ننکانہ صاحب باغی ٹی وی ( نامہ نگار احسان اللہ ایاز )باباگورونانک یونیورسٹی،کلاسسزکا آغازکردیا گیا ،باقاعدہ افتتاح21دسمبر کو ہوگا
تفصیل کے مطابق ننکانہ صاحب میں باباگورونانک یونیورسٹی کے قیام سے بچوں کو اعلی تعلیم کے مواقع اپنے گھر کی دہلیز پر میسر ہورہے ہیں،دانش سکول سسٹم میں یونیورسٹی کی کلاسسزکا آغازکردیا گیا ہے جس کی باقاعدہ افتتاحی تقریب کا انعقاد 21دسمبر دوپہر 12بجے گورنمنٹ گورونانک ہائی سکول میں ہوگا،متعلقہ محکمہ جات افتتاحی تقریب کے انتظامات کو جلد از جلد مکمل کریں۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب احمر نائیک نے ان خیالات کا اظہار بابا گورونانک یونیورسٹی کی کلاسسز کے حوالے سے21دسمبر کو منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے کیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رانا امجد علی، اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ شوکت مسیح سندھو، چیف آفیسر ضلع کونسل ساجد مشرف،ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ملک مختار،ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ حماد یوسف ،سی او میونسپل کمیٹی ننکانہ راﺅ انوار،نمائندہ وائس چانسلر بابا گورونانک یونیورسٹی ودیگر متعلقہ محکمہ جات کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

باباگورونانک یونیورسٹی،کلاسسزکا آغازکردیا گیا ،باقاعدہ افتتاح21دسمبر کو ہوگا
-

اے پی ایس پشاور کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریبات منقعد کی گئیں
اوکاڑہ ،ٹھٹھہ (نامہ نگارباغی ٹی وی)اوکاڑہ سے ملک ظفر کی رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1 حویلی لکھا میں سانحہ اے پی ایس پشاور کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک پروقار تقریب کا انعقاد ہوا اسکول کے طلبا نے بچوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو بھائیوں کو بھولے نہیں ہیں بلکہ ان کی یاد دلوں میں بستی ہے تقریب سے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 کے پرنسپل میاں رفیق احمد وٹو محمد احمد صابر ڈپٹی ہیڈ ماسٹر محمد ظفر اقبال انجم اسکول کے طلباء دانش و ٹو محمد علی مبشر احمد عبدالسلام علی حسنین نے بھی خطاب کیا-

ٹھٹہ سے نامہ نگار راجہ قریشی کی رپورٹ کے مطابق ٹھٹہ کے شہر گھارو میں انڈس برائیٹ فیوچر اسکول میں سانحہء پشاور کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اسکول کے طالبات نے شہداء پشاور کی یاد میں شمعیں روشن کیں خصوصی طور پر دعائیں مانگی گئیں اور ٹیبلوز پیش کئے گئے اور تقریریں بھی کیں اس موقعہ پر اسکول کی پرنسپل میڈم رضوانہ شیخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سانحہء پشاور کے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں دہشتگرد ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں میں دہشتگردی کرکے ہمارے ملک کی تعلیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی یہ کوشش کبھی بھی پوری نہیں ہونگی شہداء پشاور نے جام شہادت نوش فرمایا ہمارے جذبوں کو اور بلند کردیا ہے ہم اپنی آرمی پر فخر کرتے ہیں یقین ہے کہ پاکستان آرمی ہماری کاوشیں اور جدو جہد کبھی بھی دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی آخر میں سانحہء پشاور کے شہداء بچوں اور اساتذہ کے لئے دعائیں بھی مانگی گئیں.

-

اوکاڑہ : عوام الناس کے بعد امام مسجد اور نمازی بھی عدم تحفظ کا شکار,پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ؟
اوکاڑہ باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر)عوام الناس کے بعد امام مسجد اور نمازی بھی عدم تحفظ کا شکار,پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ؟
تفصیل کے مطابق عوام الناس کے بعد امام مسجد اور نمازی بھی عدم تحفظ کا شکار اوکاڑہ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ۔اوکاڑہ تھانہ بی ڈویژن کی حدود جامع مسجد صدیقیہ کے باہر چوری کی واردات ۔ نامعلوم چور ،حافظ نثار احمد چشتی امام مسجد کی موٹر سائیکل لے اڑے، امام مسجد موٹر سائیکل نمبر 533/او کے ایل کھڑی کر کے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد گئے
امام مسجد حافظ صاحب واپس آئے تو موٹرسائیکل غائب ۔نمازیوں اور عوام نے آئی جی پنجاب سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا -

ٹھٹھہ:16دسمبر 2014 اے پی ایس پرحملہ ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا- منظور خشک
ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار راجہ قریشی)16دسمبر 2014 اے پی ایس پرحملہ ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا- منظور خشک
تفصیل کے مطابق مسلم لیگ ن سندھکے نائب صدر منظور احمد خشک نے کہاکہ 16دسمبر 2014 ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب دہشتگردوں نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر حملہ کر کے نہتے اور معصوم سو سے زائد طلباء اور اساتذہ کو شہید کیا ،قوم اس دن کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی، سانحہ اے پی ایس کو سات سال گزر گئے لیکن معصوم بچوں اور اساتذہ کی شہادت کا غم آج بھی تازہ ہے- انکا کہنا تھا کہ پوری پاکستانی قوم ان شہداء کے اہلخانہ کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکاروں نے بڑی بہادری اور دلیری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک سے دہشتگردی کو ختم کیا، پاک فوج کے جوانوں کی لازوال قربانیوں سے ملک میں امن قائم ہوا – -

