Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • راجن پور : خالی نشست این اے193 کا انتخابی شیڈول جاری

    راجن پور : خالی نشست این اے193 کا انتخابی شیڈول جاری

    راجن پور (باغی ٹی وی)خالی نشست این اے193 کا انتخابی شیڈول جاری
    تفصیل کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی خالی نشست 193 راجن پور کا انتخابی شیڈول جاری کردیا،این اے 193 راجن پور میں پولنگ 26 فروری کو ہوگی،یادرہے یہ نشست تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی سردار جعفرخان لغاری کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی
    سردار جعفر خان لغاری 31 دسمبر کو لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے،اس سیٹ پر قوی امید تھی کہ محترمہ مینا لغاری الیکشن میں حصہ لیں گی لیکن ذرائع کاکہناہے کہ محترمہ مینا لغاری امریکی شہریت رکھتی ہیں اس لئے وہ الیکشن میں حصہ لینے کی اہل نہیں ہیں دوسری طرف شاید سردار یوسف خان لغاری بھی الیکشن سے دستبردار ہوجائیں ،یہ بھی ہوسکتا ہے اس سیٹ پر ممکنہ طور عمران خان خود الیکشن لڑیں،

  • گرین یوتھ مومنٹ کلب نے یونیورسٹی فارم پر سٹوڈنٹس سے پلانٹیشن کروائی

    گرین یوتھ مومنٹ کلب نے یونیورسٹی فارم پر سٹوڈنٹس سے پلانٹیشن کروائی

    ڈیرہ اسماعیل خان،باغی ٹی وی(احمدنوازمغل)وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان پروفیسرڈاکٹرمسرورالٰہی بابر(تمغہ امتیاز) کی ہدایت پر گرین یوتھ مومنٹ کلب نے یونیورسٹی فارم پر سٹوڈنٹس سے پلانٹیشن کرودای ہے اور سٹوڈنٹس نے مختلف زمین کی تیاری اور ماحولیاتی سرگرمیوں میں حصہ بھی لیا۔تفصیلات کے مطابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان پروفیسرڈاکٹرمسرورالٰہی بابر(تمغہ امتیاز) کی کاوشوں کی بدولت زرعی یونیورسٹی میں تعلیمی وتحقیقی سرگرمیوں پر بھرپورتوجہ دی جارہی ہے اورطلباء کو تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل تعلیم بھی دی جارہی ہے ۔اس سلسلے میںوائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان پروفیسرڈاکٹرمسرورالٰہی بابر(تمغہ امتیاز) کی ہدایت پر گرین یوتھ مومنٹ کلب نے یونیورسٹی فارم پر سٹوڈنٹس سے پلانٹیشن کروادی ہے اور سٹوڈنٹس نے مختلف زمینوں کی تیاری اور ماحولیاتی سرگرمیوں میں حصہ بھی لیا۔ڈیرہ کے عوامی سماجی تعلیمی حلقوں نے وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان پروفیسرڈاکٹرمسرورالٰہی بابر(تمغہ امتیاز)کی قائدانہ صلاحیتوں پر بھرپوراعتمادکرتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیاہے۔

  • ڈی آئی خان : وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار کی ملازمت پر بحالی،عوام کااحتجاج

    ڈی آئی خان : وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار کی ملازمت پر بحالی،عوام کااحتجاج

