پاک افغان سرحدی علاقے ارندو میں اپنے حقوق کیلئے پر امن جلسہ۔ ہم آج بھی پتھر کے زمانے کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں عمائدین علاقہ
چترال(گل حماد فاروقی) پاک افغان سرحد پر واقع نہایت دور آفتادہ اور پسماندہ علاقہ ارندو میں علاقے کے عوم نے اپنے حقوق کیلئے ایک پر جلسہ کیا جس کی صدارت ویلیج کونسل ارندو کی ناظم عبد المجید نے کی۔اس جلسہ میں تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں نے بھی بغیر کسی سیاسی وابستگی کے شرکت کی جن کا ایک پواینٹ ایجنڈا تھا کہ ارندو کے عوام کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ان کو بھی ترقی دی جائے۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یونین کونسل ارندو جو 25000 آبادی پر مشتمل ہے جس میں پانچ ویلیج کونسل ہیں۔ یہاں سات قومیت کے لوگ رہتے ہیں مگر یہاں کے لوگ اب بھی پتھر کے زمانے کی دور کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مقررین نے کہا کہ ارندو افغانستان کے سرحد پر واقع پاکستان کا آحری حطہ ہے۔ اس وادی پر افغانستان کی جانب سے کبھی تو روس کے فوجیوں نے بمباری کی تو کبھی امریکی فورس نے۔ا نہوں نے کہا کہ اس بستی میں روس کے جنگی جہازوں نے بھی بمباری کی جس میں کئی لوگ شہید ہوئے اور متعدد مکانات مسمار ہوئے اور اس وادی کے لوگوں نے چترال کو بچانے کیلئے ایک فرنٹ لائن فورس اور مورچے کی کردار اد کی ہے۔
مقررین نے کہا کہ ارندو کے سڑک پر کچھ عرصہ قبل تعمیر کا کام شروع ہوا تھا مگر اسے ادھورا چھوڑ اگیا اور اب بھی 32 کلومیٹر سڑک کچا ہے۔مقررین نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان صرف ایک دریا واقع ہے اور دریا کے دونوں جانب یعنی دونوں ملکوں میں ایک ہی قومیت کے لوگ رہتے ہیں ماضی میں یہاں کے لوگوں نے سرحد کے اس پر رشتے کئے اور کروائے بھی اور صدیوں سے دونوں ممالک کے لوگ آپس میں بھائی چارے کی زندگی گزار رہے ہیں مگر آج کل ہم ایک دوسرے سے نہین مل سکتے۔

مقررین نے کہا کہ اس وادی میں سرحد پار سے بھی مریض علاج معالجے کی عرض سے آیا کرتے تھے مگر یہاں ایک بنیادی مرکز صحت کو سال 2009 میں اپ گریڈ کرکے اسے RHC یعنی دیہی مرکز صحت کا درجہ دیا گیا ہے مگر یہاں پچھلے دو سالوں سے ڈاکٹر نہیں آیا۔ مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر کا تعلق نیچے اضلاع سے ہے اور وہ دو ماہ بعد آکراپنی تمام حاضری لگاکر واپس چلاجاتا ہے جبکہ اس آر ایچ سی میں صرف ایک مقامی میڈیکل ٹیکنیشن شیر غنی ولد محراب گل مریضوں کا معائنہ سے لیکر پورے ہسپتال کو چلاتا ہے۔اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اآفیسر ڈاکٹر فیاض رومی کو بار بار کال کرکے ان کو پیغام بھی بھیجا کہ وہ اپنا موقف دے کہ ڈاکٹر کیوں دو ماہ بعد آکر اپنا سارا حاضری لگا کر واپس چلا جاتا ہے مگر انہوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم اس کے دفتر فون کرکے معلوم ہوا کہ پشاور گئے ہوئے ہیں۔ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر ضیاء اللہ خان نے بتایا کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے وہاں دو ڈاکٹر تعینات ہیں جو پندرہ پندرہ دن کیلئے باری باری ڈیوٹی کرتے ہیں مگر گزشتہ روز ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر فیاض کا بیٹا بیمار ہوا اور اسے اچانک جانا پڑا اس وجہ سے ہسپتال حالی تھا۔

