باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ (راجہ قریشی نامہ نگار)کراچی پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشددگرفتاریاں اور ناجائز ایف آئی آر کے خلاف مکلی سول ہسپتال میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ملازمین کے سرپرست حاجی اشرف خشک، عبدالکریم بھانڈ، حاجی ابراہیم سمیجو،انور جاکھرو، بچل پنھور،کی زیر نگرانی میں مطالبات کیا کے رسک الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری ان کو ٹائم اسکیل سروس اسٹریکچر دے کر پریشانی سے بچایا جاۓ اور ان کے جائز مطالبات مانے جائیں یاد رہے کہ12 نومبر کوکراچی میں پولیس نے اپنے مطالبات کے کی منظوری کے لیے احتجاج کرنے والے سرکاری طبی ملازمین پر لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے 25 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ محکمہ صحت سندھ کے ملازمین کے مشترکہ پلیٹ فارم گرانڈ ہیلتھ الائنس کے احتجاج میں شریک مظاہرین نے حکومت کی طرف سے ہیلتھ رسک الاؤنس کو تنخواہ میں شامل نہ کرنے کے خلاف نماز جمعہ کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کا انتباہ کیا تھا جہاں سندھ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے تشدد کرتے ہوئے ان پر واٹر کینن کا استعمال کیا۔ملازمین کا یہ الائنس پیر سے سندھ سیکریٹریٹ کے باہرمسلسل احتجاج کررہا ہے
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

جتوئی : تحصیل میں3 گروپ سراقتدار ، ترقیاتی کام زیرو، عوام بھی آئندہ انتخابات میں اپنی پاوردکھانے کو تیار
باغی ٹی وی ،جتوئی( نذیر شجراء کی رپورٹ)تحصیل جتوئی میں تین گروپ سراقتدار ترقیاتی کام زیرو عوام بھی اپنے فیصلے خود کرنے پر تیار
تفصیلات کے مطابق تحصیل جتوئی دو دریاؤں کے درمیان ایک زرعی علاقہ ہے جہاں کئی قومیں بستی ہیں ان میں جتوئی قوم کا ایک جانا پہچانا نام ہے اس نام سے تحصیل جتوئی منسلک ہے جتوئی بزرگ سردار کوڑا خان ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے اپنی ساری جائیداد زرعی رقبہ چراسی ہزار کنال اراضی گورنمنٹ اوقاف کو وقف کر دی ، جہاں مظفر گڑھ کے تمام سرکاری دفاتر اسکول کالج سردارکوڑے خان کی وقف کردہ اراضی میں واقع ہیں لیکن جتوئی سیکڑوں لاٹیں ہیں جن کی ہر تین چار سال بعد ٹھیکہ پر دی جاتی ہیں اس رقبہ کی آمدنی کروڑوں روپے ڈی سی ، اے سی اور دوسرے افسروں کے پیٹ کے دوزخ میں جاتی ہے لیکن تحصیل جتوئی پھر بھی اس رقم سے محروم ہو کر رہ جاتی ہے نہ تو کوئی ٹرسٹ ہے ،اگر بات کی جائے زرعی اراضی کی تو ہر سال دریائے سندھ اور دریائے چناب کی نذر ہو جاتی ہے جس سے تحصیل جتوئی ایک پسماندہ علاقوں میں شمار ہوگیا ہے جس کی اصل وجہ دریائے سندھ اور دریائے چناب پر سپر بند نہ ہونا سپر بند نہ ہونے کی وجہ مقامی ایم پی اے، ایم این اے ہیں – آج پوری تحصیل جتوئی کے سیاسی وڈیرے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اگر لغاری سرداروں کی طرف دیکھیں تو ایم پی اے خرم لغاری حلقہ پی پی 275 نے کئ بار سپر بند کا افتتاح کیا لیکن سپر بند نہ بن سکا وہ خود نئی شادی کے بندھن میں بندھ گیا ، تین بار افتتاحی تقریب سے خطاب کیا، تین بار سپر بند نہ بنا، تین بندھن بن گئے، 2018 کے الیکشن میں حلقہ پی پی 272 سے باسط سلطان بخاری ایم پی اے اور این اے 185کی دونوں