باغی ٹی وی ( ویب نیوز) خوشاب میں شادیوں کے نام پر شوہروں کو لوٹنے والی جعلساز دلہن اور اس کے ساتھی کو گرفتار کرلیاگیا۔پولیس کے مطابق اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل نے جوہرآباد کی رہائشی خاتون اور اس کے ساتھی کو گرفتار کرلیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون پر شادی کر کے لاکھوں روپے مالیت کا سامان لوٹنے کا الزام ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون ابتک 5 نکاح کر چکی ہے اور درجن سے زائد افراد کو شادی کا جھانسہ دے کر لوٹ چکی ہے۔پولیس کے مطابق خاتون اور اس کے ساتھی کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جھیل بجھوا دیا گیا ہے۔
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

روجھان : سیلاب زدہ علاقہ چک صفدر آباد کی نواحی بستی میر محمد خان قیصرانی سیلاب سے مکمل تباہ، متاثرین کی بحالی نہ ہوسکی
باغی ٹی وی ،روجھان ( ضامن حسین بکھر)روجھان کے نواحی سیلاب زدہ علاقہ چک صفدر آباد کی نواحی بستی میر محمد خان قیصرانی میں سیلابی تباہ کاریاں بستی کے جملہ گھر رودکوہی کے پانی کے زیر آب آنے کے باعث بستی مکمل طور پر منہدم مال مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے اور کپاس اور چاول کی زیر کاشت کھڑی فصل مکمل طور پر تباہ ہوگئی میر محمد قیصرانی نے نامہ نگار باغی ٹی وی ضامن حسین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم رودکوہی کے سیلابی بچاؤ بند کے قریب بستی ہے بند میں شگاف پڑنے سے ہم صرف اپنے بچوں کو تحصیل انتظامیہ کی مدد سے محفوظ مکانات پر منتقل کر سکے اور باقی ماند اسباب اور دیگر گھریلو سامان پارچات پانی کے نظر ہو گئے میر محمد قیصرانی و بستی مکینوں کا کہنا تھا کہ اب موسم سرما آنے والا ہے گندم کی بوائی کا آغاز بھی شروع ہونے والا ہے سیلاب متاثرین بستی میر محمد قیصرانی کے مکینوں نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈپٹی کمشنر راجن پور سے اپیل کی ہے کہ سروے کا عمل جلد شروع کر کے ہمارے نقصانات کا تخمینہ لگا کر نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور ہمیں مکانات کی تعمیرات میں مالی مدد کریں بستی مکینوں نے پاکستان ایئر فورس، مختلف این جی اوز، فلاحی تنظیموں، مخیر حضرات اور فانڈریشنز اور عوامی فلاحی ٹرسٹ تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ہے ۔

ٹھٹھہ :ڈگری کالج مکلی کے پروفیسروں کااحتجاج اور کلاسز کا بائیکاٹ
باغی ٹی وی ، ٹھٹھہ( راجہ قریشی نامہ نگار)گورنمنٹ ڈگری کالج مکلی میں سندھ پروفیسر لیکچرار ایسوسی سیشن کی طرف سے ایک جونئئر لیکچرر راشد کھوسو کی طرف سے ڈگری کالج مکلی کے اسٹاف کو بلیک میل کرنے اور ان کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سیکریٹری تعلیم کو رپورٹ کرنے کے خلاف احتجاج اور تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ ،سندھ پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن کی طرف پروفیسر شاہ جہاں سیکریٹری جنرل سپلا سندھ، پروفیسر انور منصور صدر سپلاحیدراباد بسم اللہ جان جنرل سیکریٹری سپلا ٹھٹھہ اور اعجاز علی پلیجو کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمارے ادارے میں چھوٹے سے بڑے پیمانے تک کریپشن پھیلی ہے دو دن قبل ایک جونئیر لیکچرر راشد کھوسو نے غیر قانونی طریقے سے صبح آٹھ بجے کالج کادورہ کیا اور سوا اٹھ بجے کالج کے پورے اسٹاف کو غیر حاضر کرکے سیکریٹری تعلیم کو رپورٹ کی ہے کہ تمام اسٹاف کو معطل کیا جائے انہوں نے کہا کہ راشد کھوسو نے بارہ ہزار والی بائیو میٹرک مشین ستر ہزار کی کالج کو بیچی ہے اور بائیو میٹرک کے بہانے سارے اسٹاف کو بلیک میل کرکے اور رقم مانگ رہاہے کالج میں بائیو میٹرک کا ٹائیم صبح نو بجے ہے اور کالج کا تمام اسٹاف کراچی حیدراباد اور دوسرے شہروں سے صبح نو بجے سے پہلے کالج پہنچ جاتے ہیں مگر راشد کھوسو جس کو ہاضری چیک کرنے کااختیار ہی نہیں ہے اس نے غیر حاضری کی رپورٹ بھیجی ہے انہوں نے کہا ہے کہ سیکریٹری تعلیم راشد کھوسو کے خلاف کاروائی کریں ورنہ احتجاج کا دائیرہ اختیار بڑھایا جائے گا.

