ٹھٹھہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار راجہ قریشی )ٹھٹھہ کی میونسپل کمیٹی دیوالیہ ہوگئی ہے ، 2ماہ سے واٹرسپلائی میں گٹروں کاپانی سپلائی ہونے لگا
میونسپل کمیٹی کے ایڈمنسٹریٹر سکندرحیات بلوچ نے بدعنوانی کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ تقریبا دو مہینوںسے ، شکر الہی محلہ ، سونارا گالی اور آس پاس کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی بجائے واٹر سپلائی پائپوں سے گٹروں کا گندہ پانی آنا شروع ہوگیا ہے۔جس سے شہری بڑی اذیت میں مبتلا ہوچکے ہیں دوسری طرف شہریوں کو اس ہوشربا ء مہنگائی کے دور میں میونسپل کمیٹی کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے ہزاروں روپے مالیت کا پانی خریدنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ شہریوں کاکہنا ہے کہ اعلیٰ آفیسران تو سرکاری خرچ پر منرل واٹر پیتے ہیں لیکن ہم غریب عوام صاف پانی کی بوند بوند کوترس رہے ہیں جبکہ واٹرمافیاپینے کے پانی کا ایک کین 40 روپے میں فروخت کررہا ہے اور سوزوکی واٹر ٹینک 11 سو روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ شہریوں نے اعلی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ پینے کے پانی کے مسئلے کو فوری طور پر حل کریں اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جلد شروع کرائیں۔
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

ٹھٹھہ: میونسپل کمیٹی دیوالیہ ہوگئی ہے ، 2ماہ سے واٹرسپلائی میں گٹروں کا پانی ،شہری پریشان
-

ڈیرہ غازیخان : کالا شہر میں انڈس ہائی وے پر کار اور ٹریلر میں ٹکر،5 افراد موقع پرجاں بحق
ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی) کالا شہر میں انڈس ہائی وے پر کار اور ٹریلر میں ٹکر،5 افراد موقع پرجاں بحق
تفصیل کے مطابق ریسکیو ذرائع کا بتانا ہے کہ تونسہ روڈ پر کالاشہرکے قریب منور پٹرول سے ریسکیو 1122 ڈی جی خان کنٹرول روم کو کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک کار اور ٹرالر کا تصادم ہوا ہے جس میں 5 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ریسکیو 1122 کنٹرول روم نے بلا تاخیر جائے حادثہ کی طرف تین ایمبولینسزاور دو ریسکیو وہیکل روانہ کردی۔ان لوکیشن ہونے کے بعد سٹاف نے بتایا کہ ایک Alto car ( AEO-549) جو کہ ڈیرہ غازیخان آرہی تھی سامنے سے آتے ہوئے لوڈڈ ٹرالر(C-3155) جو کہ پشاور جا رہا تھا سے ٹکرا گئی۔ حادثہ میں کار میں موجود تمام افراد کی ڈیتھ ہوچکی ہے.
ڈیڈ باڈیز کو ریسکیو آپریشن کر کے نکال لیا گیا اور لواحقین کی استدعا پر انکے گھر دری ڈھولے والی شفٹ کر دیا گیا۔جاں بحق ہونے والوں میں طاہرولدپیربخش قوم سنجرانی عمر تقریباََ 27 سال،الیاس ولدبلال قوم دستی عمر تقریباََ 30 سال، زبیرولدعبدالرشید قوم چکرانی عمر تقریباََ 27 سال،عاصم ولدقاسم قوم گزروانی عمر تقریباََ 25 سال،ضیاء ولد سراج قوم گزروانی عمر تقریباََ 27 سال ،تمام جاں بحق ہونے والے دری ڈھولے والے کے رہائشی تھے- -

شیخوپورہ: سید جواد علی شاہ نیشنل پیس اینڈ کونسل کا ڈپٹی چیف ایڈمنسٹریٹر ضلع ننکانہ مقرر
شیخوپورہ،باغی ٹی وی(محمد طلال سے)سید جواد علی شاہ نیشنل پیس اینڈ کونسل کا ڈپٹی چیف ایڈمنسٹریٹر ضلع ننکانہ مقرر
