باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان ( نامہ نگار)پروا سرکل کے سیلاب سے متاثرہ اسکولز حکومتی توجہ کے منتظر،حالیہ سیلاب سے پروا سرکل کے متعدد گورنمنٹ پرائمری و مڈل اسکولز بری طرح متاثر،کریک کمرے اور اسکولز کی دیواریں کسی بھی جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتی ہیں،حالیہ سیلاب سے جہاں تحصیل پروا کے درجنوں دیہاتوں کو شدید نقصان پہنچا تو وہیں دوسری طرف تحصیل پروا کے کئی گورنمنٹ پرائمری و مڈل اسکولز بھی بری متاثر ہوئے ہیں،تحصیل پروا کے دیہاتوں میں موجود پرائمری و مڈل اسکولز کا انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہو چکا ہے متعدد سکولوں کے کمرے،واش رومز اور دیواریں کریک ہو چکی ہیں جو کہ کسی بھی جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتی ہیں کیونکہ سیلاب سے متاثرہ ان سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں اور اساتذہ ان کریک کمروں اور برامدوں میں بیٹھ کر بچوں کو پڑھانے میں مصروف عمل ہیں جبکہ دوسری جانب اعلی حکام کی طرف سے تاحال غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور سیلاب سے متاثرہ گورنمنٹ پرائمری و مڈل اسکولز کی تعیمر نو کی طرف تاحال کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی اگرچہ ان سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق شروع ہیں مگر سکولوں کی فوری تعمیر نو بھی انتہائی ضروری ہے اس لیے صوبائی حکومت سیلاب سے متاثرہ تحصیل پروا کے گورنمنٹ پرائمری و مڈل سکولوں کی تعمیر نو کے لیے فوری خصوصی گرانٹ ریلیز کرے تاکہ سیلاب سے متاثرہ ان سکولوں کی مرمت کرکے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بہترین ماحول فراہم کیا جاسکے۔
ریجنل پولیس آفیسر شوکت عباس کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف تھانوں کے ڈی ایس پیز کے تبادلے کردیے گئے، نوٹیفکیشن کے مطابق آصف محمودڈی ایس پی کلاچی،فضل سبحان ڈی ایس پی لدھاجبکہ عمران کنڈی ڈی ایس پی لیگل تعینات کردیے گئے ہیں۔
تھانہ کینٹ کی حدود نیشنل کلب نزدخانہ اذان تیمورمروت نامعلوم شخص کی نعش برآمد، ایس ایچ او کینٹ اورپی اے ایس آئی زاہد نے پولیس نفری کے ہمراہ موقع پرپہنچ کر نعش قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کیلئے ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ منتقل کردی۔پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ کینٹ کی حدود نیشنل کلب نزدخانہ اذان تیمورمروت نامعلوم شخص کی نعش برآمدکی موجودگی پر ایس ایچ او کینٹ اورپی اے ایس آئی زاہد نے پولیس نفری کے ہمراہ موقع پرپہنچ کر نعش قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ منتقل کردی ہے
تھانہ پنیالہ کی حدود میں قتل کی پرانی دشمنی پر ایک شخص قتل،اے ایس آئی کیسب خان نے موقع پرپہنچ کر نعش کوتحویل میں لے کرنامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرلیا،مقتول کی نعش کوٹائپ ڈی ہسپتال پنیالہ منتقل کردیاگیا،تھانہ پنیالہ پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

ڈی آئی خان: سیلاب سے متاثرہ سکول بحال نہ ہوسکے ،مختلف تھانوں کے ڈی ایس پیز کے تبادلے،جرائم کے کئی واقعات
-

کندھ کوٹ : صحافیوں کے عالمی دن کے موقع پر پریس کلب سے لائبریری چوک تک ریلی نکالی گئی
باغی ٹی ٹی وی ، کندھ کوٹ ( نامہ نگار)صحافیوں کے عالمی دن کے موقع پر پریس کلب سے لائبریری چوک تک ریلی نکالی گئی