ٹھٹھہ : جئے سندھ ترقی پسند پارٹی کے زیر اہتمام آؤ تو سندھ سجائیں کے موضوع پر ایک شاندار جلسہ
باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ (راجہ قریشی نامہ نگار)جئے سندھ ترقی پسند پارٹی کے زیر اھتمام آو تو سندھ سجائیں کے موضوع پر ایک شاندار جلسہ جاگیردار مردہ باد انقلاب زندہ باد جڈیشل کمپلیکس گراونڈ ٹھٹھہ میں منعقد ہواجس میں ہزاروں لوگوں نے خواتین سمیت شرکت کی پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے جلسہ کی صدارت کی جلسہ میں ضلعی صدر سید جلال شاہ راجو قریشی ناتھو بروھی، ڈاکٹر سومار منگریو، نثار کریو، افضل جسکانی، اقبال آجیانو، سروان مگسی، شاہنواز سیال، امتیاز سموں، اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کو حکمرانوں نے صرف لوٹا ہواہے، ٹھٹھہ کے منتخب نمائندوں نے ضیاالحق، پرویز مشرف، بے نظیر بھٹو، عمران خان نواز شریف کے ساتھ اقتدار کے مزے لئے ہیں صرف عوام کو لوٹا ہے اب وقت ہے کہ ہم اپنی ماں سندھ کو ظالم حکمرانوں سے بچائیں اور سندھ کے حقوقِ کے لئے اگے بڑھیں

سجاول کے قریب نیشنل ھائی وے پر کار اور کوچ میں ٹکر تین کار سوار موقع پر جانبحق ،کئی زخمی
باغی ٹی وی ،دڑو (امتیازاحمدمیمن نامہ نگار)سجاول کے قریب نیشنل ھائی وے پر کار اور کوچ میں ٹکر تین کار سوار موقع پر جانبحق ہوگئےجبکہ کارمیں چوتھاشخص شدید زخمی ہوگیا ،زخمی اور جانبحق ہونے والوں کو ریسکیو کرنے لئے ایمبولنسز پھنچ گئی جانبحق اور زخمی ہونے والوں کی شناخت بگھت بصرلال ۔مٹھومل اور ھوندراج کے نام سے ھوئی ھیں جن کی لاشیں کار میں ہیں،ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے ان کے علاوہ بس میں موجود درجنوں مسافر زخمی ہیں ،حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا ہے.تیزرفتارکوچ کار کے اوپر چڑھ گئی ،جس سے کار میں سوار تین آدمی موقع پر جاں بحق اورچوتھا شخص شدید زخمی ہوگیا،زخمیوں اور ڈیڈ باڈیز کو ہسپتال منتقل کیا جارہاہے.

