Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • جمہوریت یا معاشی آمریت؟

    جمہوریت یا معاشی آمریت؟

    جمہوریت یا معاشی آمریت؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    اگر چار ہزار من گندم 2200 روپے فی من میں بک سکتی ہے تو 5500 روپے والی چینی کی بوری 9000 روپے تک کیوں جا پہنچی؟ یہ محض ایک اقتصادی سوال نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی گہرائیوں میں پیوست ایک تلخ سچائی ہے۔ ہمارے ہاں اشیاء کی قیمتیں نہ طلب و رسد کے اصولوں سے طے ہوتی ہیں، نہ مارکیٹ کی خودکار طاقتوں سے۔ قیمتوں کا تعین ہوتا ہے طاقتور طبقے کی مرضی، مفادات اور مافیاز کی اجارہ داری سے جو پیداوار عوام سے لیتے ہیں مگر منافع اپنی تجوریوں میں بھر لیتے ہیں۔

    گندم کاشت کرنے والا کسان جو سال بھر دھوپ، گرمی، قرضوں، کھادوں، مہنگے بیج اور ناکارہ زرعی نظام کا سامنا کرتے ہوئے زمین کا سینہ چیرتا ہے۔مگر جب اس کی فصل تیار ہوتی ہے تو اسے سرکاری امدادی قیمت کے نام پر اونے پونے بیچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر وہ آزاد منڈی کا رخ کرے تو وہاں بیوپاریوں کی اجارہ داری، کمیشن خور مڈل مین اور منڈی کا غیر شفاف نظام اس کی ریڑھ توڑ دیتا ہے۔ کسان کی محنت پر منافع لینے والے وہی طاقتور طبقات ہیں جو پالیسی بھی خود بناتے ہیں اور قیمت بھی خود طے کرتے ہیں۔

    یہی صورتحال گنے کی فصل کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔ گنا بھی وہی کسان کاشت کرتا ہے مگر شوگر ملز کے دروازے پر پہنچتے ہی کھیل بدل جاتا ہے۔ گنے کی قیمت، تول، کٹوتی اور ادائیگی کا نظام شوگر مافیا کے ہاتھ میں ہے جو حکمران جماعتوں اور وزارتی خاندانوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ کسان کو کم نرخ، کٹوتی اور تاخیر کے ذریعے کمزور کیا جاتا ہے جبکہ چینی کی قیمتوں پر کوئی قانون یا ضابطہ لاگو نہیں ہوتا کیونکہ چینی "عوامی ضرورت” نہیں بلکہ "اشرافیہ کی پیداوار” بن چکی ہے۔

    کھاد کی صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ یوریا اور ڈی اے پی جیسی زرعی کھادیں ان کارخانوں میں تیار ہوتی ہیں جن کے مالکان اکثر وزراء، مشیر یا طاقتور خاندان ہیں۔ کسان کو یہ کھاد نہ صرف مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہے بلکہ جعلی یا ناقص مال کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے۔ کسان کی محنت کی لاگت بڑھتی ہے اور منافع ان صنعتکاروں کی جیب میں جاتا ہے جنہوں نے خود ہی قیمتیں بڑھانے کے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں۔

    پھر آتا ہے پٹرول اور ڈیزل جو نہ صرف کسان کے ٹریکٹر بلکہ ہر شہری کی نقل و حرکت اور روزمرہ کی معیشت سے جُڑا ہوا ہے۔ پٹرول پر مکمل کنٹرول حکومت کے پاس ہوتا ہے اور جب بھی بجٹ خسارہ یا آئی ایم ایف کی شرائط درپیش ہوں تو یہ کنٹرول عوام پر مہنگائی کے ہتھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مگر ریاستی خزانے میں آنے والے یہ ٹیکس براہ راست عوام پر خرچ نہیں ہوتے بلکہ حکمران اشرافیہ کی مفت سہولیات اور شاہانہ اخراجات میں جھونک دیے جاتے ہیں۔

    سب سے اذیت ناک پہلو بجلی کا ہے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے والی بیشتر کمپنیاں نجی شعبے میں ہیں جن کے مالکان براہ راست سیاسی و انتظامی طاقتور طبقات سے وابستہ ہیں۔ یہ کمپنیاں بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، انہیں "کیپسٹی پیمنٹس” کے نام پر عوامی خزانے سے اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کا بوجھ براہ راست عوام کے بلوں پر ڈالا جاتا ہے۔ اگر کوئی شہری 201 یونٹ بجلی استعمال کرے تو اس کا بل دس ہزار روپے سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ انہی حکمرانوں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو بجلی، پٹرول اور دیگر سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

