باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ (نامہ نگار راجہ قریشی )ٹھٹھہ ڈاکوؤں کے حوالے ،ساکرو کے قریب ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر ڈرائیور سے سوزوکی پک اپ چھین لی،پولیس فرضی کارروائیوں مصروف
تفصیل کے مطابق میرپورساکرو کے نزدیکمسلح افراد نے یونس جوکھیو سے سوزکی پک اپ گن پوائنٹ پر چھین لی ہے ،مسلح ڈکیٹ پک اپ چھین کر لیٹ اسٹاپ سے لنک روڈ سے فرار ہوئے ، پولیس کو فوراََ اطلاع دی گئی لیکن تاحال آخری اطلاعات تک پولیس موقع واردات پر نہ پہنچ سکی اور ڈاکوؤں کا پیچھا بھی نی کیا گیا ہے دوسری طرف اب ضلع ٹھٹھہ عملاََ ڈاکوؤں اور چوروں کے حوالے ہوچکا ہے ، ایس ایچ او مکلی تھانے کی نااہلی کی وجہ سے مکلی شھر لٹیروں کے ہاتھوں یر غمال ہے ،اسی طرح ٹھٹھہ شھر میں ایس ایچ او ٹھٹھہ کی نا اہلی کی وجہ سے کل رات کراچی کی کوسٹر کو یرغمال بناکے زائرین سے نقدی ،موبائل فون اور دیگرقیمتی سامان لوٹ لیا گیا آج ساکرو شھر میں کھلے عام ڈکیتوں نے سوزکی پک اپ چھین لی،ایس ایس پی کی ناکام حکمت عملی اور نااہل ایس ایچ اوز کی وجہ سے ٹھٹھہ کی عوام یرغمال ہوچکی ہے ، عوامی وسماجی ومذہبی حلقوں نے ڈی آئی ضی حیدرآباد اور آئی جی سندھ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے-
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

ٹھٹھہ ڈاکوؤں کے حوالے ،ساکرو کے قریب ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر ڈرائیور سے سوزوکی پک اپ چھین لی
-

ٹھٹھہ :ماہی گیروں کاعالمی دن ، کینجھر جھیل کے کنارے پر کیک بھی کاٹا گیا
باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ (نامہ نگار راجہ قریشی)ماہی گیروں کاعالمی دن کینجھر جھیل کے کنارے پر کیک بھی کاٹا گیا
تفصیلات کے مطابق اکیس نومبر کو ماہی گیروں کے عالمی دن کے موقعہ پر کینجھر کنارے فشریز ڈپارٹمنٹ اور کینجھر کنزرویشن نیٹ کیجانب سے آج فشریز آفس پر کینجھر میں کیک کاٹا گیا اور کینجھر بیک یارڈ ہیچری میں افزائش نسل کے بیس ہزار مچھلی کے بیج کینجھر جھیل میں چھوڑے گئے اور کینجھر آفس میں پودے بھی لگائے گئے اس موقعہ پر اسسٹنٹ ڈائیریکٹر فشریز کینجھر کے انچارج ڈاکٹر غلام قادر جمالی، سندھ کی مشہور شخصیت اصغر کھوسو انچارج کینجھر بیک یارڈ ہیچری ڈاکٹر پرویز خان کینجھر کنزرویشن نیٹ ورک کے صدر انیس ہيلایو، جنرل سیکرٹری (کے سی این) ارشاد علی گندرو، پریس سیکرٹری انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ٹھٹہ سید شیر علی شاہ کاظمی، وقار ہیلایو، سلیم گندرو، لال محمد میر بحر، ایاز علی گندرو، فاروق احمد ہیلایو، اور دیگر ماہی گیروں اور علاقائی معززین نے شرکت کی۔ -