صوبائی حکومت کی بغاوت پرگورنر راج لگایا جا سکتا ہے
باغی ٹی وی ،کراچی ( ویب نیوز) صوبائی حکومت کی بغاوت پرگورنر راج لگایا جا سکتا ہے
روزنامہ امت نے احمد خلیل جازم کی ایک تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے اس رپورٹ میں انہوں نے لکھاہے کہ ” قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گورنر راج لگایا جا سکتا ہے” اٹھارویں ترمیم میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ آئینی طور پر اس کیلیے قرارداد منظور کرانی پڑتی ہے۔ چونکہ کسی بھی صوبے کا گورنر صدر کا نمائندہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اور خصوصاً تہتر کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر کا عہدہ صرف پارلیمنٹ کے بل پر دستخط کرنے تک ہی محدود ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت صوبہ پنجاب میں رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری اور عمران خان کے متوقع لانگ مارچ کے تناظر میں پنجاب میں گورنر راج کا سوچ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پر پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت مکمل ہوچکی ہے۔
اس حوالے سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یاسین آزاد نے ’’امت‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’’گورنر راج کے نفاذ کیلیے آئینی طورپرقومی اور صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کرانی پڑتی ہے۔ لیکن اس وقت موجودہ صورتحال میں پنجاب کے وزیر داخلہ نے وفاقی وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کا کہا ہے اور وارنٹ بھی ایشو کیے جاچکے ہیں۔ حالانکہ وہ کورٹ کے وارنٹ ہیں۔ جیسے عمران خان کے خلاف وارنٹ ایشو ہوئے تھے۔ ویسے ہی وارنٹ ہیں۔ اس کی کورٹ سے ضمانت ہوسکتی ہے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب کا وزیر داخلہ بعض اوقات کچھ کہتا ہے اور بعض اوقات کچھ۔ نواز شریف کی جیل میں ملاقاتوں پر قانونی کارروائی کا عندیہ دیتا ہے۔ جیل حکام کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کا کہتا ہے تو دیکھا جائے تو ایسا نہیں ہے کہ صوبہ فیڈریشن پر اٹیک کرے اور فیڈریشن معذرتیں پیش کرے۔ پاکستان کا دستور صرف فیڈریشن کیلیے نہیں، پورے پاکستان کیلیے ہے۔ اور آئین کی پابندی کرنا تمام صوبوں اور فیڈریشن کی ذمے داری بنتی ہے۔
یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جب پی ٹی آئی نے پہلے لانگ مارچ کیا تو پرویز خٹک خیبرپختون کے چیف منسٹر تھے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر فیڈریشن پر ایک قسم کا اٹیک کیا تھا۔ ویسے تو چھوٹے چھوٹے معاملات پر سوموٹو ایکشن لے لیا جاتا ہے۔ لیکن اس طرح کے معاملات میں ہم خاموش ہوجاتے ہیں۔ ہمیں ایسے معاملات پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں صوبوں کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ ایسا کام نہیں کرسکتے جس سے پاکستان کمزور ہو۔ کمزور تو ہم نے ویسے ہی کردیا ہے۔ ایک ایک ادارے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ایک سابق پرائم منسٹر آئینی اداروں کو دھمکیاں دیتا ہے۔ اسٹیبلشمٹ کو برا بھلا کہتا ہے۔ کوئی سننے والا نہیں ہے۔ تو گورنر راج جبھی ہوتا ہے جب کسی صوبے کے حالات انتہائی خراب ہوجائیں۔ صوبہ بغاوت پر اتر آئے۔ ایمرجنسی نافذ ہونا ضروری ہو۔ ایسی صورت میں حکومت قومی اسمبلی کا جوائنٹ سیشن بلا کر ایمرجنسی نافذکرنا چاہے تو کسی بھی صوبے میں کرسکتی ہے۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ صوبے میں مختلف پارٹیوں کی حکومت ہو تو آپ فیڈریشن پر اٹیک کرسکتے ہیں؟ آپ کے پڑوس میں پچاس سے زائد ریاستیں ہیں۔ وہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ فیڈریشن پر حملہ کیا جائے۔ یہ ہمارے ملک میں عجیب تماشا بنا ہوا ہے‘‘۔ اس سوال پر کہ صدر کا اس میں کیا کردار ہوتا ہے؟