تفصیل کے مطابق چیئرمین نیشنل پیس اینڈ جسٹس کونسل میاں عبدالوحیدتنظیم سازی کے سلسلہ میں پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول آزاد جموں وکشمیراورگلگت بلتستان میں امن قائم کرنے اورانصاف پرمبنی معاشرہ تشکیل دینے اورتمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پید اکرکے تمام مسالک کے درمیان اتحاد ویکجہتی کے سیمینار منعقد کرکے آگاہی دینے کے لیے سید جواد علی شاہ رضوی مشہدی کونیشنل پیس اینڈ کونسل کاڈپٹی چیف ایڈمنسٹریٹرڈسٹرکٹ ننکانہ صاحب مقرر کیا گیا،تاکہ حکومت پاکستان کی امن پالیسی کی بجاآوری ممکن ہوسکے،سید جواد علی شاہ رضوی مشہدی کونیشنل کونسل کاڈپٹی چیف ایڈمنسٹریٹر مقرر ہونے کی خوشی میں ان کے حلقہ احباب منڈی فیض آباد،شرقپور شریف اورضلع شیخوپورہ کے درجنوں افراد نے ان کو مبارکباد پیش کی اوران کونئی ذمہ داریاں ملنے پر ان کو سرانجام دینے کے لیے مستعدی اوردلجمعی،اخوت وروادری،اعتدال پسندی،برداشت وبردباری جیسی اعلی اقدار کے فروغ کے لیے کام کرنے کے حوالہ سے دعائیں دی گئیں۔ -

شیخوپورہ: آٹا کے بعد گھی بھی نایاب،ذخیرہ اندوزوں کی چاندی،انتظامیہ غائب
شیخوپورہ، باغی ٹی وی (محمد طلال سے) آٹا کے بعد گھی بھی نایاب،ذخیرہ اندوزوں کی چاندی،انتظامیہ غائب
شیخوپورہ میں گھی کوکنگ آئل اور آٹے کی قلت شدت اختیار کر گئی لوگ سستے آٹے کے حصول کیلئے یوٹیلٹی سٹور اور دیگر مقامات کا رخ کر رہے ہیں جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹرکوں پر 10 کلو آٹے کے رعایتی نرخوں پر تھیلے فروخت کیے جارہے ہیں۔جہاں لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں ،جس سے بزرگ شہریوں کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،دوسری طرف ذخیرہ اندوزوں نے مارکیٹ سے گھی بھی غائب کردیا ہے ،مارکیٹ میں دستیاب گھی من مانی قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے ،پرائس کنٹرول مجسٹریٹ قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ،پرائس کنٹرول مجسٹریٹ چند ایک چھوٹے دکانداروں کو چالان تو کردیتے ہیں لیکن بڑے سٹاکسٹ کی دکانوں یا گوداموں پر کوئی کارروائی نہیں کرتے ،عوامی وسماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے- -

بھارت میں قید پاکستانی ماہی گیروں پرظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے
ٹھٹھہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگار راجہ قریشی )بھارت سے رہا ہو کر کراچی آنے والے پاکستانی ماہی گیروں نے بھارتی جیلوں میں بدترین تشدد کیے جانے کا پول کھول دیا۔ پاکستانی اور مسلمان ہونے پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے۔ جیلوں میں قید ہندو قیدیوں کی خدمت پر مامور کیا جاتا۔ سارا سارا دن مشقت لے کر سوکھی روٹی اور بدبودار سالن دیا جاتا۔ رمضان میں تراویح یا نمازیں پڑھنا کڑا امتحان ہوتا۔ عید پر صاف کپڑے تک پہننے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
کراچی کے ایک اخبار روزنامہ امت کے مطابق واضح رہے کہ بھارتی جیلوں سے رہا ہونے والے 17 پاکستانی ماہی گیروں کو چند روز قبل واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔ ان میں غلطی سے بارڈر کراس کرنے والے 3 سویلین اور 12 ماہی گیر شامل تھے۔ ان بارہ ماہی گیروں میں سے غلام قادر، میر محمد، عثمان، محمد جمن، مقبول شاہ، اللہ بچایو، عالم، ساون، متھن، لالو ملاح کا تعلق ٹھٹھہ کے علاقوں سے ہے اور شبیر احمد، عبدالسلام اور محمد رفیق کا تعلق کراچی کی ماہی مچھر کالونی سے ہے۔
ان ماہی گیروں کو جمعرات کی دوپہر ایدھی فائونڈیشن کی گاڑی میں کراچی لایا گیا۔ ایدھی کنٹرول ٹاور پر ان کو فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے ایڈمنسٹریٹر زاہد بھٹی نے ریسیو کیا اور ادارے کی جانب سے 20 ہزار روپے فی کس امداد دی گئی۔ رہا ہو کر آنے والوں کے اہل خانہ، رشتہ دار، دوست احباب جو صبح سے منتظر تھے۔ اپنے پیاروں کے آنے پر ان سے لپٹ گئے۔ اس وقت انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔
رہا ہو کر آنے والے میر محمد نے زندہ سلامت واپس آنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں 24 مارچ 2017ء کو شاہ بندر ٹھٹھہ سے لانچ لے کر دیگر ماہی گیروں کے ساتھ بچوں کی روزی روٹی کے لیے نکلا تھا۔ میں خود لانچ کا ناخدا تھا۔ رات کے وقت پانی کی لہریں تیز ہونے پر بس غلطی ہو گئی اور غلطی کا پتا تب چلا جب سرچ لائٹوں والی بھارتی کوسٹ گارڈ کی اسپیڈو بوٹس نے گھیر لیا۔ دیگر اطراف کی لانچیں ادھر ادھر ہو گئیں۔ جبکہ ہماری لانچ کو اسلحہ کے زور پر گھیرے میں لے کر جہاز تک لے گئے اور وہاں اس طرح کا سلوک کیا گیا کہ گویا تربیت یافتہ دہشت گرد یا جاسوس ہوں۔ پاکستانیوں اور مسلمانوں سے نفرت کا اظہار پہلی رات کو ہی پتہ چل گیا۔
کئی روز تک سخت تشدد کر کے تفتیش کرتے رہے۔ ظلم کے تمام ہتھکنڈے استعمال کرکے پوچھا جاتا رہا کہ کس لیے بھارت میں آئے تھے۔ لاکھ بار کہا کہ غریب ماہی گیر ہیں۔ بچوں کی روٹی کے لیے شکار کرنے نکلے تھے۔ لیکن فارن ایکٹ اور غیر قانونی شکار کے علاوہ نہ جانے کون کون سے الزامات کے تحت مقدمہ کر کے جیلسی (JALSI) بجھ جیل میں بھیج دیا گیا۔ قید کے 6 برسوں میں جو سلوک کیا گیا۔ وہ ایک ایک لمحہ کس طرح گزارا۔ میں جانتا ہوں اور میرا اللہ تعالیٰ‘‘۔
میر محمد نے بتایا کہ بھارتی جیلوں میں مسلمان اور پاکستانی قیدیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے۔ رہا کرتے وقت جیل حکام اور واہگہ بارڈر تک لانے کے دوران بھارتی اہلکار کچھ بھی بتانے سے منع کرتے ہیں اور بلیک میل کرتے ہیں کہ تم ماہی گیر ہو۔ دوبارہ پکڑے گئے تو ساری کسر نکال دیں گے اور لاش ہی واپس جائے گی‘‘۔
ماہی گیر عبدالسلام نے کہا کہ ’’میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کروں گا کہ جو پاکستانی ماہی گیر بھارتی جیلوں میں قید ہیں، ان کو رہا کرایا جائے۔ ورنہ ظالم مودی سرکار ان کو جیلوں میں مار دے گی۔ ہمارا قصور اتنا نہیں ہوتا کہ فارن ایکٹ کے تحت تھوڑی بہت سزا دے کر واپس کر دیا جائے۔ بھارتی سمندری حدود میں جانے کا شوق نہیں۔ بلکہ کھلے سمندر میں چھوٹی لانچوں میں جدید آلات نہ ہونے پر بارڈر کا پتہ ہی نہیں چلتا۔
بھارتی جیلوں میں 10 سال کا عرصہ کاٹا ہے۔ جیل میں جانوروں جیسا سلوک ہوتا تھا۔ 10 سال کے دوران گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں کرایا گیا۔ دن بھر مشقت لی جاتی تھی۔ دوپہر اور شام کو دو دو سوکھی روٹیاں ملتی تھیں۔ پالک، دال یا کوئی سالن دیا جاتا۔ زیادہ تر سالن شام کو خراب ملتا تھا۔ اگر شکایت کرو تو تشدد کرتے تھے اور بھوکا پیاسا رکھتے تھے۔ پینے کے پانی گندا، بدبو اور بورنگ کا ہوتا تھا‘‘۔
ماہی گیر متھن جنت کا کہنا تھا کہ ’’پورے مہینے میں ایک صابن ملتا تھا کہ اس سے نہا لو یا کپڑے دھو لو۔ صبح سے رات تک بیرکوں کی صفائی کرنا روزانہ کا معمول تھا۔ بیرک میں ہندو قیدیوں کی خدمت کرانے پر رکھا جاتا تھا۔ جیل میں ہندو قیدیوں کے واش روم تک دھونا پاکستانی ماہی گیروں کی ذمہ داری تھی۔
6 سال کے دوران کئی بار حکام سے کہا گیا کہ پاکستان میں اہل خانہ سے بات کرا دو۔ مگر منع کر دیا جاتا۔ جب بھی پاک بھارت کشیدگی بڑھتی تو سارا غصہ ہم پاکستانی قیدیوں پر نکالا جاتا۔ بیرک میں چھپ کر نماز ادا کرتے تھے کہ گندگی کے کاموں پر زیادہ تر نماز پڑھنے والوں کو لگایا جاتا تھا۔ روزے کے لیے رات کی روٹی بطور سحری اور دوپہر کی روٹی افطاری کے لیے رکھتے تھے۔ ہماری ان حالات میں عید کیا ہوتی۔ عید کا دن بھی گندے میلے کپڑوں میں گزارتے۔ آئے روز سادے کپڑے میں ملبوس حکام آکر تفتیش کرتے تھے اور بعد میں تشدد کیا جاتا تھا‘‘۔