صحافیوں کے عالمی دن کے موقع پر پریس کلب کندھ کوٹ کے صدر علی حسن ملک ، جنرل سیکٹری لیاقت علی کوسو کی سربراہی میں پریس کلب سے لائبریری چوک تک ریلی نکالی گئی ، صحافیوں نے شہید ارشد شریف کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بلیک ڈے ریلی نکالی ، صحافیوں نے بازووں پر کالی پٹیاں باندھ کر ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ، ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے ، شہید ارشد شریف کے قاتلوں کو گرفتار کرو کے نعرے لگائے اس موقع پر سینئر صحافی لیاقت علی کوسو ، مسعود عالم سومرو ، بقا محمد بنگوار ، حفیظ ملک و دیگر نے کہا کہ شہید ارشد شریف کا قتل صحافیوں کا قتل ہے حکومتی کمیشن کو مسترد کرتے ہیں اس سانحہ کی عالمی سطح پر کمیشن بنا کر صاف شفاف طریقے سے قاتلوں کو ظاہر کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک جاری رہے گی ، ریلی میں سینئیر صحافی مسعود عالم سومرو ، میر بقا محمد بنگوار ، غلام یاسین لاشاری ، راجا گوپی چند ، حفیظ ملک ، حضور بخش منگی ، سلیم میرانی ، علی اکبر بنگوار، نصیر منگی ، فخر نصیرانی ، عمران کوسو ، ممتاز سندھی ، لطیف گولو ، عبدالخالق چاچڑ ، ظھیر ملک و دیگر صحافیوں نے شرکت کی. -

ٹھٹھہ : پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نےگاڑھو ڈگری کالج میں جاری کام کا جائزہ لیا
باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ (راجہ قریشی نامہ نگار)گاڑھومیں پاکستان پیپلزپارٹی رکن سندھ اسمبلی علی حسن زرداری نے کالج جاری کام کاجائزہ لیا
تفصیل کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی رکن سندھ پی ایس 78 علی حسن زرداری نے گاڑھو ڈگری کالج کے جاری کام کا جائزہ لیا اور ہدایت دی کہ ڈگری کالج کا کام معیاری اور جلد مکمل کیا جائے اس موقع پر پیپلز پارٹی سینئر نائب صدر ٹھٹھہ عبدالحمید پہنور ،تعلقہ گھوڑاباڑی صدر محمد رمضان پہنور ، شاہ نواز لوہار،ٹاؤن ایڈمنسٹریٹر گھاڑو عبدالکریم کنباراور پیپلز پارٹی کارکن ان کے ساتھ تھے. -

ٹھٹھہ : چلتی ٹرین سے نوجوان گر کر جاں بحق
باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ (نامہ نگار راجہ قریشی) چلتی ٹرین سے نوجوان گر کر جاں بحق
تفصیل کے مطابق ٹھٹھہ میں جنگشاہی ریلوے پھاٹک کے قریب چلتی ریل گاڑی سے ایک شخص گر کرشدید زخمی ہو گیااس زخمی نوجوان کو قریبی ہسپتال لے جایا جارہاتھا تاہم اس دوران ٹرین سے گرنے والا نامعلوم نوجوان زخموں کے تاب نہ لاتے ہوۓ راستے مہں دم توڑ گیا.جس کی لاش کو ہسپتال منقتل کردیا اور مقامی پولیس قانونی کارروائی میں مصروف ہے. -

ڈاکٹر عالیہ بشیر صحیح معنوں میں مسیحا ہیں ،دن رات دکھی انسانیت کی خدمت ان کا نصب العین ہے،عوامی حلقے
باغی ٹی وی ،چوٹی زیریں ( محسن نواز سے ) ڈاکٹر عالیہ بشیر صیح معنوں میں مسیحا ہیں ،دن رات دکھی انسانیت کی خدمت ان کا نصب العین ہے ،عوامی حلقے