چونیاں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کیلئے رحمت اللعالمین ہیں
باغی ٹی وی ،چونیاں(نامہ نگار) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کیلئے رحمت اللعالمین ہیں آپ کی زندگی حسن سلوک سے بھری ہوئی ہے،ان خیالات کا اظہار علامہ مولانا قاری ظہور احمد نے چونیاں میں محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ جس نے سمجھ لیا ہے نام نبی شفا ہے دیکھو وہ بچ گیا ہے مرتے مرتے، تیرے شہر میں آؤں آقا تیری نعت پڑھتے پڑھتے۔ محفل میلاد النبی کا انعقاد رہائش گاہ ڈاکٹر طاہر شاہین میں کیا گیا نقابت کے فرائض محمد جمیل مدنی اور غلام مرتضی مدنی نے سر انجام دئیے محفل میں مہمان نعت خواں حاجی شوکت مدنی، حفیظ مدنی، افتخار مدنی، ڈاکٹر عمر مدنی، محمد شہزاد مدنی، جبکہ مقامی نعت خواں ملک عرفان، فیض الرسول شامل تھے جنہوں نے حضور کی شان میں گلہائے عقیدت پیش کئیے۔ حاجی شوکت مدنی نے کہا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میری عبادت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، والدین کا نعم البدل نہیں، پیار محبت سے والدین ایک بار دیکھنے سے ایک حج مقبول اور عمرے کا ثواب پہنچتا ہے۔اس موقع پر شہر کی سیاسی و سماجی شخصیات فیاض دھون ،صابر چوہدری، رانا سلمان، وقاص حیدر، چوہدری سرفراز کے علاوہ صحافیوں نے بھی بھرپور شرکت کی مہمانوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمارے لئے مشعل راہ ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آقا کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزریں،

-

چونیاں:بزرگ صحافی حافظ محمد شریف اشرف کی وفات پر جماعت اسلامی قصور کے رہنماؤں کا اظہار افسوس
باغی ٹی وی ،چونیاں (نامہ نگار)بزرگ صحافی حافظ محمد شریف اشرف کی وفات پر جماعت اسلامی ضلع قصور کے راہنماؤں کا اظہار افسوس،مرحوم کے درجات بلندی اور مغفرت کی دعا،تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی ضلع قصور کے امیر سردار نور احمد ڈوگر،سابق امیر چوہدری عبدالواحد،حافظ نزیر ایڈووکیٹ،راو اختر علی،غلام مصطفی مغل اور کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات حاجی رمضان نے ضلع قصور کے بزرگ صحافی و سابق ممبر ضلع کونسل قصور حافظ محمد شریف اشرف کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے ایثال ثواب دعائے مغفرت کی ہے تمام افراد کا کہنا تھا کہ مرحوم کی وفات سے ضلع قصور کی صحافتی برادری ایک مخلص بے لوث اور نڈر شخصیت سے محروم ہو گئی
-

چونیاں: میونسپل کمیٹی چھانگا مانگا کی بے حسی ،قبرستان روڈ تباہ حالی کا شکار ،جنازے لیکرجانا بھی مشکل ہوگیا
باغی ٹی وی چونیاں (نامہ نگار) میونسپل کمیٹی چھانگا مانگا کی بے حسی ،قبرستان روڈ تباہ حالی کا شکار ،جنازے لیکرجانا بھی مشکل ہوگیا
میونسپل کمیٹی چھانگا مانگا کی بے حسی کی انتہا،مین روڈ چھانگا مانگا قبرستان کو جانے والا واحد روڈ تباہ حالی کا شکار سیوریج کے پانی سے گزرتے ہوئے جنازہ کی ویڈیو وائرل،شہریوں کا ڈی سی قصور سے نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق چھانگا مانگا سیورج کے گندے پانی سے جنازہ کے گزرنے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے میونسپل کمیٹی کا پول کھل گیا علاقہ مکینوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گندے پانی سے گزرتے ہوئے کپڑے اور جسم ناپاک ہو جاتا ہے، روڈ پر گٹروں اور نالیوں کا پانی میونسپل کمیٹی چھانگا مانگا کی نااہلی اور بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے، محمد افضل، مطلوب احمد، رانا ماجد اور قاری فیض اللہ نے ڈی سی قصور فیاض موہل، اسسٹنٹ کمشنر چونیاں خرم حمید سے مطالبہ کیا ہے کہ فلفور نوٹس لیں اور سیوریج کے پانی کو نکالنے کیلئے موثر اقدامات کروائیں۔ -

