ٹھٹھہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگار راجہ قریشی )گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف علاقوں سے چار لاشیں برآمد
سندھ کے قدیمی ضلع ٹھٹھہ میں گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف علاقوں سے چار لاشیں برآمد ہوئی ہیں ، علاقہ مکینوں میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے تاریخی ضلع ٹھٹھہ سے لاشوں کے ملنے کا سلسلہ جاری ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی کے علاقے بوہارہ کے قریب گاؤں عطاء محمد گبول کے رہائشی منصور عرف کارو ولد بصر گبول کی لاش مچھلی کے تلاب سے برآمد لاش کو پولیس نے تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے روانہ کر دیا گیا ہے موت کی کیوجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہو سکے گی جبکہ دوسری جانب ور شہر سے ملحقہ گاؤں حاجی قاسم سموں میں نوجوان چرواہے حبیب اللہ سموں کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی ملی ہے ورثاء کی جانب سے قتل کئے جانے کا شک ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد موت کا سبب معلوم ہوسکے گا یاد رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ضلع ٹھٹھہ کے مختلف علاقوں سے چار لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

ٹھٹھہ : گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف علاقوں سے چار لاشیں برآمد
-

گوجرہ : مسلح ڈاکوبنک ملازم سے موٹر سائیکل وقیمتی موبائل چھین کر فرار
گوجرہ، باغی ٹی (نامہ نگار عبدالرحمن جٹ) مسلح ڈاکوبینک ملازم سے موٹر سائیکل وقیمتی موبائل چھین کر فرارہو گئے۔معلوم ہواہے کہ نواحی چک نمبر415ج ب کاعلی رضا جو کہ نینشل بنک میں ملازم ہے اور جو اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر واپس گاؤں جا رہاتھاکہ موچیوالہ روڈاڈاتن پولیاکے قریب اسے موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر روک لیا اور جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر اس سے موٹر سائیکل اورقیمتی موبائل لوٹ لیا اورڈاکو کامیاب واردات کے بعد فرارہو گئے۔تھانہ صدر پولیس کو واردات سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاحال مقدمہ کے اندراج کی اطلا ع موصول نہیں ہو سکی۔علاوہ ازیں تھانہ نواں لاہور کے علاقہ میں چک نمبر336ج ب کا رکشہ ڈرائیورمحمد شہباز اپنے موٹر سائیکل رکشہ پر اڈاچراغ آباد کھڑاتھاکہ خاتون سمیت تین افراد آگئے اور جنہوں نے کہاکہ انہوں نے پینسرہ جا نا ہے رکشہ ڈرائیور ان کو لے کرجار ہاتھاکہ چک نمبر334ج ب نہر کے قریب رکشہ ڈرائیور کو زبردستی روک لیااور اس سے ہزاروں کی نقدی موبائل فون اور موٹر سائیکل رکشہ چھین لیااوراس کی مشکیں کس کر نہر کنارے پھینک دیااور موقع سے فرارہو گئے۔اطلا ع ملنے پر تھانہ نواں لاہور پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلا ش شروع کر دی۔
-

گوجرہ :شوہر کی دوسری شادی سے دلبرداشتہ یا معاملہ کچھ اور؟،خاتون کی فائرمار کر خود کشی کی کوشش
گوجرہ،باغی ٹی وی( نامہ نگار عبدالرحمن جٹ) خاوند کی دوسری شادی سے دلبرداشتہ خاتون کی مبینہ طورپرفائرمار کر خود کشی کی کوشش،معلوم ہواہے کہ چک نمبر310ج ب بھوپال والا کے وحید عرف چاندنے دوسری شادی کر لی جس پر اس کی پہلی بیوی مسماۃ حفظہ بی بی نے دلبرداشتہ ہو کرمبینہ طور پرگھر میں پڑے ہو ئے پستول سے خودکو گولی مار لی جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہو گئی جسے فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرزہسپتال منتقل کیاگیا جہاں سے ابتدائی طبی امدادکی فراہمی کے بعد مخدوش حالت کے پیش نظر الائیڈ ہسپتال فیصل آبادریفر کر دیاگیا۔جہاں اس کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔صدر پولیس گوجرہ مصروف کارروائی ہے۔
-