نشستوں سے کامیاب ہوئے اسے ایک نشست چھوڑنا پڑ گئی حلقہ پی پی پی 275میں اپنی والدہ کو الیکشن لڑنے پر امادہ کیا توآمادہ ایسا کیا کہ ماں کو اپنے چھوٹے بیٹے ہارون بخاری کے مدمقابل الیکشن میں میدان مار لیا، باسط بخاری نے حلقہ کی عوام کی جانب رخ نہ موڑا عمران خان کی حکومت ختم ہونے پر ان کو خاص طور پر لوٹوں میں شمار میں اہم کردار رہا الیکشن کمیشن کی جانب سے لوٹوں کا کردار ادا کرنے پر انکی والدہ زہرابتول کو ڈی سیٹ کر کے دوبارہ الیکشن کروایا تو باسط بخاری اپنی بیگم کو الیکشن لڑنے کیلئے دھکیل دیا تو انکے مدمقابل باسط کابھائی ہارون بخاری اگیا ساتھ جتوئی خاندان کےسابق ایم این اے معظم جتوئی بھی آگئے بخاری خاندان میں نفرتیں مزید بژھ گیں باسط بخاری کو انکی والدہ نے منت سماجت کی کہ اب اپ اپنے چھوٹے بھائی ہارون کو ضمنی الیکشن لڑنے دیں لیکن اقتدار کے مزے لینے والے عوام کی بات کال نہ سننے والے فرعونیت کے مالک کو الیکشن میں شکست کھانی پڑی ، پھر بھی عوام کو چھوڑ کر چلے گئے ،معظم جتوئی الیکشن جیت گئے اب جتوئی تحصیل میں لغاری ایم پی اے. ،جتوئی. ایم پی اے. ،بخاری ایم این اے تین گروپ برسر اقتدار، کام زیرو ،نہ ہسپتالوں کا نظام بہتر ، نہ تھانوں کا نظام صحیح ،نہ پرائس کنٹرول کا عملہ صحیح ،تھانوں میں ٹاؤٹوں کا راج ہے اسسٹنٹ کمشنر جتوئی کی سیٹ خالی ہے اگر کوئی تعینات ہو بھی گیا تو صرف سیاسی لٹیروں کی خدمت گذاری کے لیے ہو گا. -

ڈی آئی خان: قانون نافذ کرنے والے اداروں نےتخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، 04 دہشتگرد ہلاک، بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد
باغی ٹی وی ،ڈی آئی خان(احمدنواز مغل کی رپورٹ)سی ٹی ڈی سیکورٹی فورسز اور حساس اداروں کا مشترکہ آپریشن، تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، 04 دہشتگرد ہلاک، بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد
تفصیلات کے مطابق ڈیرہ پولیس اور سی ٹی ڈی پولیس نے حساس اداروں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ملکر تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود مڈی کے علاقے میں اہم اور کامیاب کارروائی عمل میں لائی ہے.،تھانہ کلاچی کی حدود مڈی کے علاقے میںڈیرہ پولیس، سی ٹی ڈی اورسیکورٹی فورسز کا دہشتگردوں کیساتھ مقابلہ ہواہے.جہاں دہشتگردوں نے پولیس اور سیکورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی، جوابی فائرنگ اور I.D بلاسٹ سے مجموعی طور پر 04 دہشتگرد موقع پر ہلاک ہو گئے،پولیس اور سیکورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے، دہشتگرد پولیس فورس پر حملوں اور دیگر کئی تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے، ہلاک دہشتگرد تخریب کاری کا بڑا منصوبہ بنا رہے تھے جس کو ناکام بنا دیا گیا، حملہ آوروں کی ہلاکت کے بعد BDS ٹیم نے بارودی اور دیگر ہتھیار جن میں 05 عدد ایس ایم جی، 07 عدد ہینڈگرنیڈ، میگزینز،موبائل فون، موٹر سائیکل سمیت روزمرہ زندگی کا دیگر سامان اور اشیاء خوردونوش برآمد کر لیں۔پولیس ترجمان کے مطابق پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچآپریشن شروع کر دیا ہے -

گوجرہ : نان سٹاپ ڈکیتی کی وارداتیں ،ایزی پیسہ شاپ کے مالک سے ڈکیت گن پوائنٹ پر لاکھوں روپے لوٹ کر فرار