پنڈی بھٹیاں ریجنل پولیس آفیسر گجرات ڈاکٹر اختر عباس کا ڈسٹرکٹ حافظ آباد کا دورہ
باغی ٹی ،پنڈی بھٹیاں(شاھدکھرل)تفصیلات کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر ڈاکٹر اختر عباس نے ڈسٹرکٹ حافظ آباد کا وزٹ کیا۔ عارف شہید پولیس لائنز آمد پر ڈی پی او حافظ آباد رائے مظہر اقبال نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔شہید عمر عثمان کی بیٹی منتہیٰ عمر ، لاریب عمر اور شہید دلبررزاق کے بیٹے محمد علی نے آر پی او گجرات ڈاکٹر اختر عباس کو پھولوں کے گلدستے پیش کئے۔عارف شہید پولیس لائنز آمد پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔آر پی او گجرات نے یادگار شہداءپر حاضری دی ، پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداءکے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ حافظ آباد پولیس کے 18شہداءنے سماج دشمن عناصر اور معاشرے کے ناسوروں سے لڑتے ہوئے اپنی قیمتی جانیں ملک و قوم کی خاطر قربان کی ہیں ، ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ہمارےشہداءمحکمہ پولیس کے ماتھے کا جھومر ہیں جنہوں نے ملک و قوم کے لئے اپنی جانیں قربان کیں بعدازاں آر پی او گجرات ڈاکٹر اختر عباس نے ڈی پی اوآفس میں ضلع بھر کے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کے ساتھ کرائم میٹنگ کی۔ کرائم میٹنگ میں آر پی او نے تمام ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔آر پی او نے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت کی کہ تمام زیر تفتیش مقدمات کو جلد از میرٹ پر یکسو کریں۔سنگین مقدمات خصوصاً قتل، اغوائ، ڈکیتی، راہزنی میں کارکردگی بہتر بنائیں غیر قانونی حراست اور کرپشن کی شکایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔مجرمان اشتہاریوں، عدالتی مفروران اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے ۔ بیرون ملک مفرور اشتہاری مجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے جائیں۔تمام ایس ایچ اوز پبلک اوور کے دوران تھانہ میں اپنی حاضری ہر صورت یقینی بنائیں۔ایس ایچ اوز تھانہ میں آنے والے سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں کرائم میٹنگ کے بعد آر پی او ڈاکٹر اختر عباس نے سنگین مقدمات کے مدعیان سے ملاقات کی اور ایس ایچ اوز کو تمام مقدمات جلد از جلد میرٹ کی بنیاد پر یکسو کرنے کی ہدایت کی آر پی او گجرات ڈاکٹر اختر عباس نے ڈی پی او آفس میںشجرکاری مہم کے تحت ایر و کیریا کا پودا لگایا آر پی او گجرات ڈاکٹر اختر عباس نے کی جانب سے ڈی پی او آفس میں کھلی کچہری کا انعقاد بھی کیا گیا۔کھلی کچہری میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔آر پی او گجرات نے فرداً فرداً شہریوں کے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لئے متعلقہ افسران کو احکامات جاری کئے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے آر پی او ڈاکٹر اختر عباس کا کہنا تھا کہ میرایہاں آنے کا مقصدہے کہ لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو۔کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہے۔شہریوں کو تحفظ دینا اور جرائم پیشہ عناصر کو عدالت مجاز سے سزا دلوانا پولیس کا فرض ہے۔پولیس افسران کےلئے لازم ہے اپنے رویوں میں بہتری لائیں اور عوام الناس کی خدمت کو اپنا اشعار بنائیں۔تمام پولیس افسران اپنی ڈیوٹی ایمانداری اور دیانتداری سے سرانجام دیں۔شہری بھی پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ جرائم کی بیخ کنی میں مدد مل سکے۔بعدازاں آر پی او گجرات ڈاکٹر اختر عباس نے تھانہ سٹی حافظ آباد کا وزٹ بھی کیا۔آر پی او نے تھانہ کے ریکارڈ ، فرنٹ ڈیسک، حوالات اور بلڈنگ کا جائزہ لیا۔