    ڈیرہ اسماعیل خان،باغی ٹی وی(احمدنوازمغل)گورنر خیبر پختونخواہ حاجی غلام علی خان کی صدارت میں گومل یونیورسٹی کی سینٹ نے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار کی جبری رخصت ختم کرکے ملازمت پر بحال کر نے پر ڈیرہ کے عوامی سماجی تعلیمی حلقوں نے سخت احتجاج کیاہے اورگورنر خیبرپختونخواہ حاجی غلام علی خان اورگومل یونیورسٹی کی سینٹ کے اس فیصلے پر تحفظات اورسخت ردعمل کا اظہارکیاہے ،واضح رہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخارپر گومل یونیورسٹی میں مالی وانتظامی بدعنوانیوں ،جنسی ہراسمنٹ وبدعنوانیوں کے کئی کیسزچل رہے ہیں اوران کی دوبارہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی تعیناتی ایک سوالیہ نشان ہے ۔اہلیان ڈیرہ نے گورنر خیبرپختونخواہ حاجی غلام علی خان اور گومل یونیورسٹی کی سینٹ کمیٹی سے دوبارہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے اورڈاکٹرافتخار کی برطرفی کا مطالبہ کیاہے ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں گورنر خیبر پختونخواہ حاجی غلام علی خان کی صدارت میں گومل یونیورسٹی کی سینٹ نے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار کی جبری رخصت ختم کرکے ملازمت پر بحال کر نے پر ڈیرہ کے عوامی سماجی تعلیمی حلقوں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخواہ حاجی غلام علی خان اورگومل یونیورسٹی کی سینٹ کے اس فیصلے پر تحفظات اورسخت ردعمل کا اظہارکیاہے ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخارپر گومل یونیورسٹی میں مالی وانتظامی بدعنوانیوں ،جنسی ہراسمنٹ وبدعنوانیوں کے کئی کیسزچل رہے ہیں اوران کی دوبارہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی تعیناتی ایک سوالیہ نشان ہے ۔اہلیان ڈیرہ نے گورنر خیبرپختونخواہ حاجی غلام علی خان اور گومل یونیورسٹی کی سینٹ کمیٹی سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے اورڈاکٹرافتخار کی برطرفی کا مطالبہ کیاہے ۔انہوںنے کہاکہ ڈاکٹرافتخار بابر کی تعلیم کش پالیسیوں کی بدولت گومل یونیورسٹی اپنا تعلیمی معیارکھوچکی ہے اوراس کی تنزلی کے ذمہ دارڈاکٹرافتخاربابر ہیں۔ان کی دوبارہ تعیناتی سے سنجیدہ حلقوں میں تشویش کی لہردوڑگئی ہے۔

  • ٹھٹھہ :انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے عہدیداران کی ایس ایس پی سے ملاقات

    ٹھٹھہ :انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے عہدیداران کی ایس ایس پی سے ملاقات

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی( نامہ نگار راجہ قریشی) انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے عہدیداران کی ایس ایس پی سے ملاقات
    ، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے عہدیداران کی ایس ایس پی سے 21 دسمبر 2022ء کو محکمہ تعلیم کے ملازم کی گمشدگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سمیت امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال۔
    تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ گزشتہ کچھ روز قبل محکمہء تعلیم کے ملازم سید مہر علی شاہ کی گمشدگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ضلع ٹھٹھہ کے جنرل سیکريٹری ارشاد عمر گندرو، پریس سیکرٹری سید شیر علی شاہ کاظمی، سید دیدار علی شاہ اور دیگر موجود تھے 21 دسمبر 2022ء سے لاپتہ ہونے والے محکمہ تعلیم کے ملازم سید مہر علی شاہ کی تلاش کیلئے ایس ایس پی ٹھٹھہ عدیل حسین چانڈیو سے ان کی آفس میں ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا جس پر ایس ایس پی ٹھٹہ نے ایس ایچ او جھمپیر اور ڈی آئی بی انچارج فیصل میمن کو بروقت ہدایت جاری کی ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے تلاش جاری کریں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ارشاد علی گندرو، سید شیر علی شاہ کاظمی نے کہا کہ ہم نے ایس ایس پی ٹھٹھہ کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے جس پر ایس ایس پی ٹھٹھہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے فرائض کا حصہ ہے اور ہم ہر جدید طریقوں سے تلاش کر رہے ہیں اور انشاء اللہ جلد ہی واقعے تک رسائی ہو جائے گی۔