ٹھٹھہ :اے پی ایس کے شہدا سے اظہار یکجہتی کے لئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون کی قیادت میں ریلی نکالی گئی
ٹھٹھہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار راجہ قریشی ) سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء سے اظہار یکجہتی کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون ریاض حسین لغاری کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر آفس سے پبلک پارک مکلی تک ایک ریلی نکالی گئی – جس میں روینیو، تعلیم، صحت، سوشل ویلفیئر، لوکل گورنمنٹ، اطلاعات، زراعت، آبپاشی، پبلک ہیلتھ ،ایجوکیشن ورکس و دیگر مختلف محکموں کے افسران و عملے سمیت مختلف این جی اوز کے نمائندوں، سوسائٹی، معززين اور عوام نے شرکت کی – تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون ریاض حسین لغاری نے کہا کہ 16دسمبر 2014 ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب دہشتگردوں نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر حملہ کر کے نہتے اور معصوم سو سے زائد طلباء اور اساتذہ کو شہید کیا ،قوم اس دن کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی، سانحہ اے پی ایس کو سات سال گزر گئے لیکن معصوم بچوں اور اساتذہ کی شہادت کا غم آج بھی تازہ ہے- انکا کہنا تھا کہ پوری پاکستانی قوم ان شہداء کے اہلخانہ کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکاروں نے بڑی بہادری اور دلیری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک سے دہشتگردی کو ختم کیا، ان اہلکاروں کی لازوال قربانیوں سے ملک میں امن قائم ہوا – علاوہ ازیں ضلع کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں بھی سانحہ اے ایس کے شہداء کی یاد میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا.
-

ٹھٹھہ :قرآت پبلک ہائی سکول میںAPS کے شہدا سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک پروقار تقریب
ٹھٹھہ،باغی ٹی وی(نامہ نگار راجہ قریشی) قرآت پبلک ہائی اسکول ٹھٹھہ برانچ کی جانب سے آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہدا سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک پروقار تقریب شہدا کی یاد میں دئیے بھی جائیے گئے
تفصیل کے مطابق قرآت پبلک ہائی اسکول ٹھٹھہ برانچ میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہدا کی یاد میں ان سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اسکول اسٹاف اور طلباء و طالبات اور دیگر معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہدا کی یاد میں دئیے بھی جلائے گئے اسکول کے طلباء و طالبات نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہدا کو تقاریر کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا اس موقع پر ڈائریکٹر شازیہ الماس کھتری، پرنسپل سر منیر احمد قریشی، سینئر ہیڈ سیکشن مس زھرہ جاکھرو ،جونئیر ہیڈ سیکشن مس فضہ اقبال نے اپنے اپنے خطاب میں کہا کہ 16 دسمبر 2014 ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب دھشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے نہتے طلباء اور اساتذہ کو شھید کیا قوم اس دن کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی اس سانحہ کو 7 سال گزر گئے ہیں مگر یہ غم آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے پوری قوم شھیدوں کے ایلخانہ کے دکھ میں برابر کی شریک ہے -

شاہ کوٹ مین سانگلہ بازار4 سال گزرنے کے باوجود تجاوزات کے خلاف آپریشن مکمل نہ ہو سکا
شاہ کوٹ مین سانگلہ بازار4 سال گزرنے کے باوجود تجاوزات کے خلاف آپریشن مکمل نہ ہو سکا،اینٹی انکروچمنٹ کے عملے کا مبینہ طور پر منتھلیاں لے کر قانون کی پاسداری کرنے والے دکانداروں کے معاشی قتل میں ملوث
ننکانہ صاحب باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز ) شاہ کوٹ مین بازار کے دکانداروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چار سال گزر جانے کے باوجود تجاوزات آپریشن مکمل نہ ہو سکا گورنمنٹ کے احکامات پر عمل کرنے والی دکانوں کے سامنے لمبی دیواریں گاہکوں کا راستہ روکے ہوئے ہیں۔ اینٹی انکروچمنٹ کا عملہ مبینہ طور پر منتھلیاں لے کر قانون کی پاسداری کرنے والے دکانداروں کے معاشی قتل میں ملوث ہونے کا انکشاف۔کچھ با اثر دکانداروں کی ہٹ دھرمی کے آگے بے بس انتظامیہ نے 6 سو سے زائد دکانیں گرا کر کروڑوں روپے کا فنڈ استعمال کرنے کے باوجود شہر کی خوبصورتی داؤ پر لگا دی کچھ بااثر دکانداروں کو دیکھا دیکھی متعدد افراد نے تجاوزات آپریشن میں گرائی گئی دکانیں دوبارہ بازار کی زمین پر تعمیر کرکے کئی فٹ لمبے آہنی شٹر اور شیڈ بازار میں بڑھا دیے لیکن مبینہ نوٹوں کی چمک کے آگے انتظامیہ نے آنکھیں بند کرلی جس کے نتیجے میں قانون کی پاسداری کرکے رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں بازار کی جگہ سے خود پیچھے کرنے والے دکاندار پس کر رہ گئے کیونکہ سڑک سے 20۔25 فٹ پیچے ہونے اور سائیڈوں پر لمبی دیواریں کھڑی ہونے کی وجہ سے خریداری کے لیے آنے والے گاہکوں سے پیچھے والی دکانیں نظر انداز ہو جاتی ہیں اور قانون کی پاسداری کرنے والے محب وطن دکاندار سارا دن گاہکوں کے انتظار میں گزار دیتے ہیں جس وجہ سے انکے گھروں کے چولھے ٹھنڈے ہو چکے ہیں مہنگائی کے اس دور میں یہ دکاندار اپنی جمع پونجی بھی گھر کا کچن چلانے میں خرچ کرکے بے حال ہو چکے ہیں قانون کی پاسداری کرنے والے ان محب وطن دکانداروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی ۔مقامی ایم پی اے میاں محمد عاطف اور دیگر حکام بالا سے اس ساری صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ -

گوجرہ:مسلح ڈا کو ؤ ں نے شہر سے خریداری کرکے آ نے وا لی خواتین سمیت تین افراد کو لوٹ لیا۔
گوجرہ، باغی ٹی وی (نامہ نگارعبدالرحمن جٹ)مسلح ڈا کو ؤ ں نے شہر سے خریداری کرکے آ نے وا لی خواتین سمیت تین افراد کو لوٹ لیا۔ معلوم ہوا ہے کہ چک نمبر 297 ج ب کا محمد عا صم گوجرہ شہر سے خر یداری کر کے اپنی قریبی عزیزہ دو خوا تین کے ہمراہ موٹر سا ئیکل پر گا ؤ ں آ رہے تھے کہ راستے میں دو مسلح موٹر سا ئیکل سوار ڈا کوؤ ں نے روک لیا اور خوا تین کے چار تولہ طلا ئی زیورات اتروا لئے اور کا میا ب واردات کے بعد فرار ہو نے میں کا میا ب ہو گئے اطلاع ملنے پر سٹی پولیس گوجرہ نے مقدمہ درج کرکے ڈا کو ؤ ں کی تلا ش شروع کردی ہے۔
-

میہڑ : بااثر لینڈ مافیاء کاستایا مظلوم پریس کلب پہنچ گیا
میہڑ،باغی ٹی وی (منظورعلی جوئیہ کی رپورٹ) بااثر لینڈ مافیاء کاستایا مظلوم پریس کلب پہنچ گیا
تفصیل کے مطابق میہڑکے نواحی گاؤں گل محمد جتوئی کے رھائشی محمدعلی جتوئی نے میہڑ پریس کلب میں پہنچ کر صحافیوں کے سامنے پکارتے ہوئے کہاکہ دیہہ ھنبار میں میری زرعی زمین سروے نمبر 224جوکہ 10ایکڑ اور 26گھنٹے ہے جومیری خاندانی زرعی زمین ہے جس پر بااثر افراد حسین بروہی ذوالفقار عرف بھٹو بروہی، علی گوھر بروہی ،رستم اور نواب بروہی سمیت 50مسلحہ افرادنے میری زرعی زمین پر پہنچ کر مجھ پر فائرنگ کی جس کی اطلاع میں نے ڈی ایس پی میہڑ اور ایس ایچ اوفریدآباد کو دی ،متاثرہ شخص نے مزید کہاکہ یہ زمین میرے پشتوں کی ہے جس کے اصل کاغذات میرے پاس موجود ہیں اور ملزم بااثر ہیں جو مجھے ڈرا دھمکا کرکہ میری زرعی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور مجھ پر جھوٹے مقدمات کروانا چاہتے ہیں اور مجھے ان بااثر افراد سے جان کا خطرہ ہے اور زمین کہ مقدمہ بھی کورٹ نے میرے حق میں آیا ہے اور محکمہ ریونیو والوں بھی میرے حق میں تحریری فیصلہ دیاہے.متاثرہ نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی دادو سے مطالبہ کیا ہے کہ بااثرملزمان کہ خلاف کارروائی کرکے مجھے تحفظ دیاجائے اور انصاف فراہم کیاجائے. -

اوکاڑہ:تھانہ بی ڈویژن کی حدود رحمان کالونی سے دو بچے پراسرار طور پر لاپتہ
اوکاڑہ, باغی ٹی (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ بی ڈویژن کی حدود رحمان کالونی سے دو بچے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے. بچے مدرسے میں قران پاک کی تعلیم حاصل کرتے تھے. بچوں کی شناخت علی شان اور زبیر کے نام سے ہوئی ہے ۔ دونوں بچوں کی عمریں 11 سے 13 سال کی ہے ۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے کاروائ کا آغاز کر دیا ۔ بچوں کی مقامی پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تلاش شروع کر دی