یاسین آزاد کا کہنا تھا ’’صدر کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اس نے اسے ایک مخصوص وقت میں منظور کرنا ہے۔ اگر وہ اسے لٹکاتا ہے تو فیڈریشن دوبارہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اسے فوری طور پر نافذ کردے گی۔ اگرچہ اٹھارویں ترمیم میں گورنر راج کا نفاذ اتنا آسان نہیں۔ لیکن اگر صورتحال انتہائی خراب ہوجائے۔ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال ختم ہوجائے تو پارلیمنٹ کے دونوں ایوان قرارداد پاس کردیتے ہیں۔ فیڈریشن کے پاس اس وقت سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اکثریت ہے تو وہ فوری قرارداد پاس کرسکتے ہیں۔ پھر کیا ہوگا۔ پھر تو وہ آئینی طور پر کیا جائے گا۔ میں پولیٹکل ورکر بھی ہوں۔ میں اس وقت کسی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ضمیر اور قانون کی بات کر رہا ہوں۔ کیا پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری نہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر تمام معاملات حل کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے عدالت جاتے ہیں۔ پھر جب عدالت کا فیصلہ آئے تو عدالتوں پر لعن طعن کرتے ہیں۔ تمام پارٹیاں پاکستان کی بقا نہیں بلکہ اپنی انا کی جنگ لڑ رہی ہیں‘‘۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’’وفاق کا یہ استحقاق ہے کہ وہ گورنر راج نافذ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ عدالتوں میں چیلنج ہو سکتا ہے اور عدالتیں اس کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہیں۔ گورنر رول کے کچھ لوازمات ہوتے ہیں کہ صوبے میں آئینی نظام مفلوج ہوجائے یا پھر کوئی معاشی ایمرجنسی ہو۔ اس صورت میں تو یہ رول ممکن ہے۔ لیکن بہرحال عدالت اسے دیکھ سکتی ہے۔ گورنر رول نافذ کرنا کوئی مشکل نہیں اور اس کا طریقہ کار آئین میں درج ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عدالت میں اس کا دفاع کیسے کیا جائے گا؟ اور عدالت اس کا فیصلہ کرنے میں کتنا وقت لے گی‘‘۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’’صدر کا اس میں یہی کردار ہوگا کہ وہ مشاورت کے لیے وفاقی حکومت کو ایک بار کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ان کا زیادہ کردار نہیں ہوگا۔ ویسے بھی گورنر صوبے میں صدر کا ہی نمائندہ ہوتا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت اگر چاہے گی تو لامحالہ انہیں یہ کرنا ہی پڑے گا۔ میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ گورنر رول نافذ کرنا آسان ہے۔ لیکن اس کے دفاع کے لیے آپ کے پاس مضبوط دلیل ہو۔ جس سے عدالت میں ثابت کرسکیں کہ یہ ضروری تھا‘‘۔
اسٹیل ملز سے 20 ارب روپے کا سامان چوری کیا گیا
اسٹیل ملز سے 20 ارب روپے کا سامان چوری کیا گیا