  • ایک شفیق باپ

    ایک شفیق باپ

    ایک شفیق باپ
    ✍️تحریر شوکت ملک
    ہر باشعور انسان کو اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے اور وہ ان کے احسانات کا معترف ہوتا ہے۔ والدین کی دعائیں اس کی زندگی کا بہت بڑا اثاثہ ہیں جو زندگی کے نشیب و فراز کے دوران اس کے کام آتی ہیں۔ والدین اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور ترقی کے لیے مقدور بھر کوشش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض والدین اپنی اولاد کی ترقی اور استحکام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور بعض لوگ اس منظر کو دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
    دوسرے بچوں کی طرح میں بھی اپنے والد محترم محرم خان (مرحوم) جو کہ مجھ سے تمام بہن بھائیوں سے زیادہ بڑھ کر پیار محبت کرتے اور سب سے زیادہ ان کی امیدوں کا محور بھی راقم الحروف کو ہی سمجھا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ میں ابتدائی تعلیم کے حصول کے لیے اپنے آبائی گاؤں کے پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا جہاں پر اساتذہ کی کمی کے باعث تعلیم کچھ اچھی نہ ہونے کی وجہ سے چھ ماہ کے قلیل عرصہ کے بعد دور دراز علاقے صادق آباد (چمچہ) کے ہائی اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔ جہاں پر انتہائی محنتی اور قابل اساتذہ کرام ہونے کی وجہ سے راقم الحروف جماعت اول سے لے کر میٹرک تک پوزیشن ہولڈر رہا جس کی سب سے زیادہ خوشی میرے والد محترم کو ہوا کرتی تھی۔
    اسکول میں رزلٹ کے نتائج سننے کے بعد جیسے ہی واپس گھر پہنچ کر ان کو اپنی پوزیشن بارے بتاتا تو ان کی خوشی کی انتہا ہوتی اور میرا استقبال والد محترم کے گلے لگا کر ملنے اور بوس و کنار سے ہوتا تھا اور پھر بڑے بھائیوں کو فون کال پہ انتہائی فخریہ انداز میں بتاتے کہ آپ کے چھوٹے بھائی نے کلاس میں سے پوزیشن حاصل کرکے میرا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ تاہم وہ سمجھتے تھے کہ میری آواز میں سریلا پن موجود ہے جس کے باعث وہ مجھے عالم دین بھی بنانا چاہتے تھے جو کہ بدقسمتی سے ان کا خواب میں شرمندہ تعبیر نہ کرسکا۔ میٹرک کرنے کے بعد ان کی خواہش کے عین مطابق مجھے کالج میں داخلہ دلوا دیا گیا جہاں پر جاتے ہی والد محترم جو کہ ہمارے بچپن سے ہی شوگر جیسی لاعلاج مہلک مرض میں مبتلا تھے ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہونے لگی۔ ان کی اس قدر خرابی صحت کے بارے سوچ و فکر اور صدمے کے باعث پڑھائی سے زیادہ ان کے بارے فکر مند رہتا تھا۔
    علیحدگی میں بیٹھ کر رونا پریشان رہنا میرا معمول بن چکا تھا یہی وجہ تھی کہ میں اپنی پڑھائی میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا اور کالج میں پہلے سال ہی جب ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہوئی ان کو راولپنڈی (British Leprosy Hospital) میں ایڈمٹ کروانا پڑا جہاں پر ان کے پاس راقم الحروف کو والد محترم سے مزید قربت اور ان کی شخصیت بارے جاننے کا موقع ملا مجھے ان کے ساتھ گزرا ہوا پل پل یاد ہے۔ مجھے یاد جب سردی کی طویل راتوں میں طبیعیت کی خرابی کے باعث ان کو نیند نہ آتی اور تکلیف ہوتی تو میں ڈاکٹروں سے لڑ پڑتا تھا کہ آپ لوگ میرے والد محترم کو کوئی معقول میڈیسن کیوں نہیں دیتے جس سے وہ سکون کی نیند سو سکیں۔