مقررین نے کہاکہ ارندو کے ہائی سکول میں بھی اساتذہ کی تعداد نہایت کم ہے جبکہ ہائیر سیکنڈری سکول کئی عرصے سے بند پڑا ہے اور اس میں نہ تو کوئی استاد ہے اور نہ کوئی طالب علم۔اس سکول کی عمارت سے یہاں کے طلباء کو کوئی فائدہ نہیں اور فرسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کے طلبا و طالبات ہائی سکول کی عمارت میں پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمود غزنوی سے رابطہ کیا گیا تو وہ کسی سرکاری کام سے پشاور گئے تھے جبکہ ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر شاہد حسین نے کہا کہ ارندو کے ہائی سکول میں صرف 244 طلباء ہیں جن کیلئے پندرہ اساتذہ ہیں۔ ہائیر سیکنڈری سکول کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہاں صرف 34 طلباء ہیں جو ہائی سکول میں پڑھتے ہیں اور ہائیر سیکنڈری پورشن میں 9 اسامیاں حالی ہیں جن کو صرف سیکرٹری ایجوکیشن پر کرسکتا ہے۔

مقررین نے کہا کہ پورے ارندو میں نہ تو کوئی موبائل فون ہے نہ انٹرنیٹ اور اس جدید دور میں بھی جہاں طلباء آن لائن تعلیم حاصل کرتے ہیں یہاں کے طلباء انٹرنیٹ جیسے بنیادی ضرورت اور سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارندو کے اس پار افغانستان میں باقاعدہ موبائل فون کا ٹاؤر لگا ہوا اور یہاں رہنے والے نہ صرف عوام بلکہ سرکاری ملازمین بھی افغانستان کا موبائل فون والا سم ستعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں روپے کی آمدنی افغانستان کو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگر علاقوں میں لوگ اور حاص کر طلبا و طالبات انٹرنیٹ سے بہت فائدہ حاصل کررہے ہیں کیونکہ دنیا ایک گلوبل ویلیج ہے مگر ہمارے طلباء کو یہ بھی پتہ نہیں کہ ارندو سے آگے چترال میں کیا ہورہا ہے تو ان کو بیرونی دنیا یا پاکستان کے دیگر حصوں کے بارے میں کیسے معلوم ہوگا۔مقررین نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجننیرنگ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ PHE نے کروڑوں روپے کا غبن کرکے پینے کی پانی کی سکیم تو لائے مگر سب کے سب ناکام ہوئے۔ انہوں نے ایک پانی کا ٹینکی کا تذکرہ کیا جو دنیا شائد اٹھواں عجوبہ ہوگا۔ وہ ٹینکی پانی کیلئے بنایا گیا تھا جس کیلئے سابق صوبائی وزیر سلیم خان چترالی نے فنڈ فراہم کیا تھا مگر اس ٹینکی کے اندر سے پانی کا پائیپ گزارا گیا ہے اور وہ پانی بجائے اسکے کہ پہلے ٹینکی میں جمع ہوکر اس سے پائپ کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاتا مگر ایسا نہیں ہے صرف دکھاوے کیلئے پانی کا ٹینکی بنایا گیا ہے اور پانی کا پائپ اس ٹینکی کے بیچ میں سے سیدھا باہر نکالا گیا ہے اور یہ ٹینک بالکل حالی پڑی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیرنگ کے ایگزیکٹیو انجنیر ارشد اقبال سے رابطہ کرکے ان سے پوچھا گیا کہ اس ٹینکی پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کی ضرورت کیا تھی جب اس میں پانی نہیں ڈالا جاتا ہے یا جمع کیا جاتا ہے اور پائپ لائن اس کے اندر سے سیدھا باہر گزارا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بابت پوچھ گچھ کریں گے۔ مقررین نے اس موقع پر پاک فوج کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ارندو میں ایک چلڈرن پارک تعمیر کروایا ہے اور لوگوں سے دیگر کاموں میں بھی تعاون کرتے رہتے ہیں۔