    علاج معالجے کے میدان میں بھی یہی طبقاتی فرق نمایاں ہے۔ غریب شہری سرکاری ہسپتال میں پیناڈول کی گولی کے لیے ترستا ہے اور اگر کسی بڑے ٹیسٹ، بستر یا ڈاکٹر تک رسائی درکار ہو تو سفارش یا رشوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے برعکس حکمران طبقے کے افراد معمولی بیماری پر بھی بیرون ملک علاج کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے لندن، دبئی، نیویارک کے ہسپتال کھلے ہیں اور خرچ ہوتا ہے پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ۔

    یہ سب کچھ اس بنیادی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک میں پیداوار تو عوام کرتے ہیں لیکن منافع اور کنٹرول طاقتور طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ اشیاء کی قیمتیں معیشت کے اصولوں پر نہیں بلکہ اشرافیہ کے مفادات پر مبنی فیصلوں سے طے ہوتی ہیں۔ قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے اور طاقتور قانون سے بالا تر ہوتا ہے۔
    یہ نظام جمہوری نہیں، معاشی آمریت ہے ، ایک ایسا نظام جس میں عوام صرف ووٹر، ٹیکس دہندہ، بل دہندہ اور سائل ہے جبکہ حکمران طبقہ بادشاہ ہے جسے نہ احتساب کا خوف ہے نہ قانون کی پرواہ۔

    سوال یہ نہیں کہ چینی مہنگی کیوں ہے۔سوال یہ ہے کہ طاقتور اپنی پیدا کردہ اشیاء کی قیمت خود طے کرنے کا اختیار کب تک رکھے گا؟اور غریب جو ہر شے کا خریدار ہے، کب تک صرف بل ادا کرتا رہے گا؟

    اگر ہم واقعی جمہوریت کے دعوے دار ہیں تو جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ معاشی عدل بھی ہونا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن عوام کے حقوق کے تحفظ میں ہے اور اگر وہ تحفظ صرف طاقتوروں کے لیے مخصوص ہو جائے تو یہ نظام جمہوریت نہیں بلکہ ایک "جمہوری آمریت” بن جاتا ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ اس نظام کو چیلنج کیا جائے۔ جمہوریت کو اشرافیہ کے دامن سے نکال کر کسان، مزدور اور متوسط طبقے کے ہاتھ میں دیا جائے۔ معیشت کو عوامی مفادات کے تابع بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ معاشی آمریت ہر روز ہزاروں گھروں کے چولہے بجھاتی رہے گی اور ہم صرف تحریریں لکھتے، سوالات اٹھاتے اور احتجاج کرتے رہ جائیں گے۔

  • ٹھٹھہ: گھارو پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل، کراچی کو پانی کی فراہمی متاثر

    ٹھٹھہ: گھارو پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل، کراچی کو پانی کی فراہمی متاثر

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) گھارو پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ کو کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے باعث شہر میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق بجلی کی معطلی 18 جولائی کو سہ پہر 3 بجے کیبل فالٹ کے باعث ہوئی، جس کے بعد پمپنگ کا عمل مکمل طور پر بند ہوگیا ہے۔

    واٹر کارپوریشن کے مطابق گھارو پمپنگ اسٹیشن سے یومیہ 30 ایم جی ڈی (ملین گیلن ڈیلی) پانی شہر کو فراہم کیا جاتا ہے، اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث اس پانی کی سپلائی معطل ہو چکی ہے۔

    متاثرہ علاقوں میں پورٹ قاسم، بن قاسم ٹاؤن، شاہ فیصل ٹاؤن، پی این ایس مہران، پی اے ایف بیس فیصل اور کارساز شامل ہیں، جہاں آنے والے دنوں میں پانی کی قلت سنگین صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

    واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کیبل فالٹ کے خاتمے کے لیے کے الیکٹرک انتظامیہ سے مسلسل رابطے جاری ہیں اور جلد از جلد بحالی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، تاحال فالٹ کو دور نہیں کیا جا سکا۔

    عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہری حلقوں نے کے الیکٹرک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پانی کی فراہمی سے متعلق اس نازک معاملے میں فوری اقدامات کرے تاکہ شہر پانی کے بحران سے بچ سکے۔

  • ڈسکہ: الیکٹرانک میڈیا کے نومنتخب عہدیداران کا اعلان، اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ

    ڈسکہ: الیکٹرانک میڈیا کے نومنتخب عہدیداران کا اعلان، اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ

    سیالکوٹ ( باغی ٹی وی،ڈویژنل بیوروچیف شاہدریاض) پریس کلب ڈسکہ (رجسٹرڈ) میں ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ نمائندگان کے لیے نومنتخب عہدیداران کے ناموں کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین پریس کلب محمد افضل منشاء نے کی، جبکہ شہر کی صحافتی برادری اور مختلف چینلز سے وابستہ نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اجلاس میں چیئرمین محمد افضل منشاء نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں صفِ اوّل کا کردار ادا کیا ہے اور ان کی خدمات ہر سطح پر قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر الیکٹرانک میڈیا کلب کے نئے عہدیداران کے ناموں کا باضابطہ اعلان کیا۔

    نومنتخب عہدیداران میں صدر کے طور پر شہباز علی محسن کو چُنا گیا، جبکہ جنرل سیکرٹری کے فرائض چوہدری نعیم اختر وریاہ انجام دیں گے۔ دیگر عہدیداران میں نوید اقبال خاں کو سینئر نائب صدر، عثمان حیدر اور شیخ نوید کو نائب صدر مقرر کیا گیا۔ ملک چاند کو سیکرٹری اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری دی گئی جبکہ ملک شاہد تنویر کو جوائنٹ سیکرٹری اور شاہد ریاض کو ایڈیشنل سیکرٹری نامزد کیا گیا۔ مرزا آفتاب کو فنانس سیکرٹری مقرر کیا گیا جو مالی امور کی نگرانی کریں گے۔

    اس پروقار تقریب میں پریس کلب کے سینئر اراکین نے نومنتخب عہدیداران کو ہار پہنائے، انہیں دلی مبارکباد دی اور ان کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ یہ لمحہ نہ صرف میڈیا کی مضبوطی کی علامت ہے بلکہ ایک نئے عزم، اتحاد، اور ہم آہنگی کی شروعات بھی ہے۔

    شرکاء کا کہنا تھا کہ پریس کلب ڈسکہ اور الیکٹرانک میڈیا کلب کے درمیان قائم ہونے والا یہ اشتراک مستقبل میں صحافیوں کی آواز کو مزید مؤثر اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔

    یہ اجلاس صحافتی برادری کے لیے حوصلہ افزا اور مثبت پیش رفت کا حامل قرار دیا گیا، جس نے ڈسکہ میں میڈیا کے کردار کو مزید فعال بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

  • سیالکوٹ: برآمدی صنعتوں کے لیے یورپی ماحولیاتی ضوابط پر آگاہی سیمینار

    سیالکوٹ: برآمدی صنعتوں کے لیے یورپی ماحولیاتی ضوابط پر آگاہی سیمینار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کے زیرِ اہتمام کمیٹی برائے انڈسٹریل سیفٹی اینڈ رسک مینجمنٹ اور ایس جی ایس پاکستان کے اشتراک سے سائنس پر مبنی اہداف انیشی ایٹو (SBTi) اور یورپی کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (CBAM) سے متعلق آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

    سیمینار میں SCCI کے نائب صدر عمیر خالد اور انڈسٹریل سیفٹی اینڈ رسک مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین شیخ زہیب رفیق سیٹھی نے خصوصی شرکت کی۔ سیشن کا مقصد سیالکوٹ کی برآمدی صنعتوں کو ان نئے بین الاقوامی ضوابط اور ماحولیاتی تقاضوں کے مالی و حکمت عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا تھا۔

    ماہرین نے اس موقع پر بتایا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تجارتی ماحول میں پائیدار صنعتی طریقے اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی برآمدی صنعتیں بین الاقوامی منڈی میں مسابقتی برتری حاصل کر سکیں۔

    سیمینار کے دوران برآمد کنندگان کو SBTi اور CBAM جیسے اقدامات کے تحت متوقع چیلنجز اور مواقع سے آگاہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پائیداری کی طرف منتقلی صنعتوں کے لیے ایک ناگزیر عمل بنتی جا رہی ہے۔