ماہی گیر شبیر احمد نے بتایا کہ 6 سال جیل کاٹی اور نوجوان ہونے کی وجہ سے اتنا ٹارچر کیا گیا کہ اب زندگی بھر ماہی گیر نہیں کروں گا۔ اس بار تو جان بچ گئی۔
ماہی گیر لالو ملاح کا کہنا ہے کہ ’’اگر جیل کے ماہی گیر بیمار ہو جاتے تو کہا جاتا کہ بہانہ کر رہا ہے اور مشقت بڑھا دی جاتی۔ ڈاکٹر کو نہیں بلواتے تھے۔ نہ دوائی دیتے تھے۔ وہاں قید ماہی گیر گردوں، دل، سانس، ہڈیوں، جوڑوں، سردرد اور ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ناقص خوراک، علاج نہ ہونے، نیند نہ کرنے دینے، مشقت زیادہ کرانے، صفائی نہ رکھنے دینے اور دیگر مسائل پر اکثر قیدی بیمار رہتے ہیں‘‘۔ -

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی گئی
اسلام آباد(باغی ٹی وی)وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) کے اجلاس نے پیرا سیٹا مول سمیت مزید 20 ادویات کی قیمت بڑھانے کی منظوری دے دی ۔ 18 نئی ادویات کی بھی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں کے تعین کی منظوری دی گئی ہے
ای سی سی اعلامیے کے مطابق پیراسیٹامول کی 500 ملی گرام (ایم جی) گولی کی قیمت 2.6 روپے اور پیراسیٹامول ایکسٹرا 500 ایم جی ٹیبلٹ کی قیمت 3.3 روپے مقرر کی گئی ہے دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ادویات کی قیمتیں بھارت سمیت دیگر پڑوسی ممالک کی نسبت کم ترین ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ای سی سی نے بجلی کے بڑے صارفین سے 76 ارب روپے وصول کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا، بجلی کے بڑے صارفین پر ایک روپیہ فی یونٹ سرچارج عائد ہوگا جس کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی عائد ہوگا۔
اس کے علاوہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے بجلی بل معاف کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 10 ارب 34 کروڑ کی گرانٹ منظور کرلی جب کہ اجلاس میں وزارت دفاع کے لیے 45 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔ -

ڈی جی خان :آرپی او کااردل روم ،8 کو سنشور اور سروس ضبطگی کی سزائیں
ڈی جی خان ،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹر)ریجنل پولیس آفیسر کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کا شوکاز نوٹسززکی سماعت کے سلسلہ میں پولیس لائنز ڈیرہ غازی خان میں اردل روم کا انعقاد۔ اختیارات کے ناجائزاستعمال, غفلت لاپرواہی اورناقص تفتیش پر 6 سب انسپکٹرز اور 2 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کوسنشور اور سروس ضبطگی کی سزائیں۔ پولیس افسران قانون کی عمل داری اور میرٹ پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
تفصیلات کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نےشوکاز نوٹسز کی سماعت کے سلسلہ میں پولیس لائنز ڈیرہ غازی خان میں اردل روم کا انعقاد کیا ۔ریجن کے تمام اضلاع سے افسران و اہلکاران اردل روم میں پیش ہوئے۔ آر پی او نے 50 شوکاز نوٹسز کی سماعت کرکے احکامات جاری کیئے۔ سماعت کے دوران تسلی بخش جواب پیش کرنے پر 35 شوکاز نوٹسز کو داخل دفتر کرنے جبکہ ناقص تفتیش، اختیارات کے ناجائز استعمال اور فرائض کی انجام دہی میں غفلت لاپرواہی برتنے پر 6 سب انسپکٹرز اور 2 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو سنشور اور سروس ضبطگی کی سزائیں اور 6 شوکاز نوٹسز میں انکوائری کرنے کے احکامات جاری کیئے ۔ریجنل پولیس آفیسر کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران اپنے پیشہ وارانہ امور کی ادائیگی ایمانداری ،دیانت داری اور فرض شناسی سے کریں۔ قانون کی عمل داری اور میرٹ پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ اختیار ات کاناجائز استعمال کرپشن اور فرائض میں غفلت و لاپرواہی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ۔ -