مقررین نے محکمہ جنگلات پر بھی تنقید کی کہ وہاں میرٹ پر بھرتی نہیں ہوتے حالانکہ ارندو ایک جنگلاتی علاقہ ہے اور جب تک محکمہ جنگلات میں یہاں کے مقامی لوگ جو حقدار ہو وہ بھرتی نہ ہو تو جنگل کی حفاظت کرنا مشکل ہوگا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیویز، فارسٹ اور دیگر محکموں میں اس پسماندہ علاقے کا باقاعدہ کوٹہ منظور کیا جائے کیونکہ یہاں تعلیم کا معیار نہایت کمزور ہے اور یہاں کے امیدوار دیگر علاقوں کے امیدواروں کے ساتھ تعلیمی میدان میں مقابلہ نہیں کرسکتے۔اس موقع پر چند نوجوانوں نے بینرز اٹھائے تھے جن پر درج تھا کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔
جلسہ سے وی سی ناظم عبد المجید،حاجی غلام یوسف انسپکٹر ریٹائرڈ، ملا ادینہ شاہ ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر،قاری علی اکبر، مولانا سمیع الحق، گل زادہ، حضرت علی، شیرین محمد وغیرہ نے اظہار حیال کیا۔مقررین نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ارندو کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا اور اب مزید اسکے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک نہ کیا ئے یہاں تعلیم، صحت، مواصلات اور دیگر سہولیات فراہم کی جائے اور ان لوگوں کو احجتاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ یہ جلسہ پر امن طور پر منتشر ہوا۔
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

پاک افغان سرحدی علاقہ ارندو میں اپنے حقوق کیلئے پر امن جلسہ۔ ہم آج بھی پتھر کے زمانے کے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں، عمائدین
-

ٹھٹھہ :میرپور ساکرو میں صفائی نہ ہونے کی عوامی شکایات پر ایڈمنسٹریٹر کا مختلف علاقوں کاوزٹ
ٹھٹھہ باغی ٹی وی (نامہ نگار راجہ قریشی) میرپور ساکرو میں صفائی نہ ہونے کی عوامی شکایات پر ایڈمنسٹریٹر کا مختلف علاقوں کاوزٹ
تفصیل کے مطابق ایڈمنسٹریٹر میرپور ساکرو یوسیز عبدالغفور ہیجب جاکھرو نے عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوۓ غلام اللہ شہر پہنچ گیا مختلف جگہ کا کا جائزہ لیا جس میں خواجہ میمن محلہ خاصخیلی، شیدی محلہ کا بھی جائزہ لیا، وہاں شہریوں نے شکایات کیں کہ عملہ صفائی آتاہی نہیں ہے اس پر ایڈ منسٹریٹر عبدالغفور جاکھرو نے نوٹس لے تے ہوۓ صفائی کے عملے کو حکم دیا صفائی کا عمل شروع کردیا جاۓ مجھے اب کوئی شکایات نہ ملے اور ڈرینج کی نکاسی خود وہاں پر کرائی ، اور مزید کہا اگر شہریوں کے جانب سے اب کوئی شکایات آئیں تو قانونی کارروائی ہوگی. -

محمد پور دیوان : 3 مسلحہ افراد نے غریب محنت کش پر حملہ کرکے شدید زخمی کردیا
محمد پور دیوان ،باغی ٹی وی(نامہ نگار جنید احمدانی سے) نواحی علاقے چک کوڑے والا میں 3 مسلحہ افراد کا غریب محنت کش مزدور پر حملہ لیاقت حسین ولد نذر خان قوم گلفاد کو شدید زخمی کر دیا تفصیل کے مطابق گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت حسین ولد نذر خان کا کہنا تھا کہ میں ایک غریب اور محنت مزدوری کرنے والا آدمی ہوں 3 با اثر افراد جن میں اختر ولد شفیع،نادر ولد اختراور ثناءاللہ ولد حفیظ قوم گلفاد نے پانی کی تقسیم کا بہانہ بنا کر مجھ پر ڈنڈوں اور سوٹوں کی برسات کر کے مجھے شدید زخمی کر دیا اور میرا موبائل بھی توڑ ڈالا جس کے بعد میں نے مقامی تھانہ محمد پور میں اطلاع دی تو انہوں نے مقامی دیہی مرکز ہسپتال بھیجا کہ پہلے ہسپتال جاؤ اور وہاں سے میڈیکل رپورٹ لے آؤ جبکہ ہسپتال انتظامیہ بھی رپورٹ دینے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے چونکہ ملزمان با اثر ہیں اس لیے پولیس اور ہسپتال عملہ ان کے خلاف نہیں جانا چاہتا اس لیے میری اعلیٰ حکام جن میں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی صاحب، آئی جی پنجاب،ار پی او ڈیرہ غازی خان، ڈی پی او راجن پور اور ڈی ایس پی جامپورسے درخواست ہے کہ مجھے انصاف دلانے کے ساتھ ساتھ مجھے تحفظ فراہم کیا جائے،
-