باغی ٹی وی ،گوجرہ(عبدالرحمن نامہ نگار) نان سٹاپ ڈکیتی کی وارداتیں ،ایزی پیسہ شاپ کے مالک سے ڈکیت گن پوائنٹ پر لاکھوں روپے لوٹ کر فرار
تفصیل کے مطابق گوجرہ میں ریلوے پھاٹک روڈ پرگوجرہ ذیشان پیراگون ٹریڈ کمپنی اینڈ محسن پی سی او کے نام سے ایک دکان پر دو مسلح ڈاکو جو کے موٹر سائیکل 125پر سوار تھے ان میں سے ایک نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا انہوں نے ذیشان ٹریڈنگ کمپنی محسن پی سی او کی دکان پر آکر ڈکیتی کی جہاں انہوں نے مالک دکان محمد نوید سے مبینہ طور پر 12 لاکھ روپے اور اس دکان پر آئے ہوئے دوگاہکوں سے تین لاکھ روپے تقریباََ گن پوائنٹ پر چھین لیے اور ڈکیتی کی کامیاب وردات کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، مقامیدکاندار سراپا احتجاج مقامی پولیس کارروائی کاآغاز کردیا ہے- -

گوجرہ : ٹرک کا ٹائی راڈ کھلنے سے سکول وین سے ٹکر، ڈرائیور سمیت 6 بچے شدید زخمی
باغی ٹی وی ،گوجرہ (نامہ نگار) ٹرک کا ٹائی راڈ کھلنے سے سکول وین سے ٹکر، ڈرائیور سمیت 6 بچے شدید زخمی
تفصیل کے مطابق گوجرہ جھنگ موچی والا روڈ نزد اڈا تن پلیا ہر سکول بچوں والد کیری ڈبہ 784 جو چک 415 سے سکول کے بچوں کو لیکر گوجرہ کی طرف آیا تھا ۔ ٹرک کا اچانک ٹائی راڈ کھلا اور ٹرک بے قابو ہو کر سامنے سے آنے کیری ڈبے سے جا ٹکرایا ۔ ٹرک ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا ۔ زخمیوں کو سول اسپتال پہنچا دیا گیا،کیری ڈبہ ڈرائیور افتخار ولد محمد طفیل جس کی عمر40 سال ہے جوکہ چک 493 کارہائشی ہے کی دائیں ٹانگ فریکچر اور شدیدچوٹوں کے الائیڈ ہسپتال ریفرکردیاگیا ،طالب علم نعمان اکرم محمد اکرم عمر 15سال تک چک300 سر پر زخم الائیڈ ہسپتال ریفر، اعجاز اختر اعجاز چک 415 عمر13 سال الائیڈ ہسپتال ریفر ،ایمان فاطمہ دختر زبیر عمر 18 سال چک 415 کی رہائشی جسے معمولی چوٹیں آئیں،حامد زبیر عمر 12 سال چک 415 معمولی چوٹیں،معظم اختر لد محمد اختر 415 عمر 14 سال معمولی چوٹیں،جن بچوں کومعمولی چوٹیں آئیں ریسکیو 1122 نے فرسٹ ایڈ مرہم پٹی کرکے گھروں کوروانہ کردیا- -

آئی جی سندھ کا منشیات فروشوں کے خلاف ایکشن کا حکم ، ٹھٹھہ پولیس کیلئے کمائی کی نوید لایا
باغی ٹی وی ٹھٹھہ (نامہ نگار راجہ قریشی)آئی جی سندھ کا منشیات فروشوں کے خلاف ایکشن کا حکم ، ٹھٹھہ پولیس کیلئے کمائی کی نوید لایا
تفصیل کے طابق آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی حیدرآباد کی جانب سے جاری انسداد منشیات آپریشن ٹھٹھہ پولیس کی کمائی کا ذریعہ بن گیا ہے۔نئی جمبو ماو اکی بھاری مقدار میں کراچی سے ضلع ٹھٹھہ میں متعارف کرائی گئی ہےذرائع کاکہناہے کہ بابا تمباکو پان مسالہ ایک پرانا ایٹم ہے جو ماضی میں انسانی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو چکا ہے۔کراچی کے شریف نامی شخص نے ایک بار پھر ضلع ٹھٹھہ پولیس سے 10 لاکھ روپے ہفتہ کے حساب سے ڈیل کی ہے،اس ڈیل کے نتیجے میں زور و شور سے منشیات کی سپلائی بغیر کسی روک ٹوک جاری ہے ،ٹھٹھہ پولیس نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی حیدرآباد کوماموں بناتے ہوئے جعلی کارروائیاں ریکارڈ کاحصہ بنادیاہے ،عوامی و سماجی حلقوں نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی حیدرآباد سے پولیس کی ان کالی بھیڑوں کے ایکشن لینے کامطالبہ کیا ہے .تاکہ نوجوان نسل کوتباہ ہونے سے بچایاجاسکے. -