    مجھے یاد ہے اسپتال میں بیڈز کی کمی کے باعث جب مجھے نیچے سونا پڑ گیا تو انہوں نے مجھے نیچے سونے سے قطعاً منع کرتے ہوئے پاس سلانے کو ترجیح دی میں ان کا بدن دباتے دباتے سو جاتا تھا۔ میں ابھی بھی سوچتا ہوں کہ نہ جانے سو جانے کے بعد میں ان کو کتنی تکلیف پہنچاتا ہوں گا تنگ کرتا ہوں گا مگر ان کی کمال کی محبت اتنی تکلیف اور خرابی صحت کے باعث بھی مجھے اپنے پاس سلانے کو ترجیح دی۔ اسپتال میں زیادہ دن ٹھہرنے کے باعث وہ سمجھتے تھے کہ بچہ ہے تنگ پڑ گیا ہو گا تو کہتے تھے جاؤ بیٹا باہر سے گھوم کے آجاؤ پر میں گاؤں میں رہنے والا پینڈو لڑکا باہر جا کے کیا کرتا بھلا وہیں ہاسپٹل کے لان میں بیٹھ کر رو رو اپنا برا حال کرتا رہتا تھا۔
    وہ مجھ سے بار بار پوچھتے بیٹا تنگ تو نہیں پڑ گئے میں ان کا حوصلہ بندھانے کےلیے کہتا نہیں ابو آپ ٹھیک ہو جائیں پھر ہم ایک ساتھ گھر واپس چلے جائیں گے۔ شاید ان کو اپنی زندگی کے آخری ایام قریب آتے دکھائی دے رہے تھے تو مجھے کہتے بیٹا زندگی میں کبھی بھی ہمت مت ہارنا، جیسے بھی حالات ہوں ان کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا، دل لگا کر پڑھنا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا جس پر میں اور زیادہ سوچتا پریشان ہوتا گویا کہ وہ تو مجھے آخری نصحتیں کر رہے تھے۔ ڈیڑھ ماہ انتہائی اذیت میں گزرنے کے بعد بھی ان کی طبیعت میں خاطر خواہ بہتری نہ آسکی مگر ان کی خواہش کے مطابق اور اپنے آپ کو اور ہمیں سب کو حوصلہ بندھانے کےلیے کہتے اب مجھے گھر لے چلیں میں ٹھیک ہو گیا ہوں۔
    گھر آنے کے بعد ان کی طبیعت میں اتار چڑھاؤ جاری رہا کبھی طبیعت ٹھیک رہتی تو کبھی طبیعت میں بگاڑ پیدا ہو جاتا اسی طرح ایک ماہ اور اسی کشمکش میں گزر گیا۔ جیسے ہی 2015ء کی شروعات ہوئی ان کی طبیعت میں پھر سے بگاڑ پیدا ہوا اتنے میں روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم بھائی بھی واپس گھر آچکے تھے انہوں نے آتے ہی والد محترم کی طبیعت میں بگاڑ کی شدت کو جانچتے ہوئے انہیں ایک بار پھر سے اسپتال میں جانے کےلیے قائل کیا جس کےلیے والد محترم بالکل رضامند نہ تھے۔
    مگر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ان کو ایک بھر اسپتال لے جایا گیا جہاں ایک روز ٹھہرنے کے بعد والد محترم نے واپس گھر لے جانے کا کہا انہیں گھر واپس لایا گیا تو 7 جنوری کا دن تھا جیسے وہ بلکل ٹھیک ہو گئے ہوں انہوں نے سب کے ساتھ کھانا کھایا اور ہم سب کو بھی کھانا کھانے کی تلقین کی گویا کہ سب کی جان میں جان آئی اور سب کے دلوں میں ان کی صحتیابی کی امید جاگ اٹھی۔ دن بھر انہوں نے سب سے خوب باتیں کی رات ہوئی تو رات کا ابتدائی پہر سکون سے گزرنے کے بعد صبح قریباً 2 بجے کے قریب ان کی طبیعت میں ایک بار پھر سے بگاڑ پیدا ہوا اس پل انہوں ایک بار پھر سے راقم الحروف کو اپنے پاس بلا کر بیٹھنے کو کہا اور کچھ آخری نصیحتیں کرنے کے بعد 8 جنوری 2015 صبح 10 بجے کے قریب 45 سال کی عمر میں ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
    یہ صبح ابھی بھی راقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے منڈلاتی ہوئی صدمے سے دوچار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی گویا اس دن کے بعد سے راقم الحروف کے تمام حوصلے جو کہ والد محترم محرم خان (مرحوم) کے زیر سایہ بلندیوں کو چھو رہے تھے وہ وہیں ڈھیر ہو گئے اور والد محترم کی کمی آج عملی زندگی میں ہر موڑ پر محسوس ہوتی ہے۔ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے والدین زندہ ہیں ان کو والدین کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ان کے والدین کا سایہ ان کے سروں پہ تادیر قائم و دائم رکھے۔ میرے والد محترم سمیت جن کے والدین اس دنیا سے رخصت فرما گئے ان کی کامل مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔ آمین

  • گوجرہ :زرعی ملک میں آٹے کا بحران لمحہ فکریہ ہے – رانا سعید راشد منج

    گوجرہ :زرعی ملک میں آٹے کا بحران لمحہ فکریہ ہے – رانا سعید راشد منج

    گوجرہ باغی ٹی وی( نامہ نگار عبدالرحمن جٹ )زرعی ملک میں آٹے کا بحران لمحہ فکریہ ہے – رانا سعید راشد منج
    تفصیل کے مطابق عوامی جسٹس پارٹی پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر رانا محمد سعید راشد منج نے کہا کہ زرعی ملک میں آٹے کا بحران لمحہ فکریہ ہے۔آئے روز کسی نہ کسی چیز کا بحران جنم لے رہا ہے۔حکمرانوں کی ناقص پالیسوں کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔ریاست اپنی ذمہ داری نبھانے میں مکمل نا کام عوام مسائل کی چکی میں پس کر رہ گئی ذمہ داران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آٹے کی فراہمی کو ہر ممکن یقینی بناتے ہوئے ترجیہی بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جائے۔لمبی قطاروں میں بزرگ،خواتین،مرد،بچے انتظار کے بعد کھلی ہاتھ لوٹ کر جانے پر مجبورسستے آٹے کے نام پر تذلیل باعث افسو س ہے۔ غریب، مزدور،دیہاڑی دار طبقہ محنت مزدوری کرے یا آٹا لینے کیلئے لائنوں میں سارا سارا دن کھڑے ہوں۔مہنگائی نے جینا محال کر دیا اوپر سے بنیادی سہولتیں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔سیاستدان قوم کے حال پر رحم کھائیں۔ اقتدار کی رسہ کشی،سیاسی نورا کشتی میں عوامی مسائل نظر اندازغریب کے منہ سے نوالہ بھی چھینا جا رہا ہے۔ملکی سیاست میں اپوزیش نام کا کوئی وجود نہیں ہر دور میں اقتدار میں رہنے والی پارٹیاں آج بھی کسی نہ کسی جگہ اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں۔عوامی جسٹس پارٹی پاکستان ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی،سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسوں کے خلاف احتجاج کرے گی۔

  • ڈیرہ غازی خان : ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر شہریوں کو سستا آٹا کی فراہمی کا عمل جاری ہے-مہر اختر حسین

    ڈیرہ غازی خان : ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر شہریوں کو سستا آٹا کی فراہمی کا عمل جاری ہے-مہر اختر حسین

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی )ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار کی ہدایت پر شہریوں کو سستا آٹا کی فراہمی کا عمل جاری ہے،اس حوالے سے ڈیرہ غازی خان اور تونسہ کے اضلاع میں 37ٹرکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جن سے شہری حکومت پنجاب کی طرف سے سستا آٹا خرید سکتے ہیں،ڈی ایف سی مہر اختر حسین کا اس سلسلہ میں کہنا ہے کہ دونوں اضلاع میں 20فلور ملز ہیں جن کو محکمہ خوراک کیطرف سے روزانہ 287میٹرک ٹن گندم فراہم کی جاتی ہے ملز سے20090 آٹے کے تھیلے شہریوں کو فروخت کئے جارہے ہیں،ڈی ایف سی کے مطابق