ننکانہ : محکمہ ہائی وے کے کرپٹ آفیسران کی ملی بھگت سےسیدوالا بچیکی روڈ میں ناقص مٹیریل کا انکشاف
ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(احسان اللہ ایاز)محکمہ ہائی وے کے کرپٹ آفیسران کی ملی بھگت سےسیدوالا بچیکی روڈ میں ناقص مٹیریل کا انکشاف
ضلع ننکانہ صاحب میں پروونشنل ہائی وے کی غفلت یا مبینہ بڑی کرپشن کی وجہ سے سیدوالا بچیکی روڈ میں ناقص مٹیریل کے استعمال کا انکشاف ہے ،روڈ کے ورک آڈر کے برعکس مٹیریل استعمال کیا گیا,شہری کا ڈی جی انٹی کریشن سے نوٹس کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق عادل ہیومن ویلفیر سٹیزن کیمونٹی بورڈ کے جنرل سیکرٹری نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ سید والہ بچیکی روڈ کی تعمیر میں ورک آڈر کے برعکس کام کیا گیا ہے لہذا ایگزیکٹو انجینٸر روڈ,سب ڈویژن آفیسر روڈ , سب انجینٸر روڈ ننکانہ صاحب اور گورنمنٹ کنٹریکٹر الکبیر کنسٹریشن کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کیا جاۓ کیونکہ ان تمام افراد نے ورک آڈر نمبری m/c1530مورخہ 9 دسمبر 2021 کو جاری ہونے والے ورک آڈر ٹی ایس کے برعکس سب گریڈ مکمل طور پر ناقص اور uncompected ہے اور روڈ ایجنگ بھی خستہ اور پرانے مٹیریل سے کی گٸی ہے اور جبکہ کارپٹینگ روڈ میں بھی ٹی ایس کے مطابق مٹیریل استعمال نہ کیا گیا ہے ,جنرل سیکرٹری نے مزید الزام عاٸد کرتے ہوۓ کہا ہے کہ کمشن اور بھاری رشوت لیکر محکمہ کے افسران نے بل ادا کیے ہیں جس کے باعث محکمہ کو نقصان ہوا ہے لہذا ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جاۓ اور انکواٹری عمل میں لاٸی جاۓ اور باقاعدہ طور پر کیمیکل ایگزامنر لیبارٹری کو سپیسیفکیشن ورک کے مطابق تجزیہ کرنے کے احکامات جاری کیے جاٸیں تاکہ ناجاٸز طور پر خردبردکی جانے والی رقم برآمد کروا کے روڈ کی تعمیر کو مکمل کیا جاۓ