باغی ٹی وی ،کراچی ( ویب نیوز) روزنامہ امت کے مطابق اسٹیل ملز میں گزشتہ برسوں کے دوران چوری کیے گئے سامان کی مالیت بیس ارب تک جا پہنچی ہے۔ اس بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کو جلد مکمل کرنے کیلئے ایف آئی اے نے ملز کے اندر ہی عارضی دفتر قائم کرلیا ہے۔ ایف آئی اے ٹیم نے کئی روز تک پورا دن یہاں گزارا اور متعلقہ افسران سے گھنٹوں پوچھ گچھ کی گئی۔ ریکارڈ سامنے رکھ کر قلمبند کئے جانے والے بیانات انکوائری کا حصہ بنا لئے گئے ہیں۔ تحقیقات کے دوران مختلف متعلقہ ڈپارٹمنٹ اور دفاتر میں آمدروفت بند کردی گئی۔ اسٹیل ملز میں سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام کی ملی بھگت سے سامان چوری کرنے کی درجنوں وارداتیں رونما ہوتی رہیں۔ تاہم ایک واردات ایسی بھی کی گئی جس میں کئی درجن غیر متعلقہ افراد گھنٹوں رات کے اندھیرے میں دندناتے رہے اور 10 کے قریب ٹرک ساتھ لائے۔ ان ٹرکوں میں اسکریپ، اسٹیل، آئرن وغیرہ لا د کر باہر منتقل کیا جاتا رہا۔ اس واردات میں ان ٹرکوں نے کئی چکر لگائے۔ تاہم حیرت انگیز طور پر نہ پولیس کو اطلاع دی گئی اور نہ ہی اعلیٰ حکام کے کانوں پر جوں رینگی۔ بلکہ اس معاملے کو دبا دیا گیا۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم سے منسلک ذرائع کے مطابق سیکورٹی چوکیوں، گوداموں اور گیٹس پر نصب کیمروں کے ڈیٹا سے چھان بین کی جا رہی ہے۔ جبکہ یہاں تعینات اہلکاروں اور متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے انچارجز کے بیانات بھی قلمبند کرلئے گئے ہیں۔
’’امت‘‘ کو موصولہ اطلاعات کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کی تحریری درخواست پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کی جانب سے ایف آئی اے کراچی زون کو اسٹیل ملز سے اربوں روپے مالیت کا سامان غائب ہونے کی تحقیقات کا ٹاسک رواں برس جولائی کے آخر میں دیا گیا۔ جس پر ابتدائی کارروائی کے بعد ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں ایک انکوائری رجسٹرڈ کی گئی اور اس پر ایک 5 رکنی ٹیم قائم کی گئی۔ مذکورہ ٹیم میں ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر،4 انسپکٹر اور سب انسپکٹرز شامل ہیں۔ انکوائری رجسٹرڈ کئے جانے کے وقت ایف آئی اے افسران کی جانب سے حکام بالا کو آگاہ کیا گیا کہ ماضی میں بھی اسٹیل ملز میں اربوں روپے کی کرپشن پر درجنوں انکوائریاں ریکارڈ نہ ملنے اور اسٹیل ملز حکام کی جانب سے کی جانے والی ٹال مٹول کے نتیجے میں سود مند ثابت نہیں ہوئیں۔ اس لئے ایف آئی اے کو مطلوبہ ریکارڈ کی بروقت دستیابی کو ممکن بنایا جائے۔ اس پر ایف آئی اے حکام کی جانب سے وزارت صنعت و پیداوار سے رابطہ کیا گیا۔ جہاں سے اسٹیل ملزحکام کو ایف آئی اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے اور تعاون فراہم کرنے کیلئے پاکستان اسٹیل ملزکے فوکل پرسن ریاض حسین منگی کو ذمے دارسونپی گئیں۔ ایف آئی اے ٹیم کی جانب سے انکوائری میں تحقیقات کا آغاز اسٹیل ملز کی ایک ورکرز ایسوسی ایشن کی ان معلومات کو سامنے رکھ کر کیا گیا۔ جس کو بنیاد بناتے ہوئے وزارت صنعت و تجارت کی جانب سے ایف آئی اے کو تحقیقات کیلئے کہا گیا تھا۔ ورکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے فراہم کی گئی تحریری معلومات میں ملز سے چوری کی وارداتوں، افسران کی ملی بھگت اور طریقہ کار کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کئے گئے اور اس میں کئی وارداتوں کی پوری تفصیلات تاریخ، وقت کے ساتھ منسلک کی گئیں۔ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کی مذکورہ ٹیم کی جانب سے رواں برس اگست کے آغاز میں اسٹیل ملز حکام سے متعلقہ ریکارڈ طلب کرنا شروع کیا گیا۔ اس ضمن میں فوکل پرسن پی ایس ایم ریاض حسین منگی کو ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کیا گیا۔ جس میں 2018ء سے اب تک 5 برسوں کے دوران اسٹیل ملزکے دروازوں، سیکورٹی چوکیوں، گوداموں اور مختلف ڈپارٹمنٹ پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کے نام، ولدیت، شناختی کارڈ، سروس ریکارڈ اور موبائل نمبرز طلب کئے گئے۔ اس کے ساتھ ہی ان تمام مقامات پر نصب کیمروں کی وڈیو فوٹیجز بھی طلب کی گئیں۔ جن مقامات سے سامان چوری کرنے کی وارداتیں کی جاتی رہیں۔ ان کے اطراف نصب کیمروں کے غیر فعال ہونے کی وجوہات بھی مانگی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی 5 برسوں میں ملز میں آنے اور نکلنے والے میٹریل کا ریکارڈ بھی طلب کرکے جانچ پڑتال شروع کی گئی۔