-

اپر چترال کے جونالی کوچ اور قاقلشٹ کےبیسیوں باشندوں کاسابق گورنر کے خلاف پرامن احتجاج،ہزاروں ایکڑ زمین کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ
اپر چترال کے جونالی کوچ اور قاقلشٹ میں ہزاروں ایکڑ زمین کا منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ۔
سابقہ گورنر پیر کرم علی شاہ نے جعلی اسناد کے ذریعے ہزاروں کنال زمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ اہالیان جونالی کوچ
ہم نے کوئی دھوکہ دہی نہیں کی یہ زمین پیر کرم علی شاہ کے پاس تین سو سالوں سے ہیں۔ مختار حاص پیر کرم علی شاہ
باغی ٹی وی چترال(گل حماد فاروقی)ضلع اپر چترال کے علاقہ جونالی کوچ کے بیسیوں باشندوں نے اپنے حق کیلئے ایک پر امن احتجاج اور بعد ازاں پریس کانفرنس کیا۔علاقے کے عمائدین نے کہا کہ گلگلت بلتستان کے سابق گورنر پیر کرم علی شاہ کے والد جمال علی شاہ نے ریاست چترال کے سابق حکمران مہتر چترال سے براستہ چترال ریاست دیر جانے کیلئے راہداری مانگی تھی جسے یہ راہداری مہتر چترال نے فراہم کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس راہداری کی نمبر کو سابق گورنر پیر کرم علی شاہ نے دو مرتبہ Tempering کرتے ہوئے اس کے ذریعے دھوکہ دہی کی کوشش کی اور اس کے ذریعے جعلی اسناد پیش کرتے ہوئے ہزاروں ایکڑ زمین پر قابض ہویے۔انہوں نے کہا کہ پیر کرم علی شاہ کے بیٹے نے جوڈیشل کونسل ڈپٹی کمشنر چترال کے محافظ حانہ میں ایک جعلی کاغذ رکھ کر اس کی نقل لیکر اس کے ذریعے جونالی کوچ میں زمین اپنے نام کردی۔جب اس پر ڈپٹی کمشنر لوئیر چترال نے انکوائیری کروائی تو وہ سند جعلی ثابت ہوا اور اس میں محافظ حانہ کا ریکارڈ کیپر شیر احمد اور اسکے سہولت کار محمد علی شاہ کے حلاف باقاعدہ مقدمہ درج کرکے ا ن کو عدالت سے سزا بھی ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیر کرم علی شاہ نے دوسری مرتبہ آرکائیو لایبریری پشاور میں بھی اس قسم کا Tempering یعنی دھوکہ دہی کی کوشش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیر کرم علی شاہ نے آرکائیو لایبریری کے ایک سند پر اس وقت کے چیف لایبریرین شاہ مراد جو چترال کا باشندہ تھا اس سے Attest کرواکے پہلے سند کی طرح چترال کے لینڈ سٹلمنٹ آفیسر یعنی افسر مال کے دفتر میں جمع کرکے اس کے ذریعے 85000 کنال زمین اپنے نام درج کروایا۔شوکت علی، دیدار احمد وغیرہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس وقت چترال سے منتحب رکن صوبائی اسمبلی پر لوگ شک کرتے ہیں کہ اس نے آرکائیو لائبریری سے اس جعلی سند پیر کرم علی شاہ کو حوالہ کرنے میں مدد کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس سند کو بھی پیر کرم علی شاہ کے ایک رشتہ دار سید اکبر حسین شاہ نے عدالت میں چیلنج کیا جب آرکائیور لائیبریر ی سے رابطہ کیا گیا تو ان کے پاس اس سند کا اصل موجود نہیں تھا اور اس سے ثابت ہوا کہ پیر کرم علی شاہ نے جو سند پیش کیا تھا وہ جعلی تھا۔
ان عمائدین نے یہ بھی الزام لگایا کہ پیر کرم علی شاہ چونکہ اس وقت گلگت بلتستان کے گورنر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء تھے اس نے اپنے احتیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس وقت کے لینڈ سٹلمنٹ افسر کے ذریعے یہ تحریر کروایا کہ یہ زمین ان کو قوم خوشامدے کے بزرگوں نے وقتاً فوقتاً یہ زمین تحفہ میں دیا ہے۔ ان لوگوں کا موقف ہے کہ اس افسر نے بھی غلط بیانی سے کام لیا ہے اور جس طرح پیر کرم علی شاہ کے پہلے دو سند جعلی ثابت ہوئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم خوشامدے والا سند بھی جعلی ہوگا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پیر کرم علی شاہ نے پہلے 85000 ہزار کنال زمین اپنے نام کروائی تھی۔جس کے سند جعلی ثابت ہونے پر 1100 کنال رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ بقایا زمین کی سند کو بھی پشاور ہائی کورٹ کے سوات دارلالقضاء بنچ میں چیلج کیا گیا اور اس کے بعد اس کے پاس 561 کنال زمین رہ گئی۔ تاہم سابق لینڈ سٹلمنٹ افسر نے اس کے کھاتہ کتونی میں 391 کنال زمین ڈوکن شال اور پولش گاز میں رہنے دیا جو غلط ہے۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم 54گھرانے ہیں مگر بے بس ہونے کی ناطے پیر کرم علی شاہ نے ہمارا حق ہم سے چھین لیا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ چرون کے حکیم نے جب قوم خوشامدے کے بارے میں جب غلط قسم کا تحریر پیش کیا تھا تو اس وقت کے حکمران یعنی مہتر چترال نے چرون کے حکیم کو اپنے عہدے سے 1932 میں معزول کیا تھا۔مگر 1948 میں وہ دوبارہ آکر پیر کرم علی شاہ کے حاندان سے مل کر ہماری زمین پر قبضہ جمایا اور چند لوگوں کو بھی زمین کی لالچ دیکر ان کو بھی اپنے ساتھ ملایا۔ ان متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلےٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس سلسلے میں جوڈیشل انکوائیری کی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے اور جن سرکاری افسران اور اہلکاروں نے پیر کرم علی شاہ کے ساتھ تعاون کرکے ان کو جعلی اسناد فراہم کی ہیں یا ان جعلی سندوں کے ذریعے اربو ں روپے کی زمین ان کے نام درج یا رجسٹری کرائی ہے ان کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے۔ان متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے شوکت علی، علی احمد، محمد علی اور ہیبت علی وغیرہ نے کہا کہ اگر کوئی غیر جانبدار، ایماندار افسر اس کی انکوایری کرے تو ہم اپنے حق میں تمام ثبوت اور اسناد پیش کرسکتے ہیں۔
ہمارے نمائندے نے ضلع اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر سے بھی ان متاثرین کے ہمراہ ان کے دفتر میں جاکر اس کیس کی اصل حقیقت جاننے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا حال ہی میں یہاں تبادلہ ہوا ہے انہیں اس کیس کے بابت زیادہ معلومات نہیں ہے تاہم انہوں نے متاثرہ لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کو تحریری درخواست دے اور اس کے ساتھ تمام دستاویزات ثبوت کے طور پر لگائے تو وہ اس کے بارے میں متعلقہ اداروں سے معلومات لیکر اس پر کاروائی کریں گے۔
ہمارے نمائندے نے صحافتی اقدار اور اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے دوسرے فریق کا بھی موقف جاننے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں پیر کرم علی شاہ کے بیٹے جلال علی شاہ سے رابطہ کرکے ان کا موقف لینا چاہا جس پر اس کے محتار حاص حیات حسین سے ان کے دفتر جو بونی میں واقع ہے جاکر ان سے معلومات حاصل کی۔ان کے ساتھ کوثر علی شاہ، روزگار ولی شاہ، سیدحسین شاہ بھی موجود تھے۔حیات حسین شاہ نے کہا کہ پیر کرم علی شاہ کے ساتھ ہمارا 2019 میں معاہدہ ہوا۔اس وقت اس کے محتار حاص سید باچا تھے جن ذریعے پیر کرم علی شاہ کے ساتھ ہمارا معاملہ طے پایا گیا۔اس وقت ابراہیم پیر زادہ اور برہان شاہ ایڈوکیٹ ہمارے مقابلے پر آکر انہوں نے ہماری محالفت کی۔حیات حسین نے بھی الزام لگایا کہ جوڈیشل کونسل ڈپٹی کمشنر لوئیر چترال میں وہ جعلی سند ابراہیم پیر زادہ اور برہان شاہ کی سازش کے تحت وہاں رکھا گیا اور بعد میں برآمد کراکر پیر کرم علی شاہ کے بیٹے کو بدنام کیا گیا۔اس وقت پیر کرم علی شاہ کے ساتھ ان کے ایک رشتہ دار اکبر حسین شاہ کا میراث کا کیس چل رہا تھا۔ اکبر حسین نے جولائی 2019کو ہمارے حلاف کیس کیا جو سول جج صاحب چترال کے عدالت میں ابھی تک چل رہا ہے۔ جبکہ برہان شاہ اور ابراہیم پیرزادہ کا کیس بستہ خاموشی میں چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جونالی کوچ کے اہلیان نے بیس اکتوبر2019 کو دارالقضاء سوات میں کیس کیا کہ پیر کرم علی شاہ اور قبضہ مافیا نے قاقلشت کے مقام پر 73000 کنال زمین پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔اس وقت وہاں پیر کرم علی شاہ وغیرہ گھر بنارہے تھے تو محالف فریق کو عدالت سے حکم امتناعی مل گئی۔15 جون 2020 تک یہ Stay order برقرار رہا اس کے بعد حتم ہوا۔اور اکیس، بائس پیشیوں کے بعد پیر کرم علی شاہ کے نام 782 کنال زمین رہ گئی جبکہ قاقلشٹ میں 84000 کنال زمین ہے۔پشاور ہائی کورٹ کے سوات بنچ یعنی دارلاقضاء سوات میں جو کیس دائیر کیا گیا تھا اس میں وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ، چیف سیکرٹری، ایس ایم بی آر، سیکرٹری مالیات، ہوم سیکرٹری،ضلعی انتظامیہ اور ہمارے حلاف بھی کیس دائیر کیاگیا۔جس پر دارلقضاء نے ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ طلب کی جس پر اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر نے افسر مال وغیرہ سے معلومات لیکر جواب دیا کہ قاقلشٹ میں 80000 کنال بنجر زمین پڑی ہے جس میں ایک ہزار کنال زمین سرکاری یعنی صوبائی حکومت کی ہے۔
جب سیلاب کی وجہ سے چند لوگوں کا گھر تباہ ہوا تھا تو انہوں نے قاقلشٹ میں گھر بنا یا تھا۔ اس کے بعد ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے ڈوکان شال میں 561کنال 16 مرلہ زمین پیر کرم علی شاہ کی ملکیت تسلیم کی۔اور یوں ہمیں 782 کنال زمین سٹلمنٹ آفیسر نے دیا۔ اس میں سے 166 کنال زمین منہٰی کردیا جو غیر ممکن پہاڑی ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ جب پیر کرم علی شاہ کے پاس اصل سند موجود تھا تو ان کو کیا ضرورت تھی کہ جوڈیشل کونسل ڈپٹی کمشنر کے محافظ حانہ سے ایک جعلی سند کو منسوب کرایا جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ برہان شاہ ایڈوکیٹ نے رکوایا تھا تاکہ پیر کرم علی شاہ کو بدنام کا جائے مگر اس سند پر پیر کرم علی شاہ کے نام جو زمین درج یا رجسٹری ہوئی اس کا کوئی حاطر حواہ جواب نہیں ملا۔ -