-

ٹھٹھہ : بدنام زمانہ ایک مجرم گرفتار،چھینی گئی موٹرسائیکل اورناجائزپسٹل برآمد
ٹھٹھہ،باغی ٹی وی( نامہ نگار راجہ قریشی)بدنام زمانہ ایک مجرم گرفتار،چھینی گئی موٹرسائیکل اورناجائزپسٹل برآمد
تفصیلات کے مطابق مورخہ 22 نومبر 2022 کو دوپہر کے وقت 2 نامعلوم ملزمان نے بابڑہ لنک روڈ ولیج بصریو جوکھیو کے قریب اسلحے کے بناپر پیر عبدالرحمان شاہ سے ایک CD-70 موٹر سائیکل، ایک ویگو ٹیل موبائل فون، شناختی کارڈ، پرس اور 15 ہزار کیش چہین کر فرار ہوگئے تھے جس کا مقدمہ پیر عبدالرحمان شاہ کی مدعیت میں تھانہ گھارو پر درج کردیا گیا تھا۔
ایس ایس پی ٹھٹہ عدیل حسین چانڈیو کی سخت ہدایات پر ایس ایچ او تھانہ گھارو انسپیکٹر ممتاز علی بروہی بمعہ اسٹاف نے دوران گشت خفیہ اطلاع ملنے پر ساکرو روڈ ناریل فارم کے قریب کامیاب کارروائی کرکے 1 بدنام عادی کرمنل حبیب اللہ ولد عبداللہ آگھڑو کو گرفتار کرلیا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نشاندھی پر مدعی پیر عبدالرحمان شاہ سے چہینی گئیCD-70 موٹر سائیکل اور جرائم میں استعمال کی گئی 1 پسٹل برآمد کرلی گئی ہے۔
اس کے علاوہ گرفتار ملزم نے ضلع ٹھٹہ میں متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا ہے جس کا کرمنل ریکارڈ طلب کیا جارہا ہے۔ مزید ریکوری کے لیے پولیس ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔ ساتھی ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔ گرفتار ملزم کے خلاف تھانہ گھارو پر مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ -

تونسہ شریف کو ضلع کادرجہ دینے کی حتمی منظوری دے دی ہے – وزیر اعلی
ڈیرہ غازیخان ،تونسہ شریف (نمائندگان،شہزادخان ،جواد اکبر،عمران لنڈ)وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب کے حوالے سے ایک اوربڑاقدم ا ٹھاتے ہوئے تونسہ شریف کو ضلع کادرجہ دینے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے مطالبے پرتونسہ کو ضلع کا درجہ کیلئے فوری اقدام کیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی سے ڈیرہ غازی خان کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی خواجہ شیرازمحمود،محمد خان لغاری،سیف الدین کھوسہ، سردار محمد محی الدین کھوسہ،جاوید اختر لنڈ، مخدوم رضا،علی رضادریشک اوررائے ظہور شامل تھے جبکہ اس موقع پرپرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب محمد خا ن بھٹی بھی موجود تھے. وزیر اعلی نے کہاکہ میں نے 2005میں تونسہ کو ضلع کا درجہ دینے کااعلان ایم این اے خواجہ شیراز کے بہت بڑے جلسے میں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اب تونسہ کو ضلع کادرجہ دینے کی حتمی منظوری بھی میں نے دی ہے۔ تونسہ کے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں،چند ماہ کے قلیل عرصے میں تونسہ پانچواں نیا ضلع ہے ،قبل ازیں مری، وزیرآباد،تلہ گنگ اور کوٹ ادو کو ضلع کا درجہ دیا جاچکا ہے۔ ضلع بننے سے تونسہ کے انتظامی امور میں بہتری آئے گی، تعلیم،صحت اوردیگر سہولتوں میں اضافہ ہوگا۔ فیصلہ ارکان اسمبلی اور عوام کی سہولت کو مد نظر رکھ کر کیاہے۔ اراکین اسمبلی نے تونسہ کو ضلع کا درجہ دینے پر وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا شکریہ ادا کیا انہوںنے کہا کہ آپ کا یہ فیصلہ تونسہ کے عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے ،تونسہ شریف کے ضلع بننے سے علا قہ کی محرومیاں دور ہوں گی
دوسری طرف تونسہ شریف کے ضلع بنانے کے اعلان کے بعد عوام گھروں سے باہر نکل آئے کلمہ چوک تونسہ شریف میں بزدار اور قیصرانی برادری کا جشن تونسہ کو ضلع کا درجہ دینے پر آتئش بازی بھی کی گئی اور جماعت اسلامی والوں نے بھی چودھری پرویز الہی کا شکریہ آدا کیا اور عمران خان اور وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالٰہی زندہ باد کے نعرے لگائے گئے اورتونسہ کی عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب کااپناکیا ہواوعدہ پورا کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا. -