اپنی بہن،بیٹیوں کو وراثت کا حصہ جو اللہ کریم نے مقرر فرما دیا انہیں پورا پورا دیا جائے- عبدالقدیر اعوان
ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی (نامہ نگار) وراثت کا قانون وطن عزیز میں عین اسلامی ہے۔اپنی بہن،بیٹیوں کا حصہ جو اللہ کریم نے مقرر فرما دیا انہیں پورا پورا دیا جائے۔اس میں کسی طرح کی بھی زیادتی قابل گرفت ہے۔سابقہ کی گئی غلطیوں سے تہہ دل سے شرمندہ ہو کر معافی طلب کی جائے اور اپنی اصلاح کی جائے اور اللہ کریم سے امید رکھی جائے کہ وہ غفور الرحیم ہے معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ وراثت میں مال کی تقسیم کے حوالے سے بہت احتیاط کی جائے کہ اللہ کریم نے قانون وراثت کے اصول و ضوابط خود مقرر فرمائے ہیں اس لیے انہی قوانین کے تحت وراثت کی تقسیم کی جائے اگر وصیت کرنی ہے تو پھر مال کے تیسرے حصے کی وصیت کی جا سکتی ہے۔نیت اللہ کریم کے احکامات کی تعمیل مقصود ہونی چاہیے۔ بندہ مومن کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں ہر عمل کو خیر سے سر انجام دینے کی کوشش کرے اور اپنے دنیاوی امور کو سر انجام دینے میں وقت کو ضائع نہ کرے کہ فرائض رہ جائیں اور باقی دنیا کے سارے معاملات چلتے رہیں۔ساری سستی صرف دینی امور پر ہی رہے یہ درست نہیں ہے۔عبادات ہماری ضرورت ہیں اور بندگی کی اہلیت کے لیے ترقی کا سبب ہیں حقائق سے روشناس کراتی ہیں۔جہاں جو حکم ہے اس پر عمل کرنا ذاتی طور پر بھی اور مجموعی طور پر بھی فائدہ دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ہر کام،نیت اور مقصد سب روز محشر ہمارے سامنے لایا جائے گا اگر ہمارے اعمال صالح ہوں گے تو اجر و ثواب کا سبب ہوں گے اگر تجاوز ہو گا تو سزا کا سبب ہوں گے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں نیت سے لے کر عمل تک احکامات دین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔امین -

کراچی سمیت کئی شہروں کو میٹھاپانی دینے والی کینجھر جھیل میں انڈسٹری کا زہریلا پانی چھوڑ دیاگیا
ٹھٹھہ،باغی ٹی وی( نامہ نگار راجہ قریشی)کراچی سمیت کئی شہروں کو میٹھاپانی دینے والی کینجھر جھیل میں انڈسٹری کا زہریلا پانی چھوڑ دیاگیا
تفصیلات کے مطابق کینجھر جھیل کا پانی جو کراچی سمیت دیگر علاقوں میں پینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس میں کچھ عرصہ سے کوٹری اور نوری آباد ملز ایریاز کا گندہ کیمیکلز والا زہریلا پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ کینجھر جھیل جو کراچی سمیت لاکھوں لوگوں کے لئے پینے کے صاف پانی کا واحد ذریعہ ہے یہ ایک رامسر سائیٹ ویٹ لینڈ اور سینکچری ہے کا درجہ رکھتی ہے جہاں بہت سے آب حیاتیات اور ہر قسم کے جاندار پائے جاتے ہیں یہ ہزاروں ماہیگیروں کے روزگار کا واحد ذریعہ ہے کینجھر کنزرویشن نیٹ ورک کے رہنماء انیس ہیلایو، ارشاد عمر گندرو، عبد الرؤف پالاری ابراہیم گندرو، غلام نبی گندرو، سید شیر علی شاہ کاظمی، سید بچل شاہ کاظمی، عثمان چوہان، ساجد علی گندرو، عبد الغفور گندرو، مرتضیٰ گندرو، ظفر اقبال جاکھرو، سلیم گندرو اور دیگر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ کینجھر