شیخوپورہ : ٹی ایچ کیو ہسپتال مریدکے میں کرپٹ مافیاء کاراج، ادویات ،برائنولہ ، آئی وی سیٹ اور ڈرپس غائب،مارکیٹ میں فروخت کا انکشاف
باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) شیخوپورہ تحصیل مریدکے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری ادویات سمیت برنولا آئی وی لائن ڈریپیں غائب مارکیٹ میں فروخت کا انکشاف ہسپتال میں ملازمت کرنے والوں نے کلینک کھول کر لیبارٹری ٹیسٹ ہسپتال سے کروا کر سرکار کو چونا لگانا شروع کر دیا ہسپتال سے ایل سی ڈیز اے سز اور آوٹ ڈور چوری پرائیویٹ افراد ڈاکٹر بن کر مریضوں کو چیک کرنے لگے پارکنگ اسٹینڈ نہ ہونے سے درجنوں موٹر سائیکل چوری شہریوں کا وزیراعلی وزیر صحت چیف سیکرٹری پنجاب سے نوٹس کا مطالبہ تفصیلات کےمطابق لاکھوں کی آبادی میں تحصیل ہسپتال کا کروڑوں روپوں فنڈ رکھنے والا ہسپتال بے ضابطگیوں کا شکار ہونے لگا ہسپتال سے ادویات غائب ڈاکٹروں نے مریض چیک کرنے کا ٹوکن سسٹم لگا دیا ہسپتال سے اے سیز اور آوٹ ڈور سمیت ایل سی ڈیز چوری ہو گئی لیبارٹری ٹیسٹ کرنے والے اسٹاف نے اپنے اپنے علاقوں میں کلینک قائم کر لیے اور مریضوں کے ٹیسٹ ہسپتال کی لیبارٹری سے کر کے سرکار کو چونا لگانا شروع کر دیا ڈاکٹرز مریضوں کو باہر سے ملنے والی ادویات لکھنے لگے جن میں کمیشن ملتی ہو عرصہ دراز سے پارکنگ اسٹینڈ نہ ہونے سے اسٹاف سمیت مریضوں کیساتھ آئے افراد کی درجنوں موٹر سائیکل چوری ہو گئی ہسپتال کے دروازے کے آگے سروس روڈ پر غیر قانونی کینٹین عرصہ دراز سے قائم جسکا کرایہ ہسپتال انتظامیہ وصول کرنے لگی ہسپتال میں کرپٹ ڈاکٹر تعینات کر دیئے گئے شہریوں نے وزیرِاعلیٰ پنجاب وزیر صحت پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب سیکرٹری صحت سے بے ضابطگیوں پر فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے
-

ٹھٹھہ : رکشے کی ٹکرسے نہر میں گرنے والے شخص کی لاش 6 دن بعد نیوی نے نکال لی
باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ (راجہ قریشی نامہ نگار) رکشے کی ٹکرسے نہر میں گرنے والے شخص کی لاش 6 دن بعد پاکستان نیوی نے نکال لی ہے
تفصیل کے مطابق 6 دن پہلے چھتو چنڈ کے نزدیک چنگ چی رکشہ کے ٹکر سے نہر میں گر کر ڈوبنے والے عبدالطیف ہیجب جاکھرو کی لاش درگاہ ستیوں کے ڈی اے نالے کے پاس گاؤں عثمان لاکھو کے پاس سے نیوی آپریشن میں مل گئی ہے ،لاش کو مکلی ہسپتال میں ضروری قانونی کاروائی کے بعد ورثاءکو کے حوالے کی گئی ،لاش گھر پہچنے پر کہرام مچہ گیا، دوسری جانب 6دن گزرنے کے باوجود کوئی کیس داخل نہ ہو سکا ،نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی جا سکی، فوت ہونے شخص کے ورثاء نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں انصاف دلایا جاۓ. -

ٹھٹھہ : مختیاکار منگھو پیراعجاز چانڈیوکے قتل پر ریونیو ملازمین سراپا احتجاج
باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ ( راجہ قریشی نامہ نگار)کراچی میں قبضہ مافیہ کے اپریشن کرنے پر مختیاکار منگھو پیراعجاز چانڈیو کو قبضہ مافیاء نے گولیاں ماکر قتل کرنےکے واقعہ کے خلاف ٹھٹھہ ریونیو کے ملازمین سراپا احتجاج