ننکانہ : میونسپل کیمیٹی کرپٹ مافیاء کے شکنجے میں،کروڑوں کی کرپشن،4 ماہ سےمیونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس کی سیٹ خالی
ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(نامنہ نگار احسان اللہ ایاز ) میونسپل کیمیٹی کرپٹ مافیاء کے شکنجے میں،4 ماہ سےمیونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس کی سیٹ خالی
تفصیل کے مطابق میونسپل کمیٹی ننکانہ کی برانچ آئی اینڈ ایس میں لاکھوں روپے کی کرپشن کا انکشاف, چار ماہ سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود میونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس تعینات نہ ہوسکا ,شہر بھر میں صفائی اور سیوریج کے مسائل جوں کے توں,ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی رانا امجد اور ڈپٹی کمشنرکی خاموشی ،کئی سوالات جنم لینے لگے. میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب کی برانچ آئی اینڈ ایس میں مون سون موسم کی آڑ میں معتبر ذرائع کے مطابق تقریبا ایک کڑور روپے کے قریب فیول کی مد میں خرچ کیے گۓ جن میں سے آدھے بل بوگس بناۓ گۓ ہیں اور جب کہ مون سون کے موسم کے دوران سیوریج کی لائن بیٹھ جانے کے بعد دوبارہ تعمیراتی کام پر آنے والے اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے کی اضافی ادائیگی کی گئی ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بنا پر سابقہ میونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس رانا آصف کو تبدیل کیا گیا تھا جس کے بعد تقریبا چارماہ سے میونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس کی سیٹ خالی ہے اور اس پر اضافی چارج کے ساتھ ضلع کونسل میں تعینات مصدق گجر تعینات ہے ,مستقیل میونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس نہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل جنم لے رہے ہیں صفائی اور سیوریج پر تعینات ملازمین اپنی مرضی کے مالک نظر آ رہے ہیں جس کے باعث شہر بھر میں سیوریج سمیت صفاٸی اور ستھرائی کے حالت روزبروزابتر ہوتی جارہی شہر میں آۓ روز پیدا ہونے والے مساٸل کو حل کرنے میں چیف آفیسر راوانوار وسائل نہ ہونے باوجود دن رات عوامی مسائل کے حل میں مصروف عمل نظر آتے ہیں ,میونسپل کمیٹی کے معتبر ذرائع کا کہنا ہے مصدق گجرکی ضلع کونسل میں بے پناہ مصروفیت کے باعث وہ اپنے اضافی چارج کو ٹائم نہیں دے پارہے ہیں جس کے باعث کئی عوامی اور محکمانہ مسائل جنم لے رہے ہیں لہذا فوری طور پر اس سیٹ پر مستقل طور پر مونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس کو تعینات کیا جاۓ اور اس حوالے سے ایڈمنسٹریٹر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رانا امجد ,ڈپٹی کمشنر احمر نائیک کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تعیناتی کو یقینی بنائیں اور ان چار ماہ اور اس سے قبل ہونے والی مبینہ طور ,پیٹرول اور سیوریج لائن کی مرمت سمیت دیگر مد میں لاکھوں روپے کی ہونے والی بے ضابطگیوں کی انکوائری مکمل کی جاۓ- -

ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان سید خرم علی کا راجن پورکچہ ایریا کا تفصیلی دورہ
ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی (جواد اکبرکی رپورٹ ) ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان سید خرم علی کا راجن پورکچہ ایریا کا تفصیلی دورہ ۔ سرکل آفس بنگلہ اچھا میں میٹنگ کا انعقاد ۔ سونمیانی ،کچہ میانوالی ،بستی جھلن ،سپر وزیر،چک کپڑا ، نوزبند ، شاہوالی ، گڈوکے علاقہ جات اور دریائی حفاظتی بندوں کا تفصیلی دورہ ۔کچہ میں امن وامان کی صورت حال ،پولیس کی حکمت عملی اورمجموعی کارکردگی کا جائزہ ۔ تھانہ بنگلہ اچھااور چیک پوسٹ شاہوالی کا وزٹ ۔جرائم پیشہ اوران کے سہولت کاروں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری رکھنے کا حکم ۔
تفصیلات کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر ڈی جی خان سید خرم علی نے ضلع راجن پورکچہ ایریا کا تفصیلی دورہ کیا ۔ایس ڈی پی او آفس بنگلہ اچھا پہنچنے پر ڈی پی او راجن پور احمد محی الدین نے آر پی او کا پر تپاک استقبال کیا۔ آر پی اوکی زیر صدارت سرکل آفس بنگلہ اچھا میں میٹنگ کاانعقاد ہوا ۔میٹنگ میں ڈی پی او راجن پور احمد محی الدین ، سرکل آفیسر اور سرکل کے تھانہ جات کےایس ایچ اوز نے شرکت کی ۔ڈی پی او راجن پور نے کچہ میں امن وامان کی موجودہ صورتحال ، پولیس کی مجموعی کارکردگی اور آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق آر پی او کو بریف کیا ۔ آر پی او نے میٹنگ میں کچہ کے علاقہ میں کرائم کی صورتحال اور پولیس کی آئندہ کی حکمت عملی کے تحت جرائم پیشہ عناصر اور ان کی کمین گاہوں کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا ۔اس موقع پر آر پی او نے احکامات جاری کیئے کہ کچہ کے علاقوں میں قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کارلاکر معاشرے کا امن پامال کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور اشتہاریوں و مفرور مجرمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ کارروائیاں عمل میں لائی جائیں ۔ قانون شکن عناصر کے خلاف کریک ڈاون جاری رکھے جائیں۔ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کےلیے ٹار گیٹڈآپریشن مزید تیز کیئے جائیں ۔ میٹنگ کے بعد آر پی او سید خرم علی نے تھانہ بنگلہ اچھا کا ملاحظہ کیا ۔ ملاحظہ کے دوران آرپی او نےتھانہ کے مینول اور آن لائن ریکارڈ کی تکمیل ،فرنٹ ڈیسک ،بلڈنگ ،اسلحہ خانہ ، مال خانہ اور صفائی ستھرائی کو چیک کیا اور ہدایات بھی جاری کیں۔آر پی او نےڈی پی او راجن پور کے ہمراہ ضلع راجن پور کےکچہ ایریا کے مختلف علاقہ جات کا تفصیلی دورہ کیا ۔ دورہ کے دوران آر پی او نے سونمیانی ،کچہ میانوالی ،بستی جھلن ، سپر وزیر ، چک کپڑا ، نوزبند، شاہوالی ،گڈوکے علاقہ جات اور دریائی حفاظتی بندوں کا تفصیلی دورہ کیا۔آر پی او نے کچہ ایریا کے علاقہ جات میں آن گراونڈ امن امان کی صورتحال اورمقامی آبادی کے تحفظ کے لیے پولیس کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔اس دوران ڈی پی او راجن پور احمد محی الدین نے کچہ ایریا میں امن وامان اور جرائم کی موجودہ صورتحال،پولیس کی موجودہ حکمت عملی ، کچہ ایریا میں تعینات نفری اور پولیس کوفراہم کردہ وسائل ،اسلحہ ایمونیشن ، وہیکلز وغیرہ سے متعلق آر پی او کو بریف کیا ۔آر پی او نےوزٹ کے دوران کچہ ایریا میں تعینات افسران و جوانوں سے ملاقات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف جوانمردی سے فرائض کی انجام دہی پر جوانوں کی کارکردگی کو سراہا ۔ آر پی او سیدخرم علی نے ہدایات جاری کیں کہ کچہ سے جرائم کے خاتمہ، امن وامان کے قیام اورجرائم کی شرح میں مزیدکمی لانے کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موئثر حکمت عملی کے تحت کاروائیاں جاری رکھی جائیں۔آر پی او کا مزید کہنا تھاکہ کچہ میں قیام امن کے لیئے پولیس کی کاوشوں کی بدولت خاطرخواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔کچہ ایریا سے جرائم پیشہ عناصر اور ان کےسہولت کاروں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ معاشرے میں نقص امن پیدا کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو ہرصورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔کچہ ایر یا وزٹ کے بعد آر پی او سیدخرم علی نے پنجاب اور سند ھ کے بارڈر پر واقع بین الصوبائی چیک پوسٹ شاہوالی کا وزٹ کیا ۔ آر پی او نے چیک پوسٹ پر سمارٹ ویری فیکیشن اینڈ الرٹ سسٹم (SVAS) )اور اینٹی وہیکل کار لفٹنگ سسٹم (AVLS) سمیت دیگر اہم سافٹ وئیرزکے ذریعے چیکنگ کے مراحل کا جائزہ لیا اور احکامات جاری کیئے کہ دوران چیکنگ تمام مراحل کی بذریعہ سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور ریکارڈنگ کی جائے ۔ جدید ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال کرتے ہوئے چیک پوسٹ سےگزرنے والے تمام شہریوں اور گاڑیوں کی چیکنگ کوہرصورت یقینی بنایا جائے ۔