اوکاڑہ:آئیے دیکھیئے ہم کیسے فروغ تعلیم کے لیے کوشاں ہیں،گرلز کالج کی چاردیواری کو گرے ایک سال ہوگیا
اوکاڑہ باغی ٹی وی نامہ نگار ملک ظفر۔ گورنمنٹ گرلز کالج ساؤتھ سٹی اوکاڑہ کی چار دیواری گزشتہ ایک سال سے گر چکی ہے اور طالبات استاتذہ کو حصول تعلیم میں مشکلات کا سامنا ۔
تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز کالج ساؤتھ سٹی اوکاڑہ جو کہ ہزاروں طالبات کے حصول تعلیم کی ایک درس گاہ ہے گزشتہ ایک سال سے طالبات اور اساتذہ بے پردگی میں تعلیم حاصل کر رہیں ہیں ۔مگر کالج انتظامیہ اور اوکاڑہ کی انتظامیہ چار دیواری کو بنوانے میں عدم دلچسپی کا شکار ہے ۔
بچوں کے والدین نے ڈی سی اوکاڑہ اور کالج انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوکاڑہ میں کروڑوں روپے کا بجٹ ہوئے کے باوجود ہماری بچیوں کے لیے چار دیواری کا گزشتہ ایک سال سے بندوست نہیں ہوسکا جبکہ اوکاڑہ انتظامیہ دوسرے کاموں پر کروڑوں روپے کا بجٹ استعمال کررہی ہے ۔اس سلسلہ میں عوامی حلقوں نے اوکاڑہ انتظامیہ کو جلد از جلد چار دیواری مرمت کروانے پر زور دیا ۔ -

راجن پور : روجھان کے علاقہ موسانی میں نامعلوم مسلح ڈاکوؤں کاحملہ،2 جابحق 7افراد شدید زخمی
راجنپور باغی ٹی وی (نامہ نگار کنور اویس )روجھان کے علاقہ موسانی میں نامعلوم مسلح ڈاکوؤں کاحملہ،2 جابحق 7افراد شدید زخمی
تفصیل کے مطابق پولیس ترجمان کاکہنا ہے کہ تھانہ روجھان کے حدود بستی موسانی میں نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا ،ڈاکوؤں کی اندھا دھند فائرنگ 2 افراد موقع پر جابحق 7افراد شدید زخمی ہوگئے،ڈیڈ باڈی اور زخمیوں کو شیخ خلیفہ ہسپتال روجھان منتقل کر دیا گیا،فائرنگ سے جانبحق ہونے والوں میں خاتون اور سات سالہ بچہ شامل زخمیوں میں مرد خواتین اور بچے شامل 2 مرد اور 2بچوں کی حالت تشویشناک ہے ،پولیس کی جانب سے بھاری نفری موقع پر پہنچ کر مزید کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ،پولیس ترجمان کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ ہے- -

گوجرہ :نامعلوم ملزمان کی کار پرفائرنگ ، نوجوان جاں بحق
گوجرہ، باغی ٹی وی(نامہ نگار عبدالرحمن جٹ)تھانہ سٹی کی حدود میں قائد اعظم روڈ پر نامعلوم ملزمان کی کار پر فائرنگ کے نتیجے میں تہذیب نامی نوجوان جانبحق ہوگیا ہے
تفصیلات کے مطابق دن دیہاڑے شہر کی مصروف ترین شاہراہ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا یہاں نامعلوم ملزمان نے کار میں سوار363 ج۔ب کے رہائشی رانا تہذیب کو اس وقت فائرنگ کر کے قتل کیا جب وہ ایک میڈیکل سٹور پر دوائی لینے کے لیے رکے تھے ، تہذیب کا دوست عمری نامی نوجوان دوائی لینے کے لیے گاڑی سے اتر کر میڈیکل سٹور میں چلا گیا اس لئے وہ محفوظ رہا،وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور نعش کو سول ہسپتال گوجرہ منتقل کر دیا ۔ اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی -

ٹھٹھہ : گھوڑا باڑی کے شہر ور میں درخت سے لٹکتی لاش برآمد
ٹھٹھہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار راجہ قریشی )گھوڑا باڑی کے شہر ور میں درخت سے لٹکتی لاش برآمد
تفصیل کے مطابق ٹھٹھہ ضلع کے تعلقہ گھوڑاباڑی کے نزدیک شہر ور کے ساتھ گوٹھ قاسم سموں کے رہائشی حبیب اللہ کی درخت سے لٹکی ہوئی لاش برآمد، وارثاء نے قتل کا خدشہ ظاہر کیا ہے ، وارثاء کا کہنا ہے کہ نوجوان حبیب اللہ رات 8 بجے سے غائب تھا، اسے قتل کر کے لاش سے لٹکادی گئی، اطلاع پر گھوڑاباڑی پولیس موقع پہنچ گئی اور جاں بحق شخص کی لاش کوتحویل میں لےکر ہسپتال منتقل ، جہاں پر لاش کا پوسٹ مارٹم ہوگا، پولیس نے شواہد اکٹھے کرکے قانونی کارروائی کاآغازکردیا ہے. -