تفصیل مطابق مکلی میں ڈی سی آفس کو تالا لگا کر مختیار کار اور اسسٹنٹ مختیار کار اور ریونیو ملازمین نے ہڑتال کر کے ڈی سی آفس کے پاس احتجاج جی دھرنا اورنعرے بازی کی گئی، آل ریونیو سندھ امپلائیز ایسوسی ایشن ٹھٹھہ کی زیر نگرانی فھد ببر ،ریاض شاہ ،شعیب قادری، سکندر مگسی،عزیز میمن، حسن ناریجو،منظور جوکھیواور دیگرملازمین کااحتجاج جاری ہے ،احتجاج کرنے والے ملازمین کی جانب سے منگھو پیر کے مختیار کار کو بے رحمانہ قتل کی تفشیش کراکے قاتلوں کو کے خلاف کارروائی کر نے اور ریونیو کو جوڈیشنل اختیارات دے نے کے مطالبات کئے ہیں
یاد رہے گذشتہ روزکراچی کے علاقے سرجانی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران اینٹی انکروچمنٹ ٹیم پر حملے میں مختیار کار جاں بحق، 6 افراد زخمی ہوگئے۔سرجانی سیکٹر 8 سارہ بی بی گوٹھ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران قبضہ مافیا کی جانب سے فائرنگ اور پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں مختیار کار منگھوپیر اعجاز چانڈیو جاں بحق ہوگئے،ہنگامہ آرائی میں 6 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں تحصیل داراور کرین ڈرائیور بھی شامل ہیں۔

-

جھنگ کا "سیریل ریپسٹ”11 سال تک معصوم کلیوں کوروندتارہا
باغی ٹی وی (ویب نیوز) کراچی کی ایک عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والا جھنگ کا "سیریل ریپسٹ11″سال تک معصوم کلیوں کوروندتارہا، ان میں سے پانچ کیس عدالت میں زیر سماعت تھے۔ ایک میں اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ باقی کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ یہ کیس بھی اپنے اختتامی مراحل میں ہیں۔ پھانسی کی سزا پانے والے مجرم امجد علی کا آبائی تعلق پنجاب کے شہر جھنگ سے ہے۔ ملزم کراچی کی لیبر کالونی میں اکیلا رہتا تھا۔ اور قریب واقع ایک گارمنٹس کمپنی میں مشین فٹر کی حثیت سے ملازمت کرتا تھا۔ملزم امجد علی عرف ذاکر نے دوران تفتیش یہ ہولناک انکشاف بھی کیا تھا کہ وہ ہر ہفتے ایک بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا عادی ہوچکا تھا۔ جن کی عمریں آٹھ سے بارہ سال تک تھیں۔ اسے خود بھی نہیں یاد کہ وہ اب تک کتنی بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناچکا ہے۔ ملزم نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ جھنگ اور قصور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی دو ہزار سات سے دو ہزار بارہ تک ایک درجن سے زائد بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکا تھا۔
اس کیس کا المناک پہلو یہ ہے کہ گرفتاری کے بعد دوران تفتیش امجد علی عرف ذاکر نے ایک درجن سے زائد بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کا انکشاف کیا تھا۔ ان میں سے نصف کے قریب واقعات پنجاب کے ہیں۔ تاہم پنجاب پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ان کیسوں پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ دوران تفتیش ملزم نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ گزشتہ گیارہ برس سے اس انسانیت سوز فعل میں ملوث تھا اورایک عادی مجرم ہے۔گرفتاری کے بعد ملزم امجد علی عرف ذاکر نے تفتیش کاروں کے سامنے سنسنی خیز انکشافات کئے تھے۔ ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ دو ہزار سات سے دو ہزار اٹھارہ تک اس نے پچھلے گیارہ برسوں میں پنجاب اور کراچی میں درجنوں بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔مجرم امجد علی کی وارداتوں میں بالخصوص 2018 اور2019 کے دوران اضافہ ہوا۔