  • سیالکوٹ: 50 کروڑ سے زائد مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کی منظوری

    سیالکوٹ: 50 کروڑ سے زائد مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کی منظوری

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (DDC) سیالکوٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-2026 کے تحت 50 کروڑ 77 لاکھ روپے مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں لوکل گورنمنٹ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، فنانس، ہائی ویز اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران شریک ہوئے۔

    اجلاس میں مجموعی طور پر 13 ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 8 اسکیموں کو منظور کیا گیا۔ ان میں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی 7 اور ہائی ویز ڈویژن سیالکوٹ کی 1 اسکیم شامل ہے۔ ان اسکیموں کا مقصد شہری و دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، اور کمیونٹی فلاحی منصوبوں کی تکمیل ہے۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے اس موقع پر ہدایت دی کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے مکمل تیاری کریں تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات میسر آ سکیں۔

  • ٹھٹھہ: روحانی درگاہ درس وریو لاکانی کی حرمت پر الزامات، گدی نشینوں کا قانونی چارہ جوئی کا اعلان

    ٹھٹھہ: روحانی درگاہ درس وریو لاکانی کی حرمت پر الزامات، گدی نشینوں کا قانونی چارہ جوئی کا اعلان

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں)گجو کے قریب واقع قدیم اور روحانی درگاہ "درس وریو لاکاڻي” کے گدی نشینوں غلام علی درس، گل جاوید درس، زبیر درس، حاجی امام بخش جوکھیو، حاجی رشید میمن اور دیگر نے عوامی پریس کلب ٹھٹھہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر شاہ درگاہ کے خلیفہ غلام قادر عرف گلی جوکھیو کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ وہ ان الزامات کے خلاف قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص کی جانب سے ان کے خلاف جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کا مقصد صرف ان کی ذاتی ساکھ اور درگاہ کی حرمت کو نقصان پہنچانا ہی نہیں بلکہ ہزاروں عقیدت مندوں اور مریدوں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچانا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ "درگاہ درس وریو لاکانی” ایک تاریخی اور روحانی سلسلے کی نمائندہ درگاہ ہے، جہاں مختلف برادریوں کے قبرستان بھی موجود ہیں۔ لیکن کچھ عناصر، جو ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور روحانی اثر سے خوفزدہ ہیں، اس روحانی سلسلے کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو کسی کا راستہ بند کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی کی زمین فروخت کی گئی ہے۔ اگر کسی کو ذاتی شکایت ہے تو ان کے سینکڑوں مرید موجود ہیں، جن سے رابطہ کر کے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ چند افراد کی وجہ سے گاؤں کا پرامن ماحول خراب ہو۔

    گدی نشینوں نے مزید کہا کہ ہم کسی سے دشمنی نہیں رکھتے، لیکن اپنی درگاہ کی حرمت اور مریدوں کے جذبات کے تحفظ کے لیے آئینی اور قانونی اقدام کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

    اس موقع پر وڈیرہ اسلم جوکھیو، حاجی رفیق میمن، وڈیرہ سلیم جوکھیو، سلیم سومرو، نور احمد جوکھیو، عبدالرحمان جوکھیو، حسن علی بھورو جوکھیو، شاہویز اور دیگر نے بھی الزامات کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مکمل تردید کی۔

  • شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی

    شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی

    شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    آلودگی کی کئی ایک قسمیں ہیں مگر آج ہم شور کی آلودگی کے حوالے سے کچھ بنیادی معلومات آپ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شور کی آلودگی کوئی معمولی مسئلہ نہیں، یہ انسان کے جسم، دماغ اور رویوں پر براہ راست حملہ آور ہے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی صحت، تعلیم اور ماحولیاتی بہتری جیسے مسائل کو ثانوی حیثیت حاصل ہے، وہاں شور کی آلودگی (Noise Pollution) ایک تیزی سے بڑھتا ہوا مگر نظر انداز کیا گیا خطرہ بن چکا ہے۔ یہ وہ آلودگی ہے جس کا اثر نظر نہیں آتا، مگر دماغ، دل، نیند، تعلیم اور انسان کی پوری شخصیت کو اندر سے گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔

    جب آواز اپنی قدرتی حد (50-70 ڈیسی بل) سے بڑھ جائے اور انسانی سماعت، سکون، یا جسمانی صحت پر منفی اثر ڈالنے لگے، تو وہ شور آلودگی کہلاتی ہے۔

