Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • شیخوپورہ : پولیس ملازمان کے ڈسپلن اور ٹرن آؤٹ کو بہتر بنانے کے لیے پولیس پریڈ گراونڈ میں جنرل پریڈ

    شیخوپورہ : پولیس ملازمان کے ڈسپلن اور ٹرن آؤٹ کو بہتر بنانے کے لیے پولیس پریڈ گراونڈ میں جنرل پریڈ

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) شیخوپورہ ڈ سٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ فیصل مختار کی ہدایات پر پولیس ملازمان کے ڈسپلن اور ٹرن آؤٹ کو بہتر بنانے کے لیے پولیس پریڈ گراونڈ میں جنرل پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ضلع بھر سے پولیس افسران و ملازمان نے شرکت کی۔ڈی ایس پی سٹی سرکل رانا غلام عباس نے پریڈ کی سلامی لی اور معائنہ کیا۔ پولیس جوانوں کو اپنا ٹرن آوٹ مزید بہتر کرنے کی ہدایات کیں۔جنرل پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایس پی رانا غلام عباس نے کہا کہ جنرل پریڈ کا مقصد جوانوں کا ڈسپلن اور مورال کو بلند کرنا ہے اورسماج دشمن عناصرکو یہ باور کروانا ہے کہ ہم ہمہ وقت عوام کی جان ومال کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گئے ۔ محکمہ کے عزت میں اضافہ کے لیے تمام پولیس افسران اپنے فرائض کو نیک نیتی اور خوش اسلوبی سے سر انجام دیں. قانون کے نفاذ میں ایسا طریقہ کار اپنائیں جس سے عوام میں پولیس کا مورال بلند ہو.تھانہ میں آنے والے عوام کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آئیں۔تاکہ عوام اور پولیس کے درمیان دوریوں کو کم سے کم کیا جاسکے۔

  • بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ

    بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ

    بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ
    تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلدیاتی اداروں کا ماضی کبھی بھی تابناک نہیں رہا۔ جمہوری یا غیر جمہوری حکومیتں، ان سب ادوار میں بلدیاتی اداروں کیساتھ ہمیشہ سوتیلے پن کا سلوک کیا گیا۔ ماضی اور حال میں تمام وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی پالیسیوں اور برے رویوں سے نہ صرف مقامی حکومتوں کی تشکیل کی حوصلہ شکنی کی بلکہ ان مقامی حکومتوں کو چلانے میں بہت سی رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ کبھی صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی جنگ تو کبھی صوبائی حکومتوں کی جانب سے مقامی حکومتوں کو مالی وسائل فراہم نہ کیا جانا۔ جبکہ پاکستان کا آئین مقامی حکومتوں کے بارے میں واضح ہدایات و رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 32 کیمطابق ”ریاست(پاکستان) متعلقہ علاقوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل مقامی حکومتی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ایسے اداروں میں کسانوں، مزدوروں اور خواتین کو خصوصی نمائندگی دی جائے گی”۔ اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 A کے تحت ”ہر صوبہ، بذریعہ قانون، ایک مقامی حکومت قائم کرے گا۔ حکومتی نظام اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو سونپنا۔ اور مقامی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا”۔جبکہ موجودہ حالت زار یہ ہے کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی عوام مقامی حکومتوں سے عرصہ دراز سے محروم ہیں۔ آئین پاکستان میں درج واضح ہدایات و رہنمائی کے باوجود پاکستان کی جمہوری پارٹیوں / صوبائی حکومتوں کی جانب سے عرصہ دراز سے صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی عوام کو بلدیاتی اداروں سے محروم رکھنا انتہائی ظلم ہے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو ختم کردیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ چھ ماہ کے بعد قانون سازی کر کے نئے انتخابات کروائے جائیں گے اور پھر ایک آرڈیننس کے تحت اس مدت میں مزید سوا سال کی توسیع کردی گئی۔ یاد رہے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سنہ2016 میں ہوئے تھے اور ان اداروں کی پانچ سال کی مدت دسمبر 2021 میں پوری ہوئی، مگر 2018 کے بعد پی ٹی آئی نے جہاں 10 کروڑ سے زائد آبادی کے صوبہ پنجاب کو عثمان بزدار جیسے نالائق شخص کے حوالے کئے رکھا۔ وہیں پر صوبہ کی عوام کو مقامی حکومتوں سے محروم رکھا، جسکی بظاہر سادہ سی وجہ صوبہ پنجاب کے تقریبا تمام ضلعوں کی مقامی حکومتوں کے سربراہوں کا مسلم لیگ ن سے تعلق تھا۔رواں ہفتہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پنجاب حکومت کے رویے کو غیر سنجیدہ قرار دے دیا۔ اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کا جائزہ لیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن کے اجلاس میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ بل یکم نومبر کو منظور کرلیا ہے۔الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے ڈرافٹ رولز موصول ہوئے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت سے دیگر دستاویزات اور نقشہ جات تاحال نہیں ملے، معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پہلے بھی الیکشن کمیشن پنجاب میں 2 بارحلقہ بندیوں کی تکمیل کرچکا ہے، ان حلقوں پر آنے والے اخراجات قومی خزانہ پر بوجھ ثابت ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت کا رویہ غیرسنجیدہ ہے، بار بار قانون میں ترامیم کے باعث پنجاب میں الیکشن کا انعقاد نہیں ہوسکا۔ اعلامیے کے مطابق اب الیکشن کمیشن کو پنجاب میں تیسری بار حلقہ بندیاں کرنی پڑیں گی، الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ الیکشن 120 دن کے اندر کرانے کا پابند ہے۔ اعلامیے کے مطابق وزیر لوکل گورنمنٹ، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کو طلب کیا جائے گا۔ دوسری طرف صوبہ سندھ (خصوصا کراچی ڈویژن) کی عوام بھی عرصہ دراز سے مقامی حکومتوں سے محروم ہے۔ حیرانی اس بات پر زیادہ ہے کہ پاکستانی آئین کی خالق جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی بلدیاتی اداروں کے قیام میں حیلے بہانے تلاش کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار کے لئے سیلاب کی تباہ کاریوں کا مسئلہ بیان کیا جاتا ہے تو کبھی انتخابات کے انعقاد کے لئے مطلوبہ سیکورٹی کی عدم دستیابی کا بہانہ منظر عام پر آتا ہے۔ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی صوبائی حکومتوں کے رویوں سے بظاہر ایسا ہی محسوس ہورہا ہے کہ ان صوبوں میں بلدیاتی انتخاب کا انعقاد اور مقامی حکومتوں کا قیام مستقبل قریب میں بھی ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا۔ ایک طرف صوبائی حکومتوں کی مقامی حکومتوں کے قیام میں سست روی تو دوسری طرف ان صوبوں کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے خواب خرگوش میں پڑے رہنا بھی انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ مسلم لیگ ن وفاقی حکومت سنھبالنے اور حمزہ شہباز کی صوبائی حکومت ملنے اور ملنے کے بعد کھو جانے کی وجہ سے یا تو ابھی تک صدمے سے دوچار ہے یا پھر بظاہر ستو پی کر سو رہی ہے۔ صوبہ پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف سمیت اپوزیشن کی کسی بھی قدآور شخصیت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے قیام کے لئے آواز نہ اُٹھانا ان جمہوری جماعتوں کی نام نہاد جمہوری سوچ و اقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اتنی شدو مد سے صوبائی حکومت کو بلدیاتی انتخاب منعقد کروانے کے لئے پریشر ڈالتی دیکھائی نہیں دیتی۔یاد رہے پاکستان کے سب سے بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں مقامی حکومتوں کا قیام نہ ہونا سنگین آئین شکنی کے مترادف ہے۔ عوام اور حکام کے درمیان حائل خلیج میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دنیا جہاں کی ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں کی ترقی کی ایک وجہ انکے ہاں مضبوط مقامی حکومتوں کا قیام ہے۔ جس میں عوام الناس کو اپنے مقامی مسائل حل کروانے کے لئے صوبائی یا وفاقی حکومتوں کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبائی حکومتوں کیساتھ معاملات اُٹھائے جانے سے بظاہر یہ امید پیدا ہورہی ہے کہ کہ ان صوبوں میں جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