اُمت نیوز کے مطابق کراچی کی ایک عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والا درندہ صفت مجرم گزشتہ 11برس تک معصوم بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔ ان میں سے پانچ کیس عدالت میں زیر سماعت تھے۔ ایک میں اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ باقی کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ یہ کیس بھی اپنے اختتامی مراحل میں ہیں۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے ایک کمسن بچی سے زیادتی کے پانچ برس پرانے مقدمے میں ملزم امجد علی عرف ساجد عرف ذاکرکو جمعہ کے روز پھانسی کی سزا سنائی۔ یوں کئی برس تک خوف کی علامت بننے والا ’’سیریل ریپسٹ‘‘ بظاہر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے۔ اس کیس میں ملزم کو دو ہزار سترہ میں شاہ لطیف ٹائون پولیس کی حدود میں ایک بچی سے زیادتی کا مجرم پایا گیا تھا۔ سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے قبل ازیں فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اسی عدالت میں امجد علی کے خلاف ملیر کے مختلف علاقوں میں مزید چار بچیوں سے زیادتی کے مقدمات بھی چل رہے ہیں۔ عدالت نے اس سلسلے میں گواہوں کو شہادتیں ریکارڈ کرانے کے لئے طلب کر رکھا ہے۔
استغاثہ کے مطابق پولیس نے دو ہزار پندرہ سے دو ہزار اٹھارہ کے درمیان ملیر میں کمسن بچیوں کے اغوا اور زیادتی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں ملزم امجد علی عرف ذاکرکو حراست میں لیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب تھانہ سکھن اور تھانہ قائدآباد کی حدود میں بچیوں سے زیادتی کے پے در پے واقعات نے متعلقہ علاقے کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا۔ والدین نے اپنی بچیوں کو گھر سے نکالنا بند کردیا تھا۔
چار برس قبل مارچ دو ہزار اٹھارہ میں ہونے والی اس گرفتاری کے بعد ملزم کی گھنائونی وارداتوں سے پردہ اٹھنے کا آغاز ہوا۔ ملزم سکھن کے علاقے میں ایک بچی کو زیادتی کی نیت سے اغوا کرنے کی کوشش میں موقع پر پکڑا گیا تھا۔ جب ملزم کو گرفتار کرکے ڈی این اے کرایا گیا تو یہ ڈی این اے تحقیقاتی ٹیم کے پاس پہلے سے موجود ملزم کے ڈی این اے سے میچ کرگیا۔ جس پر ملزم امجد علی عرف ذاکر کو بائیس دسمبر دو ہزار سترہ کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا۔ تب ملزم نے تھانہ شاہ لطیف ٹائون کے علاقے ظفر ٹائون کی ایک نو سالہ بچی کو اغوا کے بعد ریلوے ٹریک پر لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ متاثرہ بچی مغرب کی نمازکے بعد گھر کے قریب واقع تندور سے روٹیاں لینے نکلی تھی۔ تاہم وحشی ملزم کے ہاتھ چڑھ گئی۔ بعد ازاں بچی کو تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ملزم کی گرفتاری کے لیے علاقے کے درجنوں افراد کا ڈی این اے کرایا گیا تھا۔ ملزم امجد علی کا ڈی این اے نہ صرف نو سالہ بچی کے ڈی این اے سے میچ ہوا بلکہ زیادتی کا نشانہ بننے والی دیگر چار بچیوں کے ڈی این اے سے بھی میچ کرگیا۔ یوں مجموعی طورپربچیوں سے زیادتی کے پانچ واقعات کی گتھی بھی سلجھ گئی۔ ان چاروں بچیوں کے زیر سماعت مقدمات دو ہزار پندرہ سے شواہد کے منتظر تھے۔ جب گرفتار ملزم امجد علی کا ڈین این اے اور میڈیکل رپورٹ ڈرامائی طور پر دیگر چار متاثرہ بچیوں کے ڈی این اے سے میچ کرگئی تو اس کے خلاف مزید چار مقدمات بھی درج کرلئے گئے۔