گوجرہ : پنجاب فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ ،ناقص مرچ اور ہلدی برآمد،دکاندار گرفتار،جیل منتقل
باغی ٹی وی ،گوجرہ (نامہ نگارعبد الرحمن جٹ کی رپورٹ) پنجاب فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ ،ناقص مرچ اور ہلدی برآمد،دکاندار گرفتار،جیل منتقل
تفصیل کے مطابق آج گوجرہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 157 گ ب چیتے میں فوڈ اتھارٹی کے انسپکٹر عمر فاروق و علی ر ضا کریانہ کی دکان پر چھاپہ مارا اور موقع پر تقریبا 21 تھیلے لال مرچ دھڑا مرچ اور ہلدی جس میں ناقص مٹیریل ڈال کر تیار کیا گیاتھا اور وہ دکانوں پر فروخت ہو رہی تھی جس پر انسپکٹر عمر فاروق اور ساتھ ٹیم احسان الہی اور علی رضا مکمل ٹیم نے کارروائی کرکے تقریباً ایک ہزار کلو مرچ برآمد کی اور وہ نزدیک ایک ویران جگہ جو انھی پولی سٹاپ مشہور ہے اس پر لیجا کر تمام مرچ کو دفن کیا گیا اس تمام کارروائی میں فوڈ اتھارٹی کی مکمل ٹیم نے پر زور محنت کرکے اس کو دفن کیا اور مکمل ٹائم وہی گزرا جس میں فوڈ انسپیکٹر عمر فاروق اور احسان الٰہی اور علی رضا شامل ہیں جو کہ موقع پر گاڑی نمبر LEG 3958 میں موجود اس پر گوجرہ کی ٹیم جس نے موقع پر کاروائی کرکے اس تمام مٹیریل کو ضائع کیا اور دکان مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کے موقع پر پکڑ لیا گیا اور اسے جیل بھیج دیا گیا. -