  • بجلی کی بندش پرچترال کے علاقے مروئی والا میں آل پارٹیز کانفرنس

    بجلی کی بندش پرچترال کے علاقے مروئی والا میں آل پارٹیز کانفرنس

    مقامی عمائدین نے متنبہ کیا کہ اگر یہ مسئلہ جلد سے جلد حل نہیں ہوا تو یہاں 24 گھنٹوں میں سے محض 3 ہی گھنٹے آنے والی بجلی کا بھی بائیکاٹ کر کے ہم سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
    چترال باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال کے علاقے مروئی بالا میں بجلی کے حصول کے لئے آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اہل علاقہ کی جانب سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے فوری طور پر بجلی فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔


    اس موقع پر سابقہ ایم این اے شہزادہ افتحار الدین مہمان خصوصی تھے جبکہ کانفرنس کی صدارت سابق ایم پی اے مولوی عبدالرحمان نے کی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں علاقے کے عمائدین نے کہا کہ صرف لوئیر چترال میں گولین بجلی گھر کے آس پاس کے علاقے 25000 آبادی پر مشتمل ہے مگر یہ لوگ پچھلے گیارہ مہینوں سے بجلی سے محروم ہیں۔ اس علاقے کو پہلے صوبائی محکمہ پی ای ڈی او کے ریشن پن بجلی گھر سے بجلی فراہم ہوتی تھی مگر 2015 ریشن بجلی گھر سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو ا اور چھ سال بعد 2021 میں دوبارہ بحال کیا گیا۔ اس دوران اس علاقے کو واپڈا کی بجلی گھر سے پیسکو بجلی فراہم کرتی تھی تاہم پچھلے سال صوبائی اور وفاقی محکمہ بجلی یعنی پی ای ڈی او اور پیسکو کے درمیان لائن لاس اور ٹیرف یعنی بجلی کی نرح پر جھگڑا پیدا ہوا۔ چونکہ واپڈا کی بجلی نہایت مہنگی ہے اور پیڈو کی بجلی اس سے سستی ہے جو صوبائی محکمہ ہے۔ اس جھگڑے کے نتیجے میں یہ علاقہ پچھلے گیارہ مہینوں سے بجلی سے محروم ہیں یہاں چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے بجلی آتی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان : تھانہ گدائی پولیس کی کارروائی صوبہ بلوچستان سے پنجاب لائی جانے والی چرس کی سمگلنگ ناکام،10 کلو چرس برآمد

    ڈیرہ غازی خان : تھانہ گدائی پولیس کی کارروائی صوبہ بلوچستان سے پنجاب لائی جانے والی چرس کی سمگلنگ ناکام،10 کلو چرس برآمد

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ غازی خان(شہزادخان) تھانہ گدائی پولیس کی کارروائی صوبہ بلوچستان سے پنجاب لائی جانے والی چرس کی سمگلنگ ناکام،10 کلو چرس برآمد
    تفصیل کے مطابق ایس ایچ او تھانہ گدائی علی محمد نے بتایا کہ اے ایس پی ایاز خان کی ہدایت پر منشیات فروشوں کے خلاف بھر پور کریک ڈاون جاری ہے اسی سلسلے میں مخبر کی اطلاع پر تھانہ گدائی پولیس نے ہائی ایس نمبر MNX/755 کو روکا تو ہائی ایس کا ڈرائیور جس کا نام علی داد ولد میاں خان ہائی ایس کو چھوڑ کر بھاگ گیا اور اس سے بھاگتے ہوئے ہاتھ میں اٹھایا ہوا گٹو گر گیا جس کی تلاشی لینے پر گٹو میں سے کل 10 کلو چرس برآمد ہوئی۔ تھانہ گدائی پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے مزید قانونی کاروائی شروع کر دی ہے۔اس موقع پر ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ایس پی انوسٹی گیشن غیور احمد خان کی ہدایت پر منشیات سمگلروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ایسے جرائم پیشہ افراد کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ : پولیس کی کارروائیاں،گٹکہ فروشوں کی شامت آگئی،کئی گرفتار