ایف آئی اے کی تحقیقات سے منسلک ذرائع کے بقول گزشتہ 4 ماہ کی تحقیقات میں کئی اہم ثبوت اور شواہد حاصل کر لئے گئے ہیں اور اب انکوائری پر حتمی سفارشاتی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔ جس پر لیگل ڈپارٹمنٹ کی ماہرانہ رائے اور ملوث ملزمان پر لگنے والی دفعات کا تعین کرکے مقدمہ کی منظوری کیلئے رپورٹ ڈائریکٹر زون کے توسط سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو پیش کردی جائے گی۔ ذرائع کے بقول گزشتہ ہفتے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ندیم خان، سب انسپکٹر عظمیٰ طالب، سب انسپکٹر رائو عامر اور دیگر پر مشتمل ایف آئی اے کی 5 رکنی ٹیم مسلسل کئی روز تک 8 سے 10 گھنٹے پاکستان اسٹیل ملزمیں گزار چکی ہے۔ ایف آئی اے ٹیم کی جانب سے پروڈکشن پلانٹ اور دیگر مختلف ڈپارٹمنٹس میں تفصیلی چھان بین کی گئی اور یہاں سے متعلقہ ریکارڈ بھی تحویل میں لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اب تک سامنے آنے والی ریکارڈ کی چھان بین کے بعد سوالنامے تیار کر کے سی ایف او عادل شیخ، راجیش کھتری، شکیل، ڈاکٹر محمود شاہ اور طارق سمیت دیگر متعلقہ افسران کے تفصیلی بیانات قلمبند کرکے انکوائری فائل کا حصہ بنائے گئے۔ اس دوران پروڈکشن پلانٹ اور ڈپارٹمنٹ کے دروازے بند کردیئے گئے اور کئی گھنٹوں تک آمدروفت روک دی گئی۔ تحقیقات کیلئے اسٹیل ملز گیسٹ ہائوس پر بھی ایف آئی اے ٹیم پہنچی اور تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران یہاں سے اخراجات اور بجٹ کا ریکارڈ بھی ضبط کیا گیا۔ جبکہ یہاں موجود جام داد خان، جاوید ملک نامی افسران اور اہلکار سے تفصیلی پوچھ گچھ کرکے ان کے بیانات قلمبند کئے گئے ۔ ایف آئی اے ذرائع کے بقول چونکہ شہر کے مرکز سے طویل مسافت کی وجہ سے صدر ایف آئی اے دفاتر سے ریکارڈ کے حصول اور چھان بین کیلئے روز گلشن حدید میں واقع اسٹیل ملز آنا جانا ممکن نہیں۔ اس لئے اسٹیل ملز کے آفس بلاک میں ایک کمرہ عارضی دفتر کے طور پر ایف آئی اے افسران کے بیٹھنے کیلیے مختص کرلیا گیا ہے۔ جہاں قریب رہائش پذیر ایف آئی اے اہلکار آکر بیٹھ سکتے ہیں اور ایف آئی اے دفاتر میں موجود اپنے افسران سے رابطے میں رہ کر انہیں مطلوبہ مواد وہیں منگوا کر چھان بین کر سکتے ہیں اور اسی وقت یہ مواد ایف آئی اے ٹیم کو ارسال کرکے اس پر مزید ہدایات لے سکتے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے بقول ابتدائی طور پر 10 ارب روپے مالیت کے سامان کی خورد برد سے تحقیقات شروع کی گئیں۔ تاہم اب یہ مالیت 20 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ کیونکہ ایک ہی واردات میں اربوں روپے کا سامان اسٹیل ملز سیکیورٹی کی موجودگی میں نکالا گیا۔ انکوائری میں مذکورہ بالا افسران سمیت چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیل ملز نامز ہیں۔ جو ممکنہ مقدمہ میں شامل ہوں گے۔
چونیاں: قتل ، ڈکیتی میں ملوث ساجدی ڈکیت گینگ کے 5 ارکان گرفتار