چترال : سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسایٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔ سڑکوں پر فوری کام شروع کرنے کا پرزور مطالبہ
چترال(گل حماد فاروقی)چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے زیر اہتمام سول سوسایٹی کے اراکین اور محتلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مشترکہ جلسہ ہوا۔ جلسے کی صدارت مولوی اسرار الدین الہلال نے کی۔اس جلسہ میں پہلی بار شہزادہ سراج الملک نے شرکت کرکے اظہار حیال کیا۔جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوا۔قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ لواری ٹنل سے شندور اور درہ پاس تک تمام سڑکوں پر دوبارہ فوری کام شروع کیا جائے۔گرم چشمہ سڑک کیلئے فنڈ دوبارہ منظور کیا جائے۔قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ آیون اور وادی کیلاش کی سڑکوں پر کام بند نہ کیا جائے اور اس سڑک میں آنے والے زمینوں کے مالکان کو فوری ادایگی بھی کی جائے۔مقررین نے کہا کہ چترال میں قیمتی معدنیات کے پہاڑ اور ذحائیر موجود ہیں مگر اس کی لیز غیر مقامی بااثر افراد کو دی گئی ہے جس سے مقامی لوگ استفادہ نہیں کرسکتے قرارداد ک ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان معدنیات کے ذحائیر سے مقامی لوگوں کو فائدہ دیا جائے۔
قرارداد کے ذریعے دروش سے مڈگلشٹ کی سڑک کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ارندو جو کہ ماضی میں ایک بڑا تجارتی مرکز بھی تھااس سڑک پر بھی فوری کام شروع کرکے زمین کے مالکان کو ادایگی کی جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بیوٹیفیکشن آف چترال کے نام پر جو 28 کروڑ روپے کا فنڈ آیا ہوا ہے اس فنڈ سے بھی معیاری کام کرکے چترال کی خوبصورتی کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ماضی کی طرح چترال کے سرکاری غلہ گوداموں سے مقامی لوگوں کو رعایتی نرح پر گندم فراہم کیا جائے۔ مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری غلہ گوداموں سے جو گندم فلور مل مالکان کو دی جاتی ہے وہ آئے روز آٹے کی قیمت بڑھاتے رہتے ہیں اس سلسلے کو بند کیا جائے لوگوں کو ان گوداموں سے گندم بھی دی جائے تاکہ وہ اپنے مرضی سے پن چکی میں اس سے آٹا پیس کر اسے استعمال کرے۔چترال میں چار سو سے زیادہ پن چکیوں کو بند کیا گیا ہے جس سے چار سو گھرانے متاثر ہوئے ہیں قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ان پن چکیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے اور یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے جس میں صرف مل مالکان کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چترال میں 107 میگا واٹ پن بجلی گھر گولین میں تعمیر ہوچکا ہے مگر علاقے کے لوگ اس بجلی سے محروم ہیں اور چترال میں اب بھی آٹھ سے دس گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ یہاں نہ کارخانہ ہے نہ کوئی بجلی چوری کرتا ہے قرارداد کے ذریعے واپڈا حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ظالمانہ اور ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کو سستی نرح پر بجلی فراہم کیا جائے تاکہ وہ اسے کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے بھی استعمال کرسکے۔
یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی حکومت اپنا وعدہ پوراکرتے ہوئے گولین بجلی گھر سے چترال کو تیس میگا واٹ بجلی دیکر بقایا بجلی کو نیچے اضلاع کو دی جائے۔چترال کے دونوں اضلاع میں سڑکوں میں آنے والے زمین کے مالکان کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت ادا کی جائے۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ چترال میں بھی گورنمنٹ میڈیکل کالج کی قیام پر غور کیا جائے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال جو پندرہ سال قبل اسے کیٹیگری بی کا درجہ دیا گیا تھا مگر اس پر ابھی تک عملی کام نہیں ہوا ہے اس ہسپتال میں بھی کیٹیگری B کے مطابق تمام سہولیات فراہم کیا جائے۔ چترال یونیورسٹی کی تعمیر کا کام جلدی شروع کیا جائے اور اپر چترال کے قاقلشٹ کے میدان میں تریچ میر یونیورسٹی پر بھی کام شروع کیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے دونوں اضلاع کیلئے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری بورڈ کے قیام کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔
چترال کی جنگلات کو حتم ہونے اور ماحول کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے ضلع اپر اور لوئیر چترال کے لئے منظور شدہ ایل پی جی گیس پلانٹ کی چترال میں تنصیب کا کام جلد شروع کیا جائے اس مقصد کیلئے خریدے گئے زمینات کو نیلام نہ کیا جائے۔جلسہ سے الحاج عید الحسین، شریف حسین، وقاص احمد ایڈوکیٹ،لیاقت علی، عنایت اللہ اسیر، شہزادہ سراج الملک، نور احمد خان چارویلو،سلطان نگاہ،شبیر احمد، رحمت علی جعفر دوست، چوہدری امان اللہ اور دیگر نے بھی اظہار حیال کیا۔ جلسہ میں اس بات پر نہایت افسوس کااظہار کیا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ٹھیکدار نے چترال سے بونی سڑک جو چین کے ایک تعمیراتی کمپنی نے چالیس سال پہلے بنایا تھا مگرا س کی تارکول ابھی تک نہایت مضبوط تھی مگر این ایچ اے حکام نے اس سڑک کی کشادگی کے دوان پورے سڑک سے تارکول اکاڑ کراسے کھنڈرات کی شکل میں تبدیل کیا اور دوبارہ اس پر تارکول بھی نہیں کیا جس سے ایک طرف نہایت مٹی اور گرد و غبار اٹھتی ہے تو دوسری طرف سڑک کے بیچ میں کھڈوں کی وجہ سے مریض اس سڑک پر سفر کے دوران نہایت مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ مقررین نے حکومت پر واضح کیا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور نہایت مہذب طریقے سے اپنا جائز حق مانگتے ہیں ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح سڑکوں پر آکر جلاؤ گھیراو پر مجبور ہوجائے۔
بعد میں جلسہ کے شرکاء نے ایک ریلی بھی نکالی جس میں تمام سول سوسائٹی اراکین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ یہ جلسہ دعائیہ کلمات کے ساتھ احتتام پذیر ہوا۔ -

