسکواڈ

    ہلاک دہشتگردوں سے 2 خودکش جیکٹس، 8 دستی بم اور 3 گرنیڈ لانچر ملے، بم ڈسپوزل اسکواڈ

    کراچی – بم ڈسپوزل اسکواڈ(بی ڈی ایس) نے کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے کی رپورٹ مرتب کرلی۔
    جمعہ کی شام کو کراچی پولیس آفس پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے جسم پر نصب 2 خودکش جیکٹس، 8 دستی بم اور 3 گرنیڈ لانچر ملے ہیں۔
    رپورٹ کے مطابق دستی بم ناکارہ حالت میں ملے، ممکنہ طور پر دہشت گردوں کی جانب سے پھینکےگئے دستی بم پھٹ نہیں سکے، دہشت گردوں سے برآمد خودکش جیکٹس 8 سے 10 کلو وزنی تھیں۔
    کراچی پولیس آفس پر حملہ، پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید، 3 دہشتگرد ہلاک،بی ڈی ایس رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمارت کے گراؤنڈ فلور سے چوتھے فلور تک سرچنگ کی گئی، خودکش جیکٹس میکینیکل طرز پر بنائی گئی تھیں،جیکٹس میں الیکٹرونک سسٹم نہیں تھا
    رپورٹ میں بتایا گیا کہ خودکش جیکٹس ڈیٹونیٹرپن اندازمیں تیار تھیں۔

  • کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنیوالے 2 دہشتگردوں کی شناخت ہوگئی

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنیوالے 2 دہشتگردوں کی شناخت ہوگئی

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی۔
    جمعہ کو کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔
    نجی ٹی وی سے گفتگو میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ مقدس حیدر نے بتایا کہ حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ایک دہشتگردچوتھی منزل پر اور 2 چھت پر ہلاک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک نے خود کو اڑایا۔ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو مبینہ دہشت گردوں کی شناخت کفایت اللہ اور زالا نور کے نام سے کی گئی ہے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکہ کرنے والا دہشت گرد زالا نور ، شمالی وزیر ستان سے تعلق رکھتا تھا جبکہ سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مارا گیا دہشت گرد کفایت اللہ لکی مروت کا رہائشی تھا،تیسرے دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

  • قصور: ڈی پی او کی مختلف مقامات پر کھلی کچہریاں

    قصور: ڈی پی او کی مختلف مقامات پر کھلی کچہریاں

    قصور،باغی ٹی وی (نامہ نگار طارق نوید سندھو )سے ڈی پی اوقصورطارق عزیز سندھو نے جمعہ کے روز دو مختلف مقامات پر کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا، شہریوں کے مسائل سنے اور انکے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔تفصیلات کے مطابق ڈی پی اوقصور نے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے اور سائلین کی داد رسی کیلئے کھلی کچہریوں کا آغاز کیا ہوا ہے اس سلسلہ میں انہوں نے تھانہ اے ڈویژن کے چوکی پرانا لاری اڈا میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، شہریوں کے مسائل اور ان کے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کیے،ڈی پی او قصور نے سنگین نوعیت مقدمات کے مدعیان سے ملاقات کی اور مدعیان کے سامنے انکے تفتیشی افسران سے ملزمان کی گرفتاری اور مال مسروقہ کی برآمد گی کے سلسلہ میں کی جانیوالی کوششوں کے متعلق پوچھ گچھ کی،اس موقع پر ڈی پی اوقصور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیری حربے ہرگز استعمال نہیں کیے جائیں گے،پولیس افسران خدمت خلق کے جذبے کے تحت مظلوموں کی داد رسی کریں اور انکی دعائیں لیں۔ڈی پی اوقصور نے جامع مسجد غوثیہ پرانا لاری اڈا میں جمعہ کی نماز ادا کی، نماز جمعہ کے دوران بھی شہریوں کے مسائل سنے اور انکے حل کیلئے موقع پر احکامات جار ی کیے، ڈی پی اوقصور نے مسجد میں شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ لوگوں کے خادم ہیں اور آپکی خدمت کیلئے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، ہم سب کو ملکر کریمنلز کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہونا ہو گا، انشااللہ عوام کے تعاون سے کسی کو شہر کا امن خراب نہیں کرنے دیں گے اور ہر صورت شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی یعقوب اعوان، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام، سول سوسائٹی کے افراد، تاجروں اور شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی.