    ٹھٹھہ : پولیس کی کارروائیاں،گٹکہ فروشوں کی شامت آگئی،کئی گرفتار

    باغی ٹی وی،ٹھٹھہ( نامہ نگار راجہ قریشی)پولیس کی کارروائیاں،گٹکہ فروشوں کی شامت آگئی،کئی گرفتار
    تفصیل کے مطابق ایس ایچ او تھانہ جھرک سب انسپکٹر زاھد حسین شیخ بمعہ اسٹاف نے دوران گشت ٹنڈو حافظ شاہ کے قریب کارروائی کرکے 1 گھٹکہ فروش ملزم خمیسو عرف کمن دل کو 800 پیکٹ گھٹکہ ماوا سمیت گرفتار کرکے تھانہ جھرک پر مقدمہ درج کردیا۔
    مقدمہ: مقدمہ نمبر 74/2022 سیکشن 3,4,8 گھٹکہ ائیکٹ 2019 تھانہ جھرک اورایس ایچ او تھانہ گھارو انسپکٹر ممتاز علی بروہی بمعہ اسٹاف نے دوران گشت شیخ ترابی لنک روڈ پر کارروائی کرکے 1 گھٹکہ فروش ملزم سائیں داد میرںحر کو 300 پیکٹ گھٹکہ ماواسمیت گرفتار کرکے تھانہ گھارو پر مقدمہ درج کردیا۔مقدمہ : مقدمہ نمبر 147/2022 سیکشن 3,4,8 گھٹکہ ائیکٹ 2019 تھانہ گھارو جبکہ
    ایس ایچ او تھانہ ٹھٹہ انسپکٹر محمد اسلم گگو بمعہ اسٹاف نے دوران گشت عید گاہ لنک روڈ پر کارروائی کرکے 1 گھٹکہ فروش ملزم سرفراز کھنباٹی کو 300 پیکٹ گھٹکہ ماواسمیت گرفتار کرکے تھانہ ٹھٹہ پر مقدمہ درج کردیا۔مقدمہ : مقدمہ نمبر 291/2022 سیکشن 3,4,8 گھٹکہ ائیکٹ 2019 تھانہ ٹھٹہ اورایس ایچ او تھانہ مکلی انسپکٹر آغا ارسلا خان پٹھان بمعہ اسٹاف نے دوران گشت ولیج جمعوں بروہی کے قریب کارروائی کرکے 1 گھٹکہ فروش ملزم اعجاز علی بروہی کو 250 پیکٹ گھٹکہ ماوا سمیت گرفتار کرکے تھانہ مکلی پر مقدمہ درج کردیا۔مقدمہ: مقدمہ نمبر 182/2022 سیکشن 3,4,8 گھٹکہ ائیکٹ 2019 تھانہ مکل دوسری جانبایس ایچ او تھانہ جھمپیر سب انسپکٹر اختیار علی پنھور بمعہ اسٹاف نے دوران گشت جھمپیر شہر میں کارروائی کرکے 1 گھٹکہ فروش محمد اسلم پالاری کو 250 پیکٹ گھٹکہ ماواسمیت گرفتار کرکے تھانہ جھمپیر پر مقدمہ درج کردیا۔
    مقدمہ : مقدمہ نمبر 38/2022 سیکشن 3,4,8 گھٹکہ ائیکٹ 2019 تھانہ جھمپیر۔

  • ٹھٹھہ : اسلام پور غنی محلہ کی مسجد  سے  بیٹری چوری

    ٹھٹھہ : اسلام پور غنی محلہ کی مسجد سے بیٹری چوری

    باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ( نامہ نگار راجہ قریشی) اسلام پور غنی محلہ کی مسجد سے بیٹری چوری
    تفصیل مطابق ٹھٹھہ شہر کے غنی محلہ کی مسجد سے نامعلوم نشئی نے مسجد کا دروازہ توڑ کر بیٹری چوری کرلی ہے دوسری جانب وہاں کے شہریوں کا کہناہے کہ ہم آئس کے نشئیوں سے تنگ آگۓ ہیں، شہر میں چوری کی واداتیں بڑھتی جا رہی ہیں پولیس آئس کے نشائیوں کو تھوری دیر کے لۓ پکڑتی ہے پھر چھوڑپھرانہیں دوبارہ چوریاں کرنے کیلئے آزاد چھوڑ دیتی ہےجس شہر میں چوری کی واداتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے،عوامی وسماجی حلقوں نے ایس ایس پی ٹھٹھہ سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے.