جھیل میں گزشتہ کچھ عرصے سے نوری آباد اور کوٹری کے صنعتی ایریاز کا زہریلا گندا پانی مسلسل کینجھر جھیل میں آ رہا ہے جس کے پینے سے سینکڑوں لوگ پیٹ اور جلدی امراض و دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلاء ہو چکے ہیں آب جیوت اور آب حیاتیات یعنی مچھلیوں اور قدرتی گھانس جو آب جیوت کے لئے ایک قدرتی غذا بھی ہے جسے ہاتھوں سے تباہ کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ زہریلا اور بدبو دار پانی کینجھر جھیل اور لاکھوں انسانوں اور آب حیاتیات کے لئے میٹھا زہر ہے انہوں نے حکومت سندھ سمیت متعلقہ اداروں سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کینجھر جھیل میں دو اطراف سے آنے والے زہریلے بدبو دار پانی کو فوری طور پر روکا جائے کینجھر جھیل سمیت لاکھوں افراد کی زندگیوں اور آب حیاتیات کو بچایا جائے بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائے گا۔ -

ٹھٹھہ :ایس ایس پی کی ضلع بھر کے تمام پولیس افسران کے ساتھ اپنے آفس میں میٹنگ
ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار راجہ قریشی)ایس ایس پی کی ضلع بھر کے تمام پولیس افسران کے ساتھ اپنے آفس میں میٹنگ
ایس ایس پی ٹھٹھہ عدیل حسین چانڈیو نے تمام ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز، انچارج CIA اور انچارجز پولیس پوسٹز کے ساتھ ایس ایس پی آفس ٹھٹھہ میں اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
ایس ایس پی نے تمام افسران کو ہدایت جاری کی کہ آئی جی پی سندھ غلام نبی میمن کےاحکامات پر جرائم پیشہ عناصر، اشتہاری و روپوش ملزمان کی گرفتاری، A کلاس کیسز کو جلد از جلد ٹریس آؤٹ، منشیات و گھٹکہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں میں بہترین کارکردگی کے لیے موثر حکمت عملی مرتب کی گئی ہیں اور کسی بھی ذرائع سے جرائم کے متعلق ملنے والی اطلاع کی فورا” تصدیق کرنے کے بعد قانونی کارروائی کرکے مقدمہ درج کریں، اور ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے کیس پراپرٹی ریکور کریں۔ایس ایس پی نے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف نتیجہ خیز کارروائیوں کے ساتھ تفتیشی امور کو مزید مؤثر اور یقینی بنایا جائے.
ایس ایس پی ٹھٹھہ نے کہا کہ تمام ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اور انچارج پولیس پوسٹز اپنی پیشہ ورانہ مہارت، حاصل کی گئی تربیت اور تجربوں کے بدولت مقدمات کو ناصرف منطقی انجام تک پہچائیں بلکہ متعلقہ عدالتوں سے ملوث ملزمان کو مثالی سزائیں بھی سنوائیں.
ایس ایس پی نے مزید کہا کہ جدید تیکنیکی سسٹم اور شہر بھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف باقاعدہ نشاندھی کے تحت کاروائیوں کو مزید موثر بنایا جائے. اس کے علاوہ درج کیسسز کی تفتيش ایمانداری، باریک بینی اور میرٹ کے بنیاد پر کی جائے. کسی قسم کی بدعنوانی، بددیانتی اور کرپشن کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔
ایس ایس پی نے سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ منشیات و گھٹکہ کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں اور کسی بھی افسر یا پولیس اہلکار کو ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
ایس ایس پی ٹھٹھہ نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہمارا اولین فرض ہے اس کے علاوہ تمام ایس ایچ اوز اور پی پی انچارجز کو احکامات دیے کہ تمام افسران روزانہ کي بنیاد پر اپنے پولیس اسٹیشن اور پولیس پوسٹز پر موجود رہ کر شہریوں کی شکایات اور مسائل حل کریں۔