    شور کی آلودگی کے بڑے ذرائع یہ ہیں،لاوڈ اسپیکر کا بے جا استعمال (مساجد، دکانیں، سیاسی جلسے)، شادی ہال، کنسرٹس، DJ اور دھماکے دار موسیقی، گاڑیوں کے غیر ضروری ہارن (خصوصاً رکشے، بسیں، ٹرک)، انڈسٹری کا شور، تعمیراتی مشینری اور فیکٹریاں، ریڑھی بانوں، ٹھیلے والوں اور مارکیٹوں کی بلند آوازیں، پٹاخے، ہوائی فائرنگ اور تہواروں پر شور شرابا۔

    شور کی آلودگی کے انسانی صحت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن میں ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن اور بے چینی، نیند میں خلل، جسمانی کمزوری، تھکن، بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہونا، بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کا عدم توازن، سماعت کی کمزوری یا مکمل نقصان، بزرگوں اور بیماروں کے لیے اضافی اذیت شامل ہیں۔

    یہ سب ہونے کے باوجود ہم شعوری طور پر لاشعور ہیں اور ہمارے اداروں کی کارکردگی اس حوالے سے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہاں، البتہ فائلوں میں سب اچھا کی رپورٹ ضرور ہوگی اور ماہانہ لفافے ضرور ملتے ہوں گے جو ان کی نظر میں ان کا جائز حق ہے۔ صد افسوس ہماری ترجیحات کیا ہیں۔

    شور کی آلودگی کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری محکمہ ماحولیات، بلدیاتی ادارے، ٹریفک پولیس، اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے قوانین موجود ہیں، مگر عمل ندارد۔ بڑے ہوٹل، شادی ہال یا سیاسی پروگرام "رابطوں” کے باعث کارروائی سے بچ جاتے ہیں، جبکہ چھوٹے دکاندار، رکشہ ڈرائیور یا ریڑھی بان کو چالان کر کے رپورٹ مکمل کر دی جاتی ہے۔

    ماہانہ بھتہ، سیاسی دباؤ اور رشوت کی بنیاد پر شور پھیلانے والوں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ شکایت درج کرانے والے شہریوں کو "سائل” سمجھنے کی بجائے "تنگ کرنے والا” گردانا جاتا ہے۔

    عام شہری کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟ کیونکہ عوامی آگاہی نہیں۔ لوگوں کو اس حوالے سے سیمینار، ورکشاپ اور میڈیا کے ذریعے آگاہی دی جائے۔

    جب قانون موجود ہو، ادارے قائم ہوں، مگر نیت نہ ہو تو مسائل صرف بڑھتے ہیں۔ اگر شور کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ہم ایک بے سکون، بیمار، اور ذہنی مریض قوم میں بدل جائیں گے۔ بلکہ بدل چکے ہیں کیونکہ یہ عوام الناس کا بنیادی مسئلہ ہے اور ہم نے ہمیشہ عوامی مفادات کو ترجیح نہیں دی، جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں، انہی میں سے ایک شور کی آلودگی بھی ہے۔

    خاموشی صحت ہے، شور تباہی . اب فیصلہ اداروں نے کرنا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: شاہ صدر دین میں دو غیر قانونی آئل ایجنسیاں سیل، مشینری تحویل میں لے لی گئی

    ڈیرہ غازی خان: شاہ صدر دین میں دو غیر قانونی آئل ایجنسیاں سیل، مشینری تحویل میں لے لی گئی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد کی ہدایت پر ضلع بھر میں غیر قانونی اور غیر محفوظ آئل یونٹس کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ سول ڈیفنس آفیسر غلام یٰسین ملک کی سربراہی میں ٹیم نے شاہ صدر دین میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دو غیر قانونی آئل ایجنسیاں سیل کر دیں۔

    کارروائی کے دوران متعلقہ یونٹس کی مشینری اور دیگر آلات تحویل میں لے لیے گئے اور قانونی کارروائی کے لیے استغاثے تھانہ شاہ صدر دین میں جمع کرا دیے گئے۔
    سول ڈیفنس آفیسر غلام یٰسین ملک کا کہنا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ، آتشزدگی اور دھماکوں جیسے ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے ایسے غیر قانونی اور غیر محفوظ کاروباروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود کسی بھی غیر قانونی آئل ایجنسی کی نشاندہی کریں تاکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو: گھوٹکی پولیس کی منشیات و جوئے کے خلاف کارروائیاں، ایک گرفتار، 10 فرار