    ڈی جی خان میں15 ،کوٹ چھٹہ7تونسہ10 اور کوہ سلیمان میں 5ٹرکنگ پوائنٹس کے ذریعے شہریوں کو حکومت پنجاب کی طرف سے سستا آٹے کے تھیلے فراہم کئے جارہے ہیں ،انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے عوام کودس کلو آٹے کا تھیلا648روپے میں فراہم کیا جارہا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ دونوں اضلاع میں آٹا کی کوئی قلت نہیں ہے،شہری کسی بھی ٹرک سے سستا آٹا باآسانی خرید سکتے ہیں۔

  • کندھ کوٹ :مراد واہ کینال میں 50 فٹ چوڑا شگاف ،سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب

    کندھ کوٹ :مراد واہ کینال میں 50 فٹ چوڑا شگاف ،سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب

    کندھ کوٹ،باغی ٹی وی (نامہ نگار)کشمور کے علاقے عارب شر کے مقام پر پانی کے دباؤ کی وجہ سے مراد واہ کینال میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا، شگاف پڑنے کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آگئی، گندم ،گنے و دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا
    تفصیلات کے مطابق کشمور کی مراد واہ کینال میں نواحی گاؤں عارب شر کے مقام پر 50 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا، پانی کے دباؤ کی وجہ سے شگاف مزید بڑھنے لگا، پانی تیزی کے ساتھ دیہی آبادی کی طرف بڑھنے لگا، شگاف پڑنے کی وجہ سے عارب شر سمیت دیگر کئی گاؤں کی 100 ایکڑ سے زائد زمین زیر آب آگئی ہے، جس کی وجہ سے گندم، گنے و دیگر فصلیں زیر آب آگئیں ہیں، کاشتکاروں کو لاکھوں کا نقصان ہوا ہے جبکہ دوسری جانب علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اطلاع کے باوجود محکمہ آبپاشی کا عملہ شگاف کی جگہ پر نہ پہنچ سکا ہے اپنی مدد آپ کے تحت شگاف پر کرنے کی کوشش کررہے ہیں.

  • اوکاڑہ ،دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم ڈکیتیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری

    اوکاڑہ ،دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم ڈکیتیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ، دیپالپور ،حجرہ شاہ مقیم ڈکیتیوں کا نا رکنے والا سلسلہ جاری
    دیپالپورحسین گڑھ کے قریب ڈکیتی کی بڑی واردات ہوئی جس میں مسلح ڈاکوؤں نے شہری سے موٹر سائیکل نقدی اور موبائل فون چھین لیا
    تھانہ حجرہ شاہ مقیم کے علاقے حسین گڑھ کا رہائشی اکرم اپنے کام پر جارہا تھا کہ تین نامعلوم موٹر سائیکل سوار ڈکیتوں نے گن پوائنٹ پر لوٹ لیا۔
    ڈاکو شہری سے ہنڈا 125 موٹر سائیکل موبائل فون اور 60 ہزار نقدی رقم چھین کر فرار ہوگئے واقع کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور تحقیقات شروع کردی ۔

  • ننکانہ : قرآن محل کے نام پر کرپشن اور لوٹ مار،سٹور نما ایک کمرہ کی لاگت21 لاکھ روپے،انکوائری کاحکم

    ننکانہ : قرآن محل کے نام پر کرپشن اور لوٹ مار،سٹور نما ایک کمرہ کی لاگت21 لاکھ روپے،انکوائری کاحکم