تفصیلات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈیرہ غازیخان کے کینسر وارڈ میں تعینات ڈاکٹر عالیہ بشیر حقیقی معنوں میں مسیحا ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت سے دن رات دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں ان کی تعیناتی سے ڈیرہ غازیخان کے کینسر کے مریضوں کو زندگی کی امید نظر آئی ہے ڈاکٹر صاحبہ انسان کے روپ میں فرشتہ ہیں کینسر وارڈ میں بیڈز کی کمی کے باوجود ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر آنے والے مریض کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں ان کا مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ رویہ انتہائی شفقت آمیز ہوتا ہے ان کی اپنے شعبے سے لگن اور دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ ان کو اپنے کولیگز میں ممتاز رکھتا ہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے اگر ہسپتالوں میں ڈاکٹر عالیہ بشیر جیسے مسیحا ہوں تو ایسے ڈاکٹرز مریضوں کے اللہ تعالی کی طرف سے دیا گیا ایک تحفہ ہیں -

ڈی آئی خان :کسٹم اورمحکمہ بلدیات میں بے مثال کرپشن کی کہانیاں
باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار)محکمہ کسٹم میں کرپشن ورشوت خوری عروج پر، بھتہ وصول کرکے نان کسٹم پیڈاشیاء کی ترسیل جاری، قومی خزانے کو ہرماہ کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایاجانے لگا، محکمہ کسٹم حکام سے فوری طورپر نوٹس لینے کامطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان چارصوبوں کے سنگم پر واقع ہے اوریہاں سے اندرون وبیرون ملک تجارت کاسلسلہ شروع رہتاہے۔ محکمہ کسٹم میں موجودکالی بھیڑوں کی وجہ سے محکمہ بدنام ہوچکاہے۔ کسٹم اہلکاروں کی پشت پناہی اوررشوت خوری کی وجہ سے نان کسٹم پیڈاشیاء کی سمگلنگ جاری ہے۔ نان کسٹم پیڈگاڑیاں، خشک خوراک، سگریٹ، غیرملکی کمبل، کپڑاوادویات سمیت دیگرسامان کی کھلے عام سمگلنگ جاری ہے اورکوئی کاروائی کرنے والانہیں ہے۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے اس حوالے محکمہ کسٹم کے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ کسٹم اہلکاروں کی بھتہ خوری اوررشوت کی وجہ سے ہرماہ قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہاہے اوراس حوالے سے کوئی ایکشن نہیں لیاجارہاہے
دوسری طرف حکمہ بلدیات کی کرپشن عرو ج پر، دیہی علاقے صفائی وترقی سے محروم،صوبائی وزیربلدیات ڈیرہ کی آشیرباد سے محکمہ بلدیات کے کلاس فورافسربن گئے،اگرصوبائی وزیربلدیات کی آشیربادنہ ہوتی اوراس کی جانب سے ایکشن لیاجاتاتوآج صورتحال یکسرتبدیل ہوتی اورعوام کے مسائل حل کیے جارہے ہوتے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ بلدیات عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکاہے۔ عوام مسائل کے حل کیلئے دربدرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہوگئے ہیں۔ دیہی علاقوں میں صفائی کانام ونشان تک نہیں ہے جبکہ کہیں بھی ترقی نظرنہیں آتی ہے۔ محکمہ بلدیات میں کرپشن عروج پر پہنچ چکی ہے۔محکمہ کے کلاس فورخود کو افسرسمجھ کر دفاترتک محدودہوگئے ہیں اورانہیں عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے۔ صوبائی وزیربلدیات ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کاہونے کے باوجودان کے خلاف ایکشن لینے سے قاصرہے۔اگرآج محکمہ بلدیات کے ملازمین کے خلاف ایکشن لیاجاتاتو صورتحال یکسرتبدیل ہوتی۔ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمودخان سے کہاہے کہ دیہی علاقوں میں مسائل کے انبارلگ چکے ہیں اوران مسائل کوآج تک کسی نے حل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ بلدیات کرپشن کاگڑھ بن چکاہے لہٰذافوری تحقیقات کرواکرملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے -

علی امین خان گنڈہ پور کی چالاکیوں سے ان کے قریبی دوست وپارٹی کے مقامی رہنما نالاں، جلد پریس کانفرنس کے ذریعے علیحدگی کا اعلان متوقع
باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار)سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پور کی چالاکیوں سے ان کے قریبی دوست وپارٹی کے دیرینہ مقامی رہنمانالاں، جلد پریس کانفرنس کے ذریعے علی برادران سے لاتعلقی کا اعلان کریں گے،دوسری جانب تحصیل پہاڑپور اورسٹی ٹو کے نامور سیاسی خاندان بھی پی ٹی آئی کو چھوڑ کر پی پی پی اورجمعیت میں شامل ہونے کوتیارہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پور کی چالاکیوں اورنظراندازکرنے کی سیاست کی وجہ سے ان کے قریبی دوست وپارٹی کے دیرینہ مقامی رہنماتنگ آچکے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے مقامی سینئر رہنماجلد پریس کانفرنس میں علی برادران سے لاتعلقی کا اعلان کریں گے جبکہ دوسری جانب تحصیل پہاڑپور اورسٹی ٹو کے نامور سیاسی خاندان بھی پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کرپاکستا ن پیپلزپارٹی اورجمعیت علماء اسلام(ف) میں شامل ہونے کو تیارہیں۔انہوں نے کہاکہ سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پورنے پارٹی کے اصولوں کے خلاف اپنی من مانیاں شروع کی ہوئی ہیں۔وہ ورکروں اورعوام کااستحصال کررہے ہیں اورانہیں عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے۔ علی برادران اپنے وعدے بھول چکے ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے مقامی سینئر سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پورکی وعدہ خلافیوں اورنظراندازکرنے کی سیاست کی وجہ سے دوسری پارٹیو ں کارخ کرنے پر مجبورہوچکے ہیں۔
-

ڈی آئی خان :MNA شیخ یعقوب آئندہ الیکشن میں این اے 39 پر جمعیت کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینے کیلئے مولانابرادران سے ملاقاتیں
باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار )ممبرقومی اسمبلی شیخ یعقوب نے آئندہ الیکشن میں حلقہ این اے 39پر جمعیت کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینے کیلئے مولانابرادران سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیاہے۔شیخ یعقوب کی جانب سے قومی اسمبلی کے امیدوارکے ٹکٹ کیلئے مولانابرادران پرزوردیاجانے لگا جبکہ وفاداریوں کی یقین دہانی بھی کرادی گئی ہے۔واضح رہے کہ حلقہ این اے39کے عوام نے شیخ یعقوب کوپارٹی ٹکٹ دینے والی پارٹی کے مکمل بائیکاٹ کااعلان کرتے ہوئے مخالف امیدوارکی کامیابی میں کرداراداکرنے کافیصلہ کرلیا ہے۔انہوں نے کہاکہ شیخ یعقوب اسلام آبادکی رنگینیوں میں کھوچکاہے اوراسے حلقہ اورعوام کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔انہوں نے شیخ یعقوب کوحلقے کے مسائل کاذمہ دارقراردیاہے۔انہوں نے کہاکہ شیخ یعقوب نے سیلاب زدگان کیلئے کوئی کردارادانہیں کیا اورا ن کی مشکلات کے حل کیلئے کوئی امدادی کام نہ کیاگیا۔حلقہ کلاچی، درابن،پرواکے عوام بے بسی کی تصویر بنے ہوئے اوران کی نگاہیں اپنے مسیحا کی منتظرہیں۔ حلقہ این اے39کے عوام بے یارومددگارامداد کے منتظرہیں اوران کے زخموں پر کوئی مرہم رکھنے والانہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرجمعیت علماء اسلام(ف)نے شیخ یعقوب کو آئندہ الیکشن میں ٹکٹ جاری کیاتو اس کے مخالف امیدوارکوبھاری اکثریت سے کامیاب کرائیں گے۔انہوں نے آئندہ الیکشن میں شیخ یعقوب کے مکمل بائیکاٹ کااعلان کیاجس سے ظاہرہوچکاہے کہ شیخ یعقوب کا سیاسی کیرئیرختم ہوگیاہے۔