گوجرہ : تجاوزات ، راستے سکڑگئے،گندگی کے انبار،ڈینگی سمیت وبائی امراض پھیلنے کاخدشہ
باغی ٹی وی ،گوجرہ (نامہ نگارعبد الرحمن جٹ ) شہر میں تجاوزات ، راستے سکڑگئے،ہرطرف گندگی کے انبار،ڈینگی سمیت وبائی امراض پھیلنے کاخدشہ
تفصیل کے مطابق عرصہ درآز سے شہر میں صفائی مہم کاغذی اور تصویری حد تک محدود کردی گئی ہے ، شہر میں جگہ جگہ کوڑاکرکٹ کے ڈھیر اور ابلتے سیوریج نالے شہریوں کیلئے وبال جان بن گئے ۔میونسپل کمیٹی کےحکام اعلی افسران کو سب اچھا کی رپورٹ دینے میں مصروف، شہریوں کے ڈینگی سمیت وبائی امراض میں مبتلاء ہونے کاخدشہ ہے، وزیراعلی پنجاب اور ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ اسٹینٹ کمشنرگوجرہ کے واضح احکامات کے باوجود میونسپل کمیٹی گوجرہ کے حکام کی جانب سے صفائی مہم میں عدم دلچسپی کے باعث کاغذی کارروائی اور تصویریں بنانے تک محدود ہوچکی ہے جب کہ شہر میں صفائی کی ابترصورتحال پر شہری مشکلات کاشکار ہیں ۔سیوریج نالوں کی بروقت صفائی نہ ہونے پر نالیوں کاگندہ پانی سڑکوں اور گلیوں جن میں ٹاکی محلہ، کوٹ غلام محمد اور حفیظ پارک میں جمع ہونا معمول بن گیا ہے شہریوں کا کہناہے کہ میونسپل افسران کی غفلت کے باعث شہر کچراکنڈی میں تبدیل ہوچکاہے وہیں پر مبینہ طور پر دکانداروں سے بھتہ بھی وصول کیاجاتا ہے شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اندرون شہر اور مین سڑکوں پر ملازمین کی ملی بھگت سے جگہ جگہ چنگ چی سٹینڈ اور ریڑھیوں والوں کی عارضی تجاوزات اور میونسپل کمیٹی کے اپنے آفس سے چند قدم کی دوری پر دکانوں کے آگے موٹرسائیکلوں کے خودساختہ سٹینڈز کے باعث ٹریفک جیسے مسائل پیدا ہوچکے ہے جس پر مقامی افسران کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں شہریوں کا اسسٹنٹ کمشنر گوجرہ ۔ ڈی سی ٹوبہ ٹیک سنگھ ہیں اور کمشنر فیصل آباد سے فوری کارروائی کامطالبہ۔

-

سجاول. بس اسٹاپ روڈ پر چوری کی موبائل چرس، آئس، ہیروئن ودیگر منشیات سرعام فروخت اور جوئے کے اڈے قائم
باغی ٹی وی ،سجاول (نامہ نگار یاسر علی پٹھان)بس اسٹاپ روڈ پر چوری کی موبائل چرس، آئس، ہیروئین ودیگر منشیات سرعام فروخت اور جوئے کے اڈے قائم.
تفصیل کے مطابق سجاول میں مین بس اسٹاپ روڈ پر چوری کے موبائل فونز، چرس، آئس، ہیروئن کی کھلے عام فروخت جاری ہے اورجواآکڑا گیم کے سرعام اڈے چل رہے ہیں ،اسی طرح سجاول وارڈ نمبر 04 پرانے نیشنل بینک کے سامنے مین روڈ پر سرعام چوری کی موبائل، لیپ ٹاپ، چرس، آئس ، ہیروئن، آکڑا گیم کے اڈے چلائے جارہے ہیں ، اس کے چوری کا کافی سارا سامان یہاں خرید و فروخت کی جاتی ہے. مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ سے اس اڈے کے خلاف ضلع سجاول ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو ہم لوگوں نے درخواستیں جمع کروائی ہیں.لیکن پولیس کی آنکھیں نوٹوں کی چمک کی وجہ سے بند ہیں اس لئے یہاں پولیس نے کوئی بھی قانونی کارروائی نہیں کی،مکینوں کا مزید کہنا تھا کہ اس علاقے میں 2 ہسپتال اور کافی ساری دکانیں تھیں جوکہ جرائم پیشہ عناصر کی وجہ سے بند ہوگئیں ہیں اور کاروبار تباہ ہوچکے ہیں ،اس کے علاوہ نوجوان نسل تباہی کی طرف گامزن ہے ،صرف اس ان اڈوں کی وجہ سے عورتوں کا آنا جانا بہت مشکل ہوچکا ھے.عوامی وسماجی اور مذہبی حلقوں نے ایس ایس پی سجاول اور ایس ایچ او سجاول سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے.