Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • جعلی انٹری، جعلی ڈیڈ، سرکاری زمین پر ڈاکہ ، جعلسازی کا بڑا اسکینڈل عدالت میں بے نقاب

    جعلی انٹری، جعلی ڈیڈ، سرکاری زمین پر ڈاکہ ، جعلسازی کا بڑا اسکینڈل عدالت میں بے نقاب

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی میں سرکاری زمین پر قبضے کی ایک بڑی سازش عدالت میں بے نقاب ہو گئی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پردیپ کمار میٹائی کی عدالت نے دیہہ لکپور، تعلقہ اوباڑو کی 5 ایکڑ 3 گھنٹے سرکاری اراضی پر کی گئی جعلی انٹریاں منسوخ کرتے ہوئے ملوث ریونیو عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    سول اپیل نمبر 30/2025 پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے انٹری نمبر 223-A اور 238 سمیت ساتویں فارم بی پر کی گئی تمام جعلسازیوں کو کالعدم قرار دیا، جب کہ سب رجسٹرار کو ہدایت کی گئی ہے کہ 24 فروری 2000 کو کی گئی جعلی ایکسچینج ڈیڈ نمبر 412 کو بھی منسوخ کیا جائے۔

    عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، کمشنر سکھر اور ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کو حکم دیا ہے کہ وہ جعلسازی میں ملوث ریونیو عملے کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں۔

    یہ مقدمہ جڑیل میر عرف جڑیل بھٹو کی جانب سے حلیمہ بھٹو و دیگر کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ عدالت کا فیصلہ ضلع گھوٹکی میں زمینوں پر بڑھتے قبضہ مافیا کے خلاف ایک بڑی قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ایک جرأت مند باب اختتام کو پہنچا . ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی کو سلامِ الوداع

    ایک جرأت مند باب اختتام کو پہنچا . ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی کو سلامِ الوداع

    ڈیرہ غازی خان ( باغی ٹی وی نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان میں جرأت، بہادری اور پیشہ ورانہ دیانت کا ایک روشن باب اپنے اختتام کو پہنچا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سید علی نے اپنے تبادلے کے موقع پر SDPOs، SHOs، برانچ انچارجز اور دیگر پولیس افسران و اہلکاروں سے الوداعی ملاقات کی۔ اس موقع پر فضا جذبات سے لبریز تھی اور ہر چہرے پر قائدانہ صلاحیتوں سے بھرپور ایک افسر کے جانے کا ملال نمایاں تھا۔

    پولیس اسٹاف نے ڈی پی او سید علی کی بے باک قیادت، مثالی نظم و ضبط اور جرائم کے خلاف ان کی ناقابلِ فراموش جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ سید علی نے اپنے دورِ تعیناتی میں نہ صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف فرنٹ لائن قیادت کی بلکہ جرائم پیشہ گروہوں، منشیات فروشوں اور خطرناک ڈاکوؤں کے خلاف بھی فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔

    ڈی پی او سید علی کا سب سے نمایاں کارنامہ فتنۂ خوارج کے خلاف ان کی جرات مندانہ مہم تھی، جس میں انہوں نے جان کی پروا کیے بغیر فرنٹ لائن پر کمانڈ کی۔ ان کی قیادت میں ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری دیکھی گئی، عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوا، اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا گیا۔

    عوامی حلقوں، صحافتی اداروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی ڈی پی او سید علی کی خدمات کو سراہتے ہوئے نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ انہیں "جرأت، فرض شناسی اور انصاف کی علامت” قرار دیا جا رہا ہے، اور ان کے جانے کو ایک خلا تصور کیا جا رہا ہے جسے پُر کرنا آسان نہ ہوگا۔

    ڈی پی او سید علی کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ڈیرہ غازی خان کو اپنی عملی زندگی کا قابلِ فخر باب سمجھیں گے، اور جہاں بھی رہیں گے، عوام کی خدمت اور قانون کی عملداری کو مقدم رکھیں گے۔

  • میرپور خاص: یومِ حسین کی یاد میں بزمِ ادب کا شاندار اور روح پرور پروگرام

    میرپور خاص: یومِ حسین کی یاد میں بزمِ ادب کا شاندار اور روح پرور پروگرام

    میرپور خاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)یومِ حسین کی مناسبت سے محمدی میڈیکل کالج / ابن سینا یونیورسٹی میرپور خاص کی بزمِ ادب کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان اور روحانی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی، تعلیمات اور پیغام کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا گیا، جس کی سعادت کالج کی ایک ہونہار طالبہ نے حاصل کی۔ بعد ازاں اسٹوڈنٹس نے نوحہ خوانی اور سلام پیش کیا، جس سے پروگرام کا ماحول مزید پرکیف اور روح پرور ہو گیا۔

    پروگرام کے اختتامی مرحلے میں محمدی میڈیکل کالج کے ڈائریکٹر، محترم ڈاکٹر رضی صاحب نے حضرت امام حسینؑ کی جدوجہد، مقصد اور شہادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ”حضرت امام حسینؑ کی قربانیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ حق و انصاف کے لیے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ اُنہوں نے ظلم، جبر اور یزیدیت کے خلاف کھڑے ہو کر تاریخِ انسانیت کو نیا رخ دیا۔”

    پروگرام کے دوران امام حسینؑ کے افکار اور فلسفے سے متعلق کئی اہم نکات پر گفتگو کی گئی، جن میں شامل تھے:
    حق و انصاف کے لیے لڑنے کا جذبہ،ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کی ہمت،قربانی اور شہادت کی اہمیت،صبر و استقامت کی ضرورت

    طلبہ و اساتذہ نے حضرت امام حسینؑ کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنانے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔

    تقریب کا اختتام دعائے امامِ زمانہؑ سے ہوا، جہاں تمام شرکاء نے امام حسینؑ کی قربانی کو یاد رکھتے ہوئے امامِ وقت کے ظہور کی دعا کی اور یہ وعدہ کیا کہ حسینیت کا پیغام نسل در نسل منتقل کرتے رہیں گے۔

  • اوچ شریف: بیوی سے جھگڑا، باپ کی بیٹی سمیت نہر میں چھلانگ کر خودکشی

    اوچ شریف: بیوی سے جھگڑا، باپ کی بیٹی سمیت نہر میں چھلانگ کر خودکشی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے علاقے مامون آباد میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں 30 سالہ عمر ولد شہباز نے گھریلو جھگڑوں سے تنگ آ کر اپنی 6 سالہ بیٹی ہانیہ کے ساتھ ابوظہبی نہر میں چھلانگ لگا دی۔ باپ بیٹی کے اس افسوسناک اقدام نے علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑا دی۔

    ذرائع کے مطابق، عمر کی اپنی بیوی کے ساتھ اکثر تنازعات رہتے تھے، اور گزشتہ روز ایک شدید جھگڑے کے بعد اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔ عمر اپنی معصوم بیٹی کو لے کر ابوظہبی نہر پر پہنچا، جو کہ ہیڈ پنجند سے نکلتی ہے، اور تقریباً 8 فٹ گہری اور 200 فٹ چوڑی ہے۔ نہر کی گہرائی اور تیز بہاؤ نے اس واقعے کو مزید خوفناک بنا دیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ رات گئے تک باپ اور بیٹی کی لاشیں تلاش نہیں کی جا سکیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تیز بہاؤ اور گہرائی کی وجہ سے سرچ آپریشن میں مشکلات درپیش ہیں، تاہم کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نہر میں پانی کی شدت اور گہرائی کے باعث لاشوں کا بہہ جانا ممکن ہے، تاہم ریسکیو اہلکار پرعزم ہیں کہ جلد دونوں کو تلاش کر لیا جائے گا۔

    یہ سانحہ مامون آباد اور گرد و نواح کے باسیوں کو شدید صدمے میں مبتلا کر گیا ہے۔ اہل علاقہ اور سوشل کارکنان نے اس واقعے کو گھریلو مسائل کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا شاخسانہ قرار دیا ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے کیسز میں نفسیاتی معاونت کا فوری بندوبست کیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: آم چوری سے روکنے پر لڑائی، باغ کا رکھوالا جان سے گیا

    اوچ شریف: آم چوری سے روکنے پر لڑائی، باغ کا رکھوالا جان سے گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ک،نامہ نگارحبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے میں آم کے باغ کی رکھوالی کرنے والے بزرگ کو آم توڑنے سے منع کرنے پر جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ واقعے کے مطابق 70 سالہ بشیر احمد جو باغ میں رکھوالا تعینات تھا، نے ایک آوارہ شخص کو آم توڑنے سے روکا جس پر بات بگڑ گئی اور جھگڑا شروع ہو گیا۔

    بشیر احمد کو شبہ تھا کہ ضامن نامی شخص روزانہ باغ میں آوارہ گھومنے آتا ہے اور چوری چھپے آم توڑتا ہے۔ اس بار جب رکھوالا نے اسے آم توڑنے سے منع کیا تو ضامن آپے سے باہر ہو گیا۔ دونوں کے درمیان تلخ کلامی نے جلد ہی خطرناک لڑائی کی صورت اختیار کر لی۔ ضامن نے مبینہ طور پر ڈنڈوں، گھونسوں اور لاتوں سے بزرگ پر وحشیانہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں بشیر احمد موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    واقعے کے بعد مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    مقامی شہریوں نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔ واقعہ علاقے میں خوف و ہراس اور غم و غصے کی فضا پیدا کر گیا ہے۔

  • چنیوٹ: فوڈ سیفٹی ٹیموں کا بھرپور کریک ڈاؤن، معروف ریسٹورنٹ سمیت درجنوں پوائنٹس جرمانے

    چنیوٹ: فوڈ سیفٹی ٹیموں کا بھرپور کریک ڈاؤن، معروف ریسٹورنٹ سمیت درجنوں پوائنٹس جرمانے

    چنیوٹ(باغی ٹی وی ،نامہ نگار حسن معاویہ) فوڈ سیفٹی ٹیموں کا بھرپور کریک ڈاؤن، معروف ریسٹورنٹ سمیت درجنوں پوائنٹس جرمانے

    ڈی جی فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید کی خصوصی ہدایت پر چنیوٹ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا۔ اس کارروائی میں متعدد ریسٹورنٹس، کریانہ سٹورز اور فوڈ پوائنٹس کا معائنہ کیا گیا۔

    چیکنگ کے دوران ایک معروف ریسٹورنٹ میں ناقص صفائی، غیر محفوظ سٹوریج اور حشرات کی روک تھام کے ناکافی انتظامات پائے گئے، جس پر اسے بھاری جرمانہ کیا گیا۔ ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے ملازمین کی ذاتی صفائی کے بھی ناقص انتظامات سامنے آئے، جو صارفین کی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کریانہ سٹورز سے 5 کلوگرام سے زائد ایکسپائرڈ اور ممنوعہ اشیاء برآمد کیں جنہیں موقع پر ہی تلف کر دیا گیا، جبکہ 15 لیٹر ملاوٹی دودھ کو بھی ضائع کر دیا گیا۔

    ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق، قواعد کی خلاف ورزی پر مختلف دکانداروں اور ریسٹورنٹس کو مجموعی طور پر 1 لاکھ 89 ہزار روپے کے جرمانے کیے گئے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ حفظان صحت کے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے چیکنگ کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان: چہلم شہدائے کربلا ، سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل

    ڈیرہ غازی خان: چہلم شہدائے کربلا ، سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شہداء کربلا کے چہلم کے موقع پر سیکیورٹی، سہولیات اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان امیر تیمور، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز، اسسٹنٹ کمشنرز، متعلقہ محکموں کے افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے ہدایت دی کہ چہلم کے جلوس اور مجالس کے لیے سیکیورٹی اور سہولیات عاشورہ کی طرز پر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی کنٹرول روم کو مکمل فعال رکھا جائے گا جبکہ سیف سٹی اور دیگر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کا موثر نظام نافذ کیا جائے گا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع بھر میں چہلم کے موقع پر 12 مجالس اور 4 جلوس برآمد ہوں گے جن کے لیے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے مزید ہدایت دی کہ ضلعی امن کمیٹی کے اراکین، منتظمین اور رضاکاروں کے ساتھ قریبی روابط رکھے جائیں تاکہ امن و امان اور سہولیات کے انتظامات مؤثر انداز میں یقینی بنائے جا سکیں۔

  • میرپورماتھیلو: گاؤں خدابخش لغاری میں بدترین محرومیوں کا راج، نمائندے ووٹ لے کر غائب

    میرپورماتھیلو: گاؤں خدابخش لغاری میں بدترین محرومیوں کا راج، نمائندے ووٹ لے کر غائب

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کا گاؤں خدابخش لغاری برسوں سے سیاسی نمائندوں کی غفلت اور حکومتی بے حسی کا شکار ہے۔ یہ گاؤں یونین کونسل جروار کے قریب واقع ہے اور یہاں کی بنیادی سہولیات کا فقدان اس قدر زیادہ ہے کہ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ گاؤں آج بھی پتھر کے دور میں رہ رہا ہے۔

    بارش کے بعد زندگی عذاب بن جاتی ہے
    گاؤں میں سڑکیں پکی نہ ہونے کی وجہ سے ہلکی سی بارش بھی زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے۔ بارش کے بعد گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں اور دو سے تین ماہ تک ان میں پانی کھڑا رہتا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بچوں کا سکول جانا اور مریضوں کو ہسپتال پہنچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ گاؤں کے لوگ کیچڑ اور گندے پانی سے گزرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

    ووٹ لے کر غائب ہونے والے سیاستدان
    مقامی افراد کے مطابق ایم این اے علی گوہر خان مہر اور ایم پی اے سردار محمد بخش خان مہر ہر الیکشن میں یہاں آتے ہیں اور بڑے بڑے وعدے کر کے ہزاروں ووٹ لے جاتے ہیں۔ مگر پچھلے 14 سے 15 سالوں میں انہوں نے اس گاؤں کی جانب مڑ کر نہیں دیکھا۔ عوام کا صبر اب جواب دے چکا ہے اور وہ ان نمائندوں کے جھوٹے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں۔

    عوامی عدالت میں بے نقاب کرنے کا فیصلہ
    گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ سیاستدان صرف ووٹ کے بھکاری ہیں، انہیں عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر اب بھی ان کے مسائل حل نہ ہوئے تو وہ احتجاج، دھرنے اور میڈیا کے ذریعے ان نمائندوں کا اصلی چہرہ سب کے سامنے لائیں گے۔

    مقامی افراد نے کمشنرسکھر، ڈپٹی کمشنرگھوٹکی اور دیگر تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیں اور گاؤں میں پکی سڑکوں، سیوریج کے بہتر نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں صرف باتوں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین ہے، کیونکہ صرف عمل سے ہی انہیں انصاف مل سکتا ہے۔

  • اوچ شریف: یومِ استحصالِ کشمیر مکمل نظرانداز، اسسٹنٹ کمشنر کی نااہلی بے نقاب

    اوچ شریف: یومِ استحصالِ کشمیر مکمل نظرانداز، اسسٹنٹ کمشنر کی نااہلی بے نقاب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)جب 5 اگست 2025 کو پورا پاکستان یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے سرگرم تھا، اس دن اوچ شریف کی انتظامیہ کی سنگین غفلت نے شہریوں کو شدید مایوسی، غصے اور قومی ذلت کے احساس میں مبتلا کر دیا۔ قومی حمیت کے اس حساس موقع پر نہ کوئی تقریب ہوئی، نہ کوئی واک یا ریلی نکالی گئی، نہ سرکاری و نیم سرکاری اداروں نے کوئی سرگرمی دکھائی۔ یوں لگتا تھا کہ اوچ شریف پاکستان سے الگ کسی دنیا میں واقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس قومی دن کی مناسبت سے کسی بھی ادارے کو کوئی باضابطہ ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ، جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ حکومتی سطح پر تقریبات کی نگرانی اور رہنمائی کرتے، انہوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی اور یوں یہ اہم دن مکمل نظرانداز کر دیا گیا۔ ان کے ماتحت اداروںپولیس، ریسکیو 1122، بلدیہ، تعلیم، صحت اور دیگر محکمےبھی مکمل طور پر غیر فعال اور لاتعلق نظر آئے۔

    یہ غفلت معمولی نوعیت کی نہیں بلکہ ایک سنگین اور مجرمانہ کوتاہی ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یومِ استحصالِ کشمیر صرف ایک رسمی دن نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے اس غیر متزلزل عزم کی علامت ہے جس کے تحت وہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس دن کی علامتی اور قومی اہمیت کا تقاضا تھا کہ اوچ شریف کی انتظامیہ عوامی شعور، قومی یکجہتی اور کشمیری عوام کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرتی، لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ نہ ہو سکا۔

    شہری حلقوں میں اس غفلت پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اس اقدام کو قومی وقار سے کھلواڑ قرار دیا۔ مقامی شہری محمد عامر نے کہا، “یہ غفلت نہیں بلکہ کشمیری عوام کی قربانیوں کی توہین ہے۔ انتظامیہ نے ہمیں شرمندہ کر دیا ہے۔” ایک اور شہری یونس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “اگر ہماری انتظامیہ یومِ استحصالِ کشمیر جیسے دن پر خاموش رہتی ہے تو وہ دیگر قومی معاملات میں کیا کردار ادا کرے گی؟”
    اسی طرح عرفان ارشد اور ابوبکر نے اسے "کشمیری شہداء کے خون سے غداری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لاپرواہی ناقابلِ معافی جرم ہے۔

    قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ نہ تو انجمن تاجران نے کوئی قدم اٹھایا، نہ ہی سول سوسائٹی متحرک نظر آئی۔ یومِ استحصالِ کشمیر جیسے دن پر کسی قسم کا بینر، پوسٹر، فلیکس یا پبلک سروس پیغام تک شہر میں آویزاں نہ کیا گیا۔ سرکاری عمارات اور دفاتر میں بھی خاموشی کا عالم رہا، جہاں کم از کم پرچم کشائی، دعائیہ تقریب یا یکجہتی کا پیغام دینا لازمی تھا۔

    یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ اوچ شریف میں بہاولپور کی ضلعی و تحصیل احمدپور شرقیہ کی انتظامیہ ریاستی بیانیے اور قومی شعور سے نہ صرف لاتعلق رہی بلکہ ان کی اس خاموشی نےدشمن کے بیانیے کو بالواسطہ تقویت دی ۔ یومِ استحصالِ کشمیر کو ایسے نظرانداز کرنا دراصل اس قوم کے ان بیٹوں کی قربانیوں کو مٹی میں ملانے کے مترادف ہے جنہوں نے کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔

    شہریوں نے اس سنگین غفلت کے خلاف اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ اس غفلت پر اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ کے خلاف فوری انکوائری کا آغاز کیا جائےاور اگر ثابت ہو جائے کہ اس قومی دن کو شعوری طور پر نظرانداز کیا گیا تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ صرف ضلعی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر شرمندگی کا باعث ہے۔

    حکومتِ پنجاب، کمشنر بہاولپور ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور یہ پیغام دیں کہ پاکستان کے قومی دن، ریاستی بیانیہ اور کشمیری عوام کی جدوجہد کسی صورت میں لاپرواہی یا بے حسی کا شکار نہیں ہو سکتے۔

  • نارنگ: دیہی مرکز صحت لاوارث، ادویات ناپید، مریض دربدر

    نارنگ: دیہی مرکز صحت لاوارث، ادویات ناپید، مریض دربدر

    نارنگ (نامہ نگار محمد وقاص قمر) نارنگ منڈی اور گردونواح کے سینکڑوں دیہات کیلئے قائم واحد دیہی مرکز صحت بدترین انتظامی غفلت کا شکار ہو چکا ہے۔ مرکز کو آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے مگر تاحال کسی ٹھیکیدار نے چارج نہیں سنبھالا، جس کے نتیجے میں بنیادی سہولیات کا فقدان اور مریضوں کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

    ہسپتال ذرائع کے مطابق دیہی مرکز صحت نارنگ کو آؤٹ سورس کیے جانے کے بعد نہ صرف کسی نجی آپریٹر نے ذمہ داری قبول کی، بلکہ ضلعی محکمہ صحت نے بجٹ بھی بند کر دیا، جس کے باعث ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ یہاں تک کہ ایمرجنسی کی ادویات اور ڈریسنگ کا معمولی سامان تک دستیاب نہیں، اور مریضوں کو بازار سے ادویات خود خریدنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مرکز صحت میں بجلی کی بندش کی صورت میں جنریٹر تک تیل نہ ہونے کے باعث بند رہتا ہے، اور ہسپتال کئی کئی گھنٹے تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے، جو مریضوں اور عملے دونوں کیلئے خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

    اہلِ علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کی عدم توجہی نے عوام کو اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ معمولی چوٹ یا بخار جیسے امراض میں بھی مریضوں کو پرائیویٹ کلینکس کا رخ کرنا پڑتا ہے، جو ایک غریب دیہی آبادی کیلئے ناقابلِ برداشت مالی بوجھ ہے۔

    مقامی عوامی نمائندوں، سماجی شخصیات اور متاثرہ مریضوں نے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر سے فوری نوٹس لینے، مرکز صحت کا بجٹ بحال کرنے، ادویات کی فراہمی یقینی بنانے اور آؤٹ سورس ٹھیکیدار کو چارج سنبھالنے پر مجبور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