اس کیس کا المناک پہلو یہ ہے کہ گرفتاری کے بعد دوران تفتیش امجد علی عرف ذاکر نے ایک درجن سے زائد بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کا انکشاف کیا تھا۔ ان میں سے نصف کے قریب واقعات پنجاب کے ہیں۔ تاہم پنجاب پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ان کیسوں پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ دوران تفتیش ملزم نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ گزشتہ گیارہ برس سے اس انسانیت سوز فعل میں ملوث تھا اورایک عادی مجرم ہے۔
ایک تفتیشی افسر کے بقول ایک درجن کے قریب یہ وہ واقعات ہیں، جو رپورٹ ہوئے۔ ممکنہ طور پر درجنوں ایسے غیر رجسٹرڈ کیس بھی ہوں گے، جو شاید منظر عام پر نہ آسکیں۔ کیونکہ ملزم خود اعتراف کرچکا ہے کہ اس کا شیطانی عمل گیارہ برس پر محیط ہے۔گرفتاری کے بعد ملزم امجد علی عرف ذاکر نے تفتیش کاروں کے سامنے سنسنی خیز انکشافات کئے تھے۔ ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ دو ہزار سات سے دو ہزار اٹھارہ تک اس نے پچھلے گیارہ برسوں میں پنجاب اور کراچی میں درجنوں بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔مجرم امجد علی کی وارداتوں میں بالخصوص دو ہزار اٹھارہ اور دو ہزار انیس کے دوران اضافہ ہوا۔ جب تھانہ شاہ لطیف ٹائون ،تھانہ سکھن اور تھانہ قائد قائد آباد کے علاقوں میں آئے روز بچیوں سے زیادتی کے واقعات رونما ہونے لگے۔ جس پر سندھ حکومت زبردست عوامی تنقید کی زد میں تھی۔ ملزم کی گرفتاری کے لئے اس وقت کے آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی ایسٹ ذوالفقار لاڑک پر شدید دبائو تھا۔ چنانچہ ملزم کی گرفتاری کے لئے پانچ لاکھ روپے کا نعام مقرر کردیا گیا تھا۔ جبکہ کراچی پولیس کے تفتیشی شعبہ میں ماہر سمجھے جانے والے ڈی ایس پی علی حسن شیخ اور ڈی ایس پی خالدخان کو ان کیسوں کی گتھی سلجھانے اور ملزم کی گرفتاری کی ذمے داری سونپی گئی۔
ملزم کی گرفتاری کے لئے دونوں تفتیشی افسران کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے متعلقہ علاقوں سے سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ ان میں سے درجنوں افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے ٹیسٹ کرائے گئے۔ ایک ڈی این اے ٹیسٹ تینتیس ہزار روپے میں ہوا۔ یوں مجموعی طور پر ڈی این اے پر دس لاکھ روپے سے زائد اخراجات آئے۔ تاہم اس جدوجہد اور اخراجات کے نتیجے میں پولیس آخر کار اصل ملزم تک پہنچ گئی۔انسداد دہشت گردی عدالت کی خاتون جج امینہ نذیر انصاری نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم ہمدردی کا مستحق نہیں۔ مجرم کے خلاف تھانہ شاہ لطیف ٹائون میں 2، تھانہ قائدآباد میں 2 اور تھانہ سکھن میں ایک مقدمہ درج ہے۔پولیس تحقیقات کے مطابق دو ہزار سترہ اور دو ہزار اٹھارہ میں ملیر اور مضافات کے علاقوں میں کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مسلسل واقعات ہورہے تھے۔ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پانچ ایسے کیسز آئے، جن میں متاثرہ بچیوں سے حاصل کردہ نمونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ ان میں ایک ہی ملزم ملوث ہے۔ چونکہ یہ واقعات ہائی پروفائل کیس کا درجہ اختیار کرگئے تھے۔ لہٰذا ملزم کی گرفتاری پولیس حکام اور سندھ حکومت کے لئے چیلنج بن چکی تھی۔ آخر کار چار ماہ کی جدوجہد کے بعد ملزم پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔پولیس تحقیقات کے مطابق پھانسی کی سزا پانے والے مجرم امجد علی کا آبائی تعلق پنجاب کے شہر جھنگ سے ہے۔ ملزم کراچی کی لیبر کالونی میں اکیلا رہتا تھا۔ اور قریب واقع ایک گارمنٹس کمپنی میں مشین فٹر کی حثیت سے ملازمت کرتا تھا۔ ملزم نے دوران تفتیش یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ وہ اس سے قبل دو ہزار بارہ میں کراچی کے تھانہ مبینہ ٹائون کی حدود سے بھی رنگے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے۔ جب عید کے روز گھر سے تیار ہوکر نکلنے والی کمسن بچی کو اس نے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم پولیس کی روایتی سستی اور نا اہلی کے نتیجے میں بوسیدہ سی آر او (کرمنل رجسٹریشن آفس) کے نظام کا فائدہ اٹھا کر وہ بچ نکلا تھا۔امجد علی عرف ذاکر نے اس وقت اپنی اصل شناخت پولیس سے چھپائی تھی۔ اور اپنے بھائی کا شناختی کارڈ استعمال کرتے ہوئے خود کو اسلم ظاہر کیا تھا۔ لہٰذا پولیس ریکارڈ میں اس کی اصل شناخت بھی ریکارڈ نہیں ہوسکی تھی۔ یوں ملزم کو اگلے سات برس تک مزید درندگی کا موقع ملا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کے تفتیشی شعبے کے علاوہ کرائم رجسٹریشن آفس میں بھی خامیاں موجود ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملزمان کو فائدہ پہنچتا ہے۔ پولیس ذرائع کے بقول اپنی نوعیت کے لحاظ سے اس کیس کو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس قرار دیا گیا۔ کیونکہ صوبے کی تاریخ میں آج تک کسی ایک ملزم نے اتنی بڑی تعداد میں بچیوں سے زیادتی کا اعتراف نہیں کیا۔ ان میں سے بارہ بچیوں کے ساتھ زیادتیوں کے ڈی این اے شواہد موجود ہیں۔
ملزم امجد علی عرف ذاکر نے دوران تفتیش یہ ہولناک انکشاف بھی کیا تھا کہ وہ ہر ہفتے ایک بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا عادی ہوچکا تھا۔ جن کی عمریں آٹھ سے بارہ سال تک تھیں۔ اسے خود بھی نہیں یاد کہ وہ اب تک کتنی بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناچکا ہے۔ ملزم نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ جھنگ اور قصور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی دو ہزار سات سے دو ہزار بارہ تک ایک درجن سے زائد بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکا تھا۔ ان میں سے کئی کیسوں میں والدین نے رپورٹ درج نہیں کرائی۔ ملزم کے اس انکشاف کی روشنی میں جب سندھ پولیس نے پنجاب پولیس سے رابطہ کیا تو ملزم کا لعاب ڈی این اے نمونے کے طور پر کراچی پولیس سے حاصل کیا گیا۔ ملزم کے لعاب کا ڈی این اے پنجاب میں زیادتی کے سات کیسوں میں متاثر بچیوں سے ملنے والے ڈی این اے ٹیسٹ سے میچ کرگیا۔ تاہم بوجوہ پنجاب پولیس نے اب تک اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ملزم سے تفتتیش کے لئے پولیس ٹیم کی جانب سے نفسیاتی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئیں اور اس کی کیس اسٹڈی کو محفوظ کرلیا گیا ہے۔ تاکہ اس طرح کے رویوں، حرکات و سکنات کے حامل دیگر مشکوک افراد کے خلاف تحقیقات میں کام لیا جاسکے۔