-

ڈیرہ غازیخان: نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او سے ڈی ایس پی سرکل ہائے سمیت SHOs سے تعارفی میٹنگ
ڈیرہ غازیخانباغی ٹی وی(شہزادخان نامہ نگار) ڈی پی او محمد اکمل نے ڈی ایس پی سرکل ہائے سمیت SHOs سے تعارفی میٹنگ کی اور میٹنگ میں ضلع میں ہونے والے کرائم کی صورت حال کا جائزہ لیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او محمد اکمل نے ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز ضلع ہذا سے تعارفی میٹنگ کی اور ہر تھانہ میں ہونے والے کرائم کا جائزہ لیا۔ ڈی پی او نے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی کہ تھانوں کی سطح پر کرپشن کے خاتمہ میری اولینن ترجیح ہے جرائم کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں،ناجائز اسلحہ ، منشیات ، جوا کے خلاف ذیادہ سے ذیادہ کاروائیاں عمل میں لائی جائیں ۔حادثات کی روک تھام کے لیے تیز رفتار گاڑیوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔تھانوں میں تشدد،نجی ٹارچرسیل یا غیر قانونی حراست کسی صورت برداشت نہ ہے۔مجرمان اشتہاری ،عدالتی مفرروان کے خلاف زیادہ سے زیادہ کاروائیاں عمل میں لائی جائیں اور 15کی کال پر فوری ریسپانس کو یقینی بنائیں ، تھانہ جات کے مینول اور آن لائن ریکارڈ کی بر وقت تکمیل کریں۔ اس کے علاوہ تھانہ جات میں آنے والے سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں انہیں درپیش مسائل کا فوری ازالہ کریں۔ -

ڈیرہ غازیخان:کنٹریکٹر کی معذرت کر نے پر محکمہ بلڈنگز کے افسران و اہلکاران نے احتجاج اور قلم چھوڑ ہڑتال کو ختم
ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی(شہزادخان نامہ نگار)کنٹریکٹر کی طرف سے اپنے نازیبا رویہ کی معذرت کر نے پر محکمہ بلڈنگز کے افسران و اہلکاران نے احتجاج اور قلم چھوڑ ہڑتال کو ختم کر دیا ہے تفصیل کے مطابق کنٹریکٹر مشاہد حسین وغیرہ نے بلوں کے تنازعہ پر ایس ڈی او ملک مشتاق کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہو ئے بد تمیزی کا مظاہرہ کیا تھا جس پر بلڈنگز کے افسران و اہلکاران نے احتجاج کرتے ہو ئے دفتر کی تالہ بندی کر کے قلم چھوڑ ہڑتال کر دی تھی آج ایس ای سعید احمد اور ایکسئین سلیم شاہد نے مداخلت کرتے ہو ئے کنٹریکٹر مشاہد حسین اور ایس ڈی او ملک مشتاق حسین کے مابین صلح کرا دی ہے اس موقع پر کنٹریکٹر مشاہد حسین نے تحریری معافی نامہ بھی جمع کرایا ہے اسی بنا پر ہڑتال کو ختم کر دیا گیا ہے اس موقع پر ایس ڈی او غلام اصغر درانی ،سب انجینئر سفی اللہ و دیگر اہلکاران بھی موجود تھے ۔