-

ڈی آئی خان : عزیزاللہ علیزئی جلد جمعیت علماء اسلام (ف)میں باقاعدہ شمولیت کااعلان کریں گے
باغی ٹی وی،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار)سابق ضلع ناظم نوابزادہ عزیز اللہ علیزئی کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ عزیزاللہ علیزئی جلد جمعیت علماء اسلام (ف)میں باقاعدہ شمولیت کااعلان کریں گے اورجمعیت کی ٹکٹ پر آئندہ الیکشن میں حصہ لیں گے، اس حوالے سے مکمل تیاریاں کرلی گئی ہیں۔جمعیت علماء اسلام(ف) کے سینئر رہنماؤں اورکارکنوں کی جانب سے سابق ضلع ناظم نوابزادہ سمیع اللہ علیزئی کے فیصلے کاخیرمقدم کیاجارہاہے اوران کی کامیابی میں کرداراداکرنے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق ضلع ناظم نوابزادہ عزیز اللہ علیزئی کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ نوابزادہ عزیزاللہ خان علیزئی جلد جمعیت علماء اسلام (ف)میں باقاعدہ شمولیت کااعلان کریں گے اورجمعیت کی ٹکٹ پر آئندہ الیکشن میں صوبائی امیدوارکے طورپر حصہ لیں گے۔ اس حوالے سے آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔جمعیت علماء اسلام(ف) کے سینئر رہنماؤں اورکارکنوں کی جانب سے سابق ضلع ناظم نوابزادہ سمیع اللہ علیزئی کے اس فیصلے کاخیرمقدم کیاجارہاہے اوران کی کامیابی میں کرداراداکرنے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔
-

سماٹ سندھیوں کی 500 سالہ تاریخ
سماٹ سندھیوں کی 500 سالہ تاریخ
تحریر : بلاول سموں
سندھ پر 712 ســے لیکـر 1024 تک کے 312 سال عــربوں کا قبــضہ رھا لیـــکن سماٹ قوم 312 سـال کی غلامی اور طویل جدوجہد کے بعد بلآخــر 1024 میــں سنــدھ پر عربوں کی حکمرانی ختم کرنے میں کامیاب ھوگئی تھی۔ اس لیـے 1024 سے لیکر 1335 کے 311 سال تک سمــاٹ قـــوم کا ســومرا خاندان سندھ کا حکمــران رھــا اور 1335 سـے لیکر 1520 کے 185 سال تک سماٹ قوم کے سمہ خاندان کی سندھ پر حکمران رھی۔ لیکـن 1520 میں ترک نژاد ارغونوں نے سندھ پر قبــضہ کـــرلیا۔ اس لیــے 1520 ســــے لیکر 1554 تک 34 ســـال ترک نژاد ارغـــونوں کی سندھ حکمرانــی رھـی۔ جبکہ 1554 سے لیکر 1591 تک 37 ســـال ترک نژاد ترکــھانوں کی سندھ حکمرانی رھی۔ جس کــے بعد مغلوں نے سندھ پر قبضہ کرلیا۔ اس لیے 1591 سے لیکر 1701 تک 110 سال مغلوں کی حکمرانی رھی۔ گــوکہ 1591 ســے لیکر 1701 تک سنــدھ پر مغلوں کـــی حکمرانی رھی۔ لیکن پنجاب میں پنجابیوں کی مزاحمت کے بڑھنے کی وجہ سے مغلوں کــی پنجاب میـں حکمرانی کمزور ھونا شروع ھوگئی۔ جس کــی وجہ سے دھلی میں بیٹھ کر مغلوں کــو براہ راســت سنــدھ پر اقتـــدار کو برقرار رکھنا مشــکل ھوگیــا تھا۔ اس لیے دھلی دربار ســے تعلقات کــی وجہ سے 1701 سے عباسی کلھوڑا کـــو سنـدھ پر حکمرانی کرنے کا موقع مل گیا اور 1701 سـے لیکر 1783 تک کے 82 سال عــربی نژاد عباســی کلھوڑا کی سندھ پر حکمرانی رھی۔عباسی کلھــوڑا چــونکہ عــربی نژاد تھــے اور انکـی سندھ میں اکثریت نہیں تھی۔ جس کی وجہ ســے سـماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے کـــے لیـــے عباســـی کلـــھوڑا کـــو پنجاب سے کـــردستانـــی نژاد تالپــور بلوچ لانے پڑے تاکہ بلوچ قبائل کـــی مدد ســـے عباسی کلھوڑا کو سندھ میں سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے میں مدد مل سکے۔ لیکن نادر شاہ افشار کــے ایران کا حکـمراں بن جانـے اور دھلی پر 1739 میں نادر شاہ افشار کــے حملــے کـے بعد مغل حکمرانوں کے کمزور ھوجانـے۔ جبکہ 1747 میں نادر شاہ افشار کے دســتِ راست احـمد شاہ ابدالی کے افغانستان کــی سلطنت قائم کرکے افغانستان میں درانی حکـومت قائم کرلینے کی وجہ سے تالپور بلوچ نے عباســـی کلـــھوڑا کـــے ساتھ مل کر سماٹ سندھیـــوں پر حکـمرانی کرتے رھنے کے بجائے مغل سلطنت کــی آشیرباد اور ایران کے قاجار خاندان کـــی معاونت سـے 1783 میں ھالانی کـــے مقام پر عباســی کلھوڑا کـــے ساتھ جنگ کرنـے کے بعد عباسی کلھوڑا کی حکومت ختم کرکـــے سنـــدھ پر خــود حکمرانی کرنا شروع کردی۔ لہٰذا 1783 ســے لیـکر 1843 تک کے 60 سال کردستانـــی نژاد تالپــور بلوچ کــــی سندھ پر حکمرانـــی رھـــی۔ لیکن 1843 میں سندھ پر قبضہ کـــرکــــے انگریزوں نــے تالپور بلوچ کی حکمرانـــی کــو ختم کردیا اور خود سندھ کے حکـــمراں بن گئـــے۔ اس لیــے 1843 سے لیکر 1947 تک کـــے 104 سال سندھ پر انگریزوں کی حکمرانی رھی۔
پاکستان کے 1947 میں قیام کے بعد پاکستان
کا وزیرِ اعظـــم یوپی کـــے اردو بولنـــے والــے ھندوستانــی لیاقت علی خان کے بن جانے سے اور کــراچی کـــے پاکستان کا دارالحکومت بن جانــے کے بعد ستمبر 1948 میں پاکستان کی گورنمنٹ ســـروس میـــں امیـــگرنٹس کے لیے %15 اور کراچـــی کــے لیـے %2 کوٹہ رکھ کر لیاقت علــی خان نـے یوپی ‘ سی پی سے اردو بولنے والے ھندوستانی لا کر کراچی اور سندھ کــے دوسرے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کر دیـــے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنا شروع کردیا۔ اس عمل کــے دوران سندھ کے مسلمان سماٹ سندھیــوں نے تو مزاھمت کی لیکن عربی نژاد اور بلــوچ نژاد اشــرافیہ نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کـے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس لیے ھی لیاقت علی خان نے سندھ کے سماٹ وزیر اعلی ایوب کھـــوڑو کـو ھٹا کر عربی نژاد پیر الٰہی بخش کــو سندھ کا وزیر اعلی بنا دیا۔ عربـی نژاد پیر الٰہی بخش نے ھندوستان سےلا کـــر کراچــی میـــں آباد کیـــے جانــے والــے مھاجروں کے لیے 1948 میں پہلی کالونی پی آئــی بــی کـــالونی (پیـر الٰہی بخش کالونی) بنائـــی۔ جس کـــے بعد ھنــــدوستان سے لا کر کراچــی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیــے سنــدھ حکــومت کــی ســـرپرستـی میں کالــونیاں بنانــے اور ھنـــدو سـماٹ سندھیوں کــو سندھ سـے نکالنے کا سلسلہ منصوبہ بندی کے ساتھ اور تیزی سے شروع کردیا گیا۔سندھ کـے اصل باشندے ‘ سماٹ سندھی پہلے ھی اکثریت میں ھونــے کـے باوجود ‘ صدیوں سے عربی نژاد اور بلوچ نژاد کی بالادستی کی وجہ سـے نفسیاتی طور پر کمتری کے احساس میں مبتلا تھــے۔ لیکــن ھندو سماٹ سندھیوں کـــو سندھ ســـے نکال دینــے ســے سندھ میں سماٹ سنــدھیوں کـی آبادی بھی کم ھو گئی۔ جس کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں پر یوپـــی ‘ ســـی پـــی کــــی اردو بولنــــے والی ھندوستانــی اشرافیہ کی اور سندھ کے دیہی علاقــوں پر عــربی نژاد اور بلوچ نژاد اشرافیہ کـــی مکمل سماجـــی ‘ سیاســـی اور مــعاشی بالادستــی قائم ھــو گئــی اور سـماٹ سندھی مستــقل طور پر سماجی ‘ سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا ھو گۓ.