  • دہشتگرد قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، بلاول بھٹو زرداری

    دہشتگرد قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، بلاول بھٹو زرداری

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ دہشتگرد قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
    کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر ہونے والےہرحملے سےآہنی ہاتھوں سے نمٹاجائےگا۔
    انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں حصہ لینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ ملک دشمن عناصر کسی صورت اپنے مقصدمیں کامیاب نہیں ہوں گے۔
    خیال رہے کہ کراچی میں شارع فیصل پر پولیس چیف کے دفتر پر حملے کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جب کہ آئی جی سندھ نے آپریشن کے دوران دو دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
    ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کے مطابق کم از کم6 سے 10دہشتگرد کے پی او عمارت میں موجود ہیں ،ابتدائی اطلاع ہے کہ دہشتگرد عقبی راستے سے داخل ہوئے، کوشش ہے جلد از جلد دہشتگردوں کو گرفتار کیا جائے ۔
    جابحق افراد کی شناخت 35 سالہ اجمل مسیح کے نام سے ہوئی ،
    50 سالہ پولیس کانسٹیبل غلام عباس بھی جابحق ،35 سالہ رینجرز انسپکٹر عبد الرحیم زخمی ، 50 سالہ پولیس کانسٹیبل عبدالطیف بھی زخمی ، 35 سالہ رینجرز اہلکار عمران بھی زخمی ، 22 سالہ ایدھی رضاکار ساجد بھی زخمی ،


    کمپاونڈ کے اندر سے ایک دہشتگرد کی تصویر
    اس وقت کراچی کے تمام پولیس اسٹیشن اور دیگر حساس علاقوں اور عمارتوں کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے،کراچی کے تھانوں کے گیٹ پر سخت پہرہ لگایا گیا ہے،بعض تھانوں کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں،آنے والوں کو پوچھ گچھ کے بعد جانے کی اجازت دی جا رہی ہے
    ترجمان اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے مطابق کمانڈوز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ،چوتھا فلور کلیئر قرار،دہشت گرد عمارت کی چھت پر موجود،ایس ایس یو کے اسنائپرز اطراف میں تعینات،ایس ایس یو کمانڈوز زخمی اہلکاروں کو عمارت سے باہر نکال رہے ہیں

  • نواز شریف کا پرویز الٰہی کی آڈیو لیکس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل بھیجنےکا مطالبہ

    نواز شریف کا پرویز الٰہی کی آڈیو لیکس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل بھیجنےکا مطالبہ

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری سے گفتگو کی آڈیو لیکس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجنے کا مطالبہ کر دیا۔
    نواز شریف کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی جو آڈیو لیکس سامنےآئی ہیں وہ انتہائی سنگین ہیں، اعلیٰ عدالت کے جج کے بارے میں اس سے زیادہ سنگین باتیں کیا ہو سکتی ہیں؟ یہ معاملہ بھی سپریم جوڈیشل کونسل کو نہیں بھیجنا تو پھر کیا کرنا ہے؟
    قائد مسلم لیگ ن کا کہنا تھا اگر ان کا نام نہیں بھیجنا تو میرا نام بھیج دیں، پہلے بھی مجھ پر اتنے الزامات لگائے گئے ہیں ایک نیا الزام بھی لگ جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔


    سابق وزیراعظم نے کہا کہ پرویز الٰہی کی جو آڈیو لیک سامنے آئی ہے اس کا ہر سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔


    یاد رہے کہ گزشتہ روز چوہدری پرویز الٰہی کی صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے ساتھ گفتگو کی ایک مبینہ آڈیو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کے دوران لیک کی تھی۔
    چوہدری پرویز الٰہی کا اپنی آڈیو کے حوالے سے کہنا ہے کہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جبکہ عابد زبیری کا کہنا ہے کہ آڈیو کو ایڈٹ کر کے غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی، توڑ مروڑ کر آڈیو جاری کرنے والے جھوٹے اور بدنیت ہیں۔
    دوسری جانب وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کی تحقیقات کی اجازت دے دی ہے۔