میرپور ساکرو: 2 افرادکی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
میرپور ساکرو،باغی ٹی وی (نامہ نگارقادرنوازکلوئی)بہار کے نواحی گاؤں عطا محمد گبول کے رہائشی نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد
تفصیل کے مطابق بہار کے نواحی گاؤں عطا محمد گبول کے رہائشی نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی ہے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایک نامعلوم مسلح افراد نے منصور گبول کو قتل کرکےاس کی لاش کو پانی میں چھوڑ دیا۔
ایک اور واقعہ میں نامعلوم مسلح افراد نے نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا جس کی لاش کھائی سے ملی۔پولیس کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے شیخ زید اسپتال لایا گیا ہے۔ -

قصور میں ہندو برادری کےتین افراد کی پراسرار موت,انتہائی افسوسناک واقعہ ہے.میاں عدیل اشرف
چونیاں ،باغی ٹی وی(نامہ نگار) قصور میں ہندو برادری کےتین افراد کی پراسرار طور پر موت واقع ہونا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ یوتھ اسمبلی فارہیومن رائٹس پاکستان اس دکھ کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہے۔میاں عدیل اشرف
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یوتھ اسمبلی فارہیومن رائٹس پاکستان کے سیکرٹری انفارمیشن اینڈ میڈیا ڈیپارٹمنٹ ضلع قصور میاں عدیل اشرف نے کہا ملک پاکستان میں بسنے والے تمام شہری چاہے وہ مسلم ہیں،ہندو ہیں،عیسائی ہیں یا کسی بھی اور مذہب سے تعلق رکھتےہیں سب قانونی لحاظ سے مساوی حقوق کے حامل ہیں ان کو ریاست پاکستان برابر حقوق فراہم کرنے کی پابند ہے۔ دو دن قبل قصور میں آئے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والےجیکب آباد سندھ کے رہائشی چار افراد جن میں تین افراد کی پراسرار طور پر موت واقع ہوئی جبکہ ایک معجزانہ طور پر بیہوشی کی حالت میں پایا گیا۔ اس افسوسناک واقع سے بہت سی قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں پورے ملک پاکستان میں خاص طور پر تاجر برادری میں ایک خوف کی فضا پیدا ہوئی ہے جو کہ غیر مناسب ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم یوتھ اسمبلی فارہیومن رائٹس پاکستان اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مقتولین کے وارثان سے اظہار ہمدردی اور تعزیت کرتی ہے اورریاست پاکستان کے قانونی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ قانونی اداروں کے لیے ایک انتہائی اہم کیس ہے اور دو مذہبوں کے درمیان نفرت کا باعث بن سکتا ہے جس کے مکمل قانونی تقاضے پورے کر کے تفتیش کی جائے۔ اگر تو کھانے میں زہر جان بوجھ کر ڈالا گیاہے تو یہ ایک شرمناک حرکت کے ساتھ ساتھ بہت بڑا ظلم بھی ہے۔ اور ظالم کو اس جرم کی عبرتناک سزا ملنی چاہے۔ لیکن اگر ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تو پھر بھی مقتول کے وارثان کو مطمئن کرنا قانونی اداروں کی ذمہ داری ہے اور انصاف حاصل کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ مقتولین کے وارثان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