باغی ٹی وی ،چونیاں (عدیل اشرف نامہ نگار) تھانہ سٹی پولیس کی ساجدی ڈکیت گینگ کے خلاف کارروائی، قتل میں ملوث ڈکیت گینگ کے 5 کرندے گرفتار کر لئے گئے، قتل کے علاوہ 9 وارداتوں کا انکشاف، ملزمان سے مسروقہ نقدی، موبائل فونز ، موٹر سائیکلیں اور جدید اسلحہ برآمد تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی پولیس چونیاں نے کارروائی کرتے ہوئے بین الاضلاعی ساجدی ڈکیت گینگ کے 5 کرندوں کو گرفتار کیا ہے۔ قتل ڈکیت گینگ میں سرغنہ ساجد عرف ساجدی, ریاض کھوکھر اشرف، ساجد بشیر، ساجد عارف اور عثمان کے نام شامل ہیں ایس ایچ او جاوید اقبال ہاشمی نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ 9 وارداتوں کے علاوہ حکیم امجد کو دوران واردات فائرنگ کر کے قتل کیا تھا ملزمان کے قبضہ سے 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ, نقدی, موبائلز، موٹر سائیکلیں، جدید اسلحہ وغیرہ برآمد کیا گیا ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا ناجائز اسلحہ میں 5 پسٹل, رائفلیں, گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ایس ایچ او تھانہ سٹی جاوید ہاشمی، انسپکٹر محمد عباس نے اپنی ٹیم محمد صابر، اے ایس آئی , محمود اے ایس آئی کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا۔ ایس ایچ او سٹی نے مزید مرکزی پریس کلب حافظ میڈیا کو بتایا کہ ملزمان اسلحہ کے زور پر سٹریٹ کرائم، چوری، ڈکیتی و مختلف علاقوں میں وارداتیں کرتے تھے۔ ملزمان کا تعلق شیخوپورہ, کھوکھر اشرف, چونیاں کے علاقے سے ہے۔ ملزمان تھانہ سٹی پولیس کو قتل، ڈکیتی راہزنی چوری کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔ ڈی پی او قصور عمران بخاری اور ڈی ایس پی چونیاں فتح احمد کاہلوں نے سٹی تھانہ کی کارکردگی کو سراہا اور شاباش دی۔

چونیاں : ڈینگی وائرس سے نوجوان جاں بحق
باغی ٹی وی ،چونیاں (نامہ نگار) ڈینگی وائرس نے نوجوان کی جان لے لی، رحمان پورہ کا رہائشی 30 سالہ اورنگزیب کی ڈینگی وائرس نے جان لی، رورل ہیلتھ سنٹر چھانگا مانگا میں سہولیات کا فقدان ہونے ہی وجہ سے لاہور ریفر کر دیا گیا جہاں جانبر نہ ہو سکا۔ آر ایچ سی میں سہولیات کا فقدان ہے ڈینگی کاؤنٹر ہی موجود نہیں، شہر میں کسی بھی مقام پر ڈینگی وائرس سے بچاؤ کی سپرے نہیں کی گئی جس سے وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔ متوفی کی میت گھر پہنچنے پر کہرام برپا ہو گیا گیا، اہلخانہ سمیت علاقہ مکین بھی صدمہ میں مبتلا تھے

چونیاں:میونسپل کمیٹی جناح ہال میں ہاتھ سے لکھے گئے قرآن پاک کے نسخے کی تقریب رونمائی
باغی ٹی وی ،چونیاں (نامہ نگار) میونسپل کمیٹی جناح ہال چونیاں میں ہاتھ سے لکھے گئے قرآن پاک کے نسخے کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی۔ہاتھ سے لکھے قرآن مجید کے اس نسخے کو دیکھنے کے لے شہریوں کی بڑی تعداد نے ہال کا رخ کیا ہے تفصیلات کے مطابق چونیاں ظہیر آباد کالونی کے رہائشی مرزا اکبر بیگ نے اللہ تبارک وتعالیٰ اور نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ایک سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد ہاتھ سے لکھے گئے قرآن مجید فرقان حمید کے نسخے کو مکمل کرنے کے بعد جناح ہال میں ایک پروقار تقریب کی رونمائی منعقد کی گئی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن پاک کے نسخے کو دیکھنے کے لیے جناح ہال کا رخ کیا اس موقع پر ہاتھ سے لکھنے والے قرآن پاک کے کاتب مرزا اکبر بیگ کا کہنا تھا۔ دو سال قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے در مبارک مدینہ منورہ پر مانگی دعا پوری ہو گئی ہے اب اس قرآن مجید کے نسخے کو کلیرنس سرٹیفکیٹ مل چکا ہے دوبارہ عمرہ کی سعادت کے جا کر اور اپنے ہاتھ سے لکھے ہو قرآن کے اس نسخے کو مسجد نبوی کے گیٹ نمبر پانچ قرآن محل میں رکھنے جاؤں گا۔ شہریوں نے کاتب اکبر بیگ کے اس عمل کو خوب سراہا۔۔