  • 5منزلہ عمارت کے 3فلور دہشت گردوں سے کلیئر کرالئے،وزیراعلیٰ

    5منزلہ عمارت کے 3فلور دہشت گردوں سے کلیئر کرالئے،وزیراعلیٰ

    کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں پولیس چیف آفس میں دہشت گردوں کے حملے سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ پولیس چیف آفس کی 5منزلہ عمارت کے 3فلورز کو پولیس اوررینجرز نےکلیئر کرالیا ہے
    نجی ٹی وی سے گفتگو میں وزیراعلیٰ نےکہا کہ دہشت گردوں نے 7 بج کر 10 منٹ پر حملہ کیا عمارت کی چھت پر بھی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔انہوں نےکہا کہ وہ اس وقت سینٹرل پولیس آفس میں ہیں اور صورت حال کو خود مانیٹر کررہے ہیں، کوشش ہے کم سے کم نقصان ہو
    شارع فیصل پر کراچی پولیس کے ہیڈ آفس پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے ۔آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے مطابق جوابی کارروائی میں 2 دہشت گرد مارے گئے۔
    حملے میں پولیس اہلکار سمیت 2افراد جاں بحق اور چار زخمی بھی ہوئے ،جاں بحق ہونے والوں میں 50 سالہ پولیس کانسٹیبل غلام عباس اور 35 سالہ اجمل مسیح شامل ہیں ۔ جبکہ زخمیوں کی میں 50 سالہ پولیس کانسٹیبل عبداللطیف ،35 سالہ رینجرز انسپکٹر عبدالرحیم،35 سالہ رینجرز اہلکار عمران اور 22 سالہ ایدھی رضاکار ساجد شامل ہیں
    شام 7 بج کر 10 منٹ پر دہشت گردوں نے پولیس چیف آفس پر اچانک حملہ کردیا جس پر پولیس کمانڈوز، رینجز اور پاک فوج کے دستے بھی کلیئرنس آپریشن کیلیے پہنچے۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جدید ہتھیاروں اور پولیس وردی میں ملبوس 8 دہشت گرد کے پی آفس میں داخل ہوئے، جن میں سے کچھ عقبی دروازے جبکہ کچھ مرکزی دروازے سے داخل ہوئے۔ مرکزی دروازے پر دہشت گردوں نے تعینات اہلکاروں پر شدید فائرنگ بھی کی۔
    پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکےبھی سنےگئے ہیں ۔ہیڈکوارٹرز کی لائٹس بندکردی گئی ہیں۔
    رینجرز اور پولیس نے پولیس آفس کو چاروں طرف سےگھیرے میں لے لیا ہے۔
    5 منزلہ عمارت کے 4 فلور دہشت گردوں سے خالی کرالئے گئے، دہش گرد چھت پر ہیں ،ایس ایس یو کے اسنائپرز اطراف میں تعینات کردیئے گئے ہیں، زخمیوں کو عمارت سے نکالا جارہا ہے
    ڈی آئی جی نے بتایا کہ دہشت گرد عمارت کی پہلی اور دوسری منزل پر موجود ہیں، پولیس کی مزید نفری کو طلب کیا گیا ہے، کے پی او میں اعلی افسران بھی موجود ہیں۔
    ترجمان رینجرزکے مطابق کراچی پولیس چیف آفس پر حملے کی اطلاع پر رینجرز کیو آر ایف نے جائے وقوعہ پہ پہنچ کر ایریا کا گھیراؤ کرلیا۔رینجرز نے پولیس کے ہمراہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔ابتدائی طور پر 8 سے 10 مسلح دہشت گردوں کی جانب سے کارروائی اور موجود گی کی اطلاع پر کاروائی عمل میں لائی گئی
    کے پی او میں پولیس اہلکار آفس کی چھت پرموجود ہیں اوردہشت گردوں کا مقابلہ کررہےہیں