    میرپور ماتھیلو: گھوٹکی پولیس کی منشیات و جوئے کے خلاف کارروائیاں، ایک گرفتار، 10 فرار

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر گھوٹکی پولیس نے منشیات فروشوں اور جواریوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    تھانہ میرپور ماتھیلو پولیس نے دورانِ گشت خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے لعل شاہ کے میخانے پر چھاپہ مارا اور منشیات فروش اختیار ولد رحیم بخش بوزدار سکنہ بوزدار کالونی میرپور ماتھیلو کو 400 گرام چرس سمیت گرفتار کر لیا۔
    گرفتار ملزم کے خلاف کرائم نمبر 137/2025، دفعہ 9(i) Sr 3(A) CNS (Amendment) 2022 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    دوسری کارروائی میں تھانہ یارو لنڈ پولیس نے خفیہ اطلاع پر جوئے کے اڈے پر چھاپہ مارا جہاں سے امجد ولد اصغر عرف اکرو لنڈ کو 2 تاش کے پتے اور 1400 روپے نقد رقم سمیت گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے 10 ساتھی ملزمان جن میں علی دوست، علی محمد ممدانی، کرم پتافی، سھیل لنڈ، اخلاق لنڈ، غضنفر لنڈ، حاجی منگنھار، عیدن کوری اور دو نامعلوم افراد شامل ہیں، موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    پولیس نے گرفتار ملزم کے خلاف کرائم نمبر 30/2025، دفعہ 5 سندھ جواء ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے ان کامیاب کارروائیوں پر پولیس پارٹی کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات اور جوئے جیسے سماجی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    گھوٹکی پولیس کی یہ کارروائیاں علاقے میں امن و امان کے قیام کی جانب مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں، جنہیں مقامی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

  • سیالکوٹ: پنجاب کسان کارڈ فیز ٹو میں 13 ہزار سے زائد درخواستیں موصول، قرض کی حد 10 ایکڑ تک کر دی گئی

    سیالکوٹ: پنجاب کسان کارڈ فیز ٹو میں 13 ہزار سے زائد درخواستیں موصول، قرض کی حد 10 ایکڑ تک کر دی گئی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر قیادت جاری پنجاب کسان کارڈ اسکیم کے فیز ٹو کے لیے ضلع سیالکوٹ میں اب تک 13 ہزار 444 آن لائن درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ 217 کسانوں نے مینول طریقے سے اسکیم میں شمولیت کے لیے درخواست دی ہے۔ یہ اعداد و شمار ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے ایک اہم اجلاس میں فراہم کیے۔

    سجاد حیدر نے بتایا کہ فیز ون کے اختتام تک جون 2024 تک ضلع سیالکوٹ میں 9,841 کسانوں کو کسان کارڈز جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں برس اسکیم میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے بلا سود قرض کی حد پانچ ایکڑ سے بڑھا کر 10 ایکڑ تک کر دی گئی ہے، جس کے تحت فی ایکڑ 30 ہزار روپے کی سہولت دی جا رہی ہے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق، فیز ٹو کے آغاز ہی سے کسانوں کی بڑھتی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ کسان اس اسکیم پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ برس کسان کارڈ کے ذریعے بلا سود قرض حاصل کرنے والے 95 فیصد کاشتکاروں نے اپنی رقم واپس ادا کر دی ہے، جس کے بعد اب وہ فیز ٹو میں دوبارہ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ کسان کارڈ کے ذریعے حاصل کردہ قرض کی تقسیم کچھ یوں ہو گی.30 فیصد رقم کسان کو نقد صورت میں دی جائے گی،20 فیصد رقم ڈیزل کے حصول کے لیے مختص ہو گی.باقی 50 فیصد رقم سے کسان مقرر کردہ ڈیلرز سے کھاد، بیج اور زرعی ادویات خرید سکیں گے۔

    سجاد حیدر نے کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور مقررہ مدت میں درخواست جمع کروائیں تاکہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی یہ اہم مالی امداد زراعت کی بہتری اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کا باعث بنے۔

    یہ اسکیم نہ صرف کسانوں کو معاشی استحکام فراہم کر رہی ہے بلکہ زرعی معیشت کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