  • تونسہ : محکمہ بلڈنگ کے درجنوں ٹھیکیداروں کا  آفیسران اور منظورنظر ٹھیکیدار کے خلاف پریس کلب میں احتجاج، نعرے بازی، انکوائری اور کارروائی کا مطالبہ

    تونسہ : محکمہ بلڈنگ کے درجنوں ٹھیکیداروں کا آفیسران اور منظورنظر ٹھیکیدار کے خلاف پریس کلب میں احتجاج، نعرے بازی، انکوائری اور کارروائی کا مطالبہ

    باغی ٹی وی تونسہ شریف (نامہ نگار) محکمہ بلڈنگ کے درجنوں ٹھیکیداروں کا آفیسران اور منظورنظر ٹھیکیدار کے خلاف پریس کلب میں احتجاج، نعرے بازی، انکوائری اور کارروائی کا مطالبہ
    تفصیل کے مطابق محکمہ بلڈنگ کے درجنوں ٹھیکیداروں نے یونین کے ٹھیکیدار دوست محمد ، مظہر خان، موسی خان قیصرانی ، حافظ محمد اکبر، مظہر خان ،طاہر مسعود ،حافظ یوسف، الخیر بزدار، نذر محمد ،محمد حنیف۔واحد بخش ،عیدالناصر بزدار، لعل دین ،عاشق بزدار ،سمیع اللہ بزدار ،محمد شریف سنجرانی ،محمد رفیق ،صلاح الدین سیفی برادر، اسماعیل قیصرانی ،رمضان قیصرانی، این بلوچ ڈی سینٹ کنسٹرکشن غلام اکبر آفتاب بزدار کی قیادت میں پریس کلب میں احتجاج کیا اور بتایا کہ محکمہ میں سالوں سے ایک ہی ٹھیکیدار اسرار ندیم کو کوٹیشن۔ریپئرنگ کے ٹھیکے دئے جا رہے ہیں۔ اسرار ندیم محکمہ بلڈنگ کے آفیسران کے چہیتے ہیں اور کروڑوں کے ٹھیکے صرف ایک ہی ٹھیکیدار کو دئے جا رہے ہیں کیا محکمہ میں صرف ایک ہی ٹھیکیدار ہے ۔ محمکہ میں فرضی ملازمین اپنے رشتے دار بھرتی کرا رکھے ہیں۔ جن کے نام پر تنخواہیں وصول کررہا ہے ۔ ججزکے نام پر دھمکیاں دیتا ہے۔ بلیک میل کرتا ہے۔ سرکاری جیپ بھی اونے پونے داموں بیچ چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا فوری پر انکوائری اور اینٹی کرپشن سے محکمہ بلدنگ کا ریکارڈ قبضہ میں لیکر کارروائی کی جائے۔ اگر ٹھیکیدار اسرار کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کردیں گے

  • ٹھٹھہ :مکلی ٹاؤن کمیٹی کا نائب قاصد،6 ماہ سے تنخواہ سے محروم ،گھر میں فاقہ کشی،تنخواہ دلوائی جائے -ریاض سولنگی

    ٹھٹھہ :مکلی ٹاؤن کمیٹی کا نائب قاصد،6 ماہ سے تنخواہ سے محروم ،گھر میں فاقہ کشی،تنخواہ دلوائی جائے -ریاض سولنگی

    باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ(نامہ نگار راجہ قریشی)مکلی ٹاؤن کمیٹی کا نائب قاصد،6 ماہ سے تنخواہ سے محروم ،گھر میں فاقہ کشی،تنخواہ دلوائی جائے -ریاض سولنگی
    تفصیل کے مطابق ٹھٹھہ آمری اسٹاپ کا رہائشی ریاض سولنگی جو گذشتہ دو سال سے مکلی ٹاؤن کمیٹی میں نائب قاصد اپنی ڈیو ٹی کر رہا ہے لیکن گذشتہ 6 ماہ سے اس کی تنخواہ بند کر دی گئی ہے ،اس کے گھر میں بچے فاقہ کشی پرمجبور ہوگۓ ہیں ، مکلی ٹاؤن کمیٹی کے ایڈ منسٹریٹر کی جانب سے6 ماہ سےتنخواہ نہیں مل رہی ریاض سولنگی نے کتنی مرتبہ ہاتھ جوڑ کر مکلی ایڈمنسٹریٹر کوتنخواہ کیلئے گذارش بھی لیکن آفیسر کو اس پر رحم نہیں آیا،نائب قاصد ریاض سولنگی نے ٹھٹھہ کے عوامی نمائندوں ایم پی اے اور ایم این اے اور ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ اور ارباب اختیارسے اپیل کی ہے کے مجھے 6ماہ کی تنخواہ دلائی جاۓ اور میرے بچوں کو فاقہ کشی سے بچایا جاۓ .

  • شیخوپورہ جیل میں 302 کا قیدی جیل انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گیا

    شیخوپورہ جیل میں 302 کا قیدی جیل انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گیا

    باغی ٹی وی:شیخوپورہ (محمد طلال سے) شیخوپورہ جیل میں 302 کا قیدی جیل انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گیا۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والے 37 سالہ عامر شہزاد نامی قیدی گوجرنوالہ کا رہائشی تھا۔ جاں بحق ہونے والے قیدی نے 18سال سے زائد سزا کاٹ لی تھی اور 1ماہ بعد رہا ہونے والا تھا۔لواحقین شیخوپورہ جیل کی بیرک میں طبیعت خراب ہونے کے بعد منت سماجت کرتا رہا کہ مجھے ہسپتال لے جاؤ مگر کسی نے نہ سنی۔ذرائع کافی ٹائم گزرنے کے بعد جیل میں موجود ہسپتال میں رکھا گیا مگر جیل میں ایمرجنسی علاج کی سہولیات نہ ہونے سے طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ جاں بحق ہونے والا عامر 15دن بخار اور دمے سے بیرک میں سسکتا رہا مگر انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔لواحقین
    ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ جب منتقل کیا گیا تب تک عامر کی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی تھی ۔ ہسپتال پہنچنے کے چند لمحوں بعد عامر خالق حقیقی سے جا ملا۔ اگر میرے بھائی کو ٹائم پر ہسپتال منتقل کیا جاتا تو اس کی جان بچ سکتی تھی لواحقین۔ پولیس نے لعش کو پوسٹمارٹم کے ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا ہے۔لواحقین نے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری کروا کر زمہ دار کو سزا دی جائے ۔

  • گوجرخان :گیس کی لیکج سے دھماکہ، 27سالہ خاتون جاں بحق

    گوجرخان :گیس کی لیکج سے دھماکہ، 27سالہ خاتون جاں بحق

    گوجرخان باغی ٹی وی( نامہ نگار شیخ ساجد قیوم ) آج صبح گوجرخان کی نواحی آبادی ڈھوک گاڑ میں گیس لیکج دھماکہ کے دوران زخمی ہونے والی 27 سالہ خاتون دم توڑ گئی، زخمی ہونے والی خاتون اور 2سالہ کمسن بچے کو تشویشناک حالت میں راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خاتون خالق حقیقی سے جا ملی ،گیس دھماکہ کے باعث گھر کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا ،حادثہ کی اطلاع ملنے پر 1122ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائی میں حصہ لیا،یہ ہولناک حادثہ سوئی گیس کے عملے کی غفلت ولاپرواہی کے باعث رونما ھوا،جس سے ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہوگئی جبکہ بچی کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے ،عوامی وسماجی حلقوں اعلیٰ حکام سے حادثہ کاباعث بننے والے غفلت ولاپرواہی کے مرتکب سوئی گیس ملازمین کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا ہے.