    قرآن محل ننکانہ صاحب کی ناقص اور نامکمل تعمیر ,چہتے ٹھیکدار کو مکمل ادائیگی کر دی گئی
    تقریبا21 لاکھ روپے کا ایک سٹور نما کمرہ, افسران ضلع کونسل آئی اینڈ ایس اور ٹھیکیدار کے چہرے بے نقاب ,ڈی سی ننکانہ صاحب نے تین روز میں انکوائری مکمل اور ایف آئی آر درج کروانے کا حکم دے
    ننکانہ صاحب باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز)قرآن محل ننکانہ صاحب کی ناقص اور نامکمل تعمیر چہیتے ٹھیکیدار کو مکمل ادائیگی کر دی گی تقریبا 21 لاکھ روپے کا ایک اسٹور نما کمرہ افسران ضلع کونسل آئی اینڈ ایس اور ٹھیکیدار کے چہرے بے نقاب ڈی سی ننکانہ نے تین روزہ میں انکوائری مکمل اور ایف آئی آر درج کروانے کا حکم دےدیا,ٹھیکدار اور اس کرپشن میں ملوٹ افسران ہاتھ پاٶں مارنے لگے
    تفصیلات کے مطابق قرآن محل ننکانہ صاحب کے لیے 2021 میں ایک قراردار پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے مونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب کے کونسلر شہزاد جاوید نے پیش کی جس کو ہاؤس نے متفقہ طور پر پاس کیا کہ قرآن پاک کے شہید نسخوں اور مقدس اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے ایک قرآن محل بچیانہ روڈ دھولر والے قبرستان کے قریب تعمیر کی جاۓ گا,جس کا سنگ بنیاد اس وقت کے چیئرمین بلدیہ چوہدی نعیم احمد نے 27 دسمبر 2021 کو رکھا ضلع کونسل کی برانچ آئی اینڈ ایس کے معتبر ذرائع کے مطابق یہ قرآن محل کا منصوبہ تقریبا21 لاکھ روپے سے مکمل ہونا تھا جو ایک سال گزر جانے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا ہے اور اس کی جتنی بھی تعمیر ہوئی ہے وہ ورک آڈر کے بلکل بھی مطابق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ضلع کونسل کی برانچ آئی اینڈ ایس نے مکمل ادائیگی کر دی ہے اور اس کی ناقص تعمیر کے حوالے سے اسی وارڈ کے کونسلر اور قرارداد پیش کرنے والےجاوید شہزاد متعدد بار افسران کے علم میں لا چکے ہیں اور وہ بھی اب نہ معلوم وجوہات کی بنا پر متعلقہ افسران ضلع کونسل کی طرح خاموشی اختیار کر چکا ہے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ قرآن محل ننکانہ صاحب کے حوالےسے گزشتہ روز ایک میٹنگ ڈی سی ننکانہ صاحب احمر نائیک نے اپنے آفس میں چیف آفیسر میونسل کمیٹی راو انوار اور قائم مقام میونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس مصدق گجر سے رپورٹ طلب کی تو دونوں افسران کی بات ایک نہ ہونے کی وجہ سے احمر نائیک نے سخت سرزنش کرتے ہوۓ تین روزمیں قرآن محمل کی ادھوری اور ناقص تعمیر کی انکوائری مکمل کر کے ٹھیکدار کے خلاف تین روز کے اندر اندر ایف آئی آر کے درج کروانے کا حکم دیا ہے ,ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی راو انوار اورڈسٹرکٹ آفیسر آئی اینڈ ایس مصدق گجر کے درمیان میٹنگ کے بعد سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا ہے جس میں راؤ انوار کا مؤقف تھا کہ اپ نے اپنے چہتے ٹھیکدار کونوازنے کی خاطرمکمل ادائیگی کرکےنا انصافی کی ہےجو سراسر غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل ہے ,ڈی سی ننکانہ صاحب کے احکامات کے بعد اس مبینہ کرپشن میں ملوٹ افسران اور ٹھیکیدار نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے ہیں
    ویڈیو میں دیکھاجاسکتاہے کس طرح کاقرآن محل بنایا گیا ہے اور کتنی ہلکی کوالٹی کی اینٹیں و دیگر مٹیریل استعمال کیاگیا.